Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    دنیا میں آنے سے پہلے انسان جنت میں اپنی مرضی کی زندگی گزارتا تھا اس کو نہ تو وہاں کوئی کمانے کی ٹینشن ہوتی تھی اور نہ ہی کسی اور مسئلے کی۔ لیکن انسان نے اللہ کا حکم نہ مانا اور وہ کام کر بیٹھا جو اللہ نے روکا تھا اور بے شک انسان خطا کا پتلا۔ اللہ تعالی نے اسی بات سے ناراض ہو کر انسان کو دنیا پر بھیج دیا کہ جاؤ کماؤ اور کھاؤ انسان دنیا پر آیا محنت مزدوری شروع کی تاکہ کھا سکے تاکہ اپنے جسم کو ڈھانپ سکے۔ تاکہ اپنی زندگی کو آسان بنا سکے تاکہ اللہ کی بتائی ہوئی عبادات کو پورا کر سکے اور اللہ کے حکم کو پورا کر سکے۔ بے شک اللہ تعالیٰ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے لیکن کبھی کبھی ماں بھی ناراض ہو جاتی ہے کہ میری اولاد میری بات نہیں مانتی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعالی سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور اچھے کی دعا کرتے رہنا چاہیے بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی کو انسان سے اتنی محبت تھی کہ جب اس نے دیکھا کہ میرے بندے بھٹک رہے ہیں تو اللہ تعالی نے نبیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اللہ تعالی نے ہر دور میں نبی بھیجا تاکہ اپنی مخلوق کو اپنے اصل خالق حقیقی کے بارے میں آگاہ کر سکیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی جب ان سے ناراض ہوا تو ان پر عذاب نازل کیا لیکن جب حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر آئے تو رحمت کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نبی ہونے کا دعوی کیا تو اپنے یہ رشتے دار مخالف ہوگئے لیکن حضور پاک نے سچ کا راستہ نہ چھوڑا تکلیفیں برداشت کی لیکن اپنی امت کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہے اللہ تعالی کو بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت پیارے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات نہیں ٹالتے۔ آج ہم مسلمانوں پر اگر عذاب نازل نہیں ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہے ہمیں ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور بے شک اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارے رزق میرے ذمہ ہے اس بات پر یقین کرتے ہوئے ہمیشہ حلال رزق کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے برے کاموں کی پناہ مانگنی چاہیے بے شک وہ رحیم و کریم ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جنگیں لڑیں آپ وہ  پہلے نبی تھے جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی پوچھ کر گھر کے اندر داخل ہوتے تھے اللہ تعالی نے حضور صل وسلم کو بہت سے معجزے عطا کیے ان میں سے ایک معجزہ چاند کو دو ٹکڑوں میں کرنا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ وسلم جیسا صادق اور امین انسان آج تک پوری دنیا میں نہیں آیا ہوگا۔ ہم مسلمانوں کو چاہیئے حضور صل وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تاکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرسکیں جب حضور پاک صل وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تو اس وقت کوئی فرقہ واریت نہیں تھی سب خدا کو ماننے والے تھے اور اس کے آخری نبی کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی کلمہ پڑھتے تھے جو کہ حضور پاک صل وسلم کا ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تھے لیکن آج انسان اللہ کی رضا تو چاہتا ہے لیکن فرقہ واریت سے باہر نکلنا چاہتا اس اسلام پر نہیں چلنا چاہتا جو حضور پاک صل وسلم لے کر آئے دنیا میں۔ حضور پاک صل وسلم نے کبھی فرقہ واریت کا حکم نہیں دیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کا دین ہے اسلام اس پر چلو تاکہ حق پر چل سکو۔ لیکن افسوس آج مسلمان فرقہ واریت میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو ہی کافر کہنے لگ گئے اور آخر میں ہم سب مسلمان پھر جاتے ہیں اللہ کی بارگاہ پر اور اس سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اللہ پاک ہمیں سیدھے راستے پر چلنے چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین 

    Twitter : @usamajahnzaib

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : سوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ میں کرومائیٹ کی روایتی کانکنی صرف اندازوں کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔ جس سے پیداواری لاگت زیادہ اتی ہے۔
    جدید مشینوں و اوزاروں کا مسلم باغ میں کوئی تصور ہی نہیں انسانی جسم کو  بطور مشین استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    کرومائٹ کی پرسنٹیج معلوم کرنے کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں۔کرومائیٹ پرسنٹیج معلوم کرنے کیلیے مسلم باغ میں سائنسی لیبارٹری کا قیام لازمی ہے۔
    اب بھی بیوپاری کرومائیٹ جانچنے کیلیے ایس جی ایس لیبارٹری کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تاجروں کو یہ سودے کئی گناہ مہنگا پڑتے ہیں۔ 

    حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا طریقۂ کار موجود نہیں کہ کانکنی کے احاطوں کا تعین ہو یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ یہاں ہر وقت مسائل پیداہوتے ہیں۔
    کرومائٹ کے کانوں میں کسی ایمرجینسی یا پھر خدانخواستہ کسی کان کے منہدم ہونے کی صورت میں ریسکیو کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔
    مسلم باغ کے سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چھیر کرکرومائٹ کے کانوں میں کام کرنے اور کرومائیٹ نکالنے والے لیبر کے بھی کچھ  بنیادی حقوق ہوتے  ہیں
    یہاں لیبر کی نہ کوئی رجسٹریشن ہے اور نہ ہی اسی حوالے سے کوئی متبادل  نظام موجود ہے۔کانوں سے کرومائیٹ کو نکالنے کیلیے جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے  وضع کر دہ مخصوص یونیفارم اور سیفٹی کے آلات ، جو محنت کشوں  کے بنیادی حقوق کے زمرے میں اتے ہیں ،مائن مالکان کانکنی کے ان اصولوں سے خود کو بری الذمہ تصور کرتے ہیں ۔ان اصولوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
    کرومائیٹ کانکنی کے لئے بارودی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث محنت کش ہمہ وقت حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
    کرومائیٹ کانکنی  انتہائی کٹھن، مشکل اور جان لیوا ہوتا ہے مگر محنت کشوں کو اپنے چولہے جلائے  رکھنے کیلئے انتہائی کم اجرتوں اور غیر ضروری و غیر قانونی طریقے سے  بغیر حفاظتی سامان کے ، ان کانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کرومائیٹ کی کانوں میں کام کرنے والے یہ محنت کش بارہ گھنٹے کے طویل اور غیر قانونی اوقات کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ محکمہ محنت اور افرادی قوت کے اہلکاران سالوں سال یہاں وزٹ نہیں کرتے جو قابلِ تشویش امر ہے ۔
    سائینٹیفک اصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں پر بڑی بڑی مشینوں کو استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا۔
    جدید مشینری کو اس علاقے میں لانے سے کرومائٹ کی یہ تجارت کافی تیزہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں زندگی کا ہر شعبہ ترقی پاسکتا ہے۔ کرومائیٹ ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
    کانکنی کے لیے بجلی،اور بارود کی عدمِ دست یابی ،انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی جو اس وقت ہر لحاظ سے کافی کٹھن ہے
    کرومائٹ کو صاف کرنے کے لیے جدید مشینری اور پانی کی شدید قلت ہے۔
    مسلم باغ کے کرومائیٹ کی صنعت ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت درجہ بالا مسائل حل کرنے میں مقامی تاجروں کی مدد کرتی ہے۔
    لہٰذا صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ترجیحات میں مسلم باغ کو شامل کر لیں اور اگر تاجر برادری کے ساتھ تعاون شروع کر دیں تو بے شک یہ علاقہ  معیشت و مجموعی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا  کرسکتا ہے اور ملک کے ہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
    اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی تجارت کے علاقے میں امن وامان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ تاجر برادری اس حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں ہر لمحہ اپنے جان و مال کی فکر رہتی ہے۔
    امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے حکومتی اداروں کا کردار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔یہاں اغواہ برائے تاوان کے کہیں گروہ منظم ہیں  کہیں لوگوں کو اغواہ کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان کی مد میں مغویان سے وصول کر کے مغویان کو چھوڑ دیا جاتا  ہے کہیں جرائم پیشہ اور اغواہ کار گروہ مسلم باغ میں سر گرم عمل ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت نے انھیں کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی ہے،اور نہ ہی ان کے جان و مال کے تحفظ کو  یقینی بنایا ہے۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan

  •  یوم دفاع (۳)  پاک بھارت جنگ 1965 کا پس منظر   تحریر: احسان الحق

     یوم دفاع (۳) پاک بھارت جنگ 1965 کا پس منظر تحریر: احسان الحق

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور کٹھ پتلی حکومتی پولیس کا کشمیریوں اور حریت پسندوں کے خلاف ظلم انتہا کو پہنچ گیا. بھارتی مظالم کو دیکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں نے 08 اگست 1965 کو ایک انقلابی کونسل کے قیام کا اعلان کیا اور بھارتی سامراج کے خلاف اعلان جنگ کر دیا. ساتھ ہی "صدائے کشمیر” کے نام سے ایک خفیہ ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا گیا. اسی صدائے کشمیر ریڈیو سے کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے اور ہمہ گیر جنگ کے لئے پیغام دیا گیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر کی آزادی کے خلاف اور بھارت کے لئے کام کرنے والے غداروں کو سزا دی جائے گی.

    جب انقلابی کونسل کے اعلان جنگ کے حوالے سے بھارتی حکومت اور فوج نے کوئی اثر قبول نہ کیا تو 9 اگست 1965 کو مجاہدین نے بھارتی فوج کی چوکیوں اور مورچوں پر شدید حملے کئے جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو شدید جانی نقصان ہوا. اسی روز صدائے کشمیر سے ایک 4 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا.

    ا. کشمیری عوام کٹھ پتلی حکومت کو کوئی محصول نہ دیں. عنقریب انقلابی کونسل محصولات اور مال گزار ی جمع کرنے کے لئے ایک مشنری قائم کرے گی.

    ب. کوئی بھی کشمیری بھارتی حکام یا کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرے، خلاف ورزی پر گولی مار دی جائے گی.

    ت. 9 اگست 1953 کے شہداء کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ہر شہید کا بدلہ لیا جائے گا. 

    ث. آزادی اور جمہوریت کے عالمی راہنماؤں کو تعاون کی اپیل کی جاتی ہے.

    صدر آزاد کشمیر عبدالحمید خان نے بھارتی مظالم کے خلاف اعلان کیا کہ کشمیری بھارتی سامراج کو دفن کر دیں گے. صدر عبدالحمید نے انقلابی مجاہدین اور حریت پسندوں کو آزاد کشمیر کی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا. 10 اگست 1965 کو حریت پسندوں نے اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا. حریت پسند سری نگر میں داخل ہو گئے اور دوسری طرف مجاہدین جموں سے چند میل کے فاصلے پر پہنچ گئے. صدائے کشمیر ریڈیو کے مطابق سری نگر میں 9 پلوں کو تباہ کر دیا گیا اور سری نگر-جموں شاہراہ کو بند کر دیا گیا. بھارتی فوج کے کئی ڈپو اور 4 پیٹرول پمپس کو آگ لگا دی گئی. مجاہدین کی کامیابی اور بھارتی فوج کی پسپائی دیکھتے ہوئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ غلام صادق نے بھارتی وزیراعظم لال شاستری سے ہنگامی حالت نافذ کرنے کی درخواست کر ڈالی.

    10 اگست کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے احتیاط سے کام لینے کی درخواست کی. اسی روز مجاہدین نے سری نگر سے 30 میل دور بارہ مولا کے قریب بھارتی فوج کی پوری بٹالین کو جہنم واصل کر دیا. اسی علاقے میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر مجاہدین نے دھاوا بول کر 40 بھارتی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 30 کو زخمی کر دیا. 4 روز کی لڑائی میں بھارت کے سو سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے جن میں 12 افسر بھی شامل تھے.

    انقلابی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ

    اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کے لئے کیا کیا؟

    اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کر لینے سے بھارت کے خلاف کیا کیا؟

    اقوام متحدہ نے ہزاروں کشمیریوں کو شہید ہونے سے کیوں نہیں بچایا؟

    انقلابی کونسل نے پاکستان پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خالی خولی وعدوں کی ضرورت نہیں اور نہ پاکستان کی وکالت کی ضرورت ہے. اب کشمیری اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے ہیں.

    11 اگست 1965 کو بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس طلب کیا. اجلاس کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچا کہ جس سے فوری طور پر حریت پسندوں کے حملوں کو روکا جاتا. 11 اگست 1965 کو برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ

    "مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی اکثریت مسلمان ہے اسی لئے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پر کشمیریوں کو رائے شماری کا حق نہیں دے گا”

    پانچ روز کی شدید لڑائی کے بعد حریت پسندوں کی لڑائی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا. 13 اگست 1965 کو مجاہدین نے سری نگر کے ریڈیو سٹیشن اور ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے بھرپور حملہ کیا. مجاہدین کی تعداد لگ بھگ 50 تھی اور اس حملے میں 4 بھارتی فوجی شدید زخمی ہوئے. اس شدید حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع گلزای لال نندا انقلابیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے سری نگر کے دورے پر آئے. 

    13 اگست 1965 کو بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کو دھمکی دے دی. حریت پسندوں کے شدید حملوں کی وجہ سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا جواب طاقت سے دیا جائے گا. 14 اگست کو مجاہدین نے سری نگر کے قریب زبردست حملہ کرتے ہوئے متعدد بھارتیوں کو ہلاک کر دیا.

