Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    ایک زمانہ تھا جب عورت کو کسی قسم کی ملازمت کرنے کی یا ڈاکٹر بننے یا نرس کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورتوں میں برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی ہے اور ڈاکٹر بننے کے دوران وہ مشکلات برداشت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ صحیح سے فرائض انجام دے سکتی ہیں
    دوسرے شعبوں کی طرح ڈاکٹر کا پیشہ بھی مردوں کی ذات تک محدود رہ کر رہ گیا تھا
    لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کیا۔
    مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاح و بہبود معاشرتی نظم و ضبط،سیاست معاشی استحکم اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کیوں کہ روئے زمین پر نوح انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے لہذا خواتین کی اہمیت سے انکار کا جواز ہی نہیں عورت ہر روپ میں ہر رشتے میں عزت و وقار کی علامت اور وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے انسان کسی بھی منصب اور حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون احسان ضرور ہوتا ہے بارہا سننے میں آتا ہے ہر کامیاب انسان کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صنف نازک کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں ایک ناقابل تسخیر طاقت ضرور موجود ہے تو پھر اس کی ذات میں کم مانیگی کے احساس نے کب اور کیسے جنم لیا؟اس سلسلہ میں موجود الزام مردوں کو ٹھہرایا جائے یا پھر عورت ہی عورت کی حریف واقع ہوئی؟
    یہ وہ معمہ ہے جسے حل کرنے اہل علم ودانش برس با برس سے سرگردہ ہیں۔

    دیکھیے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ہماری تو بس ایک چھوٹی سی عرض ہے کہ خود کو پہچانیں بنت حوا کا وہ چہرہ جس کے نقوش وقتی تقاضوں،مفروضوں اور دیگر نام نہاد جدت طرازیوں سے گرد آلود ہو کر رہ گئے ہیں
    ان کی شناخت کریں ترقی کا سفر روایات اور جدت کے توازن کے بغیر ممکن نہیں مانا کہ جدت اور اپناپن خود میں ایک بے ساختہ تازگی کا احساس لئے ہوتا ہے جیسے بہاروں میں پھولوں کا کھلنا مسرت اور شادمانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔
    خود خواتین کا احترام دراصل نوح انسانی کے احترام کے مترادف ہے کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا کے علاوہ دنیا میں کوئی نفس ایسا نہیں آیا جسے ماں نے جنم نہ دیا ہو اگر ہمارے لئے ماں محترم ہے تو دنیا کی ہر خاتون (محترم) ہونی چاہیے یوں بھی عورت کا احتصال اور اسے کمزور و حقیر سمجھنا عہد جاہلیت کے شرمناک رواجوں میں سے ایک ہے،
    اسلام نے جدید ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں حقوق کو غصب کرنا ظلم و جبر تکبر طاقت بےجا استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے بیٹیوں کی ولادت کو باعث شرم سمجھنا اور اس جیسے دیگر اطور کی حوصلہ شکنی بھی کی انسان تو انسان بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا احترام سکھایا
    عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا کہ جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے نیز خواتین کو بھی انتہائی باوقار طرز حیات تعلیم کیا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو اپنا تشخص قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پہلا قدم خود ہی اٹھانا ہے معاشرہ مرد کا ہی سہی کیا کبھی یہ ثابت کیا جا سکا کہ اس مرد کے معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری میں کبھی عورت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا؟نہیں ایسا ممکن ہی نہیں درحقیقت ابتدائے آفرنیش سے آج تک یہ اپنی شخصیت کے بھرپور احساس کے ساتھ ایکسٹ کر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ مراحل پر اسے اپنی اہمیت کا احساس نہ رہا۔۔
    صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی شفقت و مہربانی اور درگزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے اور یہ خواص کسی خاص خطہ اراضی کیا کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ ہر خاتون کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے لیکن اس سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق بہم پہنچائے جائیں
    جن میں پہلا حق تعظیم و اکرام ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزز جانا اور ان کا احترام کیا ان کے حقوق کی پاسداری کی ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

    @SyedUmair95

  • تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت

    تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت


    سائنسدانوں کے مطابق تھکن کی تعریف یہ ہے
    "کسی کام کو کرنے کےلئے آپ میں انتہائی قلیل انرجیکپیسٹی کا ہونا”
    ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگ جلدی تھک جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اگر آپ دماغی کام کر رہے ہیں تو آپ کے تھکنے کے چانسز اس آدمی کے مقابلے میں جو جسمانی کام کر رہا ہے کم ہیں
    اس بات کو ثابت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے تجربات کیے انہوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز لیے جو آفس میں کام کرتے ہیں اور چند ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز بھی لیے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں
    جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج آئے تو یہ پتہ چلا کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگوں میں تھکن سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے جنہیں ہم انگریزی میں fatigue toxins اور ان سے بننے والے پراڈکٹس جنہیں ہم fatigue products جسمانی مشقت کرنے والوں کی نسبت انتہائی کم تھے
    ماہر نفسیات اس بات کو کلیئر کر چکے ہیں کہ تھکن دماغی کام کرنے سے نہیں ہمارے ذہنی رویے اور جذباتی رویے کی پیداوار ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان اگر صحت مند زندگی گزار رہا ہے تو اسکی وجہ بلاشبہ اسکا جذباتی رویہ ہی ہے
    اور ایسے ہی اگر کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان تھکن محسوس کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر کام کو جلدی میں کرنے کے لیے اسے اپنے اعصاب پہ سوار کر لیتا ہے وہ ایگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا اچھا وہ کام کر رہا ہے اسکی اسے داد موصول نہیں ہو رہی یہ چند بنیادی اور بڑی جذباتی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پہ ایک کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا یا آفس ورک کرنے والا انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ شدید ترین سر درد کے ساتھ گھر جاتا ہے
    اس کی تمام تر پریشانی کی جڑ اس کا جذباتی رویہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے جنکا نتیجہ شدید سر درد کی صورت میں نکلتا ہے
    اکثر اوقات ایک بھر پور نیند تھکن کا بہترین علاج ہوتی ہے لیکن یہ علاج تب کارآمد نہیں ہوتا جب ہم پریشانی،ٹینشن یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں کیونکہ ایک ٹینس مسلز ایسا مسل ہوتا ہے جس پہ مسلسل دباؤ پڑ رہا ہوتا ہے اور وہ کام کر رہا ہوتا ہے جب ہم نیند کرتے ہیں تو بھی سوتے وقت ہم اس پریشانی کو سر پہ سوار کرکے سوتے ہیں جسکی وجہ سے مسلز پہ دباؤ کم نہیں ہوتا اور نیند بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی
    اس لیے یہ ضروری ہے کہ خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کریں کسی بھی چیز کو سر پہ سوار نہ کریں اور اپنی انرجی کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچائیں
    رکیں! خود کا ابھی تجزیہ کریں کیا آپ اپنی آنکھوں پہ ایک دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کرسی پہ پر سکون محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یا آپکے کاندھے اکٹھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے چہرے کے مسلز پہ تناؤ موجود ہے؟ اپنے جسم کو ریلیکس فیل کرائیں خود کو ڈھیلا چھوڑیں کیونکہ آپ خود ہی اپنے لیے اعصابی تناؤ اور اعصابی تھکن پیدا کر رہے ہیں اپنے ذہن کو خالی اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے آپ خود کو کافی حد تک پر سکون محسوس کریں گے
    آخر کار کیوں ہم لوگ ذہنی کام کرتے ہوئے غیر ضروری اعصابی تناؤ کا جنم دیتے ہیں؟
    اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سخت محنت کر رہے ہیں چونکہ محنت تھکن کو جنم دیتی ہے اس لیے ہم تھک جاتے ہیں جب تک ہم خود کو تھکا ہوا محسوس نہیں کرتے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے محنت نہیں کی

