Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں، جن کی زندگی محض ایک فرد کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اپنے وجود سے ایک عہد، ایک روحانی روشنی اور ایک فکری توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔ایسی ہی جلیل القدر شخصیات میں سے ایک مفتی اعظم سعودی عرب، شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ رحمہ اللہ تھے۔آپ نے دین کی خدمت صرف منبر و محراب سے ہی نہیں کی، بلکہ قلم، تقریر اور تدریس کے ذریعے بھی دین اسلام کا پیغام عام کیا۔ ان کے فتاویٰ، خطبات اور بیانات آج بھی مدارس، جامعات اور مساجد میں زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ ان کی علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ مشکل بات سادگی سے کہنے کا فن انہیں دیگر علما سے ممتاز کرتا تھا۔ان کی تحریروں اور تقاریر میں اعتدال، بصیرت اور حکمت کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے ہمیشہ امت کو افتراق کی بجائے اتحاد کی دعوت دی اور فقہی اختلافات کو ایک فکری وسعت سمجھا، نہ کہ نفرت یا تعصب کا ذریعہ۔

    شیخ عبد العزیز رحمہ اللہ 1943ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی یا انتہاٸی کم ہو گٸ تھی۔عام طور پر یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے لیکن انہوں نے اسے حکم ربی سمجھتے ہوئے قبول کیا اور علم دین کے حصول میں مصروف ہو گئے۔ اللہ تعالی نے انہیں روحانی بصیرت اور ایسا روشن دل و دماغ عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے علماء کے استاد بنے اور لاکھوں لوگوں کو دین کی روشنی سے منور کر دیا۔ان کے بارے ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب وہ 10 برس کے تھے،تو ایک بزرگ عالم دین نے ان کے قرآن مجید حفظ کرنے کے شوق کو دیکھ کر کہا مجھے لگ رہا ہے ”یہ لڑکا اگرچہ نابینا ہے مگر اللہ تعالی نے اس کے دل میں ایسا نور رکھا ہے، جو آنکھوں والوں کو بھی نصیب نہیں“۔

    شیخ رحمہ اللہ نہایت عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ وہ اپنے شاگردوں، مہمانوں، حتیٰ کہ خدام سے بھی محبت و نرمی سے پیش آتے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے فکر مند رہتے، ان کے والد اور دادا بھی دین کے خادمین میں شمار ہوتے تھے۔ جنہوں نے ان کی ابتدائی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔شیخ رحمہ اللہ نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سعودی عرب میں تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ خطبہ حج کا فریضہ کئی سالوں تک ان کے سپرد رہا، جسے وہ احسن طریقہ سے ادا کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں وقار، دلیل اور اخلاق کا امتزاج نمایاں ہوتا تھا، جو ہر سننے والے کوبہت متاثر کرتا۔وہ علم کو عبادت اور فتوی کو امانت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سنا جاتا تھا۔
    کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک نوجوان نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ شیخ نے اس کو دعا کے ساتھ مختصر جواب میں فرمایااللہ تعالی تمہیں دین کی خدمت کے لیے چنے گا، دل کو ہمیشہ صاف رکھنا۔ کئی سالوں بعد وہی نوجوان ایک معروف عالم دین بن کر ان کے قدموں میں آ بیٹھا اور کہنے لگاشیخ! آپ کی دعا اور تعبیر نے میری زندگی بدل دی ہے۔
    شیخ رحمہ اللہ انتہائی مصروف شخصیت ہونے کے باوجود نماز کو کبھی مؤخر نہیں کرتے تھے۔ ان کے خادموں کا کہنا ہے کہ وہ نماز کے لیے ہر حال میں فوراً کھڑے ہو جاتے، چاہے کتنی ہی اہم میٹنگ یا مہمان موجود ہوتے۔ان کی تلاوت قرآن اور قیام اللیل میں اتنی رقت ہوتی کہ بعض اوقات لوگوں کو ان کے رونے کی آواز مسجد کے باہر تک سنائی دیتی تھی۔

    شیخ رحمہ اللہ اتفاق و اتحاد کے عظیم داعی تھے۔موجودہ دور کی سب سے بڑی آزمائش فرقہ واریت، تعصب اور فکری انتشار ہے۔ ایسے میں انھوں نے ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا”اختلاف رائے فطری ہے، لیکن دلوں کا فاصلہ شیطانی ہے“۔بین المذاہب مکالمہ ہو یا عالمی اسلامی کانفرنس، انہوں نے ہمیشہ عدل، رواداری اور توحید کو مرکز خطاب بنایا۔

