کچھ شخصیات دنیا میں آتے ہیں ان کا مقصد ان کے کارناموں میں صاف واضح ہوتا ھے۔ان کی محنت،مقصد کے حصول کے جدوجہد دنیا کے سامنے عیاں ہوتی ہیں۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو قائد کہلاتے ہیں۔
انھی قائدین میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے قائدین حریت میں سے موجودہ صدی کا عظیم ترین قائد اور حریت کے لیے جدوجہد کرنے والی عظیم ہستی کا نام سید علی گیلانی ھے۔
یہ کیسی عظیم شخصیت کا مالک شخص تھا کہ بچپن سے لے کر اب تک ایک ہی نعرہ بلند کر رہا تھا
"ہم پاکستانی ہیں
پاکستان ہمارا ھے”
یہ وہی شخص تھا جس نے ہندو بنیے کو کشمیر جنت نظیر وادی پر قابض ہوتے دیکھا تھا۔جس نے پھر اس قوم کشمیر کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان سنا پڑھا تھا
"کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”
سید علی گیلانی وہی شخص تھا کہ جس نے ہمیشہ دن رات گرمی سردی،بہار،خزاں میں کشمیری قوم کو پاکستان سے محبت کا درس اور سبق گھول کر پلا دیا تھا۔یہ وہی شخص تھا کہ جس کا نام کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر ھے۔ہر وہ شخص جو تحریک آزادی کشمیر کے نام سے آشنا ہے وہ سید علی گیلانی کے نام سے واقف ہو گا۔
یہ وہی شخصیت تھی کہ 91 سال عمر پائی ان 91 سال میں ایک بار بھی ہندو بنیا اور اس کی فوج،پھر فوج کا تارچر کرنا،کبھی عقوبت خانوں میں بند ہونا،کبھی نظر بندیوں کی مشکلات سے گزرنا ان کی زبان سے یہ نہ ہٹا سکا کہ
"ہم پاکستانی ہیں
پاکستان ہمارا ھے”
میں نے اس عظیم شخصیت کے بارے میں اس وقت سننا شروع کیا جب سے میں نے ہوش سنبھالا کبھی ٹیلی ویژن پر کبھی ریڈیو پر کہ سید علی گیلانی نے ہڑتال کی کال دی ھے۔
کبھی یہ سنا کہ سید علی گیلانی نے انڈین الیکشن کا بائیکاٹ کیا ھے۔جب ان ہڑتالوں،ان جلوسوں،ان جلسوں،ان بائیکاٹ کی اصل وجہ ایک ہی تھی
"جیے گے بھی پاکستان کے ساتھ
مرے گے بھی پاکستان کے ساتھ”
معزز قارئین! سید علی گیلانی وہی شخصیت تھی کہ جب دنیا پاک فوج کو گالیاں دے رہی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عروج پر تھا تب سید علی گیلانی نے
"پاک فوج زندہ باد
پاکستان زندہ باد ”
کا نعرہ لگایا تھا بلکہ نہ صرف خود لگایا بلکہ ہر زبان زدعام کروایا۔اس شخصیت کہ محنت اور روعب و دبدبے کی تو کیا بات ھے۔کہ سید علی گیلانی جب زندہ تھے تو ان کو نظربند کر دیا جاتا تھا کیوں کہ انڈین میڈیا کو بھی پتہ تھا کہ سید علی گیلانی کی ایک کال پر کشمیریوں نے سر تسلیم خم کر دینا ھے۔لیکن غور کرنے کی بات یہ گے کہ جب سید علی گیلانی کا آج انتقال ہوا ھے ان کے انتقال کے فورا بعد کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ھے کیوں کر دیا گیا ھے کیونکہ دشمن انڈیا کو بھی پتہ ھے کہ یہ اکیلا ایک علی گیلانی نہیں ھے اس عظیم قائد نے پوری کشمیری قوم کو سید علی گیلانی بنا دیا ھے۔
سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی زندگی پوری کی پوری آزادی کشمیر کی جدوجہد میں گزری۔اس جدوجہد کے دوران تحریک آزادی کشمیر میں عروج و زوال بھی آیا لیکن اس شخصیت نے اپنی قوم کو درس تھا
"اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں”
بلکہ کرنے کا کام ایک ہی ھے "لھم یوقنون” اسی ذات باری تعالی پر یقین رکھنا ھے۔
سید علی گیلانی رحمہ اللہ کی جدوجہد کے ثمرات دشمنان نے برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی صورت میں دیکھ لیے ہیں۔سید علی گیلانی نے پوری قوم کو ہی برہان وانی کا جانشین بنا دیا تھا۔اسی وجہ سے ان کی جدوجہد سے گھبرا کو ان کو سینکڑوں بار قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا
لیکن مجھے یہاں حسرت موہانی کا ایک شعر یاد آ رہا ھے
ہے مشق سخن بھی جاری اور چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشا ھے حسرت کی طبیعت بھی
لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے ان صعوبتوں کو آڑے نہیں آنے دیا بلکہ نوجوانوں کو تیار کیا امت کی ماؤں بہنوں کو کشمیر کے لیے کھڑا کر دیا۔اسی کیفیت کو اگر میں شاعر کے الفاظ میں قلم بند کروں تو
ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا
منظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی
سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے 91 برس کی عمر میں یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان رب تعالی پر یقین رکھنے والی قوم ھے۔دیٹھ سیل میں رکھے جانے کے باوجود اور خراب طبیعت میں مناسب طبی سہولیات بھی نہ دی گئی جو کہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی تھی لیکن سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے کبھی بھی اپنے لیے کال نہیں دی بلکہ کشمیریوں کے اور پاکستانیوں کے لیے جدوجہد کی
"جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو
پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی”
آج امت مسلمہ کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے پشت پناہی کی ضرورت ھے جیسا کہ اقبال کا شعر ھے
کافر ھے تو شمشیر پر کرتا ھے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ھے سپاہی
سید علی گیلانی نے بے تیغ ہو کر اپنی سیاسی فکر کے ذریعے کشمیر جدوجہد آزادی کی حمایت کی بلکہ بچوں کی زبان پر بھی یہ جاری کروا دیا
پاکستان ہمارا ھے
پاکستان زندہ باد
ان شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب کشمیر کو آزادی نصیب ہو گی جب سید علی گیلانی کی محنت رنگ لائے گی۔وہ وقت آنے والا ھے جب کاروان حریت کو کامیابی ملے گی۔میرے نزدیک قائد حریت سید علی گیلانی رحمہ اللہ نے پورے کفر کا مقابلہ کیا ھے۔سید علی۔گیلانی نے اپنی جدوجہد کے ذریعے بچوں سے لے کر ڈگری ہولڈر تک کو بھارت کے خلاف کھڑا کر دیا تھا۔اسی وجہ سے دشمن کو ان کے نام سے خوف تھا۔اس عظیم شخصیت کو تا قیامت آزادی کے متوالوں میں یاد رکھا جائے۔اللہ تبارک و تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
Category: بلاگ
-

سید علی گیلانی یک عہد ساز شخصیت تحریر: محمد عبداللہ گِل
-

شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید
ویلز کے شہر سوان سی میں ڈیوڈ ہیمسن نامی 51 سالہ شہری کو بار بار، بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے ’جرم‘ میں ساڑھے تین سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، ڈیوڈ ہمسن پچھلے سات سال میں سینکڑوں مرتبہ سوان سی شہر کے مرکزی پولیس اسٹیشن کے بالکل سامنے والی سڑک پر بیچوں بیچ کھڑا ہو کر ٹریفک جام کرچکا ہے پولیس اور مقامی انتظامیہ نے اسے بار بار تنبیہ کی جبکہ ٹریفک جام کرنے کی پاداش میں وہ 9 مرتبہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔
پچھلے سال اپنی تین سالہ قید مکمل کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر اسی سڑک پر چلتی گاڑیوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس حرکت پر سوان سی پولیس نے اسے ایک بار پھر گرفتار کرلیا ہے اور اسے ساڑھے تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے-
یہ گونگا بہرہ نہیں لیکن پھر بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔ اس سے جب بھی پوچھا گیا کہ وہ بار بار ٹریفک کیوں جام کرتا ہے تو اس نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔
ہیمسن کی تازہ ترین گرفتاری کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ نفسیاتی ماہرین سے اس کا معائنہ کروایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آخر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے جو وہ بار بار ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کا سبب بن رہا ہے-
تقریباً ڈیڑھ ماہ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود، نفسیاتی ڈاکٹر بھی ہیمسٹن سے یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کوئی نہیں جانتا کہ آخر وہ کس نیت، کس ارادے اور کس مقصد کے تحت بار بار ٹریفک جام کی وجہ بنتا ہے۔