    آج میں نے تھکن اور اسکی وجوہات پہ بات کی ان شاءاللہ اس آرٹیکل کے اگلے حصے میں ہم اس پہ مزید بات کریں گے اسکی مزید وجوہات اور اسکے علاج پہ بات کریں گے

  • بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    دورِ حاضر میں بچوں میں کتب بینی کی عادت ہونا بہت ضروری ہے. بچوں میں مطالعے کا شوق نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ اور بھی پہلوؤں سے کارآمد ہے. بچوں کو کتابیں پڑھانا تو اتنا مشکل کام نہیں جتنا ان میں مطالعے کا شوق اور دلچسپی ابھارنا مشکل ہے. کسی بھی عادت کی داغ بیل بچپن میں ڈال دیناضروری ہوتا ہے اور مطالعے کی عادت تو باالخصوص بچپن ہی سے پروان چڑھنی چاہیے. مطالعے سے بچے کی زبان و بیان میں نکھار آئے گا، جہاں بولے گا مدلل گفتگو کرے گا. تعلیمی میدان کے معرکے بھی آسانی سے سر کر لے گا.
    بچوں کے اندر کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کے لیے صرف نصیحت کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بچے ان نصائح کی عملی شکل ہمارے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو نقل کرتے ہیں جو وہ بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں. لہٰذا بچوں کے سامنے بیٹھ کر روزانہ مطالعے کو اپنا معمول بنا لیں. بچے بھی ساتھ بیٹھ کر اگر ورق گردانی کرتے رہیں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں کیونکہ بچوں کو سکھانا ہے تو اس مرحلے کو بھی خوش اسلوبی سے طے کرنا ہوگا تا کہ بچے کتابوں سے متنفر نہ ہوں بلکہ پیار کریں.
    کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کے لیے بچوں کے لیے رنگ برنگی تصاویر والی کہانیاں لے کر آئیں، پہلے خود انہیں تصاویر کی مدد سے دلچسپ انداز میں کہانی سنائیں، آسان الفاظ کا استعمال کریں اور بالکل بچے کی ذہنی اور تعلیمی سطح کو ذہن میں رکھیں. کہانی سنانے کے بعد چھوٹے چھوٹے سوالات کریں اور پھر آخر میں بچے سے وہ کہانی ان کے اسلوب میں سنیں.
    گھر میں چھوٹی سی لائبریری کا ہونا بہت ضروری ہے جہاں بچوں کی پہنچ آسان ہو. تا کہ بچے اپنی پسند کی کتابیں اٹھا کر پڑھ سکیں.
    ہم بچوں کو جس طرح ان کی پسند کے کپڑے اور کھلونے دلوانے لے جاتے ہیں اس طرح انہیں بازار لے جانا چاہئیے جہاں وہ اپنی پسند کی کتابیں خرید سکیں. اکثر کتب میلہ لگا کرتا ہے وہاں اپنے ہمراہ لے جائیں تا کہ بچوں کو کتابوں کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہو.
    بچے کو کتابیں لا کر دے کر یا اس کے سامنے دو دن کتابیں پڑھ لینے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ بچہ اب کتابوں کا شوقین ہو گیا ہے، اس ضمن میں صبر سے کام لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جلد بازی کسی بھی طور اثر انگیز ثابت نہیں ہو سکتی.
    اگر بچہ کسی اچھی کتاب کا انتخاب کرے، اس کو خود ہی آپ کی غیر موجودگی میں پڑھ کر آپ کے آنے پر آپ سے ڈسکس کرے تو بھلے اس کا تبصرہ کیسا بھی ہو اس کی کھل کر تعریف کریں اسے سراہیں، حوصلہ افزائی کسی بھی انسان سے کوئی بھی کام کروا لیتی ہے.
    اگر ہم ترقی کی شاہراہ پہ قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کی عادت ہو،کیوں کہ علم کی فصل قلم و کتابت کی جس زمین پر اگتی ہے اسے پڑھنے کا شوق رکھنے والے لوگ ہی سیراب کر سکتے ہیں. جس معاشرے میں مطالعے کا شوق ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے.
    ‎@WaqarKhan104

