Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    ریاض: سعودی عرب میں سفید شاہین (فالکن) نصف ملین ڈالرز میں فروخت ہوا تو نیا عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق دارالحکومت ریاض سے تقریباً 40 میل کے فاصلے پر واقع ملہم شہر میں سفید شاہین کو نیلامی کے ذریعے 1.75 ملین یورو میں ( مساوی نصف ملین ڈالرزجبکہ 83,994,900 پاکستانی روپے) ) فروخت کیا گیا ہے۔

    قیمت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والےامریکی نسل کے اس سفید شاہین کو عالمی فالکن بریڈرز آکشن (آئی ایف بی اے) نیلامی میں فروخت کیا گیا ہے اور یہ نیلامی بھی تنظیم کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنی فروخت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے اس سفید شاہین کی عمر ایک سال سے کم ہے اور اسے امریکن پیسفک نارتھ ویسٹ فالکنز فارم سے لایا گیا تھا جسے دنیا میں شاہینوں کی افزائش نسل کے اعتبار سے بہترین سمجھا جاتا ہے سفید شاہین کی لمبائی 16.5 انچ اور وزن 34.5 اونس ہے۔

    سعودی عرب میں منعقد ہونے والی شاہینوں کی سالانہ نیلامی میں 14 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکا شامل تھے اس نیلامی کو سعودی ٹی وی اور سوشل میڈیا نے براہ راست نشر بھی کیا۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب میں مختلف اقسام اور نسلوں کے شاہین پرندوں کی نیلامی کے موقع پر سعودی عرب کی سرزمین پرپائے جانے والے ایک نایاب شاہین کو دو لاکھ 70 ہزار سعودی ریال میں فروخت کیا گیا تھا۔ امریکی کرنسی میں یہ قیمت 72 ہزار ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔

    ایس پی اے نے بتایا تھا کہ یہ ڈیل ریاض کے شمال کے ملہم کے مقام پر سعودی فالکن کلب کی طرف سے منظم کی گئی نیلامی کی دوسری رات میں کیا گیا تھا۔ یہ شاہین نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا پرندہ ہے۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ العرادی فارم سے لائے گئےشاہین کی خریداری میں بڑی بولی کے ذریعے فروخت ہونے والے اس شاہین کی لمبائی ساڑھے 17 انچ،چوڑائی پونے 17انچ اور وزن 1105 گرام تھا۔

    سعودی عرب کے ایک مقامی شہری متعب منیر العیافی نے العرادی فارم سے آئے شاہین کی خریداری کی آخری بولی لگائی تھی۔ اس شاہین کو’رغوان‘ کا نام دیا گیا تھا شاہینوں کے مقامی مقابلے سب سے خوبصورت شاہین پیش کرنے والے کو تین لاکھ، دوسرے درجے پر دو لاکھ اور تیسرے پر ایک لاکھ ریال کا انعام رکھا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آئی ایف بی اے کے مطابق سعودی عرب میں 20 ہزار سے زیادہ شاہین ہیں اس پرندے کو بطور خاص عزت و تکریم بھی دی جاتی ہے سعودی عرب نے جولائی 2017 میں فالکنرز کی ایسوسی ایشن بنانے کے لیے ایک شاہی فرمان منظور کیا گیا تھا سعودی عرب نے بین الاقوامی کنونشنوں پر بھی اتفاق کیا تھا کہ فالکن کو معدوم ہونے سے بچایا جائے اور مہاجر پرندوں کی حفاظت کی جائے۔

    دسمبر میں ریاض کے قریب ہر سال منعقد ہونے والے کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹیول نے 2019 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس وقت جگہ حاصل کی تھی جب 2،350 شاہینوں کی حاضری ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مشرق وسطیٰ میں شاہین سے محبت اور اسے پالنے کی پوری تاریخ ہے اور اکثر دولت مند افراد اس پرندے پر بطور خاص رقوم بھی خرچ کرتے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی شاہین اس قدر مہنگا فروخت ہوا کہ عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا خلیج میں اس پرندے کو ثقافت کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے-

  • سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن   تحریر: محمد امین 

    سٹریٹ چائلڈز کا بے رنگ بچپن تحریر: محمد امین 

    آپ نے اپنا بچپن خوشیوں بہاروں رنگینیوں میں گزارا ہو گا آج بھی بچپن کے وہ سہانے دن یاد آتے ہوں گے اور سوچتے ہونگے کاش  وہی بچپن وہ زندگی کے مزے دوبارہ آجائیں. لیکن آپکے پاس ہی ایک ایسی بستی ایسا معاشرہ ہے جہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر انکا بچپن نہیں ہوتا. آپ نے تو بچپن کھلونوں سے کھیل کر کے گزارا ہو گا مگر انھیں اسی چھوٹی سی عمر میں حالات سے مجبور ہو کر سڑک پر کھلونوں اور کتابوں کی بجائے ہاتھ میں اوزار لیکر کام کرنے نکلنا پڑتا ہے. نہ تو ان کے سر پر چھت ہوتی ہے نہ ہی کوئی سہارا.ان کو پورے خاندان کی زمہ داریاں بچپن میں مل جاتی ہیں. انکے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہوتا وہ اپنا سارا بچپن سڑک کی غلاظت میں گزار دیتے ہیں. ان بچوں کے لیے کوئی عید کوئی خوشی کوئی تہوار نہیں ہوتا. کتنا درد ہوتا ہو گا ان نونہال بچوں کو جب کھلینے کودنے کی عمر میں انکے ہاتھوں میں مشقت کے چھالے پڑ جاتے ہیں. 

    بچے کسی بھی ملک کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں.لیکن ان بچوں کے ہسنے کھیلنے کے دنوں میں انکو کام پر لگا دیا جاتا ہے تاکہ گھر کا نظام چل سکے دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے.سکول میں جانے کی عمر میں ان معصوم پھولوں کو ہوٹلز, بسوں,چائے خانوں,مارکیٹوں, دکانوں یا ورک شاپس پر مشقت کےلیے لگایا جاتا ہے. آپ نے بےشمار گلشن کے پھولوں کو کچروں کے ڈھیر میں رُلتے دیکھا ہو گا. گلیوں میں بسنے والے بچوں کو کوئی سہارا نہیں دیتا. وہ خود کما کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اسی  سڑک پر سو کر زندگی بسر کرتے ہیں.کچھ غریب خاندان بچوں کو سڑکوں پر چھوڑ جاتے ہیں اور وہ معصوم بال بھیک مانگ کر اپنے خاندان کو پالتے ہیں اور خود زندگی سڑک پر گزار دیتے ہیں.

    اسٹریٹ چائلڈ ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد 150 ملین کے لگ بھگ ہے. لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے.اسٹریٹ چلڈرن ایک معاشرتی چیلنج ہے. انکے پھیلاو کی بنیادی وجوہات غربت,قحط,مہنگائی,شہرکاری بےروزگاری,حکومتی عدم توجہ ہے. یہ خونی معاشرہ ظالم سماج انھیں بھوک اور تنگ دستی کی وجہ سے کچل دیتا ہے.کیونکہ جینے کے لیے خوراک بھی اتنی ہی ضروری ہے جیسے پانی اور سانس. 

    دنیا کے دیگر ترقی پزیر ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی اسٹریٹ چلڈرن  کا مسئلہ درپیش ہے. عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، یہاں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے. اسکی بڑی وجہ شہری آبادی میں مسلسل اضافہ اور آمدن کے وسائل میں مسلسل کمی ہے. بے روزگاری اور بےگھر افراد کی شرح پہلے ہی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں. اسی وجہ سے جب غریب خاندان غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں تو بال مزدوری اسٹریٹ چلڈرن جیسے چیزیں پنپنے لگتی ہیں.اور اس وقت یہ ایک المیہ بن چکا ہے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل رہا ہے

    اس بے رحم معاشرے میں ان پھولوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ان سے بچپن میں ہی سخت مشقت کروائی جاتی ہے معمولی باتوں پر تشدد کیا جاتا ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں. انکی تعلیم اور صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا. طرح طرح کی بے رحمیوں ناانصافیوں,مظالم ,دکھ درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان پھولوں مسل دیتے ہیں. کم عمری میں ہی غلط کاریوں میں لگا دیا جاتا ہے کیونکہ ان معصوم پھولوں کا نگہبان کوئی نہیں ہوتا.بس اوپر آسمان چھت اور سڑک انکا بستر ہے.یہ حالات کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں مگر کوئی انکو نہیں تھامتا نہ انکی فریاد سنتا ہے. 

    آخر میں اتنا کہ اب اگر اس لعنت کو ختم کرنا ہے تو حکومت کے ساتھ معاشرے کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے. اپنے آس پاس غریب خاندان کے بچوں کی کفالت کا زمہ اٹھانا چاہے یہ ہم پر فرض ہے. معاشرے پر لازم ہے کہ وہ ان بچوں سے مزدوری محنت مشقت کروانے کی بجائے انکی صحت تعلیم اور خوارک کے انکی سپورٹ کرے. اور ریاست تو ماں ہے اس ماں کے ہوتے ہوئے یہ پھول کیوں در بدر سڑکوں کچرے خانوں میں رُل رہے ہیں. اگر یہ معصوم پھول یوں ہی اجڑتے رہے تو یہ چمن بھی اجڑ جانا ہے.افسوس یہ کلیاں پھول کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں

    نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے

    مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے

    ‏Twitter Handle: @ameyynn

  • ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    ایک سونے کا پھل اور باپ بیٹا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک باپ اور بیٹے کی جو ایک دن اسکوٹر پر کہی جا رہے ہوتے ہیں اور باپ کی نظر اچانک پڑتی ہے روڈ کی سائٹ میں کچھ لڑکے کیچڑ میں کچھ تلاش کر رہے ہیں۔

    تو باپ اپنا اسکوٹر وہاں جاکر روکتا ہے اور جاکر لڑکوں سے پوچھتا ہے کیا تلاش کر رہے ہو یہاں پر؟ تو ایک لڑکا بولتا ہے کیا آپ کو نظر نہیں آرہا ہے کے سامنے ایک گولڈ کا پھل پڑا ہے ہم اس پھل کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    باپ کا دھیان یہ بات سنتے ہی سونے کے پھل کی طرف جاتا ہے  جو چمک رہا ہوتا ہے اور باپ کے دماگ میں خیالات آنا شروع ہوجاتے ہیں کے کاش یہ پھل میرے بیٹے کے پاس آجائے تو نہ صرف میرے بیٹے کی بلکہ میری بھی قسمت بدل جائے گی۔

    باپ بنا سوچے سمجھے  اپنے بیٹے کو کیچڑ میں دھکا مار دیتا ہے اور بیٹے کو بولتا ہے تجھے کسی بھی قیمت پر یہ سونے کا پھل حاصل کرنا ہے لیکن بیٹے کو وہ پھل نہیں چاہیئے ہوتا أس کے اپنے کچھ اور ہی خواب ہوتے ہیں وہ بہت کوشش کرتا ہے اپنے باپ کو یہ سمجھانے کی کے میری خوشی اس سونے کے پھل میں نہیں ہے میری خوشی کہی اور ہے میرے خواب کچھ اور ہیں لیکن باپ أس کی ایک بات نہیں سنتا باپ أس کو دھکا مارتا ہے کیچڑ میں اور بولتا ہے میں تجھ سے پوچھ نہیں رہا ہوں میں تجھے بتا رہا ہوں کے تجھے وہ سونے کا پھل لیکر آنا ہے۔

    تو بیٹا بھی اپنے باپ کے خواب کو سچ کرنے کے لیئے اپنی پوری جان لگا دیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کے کسی طرح یہ سونے کا پھل ہاتھ میں آجائے لیکن جیسے جیسے وہ کیچڑ میں ہاتھ پیر مارتا ہے پھل کو پکڑنے کے لیئے اور نیچے دھسنے لگ جاتا ہے اور پھر جا کر بیٹے کو سمجھ آتا ہے کے یہ کیچڑ نہیں ہے یہ دلدل ہے وہ چیختا ہے چلاتا ہے آواز لگاتا ہے لیکن أس کا باپ اس کی ایک بات بھی نہیں سنتے اور کہتے ہیں بہانے نہیں بنا اور بھی لوگ ہیں کیچڑ میں جو کوشش کر رہے ہیں جب وہ کر سکتے ہیں تو پھر تو کیوں نہیں کرسکتا تو ایک بار وہ پھر سے کوشش کرتا ہے اور پوری جان لگا دیتا ہے لیکن اس کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا ہے اور بیٹا دھیرے دھیرے دھستا چلا جاتا ہے اور مر جاتا ہے۔

    تب جا کر أس کے باپ کو احساس ہوتا ہے کے أس سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے وہ وہیں بیٹھ کر رو رہا ہوتا ہے چیخ رہا ہوتا ہے تب وہا سے بزرگ کا گزر ہوتا ہے اور پوچھتا ہے تم کیوں رو رہے ہو؟ پھر باپ أس سونے کے پھل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بزرگ کو اپنی پوری بات بتاتا ہے اور بولتا ہے اس میں میری کیا غلطی ہے؟ میں تو جو کچھ بھی کیا اپنے بیٹے کی خوشی کے لیئے کیا۔ تو وہ بزرگ أس سونے کے پھل کو بہت غور سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے جس سونے کے پھل کی وجہ سے تم نے اپنے بیٹے کو گوا دیا کم سے کم ایک بار غور سے اس پھل کی طرف دیکھا تو ہوتا کے وہاں پر کوئی پھل ہے بھی یا نہیں یہ سن کر آدمی کو غصّہ آیا اور کہنے لگا سامنے تو نظر آرہا ہے سونے کا پھل آپ کو نہیں نظر آرہا کیا؟ 

    تو وہ بزرگ کیچڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں ایک درخت ہوتا ہے بولتے ہیں وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ ایک سایہ ہے اصلی پھل درخت پر ہے پھر بزرگ أس آدمی کو بولا کے اپنے بیٹے کو زبردستی کیچڑ میں دھکا دینے کے بجائے أس کو بتانے کے بجائے تیری خوشی کس میں ہے اگر تم نے أس سے پوچھا ہوتا کہ بیٹا تو بتا تو کیا کرنا چاہتا ہے اور تیری خوشی کس میں ہے؟ تو نہ صرف تمہارا بیٹا زندہ ہوتا بلکہ ہو سکتا ہے کے أس کے ہاتھ میں وہ اصلی سونے کا پھل ہوتا۔

    سبق لوگو کی رائے لینا چاہئیے اپنے بچوں کی خوشی کا خیال کیجئے اور لالچ میں آکر اپنے بچوں کی زندگی برباد نہیں کیجئے۔

    Name:

     Sadiq Saeed

    Twitter : SadiqSaeed_

  • حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔

    سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لئے آنجناب ﷺ کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ: اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پْرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

    جب آنجناب کی ذات عالی کے اندر نمونہ موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اپنے کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لئے غیروں کے طریقے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے تو اسی لیے اپنے آج کے موضوع کی طرف آتے ہوئے میں آپ حضرات کی خدمت میں آنجناب کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو تجارت کے بارے میں کچھ تحریر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

      نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت

        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔

    مکہ مکرمہ میں حصولِ معاش کے لیے عام طور پر گلہ بانی اور تجارت عام تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کی ابتداء میں ہی اپنے معاش کے بارے میں از خود فکر کی۔ ابتدا ء ً  اہلِ مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے، بعد میں تجارت کا پیشہ بھی اختیار کیا۔

    آپ کی خدمت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی اسفار میں سے کچھ سفروں کی کارگزاری پیش کرنا چاہتا ہوں۔

     ملکِ شام کی طرف پہلا  سفر 

          نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف 2 سفر کیے۔ پہلا سفر اپنے چچا کے ہمراہ،لیکن اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ تاجر شریک نہ تھے بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لیا تھا۔ اسی سفر میں بحیرا راہب والا مشہور قصہ پیش آیاجس کے کہنے پر آپ کے چچا نے آپ کو حفاظت کی خاطر مکہ واپس بھیج دیا (الطبقات الکبریٰ، ذکر ابی طالب وضمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیہ، وخروجہ معہ الی الشام فی المرۃ الاولی)۔

        ملکِ شام کی طرف دوسرا سفر:

        اور دوسرا سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاجر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر اجرت پر کیا۔قصہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم 25برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے۔ خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان دوسروں کو دے کر بھیجا کرتی ہے، تم بھی اجرت پر اس کا سامان لے جاؤ، اس سے تمہیں معقول معاوضہ مل جائے گا۔ 

    یہ گفتگو حضرت خدیجہؓ  کو معلوم ہوئی تو انہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر بلوایا کہ جتنا معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں، آپ کو اس سے دوگنا دوں گی۔اس پر ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہاری جانب کھینچ کر بھیجا ہے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ حضرت خدیجہؓ  کا غلام ”میسرہ ”بھی تھا۔

     جب قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں پہنچا تو وہاں نسطورا راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نبوت کی علامات پہچان کر آپ کے نبی آخر الزمان ہونے کی پیشین گوئی کی۔

        دوسرا اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی سامان فروخت کر لیا تو ایک شخص سے کچھ بات چیت بڑھ گئی۔ اس نے کہا کہ لات وعزیٰ کی قسم اٹھاؤ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

         ”مَا حَلَفْتُ بِھِمَا قَطُّ، وَاِنّی الَأمُرُّفَأعْرِضُ عَنْھُمَا” ۔

        "میں نے کبھی ان دونوں کی قسم نہیں کھائی، میں تو ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے منہ موڑلیتا ہوں۔”

        اس شخص نے یہ بات سن کر کہا: حق بات تو وہی ہے جو تم نے کہی۔ پھر اس شخص نے میسرہ سے مخاطب ہو کر کہا: خدا کی قسم، یہ تو وہی نبی ہے جس کی صفات ہمارے علماء کتابوں میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔

    آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

    کے تجارتی سفر کے بارے میں پڑھا کہ آپ کتنے امین اور صادق تھے کہ دشمن  بھی ان صفات کی گواہی دیتے تھے۔اس تحریر کا یہی پیغام ہے کہ ہم سب اس عمل کرنے والے بن جائیں۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    صحبت کے زندگی پہ اثرات تحریر: زبیر احمد

    انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ میل جول تعلقات بنانا پسند کرتا ہے اور ہمیشہ دوسروں کا ساتھ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو اکیلا رہ کر زندگی گزارنا پسند کرے۔ کیونکہ قدرتی طور پہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور سماج میں رہنا پسند کرتا ہے۔ اکیلا رہنا خلاف فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی پسند اور طبعیت کے مطابق دوست بناتا ہے اور اچھی زندگی گزارنے کے لئے بھی انسان کو دوسروں کے ساتھ اور باہمی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ انسان پہ تعلیم کی نسبت صحبت کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اچھی یا بری صحبت سے ہی انسان کے اپنے اخلاق کا بھی دارومدار ہے۔ انسان کی زندگی میں سکون اور تکلیف بھی صحبت سے ہی جڑے ہیں۔ جب ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ معاشرے میں رہنے کے لئے ہمیں دوسرے لوگوں کی ضرورت ہے تو یہ دیکھ لینا چاہئیے کہ جس کے ساتھ ہم وقت گزار رہے ہیں اٹھتے بیٹھتے ہیں اس کے اخلاق اور آداب کیسے ہیں کیونکہ دوستوں کے اخلاق کا اثر خود انسان پہ بھی پڑتا ہے جو شخص اچھے اور نیک دوستوں کی صحبت میں رہتا ہے اس کے اپنے اخلاق بھی ویسے ہوجاتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہماری دوستی کسی ایسے شخص سے ہوجائے جو بری عادات کا شکار ہو تو وہ عادات ہم میں منتقل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ اچھے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھیں گے تو معاشرہ بھی آپ کو ویسے  ہی اچھی نظر سے دیکھے گا اسی طرح اگر کوئی بروں کی صحبت میں رہتا ہے تو لوگ اس کو بھی برا ہی سمجھتے ہیں۔ نیک صحبت کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی ڈالنی چاہیے۔بچوں کا دل جلدی اثر لیتا ہے اس لئے ان پر دوسروں کا اثر فوری ہونے لگتا ہے۔ شیخ سعدی اپنی مشہور کتاب ”گلستان سعدی” کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ایک دن حمام میں میرے دوست نے مجھے خوشبو والی مٹی دی میں نے اس مٹی سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عنبر ہے؟ تیری خوشبو نے تو مجھے مست کر دیا ہے ،مٹی کہنے لگی میں تو مٹی ہی ہوں مگر ایک عرصہ تک پھولوں کی صحبت میں رہی ہوں یہ میرے ہم نشیں کے جمال کا اثر ہے ورنہ میں تو وہی مٹی ہوں۔ اللہ تعالٰی نے انسان میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ وہ دوسرے کے اثر بہت جلد قبول کرتا ہے۔ﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! تقوی اختیار کرو اور صادقین کی صحبت اختیار کرو۔”(التوبۃ 119)۔

    اچھی صحبت کے فضیلت میں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں”اچھی مجلس اور بری مجلس کی مثال اس طرح ہے جس طرح خوشبو بیچنے والے اور بھٹی سلگانے والے کی مثال ہے ، اگر عطار تمہیں خوشبو نہ بھی دے تب بھی اس کی خوشبو تمہیں پہنچ کر رہے گی، اور لوہار کی بھٹی کی چنگاری تمہارے کپڑے نہ بھی جلائے تو اس کا دھواں تمہارے کپڑے میلے ضرور کردے گا۔(بخاری، مسلم)۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگوں کی صحبت میسر نہ ہو تو ان کی زندگی کے احوال، واقعات، اقوال، نصیحتیں پڑھنا اور ان پہ عمل پیرا ہونا بھی ان کی صحبت میں رہنے جیسا ہی ہے۔

    اچھے لوگوں سے میل جول اور ان سے تعلق اختیار کرنا انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے اصلاح بہت زیادہ ہوتی ہے اور انسان کا معاشرے میں عزت وقار میں اضافہ ہوتا ہے

    @KharnalZ

  • یومِ دفاع  تحریر : خالد اقبال عطاری

    یومِ دفاع تحریر : خالد اقبال عطاری

     

     ہر سال پاکستان میں اور بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی 6 ستمبر کو یوم دفاع کے طور پر مناتے ہیں. یہ دن پاکستان اور بھارت کی 1965 کی جنگ میں افواج پاکستان کی ناقابلِ تسخیر دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے.

    یوم دفاع کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاد دہانی ہے تاکہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے میں بطریق احسن نمٹا جا سکے. یوم دفاع کی یاد ہمارے اسکولوں، کالجوں کے علاوہ سرکاری دفاتر میں اس جنگ کے شہدا کو اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارتی فوج جو بڑے غرور و تکبر کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنے کا دعوہ کرتے پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی، کی پسپائی اور شکست کا تزکرہ کیا جاتا ہے. جس میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا.ہر پاکستانی اپنی افواج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاکستانی فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے.

    6 ستمبر 1965 کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والے والا قابل فخر دن ہے. جب کئی گنا بڑے ملک بھارت، افرادی تعداد میں کئی گنا بڑا،

    لشکر اور دفاعی سازو سامان کے ساتھ اپنے پڑوسی اور اپنے سے چھوٹے ملک پاکستان پر بغیر کسی اعلان کے رات کے اندھیرے میں حملہ کردیا. اس چھوٹے اور غیور وطن کے سپاہیوں نے  اپنے دشمن کے جنگی حملے کا  اس جوانمردی و ہمت سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے. عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا.

    1965 کی جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر لڑی اور جیتی جا سکتی ہے. پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کے جرات مندانہ جزبے نے ملکر ناممکن کو ممکن بنایا.

    جب 6 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے حملہ کیا تو فوراً ہی پاکستانی قوم،  فوجی جوان اور افسران، سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے. پاکستانی افواج نے ہر جارجیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے روکا ہی نہیں بلکہ ان پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا ہندوستانی فوج کے افسر کے جو دعوے تھے ہماری مسلح افواج نے اسکے  منہ پر وہ طمانچے مارے کے ساری زندگی وہ اپنا منہ ہی چھپاتا پھرا. لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی شہید نے سنبھالا جان دے دی مگر وطن کی مٹی پر آنچ نہیں آنے دی. 

    پاکستانی فوج 

    چونڈہ کے مقام پر(ہندوستان کا اہم اور پسندیدہ محاذ تھا) جنگ میں پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ و بارود سے نہیں اپنے جسموں سے بم باندھ کر ہندوستانی فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا. ہندوستان کے اس نقصان اور تباہی کو دیکھ کر باہر سے آئے ہوئے انٹرنیشنل صحافی بھی پاکستانی افواج کی دلیری اور بہادری دیکھ کر حیران رہ گئے.

    اللہ تعالیٰ افواج پاکستان اور ہمارے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور عوام پاکستان کی حفاظت فرمائے اور انہیں مزید ترقیاں اور عروج عطا فرمائے.

    ‎@AttariKhalid1

  • معاہدہ تاشقند   تحریر: احسان الحق

    معاہدہ تاشقند تحریر: احسان الحق

    پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی روس کے وزیراعظم کی میزبانی میں ملاقات ہوئی. اس ملاقات اور مزاکرات کا اہتمام اس وقت کے روسی شہر تاشقند میں کیا گیا. روس کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کروانے میں اہم کردار ادا کیا.

    تاشقند روانگی سے قبل یکم جنوری 1966 کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    "اگر روس کی کوششوں سے مسئلہ جموں وکشمیر حل ہو جائے تو صرف برصغیر کی ساٹھ کروڑ لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا روس کی احسان مند ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کروا دیا جو عالمی امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے”

    صدر پاکستان یکم جنوری 1966 کو راولپنڈی سے تاشقند کے لئے روانہ ہوئے. صدر ایوب خان اسی سلسلے میں ظاہر شاہ کی دعوت پر پہلے کابل گئے. 2 جنوری کو ظاہر شاہ اور اس کی کابینہ کے ساتھ ملاقات کی. صدر ایوب خان نے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے بارے میں آگاہ کیا. ایک روزہ دورے کے بعد اگلے روزہ تاشقند روانہ ہوئے.

    پاکستانی وفد 3 جنوری 1966 کو تاشقند پہنچا جہاں روسی حکومت نے شاندار استقبال کیا. روسی وزیراعظم کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے اپنی اپنی تقریروں میں اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا. صدر ایوب خان نے اپنی تقریر اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ملاقات میں واضح انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک دیرپا امن ممکن نہیں.

    بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر اور مزاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور مستقبل میں جنگ نہ کرنے پر زور دیا.

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس کے لئے تیار شدہ ایجنڈا.

    1. مسئلہ کشمیر 2. فوجوں کی واپسی 3. دیگر متنازعہ معاملات

    بھارت کا ایجنڈا پاکستانی ایجنڈے کے برعکس تھا.

    1. جنگ نہ کرنے کا معاہدہ 2. کشمیر پر بات نہیں ہوگی، یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے 3. دیگر متنازعہ امور

    5 جنوری 1966 کو دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مزاکرات ہوئے. بھارت نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کردیا. دونوں ممالک کسی بھی متفقہ ایجنڈا بنانے میں ناکام رہے کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا تھا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا. وفود کے بعد صدر پاکستان ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان طویل بات چیت ہوئی مگر اس ملاقات میں بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کیوں کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا اور پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا. روسی وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو شامل ایجنڈا کرنے کے لئے کہا مگر بھارت نہیں مانا پھر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کو منانے کی کوشش کی کہ آپ مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے پر لچک دکھائیں.

    6 جنوری کو کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا. اسی روز روس نے پھر کوشش کرتے ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کی اور اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی. پاکستان نے اس بات پر کچھ لچک دکھانے کا عندیہ دیا مگر بھارت مسلسل چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑا ہوا تھا. 7 جنوری کو ایجنڈا تیار کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں. پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایجنڈا میں شامل کئے بغیر اور کسی بات پر معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا.

    8 جنوری کو پاکستان نے بھارتی پیش کش کو مسترد کر دیا جس میں بھارت نے کہا تھا کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جائے. اس روز بھی دونوں سربراہان مملکت کے درمیان کوئی ملاقات نہ ہو سکی. 9 جنوری کو بھارت کے پیش کردہ اعلامیہ کو پاکستان نے مسترد کر دیا کیوں کہ اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا.

    9 جنوری کو تاشقند کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا. روسی وزیراعظم کی ساری کوششیں رائیگاں جا رہی تھیں. روسی وزیراعظم نے آخری کوشش کے طور پر دونوں راہنماؤں سے ایک بار پھر ملاقات کی اور دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی لچک دکھائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں. اس بار روسی وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں.

    آخر کار روس کی کوششوں سے 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت معاہدہ طے پا گیا. اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے.

    ۱۔ دونوں ممالک نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز اپنا اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کریں.

    ۲. معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں 25 فروری تک واپس اس مقام پر آجائیں جہاں وہ 5 اگست کو تھیں.

    ۳. معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے کریں گے اور آئندہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے.

    ۴. ایسی کوئی بھی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے.

    ۵. مہاجرین، ضبط شدہ مال اور جائیداد کی واپسی.

    ۶. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کرنے کا معاہد کیا.

    ۷. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بات چیت کرنے کے لئے ٹیموں کے قیام کی تجویز بھی منظور کی گئی.

    ۸. دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

    ۹. دونوں ملکوں نے فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا.

    ملک واپسی پر صدر مملکت ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مبارکباد دی اور بتایا کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر میں سرپیکار تھے تب 4 ستمبر کو روس کی جانب سے ہمیں دعوت نامہ ملا جس میں امن معاہدے کے لئے روس آنے کہ دعوت دی گئی تھی. 6 ستمبر کو بھارت کے حملے نے روس جانے سے روک دیا تھا. پورے اٹھارہ سال سے ہم برابر کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں سے کیا گیا رائے شماری والا اپنا وعدہ پورا کرے. جب بھارتی فوج نے بار بار آزاد کشمیر کے علاقوں پر حملے کرنا شروع کئے تو پاک افواج کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا. روسی وزیراعظم اور حکومت نے پاک بھارت مزاکرات کامیاب بنانے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں، پرتپاک استقبال کیا اور ہماری خوب مہمان نوازی کی، جس پر ان کے شکر گزار ہیں.

    ابھی ہماری مشکلات آسان نہیں ہوئیں، آزمائش ابھی باقی ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنا سر جھکائیں اور اپنے اور پاکستان کے لئے ترقی اور نصرت کی دعا طلب کریں. پاکستان پائندہ باد!

    @mian_ihsaan

  • مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    مستقبل اندھیروں میں ! تحریر۔ محمد نسیم کھیڑا

    کورونا آیا تو بیشتر شعبہ ہائے زندگی کے لئیے تباہی کا پیام لایا
    انہی شعبوں میں سے ایک تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح شعبہ تعلیم بھی رفتہ رفتہ نارمل زندگی کی طرح واپس لوٹا
    ملکی شعبہ تعلیم کی طرح غیر ملکی شعبہ تعلیم بھی واپس لوٹا اور مارچ 2021 میں کئی غیر ملکی جامعات کے طلبا واپس اپنی اپنی جامعات میں معمول کے مطابق تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے لیکن انہی غیر ملکی جامعات میں پڑھنے والے طلبا کا بڑا حصہ "چین” کی جامعات میں زیرتعلیم ہے
    چین میں کورونا پر جون 2020 میں کنٹرول پالیا گیا تھالیکن تیزی سے بدلتی دنیا کے حالات اور کورونا کے پھیلاؤکے باعث سٹوڈنٹ ویزا بند رکھا گیا طلبا بھی حالات کی نزاکت سے واقف تھے لہذا انہوں نے بھی چین کی حکومت کا ساتھ دینا مناسب سمجھا اور آن لائن تعلیم حاصل کرتے رہے
    قارئین آن لائن تعلیم والا سلسلہ اس وقت تک پرامن چلتا رہا جب تک کہ پروفیشنل ڈگریاں ،ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کا "لیب ورک،تھیسس اور ریسرچ "سر پر آ پہنچا
    قارئین یہ ڈگری کا وه حصہ ہوتا ہے کہ جو ماہر اساتذه کی زیرنگرانی صرف جامعات میں حاضر ره کر مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس کے نامکمل ہونے کی صورت میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہتی دوسرے لفظوں میں ضائع ہوجاتی ہے نا مکمل رہتی ہے چنانچہ مارچ2021 میں جبکہ بیشتر ملکوں میں زیر تعلیم پاکستانی واپس اپنی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے لوٹ گئے مگر "چین” میں زیر تعلیم طلبا واپس نہ لوٹ سکے اس وقت چین میں پڑھنے والے طلبا کئی پلیٹ فارمز پر اپنا مسئلہ اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواه جواب حاصل نہ کرسکے وقت گزرتا گیا پاکستانی طلبا کوشش کرتے رہے لیکن انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ "چین” کی بین الاقوامی طلبا کے لئیے یکساں پالیسی ہے ابھی تک کسی بھی غیر ملکی طالبعلم کو واپس آنے کی اجازت نہیں لہذا جب بھی غیر ملکی طلبا کو چین لوٹنے کی اجازت ملے گی تو سب سے پہلے پاکستانی طلبا کے واپسی کے انتظامات کریں گے دریں اثنا چین نے جنوبی کوریا کے طلبا کو واپسی کی اجازت دی اور اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی طلبا کے واپسی کے مطالبے پر بتایا گیا کہ یہ طلبا جنوبی کوریا میں کورونا کی بہتر صورتحال کے باعث بلائے گئے
    چونکہ جنوبی کوریا میں بھی چین کی طرح کورونا کا کوئی کیس نہیں اس لئیے ان کو اجازت ملی ہے
    پاکستانی طلبا تعلیم میں ہونے والے حرج کو بار بار چینی حکام کے سامنے رکھتے رہے لیکن کوئی خاطر خواه جواب نہ مل سکا اسی ساری کشمکش کے دوران چین نے خفیہ طور پر امریکہ،بھارت اور ارمینیا سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لئیے ویزے کھول دئیے
    چین کی مختلف محاذوں پر مخالفت کرنے والے ان چین دشمنوں کو واپسی کی اجازت پر پاکستانی طلبا میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت میں کورونا کتنا کنٹرول ہے بلکہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا ڈیلٹا ویرینٹ بھی انہی ملکوں میں افزائش پارہا ہے
    MBBS کے طلبا کو اگر ہسپتالوں میں مقرره گھنٹوں کی کلاسز نہ دی گئیں تو ان کی ڈگریاں ناکاره ہوجائیں گی اسی طرح سائنس کے طلبا کو اگر لیب میں تجربے نہ کروائے گئے ان کی ڈگریکا بھی کوئی فائدہ نہیں ماسٹرکے طلبا اگر تھیسس نہیں لکھیں گے تو ان کی ڈگری نامکمل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے اگر ریسرچ ورک کرکے ریسرچ پیپر حقائق پر مبنی نہ لکھاتو انکی ڈگری بھی ضائع ہوجائیگی
    ان اقدامات سے ان طلبا کی صرف ڈگری ہی نہیں بلکہ ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا اورطمستقبل میں جب یہ عملی زندگی کی دوڑمیں دوسرےلوگوں سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس دوڑ میں بھی سب سے پیچھے ره جائیں گے
    ان طلبا نے اب تک قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی سفارشات کی ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ذاتی طور پر اس مسئلے میں دلچسپی لینے کے درخواست گزار ہیں
    یہ وہی طلباہیں جو پاک چین دوستی کومضبوط کرنے اور دونوں ملکوں میں روابط بڑھانے کی غرض سے اور عظیم خوابوں کے ساتھ چین گئے تھے اگر ان نازک حالات میں امریکہ ،بھارت ،ارمینیااور جنوبی کوریا کے طلبا کوتو چین لوٹنے کی اجازت مل جائے لیکن پاکستانی طلبا کو تاریخ کے اس موڑ پر احساس کمتری دلایا گیا تو یقین مانیں یہ طلبا مستقبل میں پاک چین دوستی کے "سفیر” کبھی نہیں بنیں گے بلکہ اہنے تئیں برتی گئی اس تعصب پسندی کو سینے میں سجائے اگلی نسلوں تک جین کی اس بے رخی کو پھیلا کر ہمیشہ کے لئے امر کردیں گے
    @Naseem_Khera

  • را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی تاریخ میں ویسے تو ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بہت بڑے بڑے بلنڈرز کیے ہیں ۔ ناکامیوں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ پر سب سے پہلے جو افغانستان میں بھارت کے ساتھ ہوا ہے اسکو آپicing on the cakeکہہ سکتے ہیں ۔ ۔ اب جو بھارت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر میں ان کے سیاسی دفتر میں رابطہ کیا ہے ۔ یہ شکست کا ثبوت ہے ۔ ویسے کوئی خاص دال گلتی بھی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ بھارت نے پہلے دن سے افغانستان میں لنگڑے گھوڑے پر جوا لگایا ہوا تھا ۔ مشورہ کس کا تھا ۔ raw کا ۔ سوال یہ ہے جو بھارتیوں کو مودی اور rawسے پوچھنا چاہیئے کہ مذاکرات ابھی تو شروع نہیں ہوئے ۔ یہ دو تین سال سے جاری تھے ۔ تب انھوں اپنے آپکو کیوں نہیں بدلا ۔ بھارت تو روز اول سے طالبان کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتا رہا ہے ۔
    adviceکس کی تھی ۔ اجیت ڈول اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کی بھئی ۔۔۔ ۔ پھر اشرف غنی ہو ۔ یا شمالی اتحاد والے ان پر خوب پیسہ بھی لگایا گیا ۔ پر یاد رکھیں جب آپ ریس میں لنگڑے گھوڑے پر پیسہ لگا بیٹھتے ہیں تو پھر پیسہ تو ڈوبتا ہی ہے ساتھ آپکی عزت اور ساکھ بھی ساتھ ہی جاتی ہے ۔ تو میں افغانستان کے معاملے میں خاص طور پر rawکا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے اتنا اچھا کھیلتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں بھی ذلیل کروایا اور مزید یہ آنے والے دنوں میں کروائیں گے ۔ کیونکہ ہم چاہیں بھول جائیں طالبان کو یاد رہے گا کہ کیسے rawنے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچائے ۔ یہ وہ کسی صورت نہیں بھولیں گے ۔ اب بھی جو بھارتی میڈیا rawکے اشاروں پر گند ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے دیکھا جائے تو یہ بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کرے گا ۔ اس کوئی فائدہ بھارت کو نہیں پہنچنے والا۔

    ۔ پھر طالبان نے امریکہ کو چت کر دیا ہے تو اگر rawکے اجیت ڈول اور افسروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بلیک میل یا فائدہ اٹھا لیں گے تو ان کی بھول ہے ۔ اس وقت بھارت جس تنہائی کا شکار ہے شاید ہی کبھی ہوا ہے ۔ یاد کریں یہ وہ ہی بھارت ہے جو کہا کرتا تھا پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے ۔ پر پاکستان کی دنیا بھر میں خوب آو بھگت ہورہی ہے ۔ بھارت کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے ۔ ۔ را ۔۔۔ کے مزید بلنڈرز بتانے سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کئی سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی ۔ اب امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دیں گے اور آج یہ سچ ثابت ہوچکا ہے ۔ تو یہ ہوتی ہے انٹیلی جنس ۔۔۔ والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی ۔ نہ ہی اجیت ڈول کو یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کےساتھ ہوا کیا ہے ۔ یہ ان کی سوچ سے بھی آگے کی چیزیں ہیں ۔ ۔ اب آپکو ایک سال پیچھے 2020 میں لیے چلتا ہوں ۔ چین چپ کر آیا ۔ بھارتیوں کی بینڈ بجائی ۔ بندے مارے ۔ علاقوں پر قبضہ کیا ۔ مگر ۔۔۔ بھارت کی نمرون انیٹلی جنس ایجنسی ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ لداخ میں پٹائی کے بعد جو بھارت بدحواس دیکھائی دیا ۔ اور جو اس کی شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جگ ہنسائی ہوئی اس کی ایک ہی وجہ تھی ۔۔۔ را ۔۔۔ کی ناکامی ۔

    ۔ اس کے بعد سال 2019 بھی بھارت کی ناکامی اور نامرادی کا سال ثابت ہوا ۔ اس سال فروری میں پلوامہ حملہ ہوا جس میں 40 بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ اب یہ میں نہیں اس واقعے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ، ستیہ پال ملک ، سابق وزیر مملکت دفاع ، جتیندر سنگھ ، اور ممتاز قانون ساز ، گالا جے دیو وغیرہ نے انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ یعنی Rawکا failure تھا ۔ اس وقت مودی نے ۔۔۔ را۔۔۔ کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اسی دھن پر زور دیتے رہے کہ پاکستان نے اس پروگرام کو ترتیب دیا تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب کو معلوم ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ کی ایک غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے مودی نے دوسری غلطی کی اور پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا ۔ اور بھارت ایئر فورس پوری دنیا میں ننگی ہوگی ۔۔ مگر پلوامہ پر ۔۔۔ گلف نیوز۔۔۔ نے لکھا تھا کہ جب 2500 فوجیوں کو لے جانے والی 78 بسیں حملہ زدہ علاقے سے گزرتی ہیں تو کچھ منصوبہ بندی اس سے پہلے ہوتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ منصوبہ بندی تھی ہی نہیں ۔ قافلہ ایک قریبی قطار میں آگے بڑھا ۔ escortکرنے والی گاڑیاں نہیں تھیں ۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ قافلے کا اگلا ، پیچھے اور درمیان والا حصہ پیچھے ریڈیو سے مسلسل رابطے میں تھا کہ نہیں ۔ جب بمبار کار ایک سڑک سے ہائی وے میں شامل ہوئی تو کسی کو پتہ نہیں چلا اور ٹارگٹ بس سے ٹکرانے سے پہلے بھی کسی ایک سپاہی کی طرف سے کوئی الرٹ نہیں جاری کیا گیا ۔

    ۔ اب پھر واضح کردوں ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ دنیا کہہ رہی ہے ۔ لیکن اُس وقت بھی نہ تو ہندوستانی میڈیا اور نہ بھارتی سیاستدانوں نے مانا کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کی کارنامے تو پتہ نہیں ہیں کہ نہیں ۔۔۔
    بلنڈرز بہت ہیں ۔ مزے کی بات ہے اس واقعہ کے بعد اجیت ڈول نے دوچار بالی وڈ فلمیں بنوائیں۔ اور کھایا پیا سب ہضم ۔۔۔ 2016کی بات کریں ۔ تو اس سال بھی rawکو دو بڑی ناکامیوں کو سامنا کرنا پڑا۔ ایک پٹھان کوٹ اور دوسرا ۔۔۔ اُڑی ۔۔۔ حملہ ۔ اس پر تو بھارتی میڈیا کیا ۔ سرکردہ سیاست دان میں چلا اُٹھے تھے کہ یہ ایک intelligence failure ہے ۔ پھر بھی اجیت ڈول جو ہیں وہ ڈنگیاں مارنے سے باز نہیں آیا اور اس نے سرکار کے خرچے پر بالی وڈ سے درجنوں فلمیں بنوا کر سبکی کو دور کروانے کی کوشش کی ۔ پر سچ کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔۔۔ اُڑی اور پٹھان کوٹ ۔۔۔ حملوں میں بھارتی فورسز کو کوٹ تو پڑی ہی تھی ۔ پر ساتھ بھارت کی preimier intelligence agency ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اکتوبر 2005 اور 2011 دہلی بم دھماکے اور 1993 ، 2002 کے دوران ممبئی میں بے شمار دہشت گرد حملے ہوئے ۔ پھر 2003 ، 2006 ، 2008 اور 2011 کے دوران چار واقعات را کی انٹیلی جنس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔2010 اور 2012 میں پونے شہر پر دو بار حملہ ہوا ۔ اکتوبر 2013 کو بہار میں ایک انتخابی جلسے کے دوران بم دھماکے ہوئے ۔ جولائی 2013 میں بہار میں پھر دھماکے ہوئے ۔ مارچ
    2006 اور دسمبر 2010 وارانسی دھماکے ، مختلف بھارتی ریاستوں میں مسلسل بدامنی اور دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں اس حقیقت کی کافی گواہی ہیں کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ اپنے گھر کو پہلے ترتیب دینے کے بجائے اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں دخل اندازی اور مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اچھا یہ تو کچھ بھی نہیں ۔

    ۔ پھر نومبر 2008 میں ممبئی حملے ہوئے ۔ ممبئی کے تاج ہوٹل میں کئی لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔ جس نے پورے بھارت کو دنگ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ اس دن 11 مقامات پر بیک وقت حملے کئے گئے۔ اور حملہ آور بحیرہ عرب سے آئے۔ ممبئی حملوں نے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ، کم از کم 174 افراد ہلاک ہوئے ، جن میں نو حملہ آور بھی شامل تھے۔ پر ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ سے کسی نے نہیں پوچھا ۔ کہ اتنی بڑی کاروائی ہوگئی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی ۔ پر اس بار پھر ایک ہی کام کیا گیا کہ ملبہ پاکستان پر ڈالو اور بالی وڈ کی فلمیں بناو۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را۔۔۔ کی عزت بچا لی گئی ۔ ۔ اسکے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر 2001 میں حملہ ہوا جس کا ذکر ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے۔۔۔ نے ایک اور قومی سلامتی کی غلطی کے طور پر کیا۔اس نے زور دے کر کہا تھا ۔۔۔ پارلیمنٹ پر حملہ reality televison تھا ۔ جس کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ پھر بھارت کے لیے بدقسمت سال 1999بھی تھا ۔ جب کارگل جنگ کے موقع پر بھارت کی خوب ٹھکائی ہوئی ۔ جب پاکستانی شیر جوانوں نے بھارت کو دھول چٹائی اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کر دیا کہ بھارتی فوج اسکی خفیہ ایجنسیوں کی اوقات کیا ہے ۔

    ۔ پھر اسی سال ۔۔۔ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہوجاتا ہے ۔ جس کو ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے ۔۔۔ نے اپنے ملک کی قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بڑی سکیورٹی ناکامی کہا ۔ اس وقت بھی بھارت کے
    so called spy master نے چھ دن بعد ہائی جیکروں کی جانب سے بھارتی جیلوں میں بند تین لوگوں کی رہائی کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ ذلت کی گہرایوں میں جا گری ۔ پر ان دنوں معاملوں پر بھی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بالی وڈ فلمیں ہی بنوائیں اور جھوٹی سچی تاریخ لوگوں کو سنوائی ۔ ۔ پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ 1991میں راجیو گاندھی کو بھی بچا سکتا تھا ۔ پھر ناکام رہا ۔ کیونکہ نہ تو ان کی ٹریننگ ہے نہ ہی اہلیت ۔ ساتھ ہی بھارتی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے تامل ٹائیگرز کو جتنی مرضی سپورٹ دی ۔ پرآخر میں وہاں سے بھی بھارت رسوا ہو کر ہی نکالا تھا ۔ ۔ اندرا گاندھی کے دور کی بات کی جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل ہونے سے بھی نہیں بچا پائی ۔ حالانکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے سازش کا پہلے سے علم تھا۔ یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ ہی تھی ۔ جس نے بھارت میں 1975 کی ایمرجنسی لگوائی جس کا اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا ۔۔ تاریخ نے بعد میں ثابت کیا کہ یہ ایمرجنسی ایک مہلک غلطی تھی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ اندرا گاندھی کو ان کی عوامی حمایت اور مقبولیت کے بارے میں غلط اندازے دے رہی تھی۔ جون 1984 میں سکھوں کے خلاف ۔۔۔ آپریشن بلیو سٹار ۔۔۔ کے دوران ۔ را ۔۔۔ ایک بار پھر ناکام ہوگئی کیونکہ وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل یں سکھ کمانڈر بھنڈرانوالے کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکی۔ اس ۔۔۔ را ۔۔۔ کی جانب سے پانچ گھنٹے کی کارروائی کے بارے میں سوچا گیا تھا جو کہ بعد میں پانچ دن تک بڑھ گئی ۔ اور سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے انڈین آرمی کو ٹینک لانے پڑے۔ اس کے نتیجے میں فوج کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔ ۔ را ۔۔۔ کے اس غلط اندازے کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑی اور ان کے سکھ محافظوں نے انہیں گولیاں ماریں ۔ ۔ تو یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کے کارنامے نہیں کرتوت ہیں ۔ بھارت کے ٹیکس دینے والی عوام کو چاہیئے کہ وہ اس بارے اپنی حکومت سے بھی اور اس جاسوس ایجنسی کا بھی احتساب کرے کہ یہ کیا گل کھلاتی رہی ہے ۔ ماضی میں بھی اور اب بھی ۔ ۔ پھر بھارت کی انٹیلی جنس ناکامیوں کا اصل جھومر تو 1962میں ہوا ۔ کیونکہ ہندوستان کو کبھی شبہ تک نہیں تھا کہ چین حملہ کرے گا ، لیکن اس نے ایسا کیا۔

    ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے یقین دہانی کہ چین کبھی بھی حملہ نہیں کرے گا اس چیز نے بھارتی فوج کو تیار ہی نہیں ہونے دیا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بھارت کو خوب مارپڑی ۔ اس جنگ میں تین ہزار سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ سولہ سو سے زائد لاپتہ ہوئے اور تقریباً چار ہزار چینی فوج نے جنگی قیدی بنا لیے ۔ جبکہ مقابلے میں چین کے صرف
    722 فوجی ہلاک ہوئے اور 1697 زخمی ہوئے۔

    ۔ پھر ہندوستانی سیاسی قیادت بیرونی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی دوڑتی دیکھائی دی ۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ، جواہر لال نہرو نے مایوسی میں امریکہ کو دو خط لکھے تھے۔ جس کے تحت لڑاکا طیاروں کے 12 سکواڈرن اور جدید ریڈار سسٹم کی درخواست کی گئی۔ نہرو نے یہ بھی کہا کہ ان طیاروں کو امریکی پائلٹوں کے ذریعے اُڑایا جائے جب تک کہ ہندوستانیوں کو ان کی جگہ لینے کی تربیت نہ مل جائے۔ یہ درخواستیں کینیڈی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہندوستانی افواج کو غیر جنگی مدد فراہم کی اور ہوائی جنگ کی صورت میں بھارت کی مدد کے لیے کیریئر“USS Kitty Hawk” کو خلیج بنگال بھیجنے کا ارادہ کیا۔۔ دراصل اس وقت بھی بھارتی ایجنسیوں نے شدنی چھوڑی تھی کہ تبت میں 1959 کی بغاوت ہوئی تو نئی دہلی نے دلائی لامہ کو پناہ دینے ٹھان لی ۔ جس کے بعد یہ واقعہ ہوا ۔ اور چین نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کروادیا ۔ یوں اس جنگ کی ہار کا دکھ لیے ہی نہرو اس دنیا سے چلے گئے ۔

    ۔ دراصل دیکھا جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ کی ناکامیوں سے پوری کی پوری ایک تاریخ بھری پڑی ہے جس کی قیمت بھارت نے ہمیشہ ادا کی ہے ۔ مگر بعد میں بھارتی حکومت نے صرف فلمیں ہی بنوائیں ہیں ۔ اس لیے امید ہے جلد مودی ، راج ناتھ سنگھ اور اجیت ڈول افغانستان سے آخری 150سے 200بھارتی کیسے نکالے اس پر بھی کوئی فلم بنوا ہی دیں گے ۔

  • درودوسلام کی برکات اور فضائل۔  تحریر: تیمور خان

    درودوسلام کی برکات اور فضائل۔ تحریر: تیمور خان

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہم پر دنیا میں جتنے بھی احسانات فرمائے ہیں اور جتنی بھی نعمتیں عطا فرمائی ہے وہ سب کے سب اپنے حبیب ﷺ کے صدقے عطا فرمائی ہے دنیا و آخرت کی رحمتیں اور نعمتیں سرکارِ دوعالم ﷺ کی وسعت سے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے جناب سے ہم تک پہنچی ہیں سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑی رحمت اگر سرکارِ دوعالم ﷺ کے ذات بابرکت کو سمجھا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا اس لئے کہ آج اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں دنیا میں جو عزت اور شناخت عطا فرمائی ہے اور اسلام کا جھنڈا ہر زمانے میں اللہ نے بلند فرمایا ہے اور جتنی بھی فضیلتیں ہمیں آج ملی ہے بلکہ یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں کہ ہمیں اگر توحید کا درس ملا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کی معرفت اگر حاصل ہوئی ہے تو سرکارِ دوعالم ﷺ کے برکت سے عطاء ہوئی ہے

    اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سب نعمتوں سے بڑھ کر اور سب رحمتوں سب سے بڑ کر  سب سے بڑی اللہ کی رحمت اور سب سے بڑی اللہ کی نعمت وہ ہمارے لئے محبوب کائنات ﷺ کی ذات ہے انہی کی وجہ سے آج ہم مسلمان کہنے کے لائق ہیں انہی کا جھنڈا تھام کر آج پوری دنیا پہ ہم نظام قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اور بروز قیامت انہی کے جھنڈے تلے اٹھا کر انہی کے کے امت میں شامل ہونا اپنے لئے باعث شرف اور فضیلت سمجھتے ہیں۔

    ہر مسلمان کا یہ عقیدہ پونا چاہیےکہ ہمیں جو بھی عزت اس دنیا میں ملی ہے جو اللہ کی معرفت دین کی معرفت قرآن ہمیں ملا ہے ایک آئین اور شریعت ہمیں ملی ہے اور آج چھوٹے چھوٹے عمل پہ ہمیں بڑے بڑے ثوابوں کی بشارت اور خوشخبری دی گئی ہے تو یہ ہمارے نبی ﷺ  کی برکت ہے ۔

    جس طرح ہر انسان کے دوسرے انسان پہ کچھہ حقوق ہیں اسی طرح حضور اکرم ﷺ کے بھی انہیں رحمتوں کی وجہ سے اپنی امت پہ کچھہ حقوق ہیں ان حقوق میں سے  ایک بنیای حق اور اس حق کو ادا کرنے کے لیۓ  علماء لکھتے ہیں کہ پوری امت سرکارِ دوعالم ﷺ پر درود و سلام پڑھتی رہے درود شریف پڑھنا یہ ان کا ہم پہ ایک حق ہے جتنے بھی کلمہ گو ہیں ۔

    اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید فرقان حمید کے 22 پارے کے سورہ الاحذب میں فرمایا

    إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا.

     اللہ کا ارشاد ہے بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺ پہ درود پڑھتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب سلام پڑھا کرو،

    کتنی بہت ساری احکامات ہیں کتنی ہدایات ہیں لکین کہیں اللہ نے یہ نہیں کہا کہ تم یہ کام اس لئے کرو کہ یہ میں بھی کرتا ہوں اور میرے فرشتے بھی کرتے ہیں، لیکن درود و سلام پڑھنے کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ اس فضیلت  کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ نے پہلے اپنا حوالہ دیا پھر اپنے فرشتوں کا حوالہ دیا کہ بیشک اللہ بھی درود پڑھتا ہے اس کے فرشتے بھی دورود پڑھتے اس لئے ایے ایمان والوں تم بھی یہ طریقہ اپناؤ جو اللہ اور اس کے فرشتے اپناتے ہیں، کائنات کی ہر شے چاہے فرشتے ہوں یا جننات نبی اکرم صلی ﷺ پر اسی طرح درود پڑھتے ہیں جس طرح عام انسان۔

    مگر اللہ کا درود پڑھنے کا طریقہ الگ ہے اور وہ یہ کہ اللہ ہر وقت نبی کریم ﷺ پر رحمتیں نازل فرماتا ہیں سلامتی نازل فرماتا ہے درود پڑھنے کا اللہ کی طرف ایک یہ نسبت یہ کی جاتی  ہے،

     اور درود پڑھنے کا ایک دوسرا معنیٰ جس کو امام بخآری نے بھی نقل فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے نبی ﷺ کی ثناہ اور تعریف بیان فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے سرکارِ دوعالم ﷺ کی تعریف کرنا امام بخآری فرماتے ہیں یہ اللہ کا درود ہے۔ تو جب سے سورہ احذب میں یہ آیات نازل ہوئی تو اس وقت سے   لے کر آج تک امت کے جتنے بھی انسان ہے چاہے آگر وہ نیکو کار ہے یا گناہگار چاہے وہ جدید السلام ہیں یا  چاہے وہ قدیم السلام ہے اگر وہ کلمہ گو ہے تو یاد رکھیں ہر مسلمان درود و سلام اپنے لئے باعث عزت اور باعث شرافت سمجھتا ہے۔

    جہاں ان کے شعریت پہ عمل کرنا جہاں ان کے سنت پی عمل کرنا اور زندہ کرنا یہ ان کا ہم پر حق ہے، اسی طرح درود اور سلام بھی ان کا ایک بنیادی  ہم سب  پر حق ہے۔

     اسی طرح صحابہ کرام کی معمولات اگر دیکھیں تو احادیث اور کتابیں بھری پڑی ہیں،صحابہ کرام کی معمولات  میں درودو سلام سب سے اہم ورد اور وظیفہ ہوا کرتا تھا۔

    امام ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے حضرت ابی بن کعب سے آپ فرماتے ہیں یا رسول اللہ میں نے اپنے لئے کچھہ وقت مقرر کیا ہے اورادو وضائف کے لئے میں چہتا ہوں یا رسول اللّٰہ میں وضائف کے ساتھ ساتھ آپ پر درود اور سلام بھی پڑھا کروں آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں اس وقت میں آپ پر کتنا درود پڑھا کروں سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابی تم اس میں سے مجھ پہ چھوتا حصہ درود پڑھا کرو آپ نے فرمایا یارسول اللہ اگر آج کے بعد میں یہ پڑھا کروں گا تو رسول اللہ نے بتایا اے ابی ہاں اگر اس سے زیادہ بھی پڑھ سکو تو ابی نے فرمایا یارسول اللہ آج کے بعد میں اس میں سے تیسرا حصہ پڑھا کروں گا حضور نے فرمایا یہ بھی بہتر ہے لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو اور بہتر ہے تو میں نے فرمایا یارسول اللہ آج کے بعد آدھا وقت آپ پہ درود اور آدھا وقت باقی وضائف پڑھا کروں گا، حضور نے فرمایا یہ بھی بہتر لیکن اگر اس سے اور بھی زیادہ کرو تو حضرت ابی نے فرمایا یا رسول اللہ آج کے بعد میں آپ پر ہر وقت درود ہی پڑھا کروں گا، تو سرکارِ دوعالم نے فرمایا اے ابی اگر آپ نے واقعی ایسا کیا تو آپ کی دنیا و آخرت کے تفقرات اور تکالیف کے لئے یہی کافی ہے۔

    اسی لئے درود اور سلام کے فضیلت میں بے شمار روایات حضور ﷺ کے احادیث مبارکہ میں اس کے طیبہ میں باقاعدہ اس کے مجموعے میں اتنی روایات ہمیں ملتی ہیں کی باقاعدہ ہمارے محدیثین نے جتنی کتابیں لکھیں ان میں درود اور سلام کا انھوں نے علیحدہ سے باب بنایا درود اور سلام پر انھوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں  کیونکہ یہ عمال ایسا ہے جہاں ہم سب کا  حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ 

    کیونکہ درودو سلام پڑھنے پر دلائل اور اس پر نظائر اور شواہد بھی زیادہ ہے اور پھر خاص طور پر جن لوگوں نے اپنی زندگی میں درود و سلام پڑھنے کا اپنا حصہ بنایا اور کثرت سے درودو سلام پڑھنے کا معمول بنایا انھیں جو فوائد ملے دنیا و آخرت کے جو نعمتیں ملیں اور پھر انھوں نے عجیب عجیب اللہ کے قدرت کے جو نظارے دیکھے ان پہ پھر علیحدہ سے کتابیں لکھیں گئیں اور تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا کہ جس نے جتنا زیادہ درود پڑھا جتنی محبت سے پڑھا انھیں اتنے ہی فائدے دنیا و آخرت میں دئے گئے۔

    رسول اللہ نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت فرماتا ہے اور درود وسلام پڑھنا ایک ایسا عمل ہے جس کی قبولیت میں ذرہ برابر شک نہیں ہے یاد رکھیں درود اور سلام پڑھنا آج ہر شخص مشکلات میں گھیرا، ہوا ہے ہر شخص پریشانی کے عالم میں ہے، ہر شخص لاعلاج امرض میں ہے، معاشی پریشانیاں ہیں، کاروباری پریشانیاں ہے، یاد رکھیں ان تمام پریشانیوں کا حال اللہ تبارک وتعالیٰ نے درود و سلام میں رکھا ہے اور درود اور سلام انسان کو اللہ نیک, بنا دیتا ہے اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے، اللہ کا قرب اس سے ملتا ہے اس لئے اپنے اوقات میں وقت نکال کر ہمیں ضرور درودو سلام پڑھنا چاہیے یہی ہماری آج پریشانیوں کا حل بھی ہے، ہماری مشکلات کی ایک  اکسیر، بھی ہے ہماری بیماریوں کے  لئے شفاء بھی ہے، اور بےشمار احادیث اس پر موجود ہے کہ دورود اور سلام پڑھنے والا کبھی بھی دنیا اور آخرت میں ناموراد نہیں رہتا۔

    @ImTaimurKhan