Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارتی کرکٹر شیکھر دھون کی اہلیہ نے طلاق کی تصدیق کر دی

    بھارتی کرکٹر شیکھر دھون کی اہلیہ نے طلاق کی تصدیق کر دی

    بھارتی کرکٹر شیکھر دھون کی بیوی نے نو سالہ شادی کے خاتمے کا اعلان کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق شیکھر دھون کی اہلیہ عائشہ مکھرجی نے انسٹاگرام پر ایک طویل پوسٹ میں طلاق کا اعلان کیا ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ وہ طلاق کو اس وقت تک ایک گندا لفظ سمجھتی رہیں جب تک انہیں دو بار طلاق نہیں ہوگئی۔

    عائشہ مکھرجی نے کہا مضحکہ خیز الفاظ کے اتنے طاقتور معنی اورایسوسی ایشنزکیسے ہو سکتی ہیں جب مجھے پہلہ مرتبہ طلاق ہوئی تو میں بہت خوفزدہ تھی میں نے محسوس کیا کہ میں ناکام ہو گئی ہوں اور میں اس وقت کچھ غلط کر رہی تھی۔

    میں نے محسوس کیا جیسے میں نے سب کو مایوس کر دیا ہے اور خود غرضی بھی محسوس کی میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے والدین کو مایوس کر رہی ہوں ، میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے بچوں کو مایوس کر رہی ہوں اور یہاں تک کہ کسی حد تک مجھے ایسا لگا جیسے میں خدا کو مایوس کر رہی ہوں۔ طلاق اتنا گندا لفظ تھا۔

    تو اب تصور کریں ، مجھے دوسری بار اس سے گزرنا پڑے گا یہ خوفناک ہے۔ پہلے ہی ایک بار طلاق ہونے کے بعد ، ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے دوسری بار مزید داؤ پر لگایا ہے۔ میرے پاس مزید کچھ ثابت کرنا تھا۔ لہذا جب میری دوسری شادی ٹوٹ گئی تو یہ واقعی خوفناک تھا۔ تمام احساسات جو میں نے محسوس کیے جب میں پہلی بار اس سے گزر کر محسوس کیا تھا خوف ، ناکامی اور مایوسی اس کا میرے لیے کیا مطلب ہے؟ یہ میری اور شادی کے رشتے کی وضاحت کیسے کرتا ہے؟

    ٹھیک ہے ، ایک بار جب میں نے جو کچھ ہوا اس کے ضروری اعمال اور جذبات سے گزری تو میں اپنے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکی کہ میں ٹھیک ہوں ، میں اصل میں بہت اچھا کر رہی تھی ، یہاں تک کہ دیکھا کہ میرا خوف بالکل ختم ہو گیا قابل ذکر بات یہ ہے کہ میں نے واقعی زیادہ بااختیار محسوس کیا۔ میں نے اپنے خوف کا ادراک کیا اور لفظ طلاق کو میں نے جو معنی دیا وہ میرا اپنا ذہن تھا۔

    لہذا ، ایک بار جب میں نے اس کا ادراک کیا تو میں نے لفظ اور طلاق کے تجربے کو نئے سرے سے بیان کرنا شروع کیا جس طرح میں اسے دیکھنا اور تجربہ کرنا چاہتی تھی ۔

    عائشہ مکھرجی اور شیکھر دھون کی شادی 2012 میں ہوئی تھی دونوں کا ایک بیٹا ہے اس سے قبل عائشہ کی آسٹریلیا میں ایک کاروباری شخصیت سے شادی ہوئی تھی جس سے ان کی دو بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں عائشہ نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لینے کے بعد شیکھر دھون سے شادی کی تھی۔

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 2  تحریر خالد عمران خان

    بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 2 تحریر خالد عمران خان

    سماجی سرگرمی میں دلچسپی کا نقصان
     تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طلاق بچوں کو سماجی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہے۔ جن بچوں کا خاندان طلاق سے گزر رہا ہے انہیں دوسروں سے متعلق مشکل وقت درپیش ہوسکتا ہے ، اور ان کا سماجی رابطے کم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بچے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا ان کا خاندان ہی واحد خاندان ہے جس نے طلاق حاصل کرلی ہے۔اور ان کے ماں پاب اس طرح الگ ہو رہے ہیں وہ اپنے ماں اور پاب کے ساتھ ایک ساتھ نہں رہ سکیں گے. یہ بات ان پے بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔

     تبدیلی کو اپنانے میں دشواری۔
     طلاق کے بعد بچوں کو زیادہ سے نئے ماحول کو قبول کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ فوراََ ہونے والی تبدیلی کو وہ جلدی قبول نہں کر پاتے انکو بہت مشکل لگ رہا ہوتا ہے خود کو تبدیل کرنا اور نئے تبدیل ماحول میں خود پہلے جیسا رکھنا خود کو اس ماحول میں ڈھالنا اس کی سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی خاندانی حرکیات ، نیا مکان یا رہائشی صورتحال ، اسکول ، دوست اور بہت کچھ ، سب پر بہت اثر پڑ سکتا ہے۔

     

    جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں بچے ہمیں انکے رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تعلق جیسے معاملات کے لڑائی جھگڑوں کو اور گھر کے بدلتے ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں بچے اپنے آپ کو محفوظ بھی نہں محسوس کرتے اپنے دل کی بات کسی سے شیئر نہں کر رہی ہوتے اور اندر ہی اندر جب اس طرح کے غصے یہ پریشانی والے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وہ انکو کنٹرول بھی نہں کر پا رہے ہوتے ایسے وقت انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کی کوشش ہونی چاہیے کے طلاق جیسے معاملے تک پنچھنے سے پہلے لازمی اگر گھر میں بچے موجود ہیں تو ان کے بارے میں ضرور سوچیں اور سوچ سمجھ کے اس قسم کا فیصلہ کریں کیوں کے اس قسم کے فیصلوں سے سب سے زیادہ اگر کسی پے اثر پڑتا ہے تووہ ہمارے بچے ہیں جن کے لیے اس بات کو قبول کرنا کے ماں باپ ساتھ نہ ہوں اور زندگی بلکل تبدیل ہوجائے اور انکو کسی نئی ماحول کی عادت ڈالنا بہت ہی مشکل ترین مسئلہ ہے ساتھ ہی ان کے تعلیمی معاملات کا خراب ہونا بھی مد نظر رکھنے والی بات ہے۔بچوں سے بات کریں انکے خیالات اور احساسات جانیں اور انکو سمجھنے کے بعد ماں باپ سوچ سمجھ کے اس طرح کے قدم اٹھائیں۔
     طلاق گھر کے افراد میں کئی طرح کے جذبات کو سامنے لا سکتی ہے ، اور اس میں شامل بچے بھی مختلف نہیں ہیں۔ نقصان ، غصہ ، الجھن ، بے چینی ، اور بہت سے دوسرے کے احساسات ، سب اس منتقلی سے آ سکتے ہیں۔ طلاق بچوں کو مغلوب اور جذباتی طور پر حساس محسوس کر سکتی ہے۔ بچوں کو اپنے جذبات کے لیے ایک ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انکو ضرورت ہوتی ہے کے کوئی بات کرنے والا ، کوئی سننے والا ، وغیرہ – بچے اپنے جذبات پر عمل کرنے کے ذریعے طلاق کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • غصہ اور جذباتیت کا حل کیا ہے  تحریر : شفقت مسعود عارف

    غصہ اور جذباتیت کا حل کیا ہے تحریر : شفقت مسعود عارف

     اکثر ‏لوگ کہتے ہیں کہ ہم غصے پر کنٹرول کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غلط بات کرے ،کوئی گالی دے، کوئی غیر منطقی بات پر ضد کرے تو صرف اس وقت غصہ برداشت نہیں ہوتا

