Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    شرم و حیاء کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کچھ لوگوں نے حیاء لفظ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور اس لفظ کو عورت کی ذات تک محدود کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ حیاء کا تعلق صرف عورتوں سے ہی نہیں بلکہ مردوں سے بھی ہے۔ آج کے دور کے مردوں نے اس لفظ سے ناواقفیت اختیار کر لی یے۔ کچھ بھی ہو جائے کہیں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا اسے حراساں کیا جائے تو بہت سے مونہوں سے ایک بات نکلتی ہے کہ عورت پردہ کرے۔

    جب عورت پردہ نہیں کرے گی اور گندے سے گندہ لباس پہنے گی تو مرد کی نظریں تو خود ہی اٹھیں گی۔ جیسے حیاء دار ہونا صرف عورت کے لیے ضروری ہے مرد کا تو اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایسے ذہن کے مالک مردوں کے لیے میں بتاتی چلوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بہت شرم و حیاء والے تھے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے تھے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے اسلام میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ پردہ کریں اپنے چہرے اور جسم کو نامحرموں سے چھپائے تاکہ کوئی اس پر بری نگاہ نا ڈال سکے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے تاکہ کسی عورت کے لیے تکلیف کا باعث نا بن سکے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:
    "مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کری، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بے شک اللّٰہ ان کے کاموں سے خبردار ہے” (النور: 30)

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مردوں کے لیے بھی شرم و حیاء کے احکامات موجود ہیں۔ پر افسوس آج کے دور میں بےحیائی عام سے عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ عورت مرد سے بڑھ کر جبکہ مرد عورت سے بڑھ کر بےحیائی کا دلدادہ ہوتے ہوئے تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شرم و حیاء کا جو درس قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے کیا آج ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔

    کیونکہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ عورت نامحرم مردوں اور مرد نامحرم عورتوں کو ایک نگاہ تک نا ڈالیں اور اگر پہلی نگاہ غلطی سے اٹھ بھی جائے تو معافی ہے پر دوسری بار نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا یے۔ حضرت جریر بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر اچانک سے کسی نامحرم عورت پر نظر پڑھائے تو کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر پھیرلو، اگر اچانک نظر پڑھ جائے تو معافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر نگاہ اٹھائی تو گناہ ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو خواتین کو ان کی نگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ” حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حضرت میمونہ بھی تھیں تو سامنے سے حضرت عبداللّٰہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے یہ واقعہ پردے کے حکم سے بعد کا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں پردہ کرو، میں نے عرض کیا یا رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں؟ رسول پاک نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو انہیں نہیں دیکھتی ہو” (امن ابو داؤد، جلد نمبر سوم، حدیث نمبر 720)

    اب مرد و عورت کے لیے شرم و حیاء کو اپناتے ہوئے اپنی نگاہوں اور اپنی ذات کی خود حفاظت کرنا کس قدر ضروری ہے اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسے اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا لیکن کیا آج ہم لوگ یہاں اسلام کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے بےحیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ صرف ایک دو چار لوگوں سے ممکن نہیں اب سب کو مل کر اس بےشرمی اور بے حیائی کلچر کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • نشہ ایک لعنت یا فیشن تحریر : شاہ زیب

    نشہ ایک لعنت یا فیشن تحریر : شاہ زیب

    منشیات انسان کو سکون دینے کے دھوکے میں رکھ کر بربادی تک لے جاتا ہے، نشے کے استعمال سے انسان ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس سے مختلف نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔۔
    گزرتے وقت کے ساتھ نشے کے استعمال میں نہ صرف دنیا میں بلکہ پاکستان میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دس ملین افراد اس لعنت کا شکار جن میں زیادہ تعداد نوجوان نسل کی ہے سب سے زیادہ 25 سے 30 سال کے افراد اس کے بعد 15 سے 24 سال تک کے افراد ہیں۔ جن میں ابھی اَسی مرد اور بیس فیصد خواتین کی ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ 350 ٹن سے زائد افغان منشیات پاکستان میں سالانہ کے حساب سے استعمال ہو رہی ہے جو کہ ایک بڑی مقدار ہے۔
    پہلے لوگ محبت یا پریشانیوں سے تنگ آکر نشے میں پناہ ڈھونڈتے تھے ان کے خیال میں وہ اس دنیا سے کٹ کر سکون حاصل کرتے تھے لیکن اج حالات بلکل مختلف ہیں آج نشہ ایک فیشن یا سٹیٹس سمبل بن گیا ہے ہائی کلاس کے لوگ اس کو ایڈونچر کے طور پر لینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی بن جاتے ہیں۔
    ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں ہیں نشے کی عادت ہماری نوجوان نسل میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے مستقبل کے معماروں کو منشیات کے شکنجے میں جکڑ کر ان کو تعلیم سے دور اور پاکستان کو ترقی سے دور کیا جارہا ہے
    طلباء طالبات کو مختلف منشیات جیسے کہ چرس ہیروئن، افیم، شیشہ ، آئس جیسے مہلک نشے میں مبتلا کیا جا رہا ہے
    نشہ کو ایک برائی یا ایک لعنت سمجھنے اور اس سے دور رہنے کی ترغیب دینے کی بجائے اس کو فیشن بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور وہ ذہین لوگ جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک کی ترقی میں حصہ لینا ہوتا ہے وہ اس جال میں پھنس جاتے ہیں
    اور پھر نہ صرف اپنی زات اپنا کیرئیر اپنی زندگی تک کو برباد کر لیتے بلکہ مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہو کر اپنے ساتھ جڑے دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں ان کی سرگرمیوں پر دھیان دیں حکومت کو منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے بلکہ ایک قانون بنائیں کیونکہ اس کی اشد ضرورت ہے نشے میں مبتلا افراد کی مدد کرنا صرف ان کے والدین یا حکومت کی ہی نہیں ہماری بھی زمہ داری ہے ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تاکہ ان کو با اختیار بنائیں تاکہ لوگ اس لعنت کی جانب کم سے کم متوجہ ہوں اور جو اس کا عادی ہو اس کو پیار سے سمجھائیں تاکہ وہ اس نشہ سے چھٹکارا پا سکے نہ کہ ان سے نفرت کریں اس طرح وہ مزید اس دلدل میں پھنستا چلا جائے بطور شہری ہم سب کو اس کی روک تھام کے لیے زمہ داری ادا کرنی چاہیے شکریہ

    @shahzeb___

  • ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    ملک میں ایک بار پھر خواتین کے حقوق پر ہنگامہ،    تحریر: عرفان رانا

    پچھلے 1 ہفتے سے آپ نے دو نام ضرور سنیں ہوں گے، اگر آپ سوشل میڈیا کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے، تو وہ دو نام ہیں عائشہ اور ریمبو

    14 اگست کی شام سات بجے کے قریب مینار پاکستان پر عائشہ نامی ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والی حراسگی کے واقعے نے ملک میں ایک مرتبہ پھر خواتین کے حقوق پر بحث چھیڑ دی، اور عورت مارچ کے نام سے مشہور خواتین کے حقوق کے ایک تنظیم نے اس واقعے پر پورے ملک میں شورشرابہ شروع کر دیا، لیکن یاد رہے جب حکومت نے چند عرصہ پہلے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سرعام پھانسی کیلئے بل لانے کا اعلان کیا تو اس تنظیم کے منتظمین نے اس کی مخالفت کی، جس کے بعد اس تنظیم کے کردار پر شکوک وشبہات پیدا ہوگئے، اس سے پہلے بھی اس تنظیم نے میرا جسم میری مرضی جیسی غلیظ نعرہ لگاکر تنظیم کے کے کردار کو خوب بے نقاب کر دیا، اگر ہم غور سے دیکھیں تو مغربی ممالک میں یہ واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، حال ہی میں ڈی جی رینجرز سندھ  نے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوتی، اور پاکستان میں تین چار واقعات پر شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی اور اسے ایوارڈ بھی مل گیا، ڈی جی رینجرز کا یہ  بیان سو فیصد درست ہے،   پاکستان میں میڈیا بھی ایسے واقعات کو پلانٹڈ طریقے سے رپورٹ کرتے ہیں، جن کو اکثر غلط رنگ دے کر ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہے، لیکن سارا میڈیا قصور وار نہیں ہے جیسا کہ جیو نیوز کے  اینکر انصار عباسی ہر پروگرام میں دین پر مبنی دلائل دینے کی وجہ پاکستان میں کافی مقبول اینکر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور عباسی ان تجزیوں کی وجہ سے اکثر پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرتا ہے ، یہاں ایک سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر خواتین کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے تو عورت مارچ کے منتظمین ان پامالیاں کرنیوالوں کو سرعام پھانسی جیسی سزا دینے کیخلاف کیوں ہے؟ خواتین کو جتنے عزت اور حقوق  اسلام نے دیے ہیں کسی اور مذہب نے نہیں دیے، پھر آخر اس ملک میں خواتین کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل کیوں نہیں ہورہی؟ عورت مارچ کے تنظیم کے لوگوں کی اکثریت امریکہ یا دوسرے مغربی ملکوں میں موجود ہے، جو پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی کوئی موقع ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتے، آئے روز یہ لوگ پاکستانی ریاست اور ان کے اداروں پر تنقید میں بھی سرفہرست ہوتے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر ایک خاتون اسلامی جمہوریہ ملک میں رہ رہی ہو، اور اس ملک کا آئین دنیا کے سب سے بہترین اورعادلانہ نظام اسلام کے اصولوں پر استوار ہو تو پھر مغربی ممالک میں بیھٹے ان لبرلز کے غیر شرعی بیانات کو آخر پاکستان میں کیوں اتنی اہمیت دی جاتی ہے؟  کیا ہمیں بطور ایک ذمہ دار شہری اپنے ملک میں ان واقعات پر  کھل کر اپنے مذہب کی روشنی میں دلائل سے بحث نہیں کرنی چاہیے؟  یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کررہے ہیں

    Twitter @Ipashtune

  • پاکستان میں موجودہ سیاسی منظر نامہ   تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں موجودہ سیاسی منظر نامہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں 1952 میں پیدا ہونے والا، برطانیہ میں تعلیم یافتہ، مغربی ثقافت سے بہت اچھی طرح واقف ، پھر بھی مضبوط روایتی اقدار سے آراستہ ، پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ وہ اپنی ایمانداری ، انسانیت سے محبت اور عظیم قائدانہ خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری میں ایک بصیرت مند عالمی رہنما کے طور پر پیش کیا ، خاص طور پر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے بعد ، جس نے انہیں بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔

    انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے لیے 22 سال جدوجہد کی۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بھی ہیں-ایک سیاسی جماعت جو انہوں نے 1996 میں بنائی تھی۔ عام انتخابات 2018 کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں 270 میں سے 116 نشستیں جیتیں اور سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیا۔

    اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی نے ممکنہ مستقبل کی حکومت کے لیے 100 دن کے ایجنڈے کا اعلان کیا۔ ایجنڈے میں حکومت کے تقریبا تمام شعبوں میں وسیع اصلاحات شامل ہیں ، بشمول جنوبی پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنانا ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ، کراچی میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور بہتری بلوچ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اپنی پہلی وضاحت میں ، اس نے اعلان کیا کہ جیسا کہ وہ چین سے متاثر ہے ، انہوں نے غربت اور بدعنوانی کو کیسے ختم کیا ، وہ چینی تجربے سے سیکھنا چاہیں گے۔

    پی ٹی آئی کو ایک تحریک کے طور پر تصور کیا گیا تھا کہ وہ اس نظام کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کے لیے لڑے جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ چارٹر میں رکھا تھا ، جو ماڈل اسلامی ریاست کی بنیاد تھی ، قانون کی حکمرانی پر مبنی ایک مساوی معاشرہ اور معاشی انصاف انسانی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست ہے۔ یہ انصاف اور مساوات کے اصول ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا تصور کیا ، اور یہی اصول پی ٹی آئی کی بنیاد ہیں۔

    اپنی انتخابی مہم کے دوران ، اس نے پاکستانی عوام کے ساتھ کئی وعدے کیے ، اور عوام نے اس پر اعتماد کیا اور اسے ووٹ دیا۔ پاکستان میں یہ ایک بہت ہی غیر معمولی الیکشن تھا ، روایتی سیاست کے خلاف ، اکثریت نے اسے ووٹ دیا ، خاص طور پر متوسط ​​طبقے ، پڑھے لکھے لوگوں اور نوجوانوں اور خواتین نے۔ وہ بانی پاکستان اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کی تاریخ میں تیسرے مقبول ترین رہنما کے طور پر ابھرے۔

    پاکستان کے لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ انہیں ووٹ دیں اور ان پر اعتماد کریں۔ بدقسمتی سے ، زیادہ تر توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ زندگی کی قیمت بڑھ گئی ہے ، آٹا ، چینی ، پٹرول کی قلت ، مہنگائی ، کرنسی کی قدر میں کمی ، بے روزگاری ، بجلی کی قلت وغیرہ عام مسائل ہیں جو عام آدمی کو مار رہے ہیں۔ پھر بھی ، اسے مقبولیت حاصل ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مخلص ہیں اور اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ان کی ٹیم اسی پیج پر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ عوام اب بھی اس پر الزام نہیں لگاتے بلکہ اپنی ٹیم پر الزام لگاتے ہیں۔

    درحقیقت ، یہ مانا جاتا ہے کہ اگرچہ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ان کی کچھ نیکیوں کی وجہ سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے پسند کیا اور انہیں پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کیا۔ لیکن یہ پی ٹی آئی کی قیادت والی حکومت نہیں ہے۔

    ان کی ٹیم میں غیر منتخب ممبران ، غیر ملکی امپورٹڈ ممبرز ، دوہری قومی ممبران ، الیکٹ ایبل ایلیٹ شامل ہیں ، جو حال ہی میں ان کی حکومت میں بہتر عہدے حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ سخت گیر ، پی ٹی آئی کارکنان اس کی حکومت سے باہر ہیں یا کچھ غیر اہم عہدوں پر بہت کم فیصد۔ مثال کے طور پر ، سب سے اہم فنانس ہے ، غیر پی ٹی آئی کی قیادت میں ، گورنر اسٹیٹ بینک ، غیر = پی ٹی آئی کی قیادت میں ، اسٹریٹجک پلاننگ ، غیر پی ٹی آئی کی قیادت میں ، وزارت داخلہ ، ایک بار پھر پی ٹی آئی کی زیر قیادت ، کامرس ، دوبارہ ایک غیر پی ٹی آئی کی قیادت ، وغیرہ۔

    پی ٹی آئی کے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ سابقہ ​​حکومتوں نے اپنے دور میں درآمد شدہ ، غیر منتخب اور دوہری شہریت حاصل کی۔ یہ سچ ہے ، پچھلی حکومت نے بھی اسی طرح کے کام کیے ، لیکن ان کا کیا ہوگا؟ کیا پاکستان کے لوگ ان کے عمل کو پسند کرتے ہیں؟ انہیں دوبارہ ووٹ دیا؟ اگر وزیر اعظم عمران خان بھی ان کے راستے پر چلیں اور انہیں اسی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    ہم نے پی ٹی آئی کو تبدیلی ، اصلاحات ، میرٹ کریسی ، انصاف ، مساوات ، جمود کی تبدیلی اور مکمل تبدیلی کے لیے ووٹ دیا۔ پاکستان کے لوگ بہت قربانیاں دے سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو ایک مقصد کے لیے ووٹ دیا ہے۔ یہ خوفزدہ ہے کہ اگر وجہ پیش نہ کی گئی تو پاکستان کے لوگ مختلف سوچ سکتے ہیں۔ پاکستان مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تیزی سے ابھرتا ہوا جیو پولیٹیکل منظر نامہ ہمیں اندرونی طور پر کوئی پریشانی نہیں ہونے دے گا۔

    تاہم پاکستان میں غیر جانبدار ، دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ کیا وہ اتنا بے بس ہے؟ کیا اس کی ٹیم بنانا اس کی اپنی پسند نہیں تھی؟ اس کی پسند کی ٹیم بنانے کے لیے کیا دباؤ تھا؟ اور اسی طرح کے بہت سے سوالات۔ کم از کم ، لوگ اس پر الزام لگا سکتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کو میرٹ ، ایمانداری ، اخلاص ، پاکستان کے ساتھ وفاداری کی بنیاد پر نہیں بنا رہا۔ یہ تجویز کیا جاتا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ بہت دیر ہونے سے پہلے عوام کو کیسے مطمئن کیا جائے۔

    @Z_Kubdani

  • نمود و نمائش تحریر:فاروق زمان

    نمود و نمائش تحریر:فاروق زمان

    نمود و نمائش بلا شبہ ایک خطرناک مرض یے۔ نمودو نمائش وہ عمل ہے جس میں لوگ اپنی دولت جائیداد اور مادی اشیاء کا دکھاوا کرتے ہیں اور ایسا کر کے خوشی اور برتری جیسے جذبات محسوس کرتے ہیں۔ نمود و نمائش اور دکھاوا لوگوں کی زندگی کا محور بن چکا ہے۔ لوگوں نے اپنے مال واسباب انسانیت کی بہتری کے لیے مہیا کرنے کی بجائے لوگوں کی دل آزاری اور تخریب کاری کے لیے استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ جس کے پاس بھی دولت ہو وہ اس کی نمائش ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ نمود و نمائش انسان کی زندگی میں تباہکاریاں لاتی ہے۔ نمود و نمائش اور دکھاوا خمار کی طرح لوگوں کو چمٹ کر رہ گیا ہے۔ لوگ نمودو نمائش کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے مال و اسباب، دولت و جائیداد کی دوسروں کے سامنے نمائش لگانا اور خود کو برتر ثابت کرنا ہی آج کے حضرت انسان کا شیوہ ہے۔ لوگ نمود و نمائش کرتے ہیں، خود کو دوسروں پر برتری ثابت کرتے ہیں اور اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔ اور مادی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ ایسی خوشی اور جذبات کبھی بھی دیرپا یا سکون آور نہیں ہوتے۔ جھوٹی شان و شوکت کے غرور میں میں سکون و اطمینان کی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لوگ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اس کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔
    لوگ شادی بیاہ او دیگر تقریبات پر فضول رسم و رواج وغیرہ میں نمود و نمائش کی غرض سے اسراف کرتے ہیں۔جہیز، ملبوسات، زیورات اور نہ جانے کتنی ہی فضول اور غیر ضروری رسوم پر پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے۔  لوگ دکھاوے کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کو ایسا کرنے میں بہت سی مشکلات سامنے آتی ہیں اور وہ اس نمود و نمائش کے میں زندگی بھر کے لئے مقروض ہو جاتے ہیں۔
    نمود و نمائش کی دین اسلام میں سخت ممانعت کی گئی ہے ۔ نمود و نمائش تکبر کی علامت ہے۔ جس سے لوگ خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں۔ ۔اللّلہ نے اچھا کھانے پینے، پہننے اوڑھنے سے منع نہیں فرمایا لیکن اس سب میں بے جا اسراف اور نمود و نمائش نہ ہو بلکہ سادگی ہو۔ اسلام کی تعلیمات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اعتدال کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
    ہر وقت دکھاوے کی زندگی آپ کے اصل کو چھین لیتی ہے، آپ منافقت کی زندگی جاتے ہیں، جس میں کچھ بھی اصلی یا قدرتی نہیں ہوتا۔ اور تو اور لوگوں کے رویے بھی جھوٹ اور دھوکہ ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر لوگ اپنے آپ کو اچھا ترین ثابت کرنے، اپنی خوبیاں بڑھا چڑھا کر بیان کرنے، اپنے کمالات دنیا کو بتانے اور اپنی امارات ظاہر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ سب بہت کھوکھلا اور بناوٹی لگتا ہے۔ نمود و نمائش کسی بھی صورت میں ہو، فریب ہی لگتی ہے۔
    لوگ نمود و نمائش میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ عبادتوں کا دکھاوا بھی بہت زیادہ ہے۔ لوگ دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں، وہ خود کو نیک ثابت کرنے کے لیے حج کرتے ہیں۔ دکھاوے کے لیے نیک اور اچھے کام کرتے ہیں۔ کوئی اچھا کام کریں یا کسی غریب کی مدد کریں تو لازماً تشہیر کی جاتی ہے۔ تصاویر شئیر کی جاتیں ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اس غریب پر کیا اثر پڑے گا اور اس کی عزت نفس مجروح ہوگی۔ یاد رہے کہ نمود و نمائش اور دکھاوے کی غرض سے کیے گئے نیک کام بھی اللّلہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی اجر ہوگا۔
    نمود و نمائش سے معاشرتی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ لوگ دوسروں کی دولت  جائیداد دیکھ کر حسد و نفرت وغیرہ کے جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو کہ سنگین نوعیت اختیار کر سکتے ہیں۔ لوگ دوسروں کی دولت سے متاثر ہو کر کمانے کے لئے غلط رستوں پر چل سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں نمود و نمائش آپ کے لیے کوئی سکون نہیں لائے گی بلکہ آپ کی زندگی بے سکونی سے بھر دے گی۔ اگر اللّلہ نے آپ کو دولت سے نوازا ہےتو اس کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کی بجائے اچھے کاموں میں استعمال کریں۔کوشش کریں کہ اللّٰلہ کے عطا کردہ مال میں سے مستحق لوگوں کی مدد کریں۔اسلام سادگی اور قناعت کا درس دیتا ہے جو کچھ ہے اس پر قناعت کر کے اللّلہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اپنے مال و اسباب کو ظاہر کر کے ان لوگوں کی کی دل آزاری کرنا جن کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرنا ہی مشکل امر ہے، یقیناً اللّلہ کے ہاں بدترین عمل ہے۔ مستحق لوگوں کی مدد کریں سادہ طرز زندگی اپنائیں۔ آپ کا مقصد اللّلہ کو خوش کرنا ہونا چاہیے نہ کہ لوگوں کو متاثر کرنا۔ اگر آپ نمودو نمائش کی راہ جو چھوڑ کر سادہ قدرتی زندگی اپنائیں گے تو آپ کی زندگی بہت پر سکون اور بہتر ہو جائے گی۔

    @FarooqZPTI

  • افغانستان میں افغان طالبان کی پھر سے آمد اور حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    افغانستان میں افغان طالبان کی پھر سے آمد اور حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    یہ کالم میں اس وقت لکھ رہا ہوں جب آج صبح امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجی انخلاء کے معاملے پر اہم تقریر کی.

    ویسے افغانستان پر تو کالمز لکھے ہی ہیں لیکن اب حالات بدل چکے ہیں مختصر لکھتا چلوں کے افغانستان میں پہلے بہت سے لوگ آئے قابض ہوئے اور ہر بار افغان طالبان پھر سے واپس آئے اور کل پرسوں دوبارہ طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا. 

    افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی شروع تو ہے ہی بلکہ اب تین سے ساڑھے تین ہزار کی تعداد رہ چکی ہے باقی سب واپس چلے گئے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے آج صبح واضح کر دیا کے اسے افغانستان سے فوجیں واپس بلانے پر کوئی شرمندگی نہیں افغانستان میں اس وقت طالبان کا قبضہ ہو چکا پاکستان ایک عرصے سے بھارتی دہشتگردی کا شکار رہا جانیں گنوائیں اب نئے امریکی صدر کو بھی احساس ہؤا کے امریکہ کی بیس سال طویل جنگ میں اسے کچھ حاصل نا ہؤا یہ ایک بہت اچھا عمل ہے کہ امن قائم ہو.

    افغانستان میں سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا جو پاکستان میں افغانستان سر زمین سے دہشتگردی کرواتا تھا اور افغان اشرف غنی حکومت کے عناصر دہشتگردی کی کارروائیوں میں شامل ہوتے تھے پی ٹی ایم نے ریاست پاکستان کے خلاف کیا کچھ نہی‍ں بولا یہ سب افغان حکومت اور بھارت کے بل بوتے پر کیا جاتا تھا.

    امریکہ کو بھی بلا آخر یہ احساس ہؤا کے جنگ مسائل کا حل نہیں یہی بات وزیراعظم عمران خان پچھلے کئی سال سے کہتے آئے ہیں.

    امریکی صدر کی تقریر میں امریکی صدر نے خود کہا کہ میں اپنے ملک کی فوج کو کیوں افغانستان میں جھونکوں جب افغان صدر اور آرمی ہی بھاگ گئے امریکہ کو بھی بہت دیر میں سمجھ آئی کے افغانستان ہو جا کوئی اور ملک حملوں اور تباہی سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی.

    چین اور پاکستان نے مل کر افغانستان کے بارے بہت کام کیا بھارت جو مستقل افغانستان سے پاکستان پر نظریں رکھتا تھا اسے ختم کیا گیا اب پاکستان کی معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی نظر آرہی ہے وہ کیسے؟ 

    تو جناب وہ ایسے کے اب افغانستان میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد اعلان ہؤا کے افغانستان کسی کو بھی اپنی سر زمین کسی کے بھی خلاف استعمال نہیں کرنے دے گا یہ پاکستان کے لئے ایک بہترین اور خوشی کی خبر ہے ورنہ پاکستان کی دو سرحدیں بھارت اور افغانستان سے مشکلات درپیش تھیں اب ایک سرحد پر  استحکام اور سکون ہو گا اور پاکستان بھارت کی سرحد پر اپنی نظریں رکھ سکے گا افغانستان میں بھارتی انویسٹمنٹ تو ڈوب ہی چکی ساتھ ہی بہت سے ایسے عناصر جو رہتے اور کھاتے پاکستان کا اور بیانیہ افغانستان امریکہ (ریاست پاکستان افواج وزیراعظم عمران خان) کا پھیلاتے تھے وہ بھی اب ایک دم غائب سے ہو گئے محسن داوڑ منظور پشتین علی وزیر سمیت خونی لبرلز اور باہر بیٹھے فسادی لوگوں کا اب چورن نہیں چلنے یہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ہمدردی میں پاکستان کے خلاف بولتے تھے اب کیا ہوگا ان کا یہ تو گئے پاکستان کے ساتھ جس نے بھی برا کیا پچھتایا ہی ہے.

    اب جیسا کے افغانستان میں امن اور سکون آنے کو ہے تو سال دو تین سال تک ہو سکتا ہے کے پاکستان اور چین کی دیرینہ خواہش کے وسطی ایشیائی ممالک میں تجارت ہو اس کے امکانات بڑھ چکے ہیں پاکستان اب اپنی درست راہ پر گامزن ہو رہا ہے

    افغانستان کی جنگ کے اس سفر کے سلسکے میں سب سے زیادہ پاکستان آرمی نے قیمت ادا کی ہے بہت  کم ایسی افواج ہیں جو اتنی قربانیاں دے شھداء کا لہو رنگ لایا اور ﷲ تعالیٰ نے یہ اچھے دن دکھانے شروع کئے.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے اور پاکستان پھلے پھولے تا قیامت آمین

    تو سلامت مت وطن تا قیامت وطن

    یہ مشہور ملی نغمہ ہے اس کے یہ بول اچھے لگے سو لکھ دیئے.

    Twitter id @ M1Pak

  • تمباکو نوشی مضرِ صحت تحریر: محمد اسعد لعل

    تمباکو نوشی مضرِ صحت تحریر: محمد اسعد لعل

    تمباکو نوشی ایک لعنت ہے جس کا شکار اس وقت پوری دنیا ہو چکی ہے۔ ہر دس اموات میں سے ایک کی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، تمباکو کے استعمال سے دنیا بھر میں ایک سال میں 8 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ تمباکو کے دھویں میں 7000 سے زائد کیمیکلز پائے جاتے ہیں، جن میں سے 250 کیمیکلز ایسے ہیں جو انتہائی مضرِ صحت ہیں، ان میں نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ بھی شامل ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ دل کی دھڑکن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان مضرِصحت کیمیکلز میں 69 کیمیکلز ایسے ہیں جس کو جدید دنیا نے ثابت کیا ہےکہ یہ کیمیکلز کینسر کا باعث ہیں، مثال کے طور پر بنزین اور آرسینک وغیرہ۔
    اس وقت عالمی اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں قبل از وقت موت کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں شرح اموات سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ تمباکو نوشی جسم کے تمام اعضاء اور نظام کو متاثر کرتی ہے۔
    سگریٹ نوشی پھیپھڑوں، خوراک کی نالی، منہ اور گلا، گردے، مثانے، جگر اور معدے کے ساتھ ساتھ خون کے کینسر کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بُری عادت بلڈپریشر، دل کے امراض، فالج، خون کی نالیوں کا پھٹنا اور سانس میں تنگی جیسے امراض کا باعث بن رہی ہے۔
    مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ عورتوں میں تمباکو نوشی کی شرح پاکستان میں 9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے رجحان کی بڑی وجہ قانون کی پابندی نہ ہونا ہے۔ کالج اور یونیورسٹیز کے طالب علم سرِعام سگریٹ نوشی کرتے دکھائی دیتے ہیں پر ان کی روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔اور پھر شوقیہ سگریٹ نوشی سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے ہیروئن اور شراب کی طرف لے جاتاہے۔
    سگریٹ نوشی کرنے والے افراد جہاں اپنے لیے پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں وہاں اردگرد پائے جانے والے افراد کے لیے بھی خطرے سے کم نہیں ہیں۔ وہ افراد جو سگریٹ کے دھویں والے ماحول میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں وہ بھی اس خطرناک دھویں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سیکنڈ ہینڈ سموکر کہا جاتا ہے۔ اور یہ افراد بھی ان تمام بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    تمباکو نوشی ایک نشہ ہے اور نکوٹین وہ عنصر ہے جو سگریٹ بنانے والی کمپنیاں دانستہ طور پر زیادہ مقدار میں ڈالتی ہیں تاکہ ان کی پروڈکٹ سے انہیں زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہو سکے۔ نکوٹین پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہو جاتی ہے اور سیکنڈوں میں دماغ تک جا پہنچتی ہے۔ یہ عارضی طور پر دماغ کو متحرک کرتی ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
    تمباکو کی کوئی بھی پروڈکٹ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے، مثال کے طور پر سگار، بیڑی، شیشہ، حقہ وغیرہ صحت کے لیے مضر ہیں۔
    تمباکو نوشی چاہے پُرانی عادت ہو یا نئی ،اس کے چھوڑنے سے فوراً اچھے نتائج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر دل کے دھڑکنے کی رفتار جو سگریٹ نوشی کی وجہ سے بڑھ چکی ہوتی ہے، فوراً نارمل ریٹ پر آجاتی ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں کاربن مونو آکسائیڈ کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کاربن مونو آکسائیڈ جسم میں آکسیجن کو لے جانے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں جسم کے اندر خون کی گردش نارمل ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کھانسی اور سانس میں آوازیں نکلنا بھی کم ہو جاتی ہیں۔ اور کچھ ہی مہینوں کے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
    ایک جدید تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی والے افراد جن میں کینسر کی تشخیص ہو چکی ہوتی ہے، اگر وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیتے ہیں تو ان کی شرح اموات میں 30 سے 40 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
    "ڈبلیو ایچ او ” کے مطابق اس وقت دنیا میں تمباکو نوشی کے افراد کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔ ان میں ایک کروڑ افراد ترقی پذیر ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کمی ہو رہی ہے۔
    ہمیں اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، تمباکو نوشی کے خلاف بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہو گا۔ کم قیمت سگریٹ کی باآسانی دستیابی نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے نشے کی طرف دھکیلتی ہے اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے چاہئیں تاکہ خریداروں کے لئے تمباکو کی مصنوعات مہنگی ہوجائیں اور ان کی مانگ میں کمی آ جائے۔
    ہمیں مل کر تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کرنے اور لوگوں میں اس کے نقصانات کی آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal

  • سگریٹ اور تمباکو -زندگی کیلئے خطرہ  تحریر: اقصیٰ یونس

    سگریٹ اور تمباکو -زندگی کیلئے خطرہ تحریر: اقصیٰ یونس

    سرکاری ہسپتال کا تاریکی میں ڈوبا کمرہ اور اس کمرے کے بیڈ پہ لیٹا ایک شخص جو شاید سانسوں کی ڈور ٹوٹنے کے انتظار میں تھا کیونکہ اسے عارضہ ہی ایسا لاحق تھا کہ اب علاج کے باوجود زندگی کی کوئی رمک نظر نہ آتی تھی ۔ جب ساری زندگی سگریٹ نوشی اور منشیات کا استعمال کرتے گزار دی تھی تو اب پچھتاوے بھی کس کام کے ۔ یہ کہانی صرف اس ایک شخص کی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو سگریٹ نوشی کی لت میں منتلا ہے یہ کہانی اسکی بھی ہو سکتی ہے ۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی شائع کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں سے زندگی کی وادی کو چھوڑ کر موت کے آغوش میں جا کر سو جاتے ہیں ۔ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ان ساٹھ لا کھ افراد میں چھ لاکھ افراد ایسے شامل ہیں جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ صرف اس ماحول میں موجود ہونے سے مضر صحت گیسز اور دھوئیں کا شکا ر ہو کر بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔

    ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا ایک ارب سے زیادہ لوگ سگریٹ نوشی کی اس سنگین لت میں مبتلا ہیں ۔اور اس ایک ارب میں سے 80فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بھارت ، فلپائن، تھائی لینڈ اور پاکستان میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے ۔ اور 90 فیصد نوجوان طبقہ اس شرح میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے 60 فیصد مرد تمباکو نوشی کی اس لت میں مبتلا ہیں ۔ اور ایک تحقیق کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کی 12 فیصد عورتیں بھی سگریٹ نوشی کا شکار ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ اور تمباکو نوشی نہ صرف صحت پہ برے اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ اسکے استعمال سے لوگ کئی نفسیاتی مسائل جیسے غصہ ، چڑچڑا پن جیسے مسائل کا شکا ر بھی ہوجاتے ہیں ۔ اور سگریٹ نوشی کرنے والے اکثر لوگ ٹی بی ، ہیپاٹائیٹس پھیپھڑوں کے
    کینسر اور منہ کے کینسر جیسے سنگین امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔
    طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔اور ان امرا ض میں مبتلا ہوکر زندگی جیسی نعمت سے محروم ہو سکتے ہیں ۔

    والدین استاتذہ اور معاشرے کے معماروں کو مل کر اس سنگین لت کو اس معاشرے سے مکمل طور پہ ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ زندگی کی بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ اس سنگین لت کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کی ناگزیر ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک محفوظ اور تمباکو اور سگریٹ سے پاک معاشرہ دے سکیں والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی جیسے لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ ان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ان کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی کیلئے دیہی اور شہری علاقوں میں سیمنارز اور ورکشاپس منعقد کی جائیں اور سگریٹ نوشی کے نقصانات سے سب کو آگاہی فراہم کی جائے ۔

  • حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    یقینا آن لائن ذریعہ تعلیم پاکستان جیسے ملک میں کسی بھی طالب علم کی ترجیح نہیں کیونکہ پاکستان ڈیجیٹل ورلڈ کی رینکنگ میں عالمی دنیا سے بہت پیچھے ہے لیکن موجودہ حالات کے اعتبار سے آن لائن ذریعہ تعلیم وقت کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ آپ وزیر تعلیم کے بیانات اور عملی کارکردگی دیکھ لیں ان میں کھلا تضاد نظر آتا ہے۔ موصوف خود تو تعلیمی اداروں بارے کورونا وبا کے ڈر سے آن لائن میٹنگز کرتے ہیں لیکن دوسروں کے بچوں کیلئے کورونا وبا میں بھی ان کیمپس تعلیم پر بضد ہوتے ہیں حتکہ انہیں وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر اسکا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے اور سب سے اہم بات یہ کہ جدید ترین ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانا چاہیے تاکہ تعلیمی میدان میں بہتری لائی جاسکے۔

    اس کے علاوہ اگر میں ذاتی تجربہ شیئر کروں تو وزارت تعلیم کی طرف سے ہر روز بدلتے فیصلوں سے مجھے ہزاروں روپے کا نقصان ہوا کیوں کہ کورونا کی تیسری لہر میں انتظامیہ نے نئے داخلوں کے وقت عین موقع پر جامعات کھول دی تھیں اور کوئی محض دس دن حاضری کرنے کے بعد اچانک کہا گیا کرونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے جامعات بند کرنا پڑ رہی ہیں اور یہ اقدام کرنا حکومت کی مجبوری بھی تھی جسکی اصل وجہ یہ کہ سب سے پہلے کسی بھی چیز سے بڑھ کر اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ انسانی جان کا تحفظ ہے لیکن دانستہ کوتاہی یہ ہوئی کہ علم ہونے کے باوجود کے کورونا زور پر ہے مگر پھر بھی سارے تعلیمی ادارے کھول دیئے اور یوں ہم نے کئی قیمتی جانیں گنوا دیں۔

    اب جب دوبارہ سارا تعلیمی نظام مکمل آن لائن ہوگیا تو مسئلہ یہ تھا کہ جامعات کے اندر کے ہاسٹل، اور ٹرانسپورٹ کا کرایہ تو پہلے سے ہر نئے سمسٹر فیس کے ساتھ ہی جمع کرانا ضروری ہوتا ہے جو آن لائن تعلیم کے باوجود بھی طالب علموں کو واپس نہیں کیا جاتا اور رہی بات ہم جیسے طالب علموں کی جو پرائویٹ ہاسٹلز میں رہتے ہیں تو ہمیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایڈوانس میں کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے اور میں ادا کرچکا تھا کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ صرف دس دن کے لیے یونیورسٹی کھل رہی ورنہ میں تیس دن کا کرایہ ادا ہی نہ کرتا لہذا مجھے مجبورا ہاسٹل چھوڑنے کے بجائے اپنا کمرہ ریزرو پر رکھنا پڑا اور کھانے کے پیسے چھوڑ کر باقی مکمل کرایہ ادا کرتا رہا۔ ریزرو پر کمرہ رکھنا میری مجبوری اس لیئے بھی تھا کہ حکومتی فیصلوں میں تضاد تھا کبھی وہ جامعات کھولنے کی کوئی تاریخ دیتے تو کبھی کوئی لہذا نااہل انتظامیہ کا چند ہفتوں کا فیصلہ مہینوں میں بدل گیا اور یوں مجھے خوامخووہ پورے ایک سمسٹر میں ہزاروں روپے کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔

    اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ میرے جیسے بہت ساروں نے یہ نقصان اٹھایا۔ دوردراز کے طلبہ کو مجبورا بھی کمرہ ریزرو کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی اگلے روز حکومت جامعات کھولنے کا اعلان کردے تو پھر مجھ جیسے طالب علم کیلئے کم وقت میں بروقت اپنی مطابقت کا ہاسٹل ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اور اسی جھنجٹ سے بچنے کیلئے اکثر طالب علم کمرہ ریزرو پر رکھ لیتے ہیں لہذا وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست ہے کہ آئیندہ جو بھی لائحہ عمل تیار کریں وہ جامع اور واضح ہو اور اس میں تضاد نہ ہو کیونکہ اس کنفیوژن کی وجہ سے ہمارے ہزاروں روپے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اب فرض کریں اگر حکومت ایسے کنفیوژڈ فیصلے نہ کرتی تو کیا مجھ جیسے غریب خاندان کے طلبہ کا خواہ مخواہ نقصان ہوتا؟ ہرگز نہ ہوتا کیونکہ ہم ذہنی طور پر مکمل تیار ہوتے اور ہزاروں روپے کے نقصان سے بچ جاتے۔

    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق ادا کرے لیکن پاکستان میں ریاستی ادارے مجھے اپنے باشندوں کے حقوق پورے کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں آپ فاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پسماندہ علاقوں کے بارے زرا سوچیں جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی سہولیات کیا طلبہ اور شہریوں کے ان بنیادی حقوق کو فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ اسی طرح ریاست طاقتور طبقہ کو تو مختلف اشیاء پر سبسڈی دیتی ہے لیکن کیا طلبہ کیلئے سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر عائد ٹکسز کو معاف نہیں کیا جا سکتا؟ اور غریب طلبہ کیلئے جن کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں یا جنکی آمدنی بیس ہزار سے کم ہے کو لیپ ٹاپ، سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی سہولیات مفت فراہم نہیں کرنی چاہئے؟

    Malik Ramzan Isra is an Islamabad based Pakistani journalist and writer. He is in journalism since 2013 and survived two deadly attacks over his journalistic work. He has worked in different National and International outlets like independenturdu.com, dw.com/urdu, dunyanews.tv & express.pk and currently writing for baaghitv.com He tweets at @MalikRamzanIsra

  • آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس وقت نوجوانوں میں قویٰ مضبوط، اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں، ان کو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ان کےاندر اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی وہ دماغ سے کم اور دل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم ہوتا ہے اپنی من مانی کرتے ہیں لیکن جب ان کے راستے تبدیل کیے جاتے ہیں تو ہجانی کفیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھراس کا رَدِعمل نظر آنے لگتا ہے جو ان کے لئے اور والدین کے لئے مسئلے کا باعث بنتا ہے نوعمروں میں ذہنی صحت کے مسائل عام سوچنے سے کہیں زیادہ عام ہیں آج کا نوجوان باغی ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دو قسم کے نوجوان موجود ہیں ایک وہ جو امیر ہیں جواپنی موج مستی میں مست، اپنی مرضی کرتے من پسند کام کوئی روکے ٹوکنے والا نہیں دُوسرا طبقہ متوسط اور غریب نوجوانوں کا ہے جو محنت سے پڑھتے ہیں اور ایک میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں متوازن رکھتے لیکن کبھی ان نوجوان کے اندر باغیانہ رویّہ اُبھارنے لگتا ہے ۔ نوجوان من چاہی خواہشات ابھرنے لگتی ہیں

    برہم ہوتے غصہ کرتے غلط قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اور پھر بغاوت کی طرف چل بڑھتے ہیں اپنی کچھ ماہرِ نفسیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےماہر سے پوچھا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آج کا نوجوان باغی اس لئے اس کے پیچھے بہت سے بہت سے عوامل کار فرما ہیں اور ایسے حالات ہیں جو ان کو باغی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
    آج کے نوجوانوں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھتا نہیں، نا کوئی سنتا ہے وہ سمجھتے ہیں جو وہ کہے رہے ہیں وہ ٹھیک ہے باقی جو ان کوسمجھا رہے ہیں ان کو برا سمجھنے لگتے ہیں جسے کہ وہ ان کے دشمن ہوں۔ پھران کے اندر غصّے کے جذبات اُبھارنے لگتے ہیں، بالآخر وہ بغاوت پر اُتر ہی آتے ہیں۔ اور اپنے جذباتی قدم سے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

    نوجوان نسل معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں جو آںے والے یہ نوجوانوں ملک کامستقبل بننے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقّی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب نوجوان پڑھ لکھ کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں ہم یہ کرے گئے وہ کریں گے پہلا خواب تو اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو دیتے ہیں، کچھ جگہوں پر ناکامی دیکھنی پڑتی ہے جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت ان کو غلط صیحح کا فیصلہ نہیں کر پاتے اور باغی پن کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ استاتذہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان والدین سے زیادہ اپنے استاتذہ کی سنتے اور کچھ تو اپنے استاتذہ کی عادتوں کو اپناتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔

    والدین کو چاہییے ایسے نوجوانوں پر خاص توجہ دیں ایک طریقے سے ان ہو ہیڈل کرے جتنا ہو سکے ان عمر کے نوجوانوں کے ساتھ ٹایم گذارے تاکہ ان کو ان سیکورٹی محسوس نا ہو اور اپنی بتاوں کو شئیر کرے ان کو اپنا دوست بنائے ۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6