Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کا موجودہ نظام تحریر: محمد عمران خان

    وقت نے ثابت کر دیا کہ کرپٹ نظام کو جب تک جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا پاکستان مصائب کی دلدل سے نہیں نکل پائے گا۔ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ آج تک اپنا نجات دہندہ آئین پاکستان کے حقیقی نفاذ کے بجائے کرپٹ عناصر میں ہی تلاش کر رہے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ عوام قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، منی لانڈرنگ کرنے والوں، بھتہ مافیا، قبضہ مافیا اور کرپشن کے شہنشاہوں میں ہی اپنا مسیحا تلاش کرنے پر بضد ہے۔ عوام کی بیوقوفی کا یہ عالم ہے کہ مسئلہ کشمیر پہ سالہاسال سے نعروں اور درحقیقت کشمیر کیس کو کمزور سے کمزور ترین کر دینے والے کرپشن کے دلدادہ سرمایہ دار وڈیرے حکمرانوں سے ابھی تک امیدِ خیر لگائے بیٹھے ہیں جن کا بزنس، جائیداد اولاد سب تو بیرون ملک ہیں بس کرپشن کا بازار گرم رکھنے کیلئے اقتدار کے ایوانوں پہ قابض رہنا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ جو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے نہتے پر امن شہریوں تک پہ ظلم کے پہاڑ توڑنے سے گریز نہیں کرتے اُن سے کیسے امید رکھی جا سکتی ہے کہ کشمیر میں بلکتے بچوں، تار تار چادر لیے سسکتی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی فریاد کوئی خاص اہمیت رکھتی ہو گی۔ بینظیر، نواز شریف، مشرف، زرداری، عمران کے ادوار کو ہی لے لیں کوئی ایک حکمران ایسا نہیں آیا جس نے اقتدار سے ہٹ کے عوامی مسائل کا سوچا ہو۔ ایسے میں اگر کسی نے آئین کے حقوق کی پُر امن آواز بلند کی، بزور کچلنے کیلئے ریاستی محافظوں کو ہی دہشتگرد بنا کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ماڈل ٹاؤن ہو یا انقلاب مارچ کیلئے نکلنے والے پُر امن قافلوں کا احوال یا 30، 31 اگست 2014 کی درمیانی رات ہر جگہ بربریت کی اِک نئی داستان رقم کی گئی۔ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، پریزیڈنٹ ہاؤس اور اردگرد کی عمارتوں کے درو دیوار گواہ ہیں کہ کس طرح اقتدار کے نشے میں بدمست نواز شریف اینڈ کمپنی نے ماڈل ٹاؤن میں ناحق قتل ہونے والے چودہ معصوم لوگوں کا انصاف مانگنے والے پُرامن ہزار ہا مرد و زن کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے سڑکوں پہ نشان عبرت بنا کر فرعون، نمرود، یزید تک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی جیسے فرعون نمرود یزید رہتی دنیا کیلئے نشان عبرت بن گئے ویسے ہی سلاخوں کے پیچھے وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کرنے والے سابقہ حکمرانوں کیلئے کڑی سزا لکھی جا چکی ہے۔ اسی دنیا میں وہ آنے والوں کیلئے نشان عبرت بنیں گے۔

    اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو وہاں بھی بھیانک قسم کے کھیل دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس طرح بے دردی سے پاکستان کی عزت و آبرو اور وقار کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے۔ قیام پاکستان سے ہی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے قدم مضبوطی سے جما کر سیاست دانوں سمیت دیگر ملکی اداروں کے اختیارات میں ناجائز طریقے سے مداخلت شروع کردی۔ نتیجتاً ملکی ادارے اتنے کمزور ہوگئے کہ ان کو یا تو گروی رکھوا کر قرض لے لیا گیا یا پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیے گئے۔ جس ملک کے ادارے کسی دوسرے ملک کے پاس گروی ہوں اس ملک کا عالمی برادری میں کیا وقار رہ جاتا ہے؟

    اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی افسران و ججز کو زمینیں الاٹ کی جاتی رہیں جو آج ایک روایت بن چکی ہے۔ قانوناً ہر ادارے کے ملازمین برابر حقوق رکھتے ہیں مگر یہ انفرادیت صرف اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ میں رکھ کر ملک کا خوب دیوالیہ نکالا ہے۔ 

    میرے وطن عزیز میں بسنے والے پیارے پاکستانی ہمیشہ سے سبز باغ دکھانے والوں کی مکاریوں کے جھانسے میں آکر لٹتے رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم نسل در نسل اسٹیبلشمنٹ کے غلام بن گئے ہیں۔ اب چاہتے ہوئے بھی موجودہ فرسودہ، استحصالی، کرپٹ، دھن، دھونس اور بدمعاشی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنا ممکن نظر نہیں آتا

  • تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی   تحریر: احسان الحق

    تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی تحریر: احسان الحق

    سورہ الشمس میں اللہ رب العالمین نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا. اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی کامیابی کی تعریف ہماری تعریف سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی تعریف بھی بتا دی اور کامیابی حاصل کرنے کے 3 اصول بھی واضح طور پر سمجھا دیئے ہیں. ہمارے خیال میں دنیا کی ترقی ہی کامیابی ہے. دنیا میں کامیابی دنیاوی لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ دنیا میں سہولیات سے فائدہ اٹھانا درست ہے مگر حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے اعمال صالحہ کرتے کرتے فوت ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو جہنم سے نجات دی اور اسکو جنت میں داخل کر دیا، ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے.

    اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے قرآن مجید میں تین اصول ارشاد فرمائے ہیں. پہلا اصول "تذکیہ نفس” مطلب نفس کو پاک کرنا. حقیقی کامیابی کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ کہ جس انسان نے اپنے نفس کا تذکیہ اور محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نفس کو پاک اور طاہر بنا لیا اور خود کو گناہوں سے بچا لیا، وہ شخص کامیاب ہے.

    "تذکیہ” کا لغوی معنی ہے کہ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنا اور دوسرا مطلب زکوٰة سے ملتا ہے جس کا مطلب پاک کرنا اور "بڑھانا” ہے. جیسے زکوٰة دینے سے آپ کا مال پاک ہوتا ہے اور دوسرا اس مال میں برکت حاصل ہوتی ہے، گویا تذکیہ نفس کا مطلب ہوا کہ اپنے باطن اور نفس کو گناہوں سے پاک کرنا، معافی طلب کرتے ہوئے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی نیکیوں اور اجروثواب میں اضافہ کرنا. ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات دے دیتے ہیں اور جنت میں داخل فرما دیتے ہیں. جس شخص کو جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور اس کو جنت کا داخلہ مل جائے وہی شخص کامیاب ہے. اللہ رب العزت جس شخص کے بارے میں فیصلہ فرما دیں کہ اس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کرنا ہے، وہی شخص حقیقی فلاح اور کامیابی پانے والا ہے.

    صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا. آپ رسولﷺ نے فرمایا کہ میری ساری امت کی تمام عافیت، بہتری، فلاح اور برتری پہلے دور میں ہے مطلب "ابتدائی خلفائے راشدین کا دور”. بعد کا دور بدعات اور فتنوں کا دور ہے. آپ لوگ ایسے ایسے کام دیکھیں گے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہونگے. لوگ عبادت سمجھتے ہوئے ان فتنوں اور بدعات کو قبول کر لیں گے. آپ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر سوچیں گے کہ یہ کام نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں، پھر بھی لوگ اس کام کو نیکی اور باعث اجروثواب سمجھ کر کر رہے ہونگے. اس وقت فتنوں کے دور میں، جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے اور جہنم سے چھٹکارا حاصل ہو جائے تو اس بندے کو جب موت آئے تو عقیدہ توحید اور عقیدہ سنت پر موت آئے مطلب آخر تک عین اسلام پر ڈٹا رہے، آخرت پر اس کا پورا یقین ہو، اعمال صالحہ کرتے ہوئے اس کو موت آ لے تو ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کا مطلب ہے پرفتن دور میں ہر شخص اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھے اور صحیح اسلام پر ڈٹا رہے.

    .

    قرآن مجید میں بیان کردہ کامیابی کے 3 اصولوں میں پہلا اصول "تذکیہ نفس” ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اور جتنا بڑا گناہ اتنا بڑا اور گہرا دھبہ ہوتا ہے. گناہ کرنے سے انسان کا نفس اور باطن مجروح اور سیاہ ہو جاتا ہے اور تذکیہ نفس یا نفس کی پاکیزگی سے اس گناہ کی سیاہی اور گندگی صاف ہوتی ہے. گناہ کی سب سے بھیانک سزا یہ ہے کہ بندہ یکے بعد دیگرے گناہ کرتا جاتا ہے. گناہ سرزد ہونے کے فوراً بعد انسان کو توبہ اور تذکیہ نفس کر لینا چاہئے ورنہ ایک کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے.

    انسان کے مسلسل گناہوں کی وجہ سے اس کے دل پر سیاہ دھبے لگتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں. کسی انسان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس بندے کے اور اس بندے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جائیں تو پھر کوئی بھی اس بندے کو نیکی کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں کر سکتا ہے.

    رسولﷺ کے ارشاد کے مطابق "اگر آسمان کے سارے فرشتے آ جائیں، زمین میں مدفن تمام مردوں کو زندہ کر دیا جائے، دنیا میں موجود ہر چیز کو اللہ رب العالمین کی طرف سے زبان دے دی جائے، ریت کے تمام ذرات اور پتوں سمیت ہر چیز کو بولنے کی طاقت دے دی جائے اور وہ سب مل کر اس مہر زدہ بندے کو نیکی کی طرف نہیں بلا سکتے.

    انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اس سے پہلے کہ اس کا یوم محشر حساب ہو، انسان اپنے ضمیر کا معائنہ و محاسبہ کرتے ہوئے تذکیہ نفس کرے اور تمام گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مستفید ہو اور حقیقی کامیابی کی سند لے.

    صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ایک بار رسولﷺ تشریف لاتے ہیں اور صحابہ کرامؓ سامنے بیٹھے تھے اور آپ رسولﷺ نے ایک سوال کیا کہ "آپ میں سے کوئی اپنے گھر جائے اور کسی اجنبی کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا دیکھے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟”

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فوراً بولے کہ میں تلوار کی دھار سے اس آدمی کا سر اس کے ڈھڑ سے جدا کر دونگا. جواب سن کر نبی کریم ﷺ فرمانے لگے کہ سعد کی غیرت کو دیکھو، اس کو بالکل گوارا نہیں کہ کوئی غیر بندہ اس کے گھر میں داخل ہو. اسی طرح اللہ رب العزت کو بھی یہ بات پسند نہیں کہ میرا بندہ میرے علاوہ کسی کی عبادت کرے یا مدد طلب کرے. رسولﷺ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں سب سے بڑا باغیرت اور باحیا ہوں اور اللہ مجھ سے بڑے باحیا اور باغیرت ہیں”. اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک صفت غیرت بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت مخلوق کی غیرت سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہے.

    جناب رسولﷺ فرماتے ہیں کہ میری پوری امت معافی کی مستحق ہے مگر وہ لوگ مستحق نہیں جو کھلے عام گناہ کرتے ہیں یا تنہائی میں گناہ کرنے کے بعد خود لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں اور فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ پیش کرتے ہوئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں کام (گناہ) میں نے کیا. بندے نے تنہائی میں گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال کر اس بندے کو شرمندگی سے بچا لیا مگر اس بدبخت نے لوگوں میں خود ہی اپنا گناہ بیان کر دیا. یہ دونوں قسم کے بندے بخشش کے لائق نہیں.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے کچھ لوگ آخرت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے لیکن ان تمام نیکیوں کا ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا. یہ وہ لوگ ہیں جو تنہائی میں گناہ کرتے ہیں اور محفل میں بڑے متقی اور پرہیزگار ہیں.

    "ایک مومن بندہ شیطان کو تھکا دیتا ہے ایسے جیسے تم لوگ مسلسل سفر کرنے کے بعد تھک جاتے ہو”. اس ارشادِ نبویؐ کا مطلب یہ ہے مومن بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس ذکر الٰہی کے ہر ورد یا کلمے پر شیطان کی پیٹھ پر کوڑا لگتا ہے. حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ سب سے زیادہ جس ذکر سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے وہ "لا اله الا الله” ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو حقیقی کامیابی عطا فرمائیں اور تذکیہ نفس کی توفیق دیں.

    @mian_ihsaa

  • نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر  تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک کے شور میں حقیقت کہاں دفن ہو جاتی ہے اس کے بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں کوئی جوش و خروش سے مبارک دیتا ہے تو کوئی اسے غیر اسلامی کہہ کر تنقید و فتوے جاری کرتا ہے

    مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری دونوں طریقہ پر سال و ماہ  کا حساب رکھا جا سکتا ہے اس کا حوالہ سورہ رحمان میں ہے 

    الشمس والقمر بحسبان

    "سورج اور چاند ایک حساب سے ہیں ” یعنی ان کا سائز، لوکیشن وغیرہ کے ساتھ انکی حرکت کی رفتار اور سمت ایک طے شدہ حسابی فارمولا سے ہے اسی فارمولا کے تحت انکی کسی طے شدہ وقت پر کسی جگہ موجودگی کا بالکل صحیح تخمینہ لگایا جا سکتا ہے اسی وجہ سے ان سے ماہ و سال کا صحیح ترین حساب بھی کیا جا سکتا ہے

    جیسے اصحاب کہف کا عرصہ خواب قرآن میں ہے ا300 سال اور 9 مزید ۔ یہ بڑا مختلف سٹائل ہے بتانے کا۔ لیکن اس کا ایک خاص مقصد و مطلب ہے شمسی  حساب سے دراصل 300 شمسی سال 309 قمری سال  کے برابر ہوتے ہیں جیسے ایک شمسی سال 365.2422 دن کا ہوتا ہے جبکہ ایک قمری سال 354.367 دن کا ہوتا ہے

    اب شمسی سال کو 300 اور قمری سال کو 309 سے ضرب دیں تو دونوں کا حاصل ضرب برابر آتا ہے

    مگر یہاں معاملہ شمسی سال جسے عیسوی سال کہتے ہیں یا قمری سال جسے اسلامی سال کہتے ہیں کی تعداد یا گنتی کا ہے جس کی بنیاد پر نئے سال کی مبارک کا غلغلہ اٹھتا ہے 

    جنوری فروری وغیرہ عیسوی مہینوں کے اپنے نام نہیں بلکہ یہ نام تو گریگورین کیلنڈر سے یونانی دیوی دیوتاؤں کے نام پر پہلے سے چلے آ رہے تھے سال کی شمسی گردش کو 12 پر تقسیم کر کے یہ نام رکھے گئے تھے 

    چونکہ سینٹ پال نے جلا وطنی کے کئی سال یونان میں گزارے اسلئے وہ نا صرف وہاں کے بت پرستوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر ہوا جہاں سورج دیوتا، سورج کا بیٹا اور سورج کی بیگم صاحبہ کی خدائی کا تصور تھا اس پر قسطنطین نامی بادشاہ نے جس نے عیسائیت قبول کر لی تھی اور اس کی ترویج کا فیصلہ کیا تھا انہی مہینوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا

    لیکن اگر یہ سن عیسوی پر منطبق کریں بھی تو عیسائی 25 دسمبر کو عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش مانتے ہیں جو اگرچہ بذات خود بائبل اور قرآن سے غلط ثابت ہوتی ہے تاہم اس بحث میں پڑے بغیر بھی اگر دیکھیں تو  پھر عیسوی سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہے تو یہ سال 25 دسمبر پر ختم اور شروع ہونا چاہئے جو کہ نہیں ہے 2017 سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہو تو وہ تو 25 دسمبر کو ہوئے 31دسمبر کو نہیں اس لئے عیسوی نیا سال یکم جنوری کو تو بنتا نہیں

    اسی طرح قمری سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور سال ہجری رسول اللہ کی ہجرت سے شروع ہوتا ہے اسی لئے اسے اسلامی سال بھی کہتے ہیں

    مگر حقیقت یہ بھی بالکل ایسے نہیں ہے کیونکہ ہجرت کا آغاز 26 صفر / 16 جولائی کو ہوا اور یکم ربيع الأول  کو آپ غار ثور سے مدینہ روانہ ہوئے جبکہ قمری مہینے محرم صفر پہلے سے چلے آ رہے تھے اور حج اور تمام حساب انہی مہینوں سے چلتا تھا بلکہ اگر یاد کریں تو ایک طریقہ عربوں میں نسی چلتا تھا جس کے تحت وہ انہی مہینوں کی ترتیب آگے پیچھے کر لیتے تھے چار ماہ تب بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں جنگ و جدل منع تھا اور عرب اپنی جنگوں کیلئے فرض کر لیتے تھے کہ یہ مہینہ محرم نہیں بلکہ صفر ہے اور کسی اور مہینے کا نام محرم رکھ لیتے تھے لیکن مہینوں کے نام یہی تھے  

    اب دیکھیں جب یہ کہا جاتاہے کہ 1438 سال ہجرت کو ہو گئے تو درحقیقت ایسا مکمل درست نہیں ہوتا اس میں دو ماہ کی گنتی کا فرق ہوتا ہے 

    یوں نیا سال مبارک کہنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ آپ خواہ مخواہ ایک جھوٹ کو جوش و خروش سے منا رہے ہیں اگر آپ عیسوی یا اسلامی سال سمجھ کر مبارک سلامت کر رہے ہیں تو بس شغل ہی ہے البتہ اگر تعداد کے چکر میں پڑے بغیر آپ شمسی یا قمری سال کے آغاز کی بات کر رہے ہیں تو چل جائے گا

    ایک اور ہات یاد رہے سورج و چاند کے چکر کے مقام آغاز کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ۔ یہ آغاز و اختتام بھی ہم نے طے کئے ہیں ہو سکتا ہے یہ آغاز دراصل موسم گرما کے کسی مہینے میں ہوتا ہو جیسے جون میں جب دن بڑے اور گرم ہوتے ہیں کیونکہ سوچیں شمسی نظام اور اس میں زمین جب وجود میں آئے تو درجہ حرارت زیادہ تھا تو کیا پتہ آغاز کا وقت دراصل تب ہوتا ہو جسے ہم اس چکر کا وسط کہتے ہیں

    لیکن اس میں ٹینشن کی کوئی بات نہیں جیسا سمجھتے ہیں سمجھتے رہیں بس سورج اور چاند کی گردش کو مذہبی جھگڑوں سے نکال دیں یہ اللہ کی تخلیق ہماری سہولت، سمجھ اور تحقیق کیلئے ہیں

  • کنٹونمینٹ الیکشن   تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    کنٹونمینٹ الیکشن  تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    گذشتہ دن ملک میں کنٹونمنٹ کے الیکشن ہوئے جس میں واضع طور پر پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل ہوئ جبکہ مقابلے میں ذیادہ تر وہی آزاد امیدوار جیت کر آئے ہیں جن کو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہیں مل سکا اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئ کا مقابلہ اپنے ہی پارٹی کے آزاد امیدواروں سے تھا اس وقت پی ٹی آئ نے جہاں ٦٣ سے زائد سیٹ حاصل ہیں دوسری طرف آزاد امیدوار بھی ۵٦ کے قریب سیٹ جیت چکے ہیں اور یقینی طور پر وہ بھی تقریبا سب پی ٹی آئ میں شامل ہوں گے اس طرح پی ٹی آئ واضع اکثریت سے پہلے نمبر ہوگی 

    دوسری بات جو اس میں واضع نظر آئ ہے کہ پی ٹی آئ اس وقت ملک کی واحد جماعت ہے جو تقریبا تمام صوبوں سے الیکشن جیت کر چاروں صوبوں کی زنجیر بن چکی ہے 

    سندہ میں پپلزپارٹی کی ١٣ سالہ خراب کارکردگی سے تنگ عوام نے بھی پی ٹی آئ کو کراچی سے واضع برتری دلوائ 

    بلوچستان کوئٹہ کی ۵ میں سے ٣ سیٹوں پر پی ٹی آئ جیت چکی 

    اس ساری کامیابی سے ایک بات تو واضع ہوچکی کہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے جعلی بیانئے وہ چاہے حکومت مخالف ہو یا ریاستی اداروں کے مخالف سب کو عوام نے مسترد کر کے حکومتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کردیا اور ثابت کردیا کہ پاکستانی عوام کسی صورت ان جماعتوں کی حمایت نہیں کرے گی جو ریاستی اداروں یا پاکستان کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی پالیسی اپنائیں گی 

    ن لیگ نے نواز شریف کے بیانئے ووٹ کو عزت دو کی بجائے شہباز شریف کے بیانئے کام کو عزت دو کو اپنایا جس وجہ سے ان کو بھی اچھی سیٹیں مل چکی ہیں جسے ن لیگ اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے حالانکہ اس کامیابی سے لگ یہی رہا ہے کہ عوام نے نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کرکے شہباز شریف کے بیانئے کو اپنایا ہے 

    دوسری طرف ن لیگ ہمیشہ اسٹیبلشمینٹ پر الیکشن چوری کا الزام لگاتی آئ ہے لیکن کنٹونمنٹ الیکشن جو اسٹیبلشمنٹ کے اپنے گھر کے الیکشن ہیں اس میں جیتنے کے بعد ن لیگ کا یہ بیانیہ کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کرواتی ہے بھی اپنی موت آپ مرتا دکھائ دے رہا ہے 

    اب پاکستانی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کروانے میں ملوث ہوتی تو شائد کنٹونمنٹ الیکشن میں ن لیگ کے ہاتھ ایک سیٹ بھی نا آتی 

    ن لیگ سمیت تمام اپوزیشن کی جماعتوں نے یہ جھوٹ پر مبنی ایک بیانیہ بنالیا کہ جہاں سے جیت جائیں وہ عوام کی جیت اور ہار جائیں تو اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دی جائے 

    لیکن اب پاکستانی عوام اپوزیشن کے اس بیانیے کو مکمل مسترد کرچکی ہے ،پاکستانی عوام عقل و شعور رکھنے والی ہے وہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتوں کا کام حکومت میں آکر صرف کرپشن کرنا ہی ہے ملکی تعمیر و ترقی سے ان کو کوئ غرض نہیں 

    اس وقت تک حالات کے مطابق لگ ایسا ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئ ٢٠٢٣ میں بھی واضع اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی اور اپوزیشن ایک بار پھر روتی ہی نظر آئے گی 

    @MajeedMahar4

  • دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

    برطانوی خاتون نے دو کبوتروں کو گود لیا ہے جن پر سالانہ 4000 برطانوی پاؤنڈ (نو لاکھ روپے) خرچ کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کبوتروں کو غذائیت بخش مہنگے کھانے کھلائے جاتے ہیں الگ کمرہ ہے اور پیمپر نما کپڑوں کی الماری بھی ہے۔ دونوں کے لیے نرم بستر ہیں اور سیر کے لیے بچوں جیسی گاڑی بھی خریدی گئی ہے۔

    ہارر فلمیں دیکھیں اور لکھ پتی بن جائیں

    موس اور اسکائی نامی پرندوں پر ان کی مالکن میسی بے تحاشہ رقم خرچ کرتی ہیں اور انہیں سیر کرانے کے لیے بچوں کو لے جانے والی خاص اسٹرولر گاڑی بھی تیار کی گئی ہے 23 سالہ خاتون میگی کو دونوں کبوتر ان کے گھر کے پاس ملے تھے جنہیں وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔

    میگی کا کہنا ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے نلکیوں اور ہاتھ سے کھانا دیا اور کئی روز تک دونوں پرندوں کا خیال رکھا گیا اب یہ پرندے ان کے دوست بن چکے ہیں اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن اب یہ دونوں پرندے ایک شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں ان کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور کبوتروں کو ڈھیروں تحفے ملتے ہیں۔

    دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    میگی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جنگلی کبوتروں کو پرواز کرتے ہوئے چوہے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے پرندوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھاتے رہتے ہیں تاہم میگی کا خیال ہے کہ یہ پرندے بھی کسی دوسرے جانورکی طرح پیارے ہیں اور ان سے محبت کی جانی چاہیئے۔

    میگی نے دونوں پرندوں کے لیے الگ الگ کمرے بنائے ہیں جہاں ان کے کپڑے، کھلونے ، پیمپر نما قیمتی پوشاک اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ ہرپرندے کے لیے دو درجن سے زائد کپڑے بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک کی قیمت 40 سے 50 ڈالر تک ہے۔

    میگی کے مطابق شام کو وہ تھوڑی دیر پرواز کرتے ہیں اور تازہ ہواخوری کے بعد دوبارہ ان کے پاس آجاتے ہیں شام میں انہیں سیر کے لیے باہر بھی لے جایا جاتا ہے جس کے لیے شاہانہ پردوں والی خاص گاڑی بنائی گئی ہے۔

  • حکومت غلطی پر ہے، تحریر: محمد شعیب

    حکومت غلطی پر ہے، تحریر: محمد شعیب

    یہ حکومت میری سمجھ سے باہر ہے ۔ بیک وقت انھوں نے مختلف لوگوں سے پنگے لے رکھے ہیں ۔ سب سے بڑا پنگا تو اندھا دھند مہنگائی کرکے عوام سے لیا ہوا ہے جس کا اظہار کل عوام نے پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ڈال کر کھل کر کردیا ہے ۔۔ اور آج تو صحافیوں پر پابندی ہی لگا دی ۔ ہوں کچھ یوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تھا ۔ جس سے صدر عارف علوی نے خطاب کرنا تھا ۔ پر حکومت نے اس اہم موقع پر پارلیمنٹ میں داخلے پر صحافیوں پر پابندی لگادی ۔ یعنی جو سرکاری ٹی وی دیکھائے گا اور بتائے گا وہ ہی دیکھانا اور بتانا ہوگا ۔ ۔ یوں صحافیوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ احتجاج کرتے اور انھوں نے خوب کیا بھی پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ۔۔

    پتہ نہیں حکومت کیوں اتنی بضد ہے کہ وہ ڈاکٹرز کو بھی سبق سیکھائے گی ۔ جج بھی اپنی مرضی کے لگوائے گی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی جوتی کی نوک پر رکھے گی اور صحافیوں کو تو ویسے ہی تن کررکھی گی کیونکہ میڈیا نے اس عمران خان اور انکی پارٹی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا ۔ تو بدلہ اتارنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔۔۔ میں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ جوحکومت نہ مہنگائی کنٹرول کر سکے، نہ قرضے کنڑول کر سکے، نہ کابینہ کنٹرول کر سکے، نہ معیشت کنٹرول کر سکے، نہ ڈالر کنٹرول کر سکے۔اور نہ ہی اپنی زبانیں کنٹرول کر سکے وہ اب خواب دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کریں ۔ یہ دیوانے کا خواب ہے ۔ ۔ یہ اتنا درد پتہ نہیں کیوں اس حکومت کے دل میں جاگ اٹھا ہے ۔ کہ اس کی نظر کرم صحافیوں پر پڑ گئی ہے اور یہ میڈیا اتھارٹی بل لا کر پتہ نہیں کون سا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے ۔

    حالانکہ اس دورحکومت میں سب سے زیادہ صحافی متاثر ہوئے ہیں ۔ اس دور میں جتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ جتنی صحافیوں کو اس دور میں مار پڑی ہے پہلے کبھی نہیں پڑی ۔ جتنے صحافی اس دور میں اٹھائے گئے یا غائب کیے گئے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ جتنے پرچے اس دور میں صحافیوں پر ہوئے ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ۔ جتنی پابندیاں اس دور میں صحافیوں پر لگی ہیں پہلے کبھی نہیں لگیں ۔ یہ ہے کھرا سچ ۔۔۔

    کسی اور کیا بات کرنی ۔ جولائی 2018میں یہ حکومت آئی اور دسمبر 2018سے اب تک میں اور میری پوری ٹیم بے روزگار ہے ۔ پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جس کو میڈیا نے سب سے زیادہ سپورٹ دی ۔ اور آج جو پریس گیلری بند کی گئی یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سول مارشل لاء لگا ہوا ہے ۔ اس پارٹی کی تمام حرکتیں اور زبان ایسی ہے جو کسی فاشسٹ پارٹی کی ہوتی ہیں ۔ آج صحافیوں کے احتجاج میں بلاول ، شہباز اور فضل الرحمان سب ہی باری باری شریک ہوئے اور اظہار یکجہتی بھی کیا ۔ پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن نے صحافیوں کے حق میں احتجاج بھی کیا ۔ پلے کارڈز بھی اٹھائے اور حکومت کے کالے قوانین کے خلاف خوب نعرے بازی بھی کی ۔ ان سب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کا شکریہ کہ یہ حق اور سچ کی آواز کے ساتھی بنے ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں اس حکومت سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ اور عام عوام الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔

    ۔ انگوٹھوں کے جعلی نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔۔ پھرالیکشن کمیشن کا جو حال یہ حکومت کرنا چاہ رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہار چکی ہے اور اس سے پہلے کے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنائے یہ الیکشن کمیشن کو ہی متنازعہ بننے پر تل گئے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو وفاقی وزراء ان تمام معاملوں میں پیش پیشں ہیں ۔ یہ سب کرائے کے کھلاڑی ہیں یعنی یہ جس کی حکومت ہو اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ جس کا وقت اچھا ہو یہ اس کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کو موقع پرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہ پارٹیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے کپڑے بدلے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک آدھ وزیر موصوف تو ایسے بھی ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے قابل تو نہیں ، پر ہر بار اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر ضرور بنتے ہیں۔ ۔ یہ صرف پیسے کی چمک کا کمال ہے ورنہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔

    ۔ یہاں میں آپکو ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنے دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بنایا ۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک سخت گیر شخص تھے ۔ اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی۔ ۔ لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی نیت بہت اچھی ہے اور ہر حال میں الیکشن ریفارمز کرنا چاہتی ہے ۔ تو وہ دوسروں کی رائے کیوں نہیں لیتی ۔ وہ کیوں ہر معاملہ میں اپنی منوانا چاہتی ہے ۔ پھر چاہے معاملہ صحافیوں کا ہو ، اپوزیشن کا ہو ، وکیلوں کا ہو یا ڈاکٹروں کا ۔۔۔ حکومت صرف یہ کیوں چاہتی ہے کہ اس کی ہی بات مانی جائے ۔ معذرت کے ساتھ ایسا ڈکیٹروں کے دور میں ہوتا ہے جمہوریت میں ایسا کوئی چلن نہیں ہے۔ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا شہباز شریف یا بلاول کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی ۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین سمیت صحافی ، وکلاء ، ڈاکٹرز سب کے خلاف انتقامی کاروائیوں کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف ، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ پتہ نہیں یہ حکومت کیوں سیاسی محاذ آرائی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت اس محاذ آرائی سے زیادہ ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ حکومت اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جانا چاہتی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں یہ کون سا حکیم ہے جو کپتان کو بھی یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول اور بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ حالانکہ کے جو کل کینٹ بورڈ انتخابات کا رزلٹ آیا ہے وہ انکی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیئے ۔ کل یہ دو سو سے زائد سیٹوں پر یہ الیکشن ہوا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے 63سیٹیں جیتیں ۔ یعنی آدھی سے بھی کم ۔ میری نظر میں یہ الیکشن کے ساتھ ساتھ حکومت کی popularity کا ایک سروے تھا ۔ لوگوں نے ووٹ کی طاقت سے اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی سے کس قدر خوش ہیں ۔ اوپر سے حد تو یہ ہے کہ ہار کو تسلیم کرنے کی بجائے یا وجوہات کو جاننے کی بجائے ۔ کل سے وفاقی وزراء ایسے خوشی منا رہے ہیں۔ جیسے پتہ نہیں کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ویسے ہار کے خوشی منانے کا طریقہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں سے سیکھے ۔ آخر میں بس یہ کہوں گا کہ یہ جو ہم آئے دن حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھول دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ میڈیا کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ تو حکومت غلطی پر ہے ۔

  • برینڈن ٹیلرکا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان ،ساتھیوں نے  گارڈ آف آنر پیش کیا

    برینڈن ٹیلرکا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان ،ساتھیوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا

    زمبابوے کے وکٹ کیپر بیٹسمین برینڈن ٹیلر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : 35 سالہ کرکٹر برینڈن ٹیلر نے پیر کے روز آئرلینڈ کے خلاف ون ڈے میچ کی صورت میں آخری بار اپنے ملک کی نمائندگی کا اعزاز پایا، بیٹنگ کے لیے آمد پر ساتھیوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا، آخری اننگز میں وہ 7 رنز بنا سکے۔

    ٹیلر نے کہا کہ کرکٹ میں میرا 17 برس کا سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا، میں ملک کی نمائندگی کا موقع دینے پر زمبابوین بورڈ اور سپورٹ پر اپنے کوچز اور ساتھی کھلاڑیوں کا شکرگذار ہوں۔

    ٹیلر نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ، “یہ بھاری دل کے ساتھ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے پیارے ملک کے لیے اپنا آخری میچ کل پیر کو آئرلینڈ کے خلاف کھیلوں گا 17 سال اتار چڑھاؤ سے بھرے ہوئے تھے اور میں دنیا کے لیے نہیں بدلا ۔ اس نے مجھے عاجزی کا درس دیا۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو یاد دلایا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ اتنے عرصے سے اس جگہ پر ہوں۔ بیج کو فخر کے ساتھ پہننا اور سب کچھ میدان میں چھوڑ کر جانا۔ میرا مقصد ہمیشہ سے ٹیم کو بہتر پوزیشن میں لانا ہے۔

    ٹیلر نے مزید کہا ، میں 2004 میں پہلے آیا تھا اور تب سے میں نے ہمیشہ ٹیم کو بہتر پوزیشن میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے کیا۔

    34 سالہ برینڈن ٹیلر نے زمبابوے کرکٹ ، ٹیم کے ساتھیوں ، خاندان اور شائقین کا شکریہ ادا کیا کہا کہ آخر میں بیوی کیلی این اور چار خوبصورت لڑکوں کا شکریہ۔ اس سفر میں آپ کا میرے لیے بہت مطلب ہے اور آپ کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا اب ہوائی اڈے کو سر درد نہیں ہوگا۔ میں اگلے مرحلے پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں۔ میں آپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں۔

    یاد رہے کہ ٹیلر نے 2004 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے کیریئر کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں زمبابوے کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک بن گئے۔

    برینڈن ٹیلر نے اب تک 204 ون ڈے میچوں میں 6677 رنز بنائے ہیں اور وہ زمبابوے کے بلے باز اینڈی فلاور کے 6786 رن کے قومی ریکارڈ سے 112 رنز پیچھے ہیں-

  • میں تنقید نہیں سنوں گا  اس کا جواب بھی آپ کو ملے گا     رمیز راجہ

    میں تنقید نہیں سنوں گا اس کا جواب بھی آپ کو ملے گا رمیز راجہ

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کے نو منتخب چیئرمین رمیز راجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ میں یہاں ہرگز گالیاں کھانے نہیں آیا ہوں۔

    باغی ٹی وی : آئندہ تین سال کے لیے بلا مقابلہ چیئرمین پی سی بی منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ میں تنقید نہیں سنوں گا اور اس کا جواب بھی آپ کو ملے گا تاہم انہوں نے کہا کہ جواب اچھا ملے گا اور میں کوئی دھمکی نہیں دے رہا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر تھوڑا سمجھیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں؟ ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی اور میرے نام پر قذافی اسٹیڈیم میں انکلیوژر ہیں تو کچھ کر کے ہی یہاں آیا ہوں اور کسی وجہ سے مجھے لایا گیا ہے۔

    پاکستان کے نئے کوچ میتھیو ہیڈن پی سی بی کے لئے بڑی آزمائش

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے صلاح و مشورے سر آنکھوں پر مگر میں تنقید نہیں سنوں گا پی سی بی کے نو منتخب چیئرمین رمیز راجہ نے دعویٰ کیا کہ ہفتے بعد کرکٹ کے حوالے سے اچھی خبریں ملیں گی۔

    رمیز راجہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں زیادہ تر 1992 کی ٹیم اور کپتان عمران خان کی مثالیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہشات لا تعداد ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی سب سے اٹریکٹیو ٹیم بن جائے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن رمیز راجہ بلا مقابلہ آئندہ تین سال کے لیے پیر کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے 36 ویں چیئرمین منتخب ہوئے ہیں ان کا انتخاب بلامقابلہ ہوا ہے رمیز راجہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے 18 ویں اورون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 12 ویں کپتان رہے ہیں۔

    رمیز راجہ چوتھے کرکٹر ہیں جو پی سی بی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں ان سے قبل سابق کرکٹرزعبدالحفیظ کاردار (77-1972)، جاوید برکی (95-1994)، اور اعجاز بٹ (11-2008) چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

    جبکہ رمیز راجہ کے بڑے بھائی وسیم حسن راجہ پاکستان کے ممتاز آلراؤنڈرتھے۔وہ 3 جولائی 1952 کو ملتان میں پیدا ہوئے تھے 1973 میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور مجموعی طور 57 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

    مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ کسی حکومتی شخصیت نے میری تیمارداری نہیں کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    وسیم حسن راجہ نے مجموعی طور پر2821 رنز بنائے تھے جن میں 4 سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہوں نے 35.80 کی اوسط سے 51 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں انہوں نے 54 ایک روزہ بین الاقوامی میچ بھی کھیلے اور مجموعی طور پر 728 رنز اسکور کئے۔

    وسیم حسن راجہ 23 اگست 2006 کو لندن میں ایک کلب میچ کے دوران دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

    امریکہ میں عمر شریف کا علاج اداکارہ ریما خان کے شوہر کریں گے

  • اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اللہ تعالیٰ نے انسان کیلیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں تا کہ اسکی ہر ضرورت کو پورا کیا جا سکے
    پوری دنیا و کائنات اس واحد لاشریک کی ہے اور انسان خوش قسمت ہے جسے اشرف المخلوقات بنایا فرشتوں کو بھی اللہ بناسکتا تھا لیکن اللہ نے صرف انسان کو یہ چصاہمیت اور مرتبہ دیا۔

    اللہ نے انسان کیلیے کچھ حقائق رکھے
    جہاں اللہ نے انسان کو نعمتوں سے نوازا وہی انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہیں

    میں آج اخلاق پر بات کرو گی اپنی اس تحریر میں
    انسان کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسا ہے کیا ہے اور کہاں کھڑا ہے۔۔۔؟

    انسان چاہے دنیا کی ساری ڈگریاں حاصل کرلیں لیکن اگر اس کے پاس اچھا اخلاق نہیں تو وہ دنیا کا سب سے ناکام ترین انسان ہے

    یہ دنیا فانی ہے سب نے ایک دن فنا ہوجانا ہے آج نہیں تو کل۔۔کل نہیں تو پرسوں لیکن اس فانی دنیا سے سبکو ہی کوچ کرنا ہے
    انسان کے ساتھ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے سب کچھ دفن ہوجاتا ہے سوائے ایک چیز کے اور وہ یے ۔۔۔*اخلاق*

    اخلاق ہمیشہ قائم رہے گا

    آجکل انسان چاہے ترقی کرگیا ہے لیکن انسانوں میں اخلاقیات کی کمی ہے

    اخلاق کیسا ہونا چاہیے!!!!
    تمہارے اخلاق عالیشان ہونے چاہیے تمہیں درگزر کرنا اتا ہے سب کو منانا آتا ہو سب کو برداشت کرنا آتا ہو
    ہر انسان کی بات چاہے کڑوی ہو برداشت کرنا سیکھو
    اگر کوئی تمہارے خلاف ہوگیا یے تو اسے معاف کرو
    ہمیشہ بات میں پہل کرو
    لوگوں سے اختلاف نہ کرو
    اختلاف کے باوجود تم اسے معاف کردوں
    تمہیں اپنی رائے سے ہٹنا آتا ہو
    تمہیں دوسروں کا انکار سننا آتا ہو
    تمہیں لوگوں کی تلخیوں کو برداشت کرنا آتا ہے

    اسلام میں صرف نماز روزہ زکوۃ ہی نہیں ہیں یہ تو دین کی عمارت ہیں لیکن یہ اخلاق تمہارے ایمان کا بہترین جزو ہے
    معاف کرنے والی ذات بیشک اللہ کی ہے
    لیکن اس دنیا میں رہتے ہوئے تم دوستوں کو معاف کردوں چاہے بہت بڑی غلطی ہو یا کوئی بڑا بول کہہ دیں

    تم اپنے اندر صبر کی طاقت کو پیدا کرو برداشت پیدا کرو تمہارا اخلاق بہترین ہے اگر تم لوگوں ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو چاہے وہ دشمن ہی ہو
    تم ہر کام میں صبر سے کام لیتے ہو تو تم کامیاب انسان ہو

    اور جو یہ سب نہیں کرتا وہ بیشک ناکام انسان ہے

    اپنے اخلاق کو بہتر بنا لوں
    جو لوگوں ساتھ برا سلوک کرتا کلمہ پڑھنے والا جنت اور دوزخ پر ایمان رکھنے والا یہ کرتا تو اللہ معاف نہیں کرتا

    اپنے اخلاق کو اپنی پہچان بناو کہ مرنے کے بعد تمہیں یاد رکھاجائے
    اپنے اندر آس پاس لوگوں کو آزمائش میں صبر کرنے کا عمل بتاؤ

    بیشک صبر انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے
    چپ رہنا سیکھو خاموش رہنا سیکھو
     
    صبر کو اپنا کر تم ایسی طاقت بن جاؤ گے کہ کوئی تمہیں ہرا نہیں سکتا

    لیکن اگر میں حقیقت بیان کرو تو سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے ہر انسان ایک دوسرے کو سمجھے اور جانے بغیر برا کہہ رہا ہے انسان میں صبر ختم ہوچکا ہے

    کیا ہمارے نبی نے یہ سب مسلمانوں کو اپنی امت کو تعلیمات دی جو اب سب نے اپنا رکھی ہیں!!!

    ابھی بھی وقت ہے ٹھہر جاؤ رک جاؤ اپنے آپ کو سدھار لو
    صبر کا اپنی طاقت بنالو میرے رب کی قسم!! اتنا سکون حاصل کرو گے کہ سب پیسہ چیزیں بھول جاؤ گے
    یاد ہو گا تو بس اللہ اس کے لاتعداد نعمتیں؛؛؛

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل ازاری نہیں کسی کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے

    بس اتنا کہوں گی کہ اپنے آپ کو پہچانو
    اپنے اخلاق کو خوبصورت کرلو
    تاکہ دنیا اور آخرت سنور جائے!!!!!!

    اللہ پاک سے دعا یے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اخلاق کو دوسروں کیلئے راحت کا باعث بنادیں
    سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

  • بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    مازیار بن قارن رئیس طبرستان عبدالّٰلہ بن طاہر گورنر خراسان کا ماتحت اور خراج گزار تھا ۔ اُس کے اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے درمیان کسی بات پر ناراضگی پیدا ہوئی ۔ مازیار نے کہا کہ میں براہِ راست خراج دارالخلافہ میں بھیج دیا کروں گا ۔ لیکن عبدالّٰلہ بن طاہر کو ادا نہ کروں گا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر اس بات کو اپنے وقارِ گورنری کے خلاف سمجھ کر ناپسند کرتا تھا ۔ چند روز تک یہی جھگڑا رہا اور مازیار خراج براہِ راست دارالخلافہ میں بھیجتا ۔ اور وہاں سے عبدالّٰلہ بن طاہر کے وکیل کو وصول ہوتا رہا۔ 

    جنگِ بابک کے زمانے میں افشین کو آزادانہ خرچ کرنے کا اختیار تھا اور اس کے پاس برابر معتصم ہر قسم کا سامان اور روپیہ بھجواتا رہتا تھا۔ افشین اپنی فوج کے لیۓ نہایت کفایت شعاری کے ساتھ سامان اور روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا ۔ باقی تمام روپیہ اور سامان اپنے وطن اشروسنہ ( علاقہ ترکستان ) کو روانہ کردیتا تھا ۔ 

    یہ سامان جو آذر بائیجان سے بھیجا جاتا تھا ۔ خراسان میں ہو کر گزرتا تھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب یہ معلوم ہوا کہ افشین برابر اپنے وطن کو سامانِ رسد ، سامانِ حرب اور روپیہ بھجوا رہا ہے تو اُس کو شُبہ ہوا ۔ اُس نے ان سامان لے جانے والوں کو گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ اور تمام سامان اور روپیہ چھین کر اپنے قبضے میں رکھا اور افشین کو لکھ بھیجا کہ آپ کے لشکر سے کچھ لوگ اس قدر سامان لیۓ ہوۓ جا رہے تھے ۔ میں نے اُن کو گرفتار کر کے قید کر دیا ہے اور سامان اپنی فوج میں تقسیم کر دیا ہے ۔ کیونکہ میں ترکستان پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہوں ۔ اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور اپنے آپ کو آپ کا فرستادہ بتایا ۔ لیکن اُن کا یہ بیان قطعاً غلط اور جھوٹ معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر یہ چور نہ ہوتے اور آپ کے بھیجے ہوۓ ہوتے تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیتے ۔

    اس خط کو دیکھ کر افشین بہت شرمندہ ہوا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کو لکھا کہ وہ لوگ چور نہیں ہیں بلکہ میرے ہی فرستادہ تھے ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے افشین کے اس خط کو دیکھ کر اُن لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ مگر جو سامان اُن سے چھینا تھا وہ نہیں دیا ۔ اس امر کی ایک خفیہ رپورٹ عبدالّٰلہ بن طاہر نے خلیفہ معتصم کے پاس بھی بھیج دی جس پر بظاہر خلیفہ معتصم نے کوئی التفات نہیں کیا ۔ 

    حقیقت یہ تھی کہ افشین اپنی ریاست و سلطنت اشروسنہ میں قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی لیۓ وہ پیشتر سے تیاری کر رہا تھا ۔ جب افشین جنگِ بابک سے فارغ ہو کر سامرا میں واپس آیا تو اُس کو توقع تھی کہ خلیفہ معتصم مجھ کو خراسان کی گورنری عطا کرے گا اور اس طرح مجھ کو بخوبی موقع مل جاۓ گا کہ میں اپنی حکومت و سلطنت کے لیۓ بخوبی تیاری کر سکوں ۔ لیکن خلیفہ معتصم نے اُس کو ارمینیا و آذربائیجان کی حکومت پر مامور کیا اور اُمیدِ خراسان کا خون ہو گیا ۔

    اس کے بعد ہی جنگِ روم پیش آ گئی افشین کو اس لڑائی میں بھی شریک ہونا پڑا مگر اس جنگ میں معتصم خود موجود تھا اور اُس نے ابتدا میں اگر کسی کو سپہ سالارِ اعظم بنایا تھا تو وہ عجیف تھا جو اپنے آپ کو افشین کا مدِ مقابل اور رقیب سمجھتا تھا ۔ اب افشین نے ایک اور تدبیر سوچی وہ یہ کہ مازیار حاکم طبرستان کو پوشیدہ طور پر ایک خط بھیجا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے خلاف مقابلے پر اُبھارا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :۔

    ” دین زردشتی کا کوئی ناصر و مددگار میرے اور تمھارے سوا نہیں ہے بابک بھی اسی دین کی حمایت میں کوشاں تھا ۔ لیکن وہ محض اپنی حماقت کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوا ۔ اور اس نے میری نصیحتوں پر مطلق توجہ نہ کی ۔ اس وقت بھی ایک زریں موقع حاصل ہے وہ یہ کہ تم علم مخالفت بند کر دو ۔ یہ لوگ تمھارے مقابلے کے لیۓ میرے سوا یقیناً کسی دوسرے کو مامور نہ کریں گے ۔ اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست فوج ہے میں تم سے سازش کر لوں گا اور ہم دونوں متفق ہو جائینگے ۔ اس کے بعد ہمارے مقابلے پر مغاربہ ۔ عرب اور خراسانیوں کے سوا اور کوئی نہ آۓ گا ۔ مغاربہ کی تعداد بہت ہی قلیل ہے ان کے مقابلہ کے لیۓ ہماری فوج کا ایک معمولی دستہ کافی ہو گا ۔ عربوں کی حالت یہ ہے کہ ایک لقمہ ان کو دے دو اور خوب پتھروں سے ان کا سر کُچلو ۔ خراسانیوں کا جوش دودھ کا سا اُبال ہے ۔ تھوڑے سے استقلال میں ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ تم اگر ذرا ہمت کرو تو وہی دین مذہب جو ملوک عجم کے زمانے میں تھا پھر قائم و جاری ہو سکتا ہے۔”

    مازیار اس خط کو پڑھ کر خوش ہوا اور اس نے علمِ بغاوت بلند کر دیا ۔ رعایا سے ایک سال کا پیشگی خراج وصول کر کے سامانِ حرب کی فراہمی اور قلعوں کی مرمت و درستی سے فارغ ہو کر بڑی سے بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیۓ تیار ہو بیٹھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب مازیار کی بغاوت و سرکشی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے چچا حسن بن حسین کو ایک لشکر کے ساتھ اس طرف روانہ کیا ۔ ادھر معتصم کو اس بغاوت کا حال معلوم ہوا تو اس نے دارالخلافہ اور دوسرے مقامات سے عبدالّٰلہ بن طاہر کی امداد کے لیۓ فوجوں کی روانگی کا حکم صادر کیا ۔ مگر افشین کو اُس طرف جانے کا حکم نہیں دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مازیار گرفتار ہو کر عبدالّٰلہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے اُس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور معتصم نے اُس کو جیل خانے بھیج دیا ۔ حسن بن حسین نے جب مازیار کو گرفتار کیا تو اتفاق سے افشین کا مذکورہ خط اور اس کے علاوہ اسی مضمون کے اور بھی خطوط جو افشین نے مازیار کے پاس بھیجے تھے ۔ مازیار کے پاس سے برآمد ہوۓ ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے یہ خطوط بھی خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیئے ۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان خطوط کو لے کر اپنے پاس بحفاظت رکھ تو لیا اور بظاہر کوئی التفات اس طرف نہیں کیا ۔ یہ واقعہ سنہ ۲۲۴ کا ہے ۔

    منصور احمد قریشی ( اسلام آباد )

    Twitter Handle : ‎@MansurQr