ارشاد باری تعالی ہے ۔
وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
"تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو.”
سورة آل عمران 139
20 سال قبل امریکہ میں دہشت گردی کی مبینہ واردات کے بعد دنیا بدل گئ کل کے مجاہد امریکہ کے منظور نظر وائٹ ہاوس کے مہمان ایک دم سے مجرم اور دہشت گرد ٹھرے۔۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کو عجلت میں فون کرکے دھمکا کر ساتھ دینے کا وعدہ لے لیاگیا
افغانستان میں امارت اسلامی کو سخت پیغام دیے گئے اسلام آباد میں موجود طالبان کے دنیا میں واحد سفارت خانے کو بند کر دیا گیا سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو گرفتار کرکے گوانتا نامو بے کے عقوبت خانے پہنچا دیا گیا ۔
افغانستان پر جدید ترین بی52 طیاروں سے بمباری کرکے طالبان کی برائے نام دفاعی قوت کو ختم کیا گیا مدرسوں سکولوں اور ہسپتالوں پر بےدریغ بمباری کر کے وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا۔
جب متوقع مزاحمت مکمل ختم ہونے بارے پختہ یقین ہوگیا تو امریکہ اکیلے زمین پر اترنے کی بجائے نیٹو اتحاد کو اپنے ساتھ لے آیا اور پختون افغانوں پر مظالم کا نیا باب رقم ہوا ۔افغانستان میں اپنا قبضہ مضبوط بنانے کے لئے شمال کے فارسی بولنے والے کرائے کے قاتلوں کو ساتھ ملا کر قلعہ جنگی ننگرہار قندہار ہلمند میں طالبان کا قتل عام ہوا اور بدنام زمانہ عقوبت خانے معرض وجود میں آگئے جبر کے ذریعے طالبان کو پہاڑوں غاروں میں پناہ لی وہاں پر بھی تورا بورا جیسی تباہی مچائی کچھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے یہاں پر بھی انکا پیچھا کیا گیا اور پاکستانی سابق حکومتوں کی خاموش اجازت سے قبائلیوں علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے سول آبادی پر آگ اور بارود برسا کر ہزاروں معصوم لوگوں کو قتل کر کے امریکہ نے کابل میں کٹھ پتلی حامد کرزئی عبدالرشید دوستم اور اشرف غنی جیسے کرداروں پر سرمایہ کاری کی اور اپنے قبضے کو مضبوط بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی لیکن حاصل ضرب کیا ملا ۔
طالبان نے اپنی بچی کچھی قوت کے بل پر اتحادی فورسز پر حملے شروع کر دیئے وقت کے ساتھ ساتھ ان گوریلا کاروائیوں میں شدت آنے لگی امریکہ نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کے پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں ڈالیں پاکستان کے ازلی دشمن کو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ سفارت خانوں کے نام پر تخریب کاری کے اڈے فراہم کئے گئے جہاں سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پولیس اور عوام پر دہشت گردانہ کاروائیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
لیکن افغان طالبان نے مسلسل اتحادی افواج پر حملے جاری رکھے اور کٹھ پتلی افغان حکومت کو کابل اور شمال تک محدود کردیا ۔امریکہ نےاس مکمل ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کیا اور
پاکستان پر دباؤ ڈالا جانے لگا کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے اور امریکہ اور اتحادی افواج کو پاکستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کی اجازت دی جائے۔
پاکستان دفاعی قیادت نےامریکی مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے پیغام دیا کہ پاکستان اپنے علاقے میں جو کاروائی کر گے خود کرے کسی کو اجازت نہیں کے سرحد پار آئے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں وہ ایک الگ باب ہے اس پر گفتگو پھر کبھی۔۔۔
پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کئ سال قبل کہا تھا کہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے پشاور میں طالبان کا دفتر کھولا جائے اس وقت لوگوں نے عمران خان کی بات کا مزاق اڑایا اور عمران خان کوطالبان خان کہا گیا۔۔
لیکن چند ہی سالوں بعد دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کی تجویز کے مطابق قطر کے درالحکومت دوحہ میں طالبان کو دفتر کھول کر دیا گیا۔مذاکرات کے کئ ادوار ہوئے طالبان نے کئ دفعہ امریکی بات سننے سے انکار کر دیا پھر پاکستان کی منت سماجت کی جاتی کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔
پاکستان نے افغانستان میں امن کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا جسکی دنیا معترف ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی عندیہ دیا کے سابقہ حکومتوں نے امریکہ کو غیر ضروری جنگوں میں الجھا کر نقصاں پہنچایا ہم افغانستان جنگ سے نکلیں گے ۔
افغانستان میں طالبان نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنے حملے تیز کردیے بتدریج صوبے فتح ہونے لگے ۔امریکہ میں جو بائیڈن حکومت میں آتا ہے اور 31 اگست تک امریکی فوج کے مکمل انخلاء پر مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم کو رام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد پاکستان میں امریکہ کو مستقل اڈا دیا جائے تاکہ بوقت ضرورت طالبان پر فضائی حملے کرکے افغان کٹھ پتلی حکومت کو مضبوط کیا جائے وزیراعظم عمران خان کے تاریخی الفاظ "Absolutely Not ” سے امریکی امید اور خواہش دم توڑ گئ اور اس نے مکمل رخت سفر باندھ لیا ۔
قصہ مختصر طالبان نے روس دور کی ٹوٹے پھوٹے اسلحہ اور ایمانی قوت کےزور سے دنیا کی سپر پاور اور بڑے فوجی اتحاد کو شکست دی اور امریکہ کی بنائی ہوئی افغان کرایہ کی فوج جو اٹک تک آنے کی پاکستان کو گیدر بھبکی دیتے تھے وہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور زیادہ تر فوجیوں نے اپنا امریکی اسلحہ طالبان کے قدموں میں ڈھیر کرکے سرنڈر کردیا کچھ دیگر ممالک میں فرار ہوگئے۔طالبان کابل میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوئے اور عین 15 اگست بھارتی یوم آزادی کے روز کابل پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور بھارت نواز اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر فرار ہوگیا۔اور بھارت میڈیا میں صفحہ ماتم پچھ گئ۔۔۔
امریکہ نے اپنے لوگوں کو نکالنے کے لیے تقریبا 4ہزار مزید فوجی بھیجے جو کابل سے فرار ہونے والوں کو سی 130 طیاروں میں بیٹھا کر روانے کر رہے تھے کہ کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملہ میں کئ امریکی فوجی اور بےگناہ لوگ مارے گئے امریکہ نے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی شب افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کو نکالنے میں ہی عافیت سمجھی اور نکل گیا۔ طالبان ثابت قدمی ہزاروں قربانیوں اور قوت ایمانی کے سبب غالب اور فتح یاب ہوئے۔
@Educarepak
Category: بلاگ
-

تم ہی غالب رہو گے ۔۔۔ تحریر: آصف گوہر
-

ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ
افریقہ میں ivory coastایک چھوٹا سا ملک ہے ۔ مگر یہاں پر ایک ایسا جزیرہ ہے جو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ جہاں سیاحوں کا جم گھٹا لگا رہتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تیرا ہوا جزیرہ ہے ۔ آپ اس کو سمندر میں جہاں مرضی لے جائیں اور جو مرضی نظارے کریں ۔ یہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا جزیرہ ہے۔ یہ عابدجان lagon
کے مرکز میں واقع ہے۔ ۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ جزیرہ پانی کی خالی بوتلوں سے بنا ہے اور اس میں تمام وہ سہولیات موجود ہیں ۔ جو کسی اچھے اور بڑے ہوٹل میں ہوتی ہیں ۔ بلکہ یہ کسی بڑے ہوٹل سے بھی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ ماحول دوست ہے ۔ یہاں تک کہ انسانی فضلہ بھی اس جزیرے پر recycle کیا جاتا ہے ۔پھر جو کچھ آپ کسی ہوٹل میں انجوائے کرتے ہیں اور اس میں کر سکتے ہیں جیسا کہjackozi poolrelaxations areasbarsResturantWIFIAC۔ یہ ہوٹل واقعی ایک مصنوعی جزیرہ ہے جو تیرتا ہے۔ اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگی منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مصنوعی جزیرہ یا ہوٹل کو تعمیر کرنے میں 8 لاکھ خالی پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال ہوا ہے ۔۔ جس شخص نے اس کو تعمیر کیا ہے وہ ایک فرانسیسی ہے اس کا نام ہے ۔Eric Beckerاور اب یہ اس وقت ایک کامیاب کاروبار کر رہا ہے ۔ericکا کہنا ہے کہ اس جزیرہ کو بنانے میں چھ سال لگے ہیں ۔ 2018میں یہ مکمل ہوا تھا ۔ یہ تیرتا جزیرہ ایک ہفتے میں 100سے زائد لوگوں کی مہمان داری کرتا ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ماحولیاتی ادارے ، میگزین اور نیوز چینلرز اس شخص پر ڈاکیومینٹری بنا چکے ہیں ۔ کیونکہ اسکا یہ آئیڈیا ایک جانب تو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا رہا ہے دوسرا اس آئیڈیا کی وجہ سے coastal lineکی صفائی ہورہی ہے ۔ eric
مسلسل beachesسے کچرا خود بھی اکٹھا کرتا ہے اور اس میں اسکی لوکل لوگ مدد بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس پلان اس جیسے اور بہت سے جزیرے بنانے کا ہے ۔۔ اب جو مقامی باشندے ہیں وہ eric beckerکو “Eric plastic jug”کہہ کر پکارنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ivory coast پر Mr. Eric Becker آئے تو کوئی کام دھندہ کرنے مگر ان کو یہاں گند اور غلاظت ہی دیکھائی دیا ۔ ایک کے بعد ایک تیرتی ہوئی خالی بوتل انکو پانی میں دیکھائی دیتی تھی۔ پھر ایک دن اس نے اسی کوڑے کرکٹ کو استعمال کرکے ایک جنت نما تیرتے ہواجزیرہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے اپنے غیر معمولی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی تقریبا ہر چیز بیچ دی۔ شروع میں لوگ اس کو پاگل اور بے وقوف سمجھتے تھے ۔ پر جب یہ جزیرہ بن گیا تو سب حیران بھی ہوئے ۔ اور یہ ہی حیرانی ericاوراسکے جزیرے کی شہرت کا باعث بنی ۔۔ اس جزیرے کی تعمیر میں اس کا پہلا قدم اتنا زیادہ تیرتا ہوا کچرا ڈھونڈنا شامل تھا جتنا کہ وہ اپنے ہاتھ میں اٹھا سکتا تھا – ۔ اس کو بنانے کے لیے eric becker نے تیرتی ہوئی ہر چیز کو اکٹھا کیا۔ پلاسٹک کی بوتلیں ، polystyrene scraps, tap shoes وغیرہ ۔ یہ ایک محنت طلب مشق تھی جو بالآخر اس معاملے میں مہارت کی صورت اختیار کر گئی ۔
۔ اس جزیرے کی عمارتیں پلاسٹک سے بنے پنجروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اس کے بعد انہیں لکڑی اور سیمنٹ کی ہلکی پرت سے ڈھانپ دیا گیا۔ جس سے پوری چیز لکڑی کی تعمیر کا تاثر دیتی ہے ۔ پلاسٹک کا فضلہ صرف زمین کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 260 میٹر لمبا circular bridge کشتیوں کے لیے ساحل کا کام کرتا ہے۔ اس کا کل وزن 200 ٹن ہے۔
۔ اس جزیرہ میں موجود عمارت کو توانائی فراہم کرنے کے لیے سولر پینل اور جنریٹر نصب کیے گئے ہیں ۔ پینے کے پانی کے لیےعمارت کو زمین سے جوڑنے کے لیے پائپ لگائے گئے ہیں۔ جزیرے میں ایک بار ریستوران ، دو سوئمنگ پول ، ایک چھوٹا سا پل ، گھروں میں دو کھلے بنگلے ، مختلف درخت ، اور ایک walk way ہے جو تیرتے ہوئے ڈھانچے کے مرکز سے باہر نکلتا ہے ۔ جو 1000 مربع میٹر پر محیط ہے۔۔ اس resortپر لوگوں کو کشتی کے ذریعے جزیرے پر لایا جاتا ہے۔ اس جزیرے پر ایک دن کا کرایہ 100ڈالر چارج کیا جاتا ہے – جس میں کھانا اور فیری ٹرپ بھی شامل ہے -۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مختلف قسم کا جزیرہ ہے۔ نہ صرف اس کی تیرتی فطرت کی وجہ سے ، بلکہ اس کے بنیادی مواد کی وجہ سے بھی۔ یہ مصنوعی جزیرہ ایک حقیقی تجسس ہے ۔ ۔ اگر دیکھا جائے تو eric نے صرف ایک آئیڈیا سے سوچ کا انداز بدلنے کے ساتھ ساتھ ۔ بڑھتی آلودگی سے نمٹنے کا ایک ایسا فارمولہ دے دیا ہے جس سے دنیا بھر کی آبی گزرگاہوں ، جھیلوں ، ندی نالوں اور جزیروں کو نہ صرف صاف کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ اس پلاسٹک فضلے سے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں بنائی جاسکتی ہیں ۔ جو فائدہ بھی دے سکتی ہیں اور کارآمد بھی ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ خوبصورتی یہ ہے کہ ہم پلاسٹک کی بوتلوں سے کسی آلودگی کو کسی اچھی چیز میں بدل دیں۔ plastic waste recycling plants بنائے جاسکتے ہیں ۔ جوبہت سے چیزیں بنانے میں کام آسکتا ہے ۔ جب آپ پلاسٹک کی بوتلوں سے جزیرے بنا سکتے ہیں تو کشتیاں بھی بنائی جاسکتی ہے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں ہونگی یقینی طور پر جو بنائی جاسکتی ہوں ۔ ایک چیز جو میں نے بھی اور آپ نے بھی اکثر گھروں میں دیکھی ہو گی کہ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں کو پودے لگانے کے لیے بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے بہت سی turtorial videos بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں ۔ Eric Becker کی ایک کہاوت ہے کہ “One man’s trash is another man’s treasure,”یعنی "ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ ہے”۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ eric نے ماحول کو صاف کرنے اور ناممکن کو ممکن کرنے کے علاوہ بہت لوکل لوگوں کو روزگار بھی مہیا کر دیا ہے اور اس چھوٹے سے آئیڈیا کی بدولت اور اس کے جزیرے کی بدولت ivory coast کو دنیا بھر میں مشہور کروادیا ہے ۔
۔ سبق ہم سب کے لیے یہ ہے کہ انسان اس دنیا کو بہتر بنانا چاہے تو صرف ایک پلاسٹک کی خالی بوتل ہی کافی ہے
-

موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد، تحریر: فروا نزیر
جیلوں میں مردوں کے علاوہ بے شمار ایسی خواتین ہیں جو چند ہزارروپے نہ ہونے کی وجہ سے قید کاٹ رہی ہیں،کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کی خبر آئی کہ کئی سال سے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے جیل کاٹ رہی تھی ،جوانی میں سزا ہوئی اور 45سال کی عمر میں اسے اعلیٰ عدالت نے باعزت بری کر دیا ،کسی لبرل ،فیمینسٹ نے کوشش کی کہ ان کی ادائیگی کر کے ان کو رہائی دلائی جائے ،یانظام انصاف کو تیز اور موثر بنانے کی جدوجہد کی ہو؟ایسا نہیں ہوا،حالیہ معاملے میں خاص بات یہ تھی کہ خاتون کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا،دوسرا یہ واقعہ موٹروے پر ہوا جو کہ اشرافیہ ہی استعمال کرتی ہے اور یہ ان کیلئے قابل قبول نہیں تھا کہ ان کے راستے غیر محفوظ ہوں ،عوام سے الگ رہنے کیلئے اشرافیہ نے گیٹڈ کمیونیٹز پہلے ہی بنالیں ہیں جہاں انہوں نے اپنی مرضی کا پاکستان بنایا ہوا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت عملی طور پر دو پاکستان ہیں ،ایک اشرافیہ کیلئے اور دوسراوہ جس میں عوام رہتے ہیں۔جس معاشرے میں ناانصافی اور ظلم ایک خاص حد پار کر جاتاہے تو اس کا ردعمل ظاہر ضرورہوتاہے ،آپ اس کے ایک مظہر کو روکیں گے تو وہ دوسری شکل میں ظاہر ہو گا ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جس حد تک بڑ ھ چکی ہے
اور جتنی تیز ی سے اس میں اضافہ ہورہا ہے،اس میں حالات مزید سنگینی کیطرف جانے کا خدشہ ہے ،اشرافیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نچلے طبقات کو ساتھ لے کر چلے ،حکومت کو پورا ٹیکس دے،جب لوگوں کو شعور نہ دے کر ان پر حکومت کریں گے تو پھر اس طرح کے واقعات جو کہ جہالت ہی کا مظہر ہیں ، بھگتنے پڑیں گے،تمام تدبیریں کام نہیں آئیں گی،دراصل یہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے ،جس طرح ایک بیوروکریٹ اپنی کرسی کا غلط استعمال کرتاہے ،کمیشن اور کرپشن کے ذریعے کروڑوں کماتاہے ،ایک بزنس مین پورا ٹیکس نہیں دیتا،اشیا میں ملاوٹ کرتاہے،اپنے ملازمین کو کم تنخواہ دیتاہے،محترم عدنان عادل کے مطابق ایک شاپنگ مال میں ایک سیلز گرل کی چودہ ہزار روپے تنخواہ ہے اور وہ دس گھنٹے کام کرتی ہے ،کیا یہ زیادتی نہیں؟ اس لڑکی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کاروباری شخص یا خاتون نے کبھی یہ سوچا کہ اگر اس کی بچی اسطرح کام کررہی ہوتی تواسے کیسا محسوس ہوتا،ایک پارٹی میں شرکت کیلئے جو خواتین میک اپ پر ایک عام ملازم کی تنخواہ سے زیادہ خرچ کر دیتی ہیں،معلوم کرلیں ، کورونا وبا کے دنوں میں انہوںنے ہی صرف پندرہ ہزار لینے والے ملازمین کو نکالا ہوگا ۔
سفاکیت ہر جگہ پر موجود ہے ۔ہر کوئی دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہاہے ،ایک سیاستدان عوام سے ان کی خوشحالی کا وعدہ کرکے ووٹ لیتا ہے اور اس کے بعد خوشحالی صرف اس کے اپنے خاندان ہی کو نصیب ہوتی ہے، ڈاکو کے اختیار میں کیا ہوتاہے؟وہ شخص جو اس کے قابو آجائے،چاہے تو گولی مار دے یا خاتون ہو تو زیادتی کا نشانہ بنا دے ، اس دن خاتون ان کی درندگی کا شکار ہوگئی ، اس نے بھی عورت کی عزت کی پرواہ کئے بغیراپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ جس کا جہاں بس چلتاہے ،وہ اپنے اختیار کا غلط او ر مقروح حدتک ناجائز استعمال کرتاہے۔یہ ہمارا عمومی رویہ بن چکا ہے،جب تک ہم سب اس بات پر متفق نہیں ہونگے کہ ،ظلم ،،،ظلم ہوتاہے چاہے کسی کے ساتھ بھی ہو،اس کے خلاف ایک جیسی شدت کیساتھ آواز نہیں اٹھائیں گے ،اس وقت تک کوئی قانون،ضابطہ جرم کو ہونے سے نہیں روک سکتا۔
-

یوم دفاع (۲) ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کا تاریخی پس منظر تحریر: احسان الحق
روز اول سے ہندوستان برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے خلاف تھا. تقسیم برصغیر کے بعد، ہندوستان پاکستان کے خلاف ہو گیا اور مختلف طریقوں سے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے میں مصروف عمل رہا ہے.
