Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اور پی ٹی ایم نے چہرہ بدل لیا .تحریر: امان الرحمٰن

    اور پی ٹی ایم نے چہرہ بدل لیا .تحریر: امان الرحمٰن

    ریاستِ پاکستان، ایک ایسی ریاست جس نے آزادی حاصل کرتے ساتھ ہی بیشمار مشکلات کا ایک ڈھیر اپنے سامنے پایا اور محدود وسائل ہونے کے باوجود دن بہ دن سنبھلنے لگی ابھی آزادی کو ایک سال اور ایک ماہ ہی گُزرا تھا کے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم مُحمد علی جناح اِس لاالاالله محمدرسول الله کے نام پر بننے والی ریاست کو اللہ کےسپرد کر گئے اور وہ پاکستان جسے آزاد کرنے والے یہی سوچتے تھے کے یہ ملک نہیں چل پائے گا کیوں کے وہ سب جانتے تھے پاکستان کے اندر وہ کیا کیا سازشیں کرنے والے ہیں، اور وہی دشمن روزِ اول سے پاکستان میں 74 برس سے پاکستان کو مستحکم نہیں ہونے دیتے اور کبھی سیاسی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں کبھی معاشی طور پر اور یہ وجوحات ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اور وجہ میری نظر میں صرف ایک ہی ہے کہ جس ریاست کو ہم نے اسلامی بنانا تھا اُس میں اسلامی قوانین کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔

    کوئی بھی ریاست تب تک مستحکم نہیں ہوسکتی جب تک اُس کا نظامِ عدل سو فیصد انصاف پر مبنی فیصلے نہ کرے اور یہی وجہ ہے کے پاکستان میں غدار پیدا ہوتے رہے ہیں کیوں کے اُنہیں معلوم ہے جو چاہے جیسے چاہے اِس ریاست کو نقصان پہنچا لیں اُن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور ایسی بیشمار مثالیں ہمارے ماضی میں ہمیں نظر آتی ہیں، اب پی ٹی ایم کو دیکھ لیں اِس تنظیم نے جو کچھ ماضی میں کیا وہ سب کے سامنے ہے مگر یکم ستمبر کو محسن داوڑ اپنے ناجائز باپ افغانستان اور بھارتی خُفیہ ایجنسی کی مدد سے چلنے والی تنظیم کو یتیم ہوتا دیکھ کر اب نئے چہرے سے کام کرے گی، سوال یہ ہے کیا ریاستی اِدارے نہیں جانتے اِن کی حرکات کا کسے علم نہیں، کیا الیکشن کمیشن سو رہا ہے؟

    الیکشن کمیشن کیسے اجازت دے سکتا ہے اِنہیں نئی جماعت بنانے کی؟
    اِس ریاست کا کوئی قانون ہے جو ایسے لوگوں کو نکیل ڈال سکیں؟
    اگر نہیں ہے تو یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے عوام کو کیوں کیا یہی سیاست ہے پاکستان کی کہ کسی نہ کسی طرح مصروف رکھا جائے عوام کو اور ریاست کا کیا۔؟

    ریاست تو ایسے ہے جیسے کھلونا ہو اِن مُٹھی بھر لوگوں کے لئے جس کا جب دل چاہے جیسے چاہے کھیلے اور بیوقوف بنی رہے عوام جسے نہ پہلے ہوش تھا اور نہ ہی اب ہے،
    خُدارا ہوش کے ناخُن لیں یہ وہی سُرخے ہیں جو لال لال تحریک پہلے پی ٹی ایم اور اب ایک بار پھر چہرہ بدل کر نیشنل ڈیموکریٹیو مومنٹ کے نام سے سامنے آئی ہے۔
    اِس پارٹی کا اعلان کرنے والوں نے دھڑلے سے اپنا پروگرام کیا اور ریاستِ پاکستان کا مزاق اُڑاتے ہُوے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا ہے۔ حکومت کے اُن تمام اِداروں کے مُنہ پر،
    اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اِدارے اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہیں یا کوئی اقدام کرتے ہیں اپنے لُولہے لنگڑے نظام سے، ویسے سچی بات تو یہ ہے کے ہمارے نظام میں ایک نہیں بہت زیادہ بیشرمی کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے کسی کو کوئی فکر نہیں کہ اِس ریاست کے ساتھ اگر کوئی بُرا سلوک کرتا ہے تو کرتا رہے ہمیں کیا ہم نے تو سرکاری اِدارے میں نوکری کرنی ہے تنخواہ کے ساتھ ساتھ اُوپر کا مال بھی بنانا ہے اب چاہے وہ مال ہمیں سُرخے دیں یا سُرخوں کو پالنے والی غیر ملکی ایجنسیاں۔
    ایسے بے ضمیر افسران اور حکامِ بالا کو یہ چُھوٹ بھی نظامِ عدل کی خرابیوں کی وجہ سے ہیں جب کسی کو کوئی ڈر خوف ہی نہیں کے مجھے جواب دینا ہوگا یا سزا ہوگی تو ایسے میں کوئی کیوں ڈرے گا کیسے کسی افسر کو اپنے فرائض کہ خلاف جانے سے روکیں گے۔؟
    اکثر لوگوں کو بات کرتے سُنا ہے کے بھائی "پاکستان تو اللہ توکل ہی چل رہا ہے” باخُدا صحیح کہتے ہیں۔
    اللہ پاکستان کو ہر چُھپے اور ظاہر دُشمن سے محفوظ رکھے۔
    اللہ کریم ہم سب کا اور ہمارے پیارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین۔
    @A2Khizar

  • حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    گزشتہ کئی عرصے سے کئی صحافیوں کے اوپر جانی حملے ہوئے جس کی ایف آئی آر بھی کاٹی گئی لیکن نا تو حکومت کی طرف سے اور نا ہی تفشیشی اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نا ہی صحافی حضرات کو یقین دہانی کرائی گئی اس حوالے سے چند دن پہلے سٹینڈنگ کمیٹی اف انفارمیشن & ٹیکنجالوجی کے اندر بہت ہی سینئر صحافی ائے تھے جس میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، اسد طور وغیرہ شامل تھے تاکہ صحافی حضرات جان سکے کہ حکومت صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کتنے سنجیدہ ہے لیکن بدقسمتی سے ناں تو فیڈرل منسٹرز ائے اور نا ہی چیف منسٹر موجود تھے

