Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمباکو نوشی” کےخلاف "جہاد” میں اتحادکی ضرورت تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    تمباکو نوشی” کےخلاف "جہاد” میں اتحادکی ضرورت تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    تمباکو کا پودا ایک سالانہ فصل دینے والا پودا ہےجسے فصل اترنے کے ساتھ ہی سوکھنے کے لئے چھوڑ دیاجاتا ہے سوکھنے کے دوران اس میں کئ طرح کے کیمیائ عمل وقوع پزیر ہوتے ہیں اس کے بعد سوکھے پتوں سے تمباکو حاصل کیاجاتا ہے یہ عام طور پر ہلکے نشہ آور خصوصیات رکھنے والی شہ شمار کی جاتی ہے۔ تمباکو دوا کےلئے، کیڑے مارنے کے لیے اور بعض ادویات میں نکوٹین کی جزو کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ لیکن جب یی تمباکو انسان سگریٹ، نسوار ،پان اورگٹکے کی شکل میں استعمال کرتا ہے تو مضر صحت بن جاتا ہے۔ کیوبا، چین اور امریکہ سب سے زیادہ تمباکو پیدا کرنے والے ممالک ہیں جبکہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کےاعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتاہے۔
    پوری دنیا کےطبی ماہرین اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے نظام کو تباہ کردیتی ہے تمباکو نوشی سے نوجوانی میں اموات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ سے ذائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ اموات پھیپھڑوں کے کینسر، اسٹروک، دل کی شریانوں کے تنگ ہونے، اور مختلف امراضِ قلب کی وجہ سے ہوتی ہیں اس کےعلاوہ یہ عادت سانس کی بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔
    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔اوریہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔
    ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی 32 فیصد اور خواتین میں 5.7 فیصد تمباکو استعمال کرتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں خواتین ثقافتی اور معاشرتی طور پر سگریٹ سے اجتناب کرتی ہیں کیونکہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کی سگریٹ نوشی معیوب سمجھی جاتی ہے لیکن اس صورتحال میں بھی خواتین کی یہ شرح باعث تشویش ہے قابل فکربات یہ ہے کہ پاکستان میں نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔
    پوری دنیا تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے شور تو مچارہی ہے اور اس ضمن میں قانون سازی بھی ہو رہی ہے جنمیں سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی اور ٹیکسوں میں اضافہ نمایاں ہیں اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جو کمپنی سگریٹ بنا رہی ہیں وہ یی اس کے پیکٹ پر یہ فقرہ درج کرتی ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے” ۔مزکورہ تمام اقدامات کے بعد بھی تمباکو نوشی کے تدارک میں کوئ پیش رفت دکھائ نہیں دیتی بلکہ اس مضر صحت شہ کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی دیکھنے میں ارہا ہے۔گو کہ دنیا میں تمباکو نوشی روکنے کے لئے بظاہر تو سارے اقدامات ہوتے نظر آتے ہیں لیکن بادئ النظر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیا اس مضر صحت شہ۔کی روک تھام کے لئے ضروری نہیں اس انڈسٹری ہی کو بند کر دیا جائے لیکن ایسا کیا نہیں جاسکتا کیونکہ تمام بڑی کمپنیاں مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں اور باقاعدہ بین القوامی مافیا اس کو تحفظ دیتی ہے سب سے تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ بطور مسلمان ہم خود مبینہ طور پرتمباکو نوشی کے خلاف اب تک کوئ متفقہ فتوئ لانے میں کامیاب نہ ہو سکے ہیں اب تک مختلف مکاتب فکر کے مفتیوں کے مختلف فتوے سامنےآ چکے ہیں جن کے درمیان بھی اختلاف نظر آتا ہےکچھ تمباکو نوشی کو حرام، کچھ مکروہ اور کچھ اس کو مباح کہتے ہیں۔
    دوستوں کسی بھی فقہیء اور فکری اختلاف کے باوجود میری رائے میں اب تک محترم مفتی صاحبزادہ بدر عالم جان صاحب کا درج زیل فتوئ تمباکو نوشی کو حرام قرار دینے کے لئے کافی ہے اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں کہ
    "شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات”۔
    مفتی صاحبزادہ بدر عالم جان” دارالافتاء” سے وابسطہ ہیں جو تحریک منہاج القرآن کا آن لائن پراجیکٹ ہے، جس کے ذریعے عوام الناس کو دین کی معلومات قرآن و سنت کی روشنی میں فتووں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں ۔مفتی صاحب فتوی نمبر1079میں بہت تفصیلی وضاحت دیتے ہیں!
    "تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے جس کے عادی افراد کے جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ سگریٹ کی ہر ڈبی پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ ‘مضر صحت ہے’ اور وزارتِ صحت کی طرف سے خبردار بھی کیا گیا ہوتا ہے۔ کسی چیز کے مضر صحت ہونے کی اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اسے بنانے والے خود ہی اس پر لکھ دیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پھر بھی جو اس کو استعمال کرے گا اسے کون سمجھدار کہے گا؟ جدید طب سے ثابت ہے کہ تمباکو و سیگریٹ نوشی، پان، گٹکا، نسوار اور اس قبیل کی دیگر اشیاء کینسر، دمہ اور ٹی بی وغیرہ جیسی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں، اور ہماری دانست میں مضر صحت ہونے کی بنا پر ان کا استعمال شرعاً ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں ﷲ تعالیٰ کا واضح حکم ہے:

    وَلَا تُلْقُوْا بِيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ ﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ.

    اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔

    البقرة، 2: 195

    وہ زہر جو فوری اثر کرے اور انسان کی جان لے لے اور وہ زہر جو رفتہ رفتہ اور بتدریج انسان کی جان لے جسے (Slow Poision) کہا جاتا ہے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، دونوں شریعت کی نظرمیں حرام ہیں۔ بلاشبہ سگریٹ کا شمار (Slow Poision) کے زمرے میں کیا جاسکتا ہے جو بتدریج انسان کی جان لیتا ہے۔ تمباکو نوشی اور سگریٹ کی ہلاکت خیزی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرے۔ ارشاد ہے:

    وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا.

    اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔

    النساء، 4: 29

    اسی وجہ سے فقہائے اسلام نے ہر اس چیز کو جس کا کھانا ضرر رساں ہو اسے حرام ہے قرار دیا ہے۔

    علاوہ ازیں تمباکو و سگریٹ نوشی میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان بھی ہے۔ سگریٹ نوش رفتہ رفتہ سگریٹ کا اس قدر عادی ہو جا تا ہے کہ وہ اس کا غلام بن کر رہ جا تا ہے، وہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا، اگر سگریٹ نہ ملے تو اس کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔

    ان سب نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری رائے ہے کہ سگریٹ نوشی حرام ہے۔اس میں ایک دو نہیں بلکہ کئی نقصانات ہیں، اور ان کے مقابلہ میں فائدہ کچھ بھی نہیں ہے۔

    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔”

    مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

    تحریر
    عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    @Azizsiddiqui100

  • تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    اس وقت ملک میں موجود مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ تمباکو نوشی بھی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے استعمال میں ایک سنگین حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ جیسے کہ ہم سب باخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اسلام میں نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو بہکائے، اس کی بری عادت بن جائے، جو اس کی جان کو ہلاکت میں ڈالے نشہ ہی تو ہے جو ہم سب مسلمانوں پر حرام یے۔

    اسی طرح تمباکو نوشی ایک ایسا نشہ ہے جو ہمارے معاشرے میں اس طرح سے پھیل رہا ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی یے۔ اس نشے سے سب سے زیادہ ہماری نوجوان نسل متاثر ہورہی یے۔ نوجوان لڑکے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے شوق کے متبادل اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    بلکہ اب تو لڑکیاں بھی بہت حد تک اس کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔ پر افسوس وہ جان کر بھی انجام بنے ہوئے ہیں کہ جس چیز کو وہ اپنے شوق اور تفریح کے لیے استعمال کررہے ہیں درحقیقت وہ ان کے لیے کتنی جان لیوا ہے۔ تمباکو نوش یہ سب باتیں جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہلاکت کے گڑھے میں جارہے ہیں تمباکو نوشی کا استعمال اور زور وشور سے کرتے ہیں۔

    جبکہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے واضح حکم دیا ہے:
    "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بےشک اللّٰہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے”
    (البقرہ 195:2)

    پھر ایک جگہ اور ارشاد ہوا ہے:
    "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بےشک اللّٰہ تم پر مہربان ہے”
    (النساء 29:4)
    اگر غور کیا جائے تو اس بات میں کوئی دورائے ہے ہی نہیں کہ ہر وہ انسان جو تمباکو نوشی کرتا ہے وہ جان بوجھ کر اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے کیونکہ سگریٹ کی ہر ڈبیا پر واضح طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” یعنی خود سگریٹ بنانے اور بیچنے والے آپ کو چیخ چیخ کر بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

    پھر بھی اگر لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں تو وہ خود ہی اپنی جانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں بلکہ اگر میں ایسا کیوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے جب کوئی تمباکو نوش کسی دوسرے فرد کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ نوش کررہا ہوتا ہے تو اس سے خود سگریٹ پینے والے کو کم نقصان ہوتا ہے اور جو شخص اس کے آس پاس موجود ہوتا ہے وہ سگریٹ کے دھوئیں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہیں اور کروڑوں افراد اس کی وجہ سے کئی کئی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں مثلاً دل، پھیپھڑوں، کینسر اور زیابطیس وغیرہ جیسی بیماریاں زیادہ تر اس کے سبب پھیل رہی ہیں۔ اب یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر کو تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ابھی تک کسی قسم کے کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آخر کب تک ہزاروں قیمتی جانیں یوں ہی ضائع ہوتی رہیں گی؟ ہماری نوجوان نسلیں کب تک اپنی زندگیاں اپنے ہی ہاتھوں برباد کرتی رہیں گی؟

    @SeharSulehri

  • تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے  تحریر چوہدری عطا محمد

    تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے تحریر چوہدری عطا محمد

    آج اگر ہم اپنے اردگرد زرا غور کریں تو سینکڑوں نہی ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگ تمباکو نوشی کرتے نظر آئیں گے اور اگر ہم ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن کی رپورٹ دیکھیں تو سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہہ تقریباً چھ لاکھ لوگ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ وہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں اگر اسی رپورٹ کے تناظر میں ہم دیکھیں تو پورے اقوام عالم میں تقریباً سو کروڈ سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں تقریباً زیادہ تعداد ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی ہے اگر ہم ارض پاک پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ہاں بھی تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکی ایک بڑی وجہ ہمارے بچے اور نوجوان نسل اس کا شکار ہو رہی ہے کچھ فیشن سمجھ کر سگریٹ پیتے اور کچھ کو سگریٹ کی لت کالجز اور یونیورسٹی میں لگ جاتی
    ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے ان بچوں اور نوجوانوں کے اخلاق پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے عام نارمل جسم میں تمباکو نوشی سے نشہ یا خمار سا پیدا ہوتا جو لگاتار سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ٹی بی جیسی موضی مرض میں مبتلا کر دیتا تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اگر طبی ماہرین کی بات کو دیکھیں تو ان کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے یعنی سگریٹ نوشی کرنے والا ہر شخص اپنی اوسط عمر سے تقریباً پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ میں تقریباً چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء ہیں
    ہمارے ہاں جس سے بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کا کہا جاۓ وہ کہتا اب بہت دیر ہو چکی ہے ہم تو کافی عرصہ سے سگریٹ نوشی کر رہے ہیں ایسا کہنا بلکل بھی غلط ہے تمباکو نوشی ترک کر کے ہم نہ صرف خود کو کافی حد تک بہت سی موضی مرض سے بچا سکتے ہیں بلکہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی خراب ہونے اور ہمارے دھواں سے جو دوسروں کو نقصان ہوتا ہے ان سب کو بھی سگریٹ نوشی ترک کر کے بچا سکتے
    سگریٹ نوشی معاشرے کے لئے ایک زہر ہے اور آپ سگریٹ نوشی چھوڑ کر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
    شروع میں چند دن آپ کو سگریٹ چھوڑنے سے الجھن ہوگی اور آپ سگرٹ چھوڑنےکے بعد،کچھ لوگ تھوڑے دن کے لیے اچھا محسوس نہیں کرتے۔  لیکن عام طور پریہ جلدی ٹھیک ھو جاتا ھے
    شرعی لحاظ اور اگر اسلام کی بات کریں تو علماء حضرات سگریٹ نوشی سے منع کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں تمباکو نوشی کو حرام قرار دیتے ہیں اسکی بڑی وجہ وہ ان جان لیوا بیماریوں کو بتاتے ہیں جو عام انسان کی بنسبت تمباکو نوشی کرنے والوں کو کئی گنا زیادہ لگتی
    تمباکو نوشی جیسی لعنت سے جان چھڑانے کے لئے سب سے پہلے والدین اساتزہ اور پھر معاشرہ کو مل کر اس کے لئے آواز اٹھانی ہوگی جب ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس سے جان چھڑانے کا پکا ارادہ کر لئے گے اور آواز اٹھائیں گے تو پھر حکومت وقت جو اس وقت اس اہم مسلہ پر سوئی ہوئی ہے جاگ جاۓ گی اور اسکے روک تھام کے لئے اقدامات کرے گی جن میں سب سے پہلے پبلک مقامات بس سٹینڈ پارکس بینک سرکاری آفس کالج سکول ہاسٹل یونیورسٹی پبلک ٹرانسپورٹ مثلاً ریل گاڑی بس رکشہ سب میں سگریٹ نوشی سختی سے منع ہو
    اور حکومت اس پر سخت قوانین بناۓ بھاری جرمانے لگاۓ اس سے کافی حد تک سگریٹ نوشی میں کمی واقع ہو سکتی ہے
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • میں بھی تو انسان ہوں۔ صحرا میں سسکتی زندگی  تحریر بشارت حسین ایوب۔

    میں بھی تو انسان ہوں۔ صحرا میں سسکتی زندگی تحریر بشارت حسین ایوب۔

    میں بھی انسان ہوں۔
    زندگی اک جبر مسلسل ہے۔ اک سانس کو چلانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کرنی پڑتی ہیں۔ اس راہ میں کچھ بہت آگے نکل جاتے ہیں ترقی کی جیسے ساری راہیں طے کر جاتے ہیں مشکلات پہ قابو پا لیتے ہیں اور کچھ دوسروں پہ اپنی تکالیف کا وزن ڈال کر انکی راحتیں لے کر زندگی کی راہوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    جس طرح انسانی جسم کو زندہ رہنے کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہے اسی طرح اس کو صاف پانی اور متوازن غذا کی بھی ضرورت ہے۔
    اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک پانی جیسی نعمت سے مالا مال ہے لیکن پھر بھی یہاں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پانی بلکل بھی میسر نہیں۔ ایسے علاقوں میں نہ تو آج تک گورنمنٹ لوگوں کو یہ سہولیات دے سکی اور نہ وہاں کے باسی خود اپنے لیے پانی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے مکین آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا صدی مکمل ہونے کو ہے لیکن وہاں ان علاقوں میں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات تک میسر نہ ہو سکیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں وہاں کے باشندوں کی خوراک ، صحت ، تعلیم ، رہن سہن ، بودوباش اور پینے کے صاف پانی کے مسائل اج تک کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ کون آئے گا جو انکے ان مسائل کو حل کرے گا؟
    کون آئے گا جو ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا؟
    کون ہے جو انکے درد کو بانٹے گا؟ کون ہے جو ان کو جینے کا حق دے گا؟
    کیا انکو جینے کا کوئی حق نہیں؟
    انسانی ضروریات کی بنیادی سہولیات کون مہیا کرے گا انکو؟
    کیسے وہ اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کو دیکھ کر ہر ذی شعور انسان کو ترس آتا ہے۔ ان کے پینے کے پانی کا انحصار بھی بارشوں کے جمع شدہ تالابوں اور جوہڑوں پہ ہوتا ہے جو کہ بارش ہونے پہ بھر جاتے ہیں اور پھر وہیں سے جانور پانی پیتے ہیں وہیں سے وہاں کے رہنے والے لوگ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتے ہیں۔ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ کا انسان ایسا پانی پی رہا ہے جو کہ عام استعمال کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ لیکن کیا کریں کس کو پکاریں انکی آواز نیسلے پینے والوں کے کانوں تک کہاں پہنچتی ہے؟
    ہزاروں لوگ سالانہ خشک سالی سے مر جاتے ہیں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی جوہڑوں اور تالابوں سے خشک ہو جاتا لوگ پیاس سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں تو کچھ حکومتی نمائندے اپنے گناہوں پہ پردہ ڈالنے اور اپنا ووٹ بچانے کیلئے کچھ کھانے پینے کی اشیاء لے کر وہاں پہنچ جاتے ہیں کچھ تصویریں بنا کر اور کچھ ویڈیو بنا کر اپنے مخلص ہونے کا ثبوت دے آتے ہیں۔
    لیکن ان کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔
    ہر سال ہزاروں لوگ گندے پانی کے استعمال سے مختلف جان لیوا وبا کا شکار ہو جاتے ہیں کچھ اس میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں اور کچھ ان وباوں سے معذور ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ امتیازی سلوک کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا انکو یہ حق حاصل نہیں کہ انکو بھی عام لوگوں کی طرح سہولیات زندگی دی جائیں؟
    یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہماری سوچ انفرادی نہیں اجتماعی ہو گی۔ آج ہر ایک کو اپنی زندگی اپنی خوشی اور اپنی سہولتوں کا خیال ہے ہم ان لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں یہ سوچ کر شاید کہ ہم تو خوش ہیں ہمیں تو پرابلم نہیں۔ لیکن انکی آواز تو بن سکتے ہیں ان کی بات کو حاکم وقت تک تو پہنچا سکتے ہیں سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے پھر بھی ہم خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ وہاں زندگی کی کوئی دوسری سہولت نہیں انٹرنیٹ نہیں موبائل سروس نہیں لوگ احتجاج نہیں کر سکتے لوگ اپنے ہی غموں میں ڈوبے ہیں لیکن ہم تو آزاد ہیں ان کی آواز بن سکتے ہیں انکے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں تو پھر ہم خاموش کیوں ہیں؟
    ہم حکومت وقت سے ان لوگوں کی زندگیوں کا حساب کیوں نہیں مانگتے؟
    وہ بھی انسان ہیں ہماری طرح جینا انکا بھی بنیادی حق ہے انکے جذبات بھی ہماری طرح ہیں ان کے دلوں میں بھی وطن اور اپنوں کی محبت ہے وہ بھی پاکستانی ہیں وہ بھی محب وطن ہیں وہ بھی وطن پہ جان دینے کو اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔
    ہم تکالیف میں گھرتے ہیں تو وہ بھی اس کا درد محسوس کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان کا درد کیوں نہیں محسوس ہوتا؟ آخر کیوں؟

    Writer
    https://twitter.com/Emerging_PAK_B?s=09

  • شکر گزاری ایک نعمت ہے  تحریر محمد جاوید:

    شکر گزاری ایک نعمت ہے تحریر محمد جاوید:

    ” اگر تم شکر کروگے تو میں تمیں اور دونگا !”
    (القران )
    شکر ایک عام انسانی اور اسلامی صفت ہے ہمیں ہر حال میں اللّه کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ شکر گزاری کے بارے میں اللّه فرماتے ہیں کہ جو شخص جیس نعمت پہ شکر ادا کرے گا میں اسے وہ نعمت اور زیادہ دونگا، در حقیقت احساس کا نام ہے یہ زبان سے نہیں اپنے عمل سے ھوگا۔ احساسات عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک آدمی بہت سارا مل وہ دولت اكهٹا کرتا ہے اسے بانٹتا نہیں ہے اور کہتا ہے کہ شکر ہے ،شکر ہے تو وہ آدمی اصل میں شکر کرنے والا نہیں کہلاے گا۔ کیوں کہ کنجوس آدمی مال اكهٹا کرتا ہے اور استعمال کوئی اور کرتا ہے ہم زندگی میں بہت سارا مال اكهٹا کرتے اور کہتے ہیں یہ ہمارا ہے ۔ ذرا سوچیے کیا یہ شکر گزاری ہے ؟ نہیں یہ شکر گزاری نہیں!
    شکر گزاری کا مطلب یہ ہے کہ اللّه پاک نے جو دیا ہے وہ اللّه کی راہ میں استعمال ہو ۔ شکر گزاری کا ایک اچھا طریقہ یہ بھی ہے کہ جو اللّه نے دیا اسے اللّه کے راہ میں خرچ کریں غريبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں جو نعمتیں اللّه نے دیا ہے انہیں دوسروں میں بنٹنا شروع کریں۔
    اپنے روے سے اپنے انداز سے شکر گزار بنیں کیوں کہ عمل سے پتا چلتا ہے کہ بندہ کتنا شکر گزار ہے جو دوسروں کا خیال نہیں رکھتا ہو جو دوسروں کا درد احساس نہیں رکھتا ہو جو دوسروں کو اپنے رزق میں شامل نہیں کرتا ہوں وہ بندہ شکر گزار نہیں بن سکتا۔ بہت ساری چیزیں اور وجود ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتی اور نہ انہیں چھوا جا سکتا مگر ہماری کامیابی اور ترقی میں ان کا بہت کردار ہوتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں پہ شکر ادا کرنا چائے۔
    ہر حال میں ہر بات پہ ہر چیز پہ اللّه کا شکر ادا کرنا چائے مثلا یہ کہ یا اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے مجھ سیکھنے کا شوق دیا اگر سيكهنے کا شوق نہیں دیا ہوتا تو میں علم حاصل نہیں کر پاتا۔
    اے اللّه اگر مجھ شکر گزار بندہ نہ بنایا ہوتا تو آج میری زندگی میں اتنے محبت کرنے والے لوگ نہ ہوتے۔ میں اسکا شکر ادا کرتا ہوں۔
    اے اللّه مجھے آپ پہ یقین ہے کہ آپ میرے مالک ہے۔ میں اس پہ شکر ادا کرہا ہوں۔
    اے اللّه میری زندگی میں انے والے ہر مشکل کو آپ نے حل کیا مجھ اس پہ شکر ہے ۔
    اے اللّه مجھ صحت دی مجھ اس پہ شکر ہے۔
    اے اللّه مجھ دی ہوئی ہر نعمت کا میں شکر ادا کرتا ہوں۔
    اے اللّه مجھ ہمت دی کہ میں آپکے مخلوق کی مدد کر سکو مجھ اس پہ شکر ہے ۔ یہ میرے اندر احساس ہے مجھ اس بات پہ شکر ہے ۔
    یا اللّه مجھ کوئی جسمانی اپا ہیج نہیں دیا مجھ اس پہ شکر ہے ۔
    اے اللّه میں آپکے کون کون سی نعمت پہ شکر ادا کروں میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے ۔
    دنیا میں گلا کرنا شکایات بہت آسان ہے مگر شکر کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں شکر گزاری کو شامل کرتے ہیں شکر گزاری کا جذبہ لے کر اتے ہیں اور شکر گزار بنتے ہیں تو پھر ہماری زندگی بدلے گی اور ہمیں اطمینان قلب بھی نصیب ہوگا۔
    ہر وقت اللّه کا شکر ادا کرنا ہے۔ وہ تمام لوگ جو ہماری زندگی میں خوش قسمتی بن کر آئے، وہ تمام چیزیں جو ہمیں گفٹ کی شکل میں ملیں، وہ تمام چیزیں جن پر ہمارا حق نہیں قدرت نے پھر بھی ہمیں دیا انکا شکر ادا کرنا ضروری ہے اور اگر ہم شکر ادا کرتیں تو اللّه پاک ان سب نوازشات میں اور برکت ڈال دیتا ہے ہمارے کام آسان ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور راحت مل جاتی ہے۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا ہمارے سارے مسلے حل ہو جاتے ہماری تمام مشکلات دور ہو جاتی ہے اور زندگی میں سکون اجاتا ہے۔
    اسلیے تو اللّه پاک نے کہاں ہے جتنا شکر ادا کرو گے اتنا دونگا۔
    ہم اپنی زندگی میں اپنی ذات اور ارد گرد کے چیزوں کا حالات واقعات کا اور رشتوں کا جايزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ان گنت نعمتں اللّه نے دیا ہے جن کا شکر ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
    اور اگر ہم شکر ادا نہیں کرتے نا شکرے بن جاتے تو جو دیا ہے وہ بھی اللّه واپس چھين لیتا ہے اسلیے ہر وقت ہر حال اس خالق کا شکر ادا کرنا چائے۔
    یہ بات عام طور پر مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں وہ لوگ جو شکر ادا نہیں کرتے ان کی زبان میں ہمیشہ گلے شکوے رھتے اور ہمیشہ منفی سوچتے ہیں۔ اسے لوگ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہتے بس ہمیشہ اسی ناشکری اور منفی سوچوں میں ایک دن اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    اور وہ لوگ کامیاب ہو ہو جاتے ہیں جو ہمیشہ اللّه پاک کی دی ہوئی ہر نعمت پہ شکر ادا كرتیں ہیں۔
    اس لئے ہمیں چائے جو اللّه نے دیا اس پہ ہو کر اللّه کا شکر ادا کریں اور جو نہیں ہے اس پہ صبر کریں پھر زندگی پرسکون گزرے گی اور اطمینان قلب نصیب ہوگا ۔
    اس خوبصورت بات کے ساتھ اس کالم کو اختتام کرنا چاہونگا عمل کرو گے تو زندگی پرسکون گزرے گی۔
    اگر آپ وہ چاہتے جو آپ کے پاس نہیں ہے تو اس چاہت کو ختم کرو اور اسے چاہنا شروع کرو جو آپ کے پاس موجود ہے زندگی کے بہت سارے پرابلمز ختم ہو جائینگے۔
    @I_MJawed

  • آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    کسی بھی معاشرے کو سدھانے کیلئے مختلف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے میں موجود جرائم کو روکنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوتا ہے۔ یہ قوانین ہمارے منتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں بیٹھ بناتے ہیں۔ جب کوئی بھی قانون متفقہ طور پر یا اکثریت رائے سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کی پاسداری ملک میں رہنے والے تمام افراد پر لازم ہو جاتی ہے ۔ قانون کی عمل داری یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کی رٹ کو بحال رکھنے کیلئے دنیا بھر میں ایک منعظم نظام رائج ہے۔ اس نظام میں مختلف سکیورٹی اور سو لین ادارے کام کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے۔
    پولیس ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وہ عزت و احترام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ پولیس رشوت کے نام پر غنڈہ گردی ہے۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ رشوت کے نام پر کرپشن تو ہر ادارے میں ہو رہی ہے لیکن پھر پولیس ہی ذیادہ بدنام کیوں؟
    آپ سیاستدانوں کو دیکھ لیں کتنی کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ ججز کی مثالیں دیکھ لیں۔ آپ اعلی بیوروکریسی کو دیکھ لیں۔ کرپشن اور رشوت خوری تو ہر جگہ کسی نا کسی شکل میں موجود ہے لیکن ان تمام کے جرائم کو لے کر سارے ادارے کو بدنام تو نہیں کیا جاتا جبکہ پولیس میں چند گنتی کے لوگوں کی وجہ سے ساری پولیس فورس کو ہی کیوں مشکوک نظر وں سے دیکھا جاتا ہے؟
    پولیس پر عوام کا عدم اعتمام کسی ایک صوبہ یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں ۔ یہ سارے ملک میں ایک جیسا ہے۔اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آئی شاہد سیاستدانوں کا پولیس جیسے پروفیشنل ادارے پر اثررسوخ ہو سکتا ہے یا پھر میرٹ کی بجائے سفارشی کلچر بھی اسکی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
    اگر چاروں صوبوں کی پولیس کو ہم الگ الگ درجہ بندی یا کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں تو اس حساب سے پختون خواہ کی پولیس نے پہلے کی نسبت عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساخت کافی حد تک بحال کی ہے۔ اس کا سارا کریٹ مرحوم IGKPKناصر دورانی اور سابقہ وزیر اعلی پختون خواہ پرویز خٹک صاحب کو جاتا ہے ۔ پختون خواہ پولیس اس وقت چاروں صوبوں کی پولیس کیلئے رول ماڈل ہے۔ گو کہ ابھی بھی وہ معیار نہیں جس کو ہم جدید تقاضوں سے لیس کہہ سکیں بہرحال رشوت خوری اور غنڈا گردی کے اعتبار سے کافی بہتری آئی ہے۔
    اگر ہم پنجاب پولیس کو دیکھیں اس میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پنجاب پولیس کوسابقہ حکمرانوں نے مخالفین کے منہ بند کروانے اور مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کروانے کیلئے بہت استعمال کیا۔ ان اقدام نے پنجاب پولیس کو بطور ادارہ بہت نقصان پہنچایا۔آپ 2014 ماڈل ٹاؤن واقعہ ہی دیکھ لیں۔جس طرح حاملہ خواتین کو گولیاں ماری گئی دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس واقعہ کو مکمل سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسے واقعات اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
    اس وقت پنجاب حکومت کو پنجاب پولیس میں بہتری کاچیلنج درپیش ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے منشور میں عدل وانصاف اور اداروں کو سیاسی اثرورسوخ سے آذا کرنا تھا۔ پنجاب پولیس رشوت خوری ۔غنڈا گردی۔ ماورائے عدالت قتل اور سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے بہت بدنام ہو چکی۔یہ اقدام شاہد %10فیصد لوگ کرتے ہوں گے لیکن انکی وجہ سے ساری پنجاب پولیس کو لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بزدار حکومت اگر اس چیلنج سے نکل گئی تو تاریخ ان کو سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔ آئی جی پنجاب پولیس کی بہتری کیلئے دن رات محنت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کافی حد تک بہتری نظر آ بھی رہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ دنوں میں مینار پاکستان کا واقعہ ہو یا رکشہ میں بیٹھی مسافر خواتین سے بدسلوکی پنحاب پولیس نے چند گھنٹوں میں انتہائی مہارت اور پروفیشنل طریقہ سے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جس پر وہ شاباش کی مستحق ہے۔
    اگر سندھ پولیس کو دیکھا جائے تو ایک ہی بات ذہین میں آتی ہے بھتہ اورسیاسی غلام اور رشوت خور۔ میرا کئی بار کراچی آنا جانا ہوا۔ یقین کریں وہاں پہنج کر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہوں۔ آپ راؤ انوار کا کیس دیکھ لیں کیسے بے دردی سے اس نے نقیبﷲ مصود کو قتل کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 2011سے 2018کے بھیچ راؤ انوار نے تقریبا 444لوگوں کا encounterکیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں اس بندے کی وجہ سے سندھ پولیس کتنی بدنام ہوئی ہے۔
    سندھ پولیس سیاسی اثر رسوخ کے زیر اعتاب سمجھی جاتی ہے۔ میرٹ کا فقدان اور سیاسی قیادت کی شہانہ طرز حکمرانی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ سندھ پولیس کو معیاری پولیس نابننے دینے کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے۔ سندھ میں پولیس جیسے ادارے کو جان بوجھ کر مفلوج رکھا جا رہا ہے۔ یہاں سندھ پولیس کی بجائے سیاسی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ جب تک سندھ حکومت پولیس کو ٹھیک نہیں ہونے دے گی یہ ممکن ہی نہیں کوئی اعلی افسر اسے ٹھیک کر سکے۔
    اسلام آباد پولیس اس وقت دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔ بعض لوگ انکے معیار پر بھی انگلیاں اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن کیپٹل پولیس عالمی معیار اور دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے اور اسکی ایک اہم وجہ پولیس فورس میں میرٹ اور پڑھے لکھے جوانوں کی شمولیت ہے۔ چند عرصہ پہلے حکومت نے اسلام آباد پولیس کی یونیفارم میں خفیہ کیمرے لگانے کا کہا تھا ۔ اگر یہی معیار سارے پاکستان میں رکھا جائے تو انشاءاﷲ ہماری ساری پولیس بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر میرٹ پر بھرتیاں اور پڑھے لکھے لوگوں کو پولیس فورس میں لایا جائے۔ جدید تقاضوں کو دیکھتے ہوئے انکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اعلی معیار کی ٹرینگ دی جائے۔ پرانے تھانہ کچہری کلچر کو بلکل ختم کیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق FIRسے لے کر کیس کے میرٹ تک ٹریس ایبل بنایا جائے تو کوئی شک نہیں ہماری پولیسنگ کا معیار عالمی معیار جیسا بن جائے۔ اس سارے پراسس میں حکومت وقت کا بہت اہم رول ہے۔
    یہاں ان شہداء کو سلام پیش نا کرنا بھی ذیادتی ہو گی جنہوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ا ﷲ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور ان سب کے اہل خانہ کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔ آمین
    آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر پولیس اور عوام کے بھیچ فاصلے کم کرنے ہیں تو پولیس کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ دوستانہ ماحول میں عوام سے بات کرنی پڑے گی۔ عوام کو احساس دلانا ہو گا کہ پولیس ان کی محافظ ہے دشمن نہیں۔ پولیس کا اولین کام بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو بھی اپنے محافظوں کی عزت کرنی چاہئے۔ ان کے لئے بھی میڈیا کوریج اور سرکاری سطح پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر سال ایک دن پولیس کے نام سے قومی سطح پر منایا جائے۔ سکولوں کالجوں میں پولیس بارے بچوں کو بتایا جائے۔ شہداء کی فیملیز کو آنر کیا جائے۔ ان کو بھی معاشرے میں اسی عزت و احترام سے ملا جائے جیسا باقی اداروں کیلئے ہم رکھتے ہیں۔ کیونکہ آخر پولیس بھی تو اپنی ہی ہے۔
    شہد تم سے یہ کہہ رہے ہیں____لہو ہمارا بھلا نا دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشوں___لہو ہمارا بھلا نا دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے___خدا کے ہاں سرخروں ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نباہ چلے ہیں________تم عہد اپنا بھلا نا دینا
    @saif__says

  • محبت رسول کے تقاضے| تحریر :عدنان یوسفزئی

    محبت رسول کے تقاضے| تحریر :عدنان یوسفزئی

    اس سے پہلے وہ شاہ حبشہ، نجاشی کے دربار میں جاتا رہا تھا، روم کے کے بادشاہ قیصر کے محل میں بھی پہنچا تھا اور ایران کے بادشاہ کسری کے پاس بھی سفیر بن کے جاچکا تھا ۔

    یہی وجہ تھی کہ اہل مکہ کو اس کی فراست، سفارت اور معاملہ فہمی پر ناز تھا ۔وہ اسے اپنی، کسی بھی بڑی سے بڑی مشکل سے بچنے کے لئے کوئی راہ نکالنے کی ذمہ داری سونپ سکتے تھے ۔

    یہ اہل مکہ کا ایک دانا، جہاں دیدہ اور تجربہ کار سردار، عروہ بن مسعود تھا ۔یہ بعد میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے(رضی الله تعالیٰ عنہ) ان پر انہیں مکمل اعتماد تھا ۔ماضی کی طرح، اج بھی ایک مشکل گتھی سلجھانے کے لئے، مکہ والوں نے انہیں میدان میں اتارنے کا عزم کیا ۔

    یہ میدان، مکہ مکرمہ سے انیس میل کے فاصلے پر واقع تھا ۔اس میدان کو حدیبیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہاں رحمت دو عالم صلی الله عليه وسلم، اپنے صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ موجود تھے،۔اپ صلی الله عليه وسلم مدینہ منورہ سے عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عروہ بن مسعود نے اپنے جان نثاروں کے درمیان گھرا ہوا دیکھا تو عجب منظر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان یوں لگ رہے تھے جیسے روشنی کے حلقے کے درمیان چاند ہو۔

    عروہ بن مسعود نے یہ منظر دیکھا تو متآثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، انہوں نے جہاں مذاکرات کئے، وہیں حالات کا بغور جائزہ بھی لیتےرہے۔ وہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، اور حیران کیوں نہ ہوتے، یہاں انہیں وہ کچھ دکھ رہا تھا، جو قیصر وکسری کے دربار میں بھی دیکھنے کو نہ ملا وہ کیا تھا ؟

    وہ بتاتے ہیں کہ میں نے دیکھا ؛
    جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماء مستعمل ،وضو کا پانی آپ کے جان نثار نیچے نہیں گرنے دیتے، اسےہاتتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ہیں۔

    حد تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آب دہن کو زمین ترستی ہے لیکن آپ کے عشاق اسے زمین پر گرنے نہیں دیتے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گفتگو کرتے ہیں تو ہر سو سناٹا چھا جاتا ہے، آپ کے یہ عقیدت مند ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔
    آپ کی ہر ہدایت کو سنا اور مانا جاتا ہے بلکہ آپ کے اشارہ ابرو کو بھی سمجھا اور مانا جاتا ہے.
    آپ کی حد درجہ تعظیم کی جاتی ہے۔

    یوں کہہ لیجیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود ھدایت کے ان روش ستاروں اور جان نثاروں میں سے ہر ایک کی یہ کوشش رہتی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ فدا ہو جاؤں، اس فدا کاری کو وہ اپنے لیے دونوں جہانوں کے لیے باعث فخر اور ذریعہ نجات سمجھتا۔

    واپسی پر جب عروہ نے کفار کے سامنے آنکھوں دیکھے حال کی منظر کشی کی تو کچھ ہیچ پیچ کرنے کے بعد، آخر کار انہیں اپنے جذبات سے بالا تر ہو کر سوچنا پڑا. نتیجے کے طور پر باہم مصالحت ہوئی۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ والہانہ محبت کا اظہار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کا پست رکھنا اور آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں لپکنا، ہمیں عشق و محبت کے قرینے اور تقاضے بتاتا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعویٰ محبت تو محبت کا محض ایک دعویٰ ہی ہے، جب تک ہم اپنے عمل اور اطاعت رسول سے اپنے اس دعوے پر دلیل پیش نہیں کرتے، اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    محض عمل اور اتباع بھی کمال ایمان کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک تسلیم ورضا نہ ہو۔سورۃ نساء کی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا ایمان اس وقت تک کے لیے غیر معتبر ہے، جب تک ہم اپنی عملی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف یہ کہ حکم تسلیم کر لیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں ۔

    سورہ احزاب کی ایک آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے کسی معاملے میں فیصلہ فرما دینے کے بعد، ہمیں کوئی اختیار نہیں رہتا۔

    غرض ایک سچے مؤمن اور حقیقی محب کی شان یہی ہے کہ وہ آقا نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاں اظہارِ محبت کرے، وہاں ۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت بھی رکھے،
    آپ کی عظمت کو بھی جانے،
    آپ کے فیصلوں کا احترام بھی کرے،
    آپ کی اطاعت و اتباع بھی کرے،
    اور وقت آنے پر آپ پر جان و تن فدا بھی کرے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جہاں ہم سے یہ تقاضے کرتی ہے وہیں ہم سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ ہم اغیار کے طور طریقے چھوڑ دیں، بدعات کا ارتکاب نہ کریں
    اور شریعت کے مقابلے میں اپنی خواہشات کی اتباع نہ کریں۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • ملک لوٹنے والوں کا بائیکاٹ کریں! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ملک لوٹنے والوں کا بائیکاٹ کریں! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اللہ پاک نے اس مملکت خداداد پر بڑا کرم کیا ہے ورنہ جس بے دردی سے اس ملک کو ستر سال سے لوٹا جارہا تھا اچھے خاصی ترقی یافتہ ممالک بھی شائد ایسی لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوجاتے یا صفحہ ہستی سے مٹ جاتے
    ناجانے کتنے ہی ایسے لوگوں کی داستانیں موجود ہیں جن کے پاس اس ملک پر حکمرانی کرنے سے پہلے کچھ نہیں تھا لیکن جیسے ہی حکومت میں آئے ان کے کاروبار،جائیدادیں بڑھتی چلی گئ بچوں کا رہن سہن بادشاہوں والوں ہوگیا
    ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم آج بھی اس ملک کو لوٹنے والوں کے پیچھے نعرے لگاتے ہیں ،آپ نواز شریف کی مثال لیں جو اس ملک پر تین بار وزیراعظم رہا پنجاب میں ان کی تیس سال حکومت رہی لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنا علاج کروانے آج بھی باہر بھاگتے ہیں ،ان کے پیچھے نعرے لگانے والوں سے کوئ پوچھے یہ آپ لوگوں کے ٹیکس کے پیسے ہی لوٹ کر گیا ہے جو پیسے اس ملک پر یہاں کی عوام پر خرچ ہونے تھے اس سے شریف خاندان نے باہر جائیدادیں اور کاروبار بنائے ،جس علاج کے لئے یہ لوگ باہر جاتے ہیں خدانخواستہ وہی بیماری اس ملک کے کسی غریب بندے یا کسی عام ن لیگی کارکن کو ہوجائے تو وہ کہاں جائے گا؟آخر ن لیگی کارکن ہمت کرکے یہ سوال کیوں اپنی قیادت سے نہیں پوچھتے؟عام آدمی نے اسی ملک میں رہنا ہوتا لیکن ان کے لیڈر اس ملک میں صرف حکومت کرنے آتے ہیں ،جس بندے کا کاروبار باہر ،بچے باہر،جائیدادیں باہر ،عیدیں اور شادیاں باہر وہ کس طرح اس ملک کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں
    آصف علی زرداری کی پپلزپارٹی بھی ن لیگ اور نواز شریف کی طرح اس ملک پر کئ بار حکمرانی کرچکی ہے لیکن حالات یہ ہیں کہ آج پورا ملک چھوڑیں ،صوبہ چھوڑیں زرداری کے اپنے شہر نوابشاہ اور پپلزپارٹی کے اپنے شہر لاڑکانہ کے حالات بھی آپ دیکھیں تو رونا آجائے جس بے دردی سے ان دونوں جماعتوں نے اس ملک کی عوام کے خون پسینے کا پیسہ لوٹا ہے ایسا تو شائد کوئ دشمن ملک بھی قابض ہونے کے بعد نا لوٹتا ہو
    لیکن ہماری بے حسی دیکھئے ہمیں آج بھی لوگ ان دونوں جماعتوں کے پیچھے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں
    یقین کریں یہ ہمارے ملک کا المیہ بن گیا ہے اب کوئ بندہ بھی سرکار کی چھوٹی سی ملازمت کرتا ہے تو وہ کہیں نا کہیں سے کرپشن ضرور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہم لوگ جب یہ عام ملازم جو تھوڑی بہت کرپشن کرکے پیسے والا بنتا ہے تو اسی کے پیچھے ہاتھ باندہ کے کھڑے ہونے کو فخر سمجھتے ہیں
    ہمارے پاس ایک عام میٹر ریڈر کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنالیتا ہے اور ہم اس کی تعریف کے پل بادھتے نہیں تھکتے اس کی محنت کے گیت گاتے ہیں آخر کہاں گئ ہماری اخلاقیات ؟
    اس لئے سب سے پہلے تو ہم سب کو عام پاکستانیوں کو عہد کرنا چاہیے کہ جو بندہ اس ملک کا ایک روپیہ بھی لوٹے گا ہم کبھی اس کے پیچھے نہیں چلیں گے اس کی کوئ تعریف نہیں کریں گے بلکہ ایسے کرپٹ لوگوں کے خلاف ہم اپنا فرض سمجھ کر ہر موقعے پر آواز اٹھائیں گے
    کرپٹ عناصر سے سوشل بائیکاٹ کریں گے ،یہاں تک کہ ایسے لوگ کرپشن کو خود کوئ بڑا جرم نا سمجھ لیں اور کرپشن کی گئ رقم قومی خزانے میں واپس نا کروادیں
    کرپشن کے خلاف جہاد صرف وزیراعظم عمران خان صاحب کا ہی فرض نہیں بلکہ ہم سب پاکستانیوں کا یہ فرض بنتا ہے اس برائ کے خلاف علم جہاد بلند کریں تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے ہماری آنے والی نسلوں کو ایک ترقی یافتہ خوشحال کرپشن سے پاک پاکستان ملے اور دنیا میں پاکستان کی عزت میں مزید اضافہ ہو
    اللہ پاک پاکستان پر اپنا خصوصی کرم فرمائیں اور ہم سب کو کرپشن کے خلاف آواز حق بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • قدیم نظام تعلیم تحریر: محمد معوّذ

    قدیم نظام تعلیم تحریر: محمد معوّذ

    جہاں تک ہمارے پرانے نظام تعلیم کا تعلق ہے وہ آج سے صدیوں پہلے کی بنیادوں پر قائم ہے، جس وقت یہاں انگریزی حکومت آئی اور وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے۔ اس وقت جو نظام تعلیم ہمارے ملک میں رائج تھا وہ ہماری اس وقت کی ضروریات کے لیے کافی تھا۔ اس نظام تعلیم میں وہ ساری چیزیں پڑھائی جاتی تھیں جو اس وقت کے نظام مملکت کو چلانے کے لیے درکار تھیں۔ اس میں صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں تھی بلکہ اس میں فلسفہ بھی تھا، اس میں منطق بھی تھی، اس میں ریاضی بھی تھی۔ اس میں ادب بھی تھا اور دوسری چیزیں بھی تھیں ۔ اس زمانے کی سول سروس کے لیے جس طرح کے علوم درکار تھے، وہ سب طلبہ کو پڑھائے جاتے تھے ۔ لیکن جب وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے تو اس پورے نظام تعلیم کی افادیت ختم ہوگئی۔ اس نظام تعلیم سے نکلے ہوئے لوگوں کے لیے نئے دور کی مملکت میں کوئی جگہ نہ رہی ۔ جس قسم کے علوم اد دوسری مملکت کو درکار تھے وہ اس کے اندر شامل نہیں تھے اور جو علوم اس میں شامل تھے ان کے جاننے والوں کی اس دوسری مملکت کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم چوں کہ اس کے اندر ہماری صدیوں کی قومی میراث موجود تھی اور ہماری مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اس کے اندر کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا (اگرچہ کافی نہ تھا) اس لیے اس زمانے میں ہماری قوم کے اچھے خاصے بڑے عنصر نے محسوس کیا کہ اس نظام کو جس طرح بھی ہوسکے قائم رکھا جائے تا کہ ہم اپنی آبائی میراث سے بالکل منقطع نہ ہو جائیں۔

    اسی غرض کے لیے انھوں نے اسے جوں کا توں قائم رکھا لیکن جتنے جتنے حالات بدلتے گئے اتنی ہی زیادہ اس کی افادیت گھٹتی چلی گئی کیوں کہ اس نظام تعلیم کے تحت جو لوگ تعلیم پاکر نکلے انھیں وقت کی زندگی اور اس کے مسائل سے کوئی مناسبت ہی نہ رہی۔ اب جو لوگ اس نظام تعلیم کے تحت پڑھ رہے ہیں اور اس سے تربیت پا کرن کل رہے ہیں ان کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ہماری مسجدوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں یا کچھ مدرسے کھول لیں اور طرح طرح کے مذہبی جھگڑے چھیڑتے رہیں تا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے قوم کو ان کی ضرورت محسوس ہو۔ اس طرح ان کی ذات سے اگر کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہمیں پہنچتا ہے۔ یعنی ان کی بدولت ہمارے اندر قرآن و دین کا کچھ نہ کچھ علم پھیلتا ہے، دین کے متعلق کچھ نہ کچھ واقفیت لوگوں کو حاصل ہوجاتی ہے اور ہماری مذہبی زندگی میں کچھ نہ کچھ حرارت باقی رہ جاتی ہے لیکن اس کے فائدے کے مقابلے میں جو نقصان ہمیں پہنچ رہا ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔ وہ نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی کر سکتے ہیں، نہ موجودہ زندگی کے مسائل پر اسلام کے اصولوں کو منطبق کر سکتے ہیں، نہ ان کے اندر اب یہ صلاحیت ہے کہ دینی اصولوں پر قوم کی راہنمائی کر سکیں اور نہ وہ ہمارے اجتماعی مسائل میں سے کسی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اب ان کی بدولت دین کی عزت میں اضافہ ہونے کی بجائے الٹی اس میں کچھ ککیمی ہورہی ہے، دین کی جیسی نمائندگی آج ان کے ذریعہ سے ہورہی ہے، اس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں دین سے روز بروز بعد بڑھتا جارہا ہے اور دین کے وقار میں کمی آرہی ہے۔ پھر ان کی بدولت ہمارے ہاں مذہبی جھگڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا، کیوں کہ ان کی ضروریات زندگی انہیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان جھگڑوں کو تازہ رکھیں اور بڑھاتے رہیں۔ یہ جھگڑے نہ ہوں تو قوم کو سرے سے ان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔

    یہ ہے ہمارے پرانے نظام تعلیم کی پوزیشن اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ کہہ دوں کہ حقیقت میں وہ دینی تعلیم بہت کم ہے۔ دراصل وہ اب سے دو ڈھائی سو برس پہلے کی سول سروس کی تعلیم ہے جس میں زیادہ تر اس وجہ سے دینی تعلیم کا جوڑ لگایا گیا تھا کہ اس زمانے میں اسلامی فقہ ہی ملک کا قانون تھی اور اسے نافذ کرنے والے کے لیے فقہ اور اس کی بنیادوں کا جاننا ضروری تھا۔ آج ہم غنیمت سمجھ کر اسی کو اپنی دینی تعلیم سمجھتے ہیں-لیکن حقیقت میں اس کے اندر دینی تعلیم کا عنصر بہت کم ہے، کوئی عربی مدرسہ ایسا نہیں ہے جس کے نصابِ تعلیم میں پورا قرآن مجید داخل ہو۔ صرف ایک یا دو سورتیں (سورہ بقرہ یا سورہ آل عمران) باقاعدہ درساً درساً پڑھائی جاتی ہیں۔ باقی سارا قرآن اگر کہیں شامل درس ہے بھی تو صرف اس کا ترجمہ پڑھا دیا جاتا ہے۔ تحقیقی مطالع قرآن کسی مدرسے کے نصاب میں بھی شامل نہیں۔ یہی صورت حال حدیث کی ہے۔ اس کی باقاعدہ تعلیم جیسی کہ ہونی چاہیے، جیسی کہ محدث بننے کے لیے درکار ہے کہیں نہیں دی جاتی ۔ درس حدیث کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے وہ یہ ہے کہ جب فقہی اور اعتقادی جھگڑوں سے متعلق کوئی حدیث آجاتی ہے تو اس پر دو دو تین تین دن صرف کر دیے جاتے ہیں۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو دین کی حقیقت کو سمجھاتی ہیں، یا جن میں اسلام کا معاشی ، سیاسی ، دینی اور اخلاقی نظام بیان کیا گیا ہے، جن میں دستور مملکت یا نظام عدالت یا بین الاقوامی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ ان پر سے استاد اور شاگرد دونوں اس طرح رواں دواں گزر جاتے ہیں کہ گویا ان میں کوئی بات قابل توجہ ہے ہی نہیں ۔ حدیث اور قرآن کی بنسبت ان کی توجہ فقہ کی طرف زیادہ ہے،…………….. لیکن اس میں زیادہ تر ،بلکہ تمام تر جزئیات فقہ کی تفصیلات ہی توجہات کا مرکز رہتی ہیں۔ فقہ کی تاریخ، اس کے تدریجی ارتقاء، اس کے مختلف اسکولوں کی امتیازی خصوصیات، ان اسکولوں کے متفق علیہ اور مختلف فیہ اصول اور ائمہ مجتہدین کے طریق استنباط، جن کے جانے بغیر کوئی حقیقت میں فقہی نہیں بن سکتا، ان کے درس میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ان چیزوں پر شاگرد تو درکنار استاد بھی نگاہ نہیں رکھتے۔

    اس طرح یہ نظام تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کے لیے بھی سخت ناکافی ہے ۔ جن کی خاطر اسے باقی رکھا گیا تھا۔ رہیں دنیوی ضروریات تو ان سے تو اس کو سرے سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔

    @muhammadmoawaz_

  • وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    وزیراعظم کی بائیس سال کی سیاسی جدوجہد یہ بائیس سال کہنا تو بہت آسان ہے مگر گزارنا قدرے مختلف وزیراعظم نے بارہا کہا صرف مقامی خبروں کے چینلز پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی خبروں کے چینلز پر بھی متعدد بار یہی کہا کے افغانستان کا حل جنگ نہیں بات چیت ہے. اس مؤقف کو ہر جگہ اجاگر کیا گیا یہاں تک وزیراعظم کو طالبان خان کہا جانے لگا اس کی وجہ کے وزیراعظم نے افغانستان جنگ کی مخالفت کی اور کہا افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف بات چیت ہی میں ہے.

    امریکہ کی اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس نے تاریخ سے کبھی نہیں سیکھا ویت نام ہو عراق ہو ایران کویت ہو یا افغانستان ہر جگہ گھسے جنگ کی اور بلا آخر کچھ بھی حاصل نا ہؤا اور واپس گئے اور آج ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو چکا ہے جب روس یو ایس ایس آر تھا تب بھی افغانستان میں امریکہ گیا اور سوائے نقصان کے کچھ حاصل نا ہؤا.

    آج زرا نئے امریکی صدر جوبائیڈن پر نظر ڈالیں تو وہ بھی یہی کہتا نظر آئے گا کے جنگ مسائل کا حل نہیں اور امریکی صدر نے یہ بھی کہا کے میں اب نئے آنے والے صدر پر ایک بار پھر افغانستان کا مسئلہ نہیں ڈالنا چاہتا میرے ملک کی افواج نے وہاں جانیں دیں اور مزید کیوں جانیں دے جب افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی اور فوج بجائے لڑنے کے بھاگ گئی اگرچہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ تو نہیں کیا جا سکتا مگر حالات اب کچھ ایسے ہی نظر آتے ہیں کے امریکہ اس بار واقعی سنجیدہ ہے اور افغانستان سے واپس جا رہا ہے.

    جو ملک سب سے زیادہ تباہ ہؤا وہ پاکستان ہے کیونکہ اس نے دہشتگردی کا سامنا کیا ٹی ٹی پی اور جیسی کئی دہشتگرد تنظیموں نے پاکستان پر حملے کئے اب یہاں کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کے اب طالبان آگئے پھر سے حالات خراب ہوں گے افغان طالبان نے پاکستان پر حملے نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت نے مل کر وہاں ایسے دہشت گرد بنائے جس نے پاکستان پر حملے کئے اور اب افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کہا اور پاکستانی میڈیا پر کہا کے اب ہم افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ہم سب ممالک سے امن اور اچھے تعلقات کے حامی ہیں اس بیان سے سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا ہے کیونکہ اشرف غنی کے دور حکومت میں افغانستان بھارت کے زیر اثر تھا بھارت نے وہاں انویسٹمنٹ کی دراصل وہ بیٹھا ہی پاکستان کو کنٹرول اور سینڈوچ کرنے کے لئے تھا لیکن حکمت عملی اور قدرت کا کچھ ایسا کرنا ہؤا کے امریکہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھایا اور یوں افغانستان سے اب پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی جنگوں کا بھی اختتام ہوگا
    کل وزیرستان میں پاکستان آرمی کے جوان پر فائرنگ کی گئی اور ایک جوان شہید ہؤا اب بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کے شائد ابھی بھی افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں دراصل کچھ ایسے عناصر جو پاکستان میں پہلے ہی سے داخل ہوکر یہاں زندگی بسر کر رہے ہوں گے انھی کی کارستانی ہے.

    اب ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور ہے ہے اور اس میں خبروں کو انٹرنیٹ پر ایسے دکھایا جاتا ہے کے گویا وہ خبر درست ہو کچھ عرصے سے ہمارے سوشل میڈیا پر افغانستان سے متعلق باقاعدہ غلط خبروں کا سلسلہ شروع ہے کے لو جی طالبان آگئے اب پاکستان میں یہ ہوگا وہ ہوگا تو محترم قارئین اس بات کو بھی زیہن نشین کرلیں کے ایسی خبریں بھارت عناصر ہی پھیلائیں گے کیونکہ بھارت کو بہت نقصان ہؤا ہے اس کا پاکستان کو اکیلا کرنے اور پراکسی جنگ جاری رکھنے کا خواب الحمد لله چِکنا چُور ہوگیا ہے وہ غلط خبریں پھیلانے میں کسی بھی حد تک جائے گا مجھے امید ہے بلکہ یقین ہے کے اب افغانستان میں تبدیلی آئے گی ابھی جس وقت میں یہ کال م لکھ رہا ہوں تو کل یا کچھ دن پہلے بھارتی وزیراعظم کی کابینہ کا اہم سیکورٹی اجلاس اور افغانستان کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا اس ویڈیو میں باڈی لینگویج بہت کچھ بتا رہی تھی کے بھارت کا کتنا نقصان ہؤا ہے.

    بھارتی وزیر خارجہ کل پرسوں دوحا قطر میں موجود تھے انھوں نے اپنے ہم قطری ہم منصب سے ملاقات کی اور افغانستان ڈسکس کیا اور مبصرین کے مطابق افغانستان میں تبدیلی اور بھارت کے پیچھے رہ جانے کتمے بعد بھارت دیگر راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے.

    پاکستان کی معیشت کے امکانات روشن ہیں افغانستان میں امن آنے کو ہے اور وسطی ایشیائی ممالک ( براستہ افغانستان) ، میں اپنی تجارت کو فروغ دے گا ان شاء ﷲ پھلتا پھولتا پاکستان.

    آمین.

    Twitter id : @ M1Pak