برصغیر کی تقسیم کے کچھ دن بعد دونوں ممالک کے درمیان، ریاست جونا گڑھ، رن کچھ، حیدرآباد دکن اور ریاست کشمیر کے قبضے اور الحاق پر جھگڑا ہو گیا. پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی اہم ترین اور پیچیدہ ترین وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ "مسئلہ کشمیر” ہے. یہ غلط نہ ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام جنگوں کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہے. مسئلہ کشمیر کو سمجھنے کے لئے اس کے تاریخی پس منظر کو جاننا لازمی ہے.
14 اگست 1947 کو تقسیم برصغیر کے وقت تاج برطانیہ کا راج ختم ہو گیا. برصغیر میں موجود 562 ریاستوں کو اپنی مرضی سے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے یا خودمختار ریاست کی حیثیت سے رہنے کا حق حاصل ہو گیا. ریاست جوناگڑھ کے حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا. ریاست میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور اسی بنیاد پر ہندوستان نے فوج کشی کرتے ہوئے جونا گڑھ پر ناجائز قبضہ کر لیا. حیدرآباد دکن خود مختار حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی تھی مگر بھارت نے ستمبر 1948 میں ریاست حیدرآباد دکن پر ناجائز قبضہ کر لیا. ریاست رن کچھ پر کافی سال تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ چلتا رہا، چھوٹی بڑی کافی جھڑپیں بھی ہوئیں. خیر، رن کچھ کا مفصل موضوع ہے جس کی تفصیل یہاں مناسب نہیں.
ریاست کشمیر کا مسئلہ جونا گڑھ، رن کچھ اور حیدرآباد کی ریاستوں سے مختلف ہے. ریاست کشمیر کا حکمران ہندو تھا مگر یہاں کی 80 فیصد آبادی مسلمان تھی. جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ علاقہ پاکستان کے ساتھ ملا ہوا تھا. مذہبی، سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے ریاست کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ بنتا تھا اسی لئے مہاراجہ کشمیر نے معاہدہ جاریہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا. ریاست کے تمام امور اور فرائض پاکستانی حکومت نے سنبھال لیے. اس معاہدے کے پیچھے ایک سازش تھی کہ وقتی طور پر مسلم اکثریتی آبادی کو کسی قسم کی بغاوت یا تحریک سے باز رکھا جائے تاکہ اندر کھاتے ریاست کشمیر کا الحاق بھارت سے کیا جا سکے. جواہر لال نہرو اور گاندھی کی ملی بھگت سے مہاراجہ کشمیر نے یہ چال چلی تاکہ مسلم اکثریت آبادی مہاراجہ سے اعلان بغاوت نہ کر دے. پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہوئے درپردہ وہ ہندوستان سے الحاق چاہتا تھا. جب کشمیری مسلمانوں پر اصلیت عیاں ہوئی تو مسلمانوں نے اپنی مدد کے بل بوتے پر 24 اکتوبر 1947 کو کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کروا لیا. جس کو آزاد کشمیر کا نام دیا گیا اور اس کے پہلے صدر ابراہیم منتخب ہوئے. ہندو مہاراجہ وادی کشمیر سے بھاگ کر جموں میں روپوش ہو گیا جہاں اس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھا کہ بھارتی فوج کی مدد درکار ہے. چونکہ قانونی طور پر کشمیر پاکستان سے ملحق تھی اس لئے بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل نہیں ہو سکتی تھیں. مہاراجہ نے لکھا کہ ریاست کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. چنانچہ غیر قانونی طور پر 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو گئی اور جموں وکشمیر کو مقبوضہ بنا لیا.
یکم جنوری 1948 کو بھارت نے سلامتی کونسل کے سامنے کشمیر کے مسئلے کو پیش کیا مگر اس سے پہلے مکار ہندوستان کشمیر پر قبضہ کر چکا تھا. 16 جنوری کو پاکستان نے بھی رجوع کر لیا. سلامتی کونسل نے دونوں فریقین کی شکایات سنیں اور حسب روایت ضروری نصیحت کی کہ ایک دوسرے کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے سے پرہیز کیا جائے اور ہندوستان کو فوج کے انخلاء کا کہا گیا مگر بھارت کی طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی مئی 1948 کو اپنی فوج کشمیر میں اتار دی. سلامتی کونسل نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس کو "کمیشن برائے پاک وہند” کا نام دیا گیا. کمیشن کی کوششوں سے فریقین یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی پر راضی ہو گئے.
جنگ بندی کے بعد ایڈمرل ٹمنز کو ناظم استصواب رائے مقرر کیا گیا، 7 ماہ بعد 27 جولائی 1949 کو خط متارکہ جنگ کا تعین بھی کر دیا گیا مگر بھارت کے مسلسل انکار کی وجہ سے یہ سمجھوتہ بھی سود مند ثابت نہ ہوا.
مارچ 1949 کو کمیشن برائے پاک وہند نے فریقین کے ساتھ مل کر فوج کے انخلاء پر اتفاق کیا. پاکستان فوجی انخلاء پر راضی ہو گیا مگر بھارت نے پہلے مہلت مانگی اور بعد میں انکار کر دیا. کمیشن نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی پاس شدہ قراردادوں پر پیدا شدہ اختلافات کو ناظم رائے شماری ایڈمرل ٹمنز کے سامنے ثالثی کے لئے پیش کیا جائے. امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیراعظم اٹیلی نے دونوں فریقین کو مزکورہ تجویز پر آمادہ کرنے کی کوشش کی. اس تجویز کو پاکستان مان گیا مگر بھارت نے ایک بار پھر انکار کر دیا.