    سوال یہ ہے کہ غصہ برداشت کرنے کا وقت اور کون سا ہوتا ہے؟ برداشت تو تب ہی ہوتی ہے جب کوئی وجہ ہو اور دماغ کی رگوں میں ابال آ رہا ہو

    عام حالات میں اسکی ضرورت ہی کیا ہے؟

    لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمیں غصہ کیوں اور کب آتا ہے؟ 

    ‏ہم ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں وہ کوئی چیز ہو یا کوئی رائے

    اور ہماری مرضی کے خلاف ہونے پر ہمیں غصہ آتا ہے جو دراصل فطرت کی ورائٹی کا انکار ہے

    سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا

    نہ رائے

    نہ عقیدہ

    نہ دلیل

    سامنے والے کے پاس بھی اپنے جواز ہوتے ہیں اسلئے اختلاف رائے کو ایک فطری عمل سمجھنا اور اسی انداز میں ہینڈل کرنا ضروری ہے جس طرح آپ دوسروں کو غلط سمجھ کر غصہ کرتے ہیں عین اس وقت دوسرے آپ کو غلط سمجھ کر آپ پر ناراض ہو رہے ہوتے ہیں

    اس لئے غصہ نہیں دلیل سے کام لیں اور اس لئے دلیل سے کام لیں کہ دوسرا غلط راستے پر جانے سے بچ جائے

    نیت  بنیادی چیز ہے

    کیا ‏غصہ برا ہے ؟ 

    جواب  ہے نہیں بلکہ غصہ طاقت ہے اس کا غلط استعمال برا ہے

    غصہ طاقت کیسے ہے؟ ‏آپ عام حالت میں کسی کو تھپڑ ماریں اور شدید غصے میں کسی کو تھپڑ ماریں تو کیا فرق ہو گا دونوں میں۔غصے میں دیا دھکا بہت طاقتور ہوتا ہے بہ نسبت عام حالت کے

    کیوں؟ جسم وہی ہاتھ وہی

    پھر ایسا کیوں؟  دراصل غصے میں خون کے بڑھے ہوئے دباو کی وجہ سے آپ کی سوئی ہوئی جسمانی قوتیں زیادہ کام کرتی ہیں

    *اور دماغی طاقتیں کم*

    لیکن غصہ اور جذبات کی زیادتی برداشت کرنے کی کوشش میں ہم ایک غلطی کرتے ہیں

    غصہ فطری جذبہ ہے جذبات زندہ ہونے کی نشانی ہیں مگر ان میں بہہ جانا حماقت

    فطری جذبہ کو دبانے کی کوشش جسم اور نفسیات پر منفی اثر مرتب کرتی ہے

    پھر غصہ پر قابو پانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

    جوڈو کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ یہ جاپانی کشتی کا فن ہے اس کی تکنیک کا نچوڑ طاقت یا داؤ پیچ میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ 

    دشمن کی قوت کا رخ بدل کر اسی کے خلاف استعمال کر کے اسے شکست دی جائے

    غصہ پر قابو پانے کی اصل تکنیک یہی ہے کہ اس کا رخ بدل دیا جائے

    فوری طورپر الفاظ پر کنٹرول کھو رہے ہوں تو کچھ دیر رک جائیں

    12 منٹ 

    اس 12 منٹ میں موضوع سوچ اور جگہ بدل دیں12 منٹ بعد آپ کا جواب اور ردعمل زیادہ صحیح اور زیادہ متوازن ہو گا مگر 12 منٹ کا مطلب یہ نہیں کہ گھڑی پر وقت دیکھتے رہیں

    غصے یا ٹینشن میں‏12 منٹ رکنے والی تحقیق نئی ہے

    مگر 1400 سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاو بیٹھے ہو تو لیٹ جاو اور پانی پیو

    اس ہدایت کو اس زاویے سے بیان نہیں کیا جاتا کہ غصہ میں اعصاب اور ردعمل تیز ہو جاتے ہیں

    زبان تیز

    دھڑکن تیز

    بلڈ پریشر تیز

    کھڑے ہوں تو ایک جگہ رکانہیں جاتا

    اس تحرک کو سکون میں لانا ضروری ہے اسکے لئے یہ ہدایات ہیں سائنس کہتی کہ اعصاب کو قابو میں آتے 12 منٹ لگتے ہیں لیکن اگر رسول اللہ کی ہدایت پر عمل کریں تو جلدی قابوپا سکتے ہیں

    اگر ‏اللہ نے ہمیں قوت اور طاقت کی نعمت بھی بخشی ہے تو یہ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے جس کا ہم سے سوال کیا جائیگا

    کسی کو گرانے سے قبل

    خودکو زیر کرنا سیکھیں

    کسی کو ہرانے کی بجائے اپنانے کی سوچ اپنائیں

    یہی اصل جنگ ہے

    جو آپ نے جیتنی ہے

    ‏ایک بات تسلیم کر لیں

    *اختلاف یقینی ہے 

    آپ کہیں اللہ ایک ہے تو سوا پانچ ارب لوگ کہیں گے جھوٹ ۔سب کچھ آپ کے اختیار میں نہیں جب  یہ بات تسلیم کر لیں گے تو آپ کے ذمہ صرف کوشش کرنا رہ جائیگا

    ‏دراصل ہم لوگ اپنی ذات میں چھوٹے چھوٹے خدا ہیں

    ہم چاہتے ہیں کہ ہر کام، ہر رائے ، ہر نتیجہ ہماری مرضی سے ہو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سب کچھ مرضی سے ہونا صرف اللہ کی صفت ہے

    جس دن ہم یہ بات سمجھ اور تسلیم کر لیں گے اس دن ہمیں

    کسی بھی خلاف مرضی بات یا عمل پر غصہ نہیں آئے گا

    کیونکہ ہم تسلیم کر لیں گے کہ اختلاف ، ورائٹی یہاں اللہ نے رکھی اور حتمی مرضی بھی اسی کی ہے

    اللہ کے نبیوں نے بھی اسی اختلاف کا سامنا کیا کیونکہ وہ بھی خدا نہیں تھے

    تو پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں

    @shafqatchMM

  • چیف سلیکٹر نے شعیب ملک کوورلڈ ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں شامل نہ کرنے کی وجہ بتادی

    چیف سلیکٹر نے شعیب ملک کوورلڈ ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں شامل نہ کرنے کی وجہ بتادی

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سکواڈ کا اعلان کیا جو میچ شائقین کو خاص پسند نہیں آیا اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سکواڈ میں شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا اس حوالے سے سوشل میڈ یاپر بحث بھی جاری ہے جس کا جواب چیف سلیکٹر محمد وسیم نے دے دیا ہے-

    نجی ٹی وی چینل پر ایک پروگرام میں اینکر پرسن وسیم بادامی نے سوال کیا کہ شعیب ملک کی جگہ خوش دل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا کیا خوش دل شاہ شعیب ملک سے بہتر انتخاب ہیں ؟

    اس پر جواب دیتے ہوئے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ مطلوبہ ہدف کے لیے ،یقیناً نمبر پانچ چھ کے لیے شعیب ملک مناسب کھلاڑی نہیں ہیں آپ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں ،جو اس پوزیشن کے لیے نہیں ہے۔

    چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ ان سے میری بات بھی ہوئی تھی ،وہ اس پوزیشن پر نہیں بلکہ ٹاپ آرڈر کی پوزیشن پر کھیلنا چاہتے تھے ۔

    واضح رہے کہ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا چیئرمین بنتے ہی رمیز راجہ نے کپتان بابر اعظم کو ٹیسٹ کرکٹ کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔

    نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ رمیز راجہ نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اپنی بیٹنگ پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے ان کی جگہ محمد رضوان کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنائے جانے کا امکان ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان،بابراعظم کپتان:تین بڑے کھلاڑی ڈراپ