    کہا جارہا تھا کہ پرائمنسٹر کسی فنکشن میں بزی ہیں اور وزراء اسی وجہ سے نہیں آئے تھے پہلی بات یہ کہ یہ ایک سیرئیس قسم کا معاملہ ہے اور ان میں سے اگر فیڈرل منسٹرز اور چیف منسٹز اگرآدھا گھنٹہ بھی دے دیتے تو معاملہ حل ہوتا دوسری بات یہ کہ جو ادارے والے آئے تھے ان میں سے جونئیر افیسرز کو بھیجا گیا تھا جن کے پاس کسی قسم کے نا کوئی ثبوت تھے اور نا ہی شواہد تھے کہ یہ معاملہ کس طرح حل کیا جائے گا تیسری بات یہ کہ جو ہمارے سینئر جرنلسٹ آئے تھے ان کو زیادہ پتہ اور معلومات ہیں اپنے کیسز کا اپنے انویسٹیگیشن اور اپنے فنگرپرنٹس کا ،اکثر کے CCTV فوٹیج میں گاڑیوں کے نمبر تک واضح نظر ائے ہیں لیکن جو اداروں کے لوگ آئے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیں تھی اور نا ہی انہوں نے کوئی پیش رفت کی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کمیٹی کا استحقاق ہے؟ کہ جس منسٹر کو بلائے وہ بالکل اتا ہی نہیں اور نا ہی وہ کمیٹی کو سیرئیس لیتا ہے

    چوتھی بات یہ ہے کہ جو رپورٹ ہے اس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ پوری قوم کو پتہ چلے کہ حکومت کہاں تک صحافیوں کی تحفظ کرنے میں کامیاب رہی ہے تحریک انصاف والے اقتدار میں انے سے پہلے صحافتی ازادی اور صحافیوں کی تحفظ کی فراہمی کے تو بڑے دعوے سے کررہے تھے اب دیکھتے ہیں کہ اب جب تحریک انصاف برسراقتدار ائی تو کیا وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہونگے؟ کیا تحریک انصاف صحافیوں کے گلے شکوہ دور کرنے میں کامیاب ہوپائے گی؟ یا تحریک انصاف کی باقی وعدوں جیسے صحافیوں والی بات بھی بس صرف باتوں کی حد تک محدود تھی اگے اگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

    Tweeter ID Handel
    @BismaMalik890

  • سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ   تحریر: محمد اختر

    سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ تحریر: محمد اختر

    بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سید علی شاہ گیلانی کا انتقال ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں پختہ یقین ہے کہ ہم سب قادر مطلق ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔مزید یہ کہ وہ نظریہ اور مزاحمت کا نام تھا۔ حریت رہنما مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ایک نہ سمجھوتہ کرنے والا مہم جو تھے۔ آج، انہوں نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ان کی میراث کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ  ہے۔ آپ دنیا کے کئی نوجوانوں سے زیادہ بہادر تھا۔ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ گھر میں نظربندی میں گزارا، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ سید علی شاہ گیلانی کی آواز کشمیریوں کی تحریک آزادی کی علامت تھی، وہ خود ساری زندگی آزادی کے نعرے لگاتے رہے، انہوں نے نوجوانوں کے خون کو گرمایا، بھارتی افواج کو للکارتے رہے۔سید علی شاہ گیلانی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن انہوں نے نوجوان نسل کو آزادی اور جوش کا جو پیغام دیا ہے وہ کشمیری نوجوانوں کی رگوں میں رہے گا۔ تحریک آزادی کی جو فصل آپ نے بوئی ہے وہ کشمیریوں کی آئندہ نسلوں کے لیے آزادی کا پھل ضرور لائے گی۔سید علی شاہ گیلانی بلند حوصلہ، عزم، آزادی سے محبت اور آزادی کی قدر کو سمجھنے والے انسان تھے۔ انہیں دیکھ کر کبھی ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بوڑھے ہیں،اُنکی آنکھوں میں ہمیشہ آزادی کی چمک دیکھی گئی۔وہ واقعی ایک تاریخی شخصیت تھے۔ 14 اگست 2020 کو حکومت پاکستان نے انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے لیے ان کی قابل ذکر خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ”نشانِ پاکستان” سے نوازا۔سید علی شاہ گیلانی کو بھارتی فوج نے بارہا حراست میں لیا اور زندگی کا ایک طویل عرصہ نظر بند رکھا۔، لیکن پھر بھی بھارت کے یہ اوچھے ہتکھنڈ ے ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکے، ان کی سوچ کو محدود نہیں کر سکے، ان کے خیالات کو بھی قید نہیں کر سکے، اور نا ہی آزادی کے جذبہ کی سختی کو کم کر سکے۔ آج،سید علی شاہ گیلانی دم توڑ چُکے ہیں،مگر اُن کی وفات نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں زندگی کا ایک نیا باب شروع کر دیا ہے۔سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے رکن بھی رہے۔ بعدازاں انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی۔وہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کا مضبوط مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی طاقتور آواز سمجھا جاتا تھا۔ انہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کا روشن چہرہ اور آزادی کی حقیقی آواز سمجھا جاتا تھا۔سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی میں صَرف کی۔ سید علی شاہ گیلانی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوتے نہیں دیکھ سکے،مگر انہوں نے کشمیریوں کو آزادی کے حقیقی معنی سے آشناء کر دیا۔ان شاء اللہ! کشمیر آزاد ہو گا، سید علی شاہ گیلانی کا خواب پورا ہو گا۔ وہ اپنی زندگی میں کشمیر کی آزادی کو نہیں دیکھ سکے، لیکن جس ثابت قدمی سے کشمیری آزادیِ جدوجہد جاری ہے اِس یہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری یقینا جلد آزادی کی منزل ِ مقصود تک ضرور پہنچیں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی زندگی بتاتی ہے کہکشمیری قیادت پر بھارتی مظالم عام کشمیریوں سے زیادہ ہیں مگر غیور کشمیری قیادت آج بھی اپنی زمین پر ثابت قدمی سے کھڑی ہے اور پہلے سے زیادہ جرات کے ساتھ آزادی کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ اللہ رب العزت سید علی شاہ گیلانی ؒ کو دائمی امن عطا فرمائے،جنت میں ان کے درجات بلند کر ے اور کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے۔ (آمین)