دسمبر 1949 کو اس وقت کے صدر سلامتی کونسل جنرل میکناٹن ریاست جموں وکشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی تجویز پیش کی مگر بھارت نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا جبکہ پاکستان رضامند ہو گیا. مارچ 1950 میں سلامتی کونسل نے ڈکسن کو اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ 5 ماہ کے اندر اندر فوجیوں کے انخلاء کو یقینی بنائیں. ڈکسن فریقین سے ملتے رہے اور آخر کار اپنی تجاویز مرتب کیں اور سلامتی کونسل میں پیش کیں. ان تجاویز کو پاکستان نے قبول کیا مگر بھارت پھر انکاری رہا.
جنوری 1951 میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ریاست جموں وکشمیر میں غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیش کش کی اور مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں.
1. آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دولت مشترکہ کی طرف سے فوج مہیا کریں گے.
2. بھارت اور پاکستان کی مشترکہ فوج
3. مقامی لوگوں کی فوج جسے ناظم رائے شماری تیار کرے.
پاکستان نے تینوں تجاویز مان لیں اور بھارت نے تینوں تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا. مارچ 1951 میں برازیلی سفیر نے تجویز پیش کی اور اسی دوران سلامتی کونسل نے بھی اپنی قرارداد کے ذریعے فوجوں کے انخلاء کے متعلق تجویز دی مگر اسکو بھی بھارت نے رد کر دیا. 20 مارچ 1951 سے 22 دسمبر 1951 کے درمیان اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر فرینک گراہم نے متعد تجاویز دیں کہ کسی طرح جموں وکشمیر سے فوجوں کا انخلاء ہو اور رائے شماری کرائی جا سکے مگر ہمیشہ کی طرح بھارت ہٹ دھرمی دکھاتا رہا. دسمبر 1951 سے مارچ 1956 تک مختلف اوقات میں مختلف ذرائع اور مختلف طریقوں سے پاکستان کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے مگر بھارت مکروہ چہرہ دکھاتا رہا.
29 مارچ 1956 کو لوک سبھا میں نہرو نے تقریر کی اور کہا کہ "پاکستان کو امریکی امداد کا حصول، معاہدہ بغداد اور جنوب مشرقی ایشیاء کی رکنیت نے خطے کی سیاست تبدیل کر دی ہے لہذا مسئلہ کشمیر کو ازسر نو دیکھنے کی ضرورت ہے”. اپریل 1956 میں قومی اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر عام بحث ہوئی اور وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، مسئلے کے حل کے لئے دوبارہ سلامتی کونسل میں جانے کی ضرورت ہے. مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان نے براہ راست آخری کوشش کے طور پر جولائی 1956 میں پاکستانی وزیراعظم نے لندن میں جواہر لال سے ملاقات کی مگر نہرو نے صاف انکار کر دیا. نومبر 1956 سے لیکر اپریل 1958 تک مختلف اوقات میں سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے حوالے سے بات ہوتی رہی.
1960 میں جب نہرو نے پاکستان کا دورہ کیا تو صدر ایوب خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کی مگر ہمیشہ کی طرح بے سود ثابت ہوئی. یکم فروری 1962 کو مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا. روس نے بھارت کے حق میں قرارداد کو ویٹو کر دیا. جون 1962 میں آئرلینڈ کے نمائندے نے قرارداد پیش کی مگر ایک بار پھر روس نے ویٹو کر دیا. فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی کوششوں سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے 27 اکتوبر 1962 تا 16 مئی 1963 کے دوران، کراچی، راولپنڈی، نئی دہلی اور کلکتہ میں وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت ہوتی رہی مگر بے نتیجہ.
16 دسمبر 1963 میں بھارتی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ریاست جموں وکشمیر کے 85000 مربع میل رقبے میں سے 34000 مربع میل کا علاقہ پاکستان کو دینے کے لئے تیار ہیں مگر وزیر خارجہ ذوالفقار بھٹو نے انکار کر دیا. 20 جنوری 1964 کو سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب ظفراللہ خان نے 15 صفحاتی یاداشت جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ 30 مارچ 1951 اور 24 جنوری 1957 کی قراردادوں پر عمل کروایا جائے. سلامتی کونسل میں 100ویں مرتبہ مسئلہ کشمیر اٹھایا جا رہا تھا. 1965 میں صدر جنرل ایوب خان نے روس کا دورہ کیا جہاں روس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کو اپنی مدد اور حمایت کا یقین دلایا.
(جاری ہے)
@mian_ihsaan
-

ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 07) تحریر: محمداحمد
جیسا کہ پچھلی 6 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے لوگ ایمان بیچتے ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں اسی کو اج بے نقاب کریں گے
موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون:
جب بھی ہمارے ذہن میں سوال آتا کہ ہم نے موبائل فون خریدنا ہے تو سب سے پہلے یہ خیال آتا ہے کہ یہی فون مارکیٹ میں یوزڈ میں بہت عام سیل رہا ہے جعلی فونز اصل موبائل کی بانسبت بہت عام ہیں اس لیے بہت سے لوگ بہت شوق سے اُن فون کا استعمال کرتے ہیں لیکن جعلی فونز جلدی خراب ہو جاتے ہیں اور بعد میں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنہ کرنا پڑتا ہے پاکستان میں موبائل فون کا کام بہت عروج پر ہے ملک میں سال 2021 کے پہلے 7 ماہ میں ایک کروڑ 22 لاکھ 70 ہزار موبائل فونز تیار کیے گئے اور اس کے مقابلے 82 لاکھ 90 ہزار موبائل درآمد کیے گئے اگر آپ موبائل فون خریدنے کے خواہش مند ہیں اور آپکو معلومات نہیں ہے کہ اصلی اور جعلی فون کون کونسے ہیں اس بارے میں کچھ چیزوں کا جاننا بہت ضروری ہے
جیسے کہ اسکرین کو اچھی طرح چیک کرلیں کہ موبائل کی روشنی مدھم تو نہیں اس کے بعد تمام بٹن چیک کرلیں کیونکہ بعض فونز کے Alphabet اپنی جگہ سے تبدیل ہوتے ہیں اس کے بعد ویلکم سکرین ضرور چیک کریں وہاں لوگو آتا ہے تو اصلی ہے اکثر کاپی فونز میں صرف ویلکم لکھا آتا ہے کیمرہ سے تصویر بنا کہ دیکھنا چاہیے جعلی فونز میں تصویر دھندلی اور بلر ہوتی ہے اس کے ساتھ سکرین کے دائیں بائیں جانب سکرول کر کے چیک کریں اگر موبائل ہینگ ہو جائے تو اس کا مطلب فون کاپی ہے سب سے خاص بات جب موبائل خریدے تو موبائل کا سیریل نمبر ضرور اونلاین چیک کریں جیسے کے موبائل کے about پہ yes کرکے سیریل نمبر نکال کر جس برانڈ کا موبائل ہے اس کی ویب سائٹ پر IMEI number چیک کریں اگر ویب سائٹ اسے جعلی قرار دے تو فون جعلی ہے
جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ:
جعلی سرف اور جعلی شیمپو بنانے والے مختلف قسم کے کیمکل اور سٹیرائڈز استعمال کرتے ہیں جس سے جِلد بہت جلد متاثر ہوتی ہے مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی صورت میں ملنے والے شیمپو ، کریمیں جلد کو جلا رہے ہیں اس سے بہت سے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ہمیں چاہیے کہ خاص کمپنی کی ایشیاء کو استعمال کریں ان ایشیاء پہ موجود بارکوڈ کو اسکین کرکے تسلی کرنی چاہیے کہ آیا جو برانڈ ہم استعمال کر رہے ہیں کی اصلی ہے یا جعلی
ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز:
ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز کا دھندہ عروج پر ہے ہمارے معاشرے میں لوگ افس بواۓ کا کام کرتے کرتے ڈاکٹر بن جاتے ہیں ایک واقع میری انکھوں کے سامنے سے بھی گزرا کہ ایک غریب آدمی جو زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا بمشکل میٹرک پاس کی پھر کام کی تلاش کرنے لگا ایک دن ایک دندان ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اس نے اسے اپنا تمام احوال بتایا اس نے مشورہ دیا کہ میرے پاس آجاؤ آفس بوائے کے ساتھ میری مدد کرتے رہنے اور اپنی اجرت لیتے رہنا ۔ وقت گزرتا گیا وہی لڑکا سب سیکھتا گیا کیسے ڈاکٹر مریض سے گفتگو کرتا ہو کیا میڈیسن لکھ کے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ تین سال کے عرصہ کے بعد اس غریب ادمی نے محسوس کیا کہ اسے اب اپنا کلینک بنا لینا چاہیے اسے کام کی نوعیت کا پتا چل گیا ہے خیر اس نے کلینک بنا کر اپنا کام شروع کردیا
اب وہ شخص پیشے سے ڈاکٹر نہیں ہے لیکن ڈاکٹر کا بورڈ لگا کر دن رات لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے اسی طرح بہت سارے ہسپتالوں میں آپ کو ایسی مثالیں روزانہ کی بنیاد پر ملیں گی اس کی روک تھام کیلئے حکومت کو ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے
بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے:
بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے معاشرے کا ایسا ناسور ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا پہلے وقت اچھے تھے لوگوں میں عزت احترام تھا رشتوں میں تقدس تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب سفید ہو گیا ہر ماں باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے بچے کی اچھی تربیت ہو دن رات محنت کرے اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے لیکن آج کل نفسہ نفسی کے دور میں صحبت سے بہت لوگ متاثر ہو رہے ہیں جس انسان میں شعور ہے کہ میں اگر کسی کی بہن ، بیٹی کی طرف بدنگاہی سے دیکھوں گا تو کوئی میرے گھر کی طرف بھی بدنگاہی رکھے گا اسی لئے آج کل تعلیم بہت ضروری ہوگی ہے کہ ہر انسان میں شعور آجاۓ رشتوں کی قدر کا احساس ہو جاۓ ہمارے معاشرے میں 95٪ لوگوں کے جھگڑے بدنگاہی کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں اس کی عام وجہ گھر گھر میں موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے مسائل در پیش ہو رہے ہیں موبائل ہر گھر کی اب ضرورت بن گیا ہے لیکن موبائل کا ستعمال صرف گھر کے سربراہ کے پاس ہونا چاہیے نا بچے فحاشی کی طرف گامزن ہوں نا معاشرے میں بدنگاہی عروج پہ ہو
اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح امتحانات میں نقل ، مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ ، ناپ تول میں کمی ، دوستی میں خود غرضی ، محبت میں دھوکہ ، ایمان میں منافقت کیسے ہو رہی ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران
@JingoAlpha
-

سید علی گیلانی صاحب پاکستان حقیقی کے بیٹے کشمیر کے سربراہ تحریر فرزانہ نیازی
۔
اسلام کی نسبت سے اسلام کے تعلق سے اسلام کی محبت سے
ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ہوا کو چلنے سے کوئی روک سکا ہے اور نہ ہی خوشبو کو مہکنے سے
ٹھیک اسی طرح سید علی گیلانی صاحب کی پاکستان سے محبت اور آزادی کشمیر کے جذبے کو بھی کوئی طاقت نہیں روک سکی
جبر جیل اور تشدد کا کوئی مرحلہ ان کے عزم آزادی کو کبھی کمزور نہ کر پایاانکی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی سید علی گیلانی صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل حاصل کریں گےوہ تحریک آزادی کے سرخیل اور مزاحمت کااستعارہ تھےان کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے انہوں نے کشمیرکی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی
انہوں نے قید وبند کی صوبتیں برداشت کیں لیکن کبھی بھی بھارت کے غاضبانہ قبضے کے سامنے سر نہیں جھکایا
وہ کشمیریوں کے ایسے ہیرو ہیں جن پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی
کشمیر کی تحریکِ آزادی کا ہر رہنما قابلِ قدر اور قابلِ احترام ہےمگر سید علی گیلانی صاحب کی کوئی نظیر ہی نہیں لیکن سید علی گیلانی کی اصل قوت ان کا اسلام ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کی امت اور امت کے شہداء سے ان کی محبت ہے سید علی گیلانی صاحب کے لیے پاکستان کے فوجی اور سیاسی حکمرانوں کی طرح پاکستان کوئی جغرافیہ کوئی دکان کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں کوئی جائیداد نہی اُن کے لیے پاکستان ایک نظریہ ہے اُن کے لیے پاکستان کا مطلب لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ کے سوا کچھ نہیں یہی وجہ ہے کہ سید علی گیلانی مدتوں سے روئے زمین پر موجود سب سے بڑے پاکستانی ہیں پاکستان کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کے لیے پاکستانیت کا مظاہرہ سراسر فائدے کا سودا ہے اس سے پاکستان میں ان کی حب الوطنی کو چار چاند لگتے ہیں ان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہےان کے عہدے اور مناصب بڑھتے ہیں