  • جیکب آباد میں بڑھتا سود کا کاروبار  تحریر :عبدالرحمن آفریدی

    جیکب آباد میں بڑھتا سود کا کاروبار تحریر :عبدالرحمن آفریدی


    سود کی لین دین کرنے والے پر اللہ کی لعنت برستی ہے سود سے اللہ پاک نے دور رہنے کا حکم دیا ہے اس حوالے سے قرآن پاک میں آیات بھی موجود ہیںسو د کھانے والا ماں سے زنا کرنے کے برابر کہا گیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک سود لینے والے سے کتنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔
    جیکب آباد میں سود کاکاروبا ر دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے پہلے ہندو ﺅں سے سود منسوب تھا جو کہ سود یعنی دئے گئے سامان رقم ،زیورات پر تین فیصدمنافع لیتے تھے لیکن اب اس غلیظ کام کو کاروبا ر بنانے والوں میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے سود کے معاملے میں مسلمانوں نے تو ہندوﺅں کو بھی مات دے دی ہے ،سودخور وں کے ظلم و زیادتیوں پر جیکب آباد کے سابق ایس ایس پی فیصل عبداللہ چاچڑ نے تصاویر کے ساتھ جیکب آباد کے ایک سو سے زائد سود خوروں کی تصاویر کے ساتھ فہرست شہر کے چوراہوں پر لگائی تھی جس سے سود خوروں میں کھلبلی مچ گئی تھی اور وہ بلوں میں جا دبکے تھے لیکن انکے تبادلے کے بعد سو د خورایک بار پھر جیکب آباد میں سرگرم ہو گئے ہیں۔
    جیکب آباد میں سود پر پیسے دینے کے لئے اب تو دوکان بھی کھل گئی ہے سود خود پولیس کی مدد سے اپنے کاروبار کو پھیلارہے ہیں سود کے پیسوں کی وصولی کے لئے بھی سود خود پولیس کی مدد لیتے ہیںسود خور آپکو جوا کے اڈوں ،موٹر سائیکل شوروم ،کھاد بازار ،صرافہ بازار میں ملیں گے موٹر سائیکل ،کھاد ،زیورات اور جوا کھیلنے کے لئے ادھار پر پیسے دینے کے لئے سود خود ہر وقت تیار ہوتے ہیں کیونکہ انکو وصول کرنا آتا ہے جیکب آباد میں سود کے پیسوں کی عدم ادائیگی پر لوگوں کے گھروں پر قبضے ،گرفتار کرانے سمیت دھمکانا ہراساں کرنا سمیت ہر طریقہ اختیار کیا جاتا ہے سود خور معمولی رقم دیکر بھاری رقم دینے کا تقاضہ کرتے ہیںجس سے کئی خودسوزی کے انتہائی اقدام پر مجبور ہوتے ہیں تو کئی شہر چھوڑ جاتے ہیں تو کئی روپوشی اختیار کرلیتے ہیں اور پھر سود خور سود لینے والوں کے عزیزو اقارب کو تنگ کرتے ہیںپچاس ہزار کی موٹر سائیکل دو ماہ کی قسط پر 80ہزار میں دی جاتی ہے اگر دو ماہ میں موٹر سائیکل لینے والا 80ہزار نہ دے سکا تو پھر سود کا میٹر چلتا رہتا ہے جتنی تاخیر اتنی زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی اب تو موبائل فون پر بھی سود کی وصولی کی جا رہی ہے ۔
    جیکب آباد کے سود خوروں میں بااثر شخصیات بھی شامل ہیںسیاست میں بھی سود خور کا بڑا عمل دخل ہو گیا ہے کچھ تو سیاسی پارٹیوں میں اہم ذمہ داری رکھے ہوئے ہیں ،سو د خوروں کو پولیس محافظ بھی دئے گئے ہیں سودکے پیسے سے بنائی گئی جائیداد کے بل بوتے پر سود خود اب جیکب آباد میں بڑا اثرو سوخ رکھتے ہیں جوکہ کئی گھر اجاڑ چکے ہیںادھار رقم دیکر سود خور سود لینے والے کی ملکیت دوکان زمین،گھر اور دیگر قیمتی سامان سستے داموں لیتے ہیںاسطرح ایک ضرورت مند کی ضرورت اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دن بہ دن اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کررہے ہیںسود کا کاروبار کرنے والوں میں سرکاری ملازم،سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ کپڑے ،زیورات اب تو ہرقسم کے کاروبا ر میںسود کی لعنت شامل ہو گئی ہے ،سرکاری ملازمین کے چیک بک تک سود خوروں کے پاس ہوتے ہیں جو ہر ماہ بینک عملے کی مدد سے ملازمین کی تنخواہیں حاصل کرتے ہیں،جیکب آباد میں بدامنی کا ایک سبب یہ بھی ہے سو دلینے والا سود ادا کرتے کرتے روڈ پر آجاتا ہے ،پر سو د دینے والاسے لی گئی رقم ادا نہیں کر پاتا ساری عمر گذر جاتی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ سود خوروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور سود خوری کے متعلق قانون بنایا جائے تاکہ کوئی کسی مجبور ضرورت مند کی ضرورت کا فائدہ نہ اٹھا سکے ،معمولی رقم دیکر لاکھوں کا تقاضہ کرنے والے مجبور کے گھر ،زمین ملکیت یعنی سب کچھ ہڑپ لیتے ہیں ،سود خوروں کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائے کہاں سے اتنی جائیداد بنائی ہے اور کتنی ٹیکس ادا کرتے ہیںجب تک معاشرے سے سود جیسی لعنت کو ختم نہیں کیا جائے گا امن، سکوناور بہتری کی توقع ایک خواب ہی رہے گا۔

    ‎@journalistjcd

  • پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر  : فرقان اسلم

    پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر : فرقان اسلم

    ٹین ایجرز سے مراد "ایسے لوگ جن کی عمریں 13 سے 19 سال کے درمیان اور وہ لڑکپن سے جوانی کی منزل طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں”۔
    ہمارے ملک پاکستان میں ٹین ایجرز آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ اگر ہم برِصغیر کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹین ایجرز کو عموماً دبا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کی دلچسپی اور شوق کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ان کو ذہنی طور پر مجبور کردیا جاتا ہے۔جس کے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی اس پریشانی کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔
    اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں رہنے والے لوگوں کی انائیں ہیں جو خود کو ہر کام میں مداخلت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور ٹین ایجرز کو ان کی مرضی یا رائے کے بغیر فیصلہ ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی انکار کرے یا کچھ کہنے کی ہمت کرے تو اس کو گستاخ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ جس کے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت میں نکھار پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہاں تک دیکھنے میں آیا ہے ان کو مارا پیٹا جاتا ہے اور طاقت کے زور پر اپنے فیصلے منوانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے مار پیٹ سے بچہ مزید بگڑ جاتا ہے۔
    ان سب عوامل کی وجہ سے بچے کے ذہن پر دباؤ اور کشمکش کا عالم ہوتا ہے۔ اور ان سب حالات میں بچے کی تربیت کیسے کی جائے یہ بہت اہم سوال ہے۔

    اس کے لیے میں کچھ گزارشات پیش کروں گا:

    1. سب سے پہلے آپ گھر اور باہر کے حالات و واقعات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کریں۔ جس سے آپ کو ان کی ذہنی پختگی کا اندازہ ہوجائے گا۔ پھر اس کے مطابق آپ فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    2.پڑھائی کے متعلق آپ ان کو آزادی دیں۔ ان پر اپنا فیصلہ ہرگز مسلط نہ کریں۔ بلکہ ان کو ان کی مرضی اور شوق کے مطابق چناؤ کا اختیار دیں۔ اس سے ان کے خوداعتمادی اور حوصلہ افزائی پیدا ہوگی۔

    3. انہیں گھر سے باہر جانے کا بھی موقع دیں۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کو گھر تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ جس سے ان کے اندر خوداعتمادی کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ باہر کسی پارک یا تفریحی مقام پر جانے سے ان کے ذہنی نشوونما میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

    4.ان کی محفل پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ برے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں تو ان کو پیار سے منع کریں اور اگر اچھے دوستوں کے ساتھ تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

    5. اسکول یا کالج سے ان کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹ لیتے رہیں۔ ان کی حاضری اور دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھیں اگر کوئی کمی یا کوتاہی نظر آئے تو اسے حل کرنے کی کوشش کریں۔

    6.انہیں نماز اور دینی کاموں کا علم سکھائیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا کہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کا کہیں۔ باقی دینی احکام کا بھی علم سکھائیں۔ اگر بچہ لاپرواہی کرتا ہے تو پیار سے سمجھائیں۔

    7.جتنا ہوسکے موبائل کم سے کم استعمال کرنے دیں۔ بلکہ وہی وقت ہم نصابی سرگرمیوں میں صرف کرنے کا کہیں۔ اس طرح ان کھ اندر کام کی دلچسپی اور شوق پیدا ہوگا۔ موبائل کا استعمال بالکل ممنوع بھی نہیں ہونا چاہیئے ایک حد کے اندر استعمال ہونا چاہیئے۔

    8.ان کے سامنے دوسروں سے ادب سے بات کریں اور ان کو بھی بڑوں کا ادب کرنے کی تلقین کریں۔ اور ہر اچھے کام میں پہل کرنے کا کہیں۔ کیونکہ جو عادت اس عمر میں بن جاتی ہے پھر وہ پختہ ہوجاتی ہے۔

    9. گھر میں ان کے سامنے لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ جیسا آپ کرتے ہیں بچے بھی ویسا ہی سیکھتے ہیں۔ لٰہذا گھر کے ماحول کو بچوں کے سامنے پرسکون رکھیں۔

    10. نصاب کی کتب کے علاوہ دوسری اسلامی، تاریخی اور معلوماتی کتابیں پڑھنے کا بھی کہیں۔ اس سے ان کے مطالعہ میں اضافہ ہوگا اور ان کی شخصیت میں بہتری آئے گی اور وہ میچور ہوں گے۔

    اس ضمن میں سب سے اہم کردار والدین اور اساتذہ کا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچے پر بلاوجہ سختی نہ کریں اور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھیں۔ اور اساتذہ ان کی اچھی خوبیوں کا ان کو بتائیں۔ جس سے ہمارے بچوں کا مورال بلند ہوگا اور ایک صحتمند اور قابل معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا۔
    والسلام

    ‎@Rumi_PK

  • زہریلے سانپ  تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    زہریلے سانپ تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    دنیا کے ہر کُونے میں طرح طرح کے خطرناک سانپ پائے جاتے ہیں کچھ سانپوں کے کاٹنے کی وجہ سے فوری طور پہ موت واقع ہو جاتی ہے کچھ ایسے سانپ بھی ہیں جن کے پاس سے گزر جانے پہ بھی انسان کو نقصان پہنچ جاتا ہے یوں تو چھوٹے موٹے بڑے سانپ ہر جگہ موجود ہیں پر یہ زیادہ ویران جگہوں ، جنگلوں اور کھیتوں والی جگہ پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہیں جدھر صرف سانپ ہی سانپ ہیں جدھر انسان کم بستے ہیں اتنے بڑے سانپ موجود ہیں کہ جو پورا انسان کھا جاتے ہیں ۔مغربی بحرالکاہل کا علاقہ گوام میں بھورے رنگ کے سانپ پائے جاتے ہیں اگرچہ یہ کم زہریلے ہیں مگر انکی تعداد بہت زیادہ ہے اتنی کہ مقامی لوگوں کے گھروں (بستروں) میں پہنچ جاتے ہیں ۔
    برازیل میں بہت خوبصورت جزیرہ ہے مگر وہاں انتہائی زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں جنکا رنگ سُنہرا ہوتا ہے دیکھنے میں خوبصورت پرکشش دکھائی دیتے ہیں مگر ڈس لیں تو انکا زہر اتنا شدید قسم کا ہوتا ہے کہ انسانی گوشت پگھل کے ہڈیوں سے الگ ہوجاتا ہے اور فوری طور پہ موت واقع ہوجاتی ہے اسلیے وہاں انسان نہیں جاتے ان سانپوں کو سُنہرے سانپ کہا جاتا ہے اب بظاہر صورت سے یہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں مگر یہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں اسی طرح کچھ انسان بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں جو اپنے انداز سے دوسروں کو متاثر، متوجہ کرتے ہیں پر ان کا کام بھی سانپ کی طرح موقع ملتے ہی ڈس لینا ہوتا ہے ۔
    سانپ کا زہر نکال لیا جائے تو وہ نقصان نہیں دے سکتا ۔ سانپ کا زہر بہت سے زہریلے مواد میں استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سانپ ایک ایسا جانور ہے جتنا بھی دودھ پلا لیں کاٹتا ضرور ہے ایسے ہی کچھ انسان سانپ کے روپ میں موجود ہوتے ہیں سانپ کا کاٹا شاہد بچ سکتا ہے مگر انسان کا کاٹا ساری زندگی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے سانپ اگر گھر سے باہر موجود ہے اس سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے پر اگر گھر کے اندر موجود ہے وہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتاہے ۔بین الاقوامی سطح پہ ہمارے ملک کو بھی بہت سے سانپوں نے گھر کر رکھا ہے سب سے بڑا سانپ مودی کی شکل میں بھارت میں موجود ہے جو کہ امن کے بجائے فساد برپا کرنے میں سرفہرست رہا ہے کوئی موقع نہیں چھوڑتا پاکستان کو نقصان پہنچانے کا مگر اللّلہ ربّ العِزَت ہمیشہ اپنی ذات سے کرم فرمایا اور دشمن کو اپنے منہ کی کھانی پڑی ۔ باہر کا سانپ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ملک کے اندر موجود غدار سانپ زیادہ زہریلے ہیں ۔جو ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے ان سانپوں کا صفایا لازمی ہےجب ایسے سانپ ملک سے ختم ہونگے پھر باہر کے سانپ خود بخود مر جائیں گے۔ ذاتی طور پہ اگر اپنے اردگرد دیکھا جائے تو بھی اپکو بہت سے سانپ ملیں گے خود کو آستیں کے سانپوں سے بچا کے رکھیں۔ خواب میں سانپ دیکھنا دشمن کی علامت ہوتی ہے۔دشمن کی صورت میں سانپ سے آپ لا علم نہیں ہوتے مگر آستین میں چھپے سانپ کو آپکی نظر نہیں دیکھ پاتی۔ یہ آہستہ اہستہ اپنا زہر منتقل کرتے رہتے ہیں جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں اور آپ ذہنی طور پہ معذور بھی. یہ ذہنوں کو اسطرح سے ڈس لیتے ہیں آپ کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ آپ جو کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں کر نہیں پاتے مشکلوں کے انبار ہونگے پر وجہ نا معلوم ہوگی یہ آپکو اپنی راہ سے بھٹکا رہے ہوتے ہیں آپ کے ذہن پہ پوری طرح سے کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں آپ جو بھی کریں گے انکو بتا کے اور وہ ویسا ہونے نہیں دیتے ۔یہ آستین کے سانپ عموماً لہجےمیں میٹھاس رکھتے ہیں اپکے اردگرد رشتہ داروں اور دوستی کی صورت میں بھی موجود ہوتے ہیں ۔اپنے بھید کسی کو نہ دیں ہر چہرے میں وفاداری نہیں ہوتی جیسے ملک میں موجود غدار پاکستان کی معلومات باہر پہنچاتے ہیں اور پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہمارے اردگرد کے موجود سانپ آپکی معلومات دوسروں تک پہنچا کے آپکو نقصان کے درپے ہوتے ہیں پر جنکا حامی و ناصر ربّ پاک ہو انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔
    اختتام میں یہی کہوں گی جنکا مددگار ربّ پاک ہو انکو کوئی سانپ کیا آستین کا سانپ بھی کاٹ نہیں سکتا۔ دلدل میں گِرانے کی کوشش کرنے والے خود ہی اس دلدل میں جا گرتے ہیں۔ اللّلہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو اور اللّلہ پاک ایسے سانپوں سے ہمیں بھی اور ہمارے ملک کو بھی بچا کے رکھے آمین !!


    ‎@Hu__rt7

  • لشکرِ سلیمانی ،، دنیا کا عجیب و غریب لشکر اور ہدہد کی غیر حاضری  تحریر اکرام اللہ نسیم

    لشکرِ سلیمانی ،، دنیا کا عجیب و غریب لشکر اور ہدہد کی غیر حاضری تحریر اکرام اللہ نسیم

    تاریخ بتاتی ہے کہ دور قدیم میں لشکر سلیمانی جیسا لشکر اللہ رب عزت نے کسی کو عطا نہیں کیا تھا اس تاریخی لشکر سے اللہ رب عزت نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو مالا مال کیا دور جدید میں لشکر سلیمانی جیسے لشکر کا تصور ہی انسان کرسکتا ہے رہتی د نیا تک لشکرسلیمانی جیسا شاندار اور منظم لشکر کوئی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ رب العزت نے یہ صفت حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا کی تھی کہ وہ پرندوں کی بولی بولتے تھے جنات اسکے ماتحت تھے پرندے بھی اسکے ماتحت بلکہ ساری مخلوق اسکے ماتحت تھی
    لشکرِ سلیمانی یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تین قسم کے اجناس پر مشتمل تھا
    انسانوں کا ،، پرندوں کا ،،جنّون کا ،، اسکا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ سے ہوا ہے قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید { وَحُشِرَ لِسُلَيْمَان جُنُوده مِنْ الْجِنّ وَالْإِنْس وَالطَّيْر فَهُمْ يُوزَعُونَ } ترجمہ : اور سلیمان کے لئے اسکے لشکر جنات من سے اور انسانوں میں سے اور پرندوں میں سے جمع کئے گئے اور وہ مرتب کرنے کی غرض سے روکے جاتے تھے
    حضرت سلیمان علیہ السلام جب سفر کرتے تو آپ علیہ السلام کے لشکر سلیمانی میں انسان جنات اور پرندے شامل ہوتے تھے
    سفر کے روانگی سے قبل لشکر سلیمانی کو ترتیب و تنظیم کے لئے روکا جاتا تھا کیونکہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر سلیمانی کا اہم اصول تھا نظم و ضبط اکا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا روانگی میں اس چیز کا بھی خصوصی خیال کیا جاتا تھا کہ آگے صف والے پیچھے نہ رہ جائیں اور پیچھے صف والے آگے نہ رہ جائیں اسی طرح میمنہ اور میسرہ کا اختلاط نہ ہو یعنی دائیں جانب والے بائیں جانب نہ نکل جائیں اسی طرح بائیں جانب والے دائیں جانب نہ نکل جائیں
    جیسا کہ دور جدید میں تمام منظم ممالک کے حکومت کے افواج چلنا پھرنا ٹہرنا دائیں جانب مڑنا بائیں جانب مڑنا جو انکے قواعد و ضوابط کے مطابق ہو ویسا کرنا چونکہ دور جدید میں صرف انسانوں کی منظم و مربوط فوجیں ہوتی ہے
    حضرت سلیمان علیہ السلام کی لشکر سلیمانی اسی وجہ سے سے عجیب و غریب تھی کہ وہ تین قسم کے افواج پر مشتمل تھی پرندوں کی الگ فوج جنات کی الگ فوج اور انسانوں کی الگ فوج
    پھر ان میں سے ہر فوج کی اپنی الگ الگ زمہ داریاں ہوتی تھی
    جیسا کہ پرندوں میں ایک پرندہ نامی ہدہد ہے یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی فوج میں مہندس کا کام کرتا تھا یہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے اور کہاں نہیں ، زمین کے اندر کا پانی ااسے اسطرح دکھائی دیتا تھا جیسے زمین کے اوپر درخت پھل پھول پہاڑ پرندے اور دیگر اشیاء جب حضرت سلیمان علیہ السلام کسی جنگل میں ہوتے تو ہدہد کو بلاتے وہ حاضر ہوتا حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پوچھتے کہ پانی کہاں کہاں ہے ہدہد جگہوں کی نشان دہی کرتا
    حضرت سلیمان علیہ السلام جنات کی ڈیوٹی لگاتے اسی جگہ کنواں کھود لیا جاتا
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش ہوئی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم کیا جائے ، اتفاق سے ہدہد غیر حاضر تھا اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آرہا کیا پرندوں میں چھپ گیا ہے یا حقیقتاً غیر حاضر ہے
    جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
    وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ﳲ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ
    ترجمہ:
    اور سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا توفرمایا:مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا یا وہ واقعی غیر حاضروں میں سے ہے۔ میں ضرور ضروراسے سخت سزا دوں گایا اسے ذبح کردوں گا یا وہ میرے رو برو کوئی معقول دلیل پیش کرے
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اگر کو معقول دلیل پیش کی تو خیر ورنہ اسکو میں سخت سزا دونگا اتنے میں ہدہد آگیا دیگر پرندوں نے ہدہد سے کہا آج آپکی خیر نہیں بادشاہ سلامت نے تیری سزا کا عہد کرچکے ہیں ہدہد نے کہا بادشاہ سلامت کے الفاظ کیا تھے انہوں نے بیان کئے ہدہد خوش ہوا اور کہا میں بچ جاؤں گا
    چنانچہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوا کہنے لگا کہ اے اللہ کے بنی میں آپ کے پاس ایسی خبر لیکر آیا ہوں جو آپکے پاس نہیں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں اسکی بادشاہی کرتے ہوئے میں نے ایک عورت کو پایا اس کے وزیر اور مشیر تین سو بار 312 شخص ہیں چھ سو عورتیں اسکی خدمت میں ہر وقت کمربستہ رہتی ہے اور وہ سب لوگ آفتاب پرست ہیں اس ملکہ کا نام بلقیس بنت شراحیل ہے ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے تحقیقات شروع کی
    تحقیقات پوری ہونے کے بعد ہدہد کو معاف کیا کیونکہ ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو سب سچ بتایا تھا

  • بے لگام بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    بے لگام بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    جس طرح آئے دن ہر چیز کے ریٹ بڑھ رہے ہیں ہیں جیسے کہ بجٹ 2021 سے 2022 میں میں جتنی بھی زیادہ کھانے پینے والی ضرویات کی اشیاء ہیں ان کے اوپر پر بہت زیادہ ٹیکس لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے غریب کا جینا محال ہو گیا ہے ہے خان صاحب غریب کی استعمال ہونے والی اشیاء کے ریٹس کو کم کرنا چاہیے تاکہ غریب سکون کی زندگی بسر کر سکے
    ہر جگہ پہ کہیں تاجر پریشان ہیں تو کہیں عوام پریشان اور کہیں گورنمنٹ پریشان ہے لیکن اس کا حل تلاش کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ اگر مہنگائی بہت زیادہ ہو رہی ہے تو اس کو روکنے کے لیے حکومت وقت کو چاہیے کہ اس کا حل کرے اس کی روک تھام کے لیے کوئی کام کریں تاکہ جو رشوت خوری لے کر اپنا کام صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دے رہے ان کی وجہ سے مہنگائی بہت زیادہ ہو رہی ہے ایک شخص جو ایمانداری سے سے اپنا روپیہ پیسہ جمع کرکے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتا ہے اور ایک شخص جو دن رات رشوت خوری جھوٹ فراڈ لگا کر دھوکے بازی دے کر پیسے کماتا ہے جو معاشرے کیلئے بھی بے سکونی کی علامت ہے
    پچھلے دنوں وزیراعظم نے خود شکوہ کیا کہ جو تنخواہ انہیں ملتی ہے اِس میں گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا ہے تو غریب آدمی کا کیا حال ہوتا ہوگا جس کے گھر میں 4 یا 5 لوگ کھانے والے ہیں وہ کیسے زندگی بسر کرتا ہے جو کماتا ہے وہ 2 وقت کی روٹی کھاتا ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے اسکول کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے
    ایسے لوگ بھی معاشرے میں عام پاۓ جاتے ہیں جن کا شیوہ ہی لوگوں کو تنگ کرنا اور حرام روزی بچوں کو کھلانا جیسا کہ خورد ونوش کی ایشیاء سستے داموں لاکر منہ مانگے پیسے وصول کرنا جھوٹ اور فراڈ سے چیزوں کو بیچنا جس طرح ہر چیز میں ملاوٹ استعمال کی جا رہی ہے اسی طرح تاجروں میں غریب آدمی کی زندگی کو اجیرن کیا ہوا ہے وزیراعظم نے پیسہ بنانے کے لئے مہنگائی کرنے والے مافیا کو کیفر کردار تک پہنچانے کا جو عہد کیا ہے وہ لائق تحسین ہے مگر اِس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مصنوعی ہے یا اصلی؟
    تاجروں کو چاہیے جو خورد ونوش ایشیاء کو زیادہ غیر متوازن ہوکر نہ تو اس قدر قیمتوں کو اتنا بلند کر دو کہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو اور نہ ہی اس قدر نیچا کر دو کہ مارکیٹ سے خورد ونوش کی ایشیاء ملنا ہی محال نہ ہو جاۓ اور وہ کارخانے اور فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں تو جہاں ایک طرف مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو تو دوسری طرف بیروزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جائے اس نظام میں نچلی سطح پر بھی قیمتوں میں کمی بیشی کا ایک ایسا سلسلہ جاری رہتا ہے جو عام آدمی کیلئے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ہمارے ملک میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے پرائس کنٹرول کمیشن کے نام پر ہزاروں اہلکاروں پر مشتمل ایک محکمہ قائم ہے، اس محکمے کا کام خورد و نوش اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ مگر یہ محکمہ بھی مکمل ناکام ہے کیونکہ نااہل افسران میڈیا ٹاک کیلئے موجود ہوتے ہیں مگر عوام کیلئے نہیں

    عوام کو آج دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں، غربت کا یہ عالم ہے کہ پہلے لوگ اپنے بچوں کو فروخت کیا کرتے تھے مگر اب بچے خود ہی بھوک سے مررہے ہیں۔ آج لوگوں کے حالات زندگی اس جگہ پر آچکی ہے کہ دس روپے کی چینی اور پانچ روپے کی پتی خرید کر صبح کا ناشتہ کررہے ہیں۔ کئی گھرانے تو اس سے بھی محروم ہیں ہماری حکومت وقت سے گزارش ہے اس مہنگائی پر قابو پایا جاۓ اگر مہنگائی مصنوعی ہے تو اس کےلئے کوئی اقدامات اٹھاۓ جانے چاہیے اگر ملکی سطح پہ ایسے ہے تو جو غریب کی ضروریات کی روزمرہ کی ایشیاء کے دام کرنے چاہیے تاکہ غریب آسانی سے ان ایشیاء کو خرید سکے

    ‎@Ishaqbaig___

  • یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے تحریر: ناصرہ فیصل

    یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے تحریر: ناصرہ فیصل

    ہم سب اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف ہیں، جہاں ہم دفتر کے کاموں، گھریلو کام کاج، دعوتوں، گھومنے پھرنے، پرسکون نیند لینے میں مصروف عمل ہیں اور ہمیں کوئی فکر نہیں کے کیسے ہم ایک آزاد ملک میں آزادی سے اپنی زندگی آرام و سکون سے گزار رہے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ ہم کن لوگوں کی وجہ سے یہ سب اتنی آسانی سے انجواۓ کر پاتے ہیں۔ ہاں جی ہماری پاک آرمی ، جسکے جوان دن رات ہماری حفاظت کرتے ہیں ،اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں تاکہ ہم لوگ پرسکون نیند سو سکیں، جو اپنی آرام دہ زندگی چھوڑ کر خود کو بے سکون کرتے ہیں تاکہ ہم پرسکون رہ سکیں، جو اپنی خوشیوں کی پرواہ نہیں کرتے تاکہ ہم خوش رہ سکیں، جو نا صرف اپنے خاندان کا بلکہ پوری قوم کا درد اپنے سینے میں رکھتے ہیں، جو اپنی ماؤں سے ہزاروں میل دور اس لیے رہتے ہیں کہ باقی سب کی مائیں اطمینان سے رہ سکیں، جو اپنی نئی نویلی دلہن کو اس لیے اکیلا چھوڑ کرچلے جاتے ہیں تاکہ باقی سب جوڑے ہنسی خوشی رہ سکیں، جو اپنی زندگی تک قربان کر ڈالتے ہیں تاکہ ہم سب محفوظ و مطمئن زندگی گزار سکیں۔ یہ ہیں ہماری پاک افواج کے بہادر سپوت ،جن کو سلیوٹ کرنا ہم سب پر فرض کی طرح ہونا چاہیے۔ کیونکہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں ، اُن کے احسان مانتی ہیں اور انکو بلند مقام اور درجہ دیتی ہیں.

    وہ لوگ جو انکے سینے پر لگے بیجز پر ہی نظر رکھتے ہیں ، ان بیجز کے پیچھے چھپی قربانیوں اور داستانوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ جن کو صرف انکا پروٹوکول نظر آتا ہے اس پروٹوکول تک پہنچنے کی انکی لمبی جدوجہد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ جو انکو دی گئی سہولیات پر انگلی اٹھاتے ہیں انکی قلیل تنخواہوں کے بارے میں نہیں جانتے۔ اور جو انکے بڑے گھروں کو دیکھتے ہیں پر یہ نہی جانتے کے کیسے ہر 6 مہینے سال دو سال بعد انکو اپنا بوریا بستر باندھ کر کوچ کرنا پڑتا ہے۔

    یہ اپنے لیے نہی جیتے بلکہ انکی جدوجہد، پیار، کوششیں، دیکھ بھال، وقت، دن رات حتٰی کہ انکی زندگیاں بھی صرف پاکستانی قوم کے لیے ہیں۔ یہ خاکی وردی انکو دن رات کی انتھک محنت اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے لیکن یہ ثابت قدم رہتے ہیں پیچھے نہی ہٹتے۔ میدان جنگ میں بھی یہ صرف آگے بڑھنے کی لگن رکھ کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اپنے وسیع سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی نہیں۔ اور وہ یہ سب اتنی آسانی سے کیسے کر جاتے ہیں؟ کبھی سوچا ہے؟ وہ یہ اس لیے کر پاتے ہیں کیونکہ وہ اس دھرتی سے، یہاں کے لوگوں سے، یہاں کی مٹّی سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارا فخر ، ہمارا مان ہیں۔ انکی وجہ سے کسی دشمن میں ہمت نہیں کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی سکے۔
    پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ برّی برّی طاقتوں نے اپنے مذموم ارادوں میں ہمیشہ شکست کھائی کیونکہ ہماری پاک فوج کے جوان اور اسکے جانباز ہمہ وقت اس سرزمین کی حفاظت کے لیے چاق وچوبند ہیں۔ آج ہر کوئی پاکستان کی فوج کا معترف ہے کیونکہ اس فوج نے ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں اور خود کو ثابت کیا ہے۔ اسی لیے پاکستان آرمی کو دنیا کی بہترین افواج میں گردانا جاتا ہے۔ اور یہ اعزاز انہوں نے ایسے ہی حاصل نہیں کر لیا۔ اسکے لیے انہوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔اپنے آپ کو قربان کیا ہے۔ کتنے بیشمار شہیدوں کا لہو شامل ہے اس گلستاں کی آرائش میں۔ کتنی ماؤں کی گود اُجڑی ہے، کتنی سہاگنوں کے سہاگ اُجڑے ہیں، کتنی بچوں کے سر سے انکے والد کاسایہ چھینا گیا ہے تو یہ چمن بسا ہے اور یہاں پر بہار ہے۔

    الحمدللہ پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ہے۔ جو کہ پاکستان آرمی کی بہت بڑی طاقت ہے۔ اسی کی وجہ سے بھارت جیسے بڑے ملک کی ہمت نہیں کے وہ آنکھ اٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھ بھی سکے۔۔ اسی وجہ سے بھارت ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے پر ہماری آئی ایس آئی ہمیشہ اسکے ہر وار کو ناکام بنا دیتی ہے۔
    پاکستان کا بچہ بچہ اپنی افواج سے بےپناہ پیار کرتا ہے۔ انکی قدر کرتا ہے ۔ اور اسی لیے دن رات اپنی افواج کے دفاع کیلئے تیار رہتا ہے۔
    علّامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے ہی بہادر ، نڈر اور بلند حوصلہ جوانوں کے متعلق فرمایا تھا،

    "”یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
    جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
    دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
    سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
    عجب چیز ہے لذت آشنائی
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی "”

    پاک فوج زندہ باد۔
    پاکستان پائندہ باد۔

    ‎@NiniYmz

  • میں اور میری امی جان تحریر ۔  فرزانہ نیازی

    میں اور میری امی جان تحریر ۔ فرزانہ نیازی


    آج میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں زندگی میں میں نے جو چاہا وہ ملا خود کو بہت خوش نصیب بھی سمجھتی ہوں پر کہیں سے بدنصیب بھی ہوں شاید آپ کی آنکھ میں آنسو بھی آجائیں میرے الفاظ سن کر میں اپنی امی سے بہت محبت کرتی تھی مجھے لگتا تھا میں مر جاؤں گئی اگر امی مجھے ایک منٹ بھی مجھ سے دور رہی تو ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی لیکن میرا بھائی میری جان تھا
    کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد،اور جیت پھر بھائی کی
    تب میں ناراض ہوتی تو امی مجھے ہمیشہ یہی کہتیں تھیں
    بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں ایک دن مجھ سے وعدہ لیا اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گئی
    اس وقت میں سوچتی تھی پتا نہیں امی ایسا کیوں بول رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی انکی باتیں بس یہی سوچتی تھی بات نہیں مانوں گی
    میں بہت ضدی ہوتی گئی کسی کی نہیں سنتی سب کی لاڈلی تھی امی میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں
    اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نچلا بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں
    پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی
    وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھی امی کہتی تھی
    میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی
    میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے
    مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی
    اپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہےاور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں
    تو کہتیں
    الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا
    مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی میں صرف 8 سال کی تھی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا
    خاموشی
    یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر مدرسہ کے بچوں کو کھلاتی تھی
    تو بہت پیار سے کہتیں
    یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھولاس لیے انہیں کھلاتی ہوں
    وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں پر وہ بیمار رہنے لگی ایک دن میں سکول میں تھی واپس آئی تو امی نہیں تھی مجھے چھوڑ کر اپنے گھر نانو پاس چلی گئی جب کہ میں دادا جان دادو جان کی لاڈلی تھی میں ادھر کی رہتی تھی کبھی نہیں گئی نانو گھر امی وہاں 2 دن رہی 3 دن کی صبح وہ اللہ کے پاس چلی گئی جب ہمیں پتا چلا تو مجھے یقین ہی ہوا پہلے بس دل بند ہو رہا تھا سوچ سوچ کر پھر پتا نہیں کیا ہوا جب امی سامنے تھی تھی تو بلکل نہیں روئی بلکے بھائیوں کو سنبھال لیا بابا ہمیں دیکھ کر بہت روتے تھے نانو صدمے سے اپنے حوش و حواس کھو بیٹی وہ وقت آج بھی یاد ہے مجھے آج میں 22 سال کی ہو گئی ہوں پورے خاندان کو یہی لگتا میرے بغیر کچھ میں اپنے بھائیوں بابا کیلئے سب کچھ ہوں دل میں اس بات کا افسوس ہے امی مل نہیں پائی دعا ہے اللّٰہ پاک امی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایک چھوٹی سی نصیحت ہے جو لوگ مجھے پڑھ رہے ہیں اپنی کی قدر کریں زندگی شاید آپ کی ہو پر آپکی ماں شاید بہت ہی کم رہا گئی ہو جتنا ہو سکے وقت دیا کریں انھیں ۔۔!!!
    ‎@Miss__niazi