    پے درپے شکستوں کے بعد بھارتی فوج اپنی بزدلی کا بدلہ لینے کے لئے عام اور نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کی انتہا کر دی. سری نگر کی نواحی بستی میں 300 لکڑی کے مکانوں کو نذر آتش کر دیا جس سے 250 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے. 15 اگست کو مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان سری نگر سے کچھ دور خونریز جنگ ہوئی جس میں 150 بھارتی ہلاک اور 35 سے زیادہ زخمی ہوئے. مجاہدین نے ایک بھارتی افسر اور تین فوجیوں کو قیدی بھی بنا لیا. 16 اگست 1965 کو بھارتی فوج آزاد کشمیر میں داخل ہو کر کارگل کی تین چوکیوں پر قبضہ کر لیا قبل ازیں مئی میں بھارت نے انہیں چوکیوں پر قبضہ کیا تھا جو کہ اقوام متحدہ کی مداخلت سے بھارت نے قبضہ چھوڑ دیا تھا. 16 اگست کو مجاہدین سری نگر کو فتح کرنے کے نزدیک تھے مگر بھارت جنگی طیاروں کو میدان میں لے آیا، بھارتی دعوے کے مطابق 141 مجاہدین شہید جبکہ 60 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے. 16 اگست کو چین نے حریت پسندوں کے حملوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی.

    17 اگست کو مجاہدین نے سرینگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے چاروں اطراف سے دھاوا بول دیا اور آٹھ چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک کر دیا. 17 اگست کو آزاد کشمیر کی اسٹیٹ کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی مدد کرنے کے لئے اعادہ کیا. 18 اگست کو مجاہدین کے ایک اور کامیاب حملے میں 33 بھارتی ہلاک ہوگئے.

    18 اگست 1965 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے پاکستان اور ہندوستان کے نمائندوں سے بات کی. 19 اگست کو پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کو خبردار کیا کیا دھمکیاں دینا بند کرو، جموں وکشمیر پاکستانی علاقہ ہے گوا، جونا گڑھ اور حیدرآباد کی طرح کشمیر پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے. اسی روز 19 اگست کو بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے جموں وکشمیر میں گوریلا جنگ چھیڑ رکھی ہے لہذٰا پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی. 19 اگست کو مجاہدین کے ہاتھوں 92 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے. سکھوں کی بٹالین کو حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے انکار کر دیا. کٹھ پتلی وزیراعلیٰ جی ایم صادق نے آزاد کشمیر پر حملے کرنے کی دھمکی دی.

    20 اگست 1965 کو حکومت نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں نے گزشتہ دس دنوں میں 12 مرتبہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی. 20 اگست کو ایک جھڑپ میں 32 فوجی ہلاک ہوئے اور دو اعلیٰ افسر گرفتار کر لئے گئے. 20 اگست کو روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی. 30 اگست کو بھارتی فوجوں نے ٹیٹوال سیکٹر میں حملے کئے.

    یکم ستمبر 1965 کو پاکستانی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئی اور جنگ بندی لائن سے 8 میل دور دو چوکیوں "چھب” اور "دیوا” پر قبضہ کر لیا. یکم ستمبر کو 8 گھنٹوں کی جنگ کے بعد مجاہدین نے دیوا، مونا وال، خیر وال، جوڑیاں، چھارپانی، پالن وال اور چھب پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا. اس کے بعد مجاہدین اکھنور اور جموں کی طرف پیش قدمی کرنے لگے.

    یکم ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکی دی. 2 ستمبر کو اوتھان نے پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی کی اپیل کی. اسی روز مجاہدین نے پونچھ کے شمال میں ایک بھارتی بٹالین کا صفایا کر دیا. 2 ستمبر کو جوڑیاں کی چوکی پر قبضہ کر لیا.

    پاکستان کے ہیرو میجر محمد سرور شہید جنگ 1965 کے پہلے پاکستانی شہید ہیں، انہوں نے بہادری سے چھب سیکٹر سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جوڑیاں کا قلعہ فتح کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرا دیا. 5 ستمبر کو پاک فوج اکھنور سے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور فوج اکھنور کے نواح میں پہنچ گئی جس کا اعتراف آل انڈیا ریڈیو نے اپنی نشریات میں کیا.

    6 ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آرتھر گولڈ برگ کی زیر صدارت ہوا. مندوبین نے ایک قرارداد منظور کی. قرارداد کی سفارشات اور تجاویز کے مطابق

    ا. تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی کی جائے.

    ب. تمام فوجی دستے 5 اگست 1965 سے پہلے والی جگہوں پر چلے جائیں. 

    ت. سیکرٹری جنرل اس قرارداد کو تمام متاثرہ علاقوں میں عمل کروائیں.

    ث. معاملے پر گہری نظر رکھی جائے تاکہ سلامتی کونسل غور کرے کہ اس علاقے کے لئے آئندہ کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • زیر عتاب صدور  شہباز اور بائیڈن   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    زیر عتاب صدور شہباز اور بائیڈن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    دو صدور اس وقت خاصے زیر عتاب ہیں

    ایک تو امریکی صدر،جنہیں آجکل افغانستان سے امریکن فوج کے انخلا کی وجہ سے ان کی اپوزیشن نشانہ بنارہی ہے۔

    جو بائیڈن پر گرجنے برسنے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی سنبھالے نہیں جا رہے۔

    امریکی صدر نے اپوزیشن کی طرف سے آڑے ہاتھوں لیے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دل کی بھڑاس نکالتے ہوۓ بتایا ہے کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ صرف اس کا نہیں تھا،

    اس فیصلے سے پہلے دیگر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول فوجی جرنیلز اور وزیر دفاع کے،

    ہر ایک سے بات کی گئی اور تب باہم رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

    امریکی صدر کے لئے تو چلیں اسکی اپوزیشن وبال جان بنی ہوئ ہے مگر ایک صدر ایسا بھی ہے،

    جسے اُس کی اپنی ہی پارٹی نے آجکل تتے توے پر بٹھایا ہوا ہے۔

    جی آپ ٹھیک سمجھے !

    میری مراد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف سے ہے،

    جن کی زندگی ان کی اپنی بھتیجی مریم صفدر نے اجیرن کر رکھی ہے۔

    یہی سیاست کی بے رحم فطرت ہے کہ اس میں اقتدار کے لالچی لوگ خون کے رشتے تک فراموش کر دیتے ہیں۔

    جب سے نوازشریف سب کو چُونا لگا کر لندن گیا ہے،

    اُس وقت سے شہباز شریف کو بطورڈمی صدر سامنے لایا گیا مگر مریم اینڈ کمپنی نے شہباز شریف کی ایک نہیں چلنے دی۔

    شہباز شریف کی کہی گئی ہر ایک بات کو مریم اور اسکے ہمنوا جوتے کی نوک پر رکھے ہوۓ ہیں۔

    مگر حیران کن طور پر شہباز شریف کی صدارت کا سفر جاری ہے۔

    لگتا یہی ہے کہ سیاست کے سینے میں درد کے ساتھ ساتھ شرم بھی نہیں ہوتی،

    وگرنہ جس طرح شہباز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے،

    ایسے میں عہدہ صدارت سے چمٹے رہنا ڈھیٹ بن کر کسی درخت سے لٹکنے کے مترادف ہے۔

    گندی سیاست کے رنگ و روپ پر غور کریں تو صاف پتہ چلے گا کہ شہباز شریف کی مریم اور اسکے حواریوں کی طرف سے دُرگت بناۓ جانے میں بڑے میاں ساب کا بھی ہاتھ ہے۔

