Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار  بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت بھارت کو مانا جاتا ہے اور خود کو چوھدری ثابت کرنے کیلئے ہر جگہ پنگے لیتا ہے مگر الٹا ذلیل ہو کر اپنی معیشت تباہ کروا رہا ہے،بھارت کے 6 زمینی اور 2 دو سمندری حدود پر مشتمل ہمسایہ ممالک ہیں،بنگلہ دیش 4096 کلومیٹر ،چائنہ 3488 کلومیٹر ،پاکستان 3323 کلومیٹر،نیپال 1751 کلومیٹر،میانمار 1643 اور بھوٹان کی 699 کلومیٹر سرحد بھارت کیساتھ ملتی ہے جبکہ سری لنکا اور بھوٹان کی زمینی سرحد بھارت کیساتھ نہیں بلکہ ان کی سمندری سرحد اس سے ملتی ہے

    قابل ذکر بات ہے کہ بھارت کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک میں سے کسی ایک کیساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں بلکہ ان کیساتھ کئی بار جنگیں و جھڑپیں ہو چکی ہیں،چائنہ بھارت تنازعات کا آغاز 1950 میں ہوا اور بھارت بالآخر تبت پر قبضہ کروا بیٹھا،1959 میں بھارت نے چائنہ کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو باوجود چائنہ کے منع کرنے کے، پناہ دی جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوتے گئے اور بالآخر 1962 میں بھارت چائنہ جنگ ہوئی، 1967 میں پھر سے ناتھولا اور چولا جھڑپیں ہوئیں اور 2017 میں داکلام اور اس کے بعد وادی گلوان میں 2020 کو پھر جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارت کو سخت نقصان پہنچا ، تاحال چائنہ اور بھارت کے حالات سخت کشیدہ ہیں

    بھارت کی جانب سے میانمار کے اندر مسلسل اندرونی مداخلت کے باعث 2015 میں میانمار کے ماؤ نواز باغیوں نے بھارت پر بہت بڑا حملہ کیا جس میں بھارت کے 18 فوجی مارے گئے تھے،سری لنکا میں بھارت نے 1980 میں اندرونی مداخلت کرکے علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کرنا شروع کیا اور خود ہی اندرونی خانہ جنگی کو کنٹرول کرنے کیلئے 1987 میں اپنی فوج سری لنکا میں بیجھی تاہم اپنے 1500 فوجی مروا کر 1990 میں فوج واپس بلا لی جس کے باعث سری لنکن گروپ ایل ٹی ٹی ای نے 1991 میں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کیا جسے مالدیپ کے باغیوں کی بھی حمایت حاصل تھی،3 نومبر 1988 کو مالدیپ میں انڈین فوج نے تامل باغیوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا جس کی وجہ سے آج دن تک تامل باغی انڈین علاقوں پر حملے کرتے رہتے ہیں

    بھوٹان میں 2017 کو،ڈوکلام میں بھوٹان اور چائنہ کے متنازعہ سنگم پربھارت نے اس میں شامل ہوکر اپنی فوج بیجھی اور 73 دن تک خود اور بھوٹان کو چائنہ سے مار پڑوا کر بالآخر فوجوں کی واپسی کروائی جس کے نتیجے میں بھوٹان نے چائنہ سے راہ رسم بڑھایا تو آجکل بھوٹان اور بھارت کے تعلقات کچھ خراب ہو چکے ہیں

    سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بھارت نے 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ لڑی اور الگ ملک بنگلہ دیش بنوایا اور اس کا کنٹرول عملاً اپنے پاس رکھا تاہم 2001 میں اگرتلہ اور راجشاہی کے علاقے میں بنگلہ دیش اور بھارتی فوج کے مابین شدید خونریزی ہوئی جس کے باعث دونوں کے حالات خراب ہوتے گئے اور بالآخر اگست 2024 میں حسینہ واجد کے تختہ الٹنے کے بعد بھارت نے حسینہ واجد کو پناہ دی جس کے بعد پھر حالیہ چندہ ماہ قبل بنگلہ دیش و بھارت کے مابین سخت جھڑپیں ہوئیں اور اب بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں جو کسی بھی وقت بڑی جنگ میں بدل سکتی ہیں

    شروع دن سے ہی نیپال سے بھی بھارت کے تعلقات اچھے نہیں رہے ،مسلسل اندرونی مداخلت اور کالا پانی، لیپولیخ اور لمپادھورا تنازعات سے پریشان نیپال نے جون 2020 میں سیتا مڑھی کے علاقے میں ایک انڈین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے باعث دونوں ممالک کے حالات کشیدہ ہوئے تو نیپال نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں کالا پانی،لیپولیخ اور لمپادھورا کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا اس پر بھارت نے سخت احتجاج کیا تاہم نیپال نا مانا اور پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی

    بھارت کے سب سے زیادہ خراب تعلقات پاکستان کیساتھ ہیں کہ جس نے اپنے وجود کے محض 80 دن بعد 1947 میں ہی مقبوضہ کشمیر کا 13297 مربع کلومیٹر کا علاقہ چھین کر آزاد ریاست جموں و کشمیر قائم کی اس کے بعد 965,1971,1999 میں پاک بھارت جنگیں ہوئیں اور اب گزشتہ چند ماہ قبل مئی میں جنگ ہوئی جس میں بھارت نے منہ کی کھائی اور پوری دنیا کے سامنے ذلیل ہوا،8 دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت آزاد کمشیر کو واپس لینے کے دعوے تو کرتا رہا مگر ہر بار منہ کی کھاتا رہا ہے،اور اپنے اسی روئیے کے باعث بھارت دنیا بھر اور خاص طور پر اپنی ہمسائیگی میں مکمل تنہاء ہو چکا ہے اور اس کی معیشت بڑی تیزی سے تباہ ہو رہی ہے،5 اگست 2019 کو بھارت نے نہتے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آزادی پر شب و خون مارتے ہوئے خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے و 35 اے ختم کیا مگر الحمدللہ حالیہ پاک بھارت جنگ نے امید کی ایک نئی کرن دکھائی کہ اب ایک بار پھر سے مقبوضہ کمشیر کا علاقہ بھارت کے ہاتھوں نکل کر آزاد کشمیر کا حصہ بنے گا اور دنیا بھارت کی تباہی کا تماشہ ایک بار پھر سے دیکھے گی
    ان شاءاللہ

  • مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ذمہ داریاں دی جائیں تو مسلم لیگ ن مزیدمقبول ہوجائے گی
    بلاول بھٹو کو مزید کام کرنے کی ضرورت،پی ٹی آئی عمران سے شروع ہوکر عمران پر ختم
    فضل الرحمان کا مستقبل صرف اتحاد،جماعت اسلامی آمدہ الیکشن میں نمایاں کردار اداکریگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بھارت اور پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بھارت کا آئندہ کا مستقبل راہول گاندھی ہے تاہم کانگریس اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا لے اور اتحاد مضبوط بنا لے تو بھارت کے آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار راہول گاندھی بن سکتے ہیں تاہم نریندر مودی کا کرشمہ ابھی تک موجود ہے بھارتی اپوزیشن کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پارٹی میں واضح قیادت کا رول ادا کر رہی ہیں امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، وہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط امیدوار برائے وزیر اعظم ہو سکتی ہیں اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو تنطیم سازی کی ضرورت ہے، ڈویژن اور ضلعی سطح پر کارکنوں اور دیگر مقامی ن لیگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت اگر مریم نواز اور حمزہ شہباز پر خصوصی توجہ دے تو دونوں ن لیگ کی قیادت اور دیگر امور احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں حمزہ شہباز تنظیمی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں تا دم تحریر ن لیگ میں کوئی دھڑے بندی نہیں نواز شریف کی قیادت میں یہ جماعت متحد ہے، بلاول بھٹو زرداری سندھ میں پارٹی پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اگر پی پی پی پنجاب اور کے پی کے میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے تو بلاول بھٹو کی گفتگو اور ویژن نوجوانوں کے لئے پرکشش ہے، بلاول بھٹو کو عملی سیاست میں مزید تجربے اور مقامی حمایت کی ضرورت ہے

    پی ٹی آئی عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی ختم ہوتی ہے مستقبل میں اس سیاسی جماعت کی قیادت کون کرے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے عمران خان دوسری سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی طرح بڑھاپے کی طرف گامزن ہیں ملک کی مذہبی جماعتوں کو لیکر اگر تجزیہ کیا جائے تو جماعت اسلامی قدیم ترین مذہبی و سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے کراچی اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں اچھا خاصا اثر دکھایا ہے کراچی میں خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جماعت اسلامی کا مستقبل مکمل طور پر اس کی عملی قیادت اور عوام سے رابطہ کی بنیاد پر طے ہو گا آمدہ قومی انتخابات میں جماعت اسلامی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے،

    جمعیت علمائےاسلام مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے اس جماعت کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہے جن میں سیاسی اتحاد عوامی تائید اس جماعت کا مکمل انحصار مولانا فضل الرحمان کی شخصیت پر ہے اگر نئی قیادت نہ ابھری تو مستقبل میں یہ جماعت کمزور ہو سکتی ہے ملک کی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کا بھی مستقبل کمزور نظر آتا ہے تاہم ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مستقبل شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ ادارہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے

  • انسٹاگرام پر لائیو اسٹریمنگ کیلئے فالوورز کی شرط عائد

    انسٹاگرام پر لائیو اسٹریمنگ کیلئے فالوورز کی شرط عائد

    انسٹاگرام صارفین کے لیے ایک نئی پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے تحت اب صرف وہی افراد لائیو اسٹریمنگ کر سکیں گے جن کے فالوورز کی تعداد کم از کم ایک ہزار ہوگی۔

    کیلیفورنیا میں قائم فوٹو شیئرنگ ایپ نے تصدیق کی ہے کہ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ کمپنی کی جانب سے جان بوجھ کر کی گئی تبدیلی ہے۔ انسٹاگرام کے مطابق اس اقدام کا مقصد لائیو اسٹریمنگ کا تجربہ بہتر بنانا ہے۔اس سے قبل انسٹاگرام پر ہر صارف کو لائیو جانے کی اجازت حاصل تھی، چاہے اس کے فالوورز کی تعداد کچھ بھی ہو۔ اب کم فالوورز والے صارفین کو ایک نوٹیفکیشن موصول ہو رہا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ لائیو اسٹریمنگ کا اہل نہیں، کیونکہ ہم نے اس فیچر کی اہلیت کو اپڈیٹ کیا ہے۔ اب صرف ایک ہزار یا اس سے زائد فالوورز رکھنے والے پبلک اکاؤنٹس ہی لائیو جا سکتے ہیں۔”

    انسٹاگرام کی اس نئی پالیسی پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، تاہم کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی پلیٹ فارم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔

    سڈنی ہاربر برج پر فلسطین کے حق میں تاریخی مارچ، شدید بارش میں ہزاروں افراد شریک

    سڈنی ہاربر برج پر فلسطین کے حق میں تاریخی مارچ، شدید بارش میں ہزاروں افراد شریک

    بالی ووڈ فلم ساز پاک بھارت جنگ سے منافع بخش حب الوطنی کمانے کے درپے

    امرناتھ یاترا سکیورٹی اور موسمی خدشات کے باعث قبل از وقت ختم

  • ٹک ٹاک نے سابق اسرائیلی فوجی  کو ہیٹ اسپیچ مینیجر تعینات کر دیا، تنقید کا سامنا

    ٹک ٹاک نے سابق اسرائیلی فوجی کو ہیٹ اسپیچ مینیجر تعینات کر دیا، تنقید کا سامنا

    چینی شارٹ ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے ایریکا منڈیل نامی امریکی یہودی خاتون کو ہیٹ اسپیچ (نفرت انگیز مواد) مینیجر کے طور پر تعینات کر دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تنقید سامنے آ رہی ہے۔

    ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق ایریکا منڈیل ماضی میں اسرائیلی فوج کی ٹریننگ سے منسلک رہ چکی ہیں اور کئی یہودی تنظیموں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہی ہیں۔ وہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں یہود مخالف نفرت انگیز مواد کی نگرانی پر بھی کام کر چکی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک میں ان کی نئی تعیناتی کا مقصد عمومی طور پر ہیٹ اسپیچ کی نگرانی ہے، تاہم میڈیا ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ خاص طور پر یہود مخالف مواد کو ہٹانے یا اس کی نگرانی پر مامور ہوں گی۔

    تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور نسل کشی کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیے جانے کے بعد ٹک ٹاک پر اسرائیل مخالف مواد کو دبانے کے لیے ایریکا منڈیل کی تعیناتی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ماضی میں بھی فلسطین سے متعلق اسرائیلی مظالم کی ویڈیوز کو محدود یا ہٹانے پر تنقید کا سامنا رہا ہے، جس کے بعد اب اس نئی تعیناتی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اظہار رائے کی آزادی پر اثر پڑے گا، اور یہ اقدام سیاسی اور مذہبی جانبداری کا عکاس ہے۔

    ایشیا کپ ٹی20 2025: وینیو اور شیڈول کا اعلان

    9 مئی کیس، عمر ایوب اور زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع، احمد چٹھہ کی درخواست خارج

    آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے: حماس

    برطانیہ کو ہجرت کے بحران کا سامنا، ایک سال میں 7 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ

  • کرکٹ اور گھوٹکی کے کفیل بھائی،تحریر: ریاض سہیل

    کرکٹ اور گھوٹکی کے کفیل بھائی،تحریر: ریاض سہیل

    ورلڈ کپ میں ہر بیٹسمین زیادہ سے زیادہ رنز اسکور کرنےاور بالر زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہوتا ہے- لیکن کفیل بھائی بغیر وکٹ حاصل کیے اور رنز بنائے شہرت اور مقبولیت کی کئی وکٹیں اور سینچریاں مکمل کر چکے ہیں۔

    انہوں نے کبھی بھی ملکی یا غیر ملکی میچوں میں حصہ نہیں لیا لیکن اس کے باوجود پاکستان میں بڑے کرکٹر کے طور پر مشہور ہیں-

    مقبولیت اور شہرت کا انہیں اس حد تک جنون تھا کہ اسے حاصل کرنےکے لئے اور کوئی چارہ نہ پاکر انہوں نے ٹرکوں، بسوں اور عمارتوں پر اپنا نام لکھنا شروع کردیا-

    ’ کفیل بھائی لیفٹ آرم اسپن بالر-‘ اس آئیڈیا نے انہیں مشہور کردیا- گھوٹکی کے رہنے والے کفیل بھائی پانچ جماعت پاس ہیں- ان کے والد خلیل پاکستانی قیام پاکستان کے وقت بھارت کے صوبے یوپی سے ہجرت کرکے گھوٹکی میں آکر آباد ہوئے- انہیں پاکستانی کا لقب قائداعظم محمد علی جناح نے دیا تھا- وہ گھوٹکی کے مشہور سیاسی اور سماجی کارکن رہے ہیں-

    والد کی مقبولیت نے کفیل بھائی کو بھی شہرت کی جانب راغب کیا – اس جذبۂ شہرت کی تسکین کے لئے انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا- اور کھیل کے حوالے سے علاقے میں شہرت حاصل کی-

    ان کا خواب تھا کہ وہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوکر ملکی اور غیر ملکی سطح پر اپنا نام روشن کریں- مگر نچلی سطح سے تعلق رکھنے والے کفیل کا یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا-

    دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی نہ توکرکٹ سلیکشن بورڈ سے رابطہ کیا اور نہ ہی کبھی ٹرائل دیا- ان کا خیال تھا کہ ایک غریب آدمی کے لئے قومی معاملات میں بہت ہی کم گنجائش ہوتی ہے-

    اس لئے انہوں نے کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کردیا اور کرکٹ کے میدان میں بلے کے شاٹ مارنےکے بجائے شاہراہوں پر قلم اور برش سے شہرت کے شاٹ مارنے شروع کردیے۔

    وہ قومی شاہراہ پر واقع اپنے شہر گھوٹکی آنے جانے والے ہر ٹرک ڈرائیور سے درخواست کرتے کہ ٹرک کے پیچھے اسے اپنا نام لکھنے کی اجازت دی جائے۔ ان کی سادگی سے متاثر ہوکر ٹرک ڈرائیور اس پرجوش نوجوان کو ایسا کرنے کی اجازت دے دیتے تھے- بعض اوقات وہ اپنے نام لکھنے کے عوض ٹرک پر پینٹگ کرنے کےلئے بھی تیار ہو جاتے۔

    مسلسل میل جول اور تعلق کی وجہ سے ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ ان کی اچھی خاصی دوستی بھی ہو گئی- اور وہ پینٹگ کے دوران ملک کے چاروں صوبوں کی سیر بھی کر آئے۔ پشاور سے لاہور اور پھر کراچی تک یا سکھر سے کوئٹہ تک ہائی ویز یا اندرونی علاقوں کی سڑکوں پر دوڑنے والے ہر ٹرک کے پیچھےآج کفیل بھائی کا نام روزانہ ہزاروں نظروں کا مرکز بنتا ہے اور لوگوں کے دلوں اور دماغ میں مقبولیت کے اسکور بڑھاتا رہتا ہے-

    بسوں، ٹرکوں، گھروں اور سرکاری عمارات پر رنگ کا کام کرنے والے کفیل بھائی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بھی لکھائی شروع کرنے سے پہلے اپنا نام لکھتے تھے، بعد میں دوسرا کام کرتے تھے۔ اس وجہ سے کئی بار ان کی پٹائی ہوئی اور انہیں ڈانٹ ڈپٹ بھی برداشت کرنی پڑی-

    کفیل بھائی کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایک آرٹسٹ بھی سمجھتے ہیں- اورکلاسیکی آرٹسٹوں کی طرح آج بھی اپنے کام کا معاوضہ منہ سے مانگ کر نہیں لیتے۔ جو جتنے پیسے دیتا ہے وہ رکھ لیتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ ’اگر میں اپنے کام کے منہ مانگا دام لونگا تو میرے فن کی قدرو قیمت نہیں رہےگی۔‘

    روڈ پر دوڑنے والی گاڑیوں پر اپنے نام کے جھنڈے گاڑنے کے بعد کفیل بھائی کو اپنا نام ہوا میں اڑانے کا شوق جاگ اٹھا- ایک بار وزیر اعظم بینظیر بھٹو بذریعہ ہیلی کاپٹر گھوٹکی آئیں تو کفیل بھائی ہیلی کاپٹر پر اپنا نام لکھنے کے لئے ہیلی پیڈ پہنچ گئے-

    ابھی کفیل بھائی ’اپنی کارروائی‘ کرنے کے لئے تیاری ہی کر رہے تھے کہ سیکیورٹی عملے نے انہیں دھر لیا- انہوں نے سیکیورٹی عملے سے بہت منت سماجت کی کہ اسے نام لکھنے کی اجازت دی جائے- لیکن عملہ نے ان کی بات نہ مانی-

    کفیل بھائی کے بضد رہنے پر عملے نے پکڑ کر ان کی اچھی خاصی مرمت کر کے چھوڑ دیا- او!ر اس طرح سے کفیل بھائی کا نام ہوا میں اڑنے سے رہ گیا–

    کفیل بھائی کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول ذہنی آزمائش کے پروگرام نیلام گھر میں سامعین سے جب پوچھا گیا کہ گھوٹکی کس وجہ سے مشہور ہے تو کئی شرکا نے جواب دینے کے لئےاپنے ہاتھ اٹھائے- ان سب کا ایک ہی جواب تھا- ’کفیل بھائی۔‘

    ٹرکوں، بسوں، تھانے کے گیٹوں اور شہر کی مختلف عمارات پر’ کفیل بھائی لیفٹ آرم، رائٹ آرم اسپن بالر‘ کرکٹ کا نامور آل رائونڈر، کرکٹ کا بے تاج بادشاہ، جیسے جملے لکھنے والے کفیل بھائی نے ایک سال قبل اپنے بڑے بھائی پرویز احمد کے انتقال کے بعد پینٹنگ چھوڑ دی ہے-

    گھر کے معاشی حالات نے کفیل بھائی آل رائونڈر کو کلین بولڈ کردیا ہے- انہوں نے پینٹنگ اور شہرت کے دھندے ترک کر کےکرسیوں کی نیٹنگ شروع کردی ہے–

    انوکھے انداز سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کفیل نے اپنا کوئی شاگرد نہیں بنایا- انکا کہنا ہےکہ ’اگر میں شاگرد بناتا تو میرا نام ختم ہو جاتا-‘ اور یہ بات وہ کسی طور پر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے-

    بچوں جیسی معصومیت رکھنے والے کفیل کو کسی سے پیار نہیں ہوا- ان کا کہنا ہے کہ ان کو صرف کرکٹ سے محبت ہے- کرکٹ ان کی محبوبہ ہے- بغیر جیون ساتھی کے زندگی گذارنے والے کفیل بھائی کیلئے رشتے تو کئی آئے لیکن اسے قسمت کی ستم ظریفی کہئے یا کچھ اور، وہ کسی کو نہیں بھائے۔

    سانولی رنگت مناسب قد رکھنے والے اپنے مقصد سے جنون کی حد تک انسیت اور لگاؤ رکھنے والے کفیل شادی کے بارے میں کہتے ہیں: ’لڑکی والے میرا رنگ اور مشغلہ دیکھ کر لوٹ جاتے تھے۔‘ اور یوں آج چالیس سال کی عمر ہونے کے باوجود ان کی شادی نہیں ہو پائی-

    فقیر صفت کفیل بھائی لوگوں سے مصافحہ کرتے وقت ان کا ہاتھ چومتے ہیں- ان کو غصہ اس وقت آتا ہے جب ان کو کوئی ہاتھ چومنے نہیں دیتا- کفیل بھائی بتاتے ہیں کہ ایک بار وفاقی وزیر انور سیف اللہ گھوٹکی آئے تو وہ ان سے ملنے کے لئے اسٹیج پر پہنچ گئے اور وزیر کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی جس پر اسٹیج پر براجمان سردار صاحبان ناراض ہو گئے اور انہیں جھاڑ دیا- تب سے انہیں سرداروں سے نفرت ہو گئی ہے-

    وزیر اعلی سندھ علی محمد مہر کے آبائی ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے کفیل بھائی کو خواہ سردار، وزیر اور بیوروکریسی قدر کی نظر سے نہ دیکھتی ہو لیکن گھوٹکی کے باسیوں کے لئے وہ احترام اور محبت کے قابل شخص ہیں- وہ کفیل بھائی سے مل کر خوشی محسوس کرتے اور سمجھتے کہ وہ گھوٹکی کی پہچان ہیں۔

    کرکٹ کی پِچ سے تو کفیل بھائی ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن زندگی کی پِچ پر وہ گھریلو مسائل کی وکٹ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں-

    کرکٹ اور پینٹگ کے ذریعے لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کے خواہشمند کفیل نے اب دونوں کام چھوڑ دیے ہیں- لیکن ان کی زندگی، لگن اور مستقل مزاجی کی وجہ سے سبق آموز بن گئی ہے کہ معمولی کام کرکے بھی غیر معمولی شہرت حاصل کی جا سکتی ہے-

    ۲۰۱۲ کی تحریر بی بی سی ڈاٹ کام سے

  • کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟

    کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟

    کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں ماہی چوک کے قریب شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی میں راکٹ لانچرز اور جدید اسلحے سے حملہ کر کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے پانچ بہادر اہلکار شہید اور دو شدید زخمی ہو گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی ہلاک ہوا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں میں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین شامل ہیں، جن کی قربانی نے ایک بار پھر کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کی بے خوف کارروائیوں کو آشکار کر دیا ہے۔ یہ حملہ کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں برسوں سے جاری ڈاکوؤں کی دہشت گردی کی ایک خونریز داستان کا تسلسل ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق شہید ہونے والے تین اہلکاروں کا تعلق بہاول نگر سے تھا جبکہ دو کا رحیم یار خان سےاور یہ تمام اہلکار گزشتہ چھ ماہ سے کچے کے انتہائی خطرناک علاقے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اور ان کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او عرفان علی سموں پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور جوابی کارروائی کی قیادت کی جبکہ ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب کچے کے ڈاکوؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے پولیس چوکیوں اور گشت پر موجود دستوں پر متعدد خونریز حملے کیے ہیں۔ مثال کے طور پر 2024 میں کندھ کوٹ سندھ میں دھودھر پولیس چوکی پر 20 سے زائد ڈاکوؤں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔ اسی طرح 2022 میں گھوٹکی کے علاقے رونتی میں ڈاکوؤں کے حملے میں ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت پانچ اہلکار شہید ہوئے۔ 2024 میں رحیم یار خان کے ماچھکہ میں پولیس کی گاڑیوں پر راکٹ حملے میں 12 اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں اب تک سینکڑوں پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اگست 2024 تک صرف رحیم یار خان میں 17 اہلکار شہید ہوئے ہیں اور شدید زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے ہوں گے۔ ان شہادتوں کے پیچھے انسانی المیوں کی ایک لمبی فہرست ہے. ہر شہید اہلکار کے خاندان کی کہانی دل دہلا دینے والی ہے، جہاں نوجوان لڑکیاں بیوہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے اور مائیں اپنے جوان بیٹوں کے جنازوں پر بین کرتی رہیں۔ مثال کے طور پر ماچھکہ حملے میں 12 اہلکاروں کی شہادت سے کم از کم 12 خاندان متاثر ہوئے، جن میں بیوائیں، یتیم بچے اور بوڑھے والدین شامل ہیں اور ان خاندانوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیاں ناقابل بیان ہیں جنہیں ریاست کی بھرپور مدد کی ضرورت ہے۔

    کچے کے ڈاکوؤں نے نہ صرف پولیس بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کی دہشت گردی کی کارروائیاں صرف سڑکوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ وہ شہروں اور دیہاتوں میں گھس کر شہریوں کو اغوا کرتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں اور تاوان نہ ملنے کی صورت میں بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2024 میں کشمور، سندھ میں تین ہندو تاجروں کو اغوا کیا گیا، جنہیں بعد میں بازیاب کرایا گیا جبکہ گھوٹکی میں 10 شہری یرغمال بنائے گئے اور رحیم یار خان میں کانسٹیبل احمد نواز کو اغوا کیا گیا، جن کی تشدد زدہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا۔ کشمور میں 2023 میں راولپنڈی سے ایک شخص کو کاروباری جھانسے میں اغوا کیا گیا اور تاوان نہ ملنے پر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کے نیٹ ورک دور دراز کے علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ڈاکو زنجیروں میں جکڑے یرغمالیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں، جن میں وہ تشدد اور تاوان کے مطالبات دکھاتے ہیں، یہ ویڈیوز ریاست کو براہ راست چیلنج کرتی ہیں اور عوام میں مایوسی پھیلاتی ہیں۔ 2024 تک شکارپور، کشمور، گھوٹکی، سکھر اور جیکب آباد میں 40 شہری یرغمال تھے، اور تاوان کی عدم ادائیگی پر کئی شہریوں کو وحشیانہ تشدد کے بعد قتل کیا گیا، جیسے کہ 2024 میں ایک پرائمری ٹیچر اللہ رکھیو نندوانی کا قتل۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ڈاکوؤں کی دہشت صرف پولیس تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی ان کے ظلم کا شکار ہیں اور انہیں ریاستی تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شیخانی چوکی حملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کی اور ڈی پی او رحیم یار خان کو ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا، ان کا کہنا تھا کہ بزدلانہ حملوں سے پولیس کا مورال پست نہیں ہوگا اور شہید اہلکاروں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیانات محض رسمی ہیں؟ کیا ماضی میں ایسے بیانات کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں؟ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشنز دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن نتائج صفر ہیں۔ 1990 کی دہائی میں کئی آپریشنز ہوئے، لیکن ڈاکو ہر بار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ 2016 میں آپریشن میں چھوٹو گینگ کے 22 پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد فوج کی مدد سے آپریشن کیا گیا، لیکن ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا اور چھوٹو گینگ کے کئی ارکان فرار ہو گئے یا بعد میں دوبارہ منظم ہو گئے۔

    2024 میں سندھ میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، لیکن ڈاکوؤں کی کارروائیاں جاری رہیں، جو ان کی جڑوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔اور اب 2025 میں شیخانی چوکی حملے کے بعد سرچ آپریشن تیز کیا گیا، لیکن گرفتاریاں محدود ہیں۔ یہ صورتحال سوالات پیدا کرتی ہے کہ آخر ڈاکوؤں کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں،کچے کا علاقہ جغرافیائی طور پر مشکل ہے، جہاں گھنے جنگلات، جھاڑیاں اور پانی کے راستے ڈاکوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں اور یہ علاقہ پولیس کے لیے رسائی میں دشوار گزار ہے اور ڈاکو اس جغرافیے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ڈاکوؤں کے پاس جدید اور خطرناک اسلحہ موجود ہے، جس میں راکٹ لانچرز، خودکار ہتھیار اور حتیٰ کہ طیارہ شکن بندوقیں بھی شامل ہیں، جو پولیس کے روایتی اسلحے سے کہیں بہتر ہیں اور یہ انہیں پولیس پر برتری فراہم کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، مقامی زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی مبینہ پشت پناہی ڈاکوؤں کو تحفظ دیتی ہے، یہ سیاسی سرپرستی ڈاکوؤں کو قانون کی گرفت سے بچاتی ہے اور انہیں مزید مضبوط بناتی ہے۔ سندھ اور پنجاب کی پولیس کے درمیان تعاون کی کمی بھی ڈاکوؤں کو سرحد پار فرار ہونے میں مدد دیتی ہے، جس سے ان کا تعاقب مشکل ہو جاتا ہے۔

    سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈاکوؤں نے کبھی کسی مقامی سردار، وڈیرے، وزیر، مشیر، ایم این اے یا ایم پی اے کے عزیز کو کیوں اغوا نہیں کیا؟ کیوں ان سے بھتہ نہیں مانگا؟ کیوں ان کے خاندان ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں؟ یہ سوالات ایک گہری سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کشمور کے طاقتور جاگیردار سردار تیغو خان تیغانی پر ڈاکوؤں کی پشت پناہی کے الزامات ہیں، لیکن ان کے خاندان کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کچے کے علاقوں میں زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی لاکھوں ایکڑ اراضی ہے، جہاں ڈاکو کاشتکاری کرتے ہیں اور اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔ ڈاکوؤں کو مقامی افراد سے معلومات ملتی ہیں، جو انہیں پولیس کی نقل و حرکت سے باخبر رکھتے ہیں، یہ معلومات انہیں پولیس کے آپریشنز سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔ سندھ کے سابق وزیر داخلہ نے 2024 میں اعتراف کیا کہ جب تک زمینداروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، ڈاکوؤں کا خاتمہ ناممکن ہے۔ یہ کوئی سائنس یا ریاضی کا معمہ نہیں، بلکہ ایک کھلا راز ہے کہ ڈاکوؤں کی پشت پناہی مقامی طاقتور طبقات کرتے ہیں اور جب تک ان سرپرستوں کا احتساب نہیں ہوگا، کچے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

    کچے کے ڈاکوؤں کا راج کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ہے۔ پولیس کے جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، شہری خوف کے سائے میں جی رہے ہیں، لیکن ڈاکوؤں کی دہشت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا یہ ریاست کی ناکامی ہے یا دانستہ خاموشی؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف مذمتی بیانات اور عارضی آپریشنز کے بجائے ایک مستقل اور جامع حل تلاش کرے، اس کے لیے مقامی پولیس کو بھرتی کیا جائے جو کچے کے علاقوں سے واقف ہوں اور مقامی جغرافیہ کو سمجھتے ہوں، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جائیں تاکہ پولیس کو ڈاکوؤں کے مقابلے میں بہتر اسلحہ اور رسائی کے لیے جدید گاڑیاں دی جائیں، پولیس اہلکاروں کو کچے کے علاقوں میں کارروائیوں کے لیے خصوصی تربیت دی جائے اور وہاں بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جائے اور سب سے بڑھ کر طاقتور زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کا خاتمہ کیا جائے جو کہ وہ اصل جڑ ہے جو ڈاکوؤں کو زندہ رکھے ہوئے ہے، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ضروری ہے، اور بین الصوبائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ سندھ اور پنجاب کی پولیس اور رینجرز کے درمیان موثر رابطہ کاری اور مشترکہ آپریشنز ڈاکوؤں کے فرار کے راستے بند کر سکیں۔ اگر یہ سب نہ ہوا تو شیخانی چوکی جیسے واقعات ہوتے رہیں گے اور پولیس کے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں جاتی رہیں گی۔ ہم شہید اہلکاروں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن کی قیمت خون سے ادا کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس خون کی قدر کرے گی اور کچے کو واقعی امن کا گہوارہ بنائے گی؟

  • یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    یادِ مادرِ ملت،تحریر: اقصیٰ جبار

    قومی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف یاد کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اُن کے کردار کو سمجھنا اور اُن کی اقدار کو اپنانا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آج ان کا 133واں یومِ ولادت ہے، مگر ہماری قومی یادداشت میں ان کی جو جگہ ہونی چاہیے، وہ کہیں دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ جس قوم کی بنیاد میں خواتین کا خون، عزم اور کردار شامل ہو، وہی قوم آج ان عظیم خواتین کو صرف ایک تصویر یا رسمی تقریب تک محدود کر کے بھول چکی ہے۔

    محترمہ فاطمہ جناح محض قائداعظم محمد علی جناح کی بہن نہ تھیں، وہ ان کے مشن کی رازدار، ہم قدم اور نظریاتی رفیق تھیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں جب برصغیر کی مسلمان خواتین گھروں تک محدود تھیں، سیاست، تعلیم اور سماجی خدمات کے میدان میں قدم رکھا۔ اُنہوں نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ 1923 میں کلکتہ سے ڈینٹل سرجری میں سند لے کر پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ مگر جب انہیں اندازہ ہوا کہ بھائی کی سیاسی جدوجہد ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے، تو انہوں نے اپنے کلینک کو خیرباد کہہ کر خود کو مکمل طور پر تحریکِ پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔

    ان کی جدوجہد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ خاموش مزاحمت کا استعارہ تھیں۔ جلسوں میں خواتین کو منظم کرنے، سیاسی شعور بیدار کرنے اور قائداعظم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے انہوں نے جو کردار ادا کیا، وہ کسی مرد سیاسی رہنما سے کم نہ تھا۔ فاطمہ جناح نے ثابت کیا کہ قیادت خون کے رشتوں کی نہیں، کردار اور بصیرت کی محتاج ہوتی ہے۔ قائداعظم کی بیماری کے دنوں میں وہ نہ صرف ذاتی طور پر ان کی خدمت کرتی رہیں بلکہ سیاسی معاملات میں بھی ان کی معاون رہیں۔

    قیام پاکستان کے بعد اُن کے کردار کا دوسرا پہلو سامنے آیا۔ انہوں نے خود کو صرف قومی یادداشت کا حصہ بننے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے سیاست میں دوبارہ قدم رکھا۔ 1965 میں جب انہوں نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو گویا وہ جمہوریت کے لیے علمِ بغاوت بلند کر رہی تھیں۔ اگرچہ یہ انتخاب سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کا شکار ہو گیا، لیکن عوامی سطح پر انہیں جو مقبولیت ملی، وہ ایک نئی تاریخ رقم کر گئی۔ اس انتخاب نے صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی نئی سوچ پیدا کی کہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ، اصول پسند اور محب وطن خاتون ملک کی قیادت کر سکتی ہے۔

    قوم نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں "مادرِ ملت” کا خطاب دیا، جو محض ایک رسمی اعزاز نہ تھا بلکہ ایک نظریاتی سچائی کا اظہار تھا۔ انہوں نے خواتین کو محض مظلوم یا محدود کردار تک نہیں رکھا، بلکہ ان میں شعور، خود داری اور خود اعتمادی پیدا کی۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عوامی بیانات آج بھی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کا لباس، لہجہ اور طرزِ فکر خالصتاً مشرقی اور اسلامی اقدار کا نمائندہ تھا، جس میں جدید تعلیم کی روشنی اور سیاسی فہم کی گہرائی نمایاں تھی۔

    9 جولائی 1967 کو ان کی وفات ایک ایسا باب ہے جو آج بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ان کی موت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی وفات طبعی نہیں بلکہ مشکوک حالات میں ہوئی، اور حکومتِ وقت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر کے مزید شکوک پیدا کیے۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ عوام ان سے کتنی محبت رکھتے تھے، اور ان کی رحلت کو صرف ایک سیاسی سانحہ نہیں بلکہ قومی زوال کی علامت سمجھتے تھے۔

    یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کی نسل محترمہ فاطمہ جناح کے کردار اور قربانی سے واقف نہیں۔ ہماری درسی کتب میں ان کا ذکر محض ایک سطر پر محیط ہے، اور میڈیا میں بھی ان کا نام صرف مخصوص ایام میں لیا جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی غفلت کی علامت ہے۔ ایک قوم جو اپنے رہنماؤں کو بھول جائے، وہ سمت کھو بیٹھتی ہے۔ فاطمہ جناح محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ تھیں — وہ نظریہ جو جمہوریت، انصاف، وقار اور قربانی پر مبنی تھا۔

    آج اگر ہم واقعی مادرِ ملت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ خراج محض خطبوں یا تصویری حوالوں میں محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فکر، عمل اور آگہی میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ان کے افکار کو اپنی سماجی اور سیاسی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ خواتین کو وہی اعتماد، وہی شعور اور وہی آزادی دینی ہوگی جس کا خواب فاطمہ جناح نے دیکھا تھا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ان کے کردار کو نمایاں کیا جائے، میڈیا پر ان کے افکار کو روشناس کرایا جائے، اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ ایک عورت بھی پوری قوم کی رہنما بن سکتی ہے — بشرطیکہ وہ صداقت، استقامت اور نظریاتی وفاداری کا پیکر ہو۔

  • خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ چکا ہے، لوگ خود غرض ہو گئے ہیں، رشتے بے معنی ہو چکے ہیں، تعلیم صرف ڈگری کی حد تک رہ گئی ہے، عبادات رسم بن چکی ہیں، اور محبت ایک سودا بن کر رہ گئی ہے۔ یہ تمام مشاہدات کسی حد تک درست بھی ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو دہرا کر آخر حاصل کیا کرتے ہیں؟ کیا یہ مسلسل دہرانا دراصل ہماری اپنی بے بسی اور داخلی مایوسی کا اظہار نہیں بن چکا؟

    درحقیقت تبدیلی کبھی شور و غوغا سے نہیں آتی۔ وہ ایک خاموش، مسلسل، اور اندرونی سفر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات نعروں یا ہتھیاروں سے نہیں، نظریات، کردار اور حسنِ عمل سے وجود میں آئے۔ ہمیں یہ سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو بہتر بنا لیں، تو کیا معاشرہ ویسا ہی بگڑا ہوا رہے گا جیسا ہمیں دکھائی دیتا ہے؟ شاید نہیں۔

    اگر ایک چراغ جلایا جائے تو اندھیرے کو چیرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذات کے اندھیروں کو پہچان کر اُن سے نبرد آزما ہو، تو مجموعی ماحول خودبخود روشن ہونے لگتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم روشنی پیدا کرنے کے بجائے صرف اندھیروں پر گفتگو کرنے کو "شعور” سمجھ بیٹھے ہیں۔

    ہم دوسروں کی غلطیوں، لغزشوں، اور کمزوریوں پر بڑی روانی سے بولتے ہیں، مگر کیا کبھی خود پر سوال اٹھایا؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے کے بجائے، ان کی ایک خطا کو ان کی مکمل شناخت کیوں بنا لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خود احتسابی کا راستہ سب سے مشکل مگر سب سے مؤثر ہوتا ہے۔

    تبدیلی کی پہلی اینٹ اپنے اندر جھانکنے سے رکھی جاتی ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے، اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے رویے کا محاسبہ کیے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہ مان لینا ہی پہلا قدم ہے کہ ہم سب سیکھنے کے عمل میں ہیں، کوئی کامل نہیں۔ جب ہم خود میں بہتری کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسروں کو بھی بہتر دیکھنے کی امید جاگنے لگتی ہے۔

    کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اُس کی حالت کو سمجھنا سیکھنا چاہیے۔ ہر انسان ایک مکمل کہانی ہے، ایک مکمل جہان — جسے سمجھے بغیر دی جانے والی کوئی بھی نصیحت، چاہے وہ کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو، بے اثر ہو جاتی ہے۔ اصلاح کے سب سے مؤثر ذرائع خلوصِ دل، نرم گفتگو، اور حسنِ سلوک ہیں۔

    عبدالستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی طعنہ — صرف کردار کی روشنی۔ ان کے خاموش عمل نے ہزاروں زندگیاں بدل ڈالیں۔ ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں، بلکہ عمل ہی اصل ترجمان ہوتا ہے۔

    آج کے بچے کل کے رہنما ہیں۔ مگر یہ رہنمائی صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ ماحول، رویوں، اور مشاہدات سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل ایماندار، بااخلاق اور نرم خو ہو، تو ہمیں خود اپنی زندگیوں میں سادگی، احترام اور دیانت داری کو اپنا معمول بنانا ہوگا۔

    سوشل میڈیا کے شور میں ہمیں لگتا ہے کہ صرف بڑی باتیں اور وائرل جملے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل، جیسے کسی غم زدہ دل کی خاموش دلجوئی، کسی تھکے چہرے پر مسکراہٹ، یا کسی الجھے ذہن کے لیے ایک مثبت لفظ — یہ سب تبدیلی کی وہ چنگاریاں ہیں جو اگر بھڑک اٹھیں تو انقلاب بن سکتی ہیں۔

    ہمیں ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو چیخے نہ، صرف جئیں؛ جو نصیحت نہ کریں، مگر زندگی میں ایسی سادگی، نرمی، اور سچائی لے آئیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر خود اپنی اصلاح کا سفر شروع کر دیں۔

    ہمیں اپنے رویّوں، لہجوں، گفتگو اور سوچ کے زاویوں پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ اصلاح کا راستہ بلاشبہ طویل اور مشکل ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں محبت الزام سے بالاتر ہو، رشتے مفاد سے آزاد ہوں، اور اخلاق کسی رسم کا محتاج نہ ہو۔

    آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ:
    "اصلاح ایک آواز نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔”
    اگر ہم اسے خاموشی سے اپنا لیں تو تنقید کے بغیر بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

  • ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہم ایک ایسی دُنیا اور معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہے کہ انسان اپنے اندر قدرتی صلاحیتوں کو دیکھنے کی بجائے خوف کے سیایہ میں زندگی بسر کر رہا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے ناکام ہونا نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف اور کامیابی کا دباؤ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناکامی کا تصور اس قدر منفی اور محدود ہے کہ ناکامی کا لفظ سنتے ہی ہم حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ناکامی کا ڈر اس قدر انڈیل دیا جاتا ہے کہ ہم ناکامی کے خوف سے ساری زندگی باہر ہی نکل پاتے ہیں۔ ناکامی کے لفظ کے ساتھ جُڑی شرمندگی اور نفرت ہمیں مجبور کردیتی ہے کہ ہم کامیابی کے لیے جستجو کرنے ہی کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔

    کچھ لوگوں کو ناکامی کا نہیں ناکافی کا خوف مار دیتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ڈر ہر انسان کو ہر بڑا مشکل اور کھٹن کام کرنے کے آغاز میں لگتا ہے۔ نامعلوم کا خوف ان جانے راستے کی پریشانی ناکامی کا ڈر اور سب سے بڑا خوف اپنے اندر کے خوف پر فتح ناکام لوگ اس ڈر سے ڈر جاتے ہیں اور فاتح اپنے اندر کے ڈر پر قابو پالیتے ہیں۔

  • جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جس مملکت و ریاست میں جرائم ہو گا وہاں خوشحالی نہیں ہو گی وہاں بدامنی اور غربت کا راج ہو گا
    جدید سعودی عرب کا باضابطہ قیام 1932 میں ہوا اس سے قبل سعودی عرب پسماندہ اور بدامن ترین ملک تھا کہ جہاں چوری،ڈکیتی قتل،شراب نوشی اور قبائلی جھگڑوں سے ہلاکتیں تک عام بات تھیں
    حتی کہ دنیا بھر سے جانے والے عازمین حج کو بھی لوٹ لیا جاتا تھا لوگ مقدس فرض حج کیلئے جانے سے کترانے لگے تھے کیونکہ تمام راستے غیر محفوظ ہو گئے تھے قانون و ریاست نام کی کوئی چیز موجود ہی نا تھی

    1927 سے پہلے موجودہ جدید مملکت سعودی عرب کو حجاز مقدس اور نجد کے نام سے جانا جاتا تھا جو کہ ایک انتہائی بدامن اور مالی طور پر کمزور ترین علاقہ تھا جہاں سینکڑوں قبائل آباد تھے جن کے درمیان مسلسل جھگڑے،لوٹ مار اور قتل و غارت گری عام تھی حتی کہ ہر قبیلہ اپنا الگ قانون رکھتا تھا جبکہ مشترکہ مرکزی قانون و حکومت کا نام و نشان تک نا تھا
    اسی باعث ہی ان لوگوں کے ہاتھوں حاجیوں کے قافلے بھی لٹ جایا کرتے تھے
    سلطنت عثمانیہ کا کنٹرول محض مکہ،مدینہ اور جدہ تک ہی محدود تھا
    پورے خطے میں کوئی مالیاتی نظام موجود نا تھا اور زیادہ تر قبائل بدوی زندگی شدید غربت میں گزارتے تھے
    بارشیں نا ہوتیں تو کئی کئی سال تک قحط رہتا لوگ بھوکے مرتے تھے کیونکہ آبپاشی کا باقاعدہ نظام نا تھا جس کی وجہ مرکزی حکومت کا نا ہونا تھا
    1902 میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے ریاض پر قبضہ کر لیا اور 1913 میں عثمانیوں سے احسہ کا علاقہ لے لیا اور 1924 سے 1925 تک مکہ،مدینہ اور طائف پر کنٹرول کر لیا اور 1926 میں مشترکہ طور پر شاہ عبدالعزیز بادشاہ حجاز مقدس و نجد مقرر ہوئے

    جرائم کو کنٹرول کرکے مملکت کو جدید بنانے،امن و امان و خوشحالی کی خاطر
    1927 سے 1930 تک سعودی ریاست نے مختلف علاقوں جیسے کہ نجد،حائل،عیسر اور حجاز وغیرہ میں، چوری،ڈکیتی اور قتل و شراب نوشی کے ملزمان کو سزائیں دیں

    ایک اندازے کے مطابق 1000 سے زائد لوگوں کو پھانسیاں دی گئی یا پھر تلوار سے گردن اتاری گئی
    لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں اخوان تحریک سے تعلق رکھنے والے ملزمان بھی شامل تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف قبائل سے تھا ان کو بھی قتل کیا گیا
    سعودی عرب کا امن برباد کرنے والے یہ لوگ گروہ بنا کر قافلوں کو لوٹتے تھے اور ریاستی اقتدار کو چیلنج کرتے تھے

    ایسے فسادی اور ملک دشمن عناصر کہ جن کی وجہ سے امن و امان برباد ہو جائے اور جینا مشکل ہو جائے ان لوگوں بارے قرآن مجید کچھ اس طرح بیان فرماتا ہے

    اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ

    جو اللہ تعالٰی سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

    جبکہ ایسے لوگوں کیلئے حدیث رسول ہے

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں
    بحوالہ سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث 2579
    دوسری روایت میں ہے کہ وہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ
    بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بے رحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہیں کرنا چاہئے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہئے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے
    قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
    قال الشيخ زبير على زئي:إسناده

    دیکھا جائے تو آج پاکستان میں بھی حجاز مقدس اور نجد جیسے برے حالات ہیں

    قتل و غارت گری،ڈکیتی،زنا،شراب نوشی اور لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرنا جواء کھیلنا اور کھلوانا،غریب اور کمزور لوگوں پر ظلم کرنا
    عام ہو چکا ہے جس کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب ترین ہو چکی ہے
    عام اور کمزور و غریب لوگوں کا جینا مشکل تر ہو چکا ہے

    امن و امان قائم رکھنے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے ویسے تو پولیس و دیگر ادارے پہلے سے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی نا ہونے کے برابر ہے اسی لئے پنجاب گورنمنٹ نے اب امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے فروری 2025 میں پولیس آرڈیننس 2025 کے تحت کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی سی سی ڈی کا قیام عمل میں لایا ہے
    سی سی ڈی کی حتمی منظوری اپریل میں ہوئی جبکہ اس محکمے میں تقریباً 4300 اہلکار ہیں جو جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہیں
    فی الوقت تو سی سی ڈی کی کارکردگی اچھی ہے خدانخواستہ اگر اس کی کارکردگی بھی پنجاب پولیس کی طرح رہی اور لوگوں کو وڈیروں،جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے کہنے پر قتل کیا گیا تو پھر امن و امان درست ہونے کی بجائے مذید خراب ہو گا
    فی الوقت سی سی ڈی کی اچھی اور اعلی سطحی کاروائیوں سے جرائم پیشہ لوگ ڈر کر توبہ تائب کر رہے ہیں اور بیشتر بھاگ بھی گئے ہیں
    بہت سے جرائم پیشہ اور دہشت کی علامت لوگ ویڈیو کی صورت میں بیان حلفی دے رہے ہیں کہ ہم آئندہ شریفانہ زندگی گزاریں گے جو کہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے
    اللہ کرے یہ محکمہ اسی طرح میرٹ پر کام کرے اور کسی جاگیردار،سیاست دان و وڈیرے کا آلہ کار نا بنے تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو کر پاکستان ترقی کرے اور پاکستانی قوم بھی ایک محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کا حصہ بنے
    آمین