  • چیئرمین پی سی بی بنتے ہی رمیز راجہ کا بابر اعظم کیلئے بڑا فیصلہ

    چیئرمین پی سی بی بنتے ہی رمیز راجہ کا بابر اعظم کیلئے بڑا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا چیئرمین بنتے ہی رمیز راجہ نے کپتان بابر اعظم کو ٹیسٹ کرکٹ کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ رمیز راجہ نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اپنی بیٹنگ پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے ان کی جگہ محمد رضوان کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنائے جانے کا امکان ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان،بابراعظم کپتان:تین بڑے کھلاڑی ڈراپ

    اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ رمیز راجہ نے بابر اعظم کی مشاورت سے منتخب کیا گیا ٹی 20 سکواڈ تبدیل کردیا۔

    بابر اعظم نے شرجیل خان، فخر زمان، فہیم اشرف اور عثمان قادر کا نام سکواڈ میں شامل کیا تھا تاہم رمیز راجہ نے ان چاروں کو نکال کر ان کی جگہ آصف علی، خوشدل شاہ، اعظم خان اور صہیب مقصود کا نام سکواڈ میں شامل کر دیا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے آئندہ ماہ ٹی 20 ورلڈ کپ اور نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے کرکٹ ٹیم اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے بہت سے تجربہ کار کھلاڑیوں کو نظر انداز کردیا۔

    نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 20 رکنی قومی ون ڈے اسکواڈ کا اعلان

    محمد وسیم نے بتایا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کپتان ، نائب کپتان شاداب خان ہوں گے پاکستان کا اسکواڈ 15 رکنی ہے، 3 ریزور پلئیرز شامل ہیں۔ ٹیم کی ضرورت کے مطابق انتخاب کیا، کنڈیشنز کو ذہن میں رکھا ہے۔

    سابق کپتان سرفراز احمد، وہاب ریاض، تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک اور ہارڈ ہٹنگ اوپنر شرجیل خان اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں۔چیف سلیکٹر محمد وسیم کے مطابق ٹی 20 ورلڈ کپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں اعظم خان کو شامل کیا گیا ہے۔

  • جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم  ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہم

    جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہم

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کا جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی پر ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہمی کااظہارکیا ہے-
    صرف اشتہارویب سائٹ پر لگانے سے ایچ ای سی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جعلی دکانوں کوفورا بند کریں،چیرمین کمیٹی
    ایچ ای سی بغیر چیرمین کے چل رہی ہے اوربیرو ن ملک جانے والے طالب علموں کاان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ،حکام کا انکشاف
    بیرون ملک جانے والے طلبہ کامکمل ریکارڈ رکھاجائے کہ طالب علم کس ملک اور س چیز کی تعلیم کے لیے جارہاہے ،کمیٹی
    ٹیکنالوجسٹ کی ایکوینس(برابری)کے سرٹیفکیٹ کوفورا بحال کیاجائے اور سروس سٹکچربنایاجائے ،کمیٹی کی ہدایت
    سندھ میں یکساں نصاب تعلیم نافذنہ کرنے پر سینیٹر جام مہتاب کو سند ھ حکومت کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت
    سندھ میں یکساں نصاب تعلیم اچھا اقدام ہے سندھ کے اعتراضات دور کریں گے
    یکساں نصاب کےماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی نے طلب کرلیا

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم نے ملک میں جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی پر ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ صرف اشتہارویب سائٹ پر لگانے سے ایچ ای سی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جعلی دکانوں کوفورا بند کریں ان سے طلبہ کے پیسے اور تعلیم دونوں کانقصان ہورہا ہے –

    ایچ ای سی حکام نے کمیٹی میں انکشاف کیاکہ ایچ ای سی بغیر چیرمین کے چل رہی ہے اوربیرو ن ملک جانے والے طالب علموں کاان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے جس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ بیرون ملک جانے والے طلبہ کامکمل ریکارڈ رکھاجائے کہ طالب علم کس ملک اور س چیز کی تعلیم کے لیے جارہاہے ،کمیٹی نے ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ ٹیکنالوجسٹ کی ایکوینس(برابری)کے سرٹیفکیٹ کوفورا بحال کیاجائے اور جب تک ٹیکنالوجسٹ کا سروس سٹکچر نہیں بنتاہے اس وقت تک اس کو منسوخ نہ کیاجائے ،جس اجلاس میں ایکوینس سرٹیفکیٹ کو منسوخ کیاگیاتھااس فیصلہ کی فائل کمیٹی میں پیش کی جائے ،یکساں نصاب کےماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی نے طلب کرلیا،سندھ میں یکساں نصاب تعلیم نافذنہ کرنے پر سینیٹر جام مہتاب کو سند ھ حکومت کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کردی گئی سندھ میں یکساں نصاب تعلیم اچھا اقدام ہے سندھ کے اعتراضات دور کریں گے ۔

    منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کا اجلاس عرفان الحق صدیقی کی سربرہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلا س میں سینیٹر مہرتاج روغانی ،اعجاز چوہدری ،فلک ناز چترالی ،جام مہتاب ، انجینئررخسانہ زبیری،سکندر میندرو،شاہین خالدبٹ،مشتاق احمد،مولوی فیض محمد نے شرکت کی ۔جبکہ پارلیمانی سیکرٹری تعلیم وجہیہ قمرم،سیکرٹری تعلیم ،ایچ ای سی حکام ویگر نے شرکت کی ۔

    ڈائریکٹرایچ ای سی ڈاکٹر شاہستہ سہیل نے کمیٹی کوبتایاکہ کہاکہ ایچ ای سی ادارے جو قانون کے مطابق کام نہیں کرتے ہیں اس کو بلیک لسٹ کردیتے ہیں ان کا ڈیٹا ویب سائٹ پر لگادیتے ہیں ۔ ملک سے باہر جانے والے طلبہ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ طلبہ کس ملک اور کس ادارے میں تعلیم لینے جارہاہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جو طالب علم بیرون ملک جارہاہے ان کا ریکارڈ بنایا جائے ۔ملک میں جواعلیٰ تعلیمی ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں ان کو بند کیوں نہیں کرتے ہیں اس طرح کی جعلی دکانیں کیون بند نہیں کرتے جس کی وجہ سے طلبہ کا نقصان ہورہاہے ۔

    ایچ ای سی حکام نے بتایاکہ تعلیمی اداروں کی کوالٹی کو دیکھنے کے لیے ایچ ای سی پینل بناتاہے اور دورہ کرتے ہیں ۔ ہر سال میں 30سے 35دورے ہوتے ہیں جو ریکوائرمنٹ پورے کرتے ہیں ان کو اجازت دیتے ہیںجو معیارپر پورا نہیں اترتے ان اداروں کو بند بھی کرتے ہیں ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اس طرح تو پاکستان میں ایک بھی غیر رجسٹرڈ ادارہ نہیں ہونا چاہیے یا دو نمبر ادارہ نہیں ہے ۔پاکستان میںدو نمبر ادارے کھلے کیوں ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹریوفاقی تعلیم نے کہاکہ اس حوالے سے سب کمیٹی بنا دیں یونیورسٹی اور کالج دو نمبر بنے ہوئے ہیں ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جعلی ادارے طالب علموں کو لوٹ رہے ہیں ایچ ای سی کو ایکٹیو رول ادا کرنا چاہیے ۔بچے 5سال پڑھیں گے بعد میں پتہ چلا گیاکہ وہ تو رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اس کے بعد وہ احتجاج کریں گے ۔رکن کمیٹی سینیٹر خالد شاہین بٹ نے کہاکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے طالب علموں کو میڈیکل کالج میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ وہ بچے بیرون ملک سے آتے ہیں بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ رویہ انتہائی خراب ہوتا ہے ۔

    سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ بیرون ملک جانے والے بچے ہمارا اثاثہ ہیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے کہ بچے کہاں اور کیا بیرون ملک پڑھنے جارہے ہیں اور سالانہ کتنے لوگ جارہے ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہا کہ مزدوروں کا ریکارڈ ہوتا ہے کہ کس ملک جارہے ہیں مگر طالب علموں کانہیں ہے ۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ چین میں پڑھنے والے طلبہ ایک سال سے پاکستان میں موجود ہیں ان کو واپس بھیجنے کے لیے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے بارے میں بھی کمیٹی کوبتایاجائے-

     ٹیکنالوجسٹ کے حوالے سے کمیٹی کے ایجنڈے پر سینیٹر مشاق احمد نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں 3لاکھ 50ہزار ٹیکنالوجسٹ ہیں اور سالانہ 10ہزار بچے اس میں شامل ہورہے ہیں۔سب کمیٹی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کی تھی کہ3ماہ میں مسئلہ کیاجائے مگر ایچ ای سی نےنے تین ماہ دس دن بعد اجلاس بلایا ہے ۔ڈھائی سال پہلے بھی سفارشات کی تھیں مگر اس کے باوجود عمل نہیں ہوا۔

    جو ایچ ای سی نے کمیٹی بنائی اس میں ایک بھی ٹیکنالوجسٹ موجود نہیں ہیں ۔انجینئر کبھی ان کا مسئلہ حل نہیں کریں گے کمیٹیوں سے کچھ نہیں ہوا ہے ۔ان کا ایکولینس سرٹیفکیٹ ایچ ای سی نے منسوخ کیا اس کو بحال کیاجائے ۔

    مہرتاج روغانی نے کہاکہ ٹیکنالوجسٹ کے ساتھ بہت ظلم ہواہے ۔ایچ ای سی کے حکام امتیاز گیلانی نے کمیٹی کوبتایاکہ ٹیکنالوجسٹ واحد لوگ ہیں جو 16سال کی تعلیم کے باوجود 17گریڈ میں بھرتی نہیں ہوسکتے یہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ایک ہزار ٹیکنالوجسٹ کے لیے بیرون ملک سکالر شپ کا اشتہار دیا مگر صرف 23بچے آئے ۔پی ایم ٹاسک فورس بنائی جائے تاکہ اس کو حل کیا جائے۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ بھارت نے یہ مسئلہ بہت پہلے حل کردیا تھا ۔بی ٹیک کا ایکویلنس کو فورا بحال کیا جائے ۔این ٹی سی ایکٹ 2015سے پائپ لائن میں ہے اس کا کیا بنا؟ سینیٹراعجاز چوہدری نے کہاکہ انجینئر ٹیکنالوجسٹ کے معاملے کو حل نہیں کررہے ہیں ۔یہ انسانی ایشو ہے ۔ موجودہ انجینئرنگ کے ادارے اس مسئلے کو حل نہیں کریں گے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ایشو حل نہیں ہورہا ٹاسک فورس بنائی جارہی ہےایچ ای سی کو ایکولینس کو بحال کرنے میں کیا مسئلہ ہے ۔کمیٹی نےایکولینس واپس لینے کے فیصلے کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کس نے کیوں یہ فیصلہ کیاہم یہ جانا چاہتے ہیں کہ بغیرکسی وجہ کہ کیوں اس کوختم کیاگیا۔ کمیٹی نے متفقہ طورفیصلہ کیاکہ انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ کو ایکولینس سرٹیفکیٹ کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔اس فیصلے کے حوالے سے صرف سینیٹر اعجاز چوہدری نے حق و خلاف میں ووٹ نہیں دیا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک ٹیکنالوجسٹ کے لیے سروس سٹکچر نہیں بنتااس وقت تک اس کوکو بحال رکھاجائے ۔کمیٹی اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ عارضی ریلیف کے لیے ایکولینس بنایا جائے جب تک سروس سٹرکچر نہیں بنتا ہے۔ا

    یجنڈے میں شامل یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے ڈاکٹر مریم چغتائی ڈائریکٹر قومی نصاب کونسل پاکستان نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں ایچوکیشن نظام 6طبقے پیدا کررہے ہیں ۔قومی نصاب کے 4حصے ہیں، یکساں نصاب، امتحانات، اس میں شامل ہیں ۔ہمارا نصاب 15سال پرانہ ہے 5ویں تک یکساں نصاب مکمل کرلیا ہے ۔سائنس اور ریاضی پر زیادہ فوکس کیا گیا، 2002میں نصاب 62لوگوں نے بنایا تھا وہ سب لاہور سے تھے 2010کا نصاب زیادہ تر پنجاب کے لوگوں نے بنایا تھا 2020میں نصاب چاروں صوبوں سے نمائندگی تھی 5اقلیتوں کے لیے الگ نصاب بنایا گیا ہے ۔ مدارس کو سکول بنانے جارہے ہیں مدارس5سال میں اس نصاب کو لاگو کریں گے ۔رٹے کے نظام کو ختم کررہے ہیں ۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے اساتذہ کو اچھی ٹریننگ دیں گے ۔ 12ویں تک نصاب بنے گا اگلے مرحلے میں امتحانات ہوں گے ۔18ویں ترمیم کے بعد فیڈرل کا رول صرف رابطہ کاری کا ہے ۔پنجاب اور کے پی کے میں اس پر عمل صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بعد ہوا ہے ۔اس نصاب پر عمل کرنے میں صوبہ کا اپنا رول ہے ۔سندھ یکساں نصاب کی تیاری میںساتھ تھا مگر اس پر عمل کے دوران وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں سندھ میں بھی یکساں نصاب تعلیم پر عمل ہونا چاہیے –

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اصولی طور پر یہ اچھا اقدام ہے ۔نصاب سے قوم کو تیار کیا جاتا ہے ۔کیا تمام صوبے اس پر عمل درآمد پر راضی ہیں جس پرحکام نے بتایا کہ سندھ کے علاوہ سب اس پر متفق ہیں۔4سو لوگوں نے یکساں نصاب پر کام کیا ہے ۔یکساں امتحان کے حوالے سے کمیٹی کوبتایاگیاکہ امتحانات پر ابھی نہیں آئے اس حوالے سے پالیسی نہیں بنائی کہ یکسان امتحان کا منصوبہ نہیں ہے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ قومی کی تعمیر میں دس فیصد نصاب کا کام ہوتا ہے آپ باقی چیزوں پر توجہ نہیں دے رہے صرف نصاب پر فوکس ہے ۔یکسان نصاب میں سیاسی جماعتوں سے رائے نہیں لی گئیں ہے ۔سکولوں میں سہولیات دی جائے ۔تربیت یافتہ اساتذہ نہیں ہیں اور یکساں نصاب دے دیاہے ٹیچنگ ایک سکل ہے ۔ ماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی کو بھیجا جائے 15سیٹ کمیٹی کو فراہم کردیں ۔حکام نے بتایا کہ ہم نے کتاب نہیں گائیڈ لائن کو یکساں کیاہے ۔ اساتذہ کی تربیت ضروری ہے ۔یکساں نصاب سے یکساں معیار نہیں بن سکتا ہے ۔روشنی سکول میں اساتذہ بھرتی کرنے میں ایم این اے ایم پی اے اور سینیٹر کا کوٹہ تھا اور دس فیصد وزیر اعظم کا کوٹہ تھا ۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ یکسان نصاب تعلیم اگر ہوجائے تو یہ اچھی بات ہے ۔جو چیز پاکستان کے مفاد میں ہوگی اس کی حمایت کریں گے ۔حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے ۔مدارس کے اندر دنیا تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔چارٹر آف ایجوکیشن سیاسی جماعتوں میں ہونا چاہیے کسی کی بھی حکومت آئے وہی نصاب پڑھایا جائے ۔سیاسی جماعتوں کو بھی ان بورڈ لیا جائے ۔کیمرج پاکستان سے تعلیم پر کتنا کمارہاہے ۔طبقاتی تقسیم ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔رخسانہ زبیری نے کہاکہ ہمیں ملک میں تعلیمی ایمرجسنی لگانی چاہیے ۔