    ورنہ اگر نواز شریف نہ چاہے تو شہباز شریف کو یوں رسوا کیسے کیا جا سکتا ہے؟

    شہباز شریف کو صدر بھی رکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی اسے اسکی اوقات میں بھی رکھا جا رہا ہے۔

    شہباز شریف کی کہی گئی زیادہ تر باتوں کی برملا تردید کا فریضہ شاہد خاقان عباسی ادا کر رہا ہے۔

    شہباز شریف اگر دن کہے تو عباسی مریم کے اشارے پر رات کہہ دیتا ہے،

    حتی کہ ایک دفعہ تو شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کو وارننگ کے انداز میں سوچ سمجھ کر بات کرنے کو بھی کہہ دیا تھا۔

    اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی عہدہ صدارت سے چمٹے رہنے ہی میں شہباز شریف کی بقا ہے۔

    اسی میں اسکی عافیت ہے۔

    کیونکہ جتنے سنگین قسم کے کرپشن کیسز اس پر چل رہے ہیں،

    اسے مسلم لیگ ن کے شیلٹر کی سخت ضرورت ہے۔

    کیونکہ پاکستان کے تمام بدعنوان سیاستدان اپنی اپنی کرپشن کو چھپانے اور بچانے کے لئے اپنی اپنی پارٹیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔

    شہباز شریف کی بھی مجبوری ہے کیونکہ وہ تو ویسے ہی مع اہل وعیال مبینہ طور پر کرپشن کے گڑھے میں گردن تک دھنسا ہوا ہے،

    اور پھر اسے پتہ ہے کہ ابھی تک ن لیگ میں نواز شریف کی چلتی ہے۔

    ایسے میں وہ پارٹی چھوڑ کے کہاں جاۓ گا؟

    نواز شریف نے پاکستان سے باہر ہونے کے باوجود پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئ ہے،

    یہی وجہ ہے کہ اسکے نام نہاد بیانیوں سے اختلاف کرنے والوں کو کارنر کر دیا جاتا ہے۔

    شہباز شریف کو نواز شریف اور مریم کے ریاست مخالف بیانیے سے بھی شدید اختلاف ہیں مگر وہ اپنی سیاسی اور زاتی مجبوریوں کے آگے بے بس ہے۔

    کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ن لیگ کو تباہ کرنے میں مریم کا کلیدی کردار ہے۔

    مریم کی ان تباہ کاریوں پر شہباز شریف کئی دفعہ نواز شریف کو شکایت بھی لگا چکا ہے مگر نواز شریف کا ووٹ ہمیشہ مریم کے ملک دشمن بیانیے کی حمایت میں ہوتا ہے،

    کیونکہ نواز شریف کو پتہ چل چُکا ہے کہ نہ تو عمران خان اور نہ ہی اسٹیبلش منٹ اسے کسی قسم کا ریلیف دینے کو تیار ہے۔

    ہر طرف اندھیری رات دیکھتے ہوۓ نواز شریف نے سیاست کی آڑ میں ملک و قوم کے خلاف جوڈرٹی گیم شروع کر رکھی ہے،

    بظاہر شہباز شریف اپنے آپ کو اس غلیظ بیانیے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے آپ کو ریاست کے سامنے اچھے بچے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے،

    مگر ہر بار اسکی یہ کوششیں ناکام کرنے کے لیے اسکی اپنی بھتیجی دم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہے۔

    اور شہباز شریف ایک بار پھر شوباز بن کے رہ جاتا ہے۔

    ویسے شہباز شریف کی یہی بھتیجی،

    جو باپ سمیت اپنے آپ کو کشمیری اور کشمیر کی بیٹی کہتے نہیں تھکتی،

    اُس کی زبان بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی مرحوم و مغفور کے انتقال پُرملال پر کیوں گنگ ہے؟

    کیا تعزیت کرنے سے مودی چچاکی ناراضگی کا ڈر ہے؟

    ویسے تو شہباز شریف اور مودی دونوں ہی مریم کے چچا ہیں۔

    مگر سگے والےکو اتناٹف ٹائم دینا اور مونہہ بولے کا اتناخوف کہ

    کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ایک عظیم بانی راہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر تعزیت تک ندارد

    کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ؟

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Sent from my iPhone

  • حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

    حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

    اسلام نے نکاح کو مرد و عورت کے لیے خیر و برکت کا سبب قرار دیا ہے۔ 

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں ) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراو اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں ان کا بھی ۔ 

    اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کردے گا اور اللہ بہت وسعت والا ہے ، سب کچھ جانتا ہے۔”

    نکاح کو خیر و برکت کا سبب قرار دینے کے ساتھ ساتھ، شخصی مسرت کی تکمیل میں کسی رفیق حیات کی رفاقت، میاں بیوی کی باہمی موافقت اور میل جول کو اسلام نے بہت اہمیت دی ہے۔ میاں بیوی کی باہمی محبت ورحمت کو اپنی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ سورہ روم میں ارشاد باری تعالی ہے: ” اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت و رحمت کے جذبات رکھ دئیے ، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔” اور ان لوگوں کی سخت برائی کی ہے جو شوہر اور بیوی کے باہمی میل جول، محبت و اخلاص میں تفرقہ ڈالیں۔ 

    سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے: پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ ویسے یہ واضح رہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔ مگر  وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔” 

    میاں بیوی کی باہمی میل جول، آپس کی محبت والفت کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ ازدواجی زندگی پر لطف اور خوشگوار کیسے بنتی ہے؟ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری اور شوہر کو بیوی کی دلجوئی کرنا ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنانا ہوگی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے ازدواجی زندگی کے بارے میں ہمیں جو تعلیمات ملتی ہیں ذیل میں چند ذکر کیے جاتے ہیں: گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کے حوالے سے ارشاد فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہے”۔ 

    بیوی کے حقوق کے سلسلے میں ایک عابد و زاہد صحابی کو بلوا کر فرمایا: ” اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے "۔ حجة الوداع کے موقع پر فرمایا: "عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو”۔ 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عملی زندگی میں اپنی ازدواج مطہرات کے ساتھ محبت فرماتے تھے، چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یارسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ فرمایا:

    عائشہؓ ۔ انہوں نے عرض کیا: ”مردوں میں کون پسند ہے۔ فرمایا: ”عائشہؓ کا والد”۔ اظہار محبت کرتےاورخوبصورت نام سے بلاتے تھے۔

     ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہیں تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا:حمیرہ! میرے لیے بھی پانی بچا لینا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی بچایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے کہاں پر لب لگا کے پیا؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جگہ بتائی کہ یہاں سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کا رخ پھیرا اور جہاں سے زوجہ محترمہ نے پانی پیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے لب مبارک اسی جگہ لگا کے پانی نوش فرمایا۔”

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومینین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے، ان کی دلجوئی فرماتے اور خوش طبعی کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں زیادہ ہنسنے والے، تبسم فرمانے والے تھے۔ 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی سیر و تفریح کا خیال رکھتے تھے۔ ایک سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ تم آگے چلو، اور خود اپنی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور ان سے فرمایا:

    ”اے عائشہ! کیا میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروگی؟” انہوں نے کہا: ”ہاں”۔ چونکہ اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کم تھی اور جسم ہلکا تھا تو مقابلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جیت لیا۔ 

    کچھ عرصے بعد جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جسم بھاری تھا ان کے درمیان پھر دوڑ کا مقابلہ ہوا اس دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے اور فرمایا: ”اے عائشہ یہ اُس پہلے مقابلے کا بدلہ ہے”۔ 

    گھر والوں کے ساتھ وفاداری کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا، اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سہیلیوں کا خیال رکھتے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے،کپڑے پر پیوند لگا لیتے، جوتے کی اصلاح فرما دیتے، پھٹا ہوا ڈول مرمت فرما لیتے تھے۔حضرت اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ مسجد تشریف لے جاتے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی عزت واحترام کرتے۔ایک سفر میں اپنی اہلیہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ کے قریب بیٹھے اور اپنا گھٹنا مبارک یوں رکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوں۔ سو آپ ﷺ کی اہلیہ امی صفیہ رضی اللہ عنہا نے مبارک زینے پر پاؤں رکھا اور اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ 

    اپنی بیوی کے ساتھ محبت، نرمی کا برتاؤ، خوش طبعی، بے تکلفی، اس کی دلجوئی اور حقوق کی ادائیگی گھر کو جنت بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تعلیمات پر عمل کرنا اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ضروری ہے ، اسی سے ازدواجی زندگی خوشگوار اور پر لطف ہوسکتی ہے ۔

    Twitter

    | @AdnaniYousafzai

  • وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    ‏وقت کی پابندی

    ہر کام کو وقتِ مقررہ پر کرنے کا نام وقت کی پابندی ہے۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہیں، آنے والے وقت کے لئے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں مگر حال کو بلکل فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرنے کی بجائے موجودہ وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنی چاہیئے اور اس سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو روشن بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیئے۔

    اکثر لوگ وقت کی قدر و قیمت کا احساس نہیں رکھتے، کاش وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ وقت ایک انمول خزانہ ہے، اسے مفت میں نہیں گنوانا چاہیئے کیونکہ گزرا ہوا وقت کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا۔ ہم محنت سے روپیہ کما سکتے ہیں، دوا،پرہیز اور عمدہ خوراک سے کھوئی ہوئی صحت واپس لا سکتے ہیں، تعلیم ، نیک چلنی اور رفاہِ عامہ کے کاموں سے عزت اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی تمام تر فہم و فراست ، اثر و رسوخ اور دولت و ثروت کے باوجود گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس نہیں لا سکتے۔
    ایک قول مشہور ہے کہ سکندر اعظم نے مرتے وقت کہا تھا ” کوئی میری تمام سلطنت لے لے اور مجھے جینے کے لئے چند لمحے اور دے دے ” لیکن ایسا کون کر سکتا تھا ؟

    اگر ہم غور سے دیکھیں تو کائنات کا پورا نظام ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ دن اور رات اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے ہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتے ہیں۔ چاند اپنے مقررہ وقت پر گھٹتا اور بڑھتا ہے ۔ سورج اپنے متعین وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ فطرت کے ان عناصر کے پروگرام میں کبھی کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھی گئ۔
    وقت کی پابندی زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو جب تک وقت کا پابند نہیں ہوگا کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکے گا۔

    مختصر یہ کہ جن لوگوں نے وقت کی قدر نہ کی، زمانہ ان سے روٹھ گیا۔ دولت اور حکومت ان سے منہ موڑ گئ۔ وہ خاشاک کی طرح بحرِ زندگانی میں بے مقصد بہتے رہے اور پھر اسی حالت میں ختم ہو گئے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو وقت کی قدر و قیمت کو سمجھے اور کوئی لمحہ بیکار نہ گزارے۔ انسان کو بیکار رہنے کے لئے نہیں بنایا گیا ، بلکہ فطرت بھی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کام اپنے وقتِ مقررہ پر کرتا رہے۔

    گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
    سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 1 تحریر خالد عمران خان

    ایک مشکل فیصلہ ماں باپ کے لیے الگ ہونا اور اس وقت اور مشکل جب میاں بیوی اور خاندان میں بچے بھی ہوں تو اس قسم کا فیصلہ آپ میاں بیوی کی زندگی کے علاوہ سب سے زیادہ اثرات آپ کے بچوں پر چھوڑ دیتا ہے اور ایسے اثرات جن کا سدباب آپ ساری عمر نہں کر سکتے۔
    طلاق خاندان کے لیے مشکل وقت ہوسکتا ہے۔ والدین صرف ایک دوسرے سے تعلق بہتر بنانے کے طریقے پے توجہ دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا اس طرح کے فیصلوں سے ،اور کافی سارے ادارے بھی اس مسئلے کے بہتر حل کے لیے کام کر رہے ہیں ان سے مشورہ کریں. جب والدین طلاق دیتے ہیں بچوں پر طلاق کے اثرات مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں۔ کچھ بچے فطری اور سمجھنے والے انداز میں طلاق پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں ، جبکہ کچھ بچے اس کی وجہ سے مشکلات میں
    آجاتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ جدوجہد کر تے ہیں

    بچے لچکدار ہوتے ہیں اور ان کو سمجھاتے ہوئے اِنکی مدد کے ساتھ طلاق معاملات کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ایسے وقت میں انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کے ماں پاب اپنے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نہں دے پا رہے ہوتے اور یہ بچے کے مستقبلِ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں اور اس کے معاشرتی رویئے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے ایسے وقت بچوں پر بھی خاص وجہ دیں اور بدلتے حالات میں ان کو ساتھ ساتھ سمجھاتے رہیں.ان کو طلاق سے پیدا ہونے والے بحران سے کچھ حد تک بچایا جہ سکتا ہے.اور انکو دما غی طور پر تھوڑا بہت تیار کیا جا سکتا ہے اس بحران سے نکلنے یہ اس کو قبول کرنے لیے ۔ چونکہ طلاق ہونے کی عورت میں بچوں کے رویے بھی مختلف ہوتے ہیں (مختلف مزاج ، مختلف عمریں) ، بچوں پر طلاق کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بچے خاندان کے حالات کو سمجھتے ہیں اور انکی طبیعت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تفصیل سے سمجھیں.