-

سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش
کولمبو: سری لنکا میں 80 سال بعد کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔
باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق دارالحکومت کولمبو سے 90 کلو میٹر کی دوری پر بنائے گئے ہاتھیوں کے سنٹر میں موجود 25 سالہ "سورنگی” نے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے سری لنکن حکومت کی جانب سے پناولا کے مقام پر 1975 میں بنائے گئے آشرم کے حکام کے مطابق کچھ دن قبل ہی انہوں نے ہاتھیوں کے ہمراہ دو چھوٹے ہاتھی دیکھے تھے۔
Sri Lanka's main elephant orphanage recorded a rare birth of twins Tuesday as a 25-year-old female named Surangi delivered healthy male calves https://t.co/yfDssQGyoz #Pinnawala pic.twitter.com/32N0puiD1r
— AFP News Agency (@AFP) August 31, 2021
جس کے بعد انہوں نے کئی دن تک ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ اس ہتھنی نے ان جڑواں بچوں کو جنم دیا ہےسنٹر کی انتظامیہ اور ڈاکرز کا کہنا ہے کہ دونوں بچے معمول سے تھوڑے چھوٹے ہیں لیکن ماں اور بچے بالکل محفوظ اور صحت مند حالت میں ہیں۔واضح رہے کہ سری لنکا میں آخری مرتبہ 1941 میں کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی سورنگی نے 2009 میں بھی ایک نر ہاتھی کو جنم دیا تھا جب کہ اب بھی ان کے ہاں دونوں نر ہاتھی پیدا ہوئے ہیں 25 سالہ ہتھنی کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا والد 17 سالہ ہاتھی ہے-
سری لنکا کو دنیا بھر میں ہاتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے اور وہاں تقریبا 7 ہزار 500 تک ہاتھی موجود ہیں ڈھائی کروڑ سے کم آبادی والے ملک کے بڑے گھرانوں کے لوگ ہاتھیوں کو گھروں میں رکھ کر دولت یا اعلیٰ ہونے کی تشہیر کرتے ہیں۔
سری لنکن حکومت نے جانوروں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین فافذ کر رکھے ہیں، برا سلوک کرنے والے ملزم کو تین سال قید کی سزا تک ہو سکتی ہے اور ان سے ہاتھی چھین کر سرکاری تحویل میں لے لیا جاتا ہے کیونکہ سری لنکا کا امیر طبقہ اپنی دولت کی نمائش کے لیے ہاتھیوں کو پالتو جانوروں کے طور پررکھتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ برا برتاو کے بھی کئی واقعات رپورٹس ہو چکے ہیں۔
علاوہ ازیں ہاتھیوں سمیت دیگر کچھ جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر موت کی سزا تک کے قوانین بھی نافذ ہیں مگر ایسے قوانین پر ناذ و شادر ہی عمل کیا جاتا ہے۔
سرکاری ریکارڈز کے مطابق سری لنکا بھر میں 200 کے قریب ہاتھی گھروں میں موجود ہیں جبکہ ملک میں 75 ہزار سے زائد ہاتھی پائے جاتے ہیں۔
-

بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ ازقلم :غنی محمود قصوری
بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ
ازقلم غنی محمود قصوری
تحریک حریت کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی کل 1 اگست 2021 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحم
سید علی شاہ گیلانی الحاق پاکستان کے سب سے بڑے حامی تھے اور کشمیریوں سمیت پاکستانیوں کے دلوں کی ڈھرکن تھے آپ مقبوضہ کشمیر کے قصبہ سوپور کے نواحی گاؤں ذورمنز میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے بچپن سے ہی شاہ صاحب غیرت و حمیت کے پاسباں تھےآپ کی اولاد میں ایک بیٹی فرحت گیلانی اور تین بیٹے نعیم گیلانی،نسیم گیلانی اور ظہور گیلانی شامل ہیں-
شاہ صاحب نے اپنی ساری زندگی ہندوستان کے خلاف لڑتے ہوئے گزاری آپ کا واضع اور دو ٹوک موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان ناجائز قابض ہے ہندوستان اپنی فوجیں کشمیر سے نکالے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرائے تاہم ہندو بنیا جانتا ہے کہ آپ الحاق پاکستان کی سب سے مضبوط آواز ہیں اور ریفرنڈم کروانے کا مطلب الحاق پاکستان کا پیغام کھلے عام ساری دنیا کے سامنے رکھنا ہے سو ہندو نے ہر ظلم و جبر آپ پر کیا اور آپ کو بے بحا آفرز کرکے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تاہم ہندو بنئیے کو ناکامی کے سوا کچھ نا حاصل ہوا آپ کی تقریبآ ساری زندگی جیلوں میں گزری شاہ صاحب گزشتہ 13 سالوں کے دوران اپنے گھر میں نظر بند رہے ہیں-
