Baaghi TV

Category: بلاگ

  • را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب کوئی ریاست اپنی خفیہ ایجنسیوں کو اس حد تک طاقت دیتی ہے کہ وہ سرحدوں سے باہر جا کر قتل و غارت گری میں ملوث ہو جائیں تو یہ صرف اس ملک کی داخلی پالیسی نہیں رہتی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کے کردار پر حالیہ برسوں میں جو انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ نیویارک میں سکھ رہنما گروپت ونت سنگھ پانن کے خلاف مبینہ قتل کی سازش نے اس خطرے کو مزید اجاگر کیا ہے۔ امریکی عدالتوں میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق جسے بلومبرگ نے رپورٹ کیا: “Prosecutors alleged in court documents that a murder-for-hire plot involved plans for an additional assassination in Nepal or Pakistan.” اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سازش صرف ایک فرد تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ دیگر ممالک تک پھیلانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ مزید برآں بلومبرگ نے بتایا کہ وکاش یادو اور گپتا پر “murder-for-hire, conspiracy to commit murder-for-hire and conspiracy to commit money laundering” جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بھارتی تفتیشی ادارے نے بھی تسلیم کیا کہ “rogue operatives not authorized by the government had been involved in the plot” یعنی اس سازش میں ایسے افراد ملوث تھے جنہیں حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں تھی۔

    یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” یا اس سے وابستہ عناصر، ہندوتوا کے نظریے کے زیر اثر، غیر ملکی سرزمین پر خفیہ قتل اور سازشوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ہندوتوا جو کہ ایک انتہا پسند نظریہ ہے، بھارت کی داخلی سیاست سے نکل کر اب بین الاقوامی سطح پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ نظریہ نہ صرف اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتا ہے بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کو بھی جارحانہ رخ دیتا ہے۔ جب ریاستی ادارے اس نظریے کے تابع ہو جائیں تو ان کی کارروائیاں صرف سفارتی حدود تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ دوسرے ممالک میں بھی مداخلت کرنے لگتے ہیں۔

    پاکستان میں "را” کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ایک طویل اور تلخ پس منظر موجود ہے۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی محض الزامات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر جاری ہے۔ یادیو نے خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہا تھا، اور اس کے خلاف عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا دئے ہیں کہ "را” نے پروکسی نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے متحدہ عرب امارات اور افغانستان سے "sleeper cells” کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی منظم کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں مقامی افراد اور جرائم پیشہ عناصر کو استعمال کیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق 2020 سے اب تک کم از کم 20 افراد کو "را” کی کارروائیوں میں قتل کرا چکا ہے.

    یہ الزامات صرف دو ممالک کے درمیان کشیدگی کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب ایک ریاست دوسرے ملک میں خفیہ طور پر قتل و غارت کی کارروائیاں کرے، تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے انٹرنیشنل معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود، عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھارت کی ان کارروائیوں کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، لیکن ان ممالک کی حکومتیں محض سفارتی تعلقات یا تجارتی مفادات کی بنیاد پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بلومبرگ جیسے معتبر ذرائع مسلسل اس حوالے سے رپورٹس شائع کر رہے ہیں، لیکن ان رپورٹس پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔

    سوال یہ ہے کہ جب شفاف شواہد موجود ہیں، تو بھارت کو دہشت گرد ریاست کیوں نہیں قرار دیا جاتا؟ “When transparent evidence exists, why isn’t India declared a terrorist state?” کیا عالمی برادری صرف اس وقت حرکت میں آتی ہے جب متاثرہ ملک مغربی دنیا کا حصہ ہو؟ کیا جنوبی ایشیا کے ممالک کی جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر بھارت کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں مقدمات نہیں چلائے جاتے، اگر اقوام متحدہ اس پر پابندیاں عائد نہیں کرتا، تو یہ عالمی انصاف کے نظام پر ایک بدنما داغ ہوگا۔

    یہ خاموشی صرف سفارتی مصلحت نہیں بلکہ ایک خطرناک غفلت ہے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو نظر انداز کرنا عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر آج دنیا نے اس پر آواز بلند نہ کی تو کل یہی خاموشی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے وہ ریاستی سطح پر ہو یا غیر ریاستی، اس کے خلاف یکساں ردعمل ضروری ہے۔ بھارت کو اس کے اقدامات کا جواب دینا ہوگا اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرے۔

    اگر دنیا آج خاموش رہی تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے عالمی امن کا قبرستان کھود دیا ہے۔ اس قبر پر خاموشی سے مٹی ڈالنا آنے والی نسلوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ دنیا اپنی آنکھیں کھولے، انصاف کے تقاضے پورے کرے اور بھارت کو اس کے ریاستی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے وجود کو نگل سکتی ہے۔