    شیخ رحمہ اللہ کے آخری ایام سادگی، عبادت اور خاموشی میں گزرے۔ ان کی صحت کچھ عرصے سے ناساز تھی، مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ آیا۔23 ستمبر 2025ء کو سعودی عرب ریاض شہر میں ان کا انتقال ہوا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نماز جنازہ مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دنیا بھر کی بڑی مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اثر و رسوخ صرف ایک ملک تک محدود نہ تھا۔

    شیخ عبد العزیز آل الشیخ رحمہ اللہ کی وفات بلاشبہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔وہ چلے گئے، مگر ان کا فہم باقی ہے۔وہ خاموش ہو گئے، مگر ان کی آواز باقی ہے۔وہ مٹی میں جا سوئے، مگر دلوں میں زندہ ہیں،جو ہمیشہ ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی حسنات و خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوۓ علمی ورثہ کو امت کے لیے فاٸدہ مند بنا دے۔آمین یارب العالمین

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کے برعکس سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔

    بیشتر شہروں میں ایک دفعہ کے فوٹو سیشن کے بعد تجاوزات پھر سے واپس آچکی ہیں۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جس قدر کرپٹ اور قانون شکن ہوچکے تھے ان سے بیس فیصد تجاوزات کا خاتمہ کروا لینا بھی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مشن امپاسبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک وارڈن، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور میں تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی جنگ ہے ایم سی ایل، اسسٹنٹ کمشنر، ایل ڈی اے ہر کوئی اختیارات تو چاہتا ہے لیکن تجاوزات ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ تجاوزات کو ہٹانے میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے، خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔

    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بنانمبر پلیٹ رکشوں پبلک ٹرانسپورٹ اور غیر قانونی پارکنگ سے پندرہ سو کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے۔

    تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے PERAسپیشل فورس بھی بنائی گئی۔ لاہور میں پیرا کے ایک آفیسر نے بتایا کو اس نے ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کہا کہ سر مجھے سرکاری ڈیمارکیشن نکال دیں تاکہ کاروائی کر سکیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تم بھی اتنا جذباتی نہ ہوا کرو، سی ایم کو خوش کرنے کیلئے ریڑی والوں کے خلاف عارضی کاروائی کا فوٹو سیشن شئیر کردیا کرو باقی سکون سے اپنا خرچہ اکٹھا کرو۔ یہی وجوہات ہیں کہ لاہور میں اکثر علاقوں میں 10فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اسسٹنٹ کمشنر کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن والوں کو شکایت کریں ایم سی ایل والے کہتے ہیں کہ ایل ڈی اے کا ایریا ہے جبکہ ایل ڈی اے والے کہتے ہیں کہ پیرا کو کہیں۔ عوام کو ”رولر کوسٹر” کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا راستہ بتا کر خود ایک ایک ریڑی اور غیر قانونی قابضین سے بھتہ لینے کیلئے سب پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے افسران ڈرامہ کرکے تجاوزات کے خاتمہ کی بجائے سرپرستی کرکے مال کھانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    تجاوزات کی کمائی کھانے والے سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ تجاوزات مافیا کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی سرپرستی کرنے افسران کے خلاف قانونی کاروائی بھی ناگزیر ہے۔ تجاوزات لگانے اور لگوانے والے دونوں کو جیل بھیجا جائے۔

    عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ غیر قانونی گرین بیلٹ،گارڈ روم، گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔

    (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر "وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • واٹس ایپ نے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرادیا

    واٹس ایپ نے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرادیا

    معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے صارفین ایپ سے نکلے بغیر ہی چیٹس کا فوری ترجمہ کر سکیں گے۔

    اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر دنیا کے 180 ممالک میں دستیاب ہوگا۔ اینڈرائیڈ فون صارفین انگلش، ہندی، پرتگیز، روسی اور عربی زبانوں میں ترجمہ کر سکیں گے، جبکہ آئی فون صارفین کو 19 زبانوں کی سپورٹ ایپل ٹرانسلیشن کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔واٹس ایپ کے مطابق صارفین اب مختلف زبانوں کے میسجز کا ترجمہ چند سیکنڈ میں دیکھ کر جواب دے سکیں گے۔

    اینڈرائیڈ صارفین: مطلوبہ میسج کو دبائیں، اوپر دائیں جانب تھری ڈاٹ مینیو پر جائیں، Translate پر کلک کریں اور زبان کا انتخاب کریں۔ مستقبل میں آٹومیٹک ٹرانسلیشن بھی آن کی جا سکتی ہے۔آئی فون صارفین: میسج کو دبائیں، ترجمہ کے لیے آپشن منتخب کریں، لیکن آٹومیٹک ٹرانسلیشن دستیاب نہیں ہوگی۔

    یہ فیچر ون آن ون چیٹس، گروپ چیٹس اور چینل اپڈیٹس پر کام کرے گا، تاہم واٹس ایپ ویب اور ونڈوز ورژن میں ابھی دستیاب نہیں ہے۔واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر مرحلہ وار تمام صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے اور بہت جلد ہر صارف تک پہنچ جائے گا۔

    ایشیا کپ: بنگلادیشی کپتان کا بھارتی کپتان سے ہاتھ ملانے سے انکار

    مسلم رہنماؤں اور ٹرمپ کی ملاقات: غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے پر زور

    جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز، ممکنہ اسکواڈ پر مشاورت مکمل

    ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

  • قاسم باغ کی گونج ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد قریشی نے ڈیرہ غازی خان کا نام روشن کردیا

    قاسم باغ کی گونج ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد قریشی نے ڈیرہ غازی خان کا نام روشن کردیا

    قاسم باغ کی گونج ۔۔۔۔ ڈاکٹر راشد قریشی نے ڈیرہ غازی خان کا نام روشن کردیا
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    ڈیرہ غازی خان کی سرزمین ایک بار پھر روشن چہرے کے ساتھ ملک بھر میں نمایاں ہوئی ہے۔ شہر کے نامور معالجِ بصارت، سماجی رہنما، خوش اخلاق شخصیت اور "فرینڈز آف غازی یونیورسٹی” کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر محمد راشد قریشی نے حال ہی میں ایک ایسا اعزاز حاصل کیا ہے جو نہ صرف ان کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ ہے بلکہ ڈیرہ غازی خان کی شناخت اور وقار میں بھی اضافہ ہے۔

    گزشتہ دنوں کراچی میں منعقدہ نیشنل ڈیٹ پام فیسٹیول میں ڈاکٹر راشد قریشی کے قائم کردہ کھجور فارم "قاسم باغ” کو پاکستان کا بہترین کھجور فارم قرار دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے ڈیرہ غازی خان کو پورے ملک میں سرخرو کر دیا اور اس خطے کے لیے فخر کا باعث بن گیا کہ یہاں کی زمین سے وہ ثمرات نکلے جنہیں قومی سطح پر پہلی پوزیشن عطا ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ سے اس پر بھرپور محنت کرتے رہے ہیں اور اپنے دوستوں و احباب کو اعلیٰ نسل کی کھجور نہ صرف کھلاتے بلکہ تحفے میں بھی دیتے۔ راقم الحروف کو بھی کئی مرتبہ ان کے ہاں اعلیٰ اور معیاری کھجور کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا۔

    غازی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر راشد قریشی نے اس کامیابی کی خوشخبری دی۔ اس موقع پر انہوں نے جذباتی انداز میں کہا:
    "یہ اعزاز میرے والدِ محترم کی محنت، پسینے اور خوابوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحے ایک چھوٹے سے کھجور فارم کو پروان چڑھانے میں صرف کیے اور آج یہ فارم پاکستان بھر میں نمبر ون قرار پایا ہے۔”

    ڈاکٹر راشد قریشی نے مزید بتایا کہ وہ مستقبل میں غازی یونیورسٹی اور قاسم باغ کے باہمی اشتراک سے ایسے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کے ذریعے کھجور کی کاشت جدید خطوط پر فروغ پائے گی اور ساتھ ہی علاقے کی معیشت کو بھی نئی توانائی ملے گی۔

    یہ کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ خواب جب محنت اور اخلاص کے ساتھ پروئے جائیں تو وہ صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر راشد قریشی کا یہ اعزاز دراصل ڈیرہ غازی خان کے ہر باسی کا اعزاز ہے۔

  • کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کبھی ہمارے بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر علم کے دریا پار کرتے تھے۔ نہ اُن کے گرد چمکتے کمروں کی دیواریں تھیں، نہ اُن کے سروں پر اے سی کی ٹھنڈی ہوا، لیکن ان کے دل قرآن و سنت کی روشنی سے منور تھے۔ وہ کچی زمین پر بیٹھ کر بھی کردار کی پختگی میں پہاڑوں جیسے مضبوط تھے۔ ان کے چہروں پر سادگی تھی، آنکھوں میں شرم و حیا، اور ذہن میں علم حاصل کرنے کا خالص جذبہ۔ استاد کا ایک اشارہ ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا، اور ماں باپ کی دعائیں ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی تھیں۔ آج ہم ترقی کی اس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، وائی فائی، سمارٹ کلاس رومز، اور انگلی کی ایک جنبش پر کھلتی دنیا۔ آج کا بچہ کتاب سے زیادہ سکرین سے جڑا ہے۔ اس کی جیب میں فلیش ڈرائیو ہے، لیکن کردار میں کمزور ہے۔ اس کے پاس معلومات کا انبار ہے، مگر شعور کی روشنی عنقا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب گوگل سے ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن دل کے سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں۔ زبان میں چالاکی ہے، لیکن لہجے میں عاجزی نہیں۔ لباس مہنگا ہے، لیکن نگاہوں میں حیاء نہیں۔ چہرہ تو روشن ہے، لیکن دل ویران ہو چکا ہے۔

    ایبٹ آباد… وہ شہر جسے ایک زمانے میں علم و تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، آج بے حیائی، کنسرٹس اور اخلاقی بگاڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ان اداروں سے جہاں کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، آج سگریٹ، نسوار اور زہریلے خیالات کا ماحول دکھائی دیتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب محض کاروباری دکانیں بن چکے ہیں، جہاں فیسیں تو لی جاتی ہیں، لیکن تربیت نہیں دی جاتی۔ اساتذہ جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج صرف تنخواہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ انہیں نصاب ختم کرنے کی فکر ہے، لیکن نسل بچانے کی کوئی پریشانی نہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرا دیا، حالانکہ اس بگاڑ کے مجرم ہم سب ہیں۔ والدین جو بچے کو مہنگا فون تو دے دیتے ہیں، لیکن اس کی نظروں کی سمت نہیں جانتے۔ جو موبائل کا لاک تو کھول لیتے ہیں، لیکن دل کا حال نہیں پڑھتے۔ اساتذہ جو کبھی دلوں پر نقش چھوڑا کرتے تھے، اب صرف بورڈ پر الفاظ لکھنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ ادارے جو تعلیم کے نام پر چل رہے ہیں، درحقیقت کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہم، وہ معاشرہ، جو ہر برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ کسی کو روکتے ہیں، نہ کسی کو سمجھاتے ہیں۔ بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں، بلکہ شراکتِ جرم ہے۔ جب والدین غافل ہوں، اساتذہ بے حس، ادارے بے مقصد، اور معاشرہ بے سمت، تو نسلیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ یہی ہو رہا ہے۔ آج ہمارے بچے فیشن میں آگے، مگر فہم میں پیچھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم، مگر زندگی کے حقائق سے نابلد۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک نسلوں کا یہ بگاڑ بڑھتا جائے گا۔ آج اگر ہم نے اصلاح کی راہ اختیار نہ کی، تو کل یہی بچے بے راہ روی، نشے اور بے دینی کے پرچارک بن جائیں گے۔ اور جب یہ وقت آئے گا، تو شکوہ کرنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔ کاش! والدین وقت نکال کر بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کے سوالوں کا جواب بنیں۔ کاش! اساتذہ نصاب شروع کرنے سے پہلے دل میں کردار کا سبق اتاریں۔ اور کاش! ہم سب اتنی جرات پیدا کریں کہ برائی کو برائی کہہ سکیں، چاہے وہ ہمارے اپنے ہی گھر کے آنگن میں کیوں نہ ہو۔ اصلاح کا وقت ابھی باقی ہے۔ دیے بجھنے سے پہلے اگر ایک چراغ جلایا جائے، تو اندھیرا ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل یہ تاریکی نسل کو نہیں،معاشرے کو بھی تباہ کردے گی۔

  • طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    معاشرہ خاندان سے بنتا ہے اور خاندان نکاح کے رشتے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف دو افراد کا ساتھ نہیں ،بلکہ نسلوں کی پرورش اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ ہے،لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ رشتہ پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ طلاق اور علیحدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کے سکون کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

    طلاق کے بڑھنے کی سب سے اہم وجہ صبر اور برداشت کی کمی ہے۔ معمولی باتیں جنہیں کبھی نظرانداز کر دیا جاتا تھا، اب بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ انا اور ضد کے باعث میاں بیوی بات کرنے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس رویے نے رشتوں کو کمزور اور گھروں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔

    والدین اور رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ شادی کے آغاز پر ہی بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ کسی بات پر سمجھوتا نہ کرنا اور ہر مسئلہ ہمیں بتانا، جبکہ بیٹے کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر بات نہ ماننا ورنہ وقار ختم ہو جائے گا۔ یوں نئی زندگی کی بنیاد ہی اختلاف اور بے اعتمادی پر رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے رویے رشتے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔معاشی دباؤ بھی کم اہم نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور وسائل کی کمی نے گھروں کو سکون سے محروم کر دیا ہے۔ بعض اوقات اگر بیوی زیادہ کماتی ہے تو شوہر میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اعتماد کی جگہ مقابلہ بازی اور محبت کی جگہ شکوے لے لیتے ہیں۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامے اور فلمیں ایک خیالی دنیا دکھاتی ہیں، جہاں سب کچھ حسین لگتا ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نوجوان ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اختلافات کو حل کرنے کے بجائے فوری علیحدگی کو ہی آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔اخلاقی کمزوری بھی اہم سبب ہے۔ جب ایک دوسرے کے حقوق نظرانداز ہوں، عزت اور اعتماد ختم ہو جائے اور ہر وقت اپنی انا کو ترجیح دی جائے تو رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ معمولی مسائل کو بڑا بنانے کی عادت رشتے کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوتا ہے جو ٹوٹے ہوئے گھر کے اثرات سہتے ہیں۔

    یہ مسئلہ صرف قانون یا عدالتوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت شعور کی بیداری ہے۔ اگر میاں بیوی برداشت، ایثار اور قربانی کو اپنا لیں اور والدین مداخلت کے بجائے تعاون کی راہ دکھائیں تو گھروں میں سکون واپس آ سکتا ہے۔ معاشرے کو بھی ایسے رجحانات کو فروغ دینا ہوگا جو رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں نہ کہ توڑنے کا۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں محبت اور اعتماد کے بجائے تنہائی اور ویرانی کا سامنا کریں گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم خاندانی نظام کو بچانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔

  • طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور باہمی رسہ کشی کے بیچ سب سے زیادہ دباؤ اور نقصان عام آدمی ہی برداشت کرتا ہے۔ طاقتور ملک اپنی معیشتیں،دفاعی حکمت عملی اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں عام شہریوں کی زندگیاں، ان کے وسائل اور ان کا مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو، مہاجرین کا بحران ہو، یا جنگوں کے نتیجے میں تباہ حال زندگیاں، ہمیشہ قیمت وہی لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل۔ایک طرف بڑی ریاستیں اپنے مفادات کے لیے ترقی، سلامتی اور آزادی کے نعرے لگاتی ہیں مگر حقیقت میں ان ہی فیصلوں کے بوجھ تلے غریب اور کمزور طبقات کچلے جاتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی بساط کی طرح ہے جس پر بڑے کھلاڑی اپنے مہرے آگے بڑھاتے ہیں۔ مگر وہ مہرے دراصل کروڑوں عام انسانوں کی زندگیاں ہیں جو طاقت کے کھیل میں قربانی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا کی سیاست آج بھی طاقت کے ایوانوں میں اسی طرح شور مچا رہی ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ طاقتور ممالک اپنی معیشت، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے زور پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ ان کے اجلاس، ان کے بیانیے اور ان کے فیصلے دنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام شور و غوغا کے بیچ ایک سوال دب جاتا ہے۔ ان سب کا خمیازہ کون بھگتتا ہے؟

    سچ پوچھیے تو وہی عام انسان جو اپنے چھوٹے سے گھر میں بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہی کسان، وہی مزدور جو دن بھر پسینہ بہا کر شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے فیصلے جب مہنگائی، جنگ یا معاشی بحران میں ڈھلتے ہیں تو سب سے پہلے انہی کے چولہے بجھتے ہیں۔ طاقت کے یہ بڑے کھیل عام آدمی کی زندگی کو یوں کچل دیتے ہیں جیسے پہاڑ کسی ننھی کلی کو روند دے۔ بڑے بڑے ملک اپنے قومی مفاد کے نام پر معاہدے کرتے ہیں، جنگیں چھیڑتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں مگر یہ سب کرتے وقت کوئی نہیں سوچتا کہ ان کے جھگڑوں کی زد میں آنے والے بے قصور انسانوں کا کیا ہوگا؟ کون ان کے بچوں کے آنسو پونچھے گا؟ کون ان کے خوابوں کو بچائے گا؟ دنیا کی تاریخ گواہ ہے جب بھی طاقتوروں نے اپنے مفاد کے لیے فیصلے کیے سب سے زیادہ خون عام انسان کا بہا۔ کبھی وہ مہاجرین بن کر سرحدوں پر ٹھوکر کھاتا ہے، کبھی وہ بیمار ہو کر دوائی کو ترستا ہے، کبھی وہ بے روزگار ہو کر بھوک سے لڑتا ہے،

    آج کا عام آدمی طاقت کے اس کھیل کا سب سے کمزور مہرہ ہے۔ ملک جب چاہیں اسے آگ میں جھونک دیتے ہیں، جب چاہیں اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ دنیا سوچے طاقت کے یہ کھیل کب تک؟ کب تک یہ عام انسان پسے گا؟ کب تک وہی بھاری قیمت ادا کرے گا جس نے نہ جنگ چھیڑی نہ معاہدہ کیا نہ فیصلہ؟ زمین پر سب سے قیمتی شے قیمت نہیں انسان کی زندگی ہے لیکن افسوس طاقت کے ایوان یہ سچ کب سمجھیں گے؟
    بقول شاعر:
    سلطنتیں لڑتی رہیں اپنی جیت کے لیے
    مگر ہر بار عام انسان ہی مٹ گیا

  • پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    8ستمبر کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن ہمیں 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کی جرات، حوصلے اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی یاد دلاتا ہے۔ جب پاک بحریہ نے دشمن کے دل میں ایسا خوف بٹھایا کہ وہ آج تک سمندر میں مکمل آزادی سے حرکت کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔ دوارکا پر کیا گیا دلیرانہ حملہ ہو یا آبدوز ”غازی” کی خاموش مگر ہلاکت خیز موجودگی، ہر لمحہ اس قوم کے بیٹوں کی قربانی، مہارت اور بہادری کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ یہی جذبہ، یہی ولولہ آج بھی پاک بحریہ کے ہر افسر اور جوان کے دل میں زندہ ہے۔ ایک ایسا عزم جو وقت کی کسوٹی پر مزید نکھر چکا ہے اور ایک ایسا وعدہ جو ہر چیلنج کے سامنے سینہ سپر ہے۔ آج پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خود مختاری اور پیشہ ورانہ برتری سے آراستہ ایک ایسی قابلِ فخر بحری طاقت بن چکی ہے جس کی گونج نہ صرف بحیرہ عرب کی وسعتوں میں بلکہ عالمی بحری افق پر بھی سنائی دیتی ہے۔

    جب 1965ء میں جنگ کا آغاز ہوا تو پاک بحریہ ایک نوآموز قوت تھی مگر اس نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ آبدوز ”غازی” نے بھارتی نیوی کو بحر ہند میں بند کر دیا، حتیٰ کہ بھارت نے اپنا طیارہ بردار جہاز ”وکرانت” سات سو کلومیٹر دور چھپا دیا۔ 8 ستمبر کو دوارکا پر حملہ ایک ناقابلِ یقین مگر مکمل طور پر کامیاب آپریشن تھا جس نے دشمن کی بحریہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آج بھی یہ آپریشن دنیا کی بہترین بحری کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے یہ معرکہ نہ صرف پاک بحریہ کی مہارت بلکہ دشمن پر اس کے خوف کی بھی علامت بن چکا ہے۔اسی شاندار روایت کو زندہ رکھنے کے لیے پاک بحریہ نے ہر دور میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا بلکہ سمندری دفاع کے نظریے کو وسعت دی۔ جدید جہازوں، آبدوزوں، میزائل سسٹمز، میری ٹائم نگرانی کے آلات اور فضائی صلاحیتوں سے لیس پاک بحریہ نہ صرف پاکستان کے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم میری ٹائم فورس کے طور پر تسلیم کی جا چکی ہے۔حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں بھارتی جارحیت کیخلاف افواج پاکستان کا آپریشن ”بنیان مرصوص” بھی پاک بحریہ کی جنگی تیاریوں اور چابکدستی کا ایک اور شاہکار ہے۔ اس آپریشن کے دوران نہ صرف دشمن کی سمندری جارحیت کو بروقت ناکام بنایا گیا بلکہ اس کے عزائم کو اتنی کاری ضرب لگی کہ وہ کھل کر سامنے آنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔ پاک بحریہ کے جنگی جہازوں اور فضائی یونٹس نے بھارتی بحریہ کی خفیہ نقل و حرکت کو بروقت پہچانا اور اس کے خلاف دفاعی پوزیشن سنبھالی۔ دشمن ہماری مشقوں کی خفیہ نگرانی کرتا رہا، مگر پاک بحریہ کی الرٹنیس نے اس کی ہر چال کو ناکام بنا دیا۔ یہ آپریشن اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاک بحریہ ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ چاہے وہ روایتی جنگ ہو، ہائبرڈ وار ہو یا میری ٹائم اسٹریٹیجک تھریٹس، پاکستان نیوی ہر محاذ پر اپنی موجودگی اور برتری منوا چکی ہے۔ بلکہ ہر سال بحری امن مشقوں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو بحری راستوں میں بھی کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

    پاکستان نیوی نہ صرف دشمن پر عسکری میدان میں بھاری ہے بلکہ انسنایت کے محاذ پر بھی سب سے آگے ہے۔ دشمن، جو ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا، وہ بھارت جو سرحدوں پر اشتعال انگیزی، آبی جارحیت، مقبوضہ کشمیر میں ظلم، اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہتا ہے — اسی بھارت کے زخمی شہری کو جب سمندر کی بے رحم لہروں میں زندگی اور موت کی کشمکش کا سامنا تھا، تو مدد کے لیے جس ہاتھ نے اسے تھاما، وہ پاک بحریہ کا تھا۔ ایک ایسا لمحہ جہاں دشمنی نہیں، انسانیت جیت گئی۔ لائبیریا کے آئل ٹینکر سے موصول ہونے والی ہنگامی درخواست پر پاک بحریہ نے جس سرعت، مہارت اور خلوص کے ساتھ بھارتی عملے کے زخمی رکن کو ریسکیو کیا اور کراچی منتقل کر کے بروقت طبی امداد فراہم کی، وہ نہ صرف بحری پیشہ ورانہ اخلاقیات کا منہ بولتا ثبوت ہے یقینا یہ وہ برتری ہے جو صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ظرف، جذبے اور کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ بھارت کے بے بنیاد الزامات کے بعد پاکستان نیوی کے اس عمل کو دیکھ کر دنیا کہہ اٹھی کہ پاکستان نیوی نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ دلوں کی فاتح بھی ہے۔اب پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کا اعتراف دشمن بھی کر نے پر مجبور ہو چکا ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کو جب عبرتناک شکست کا سامنا ہوا اور اپنے عوام کے سامنے بری، بحری اور فضائی ہر محاذ پر شرمندگی اٹھانا پڑی تو بھارتی نیول چیف نے پاکستان بحریہ کی ”حیرت انگیز ترقی“ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے جدید جنگی جہازوں، زیرِ تعمیر آبدوزوں اور تیز رفتار دفاعی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا اور برملا اعتراف کیا کہ ہم اپنی پوری حکمت عملی ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ یہ گھبراہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن جان چکا ہے کہ وہ خود ”کتنے پانی میں ہے”۔یقیناً، پاک بحریہ ایک قابلِ فخر قومی قوت ہے جو نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ دنیا کے دیگر بحری خطوں میں بھی پاکستان کے وقار اور سلامتی کی محافظ بنی ہوئی ہے۔

    پاکستان نیوی کا کردار صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی کے میدان میں بھی پاکستان بحریہ نے وہ خدمات انجام دی ہیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ چاہے وہ قزاقی کے خلاف مشن ہوں، اقوامِ متحدہ کے امن مشن ہوں یا خطے میں سمندری تجارت کی حفاظت، پاکستان نیوی نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاک بحریہ کی ”امن مشقیں ” دنیا کے مختلف اسٹریٹیجک سوچ رکھنے والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہیں جوکہ دفاعی لحاظ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاک بحریہ کی موجودہ قیادت —چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی سربراہی میں نہ صرف عسکری میدان میں اصلاحات لا رہی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر ڈیفنس، اور نیول انٹیلیجنس جیسے شعبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے ایئر وار کالج کراچی کے دورے کے دوران نیول چیف نے جدید عسکری تربیت اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ سطح آب، زیرِ آب اور فضائی شعبوں میں بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے پاک فضائیہ کی پیش رفت کو بھی سراہا، جس نے خطے میں دفاعی توازن کو نئی جہت دی ہے۔ نیول چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان نیوی دشمن کے ہر حملے کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی قیادت میں ”امن مشقیں ” محض دفاعی تیاریاں نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام ہیں کہ ہم ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہیں، مگر اپنی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے کہ اگر کوئی جارحیت کا سوچے گا، تو اسے سمندر کی گہرائیوں میں دفن کر دیا جائے گا۔

    آج دنیا تیزی سے بلیو اکانومی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک کے لیے سمندر میں استحکام اور تجارت کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاک بحریہ نے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی سیکیورٹی کے لیے بھی مربوط اقدامات کیے ہیں۔ قومی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے استعمال، بندرگاہی تحفظ، اور میری ٹائم ٹریڈ روٹس کی سیکیورٹی میں پاکستان نیوی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اب لمبی مسافتوں کا سفر منٹوں میں طے ہو رہا ہے، اور پانیوں پر قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ پاکستان بحریہ کی کہانی صرف توپوں، جہازوں اور آبدوزوں کی نہیں، بلکہ یہ قربانی، ہمت، جذبے اور غیر متزلزل حب الوطنی کی کہانی ہے۔ یہ وہ فورس ہے جس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، سمندر کی گہرائیوں میں مادرِ وطن کے دفاع کی ایسی دیوار کھڑی کی جسے عبور کرنا دشمن کے لیے ایک خواب ہی رہے گا۔ 8 ستمبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر آج ہم پرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے پاک بحریہ سمیت تمام مسلح افواج کی قربانیاں ہیں۔ پاکستان نیوی آج بھی اپنی شاندار روایات کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ دشمن جتنا بھی طاقتور ہو، جب جذبہ ایمانی، حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت سے لیس جوان سمندر کی حفاظت پر مامور ہوں تو سمندر بھی ان کے لیے سر نگوں ہو جاتا ہے۔

  • پاک سعودی دفاعی معاہدہ،مسلم دنیا کے لیے مضبوط ڈھال

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ،مسلم دنیا کے لیے مضبوط ڈھال

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ،مسلم دنیا کے لیے مضبوط ڈھال
    تحریر: سیاسی و سماجی رہنما حاجی محمد اکرم آرائیں۔
    پاک سعودی دفاعی معاہدہ خطے میں نیا توازن پیدا کرے گا کیونکہ اب اسرائیل کو قطر کی طرح سعودی عرب پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہوگا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تازہ ترین دفاعی معاہدہ ایک واضح پیغام لے کر آیا ہے کہ دونوں ملک طے کرتے ہیں کہ کسی ایک پر کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا اور اس کا مشترکہ جواب دیا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک اگرچہ بعض اوقات امریکہ کے دوست ممالک شمار کیے جاتے ہیں، مگر اسرائیل امریکہ کی اولین ترجیح ہے اور اپنی دفاعی پالیسی بھی امریکہ کے ساتھ مل کر ترتیب دیتا ہے، امریکہ ہر موقع پر اسرائیل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس لحاظ سے بعض دوستیوں کی نوعیت اس شعر کے مصداق معلوم ہوتی ہے:
    ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

    اسلامی ممالک نے تمام تر وسائل کے باوجود اپنے دفاع کو مضبوط نہیں کیا اور اس کا فائدہ ہمیشہ امریکہ نے اٹھایا، باوجود اس کے مسلم ممالک ہی امریکہ سے مدد کی اپیل کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ قطر کو اپنا دوست کہتا ہے اور بعض کٹھن ترین فیصلے اور حالات میں اسی کی رضامندی یا خاموشی کے باعث ہی واقعات رونما ہوتے ہیں. قطر کو بھی فلسطین کی حمایت اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے سبب مختلف حکومتوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب کی طرز پر مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں تاکہ سب مل کر کسی بھی جارحیت کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔

    پاک سعودی معاہدہ دفاعی ہم آہنگی اور مشترکہ روک تھام کو تقویت دے گا اور خطے کی سکیورٹی پر دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ معاہدے میں شامل مشترکہ رویّہ سعودی عرب اور پاکستان کو ایک ایسے موقف پر کھڑا کرتا ہے جو دشمن کو طویل مدتی اور سنگین نتائج کا سامنا کرنے پر مجبور کرے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بیرونی قوت مثلاً اسرائیل، سعودی عرب پر جارحیت کرے تو اسے نہ صرف سعودی بلکہ پاکستان کی مکمل حمایت اور ممکنہ مشترکہ ردِعمل کا بھی حساب کرناہوگا جو حملہ آور کے لیے بھاری قیمت ثابت ہو سکتی ہے۔

    یہ نقطۂ نظر محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک عملی روڈ میپ کی صورت میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں معاہدے کے چند پہلوؤں میں جوہری پروگرام سے متعلق حکمتِ عملی کے امکان کا ذکر بھی زیرِ بحث آیا ہےجو بین الاقوامی سطح پر گہری سوچ و غور کا سبب بن سکتا ہے۔

    اس معاہدے کے بعد خطے میں طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے اور فوری طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی قوت سعودی عرب یا پاکستان پر حملے کا ارادہ رکھتی ہو، اسے خطرات، متوقع ردعمل اور جغرافیائی سیاسی قیمتوں کا نئے سرے سے حساب کرنا پڑے گا، خصوصاً وہی ممالک جو پہلے تیزی سے ایک واحد ہدف پر آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ لہٰذا بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ اب اسرائیل کو قطر کی طرح سعودی عرب پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہوگا۔