وفات کے وقت آپ کی عمر 92 سال تھی اور دوران اسیری ہی آپ کا ایک گردہ کینسر کی بدولت نکالا جا چکا تھا اور دل کی سرجری بھی ہو چکی تھی مگر اس کے باوجود بھی آپ کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نا آئی اور آپکا نعرہ وہی رہا –
کشمیر بنے گا پاکستان
تیرا میرا رشتہ کیا ؟
لا الہ الااللہ
عام کشمیری تو کجا مقبوضہ سادی کشمیر کی تمام عسکری تنظیموں کے قائدین و مجاھدین سید علی شاہ گیلانی صاحب کی بے انتہاہ عزت کرتے ہیںسید علی شاہ گیلانی کی خدمات پر ان کو پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے نشان پاکستان سے نوازہ گیا تھا
آپ نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے پلیٹ فارم سے 1972,1977 اور 1987 میں میں الیکشن جیتا اور اسمبلی میں کھل کر الحاق پاکستان کی صدا لگائی اور کشمیر کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کی
آپ نے جماعت اسلامی سے 2003 میں علیحدگی اختیار کی اور اپنی جماعت تحریک حریت کی بنیاد رکھی مذید آپ نے کشمیر کی آزادی کی خاطر چوبیس سے زائد جماعتوں کے اتحاد سے آل پارٹیز کانفرنس کی بنیاد رکھی
مرحوم سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی میں ہی سرینگر قبرستان شہدا میں اپنی تدفین کی نصیحت کی تھی کل رات ان کی وفات کی خبر کے بعد انڈین فوج نے پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی شحض اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا تاہم کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ تو دے سکتے ہیں مگر اپنے محبوب لیڈر کا دیدار کئے بنا نہیں رہ سکتے-
اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے انڈین فوج نے پوری وادی میں کرفیو لگا دیا ہے اور موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے انڈیا جو مرضی کر لے کشمیری قوم بابائے حریت سید علی شاہ گیلانی کے نقش قدم پر ہی چلے گی اور الحاق کشمیر کرکے ہی دم لے گی –
اللہ تعالی مرد مجاھد سید علی شاہ گیلانی کے درجات بلند فرمائے آمین
-

آزادکشمیر حکومت کا سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ کا اعلان
مظفر آباد:وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے-
باغی ٹی وی : وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ سید علی گیلانی کی رحلت کا سن کر دل رنجیدہ ہے،سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں تھےسید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی-
بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ سید علی گیلانی نے بھارتی ظلم و جبر کا دلیری کیساتھ مقابلہ کیا ،سید علی گیلانی کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گے کشمیری قوم سید علی گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل حاصل کریں گی-
وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ سید علی گیلانی کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ہے-
حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا
وزیراعظم عمران خان کا سید علی گیلانی کے انتقال پر شدید دُکھ کا اظہار،آج پاکستانی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان
ترجمان وزیراعظم آزادکشمیرنے کہا کہ آزادکشمیر میں سید علی گیلانی کی وفات پر ایک روزہ چھٹی اور تین روزہ سوگ منایا جائے گا آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج سید علی گیلانی کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی-
قابض بھارتی فوج کی جانب سے سید علی گیلانی کی رات کے اندھیرے میں تدفین پر دباؤ ، تیاری جاری
کشمیری آج یتیم ہو گئے، علی گیلانی کی وفات پر مشعال ملک کا جذباتی پیغام
-

سید علی گیلانی کی وفات پر صدر مملکت۔بلاول۔ سراج الحق سمیت قومی قائدین کا اظہار افسوس
پاکستانی سیاسی و معروف شخصیات نے سید علی گیلانی کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے-
باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےحریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر اظہار افسوس کیا کہا سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک عظیم رہنماء سے محروم ہو گیاسید علی گیلانی عمر بھر بھارتی سامراجیت کے خلاف ڈٹے رہے وہ ایک باہمت، نڈر اور مخلص رہنماء تھے اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے-
سید علی گیلانی عمر بھر بھارتی سامراجیت کے خلاف ڈٹے رہے، صدر مملکت
سید علی گیلانی ایک باہمت، نڈر اور مخلص رہنماء تھے، صدر مملکت
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، صدر مملکت
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) September 1, 2021
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر اظہار افسوس
صدر مملکت کا سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک عظیم رہنماء سے محروم ہو گیا، صدر مملکت
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) September 1, 2021
وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اورآزادی کشمیر کے لئے سید علی گیلانی مرحوم کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا-عثمان بزدار نے کہا کہ سید علی گیلانی مرحوم جرات مند اور بہادر کشمیری رہنما تھے سید علی گیلانی مرحوم نے آزادی کشمیر کے لئے بےپناہ قربانیاں دیں بھارتی ظلم و ستم اور پابند سلاسل کے باوجود سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔
انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کے انتقال سے جدوجہد آزادی کشمیر کا سنہری باب کا خاتمہ ہوا ہے آزادی کشمیر کے لئے سید علی گیلانی کی عظیم خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔
کون کہتا ہے موت آئ تو مر جاؤں گا۔۔میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا۔۔۔۔ RIPSyedAliGillani #Kashmir pic.twitter.com/V1iqbQ6gHC
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 1, 2021
وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ کون کہتا ہے موت آئ تو مر جاؤں گا۔۔میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا-سید علی گیلانی گزشتہ اور اس صدی کےعظیم مجاہدآزادی، سب سےبڑے پاکستانی اور دنیا بھر کےحریت پسندوں کےلیےامید و حوصلےکا مرکز تھے۔ پاکستان آج اپنے سب سےوفادار بیٹے سےمحروم ہوا ہے۔ بھارتی سامراج کے سامنے ان کی جدوجہد تاریخ میں ایک ضرب المثل کے طور پر ہمیشہ موجود رہےگی#SyedAliGillani
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) September 1, 2021
سراج الحق نے سید علی گیلانی کی وفات پر افسوس کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی گزشتہ اور اس صدی کےعظیم مجاہدآزادی، سب سےبڑے پاکستانی اور دنیا بھر کےحریت پسندوں کےلیےامید و حوصلےکا مرکز تھے۔ پاکستان آج اپنے سب سےوفادار بیٹے سےمحروم ہوا ہے۔ بھارتی سامراج کے سامنے ان کی جدوجہد تاریخ میں ایک ضرب المثل کے طور پر ہمیشہ موجود رہےگی-سید علی گیلانی نے اپنے پیچھے لاکھوں آزادی کے متوالوں کو چھوڑا ہے جو ان کا مشن جاری رکھیں گے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے جس خواب کو سید علی گیلانی نے پوری زندگی سینے سے لگائے رکھا، وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان شاء اللہ#SyedAliGillani
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) September 1, 2021
انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنے پیچھے لاکھوں آزادی کے متوالوں کو چھوڑا ہے جو ان کا مشن جاری رکھیں گے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے جس خواب کو سید علی گیلانی نے پوری زندگی سینے سے لگائے رکھا، وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان شاء اللہپوری قوم سے اپیل ہے
کل ہر شہر اور قصبے میں قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے#SyedAliGillani— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) September 1, 2021
سراج الحق نے پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ آج ہر شہر اور قصبے میں قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے-پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر اظہار افسوس
سید علی گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا دوسرا نام تھے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری@BBhuttoZardari
— PPP (@MediaCellPPP) September 1, 2021
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا کہا سید علی گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا دوسرا نام تھے-سید علی گیلانی کی زندگی جہدِ مسلسل کا ایک استعارہ تھی-سید علی گیلانی کی زندگی جہدِ مسلسل کا ایک استعارہ تھی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سید علی گیلانی کے انتقال پر دنیا بھر میں مقیم بالخصوص آزاد و مقبوضہ وادی کے کشمیریوں سے تعزیت کا اظہار
— PPP (@MediaCellPPP) September 1, 2021
سید علی گیلانی کا مشن کشمیر کی آزادی تھا اور اس خواب کی تعبیر ہماری منزل ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
— PPP (@MediaCellPPP) September 1, 2021
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سید علی گیلانی کے انتقال پر دنیا بھر میں مقیم بالخصوص آزاد و مقبوضہ وادی کے کشمیریوں سے تعزیت کا اظہارکیا اور کہا کہ سید علی گیلانی کا مشن کشمیر کی آزادی تھا اور اس خواب کی تعبیر ہماری منزل ہے-واضح رہے کہ زیراعظم عمران خان نے بھی سید علی کی وفات پر گہرے دکھ کا اطہار کیا اور پاکستانی پرچم آج سرنگوں رہےگا اور سرکاری سطح پر سوگ منایا جائے گا-
سید علی گیلانی آج رات 10 بجے نظر بندی کے دوران 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔عبدالحمید لون نے ان کی وفات کی تصدیق کردی ہے۔
-

حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات ، بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا
سری نگر: حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں کرفیو لگادیا ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سید علی گیلانی کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگادیا گیا ہے اور سیکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے۔شہریوں کے گھر وں سے نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور بھارتی فوج نے علاقے میں گشت شروع کردیا ہے نیشنل ہائی وے روڈ بیمینہ ، سرینگر پر آنسو گیس کی شدید گولہ باری جاری ہے –
Heavy tear gas shelling going on, national higway road Bemina, Srinagar after the demise of Great Kashmiri Leader #SyedAliGilani
— Taha طٰہٰ (@taahaa_) September 1, 2021
سید علی گیلانی آج رات 10 بجے نظر بندی کے دوران 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔عبدالحمید لون نے ان کی وفات کی تصدیق کردی ہے۔حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-
بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
-

بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
سری نگر: بابائے حریت سید علی گیلانی وفات پا گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون-
باغی ٹی وی : حریت کانفرنس کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طبیعت شدید ناساز تھی سید علی گیلانی کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی، انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات تھیں تاہم کشمیری تحریک کے عظیم لیڈر سید علی گیلانی صاحب آزادی کا خواب آنکھوں میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے-
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 92 سالہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا انتقال سری نگر میں ہوا کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کی رحلت کی تصدیق خاندان کے ایک فرد نے کی ہے۔
سید علی شاہ گیلانی ،مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما ، کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے ہے 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے 88 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر پر 72 سال سے جاری بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کی توانا آواز ہیں۔ اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کشمیر کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن رہے جبکہ انہوں نے جدوجہد آزادی کے لیے ایک الگ جماعت "تحریک حریت” بھی بنارکھی ہے جو کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔
بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم "رابطہ عالم اسلامی” کے رکن ہیں۔ حریت رہنما یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما تھے ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی شخصیات برصغیر سے "رابطہ عالم اسلامی” فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔
مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کی جس کا نام "روداد قفس” ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔
پاکستان کے 73یوم آزادی کے موقع پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانِ پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا۔ یہ اعزاز اسلام آباد میں حریت رہنماؤں نے وصول کیا۔
-
اللہ سبحانہ وتعالی کا شکر ادا کریں تحریر: خالد عمران خان
عام زندگی میں جب ہمیں کوئی چیز ملتی ہے یہ کوئی شخص ہم کچھ دیتا ہے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ، اور ان چیزوں کو ہم چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم جس مالک نے ہمیں اتنے نعمتیں عطا کی اس کا شکر ادا نہں کرتے جب کے یہ سب سے اہم ہمیں ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی روزانہ کی نعمتوں کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ پاک کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے شکر گزار رہیں۔ ہزاروں نعمتوں میں سے سات یہ ہیں کہ ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
1. ہر چیز کا خالق۔
ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں بطور انسان اور اس وسیع کائنات کی دیگر تمام چیزوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا کیا ، کیونکہ اللہ پاک نے جو کچھ بنایا ہے وہ اچھا اور منصفانہ ہے اور کسی بھی چیز کو رد نہیں کیا جا سکتا.اور اس کی دی گئی ہر نعمت کو ہمیں شکریہ کے ساتھ وصول کرنا چاہیے۔
2. ہمیں معاف کرنا۔
زندگی میں ہم سے اتنے گناہ ہوتے ہیں اگر اللہ پاک نے ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا تو وہ ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کریں گے اور ہماری خوشیاں چھین لیں گے۔ ہمیں معافی کے تحفے کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ پاک ہمیں عطا کرتا ہے جب ہم جرم محسوس کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔
3. ہمیں آفت سے نجات دلانا۔
مایوسی ہر کسی کی زندگی میں ہوتی ہے۔ لیکن ہم مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ پاک ہے جو ہمیں آفات ، آزمائشوں اور خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ پاک کے لیے کوئی بڑی آفت ایسی نہیں جو اسے حل نہ کر سکے۔ کوئی پہاڑ بہت اونچا نہیں ہے وہ اسے حرکت نہیں دے سکتا۔ کوئی طوفان بہت طاقتور نہیں ہے اللہ پاک اسے پرسکون نہ کر سکے.
4. وفادار ، یہاں تک کہ جب ہم منہ پھیر لیں۔
وفاداری اللہ پاک کی ذات ہے۔ کوئی دن ، منٹ یا سیکنڈ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ پاک وفادار نہ ہو۔ وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم بے وفا ہیں وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔
5. وعدے نہیں توڑتا۔
اللہ پاک اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑے گا۔ انسان اپنے ذہن بدلتے ہیں ، اور اپنے الفاظ کو توڑ دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کبھی اپنا ارادہ نہیں بدلتا ، اور اسی لیے وہ اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑتا۔
6. نافرمان کے ساتھ صبر کرنا۔
اللہ پاک کسی نافرمان انسان کو غلطی کرتے ہی سزا نہیں دیتا۔ وہ وقت دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ہم توبہ کریں اور اسی کی طرف رجوع کریں۔ اگر اللہ پاک ہر کسی کو اس کی نافرمانی کی سزا دیتا ہے تو اس زمین پر ایک بھی جان باقی نہیں رہے پائی گی تو ہمیں اس مالک کا شکر گزار ہونا چائیے۔
7. محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لیے بھیجا۔
اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہماری رہنمائی کے لیے بھیج کر ہم پر رحم کرنے کا وعدہ پورا کیا۔ یہ ایک بہترین چیز ہے جس کے لیے ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
شکر ادا کریں اللہ پاک کی دی ہوئی سینکڑوں نعمتوں کا.Twitter handle
@KhalidImranK -

طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کو غیر ملکی دورے کی اجازت دیدی، ٹیم کس ملک کے دورے پر جائے گی؟
کابل: طالبان نے افغان کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کی منظوری دے دی ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حامد شنواری نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی ٹیم کو آسٹریلیا بھیجنے کی منظوری مل گئی ہے۔دونوں ٹیموں کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ آسڑیلوی شہری ہوبارٹ میں ٹی 20 کرکٹ ورلڈکپ کے بعد شیڈول ہے۔
طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا
انہوں نے بتایا کہ افغانستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ گذشتہ برس 27 نومبر سے یکم دسمبر تک کھیلا جانا تھا تاہم کورونا کی وجہ سے اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔
حامد شنواری کے مطابق آسٹریلیا کے دورے سے قبل افغان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی شرکت کرے گی جو متحدہ عرب امارات میں 17 اکتوبر سے 15 نومبر 2021 تک شیڈول ہے۔
امریکیوں کے کابل ایئرپورٹ سے نکلنے میں طالبان کی مدد کا انکشاف
واضح رہے کہ کابل پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں عالمی دنیا اور افغان قوم کو اہم پیغام دیے، کابل میں حالات زندگی معمول پر ہیں، تعلیمی ادارے، بازار کھلے ہیں، خواتین بھی دفاتر میں کام کر رہی ہیں، طالبان میں اس بار بدلاؤ آیا ہے اور خواتین کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، طالبان کی جانب سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی،کابل سے نمائندہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے شہریوں سے اسلحہ جمع کیا اور کہا کہ اب حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، طالبان نے ریڈیو ،ٹی وی کے دفاتر سمیت مختلف مقامات کا بھی دورہ کیا اور ملازمین سے بات چیت کی،
افغان طالبان کی جانب سے شہریوں کو مسلسل پیغامات دیئے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے کام معمول کے مطابق جاری رکھیں، دوسری جانب افغان شہریوں کی جانب سے بھی طالبان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، افغان شہری طالبان کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ تصور کر رہے ہیں
واضح رہے کہ امریکی فوج نے31 اگست کی رات افغانستان سے اپنا انخلاء مکمل کر لیا تھا۔ امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریبا ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے
طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا امریکی فوج کے انخلا کے بعد کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، غیرملکیوں کو نکالنے کیلئے ہم نے جہاد اورسیاسی راستہ بھی اختیار کیا، دوحہ معاہدے کے تحت غیرملکی افواج نے نکلنے کا فیصلہ کیا،حکومت کے قیام کے بعد قومی فوج کی تیاری پر بھرپور توجہ دینگے، دوحہ معاہدہ اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، اب کوئی جواز نہیں کہ کوئی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ ہ اگر ہم سپر پاورز کو ہرا سکتے ہیں تو کوئی گروپ بھی ہمارے لیے مسئلہ نہیں، کابل سے جوحکم جاری ہوگا وہ پورے افغانستان پرلاگو ہوگا، پہلے ہم بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہم میں ملٹری صلاحیت ہے، حقانی صاحب امارت اسلامی کے ڈپٹی امیر ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا، افغانستان پر بری نظر رکھنے والے امریکی انجام کو دیکھیں۔
طالبان کا وادی پنجشیر کے باشندوں کے لئے براہ راست پیغام، احمد مسعود پریشان