    @MAkhter_

  • انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    دنیا میں آنے سے پہلے انسان جنت میں اپنی مرضی کی زندگی گزارتا تھا اس کو نہ تو وہاں کوئی کمانے کی ٹینشن ہوتی تھی اور نہ ہی کسی اور مسئلے کی۔ لیکن انسان نے اللہ کا حکم نہ مانا اور وہ کام کر بیٹھا جو اللہ نے روکا تھا اور بے شک انسان خطا کا پتلا۔ اللہ تعالی نے اسی بات سے ناراض ہو کر انسان کو دنیا پر بھیج دیا کہ جاؤ کماؤ اور کھاؤ انسان دنیا پر آیا محنت مزدوری شروع کی تاکہ کھا سکے تاکہ اپنے جسم کو ڈھانپ سکے۔ تاکہ اپنی زندگی کو آسان بنا سکے تاکہ اللہ کی بتائی ہوئی عبادات کو پورا کر سکے اور اللہ کے حکم کو پورا کر سکے۔ بے شک اللہ تعالیٰ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے لیکن کبھی کبھی ماں بھی ناراض ہو جاتی ہے کہ میری اولاد میری بات نہیں مانتی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعالی سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور اچھے کی دعا کرتے رہنا چاہیے بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی کو انسان سے اتنی محبت تھی کہ جب اس نے دیکھا کہ میرے بندے بھٹک رہے ہیں تو اللہ تعالی نے نبیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اللہ تعالی نے ہر دور میں نبی بھیجا تاکہ اپنی مخلوق کو اپنے اصل خالق حقیقی کے بارے میں آگاہ کر سکیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی جب ان سے ناراض ہوا تو ان پر عذاب نازل کیا لیکن جب حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر آئے تو رحمت کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نبی ہونے کا دعوی کیا تو اپنے یہ رشتے دار مخالف ہوگئے لیکن حضور پاک نے سچ کا راستہ نہ چھوڑا تکلیفیں برداشت کی لیکن اپنی امت کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہے اللہ تعالی کو بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت پیارے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات نہیں ٹالتے۔ آج ہم مسلمانوں پر اگر عذاب نازل نہیں ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہے ہمیں ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور بے شک اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارے رزق میرے ذمہ ہے اس بات پر یقین کرتے ہوئے ہمیشہ حلال رزق کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے برے کاموں کی پناہ مانگنی چاہیے بے شک وہ رحیم و کریم ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جنگیں لڑیں آپ وہ  پہلے نبی تھے جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی پوچھ کر گھر کے اندر داخل ہوتے تھے اللہ تعالی نے حضور صل وسلم کو بہت سے معجزے عطا کیے ان میں سے ایک معجزہ چاند کو دو ٹکڑوں میں کرنا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ وسلم جیسا صادق اور امین انسان آج تک پوری دنیا میں نہیں آیا ہوگا۔ ہم مسلمانوں کو چاہیئے حضور صل وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تاکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرسکیں جب حضور پاک صل وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تو اس وقت کوئی فرقہ واریت نہیں تھی سب خدا کو ماننے والے تھے اور اس کے آخری نبی کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی کلمہ پڑھتے تھے جو کہ حضور پاک صل وسلم کا ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تھے لیکن آج انسان اللہ کی رضا تو چاہتا ہے لیکن فرقہ واریت سے باہر نکلنا چاہتا اس اسلام پر نہیں چلنا چاہتا جو حضور پاک صل وسلم لے کر آئے دنیا میں۔ حضور پاک صل وسلم نے کبھی فرقہ واریت کا حکم نہیں دیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کا دین ہے اسلام اس پر چلو تاکہ حق پر چل سکو۔ لیکن افسوس آج مسلمان فرقہ واریت میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو ہی کافر کہنے لگ گئے اور آخر میں ہم سب مسلمان پھر جاتے ہیں اللہ کی بارگاہ پر اور اس سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اللہ پاک ہمیں سیدھے راستے پر چلنے چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین 

    Twitter : @usamajahnzaib

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : سوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ میں کرومائیٹ کی روایتی کانکنی صرف اندازوں کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔ جس سے پیداواری لاگت زیادہ اتی ہے۔
    جدید مشینوں و اوزاروں کا مسلم باغ میں کوئی تصور ہی نہیں انسانی جسم کو  بطور مشین استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    کرومائٹ کی پرسنٹیج معلوم کرنے کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں۔کرومائیٹ پرسنٹیج معلوم کرنے کیلیے مسلم باغ میں سائنسی لیبارٹری کا قیام لازمی ہے۔
    اب بھی بیوپاری کرومائیٹ جانچنے کیلیے ایس جی ایس لیبارٹری کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تاجروں کو یہ سودے کئی گناہ مہنگا پڑتے ہیں۔ 

    حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا طریقۂ کار موجود نہیں کہ کانکنی کے احاطوں کا تعین ہو یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ یہاں ہر وقت مسائل پیداہوتے ہیں۔
    کرومائٹ کے کانوں میں کسی ایمرجینسی یا پھر خدانخواستہ کسی کان کے منہدم ہونے کی صورت میں ریسکیو کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔
    مسلم باغ کے سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چھیر کرکرومائٹ کے کانوں میں کام کرنے اور کرومائیٹ نکالنے والے لیبر کے بھی کچھ  بنیادی حقوق ہوتے  ہیں
    یہاں لیبر کی نہ کوئی رجسٹریشن ہے اور نہ ہی اسی حوالے سے کوئی متبادل  نظام موجود ہے۔کانوں سے کرومائیٹ کو نکالنے کیلیے جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے  وضع کر دہ مخصوص یونیفارم اور سیفٹی کے آلات ، جو محنت کشوں  کے بنیادی حقوق کے زمرے میں اتے ہیں ،مائن مالکان کانکنی کے ان اصولوں سے خود کو بری الذمہ تصور کرتے ہیں ۔ان اصولوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
    کرومائیٹ کانکنی کے لئے بارودی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث محنت کش ہمہ وقت حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
    کرومائیٹ کانکنی  انتہائی کٹھن، مشکل اور جان لیوا ہوتا ہے مگر محنت کشوں کو اپنے چولہے جلائے  رکھنے کیلئے انتہائی کم اجرتوں اور غیر ضروری و غیر قانونی طریقے سے  بغیر حفاظتی سامان کے ، ان کانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کرومائیٹ کی کانوں میں کام کرنے والے یہ محنت کش بارہ گھنٹے کے طویل اور غیر قانونی اوقات کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ محکمہ محنت اور افرادی قوت کے اہلکاران سالوں سال یہاں وزٹ نہیں کرتے جو قابلِ تشویش امر ہے ۔
    سائینٹیفک اصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں پر بڑی بڑی مشینوں کو استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا۔
    جدید مشینری کو اس علاقے میں لانے سے کرومائٹ کی یہ تجارت کافی تیزہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں زندگی کا ہر شعبہ ترقی پاسکتا ہے۔ کرومائیٹ ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
    کانکنی کے لیے بجلی،اور بارود کی عدمِ دست یابی ،انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی جو اس وقت ہر لحاظ سے کافی کٹھن ہے
    کرومائٹ کو صاف کرنے کے لیے جدید مشینری اور پانی کی شدید قلت ہے۔
    مسلم باغ کے کرومائیٹ کی صنعت ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت درجہ بالا مسائل حل کرنے میں مقامی تاجروں کی مدد کرتی ہے۔
    لہٰذا صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ترجیحات میں مسلم باغ کو شامل کر لیں اور اگر تاجر برادری کے ساتھ تعاون شروع کر دیں تو بے شک یہ علاقہ  معیشت و مجموعی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا  کرسکتا ہے اور ملک کے ہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
    اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی تجارت کے علاقے میں امن وامان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ تاجر برادری اس حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں ہر لمحہ اپنے جان و مال کی فکر رہتی ہے۔
    امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے حکومتی اداروں کا کردار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔یہاں اغواہ برائے تاوان کے کہیں گروہ منظم ہیں  کہیں لوگوں کو اغواہ کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان کی مد میں مغویان سے وصول کر کے مغویان کو چھوڑ دیا جاتا  ہے کہیں جرائم پیشہ اور اغواہ کار گروہ مسلم باغ میں سر گرم عمل ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت نے انھیں کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی ہے،اور نہ ہی ان کے جان و مال کے تحفظ کو  یقینی بنایا ہے۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan

  •  یوم دفاع (۳)  پاک بھارت جنگ 1965 کا پس منظر   تحریر: احسان الحق

     یوم دفاع (۳) پاک بھارت جنگ 1965 کا پس منظر تحریر: احسان الحق

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور کٹھ پتلی حکومتی پولیس کا کشمیریوں اور حریت پسندوں کے خلاف ظلم انتہا کو پہنچ گیا. بھارتی مظالم کو دیکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں نے 08 اگست 1965 کو ایک انقلابی کونسل کے قیام کا اعلان کیا اور بھارتی سامراج کے خلاف اعلان جنگ کر دیا. ساتھ ہی "صدائے کشمیر” کے نام سے ایک خفیہ ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا گیا. اسی صدائے کشمیر ریڈیو سے کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے اور ہمہ گیر جنگ کے لئے پیغام دیا گیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر کی آزادی کے خلاف اور بھارت کے لئے کام کرنے والے غداروں کو سزا دی جائے گی.

    جب انقلابی کونسل کے اعلان جنگ کے حوالے سے بھارتی حکومت اور فوج نے کوئی اثر قبول نہ کیا تو 9 اگست 1965 کو مجاہدین نے بھارتی فوج کی چوکیوں اور مورچوں پر شدید حملے کئے جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو شدید جانی نقصان ہوا. اسی روز صدائے کشمیر سے ایک 4 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا.

    ا. کشمیری عوام کٹھ پتلی حکومت کو کوئی محصول نہ دیں. عنقریب انقلابی کونسل محصولات اور مال گزار ی جمع کرنے کے لئے ایک مشنری قائم کرے گی.

    ب. کوئی بھی کشمیری بھارتی حکام یا کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرے، خلاف ورزی پر گولی مار دی جائے گی.

    ت. 9 اگست 1953 کے شہداء کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ہر شہید کا بدلہ لیا جائے گا. 

    ث. آزادی اور جمہوریت کے عالمی راہنماؤں کو تعاون کی اپیل کی جاتی ہے.

    صدر آزاد کشمیر عبدالحمید خان نے بھارتی مظالم کے خلاف اعلان کیا کہ کشمیری بھارتی سامراج کو دفن کر دیں گے. صدر عبدالحمید نے انقلابی مجاہدین اور حریت پسندوں کو آزاد کشمیر کی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا. 10 اگست 1965 کو حریت پسندوں نے اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا. حریت پسند سری نگر میں داخل ہو گئے اور دوسری طرف مجاہدین جموں سے چند میل کے فاصلے پر پہنچ گئے. صدائے کشمیر ریڈیو کے مطابق سری نگر میں 9 پلوں کو تباہ کر دیا گیا اور سری نگر-جموں شاہراہ کو بند کر دیا گیا. بھارتی فوج کے کئی ڈپو اور 4 پیٹرول پمپس کو آگ لگا دی گئی. مجاہدین کی کامیابی اور بھارتی فوج کی پسپائی دیکھتے ہوئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ غلام صادق نے بھارتی وزیراعظم لال شاستری سے ہنگامی حالت نافذ کرنے کی درخواست کر ڈالی.

    10 اگست کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے احتیاط سے کام لینے کی درخواست کی. اسی روز مجاہدین نے سری نگر سے 30 میل دور بارہ مولا کے قریب بھارتی فوج کی پوری بٹالین کو جہنم واصل کر دیا. اسی علاقے میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر مجاہدین نے دھاوا بول کر 40 بھارتی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 30 کو زخمی کر دیا. 4 روز کی لڑائی میں بھارت کے سو سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے جن میں 12 افسر بھی شامل تھے.