    اعجاز چوہدری نے کہاکہ یکسان نصاب ایک خواب تھا یہ آغاز ہے ہر مکتبہ فکر کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ جام مہتاب نے کہاکہ سندھ صوبہ کو کیوں یکساں نصاب پر اعتراض ہے ۔سکولوں میں سہولیات دی جائیں ۔حکام نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو ان بورڈ لینا چاہیے ۔سندھ کا کردار اہم تھا۔

    حکام نے بتایاکہ سندھ کو کچھ چیزوں پر اعترض تھا جن میں قرآن ناظرہ تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھائیں گے ہماری اسمبلی نے یہ بل پاس نہیں کیا۔سندھ میں نہیں پڑھ سکتے ملالہ کو قومی ہیرو پڑھانا چاہتے ہیں ۔نصاب سندھی میں پڑھانا چاہتے ہیں ۔یکساں نصاب میںآدھے نصاب کو اردو اور آدھا انگریزی میں پڑھائیں گے تو سندھ میں 50فیصد نصاب سندھی میں پڑھائی جاسکتا تھا۔50فیصد انگش میں اور 50فیصد اردو میں ہوگا-

    حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس وقت چیرمین ایچ ای سی کوئی بھی نہیں ہے تین ماہ کے لیے قائمقام چیرمین لگایا گیا تھا مگر وہ تین ماہ پورے ہوگئے ہیں ۔ عدالت میں سٹے ہے جس کی وجہ سے کوئی نیا چیرمین نہیں لگاسکتے ۔

    کمیٹی نے یکساں نصاب تعلیم سندھ میں نافذ نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر جام مہتاب کو سندھ حکومت سے رابطے اور ان کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کردی کمیٹی نے کہاکہ اگلے ضروری ہواتو یکساں نصاب تعلیم پر سندھ حکومت کے نمائندوں کوکمیٹی میں مدعوکرکے ان کے اعتراضات سننے گے یکساں نصاب تعلیم اچھا قدم ہے پورے ملک میں رائج ہوناچاہیے ۔

  • نکاح کی ضرورت و اہمیت  تحریر: نثاراحمد تحریر

    نکاح کی ضرورت و اہمیت تحریر: نثاراحمد تحریر


    اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کے بعد ان کی تمام اہم ضرورتوں کا انتظام اور اس کے لیے مناسب نظام بھی بنایا۔کھانے کے لیے غذائیں، پینے کے لیے پانی فراہم کیا تو ساتھ ہی حلال وحرام اور جائز و ناجائز کی تفصیلات واضح کرکے اس کا پابند کردیا۔ سانس لینے کے لیے ہوا اور آکسیجن کا فطری انتظام کیا، شجرکاری کی حوصلہ افزائی اور اس کی افادیت کو واضح کیا تو بے ضرورت درخت کاٹنے کو ممنوع قرار دے دیا۔ دنیا میں کامیاب زندگی کے لیے خاندان کی ضرورت، خاندان کی تشکیل اور وجود کے لیے نکاح کی مشروعیت، نکاح جیسے جائز اور مسنون عمل کی طرف ترغیب، اس کے بے شمار سماجی فوائد، اس پر اجر و ثواب کا وعدہ، ناجائز رشتوں کی قباحت و حرمت، اس کی مذمت، اس پر دنیوی سزا اور اخروی عذاب کو بیان کیا۔ اوراس طرح نکاح و شادی کے بعد ازدواجی تعلق کو نہایت مہذب شائستہ اور مطلوب طریقہ قرار دے کر اس کو نہایت آسان بنادیا۔
    نکاح مرد اور عورت کا خالص نجی اور ذاتی معاملہ ہی نہیں، بلکہ یہ نسل انسانی کے وجود، قیامت تک اس کی بقا و دوام اور بے شمار انسانی وسماجی ضرورتوں اور تقاضوں کی فراہمی اور تکمیل کے لیے اللہ اور رسول کی طرف سے متعین کردہ نہایت مہذب اور شائستہ طریقہ ہے اس لیے آئیے جائزہ لیں کہ نکاح سے کن انسانی و سماجی ضرورتوں کی فراہمی اور تکمیل ہوتی ہے۔ اور اس کے کیا فوائد اور اس کے نہ ہونے کے کیا نقصانات ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ نکاح اور شادی انسانوں کے لیے کیوں ضروری ہے۔
    سکون ومحبت کا ذریعہ:
    اسلام میں نکاح کوکسی نا محرم سے پیار و محبت اور جائز تعلق کی بنیاد قرار دیا گیا اور اسے زندگی کی بہت سی اہم ترین ضروریات کی تکمیل، سکون و اطمینان اور باہمی الفت و مودت کا ذریعہ بنادیا گیا۔ "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”یعنی اللہ نے تمہاری ہی نسلوں سے تمہارے لیے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار و محبت کا انتظام فرمایا اور اس کو اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی قرار دیا۔ (الروم21)
    اللہ کا مطالبہ:
    نکاح صرف انسانوں کی نجی ضرورت اور ان کا اختیاری مسئلہ و فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اللہ نےبے شمار سماجی ضرورتوںاور عفت و پاکدامنی کی خاطر مطلوب و مسنون قرار دیا اور فرمایا ” فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
    انبیاء کا طریقہ:
    نکاح عام انسانوں کی ضرورت اور طریقہ کار ہی نہیں بلکہ یہ اللہ کے منتخب کردہ اور کائنات کے سب سے افضل اور دنیا میں آئیڈیل اور اسوہ بناکر بھیجے گئے انبیاء اور رسولوں کی سنت اور طریقہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بیشتر نبیوں کا اسوہ قرار دیا اور فرمایا "وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً”ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیوی بچوں سے نوازا (الرعد 38)
    مختلف رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
    نکاح وہ سنت ہے جس کے ذریعہ صرف دو لوگوں کو باہمی پیار و محبت اور الفت و مودت کے ساتھ مربوط نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سے ایسے نئے رشتے بھی عطا کئے جاتے ہیں جو زندگی خوشگوار بنانے اور اس کی خوشیوں کو دو بالا کرنے اور دکھ درد بانٹنے کا سبب بن جاتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتوں کی طرح نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا "وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا” کہ اللہ نے ہی پانی (انسانی نطفہ) سے انسانو‌ں کو پیدا کیا اور انھیں دو طرح کے رشتے نسبی اور سسرالی رشتے عطا فرمائے۔ (الفرقان 54)
    نبی اکرم کی سنت:
    سورہ رعد آیت نمبر38 میں اللہ تعالی نے نکاح کو بیشتر انبیاء کی سنت قرار دیا اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صرف نجی اور جنسی ضرورت کے بجائے ایک عمومی بڑی سماجی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت، ضرورت اور فضیلت کو مزید واضح کیا اور اس کو خود اپنی سنت بھی قرار دیا اور کئی شادیاں کیں جس کے بے شمار دعوتی و سماجی فائدے ملے اور فرمایا ”النِّكاحُ من سُنَّتي”( ابن ماجة عن عائشة)
    عام جانداروں اور انسان میں فرق:
    اللہ تعالی نے کائنات میں بہت سی جان دار مخلوق پیدا کیے، ان کے اندر جنسی خواہش اور اس کے ذریعہ ان کی نسل بڑھانے کا انتظام فرمایا لیکن انسانوں اور دوسرے جانداروں میں فرق کرنے کے لیے انسانوں کو نکاح کا مسنون طریقہ دے کر اس کو صرف وقتی ضرورت ہی نہیں رہنے دیا بلکہ عام حالات میں اس کو دائمی اور ایک دوسرے کے تئیں بہت سے حقوق و ذمہ داریوں سے مشروط کردیا اور انہیں عام جانداروں کی طرح آزاد کہیں بھی جنسی تسکین پوری کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس طرح سے نکاح کو انسانوں اور دوسرے عام جانداروں میں فرق کا ایک اہم سبب بھی بنادیا۔
    دنیوی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی سے ایک لڑکا اور لڑکی صرف میاں بیوی ہی نہیں بنتے بلکہ اب وہ دونوں مل کر اپنی ضرورتوں اور بیشتر امور کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی اپنی ذمہ داریاں متعین کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاموں میں معاون و مددگار بن جاتے ہیں اور اس طرح ان کے نجی، خاندانی اور دیگر تمام امور و معاملات بہترین انداز میں منظم طریقہ سے باہمی تعاون اور بہت سی صورتوں میں تو دونوں کے خاندانی افراد کی مشترکہ کوششوں اور محبتوں سے بآسانی انجام پانے لگتے ہیں۔
    خواتین کے حقوق کا تحفظ:
    نکاح کی مشروعیت کے ذریعہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ان کی ضرورتوں کا زندگی کے ہر مرحلہ میں معقول بندوبست کیا گیا چنانچہ بیوی کی تمام ضرورتوں خاص طور پر مالی مصارف، رہائش و زیبائش اور علاج و معالجہ، بیٹی کی پرورش، تعلیم و تربیت، اس پر آنے والے خرچ اور اس کے نکاح و شادی کی پوری ذمہ داری، اسی طرح ماں کی عزت و تکریم اس کے ساتھ حسن سلوک اور حسب ضرورت ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت اور دیگر تمام متعلقہ امور کی ذمہ داری عام حالات میںمرد پر ڈالی گئی۔
    ثواب اور اخروی کامیابی کا ذریعہ:
    نکاح کی وجہ سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے تئیں جو حقوق اور ذمہ داریاں عائد کی گئیں اسے صرف ذمہ داری اور بوجھ نہیں بلکہ اجر و ثواب اور اخروی کامیابی کا ذریعہ بھی بنا دیا گیا ۔ لہذا مرد کے ذریعہ خود اپنی بیوی بچوں پر خرچ کو سب سے بہترین صدقہ قرار دیا گیا ” دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ في سبيلِ اللَّه، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ في رقَبَةٍ، ودِينَارٌ تصدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ علَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذي أَنْفَقْتَهُ علَى أَهْلِكَ (مسلم عن أبی ھریرۃ) اسی طرح عورت کے ذریعہ شوہر کی اطاعت پر جنت کی بشارت دے دی گئی. "أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة”(الترمذي عن ام سلمة)
    بھلائی اور خیر کا معیار:
    شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک، اچھے برتاؤ اور احساس ذمہ داری کو ایک اچھا انسان ہونے کا معیار قرار دیا گیا لہذا واضح کردیا گیا کہ کوئی بھی مرد یا عورت ایک اچھا انسان اسی وقت ہو سکتے ہیں جب وہ اپنے اہل و عیال، شوہر و بیوی، بچوں اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کریںاور حدیث میںواضح کردیا گیا کہ خود نبی اکرم نے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک کو اپنی عظمت کا ایک اہم سبب قرار دیا "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي(ترمذى عن عائشۃ)
    نسل انسانی کی وجود و بقاء کا طریقہ:
    نکاح اور شادی صرف جنسی تسکین نجی اور خاندانی ضرورتوں اور ایک دوسرے کی دیگر مصلحتوں کی تکمیل کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ یہ قیامت تک نسل انسانی کی وجود و بقا کے لیے اللہ تعالیٰ کا متعین کردہ اور انبیاء کرام کا اختیار کردہ وہ مہذب اور شائستہ طریقہ ہے جس کا اللہ نے حکم دیا اور فرمایا۔”فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
    بچوں کی غذا اور کفالت کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی کو اللہ تعالی نے نسل انسانی کی وجود اور پیدائش کا ذریعہ بنایا اسی طرح بچپن میں بے فکر، بے بس و بے سہارا اور معصوم بچوں کی معقول غذا، دیکھ ریکھ اور پرورش کا انتظام ماں کی بالکل بے لوث ممتا کے ذریعہ اور اس کی دیگر ضرورتوں کی تکمیل اور ہر طرح کی کفالت ارر تعلیم وتربیت کا انتظام باپ کی عنایتوں اور توجہ کے ذریعہ کیا۔
    والدین کے لیے سہارا:
    اگر شادی اور نکاح کے ذریعہ بچپن میں بچوں کی ضروریات کا انتظام کیا گیا تو بڑھاپے میں انہیں بچوں کو والدین کا سرمایہ اور سہارا بنا دیا گیا اور اللہ تعالی کی عبادت کے بعد والدین کو سب سے بڑا رتبہ دیا گیا اور بچوں سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک، ان کی تمام ضروریات کی فکر اور ان کی ہر طرح خبر گیری فریضہ سمجھ کر انجام دیں۔
    رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
    نکاح اور شادی صرف میاں بیوی یا چند سسرالی رشتہ داری کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ اس مقدس عمل نکاح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی رشتہ داری کو مربوط کردیا اور اسی کے ثمرہ کے طور پر دادیہالی اور ننہالی رشتہ داریوںسے بھی نوازا ۔ لہذا دادیہالی رشتہ داروں میں چچا، پھوپھی اور چچازاد و پھوپھی ذاد رشتے، اور ننہالی رشتہ داروں میں ماموں، خالہ اور ماموں زاد و خالہ زاد رشتے عطا فرماکر سماجی ضرورتیںواآسان بنادیں اور باہمی صلہ رحمی کا پابند کیا۔
    عفت و پاکدامنی کا ذریعہ:
    نکاح کو اللہ تعالی نے فطری جنسی خواہشوں کی تکمیل کا شرعی اور شائستہ طریقہ بنایا اور اس طرح انسان کی فطری ضرورت کا ایسا حل پیش کیا جو ایک طرف بے شمار اجر و ثواب کا سبب ہے تو دوسری طرف بدنگاہی سے بچنے کا ذریعہ، عفت و پاکدامنی کا نسخہ اور انسانی عزت وآبرو کے تحفظ کا الہی فطری نظام بھی ہےاسی لیے اس کو عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں بدنگاہی سے بچنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا سبب قرار دیا گیا۔” يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ” (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ)
    نسل انسانی کا تحفظ اور شبہات کاازالہ :
    نکاح اور شادی فطری جنسی خواہشات کی تکمیل، نئی نسل کے وجود، پیدائش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت اور پرورش کا ذریعہ بھی ہے۔اسی لیے خاتون کو بیک وقت ایک مرد کے ساتھ وابستہ کرکے نسل انسانی کا تحفظ، نطفۂ انسانی کے مشتبہ ہونے کے امکان کو ختم کرنے اور نو مولود بچے کے تئیں ماں باپ کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کیا گیا اور اس کو یقینی بنادیا گیا کہ اصل باپ اور پرورش وکفالت کا ذمہ دار معلوم و متعین رہے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ رہے۔
    صدقہ جاریہ:
    شادی، نکاح اور اس کی وجہ سے قائم ازدواجی رشتہ نسل انسانی وجود اور اولاد کی نعمت کے حصول کا جائز ذریعہ ہے اور اولاد کا حصول شادی کے اہم مقاصد میں ہے اسی لیے اولادکے لیے انبیاء کرام نے بھی دعائیں کی اور اللہ نے انھیں نا صرف دنیوی زندگی کی زینت، بڑھاپے کا سہارا اوران کی تربیت کو اخروی زندگی میں بہت سارے اجروثواب کا ذریعہ بنا یا بلکہ والدین کے لیے صدقہ جاریہ بھی بنادیا”
    اجر و ثواب کا ذریعہ:
    مسنون نکاح اورجائز ازدواجی تعلقات آپسی سکون، جنسی تسکین، اولاد کی پیدائش کا سبب، صدقہ جاریہ اور دیگر بہت ساری خوبیوں کے ساتھ اجر و ثواب کا ذریعہ بھی