  • بحری سرحدوں کی محافظ،پاکستان نیوی

    بحری سرحدوں کی محافظ،پاکستان نیوی

    جب زمین اپنے دامن میں شہروں، گاؤں اور کھیتوں کو سمیٹتی ہے تو سمندر اپنی وسعت میں ایک ایسی سرحد رکھتا ہے جو بظاہر بے کنار ہے مگر حقیقت میں ہماری بقا اور سلامتی کی ضامن ہے۔ انہی نیلگوں لہروں کے بیچ پاکستان نیوی، ایک خاموش مگر جاگتی آنکھ کی مانند، اپنے وطن کی بحری سرحدوں پر پہرہ دیتی ہے۔پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک ایسی علامت ہے جو قومی غیرت، عزم اور وقار کی آئینہ دار ہے۔ گہرے سمندر کے پرسکون پانیوں میں چھپی ہوئی ان کی موجودگی دشمن کے لیے ایک غیر مرئی دیوار ہے، اور جب کبھی کوئی خطرہ اُبھرنے کی جسارت کرے تو یہ بحری مجاہدین فولاد کی طرح آہنی عزم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

    یہ محافظ صرف ہتھیاروں سے لیس نہیں بلکہ ایک نظریے سے مزین ہیں،نظریۂ پاکستان، جس کی حفاظت کے لیے وہ اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔ ان کے جہاز سمندر کی وسعت کو کاٹتے ہوئے اُس اعتماد کی گواہی دیتے ہیں جو ایک خودمختار قوم کو زیب دیتا ہے۔ ان کہ آبدوزیں، سطحِ سمندر کے سکوت کے نیچے چھپی ہوئی بجلی کی مانند، دشمن کے ارادوں کو خاکستر کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔پاکستان نیوی نے وقتاً فوقتاً اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف عسکری محاذ پر منوایا ہے بلکہ سمندری تجارت، قدرتی وسائل کے تحفظ اور بین الاقوامی مشنز میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان کے کردار نے یہ ثابت کیا ہے کہ سمندروں کا یہ نگہبان صرف پاکستان کا محافظ نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک معتبر ستون بھی ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ زمین کے سپاہی آنکھوں کے سامنے پہرہ دیتے ہیں، لیکن سمندر کے یہ نگہبان اپنی خاموشیوں میں ایک ایسی داستان رقم کرتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ مگر ان کی قربانی، ان کی جاں فشانی اور ان کی مستعدی وہ امانت ہے جس پر پورا وطن فخر کرتا ہے۔پاکستان نیوی کی موجودگی ہر پاکستانی کے دل کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ہماری بحری سرحدیں اتنی ہی محفوظ ہیں جتنی ہمارے خواب اور ہماری امیدیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے سائے میں ہماری آنے والی نسلیں سمندر کی وسعتوں کو اعتماد کے ساتھ دیکھتی ہیں، اور جانتی ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسی ڈھال ہے جو ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔

  • پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاک فوج: قوم کی مضبوطی کی ضامن،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان ایک ایسا انمول تحفہ ہے، جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں، بے شمار جدوجہد اور ایمان کی طاقت کے بعد ہمیں نصیب ہوا۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خوابوں، درد اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اتحاد، ایمان اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔ آزادی کا حصول ایک لمحے کی خوشی تھی، لیکن اصل فریضہ اس کی حفاظت، ترقی اور بقاء تھا۔ یہ بھاری ذمہ داری بانیانِ پاکستان کے بعد پاک فوج کے سپرد ہوئی، جس نے ہر دور میں یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے قربانی سب سے عظیم عبادت ہے۔ آج بھی پاک فوج نہ صرف وطن کی ڈھال ہے بلکہ قوم کی امید، عوام کا اعتماد اور ہر مشکل وقت میں سہارا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد سے خطے کے حالات کبھی آسان نہیں رہے۔ بھارت کی جارحیت، داخلی سازشیں اور بیرونی دباؤ ہمیشہ پاکستان کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ 1948 میں کشمیر کے محاذ پر قربانیاں ہوں، 1965 کی جنگ میں دشمن کو ناکامی کا سامنا، 1971 کے سانحات یا کارگل کی برفانی چوٹیوں پر جانوں کی قربانیاں—ہر موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت ان کے ایمان اور غیرت کا حصہ ہے۔ ان معرکوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی مضبوط عزم، بلند حوصلے اور غیرت مند فوج کے ذریعے بڑے دشمن کو ناکام بنا سکتا ہے۔

    گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے پاکستان کی جان کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، مساجد، بازار، اسکول اور عوامی مقامات دہشت گردی کا شکار بنے۔ لیکن ان نازک حالات میں پاک فوج نے آپریشن راہِ راست، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اقدامات کیے۔ ان آپریشنز میں فوج نے اپنی جانیں قربان کیں، خون دیا، لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔ آج پاکستان میں قائم امن انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کے بغیر نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔

    پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں فوج کے جوان سب سے پہلے ملبے تلے دبے انسانوں کو نکالنے پہنچے، سیلابوں کے دوران لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریلیف کیمپ قائم کیے اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوج نے عوام کی رہنمائی کی، ویکسینیشن مراکز قائم کیے اور طبی سہولیات فراہم کر کے عوام کا سہارا بنی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام پاک فوج کو صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کا محافظ، اپنا سہارا اور اپنا رہنما سمجھتی ہے۔

    پاکستان آرمی نے ملکی ترقی اور قومی یکجہتی کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی اسکول، کالجز، میڈیکل ہسپتال، سڑکیں، پل اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی استحکام میں بھی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں میں فوج نے تعلیمی ادارے قائم کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور ترقی کی راہیں کھولی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف عوام کی محرومیاں کم کیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کیا۔

    پاک فوج کی اصل طاقت جدید اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ایمان، قربانی اور جذبۂ ایثار ہے جو ہر فوجی کے دل میں رچا بسا ہے۔ یہی جذبہ ایک فوجی کو سرد ترین چوٹیوں پر راتیں گزارنے، ریگستانی سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہنے، اور اپنی جان وطن کی خاطر قربان کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ شہید کی ماں کی آنکھوں میں درد اور فخر، زخمی فوجی کا حوصلہ اور وطن کے لیے جان دینے کا جذبہ—یہ سب پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کرتے ہیں۔

    دنیا آج ہائبرڈ وار، سائبر حملوں، جعلی پروپیگنڈے اور نئی جنگی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور پاکستان بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔ مگر پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور شاندار حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ نیا عسکری سازوسامان، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، سائبر سیکیورٹی اقدامات اور خطے میں اسٹریٹجک حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    فوج اور عوام کا تعلق ایک جسم اور روح کی مانند ہے۔ فوج عوام کے اعتماد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام فوج کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جب جوان دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے کروڑوں عوام کی دعائیں، محبت اور امیدیں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ پاکستان کو ناقابلِ شکست بناتا ہے اور ہر بحران میں اسے سہارا دیتا ہے۔

    پاک فوج کی قربانیاں، ایمان اور خدمات صرف فوجی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں رہنے والے جذبے کا نام ہیں۔ ہر شہید، ہر زخمی، ہر جوان جس نے سرحدوں پر دن رات محنت کی، قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت اور خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔

    پاکستان کی بقا، ترقی اور امن کا راز پاک فوج کی مضبوطی اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ادارہ ہر لمحہ چوکس، قربانی کے لیے تیار اور خدمتِ خلق میں سرگرم ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کا ایثار، بہادری اور ایمان ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدس فریضہ ہے۔ جب تک پاک فوج ہے، پاکستان محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اور سعودی عرب: امتِ مسلمہ کا فولادی حصار،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کی سیاست کے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ مشرق و مغرب کی صف بندیاں بدل رہی ہیں، طاقت کے مراکز نئی کروٹیں لے رہے ہیں، اور ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ محض الفاظ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک فولادی ڈھال، ایک روشن مینار اور ایک ایسا پیمان ہے جو دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہے۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے رشتے کوئی معمولی سفارتی تعلقات نہیں، یہ دو دلوں کی دھڑکن، دو روحوں کا امتزاج اور ایمان کی خوشبو میں بسا ہوا وہ تعلق ہے جس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے دن سے ہی لہلہانے لگیں۔ سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کر کے اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ہر کڑے امتحان میں ریاض نے اسلام آباد کا ہاتھ تھاما۔ چاہے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا خون آشام منظرنامہ ہو، یا 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں کا کڑا طوفان، سعودی عرب نے ہمیشہ بھائی بن کر ساتھ دیا ہے۔