    ماں باپ کا کے ہونے والے اختلاف بچوں کے لیے ، خاندان کی بدلتی ہوئی حرکیات کو سمجھنے کی کوشش کرنا انہیں پریشان اور الجھا کر رکھ سکتا ہے۔ ماں باپ کی سوچ اس طرف نہں جاتی جب گھر میں جھگڑے کا ماحول رہے اور بچوں سے توجہ ہٹ رہی ہو ایسے صورت میں جو توجہ آپ ان کی روز مرہ ان بچوں پے دیا کرتے ہیں وہ آپکے لڑائی جھگڑے پے صرف ہو رہی تو یہ چیز بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے. بچے اپنے والدین کی توجہ ہٹنے کو محسوس کرتے ہیں۔ اور لڑائی جھگڑے کے ماحول کی وجہ سے نے خوش رہتے ہیں بچوں کے مزاج میں خطرناک حد ٹک تبدیلی بچوں میں لڑائی جھگڑے کی عادت کا پر جانا اور اس کی وجہ سے جو سب سے اہم مسئلہ کھڑا ہوتا ہے وہ ہے بچوں کی تعلیم پر پڑنے والے برے اثرات بچوں پر طلاق کے اثرات میں سے اھم ترین مسئلہ اِنکی تعلیمی کارکردگی میں دیکھا جا سکتا ہے بچے جتنے زیادہ پریشان ہوتے ہیں اپنی توجہ پڑھیں پے مرکوز نہں کر پا تے صحیح طرح، اتنا ہی امکان ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسکول کے کام پر توجہ نہ دے پائیں اور اسکول میں اور بچوں کے ساتھ بھی انکا رویہ تبدیل ہورہا ہوتا ہے بچہ اس چیز کا بہت زیادہ اثر لے رہا ہوتا ہے ہمیں یہ سب سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • ۔ڈریم لینڈ "اٹلی میں پانی کا شہر تحریر فرزانہ شریف

    ۔ڈریم لینڈ "اٹلی میں پانی کا شہر تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی جیسے عام زبان میں ہم "ڈریم لینڈ "بھی کہہ سکتے ہیں اس خوبصورت ترین ملک میں اتنے خوبصورت مقامات ہیں کہ انسان کو لگتا ہے وہ خوابوں کی دنیا میں آگیا ہے ۔۔جہاں گھومنے پھرنے کے لیے بہت ذیادہ خوبصورت مقامات ہیں وہیں ایک شہر پانی میں بنا ہوا ہے جیسے اٹالئین میں
    Venezia
    اور انگلش میں وینس ۔عام زبان میں پانیوں کا شہر اور۔روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے یہ اول نمبر پر ہے خوبصورتی کے لحاظ سے کہ انسان ایک دفعہ وہاں سے ہوکر آئے تو اپنا دل وہی پہ چھوڑ آتا ہے بار بار جانے کو دل چاہتا ہے۔ اٹلی کے بالکل ساتھ ہی سوئٹزر لینڈ ہے یہ ہمارے لیے ایسے ہی ہے جیسے آپ اسلام آباد سے لاہور جاتے ہیں اور جرمنی فرانس ایسے ہی ہیں جیسے آپ اسلام آباد سے کراچی جاتے ہیں ۔بس پر بھی جاسکتے ہیں جہاز پر بھی اور ٹرین پر بھی ۔۔۔!!!
    جب آپ وینس میں داخل ہوجاتے ہیں آپکو لگتا ہے کسی الگ ہی دنیا میں داخل ہوگے ہیں ایک ایک منظر آپکو اپنے سحر میں گرفتار کرلیتا ہے آپکو یہاں دنیا کے ہر ملک کے لوگ نظر آئیں گے گھومتے پھرتے۔۔ بس وہاں کے رہائشی لوگ بہت کم نظر آئیں گے اگر آپکو ان سے ملنے کی خواہش ہے دیکھنے خواہش ہے تو آپ ان سے وقت لیکر ان کے گھر جاکر ان سے مل سکتے ہیں لیکن وہاں گے بندے کے دیکھنے کے لیے اتنا کچھ ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے ملنے کا آپ کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ۔۔!!
    یہ پورا شہر پانی میں تعمیر کیا گیا ہے کئی سو سال پہلےپرانی طرز پر بنے ہوئے مضبوط اور خوبصورت ترین گھر ۔پرانی تاریخی عمارتیں آپکو اپنے سحر میں گرفتار کرلیں گی۔دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر اور اس کے اندر کے مناظر دیکھ کر آپ کو لگے گا اپ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گے ہیں۔۔
    دنیا کا سب سے بڑا میوزیم ہاوس بھی یہاں ہے آپ ایک دفعہ وینس میں داخل ہوجائیں گھومتے پھرتے آپکو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ایک ایک سین آپکو اپنے سحر میں گرفتار کرلے گا آپکو وینس شہر میں داخل ہونے کے لیے بھی بحری جہاز کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے پھر چاہیں تو آپ سارا دن اس ٹکٹ پر بحری جہاز کے ذریعے وینس کا شہر جہاز میں بیٹھے بیٹھے انجوائے کرو 24 گھنٹے اس ٹکٹ کی معیاد ہوتی ہے آپکو کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا جہاز کے ٹکٹ کا ۔۔آپ چاہیں تو جہاز سے اتر کر وینس کی گلیوں میں داخل ہوجائیں اور ایک جگہ پر وینس کے خوبصورت تاریخی مجسمے اور تاریخی آئاٹمز آپکو دیکھنے کو ملیں گے قدیم طرز کی بنی خوبصورت عمارتیں یہاں کا حسن ہیں ایسے ایسے شاہکار آپ کو دیکھنے کو ملیں گے کہ چند لمحے آپ مہبوت ہوکر رہ جائیں گے وینس کی گلیاں پانی پر بنی ہوئی ہیں لیکن پانی کی اونچائی سے اتنی اوپر کرکے بنائی ہوئی ہیں جیسے پل ٹائپ کی چوڑی گلیاں۔۔
    یہ ایسا شہر ہے، جس میں سڑکوں کی جگہ نہریں اور گاڑیوں کی جگہ کشتیاں چلتی ہیں وہاں کے رہائشیوں نے اپنے گھروں کے ساتھ کشتیاں رکھی ہوئی ہیں جس کے ذریعے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں ۔امیر لوگوں نے جدید طرز کی مہنگی اور بڑی کشتی رکھی ہوئی ہے اور اپر مڈل کلاس لوگوں نے نارمل ضرورت کے مطابق کشتی رکھی ہوئی ہے ۔کوئی گھر ایسا نہیں جس کے دروازے کے ساتھ کشتی بندھی نظر نہ آئے ۔۔۔!!
    یہاں بڑے بڑے ریسٹورینٹ ۔کافی شاپس۔پاکستانی ریسٹورینٹ ۔بھی ہیں جس سے عام سیروتفریح کرنے والے لطف اندوز ہوتے ہیں عام طور پر یہاں دوسرے ممالک سے لوگ ذیادہ آتے ہیں امریکہ انگلینڈ اور دنیا کے ہر کونے سے ۔۔جو ایک دفعہ اس پانی کے شہر میں آیا اس کا بار بار دل چاہتا ہے دیکھنے کو گھومنے کو بندہ دل چھوڑ جاتا ہے وینس کی خوبصورت وادیوں میں ۔۔!!
    وینس کے شہر کی سیر کرنے کا بہترین موسم فروری سے مئی۔اور ستمر سے نومبر ۔۔ان مہینوں میں آپ بھرپور ایک ایک پل انجوائے کرسکتے ہیں نہ گرمی نہ سردی ۔۔سب سے مزے کی چیز مجھے یہاں کشتیوں میں بیٹھ کر پورے وینس کی سیر کرنا لگی آپ کو لگتا ہے بس آپ کسی اور ہی دنیا میں آگے ہو کافی ذیادہ تاریخی عمارتیں اور ان کی ہسٹری آپکو کشتی چلانے والا ساتھ ساتھ بتاتا جاتاہے ۔یہاں اٹالئین بھی دوسرے صوبوں کی اٹالئین سے الگ ہے۔۔جی ہاں جیسے پاکستان میں ہر صوبے کی اپنی زبان ہے یہاں بھی ہر صوبے کی اپنی اٹالئین لینگویج ہے یہ ہے کہ آپکو سمجھ آجاتی ہے اور ہماری ذبان ان کو بھی سمجھ آجاتی ہے ۔۔کشتی والا آپ سے 80 یورو لیکر 35 منٹس تک آپ کو وینس شہر میں گھوما سکتا ہے اور جتنے پیسے آپ ذیادہ دیتے جاو گے آپکو اتنا ذیادہ وقت دے گا اپ دوسرا روٹ لینے کے لیے کشتی چینج بھی کرسکتے ہو ۔۔وینس کااپنا الگ جھنڈا بھی ہے بےشک یہ اٹلی کا ہی شہر ہے لیکن کئی سو سال پہلے جو ان کا ریڈش میرون جھنڈا ہے وہ آج بھی ہر جگہ اٹلی کے جھنڈے کے ساتھ برابر لگا ہوا نظر آئے گا ۔۔
    وینس پورے یورپ کا سب سے امیر ترین شہر ہے ماضی میں وینس نے صلاح الدین ایوبی کو بحری جہاز بھی دیے تھے اس کے شروع سے مسلمان ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اس حساب سےوینس کی تاریخ بہت دلچسپ رہی ہے ایک وقت تھا یہ پوری دنیا کے لیے تجارت کا مرکز تھا یہاں لوگ دوردراز ملکوں سے اپنا سامان لیکر آتے تھے جن کے پاس بکریاں ہوتی تھیں وہ بکریاں لے کر آتے جب کے پاس چاول دالیں۔ہوتی تھیں وہ چاول دالیں لیکر آتے تھے جن کے پاس گائے اونٹ یا باقی جانور ہوتے وہ لیکر آتے پھر کرتے ایسے تھے کہ وہ اپنی بکریاں دے کر جس چیز کی انھیں ضرورت ہوتی وہ دوسروں سے لے لیتے تھے مطلب چیزوں کے بدلے چیزیں
    ۔۔
    صلیبی جنگوں میں وینس کا بہت کردار رہا ہے یہ بحری جہاز دیتے تھے جنگوں میں ۔ٹھیٹھر کا آغاز بھی پہلی دفعہ وینس ہی سے ہوا تھا یہاں بڑے بڑے ٹھیٹر لگتے تھے ۔۔اب بھی لگتے ہیں لیکن پہلے کی طرح نہیں ۔۔
    آپکو وینس کے بازاروں میں گھومتے پھرتے اتنا مزہ آتا ہے کہ شائد دنیا کے مہنگے ترین شاپنگ سنٹرز پر بھی گھوم کر وہ خوشی نہ ملے جو اس بازار میں ملتی ہے پھر جب آپ واپس آجاتے ہو وینس سے تو بہت دن تک بھی اس کے سحر میں گرفتار رہتے ہو ایسا خوبصورت پیارا شہر ہے ۔۔اللہ اس شہر کی روشنیاں ایسے ہی روشن رہیں اور اس شہر کو ایسے ہی آباد رکھے آمین
    میرا دل ہے اٹلی اور پاکستان ۔
    شاد آباد رہے انگلستان اٹلی اور پاکستان آمین ۔۔

    تحریر فرزانہ شریف

    موضوع تحریر ۔۔ڈریم لینڈ "اٹلی میں پانی کا شہر "

  • لوڈشیڈنگ ‘‘کا جن کب قابو میں آئیگا ؟ تحریر: محمد انور

    پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی بے حد اضافہ ہو گیا ہے ۔بجلی کی پیداوارمیں کمی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے اور شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں سولہ گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ لوڈشیڈنگ سے جہاں صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے وہیں عام تاجر بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں اور ان کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ایک طرف توسال 2020 کوویڈ کی نذر ہوگیا۔ تاجر حضرات کورونا کے باعث کاروبارنہ کرسکے اور اب گرمیوں میں کوویڈ میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تو ان کو بجلی کی قلت نے متاثر کردیا۔
    توانائی کے بحران نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اورملک میں ہرطرف روشنیاں گل ہورہی ہیں۔ صنعتی پیداوار‘ گھریلو زندگی اورسماجی ، معاشی اور دفتری معمولات درہم برہم ہوچکے ہیں۔ معاشی ترقی بے روزگاری میں اضافہ اور غربت کے پھیلاؤ میں بھی بجلی کی کمی اور اس کی قیمت میں اضافہ ایک اہم عنصر ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو بجلی کی اس قلت سے متاثر نہ ہو کھانے پینے سے لیکر پیداوار تک ہر چیز تو بجلی کے تابع ہے۔ اگر بجلی نہ تو انسان ایسے ہوجاتا ہے جیسے بینائی کے بغیر ہو۔
    لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو بجلی نہیں مل رہی لیکن بجلی کے بل میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، الٹا اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس وقت جو بجلی عوام کو میسرکی جارہی ہے وہ نہ ہونے کے مترادف ہے۔ عام روٹین میں جو وولٹج مہیا کئے جاتے ہیں وہ 220 یا اس سے زائد ہوتے ہیں مگر اس وقت جو وولٹج عوام کو مل رہے ہیں وہ صرف 100ہیں جو گھریلو برقی آلات کونہیں چلا سکتے ۔ لوگ اتنی گرمی میں پانی سے بھی تنگ ہیں کیونکہ 100وولٹج سے واٹر پمپ نہیں چلتے بلکہ جل جاتے ہیں اورعوام پانی کے لیے باہر نہروں یا نلکوں کا رخ کرتے ہیں۔ فریج کا چلنا تو ممکن ہی نہیں بلکہ اس گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کئی سوروپوں سے زائد کا برف بازار سے خرید کر استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ بجلی کا بل اپنی آب و تاب کے ساتھ آرہا ہے۔ بجلی ملے نہ ملے مگر بل ہر بار گھر کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے۔
    پاکستان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہونا کوئی نئی بات نہیں یہ تواب معمول کا حصہ ہے۔ جس کو پورا رکھنے کے لیے ہر قدم اٹھانا منظور ہے۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نئے پاکستان یا پرانے پاکستان کا نہیں ہے یہ ہردور کا مسئلہ ہے نوازشریف، پرویز مشرف ، زرداری اور اب عمران خان کی حکومت میں بھی لوڈشیڈنگ زوروں شور سے جاری ہے۔ ہر دور میں اس پر قابو پانے کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے رہے مگرحقیقت میں مکمل قابوپانے کے لیے خاص اقدامات نہیں کئے ہرحکومت نے تھوڑا بہت قدم اٹھا کریہ ثابت کرنے کے کوشش کی جیسے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔ گرمی کی شدت جون کے وسط سے لیکر اگست تک بھرپور عروج پر ہوتی ہے اور ان ماہ میں ہی حکومت کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے۔
    گرمی کی شدت کو دیکھ کر سکولوں کی چھٹیاں کردی جاتی ہیں ، دفتری اوقات میں تبدیلی کردی جاتی ہے مگر اس کا کیا کریں کہ گھر بیٹھے وقت میں جب گرمی آگ برسا رہی ہوتی ہے اوراوپر سے بجلی بھی نہ ہوتو پھر گرمی سے بچنے کے لیے کیافارمولااستعمال کرنا چاہیے؟مجھے یاد ہے ہر سال لوڈشیڈنگ جب عروج پر ہوتی ہے اور وام کا جینا مشکل ہورہا ہوتا ہے تو عوامی فرمائش پرایک دو کالم لکھنے پڑتے ہیں اوریہ بھی پتہ ہے کہ کالم لکھنے سے اس کا حکومتی سطح پر کبھی کوئی اثر نہیں ہوگا مگر اتنا ضرورہے کہ اپنا ضمیر مطمئین ہوجاتا ہے کہ عوام کی پریشانی حکام بالا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کردیا ہے ۔
    حکومت کو چاہیے کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے اور ڈیم بنانے میں سنجیدہ ہو کیونکہ مسائل ہمارے مستقبل کے دشمن ہیں جن کی وجہ سے ہم نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ میٹرو بس یا اورنج ٹرین ہو، ہاؤسنگ سکیم ہو یا قرضہ سکیم ، ان سب سے زیادہ ضروری ہے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے لیے حکومت ترجیح بنیادوں پر اقدام اٹھانا ہوں گے کیونکہ ہرکاروبار، ادارہ، انڈسٹریز اور انسانی ضروریات زندگی کا تعلق بجلی سے ہے اگر بجلی نہ ہو تو ہرشے متاثرہوتی ہے۔ اس لئے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ لودشیڈنگ کے خاتمے کے مسئلہ جلد ازجلد حل کرے تاکہ عوام سکون سے جی سکے۔

