Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے     سائنسدانوں کا دعویٰ

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

    سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائسندانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ نظام شمسی سے آگے ہیسیان کی دنیا میں پہنچ چکے ہیں جن میں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں جن کا پتہ دو سے تین سال کے اندر لگایا جا سکتا ہے۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین فلکیات نے امکان کا اظہار کیا ہے کہ زمین سے دو گنا بڑا ’منی نیچیون‘ نامی سیارہ رہائش کے قابل ہو سکتا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    رپورٹ کے مطابق ہائسیان نامی خلائی نظام میں ایسے سیارے موجود ہیں جن میں سمندر ہیں اور ان کے اندرونی حصوں میں ہائیڈروجن بھی موجود ہے جو انسانی زندگی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ہائسن کی دنیا کیا ہے؟رپورٹ کے مطابق ہائسن ہمارے نظامی شمسی سے دور ایک ایسا نظام ہے جہاں دنیا کے موافق سیارے موجود ہیں ان میں پتھریلی چٹانے اور وسیع میدان ہے۔

    سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سیارے انسانی رہائش کے قابل ہیں یہ سیارے توانائی حاصل کرنے کے لیےسورج جیسے بڑے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)    تحریر: علی خان۔ 

    دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)   تحریر: علی خان۔ 

    انگریز برصغیر پر سو سال حکومت کے بعد ویسے تو بہت سی یادیں چھوڑ گئے لیکن نظام تعلیم، ڈی سی اور چائے کا مقابلہ کوئی اورچیز  نہیں کرسکتی۔ چین سے چائے کے پودے لا کر برصغیر میں اگانے اور دنیا بھر می بیچنے کے ساتھ ساتھ اہلیان برصغیر کو بھی اس سوغات سے متعارف کروایا گیا۔ اس سے قبل چائے صرف حکیموں کے پاس دوا کے طور پر موجود ہوتی اور بیماروں کو پلائی جاتی۔ یعنی چائے کے ساتھ بھی وہی حال گزرتا کہ کسی منچلے نے کہا کہ غریب کے گھر مرغ دو ہی صورتوں  میں پکتا ہے کہ بندہ بیمار ہو یا ککڑ بیمار ہو۔ خیر برصغیر میں لپٹن چائے کی ترویج ایسے کی گئی کہ شہروں  میں سڑک کنارے اسٹال لگا کر بسکٹ کے ساتھ چائے پیش کی جاتی۔ چینیوں کی گرم پانی میں ابلی پتیوں کی جگہ جب دودھ اور چینی ڈال چائے بنائی گئی تو دیسیوں کو یہ خوب بھائی اور ہر گھر میں خوراک کا لازم جزو قرار پائی

    جیسے ڈی سی نظام پورے برصغیر میں پوری شان و شوکت کے ساتھ چل رہا ہے اسی طرح  چائے بھی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ سندھ میں آپ مہمان کی تمام خاطر تواضع کرلیں لیکن اگر چائے کا نہ  پوچھیں تو مطلب آپ نے گویا مہمان کی خدمت نہیں کی۔ چائے بنانے کی ترکیب اور پیشکش میں کہیں علاقے کے حساب سے تبدیلیاں آئیں تو کہیں معاشرت کے حساب سے۔ گاوں والے پیالوں میں چائے پینے لگے تو شہری بابو ننھی پیالوں میں چسکیاں لیتے ہیں۔ بھارت میں چائے گلاسوں میں پینے کا رواج عام ہے۔ ادرک والی چائے، دارچینی والی چائے، پودینے والی چائے، الائچی والی چائے اور آج کل کی مقبول عام تندوری چائے۔ ان گنت اقسام، پیشکش کے ان گنت طریقے اور معاشرتی مقام سب کا آپس میں کنکشن سا بن گیا ہے۔ کسی کو چائے میں بسکٹ ڈبو کھانا سب سے مزے کا کام لگتا تو کہیں اسے بدتہذیبی اور گنوار پن گردانا جاتا

    برصغیر میں ]ڈی سی اور چائے کی طرح نظام تعلیم اور چائے میں بھی کچھ مشترک روایات ہیں۔ ہمارے وزیراعظم ملک میں رائج کئی درجاتی اور طبقاتی نظام تعلیم کا ذکر کرتے ہیں تو چائے پینے پلانے اور فروخت کرنے میں بھی ایسا ہی مختلف درجاتی نظام رائج ہے۔ اگر نظام تعلیم مدرسوں، سرکاری اور ٹاٹ اسکولوں، گلی محلے کے پرائیویٹ اردو میڈیم اسکولوں، قدرے اچھے پرائیویٹ انگریزی میڈیم اسکولوں اور کیمبریج و آکسفورڈ گرامر اسکولوں میں تقسیم ہے تو چائے خانے بھی ڈھابوں، روایتی دیسی ہوٹلوں، اچھے ریسٹورنٹوں اور تین چار پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقسیم ہیں۔ آپ کی جیب پر منحصر ہے کہ آپ 20 روپے کپ والی چائے پینا چاہتے ہیں یا دو سو اور بعض صورتوں میں پانچ سو، ہزار اور دو ہزار والی۔ آج کل اس طبقاتی نظام میں اوپن ائیر چائے خانوں کا رواج چل نکلا ہے جو آپ کو چائے کے ساتھ دلچسپ مصروفیات بھی فراہم کرتے ہیں جن میں لڈو، کیرم، لائیو قوالی اور دیگر شامل ہیں۔ اس سب طبقات میں کسی بھی جگہ ذائقے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو بیس یا تیس روپے فی کپ میں مزیدار اور من پسند چائے ملے اور پانچ سو یا ہزار روپے خرچ کرکہ بھی مزہ نہ آئے۔ جیب اور موڈ آپکی چائے کا مقام طے کرتے ہیں۔ بڑی شاہراوں کنارے کچھ ٹرک ہوٹلوں کی چائے اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ پبلک دور دور سے اسکا مزہ لینے آتی ہے۔ 