    ادھر پاکستان نے بھی ہر لمحہ یہ ثابت کیا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستانی سپاہی جب مکہ اور مدینہ کے ذکر پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں تو دنیا جان لیتی ہے کہ یہ تعلق سود و زیاں کا نہیں، بلکہ عقیدت ،محبت اور ایمان کا رشتہ ہے۔
    آج جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے عزائم بڑھ رہے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے پنجے گاڑنے کے لیے سرگرم ہیں، ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ایک تاریخ ساز اعلان ہے۔ یہ صرف عسکری معاہدہ نہیں، بلکہ پوری مسلم امہ کے اجتماعی دفاع کی صدا ہے، ایک ایسی صدا جس کے پیچھے کروڑوں دلوں کی دعائیں اور جذبے شامل ہیں۔
    پاکستان اپنی ناقابلِ تسخیر فوج، ایٹمی قوت اور بے مثال جنگی تجربات کے ساتھ سعودی عرب کے لیے فولاد کا بازو ہے۔ اور سعودی عرب اپنی تیل کی دولت، مالی طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے ساتھ پاکستان کے لیے معاشی سہارا اور سفارتی پشت پناہ ہے۔ یہ دو بازو جب ملتے ہیں تو امتِ مسلمہ کا ایک فولادی حصار تشکیل پاتا ہے جسے توڑنا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔
    قارئین! ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ (7 مئی تا 10 مئی) میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ صرف دفاع نہیں بلکہ جارح دشمن کو اس کی سرزمین پر جا کر جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی مہارت اور شجاعت سے بھارت کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی محض عسکری کارنامہ نہیں بلکہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان خطے کی ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔
    اس شاندار فتح کے پیچھے فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی حکمتِ عملی، جرآت مندانہ فیصلے اور آپریشنل ہم آہنگی کارفرما تھی۔ ان کی قیادت نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو ایک لڑی میں پرو دیا اور دشمن کی چالوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ یہی بصیرت سعودی عرب کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کے پس منظر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
    یہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ایران، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ آئیں، امتِ مسلمہ ایک مشترکہ سلامتی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو۔ اگر ہم نے اس اتحاد کو مضبوط کر لیا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں توڑ نہیں سکتی۔
    گزشتہ برسوں میں دنیا پاکستان کو صرف دہشت گردی کی لپیٹ میں گھرا ہوا اور معاشی بحرانوں کی دلدل میں پھنستا ہوا ملک کے طور پر دیکھتی تھی، مگر آج وہی دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ سب فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی متوازن قیادت کا ثمر ہے جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ صرف عسکری اتحاد نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کا عہد ہے۔ یہ اتحاد معیشت، سیاست اور ٹیکنالوجی میں بھی نئے دروازے کھولے گا۔ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیمی تبادلے امت کے رشتے کو مزید گہرا کریں گے، اور مشترکہ منصوبے دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ مسلم امہ صرف خواب دیکھنے والی قوم نہیں بلکہ خواب کو حقیقت بنانے کی قوت بھی رکھتی ہے۔

    آخر میں، میں اپنے قارئین سے یہ کہنا چاہوں گا کہ دفاع صرف بارود اور توپ کے گولوں میں نہیں ہوتا۔ اصل دفاع اس اتحاد میں ہے جو دلوں کو جوڑ دے، قوموں کو قریب کر دے اور ایمان کی ڈور میں باندھ دے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ کرن اندھیروں کو چیر کر روشنی لاتی ہے، یہ کرن امت کو پیغام دیتی ہے کہ اگر ہم ایک ہیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔
    یقین جانیے، آنے والے دنوں میں یہ اتحاد صرف خطے کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور عسکری نقشے کو بدل دے گاان شاء اللہ۔ پاکستان اور سعودی عرب — یہ دو بھائی دراصل ایک ہی بدن کی دو سانسیں ہیں، ایک ہی چراغ کی دو لوئیں ہیں، اور ان کا یہ دفاعی پیمان امتِ مسلمہ کے فولادی حصار کی ضمانت ہے۔

  • زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!

    زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!

    زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    بارشوں کی کثرت جب سیلابی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کا زیادہ نشانہ غریب اور مڈل کلاس کے رہائشی علاقے بنتے ہیں۔ بچے، بزرگ، عورتیں اور نوجوان پانی میں بہہ جاتے ہیں، گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں کئی مذہبی و سیاسی حلقے اسے "خدا کا عذاب” قرار دے دیتے ہیں، جبکہ حکومت انسانی جانوں کے نقصان پر تھوڑی سی امداد دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے بجلی بلوں میں ڈیموں کے فنڈز وصول کرنے والے صاحبِ اختیار کو خدا نے کب ڈیم اور پانی کنٹرول کے انتظامات بنانے سے روکا تھا؟ پھر یہ سودی نظام مسلط کرنے والے لوگ بارشوں کی تباہ کاریوں کو خدا کے کھاتے میں کیسے ڈال سکتے ہیں؟