  • افغانستان میں امن تحریر : عفراء مرزا

    افغانستان میں امن تحریر : عفراء مرزا

    افغانستان میں آخرکار طالبان اپنے پاؤں مضبوط کرنے میں کام یاب ہوچکے ہیں ۔ عسکری محاذ پر تو ان کی مہارت سے دنیا واقف ہوچکی تھی اب سفارت کاری و سیاست میں بھی وہ دنیا کو حیرت زدہ کیے ہوے ہیں۔ امریکا کی شکست نے جہاں دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہوا ہے وہی پر آنے والے سالوں تک افغانستان کی فتح پر محقق اپنے اوراق طالبان کی پالیسیوں کے نام کرتے رہے ہیں ۔

    جدید ترین ٹیکنالوجی و اسلحہ اور دنیا کے بہ ترین اذہان کو شکست سے دوچار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ آج بھی جذبوں اور دعاؤں سے جنگ جیتی جاسکتی ہے ۔ کابل ہوائی اڈے سے آخری امریکی کے انخلا کے بعد جب طالبان نے کنٹرول سنبھالا تھا اور سجدہ شکر ادا کرکے اپنی فتح یابی کو اللہ وحدہ لاشریک کے نام کیا تھا تو کتابوں میں لکھی وہ باتیں سچ ثابت ہوئی تھیں ۔ طالبان کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام کے صرف حامی نہیں بلکہ اس وقت حتی المقدور کوشش میں ہیں کہ دنیا کے ساتھ تعلقات کو پرامن رکھتے ہوے باہمی اتحاد و اتفاق کی فضا کو قائم رکھا جاے ۔ ماضی میں ہوئی غلطیوں اور سختیوں سے وہ اچھا خاصا محتاط رویہ اختیار کیے ہوے ہیں ۔
    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ "ہم افغانستان پر مسلط نہیں ہوے بلکہ عوام کے خادم ہیں اور قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ اسلامی روایات ، آزادی و خود مختاری کی حفاظت کریں گے ۔

    انھوں نے مزید کہا ہے کہ تمام افغان ملک اور مذہب کے لیے متحد ہو جائیں۔” کابل میں ایک تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ "امریکا ایشیائی ممالک میں دراندازی کے لیے مضبوط فوجی اڈہ بنانے کے لیے افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا اور اس کا ایک مقصد قدرتی وسائل کو لوٹنا بھی تھا ۔ ہم غیرملکی سرمایہ کاروں کو افغانستان میں لانے کی کوشش کریں گے ۔ ہم دنیا کو یقین دلاتے ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔”

    افغانستان میں طالبان اپنے پاؤں جما چکے ہیں ۔ ایک چھوٹے علاقے کے سوا پورا افغانستان طالبان نے فتح کرلیا ہے اور اب ان کی نظریں تعلقات کو سازگار کرنے اور 20 سال تک قابض رہنے والے امریکا و ناٹو کو بھی امن و خیر سگالی کی دعوت و پیام دے رہے ہیں ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ جہاں طالبان امن کی کوششوں میں مصروف ہیں وہی پر امریکا و ناٹو سمیت دیگر ممالک بھی طالبان کے مستقبل کے طرز عمل کی بنیاد پر ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

    موجودہ ساری صورت حال میں پاکستان کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے ۔ پاکستانی کردار کو اس بات سے دیکھیے کہ امریکا تک پاکستانی قیادت پر تکیہ کیے ہوے ہے اور اپنے فوجیوں کو نکالنے کے لیے پاکستان کی طرف دیکھا گیا تھا ۔ پاکستان دنیا اور طالبان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہا ہے ۔ جہاں وہ طالبان کو حکومتی طرز عمل کی الف ب سکھا کر پٹری پر چڑھانے کی سعی کررہا ہے وہی پر امریکا و دیگر مقتدر ریاستوں کو بھی سمجھا بجھا کر سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ پاکستان کا واحد مقصد اپنے پڑوس کو پرامن دیکھنا ہے تاکہ پاکستان مزید خاک و خون سے بچا رہے اور افغان باشندے اپنے ملک میں سکون کی نیند سے سو سکیں۔ سی پیک ایک طرح سے افغان امن کے ساتھ وابستہ ہے اور اسی لیے چین بھی افغان امن میں دل چسپی لے رہا ہے ۔

    بھارتی دل چسپی تو کسی سے چھپی نہیں کہ وہ پاکستان و چین کو سبق دکھانے کے خواب دیکھ کر افغانستان میں لمبی چوڑی سرمایہ کاری کی آڑ میں دہشت گردانہ کارروائیاں کروا رہا تھا ۔ طالبان قیادت بھارت کو متنبہ کرچکے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف افغانی زمین کا خیال دل سے نکال دے ۔ اس وقت اگر کوئی سخت مضطرب ہے تو وہ بھارت ہے کہ وہ توسیع پسندانہ مقاصد کو ناکام ہوتا دیکھ نہیں پارہا ۔ اس لیے اگر کوئی بھارت کو ہلکی سی تھپکی بھی دیتا ہے تو وہ بھارت افغانستان و پاکستان کی امن کی خواہش کو ملیا میٹ کرسکتا ہے ۔ امریکا و ناٹو ممالک کو بھارت جیسے ملک پر گہری نظر رکھنا ہوگی تاکہ افغان امن کا قیام شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔

    ٹویٹر اکاونٹ : @AframirzaDn