    انقلابی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ

    اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کے لئے کیا کیا؟

    اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کر لینے سے بھارت کے خلاف کیا کیا؟

    اقوام متحدہ نے ہزاروں کشمیریوں کو شہید ہونے سے کیوں نہیں بچایا؟

    انقلابی کونسل نے پاکستان پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خالی خولی وعدوں کی ضرورت نہیں اور نہ پاکستان کی وکالت کی ضرورت ہے. اب کشمیری اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے ہیں.

    11 اگست 1965 کو بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس طلب کیا. اجلاس کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچا کہ جس سے فوری طور پر حریت پسندوں کے حملوں کو روکا جاتا. 11 اگست 1965 کو برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ

    "مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی اکثریت مسلمان ہے اسی لئے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پر کشمیریوں کو رائے شماری کا حق نہیں دے گا”

    پانچ روز کی شدید لڑائی کے بعد حریت پسندوں کی لڑائی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا. 13 اگست 1965 کو مجاہدین نے سری نگر کے ریڈیو سٹیشن اور ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے بھرپور حملہ کیا. مجاہدین کی تعداد لگ بھگ 50 تھی اور اس حملے میں 4 بھارتی فوجی شدید زخمی ہوئے. اس شدید حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع گلزای لال نندا انقلابیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے سری نگر کے دورے پر آئے. 

    13 اگست 1965 کو بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کو دھمکی دے دی. حریت پسندوں کے شدید حملوں کی وجہ سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا جواب طاقت سے دیا جائے گا. 14 اگست کو مجاہدین نے سری نگر کے قریب زبردست حملہ کرتے ہوئے متعدد بھارتیوں کو ہلاک کر دیا.

    پے درپے شکستوں کے بعد بھارتی فوج اپنی بزدلی کا بدلہ لینے کے لئے عام اور نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کی انتہا کر دی. سری نگر کی نواحی بستی میں 300 لکڑی کے مکانوں کو نذر آتش کر دیا جس سے 250 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے. 15 اگست کو مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان سری نگر سے کچھ دور خونریز جنگ ہوئی جس میں 150 بھارتی ہلاک اور 35 سے زیادہ زخمی ہوئے. مجاہدین نے ایک بھارتی افسر اور تین فوجیوں کو قیدی بھی بنا لیا. 16 اگست 1965 کو بھارتی فوج آزاد کشمیر میں داخل ہو کر کارگل کی تین چوکیوں پر قبضہ کر لیا قبل ازیں مئی میں بھارت نے انہیں چوکیوں پر قبضہ کیا تھا جو کہ اقوام متحدہ کی مداخلت سے بھارت نے قبضہ چھوڑ دیا تھا. 16 اگست کو مجاہدین سری نگر کو فتح کرنے کے نزدیک تھے مگر بھارت جنگی طیاروں کو میدان میں لے آیا، بھارتی دعوے کے مطابق 141 مجاہدین شہید جبکہ 60 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے. 16 اگست کو چین نے حریت پسندوں کے حملوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی.

    17 اگست کو مجاہدین نے سرینگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے چاروں اطراف سے دھاوا بول دیا اور آٹھ چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک کر دیا. 17 اگست کو آزاد کشمیر کی اسٹیٹ کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی مدد کرنے کے لئے اعادہ کیا. 18 اگست کو مجاہدین کے ایک اور کامیاب حملے میں 33 بھارتی ہلاک ہوگئے.

    18 اگست 1965 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے پاکستان اور ہندوستان کے نمائندوں سے بات کی. 19 اگست کو پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کو خبردار کیا کیا دھمکیاں دینا بند کرو، جموں وکشمیر پاکستانی علاقہ ہے گوا، جونا گڑھ اور حیدرآباد کی طرح کشمیر پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے. اسی روز 19 اگست کو بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے جموں وکشمیر میں گوریلا جنگ چھیڑ رکھی ہے لہذٰا پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی. 19 اگست کو مجاہدین کے ہاتھوں 92 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے. سکھوں کی بٹالین کو حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے انکار کر دیا. کٹھ پتلی وزیراعلیٰ جی ایم صادق نے آزاد کشمیر پر حملے کرنے کی دھمکی دی.

    20 اگست 1965 کو حکومت نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں نے گزشتہ دس دنوں میں 12 مرتبہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی. 20 اگست کو ایک جھڑپ میں 32 فوجی ہلاک ہوئے اور دو اعلیٰ افسر گرفتار کر لئے گئے. 20 اگست کو روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی. 30 اگست کو بھارتی فوجوں نے ٹیٹوال سیکٹر میں حملے کئے.

    یکم ستمبر 1965 کو پاکستانی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئی اور جنگ بندی لائن سے 8 میل دور دو چوکیوں "چھب” اور "دیوا” پر قبضہ کر لیا. یکم ستمبر کو 8 گھنٹوں کی جنگ کے بعد مجاہدین نے دیوا، مونا وال، خیر وال، جوڑیاں، چھارپانی، پالن وال اور چھب پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا. اس کے بعد مجاہدین اکھنور اور جموں کی طرف پیش قدمی کرنے لگے.

    یکم ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکی دی. 2 ستمبر کو اوتھان نے پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی کی اپیل کی. اسی روز مجاہدین نے پونچھ کے شمال میں ایک بھارتی بٹالین کا صفایا کر دیا. 2 ستمبر کو جوڑیاں کی چوکی پر قبضہ کر لیا.

    پاکستان کے ہیرو میجر محمد سرور شہید جنگ 1965 کے پہلے پاکستانی شہید ہیں، انہوں نے بہادری سے چھب سیکٹر سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جوڑیاں کا قلعہ فتح کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرا دیا. 5 ستمبر کو پاک فوج اکھنور سے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور فوج اکھنور کے نواح میں پہنچ گئی جس کا اعتراف آل انڈیا ریڈیو نے اپنی نشریات میں کیا.

    6 ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آرتھر گولڈ برگ کی زیر صدارت ہوا. مندوبین نے ایک قرارداد منظور کی. قرارداد کی سفارشات اور تجاویز کے مطابق

    ا. تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی کی جائے.