  • 8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    ریاض: سعودی عرب میں سفید شاہین (فالکن) نصف ملین ڈالرز میں فروخت ہوا تو نیا عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق دارالحکومت ریاض سے تقریباً 40 میل کے فاصلے پر واقع ملہم شہر میں سفید شاہین کو نیلامی کے ذریعے 1.75 ملین یورو میں ( مساوی نصف ملین ڈالرزجبکہ 83,994,900 پاکستانی روپے) ) فروخت کیا گیا ہے۔

    قیمت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والےامریکی نسل کے اس سفید شاہین کو عالمی فالکن بریڈرز آکشن (آئی ایف بی اے) نیلامی میں فروخت کیا گیا ہے اور یہ نیلامی بھی تنظیم کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنی فروخت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے اس سفید شاہین کی عمر ایک سال سے کم ہے اور اسے امریکن پیسفک نارتھ ویسٹ فالکنز فارم سے لایا گیا تھا جسے دنیا میں شاہینوں کی افزائش نسل کے اعتبار سے بہترین سمجھا جاتا ہے سفید شاہین کی لمبائی 16.5 انچ اور وزن 34.5 اونس ہے۔

    سعودی عرب میں منعقد ہونے والی شاہینوں کی سالانہ نیلامی میں 14 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکا شامل تھے اس نیلامی کو سعودی ٹی وی اور سوشل میڈیا نے براہ راست نشر بھی کیا۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب میں مختلف اقسام اور نسلوں کے شاہین پرندوں کی نیلامی کے موقع پر سعودی عرب کی سرزمین پرپائے جانے والے ایک نایاب شاہین کو دو لاکھ 70 ہزار سعودی ریال میں فروخت کیا گیا تھا۔ امریکی کرنسی میں یہ قیمت 72 ہزار ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔

    ایس پی اے نے بتایا تھا کہ یہ ڈیل ریاض کے شمال کے ملہم کے مقام پر سعودی فالکن کلب کی طرف سے منظم کی گئی نیلامی کی دوسری رات میں کیا گیا تھا۔ یہ شاہین نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا پرندہ ہے۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ العرادی فارم سے لائے گئےشاہین کی خریداری میں بڑی بولی کے ذریعے فروخت ہونے والے اس شاہین کی لمبائی ساڑھے 17 انچ،چوڑائی پونے 17انچ اور وزن 1105 گرام تھا۔

    سعودی عرب کے ایک مقامی شہری متعب منیر العیافی نے العرادی فارم سے آئے شاہین کی خریداری کی آخری بولی لگائی تھی۔ اس شاہین کو’رغوان‘ کا نام دیا گیا تھا شاہینوں کے مقامی مقابلے سب سے خوبصورت شاہین پیش کرنے والے کو تین لاکھ، دوسرے درجے پر دو لاکھ اور تیسرے پر ایک لاکھ ریال کا انعام رکھا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آئی ایف بی اے کے مطابق سعودی عرب میں 20 ہزار سے زیادہ شاہین ہیں اس پرندے کو بطور خاص عزت و تکریم بھی دی جاتی ہے سعودی عرب نے جولائی 2017 میں فالکنرز کی ایسوسی ایشن بنانے کے لیے ایک شاہی فرمان منظور کیا گیا تھا سعودی عرب نے بین الاقوامی کنونشنوں پر بھی اتفاق کیا تھا کہ فالکن کو معدوم ہونے سے بچایا جائے اور مہاجر پرندوں کی حفاظت کی جائے۔

    دسمبر میں ریاض کے قریب ہر سال منعقد ہونے والے کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹیول نے 2019 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس وقت جگہ حاصل کی تھی جب 2،350 شاہینوں کی حاضری ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مشرق وسطیٰ میں شاہین سے محبت اور اسے پالنے کی پوری تاریخ ہے اور اکثر دولت مند افراد اس پرندے پر بطور خاص رقوم بھی خرچ کرتے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی شاہین اس قدر مہنگا فروخت ہوا کہ عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا خلیج میں اس پرندے کو ثقافت کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے-

  • سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن   تحریر: محمد امین 

    سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن تحریر: محمد امین 

    آپ نے اپنا بچپن خوشیوں بہاروں رنگینیوں میں گزارا ہو گا آج بھی بچپن کے وہ سہانے دن یاد آتے ہوں گے اور سوچتے ہونگے کاش  وہی بچپن وہ زندگی کے مزے دوبارہ آجائیں. لیکن آپکے پاس ہی ایک ایسی بستی ایسا معاشرہ ہے جہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر انکا بچپن نہیں ہوتا. آپ نے تو بچپن کھلونوں سے کھیل کر کے گزارا ہو گا مگر انھیں اسی چھوٹی سی عمر میں حالات سے مجبور ہو کر سڑک پر کھلونوں اور کتابوں کی بجائے ہاتھ میں اوزار لیکر کام کرنے نکلنا پڑتا ہے. نہ تو ان کے سر پر چھت ہوتی ہے نہ ہی کوئی سہارا.ان کو پورے خاندان کی زمہ داریاں بچپن میں مل جاتی ہیں. انکے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہوتا وہ اپنا سارا بچپن سڑک کی غلاظت میں گزار دیتے ہیں. ان بچوں کے لیے کوئی عید کوئی خوشی کوئی تہوار نہیں ہوتا. کتنا درد ہوتا ہو گا ان نونہال بچوں کو جب کھلینے کودنے کی عمر میں انکے ہاتھوں میں مشقت کے چھالے پڑ جاتے ہیں. 

    بچے کسی بھی ملک کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں.لیکن ان بچوں کے ہسنے کھیلنے کے دنوں میں انکو کام پر لگا دیا جاتا ہے تاکہ گھر کا نظام چل سکے دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے.سکول میں جانے کی عمر میں ان معصوم پھولوں کو ہوٹلز, بسوں,چائے خانوں,مارکیٹوں, دکانوں یا ورک شاپس پر مشقت کےلیے لگایا جاتا ہے. آپ نے بےشمار گلشن کے پھولوں کو کچروں کے ڈھیر میں رُلتے دیکھا ہو گا. گلیوں میں بسنے والے بچوں کو کوئی سہارا نہیں دیتا. وہ خود کما کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اسی  سڑک پر سو کر زندگی بسر کرتے ہیں.کچھ غریب خاندان بچوں کو سڑکوں پر چھوڑ جاتے ہیں اور وہ معصوم بال بھیک مانگ کر اپنے خاندان کو پالتے ہیں اور خود زندگی سڑک پر گزار دیتے ہیں.

    اسٹریٹ چائلڈ ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد 150 ملین کے لگ بھگ ہے. لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے.اسٹریٹ چلڈرن ایک معاشرتی چیلنج ہے. انکے پھیلاو کی بنیادی وجوہات غربت,قحط,مہنگائی,شہرکاری بےروزگاری,حکومتی عدم توجہ ہے. یہ خونی معاشرہ ظالم سماج انھیں بھوک اور تنگ دستی کی وجہ سے کچل دیتا ہے.کیونکہ جینے کے لیے خوراک بھی اتنی ہی ضروری ہے جیسے پانی اور سانس. 

    دنیا کے دیگر ترقی پزیر ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی اسٹریٹ چلڈرن  کا مسئلہ درپیش ہے. عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، یہاں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے. اسکی بڑی وجہ شہری آبادی میں مسلسل اضافہ اور آمدن کے وسائل میں مسلسل کمی ہے. بے روزگاری اور بےگھر افراد کی شرح پہلے ہی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں. اسی وجہ سے جب غریب خاندان غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں تو بال مزدوری اسٹریٹ چلڈرن جیسے چیزیں پنپنے لگتی ہیں.اور اس وقت یہ ایک المیہ بن چکا ہے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل رہا ہے

    اس بے رحم معاشرے میں ان پھولوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ان سے بچپن میں ہی سخت مشقت کروائی جاتی ہے معمولی باتوں پر تشدد کیا جاتا ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں. انکی تعلیم اور صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا. طرح طرح کی بے رحمیوں ناانصافیوں,مظالم ,دکھ درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان پھولوں مسل دیتے ہیں. کم عمری میں ہی غلط کاریوں میں لگا دیا جاتا ہے کیونکہ ان معصوم پھولوں کا نگہبان کوئی نہیں ہوتا.بس اوپر آسمان چھت اور سڑک انکا بستر ہے.یہ حالات کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں مگر کوئی انکو نہیں تھامتا نہ انکی فریاد سنتا ہے. 

    آخر میں اتنا کہ اب اگر اس لعنت کو ختم کرنا ہے تو حکومت کے ساتھ معاشرے کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے. اپنے آس پاس غریب خاندان کے بچوں کی کفالت کا زمہ اٹھانا چاہے یہ ہم پر فرض ہے. معاشرے پر لازم ہے کہ وہ ان بچوں سے مزدوری محنت مشقت کروانے کی بجائے انکی صحت تعلیم اور خوارک کے انکی سپورٹ کرے. اور ریاست تو ماں ہے اس ماں کے ہوتے ہوئے یہ پھول کیوں در بدر سڑکوں کچرے خانوں میں رُل رہے ہیں. اگر یہ معصوم پھول یوں ہی اجڑتے رہے تو یہ چمن بھی اجڑ جانا ہے.افسوس یہ کلیاں پھول کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں

    نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے

    مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے

    ‏Twitter Handle: @ameyynn

  • ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک باپ اور بیٹے کی جو ایک دن اسکوٹر پر کہی جا رہے ہوتے ہیں اور باپ کی نظر اچانک پڑتی ہے روڈ کی سائٹ میں کچھ لڑکے کیچڑ میں کچھ تلاش کر رہے ہیں۔

    تو باپ اپنا اسکوٹر وہاں جاکر روکتا ہے اور جاکر لڑکوں سے پوچھتا ہے کیا تلاش کر رہے ہو یہاں پر؟ تو ایک لڑکا بولتا ہے کیا آپ کو نظر نہیں آرہا ہے کے سامنے ایک گولڈ کا پھل پڑا ہے ہم اس پھل کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    باپ کا دھیان یہ بات سنتے ہی سونے کے پھل کی طرف جاتا ہے  جو چمک رہا ہوتا ہے اور باپ کے دماگ میں خیالات آنا شروع ہوجاتے ہیں کے کاش یہ پھل میرے بیٹے کے پاس آجائے تو نہ صرف میرے بیٹے کی بلکہ میری بھی قسمت بدل جائے گی۔

    باپ بنا سوچے سمجھے  اپنے بیٹے کو کیچڑ میں دھکا مار دیتا ہے اور بیٹے کو بولتا ہے تجھے کسی بھی قیمت پر یہ سونے کا پھل حاصل کرنا ہے لیکن بیٹے کو وہ پھل نہیں چاہیئے ہوتا أس کے اپنے کچھ اور ہی خواب ہوتے ہیں وہ بہت کوشش کرتا ہے اپنے باپ کو یہ سمجھانے کی کے میری خوشی اس سونے کے پھل میں نہیں ہے میری خوشی کہی اور ہے میرے خواب کچھ اور ہیں لیکن باپ أس کی ایک بات نہیں سنتا باپ أس کو دھکا مارتا ہے کیچڑ میں اور بولتا ہے میں تجھ سے پوچھ نہیں رہا ہوں میں تجھے بتا رہا ہوں کے تجھے وہ سونے کا پھل لیکر آنا ہے۔

    تو بیٹا بھی اپنے باپ کے خواب کو سچ کرنے کے لیئے اپنی پوری جان لگا دیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کے کسی طرح یہ سونے کا پھل ہاتھ میں آجائے لیکن جیسے جیسے وہ کیچڑ میں ہاتھ پیر مارتا ہے پھل کو پکڑنے کے لیئے اور نیچے دھسنے لگ جاتا ہے اور پھر جا کر بیٹے کو سمجھ آتا ہے کے یہ کیچڑ نہیں ہے یہ دلدل ہے وہ چیختا ہے چلاتا ہے آواز لگاتا ہے لیکن أس کا باپ اس کی ایک بات بھی نہیں سنتے اور کہتے ہیں بہانے نہیں بنا اور بھی لوگ ہیں کیچڑ میں جو کوشش کر رہے ہیں جب وہ کر سکتے ہیں تو پھر تو کیوں نہیں کرسکتا تو ایک بار وہ پھر سے کوشش کرتا ہے اور پوری جان لگا دیتا ہے لیکن اس کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا ہے اور بیٹا دھیرے دھیرے دھستا چلا جاتا ہے اور مر جاتا ہے۔

    تب جا کر أس کے باپ کو احساس ہوتا ہے کے أس سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے وہ وہیں بیٹھ کر رو رہا ہوتا ہے چیخ رہا ہوتا ہے تب وہا سے بزرگ کا گزر ہوتا ہے اور پوچھتا ہے تم کیوں رو رہے ہو؟ پھر باپ أس سونے کے پھل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بزرگ کو اپنی پوری بات بتاتا ہے اور بولتا ہے اس میں میری کیا غلطی ہے؟ میں تو جو کچھ بھی کیا اپنے بیٹے کی خوشی کے لیئے کیا۔ تو وہ بزرگ أس سونے کے پھل کو بہت غور سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے جس سونے کے پھل کی وجہ سے تم نے اپنے بیٹے کو گوا دیا کم سے کم ایک بار غور سے اس پھل کی طرف دیکھا تو ہوتا کے وہاں پر کوئی پھل ہے بھی یا نہیں یہ سن کر آدمی کو غصّہ آیا اور کہنے لگا سامنے تو نظر آرہا ہے سونے کا پھل آپ کو نہیں نظر آرہا کیا؟ 

    تو وہ بزرگ کیچڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں ایک درخت ہوتا ہے بولتے ہیں وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ ایک سایہ ہے اصلی پھل درخت پر ہے پھر بزرگ أس آدمی کو بولا کے اپنے بیٹے کو زبردستی کیچڑ میں دھکا دینے کے بجائے أس کو بتانے کے بجائے تیری خوشی کس میں ہے اگر تم نے أس سے پوچھا ہوتا کہ بیٹا تو بتا تو کیا کرنا چاہتا ہے اور تیری خوشی کس میں ہے؟ تو نہ صرف تمہارا بیٹا زندہ ہوتا بلکہ ہو سکتا ہے کے أس کے ہاتھ میں وہ اصلی سونے کا پھل ہوتا۔

    سبق لوگو کی رائے لینا چاہئیے اپنے بچوں کی خوشی کا خیال کیجئے اور لالچ میں آکر اپنے بچوں کی زندگی برباد نہیں کیجئے۔

    Name:

     Sadiq Saeed

    Twitter : SadiqSaeed_