Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔

    سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لئے آنجناب ﷺ کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ: اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پْرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

    جب آنجناب کی ذات عالی کے اندر نمونہ موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اپنے کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لئے غیروں کے طریقے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے تو اسی لیے اپنے آج کے موضوع کی طرف آتے ہوئے میں آپ حضرات کی خدمت میں آنجناب کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو تجارت کے بارے میں کچھ تحریر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

      نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت

        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔

    مکہ مکرمہ میں حصولِ معاش کے لیے عام طور پر گلہ بانی اور تجارت عام تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کی ابتداء میں ہی اپنے معاش کے بارے میں از خود فکر کی۔ ابتدا ء ً  اہلِ مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے، بعد میں تجارت کا پیشہ بھی اختیار کیا۔

    آپ کی خدمت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی اسفار میں سے کچھ سفروں کی کارگزاری پیش کرنا چاہتا ہوں۔

     ملکِ شام کی طرف پہلا  سفر 

          نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف 2 سفر کیے۔ پہلا سفر اپنے چچا کے ہمراہ،لیکن اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ تاجر شریک نہ تھے بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لیا تھا۔ اسی سفر میں بحیرا راہب والا مشہور قصہ پیش آیاجس کے کہنے پر آپ کے چچا نے آپ کو حفاظت کی خاطر مکہ واپس بھیج دیا (الطبقات الکبریٰ، ذکر ابی طالب وضمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیہ، وخروجہ معہ الی الشام فی المرۃ الاولی)۔

        ملکِ شام کی طرف دوسرا سفر:

        اور دوسرا سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاجر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر اجرت پر کیا۔قصہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم 25برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے۔ خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان دوسروں کو دے کر بھیجا کرتی ہے، تم بھی اجرت پر اس کا سامان لے جاؤ، اس سے تمہیں معقول معاوضہ مل جائے گا۔ 

    یہ گفتگو حضرت خدیجہؓ  کو معلوم ہوئی تو انہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر بلوایا کہ جتنا معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں، آپ کو اس سے دوگنا دوں گی۔اس پر ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہاری جانب کھینچ کر بھیجا ہے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ حضرت خدیجہؓ  کا غلام ”میسرہ ”بھی تھا۔

     جب قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں پہنچا تو وہاں نسطورا راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نبوت کی علامات پہچان کر آپ کے نبی آخر الزمان ہونے کی پیشین گوئی کی۔

        دوسرا اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی سامان فروخت کر لیا تو ایک شخص سے کچھ بات چیت بڑھ گئی۔ اس نے کہا کہ لات وعزیٰ کی قسم اٹھاؤ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

         ”مَا حَلَفْتُ بِھِمَا قَطُّ، وَاِنّی الَأمُرُّفَأعْرِضُ عَنْھُمَا” ۔

        "میں نے کبھی ان دونوں کی قسم نہیں کھائی، میں تو ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے منہ موڑلیتا ہوں۔”

        اس شخص نے یہ بات سن کر کہا: حق بات تو وہی ہے جو تم نے کہی۔ پھر اس شخص نے میسرہ سے مخاطب ہو کر کہا: خدا کی قسم، یہ تو وہی نبی ہے جس کی صفات ہمارے علماء کتابوں میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔

    آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

    کے تجارتی سفر کے بارے میں پڑھا کہ آپ کتنے امین اور صادق تھے کہ دشمن  بھی ان صفات کی گواہی دیتے تھے۔اس تحریر کا یہی پیغام ہے کہ ہم سب اس عمل کرنے والے بن جائیں۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ میل جول تعلقات بنانا پسند کرتا ہے اور ہمیشہ دوسروں کا ساتھ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو اکیلا رہ کر زندگی گزارنا پسند کرے۔ کیونکہ قدرتی طور پہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور سماج میں رہنا پسند کرتا ہے۔ اکیلا رہنا خلاف فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی پسند اور طبعیت کے مطابق دوست بناتا ہے اور اچھی زندگی گزارنے کے لئے بھی انسان کو دوسروں کے ساتھ اور باہمی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ انسان پہ تعلیم کی نسبت صحبت کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اچھی یا بری صحبت سے ہی انسان کے اپنے اخلاق کا بھی دارومدار ہے۔ انسان کی زندگی میں سکون اور تکلیف بھی صحبت سے ہی جڑے ہیں۔ جب ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ معاشرے میں رہنے کے لئے ہمیں دوسرے لوگوں کی ضرورت ہے تو یہ دیکھ لینا چاہئیے کہ جس کے ساتھ ہم وقت گزار رہے ہیں اٹھتے بیٹھتے ہیں اس کے اخلاق اور آداب کیسے ہیں کیونکہ دوستوں کے اخلاق کا اثر خود انسان پہ بھی پڑتا ہے جو شخص اچھے اور نیک دوستوں کی صحبت میں رہتا ہے اس کے اپنے اخلاق بھی ویسے ہوجاتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہماری دوستی کسی ایسے شخص سے ہوجائے جو بری عادات کا شکار ہو تو وہ عادات ہم میں منتقل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اچھے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھیں گے تو معاشرہ بھی آپ کو ویسے  ہی اچھی نظر سے دیکھے گا اسی طرح اگر کوئی بروں کی صحبت میں رہتا ہے تو لوگ اس کو بھی برا ہی سمجھتے ہیں۔ نیک صحبت کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی ڈالنی چاہیے۔بچوں کا دل جلدی اثر لیتا ہے اس لئے ان پر دوسروں کا اثر فوری ہونے لگتا ہے۔ شیخ سعدی اپنی مشہور کتاب ”گلستان سعدی” کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ایک دن حمام میں میرے دوست نے مجھے خوشبو والی مٹی دی میں نے اس مٹی سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عنبر ہے؟ تیری خوشبو نے تو مجھے مست کر دیا ہے ،مٹی کہنے لگی میں تو مٹی ہی ہوں مگر ایک عرصہ تک پھولوں کی صحبت میں رہی ہوں یہ میرے ہم نشیں کے جمال کا اثر ہے ورنہ میں تو وہی مٹی ہوں۔ اللہ تعالٰی نے انسان میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ وہ دوسرے کے اثر بہت جلد قبول کرتا ہے۔ﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! تقوی اختیار کرو اور صادقین کی صحبت اختیار کرو۔”(التوبۃ 119)۔

    اچھی صحبت کے فضیلت میں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں”اچھی مجلس اور بری مجلس کی مثال اس طرح ہے جس طرح خوشبو بیچنے والے اور بھٹی سلگانے والے کی مثال ہے ، اگر عطار تمہیں خوشبو نہ بھی دے تب بھی اس کی خوشبو تمہیں پہنچ کر رہے گی، اور لوہار کی بھٹی کی چنگاری تمہارے کپڑے نہ بھی جلائے تو اس کا دھواں تمہارے کپڑے میلے ضرور کردے گا۔(بخاری، مسلم)۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگوں کی صحبت میسر نہ ہو تو ان کی زندگی کے احوال، واقعات، اقوال، نصیحتیں پڑھنا اور ان پہ عمل پیرا ہونا بھی ان کی صحبت میں رہنے جیسا ہی ہے۔

    اچھے لوگوں سے میل جول اور ان سے تعلق اختیار کرنا انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے اصلاح بہت زیادہ ہوتی ہے اور انسان کا معاشرے میں عزت وقار میں اضافہ ہوتا ہے

    @KharnalZ

  • یومِ دفاع  تحریر : خالد اقبال عطاری

    یومِ دفاع تحریر : خالد اقبال عطاری

     

     ہر سال پاکستان میں اور بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی 6 ستمبر کو یوم دفاع کے طور پر مناتے ہیں. یہ دن پاکستان اور بھارت کی 1965 کی جنگ میں افواج پاکستان کی ناقابلِ تسخیر دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے.

    یوم دفاع کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاد دہانی ہے تاکہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے میں بطریق احسن نمٹا جا سکے. یوم دفاع کی یاد ہمارے اسکولوں، کالجوں کے علاوہ سرکاری دفاتر میں اس جنگ کے شہدا کو اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارتی فوج جو بڑے غرور و تکبر کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنے کا دعوہ کرتے پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی، کی پسپائی اور شکست کا تزکرہ کیا جاتا ہے. جس میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا.ہر پاکستانی اپنی افواج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاکستانی فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے.

    6 ستمبر 1965 کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والے والا قابل فخر دن ہے. جب کئی گنا بڑے ملک بھارت، افرادی تعداد میں کئی گنا بڑا،

    لشکر اور دفاعی سازو سامان کے ساتھ اپنے پڑوسی اور اپنے سے چھوٹے ملک پاکستان پر بغیر کسی اعلان کے رات کے اندھیرے میں حملہ کردیا. اس چھوٹے اور غیور وطن کے سپاہیوں نے  اپنے دشمن کے جنگی حملے کا  اس جوانمردی و ہمت سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے. عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا.

    1965 کی جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر لڑی اور جیتی جا سکتی ہے. پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کے جرات مندانہ جزبے نے ملکر ناممکن کو ممکن بنایا.

    جب 6 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے حملہ کیا تو فوراً ہی پاکستانی قوم،  فوجی جوان اور افسران، سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے. پاکستانی افواج نے ہر جارجیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے روکا ہی نہیں بلکہ ان پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا ہندوستانی فوج کے افسر کے جو دعوے تھے ہماری مسلح افواج نے اسکے  منہ پر وہ طمانچے مارے کے ساری زندگی وہ اپنا منہ ہی چھپاتا پھرا. لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی شہید نے سنبھالا جان دے دی مگر وطن کی مٹی پر آنچ نہیں آنے دی. 

    پاکستانی فوج 

    چونڈہ کے مقام پر(ہندوستان کا اہم اور پسندیدہ محاذ تھا) جنگ میں پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ و بارود سے نہیں اپنے جسموں سے بم باندھ کر ہندوستانی فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا. ہندوستان کے اس نقصان اور تباہی کو دیکھ کر باہر سے آئے ہوئے انٹرنیشنل صحافی بھی پاکستانی افواج کی دلیری اور بہادری دیکھ کر حیران رہ گئے.

    اللہ تعالیٰ افواج پاکستان اور ہمارے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور عوام پاکستان کی حفاظت فرمائے اور انہیں مزید ترقیاں اور عروج عطا فرمائے.

    ‎@AttariKhalid1

  • معاہدہ تاشقند   تحریر: احسان الحق

    معاہدہ تاشقند تحریر: احسان الحق

    پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی روس کے وزیراعظم کی میزبانی میں ملاقات ہوئی. اس ملاقات اور مزاکرات کا اہتمام اس وقت کے روسی شہر تاشقند میں کیا گیا. روس کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کروانے میں اہم کردار ادا کیا.

    تاشقند روانگی سے قبل یکم جنوری 1966 کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    "اگر روس کی کوششوں سے مسئلہ جموں وکشمیر حل ہو جائے تو صرف برصغیر کی ساٹھ کروڑ لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا روس کی احسان مند ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کروا دیا جو عالمی امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے”

    صدر پاکستان یکم جنوری 1966 کو راولپنڈی سے تاشقند کے لئے روانہ ہوئے. صدر ایوب خان اسی سلسلے میں ظاہر شاہ کی دعوت پر پہلے کابل گئے. 2 جنوری کو ظاہر شاہ اور اس کی کابینہ کے ساتھ ملاقات کی. صدر ایوب خان نے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے بارے میں آگاہ کیا. ایک روزہ دورے کے بعد اگلے روزہ تاشقند روانہ ہوئے.

    پاکستانی وفد 3 جنوری 1966 کو تاشقند پہنچا جہاں روسی حکومت نے شاندار استقبال کیا. روسی وزیراعظم کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے اپنی اپنی تقریروں میں اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا. صدر ایوب خان نے اپنی تقریر اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ملاقات میں واضح انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک دیرپا امن ممکن نہیں.

    بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر اور مزاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور مستقبل میں جنگ نہ کرنے پر زور دیا.

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس کے لئے تیار شدہ ایجنڈا.

    1. مسئلہ کشمیر 2. فوجوں کی واپسی 3. دیگر متنازعہ معاملات

    بھارت کا ایجنڈا پاکستانی ایجنڈے کے برعکس تھا.

    1. جنگ نہ کرنے کا معاہدہ 2. کشمیر پر بات نہیں ہوگی، یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے 3. دیگر متنازعہ امور

    5 جنوری 1966 کو دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مزاکرات ہوئے. بھارت نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کردیا. دونوں ممالک کسی بھی متفقہ ایجنڈا بنانے میں ناکام رہے کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا تھا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا. وفود کے بعد صدر پاکستان ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان طویل بات چیت ہوئی مگر اس ملاقات میں بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کیوں کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا اور پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا. روسی وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو شامل ایجنڈا کرنے کے لئے کہا مگر بھارت نہیں مانا پھر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کو منانے کی کوشش کی کہ آپ مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے پر لچک دکھائیں.

    6 جنوری کو کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا. اسی روز روس نے پھر کوشش کرتے ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کی اور اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی. پاکستان نے اس بات پر کچھ لچک دکھانے کا عندیہ دیا مگر بھارت مسلسل چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑا ہوا تھا. 7 جنوری کو ایجنڈا تیار کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں. پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایجنڈا میں شامل کئے بغیر اور کسی بات پر معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا.

    8 جنوری کو پاکستان نے بھارتی پیش کش کو مسترد کر دیا جس میں بھارت نے کہا تھا کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جائے. اس روز بھی دونوں سربراہان مملکت کے درمیان کوئی ملاقات نہ ہو سکی. 9 جنوری کو بھارت کے پیش کردہ اعلامیہ کو پاکستان نے مسترد کر دیا کیوں کہ اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا.

    9 جنوری کو تاشقند کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا. روسی وزیراعظم کی ساری کوششیں رائیگاں جا رہی تھیں. روسی وزیراعظم نے آخری کوشش کے طور پر دونوں راہنماؤں سے ایک بار پھر ملاقات کی اور دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی لچک دکھائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں. اس بار روسی وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں.

    آخر کار روس کی کوششوں سے 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت معاہدہ طے پا گیا. اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے.

    ۱۔ دونوں ممالک نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز اپنا اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کریں.

    ۲. معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں 25 فروری تک واپس اس مقام پر آجائیں جہاں وہ 5 اگست کو تھیں.

    ۳. معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے کریں گے اور آئندہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے.

    ۴. ایسی کوئی بھی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے.

    ۵. مہاجرین، ضبط شدہ مال اور جائیداد کی واپسی.

    ۶. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کرنے کا معاہد کیا.

    ۷. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بات چیت کرنے کے لئے ٹیموں کے قیام کی تجویز بھی منظور کی گئی.

    ۸. دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

    ۹. دونوں ملکوں نے فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا.

    ملک واپسی پر صدر مملکت ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مبارکباد دی اور بتایا کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر میں سرپیکار تھے تب 4 ستمبر کو روس کی جانب سے ہمیں دعوت نامہ ملا جس میں امن معاہدے کے لئے روس آنے کہ دعوت دی گئی تھی. 6 ستمبر کو بھارت کے حملے نے روس جانے سے روک دیا تھا. پورے اٹھارہ سال سے ہم برابر کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں سے کیا گیا رائے شماری والا اپنا وعدہ پورا کرے. جب بھارتی فوج نے بار بار آزاد کشمیر کے علاقوں پر حملے کرنا شروع کئے تو پاک افواج کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا. روسی وزیراعظم اور حکومت نے پاک بھارت مزاکرات کامیاب بنانے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں، پرتپاک استقبال کیا اور ہماری خوب مہمان نوازی کی، جس پر ان کے شکر گزار ہیں.

    ابھی ہماری مشکلات آسان نہیں ہوئیں، آزمائش ابھی باقی ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنا سر جھکائیں اور اپنے اور پاکستان کے لئے ترقی اور نصرت کی دعا طلب کریں. پاکستان پائندہ باد!

    @mian_ihsaan

  • مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    کورونا آیا تو بیشتر شعبہ ہائے زندگی کے لئیے تباہی کا پیام لایا
    انہی شعبوں میں سے ایک تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح شعبہ تعلیم بھی رفتہ رفتہ نارمل زندگی کی طرح واپس لوٹا
    ملکی شعبہ تعلیم کی طرح غیر ملکی شعبہ تعلیم بھی واپس لوٹا اور مارچ 2021 میں کئی غیر ملکی جامعات کے طلبا واپس اپنی اپنی جامعات میں معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے لیکن انہی غیر ملکی جامعات میں پڑھنے والے طلبا کا بڑا حصہ "چین” کی جامعات میں زیرتعلیم ہے
    چین میں کورونا پر جون 2020 میں کنٹرول پالیا گیا تھالیکن تیزی سے بدلتی دنیا کے حالات اور کورونا کے پھیلاؤکے باعث سٹوڈنٹ ویزا بند رکھا گیا طلبا بھی حالات کی نزاکت سے واقف تھے لہذا انہوں نے بھی چین کی حکومت کا ساتھ دینا مناسب سمجھا اور آن لائن تعلیم حاصل کرتے رہے
    قارئین آن لائن تعلیم والا سلسلہ اس وقت تک پرامن چلتا رہا جب تک کہ پروفیشنل ڈگریاں ،ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کا "لیب ورک،تھیسس اور ریسرچ "سر پر آ پہنچا
    قارئین یہ ڈگری کا وه حصہ ہوتا ہے کہ جو ماہر اساتذه کی زیرنگرانی صرف جامعات میں حاضر ره کر مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس کے نامکمل ہونے کی صورت میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہتی دوسرے لفظوں میں ضائع ہوجاتی ہے نا مکمل رہتی ہے چنانچہ مارچ2021 میں جبکہ بیشتر ملکوں میں زیر تعلیم پاکستانی واپس اپنی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے مگر "چین” میں زیر تعلیم طلبا واپس نہ لوٹ سکے اس وقت چین میں پڑھنے والے طلبا کئی پلیٹ فارمز پر اپنا مسئلہ اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواه جواب حاصل نہ کرسکے وقت گزرتا گیا پاکستانی طلبا کوشش کرتے رہے لیکن انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ "چین” کی بین الاقوامی طلبا کے لئیے یکساں پالیسی ہے ابھی تک کسی بھی غیر ملکی طالبعلم کو واپس آنے کی اجازت نہیں لہذا جب بھی غیر ملکی طلبا کو چین لوٹنے کی اجازت ملے گی تو سب سے پہلے پاکستانی طلبا کے واپسی کے انتظامات کریں گے دریں اثنا چین نے جنوبی کوریا کے طلبا کو واپسی کی اجازت دی اور اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی طلبا کے واپسی کے مطالبے پر بتایا گیا کہ یہ طلبا جنوبی کوریا میں کورونا کی بہتر صورتحال کے باعث بلائے گئے
    چونکہ جنوبی کوریا میں بھی چین کی طرح کورونا کا کوئی کیس نہیں اس لئیے ان کو اجازت ملی ہے
    پاکستانی طلبا تعلیم میں ہونے والے حرج کو بار بار چینی حکام کے سامنے رکھتے رہے لیکن کوئی خاطر خواه جواب نہ مل سکا اسی ساری کشمکش کے دوران چین نے خفیہ طور پر امریکہ،بھارت اور ارمینیا سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لئیے ویزے کھول دئیے
    چین کی مختلف محاذوں پر مخالفت کرنے والے ان چین دشمنوں کو واپسی کی اجازت پر پاکستانی طلبا میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت میں کورونا کتنا کنٹرول ہے بلکہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا ڈیلٹا ویرینٹ بھی انہی ملکوں میں افزائش پارہا ہے
    MBBS کے طلبا کو اگر ہسپتالوں میں مقرره گھنٹوں کی کلاسز نہ دی گئیں تو ان کی ڈگریاں ناکاره ہوجائیں گی اسی طرح سائنس کے طلبا کو اگر لیب میں تجربے نہ کروائے گئے ان کی ڈگریکا بھی کوئی فائدہ نہیں ماسٹرکے طلبا اگر تھیسس نہیں لکھیں گے تو ان کی ڈگری نامکمل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے اگر ریسرچ ورک کرکے ریسرچ پیپر حقائق پر مبنی نہ لکھاتو انکی ڈگری بھی ضائع ہوجائیگی
    ان اقدامات سے ان طلبا کی صرف ڈگری ہی نہیں بلکہ ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اورطمستقبل میں جب یہ عملی زندگی کی دوڑمیں دوسرےلوگوں سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس دوڑ میں بھی سب سے پیچھے ره جائیں گے
    ان طلبا نے اب تک قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی سفارشات کی ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ذاتی طور پر اس مسئلے میں دلچسپی لینے کے درخواست گزار ہیں
    یہ وہی طلباہیں جو پاک چین دوستی کومضبوط کرنے اور دونوں ملکوں میں روابط بڑھانے کی غرض سے اور عظیم خوابوں کے ساتھ چین گئے تھے اگر ان نازک حالات میں امریکہ ،بھارت ،ارمینیااور جنوبی کوریا کے طلبا کوتو چین لوٹنے کی اجازت مل جائے لیکن پاکستانی طلبا کو تاریخ کے اس موڑ پر احساس کمتری دلایا گیا تو یقین مانیں یہ طلبا مستقبل میں پاک چین دوستی کے "سفیر” کبھی نہیں بنیں گے بلکہ اہنے تئیں برتی گئی اس تعصب پسندی کو سینے میں سجائے اگلی نسلوں تک جین کی اس بے رخی کو پھیلا کر ہمیشہ کے لئے امر کردیں گے
    @Naseem_Khera

  • را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی تاریخ میں ویسے تو ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بہت بڑے بڑے بلنڈرز کیے ہیں ۔ ناکامیوں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ پر سب سے پہلے جو افغانستان میں بھارت کے ساتھ ہوا ہے اسکو آپicing on the cakeکہہ سکتے ہیں ۔ ۔ اب جو بھارت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر میں ان کے سیاسی دفتر میں رابطہ کیا ہے ۔ یہ شکست کا ثبوت ہے ۔ ویسے کوئی خاص دال گلتی بھی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ بھارت نے پہلے دن سے افغانستان میں لنگڑے گھوڑے پر جوا لگایا ہوا تھا ۔ مشورہ کس کا تھا ۔ raw کا ۔ سوال یہ ہے جو بھارتیوں کو مودی اور rawسے پوچھنا چاہیئے کہ مذاکرات ابھی تو شروع نہیں ہوئے ۔ یہ دو تین سال سے جاری تھے ۔ تب انھوں اپنے آپکو کیوں نہیں بدلا ۔ بھارت تو روز اول سے طالبان کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتا رہا ہے ۔
    adviceکس کی تھی ۔ اجیت ڈول اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کی بھئی ۔۔۔ ۔ پھر اشرف غنی ہو ۔ یا شمالی اتحاد والے ان پر خوب پیسہ بھی لگایا گیا ۔ پر یاد رکھیں جب آپ ریس میں لنگڑے گھوڑے پر پیسہ لگا بیٹھتے ہیں تو پھر پیسہ تو ڈوبتا ہی ہے ساتھ آپکی عزت اور ساکھ بھی ساتھ ہی جاتی ہے ۔ تو میں افغانستان کے معاملے میں خاص طور پر rawکا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے اتنا اچھا کھیلتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں بھی ذلیل کروایا اور مزید یہ آنے والے دنوں میں کروائیں گے ۔ کیونکہ ہم چاہیں بھول جائیں طالبان کو یاد رہے گا کہ کیسے rawنے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچائے ۔ یہ وہ کسی صورت نہیں بھولیں گے ۔ اب بھی جو بھارتی میڈیا rawکے اشاروں پر گند ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے دیکھا جائے تو یہ بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کرے گا ۔ اس کوئی فائدہ بھارت کو نہیں پہنچنے والا۔

    ۔ پھر طالبان نے امریکہ کو چت کر دیا ہے تو اگر rawکے اجیت ڈول اور افسروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بلیک میل یا فائدہ اٹھا لیں گے تو ان کی بھول ہے ۔ اس وقت بھارت جس تنہائی کا شکار ہے شاید ہی کبھی ہوا ہے ۔ یاد کریں یہ وہ ہی بھارت ہے جو کہا کرتا تھا پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے ۔ پر پاکستان کی دنیا بھر میں خوب آو بھگت ہورہی ہے ۔ بھارت کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے ۔ ۔ را ۔۔۔ کے مزید بلنڈرز بتانے سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کئی سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی ۔ اب امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دیں گے اور آج یہ سچ ثابت ہوچکا ہے ۔ تو یہ ہوتی ہے انٹیلی جنس ۔۔۔ والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی ۔ نہ ہی اجیت ڈول کو یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کےساتھ ہوا کیا ہے ۔ یہ ان کی سوچ سے بھی آگے کی چیزیں ہیں ۔ ۔ اب آپکو ایک سال پیچھے 2020 میں لیے چلتا ہوں ۔ چین چپ کر آیا ۔ بھارتیوں کی بینڈ بجائی ۔ بندے مارے ۔ علاقوں پر قبضہ کیا ۔ مگر ۔۔۔ بھارت کی نمرون انیٹلی جنس ایجنسی ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ لداخ میں پٹائی کے بعد جو بھارت بدحواس دیکھائی دیا ۔ اور جو اس کی شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جگ ہنسائی ہوئی اس کی ایک ہی وجہ تھی ۔۔۔ را ۔۔۔ کی ناکامی ۔

    ۔ اس کے بعد سال 2019 بھی بھارت کی ناکامی اور نامرادی کا سال ثابت ہوا ۔ اس سال فروری میں پلوامہ حملہ ہوا جس میں 40 بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ اب یہ میں نہیں اس واقعے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ، ستیہ پال ملک ، سابق وزیر مملکت دفاع ، جتیندر سنگھ ، اور ممتاز قانون ساز ، گالا جے دیو وغیرہ نے انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ یعنی Rawکا failure تھا ۔ اس وقت مودی نے ۔۔۔ را۔۔۔ کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اسی دھن پر زور دیتے رہے کہ پاکستان نے اس پروگرام کو ترتیب دیا تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب کو معلوم ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ کی ایک غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے مودی نے دوسری غلطی کی اور پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا ۔ اور بھارت ایئر فورس پوری دنیا میں ننگی ہوگی ۔۔ مگر پلوامہ پر ۔۔۔ گلف نیوز۔۔۔ نے لکھا تھا کہ جب 2500 فوجیوں کو لے جانے والی 78 بسیں حملہ زدہ علاقے سے گزرتی ہیں تو کچھ منصوبہ بندی اس سے پہلے ہوتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ منصوبہ بندی تھی ہی نہیں ۔ قافلہ ایک قریبی قطار میں آگے بڑھا ۔ escortکرنے والی گاڑیاں نہیں تھیں ۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ قافلے کا اگلا ، پیچھے اور درمیان والا حصہ پیچھے ریڈیو سے مسلسل رابطے میں تھا کہ نہیں ۔ جب بمبار کار ایک سڑک سے ہائی وے میں شامل ہوئی تو کسی کو پتہ نہیں چلا اور ٹارگٹ بس سے ٹکرانے سے پہلے بھی کسی ایک سپاہی کی طرف سے کوئی الرٹ نہیں جاری کیا گیا ۔

    ۔ اب پھر واضح کردوں ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ دنیا کہہ رہی ہے ۔ لیکن اُس وقت بھی نہ تو ہندوستانی میڈیا اور نہ بھارتی سیاستدانوں نے مانا کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کی کارنامے تو پتہ نہیں ہیں کہ نہیں ۔۔۔
    بلنڈرز بہت ہیں ۔ مزے کی بات ہے اس واقعہ کے بعد اجیت ڈول نے دوچار بالی وڈ فلمیں بنوائیں۔ اور کھایا پیا سب ہضم ۔۔۔ 2016کی بات کریں ۔ تو اس سال بھی rawکو دو بڑی ناکامیوں کو سامنا کرنا پڑا۔ ایک پٹھان کوٹ اور دوسرا ۔۔۔ اُڑی ۔۔۔ حملہ ۔ اس پر تو بھارتی میڈیا کیا ۔ سرکردہ سیاست دان میں چلا اُٹھے تھے کہ یہ ایک intelligence failure ہے ۔ پھر بھی اجیت ڈول جو ہیں وہ ڈنگیاں مارنے سے باز نہیں آیا اور اس نے سرکار کے خرچے پر بالی وڈ سے درجنوں فلمیں بنوا کر سبکی کو دور کروانے کی کوشش کی ۔ پر سچ کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔۔۔ اُڑی اور پٹھان کوٹ ۔۔۔ حملوں میں بھارتی فورسز کو کوٹ تو پڑی ہی تھی ۔ پر ساتھ بھارت کی preimier intelligence agency ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اکتوبر 2005 اور 2011 دہلی بم دھماکے اور 1993 ، 2002 کے دوران ممبئی میں بے شمار دہشت گرد حملے ہوئے ۔ پھر 2003 ، 2006 ، 2008 اور 2011 کے دوران چار واقعات را کی انٹیلی جنس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔2010 اور 2012 میں پونے شہر پر دو بار حملہ ہوا ۔ اکتوبر 2013 کو بہار میں ایک انتخابی جلسے کے دوران بم دھماکے ہوئے ۔ جولائی 2013 میں بہار میں پھر دھماکے ہوئے ۔ مارچ
    2006 اور دسمبر 2010 وارانسی دھماکے ، مختلف بھارتی ریاستوں میں مسلسل بدامنی اور دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں اس حقیقت کی کافی گواہی ہیں کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ اپنے گھر کو پہلے ترتیب دینے کے بجائے اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں دخل اندازی اور مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اچھا یہ تو کچھ بھی نہیں ۔

    ۔ پھر نومبر 2008 میں ممبئی حملے ہوئے ۔ ممبئی کے تاج ہوٹل میں کئی لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔ جس نے پورے بھارت کو دنگ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ اس دن 11 مقامات پر بیک وقت حملے کئے گئے۔ اور حملہ آور بحیرہ عرب سے آئے۔ ممبئی حملوں نے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ، کم از کم 174 افراد ہلاک ہوئے ، جن میں نو حملہ آور بھی شامل تھے۔ پر ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ سے کسی نے نہیں پوچھا ۔ کہ اتنی بڑی کاروائی ہوگئی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی ۔ پر اس بار پھر ایک ہی کام کیا گیا کہ ملبہ پاکستان پر ڈالو اور بالی وڈ کی فلمیں بناو۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را۔۔۔ کی عزت بچا لی گئی ۔ ۔ اسکے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر 2001 میں حملہ ہوا جس کا ذکر ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے۔۔۔ نے ایک اور قومی سلامتی کی غلطی کے طور پر کیا۔اس نے زور دے کر کہا تھا ۔۔۔ پارلیمنٹ پر حملہ reality televison تھا ۔ جس کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ پھر بھارت کے لیے بدقسمت سال 1999بھی تھا ۔ جب کارگل جنگ کے موقع پر بھارت کی خوب ٹھکائی ہوئی ۔ جب پاکستانی شیر جوانوں نے بھارت کو دھول چٹائی اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کر دیا کہ بھارتی فوج اسکی خفیہ ایجنسیوں کی اوقات کیا ہے ۔

    ۔ پھر اسی سال ۔۔۔ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہوجاتا ہے ۔ جس کو ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے ۔۔۔ نے اپنے ملک کی قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بڑی سکیورٹی ناکامی کہا ۔ اس وقت بھی بھارت کے
    so called spy master نے چھ دن بعد ہائی جیکروں کی جانب سے بھارتی جیلوں میں بند تین لوگوں کی رہائی کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ ذلت کی گہرایوں میں جا گری ۔ پر ان دنوں معاملوں پر بھی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بالی وڈ فلمیں ہی بنوائیں اور جھوٹی سچی تاریخ لوگوں کو سنوائی ۔ ۔ پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ 1991میں راجیو گاندھی کو بھی بچا سکتا تھا ۔ پھر ناکام رہا ۔ کیونکہ نہ تو ان کی ٹریننگ ہے نہ ہی اہلیت ۔ ساتھ ہی بھارتی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے تامل ٹائیگرز کو جتنی مرضی سپورٹ دی ۔ پرآخر میں وہاں سے بھی بھارت رسوا ہو کر ہی نکالا تھا ۔ ۔ اندرا گاندھی کے دور کی بات کی جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل ہونے سے بھی نہیں بچا پائی ۔ حالانکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے سازش کا پہلے سے علم تھا۔ یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ ہی تھی ۔ جس نے بھارت میں 1975 کی ایمرجنسی لگوائی جس کا اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا ۔۔ تاریخ نے بعد میں ثابت کیا کہ یہ ایمرجنسی ایک مہلک غلطی تھی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ اندرا گاندھی کو ان کی عوامی حمایت اور مقبولیت کے بارے میں غلط اندازے دے رہی تھی۔ جون 1984 میں سکھوں کے خلاف ۔۔۔ آپریشن بلیو سٹار ۔۔۔ کے دوران ۔ را ۔۔۔ ایک بار پھر ناکام ہوگئی کیونکہ وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل یں سکھ کمانڈر بھنڈرانوالے کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکی۔ اس ۔۔۔ را ۔۔۔ کی جانب سے پانچ گھنٹے کی کارروائی کے بارے میں سوچا گیا تھا جو کہ بعد میں پانچ دن تک بڑھ گئی ۔ اور سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے انڈین آرمی کو ٹینک لانے پڑے۔ اس کے نتیجے میں فوج کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔ ۔ را ۔۔۔ کے اس غلط اندازے کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑی اور ان کے سکھ محافظوں نے انہیں گولیاں ماریں ۔ ۔ تو یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کے کارنامے نہیں کرتوت ہیں ۔ بھارت کے ٹیکس دینے والی عوام کو چاہیئے کہ وہ اس بارے اپنی حکومت سے بھی اور اس جاسوس ایجنسی کا بھی احتساب کرے کہ یہ کیا گل کھلاتی رہی ہے ۔ ماضی میں بھی اور اب بھی ۔ ۔ پھر بھارت کی انٹیلی جنس ناکامیوں کا اصل جھومر تو 1962میں ہوا ۔ کیونکہ ہندوستان کو کبھی شبہ تک نہیں تھا کہ چین حملہ کرے گا ، لیکن اس نے ایسا کیا۔

    ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے یقین دہانی کہ چین کبھی بھی حملہ نہیں کرے گا اس چیز نے بھارتی فوج کو تیار ہی نہیں ہونے دیا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بھارت کو خوب مارپڑی ۔ اس جنگ میں تین ہزار سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ سولہ سو سے زائد لاپتہ ہوئے اور تقریباً چار ہزار چینی فوج نے جنگی قیدی بنا لیے ۔ جبکہ مقابلے میں چین کے صرف
    722 فوجی ہلاک ہوئے اور 1697 زخمی ہوئے۔

    ۔ پھر ہندوستانی سیاسی قیادت بیرونی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی دوڑتی دیکھائی دی ۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ، جواہر لال نہرو نے مایوسی میں امریکہ کو دو خط لکھے تھے۔ جس کے تحت لڑاکا طیاروں کے 12 سکواڈرن اور جدید ریڈار سسٹم کی درخواست کی گئی۔ نہرو نے یہ بھی کہا کہ ان طیاروں کو امریکی پائلٹوں کے ذریعے اُڑایا جائے جب تک کہ ہندوستانیوں کو ان کی جگہ لینے کی تربیت نہ مل جائے۔ یہ درخواستیں کینیڈی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہندوستانی افواج کو غیر جنگی مدد فراہم کی اور ہوائی جنگ کی صورت میں بھارت کی مدد کے لیے کیریئر“USS Kitty Hawk” کو خلیج بنگال بھیجنے کا ارادہ کیا۔۔ دراصل اس وقت بھی بھارتی ایجنسیوں نے شدنی چھوڑی تھی کہ تبت میں 1959 کی بغاوت ہوئی تو نئی دہلی نے دلائی لامہ کو پناہ دینے ٹھان لی ۔ جس کے بعد یہ واقعہ ہوا ۔ اور چین نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کروادیا ۔ یوں اس جنگ کی ہار کا دکھ لیے ہی نہرو اس دنیا سے چلے گئے ۔

    ۔ دراصل دیکھا جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ کی ناکامیوں سے پوری کی پوری ایک تاریخ بھری پڑی ہے جس کی قیمت بھارت نے ہمیشہ ادا کی ہے ۔ مگر بعد میں بھارتی حکومت نے صرف فلمیں ہی بنوائیں ہیں ۔ اس لیے امید ہے جلد مودی ، راج ناتھ سنگھ اور اجیت ڈول افغانستان سے آخری 150سے 200بھارتی کیسے نکالے اس پر بھی کوئی فلم بنوا ہی دیں گے ۔

  • درودوسلام کی برکات اور فضائل۔  تحریر: تیمور خان

    درودوسلام کی برکات اور فضائل۔ تحریر: تیمور خان

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہم پر دنیا میں جتنے بھی احسانات فرمائے ہیں اور جتنی بھی نعمتیں عطا فرمائی ہے وہ سب کے سب اپنے حبیب ﷺ کے صدقے عطا فرمائی ہے دنیا و آخرت کی رحمتیں اور نعمتیں سرکارِ دوعالم ﷺ کی وسعت سے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے جناب سے ہم تک پہنچی ہیں سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑی رحمت اگر سرکارِ دوعالم ﷺ کے ذات بابرکت کو سمجھا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا اس لئے کہ آج اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں دنیا میں جو عزت اور شناخت عطا فرمائی ہے اور اسلام کا جھنڈا ہر زمانے میں اللہ نے بلند فرمایا ہے اور جتنی بھی فضیلتیں ہمیں آج ملی ہے بلکہ یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں کہ ہمیں اگر توحید کا درس ملا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کی معرفت اگر حاصل ہوئی ہے تو سرکارِ دوعالم ﷺ کے برکت سے عطاء ہوئی ہے

    اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سب نعمتوں سے بڑھ کر اور سب رحمتوں سب سے بڑ کر  سب سے بڑی اللہ کی رحمت اور سب سے بڑی اللہ کی نعمت وہ ہمارے لئے محبوب کائنات ﷺ کی ذات ہے انہی کی وجہ سے آج ہم مسلمان کہنے کے لائق ہیں انہی کا جھنڈا تھام کر آج پوری دنیا پہ ہم نظام قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اور بروز قیامت انہی کے جھنڈے تلے اٹھا کر انہی کے کے امت میں شامل ہونا اپنے لئے باعث شرف اور فضیلت سمجھتے ہیں۔

    ہر مسلمان کا یہ عقیدہ پونا چاہیےکہ ہمیں جو بھی عزت اس دنیا میں ملی ہے جو اللہ کی معرفت دین کی معرفت قرآن ہمیں ملا ہے ایک آئین اور شریعت ہمیں ملی ہے اور آج چھوٹے چھوٹے عمل پہ ہمیں بڑے بڑے ثوابوں کی بشارت اور خوشخبری دی گئی ہے تو یہ ہمارے نبی ﷺ  کی برکت ہے ۔

    جس طرح ہر انسان کے دوسرے انسان پہ کچھہ حقوق ہیں اسی طرح حضور اکرم ﷺ کے بھی انہیں رحمتوں کی وجہ سے اپنی امت پہ کچھہ حقوق ہیں ان حقوق میں سے  ایک بنیای حق اور اس حق کو ادا کرنے کے لیۓ  علماء لکھتے ہیں کہ پوری امت سرکارِ دوعالم ﷺ پر درود و سلام پڑھتی رہے درود شریف پڑھنا یہ ان کا ہم پہ ایک حق ہے جتنے بھی کلمہ گو ہیں ۔

    اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید فرقان حمید کے 22 پارے کے سورہ الاحذب میں فرمایا

    إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا.

     اللہ کا ارشاد ہے بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺ پہ درود پڑھتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب سلام پڑھا کرو،

    کتنی بہت ساری احکامات ہیں کتنی ہدایات ہیں لکین کہیں اللہ نے یہ نہیں کہا کہ تم یہ کام اس لئے کرو کہ یہ میں بھی کرتا ہوں اور میرے فرشتے بھی کرتے ہیں، لیکن درود و سلام پڑھنے کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ اس فضیلت  کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ نے پہلے اپنا حوالہ دیا پھر اپنے فرشتوں کا حوالہ دیا کہ بیشک اللہ بھی درود پڑھتا ہے اس کے فرشتے بھی دورود پڑھتے اس لئے ایے ایمان والوں تم بھی یہ طریقہ اپناؤ جو اللہ اور اس کے فرشتے اپناتے ہیں، کائنات کی ہر شے چاہے فرشتے ہوں یا جننات نبی اکرم صلی ﷺ پر اسی طرح درود پڑھتے ہیں جس طرح عام انسان۔

    مگر اللہ کا درود پڑھنے کا طریقہ الگ ہے اور وہ یہ کہ اللہ ہر وقت نبی کریم ﷺ پر رحمتیں نازل فرماتا ہیں سلامتی نازل فرماتا ہے درود پڑھنے کا اللہ کی طرف ایک یہ نسبت یہ کی جاتی  ہے،

     اور درود پڑھنے کا ایک دوسرا معنیٰ جس کو امام بخآری نے بھی نقل فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے نبی ﷺ کی ثناہ اور تعریف بیان فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے سرکارِ دوعالم ﷺ کی تعریف کرنا امام بخآری فرماتے ہیں یہ اللہ کا درود ہے۔ تو جب سے سورہ احذب میں یہ آیات نازل ہوئی تو اس وقت سے   لے کر آج تک امت کے جتنے بھی انسان ہے چاہے آگر وہ نیکو کار ہے یا گناہگار چاہے وہ جدید السلام ہیں یا  چاہے وہ قدیم السلام ہے اگر وہ کلمہ گو ہے تو یاد رکھیں ہر مسلمان درود و سلام اپنے لئے باعث عزت اور باعث شرافت سمجھتا ہے۔

    جہاں ان کے شعریت پہ عمل کرنا جہاں ان کے سنت پی عمل کرنا اور زندہ کرنا یہ ان کا ہم پر حق ہے، اسی طرح درود اور سلام بھی ان کا ایک بنیادی  ہم سب  پر حق ہے۔

     اسی طرح صحابہ کرام کی معمولات اگر دیکھیں تو احادیث اور کتابیں بھری پڑی ہیں،صحابہ کرام کی معمولات  میں درودو سلام سب سے اہم ورد اور وظیفہ ہوا کرتا تھا۔

    امام ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے حضرت ابی بن کعب سے آپ فرماتے ہیں یا رسول اللہ میں نے اپنے لئے کچھہ وقت مقرر کیا ہے اورادو وضائف کے لئے میں چہتا ہوں یا رسول اللّٰہ میں وضائف کے ساتھ ساتھ آپ پر درود اور سلام بھی پڑھا کروں آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں اس وقت میں آپ پر کتنا درود پڑھا کروں سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابی تم اس میں سے مجھ پہ چھوتا حصہ درود پڑھا کرو آپ نے فرمایا یارسول اللہ اگر آج کے بعد میں یہ پڑھا کروں گا تو رسول اللہ نے بتایا اے ابی ہاں اگر اس سے زیادہ بھی پڑھ سکو تو ابی نے فرمایا یارسول اللہ آج کے بعد میں اس میں سے تیسرا حصہ پڑھا کروں گا حضور نے فرمایا یہ بھی بہتر ہے لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو اور بہتر ہے تو میں نے فرمایا یارسول اللہ آج کے بعد آدھا وقت آپ پہ درود اور آدھا وقت باقی وضائف پڑھا کروں گا، حضور نے فرمایا یہ بھی بہتر لیکن اگر اس سے اور بھی زیادہ کرو تو حضرت ابی نے فرمایا یا رسول اللہ آج کے بعد میں آپ پر ہر وقت درود ہی پڑھا کروں گا، تو سرکارِ دوعالم نے فرمایا اے ابی اگر آپ نے واقعی ایسا کیا تو آپ کی دنیا و آخرت کے تفقرات اور تکالیف کے لئے یہی کافی ہے۔

    اسی لئے درود اور سلام کے فضیلت میں بے شمار روایات حضور ﷺ کے احادیث مبارکہ میں اس کے طیبہ میں باقاعدہ اس کے مجموعے میں اتنی روایات ہمیں ملتی ہیں کی باقاعدہ ہمارے محدیثین نے جتنی کتابیں لکھیں ان میں درود اور سلام کا انھوں نے علیحدہ سے باب بنایا درود اور سلام پر انھوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں  کیونکہ یہ عمال ایسا ہے جہاں ہم سب کا  حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ 

    کیونکہ درودو سلام پڑھنے پر دلائل اور اس پر نظائر اور شواہد بھی زیادہ ہے اور پھر خاص طور پر جن لوگوں نے اپنی زندگی میں درود و سلام پڑھنے کا اپنا حصہ بنایا اور کثرت سے درودو سلام پڑھنے کا معمول بنایا انھیں جو فوائد ملے دنیا و آخرت کے جو نعمتیں ملیں اور پھر انھوں نے عجیب عجیب اللہ کے قدرت کے جو نظارے دیکھے ان پہ پھر علیحدہ سے کتابیں لکھیں گئیں اور تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا کہ جس نے جتنا زیادہ درود پڑھا جتنی محبت سے پڑھا انھیں اتنے ہی فائدے دنیا و آخرت میں دئے گئے۔

    رسول اللہ نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت فرماتا ہے اور درود وسلام پڑھنا ایک ایسا عمل ہے جس کی قبولیت میں ذرہ برابر شک نہیں ہے یاد رکھیں درود اور سلام پڑھنا آج ہر شخص مشکلات میں گھیرا، ہوا ہے ہر شخص پریشانی کے عالم میں ہے، ہر شخص لاعلاج امرض میں ہے، معاشی پریشانیاں ہیں، کاروباری پریشانیاں ہے، یاد رکھیں ان تمام پریشانیوں کا حال اللہ تبارک وتعالیٰ نے درود و سلام میں رکھا ہے اور درود اور سلام انسان کو اللہ نیک, بنا دیتا ہے اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے، اللہ کا قرب اس سے ملتا ہے اس لئے اپنے اوقات میں وقت نکال کر ہمیں ضرور درودو سلام پڑھنا چاہیے یہی ہماری آج پریشانیوں کا حل بھی ہے، ہماری مشکلات کی ایک  اکسیر، بھی ہے ہماری بیماریوں کے  لئے شفاء بھی ہے، اور بےشمار احادیث اس پر موجود ہے کہ دورود اور سلام پڑھنے والا کبھی بھی دنیا اور آخرت میں ناموراد نہیں رہتا۔

    @ImTaimurKhan

  • سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم شہزادی

    سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم رائے

    زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت نعمت ہے اور یہ نعمت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اسے بھرپور طریقے سے جیئیں، اب یہ لوگوں کا رویہ مختلف ہوتا ہے کہ اس کو کیسے بھر پور جینا ہے کیونکہ لفظ بھرپور کی تعریف سب کی اپنی اپنی ہے۔ کچھ لوگ اسے اللہ کی یاد میں کھو کر اسکے زکر سے لطف اندوز ہوکر جیتے ہیں تو کوئی ماڈرنزم کے نام پر مختلف بری عادات میں کھو کر جیتے ہیں۔ اللہ کی یاد میں گزاری زندگی نا صرف دنیا کے لیے بھرپور ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اجر و ثواب کی حقدار بنتی ہے جبکہ دنیوی عیش وعشرت میں کھو کر اور بری عادات میں کھو کر زندگی تو خراب ہوتی ہی ہے آخرت بھی برباد ہوتی ہے۔ ان بہت ساری معاشرتی برائیوں یا بری عادات میں ایک عادت سگریٹ نوشی تمباکو نوشی کی ہے جو ناصرف آپکی زندگی خراب کرتی ہے صحت خراب کرتی ہے بلکہ اپکی آخرت بھی خراب کرتی ہے کیونکہ یہ نشہ ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ پھر اسکا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ نا صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو برباد کرتی ہے بلکہ آس پاس لوگوں کو بھی بیمار کرتی ہے ماحول الودہ کرتی ہے۔ ماحول کی الودگی ٹریفک کی وجہ سے پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہے ساتھ اپنے ہاتھ سے دھواں سانس کے زریعے خود پھیپھڑوں میں اتارنا ہے۔ بلکہ ساتھ بیٹھے لوگوں کے اندر میں دھواں ٹرانسفر کرنا ہے۔ اس معاشرتی برائی کے معاشرتی پہلو الگ ہیں مذہبی الگ ہیں اور صحتی الگ ہیں۔ پہلے اسکے معاشرتی پہلو پر نظر ڈالیں تو ہمیں آج ایک بڑی تعداد اس میں مبتلاء نظر اتی ہے پھر بدقسمتی سے اس بچے ٹین ایج بچے تو شامل ہو ہی رہے ہیں ساتھ لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد اس، میں مبتلاء ہوچکی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے، ہمارا رہن سہن ہمارا معاشرتی ماحول ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور پھر ہمارا ماحول ہمارے مذہب سے جڑا ہے اور ہمارے مذہب میں تمباکو نوشی کی گنجائش ہی نہیں نکلتی ہے کیونکہ یہ نشہ میں شمار ہوتا ہے اور نشہ حرام ہے مذہب اسلام میں۔ قران شریف میں نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی الله عليه والہ وسلم حلال پاکیزہ طیب چیزوں کو حلال ٹھہراتے اور خبیث و ناپاک اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مکمل مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غلط اشیاء جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوں حرام و ناجائز ہیں۔ اور سگریٹ کے بارے میں تو طے شدہ بات ہے کہ یہ انتہائی مہلک اور مضر صحت ہے۔،سگریٹ کا بینادی عنصر تمباکو ہے جو بنگسن کی نسل سے ایک نباتات ہے جسے کھانے سے جانور بھی اجتناب کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سگریٹ میں بھر کر وہی زیر انسان خود اپنے ہاتھوں سے پھانکتا ہے۔اور اس کے مسلسل اور زیادہ استعمال کی وجہ سے انسان میں کئی نفسیاتی و جسمانی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے باوجود معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسے استعمال کرتا ہے۔اس رجحان کو کم کرنے کے لیے کئی رسالے مقالے اور سیمنارز ہوتے رہے کئی ممالک نے اس ہر پابندی بھی لگائی لیکن مکمل عملدرآمد نہیں کروا سکے۔ ایک اندزے کے مطابق تقریباً 6لاکھ سے زائد افراد اسکی وجہ سے موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اسی طرح غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے 40فیصد بچوں اور 33فیصد مردوں جبکہ 35 فیصد خواتین کی صحت کے گوناگوں خطرات لاحق ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں کی زد میں آکر امراض قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 79ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ایک لاکھ65 ہزار افراد سانس کی نالی کے انفیکشن جبکہ36 ہزار دمہ کے امراض اور 21ہزار 4سو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلاء ہیں۔ تمباکو میں موجود نیکوٹین جیسا زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلرز کو بری طرح متاثر کرتا ہے، نیکوٹین سے دل پھیپھڑے کے امراض کے علاوہ اعصابی امراض بھی جنم لے رہے ہیں اور خواتین میں اسکے استعمال کی وجہ سے ماں بننے کی صلاحیت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ڈاکٹر فہیم جو کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں ہوتے ہیں انکا کہنا ہے کہ شوکت خانم نا صرف کینسر کا علاج کررہا ہے بلکہ سگریٹ کے دھوئیں سے ہونے والے منہ کے کینسر انتڑیوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کے کینسر کے بچاؤ کے لیے باقاعدہ مہم چلاتا ہے آگاہی فراہم کرتا ہے بچاؤ کے طریقے بتاتا ہے۔ اور اس سال کورونا میں ہونے والی اموات میں زیادہ وہ لوگ شامل تھے جو کسی نا کسی طرح تمباکو کے عادی تھے کیونکہ کورونا کا بھی براہ راست اثر پھیپھڑوں پر ہوتا ہے اور جو پھیپھڑے پہلے ہی تمباکونوشی کے عادی تھے اور کمزور ہوچکے تھے ان پر جلدی اثر ہوا۔ڈاکٹر فہیم کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ سگریٹ یا تمباکو کے دھوئیں میں تقریباََ سات ہزار کیمیکل ہوتے ہیں جن میں آڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں اور پچاس سے زائد ایسےکیمیکل ہیں جو کینسر ک باعث بنتے ہیں۔ دھوئیں سے دل کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں سے منہ کا کینسر گلے کا کینسر اور خوراک کی نالی کے کینسر سر فہرست ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے متفقہ طور پر کینسر اور دل کی بیماریوں کو 54فیصد تمباکو کے دھوئیں کا باعث قرار دیا ہے۔ دھوئیں سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور بالاخر ہارٹ اٹیک تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے؟ حکومت ایسے پروگرام شروع کرے جس، میں عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول، کالج، یونیورسٹی کے طلباء بھر پور حصہ لیں۔نصاب میں اسکے نقصانات کو شامل کیا جائے اسے ایک سماجی برائی کے طور پر معاشرے میں متعارف کروایا جائے، عوام کو بتایا جائے کہ بیشک سگریٹ کے لیے کتنے ہی اچھے کمرشل بنیں لیکن آخر میں ساتھ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے کہ "خبردار تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت”۔ اس کے اخلاقی مذہبی اور صحت کےنقصانات کے حوالے سے آگہی دی جائے اس سے بچاؤ کے حوالے سے تجاویز دی جائیں صحت مند سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کی جائے کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنایا جائے خوارک کو صحت مند بنایا جائے تاکہ اس سماجی برائی کے صحت پر مضر اثرات کو کنٹرول کیا جاسکے اور ختم کیا جاسکے
    جزاک اللہ
    تحقیق وتحریر
    @irumrae

  • عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    خود اعتمادی خود پر پختہ یقین کا نام ہے یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتاہے ۔ خود اعتمادی کے لیے اہم عناصر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت،عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے خود اعتمادی ایک ایساجوہر ہے جو خود اعتماد شخص کے ذہن میں ایسی صفات پیدا کردیتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی آسان سمجھنے لگتا ہے اور اس کو مکمل کرنے لئے آخری حد تک اپنی کوشش کرتا ہےاور وہ ہر ذمہ داری کو قبول کرنے اور اس کے نبھانے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ایسے شخص کا چہرہ پر کشش، جازب نظر، گفتار بامعنی اور شخصیت پروقار ہوتی ہے
    یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار کی جاتی ہے جس کو خود پر اعتماد ہو وہ انسان اپنی منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اور اس کے آگے حائل ہونے والی رکاوٹوں سے نہیں ڈرتا ۔خود پر اعتماد کرنے والے لوگ نا صرف زندگی کے ہر میداں کامیاب ہوتے ہیں یہی خود اعتمادی ان کو مضبوط کرتی ہے۔
    خود اعتماد انسان کو اپنے کام اپنی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے مخالف حالات سے ان کے اداروں پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے ہم جیت جائے گے۔ ایسا انسان اپنی خود اعتمادی سے اپنی تقدیرخود بناتا ہے ہار کر بھی جیت کی تلاش میں رہتا ہے خود اعتماد شخص شیشے کی طرح شفافءت پسند ہوتا ہے وہ ناکامی کے بعد بھی اپنی کامیابی کی طرف امید سے دیکھتا ہے ۔

    خود اعتماد شخص ہمیشہ عزت نفس کا قائل ہوتا ہے بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے ان کو زندگی میں بلندی تک پہنچا دیا ہے بطور ایک باشعور خود اعتماد اور عزت نفس رکھنے والا شخص ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی موجودگی کی کوئی اچھی وجہ بنے رہے۔ ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں ہماری عزت برقرار رہے اور انہی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی عزت کو ہم اپنی قدر جانتے ہیں جو شخص خود اعتماد ہوتا ہے وہ عزت نفس کا بھی قائل ہوتا ہے۔
    اپنے اندر خود اعتمادی کیسے بھال کی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا احساس کریں۔ بعض اوقات ایسی چیزوں پر توجہ دیناآسان ہوتی ہے جنہیں آپ حاصل نہ کر سکے ہوں بہ نسبت ان چیزوں کے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چیزوں پر دھیان دے کر جو آپ حاصل نہیں کر سکے آپ آسانی سے اپنا اعتماد کھو سکتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مثبت رہیں۔ مثبت سوچے اچھا سوچے ہر کسی کی کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خوبیوں پر توجہ رکھیں۔ اپنی خوبیوں کا ادراک ہانا چائیے اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی خوبیوں کے مطابق ڈھالا جا ئے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا ہوتا ہے اور عزت نفس پیدا ہو گی۔خود اعتمادی ایک ایساوصف ہے جس کے بغیرکوئی بھی خواہ وہ کتنی بھی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خوداعتمادی ایک صحت مند شخصیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہےخود اعتمادی ہو توزندگی خوشگوار بن جاتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے کامیابی کی بلند ترین منزلوں کو حاص کرنا آسان ہوتا ہے۔
    آخر میں، اپنی خود اعتمادی کی تعمیر کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرتی رہنی چاہیے اور چھوٹا موٹا خطرہ مول لیتے ہوئے ایسے کام کرنے چاہیئں ہار نہیں منانی چائیے ہار کر بھی جیت کی کوشش جاری رکھنی چاہیئے ایسے کام جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے ہوتے۔ ہر نئے کام کے اندر ایک چیلنج پوشیدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے چیلنجوں کی وجہ چاہے ہم اس کام کو کرنے میں ناکام رہیں، لیکن ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • فرانس کے سابق فٹبالر 40 سال کوما میں رہنے کے بعد چل بسے

    فرانس کے سابق فٹبالر 40 سال کوما میں رہنے کے بعد چل بسے

    پیرس: افرانس کے سابق فٹبالرجواں پیئرے ایڈمز 40 سال کوما میں رہنے کے بعد 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق جواں پیئرے ایڈمز نے 70 کی دہائی میں 22 بین الاقوامی میچوں میں حصہ لیا تھاآنجہانی فٹبال 1982 میں اس وقت کوما میں چلے گئے تھے جب ان کے گٹھنے کا معمولی آپریشن کرنے کے لیے اینستھیزیسٹ نے غلطی کی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اینستھیزیسٹ نے اس دن غلطی یہ کی تھی کہ ایڈمز کے لیے اپنے ایک ٹرینی کو چھوڑ دیا تھا کیونکہ اسپتال کے عملے کی ہڑتال کے باعث ان پر 8 دیگر مریضوں کی بھی ذمہ داری تھی۔

    آنجہانی فٹبالر کے کوما میں جانے کی وجہ سے مقدمہ درج ہوا تھا اور 90 کی دہائی میں دونوں پر فرد جرم عائد کی گی تھی۔ عدالت کی جانب سے دونوں کو ایک ماہ کی سزا دی گئی تھی اور 890 ڈالرز کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

    کوما میں جانے والے فٹبالر نے 15 ماہ اسپتال میں گزارے تھے جس کے بعد ان کی دیکھ بھال کی تمام ذمہ داری اہلیہ برنیڈیٹ نے ادا کی تھی۔

    آنجہانی فٹبالر کے دو بیٹے ہیں ان کی بیوہ نے 2016 میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسپتال نے ان سے کبھی معذرت تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