    ب. تمام فوجی دستے 5 اگست 1965 سے پہلے والی جگہوں پر چلے جائیں. 

    ت. سیکرٹری جنرل اس قرارداد کو تمام متاثرہ علاقوں میں عمل کروائیں.

    ث. معاملے پر گہری نظر رکھی جائے تاکہ سلامتی کونسل غور کرے کہ اس علاقے کے لئے آئندہ کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • زیر عتاب صدور  شہباز اور بائیڈن   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    زیر عتاب صدور شہباز اور بائیڈن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    دو صدور اس وقت خاصے زیر عتاب ہیں

    ایک تو امریکی صدر،جنہیں آجکل افغانستان سے امریکن فوج کے انخلا کی وجہ سے ان کی اپوزیشن نشانہ بنارہی ہے۔

    جو بائیڈن پر گرجنے برسنے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی سنبھالے نہیں جا رہے۔

    امریکی صدر نے اپوزیشن کی طرف سے آڑے ہاتھوں لیے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دل کی بھڑاس نکالتے ہوۓ بتایا ہے کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ صرف اس کا نہیں تھا،

    اس فیصلے سے پہلے دیگر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول فوجی جرنیلز اور وزیر دفاع کے،

    ہر ایک سے بات کی گئی اور تب باہم رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

    امریکی صدر کے لئے تو چلیں اسکی اپوزیشن وبال جان بنی ہوئ ہے مگر ایک صدر ایسا بھی ہے،

    جسے اُس کی اپنی ہی پارٹی نے آجکل تتے توے پر بٹھایا ہوا ہے۔

    جی آپ ٹھیک سمجھے !

    میری مراد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف سے ہے،

    جن کی زندگی ان کی اپنی بھتیجی مریم صفدر نے اجیرن کر رکھی ہے۔

    یہی سیاست کی بے رحم فطرت ہے کہ اس میں اقتدار کے لالچی لوگ خون کے رشتے تک فراموش کر دیتے ہیں۔

    جب سے نوازشریف سب کو چُونا لگا کر لندن گیا ہے،

    اُس وقت سے شہباز شریف کو بطورڈمی صدر سامنے لایا گیا مگر مریم اینڈ کمپنی نے شہباز شریف کی ایک نہیں چلنے دی۔

    شہباز شریف کی کہی گئی ہر ایک بات کو مریم اور اسکے ہمنوا جوتے کی نوک پر رکھے ہوۓ ہیں۔

    مگر حیران کن طور پر شہباز شریف کی صدارت کا سفر جاری ہے۔

    لگتا یہی ہے کہ سیاست کے سینے میں درد کے ساتھ ساتھ شرم بھی نہیں ہوتی،

    وگرنہ جس طرح شہباز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے،

    ایسے میں عہدہ صدارت سے چمٹے رہنا ڈھیٹ بن کر کسی درخت سے لٹکنے کے مترادف ہے۔

    گندی سیاست کے رنگ و روپ پر غور کریں تو صاف پتہ چلے گا کہ شہباز شریف کی مریم اور اسکے حواریوں کی طرف سے دُرگت بناۓ جانے میں بڑے میاں ساب کا بھی ہاتھ ہے۔

    ورنہ اگر نواز شریف نہ چاہے تو شہباز شریف کو یوں رسوا کیسے کیا جا سکتا ہے؟

    شہباز شریف کو صدر بھی رکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی اسے اسکی اوقات میں بھی رکھا جا رہا ہے۔

    شہباز شریف کی کہی گئی زیادہ تر باتوں کی برملا تردید کا فریضہ شاہد خاقان عباسی ادا کر رہا ہے۔

    شہباز شریف اگر دن کہے تو عباسی مریم کے اشارے پر رات کہہ دیتا ہے،

    حتی کہ ایک دفعہ تو شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کو وارننگ کے انداز میں سوچ سمجھ کر بات کرنے کو بھی کہہ دیا تھا۔

    اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی عہدہ صدارت سے چمٹے رہنے ہی میں شہباز شریف کی بقا ہے۔

    اسی میں اسکی عافیت ہے۔

    کیونکہ جتنے سنگین قسم کے کرپشن کیسز اس پر چل رہے ہیں،

    اسے مسلم لیگ ن کے شیلٹر کی سخت ضرورت ہے۔

    کیونکہ پاکستان کے تمام بدعنوان سیاستدان اپنی اپنی کرپشن کو چھپانے اور بچانے کے لئے اپنی اپنی پارٹیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔

    شہباز شریف کی بھی مجبوری ہے کیونکہ وہ تو ویسے ہی مع اہل وعیال مبینہ طور پر کرپشن کے گڑھے میں گردن تک دھنسا ہوا ہے،

    اور پھر اسے پتہ ہے کہ ابھی تک ن لیگ میں نواز شریف کی چلتی ہے۔

    ایسے میں وہ پارٹی چھوڑ کے کہاں جاۓ گا؟

    نواز شریف نے پاکستان سے باہر ہونے کے باوجود پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئ ہے،

    یہی وجہ ہے کہ اسکے نام نہاد بیانیوں سے اختلاف کرنے والوں کو کارنر کر دیا جاتا ہے۔

    شہباز شریف کو نواز شریف اور مریم کے ریاست مخالف بیانیے سے بھی شدید اختلاف ہیں مگر وہ اپنی سیاسی اور زاتی مجبوریوں کے آگے بے بس ہے۔

    کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ن لیگ کو تباہ کرنے میں مریم کا کلیدی کردار ہے۔

    مریم کی ان تباہ کاریوں پر شہباز شریف کئی دفعہ نواز شریف کو شکایت بھی لگا چکا ہے مگر نواز شریف کا ووٹ ہمیشہ مریم کے ملک دشمن بیانیے کی حمایت میں ہوتا ہے،

    کیونکہ نواز شریف کو پتہ چل چُکا ہے کہ نہ تو عمران خان اور نہ ہی اسٹیبلش منٹ اسے کسی قسم کا ریلیف دینے کو تیار ہے۔