    جیسے وزیراعظم کو نظام تعلیم میں تقسیم پر اعتراض ہے تو مجھے بھی چائے خانوں کی طبقاتی تقسیم پر اعتراض ہے۔ ماحول اچھا ہونا ضروری ہے لیکن چائے کا ذائقہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ صرف شان و شوکت کی خاطر ان چائے خانوں کا رخ کیا جائے اور مزہ نہ آئے تو دل میں شدید خواہش اٹھتی ہے کہ وزیراعظم کسی روز یہ بھی اعلان کردیں کہ "چائے خانوں میں طبقاتی تقسیم ختم کرکہ یکساں ریٹ کا نفاذ کیا جائے گا”

  • کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات گزشتہ دنوں منعقد ہوئے اس انتخابات کے لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن کو 42 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان 42نشستوں کے لیے 354 امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ جن کے رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 466،522 بنتتی ہے۔
    یہ معرکہ پاکستان تحریک انصاف نے چودہ سیٹوں کے ساتھ سر کر لیا جبکہ گیارہ سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔تیسرا نمبر آزاد امیدواروں نے چھ سیٹوں کے ساتھ حاصل کیا اس کے علاوہ جماعت اسلامی پانچ سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ نواز تین تین سیٹوں سے پانچویں نمبر پر رہیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (CBC) کراچی کا سب سے زیادہ آبادی والا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جہاں کی مجموعی آبادی 305،938 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز 190،280 ہیں یہاں 10 وارڈوں میں 104 امیدوار میدان میں تھے۔پیپلز پارٹی چار،تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) دوسرا سب سے بڑا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جس کی زیادہ تر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور ایک زمانے میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا تصور کیا جاتا تھا یہاں کی مجموعی آبادی296،469 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹر 159،983 ہیں اس علاقے کو بھی 10 وارڈمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 88 امیدوار کونسلر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔یہاں تحریک انصاف نے چھ ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدوار ایک ایک نششست حاصل کی۔
    علاوہ ازیں کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے دس واڈوں کے کونسلر کی نشستوں کے لیے 66 امیدوار میدان میں تھے یہاں کی مجموعی آبادی 139،052افراد پر مشتمل ہے جن میں صرف 36،447 افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپ سیٹ کیا اور پانچ نششستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو دو اور ایک سیٹ آزاد امیدوار نے حاصل کی۔
    کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز میں پانچ وارڈ ہیں جن کی آبادی 57،745 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21,424 ہے اور یہاں 49امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ نواز دو نشستوں پر اور ایم۔کیوایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ایک نشستوں پرکامیاب ہوئے۔
    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ KCBکراچی کا قدیم کنٹونمنٹ علاقہ ہے یہاں کی مجموعی آبادی 68,877افراد پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹر 36,970ہیں اس علاقے کے پانچ واڈوں کے لئے 40امیدوار میں مقابلہ تھا اوریہاں ایم کیو ایم نے دو پیپلز پارٹی نے ایک جبکہ دو آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
    جزیرہ نما کنٹونمنٹ بورڈ منورہ کراچی کا سب سے چھوٹا کنٹونمنٹ بورڈ ہے جہاں صرف دو وارڈ ہیں جن میں7 امیدوار میدان میں تھے ، اس کی آبادی صرف 5،874 افراد پر مشتمل ہے اورجس میں سے صرف 3،544 افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
    یہاں کی دونوں نششستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئ۔
    تحریک انصاف وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 42 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ اگر قومی سیاست میں کامیابی کو مضبوط بنانا ہے تو گراس روٹ لیول پر بھی اپنا قبضہ پکا کرنا ہو گا اور رفتہ رفتہ تحریک انصاف اس میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ایم کیو ایم کے اندرونی انتشار کے بعد کراچی کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوگیا تھا اسے تحریک انصاف پر کرتی نظر آرہی ہے اور یہاں کا ووٹر مہنگائ پر شکایت تو کرتا نظر آتا ہے لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف کو ہی دینا چاہتا ہے۔۔اللہ کرے کراچی کے ووٹرز تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ جلد پوری ہوں۔

    @Azizsiddiqui100

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    موجودہ زمانے میں فحاشی اور جنسی بے راہ روی کے جس طوفان نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اب وہ ہمارے دروازے پر ہی دستک نہیں دے رہا بلکہ ہمارے گھروں کے اندر بھی داخل ہو چکا ہے ۔ ٹی وی ، ڈش ، انٹرنیٹ اور دیگر مخرب اخلاق پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہماری نوجوان نسل جس انداز میں اس کا اثر قبول کر رہی ہے ، اس کے پیش نظر یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ہم بھی یورپ اور امریکا کے نقش قدم پر نہایت تیزی کے ساتھ چلے جارہے ہیں ، جس پر وہ عیسائی مذہبی رہنماؤں کی غلط تعلیمات و نظریات کے نتیجے میں آج سے ایک ڈیڑھ صدی قبل رواں دواں ہوئے تھے ۔ امریکا اور یورپ اس جنسی بے راہ روی کی وجہ سے بن بیاہی ماؤں ، طلاقوں کی بھرمار ، خاندانی نظام کی تباہی اور جنسی امراض بالخصوص ایڈز کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں ۔ کیا مسلمان ممالک بھی انھی نتائج سے دوچار ہونا چاہتے ہیں ؟ یہ اور اس قسم کے چند سوالات ہیں جنھوں نے اس ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقے کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ اس کا علاج ایک طرف امریکا ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ایک جال ہم رنگ زمیں کے ذریعے مسلمان ممالک کو اسی رنگ میں رنگنے کے لیے کوششوں سے ہو رہا ہے ۔ تاہم اس کا دوسرا یقینی اور قابل اعتماد حل وہ ہے جو ہمیں قرآن اور اسلامی تعلیمات کے ذریعے دیا گیا تھا ، جسے نظرانداز کرنے اور بھلانے سے ہم آج اس دوراہے پر کھڑے ہیں ۔