یہاں تک کہ ان کی پاکستانیت سے انہیں مالی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں پاکستانیت کے مظاہرے کا مطلب یقینی موت ہے مگر سید علی گیلانی عرصے سے یقینی موت کو للکار رہے اس کا تعاقب کررہے ہیں ان کی پاکستانیت کا ہر دن خون آلود رہا غمزدہ کردینے والا اعصاب شکن مایوس کردینے والا مگر سید علی گیلانی پر غزوۂ بدر کی روایت کا سایہ تھا انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت سے محبت کی انہیں ہر وقت یہ خیال دامن گیر رہتا ہے کہ اگر انہوں نے کشمیر کے شہداء کے خون کا سودا کیا تو وہ میدانِ حشر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیں گے ہمارے پاس ایک مصدقہ اطلاع ایسی ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر سید علی گیلانی صاحب نہ ہوتے تو برسوں پہلے کشمیر پر سودے بازی ہوچکی ہوتی اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف بھارت ہی نہیں پاکستان کے حکمران طبقے میں سے بھی کئی لوگ اس بات کے انتظار میں ہوں گے کہ سید علی گیلانی صاحب کب منظر سے ہٹتے ہی لیکن اب اس بات کی کیا اہمیت ہے کہ سید علی گیلانی صاحب کب تک ہمارے سامنے رہیں گے ہم کیا ہزاروں لاکھوں لوگ میدانِ حشر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دیں گے کہ سید علی گیلانی صاحب نے اسلام کی سربلندی جہاد شہدا کے خون کی پاسداری کی
عظیم مجاہدآزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی توانا ترین آوازحریت اور جہد مسلسل کا استعارہ تمام ظلم اور جبر کے سامنے بے خوف کلمہ حق کہنے والے سید علی گیلانی صاحب کو ہم سب کا سلام
آپ کا نام رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف برسرپیکار مظلوموں کے لیے ہمت اور صبر و استقلال کا استعار اور امید کی کرن کا کام کرتا رہے گا پاکستان کا سب سے وفادار بیٹا چل بسا دل اداس ہے آنکھیں نم تعزیت کس سے کریں ، پرسہ کون کسے دےآج کشمیر میں ہماری طاقتور ترین آواز نہیں رہی آہ سید علی گیلانی آہ اللہ آپ سے بہترین معاملہ کرےآپ کو نبی مہربان کی ہمسائیگی عطا کرے آمین یارب العالمین ۔۔!!
تحریر@miss__niazi
-

سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ
نئی تحقیق میں برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اب سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سکائی نیوز کے مطابق برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وائپر سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کے بچاؤ کی دوا کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سانپ کے زہر میں موجود مالیکیول نے بندروں کے خلیوں میں کورونا وائرس کی افزائش کو روکا ہے اور یہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ پہلا قدم ہے۔

سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق وائپر سانپ کے زہر میں پایا جانے والا مالیکیول بندروں کو لگایا گیا جس سے کورونا وائرس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت میں 75 فیصد کمی آئی یہ دریافت اس وائرس سے لڑنے کے لیے ایک دوا کی تخلیق کی طرف ممکنہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔کورونا کیسز کی تعداد میں بدستور اضافہ ، پشاور کے 5 مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک…
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائپر سانپ کے زہر میں پائے جانے والے مالیکیولز پہلے ہی انسداد بیکٹریا خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں یہ لمبے سفر میں پہلا قدم ہے یہ عمل بہت لمبا ہے۔
سائنسی جریدے ، مالیکیولس میں شائع ہونے والی تحقیق میں پایا گیا کہ یہ ٹکڑا ایک پیپٹائڈ ہے ، یا امینو ایسڈ کی زنجیر ہے ، جو PLPro نامی کورونا وائرس کے انزائم سے منسلک ہوسکتی ہےPLPro دوسرے خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر وائرس کی تولید کے لیے بہت ضروری ہے۔
جاراکوسو 2 میٹر (6 فٹ) لمبا تک بڑھ سکتا ہے اور برازیل ، ساحلی بحر اوقیانوس کے جنگل ، بولیویا ، پیراگوئے اور ارجنٹائن میں پایا جاتا ہے مسٹر گائڈو نے مزید کہا کہ سائنس دان خوفزدہ ہیں کہ لوگ پورے برازیل میں جاراکوسو کے شکار پر جائیں گے ، یہ سوچ کر کہ یہ دنیا کو بچائے گا یا خود کو ، ان کے خاندان کو۔

انہوں نے کہا: "ایسا نہیں ہے۔ کیا یہ ایک اہم دریافت ہے؟ بلا شبہ یہ ہے ، لیکن جانور کا پیچھا کرنا یہ نہیں ہے کہ اسے کیسے حل کیا جائے گا "جو جزو دریافت ہوا وہ زہر کے اندر سے صرف ایک حصہ ہے ، یہ خود زہر نہیں ہے جو اس وقت کورونا وائرس کا علاج کرے گا۔”اسٹیٹ یونیورسٹی آف ساؤ پالو (یونیسپ) کے ایک بیان کے مطابق ، محققین اگلا انو کی مختلف خوراکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور کیا یہ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے۔
وہ انسانی خلیوں میں مادہ کی جانچ کی امید رکھتے ہیں لیکن کوئی ٹائم لائن نہیں دی-
18سال سے کم عمر افراد کے لیے کورونا ویکسی نیشن کی نظرثانی گائیڈ لائنز جاری
جاراکوسو ایک انتہائی زہریلا گڑھا وائپر ہے اور برازیل کے سب سے بڑے سانپوں میں سے ایک ہے۔ یہ ساحلی بحر اوقیانوس کے جنگل میں رہتا ہے اور بولیویا ، پیراگوئے اور ارجنٹائن میں بھی پایا جاتا ہے –
-

الوداع سید علی گیلانی صاحب تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر
سید علی گیلانی حریت رہنما وہ عظیم کشمیری لیڈر جس نے ساری زندگی جدوجہد آزادی ء کشمیر میں گزار دی ،انڈین حکومت کی طرف سید علی گیلانی صاحب پر بڑا ظلم وستم کیا گیا ،ٹارچر سیل میں رکھا گیا بڑھاپے میں کئ سال قید میں رکھا گیا تو دوسری طرف ہر طرح کی آرائش سے بھری پرسکون زندگی گزارنے کی لالچ دی گئ لیکن اس مرد مجاہد نے انڈیا کی طرف سے تمام آفرز ٹھکرادی انڈین سرکار کے تمام ظلم وستم کو ہنس کر برداشت کیا اور
سری نگر کی وادی سمیت کشمیر کی ہر گلی کوچے میں ایک ہی نعرہ بلند کرتے رہے کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ،اس مرد مجاہد نے تمام تر اذیتوں ،ظلم وستم کے باجود ہر وقت کشمیر کی آزادی ،کشمیر کا پاکستان سے رشتہ کیا کے نعرے بلند کئے ،ہمیشہ پاکستان کے پرچم کو بلند رکھا اور تمام کشمیریوں کے دل میں پاکستان سے محبت کا رشتہ نا صرف قائم رکھا بلکہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ،ایسے مرد مجاہد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ،سید علی گیلانی کی موت کی خبر سن کر آج دنیا جہان میں بسنے والے کشمیری اور پاکستانی غم میں مبتلا ہیں آج مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی بھی آنکھیں اشکبار ہیں ،آپ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو جس طرح سنبھالے ہوئے تھے یقینن آپ کا خال پر کرنا بہت مشکل ہے لیکن جو جذبہ آپ نے کشمیر کے نوجوانوں میں پیدا کیا وہ یقینن کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گا اور ایک دن ضرور وہ دن آئے گا جب آپ کے نعرے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے حقیقت بن کر ابھرے گا ،کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہے گا کیونکہ کشمیر تو جنت ہے اور جنت کبھی کسی کافر کو نہیں مل سکتی
سید علی گیلانی صاحب کی شہادت کی خبر پر پوری پاکستانی قوم غمزدہ ہے اور حکومت پاکستان نے بھی سرکاری سطح پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ،اس عظیم لیڈر کا جنازہ سری نگر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر گاوں اور شہر میں پڑھائ جائے گی اور آپ کی شہادت پر ہم بحثیت پاکستانی قوم آپ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے والے تمام عظیم کرداروں کے ساتھ پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے انشااللہ آپ کا خواب کشمیر کی آزادی بہت جلد حقیقت بن کر اس دنیا میں ابھرے گا
اللہ پاک آپ کو جنت میں اعلی مقام عطا کرے آمین -

غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا
نئی دہلی: بھارت میں نایاب نسل کی مچھلی نے غریب ماہی گیروں کو راتوں رات کروڑ پتی بنا دیا۔
باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق غریب بھارتی ماہی گیر پابندی ہٹنے کے بعد پہلے ہی روز شکار پر پہنچے جہاں ان کی قسمت جاگ اٹھی اور ماہی گیروں نے ایک رات میں ہی سوا کروڑ روپے سے زائد کما لیے۔
رپورٹس کے مطابق مچھلی کے شکار پر جانے والے کشی کے ناخدا چندرا کانت اور ان کے ساتھیوں نے سمندر میں جال پھینکا تو کچھ ہی دیر میں ان کے جال میں طب کی دنیا میں مہنگی ترین مچھلی "سوا” آ گئی نایاب مچھلی کے شکار نے مچھیروں کو حیرت میں ڈال دیا اور ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
کشتی کے ناخدا نے ساحل پر پہنچنے سے قبل ہی شکار کی گئی مچھلیوں کی ویڈیو اپنے دوستوں کو بھیج دی جو کہ جلد ہی وائرل ہو گئی اور جب مچھیرے ساحل پر پہنچے تو مچھلی خریدنے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔
شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید
ماہی گیروں نے پکڑی جانے والی 157 مچھلیوں کو فی مچھلی 85 ہزار بھارتی روپے کے حساب سے فروخت کیا اور ایک کروڑ 33 لاکھ بھارتی روپے کما لیے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل راچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کے سمندر میں جال ڈالتے ہی بیش قیمت دو “سوا” مچھلیاں پھنس گئیں تھیں جو بعد میں لاکھوں روپے میں فروخت ہوئی تھیں-
واضح رہے کہ مذکورہ مچھلی کی جھلی سے سرجری کے دھاگے بنتے ہیں اور یہ دھاگے جسم کی اندرونی جراحی میں استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ مچھلی انتہائی مہنگی فروخت ہوتی ہےسوا مچھلی کی اندرونی جھلی سے بننے والے ریشے قدرتی طور پر بایو ڈگریڈیبل ہوتے ہیں اور جسم کے اندر جاکر کچھ عرصے بعد از خود گھل کر ختم ہوجاتے ہیں۔
سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش
-

الوداع سید من! تحریر:فلک شیر چیمہ
آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی
آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار
ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں
ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور…یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا
آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے
جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا” بھی نہ کر سکا
لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں…کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا
بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے… پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے
حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا
پاکستانی آپ تھے، پاکستانی آپ ہیں اور پاکستانی آپ رہیں گے۔ پاکستان آپ کا تھا، پاکستان آپ کا ہے اور پاکستان آپ کا رہے گا۔ آپ کے پیغام کی گونج میں یہ فقیر کہتا ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ اسلام کی نسبت سے، قرآن کی نسبت سے، سیدِ گیلان کی نسبت سے ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔
ڈل کی گہرائی اور جہلم کی تیزی، پیر پنجال کی اونچائی، وادی کے ہر شہداء قبرستان کی وسعت اور آپ کے اس محبوب کشمیر کے چپے چپے پہ فطرت کے انڈیلے حسن سے آپ کے پیغام کی خوشبو پھوٹتی اور صدا گونجتی رہے گی…. کہ یہ خوشبو دار صدا فطرت کی طرح سادہ، سچی اور عدل کی صدا تھی
کتنی خوش نصیب ہے کشمیر کی سرزمین، کہ اسے غلامی میں ایک "مرد آزاد” میسر آیا، رول ماڈل ملا اور پیچھے چلنے کو اس کے جمے ہوئے قدم ملے۔
آپ کا پاکستان آپ کے لیے اداس ہے، بلا تفریق رنگ و نسل، بلا تمیز مسلک و مشرب۔ ہم آپ کے بیٹے بھائی اور ہماری آنکھیں آپ کے لیے پرنم اور دل حزیں ۔
آرام سے سوئیں اب گیلانی صاحب، بہت تھکے ہوں گے آپ اس لمبے سفر سے۔ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، ہم گناہ گار بندے اپنے علم کی حد تک آپ کی بھلی گواہی دیتے ہیں، خالق سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
بے شماررحمت ہو آپ پر اس پروردگار کی، جس کی رضا کے لیے آپ نے حیات مستعار کا لمحہ لمحہ بسر کیا۔
آمین یا رب العالمین
#SyedAliGilani