    ہر طرف اندھیری رات دیکھتے ہوۓ نواز شریف نے سیاست کی آڑ میں ملک و قوم کے خلاف جوڈرٹی گیم شروع کر رکھی ہے،

    بظاہر شہباز شریف اپنے آپ کو اس غلیظ بیانیے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے آپ کو ریاست کے سامنے اچھے بچے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے،

    مگر ہر بار اسکی یہ کوششیں ناکام کرنے کے لیے اسکی اپنی بھتیجی دم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہے۔

    اور شہباز شریف ایک بار پھر شوباز بن کے رہ جاتا ہے۔

    ویسے شہباز شریف کی یہی بھتیجی،

    جو باپ سمیت اپنے آپ کو کشمیری اور کشمیر کی بیٹی کہتے نہیں تھکتی،

    اُس کی زبان بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی مرحوم و مغفور کے انتقال پُرملال پر کیوں گنگ ہے؟

    کیا تعزیت کرنے سے مودی چچاکی ناراضگی کا ڈر ہے؟

    ویسے تو شہباز شریف اور مودی دونوں ہی مریم کے چچا ہیں۔

    مگر سگے والےکو اتناٹف ٹائم دینا اور مونہہ بولے کا اتناخوف کہ

    کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ایک عظیم بانی راہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر تعزیت تک ندارد

    کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ؟

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Sent from my iPhone

  • حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

    حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

    اسلام نے نکاح کو مرد و عورت کے لیے خیر و برکت کا سبب قرار دیا ہے۔ 

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں ) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراو اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں ان کا بھی ۔ 

    اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کردے گا اور اللہ بہت وسعت والا ہے ، سب کچھ جانتا ہے۔”

    نکاح کو خیر و برکت کا سبب قرار دینے کے ساتھ ساتھ، شخصی مسرت کی تکمیل میں کسی رفیق حیات کی رفاقت، میاں بیوی کی باہمی موافقت اور میل جول کو اسلام نے بہت اہمیت دی ہے۔ میاں بیوی کی باہمی محبت ورحمت کو اپنی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ سورہ روم میں ارشاد باری تعالی ہے: ” اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت و رحمت کے جذبات رکھ دئیے ، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔” اور ان لوگوں کی سخت برائی کی ہے جو شوہر اور بیوی کے باہمی میل جول، محبت و اخلاص میں تفرقہ ڈالیں۔ 

    سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے: پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ ویسے یہ واضح رہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔ مگر  وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔” 

    میاں بیوی کی باہمی میل جول، آپس کی محبت والفت کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ ازدواجی زندگی پر لطف اور خوشگوار کیسے بنتی ہے؟ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری اور شوہر کو بیوی کی دلجوئی کرنا ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنانا ہوگی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے ازدواجی زندگی کے بارے میں ہمیں جو تعلیمات ملتی ہیں ذیل میں چند ذکر کیے جاتے ہیں: گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کے حوالے سے ارشاد فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہے”۔ 

    بیوی کے حقوق کے سلسلے میں ایک عابد و زاہد صحابی کو بلوا کر فرمایا: ” اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے "۔ حجة الوداع کے موقع پر فرمایا: "عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو”۔ 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عملی زندگی میں اپنی ازدواج مطہرات کے ساتھ محبت فرماتے تھے، چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یارسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ فرمایا:

    عائشہؓ ۔ انہوں نے عرض کیا: ”مردوں میں کون پسند ہے۔ فرمایا: ”عائشہؓ کا والد”۔ اظہار محبت کرتےاورخوبصورت نام سے بلاتے تھے۔

     ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہیں تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا:حمیرہ! میرے لیے بھی پانی بچا لینا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی بچایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے کہاں پر لب لگا کے پیا؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جگہ بتائی کہ یہاں سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کا رخ پھیرا اور جہاں سے زوجہ محترمہ نے پانی پیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے لب مبارک اسی جگہ لگا کے پانی نوش فرمایا۔”

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومینین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے، ان کی دلجوئی فرماتے اور خوش طبعی کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں زیادہ ہنسنے والے، تبسم فرمانے والے تھے۔ 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی سیر و تفریح کا خیال رکھتے تھے۔ ایک سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ تم آگے چلو، اور خود اپنی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور ان سے فرمایا:

    ”اے عائشہ! کیا میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروگی؟” انہوں نے کہا: ”ہاں”۔ چونکہ اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کم تھی اور جسم ہلکا تھا تو مقابلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جیت لیا۔ 

    کچھ عرصے بعد جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جسم بھاری تھا ان کے درمیان پھر دوڑ کا مقابلہ ہوا اس دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے اور فرمایا: ”اے عائشہ یہ اُس پہلے مقابلے کا بدلہ ہے”۔ 

    گھر والوں کے ساتھ وفاداری کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا، اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سہیلیوں کا خیال رکھتے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے،کپڑے پر پیوند لگا لیتے، جوتے کی اصلاح فرما دیتے، پھٹا ہوا ڈول مرمت فرما لیتے تھے۔حضرت اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ مسجد تشریف لے جاتے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی عزت واحترام کرتے۔ایک سفر میں اپنی اہلیہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ کے قریب بیٹھے اور اپنا گھٹنا مبارک یوں رکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوں۔ سو آپ ﷺ کی اہلیہ امی صفیہ رضی اللہ عنہا نے مبارک زینے پر پاؤں رکھا اور اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ 

    اپنی بیوی کے ساتھ محبت، نرمی کا برتاؤ، خوش طبعی، بے تکلفی، اس کی دلجوئی اور حقوق کی ادائیگی گھر کو جنت بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تعلیمات پر عمل کرنا اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ضروری ہے ، اسی سے ازدواجی زندگی خوشگوار اور پر لطف ہوسکتی ہے ۔

    Twitter

    | @AdnaniYousafzai

  • وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    ‏وقت کی پابندی

    ہر کام کو وقتِ مقررہ پر کرنے کا نام وقت کی پابندی ہے۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہیں، آنے والے وقت کے لئے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں مگر حال کو بلکل فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرنے کی بجائے موجودہ وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنی چاہیئے اور اس سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو روشن بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیئے۔