    عورتیں بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہیں۔ جسم فروشی کا دھندہ بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ہم جنس پرست عورتوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ سیکس ورکرز کی تعداد ہمارے ملک میں، ایک سروے کے مطابق، اس وقت 3 لاکھ کے قریب ہے۔ جس میں میل اور فی میل دونوں ہیں۔ ہم جنس پرستی کے حوالے سے ایک سروے اور تحقیق کے مطابق ایسے ایسے لوگوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ جن کے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اور اگر ان کے نام لئے جاتے ہیں تو شاید کفر کے فتوے شروع ہو جائیں اور بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوں۔

    اعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہائش پذیر بڑے بڑے نام والے "معززین” اور ان کے بچے اور بچیاں نہ صرف ہم جنس پرستی کی دلدادہ ہیں بلکہ جنسی بے راہ روی کے فروغ کے لئے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں جنسی فاقہ کشی کا یہ عالم ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انٹر نیٹ میں ننگی فلمیں اور تصاویر دیکھنے والے دنیا بھر میں پاکستانیوں کا پہلا نمبر ہے۔ بچوں سے زیادتیاں، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ، زنا بالجبر جیسے واقعات سے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔

    جنسی بے راہ روی کی وقتی لذت خاندان کی مضبوط اساسات کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ مرد و عورت کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹتا اور خاندان کا ادارہ ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جاتا ہے۔ جوان مرد و عورت اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، مگر بچوں کی شخصیت اس عمل میں بکھر جاتی ہے۔ والدین کی علیحدگی انھیں اپنی زندگی کے سب سے بڑے سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی قربانی، ایثار و محبت کے بجائے خود غرضی، جھگڑے، فساد اور بے صبری کا نمونہ بن جاتی ہے۔

    جنسی بے راہ روی بظاہر ایک خوشنما چیز ہے۔ مگر اس کے نتائج معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ انسانیت نے یہ بات نہ سمجھی تو انسانوں کا مستقبل بہت خوفناک ہوگا۔

    From: Rubina

    @RubinaViews

  • کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں بحیثیت ایک سیاسی جماعت کے،

    اگرچہ پی ٹی آئ نے پورے ملک میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں لی ہیں،

    مگر پنجاب میں اسے شدید دھچکہ لگا ہے۔

    یہاں پر نواز لیگ سیٹوں کے لحاظ سے آگے ہے۔

    راولپنڈی،ملتان اور لاہور میں بھی 

    پی ٹی آئ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اگرچہ خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اور سندھ میں نتائج اچھے رہے،

    جس کے باعث مجموعی برتری تو 

    پی ٹی آئ کو ملی مگر پنجاب میں شکست بہت زیادہ الارمنگ ہے۔

    اسکے آئندہ انتخابات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئ کے لئے مرکز میں حکومت بنانا پنجاب میں کامیابی سے مشروط ہو گا۔

    عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی واجبی سی کارکردگی کی جھلک ان انتخابات میں بھی نظر آئ۔

    بُزدار پر ہر طرف سے تنقید کے باوجود کپتان کا اعتماد اُس پر قائم ہے۔

    یہی اندھا اعتمادکپتان کی اننگز کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

    عمران خان کو حقیقی بنیادوں پر بُزدار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے،

    وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود اسی طرح نواز لیگ پھرجیت گئی،

    جس طرح کئی ضمنی انتخابات میں اس نے پی ٹی آئ کو ہرا کر اپنے میدان میں ہونے کا ثبوت دیا۔

    نہ تو ان ضمنی انتخابات کی شکستوں سے سبق سیکھا گیا اور نہ ہی کنٹونمنٹ الیکشن کی پنجاب میں اس ہار  سے سبق سیکھنے کی کوئ امید ہے۔

    وجہ اسکی یہ ہے کہ عمران خان کے ارد گرد بھی کچھ خوشامدیوں کا حصار ہے،

    جو ہر تباہی کے بعد خود ساختہ دلائل سے سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں۔

    موجودہ کنٹونمنٹ انتخابات میں اپنی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جو سب سے بڑالولی پاپ دیا جا رہا ہے،

    وہ یہ ہے کہ اچھی خاصی تعداد میں جیتنے والے آزاد امیدوار بھی ہمارے ہیں۔

    یہ بات انتہائ مضحکہ خیز ہے،

    اس بات میں کوئ دم نہیں،

    کیونکہ یہ لوگ اگر پی ٹی آئ کے تھے تو پی ٹی آئ کے ٹکٹ پر کیوں نہیں جیتے؟

    اگر انکا تعلق پی ٹی آئ سے تھا تو انکو ٹکٹ کیوں نہیں دئیے گئے؟

    یہ بھی ایک طرح سے پی ٹی آئ کے کرتا دھرتا افراد کی نااہلی ہے۔

    مطلب یہ ہوا کہ زمہ دارلوگ ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم میں بھی ناکام رہے؟

    ٹکٹوں کی غیر منطقی اور غیر منصفانہ تقسیم ماضی میں بھی اکثر پی ٹی آئ کی کامیابیوں کے آڑے آتی رہی ہےہے۔

    عمران خان کو ٹکٹ تقسیم کرنے والے افراد کے محاسبے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

    انتخابی نتائج کو ان افراد کی کارکردگی کا معیار بنایا جاۓ۔

    انہیں اس فارمولے کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہ دی جاۓ کہ آزاد بھی ہمارے ہیں۔

    اگر آزاد تمہارے ہیں تو تم کس کے ہو؟

    کیا تم لوگ عمران خان کے بجاۓ کسی اور کے لئے کام کر رہے ہو،

    جو تمہارے ٹکٹ یافتہ ہار جاتے ہیں اور جنہیں تم ٹکٹ نہیں دیتے،

    وہ جیت جاتے ہیں،

    کیوں ؟

    کیا یہ نااہلی نہیں ہے؟

    کیا یہ کپتان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے برابر نہیں ہے؟

    اس ناقص کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو بہت سے وزرا،مشیر اور ممبران اسمبلی اپنے اپنے علاقوں سے لاتعلق ہو چکے ہیں،

    ان لوگوں کے عام آدمی سے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    ن لیگی دور کی طرح پی ٹی آئ کے ان زمہ داران کے رابطے علاقہ میں اپنے ان خاص ٹاؤٹوں سے ہیں،

    جو اپنی غلط کاریوں اور مال بناؤمہم سے نام کپتان کا بدنام کر رہے ہیں۔

    انہیں اس سے غرض نہیں کہ لوگ خان کے نظریے سے دور ہوجائیں گے،

    انہیں اگر مطلب ہے تو اپنی اپنی دیہاڑیوں سے،

    جو وہ خوب کھری کر رہے ہیں۔

    عمران خان کو اپنے ان ریلو کٹے ٹائپ وزرا اور مشرا کی گردنوں میں آیا ہوا سریا نکال کے عوام میں بھیجنا ہو گا،

    جو ٹیگ کئے جانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

    عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات،

    یہ ایسی باتوں کا نوٹس تک نہیں لیتے،

    سوشل میڈیا ٹیمیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اپنا سر دیوار سے ٹکرا کر انہیں مسائل سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،

    مگر یہ ایسے ہی ثابت ہوتا ہے،

    جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

    ابھی نور مقدم کیس کو ہی لے لیں۔اس کیس میں جو بربریت ہوئ،

    اُس پر سوشل میڈیا پر ٹرینڈز پر ٹرینڈز کئے جا رہے ہیں،

    مگر حکومتی نمائندگان مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں،

    حالانکہ نور مقدم کا بیہمانہ قتل ایک انسانی المیہ ہے،

    جس پر متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی حکومت وقت کا فرض ہے۔

    جب تک حکومتی نمائندےعوام میں جا کر اپنے کلف والے کپڑے خراب نہیں کریں گے،

    اس وقت تک پی ٹی آئ وہ زور نہیں پکڑ پاۓ گی،

    جس کی اُسےاگلے عام انتخابات میں فتح کے لئے ضرورت ہے۔

    اب آجاتے ہیں اُس بڑی وجہ کی طرف جو ہر موقع پر پی ٹی آئ کی کارکردگی کو گہنا رہی ہے۔

    وہ ہے مہنگائ۔

    یہ مہنگائ جینوئن ہے،

    خود ساختہ ہے یا مافیاز کے کچھ حربوں کی بدولت۔

    اس مہنگائ کے دفاع میں کم ازکم میرے پاس کوئ ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

    ہم تھک گئے ہیں لوگوں کو طفل تسلیاں دیتے ہوۓ۔

    اب لوگ مزید لوریاں سُننے کو تیار نہیں ہیں،

    وہ ہر لحاظ سے اس مہنگائ کی کمر پر حکومت کی طرف سے لگائ جانے والی ضرب کاری دیکھنا چاہتے ہیں۔

    مہنگائ کے ستاۓ لوگوں میں اب مزید خواہ مخواہ کی تسلیاں سننے کی سکت نہیں رہی۔

    مزید جھوٹی تسلیاں لوگوں کو پی ٹی آئ سے دور اور ن لیگ اور پی پی جیسے مافیاز کے نزدیک کرنے کا باعث بنیں گی۔حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔

    لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا،

    مہنگائ نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

    اب انہیں کسی قسم کا نیا لولی پاپ دینے کے بجاۓ مہنگائ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ آئندہ کے انتخابی معرکوں میں پی ٹی آئ اور کپتان کی سوچ سُرخرو ہو سکے۔

    اگر مہنگائ کے خاتمے اور کرپٹ افراد سے لوٹی دولت کی واپسی کے لئے اقدامات نہ کئے جا سکے تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی نحوستوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جا سکے گا۔

    لوگوں کو بیوقوف بنانا انہیں خوب آتا ہے،

    انکی اب بھی کوشش ہے کہ مہنگائ کی اس موجودہ لہر کو کیش کروا کے اپنے دہائیوں کے گناہ اور کرپشن معاف کرواکر لوٹ مار کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جا سکے۔

    عوام مہنگائ کے ہاتھوں تنگ ہونے کے باوجود عمران خان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،

    مگر اس ساتھ کو حاصل کرنے کے لئے حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ سیر حاصل کرنا ہو گا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    جواز اور دلیل دی جاتی ہے کہ عوام ٹک ٹاکرز کو پسند کرتی ہے ۔۔ اس لیے حکومت بھی ٹک ٹاکرز کو سراہتی ہے ۔۔۔

    عوام کی ایک کثیر تعداد مجرے بھی پسند کرتی ہے تماش بینی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے عوام کی ایک کثیر تعداد چرس بھی بہت پسند کرتی ہے ۔ کھول دیں بازار ۔۔؟؟ عوام کا اتنا خیال ہے تو عوام کو جو پسند ہے سب کھول دیں پھر پابندیاں قوانین اخلاقیات کا کیا لینا دینا ہمارے معاشرے سے۔۔؟؟ جب ہم نے یہی دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ جو جتنا مشہور ہے اتنا قابلِ عزت ہے تو پھر مجرے کرنے والیوں کو کنجر کہنا بند کریں وہ سٹیج پر ناچتی ہیں اور آج کل کی جدید طوائفیں موبائل سکرین پر عوام کا من و رنجن کرتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار کیوں کہ سٹیج پر ناچنے والی کنجر طوائف نا جانے کیا کیا اور ٹک ٹاک پر ناچنے والی سٹار سلیبرٹی انفلووینسر ۔۔؟

    جب ایسے لوگوں کو عزت و وقار اور شہرت ملتے کم عمر بچے دیکھتے ہیں تو وہ ان کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں کہ مجھے بھی بڑے ہو کر یہی بننا ہے اور یہی سب کرنا ہے ۔ معزرت میں زرا دقیانوسی خیالات کا مالک ہوں ٹک ٹاک پر ناچنے کو ماڈرن کوٹھا سمجھتا ہوں اور ناچنے والوں کو اداکار فنکار نہیں بلکہ کنجر سمجھتا ہوں ۔ اپنی آنے والی نسل کی فکر کریں جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہم نوے کی دہائی کی پیدائش ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زمانے کو کروٹ بدلتے دیکھا اس لیے کچھ تربیت اثر کر گئی تو کچھ اخلاقیات کے دائرے میں خود کو قید رکھا ۔ ورنہ شہرت کون سا مشکل کام ہے ؟ صرف ایک سکینڈل کی مار ہے یہ شہرت آج کہیں منہ کالا کرائیں کل پورے ملک میں مشہور ۔۔

    ہمیں تربیت ملی کہ بیٹا ذلت کی شہرت سے عزت کی گمنامی بہتر ہے ۔ لیکن کیا کیجیے کہ چند سالوں میں زمانہ ایسا بدلا کہ اس بات سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی وجہہِ شہرت کیا ہے ۔ بس مشہور ہیں یہی کافی ہے ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہوگا ۔؟؟ یہ جن ناچنے والیوں کو ہم آج سٹار سلیبرٹی رول ماڈلز اینفلونسر کہتے ہیں انہیں چند سال پہلے لکھنئو اور لاہور کے بازارِ حسن میں طوائفیں کہا جاتا تھا۔ اب تو بس نام ہونا چاہئیے پھر آپ سٹار بھی ہیں سیلبرٹی ہیں اور اداکار فنکار بھی ۔۔

    بد قسمتی سے ایسے لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والے بھی ہم ہی میں سے ہیں ۔ اور اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نئی نسل بھگتے گی ۔۔ ہم کتابیں پڑھتے بڑے ہوئے بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ استادوں کی اخلاقیات والدین کی تربیت نے زندگی کا مقصد بنایا اچھا انسان اور باوقار شہری بننا ہے ۔ آج کے والدین پر بھی حیرت ہے جن کی عقل پر پردے پڑے ہیں اور وہ اس فہاشی و عریانی کو نیا دور سمجھ کر قبول کر بیٹھے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں ماشااللہ اللہ نے بچے کو بہت عزت دی ہے۔ اور کیوں نہیں جب حکومت بھی ایسے لوگوں کو سراہے گی میڈیا بھی مارنگ شوز میں بلائے گا تو پھر عزت شہرت تو ہو گئی نا ۔۔

    اپنی آنے والے نسل کی تباہی و بربادی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ۔۔ شکوہ نا کیجیے گا ہمیں کوئی بتانے سمجھانے یا بولنے والا نا تھا کیونکہ میں اپنا فرض پوری طرح نبھا رہا ہوں اور اس جدید دور میں بھی فیشن اور فہاشی کا فرق عوام کو بتا کر کر گالیاں کھا رہا ہوں ۔۔ خیر وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے ۔ یہی سوچ کر ۔۔ "شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”

    Twitter @zohaibofficialk

  • آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    زندگی کو پُرسکون بنانے کے چَکر میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ موت نے بھی ایک دن آنا ہے وہ زندگی کا ساماں کرتے کرتے آخرت کا رونماں ہونا بھول جاتا ہے زندگی میں روشنیاں بکھیرتے بکھیرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مجھے آخروی زندگی کی روشنیاں کیسے حاصل کرنی ہیں ۔انسان پہلے تو کھیل کود میں پھر لطفِ زندگی میں وقت گزار دیتا ہے پھر اُسکو خیال آتا ہے محنت کرکے وہ اپنی زندگی کے آخری دن آرام دہ بنائے ۔

    زندگی کو بہتر بنانے کی تک ودو میں وہ آخرت بہتر بنانے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتا ہے کوئی نہیں جانتا کون سی سانس آخری ہو دنیا کا سب ساماں اِدھر ہی رہ جانا ہے اپنی زندگی میں روشنیاں بھرنے کے چکر میں کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اندھیرے بکھیر رہے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھول جاتے ہیں الّللہ پاک انصاف کرنے والا ہے اور وہ ایک ایک زیادتی کا حساب لینے والا ہے قیامت کا دن مقرر ہے اور جب قیامت آئے گی سب اللّلہ کے سامنے جواب دہ ہونگے ۔ 

    اگر ہم اپنی زندگی میں دوسروں کی زندگی میں روشنیاں بکھیریں گے تو ہماری آخرت اور ہماری قبر اندھیری نہیں روشنی سے بھری ہوگی۔ ایک انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا سب ساماں کر لیتا ہے پھر جیسے ہی وہ سب پا لیتا ہے اسکو موت آ گھیرتی ہے ساری زندگی وہ اسلیے تھکا کہ میں اپنی زندگی بہترین بنا سکوں مثال قائم کردوں مگر اختتام پہ وہ سب اسکو نصیب ہی نہ ہو پھر کیا ملا اسکو ؟ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں یہی وجہ ہے جب ہم سے ہمارا کوئی اپنا پیارا بچھڑ جائے تو ہم بہت سے سوالوں میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ کاش ایسے ہوتا ویسے ہوتا ۔ ہمارا ذہن یہ قبول نہیں کر پاتا کہ وہ انسان بچھڑ گیا کیونکہ ہم نے یہ سوچا ہی نہیں ہوتا کہ ایک دن سب نے بچھڑ جانا ہے ۔ کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا ۔پر بات وہی ہے ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں اس زندگی کو کیسے گزارنا ہے کیا کرنا ہے یہی سوچتے ہیں ۔ بہت سے خواب بناتے ہیں اور ان خوابوں کی تکمیل کے چکر میں نہ ہم کو اپنا ہوش ہوتا ہے نہ اپنوں کا ۔ بس زندگی کی دوڑ میں بھاگتے جارہے ہوتے ہیں ۔لوگ اتنا کچھ سامان جمع کر لیتے ہیں میں سوچتی ہوں کیا ہم مرنا نہیں ہے ؟ کیا ہمارا حساب نہیں ہونا؟ زندگی بھی گزاریں اور چھوٹے چھوٹے خوابوں کے ساتھ جئیں ۔ خود بھی ایسے جئیں کہ دماغ میں یہ بات موجود ہو کہ ناں جانے کونسی رات آخری ہو ہر وقت خود کو تیار رکھیں اس زندگی کو بھی گزاریں پر آخرت کا ساماں بھی تیار رکھیں ۔ کیونکہ یہ جائیدادیں بنگلے پیسہ گاڑیاں یہ سب آپکے ساتھ نہیں جانا ۔ بلکہ آپکے اعمال نامہ نے جانا ہے اپنے اعمال بہتر بنائیں ۔ کسی کو دکھ نہ دیں کسی کی بدعا نہ لیں کسی بے گناہ کو نہ ستائیں ۔ کسی کی خوشیاں نہ چھینیں دھوکا اور جھوٹ سے پرہیز کریں۔ سب برائیوں سے بچیں ۔ اللّلہ پاک اور اسکی مخلوق کو جائز طریقہ سے راضی رکھیں ۔اللّلہ پاک سب کو زندگی دی اور ہر چرند پرند انسان کو موت کا ذائقہ چکنا ہے موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا رونما ہونا ہے یہ اللّلہ پاک بہتر جانتے ہیں ۔ اللّلہ پاک سَزا وجَزا کا فیصلہ کرنے والا ہے کیا بویا ہمیں وہی کاٹنا پڑے گا ۔ انصاف کا ترازو ہوگا وہاں !! دنیا نہیں جدھر بے گناہ کے پلے بھی سزائیں ڈال دی جاتی ہیں ۔ پُل صراط وہ راہ ہے جو مشکل نہیں پر اسکے لیے ہمارے اعمال اچھے ہونے ضروری ہیں ۔اللّلہ پاک بخشنے والا ہے اس میں کوئی شک نہیں پر انسان کو بھی چاہیے وہ اپنے اعمال بہتر بنائے اور آخرت کی فکر کرے اپنی زندگی میں ہی آخرت کا ساماں کرلیں ۔خوش رہیں خوشیاں بانٹیں بس کسی کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنیں ۔ کیونکہ اللّلہ پاک اپنے بندوں کے ایک ایک بہتے آنسو کا حساب رکھتا ہے ۔ 
    @Hu__rt7

  • پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دن با دن پاکستان گرم ترین ممالک میں شامل ہوتا جارہا۔ کیا اپنے کبھی غور کیا اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ اتنی گرمی کی شدت کہیں نا کہیں ہماری اپنی غلطی ہے کبھی سوچا ہے کیا ہے وہ غلطی۔ ہم آئے روز درخت اور پیڑوں کو کاٹتے جارہے ہیں جس سے گرمی میں اضافہ ہورہا ہے جس کا سبب صرف ہم ہی ہیں۔

    ہمارے ملک میں چند سال قبل گرمی کی شدت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر نہیں جاتی تھی اور اب اس ملک میں 55 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

    چند سال میں 10 سینٹی گریڈ زیادہ گرمی ریکارڈ ہوئی ہے وہ بھی ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے۔ اس ملک میں شجرکاری کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم لوگ ایسے ہیں درخت کاٹ تو سکتے ہیں فائدے کے لیے لیکن بدقسمتی سے ہم لگاتے نہیں ہے۔

    ملک میں ایسی بہت سے تنظیمیں ہیں جو اج بھی شجرکاری مہم کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ پاکستان Global Warming سے بچ سکیں۔ تمباکو نوشی سے ہماری فضا میں آلودگی آتی ہے اور پھر سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیکٹریوں سے آلودہ پانی اور گیس ہوا میں جذب ہوجاتا ہے اور پھر گرمی کی شدت میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا ہے۔

    پاکستان وہ ملک ہے جہاں درخت ہی وہ واحد حل ہے جس سے اپنے ملک کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرسکتے ہیں۔

    زمینین بنجر پڑی ہیں، دریا خالی ہوگئے ہیں جس سے ہمارے ہاں گرمی کا سورج آگ بھڑکاتا ہے۔

    اگر ہمیں گرمی سے خود کو بچانا ہے تو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:

    1: گھر کے اندر رہنا اور دھوپ اور انتہائی درجہ حرارت کی نمائش سے گریز کرنا۔

    2: گھر کی سب سے نچلی منزل پر رہنا۔ پیاس نہ لگنے پر بھی کافی مقدار میں پانی پینا۔

    3: ایسے مشروبات سے پرہیز کریں جن میں کیفین شامل ہو۔ ہلکا کھانا کھانا اور بہت زیادہ نمک سے پرہیز کرنا۔

    4: بیرونی کھیلوں کے ایونٹس کو ملتوی کرنا۔ بچوں اور پالتو جانوروں کو بند گاڑیوں کے اندر تنہا نہ چھوڑیں۔

    5: ڈھیلے ڈھالے ، ہلکے وزن اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا جو کہ جلد کا زیادہ تر حصہ ڈھانپ لیتے ہیں۔

    6: چہرے کی حفاظت کے لیے اسکارف یا چوڑی چوٹی والی ٹوپی پہننا۔

    7: سخت کام سے گریز کریں اور دن کے گرم ترین حصے میں کام کرتے وقت بار بار وقفے لیں۔ 

    اگر ہم ان چند چیزوں کا خیال رکھیں گے تو ہم خود کو اور اپنی نسل کو گرمی اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، یہ وہ اہم ترین نقطے ہیں جس کا ہمیں ہمیشہ ہر موسم گرما میں خیال رکھنا چاہے۔

    پاکستان کا سب سے گرم شہر جو کہ سندھ صوبے میں ہے "جیکب آباد” وہ شہر کا نام ہے۔ وہاں ہر سال سخت ترین گرمی پڑتی ہے۔ یہ شہر سندھ اور بلوچستان کے نزدیک ہے۔ پاکستان اور ایشیا کا سب سے گرم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ گرمی فضائی آلودگی اور پانی کی آلودگی اور گیسز کی آلودگی ہر چیز ہمیں اور ہماری نسلوں کو برباد کرنے میں کارآمد ثابت ہورہے ہیں. ہمیں اپنی نسلوں کے لیے اب اٹھ کھڑے ہونا ہوگا کیوں کہ اگر مستقبل محفوظ کرنا ہے بچوں کا تو اس آلودگی سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں ہی تکلیف ہوگی اگئے چل کر تو اس سے قبل ہمیں ایسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا۔

    انشاءاللہ ایسا وقت بھی آئے گا جس دن پاکستان آلودگی اور ہیٹ ویو سے پاک ہوجائے گا اور پاکستان باقی ملکوں کی طرح ٹھنڈا ملک بن جائے گا جہاں لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا نا زندگیوں کو نا ہی جان کو۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے ملک میں درخت، پودے لگانے ہونگے اور زہریلی گیس فضا میں پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا اور ہمیں پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کا عزم کرنا ہوگا جس سے پاکستان کا دنیا میں مثبت پیغام جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس ملک میں باہر سے آئیں اور پیارے پاکستان کی سیر کریں۔

    اللہ پاک پاکستان پر اور یہاں کے لوگوں پر اپنا خصوصی کرم فرماتے رہیں اور اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

    پاکستان زندہ باد

    @JaanbazHaseeb

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09

  • خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خود کشی ایک حرام فعل ہے، ایسا قبیح فعل جس میں انسان غیر قدرتی طریقے سے اپنی جان لے لیتا ہے اور خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ یے، جبکہ خواتین میں خودکشی کی شرح کم ہے۔  مردوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان بڑھتا ہے اور خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان کم ہو کر  تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیاب سمجھے جانے والے لوگ بھی خودکشی کرتے ہیں جن میں شاعر، اداکار، ادیب، بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ خودکشی کرنے والا چاہے جتنا بھی اچھا انسان ہو اس کی شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ خودکشی کی موت خاندان اور خودکشی کرنے والے سے منسلک ہر شخص پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ لوگ خاندان والوں کا دکھ درد سمجھنے کی بجائے عجیب رویہ اپناتے ہیں، کھوج میں لگ جاتے ہیں۔ خاندان کے لوگ بھی خود کشی کی وجوہات ہر بات نہیں کرنا چاہتے،  خود کشی کو حادثاتی موت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ اس لئے خودکشی کی روک تھام کے لیے اس حد تک آگاہی نہیں ہوپاتی جتنی ضرورت ہے۔
    خودکشی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی اور خود سے مایوس ہو جاتے ہیں انہیں سب کچھ بے مقصد لگتا ہے۔ زندگی سے کوئی امید باقی نہیں رہتی۔  لوگ گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ لوگ غربت، معاشی مسائل، بےروزگاری، خود اعتمادی کا فقدان، احساس کمتری، وجود کا بحران، تعلیم میں ناکامی، ذہنی دباؤ، زہنی الجھنیں، ٹینشن، کاروبار، محبت میں ناکامی اور کئی معمولی وجوہات کی بنا پر بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
    پچھتاوا بھی خودکشی کی وجہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو کر بھی لوگ خود کشی کر لیتے ہیں۔
    ڈپریشن خودکشی کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک ہے۔ ڈپریشن میں منفی خیالات دماغ پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ڈپریشن میں خودکشی کے خیالات متواتر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تنہائی، ذہنی دباؤ، پریشانی وغیرہ خودکشی کی سر فہرست وجوہات میں سے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ذہنی بیماریوں اور ان کے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ خود بہ خود ہی ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنے متعلق ذہنی بیماریوں کا کسی کو نہیں بتاتے۔ اپنی تکالیف کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ دماغی بیماریوں کو شرمندگی اور ندامت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح معمولی نوعیت کی بیماریاں جو تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے ٹھیک ہو سکتی تھی وہ پیچیدگیی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر ڈیپریشن کے مرض کی ابتدا ہی سے اس کے علاج کے لئے سدباب کیا جائے تو یہ علاج کے زریعے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اور  بات خودکشی تک پہنچے ہی نہ۔ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لیے لیے ذرائع کافی محدود ہیں۔
    مذہب سے دوری خودکشی کی اہم وجہ ہے۔ اگر لوگ مذہب کے مطابق زندگی بسر کریں،تو وہ خود کو خودکشی سے باز رکھ سکتے ہیں۔ اسلام میں خودکشی کو حرام اور ناپسندیدہ ترین فعل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام امن وامان، برداشت، درگزر اور امن سلامتی کا درس دیتا ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اور اپنی جان لینا نعمت کو ضائع کرنا اور اللہ کی خوشنودی سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔
    خود کشی کی روک تھام
    بہت ضروری ہے۔ ہمیں اس میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مثبت رویہ اپنائیں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ۔ کسی کے ساتھ برا رویہ نہ رکھیں ۔کبھی کسی کو ایسے کلمات  نہ کہیں جو کسی کو خودکشی کی طرف مائل کر سکتے ہوں۔ خود پر بھی توجہ دیں اگر آپ کے دماغ میں منفی خیالات آتے ہیں تو حتی الامکان ان سے بچنے کی کوشش کریں اور ان سے چھٹکارہ پائیں۔ بے جا سوچوں کو دماغ میں جگہ نہ دیں۔ صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں۔ خود کو وقت دیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے آپ کا ، ہم سب کا اس پر حق ہے۔ ناامیدی کفر ہے۔ غربت، پریشانی، نامسائد حالاتِ اللّٰہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر آتے ہیں۔کوئی بھی تکلیف دائمی نہیں ہوتی۔ جیسے بھی حالات ہوں آپ صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔  برداشت اور تحمل مزاجی کو اپنائیں۔ اپنے جذبات پر قابو پائیں اور اپنے آپ کو پرسکون رکھیں۔ زہنی دباؤ کا مقابلہ کریں۔ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگانے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں روشنی پیدا کریں۔ اچھے کام کریں، دوسروں کے کام آئیں۔ با مقصد زندگی گزاریں۔ نیکی کے کام کریں اور انہیں پھیلائیں۔ نماز پنجگانہ ادا کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت کریں، یقینا اس میں دلوں کا سکون ہے۔
    اپنے جذبات و احساسات اپنے سے قریبی لوگوں کے سے شیئر کریں۔ ان پر اعتبار کریں۔ خود  کو پہچانیں اور خود کو موت کے حوالے کرنے کے بجائے زندگی کی طرف قدم بڑھائیں
    متوازن سوچ کے ساتھ کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، اگر کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے یا توجہ کا مستحق ہے تو اسے وقت دیں۔ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لائیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
    حکومت کو چاہیے کہ ذہنی امراض کے علاج معالجے کے لئے ہسپتال اور کاونسلنگ مراکز  قائم کریں۔ ذہنی امراض کے شکار مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فنڈز  کی رقوم مختص کریں۔ ذہنی اور دماغی امراضِ کے علاج کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اگر آپ کو کوئی ذہنی بیماری ہے تو لازما ڈاکٹر کے پاس جائیں اور مکمل علاج کروائیں۔
    کوئی بھی خودکشی کرے تو اس کے قاتل اس کے اردگرد بسنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ اس کا قاتل پورا معاشرہ ہوتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اس کی خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں ہر ممکن حد تک خودکشی سے بچاؤ کی تدابیر کرنا ہوں گی، تاکہ ہم بہت سی جانوں کو حرام طریقے سے لقمہ اجل بننے سے بچا سکیں۔

    @FarooqZPTI

  • قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    ایک دفعہ کا ذکر ہے 

    میری عمر 47سال ہے اور آٹھ سالوں سے بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلا رہا ہوں،آج تک کوئی چالان نہیں ہوا۔پورے عرصے میں دو بار روکا گیا،فوتگی کا بہانہ کیااور چل سو چل۔ٹی وی پر ہیلمٹ کے بارے میں آگاہی مہم دیکھی،کافی متاثر ہوا،ساتھ ہی جرمانے کے خوف نے جنم لیا تو وددھ والے کے بل سے پیسے کٹ کیے اور ہیلمٹ خرید لیا۔ایک دن ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے بائیک ڈرائیونگ لائسنس بنوا لوں،حالانکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔99%لوگ بائیک اور کار لائسنس اکٹھا اپلائی کرتے ہیں اور جن کے سر پر استاد ہوتا ہے وہ بنوا بھی لیتے ہیں،جب میں نے موٹرسائیکل لائسنس کیلئے اپلائی کیا تو مجھے احساس ہواکہ پاکستان میں شاید لیگل طریقے سے لائسنس بنوایاہی نہیں جا سکتا،وہ پاکستان جہاں کے40%لوگ آج بھی ان پڑھ ہیں،ان سے کہا جاتا ہے کہ پہلے تحریری ٹیسٹ دو پھر ٹریفک اشارے جوکہ 140ہیں،ان کا ٹیسٹ دو پھر گاڑی کا ٹیسٹ دو پھر لائسنس ملے گا۔اگر ایک دن میں 100لوگوں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہے تو ان میں سے 70%ان پڑھ ہوتے ہیں،لہٰذا 60سے70لوگ تحریری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں،باقی میں سے90% لوگ اشاروں میں رہ جاتے ہیں جن 5سے8کو کلیئر کیا جاتا ہے ان میں سے90%چاچے مامے،بھانجے بھتیجے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔میں نے لائسنس پر اس میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹر میں یہ جملہ بار بار سننے کو ملا کہ اشاروں میں امیدوار خزاں کے پتوں کی طرح گریں گے اوربالکل ایسا ہی ہوا۔میں نے صرف موٹر سائیکل کے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن مجھ سے موٹروے والے اشارے پوچھے گئے،جہاں موٹر سائیکل کی اجازت ہی نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کا چپہ چپہ جانتا ہوں مگر ان 140اشاروں کا ذکر خیر90%سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔”کیا یہ کھلا تضاد نہیں”افسوس مجھے اُس وقت بہت زیادہ ہوا جب بڑے بڑے ماہر ڈرائیور جن کو میں 20سال سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہا ہوں،تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کی نظر ہوگئے۔اگر کوئی بدقسمت اپنے گھریلو حالات یا تقدیر کے لکھے کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکاتو اُس کو جینے کا حق تو بہرحال ہے! اُس کی فیملی بھی ہے،وہ بچوں کو بھی پڑھانا چاہتا ہے۔مستقبل کے ئے کچھ محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے،اپنے گھر کی بھی خواہش ہے۔کیا ان پڑھ اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ اگر اس کے پاس ڈرائیونگ کا واحد ہنر ہے تو وہ گاڑی نہیں چلائے گا تو کیا کرے گا۔کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں کبھی سوچا گیا کہ ان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے،ان کے ہنر کو کس طرح قانوناً بنانا ہے۔شاید حکومت کے پاس نہ یہ سوچ ہے اور نہ اس کا حل ہے کیونکہ وہ گڑھے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے،شریف برادران سے اربوں روپے وصول کر لیے ہیں،اب زرداری سے کھربوں نکلوا لیں گے اور معیشت آسمان پر چلی جائے گی،ایسا نہیں ہوتا ہے۔اگر اندھوں،بہروں، گونگوں،ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو پڑھا یا جاسکتا ہے تو ان ہٹے کٹے نوجوانوں کو کیوں نہیں پڑھایا جاسکتا،جن کا ہنر جہالت کے ملبے میں دبا ہوا ہے۔مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو ایک حل ذہن میں آتا ہے کہ جو ڈرائیور لمبے عرصے سے گاڑی چلارہے ہیں یا جو  ان پڑھ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے ہیں اور لائسنس کے بھی خواہشمند ہیں،حکومت ان کے لئے ایک ادارہ بنائے،ان کو خود ٹرینڈ کرے۔ ٹریفک قوانین پر لیکچرز دیئے جائیں۔اشاروں سے آگاہی دلائی جائے اور کامیاب لوگوں کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ وہ باعزت اور ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

    @joinwsharif7