    ریاستی امور کی اصلاح نہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے اگر اسے خدا کا عذاب قرار دیا جائے تو یہ ترجمان دراصل زمینی خداؤں کو خوش کرنے کے لیے حقیقی خدا کا نام استعمال کرتے ہیں۔ بھلا غریب، بے بس اور لاچار عوام پر خدا کیوں ناراض ہو گا؟ جبکہ شراب نوش، بدکار، حرام خور، مراعات یافتہ طبقہ جو اقتدار اور طاقت کے نشے میں قرآن و حدیث کے قوانین کو روند کر ملکی ادارے چلاتا ہے، اس پر کبھی بادل نہیں پھٹتے، اس کے گھروں پر سیلاب نہیں آتا اور نہ ان پر آسمانی بجلیاں گرتی ہیں۔ لیکن وہ غریب عوام جو مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرتے ہیں، جنہیں نہ علاج میسر ہے، نہ تعلیم اور نہ انصاف، ان سے خدا کیوں ناراض ہوگا؟

    دین سے دنیا کمانے والے پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ متاثرہ عوام اپنی مشکلات کو حکمرانوں کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی بجائے خدا کی ناراضگی سمجھیں اور توبہ و اصلاح کریں۔ گویا زمینی آقاؤں کو کسی تبدیلی یا جواب دہی کی ضرورت نہیں۔

    دنیا کے ایک سو پچاس سے زائد ملکوں میں بارشیں ہوتی ہیں، لیکن صرف پاکستان جیسے مسلم ملک میں یہ غریبوں پر خدا کا عذاب بن جاتی ہیں۔ جبکہ اسرائیل جیسے اسلام دشمن ممالک میں حفاظتی انتظامات کی بدولت بارشوں کے باوجود انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان صرف خدا کے غضب کا نشانہ بننے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں؟ کیا ہمارا خدا صرف تکلیفیں دینے پر قادر ہے تاکہ ہم راہِ راست پر آجائیں؟ وہ امن و سکون عطا کرکے ہدایت کیوں نہیں دیتا؟ ہر مسلمان ہدایت کا طلبگار ہے، پھر خدا ہدایت مانگنے والوں کو مصیبتوں میں کیوں ڈالتا ہے؟

    اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی جہالت اور نااہلی کو چھپانے کے لیے خدا کے نام کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ کافر ممالک کے حکمران خدا کو نہ مانتے ہوئے بھی اسلامی اصولوں کو قانون بنا کر اپنے عوام کو نقصان سے بچاتے ہیں اور ترقی کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جھوٹ، ملاوٹ، دھوکہ اور بددیانتی کو روزگار کا اصول بنا لیا گیا ہے، اس لیے ان پر ویسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ "جیسی عوام ویسا حکمران”، لیکن یہ فرمان بھی ہم نے صحیح طور پر سمجھا نہیں۔ دراصل نیک اور پرہیزگار لوگوں کی وجہ سے معاشرے سدھرتے ہیں، نہ کہ جاہلوں کی وجہ سے بگڑتے ہیں۔

    تمام انبیاء کرامؑ بدترین حالات میں، جاہل ترین معاشروں میں مبعوث ہوئے، حتیٰ کہ خاتم النبیین حضرت محمدؐ بھی ایسے معاشرے میں تشریف لائے جو جہالت اور ظلم کا شکار تھا۔ لیکن خدائی قوانین کے نفاذ سے انہی جاہلوں کو راہنما بنایا اور ایک تباہ حال معاشرے کو حقوق العباد اور حقوق اللہ کی بنیاد پر عزت اور آسانی عطا کی۔

    سوال یہ ہے کہ جب خدا کے برگزیدہ ترجمان سخت ترین حالات میں ہدایت کے چراغ جلا گئے تو آج دین کے نام پر ترجمانی کرنے والے صرف غریب مسلمانوں پر کیوں سختی کرتے ہیں؟ ان کا بس صرف کمزور عوام پر ہی کیوں چلتا ہے؟ اسلام دشمن قوانین نافذ کرنے والے، سود مسلط کرنے والے اور جمہوریت کے نام پر اسلامیت کو روندنے والے حکمرانوں کو اسلام کی راہ پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ ان ترجمانوں کے پاس اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی طاقت اور مواقع ہیں، مگر وہ صرف عام لوگوں کو ہی توبہ کا درس دیتے ہیں۔

    اصل میں یہ جماعتیں اسلام کے حسینؓ سے نہیں بلکہ یزید کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہیں۔ اقتدار و دولت کے نشے میں گمراہ حکمران اگر اپنی اصلاح آپ کریں، طاقت کی بیساکھیاں پھینک کر عوامی خدمت کے راستے پر چل پڑیں تو زمین بھی ان کا استقبال کرے۔ جیسے ہی کوئی شخص پاک نیت سے پہلا قدم اٹھاتا ہے، منزل اس کی طرف بڑھتی ہے۔

    معاشرے کی اصلاح کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمیشہ حضرت علیؓ کا قول یاد آتا ہے کہ "دنیا اس لیے بری نہیں کہ برے لوگ زیادہ ہیں بلکہ اس لیے بری ہے کہ اچھے لوگ خاموش ہیں۔” سوال یہ ہے کہ اچھے لوگ برائی کے آگے دیوار کب بنیں گے؟

  • پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جدید وائی فائی 7 ٹیکنالوجی کے لیے 6 گیگا ہرٹز بینڈ کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    پی ٹی اے کے اعلامیہ کے مطابق آئندہ آنے والی تمام وائی فائی جنریشنز کے لیے بھی 6 گیگا ہرٹز بینڈ میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنارہے ہیں۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وائی فائی 7 تیز ترین ڈیٹا ریٹس، نہایت کم لیٹنسی اور شاندار کارکردگی فراہم کرتا ہے، جو جدید انٹرنیٹ ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    پی ٹی اے کے مطابق یہ ٹیکنالوجی گھروں، چھوٹے کاروباروں، تعلیمی اداروں، صحت عامہ کے مراکز اور اسمارٹ سٹی منصوبوں میں تیز تر اور قابلِ اعتماد کنیکٹیوٹی کو یقینی بنائے گی۔ماہرین کے مطابق وائی فائی 7 کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو ملک میں جدید آئی ٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ترقی کو مزید تقویت دے گا۔

    پاکستان میں سیلاب سے تباہی، چین کا بھرپور امداد کا اعلان

    غزہ کے انتظامی امور کی قیادت ٹونی بلیئر کو ملنے کا امکان

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کا کراچی کا دورہ مکمل

    غزہ میں نیتن یاہو کا خطاب زبردستی سنانے پر اسرائیلی فوج اور اہل خانہ برہم

  • سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    قدرتی آفات رب کی طرف سے انسانوں‌پر آزمائش ہوتی ہیں لیکن کبھی یہ حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ بھی ،خیبر پختونخوا میں سیلاب قدرتی لیکن پنجاب کے اضلاع میں سیلاب بھارت کا آبی حملہ تھا،دریا کنارے آبادیاں ڈوب گئیں، لاہور کے نواحی علاقے بھی محفوظ نہ رہے تو وہیں جنوبی پنجاب میں تباہی کا منظرشدید تھا،لاکھوں افراد بے گھر،مکان ڈوب گئے،املاک بہہ گئیں،شہریوں نے جانیں بچائیں مگر اور کچھ نہ بچا سکے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات طہٰ منیب کی قیادت میں الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کا ایک وفد لاہور سے جلال پور پیر والا کے لیے روانہ ہوا ،تو راقم بھی اسکا حصہ تھا،صحافی، جو لفظوں کو ترتیب دے کر کہانیاں سناتے ہیں، وہاں جا کر خود ایک کہانی بن گئے،خیمہ بستیوں میں بوڑھے والدین کی جھریوں میں چھپی کہانیاں، ماؤں کی آنکھوں میں بے بسی، اور مرکزی مسلم لیگ کے پلے گراؤنڈ میں کھیلتے بچے،ایسا منظر کہ کئی صحافی کچھ دیر تک ساکت کھڑے رہے،میڈیا وفد نے مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیاں دیکھیں، مددگار اسکولوں کا دورہ کیا، فیلڈ ہسپتالوں کا معائنہ کیا، کشتی پر سفر کر کے ان علاقوں کو دیکھا جو ابھی تک ڈوبے ہوئے، چھتوں پر سولر تو نظر آ رہے مگر چھتیں غائب،

    جلال پور پیر والاجہاں کبھی ہریالی کی چادر تنی رہتی تھی، زندگی اپنی پوری توانائی سے رواں دواں تھی، آج وہاں تاحد نگاہ پانی،بستیوں کی بستیاں زیر آب آ گئیں،بھارتی آبی دہشت گردی کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے جلال پور پیر والا کی بستیوں کو آہوں، سسکیوں بدل دیا ،وہ پانی جو کھیتوں کو سیراب کرتا تھا، آج گھروں، اسکولوں،سڑکوں اور گلیوں کو بہا لے گیا ہے۔جلال پور پیر والا کے گلی کوچے اب مٹی اور پانی کی آمیزش میں گم ہو چکے ، کچے مکانوں کی دیواریں زمین بوس ہو چکیں، صحنوں کے چراغ بجھ چکے، اور دریچوں سے اب خوشبو نہیں، نمی کی بو آتی ہے،کسی بزرگ کے کمرے میں رکھی وہ پرانی لکڑی کی پیٹی جو کبھی جہیز کی نشانی تھی، اب پانی میں تیرتی دکھائی دیتی ہے،کئی گھروں کی چھتیں غائب ہیں، ایک ایک منزل اب بھی ڈوبی ہوئی، تاحد نگاہ پانی….یہ کراچی کا سمندر نہیں بلکہ جلال پور پیر والا کا منظر ہے جہاں کئی روز گزرنے کے باوجود پانی موجود اور متاثرین گھروں کو جانے کو بے تاب ہیں،جلال پور و گردونواح میں سیلاب نے نسلوں کی محنت، جوانی کی کمائی، بچوں کے کھلونے، کتابیں، عورتوں کی چادریں، اور بوڑھوں کے عصا تک بہا دی،وہ علاقے جو سالہا سال سے سایہ دار درختوں سے مزین تھے، آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں،جانور، جنہیں اہلِ دیہات خاندان کا فرد سمجھتے تھے، پانی میں ڈوب چکے،گھروں کا سامان پانی میں تنکے کی طرح بہہ گیا،مکین دیکھتے رہے لیکن بے بسی کا منظر،اپنی جان اور تن پر پہنے کپڑوں کے علاوہ کچھ بچا نہ سکے

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا کے عوام نہ صرف پانی میں ڈوبے بلکہ حکومتی بے حسی کی گہرائی میں بھی غوطہ زن ہوئے،ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگنے والے سیلابی پانی میں ڈوبتے عوام کو بچانے نہ آئے، کوئی وزیر، کوئی مشیر، کوئی افسر نہ آیا جہاں اب بھی تاحد نگاہ پانی ہے،حکومت کی طرف سے نہ امداد،نہ خوراک،نہ صاف پانی، نہ ادویات اور نہ ہی گھروں کی بحالی کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آیا۔تاہم، اس مشکل وقت میں ماضی کی طرح اس بار بھی اگر کوئی مدد کو آیا تو وہ رفاہی تنطٰمیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعتیں جن کا منشور خدمت کی سیاست ہے، اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں آئیں اور حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت نظر آئیں،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے جلال پور میں چار خیمہ بستیاں،ہزاروں افراد مقیم،تین وقت کا کھانا،مفت علاج معالجہ،خیمہ بستیوں میں سولر پینل،پنکھے،چارپائیاں غرضیکہ ہر سہولت متاثرین کو میسر ہے جو وہ چاہتے تھے،

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا میں سیلاب تو چلا جائے گا، پانی خشک ہو جائے گا، مگر ان آنکھوں کے آنسو؟ ان بچوں کی سسکیاں؟ ان ماں باپ کی ٹوٹی امیدیں؟وقت شاید زخموں کو بھر دے، مگر وہ نشان، جو اس سیلاب نے روح پر چھوڑے ہیں، شاید کبھی نہ مٹیں،پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ جو سیلاب متاثرین کے لئے وسیع پیمانے پر ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہے نے متاثرین کی گھروں کو واپسی تک خدمت کا عزم کر رکھا ہے،مرکزی مسلم لیگ کی یہ کاوش کہ میڈیا خود آنکھوں سے دیکھے، کانوں سے سنے، اور دل سے محسوس کرے،ایک غیر روایتی، مگر انتہائی مؤثر عمل تھا،وفد میں شامل صحافیوں نے اپنے تاثرات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسی بے بسی، ایسا درد، اور ایسی خاموش چیخیں پہلے کبھی نہیں سنیں ،ضرورت اس امر کی ہے ایوان اقتدار ہوش میں آئے،بھارتی آبی جارحیت کے خلاف منظم،متحدہ لائحہ عمل بنایا جائے اور آئندہ بھارتی واٹر بم کے نتیجے میں ہونے والی کسی ایسی تباہی کو روکنے کے لئے سدباب کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ تو کام کرتی رہے گی لیکن کاش…..پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتیں بھی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں.

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے

    فوجی اور سیاسی قیادت کا متفقہ موقف پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں۔ خارجہ محاذ کی اگر بات کی جائے تو پاکستانی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا۔ ملکی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم پاکستان اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوستی کو بڑھانے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا اور امریکہ کو بھی برابری کی سطح پر نہ سہی لیکن ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان کی خود مختاری کا پاس رکھنا ہوگا یہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں امریکہ پاکستان کے تیل ذخائر کو دریافت کرنے کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ساتھ ہونا ایک اہم اشارہ ہے یعنی پاکستان کا یہ پیغام اس کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک متفقہ موقف پیش کرنا چاہتی ہے۔

    یہ تمام عوامل مل کر اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ اپنے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور اسے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک زیادہ فعال اور متوازن مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اگر ملاقات نتیجہ خیز ہو اور امریکہ پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بہتر تعاون پاکستان کو بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نیٹ ورکس کو ٹرانس نیشنل سطح پر نشانے پر لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھ سکتی ہے مالی معاونت مل سکتی ہے تو پاکستان داخلی سلامتی کو تقویت مل سکتی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ممکنہ طور پر امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ چین، بھارت، امریکہ توازن میں خود کو ایک مفید شرکت دار ثابت کرے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک اہم شریک سمجھے تو پاکستان کو علاقائی سیاست میں وزن ملے گا بھارت اس ملاقات کو چین، امریکہ، پاکستان کی تاثیر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ سخت رد عمل دے یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان پر تنقید کرے۔

    پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سرمایہ کاری حالات شفاف نہیں ہیں کچھ علاقوں میں سکیورٹی مسائل ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔ موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر عوامی یا سیاسی اپوزیشن حلقے یہ کہیں کہ اس طرح کی نتیجہ خیز ملاقاتوں میں قومی مفادات قربان کیے جائیں تو اندرونی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ملاقات خود پاکستان کے لیے گیم چینجر بن جائے گی مگر اس میں اتنی قابلیت ضرور ہے کہ اگر موثر حکمت عملی، شفافیت، سیاسی حوصلہ، دیر پا منصوبہ بندی شامل ہو تو اس کے بہت اہم مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ چاہے کہ اس ملاقات کا بہتر فائدہ ہو اسے چاہیے کہ امریکی معاہدوں کی شرائط کو اچھی طرح سمجھے اپنی خود مختاری کو یقینی بنائے۔ داخلی اصلاحات، قانونی شفافیت، صوبائی مساوات اور سکیورٹی حکمت عملی کو بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری محفوظ ہو اور عوام کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی تعلقات کا خیال رکھے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ پاکستان صرف امریکہ کا ہی اتحادی نہیں بلکہ ایک خود مختار ملک جو علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    مہنگائی اور غربت پاکستان کے عام آدمی کے لیے نئی بات نہیں رہی، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے زندگی کو ایک مسلسل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گھر چلانا، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کروڑوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔ پہلے ہی معاشی حالات نازک تھے، مگر حالیہ سیلاب نے معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ زرعی زمینیں ڈوب گئیں، فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے اور دیہی معیشت کا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا۔ چونکہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، اس تباہی کا اثر شہروں تک بھی براہِ راست پہنچا، جہاں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    گھریلو معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ اور گوشت — سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کھانے کو کبھی عام گھرانوں کی میز پر لازمی سمجھا جاتا تھا، وہ آج کئی گھروں کے لیے خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی لوگوں کو دبا رہے ہیں، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں غریب آدمی کے پاس جو چند سو روپے بچتے ہیں، وہ بھی چند دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ پاتے۔

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے صرف دیہی علاقوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ شہروں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے، جن میں مزدور اور ہنرمند اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دکاندار مال رکھ کر بھی پریشان ہیں کیونکہ خریدار کے پاس قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ اس کمی نے اجرتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گزارے لائق کما لیتا تھا، آج اسے آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ عزت نفس اور وقار پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو کھانے کے لیے روٹی نہ دے سکے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو دوا نہ دلا سکے، تو یہ صرف مادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناامیدی بڑھ رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اپنی محرومیوں کا اظہار کبھی احتجاج، کبھی جرم اور کبھی مایوسی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ گٹھ جوڑ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، تیزی سے غریبوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں کے لیے شجرِ ممنوعہ بنتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، لیکن شہر پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس ہجرت نے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور جرائم کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    مزید برآں، مہنگائی اور غربت خواتین اور بچوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین گھریلو بجٹ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے کم خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور تعلیم میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ نسل کمزور جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے ساتھ بڑے ہوں گی۔

    سیلاب اور مہنگائی نے کسانوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ایک ساتھ عوام کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کسان جس زمین پر اپنی محنت کرتے ہیں، وہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ کھڑی کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف دیہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شہروں میں مہنگائی اور روزگار کی کمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سیلاب نے صرف کھیتوں کو نہیں ڈبویا بلکہ معیشت کی سانسیں بھی روک دی ہیں۔ حکومت کے فوری اقدامات کے بغیر یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسان دوبارہ کھڑا ہو سکے اور غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولتیں دے کر روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کی اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی اور سماجی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

    آخر میں سوال یہ ہے کہ جب گھریلو معیشت ہی سانس نہیں لے پا رہی تو ملک کی بڑی معیشت کس طرح صحت مند رہ سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کا چولہا بجھ گیا تو ملک کی ترقی کے تمام خواب محض نعرے رہ جائیں گے۔ مہنگائی اور غربت کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ریاست، حکومت اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ ورنہ یہ مسائل آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے، اور ملک کی ترقی صرف خواب ہی رہ جائے گی۔