    اکثر لوگ وقت کی قدر و قیمت کا احساس نہیں رکھتے، کاش وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ وقت ایک انمول خزانہ ہے، اسے مفت میں نہیں گنوانا چاہیئے کیونکہ گزرا ہوا وقت کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا۔ ہم محنت سے روپیہ کما سکتے ہیں، دوا،پرہیز اور عمدہ خوراک سے کھوئی ہوئی صحت واپس لا سکتے ہیں، تعلیم ، نیک چلنی اور رفاہِ عامہ کے کاموں سے عزت اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی تمام تر فہم و فراست ، اثر و رسوخ اور دولت و ثروت کے باوجود گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس نہیں لا سکتے۔
    ایک قول مشہور ہے کہ سکندر اعظم نے مرتے وقت کہا تھا ” کوئی میری تمام سلطنت لے لے اور مجھے جینے کے لئے چند لمحے اور دے دے ” لیکن ایسا کون کر سکتا تھا ؟

    اگر ہم غور سے دیکھیں تو کائنات کا پورا نظام ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ دن اور رات اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے ہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتے ہیں۔ چاند اپنے مقررہ وقت پر گھٹتا اور بڑھتا ہے ۔ سورج اپنے متعین وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ فطرت کے ان عناصر کے پروگرام میں کبھی کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھی گئ۔
    وقت کی پابندی زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو جب تک وقت کا پابند نہیں ہوگا کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکے گا۔

    مختصر یہ کہ جن لوگوں نے وقت کی قدر نہ کی، زمانہ ان سے روٹھ گیا۔ دولت اور حکومت ان سے منہ موڑ گئ۔ وہ خاشاک کی طرح بحرِ زندگانی میں بے مقصد بہتے رہے اور پھر اسی حالت میں ختم ہو گئے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو وقت کی قدر و قیمت کو سمجھے اور کوئی لمحہ بیکار نہ گزارے۔ انسان کو بیکار رہنے کے لئے نہیں بنایا گیا ، بلکہ فطرت بھی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کام اپنے وقتِ مقررہ پر کرتا رہے۔

    گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
    سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 1 تحریر خالد عمران خان

    ایک مشکل فیصلہ ماں باپ کے لیے الگ ہونا اور اس وقت اور مشکل جب میاں بیوی اور خاندان میں بچے بھی ہوں تو اس قسم کا فیصلہ آپ میاں بیوی کی زندگی کے علاوہ سب سے زیادہ اثرات آپ کے بچوں پر چھوڑ دیتا ہے اور ایسے اثرات جن کا سدباب آپ ساری عمر نہں کر سکتے۔
    طلاق خاندان کے لیے مشکل وقت ہوسکتا ہے۔ والدین صرف ایک دوسرے سے تعلق بہتر بنانے کے طریقے پے توجہ دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا اس طرح کے فیصلوں سے ،اور کافی سارے ادارے بھی اس مسئلے کے بہتر حل کے لیے کام کر رہے ہیں ان سے مشورہ کریں. جب والدین طلاق دیتے ہیں بچوں پر طلاق کے اثرات مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں۔ کچھ بچے فطری اور سمجھنے والے انداز میں طلاق پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں ، جبکہ کچھ بچے اس کی وجہ سے مشکلات میں
    آجاتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ جدوجہد کر تے ہیں

    بچے لچکدار ہوتے ہیں اور ان کو سمجھاتے ہوئے اِنکی مدد کے ساتھ طلاق معاملات کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ایسے وقت میں انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کے ماں پاب اپنے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نہں دے پا رہے ہوتے اور یہ بچے کے مستقبلِ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں اور اس کے معاشرتی رویئے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے ایسے وقت بچوں پر بھی خاص وجہ دیں اور بدلتے حالات میں ان کو ساتھ ساتھ سمجھاتے رہیں.ان کو طلاق سے پیدا ہونے والے بحران سے کچھ حد تک بچایا جہ سکتا ہے.اور انکو دما غی طور پر تھوڑا بہت تیار کیا جا سکتا ہے اس بحران سے نکلنے یہ اس کو قبول کرنے لیے ۔ چونکہ طلاق ہونے کی عورت میں بچوں کے رویے بھی مختلف ہوتے ہیں (مختلف مزاج ، مختلف عمریں) ، بچوں پر طلاق کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بچے خاندان کے حالات کو سمجھتے ہیں اور انکی طبیعت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تفصیل سے سمجھیں.

    ماں باپ کا کے ہونے والے اختلاف بچوں کے لیے ، خاندان کی بدلتی ہوئی حرکیات کو سمجھنے کی کوشش کرنا انہیں پریشان اور الجھا کر رکھ سکتا ہے۔ ماں باپ کی سوچ اس طرف نہں جاتی جب گھر میں جھگڑے کا ماحول رہے اور بچوں سے توجہ ہٹ رہی ہو ایسے صورت میں جو توجہ آپ ان کی روز مرہ ان بچوں پے دیا کرتے ہیں وہ آپکے لڑائی جھگڑے پے صرف ہو رہی تو یہ چیز بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے. بچے اپنے والدین کی توجہ ہٹنے کو محسوس کرتے ہیں۔ اور لڑائی جھگڑے کے ماحول کی وجہ سے نے خوش رہتے ہیں بچوں کے مزاج میں خطرناک حد ٹک تبدیلی بچوں میں لڑائی جھگڑے کی عادت کا پر جانا اور اس کی وجہ سے جو سب سے اہم مسئلہ کھڑا ہوتا ہے وہ ہے بچوں کی تعلیم پر پڑنے والے برے اثرات بچوں پر طلاق کے اثرات میں سے اھم ترین مسئلہ اِنکی تعلیمی کارکردگی میں دیکھا جا سکتا ہے بچے جتنے زیادہ پریشان ہوتے ہیں اپنی توجہ پڑھیں پے مرکوز نہں کر پا تے صحیح طرح، اتنا ہی امکان ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسکول کے کام پر توجہ نہ دے پائیں اور اسکول میں اور بچوں کے ساتھ بھی انکا رویہ تبدیل ہورہا ہوتا ہے بچہ اس چیز کا بہت زیادہ اثر لے رہا ہوتا ہے ہمیں یہ سب سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK