Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان .تحریر: بنتِ سیّد

    شانِ پاکستان .تحریر: بنتِ سیّد

    شانِ پاکستان
    تحریر: بنتِ سیّد
    اگست 1947 کو اس کرۂ ارض پر ایک ماں، ایک نئی شناخت "پاکستان” کا وجود ظہور میں آیا۔ ایک ایسی دھرتی ماں جس کے وجود کے حصول کے لیے اس کے سپوتوں نے انتھک کوشش و جدوجہد کی۔ اس دھرتی ماں کے قیام کو اس کے بیٹوں اور بیٹیوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچا؛ تب کہیں جا کر دنیا کے ہر کونے میں ایک لفظ "پاکستان” کی بازگشت گونجی۔ یہی شانِ پاکستان ہے کہ دھرتی ماں "پاکستان” جب دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آیا تو اس کے سپوتوں نے اپنی مٹی کی آغوش میں اپنے تمام تر تھکن و آزمائش کو بھلا کر سکھ کا سانس لیا، اور نئے سرے سے پُرعزم ہو کر وطنِ عزیز کی شان کو بلند سے بلند تر کرنے کے لیے کوشاں ہو گئے۔

    پاکستان کو منزلِ اوج عطا کرنے کا سفر کبھی آسان نہیں تھا۔ آزمائشوں کا یہ سفر جستجو و امید کی پرواز لیے ہوئے تھا، اور جو چیز اسے زمانے میں بے مثال و یکتا بناتی ہے، وہ اس کے قیام کی تہذیبی، تاریخی و روحانی داستان ہے۔ وہ نظریہ تھا جس نے خواب کو تعبیر کا پیرہن پہنانے کے لیے ہمت، استقلال اور مردانہ وار جدوجہد سے پہلی اینٹ رکھی، اور قوم کی ڈھارس بندھائی۔

    آغازِ سفر کھٹن تھا، خاردار راستوں اور مزاحمتوں سے بھرا ہوا— لیکن یہ قوم و ملت کی بقا کی جنگ تھی، جسے قوم و ملت نے اپنے عزم و اتحاد سے بھرپور انداز میں عبور کیا۔ ابتدا میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے اس نئے وجود کو جو مسائل پیش آئے، ان میں آئین سازی، مہاجرین کی آبادکاری، معاشی و تعلیمی بحران جیسے امتحان سرفہرست تھے۔

    اپنے وجود کی سالمیت کو لے کر پاکستان نے اٹھہتر (78) سالوں میں جو مسلسل جدوجہد کی، وہ "شانِ پاکستان” کی مکمل عکاسی ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک زمینی خطے کی بقا کو قائم رکھنا نہیں تھا، بلکہ اس نظریے اور فکر کا تحفظ اور ان کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جن کے پس منظر میں ہمارے آباؤ اجداد کا لہو شامل رہا۔ اس جدوجہد میں خوش آئند بات یہ رہی کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے اس امر میں اپنا فعال کردار ادا کیا، اور یوں "شانِ پاکستان” کا اعزاز ہر دور میں پاکستان کے محسنوں کی دھڑکن اور عوام کے لبوں پر زندہ رہا۔

    ملک ہماری حرمت، ہماری جان و آن ہے
    پاکستان شان ہماری، ہم شانِ پاکستان ہیں

    نامساعد حالات اور منتشر جذبات کے باوجود قوم نے عزم و استقلال سے ہر بیرونی ناپاک سازش کا قلع قمع کیا۔ 16 دسمبر 1971 کو اپنے وجود کا ایک اہم حصہ کھونے کے بعد پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ کی مضبوط منصوبہ بندی شروع کی، اور 28 مئی 1998 کو "محسنِ پاکستان” ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دانشوری و علمی فیض سے اسلامی ممالک میں پہلی اور عالمی سطح پر ساتویں ایٹمی طاقت کا اعزاز اپنے نام کیا۔

    عمل و جدوجہد کا سفر رکا نہیں، بلکہ مزدور و کسان، محققین، ماہرین، سائنس دان، اطباء، وکلاء، فنکار، ادیب، شعرا اور طلبہ ہر وقت ملک کی ترقی و سالمیت کے لیے پیش پیش رہے۔

    زندگی سے وابستہ ہر شعبے میں پاکستان نے اپنے شہریوں اور ہر دلعزیز کھلاڑیوں کے ذریعے نام کمایا۔ کرکٹ کے میدان میں 1992 میں عمران خان کی قیادت میں عالمی ٹرافی پاکستان کے حصے میں آئی۔ اپنی فاسٹ اور منفرد بالنگ کے ذریعے وسیم اکرم "سلطان آف سوئنگ” کہلائے۔ وہی شاہد آفریدی نے اپنی بیٹنگ کے ذریعے دلوں پر راج کیا۔

    ہاکی کے میدان میں پاکستان نے تین اولمپک میڈلز اپنے نام کیے، اور ان فتوحات میں شہباز احمد سینیئر کا نام جہاں سرفہرست ہے، وہیں "فلائنگ ہارس” سمیع اللہ خان اپنی برق رفتاری سے دشمن کی صفیں اڑا دیتے تھے۔ اسکواش کی دنیا میں جان شیر خان، جہانگیر خان جیسے عالمگیر کھلاڑیوں کے ذریعے پاکستان نے پانچ دہائیوں تک حکمرانی کی۔

    2024 میں نیزہ بازی کے میدان میں عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھا کر ارشد ندیم نے پاکستان و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، اور یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

    تعلیم کے میدان میں ڈاکٹر عبدالسلام نے پہلے پاکستانی کی حیثیت سے نوبیل انعام وصول کر کے قوم کا وقار بلند کیا۔ طب کے میدان میں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے محسنِ انسانیت نے خدمت کا عظیم نمونہ پیش کیا۔ آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی کم عمر ارفع کریم (مرحومہ) نے پاکستان کو منفرد انداز میں عالمی شناخت عطا کی۔

    ان سب کے علاوہ عبدالستار ایدھی کا نام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں "ایمبولینس سروس” کی وجہ سے قابلِ ذکر ہے۔ آج بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں بے شمار گمنام لوگ ملک کی بقا، سالمیت اور انسانیت کی خدمت کے لیے محوِ عمل ہیں، اور یہی اصل "شانِ پاکستان” ہے۔

    شانِ پاکستان کا ذکر ہو تو کسی قیمت پر پاکستان کی عسکری قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا کردار محض سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ملک کے عالمی وقار و بقا کے لیے اہم اور فیصلہ کن رہا ہے۔ جذبۂ شہادت اور ایثار و قربانی سے لبریز 1948، 1965، 1971، 1999 کی جنگوں میں پاک فوج کے نوجوانوں نے جان کا نذرانہ دے کر اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کا دفاع کیا ہے۔

    آپریشن راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اہم فوجی آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردی کی کمر توڑی بلکہ دنیا کو بھی پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا۔ قدرتی آفات، زلزلے، سیلابوں اور وباؤں کے دور میں ہمیشہ ریلیف کیمپس کے ذریعے افواجِ پاکستان قوم کے شانہ بشانہ رہی ہے۔

    موجودہ وقت میں جب پڑوسی دشمن ملک نے پاکستان کو جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے صفحۂ ہستی سے مٹانے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو عسکری قیادت نے نہایت مدبرانہ انداز میں اس پر پیش رفت دکھائی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کے ذریعے دشمن اور دنیا کو پیغام دیا کہ ہم اپنا دفاع کرنا نہ صرف جانتے ہیں بلکہ جب جوابی کارروائی کے لیے سامنے آتے ہیں، تو اس کی گونج اور چمک پوری دنیا کو سنائی اور دکھائی دیتی ہے۔

    اس ساری صورتِ حال میں عوامِ پاکستان کا جذبہ بھی دیدنی تھا۔ دشمن کے ناپاک عزائم نے قوم میں دوبارہ وہ روح اور جذبہ پھونک دیا تھا جو قیام کے وقت ان کے آباء میں تھا۔ تمام تر اندرونی رنجشوں کو مٹا کر قوم مثبت جذبے کے ساتھ باہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت سے، اور مثبت سوچ و فکر کے ساتھ ابھر کر آئی تھی، اور دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ یہی "شانِ پاکستان” ہے — ہم باہم ہیں، ایک ہیں، اور متحد ہیں۔

    پاکستان بنا ہے قائم رہنے کے لیے۔ بھلے کسی کو ایک آنکھ نہ بھائے، پاکستان تھا، پاکستان ہے، اور تا قیامت رہے گا، ان شاء اللّٰہ عزوجل۔

    جذبہْ خودی رہا ہے تیرا مقدرِ جہاں
    زمانے میں بلند سدا شانِ پاکستاں

  • ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے

    ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے

    ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    نسیم حجازی کا شہرہ آفاق ناول خاک اور خون برصغیر کے مسلمانوں کی اس عظیم قربانی کا ادبی مرثیہ ہے جو انہوں نے 1947 کی تقسیمِ ہند کے دوران پیش کی۔ یہ محض ایک تخیلی داستان نہیں بلکہ حقیقت کے ایسے ٹکڑوں کا ادبی امتزاج ہے جنہیں مصنف نے کرداروں، مکالموں اور جذبات کے ذریعے زندہ کر دیا۔ اس میں قتل و غارت کے مناظر، قافلوں پر ہونے والے حملے، عورتوں کی عزتیں پامال ہونے کے واقعات اور بچھڑنے والے خاندانوں کا کرب اس شدت سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو اس زمانے کے دل دہلا دینے والے حالات میں محسوس کرتا ہے۔ ناول میں ایک اشارہ اس طرف بھی ملتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سازشوں، ذاتی تعلقات اور خفیہ سودوں نے پاکستان کی سرحدوں کو اس طرح بدل دیا کہ کئی مسلم اکثریتی علاقے آخری لمحوں میں بھارت کے حصے میں چلے گئے۔ انہی علاقوں میں فیروز پور اور گورداسپوربھی شامل تھے جن کا پاکستان سے چھن جانا نہ صرف اس وقت ایک صدمہ تھا بلکہ اس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

    قیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی تقسیمِ ہند کے اصول طے ہوئے کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور غیر مسلم اکثریتی علاقے بھارت کا حصہ بنیں گے۔ 3 جون 1947 کو مانٹ بیٹن پلان کے مطابق پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے لیے باؤنڈری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی برطانوی جج سر سائریل ریڈ کلف کو دی گئی۔ یہ شخص اس خطے سے بالکل ناآشنا تھا اور اسے صرف پانچ ہفتوں میں سرحدی لکیر کھینچنے کا مشکل ترین کام سونپا گیا۔ کاغذ پر اصول سادہ تھا، مگر زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔ فیروز پور ایک مسلم اکثریتی ضلع تھا جس کی آبادی 51 فیصد سے زائد مسلمان تھی۔ یہ ستلج دریا اور نہری نظام کے کنٹرول کی وجہ سے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا۔ گورداسپور بھی چار تحصیلوں پر مشتمل تھا جن میں سے تین میں مسلمان اکثریت میں تھے اور اس کی جغرافیائی پوزیشن بھارت کو کشمیر تک براہِ راست زمینی راستہ دیتی تھی۔

    تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ریڈ کلف کے ابتدائی مسودے میں دونوں اضلاع پاکستان کو ملنے والے تھے۔ اگست 1947 کے پہلے ہفتے میں تیار ہونے والے نقشوں میں فیروز پور مکمل طور پر اور گورداسپور کی تین تحصیلیں پاکستان میں شامل تھیں۔ لیکن 12 اگست کو صورتحال بدل گئی۔ بعض مورخین کے مطابق اس تبدیلی کا پس منظر نہرو اور وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کی ملاقاتوں سے جڑا تھا۔ ان ملاقاتوں کا ذکر کئی برطانوی اور بھارتی ذرائع میں ملتا ہے اور ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کے قریبی تعلقات کو بھی ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ الیسٹر لیمب اور اسٹینلی وولپرٹ جیسے محققین نے لکھا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے اس موقع پر جانبداری کا مظاہرہ کیا جبکہ ایڈوینا اور نہرو کے تعلقات برطانوی ایوانِ اقتدار میں ایک غیر رسمی مگر اثر انگیز چینل کے طور پر کام کرتا رہا۔

    یہ بات مصدقہ ہے کہ 6 سے 8 اگست کے درمیان تیار ہونے والے ابتدائی ڈرافٹ اور 12 اگست کے بعد سامنے آنے والے حتمی فیصلوں میں واضح فرق تھا۔ فیروز پور اور گورداسپور کے نقشے بدل دیے گئے اور دونوں اضلاع کو بھارت میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ باضابطہ وجہ یہ بتائی گئی کہ گورداسپور کو بھارت دینے سے فوجی اور انتظامی ضروریات پوری ہوں گی اور فیروز پور کے معاملے میں ستلج کے ہیڈ ورکس کا کنٹرول بھارت کے پاس جانا بہتر ہے۔ لیکن یہ وضاحت کمزور تھی کیونکہ ایسی ضرورتیں ابتدائی ڈرافٹ میں کیوں نظر نہیں آئیں، اس کا جواب کبھی تسلی بخش نہیں دیا گیا۔

    14 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت کی آزادی کا اعلان ہوا، مگر باؤنڈری کمیشن کے فیصلوں کا اعلان تین دن بعد17 اگست کو کیا گیا۔ اس تاخیر کا مقصد یہ بتایا گیا کہ نئے ملکوں کے اعلان کے وقت کشیدگی کو کم رکھا جائے، لیکن بعض محققین کے مطابق یہ تاخیر بھارت کو کشمیر کے لیے زمینی راستے کی تیاری کا وقت دینے کے لیے تھی۔ جب فیصلے سامنے آئے تو گورداسپور کی تین تحصیلیں پٹھان کوٹ، گورداسپور اور بٹالہ بھارت کو مل گئیں، صرف شکر گڑھ پاکستان کو دیا گیا۔ فیروز پور مکمل طور پر بھارت کو چلا گیا۔ یہ فیصلہ آبادی کے اصولوں کے برخلاف تھا کیونکہ دونوں علاقوں میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی۔
    ان فیصلوں کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے۔ اکتوبر 1947 میں بھارت نے گورداسپور کے راستے فوجی نقل و حرکت شروع کی اور یہی راستہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے داخلے کا بنیادی ذریعہ بنا۔ فیروز پور کے بھارت کو ملنے سے پاکستان کا ستلج دریا اور نہری نظام پر کنٹرول کمزور پڑ گیا اور یہ مسئلہ بعد میں پانی کی تقسیم کے تنازع میں ایک اہم فیکٹر بن گیا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں نے ان فیصلوں کو ماؤنٹ بیٹن کی جانبداری اور برطانوی حکومت کے خفیہ ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔ چوہدری محمد علی، ڈاکٹر صفدر محمود اور شریف المجاہد جیسے مورخین نے بارہا لکھا ہے کہ یہ تبدیلی محض انتظامی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی اور ذاتی تعلقات کے پس منظر میں کی گئی۔

    خاک اور خون میں ان فیصلوں کو براہِ راست نہیں لیکن اشاروں کنایوں میں بیان کیا گیا ہے۔ نسیم حجازی نے یہ پیغام دیا کہ آزادی کا سورج ایک ایسے افق سے طلوع ہوا جس پر سازشوں کا سایہ تھا۔ لاکھوں مسلمانوں نے جان، مال اور عزت قربان کر کے پاکستان کا خواب پورا کیا، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چند افراد کے فیصلوں نے کئی مسلم اکثریتی علاقے چھین لیے۔ ناول کے کردار قاری کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ سرحدیں کاغذ پر نہیں بلکہ خون اور قربانی سے بنی ہیں اور جو حصے پاکستان کو ملنے چاہیے تھے وہ بھی بعض پوشیدہ ہاتھوں نے چھین لیے۔

    فیروز پور اور گورداسپور کی بھارت کو منتقلی محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کشمیر کا تنازع پیدا ہوا بلکہ پانی کے وسائل پر بھی مستقل کشیدگی قائم ہو گئی۔ پاکستان آج بھی اس فیصلے کو ایک تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے۔ یہ بحث آج بھی زندہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ ذاتی تعلقات کا نتیجہ تھا، برطانوی سامراجی پالیسی کا تسلسل تھا یا بین الاقوامی سیاست کی ایک بڑی بساط کا حصہ۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ 1947 میں ان اضلاع کا بھارت میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ایک ایسا زخم بن گیا جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا گیا۔ یہ زخم آج بھی قومی یادداشت میں محفوظ ہے اور نسیم حجازی جیسے ادیبوں کے قلم نے اسے امر کر دیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ پاکستان کا حصول صرف ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سفر تھا جو قربانی، سازش اور صبر کے امتزاج سے مکمل ہوا۔

    آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ یہ ہماری نوجوان نسل اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ان تمام لوگوں کے لیے ایک گہرا پیغام ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک انہیں کسی پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا تھا۔ خاک اور خون کے ہر صفحے سے یہ صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد لاکھوں شہدا کے خون، بے شمار ماؤں کی قربانیوں اور بچھڑ جانے والے خاندانوں کے آنسوں پر رکھی گئی ہے۔ فیروز پور اور گورداسپور کا پاکستان سے کاٹ کر بھارت کو دینا محض ایک نقشے کی لکیروں کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ہماری تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب سازش اور طاقت کی بساط پر قربانی کے اصول روند دیے گئے۔ آج اگر ہم اپنی سرحدوں، وسائل اور خودمختاری کی حفاظت میں غفلت برتیں تو یہ انہی قربانیوں کی توہین ہوگی۔ نوجوانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی ایک امانت ہے اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہر شخص کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک کی حفاظت اور بقا کے لیے وہی جذبہ، وہی جرات اور وہی یکجہتی درکار ہے جو 1947 میں لاکھوں گمنام شہدا نے دکھائی۔ پاکستان کسی خیرات میں نہیں ملا، یہ ایک قرض ہے جو ہم پر واجب الادا ہے اور جسے ہمیں آنے والی نسلوں تک عزت، وقار اور مضبوطی کے ساتھ منتقل کرنا ہے۔

  • پوری قوم کا پرچم

    پوری قوم کا پرچم

    پوری قوم کا پرچم
    تحریر: سید سخاوت الوری
    جشنِ آزادی اور دیگر تقریبات پر قومی پرچم اور جھنڈیوں کے احترام کے سلسلے میں چند احتیاطی تدابیر بیان کی جا رہی ہیں۔ اگر ان پر عمل کر لیا جائے تو جہاں قومی پرچم کے وقار و احترام میں اضافہ ہوگا، وہاں اس کی قدر و منزلت میں بھی اضافہ ہوگا۔

    پاکستانی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے تیار کیا جبکہ بابائے قوم کے حکم پر اسے سینے کا اعزاز ماسٹر الطاف حسین کو حاصل ہوا۔ (ماسٹر الطاف حسین کو قائداعظمؒ اور دیگر زعمائے تحریکِ پاکستان کے کپڑے، سوٹ اور شیروانی سینے اور خصوصی حفاظتی محافظ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔)

    پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں جبکہ سبز رنگ مسلم اکثریت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے درمیان چاند ترقی کا مظہر اور پنج گوشہ ستارہ روشنی اور علم کی نمائندگی کرتا ہے۔ قومی ترانے میں اسے "پرچمِ ستارہ و ہلال” کہا گیا ہے۔ اس پرچم کی منظوری قائداعظم محمد علی جناح نے دی تھی۔

    عمارتوں پر جو قومی پرچم لہرایا جاتا ہے اس کی لمبائی چوڑائی عموماً 6 فٹ × 4 فٹ یا 3 فٹ × 2 فٹ ہوتی ہے۔ کاروں پر لہرائے جانے والے پرچم کا سائز 12 انچ × 8 انچ ہوتا ہے۔ یہ بات عام عوام کو معلوم نہیں، حالانکہ ابلاغِ عامہ کے تمام ذرائع (پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا)، کیبل اور اخبارات و جرائد کے ذریعے عوام کو بتانا چاہئے کہ قومی پرچم محض کاغذ یا کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ قوم و ملک کی وحدت، عظمت، وقار اور خودمختاری و آزادی کا مظہر ہے۔

    قومی پرچم کے احترام کے لئے احتیاطی تدابیر
    جشنِ آزادی کے دنوں میں بچے شوق سے گھروں پر قومی پرچم لہراتے اور جھنڈیوں سے سجاتے ہیں، لیکن جب تقریبات ختم ہوجائیں تو انہیں لپیٹ کر احتیاط سے محفوظ رکھ دیا جائے۔ اسی طرح جھنڈیاں بھی اُتار کر محفوظ کر لی جائیں۔

    گلیوں اور بازاروں میں بھی یہی عمل ہونا چاہئے، کیونکہ عام طور پر جھنڈیاں پیروں تلے روندی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ جشن کی تقریبات ختم ہوتے ہی انہیں اُتار دیا جائے۔

    شہری انتظامیہ بینرز اور جھنڈیوں کو بعد میں اُتارتی ضرور ہے، لیکن یہ کام فوری طور پر ہونا چاہئے تاکہ بارش، آندھی یا تیز ہوا سے یہ ٹوٹ کر سڑک پر نہ گریں۔

    قومی پرچم اور جھنڈیاں پرنٹ کرتے وقت اس کا معیار مدنظر رکھا جائے اور مقررہ رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ میں پرنٹ نہ کیا جائے۔ اس کے حقیقی ڈیزائن اور سائز کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ قومی پرچم پر لوگ اپنے پسندیدہ لیڈرز کی تصاویر بھی لگا دیتے ہیں، یہ بھی قومی پرچم کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ قومی پرچم کے اوپر کچھ اور چھاپا یا لکھا نہیں ہونا چاہئے۔

    تاریخی پس منظر
    تاریخی اعتبار سے پاکستانی قوم کی وابستگی اور بنیادی نقوش کا تعلق اس پرچم سے ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں اس موقع پر لہرایا گیا تھا جب وہاں برصغیر کی مختلف تنظیموں کے قائدین کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا، جس کے نتیجے میں مسلمانانِ ہند کی اوّلین سیاسی جماعت "آل انڈیا مسلم لیگ” تشکیل پائی۔

    ڈھاکہ میں جو پرچم استعمال کیا گیا اس کا رنگ سبز تھا اور درمیان میں ہلال و ستارہ تھا۔ قیامِ پاکستان سے قبل پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 11 اگست 1947ء میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ خان لیاقت علی خان نے قومی پرچم باضابطہ طور پر منظوری کے لئے پیش کیا۔

    اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
    "جنابِ والا! یہ پرچم کسی ایک پارٹی یا ایک طبقے کا پرچم نہیں، یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے اور کسی بھی قوم کا پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، اس کی خصوصیت اس کے کپڑے میں نہیں بلکہ ان اصولوں پر ہوتی ہے جن کا یہ حامل ہے اور میں بلا خوف کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی پرچم اپنے وفاداروں اور اطاعت گزاروں کی آزادی، خودمختاری اور مساوات کا پاسبان رہے گا۔ یہ پرچم ہر شہری کے جائز حقوق کا تحفظ کرے گا۔ انشاء اللہ”

  • ایمان اتحاد تنظیم وقت کی اہم ضرورت ۔تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری

    ایمان اتحاد تنظیم وقت کی اہم ضرورت ۔تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری

    ہم نے قائد اعظم کے دیگر بہت سے اقوال کے ساتھ ساتھ اس قول پر بھی جتنا عمل کیا ہے اس کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ آج پاکستانی عوام اس کو بھگت رہی ہے ۔اب تک ہمارے رہنماوں (مذہبی ہوں یا سیاسی)کی اکثریت نے نفرت کے بیچ ہی بوئے ہیں جس کی فصل پک کر اب تیار ہو چکی ہے۔ایمان ،اتحاد ،تنظیم کی افادیت کو سوائے چند ایک رہنماوں کے کوئی اس کو اہمیت نہیں دے رہا ایمان امید ہے ،ایمان امنگ ہے ،ایمان یقین محکم ہے ۔دل قوت ایمان سے اگرمعمور ہو تو انسان ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کر سکتا ہے ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے ، اللہ سبحان تعالی کی رحمت کی امید کہ وہ محنت کی جزا دے گا اور اللہ سبحان تعالی کی سزا کا خوف جو بداعمالی ،سستی سے ناکامی کی صورت میں مل سکتی ہے ۔یہاں یہ نکتہ بھی ہے کہ خوف ہو گا تو مزید محنت ہوگی احتیاط ہو گی ۔اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ (مفہوم حدیث ﷺ ) ایمان کے تین درجے ہیں پہلا یہ کہ اگر کوئی شخص کسی برائی کو ہوتا دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے دوسرا یہ کہ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے روکے تیسرا یہ کہ اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے نچلا درجہ ہے ۔آج پھرپاکستان بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے ۔ چیونٹی کتنی کمزورہوتی ہے لیکن یہ مل کر اپنے سے کئی گنا بڑے مردہ جھینگر کو آسانی سے گھسیٹ لے جاتی ہیں۔ اس طرح جن لوگوں میں اتحادواتفاق یکسانیت اور یگانگت ہوتی ہے وہ مشکلات کے پتھروں کو اپنی یکجہتی کی ضربوں سے پاش پاش کر دیتے ہیں۔ اتحاد واقعی طاقت ہے۔ اسلام اتحاد کا پیام لایابھائی چارہ کا درس دیا بلکہ اس پر عمل بھی کیا ، اسلام کے ارکان اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔ نماز تمام امتیازات کو مٹا کر اتحاد کا سبق دیتی ہے۔ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے محمودو ایاز والا منظر بن جاتا ہے۔حج مسلمانان عالم میں اتحاد عمل کی روح پھونکتا ہے اورتبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ میں تمام مسلمان ایک وقت سحری و افطاری کرتے ہیں ۔اور نماز تراویح کا ایک ساتھ ادا کرنے سے محلے،گاوں میں اتحاد و تفاق پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم میں اتحاد کی کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ارکان اسلام کو پابندی سے ادا نہیں کرتے ۔ دین اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر اگر دنیا میں دیگر مذاہب اور دیگر تمام مکتب فکر کی بات کریں دیکھیں تو وہاں بھی یہ معلوم ہو گا کہ قومیں اتحاد ہی کی بدولت کامیاب و فتح مند ہوتی ہیں۔ اور دوسری طرف قومی اتحاد کی تباہی میں جو عناصر ہیں ان میں ذاتی فائدہ، مطلب پرستی، اقتدار کی ہوس مال و زر اور قوم پرستی زر پرستی وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی کہلاتے ہیں۔صحابہ نے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کر دیکھایا کہ تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک تم دوسرے کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے کرتے ہو(مفہوم حدیث) اسلام کی ابتدائی فتوحات میں قومی اتحاد ایک خاص اہمیت کا حامل تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس اتحاد میں کمی واقع ہوتی گئی۔اس کی وجوہات میں دشمنوں کی شازش کے ساتھ ساتھ اپنوں کی مہربانیاں بھی شامل ہیں حتی کہ صورت حال خانہ جنگی تک جا پہنچی ہے۔ خانہ جنگی میں جتنا اپنوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ دشمنوں سے نہیں پہنچتا۔ اگر پاکستانی قوم اپنے قائد کے فرمان اتحاد ،ایمان،تنظیم پر ہی عمل کر لیتی تو موجودہ نااتفاقی کی صورت حال کبھی پیدا نہ ہوتی آج ہماری قوم کا نااتفاقی پر اتفاق ہے اور اتحاد پر اختلاف ہے۔تنظیم ،ڈ سپلن اور نظم و ضبط انسانی کر دار کا سرمایہ ہوتا ہے تنظیم میں برداشت کرنا ،صبر کرنا انتظار کرنا وغیرہ کے عناصر ہوتے ہیں ۔اسلامی احکام و فرائض کو دیکھیں تو نظم و ضبط کا حیرت انگیز منظر نظر آتا ہے ۔ نماز کو ہی لیں ،وقت ،ترتیب ،قطار،ایک ساتھ قیام ،رکوع،سجدہ اور سلام وغیرہ ۔دکھ کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت میں قطار بنانا،صبر کر کے اپنی باری کا انتظار کرنا ،ڈسپلن و ترتیب سے کام کرنا نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کے بر عکس ترقی یافتہ ممالک (جن کی اکثریت کی غیر مسلم ہے)میں دیکھیں تو آپ کو ہر کام ترتیب ،ہر شخص میں نظم و ضبط نظر آتا ہے ۔ان کی ترقی کا یہی راز ہے اور ہم ایک آزاد ملک کے باسی ہیں اس لیے ایسی پابندیوں سے آزاد ہیں پھر اس پر فخر بھی ہے اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ اس کا احساس بھی نہیں ہے ۔ آپ پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ لیں ہر طرف افراتفری ہے ،نفسانفسی ہے ، سارے غیر مسلموں نے مل کر نیٹو فوج بنائی ، کرنسی ایک کی ،اوراتحاد میں جو فائدے ہیں ان کا ثمر بھی اک عرصے سے ان کو مل رہا ہے دنیا پر ان کی حکمرانی ہے ۔ ایمان ،اتحاد ،اتفاق اور تنظیم وغیرہ کی باتیں اب ہماری نصابی کتب میں ہی رہ گئی ہیں ، جسے پڑھ پڑھ کر ہم بور ہو چکے ہیں اورعوام و خواص کے کن پک گئے ہیں ایمان ،اتحاد تنظیم کی باتیں سن سن کر ۔ اس لیے بھی آپ کو مزید بور نہیں کرتے اور اس دعا کے ساتھ کالم کا اختتام کرتے ہیں کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے خدا اے کار ساز تو ہی ہماری قوم و ملک کو ہدایت دے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرما ۔اسے تمام آفات سماوی و اراضی سے محفوظ رکھ۔اے ہمارے اللہ ہمارے حکمرانوں ،اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قائد اعظم کے اس قول ایمان ،اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے کی تو فیق دے ۔

  • کمیٹی کمیٹی کا کھیل

    کمیٹی کمیٹی کا کھیل

    کمیٹی کمیٹی کا کھیل
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں آج کل ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ حکومتی اعلانات کی گونج ہوا میں بلند ہوتی ہے، لیکن جب بات عوام تک پہنچتی ہے تو وہ محض ایک سراب بن کر رہ جاتی ہے۔ آج کی ایک بڑی خبر یہ ہے کہ "پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے دائرہ کار میں توسیع پر غور، حد 301 یونٹ رکھنے کی تجویز” زیرِ بحث ہے۔ یہ خبر سن کر ایک لمحے کے لیے دل کو تسلی ہوئی کہ شاید اب غریب اور متوسط طبقے کو کچھ ریلیف ملے گا، لیکن جیسے ہی اس خبر کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا تو یہ محض ایک اور بلند بانگ دعویٰ لگا،جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

    وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے گی۔ یہ خوشخبری موبائل فون پر کال ملنے پر ان کی آواز میں سنائی گئی کہ بجلی سستی کر دی گئی ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ نیا سلیب سسٹم متعارف کر کے بجلی کے بلز میں اضافہ کر دیا گیا، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے خون کے آخری قطرے کو بھی نچوڑ لیا۔ اسی طرح چینی کی قیمتوں پر نوٹس لیا گیا، کمیٹیاں بنائی گئیں، دکھاوے کی کارروائیاں کی گئیں اور اعلانات کی حد تک چینی سستی ہو گئی۔ لیکن بازاروں میں چینی اب بھی 200 روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں۔ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہوئیں، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق مافیا نے اس کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک بار کسی چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ پھر کبھی کم نہیں ہوتی، چاہے عالمی منڈی میں اس کی قیمت چند سینٹ ہی کیوں نہ رہ جائے۔

    اب بات کرتے ہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی توسیع کی تجویز کی۔ خبر کے مطابق وزیراعظم نے پروٹیکٹڈ صارفین کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لے کر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 201 یونٹ سے بڑھا کر 301 یونٹ کرنے پر غور کرے گی۔ موجودہ نظام کے تحت اگر کوئی صارف 201 یونٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے، تو وہ اگلے چھ ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جاتا ہے اور اسے ماہانہ تقریباً 5 ہزار روپے اضافی بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اراکینِ اسمبلی نے بھی اسے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے کہ صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے اگلے چھ ماہ تک اضافی بل ادا کرنا پڑے۔

    یہاں وزیراعظم شہباز شریف کے لاڈلے اور ہونہار وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی پھرتیوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ان کی غیر دانشمندانہ اور عوام دشمن پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کے لیے نوشتہء دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے بجلی کے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے، خاص طور پر پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے حوالے سے 201 یونٹ والی سلیب، جو وزارتِ توانائی اور نیپرا کی جانب سے جان بوجھ کر نافذ کی گئی، ایک ایسی پالیسی ہے جس نے غریب صارفین کی کمر توڑ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف صارفین کے لیے ظالمانہ ہے بلکہ اس سے حکومتی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اویس لغاری کا سیاسی ماضی بھی گواہ ہے کہ وہ جہاں ہری گھاس دکھائی دیتی ہے، وہاں جمپ لگانے میں دیر نہیں کرتے۔ ان کی پارٹی بدلنے کی تاریخ اس بات کی عکاس ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ بات حیران کن نہیں کہ ان کی موجودہ پالیسیاں بھی عوام کے بجائے ذاتی یا گروہی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کا نتیجہ لگتی ہیں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے گی اور کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ تجویز ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 200 یونٹ سے بڑھا کر 300 یونٹ کیا جائے، یا کم از کم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 201 یونٹ استعمال کرنے کی صورت میں صرف اسی ماہ کے لیے نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہو، نہ کہ اگلے چھ ماہ تک۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کے وزیرتوانائی ہوتے ہوئے، بننے والی یہ پالیسیاں اور کمیٹیاں کیا واقعی عوام کو ریلیف دے سکیں گی؟ یا یہ بھی محض ایک اور دکھاوا ثابت ہوگا؟

    یہ تمام صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہےکہ کیا یہ سب کچھ واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، یا یہ محض ایک اور دکھاوا ہے؟ موجودہ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کرتی ہے، لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو عوام کو وہی پرانی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والا صارف عموماً کم آمدنی والا ہی ہوتا ہے۔ ایسے صارفین کے لیے بجلی کے بلز میں اضافہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ اگر حکومت واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے نہ صرف پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد بڑھانی چاہیے بلکہ اس نظام کو بھی شفاف بنانا چاہیے تاکہ کوئی صارف غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔

    اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے پیچھے جو مافیا کام کر رہا ہے، اس کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔اور مافیا کو دی جانے والی مفت بجلی فوری طور پر بندکی جائے ،تاکہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر متعلقہ ادارے صارفین سے زیادتی کر رہے ہیں۔ اگر ایک صارف ایک ماہ میں 201 یونٹ استعمال کر لیتا ہے، تو اسے چھ ماہ تک سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اسی طرح، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے بھی ایک منظم مافیا کام کر رہا ہے، جو عالمی منڈی میں کمی کے باوجود پاکستانی صارفین کو ریلیف نہیں دیتا۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف کمیٹیاں بنانے اور اعلانات کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرے۔ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 301 یونٹ تک بڑھانا ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلز کے نظام کو سادہ اور صارف دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت یہ سب کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا، اور وہ اعلانات جو خوشخبری کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، محض ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے مسلم لیگ (ن) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی، تو یہ پارٹی کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

    آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی عوام اب اس "کمیٹی کمیٹی کے کھیل” سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل کمیٹیاں بنا کر نکالنے کا رواج محض ایک سراب ہے، جس کی تعبیر شاید کبھی نہ ملے۔ اگر عوام کو یقین ہوتا کہ یہ اعلانات اور کمیٹیوں کی رپورٹیں حقیقت میں تبدیل ہو جائیں گی، تو شاید وہ خوشی سے مر جاتے۔ لیکن فی الحال، یہ سب کچھ ایک مذاق لگتا ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب، اب کمیٹیوں کا یہ کھیل ختم ہونا چاہیے۔ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کا اعلان کریں، جس پر فوری عملدرآمد ہو اور عوام کو ریلیف ملتا ہوا نظر آئے۔

  • مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    مجھے اڑان بھرنی ہے،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "مبارک ہو!” یہ الفاظ سماعتوں کو کتنے بھلے لگتے ہیں۔ جب کوئی لیڈی ڈاکٹر کسی باپ کو بتاتی ہے کہ "مبارک ہو آپ کے گھر میں رحمت آئی ہے۔ خاص طور پر اس والد کی بات کروں گی جہاں شدت سے بیٹی کی پیدائش کا انتظار کیا جا رہا ہو۔ گھر کو سجایا جاتا ہے ہر طرف خوشیاں منائی جاتی ہیں طرح طرح کے پکوان بنتے ہیں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ یہ اس گھر کا منظر ہے جہاں واقعی بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں باپ سوچتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ رزق کے دروازے کھلتے ہیں لیکن اسی دور میں اب بھی زمانہ جاہلیت جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں اسے برا بھلا کہتے ہیں اس کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر مرد بھی مکمل طور پر بہترین باپ نہیں ہوتا۔ کئی باپ اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کئی باپ اپنی بیٹیوں کو اپنی زندگی کی بہار سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس باپ کے بارے میں بات کریں گے جو اپنی بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اس کی ہر خواہش اس کی زبان پر آنے سے پہلے پوری کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو اپنی بیٹی کی محبت میں کسی کی بیٹی کو ذلیل کرنے سے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اپنی بیٹی کی محبت اس کے باقی تمام رشتوں پر خاوی آ جاتی ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے اسے اچھے سے اچھا کھلائے پلائے بہترین تعلیمی ادارے میں داخل کرواتا ہے۔

    "بابا جان! اسکول کا ٹرپ جا رہا ہے مجھے کچھ پیسے اور آپ کی اجازت چاہیے۔” سارے زمانے کی معصومیت لیے بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
    "کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی لڑکی ہو گھر پر بیٹھو۔ حالات دیکھے ہیں باہر کے۔” بیٹی کے لیے فکر مند ماں فوراً سے باپ بیٹی کے مکالمے میں زبردستی آ جاتی ہے حالانکہ اس کی رائے نہ کسی نے مانگی اور نہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔
    "تم تو چپ ہی رہو۔ میری بیٹی تو شہزادی ہے اور وہ ضرور جائے گی۔” بیٹی کی محبت میں چور چور باپ کسی اور کی بیٹی کو ہمیشہ اس کی اوقات یاد دلانے سے باز نہیں آتا۔ وہ محبت کیوں نہ کرے آخر وہ اس کا خون ہے اور خون کی محبت تو لازم ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میاں بیوی کا رشتہ اس زمین کا وہ پہلا رشتہ تھا جسے رب کائنات نے تخلیق کیا تھا اس رشتے کے سبب اولاد پیدا ہوتی ہے کتنے خون کے رشتے تخلیق ہوتے ہیں۔ آپس میں بہن بھائیوں کی محبت والدین کی وجہ سے چچا پھوپھو ماموں خالہ دادا دادی نانا نانی سب سے خون کا رشتہ بن جاتا ہے مگر میاں بیوی کا رشتہ بیک وقت بہت مضبوط اور کمزور ہوتا ہے جو نکاح کے دو بول سے جڑ جاتا ہے اور طلاق کے دو بول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ رشتہ خون کا نہ ہونے کے باوجود اگلی نسل کو کئی خون کے رشتے دے جاتا ہے۔ وقت گزرتا جاتا ہے ننھی پری جو گھر کے آنگن میں اچھلتی کودتی تھی وہ جو گھر بھر کی رونق ہے۔ کبھی باپ کو شکایت لگا کر بھائیوں کی پٹائی کرواتی ہے تو کبھی ضد کر کے سہیلیوں کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہے۔
    "آپ اس کی ہر بات نہ مانا کریں عادتیں خراب ہو جائیں گی۔ کل کو شادی بھی تو کرنی ہے کون پوری کرے گا اس کی ہر خواہش آپ کی طرح۔” ماں کے دل کا ڈر اس کی زبان پر آ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ خواہشات بس باپ کے آنگن تک ہی پوری ہوتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اسی آنگن میں خواہشات دم توڑ دیتی ہیں پھر انہیں یہ باپ خود ہی مار کر دفنا دیتے ہیں۔ ماں کی بات ہر اکثر باپ کی لاڈلی کو غصہ آ جاتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے لگتا ہے یہ میری سوتیلی امی ہیں۔ کبھی مجھے خوش نہیں دیکھ سکتیں۔” باپ کی محبت کے حمار میں قید ایک بیٹی اکثر وسوسوں میں الجھی ماں کو ایسے ہی سمجھتی ہے۔

    "تم فکر نہ کرو میری بیٹی شہزادی ہے اور میں اس کے لیے شہزادہ کی تلاش ہی کروں گا۔ جو آزادی اسے اپنے باپ کے گھر میں ہے ویسے ہی آگے ملے گی میری بیٹی ہے بہت خوش قسمت رہے گی۔” ایک باپ کا غرور اپنی بیٹی کو لے کر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
    "ہاں! جیسے میرے باپ نے شہزادہ تلاش کیا تھا جس کے گھر میں مجھے سب آزادی ہے۔” ایک ماں کا خاموش احتجاج۔
    "بہت ہی ناشکری عورت ہو تم کیا کمی ہے تمھیں اس گھر میں؟ کھانا پینا، اچھا پہننا اوڑھنا تم جیسی عورتیں ہی ناشکری ہوتی ہیں بس میری بیٹی سے مقابلہ کرنا ہے تمھیں۔”
    "میری بھی بیٹی ہے وہ اور اس کی بھلائی ہی چاہتی ہوں میں۔” درد سے چور نڈھال لہجے میں جواب آتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

    یہ کہانی سب کو کچھ کچھ اپنی لگے گی۔ یہ کہانی اکثر گھروں کی ہو سکتی ہے۔ جس میں اکثر ماں ظالم اور باپ محبت کرنے والا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی بیٹی ماں کے محتاط رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ باپ کے تحفظ اور محبت بھری باہوں میں محفوظ بیٹی وہ نہیں دیکھ پاتی جو ماں کا تجربہ اسے دکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے جب بیٹی کی زندگی کے سب اہم فیصلے کا وقت آتا ہے۔ اس کی شادی کا وقت اس کے جیون ساتھی تلاش کرنے کا وقت وہ باپ جو ساری زندگی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اس کی مرضی کی تعلیم یہاں تک کہ لباس بھی وہ بیٹی اپنی پسند سے پہنتی ہے اور باپ اپنی پر اعتماد بیٹی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔
    "بابا جان! مجھے یہاں شادی نہیں کرنی مجھے کوئی اور پسند ہے آپ ایک بار اس سے مل تو لیں۔”
    "کیا؟ تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ اس لیے تمھیں پڑھایا لکھایا تمھارے اتنے لاڈ اٹھائے۔ اس دن کے لیے کہ تم میرے سامنے آ کر یہ سب کہو۔” محبت کا محل پاش پاش ہو گیا۔
    "آپ ایک بار مل تو لیں کہہ تو رہی ہے اگر آپ کو مناسب نہ لگا تو ٹھیک ہے جہاں آپ کہیں گے وہ وہیں راضی ہو جائے گی۔” ماں عورت ہوتی ہے نا وہ بیٹی کے احساسات کو سمجھتی ہے۔ اس وقت بیٹی کو پتہ چلتا ہے کہ ماں بھی مجھ سے محبت کرتی تھی۔
    "یہ ہے تمھاری تربیت؟ میں نے تمھارے بھروسے پر اپنی اولاد کو چھوڑا یہ نتیجہ نکلا یہ صلح ملا مجھے۔” طاقت ور کا سارا غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی نکلتا ہے۔
    "بابا جان! پسند کے نکاح کا حق تو مجھے میرے دین نے دیا ہے۔” بیٹی نے اپنے حق کے لیے دلیل دینے کی کوشش کی۔
    "مجھے دین نہ سکھاؤ میں تمھارا باپ ہوں تم میری ماں نہیں اور اسی دین نے مجھے تمھارا ولی بنایا ہے۔ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اس لیے میں ہی تم پر حق رکھتا ہوں جہاں چاہوں گا جس سے چاہوں گا شادی کروں گا۔” دو ٹوک جواب آتا ہے۔
    "مجھے نہیں کرنی آپ کی پسند سے شادی۔” اسے لگا یہاں بھی ہمیشہ کی طرح باپ اس کی ضد مان لے گا۔ میں سوچتی ہوں بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے والے والدین زندگی کی سب سے بڑی خواہش کا حق چھین لیتے ہیں۔ یہاں بھی وہی بات آ گئی نا کہ اولاد والدین کی غلام نہیں وہ تو دراصل اللہ کی غلام ہے۔
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح بغیر اجازت کے نہ کیا جائے۔(صحیح بخآری:4843)

    ہم خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن دین اسلام کی صرف ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیتی ہیں ہم دین کے مطابق کہاں چلتے ہیں؟ ہم تو خاندانی روایات کے مطابق چلتے ہیں۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ہم جس نبی کے امتی ہیں آئیے ہم ان کے دربار میں چلتے ہیں۔ دربار رسالت میں سب خاموش بیٹھے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتوں کو، نصیحتوں کو ایسے سن رہے ہیں گویا ہل گئے تو کہیں کندھوں پر بیٹھے فرضی پرندے اڑ ہی نا جائیں کہ اچانک سے ایک لڑکی فریادی بن کر آتی ہے۔ ماحول میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے وہ فریاد کرتی ہے۔ "یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرا نکاح میرے گھر والوں نے میری مرضی کے بغیر کر دیا ہے۔” نکاح تو دو اجنبیوں کے درمیان ایجاب وقبول کا معاملہ ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان دل کی رضا سے مضبوط رشتہ ہے۔ جب کوئی دل سے راضی نا ہو تو کیسا رشتہ؟ یہ رشتہ کاغذی نہیں، کاغذ تو اس دور کے تقاضوں کے لیے ہے۔ اصل بات تو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے ساتھ دل کے ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے۔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان حلال اور پاکیزہ تعلق جس میں رب خود موجود ہوتا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لڑکی کی فریاد کو سنا اور فرمایا: "یہ لڑکی چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر دے۔”(ابوداؤد: 2096)
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مطعون کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی کی شادی ولی بن کر اس کے چچا جو کہ میرے ماموں بھی تھے سیدنا قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے مجھ سے کروا دی۔ نکاح سے پہلے لڑکی سے مشورہ نہیں کیا اسے میرے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ تھا۔ وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کرنا چاہتی تھی آخر قدامہ رضی اللّٰہ عنہا نے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔”(سنن ابن ماجہ:1878)

    "بابا جان! آپ ایک بار اس سے مل تو لیں بہت اچھے خاندان کا ہے یونیورسٹی میں میرے ساتھ ہی پڑھتا ہے۔”
    "کیا اچھے خاندان کا ہے؟ یونیورسٹی پڑھنے آتا ہے یا لڑکیوں کے ساتھ چکر چلانے۔ بس میں نے کہہ دیا۔” وہ بھی اپنے باپ کی بیٹی تھی۔ ضدی تو وہ بھی تھی۔ ٹھیک ہے دو دن بھوکی رہوں گی تو خود ہی بابا جان مان جائیں گے۔ ایک دن گزر گیا بابا جان نے اسے اپنے کمرے میں بلایا وہ خوش تھی یا پھر اسے خوش فہمی تھی کہ وہ مان جائیں گے۔

    "دیکھو بیٹا! میں آپ کی بات مان لیتا مگر لوگ کیا کہیں گے کہ لڑکی کو یونیورسٹی بھیجا تو اس نے یہ کام کیا میری عزت آپ کے ہاتھوں میں ہے چاہو تو پیروں تلے روند دو چاہو تو بلند کر دو۔” دل بند ہو گیا بیٹی ہار گئی اس کی خوشی ہار گئی باپ کی جھوٹی عزت جیت گئی۔ یہاں سے دو طرح کے رویے سامنے آتے ہیں ایک وہ بیٹی جو ہار جائے ایک وہ بیٹی جو بھاگ جائے۔ سوچتے رہیے گا کہ ہار جانے میں اور بھاگ جانے میں قصور کس ہے ہے؟ ہارنے والی بیٹی نے باپ کو تو جتا دیا مگر ساری زندگی کے لیے تکلیف کو اپنے دامن میں بھر لیا۔ بھاگ جانے والی نے بھی کیا پایا نہ دل کی سچی خوشی نہ باپ کی دعائیں۔ دونوں صورتوں میں ہار بیٹی کی ہی ہے۔ میں یہ بات سمجھنے سے آج تک قاصر ہوں کہ زندگی جن دو لوگوں نے گزارنی ہوتی ہے ان کی رائے کی بجائے پورے خاندان سے رائے لی جاتی ہے۔ ان کی ملاقات نہیں کروائی جاتی باقی پورا خاندان اکثر ملتا جلتا رہتا ہے۔ جب اسلام نے عورت کو اپنی پسند کے نکاح کا حق دیا ہے تو ولی کھلے دل کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ کیوں ہر بار ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہی صبر و شکر والی زندگی کی تلقین کی جاتی ہے؟ کیوں ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کرو تمھارا شوہر تو لاکھوں سے اچھا ہے ورنہ تو آدمی نشہ کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں۔
    کیا ہوا جو ذہنی آہنگی نہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    کیا ہوا جو وہ تمھیں سمجھتا نہیں روٹی تو کما کر لاتا ہے نا۔
    کیا ہوا جو تمھارا دوست نہیں تمھاری ضرورتیں تو پوری کرتا ہے۔
    کیا ہوا جو محبت کا اظہار نہیں کرتا ساری ذمہ داریاں تو نبھاتا ہے۔ کیا ہوا اگر وہ دوسری شادی کرنے لگا ہے یہ حق تو اسے ہمارے دین نے دیا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اسی دین اسلام نے عورت کو بھی حقوق دیئے ہیں۔
    سے بھی حق ہے اپنی اڑان بھرنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پر پھیلانے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے پسندیدہ شحض کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنی مرضی سے سانس لینے کا۔
    اسے بھی حق ہے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا۔۔۔۔۔سوچتے رہیے ۔۔۔۔۔
    ہمیشہ مثبت رہیے دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیے اللہ پاک آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے گا۔ ان شاءاللہ!

  • خاموش زخم، زندہ جدوجہد،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش زخم، زندہ جدوجہد،تحریر: اقصیٰ جبار

    5 اگست 2019—دنیا کے لیے ایک معمول کا دن، لیکن کشمیریوں کے لیے تاریخ کا ایک اور زخم، ایک اور سانحہ۔ اس روز بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت، آرٹیکل 370 اور 35A، کو ختم کر کے نہ صرف کشمیریوں کے آئینی و سیاسی حقوق سلب کیے بلکہ ان کی شناخت اور مستقبل پر بھی حملہ کیا۔ یہ دن کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ تھا، اور دنیا کے لیے ایک آزمایش—جسے وہ آج تک نہیں نبھا سکی۔

    کشمیر کی وادی، جو کبھی "جنتِ نظیر” کہلاتی تھی، آج فوجی محاصرے، لاک ڈاؤن، اور گولیوں کی آوازوں میں گھری ہوئی ہے۔ 5 اگست کے بعد وہاں جو کچھ ہوا وہ کسی فلمی منظرنامے سے کم نہ تھا—موبائل نیٹ ورک بند، انٹرنیٹ سروس معطل، اخبارات خاموش، ٹی وی اسکرینیں سیاہ، اور لاکھوں لوگ خوف کے سائے میں مقید۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جمہوریت کے ہاتھوں ہو رہا تھا جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا اقدام نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی تھا بلکہ اس کے اپنے آئین اور وفاقی ڈھانچے کے بھی خلاف تھا۔ جموں و کشمیر، جو اقوامِ متحدہ کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس کی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عالمی برادری اس سب پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ انسانیت، حقوق، آزادی—سب صرف الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، جب مظلوم مسلمان ہو۔

    یومِ استحصال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف جغرافیہ کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قوم کی شناخت، وقار اور خودارادیت کی لڑائی ہے۔ آج بھارت آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غیر ریاستی باشندوں کو زمینیں دی جا رہی ہیں، ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں، اور کشمیریوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹا کر اسے ایک ہندو اکثریتی خطہ بنا دیا جائے۔

    اس سارے منظرنامے میں پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، لیکن اب صرف بیانات، تقاریر یا قراردادیں کافی نہیں۔ پاکستان کو سفارتی محاذ پر مزید جارحانہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر پر دستک دینے کے لیے ایک منظم، مسلسل اور بلند سطح کی سفارتی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے سامنے یہ واضح کرنا ہو گا کہ کشمیر محض دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔

    داخلی طور پر بھی پاکستان کو سمجھنا ہو گا کہ ایک مستحکم، خوشحال اور متحد پاکستان ہی کشمیریوں کے لیے اصل امید ہو سکتا ہے۔ جب ہم خود آپس میں تقسیم ہوں گے، معیشت کمزور ہو گی، ادارے بکھرے ہوں گے، تو ہماری آواز عالمی سطح پر سنجیدگی سے نہیں سنی جائے گی۔

    کشمیر کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ گولیاں ان کے حوصلے کو نہیں مار سکتیں، قید ان کی سوچ کو قید نہیں کر سکتی، اور لاک ڈاؤن ان کے جذبے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ہر شہید نوجوان، ہر آنسو بہاتی ماں، ہر زخمی بچہ اس جدوجہد کا زندہ استعارہ ہے۔

    5 اگست کو یومِ استحصال کے طور پر منانا صرف رسمِ احتجاج نہیں، بلکہ یہ ہمیں یہ یاد دلانے کا دن ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا فرض ہے، کہ خاموشی جرم ہے، اور کہ کشمیریوں کا خون ہم پر قرض ہے۔جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا، یہ زخم رستا رہے گا—خاموش، لیکن گواہ؛ اور جدوجہد جاری رہے گی—زخمی، لیکن زندہ۔

  • کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہمارے معاشرے میں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہزاروں کیس ایسے ملیں گے جنہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔اپنی ہی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کرنے کے پیچھے کیا مسائل ہو سکتے ہیں ۔آج کل نوجوان نسل جس میں بالکل برداشت ختم ہو گئی ہے ۔محبت اور عشق کے پیچھے اپنے جانوں کو ہی اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں ۔دوسری بڑی وجہ گھریلو مسائل بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر خاص کر نوجوان نسل مسائل کے حل کے لیے واحد خودکشی کا راستہ اپنانا شروع ہو گئے ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کا دست بازو نہیں بن سکتا جو گھریلو مسائل بے روزگاری تنگ دستی کی وجہ سے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔خدارا اپنے ارد گرد نظر رکھیں ایسے لوگوں کا دست بازو بنے ۔

    گزشتہ دنوں ہمارے شہر پیرمحل میں بھی ایک ایسے نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جس کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔اس نوجوان کا نام عدنان تھا جو فٹ بال کا پلیئر تھا جو گھریلو مسائل کا شکار تھا اس کے قریبی دوستوں سے پتہ چلا کہ وہ فٹ بال کھیلنا چاہتا تھا لیکن گھر والے اس کو کام کرنے پر فورس کرتے تھے ۔ظاہری بات ہے کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا اچھے کام پر لگ جائے روزگار کمانا شروع کر دے ۔لیکن عدنان کافی دنوں سے ڈپریشن کا شکار تھا ۔بس اس نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جب اس کی موت کی خبر سنی تو یقین جانیے کہ رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل بہت افسردہ تھا ۔کہ ہمارے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے ۔کیا مسائل کا حل خودکشی ہی رہ گئی ہے کیا اس کے بغیر مسائل کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔بحیثیت مسلمان ہمیں بھی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے ۔اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں مزہ تو تب ہے اگر دوسروں کے لیے جیا جائے ۔

    اسلام میں خود کشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خودکشی کرنے والے کا نماز جنازہ بھی نہیں پڑھایا ۔
    "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔

    ناامیدی اور امید ایک ساتھ جڑے دو راستے ہیں، جس میں سے امید کا انتخاب خدا کے وہ بندے کرتے ہیں جنہیں اس پر بھروسہ ہوتا ہے۔ زندگی کا سفر چاہے کتنا ہی دشوار ہو ان کی آخرت سنور جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ناامیدی میں خودکشی کا حرام راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ نا تو زندگی کو صحیح طور گزار پاتے ہیں بلکہ اپنی آ خرت بھی تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔
    ان معمولی پیار،عشق اور محبت کی باتوں اور گھریلو مسائل کو سر پر سوار کرکے زندگی کے مقصد کو بھلا دینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔
    زندگی خدا کا دیا ہو انمول تحفہ ہے جس کی قدر نا کرنا خدا کی قدرت سے منحرف ہونا ہے۔ میری تو والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھیں۔

  • کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار  بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت بھارت کو مانا جاتا ہے اور خود کو چوھدری ثابت کرنے کیلئے ہر جگہ پنگے لیتا ہے مگر الٹا ذلیل ہو کر اپنی معیشت تباہ کروا رہا ہے،بھارت کے 6 زمینی اور 2 دو سمندری حدود پر مشتمل ہمسایہ ممالک ہیں،بنگلہ دیش 4096 کلومیٹر ،چائنہ 3488 کلومیٹر ،پاکستان 3323 کلومیٹر،نیپال 1751 کلومیٹر،میانمار 1643 اور بھوٹان کی 699 کلومیٹر سرحد بھارت کیساتھ ملتی ہے جبکہ سری لنکا اور بھوٹان کی زمینی سرحد بھارت کیساتھ نہیں بلکہ ان کی سمندری سرحد اس سے ملتی ہے

    قابل ذکر بات ہے کہ بھارت کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک میں سے کسی ایک کیساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں بلکہ ان کیساتھ کئی بار جنگیں و جھڑپیں ہو چکی ہیں،چائنہ بھارت تنازعات کا آغاز 1950 میں ہوا اور بھارت بالآخر تبت پر قبضہ کروا بیٹھا،1959 میں بھارت نے چائنہ کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو باوجود چائنہ کے منع کرنے کے، پناہ دی جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوتے گئے اور بالآخر 1962 میں بھارت چائنہ جنگ ہوئی، 1967 میں پھر سے ناتھولا اور چولا جھڑپیں ہوئیں اور 2017 میں داکلام اور اس کے بعد وادی گلوان میں 2020 کو پھر جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارت کو سخت نقصان پہنچا ، تاحال چائنہ اور بھارت کے حالات سخت کشیدہ ہیں

    بھارت کی جانب سے میانمار کے اندر مسلسل اندرونی مداخلت کے باعث 2015 میں میانمار کے ماؤ نواز باغیوں نے بھارت پر بہت بڑا حملہ کیا جس میں بھارت کے 18 فوجی مارے گئے تھے،سری لنکا میں بھارت نے 1980 میں اندرونی مداخلت کرکے علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کرنا شروع کیا اور خود ہی اندرونی خانہ جنگی کو کنٹرول کرنے کیلئے 1987 میں اپنی فوج سری لنکا میں بیجھی تاہم اپنے 1500 فوجی مروا کر 1990 میں فوج واپس بلا لی جس کے باعث سری لنکن گروپ ایل ٹی ٹی ای نے 1991 میں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کیا جسے مالدیپ کے باغیوں کی بھی حمایت حاصل تھی،3 نومبر 1988 کو مالدیپ میں انڈین فوج نے تامل باغیوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا جس کی وجہ سے آج دن تک تامل باغی انڈین علاقوں پر حملے کرتے رہتے ہیں

    بھوٹان میں 2017 کو،ڈوکلام میں بھوٹان اور چائنہ کے متنازعہ سنگم پربھارت نے اس میں شامل ہوکر اپنی فوج بیجھی اور 73 دن تک خود اور بھوٹان کو چائنہ سے مار پڑوا کر بالآخر فوجوں کی واپسی کروائی جس کے نتیجے میں بھوٹان نے چائنہ سے راہ رسم بڑھایا تو آجکل بھوٹان اور بھارت کے تعلقات کچھ خراب ہو چکے ہیں

    سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بھارت نے 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ لڑی اور الگ ملک بنگلہ دیش بنوایا اور اس کا کنٹرول عملاً اپنے پاس رکھا تاہم 2001 میں اگرتلہ اور راجشاہی کے علاقے میں بنگلہ دیش اور بھارتی فوج کے مابین شدید خونریزی ہوئی جس کے باعث دونوں کے حالات خراب ہوتے گئے اور بالآخر اگست 2024 میں حسینہ واجد کے تختہ الٹنے کے بعد بھارت نے حسینہ واجد کو پناہ دی جس کے بعد پھر حالیہ چندہ ماہ قبل بنگلہ دیش و بھارت کے مابین سخت جھڑپیں ہوئیں اور اب بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں جو کسی بھی وقت بڑی جنگ میں بدل سکتی ہیں

    شروع دن سے ہی نیپال سے بھی بھارت کے تعلقات اچھے نہیں رہے ،مسلسل اندرونی مداخلت اور کالا پانی، لیپولیخ اور لمپادھورا تنازعات سے پریشان نیپال نے جون 2020 میں سیتا مڑھی کے علاقے میں ایک انڈین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے باعث دونوں ممالک کے حالات کشیدہ ہوئے تو نیپال نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں کالا پانی،لیپولیخ اور لمپادھورا کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا اس پر بھارت نے سخت احتجاج کیا تاہم نیپال نا مانا اور پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی

    بھارت کے سب سے زیادہ خراب تعلقات پاکستان کیساتھ ہیں کہ جس نے اپنے وجود کے محض 80 دن بعد 1947 میں ہی مقبوضہ کشمیر کا 13297 مربع کلومیٹر کا علاقہ چھین کر آزاد ریاست جموں و کشمیر قائم کی اس کے بعد 965,1971,1999 میں پاک بھارت جنگیں ہوئیں اور اب گزشتہ چند ماہ قبل مئی میں جنگ ہوئی جس میں بھارت نے منہ کی کھائی اور پوری دنیا کے سامنے ذلیل ہوا،8 دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت آزاد کمشیر کو واپس لینے کے دعوے تو کرتا رہا مگر ہر بار منہ کی کھاتا رہا ہے،اور اپنے اسی روئیے کے باعث بھارت دنیا بھر اور خاص طور پر اپنی ہمسائیگی میں مکمل تنہاء ہو چکا ہے اور اس کی معیشت بڑی تیزی سے تباہ ہو رہی ہے،5 اگست 2019 کو بھارت نے نہتے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آزادی پر شب و خون مارتے ہوئے خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے و 35 اے ختم کیا مگر الحمدللہ حالیہ پاک بھارت جنگ نے امید کی ایک نئی کرن دکھائی کہ اب ایک بار پھر سے مقبوضہ کمشیر کا علاقہ بھارت کے ہاتھوں نکل کر آزاد کشمیر کا حصہ بنے گا اور دنیا بھارت کی تباہی کا تماشہ ایک بار پھر سے دیکھے گی
    ان شاءاللہ

  • مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ذمہ داریاں دی جائیں تو مسلم لیگ ن مزیدمقبول ہوجائے گی
    بلاول بھٹو کو مزید کام کرنے کی ضرورت،پی ٹی آئی عمران سے شروع ہوکر عمران پر ختم
    فضل الرحمان کا مستقبل صرف اتحاد،جماعت اسلامی آمدہ الیکشن میں نمایاں کردار اداکریگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بھارت اور پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بھارت کا آئندہ کا مستقبل راہول گاندھی ہے تاہم کانگریس اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا لے اور اتحاد مضبوط بنا لے تو بھارت کے آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار راہول گاندھی بن سکتے ہیں تاہم نریندر مودی کا کرشمہ ابھی تک موجود ہے بھارتی اپوزیشن کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پارٹی میں واضح قیادت کا رول ادا کر رہی ہیں امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، وہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط امیدوار برائے وزیر اعظم ہو سکتی ہیں اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو تنطیم سازی کی ضرورت ہے، ڈویژن اور ضلعی سطح پر کارکنوں اور دیگر مقامی ن لیگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت اگر مریم نواز اور حمزہ شہباز پر خصوصی توجہ دے تو دونوں ن لیگ کی قیادت اور دیگر امور احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں حمزہ شہباز تنظیمی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں تا دم تحریر ن لیگ میں کوئی دھڑے بندی نہیں نواز شریف کی قیادت میں یہ جماعت متحد ہے، بلاول بھٹو زرداری سندھ میں پارٹی پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اگر پی پی پی پنجاب اور کے پی کے میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے تو بلاول بھٹو کی گفتگو اور ویژن نوجوانوں کے لئے پرکشش ہے، بلاول بھٹو کو عملی سیاست میں مزید تجربے اور مقامی حمایت کی ضرورت ہے

    پی ٹی آئی عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی ختم ہوتی ہے مستقبل میں اس سیاسی جماعت کی قیادت کون کرے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے عمران خان دوسری سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی طرح بڑھاپے کی طرف گامزن ہیں ملک کی مذہبی جماعتوں کو لیکر اگر تجزیہ کیا جائے تو جماعت اسلامی قدیم ترین مذہبی و سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے کراچی اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں اچھا خاصا اثر دکھایا ہے کراچی میں خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جماعت اسلامی کا مستقبل مکمل طور پر اس کی عملی قیادت اور عوام سے رابطہ کی بنیاد پر طے ہو گا آمدہ قومی انتخابات میں جماعت اسلامی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے،

    جمعیت علمائےاسلام مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے اس جماعت کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہے جن میں سیاسی اتحاد عوامی تائید اس جماعت کا مکمل انحصار مولانا فضل الرحمان کی شخصیت پر ہے اگر نئی قیادت نہ ابھری تو مستقبل میں یہ جماعت کمزور ہو سکتی ہے ملک کی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کا بھی مستقبل کمزور نظر آتا ہے تاہم ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مستقبل شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ ادارہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے