Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان.تحریر۔بنتِ حوا

    شانِ پاکستان.تحریر۔بنتِ حوا

    شانِ پاکستان
    تحریر۔بنتِ حوا
    ایک عقیدت بھرا سلام، اس پاک سرزمین کے نام!
    پاکستان، صرف ایک ملک نہیں…
    یہ ایک دعاؤں کی قبولیت ہے، ایک شہادتوں کی روشنی ہے، ایک عزمِ فولادی، ایک وعدہ ربانی ہے۔
    یہ وہ سرزمین ہے جس کے خمیر میں کلمہ توحید شامل ہے۔
    یہ وہ خطہ ہے جسے خدا نے نہریں، پہاڑ، دریا، کھیت، معدنیات، غیرت مند قوم، اور ایٹمی طاقت سے نوازا۔

    یہ چمن یونہی رہے گا قائم و دائم، ان شاءاللہ
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    (حفیظ جالندھری)

    یہ ملک کسی سازشی میز پر بیٹھ کر نہیں بنا،یہ کربلا کی یاد تازہ کرتے ہوئے، ہجرت کی تکلیفیں جھیل کر، ماؤں، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کی قربانیوں کے بدلے میں ملا۔یہ وہ وطن ہے جس کے لیے قائداعظم محمد علی جناح نے بیماری میں بھی آرام نہ کیااور علامہ اقبال نے جو تصور خواب میں دیکھا، اسے فکر، فلسفہ اور اشعار سے جلا بخشی۔

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

    (اقبال)

    پاکستان کی مسلح افواج ہماری غیرت کی دیوار، امن کی ضمانت اور خوفِ دشمن کی بنیاد ہیں۔کارگل ہو یا سوات، سیلاب ہو یا زلزلہ، یہ بیٹے ہمیشہ سب سے آگے رہے۔جب پاک فوج چلتی ہے، تو پہاڑ جھکتے ہیں، دشمن کانپتے ہیں،اور پوری قوم کا دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

    خون اپنا ہو یا پرایا ہو
    نسلِ آدم کا خون ہے آخر

    (فیض احمد فیض)

    پاکستان کی سرزمین اتنی زرخیز ہے کہ اگر سچائی سے کاشت کی جائے، تو سونا اگلے۔پنجاب کے کھیت، سندھ کی نہریں، بلوچستان کے خزانے، خیبر پختونخواہ کی پہاڑیاں اور گلگت کی وادیاں سب مل کر پاکستان کا حسن ہیں۔

    خدا کے فضل سے یہ سرزمین ہے بڑی پیاری
    یہی ہے میری جنت، یہی میری عطا ساری

    پاکستان کا ادب، شاعری، موسیقی، مصوری ، سب کچھ ایک ایسی روح ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔
    فیض، جالب، پروین شاکر، بانو قدسیہ، نصرت فتح علی خان، مہدی حسن . ان سب کا فن، پاکستان کی پہچان ہے۔

    دل دل پاکستان، جان جان پاکستان
    میرے ہوش و خرد کی پہچان پاکستان

    پاکستان کی اصل "شان” اُس کے نوجوان ہیں، وہ نوجوان جو سافٹ ویئر انجینئر بھی ہیں، فوجی کیڈٹ بھی، ڈاکٹر بھی، کھلاڑی بھی اور شاعر بھی۔
    یہی وہ نسل ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، فنون اور ادب میں پاکستان کا جھنڈا دنیا بھر میں بلند کر رہی ہے۔

    نہیں ہے نا اُمیدی، کفر ہے نا اُمیدی
    نہیں اپنی فطرت میں، کمزوری و زاری

    (اقبال)

    پاکستان ایٹمی طاقت، خودمختار اور باوقار ملک ہے۔28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑ گرجے، اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان صرف محبت کا علمبردار ہی نہیں، بلکہ اپنے دفاع کا ضامن بھی ہے۔ہم امن چاہتے ہیں، لیکن غلامی ہرگز قبول نہیں۔

    ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں
    ہم سب کی ہے پہچان، پاکستان

    یہ ملک صرف مسلمانوں کا نہیں، اقلیتوں کا پاکستان بھی ہے۔پاکستان صرف مسلمانوں کا وطن نہیں، بلکہ یہ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، سب کے لیے برابر کا گھر ہے۔یہاں مندر بھی ہیں، گرجا بھی، گردوارے بھی اور مسجدیں بھی .سب ساتھ سانس لیتے ہیں۔

    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    (حبیب جالب)

    آج اگرچہ مسائل ہیں، مہنگائی ہے، بدعنوانی ہے، لیکن یہ سب عارضی ہے۔جس قوم نے صفر سے ملک بنایا، جو قوم سروں پر کفن باندھ کر جنگیں لڑی، وہ قوم ان چیلنجز سے بھی نکلے گی۔

    اے ارضِ وطن، ہم تجھے سنواریں گے
    دھو لیں گے تیرے داغ، تجھے چمکائیں گے

    پاکستان… ہمارا فخر، ہماری جان ہے
    شانِ پاکستان صرف فوج، ثقافت، یا ایٹم بم نہیں … بلکہ ہر پاکستانی کا کردار، سچائی سے کمائی گئی روٹی، نماز میں اُٹھنے والے ہاتھوں کی دعا اور قربانیوں کی خوشبو ہے۔

    آئیے آج تجدیدِ عہد کریں:

    ہم پاکستان کو صرف وطن نہیں، امانت سمجھیں گے۔ہم نفرت نہیں، محبت بانٹیں گے۔ہم زبان، نسل، فرقے کے بجائے، قوم اور انسانیت کو ترجیح دیں گے۔اور سب سے بڑھ کر، ہم پاکستان کو فخر کا مقام دلائیں گے۔

    چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
    میرے خوابوں کا گلشن، یہی ہے وطن
    میرے نغموں کی چاہت، یہی سرزمین
    میری جنت، میرا عشق، میرا پاکستان!

    پاکستان زندہ باد، پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:کشور آپی

    شانِ پاکستان
    تحریر:کشور آپی
    "مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی”
    دل موہ لینے والی آواز ریشماں.. کیا کہنے ہیں اس کے۔ درد بھرا ہوا ہے اس کی آواز میں۔ جو کلام بھی پڑھتی ہے، اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ لہجہ سادہ، سچا، ایسا لگتا ہے جیسے اس کا کلام کہیں دیہات میں بیٹھ کر سن رہے ہوں۔

    عامر کو تو جیسے ریشماں کے کلام کی عادت ہوگئی تھی۔ صبح سویرے اٹھنا، نماز پڑھنا، واک پر جانا اور ساتھ میں موبائل پر ریشماں کے گیت بلیوٹوتھ کے ذریعے سننا۔ یونیورسٹی میں بھی چپ چاپ رہنا۔
    "کیا مسئلہ ہے یار؟” اکثر میں پوچھتا، اور وہ چپ کر جاتا۔ ایک دن وہ پھٹ پڑا۔ کہنے لگا:
    "زاہد! تمہارے گھر میں کون کون ہیں؟”

    میں نے کہاکہ "تم نے یہ کیا سوال کر دیا؟ کون کون ہیں؟ ظاہر ہے بھئی ابو، امی، بہن، بھائی، اور کون ہوتا؟ میری شادی ہو جاتی تو تمہاری بھابھی بھی ہوتی، مگر ابھی تو میں سنگل ہوں۔”

    عامر بولا: "زاہد! میرے گھر میں میری امی نہیں ہیں۔ وہ فوت ہوگئی ہیں۔”
    زاہد بولا: "بھائی، معاف کر دو، مجھے پتہ نہیں تھا۔ تمہاری امی کب فوت ہوئیں؟”

    عامر نے افسردہ ہو کر کہاکہ "میں تقریباً دو سال کا تھا جب میری امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ تم جب یونیورسٹی جاتے ہو تو تمہاری امی تمہیں ناشتے کے لیے آوازیں دے رہی ہوتی ہیں۔ تب مجھے اپنی امی بہت یاد آتی ہیں، کہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو مجھے بھی اسی طرح آوازیں دیتیں۔” عامر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔

    زاہد کو اب سمجھ آئی کہ آخر عامر کیوں ریشماں کا یہ گیت بار بار سنتا ہے۔
    زاہد نے عامر سے پوچھا کہ کیا اس کے ابو نے دوسری شادی نہیں کی؟

    وہ بولا: "کی ہے یار، بھلا کون اتنے عرصے تک اکیلا رہ سکتا ہے۔ میری دوسری امی ہیں مگر ان کا سلوک میرے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ سارا دن مجھ سے گھر کے کام کرواتی رہتی ہیں، ابو سے شکایتیں لگاتی ہیں کہ میں ان سے صحیح طرح سے بات نہیں کرتا، ان کا کہنا نہیں مانتا اور یہیں پر بس نہیں کرتیں، مجھے ابو سے پٹواتی ہیں۔”

    زاہد بولا: "یار دنیا میں غم بھرے پڑے ہیں۔ کسی کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے، کسی کے پاس چھت نہیں ہے، کسی کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ کسی کو برداشت نہیں کرتا۔ یہی تمہاری سوتیلی ماں کا حال ہے۔ وہ بیوہ ہو کر آئی ہے مگر اسے تمہاری قدر نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں تم ایک نیک لڑکے ہو۔ دنیا میں ایک سے ایک عیاش، بدتمیز انسان ہے، مگر تم پانچ وقت کے نمازی اور اپنی پڑھائی کرنے والے انسان ہو۔ کیسے وہ یہ سب کر لیتی ہے؟ کیا اس کا ضمیر مر گیا ہے؟ وہ ایک بن ماں کے بچے کے ساتھ یہ ظلم کر رہی ہے۔ خدا اسے ہدایت دے اور اس کے دل میں تمہارے لیے رحم ڈالے۔”

    عامر ایک دن زاہد سے ملنے آیا تو عامر کی امی (سوتیلی) نے پردے کی اوٹ سے کہہ دیا کہ "بیٹا وہ نہیں ہے، گھر کا سودا لینے گیا ہے، آ جائے گا تو بتا دوں گی۔” عامر اس دن پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ اگر میری ماں ہوتی تو وہ بھی مجھے "بیٹا” کہتی۔

    زاہد عامر کے گھر گیا۔ جیسے ہی بیل بجائی، عامر نکل کے باہر آ گیا۔ عامر کی آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں۔ زاہد نے پوچھا تو بتایا کہ "آنکھ میں کچھ گر گیا تھا۔”

    عید آئی تو عامر عید پڑھنے کے بعد گھر آیا اور سویاں کھا کر سو گیا۔ اسی گلی میں اس کے ماموں رہتے تھے۔ عامر کی والدہ کے فوت ہو جانے کے بعد وہ کبھی ان کے گھر نہیں آئے تھے۔ جب عامر کا دل کرتا تو وہ اپنے ماموں کے گھر چلا جاتا، ماموں کے بچوں سے کھیل کر واپس آ جاتا۔ اس کی ممانی بہت اچھی تھیں۔ وہ عامر کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتیں، کھانا کھلاتیں اور پیسے دیتیں تاکہ وہ اپنی من پسند چیز کھا لے۔

    عامر کے ابو کا کلینک تھا اور وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ وہ جو بھی جیب خرچ عامر کو دینے کے لیے اپنی بیوی کو دیتے، وہ اپنے پاس رکھ لیتی اور عامر کو کچھ نہ دیتی۔

    زاہد اس کے گھر کے حالات سن سن کر پریشان ہوتا، مگر صبر کے سوا چارہ نہ تھا۔

    زاہد، عامر اور یونیورسٹی کے لڑکوں نے ٹرپ پر جانے کا فیصلہ کیا تو عامر نے کہاکہ "یار میں تو پڑھائی کرنا چاہتا ہوں، تم لوگ ہو آؤ۔ فی الحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔” زاہد کو پتہ تھا کہ آخر یہ کیوں جانے سے انکار کر رہا ہے۔ زاہد نے عامر کے ابو سے اجازت لی اور عامر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔

    سوات جا کر عامر بہت خوش ہوا کیونکہ وہ جب چھوٹا تھا تو اس کے ابو اسے پارک یا جھیل پر لے جاتے تھے، لیکن اب تو سب اسے خواب لگنے لگا تھا۔

    سوات میں اس نے خوب مزے کیے۔ جھیل، آبشاریں، جھرنے اور مخملیں فرش جیسے راستے اور موسم خوشگوار ، کبھی ہلکی ہلکی بوندا باندی اور کبھی بارش۔ ہوٹل سیاحوں سے بھرے پڑے تھے۔ گرمی سے بلکتے انسان خوشگوار موسم کی تلاش میں یہاں کا رخ کرتے ہیں اور کچھ دن گزارنے کے بعد اپنے اپنے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور حسین یادیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ زاہد اور عامر نے بھی کئی ویڈیوز اور تصاویر بنائیں اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ زاہد اور عامر کا گروپ بھی ایک ہفتہ گزارنے کے بعد اپنے شہر روانہ ہوگیا۔

    عامر پہلے سے بہتر لگ رہا تھا۔ اب وہ اپنی سوتیلی امی کی باتوں کو نظر انداز کرنے لگا اور خوش رہنے لگا۔ زاہد کو بھی اسے اس طرح دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

    زاہد اب ہر چوتھے یا پانچویں ماہ سیر کا پروگرام بناتا اور عامر کے ابو سے اجازت لے کر عامر کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا۔ اسے دکھ صرف یہی تھا کہ اس کی سوتیلی ماں اس سے اچھا سلوک نہیں کرتی تھی اور عامر کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ ہنسنا بھول گیا تھا اور ہر وقت افسردہ رہنے لگا تھا۔

    سیر پر جانے سے عامر کی حالت تبدیل ہو گئی اور وہ خوش خوش رہنے لگا۔ یونیورسٹی میں عامر اور زاہد کا آخری سال تھا، مگر ان کی دوستی اب بھی ویسی ہی ہے جیسی پہلے دن تھی۔

    یہی ہمارے ملک کی شان ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو اکیلا نہیں چھوڑتا، ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور مل جل کر ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو شاد و آباد رکھے اور سب کو پیار اور محبت سے رہنے کی توفیق دے۔
    آمین ثم آمین۔

    میری ہردم ہے دعا یا رب
    اس وطن کو رکھے سدا یا رب
    پھول ایسے کھلیں اس میں
    جو تا قیامت مہکتے رہیں
    اس وطن کی مٹی میں
    پیارے شہید ہیں سوئے ہوئے
    جان اپنی قربان کرکے
    جنت میں اعلیٰ مقام ہیں پاتے
    اس وطن کے یہ رکھوالے
    اپنا تن، من، دھن لٹاتے ہیں
    اے وطن کے باسیو تم
    خوش رہو اور ایک ہو جاؤ

  • شانِ پاکستان.تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    شانِ پاکستان.تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    شانِ پاکستان
    تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    وطن…
    ایک لفظ نہیں، ایک دھڑکن ہے،ایک سایہ ہے جو تپتے سورج میں چھاؤں بن کر برستا ہے،ایک آنگن ہے جس میں نسلیں پلتی ہیں،ایک مٹی ہے جسے بوسہ دینے سے ماتھے کا نصیب جاگتا ہے۔

    پاکستان…
    کوئی نقشہ نہیں، کوئی نشان نہیں،بلکہ وہ خواب ہے جو ایک شاعر کی پلکوں سے ٹپکا،ایک قائد کے حوصلے سے ابھرا،اور ایک قوم کے لہو سے رنگین ہوا۔

    یہ وطن ہمیں صدیوں کے انتظار، لاکھوں کی قربانی اور کلمۂ توحید کی گونج کے ساتھ ملا۔یہ وہ تحفہ ہے جو تاریخ نے ہمیں کانٹوں سے چن کر دیا۔
    مگر سوال یہ ہے کہ…”ہم نے اس تحفے کی حفاظت کیسے کی؟”

    وہ دن، وہ منظر، وہ قربانی
    چودہ اگست 1947 کا سورج فقط طلوع نہ ہوا،وہ اپنے ساتھ قافلوں کی آہیں، بچوں کی چیخیں اور ماؤں کی سسکیاں لے کر طلوع ہوا۔

    راستوں پر خون تھا، مگر زبانوں پر "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ تھا۔بکھری لاشوں کے درمیان جھنڈا بلند تھا۔ریلوے اسٹیشنوں پر آنکھوں کے سامنے خاندان مٹ رہے تھے،مگر دل میں امید کی شمعیں روشن تھیں۔

    پاکستان ایک انقلابی دعا کا قبول ہونا تھا۔یہ مٹی محض سرحدوں میں قید ایک ملک نہیں،یہ ہماری شناخت ہے، ہماری زبان، ہماری ثقافت، ہمارا وقار۔

    شانِ پاکستان کیا ہے؟
    شانِ پاکستان وہ مینار نہیں جو صرف تصویر میں ہے،بلکہ وہ اذان ہے جو مسجد کے مینار سے ہر صبح ہمیں جگاتی ہے۔وہ مزار نہیں جو ہری جالیوں میں چھپا ہے،بلکہ وہ بازار ہے جہاں ایک باحجاب بیٹی رزقِ حلال کے لیے کام کرتی ہے۔

    شانِ پاکستان وہ سپاہی ہےجو برف کی چادر میں لپٹا، پہرہ دے رہا ہے۔شانِ پاکستان وہ اُستاد ہےجو چاک کے گرد اپنی زندگی کا دائرہ بنا کر نسلیں بناتا ہے۔شانِ پاکستان وہ کسان ہے،جو سورج کے ساتھ بیدار ہوتا ہے اور مٹی کو سونا بنا دیتا ہے۔

    مگر آج…!ہم نے وطن کی محبت کو صرف نعروں تک محدود کر دیا۔ہم نے پرچم کو دیوار پر چڑھا دیا، مگر دل سے اتار دیا۔قانون کا مزاق، انصاف کی بولی،اخلاق کی موت، سچ کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔جس ریاست کو "مدینہ کی جھلک” بننا تھا،وہاں نعرے تو بہت ہیں، لیکن کردار مفقود ہے۔

    مزاحمت: شان کا اثاثہ
    تاریخ شاہد ہے کہ قومیں جنگوں سے نہیں، ضمیر کے بیدار ہونے سے بنتی ہیں۔پاکستان کی اصل شان وہ ہےجو اپنے اندر سچ، غیرت، اور قربانی کو زندہ رکھے۔وہ شان ضمیر کے بیدار لمحے میں ہے،جب ایک طالبعلم کمرہ امتحان میں نقل سے انکار کرتا ہے۔وہ مزاحمت ہے،جب ایک دیہاڑی دار مزدور حرام کی روٹی ٹھکرا دیتا ہے۔وہ روشنی ہے،جب ایک شاعر ظلم کے خلاف نظم لکھتا ہے، چاہے پابند سلاسل ہو جائے۔وہ غیرت ہے،جب ایک بچی گاؤں میں اسکول نہ ہونے پر چھت پر بیٹھ کر پڑھتی ہے،اور کہتی ہےکہ”ایک دن میں استاد بنوں گی، اس پاکستان کے لیے!”

    امید کا چراغ
    اگرچہ اندھیرے بہت ہیں،لیکن روشنی مر نہیں گئی۔آج بھی کوئی استاد بچوں کے ہاتھوں میں قلم دے رہا ہے۔آج بھی کوئی ماں بچے کو سچ بولنا سکھا رہی ہے۔آج بھی کوئی نعت خواں وطن سے محبت کو ترنم میں سجا رہا ہے۔اور آج بھی کوئی نوجوان فیس بک پر نہیں، میدانِ عمل میں پاکستان کے لیے جیت رہا ہے۔

    اب کیا کرنا ہے؟
    اب وقت ہے کہ ہم صرف تقریریں نہ کریں، کردار دکھائیں۔وطن سے محبت صرف نعرہ نہ ہو، وعدہ ہو۔جشنِ آزادی صرف رنگوں کی بہار نہ ہو، عمل کا چمن ہو۔ہر فرد ایک چراغ بنے، ہر دل ایک منار بنے۔اور ہر زبان، "پاکستان زندہ باد” سے پہلے "میں زندہ باد کیسے بنوں؟” کا جواب دے۔

    حلفِ وفاداری
    آئیے، آج چودہ اگست کے دن،نئے کپڑے پہننے سے پہلے نیا عہد کریں۔ہم سچ بولیں گے۔ہم ایماندار رہیں گے۔ہم وطن کے وفادار ہوں گے۔ہم اپنے قلم، اپنی سوچ، اپنے قدم اور اپنے خواب پاکستان کے نام کریں گے۔کیونکہ…”شانِ پاکستان وہ نہیں جو دکھائی دے،بلکہ وہ ہے جو جِھلکے، جو جلے، جو روشنی بنے!”

    پاکستان زندہ باد…….شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری

    شانِ پاکستان.تحریر:قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری

    شانِ پاکستان
    از قلم .قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری
    جب زمین پر ظلمتوں کے سائے چھا گئے، جب غلامی کی زنجیروں نے قوموں کی روحیں جکڑ لیں، تب ایک آواز اٹھی، ایک خواب جاگا ، پاکستان کا خواب۔ یہ خواب محض ایک ریاست کا نہیں تھا، یہ ایک نظریے، ایک عقیدے اور ایک جدوجہد کا نام تھا۔ پاکستان، جسے لاکھوں قربانیوں، خون سے بھیگے کفنوں اور ماؤں کی سسکیوں کے عوض حاصل کیا گیا، وہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ہمارے بزرگوں کی امیدوں اور دعاؤں کا حاصل ہے۔
    پاکستان، میری پہچان، میری جان!
    شانِ پاکستان اُن سپاہیوں میں ہے جو برفیلے مورچوں پر جاگتے ہیں تاکہ ہم سکون سے سو سکیں۔ شانِ پاکستان ان ماؤں کی آنکھوں میں ہے جو اپنے بیٹے کو کفن میں لپٹے دیکھ کر بھی فخر سے کہتی ہیں: "میرا بیٹا وطن پر قربان ہو گیا۔”
    شانِ پاکستان ان طلبہ میں ہے جو لائبریریوں کی گرد آلود میزوں پر بیٹھ کر دن رات محنت کرتے ہیں، تاکہ اس ملک کا مستقبل روشن ہو۔ شانِ پاکستان ان کسانوں کی ہتھیلیوں میں ہے جو سورج کی تپش میں پسینہ بہا کر ہماری روٹی اگاتے ہیں۔
    شانِ پاکستان تم ہو، میں ہوں، ہم سب ہیں!

    ہماری سرزمین کے ہر ذرے میں وہ طاقت ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی جھکا سکتی ہے۔ ہماری زبان، ہماری تہذیب، ہمارا لباس، ہمارے رسم و رواج ، سب "پاکستان” کا عکس ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اُس قوم سے ہیں جس نے ایٹمی طاقت بن کر دنیا کو دکھا دیا کہ اگر ہم پر امن ہیں تو کمزور ہرگز نہیں۔
    لیکن!
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فقط پاکستان سے محبت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ اسے عمل سے ثابت کریں۔ جھوٹ، دھوکہ، بدعنوانی، نفرت .یہ سب پاکستان کی شان کے دشمن ہیں۔ اگر واقعی ہمیں اس ملک سے محبت ہے، تو ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس کی عزت، ترقی اور عظمت کے محافظ ہیں۔

    اے پاکستان! تو صرف ایک وطن نہیں، تو میرا فخر ہے، میری غیرت ہے، میری پہچان ہے۔ میں تجھ پر جان بھی قربان کر دوں، مگر تیری عزت پر آنچ نہ آنے دوں۔ تو سلامت رہے، تو ترقی کرے، تو دنیا کی نظروں میں ایک مثال بنے — یہی میری دعا ہے، یہی میری خواہش، یہی میرا خواب ہے۔
    تو ہے شانِ پاکستان، اور میں تیرا سپاہی۔

  • مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کل 14 اگست 2025 ہے، پاکستان کا 78 واں یومِ آزادی۔ سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے، قومی ترانہ گونجے گا اور تقریبات میں بلند بانگ دعوے کیے جائیں گے کہ ہم ایک آزاد اور ترقی یافتہ قوم ہیں۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟ جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہو، جب بجلی کے بلز واپڈا کی سلیب گردی کی شکل میں غریبوں کی کمر توڑ رہے ہوں، تو یہ کیسی آزادی ہے؟ گیلپ پاکستان کے تازہ سروے جس میں 500 سے زائد کاروباری شعبوں کی آراء شامل ہیں، قوم کی تکلیف کو عیاں کر دیا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں، 18 فیصد یوٹیلٹی بلز کے اضافے سے نالاں ہیں اور فوری حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حکمران، خاص طور پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری جو عوام کو بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ پر مبنی کہانیاں اور مکارانہ چالیں چل رہے ہیں ،جو اقتدار کے نشے میں قوم کی چیخیں سننے سے قاصر ہیں۔

    78 سال قبل ہم نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی، لیکن آج ہم اپنے ہی حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی غلامی میں جکڑے ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ کاروباری طبقہ جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہنگائی کیا ہے؟ یہ وہ زہر ہے جو غریب کے دسترخوان سے روٹی چھین رہا ہے جو بچوں کو سکول سے دور کر رہا ہے، جو مریضوں کو دوا سے محروم کر رہا ہے۔ آٹا، دال، چینی، تیل ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اور حکمران؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم ترقی کی راہ پر ہیں۔ کس کی ترقی؟ چند سرمایہ داروں کی جو حکومتی سرپرستی میں پل رہے ہیں یا اس قوم کی جو بھوک اور افلاس سے مر رہی ہے؟

    یوٹیلٹی بلز کا معاملہ اور بھی تکلیف دہ ہے۔ سروے کے مطابق 18 فیصد تاجروں نے بجلی کے بھاری بلز کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ واپڈا کی سلیب گردی نے غریبوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سلیب سسٹم کوئی منصفانہ نظام نہیں، بلکہ ایک ظالمانہ ہتھیار ہے جو کم آمدنی والوں کو سزا دیتا ہے۔ تھوڑا زیادہ استعمال کیا، سلیب بدلی اور بل دگنا، تگنا۔ گرمیوں میں پنکھا، سردیوں میں ہیٹر ،یہ کوئی عیاشی نہیں ہے بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن واپڈا نے اسے لگژری بنا دیا۔

    وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں کہ “ہم نے بجلی کی قیمتوں میں کافی ریلیف دیا”۔ یہ کیسا ریلیف ہے ؟، جب فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور سلیب سسٹم نے غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی؟ اویس لغاری کی یہ بے سروپا دلیلیں، یہ مکارانہ چالیں، عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ 47 فیصد تاجروں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ لوڈشیڈنگ! 78 سال بعد بھی؟ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے گرڈ سسٹم کی اپ گریڈیشن خواب ہی رہا۔ 53 فیصد نے لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات کی، لیکن یہ کوئی کامیابی نہیں۔ یہ تو بنیادی حق ہے، جو نصف قوم سے چھینا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی سربراہی میں سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے محض کاغذی ہیں، جن کا کوئی عملی وجود نہیں۔

    حکمرانو! سنو، یہ یومِ آزادی ہے لیکن قوم پوچھ رہی ہے کہ مہنگائی سے کب آزادی ملے گی؟ سروے کے مطابق 11 فیصد تاجروں نے ٹیکسوں کے بوجھ کو اپنا مسئلہ قرار دیا۔ GST اور انکم ٹیکس بڑھ رہے ہیں لیکن بدلے میں سہولیات کیا ہیں؟ ٹوٹی سڑکیں، خالی ہسپتال، بغیر اساتذہ کے سکول۔ ٹیکس دے کر قوم کیا پا رہی ہے؟ صرف حکمرانوں کے محلات اور پروٹوکول؟ 6 فیصد تاجروں نے سیاسی عدم استحکام کو خطرہ قرار دیا۔ سیاسی انتشار نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے، دوسری جاتی ہے، لیکن مسائل وہیں کے وہیں۔ 7 فیصد نے قوت خرید میں بہتری کا مطالبہ کیا، 3 فیصد نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کی بات کی۔ یہ سب حکومتی ذمہ داری ہے لیکن وہ کہاں ہیں؟ اقتدار کی ہوس میں ڈوبے ہوئے۔

    سروے میں کچھ مثبت نکات بھی ہیں، لیکن وہ اویس لغاری کی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ گزشتہ سروے میں 6 فیصد تاجروں نے حکومتی فیصلوں کو درست کہا تھا، اب 17 فیصد۔ لیکن یہ اضافہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں ہے بلکہ چند سرمایہ داروں کی چاپلوسی ہے، جو حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اویس لغاری کی زیر نگرانی بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجکاری کے نام پر بجلی کمپنیاں سرمایہ داروں کے حوالے کی جا رہی ہیں جبکہ عوام مہنگے بلز تلے دب رہے ہیں۔ رشوت ستانی میں کمی آئی ہےگزشتہ 34 فیصد سے اب 15 فیصد۔ لیکن یہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں بلکہ تاجروں کی ہمت ہے، جو اب رشوت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔اویس لغاری کا آن لائن بلنگ سسٹم ایک مذاق ہے، جہاں اوور بلنگ اور غلطیاں روز کا معمول ہیں۔ لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات 53 فیصد نے کی لیکن باقی 47 فیصد؟ وہ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اندھیرے میں ہیں۔

    یومِ آزادی پر قائد اعظم کے خواب کو یاد کیجیے۔ ایک خوشحال پاکستان، جہاں غریب اور امیر برابر ہوں۔ لیکن آج؟ IMF کے قرضوں کی غلامی نے قوم کو جکڑ رکھا ہے۔ مہنگائی، ٹیکس اور سبسڈیز کا خاتمہ ، یہ سب IMF کی شرائط ہیں۔ اور اویس لغاری؟ وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ بول رہے ہیں کہ “بجلی سستی کی”۔ یہ کیسا ریلیف، جب سلیب سسٹم اور فیول چارجز نے غریبوں کو زندہ درگور کر دیا؟ قرض ادا کون کر رہا ہے؟ قوم، اپنی جیب سے۔ لیکن حکمرانوں کے عیش و عشرت میں کوئی کمی نہیں۔

    کاروباری طبقہ برباد ہو رہا ہے۔ مہنگائی نے خام مال مہنگا کر دیا، یوٹیلٹی بلز نے فیکٹریاں بند کر دیں، لوڈشیڈنگ نے پیداوار روک دی۔ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو کاغذوں تک محدود رکھا۔ ٹیکسوں کا بوجھ چھوٹے تاجروں کو کچل رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ قوت خرید کم اور روپیہ کمزور۔ یہ سب حکومتی ناکامی کی زنجیر ہے۔

    حکمرانو! جاگو، یہ یومِ آزادی ہے، لیکن قوم کی آزادی کہاں؟ مہنگائی روکو، بجلی سستی کرو۔ اویس لغاری کی جھوٹی کہانیوں سے باز آؤ، جو عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ سلیب سسٹم کو منصفانہ بناؤ، لوڈشیڈنگ ختم کرو۔ قوم سے وعدہ کرو کہ اگلا یومِ آزادی حقیقی آزادی کا ہوگا۔ ورنہ، تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔

  • مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ضلع مجسٹریٹ سامبا نے لائن آف کنٹرول سے 2 کلومیٹر تک کے علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آیوشی سوڈان کے جاری کردہ حکم کے مطابق کرفیو آئندہ دو ماہ تک روزانہ رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک نافذ رہے گا یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کی سرحدی نگرانی کو بڑھانے اور رات کے اوقات میں شہریوں کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کرکے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ کرفیو کے اوقات کے دوران نقل و حرکت کی اجازت صرف ضروری وجوہات کی بناء پر دی جائے گی اور لوگوں کو بی ایس ایف یا پولیس اہلکاروں کے مطالبے پر پیش کی جانے والی شناخت اپنے ساتھ رکھنی ہوگی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات ،فیلڈ مارشل کے دوروں سے بھارت پریشان ،اصلی چہرہ دنیا نے دیکھ لیا
    سینیٹر اسحاق ڈار کےعالمی رہنمائوں سے مسلسل رابطے،بھارت کو بے نقاب کردیا
    پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے نوجوانوں جدید ٹیکنالوجی دینا ہوگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پاک امریکہ تعلقات اس وقت عروج پر ہیں،بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکے ساتھ امریکی صدر کی ملاقات ،پاک بھارت کشیدگی کے دوران وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا عالمی دنیا سے مسلسل رابطہ ،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور عالمی دنیا میں بھارت کی سفارتی شکست نے بھارت کی مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے، پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل باہمی مفادات اور بدلتے عالمی حالات پر منحصر ہے، اگر دونوں ممالک اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو از سر نو تشکیل دیں اور غیر روایتی شعبوں میں تعاون بڑھائیں تو یہ تعلقات ایک زیادہ متوازن اور پائیدار شکل اختیار کر سکتے ہیں، علاقائی سلامتی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ،پاکستان آج بھی جغرافیائی لحاظ سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے،طویل تعلقات کے لئے دونوں ممالک کو پالیسی میں شفافیت اور ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، تعلیم، صحت ،ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبے نئے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سمیت اعلیٰ عہدوں پر تعینات بیورو کریسی کے افسران ،اعلیٰ بیوروکریٹ اور دیگر پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک و قوم کو مستحکم بنانے کے لئے پیٹ سے سوچنا بند کرکے دماغ سے سوچنا شروع کردیں ،امریکہ اور مغربی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کریں،نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور سائنس کی تعلیم دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں، پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم ،عمل اور میرٹ ہے، ایمانداری اور دیانت داری سے ملک وقوم کی خدمت کریں، سچ پوچھئے تو ریاست اب تھک چکی ہے ، اللہ تعالی ٰنے دنیا کے لئے جو فرش بچھایا تھا یہ امن کا فرش ہے ، پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے دنیا بھرکا یہ فرش امن کے لئے بنایا گیا تھا افسوس مٹی کے بنے انسان نے اپنے اقتدار واختیارات کے لئے اسے اکھاڑہ بنا دیا ، پاکستان کا یہ فرش اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے کسی سیاسی جماعت کے اکھاڑے کے لئے نہیں بنایا گیا اس میں بسنے والے انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں

  • شانِ پاکستان .تحریر: بنتِ سیّد

    شانِ پاکستان .تحریر: بنتِ سیّد

    شانِ پاکستان
    تحریر: بنتِ سیّد
    اگست 1947 کو اس کرۂ ارض پر ایک ماں، ایک نئی شناخت "پاکستان” کا وجود ظہور میں آیا۔ ایک ایسی دھرتی ماں جس کے وجود کے حصول کے لیے اس کے سپوتوں نے انتھک کوشش و جدوجہد کی۔ اس دھرتی ماں کے قیام کو اس کے بیٹوں اور بیٹیوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچا؛ تب کہیں جا کر دنیا کے ہر کونے میں ایک لفظ "پاکستان” کی بازگشت گونجی۔ یہی شانِ پاکستان ہے کہ دھرتی ماں "پاکستان” جب دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آیا تو اس کے سپوتوں نے اپنی مٹی کی آغوش میں اپنے تمام تر تھکن و آزمائش کو بھلا کر سکھ کا سانس لیا، اور نئے سرے سے پُرعزم ہو کر وطنِ عزیز کی شان کو بلند سے بلند تر کرنے کے لیے کوشاں ہو گئے۔

    پاکستان کو منزلِ اوج عطا کرنے کا سفر کبھی آسان نہیں تھا۔ آزمائشوں کا یہ سفر جستجو و امید کی پرواز لیے ہوئے تھا، اور جو چیز اسے زمانے میں بے مثال و یکتا بناتی ہے، وہ اس کے قیام کی تہذیبی، تاریخی و روحانی داستان ہے۔ وہ نظریہ تھا جس نے خواب کو تعبیر کا پیرہن پہنانے کے لیے ہمت، استقلال اور مردانہ وار جدوجہد سے پہلی اینٹ رکھی، اور قوم کی ڈھارس بندھائی۔

    آغازِ سفر کھٹن تھا، خاردار راستوں اور مزاحمتوں سے بھرا ہوا— لیکن یہ قوم و ملت کی بقا کی جنگ تھی، جسے قوم و ملت نے اپنے عزم و اتحاد سے بھرپور انداز میں عبور کیا۔ ابتدا میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے اس نئے وجود کو جو مسائل پیش آئے، ان میں آئین سازی، مہاجرین کی آبادکاری، معاشی و تعلیمی بحران جیسے امتحان سرفہرست تھے۔

    اپنے وجود کی سالمیت کو لے کر پاکستان نے اٹھہتر (78) سالوں میں جو مسلسل جدوجہد کی، وہ "شانِ پاکستان” کی مکمل عکاسی ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک زمینی خطے کی بقا کو قائم رکھنا نہیں تھا، بلکہ اس نظریے اور فکر کا تحفظ اور ان کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جن کے پس منظر میں ہمارے آباؤ اجداد کا لہو شامل رہا۔ اس جدوجہد میں خوش آئند بات یہ رہی کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے اس امر میں اپنا فعال کردار ادا کیا، اور یوں "شانِ پاکستان” کا اعزاز ہر دور میں پاکستان کے محسنوں کی دھڑکن اور عوام کے لبوں پر زندہ رہا۔

    ملک ہماری حرمت، ہماری جان و آن ہے
    پاکستان شان ہماری، ہم شانِ پاکستان ہیں

    نامساعد حالات اور منتشر جذبات کے باوجود قوم نے عزم و استقلال سے ہر بیرونی ناپاک سازش کا قلع قمع کیا۔ 16 دسمبر 1971 کو اپنے وجود کا ایک اہم حصہ کھونے کے بعد پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ کی مضبوط منصوبہ بندی شروع کی، اور 28 مئی 1998 کو "محسنِ پاکستان” ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دانشوری و علمی فیض سے اسلامی ممالک میں پہلی اور عالمی سطح پر ساتویں ایٹمی طاقت کا اعزاز اپنے نام کیا۔

    عمل و جدوجہد کا سفر رکا نہیں، بلکہ مزدور و کسان، محققین، ماہرین، سائنس دان، اطباء، وکلاء، فنکار، ادیب، شعرا اور طلبہ ہر وقت ملک کی ترقی و سالمیت کے لیے پیش پیش رہے۔

    زندگی سے وابستہ ہر شعبے میں پاکستان نے اپنے شہریوں اور ہر دلعزیز کھلاڑیوں کے ذریعے نام کمایا۔ کرکٹ کے میدان میں 1992 میں عمران خان کی قیادت میں عالمی ٹرافی پاکستان کے حصے میں آئی۔ اپنی فاسٹ اور منفرد بالنگ کے ذریعے وسیم اکرم "سلطان آف سوئنگ” کہلائے۔ وہی شاہد آفریدی نے اپنی بیٹنگ کے ذریعے دلوں پر راج کیا۔

    ہاکی کے میدان میں پاکستان نے تین اولمپک میڈلز اپنے نام کیے، اور ان فتوحات میں شہباز احمد سینیئر کا نام جہاں سرفہرست ہے، وہیں "فلائنگ ہارس” سمیع اللہ خان اپنی برق رفتاری سے دشمن کی صفیں اڑا دیتے تھے۔ اسکواش کی دنیا میں جان شیر خان، جہانگیر خان جیسے عالمگیر کھلاڑیوں کے ذریعے پاکستان نے پانچ دہائیوں تک حکمرانی کی۔

    2024 میں نیزہ بازی کے میدان میں عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھا کر ارشد ندیم نے پاکستان و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، اور یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

    تعلیم کے میدان میں ڈاکٹر عبدالسلام نے پہلے پاکستانی کی حیثیت سے نوبیل انعام وصول کر کے قوم کا وقار بلند کیا۔ طب کے میدان میں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے محسنِ انسانیت نے خدمت کا عظیم نمونہ پیش کیا۔ آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی کم عمر ارفع کریم (مرحومہ) نے پاکستان کو منفرد انداز میں عالمی شناخت عطا کی۔

    ان سب کے علاوہ عبدالستار ایدھی کا نام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں "ایمبولینس سروس” کی وجہ سے قابلِ ذکر ہے۔ آج بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں بے شمار گمنام لوگ ملک کی بقا، سالمیت اور انسانیت کی خدمت کے لیے محوِ عمل ہیں، اور یہی اصل "شانِ پاکستان” ہے۔

    شانِ پاکستان کا ذکر ہو تو کسی قیمت پر پاکستان کی عسکری قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا کردار محض سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ملک کے عالمی وقار و بقا کے لیے اہم اور فیصلہ کن رہا ہے۔ جذبۂ شہادت اور ایثار و قربانی سے لبریز 1948، 1965، 1971، 1999 کی جنگوں میں پاک فوج کے نوجوانوں نے جان کا نذرانہ دے کر اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کا دفاع کیا ہے۔

    آپریشن راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اہم فوجی آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردی کی کمر توڑی بلکہ دنیا کو بھی پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا۔ قدرتی آفات، زلزلے، سیلابوں اور وباؤں کے دور میں ہمیشہ ریلیف کیمپس کے ذریعے افواجِ پاکستان قوم کے شانہ بشانہ رہی ہے۔

    موجودہ وقت میں جب پڑوسی دشمن ملک نے پاکستان کو جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے صفحۂ ہستی سے مٹانے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو عسکری قیادت نے نہایت مدبرانہ انداز میں اس پر پیش رفت دکھائی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کے ذریعے دشمن اور دنیا کو پیغام دیا کہ ہم اپنا دفاع کرنا نہ صرف جانتے ہیں بلکہ جب جوابی کارروائی کے لیے سامنے آتے ہیں، تو اس کی گونج اور چمک پوری دنیا کو سنائی اور دکھائی دیتی ہے۔

    اس ساری صورتِ حال میں عوامِ پاکستان کا جذبہ بھی دیدنی تھا۔ دشمن کے ناپاک عزائم نے قوم میں دوبارہ وہ روح اور جذبہ پھونک دیا تھا جو قیام کے وقت ان کے آباء میں تھا۔ تمام تر اندرونی رنجشوں کو مٹا کر قوم مثبت جذبے کے ساتھ باہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت سے، اور مثبت سوچ و فکر کے ساتھ ابھر کر آئی تھی، اور دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ یہی "شانِ پاکستان” ہے — ہم باہم ہیں، ایک ہیں، اور متحد ہیں۔

    پاکستان بنا ہے قائم رہنے کے لیے۔ بھلے کسی کو ایک آنکھ نہ بھائے، پاکستان تھا، پاکستان ہے، اور تا قیامت رہے گا، ان شاء اللّٰہ عزوجل۔

    جذبہْ خودی رہا ہے تیرا مقدرِ جہاں
    زمانے میں بلند سدا شانِ پاکستاں

  • ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے

    ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے

    ناول خاک اور خون، فیروز پور اور گورداسپور کیسے بھارت کو ملے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    نسیم حجازی کا شہرہ آفاق ناول خاک اور خون برصغیر کے مسلمانوں کی اس عظیم قربانی کا ادبی مرثیہ ہے جو انہوں نے 1947 کی تقسیمِ ہند کے دوران پیش کی۔ یہ محض ایک تخیلی داستان نہیں بلکہ حقیقت کے ایسے ٹکڑوں کا ادبی امتزاج ہے جنہیں مصنف نے کرداروں، مکالموں اور جذبات کے ذریعے زندہ کر دیا۔ اس میں قتل و غارت کے مناظر، قافلوں پر ہونے والے حملے، عورتوں کی عزتیں پامال ہونے کے واقعات اور بچھڑنے والے خاندانوں کا کرب اس شدت سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو اس زمانے کے دل دہلا دینے والے حالات میں محسوس کرتا ہے۔ ناول میں ایک اشارہ اس طرف بھی ملتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سازشوں، ذاتی تعلقات اور خفیہ سودوں نے پاکستان کی سرحدوں کو اس طرح بدل دیا کہ کئی مسلم اکثریتی علاقے آخری لمحوں میں بھارت کے حصے میں چلے گئے۔ انہی علاقوں میں فیروز پور اور گورداسپوربھی شامل تھے جن کا پاکستان سے چھن جانا نہ صرف اس وقت ایک صدمہ تھا بلکہ اس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

    قیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی تقسیمِ ہند کے اصول طے ہوئے کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور غیر مسلم اکثریتی علاقے بھارت کا حصہ بنیں گے۔ 3 جون 1947 کو مانٹ بیٹن پلان کے مطابق پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے لیے باؤنڈری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی برطانوی جج سر سائریل ریڈ کلف کو دی گئی۔ یہ شخص اس خطے سے بالکل ناآشنا تھا اور اسے صرف پانچ ہفتوں میں سرحدی لکیر کھینچنے کا مشکل ترین کام سونپا گیا۔ کاغذ پر اصول سادہ تھا، مگر زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔ فیروز پور ایک مسلم اکثریتی ضلع تھا جس کی آبادی 51 فیصد سے زائد مسلمان تھی۔ یہ ستلج دریا اور نہری نظام کے کنٹرول کی وجہ سے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا۔ گورداسپور بھی چار تحصیلوں پر مشتمل تھا جن میں سے تین میں مسلمان اکثریت میں تھے اور اس کی جغرافیائی پوزیشن بھارت کو کشمیر تک براہِ راست زمینی راستہ دیتی تھی۔

    تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ریڈ کلف کے ابتدائی مسودے میں دونوں اضلاع پاکستان کو ملنے والے تھے۔ اگست 1947 کے پہلے ہفتے میں تیار ہونے والے نقشوں میں فیروز پور مکمل طور پر اور گورداسپور کی تین تحصیلیں پاکستان میں شامل تھیں۔ لیکن 12 اگست کو صورتحال بدل گئی۔ بعض مورخین کے مطابق اس تبدیلی کا پس منظر نہرو اور وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کی ملاقاتوں سے جڑا تھا۔ ان ملاقاتوں کا ذکر کئی برطانوی اور بھارتی ذرائع میں ملتا ہے اور ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کے قریبی تعلقات کو بھی ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ الیسٹر لیمب اور اسٹینلی وولپرٹ جیسے محققین نے لکھا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے اس موقع پر جانبداری کا مظاہرہ کیا جبکہ ایڈوینا اور نہرو کے تعلقات برطانوی ایوانِ اقتدار میں ایک غیر رسمی مگر اثر انگیز چینل کے طور پر کام کرتا رہا۔

    یہ بات مصدقہ ہے کہ 6 سے 8 اگست کے درمیان تیار ہونے والے ابتدائی ڈرافٹ اور 12 اگست کے بعد سامنے آنے والے حتمی فیصلوں میں واضح فرق تھا۔ فیروز پور اور گورداسپور کے نقشے بدل دیے گئے اور دونوں اضلاع کو بھارت میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ باضابطہ وجہ یہ بتائی گئی کہ گورداسپور کو بھارت دینے سے فوجی اور انتظامی ضروریات پوری ہوں گی اور فیروز پور کے معاملے میں ستلج کے ہیڈ ورکس کا کنٹرول بھارت کے پاس جانا بہتر ہے۔ لیکن یہ وضاحت کمزور تھی کیونکہ ایسی ضرورتیں ابتدائی ڈرافٹ میں کیوں نظر نہیں آئیں، اس کا جواب کبھی تسلی بخش نہیں دیا گیا۔

    14 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت کی آزادی کا اعلان ہوا، مگر باؤنڈری کمیشن کے فیصلوں کا اعلان تین دن بعد17 اگست کو کیا گیا۔ اس تاخیر کا مقصد یہ بتایا گیا کہ نئے ملکوں کے اعلان کے وقت کشیدگی کو کم رکھا جائے، لیکن بعض محققین کے مطابق یہ تاخیر بھارت کو کشمیر کے لیے زمینی راستے کی تیاری کا وقت دینے کے لیے تھی۔ جب فیصلے سامنے آئے تو گورداسپور کی تین تحصیلیں پٹھان کوٹ، گورداسپور اور بٹالہ بھارت کو مل گئیں، صرف شکر گڑھ پاکستان کو دیا گیا۔ فیروز پور مکمل طور پر بھارت کو چلا گیا۔ یہ فیصلہ آبادی کے اصولوں کے برخلاف تھا کیونکہ دونوں علاقوں میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی۔
    ان فیصلوں کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے۔ اکتوبر 1947 میں بھارت نے گورداسپور کے راستے فوجی نقل و حرکت شروع کی اور یہی راستہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے داخلے کا بنیادی ذریعہ بنا۔ فیروز پور کے بھارت کو ملنے سے پاکستان کا ستلج دریا اور نہری نظام پر کنٹرول کمزور پڑ گیا اور یہ مسئلہ بعد میں پانی کی تقسیم کے تنازع میں ایک اہم فیکٹر بن گیا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں نے ان فیصلوں کو ماؤنٹ بیٹن کی جانبداری اور برطانوی حکومت کے خفیہ ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔ چوہدری محمد علی، ڈاکٹر صفدر محمود اور شریف المجاہد جیسے مورخین نے بارہا لکھا ہے کہ یہ تبدیلی محض انتظامی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی اور ذاتی تعلقات کے پس منظر میں کی گئی۔

    خاک اور خون میں ان فیصلوں کو براہِ راست نہیں لیکن اشاروں کنایوں میں بیان کیا گیا ہے۔ نسیم حجازی نے یہ پیغام دیا کہ آزادی کا سورج ایک ایسے افق سے طلوع ہوا جس پر سازشوں کا سایہ تھا۔ لاکھوں مسلمانوں نے جان، مال اور عزت قربان کر کے پاکستان کا خواب پورا کیا، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چند افراد کے فیصلوں نے کئی مسلم اکثریتی علاقے چھین لیے۔ ناول کے کردار قاری کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ سرحدیں کاغذ پر نہیں بلکہ خون اور قربانی سے بنی ہیں اور جو حصے پاکستان کو ملنے چاہیے تھے وہ بھی بعض پوشیدہ ہاتھوں نے چھین لیے۔

    فیروز پور اور گورداسپور کی بھارت کو منتقلی محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کشمیر کا تنازع پیدا ہوا بلکہ پانی کے وسائل پر بھی مستقل کشیدگی قائم ہو گئی۔ پاکستان آج بھی اس فیصلے کو ایک تاریخی ناانصافی سمجھتا ہے۔ یہ بحث آج بھی زندہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ ذاتی تعلقات کا نتیجہ تھا، برطانوی سامراجی پالیسی کا تسلسل تھا یا بین الاقوامی سیاست کی ایک بڑی بساط کا حصہ۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ 1947 میں ان اضلاع کا بھارت میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ایک ایسا زخم بن گیا جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا گیا۔ یہ زخم آج بھی قومی یادداشت میں محفوظ ہے اور نسیم حجازی جیسے ادیبوں کے قلم نے اسے امر کر دیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ پاکستان کا حصول صرف ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سفر تھا جو قربانی، سازش اور صبر کے امتزاج سے مکمل ہوا۔

    آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ یہ ہماری نوجوان نسل اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ان تمام لوگوں کے لیے ایک گہرا پیغام ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک انہیں کسی پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا تھا۔ خاک اور خون کے ہر صفحے سے یہ صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد لاکھوں شہدا کے خون، بے شمار ماؤں کی قربانیوں اور بچھڑ جانے والے خاندانوں کے آنسوں پر رکھی گئی ہے۔ فیروز پور اور گورداسپور کا پاکستان سے کاٹ کر بھارت کو دینا محض ایک نقشے کی لکیروں کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ہماری تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب سازش اور طاقت کی بساط پر قربانی کے اصول روند دیے گئے۔ آج اگر ہم اپنی سرحدوں، وسائل اور خودمختاری کی حفاظت میں غفلت برتیں تو یہ انہی قربانیوں کی توہین ہوگی۔ نوجوانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی ایک امانت ہے اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہر شخص کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک کی حفاظت اور بقا کے لیے وہی جذبہ، وہی جرات اور وہی یکجہتی درکار ہے جو 1947 میں لاکھوں گمنام شہدا نے دکھائی۔ پاکستان کسی خیرات میں نہیں ملا، یہ ایک قرض ہے جو ہم پر واجب الادا ہے اور جسے ہمیں آنے والی نسلوں تک عزت، وقار اور مضبوطی کے ساتھ منتقل کرنا ہے۔

  • پوری قوم کا پرچم

    پوری قوم کا پرچم

    پوری قوم کا پرچم
    تحریر: سید سخاوت الوری
    جشنِ آزادی اور دیگر تقریبات پر قومی پرچم اور جھنڈیوں کے احترام کے سلسلے میں چند احتیاطی تدابیر بیان کی جا رہی ہیں۔ اگر ان پر عمل کر لیا جائے تو جہاں قومی پرچم کے وقار و احترام میں اضافہ ہوگا، وہاں اس کی قدر و منزلت میں بھی اضافہ ہوگا۔

    پاکستانی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے تیار کیا جبکہ بابائے قوم کے حکم پر اسے سینے کا اعزاز ماسٹر الطاف حسین کو حاصل ہوا۔ (ماسٹر الطاف حسین کو قائداعظمؒ اور دیگر زعمائے تحریکِ پاکستان کے کپڑے، سوٹ اور شیروانی سینے اور خصوصی حفاظتی محافظ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔)

    پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں جبکہ سبز رنگ مسلم اکثریت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے درمیان چاند ترقی کا مظہر اور پنج گوشہ ستارہ روشنی اور علم کی نمائندگی کرتا ہے۔ قومی ترانے میں اسے "پرچمِ ستارہ و ہلال” کہا گیا ہے۔ اس پرچم کی منظوری قائداعظم محمد علی جناح نے دی تھی۔

    عمارتوں پر جو قومی پرچم لہرایا جاتا ہے اس کی لمبائی چوڑائی عموماً 6 فٹ × 4 فٹ یا 3 فٹ × 2 فٹ ہوتی ہے۔ کاروں پر لہرائے جانے والے پرچم کا سائز 12 انچ × 8 انچ ہوتا ہے۔ یہ بات عام عوام کو معلوم نہیں، حالانکہ ابلاغِ عامہ کے تمام ذرائع (پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا)، کیبل اور اخبارات و جرائد کے ذریعے عوام کو بتانا چاہئے کہ قومی پرچم محض کاغذ یا کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ قوم و ملک کی وحدت، عظمت، وقار اور خودمختاری و آزادی کا مظہر ہے۔

    قومی پرچم کے احترام کے لئے احتیاطی تدابیر
    جشنِ آزادی کے دنوں میں بچے شوق سے گھروں پر قومی پرچم لہراتے اور جھنڈیوں سے سجاتے ہیں، لیکن جب تقریبات ختم ہوجائیں تو انہیں لپیٹ کر احتیاط سے محفوظ رکھ دیا جائے۔ اسی طرح جھنڈیاں بھی اُتار کر محفوظ کر لی جائیں۔

    گلیوں اور بازاروں میں بھی یہی عمل ہونا چاہئے، کیونکہ عام طور پر جھنڈیاں پیروں تلے روندی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ جشن کی تقریبات ختم ہوتے ہی انہیں اُتار دیا جائے۔

    شہری انتظامیہ بینرز اور جھنڈیوں کو بعد میں اُتارتی ضرور ہے، لیکن یہ کام فوری طور پر ہونا چاہئے تاکہ بارش، آندھی یا تیز ہوا سے یہ ٹوٹ کر سڑک پر نہ گریں۔

    قومی پرچم اور جھنڈیاں پرنٹ کرتے وقت اس کا معیار مدنظر رکھا جائے اور مقررہ رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ میں پرنٹ نہ کیا جائے۔ اس کے حقیقی ڈیزائن اور سائز کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ قومی پرچم پر لوگ اپنے پسندیدہ لیڈرز کی تصاویر بھی لگا دیتے ہیں، یہ بھی قومی پرچم کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ قومی پرچم کے اوپر کچھ اور چھاپا یا لکھا نہیں ہونا چاہئے۔

    تاریخی پس منظر
    تاریخی اعتبار سے پاکستانی قوم کی وابستگی اور بنیادی نقوش کا تعلق اس پرچم سے ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں اس موقع پر لہرایا گیا تھا جب وہاں برصغیر کی مختلف تنظیموں کے قائدین کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا، جس کے نتیجے میں مسلمانانِ ہند کی اوّلین سیاسی جماعت "آل انڈیا مسلم لیگ” تشکیل پائی۔

    ڈھاکہ میں جو پرچم استعمال کیا گیا اس کا رنگ سبز تھا اور درمیان میں ہلال و ستارہ تھا۔ قیامِ پاکستان سے قبل پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 11 اگست 1947ء میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ خان لیاقت علی خان نے قومی پرچم باضابطہ طور پر منظوری کے لئے پیش کیا۔

    اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
    "جنابِ والا! یہ پرچم کسی ایک پارٹی یا ایک طبقے کا پرچم نہیں، یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے اور کسی بھی قوم کا پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، اس کی خصوصیت اس کے کپڑے میں نہیں بلکہ ان اصولوں پر ہوتی ہے جن کا یہ حامل ہے اور میں بلا خوف کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی پرچم اپنے وفاداروں اور اطاعت گزاروں کی آزادی، خودمختاری اور مساوات کا پاسبان رہے گا۔ یہ پرچم ہر شہری کے جائز حقوق کا تحفظ کرے گا۔ انشاء اللہ”