Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آج کی دنیا -خاموش پیغام  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کی دنیا -خاموش پیغام تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کل ہم جس دنیامیں زندہ ہیں ، اس کےحالات بہت چونکا دینے والے ہیں۔ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ہمارے زمانے میں پریوں کی جوکہا نیاں تھیں وہ اب سچی ثابت ہوگئی ہیں ۔ اب انسان خلاء کی سیراتنے آرام سے کر رہے ہیں جیسے گھر کی چہار دیواری مں بیٹھے ہوں اور اب توانسان چاند پر ڈیرے ڈال چکا ہے اوراب تو وہ دوسرے سیاروں پر بھی کمند ڈالنے کی فکر میں ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی سامان خریدنا ہو تو بس گھر بیٹھےایک معمولی کارڈ سے ادائیگی کر کے منگایا جاسکتا ہے، ایک معمولی ساہٹن دباکر ہم اپنے مکان میں روشنی کا سیلاب لا سکتے ہیں، ایک بٹن دہاتے ہی گھر بیٹھے ہم رنگارنگ موسیقی سن سکتے ہیں اورفورا ہی دوسرابٹن دباکر زندہ تماشا یعنی ٹیلی وزن دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات چشم زدن میں آپ کے سامنے آجاتے ہیں، ایک چھوٹاسا آلہ کان اور منہ سے لگانے کے بعد هم ایک ایسے دوست کو دیکھتے ہوئے براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں جو ہم سے آدھی دنیا کے فاصلے کے برابر دور بیٹھا ہے، ہم جب چاہیں گوگل کی مدد سےاپنے ذہنی دریچوں کوکھول سکتے ہیں ، ہم سیکنڈوں میں بادلوں اور بلندیوں پر چمکتے ہوئے ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات کا خرانہ حاصل کر سکتے ہیں، ان چٹانوں کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں جو ہمارے پاؤں کے نیچے دفن ہیں، اپنےجسم کی ساخت کو سمجھنااب کوئ مشکل نہیں رہا، اس کے ساتھ ہی ہم تندرست رہنے کے طریقے بھی معلوم کر سکتے ہیں اور یہ وہ معلومات ہیں جو کہ اب سے ہزاروں سال پہلے کےبڑے بڑے علماء کو بھی معلوم نہیں تھیں۔
    اب تو ہم قدیم بادشاہوں سے کہیں زیادہ بہتر موسیقی سن سکتے ہیں، اب ہم دنیا سے مختلف ممالک کی بہترین نقاشی اورسنگ تراشی کے نمونے بآسانی گھر بیٹھےدیکھ سکتے ہیں، ہم اگر چاہیں تو معمولی سی کوشش سے بہترین موسیقار، مصور اور مجسمہ ساز بن سکنے ہیں۔ اپنے خیالات و محسوسات کو بہترین پیرایوں میں ظاہرکرنے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اب توآپ یہ کہھہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ اسے پہلے کی طرح جادو کہاجاسکتاہے۔
    ہمارے آبا واجداد کے بچپن میں نہ ریڈیو تھے اور نہ ہوائی جہاز ۔ اسی طرح جب آپ کے والد بچے تھے تو ٹیلیوژن کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آنے والی کل کو آپ کے بچے کیا کچھ دیکھیں گے آج آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اب اس کا انحصار آپ کی زات پر ہے ہرنئی ایجا دکا فائدہ بخش پہلو بھی ہوتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ دور دراز علاقوں میں جاکر تفریح کر سکتے ہیں لیکن یہ ہی جہاز مکانوں، کارخانوں اور شہروں پر بم گرا کر انہیں مٹی کے ڈھیر بھی بنا سکتے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے آپ دنیا کی بہترین موسیقی اور تفریحی پروگرام دیکھ اورسن کر خوش ہوسکتے ہیں اور یہی ریڈیو اور ٹی وی دشمن کی فوجوں کوحملہ کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے ۔ ایٹم بم نیار کر نے والی مشینیں مہلک بم بھی تبار کرتی ہیں اور آپ کو تکلیف دہ امراض سے نجات بھی دلاسکتی ہیں۔ درسگاہوں میں ہم حکمت و دانائی کی باتیں سیکھتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان درسگاہوں میں طالب علموں کو دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے کی تعلیم بھی دی جاتی ہے یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ "علم کے صحیح استعمال سے انسان ترقی کی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس کے غلط استعمال سے تنزلی کی پستیوں میں جاگرتا ہے” ۔ہمیں دنیا کے تمام انسانوں سے وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم ان سے اپنے ساتھ چاہتے ہیں ۔ اگرہم نے اس سنہری اصول پرعمل نہ کیا تو ہمارے تمام منصوبے، زندگی کی تمام مسرتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں خاک میں مل جائیں گی اورانسان اپنی مسلسل اور انتھک جدوجہد سے ترقی کی جس معراج پر پہنچا ہے ، وہ ماضی کا ایک بھیا نک خواب بن کر رہ جائے گی ۔

    @Azizsiddiqui100

  • بے پردگی اور ہماری عوام  تحریر: راجہ ارشد محمود

    بے پردگی اور ہماری عوام تحریر: راجہ ارشد محمود

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ملک ہے جس کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔
    جسے حاصل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ یہاں مسلمان اپنے دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگی پوری آزادی کے ساتھ گزاریں۔ کیونکہ برصغیر ہندوستان میں مسلمانوں پر ہر طرح سے زندگی تنگ کردی گئی تھی۔

    ان کا فقط جرم یہ ٹھہرا کہ وہ مسلمان تھے۔ اسی وجہ سے ان پر زور و شور سے ظلم و ستم کیا جاتا رہا۔ مسلمانوں سے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کروائی جاتی رہی۔ ان کے لیے وہاں نہ کوئی تحفظ تھا اور نہ ہی عزت۔

    بس ہر سوں مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ مسلمان عورتوں کی عزت تو چار دیواری کے اندر بھی محفوظ نہیں تھی۔ ایسے میں اللّٰہ پاک نے مسلمانوں کو تکالیف سے نکالنے کے لیے ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو بھیجا ۔ جنہوں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنی انتھک محنت سے مسلمانوں کے لیے الگ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان حاصل کیا۔

    پر انھیں کیا پتا تھا کہ وہ جس قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہ قوم آگے چل کر اسی مغرب کی پیروی کرنے والی یے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج پاکستان کی عوام بہت حد تک مغربی کلچر کے دلدادہ ہوگئے ہیں؟ پہلے تو بات صرف ان کے ڈرامے اور فلمیں دیکھے جانے تک کی تھی پر اب تو ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر مغرب کا کلچر اپنی جڑیں گاڑ رہا ہے۔ اس میں قصور وار کوئی دوسرا تیسرا نہیں بلکہ صرف اور صرف ہم خود ہیں، ہمارا معاشرہ ہے۔

    جو مغربی کلچر کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ شادیوں بیاہوں کی تقریبات میں گھٹیا سے گٹھیا لباس تن کرنا اب کوئی بہت بڑی بات نہیں رہی۔ وہیں آج سرعام سڑکوں پر بےلباس گھومنا پھرنا بھی عام ہوگیا ہے۔ وہی ملک جسے آزادی کے ساتھ اسلام کی پیروی کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا آج اسلام کے تمام احکامات کو رد کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کی کچھ عورتیں جب میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

    یہ سب باتیں صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں رہیں ہمارے معاشرے کے مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں ۔ یہاں ایسے مرد بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے بےشرم اور بےحیا ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے راہ چلتی عورتوں کو حراساں کرتے ہیں اور پھر موقع دیکھتے ہیں بھوکے کتوں کی طرح انھیں نوچ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاؤہ انھیں بےپردہ ہونے میں بھی وقت نہیں لگتا۔ ابھی کچھ روز قبل کی بات ہے جب سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہوئیں۔

    جس میں ایک مرد فیشن کے نام پر اپنا پورا بدن برہنہ کیے ہوئے اپنے جسم کی نمائش کروا رہا تھا۔ تو پھر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کے اس قسم کی بےشرمی، بےحیائی اور بےپردگی کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار پاکستان کی عوام کا ہے۔ جو ایسے نمونوں کو شوق سے دیکھتے ہوئے ان کی پزیرائی کرتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    بددعائے محبت تحریر: بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ )

    میں خوش تھی کہ میں نے اپنا انتقام لے لیا چھ ماہ بعد میری شادی ہونے والی تھی میں اور سعد پہلے کی طرح ایک دوسرے سے فون پر باتیں کرتے تھے میں بھول چکی تھی کہ سعد نے مجھے گردہ دینے سے انکار کیا تھا
    عادی کو گئے پانچ ماہ ہوئے تھے میں بھی اس کو بھول کر اپنی دنیا میں مست تھی کہ ایک دن فون آیا کہ عادی کوہاٹ اٹیک آیا ہے اور وہ ہسپتال میں ہے مجھے اس خبر سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا امی اور ثمرین اس کو دیکھنے گئی تھی دوسرے دن ثمرین نے مجھے فون کیا اور کہا عادی بھائی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں میں نے صاف انکار کردیا
    ثمرین نے میری منت ترلے کیے اور یہ بھی کہا کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے آپ ان کی خیریت پوچھ کر فون بند کر دینا
    شاید کچھ کہنا چاہ رہے ہوں آپ سے ۔۔۔؟
    مجھے کوئی ضرورت نہیں اس سے بات کرنے کی میری بلا سے وہ مرے یا جئے۔
    میں نے بے حسی سے کہا اور ثمرین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی فون بند کر دیا
    کچھ دیر بعد ثمرین کے نمبر سے میسج آیا تھا میںسج عادی نے کیا تھا
    میرے تے مر داروں سے
    مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
    دعا کا وقت آپہنچا
    یہ بیماری بہانہ تھی
    قضا کا وقت آ پہنچا
    تو کیا تم اتنی بے حس ہو
    یقین اس پر نہ لاؤ گی ؟؟
    تو کیا تم اتنی ظالم ہو
    مجھے ملنے نہ آ وگی؟؟؟؟

    نیچھے عادی کا نام لکھا تھا میں نے فورا ڈیلیٹ کردیا اور بھاڑ میں جاو لکھ کر ریپلائی سینڈ کر دیا جواب پڑھ کر اس کی جو شکل ہوئی ہوگی سوچ کر میں ہنس پڑی تھی اگلے دن صبح میرے فون کی بیل سے میری آنکھ کھلی
    اتنی صبح کو فون کر رہا ہے؟ میں نے بے زاری سے سوچتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور بمشکل ذرا سی نیم آنکھیں کھول کر نمبر دیکھنے کی کوشش کی ثمرین کا نام پڑھتے ہیں مجھے غصہ آ گیا تھا مجھے یقین تھا کہ فون عادی کر رہا ہوگا یا اس نے ثمرین سے کہا ہوگا کہ فون کر کے میری بات کرادؤ اتنی دیر میں فون خاموش ہو گیا تھا میں نے شکر ادا کیا اور کروٹ بدل کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگی
    موبائل ایک بار پھر بج اٹھا میں نے غصے سے موبائل اٹھایا اور یس کا بٹن پریس کرتے ہی بےزاری سے بولی
    ثمی کیا مسئلہ ہے تمہیں؟
    اپی۔۔۔۔ عادی فوت ہوگئے ہیں،
    ثمرین روتے ہوئے بمشکل اتنا ہی کہا تھا
    میری نیند غائب ہو گئی شاید مجھے ایسے خبر کی توقع نہیں تھی مجھے ذرا سا دکھ سا ہوا میں کمبل لپیٹ کر سونے کی کوشش کی کی مگر نیند نہیں آئی تو میں نے اٹھ کر منہ دھویا یا اور ناشتہ بنانے لگی
    ابو کو اطلاع مل چکی تھی اور وہ عادی کے گاؤں جانے کی تیاری کر رہے تھے ابو نے مجھے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو مگر مجھے ایسے رونے کے موقع سے الجھن ہوتی تھی
    میں وہاں کیا کروں گی؟
    ابو آپ لوگ چلے جائیں
    میں نے انکار کر دیا
    مجھے تھوڑا دکھ ضرور ہوا تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ میں دل پہ لے لیتی
    ابو لوگ 3 دن بعد واپس آئے تھے
    ثمرین نے آتے ہی مجھ سے شکوہ کیا تھا اپی اپ نے اچھا نہیں کیا
    عادی بھائی کے ساتھ
    اگر ان سے بات نہیں کی تو کم از کم ان کے مرنے پر ہی آ جاتی
    ان سے ایسی بھی کیا ناراضگی تھی کہ آپ کی ۔۔؟
    اس کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے وہ روتی رہی ہے
    میرے جانے سے کونسا اس نے زندہ ہو جانا تھا
    میں نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا
    آپ کے جانے سے وہ زندہ تو نہیں ہو سکتے تھے البتہ اگر اپ ان سے بات کر لیتی تو شاید وہ زندہ ہی رہتے
    میں نے اسے مارا ہے کیا۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر مجھے غصہ آ گیا تھا
    ہاں اپی آپ نے ہی ان کو مارا ہے اس انسان کو جس نے آپ کی زندگی بچائی تھی
    کیا مطلب۔۔۔؟
    ثمرین کے جواب پر میں نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا
    اپی آپ بھی آپ کو معلوم ہی نہیں کہ جس سے آپ نے آخری وقت بھی بات کرنا گوارا نہیں کیا اور جس سے آپ سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی اسی عادی بھائی نے آپ کو اپنا ایک گردہ دیا تھا
    کک کیا۔۔؟؟؟
    میرے منہ سے بے ساختہ نکلا
    مجھے شدید حیرت ہوئی تھی بے یقینی سے میں ثمرین کا منہ تکنے لگی
    مجھے لگا شاید ثمرین جھوٹ بول رہی ہے۔؟
    یہ تم کیا کہہ رہی ہو ثمی؟
    تت تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟
    میں اس وقت دکھ، حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے سے احساس میں ڈوبی ہوئی تھی
    یہ بات ابو اور میرے سوا کوئی نہیں جانتا
    ثمرین نے کہا
    عادی بھائی نے ہم دونوں سے وعدہ لیا تھا کہ یہ بات اپ سمیت کسی کو بھی نہ بتائی جائے
    ثمرین کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
    مجھے لگا جیسے کوئی میرا دل ارے سے کاٹ رہا ہو
    آنکھوں میں آنسو کی وجہ سے ثمرین کا چہرہ دھندلانے لگا تھا
    شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محبت کی بددعا لگی تھی
    اس بے لوث محبت کی بددعا جس کا میں نے ہمیشہ مذاق اڑایا تھا
    اور زندگی میں پہلی بار لڑکی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی
    پانچ سال گزر چکے ہیں مگر میرے دل کو صبر نہ آیا نہ قرار ایا
    پچھتاوا مجھے کھائے جا رہا ہے ان پانچ سالوں میں ان گنت بار میں عادی کی قبر بھی پہ جا کے معافی مانگ چکی ہوں
    مگر میرے دل کو سکون نہیں ملا شاید عادی نے مجھے معاف نہیں کیا کیونکہ میں نے جب اس پر بہتان لگا کے گھر سے نکلوایا تھا تو جاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ” نوشی میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ”
    میں جب بھی اس کی قبر پر جاتی ہوں ہو اس کی پسند کے سرخ گلاب لے کر جاتی ہوں
    میری خواہش ہے کاش وہ بھی میری طرح میرے لائے پھول توڑ کر پھینکے اور مجھے کہے یہاں سے چلی جاؤ مجھ سے نفرت کا اظہار کرے
    میں افف تک نہیں کروں گی بس
    ایک بار وہ مجھے معاف کر دے
    بس ایک بار
    میں نے سب کی مخالفت کے باوجود منگنی توڑ دی تھی اور آج تک شادی نہیں کی اور نہ کبھی کروں گی اب اندھیرے میرے مقدر ہیں
    روشنی کے دلدادہ لڑکی کو اب اندھیرا اچھا نہیں لگتا ہے
    میں جانتی ہوں کے عادی کی قاتل میں ہی ہوں
    مجھے یاد ہے عادی نے ایک بار ہارٹ اٹیک کی تشریح کی تھی کی اس نے کہا تھا کہ جب کسی انسان کو مسلسل دل پہ زخم لگتے ہیں تو اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور جب مزید قوت نا رہے تو کوئی ایک بات یا الفاظ دھچکے کی صورت دل پہ لگتی ہے اور دل دھڑکنا بھول جاتا ہے
    لوگ کہتے ہیں اسے ہارٹ اٹیک آگیا
    وجہ نا کوئی جانتا ہے نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے
    اس نے ٹھیک کہا تھا میرے راویے نے اسے مارا ہے اور جب اسپتال میں اس نے مجھ سے بات کرنا چاہے تو میں نے انکار کر دیا تھا
    شاید اسی بات نے اس کو مار دیا ہو
    میں خود کو اس کی قاتل سمجھتی ہو اور اس کی سزا مجھے بے سکونی تنہائی اور پچھتاوے کی صورت مل رہی ہے
    ایک اذّیت مسلسل ہے
    جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے
    عادی نے کئی بار کہا تھا کہ کزن یار کچھ بھی کر مگر تکبر نہ کیا کرو
    اللہ سے ڈرو ۔
    تکبر صرف اللہ کی ذات کو ہی جچتا ہے
    کائنات کا سب سے پہلا گناہ تکبر ہی تھا
    جس نے فرشتوں کے سردار کو قیامت تک کیلئے ملعوون بنا دیا ہے
    وہ بھی خود کو افضل سمجھ بیٹھا تھا وہ آگ سے بنا تھا اس نے آدم علیہ السلام کو مٹی کا سمجھ کر حقیر جانا اور سجدے سے انکار کر دیا
    عادی نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔
    کاش میں اس وقت اس بات کو سمجھ لیتی اور اسے انسان ہی سمجھتی تو پچھتاوا میرا مقدر نہ ہوتا
    کاش وہ ایک بار اکر اپنے مخصوص انداز میں کہے
    "کزن یار”
    کیوں پریشان ہو؟؟؟
    اور مجھے گلے سے لگا کر کہے
    اب میں آگیا ہوں
    سب ٹھیک ہو جائے گا
    اور میں اس کے گلے سے لگ کر اتنا رہا ہوں کہ میرا سانس تھم جائے
    پھر وہ مجھے ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ ہی لے جائے
    اب عجیب ہی سہی
    مگر یہ میری آخری خواہش ہے
    (ختم شدہ )

  • مفتی صاحب سے متاثر ایک چھوٹی سی کاوش تحریر راحیلہ عقیل

    مفتی، عالم سنتے ہی اکثر لوگوں کے دماغ میں ایک خاکہ بن جاتا ہے جیسے کہ یہ تو بہت سخت مزاج ہونگے، غصہ کرتے ہونگے، بیوی بچوں پر سختی کرتے ہونگے، راستے میں کہیں مل گئے تو پکڑ کر مسجد لے جائیں گے ایسے ہی بہت سے خیالات لوگوں کے دماغ میں آجاتے ہیں ایسے میں مفتی طارق مسعود صاحب بلکل الگ شخصیت، اندازبیان، کے ساتھ دنیا میں مقبول ہوئے

    طارق مسعود دیوبند مکتب فکر سے وابستہ پاکستانی عالمِ دین، تبلیغی جماعت سے وابستہ، جامع مسجد الفلاحیہ نارتھ کراچی سیکٹر 10 میں پندرہ سالوں سے امام ہیں، بطور مہمان اکثر پاکستانی ٹیلیوژن چینلز پر بطور اسکالر مدعو کیے جاتے ہیں اور اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بھی کافی مقبول ہیں

    "مفتی صاحب نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں ،انکی کتاب "ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں” جو 2015 میں لکھی کافی مقبول ہوئی وہ اپنے بیانات میں دوسری تیسری شادی کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی انکے فائدے بھی بتاتے ہیں،
    ان کے شادیوں والے بیانات پر اکثر ہی وہ سوشل میڈیا پر کبھی تعریف کبھی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، مفتی صاحب پر میمز بھی بنتی وہ ہمیشہ ہنس کر ٹال جاتے بلکہ بہت بار وہ خود مسکرا کر ان میمز کا ذکر کرتے ہیں،

    2015 کے بعد انکے ویڈیو بیانات جاری ہونا شروع ہوئے اس سے پہلے انکے آڈیو بیانات جاری ہوتے تھے اب 2021 میں انکے چاہنے والوں کی انکو سنے دیکھنے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے مفتی صاحب نوجوان نسل میں بہت تیزی سے مقبول ہورہے ہیں انکا ہنسی مزاح سے بھرپور بیان نوجوان کو اسلام کی طرف راغب کررہا ہے بقول مفتی صاحب نے انکے شادیوں والے بیانات سے متاثر ہوکر کافی مردوں نے طلاق شدہ خواتین، بچوں والی خواتین سے دوسری تیسری شادیاں کی ہیں، ایک طرف جہاں مفتی صاحب سے مرد حضرات خوش دکھائی دیتے وہی بہت ساری خواتین انکے بیانات سے غصہ ہوتی ہیں "اب آپ خود سمجھدار ہیں کیوں”

    مفتی صاحب کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں انکو دنبےکی چربی میں بنے کھانے انتہائی پسند ہیں ہوٹل کے پراٹھے ہوں یا بریانی اکثر انسے تعریف سنے کو ملتی ہے
    ہمیں لگتا ہے مفتی ہیں تو بس عبادت میں لگے ہونگے دنیا میں کیا ہورہا کیا چل رہا انکو کیا لینا دینا ” لیکن ایسا بلکل نہیں مفتی صاحب عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں حکومت کی تعریف یا کبھی ہلکی پھلکی تفریح میں جائز تنقید بھی کرجاتے ہیں انکی شخصیت کے بہت سارے پہلو ہیں انکو تیراکی گھڑسواری ، مچھلیاں پکڑنا، ورزش کرنا پسند ہے جب وقت ملتا ہے وہ یہ شوق پورے کرتے نظر آتے ہیں وہ کہتے لوگ حیران ہوتے مفتی صاحب یہ کیا کررہے ” ارے بھئی مفتی ہیں تو کیا خود کو صحت مند رکھنا بھی ضروری ہے
    "بقول مفتی صاحب کے وہ کبھی ایک آدھی سگریٹ بھی پی لیتے تھے اب اس بات پر مجھ پر فتویٰ نا لگانا یہ انکے ایک بیان میں ہی سنا تھا،

    مفتی طارق مسعود صاحب نوجوان نسل کے لیے ایک راہ ہیں جو دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ بیلنس کرکے چل رہے ہیں انکے مزاح سے پھرپور بیانات ہوں یا لطیفے وہ اپنی بات ایسے انداز میں بیان کرتے کے سنے والا بور بھی نہیں ہوتا اور بات دماغ میں گھر جاتی ہے

    بہت سارے علماء صرف مذہب پر بات کرتے نظر آتے انکا سارا فوکس انسان کو کیسے اللہ کا بندہ بنایا جائے اس پر رہتا جبکہ مفتی صاحب کو ہم نے عوامی مسائل لوگوں کے عام مسئلوں پر بات کرتے سنا ہے دیکھا ہے وہ بچوں کی تربیت ہو، غصہ کرنا شور شرابا تیز آواز میں بات کرنا، میاں بیوی میں محبت، والدین کا احترام، جلدی سونا اٹھنا، لڑکیوں کی شادی ، بچوں کو کس عمر میں اکیلا سلایا جائے، بیوی کو خوش رکھنا اسکے حقوق، نوجوانوں کی گرل فرینڈز کے رونے ہی کیوں نا ہوں مفتی صاحب ایسے موضوعات پر بڑے واضح بیانات دیتے ہیں جس میں وہ اپنا ذاتی تجربہ بھی شامل رکھتے کیونکہ انکی تین زوجہ ہیں وہ بخوبی انکے حقوق پورے کرتے بلکہ دوسری تیسری شادی کی خواہش رکھنے والوں کو سب سے اہم بات یہی سمجھائی جاتی کہ بیویوں کے حقوق پورے کرنے ہیں چاہے پھر دو کرو یا چار۔۔۔۔۔۔

    "میں ذاتی طور پر مفتی صاحب کے بیانات سنتی ہوں انکے بیان سن کر انسان ریلیکس ہوجاتا ہے ورنا اکثر علماء کے بیانات ایسے ہوتے جنکو سن کر لگتا ہم بہت گناہ گار ہیں سیدھے جہنم میں جائینگے ایسا خوف ایسا وہم دل میں بیٹھ جاتا کے سیدھا وضو کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوجاے بندہ اور مانگ لے اپنے گناہوں کی معافی
    خیر چلیں یہ تو چھوٹی سی مذاق ہوئی امید کرتی ہوں ہماری جذباتی قوم میرے اس چھوٹے سے کالم میں انجانے میں ہوئی کسی غلطی پر فتویٰ جاری نہیں کرے گی مفتی صاحب کی اسلام کے لیے جو کاوشیں ہیں اس سے آپ سب بخوبی واقف ہیں اللہ پاک انکو مزید ہمت دے کامیابی دے اور ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے ہم سب ایک دوسرے کو برداشت کرکے معاف کرسکیں

  • والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اولاد سے حق مانگتے ہیں مگر اس سے پہلے فرائض کا ادا کرنا نہایت اہم امر ہے۔جو آج والدین ہیں وہ کل خود اولاد تھے، جو آج اولاد ہیں وہ کل والدین ہونگے۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا چکر ہے، اگر حق کل چاہئیے تو آج حقوق ادا کریں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مت کریں۔

    پہلی بات تو سمجھنے کی ہے کہ اولاد ہے کیا؟ کیا آپ ان پر ولی ہیں یا ان کے آقا؟ کیا آپ ان کے مالک ہیں یا رکھوالے؟ اولاد اللہ نے عطا فرمائی ہے، والدین کو کچھ اہم ذمہ داریاں دے کر ان کو ولی کیا۔باپ کو فقط دو فرائض دیے گئے۔
    1۔ بہترین نام رکھو۔
    2۔ بہترین تعلیم و تربیت کرو۔
    "بہترین” ہر شخص کی استطاعت اور معاشی و معاشرتی حیثیت سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو ہے کہ انسان دوسرے انسان کا آقا نہ بنے اور اولاد کو ایک امانت مان کر انکی بہترین حفاظت کرے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر انکی تربیت کا اہتمام کرے۔

    معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

    آج کل ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار ہے اور ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا تو پتا ہے مگر ہم نے اپنے فرائض بُھلا دیے ہیں۔ ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ادا نہیں کیے جاتے لیکن ہم خود اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پر ایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے۔

    افسوس! قربانی، ایثار، وفا اور محبت کے اسباق ہم نے فراموش کر دیے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں والدین اولاد سے اور اولاد والدین سے، بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے، بیوی شوہر سے اور شوہر بیوی سے نالاں ہے۔ ہمسائے، ہمسائے سے، رشتے دار رشتے داروں سے، استاد شاگرد سے، شاگر د استاد سے، عوام حکم رانوں سے اور حکم ران عوام سے غرض ہر شخص دوسرے سے بے زار ہے۔ ساتھ رہنا، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے۔
    والدین کہتے ہیں اولاد ہماری نافرمانی کرتی ہے ہماری نگہہ داشت نہیں کرتی، ہمارا کہنا نہیں مانتی، ہمارا حق ادا نہیں کرتی، ہم نے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں، انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی مگر اب شادی بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر دوسروں کو اولیت دیتی اور ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

    اولاد کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے، ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اب ہر وقت احسان جتاتے ہیں، ہم جوان ہوچکے ہیں انہیں اپنی لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں، ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا، گھر میں سکون نام کو نہیں، ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نابالغ تھے تو ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی سی بھی آزادی میسر نہیں، ہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے، یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے۔ والدین ہمیں رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بُھول چکے ہیں۔ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبّت کریں، ان کی اچھی تربیّت کریں، انہیں اچھی تعلیم دلائیں، جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کی شادی کرائیں، ان سے دوستانہ سلوک کریں، کچھ ان کی مانیں اور کچھ اپنی منوائیں تاکہ انہیں احساس ہوکہ والدین کے نزدیک ان کی اہمیت ہے۔ کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ اکثر بچے والدین کی آپس کی ناچاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو پُرسکون ماحول دیں۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں۔ پرانی روایات کوجدید دور سے ہم آہنگ کریں تا کہ بچے اسے اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    ایسے والدین جو اپنے فرائض کو اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنّت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گالی گلوچ، مار پیٹ اور اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنّت بھی روٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو آرام اور تحمّل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بل کہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے۔

    اﷲ تعالیٰ اپنے حقوق میں پہلوتہی تو معاف کر دے گا مگر اس انسان کو اُس وقت معافی نہیں جب تک وہ انسان اُسے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل دکھایا ہو۔ ہمیں اپنے فرائض اور حقوق کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ ہم اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

  • جمعرات بھری مراد تحریر:م۔م۔مغلؔ

    چھ ہزار سال قبل کا ایک غیر ارادی عمل جس نے چار کروڑ انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، دروغ برگردنِ راوی کے مصداق ہمارا ذاتی طور پراس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کہتے ہیں ایک شخص راستہ بھٹک کر جنگل کی سمت نکل گیا، ابتدا میں تو اسے کسی شے کا خوف نہ تھا مگر چلتے چلتے جوں جوں جنگل گھنا اور مہیب ہوتا گیا اس کے اعصاب پر عجیب خوف سا طاری ہوتا گیا، جنگلی جانوروں کی آوازیں اور پرندوں کی چہکار فضا میں پرکیف نغمے گھول رہے تھے، اچانک بندروں کی ایک ٹولی نے اپنے ہم شکل کو دیکھا تو جوق در جوق زیارت کو جمع ہونے لگے اور خوخیا کر باقی ماندہ برادری کو دعوتِ نظارہ دینے لگے، بیچارہ بھٹکا ہوا شہر باسی ان بن باسیوں کی جانب سے پڑنے والی اس اچانک افتاد پر گھبرا کر بیٹھ گیا، بندروں نے سہمے ڈرے شخص کی گھبراہٹ کا فائدہ فیض کے ضرب المثل مصرع کی گردان کرتے ہوئے خوب اٹھایا، ۔۔۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

    اب کیا تھا کبھی ایک بندر شاخوں پر جھولتا ہوا نیچے اترا اور بیچارے کے سر پر دھول جما کر یہ جا اور وہ جا تو کبھی دوسرا، باقی بندروں کو تو جیسے کورونا کے لاک ڈاؤن کی فراغت کے ایام جیسا ایک مشغلہ سا مل گیا، باری باری بندر جھولتے لپکتے اور دھول جما کر پھدکتے ناچتے خوخیاتے۔۔ اس بساطِ دھماچوکٹری میں ایک نوجوان بندر نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور بھٹکے ہوئے شخص کا سامان اٹھا لیا اور چھلانگ مار کر درخت کی اونچی شاخ پر جا براجمان ہوا، مفلوک الحال شخص نےاس ناگہانی پر گھبرا کر جوتا اتارا اور نوجوان بندر کو دے مارا، شومئی قسمت جوتا درخت کی شاخ میں الجھ گیا، نوجوان بندر نے اس حرکت کا بھی خوب فائدہ لیا اور شاخ پر ہی رقص کرنا منھ چڑانا شروع کردیا، طیش میں آکر راہ سے گم کردہ شخص نےجذبات سے مغلوب ہوکر دوسرا جوتا بھی کھینچ مارا، جو نوجوان بندر کے رخسار کا بوسہ لینے کے بعد اسی شاخ پر جا مصلوب ہوا، اب ایک کو پڑی تو باقی بندروں کے ہوش ٹھکانے آئے یوں بندروں کی ٹولی خوخیاتے ہوئے فرار ہوگئی، راہ گم کردہ ضعیف شخص وہیں درخت کے نیچے تھک ہار کر سو رہا۔۔۔شنید ہے پھٹے کپڑوں میں ملبوس بھوک کے ہاتھوں مجبور مکان سے بے نیاز وہ شخص وہیں پڑے پڑے دنیا سے رخصت ہوگیا، موسموں نے اس کی لاش پر پتے گرائے ، وقت نے دھول اوڑھائی یوں مفلوک الحالی کی قدرتی قبر زمین کے سینے پر نقش ہوگئی، بعد ازں بھٹک بھٹک کر جنگل آنے والے اسی راستے سے گزرتے تو درخت پر لٹکے جوتے دیکھ کر ٹوٹکے کے طور پر اپنے جوتے بھی درخت کی شاخوں پر آویزاں کرنے لگے کہ کسی مراد کی شاخ کو پھل لگ جائے، ایک وقت وہ آیا کہ درخت پرپتوں کی بجائے جوتے ہی نظر آنے لگے ، کرتے کرتے جنگل شہر میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔۔۔ کہتے ہیں مفلوک الحال شخص کی قبر پر حاضری دینےکے بعد جنگل کے ٹمبر مافیا اور اس کی اولاد بعد ازاں سیاسیات کے کارزار کی جانب چل پڑی، قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ وہی جنگل ہے جس پر ٹمبر مافیا کی نسلیں راج کرتی ہیں، چھ ہزر سال قدیم تہذیب کا چسکا ایسا لگا کہ اب اس شخص کی اولادیں اس جنگل نمابھٹوستان یا بھوتستان صوبے کی حکومت کوجوتوں والا شجر سمجھ بیٹھی ہیں اب اس جنگل میں مفلوک الحال شخص کی قبر کی بجائے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان خاندان کے جدِ امجد کی قبر موجود ہے۔۔۔

    قصہ کوتاہ انسان کے بنائے ہوئے جراثیمی ہتھیار نے جہاں اقوامِ عالم کو پریشانی سے دوچار کیا ہے وہیں ایشیا کے ملک پاکستان میں شامل سندھ کی حکومت کی موج مستی اور عیاشی کا سامان ہوگیا، بالخصوص پاکستان کے سب سے بڑے اور دنیا کے تیرہویں بڑے شہر کراچی پر نام نہاد جمہوری عفریت نے اپنے دانت ایسے گاڑ رکھے ہیں جیسے ڈریکولا فلموں کے کردار سندھ کا رخ کرچکے ہوں۔۔۔ ۲۰۱۸ کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دے کر جو گناہ کراچی کے عوام نے کمایا ہے اس کی پاداش میں اس نام نہاد جمہوری بھوت نے شہر کو آسیب زدہ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر گزشتہ مسلسل تیرہ برس سے مسلط سندھ سرکار عوام الناس سے روٹی کپڑا مکان نہ صرف چھین رکھا ہے بلکہ پانی بجلی صحت صفائی کے معاملات سے لا تعلق ہوکر اپنی جیبیں بھرنے پر زور دیا ہوا ہے، اقتدار کی روشنیاں صرف ذوالفقار علی بھٹو کے مزار اورمزار کے احاطے تک محدود ہیں، صوبے بھر میں حقیقی طور پر دیکھا جائے تو کتوں کا راج ہے جو جب چاہے کسی کو بھی کاٹ کھاتے ہیں بچوں کو بھنبھوڑ لیتے ہیں، ۔۔۔امن امان کی صورتحال کے بارے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ صوبہ بدامنی چوری ڈکیتی قتل کی اس نہج پر ہے جہاں قانون صرف کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر رہ جاتا ہے۔۔۔ کورونا وبا کے نام پر سندھ کے باقی شہروں سے بڑھ کر پورے کراچی بالخصوص ضلع وسطی میں بسنے والوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کی روش شہر میں لسانی عصبیت کا شاخسانہ ہے، بغور مشاہدہ ہے کہٍ اندرون سندھ میں اور کراچی میں افغان کوئٹہ وال ہوٹلوں اور چائے خانوں کے لیے نرمی جبکہ دیگر قومیتوں والے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی نفری زیادہ تعینات ہے، وہ پولیس جسے کسی ہنگامی صورت میں مددگار پر کال کی جائے تو حیلے بہانے پیٹرول ڈیزل نہ ہونا یا موبائلوں کی کمی یا پھر نفری کی کمی کا رونا ہوتا ہے وہی پولیس فلمی انداز سے مخصوص علاقوں میں تھوک پرچون چھابڑی والوں پر پل پڑتی ہے، جیب گرم کرنا تو خیر ضمنی سی بات ہے وہ توا ٓپ سب جانتے ہی ہیں۔۔۔

    کورونا اور اس کی ویکسین پر سوال شکوک و شبہات تو اول روز سے ہی جاری ہیں مگر یہ بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے کسی ایک سوال کا جواب نہیں سکے، ایسا نہیں کہ یہ سوالات صرف پاکستان میں اٹھائے جاتے ہیں، دنیا بھر میں کورونا نامی وبا اور اس کے مخصوص ایجنڈے کے تحت معیشت تباہ کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے، کورونا اگر تو ایک وبا ہے تو وبا کے سدِ باب کے لیے علمائے کرام کو کیوں آگاہی پروگرام میں استعمال نہیں کیا گیا، پھر یہ کہ یہ وبا ایک مخصوص فرقے کے لیے کیوں تباہ کن نہیں ہے۔۔۔ ہر دوسرے شہری کے لب پر یہی شکوہ ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریتی مذہبی عقیدرت رکھنے والوں اور ان کے مذہبی تہواروں پر کورونا کی اچانک لہر آجاتی ہے مگر جیسے ہی مؤخر الذکر مذہبی عقیدہ رکھنے والوں کے تہوار آتے ہیں اچانک لاک ڈاؤن ختم کردیا جاتا ہے اور کورونا نامی مہلک وبا اپنا مال اسباب سمیٹ کر رخصت ہوجاتی ہے، ریاست یا صوبے پر حکمران طبقے کو اس دوہرے رویے پر وضاحت دینا ضروری ہے، وگرنہ یہ سلسلہ یوں ہی جارہی رہے گا اور کورونا سے بچنے کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہی رہے گا، سب سے معاشی گڑھ کراچی پر تیس سال سے محرومی کا عفریت قابض ہے، کبھی ہڑتالیں کبھی قتل و غارت گری کے نام پر نچوڑا گیا، اب رہی سہی کسر کورونا کی وبا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر پوری کی جارہی ہے، مراد علیشاہ کسی دن اچانک خوابِ گرانی سے جاگتے ہیں اور لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیتے ہیں،پیشگی کوئی حکمت عملی ہوتی ہی نہیں، سندھ سرکار نے نہ تو خاطر خواہ ویکسینیشن سینٹرز بنائے اور نہ ہی عملہ متعین کیا، عوام دشمن فیصلے کرتے ہوئے سندھ سرکا ر نے ایک لمحے کو نہ سوچا کہ وفاق کے تحت قائم ویکسینیشن سینٹر پر اچانک عوام الناس دھاوا بول دیں گے تو عملے کے اعتبارعددی ونفری اکثریت کم پڑ جائے گی، اور وہی ہوا کہ سب سے بڑے ویکسینیشن کے مرکز ایکسپو سینٹر میں چھ چھ گھنٹے قطاروں کی کھڑے گرمی کے مارے بھوکے پیاسے عوام ٹوٹ پر پڑتے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور عملہ نے ویکسینیشن کا عمل روکا دیا، میڈیا میں خبریں آنے پر سندھ سرکار نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک اور پریس کانفرنس کی اور لاک ڈاؤن میں نام نہاد نرمی کا اعلان کردیا، بہر کیف پولیس کی کمائی کا سلسلہ نہ رک سکا اور کھانے پینے کے مراکز کو استثنا ہونے کے باوجود جبراً بند کیا جاتا رہا،۔۔۔۔ نو روز کے غیر اعلانیہ کرفیو کی صورتحال نے صرف کراچی کو ۴۵۰ ارب کا نقصان پہنچایا، عام دیہاڑی دار طبقہ اور اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والے نقصانات کا تو تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔۔ کورونا کے خلاف ایکشن تو سندھ حکومت نے کیا لینا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک ہزار کروڑ روپے کی خردبرد کا معاملہ سامنے آیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔۔ یہ تو رہی صرف کورونا کی باتیں جو دیگ کے ایک چاول سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی، آڈٹ رپورٹ کے مطابق ۱۶ کروڑ روپے مالیت کی گندم ذخیرہ کرنےکا محض کرایہ ایک ارب بتیس کروڑ روپے ہے۔۔ نچلی سطح پر دیکھا جائے تو بلدیہ نے اپنے نائب قاصد کو دفتری کام کے لیے ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے مالیت کی سائیکل دلا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کی ہے یاد رہے یہ عام سی سائیکل صوبے بھر کی کسی بھی دکان سے نو ہزار روپے میں باآسانی مل جاتی ہے۔۔۔۔

    سندھ سرکار جس کا حالیہ مسلسل حکومت کا دورانیہ تیرہ سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے کی کارکردگی دیکھی جائے اور معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو سندھ پر مطلقا کتوں کا راج ہے آئے دن آوارہ کتے بچوں اور بڑوں کو کاٹ کھاتے ہیں کسی ہسپتال میں سگ گزیدگی سے بچاؤ کے انجیکشن موجود نہیں، نجی ہسپتالوں میں موجود ہیں مگر وہی بات کہ کتے نے مفت کاٹا اور ڈاکٹر پیسے لے کر کاٹے گا، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پینےکا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے، عیدِ قرباں کے جانوروں کی آلائشیں تا حال جابجا موجو د ہیں تعفن انسانی دماغوں کر مزاج پوچھتا پھرتا ہے،۔۔۔اٹھارہویں ترمیم ( جس کا مقصد اختیارات کو صوبوں کے حوالے کرکے وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم تھا )کی باڑ قائم کرنے کے بعد صوبے کے عوام کے جان و مال کی حفاظت، صحت صفائی ستھرائی، کاروبار کے لیے موافق ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صرف نعرے لگانے اور اپنا تسلط قائم رکھنے کے علاوہ سندھ سرکار نے کچھ نہیں کیا، کراچی کے ووٹرز سے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی اور وفاق میں قائم حکومت کے نمائندوں کو ووٹ دے کر ایوان میں پہنچایا، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لے کر بارش کے بعد ہونے والی سیلابی صورتحال کسی شعبہ میں بھی سندھ حکومت کا حصہ صفر ہے، وفاق نے انسانی ہمددری اور اپنے ووٹروں کی لاج رکھنے کے لیے وفاقی صوابدیدی فنڈز کا اجرا کیا جس سے دہائیوں سے نظر انداز تباہ حال شہرمیں آٹے میں نمک برابر ہی کام ہوسکا ہے، قارئینِ کرام کسی بھی ملک کسی بھی ریاست کسی بھی حکومت نے جب جب کوئی قانون بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا اس کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ہے، جبکہ سندھ میں مقتدر نمائندے جمعرات بھری مراد کے نعرے لگاتے خیر و عافیت سے قانون کوعوام کی زندگیاں اجیرن کرنے کے استعمال کرتےہیں،سندھ بالخصوص کراچی کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتی چلی جارہی ہے، عام آدمی کو اس بات کے قطعا غرض نہیں ہے کہ کوئی اٹھارہوئیں انیسویں یا بیسویں ترمیم کی ان کے بنیادی انسانی شہری حقوق کے سروں پر لٹک رہی ہے، عوام حالیہ حکومتی دورانیہ کا ستر فیصد عرصہ قید و بند کی صعوبتوں کی طرح جھیل چکی ہے اور وفاق سے متقاضی ہے کہ سندھ کے عوام کو نامرادی کے عفریت سے بچایا جائے۔۔۔ الخ

  • ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ  تحریر :اقصٰی صدیق

    ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ تحریر :اقصٰی صدیق

    "ماں” پیکر ہے لازوال شفقت و محبت، وفا اور بے مثال قربانی کا!
    اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر حیثیت میں عزت و عظمت عطا کی۔
    دنیا کی پوری تاریخ ایسی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی، جو ماں کی مثال سے بڑھ کر ہو۔یہ ماں کی ممتا اور ماں ہی کا جگر ہے جو اپنی اولاد کے لیے بڑی سے بڑی آزمائش اور تکلیف برداشت کر لیتی ہے۔ماں کی خدمت اس کے خلوص اور اس کے ایثار و قربانی کے جذبے کا کوئی نعم البدل نہیں۔
    کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
    "ماں ایک احساس ہے جو فطرت کے لطیف ترین جذبوں کو لباس اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جس طرح دنیا کی ہر زبان کے حروف تہجی کی ابتداء الف سے ہوتی ہے، بالکل اسی طرح محبت کی انتہا اور ابتداء لفظ ماں سے ہوتی ہے۔
    ” ماں کا دل موم کی مانند ہوتا ہے جو اولاد کی محبت میں پگھل جاتا ہے "۔ (بحوالہ : ڈاکٹر محمود الرحمن /ماں کی عظمت)
    محبت، شفقت، خلوص اور ایثار و قربانی یہی وہ جذبہ ہے جو ہر وقت اور ہر دم بچوں پر سایہ اور ڈھال بنا رہتا۔ماں اولاد کے ہر دکھ، ہر مصیبت اور ہر تکلیف میں سایہ رحمت اور سائبان بنی نظر آتی ہے، ہر دکھ سہہ کر اولاد کو راحت پہنچاتی ہے۔
    لفظ "ماں ” کے تین حروف "م” ” ا” اور” ن ” کا مجموعہ ایثار و محبت سے بنا ہے۔
    "م” محبت کا پیکر، "ا” ایثار اور "ن” کی اساس ناز ہے۔ لفظوں کا یہ مجموعہ ماں شفقت و محبت اس کا شیوہ، ایثار اس کا ایمان اور اولاد پر ناز اس کی کمزوری ہے۔
    اگر انسانیت کی پوری تاریخ دیکھی جائے اور ماں کی محبت احترام، تقدس اور ایثار کا جائزہ لیا جائے تو حضرت ہاجرہ ؑ کا کردار بے مثل، بے پناہ محبت اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نگہداشت کا کوئی اور واقعہ اتنا تاریخ ساز اور منفرد نظر نہیں آئے گا۔
    اگر ماؤں کی تاریخ مرتب کی جائے تو صرف حضرت ہاجرہ ؑ کا تذکرہ اس پورے تذکرے پر اس طرح حاوی ہو جائے گا کہ دوسری تمام مائیں اس کی قربانی اور محبت سے فیض یاب ہوتی نظر آئیں گی۔
    عرب کا تپتا ہوا صحرا، دور دور تک کوئی سبزہ نہیں، آگ کی مانند چٹانیں اور پہاڑیاں، جن پر نگاہ ڈالنے سے آنکھوں میں بھی تپش اور جلن سی محسوس ہونے لگے۔
    تو اس آگ اَگلتی ہوئی وادی میں انسانی وجود کا تصور اور وہ بھی کیسے انسان، ایک شیر خوار بچہ اور اس کی ماں جسے صنفِ نازک کہا جاتا ہے، اس میں اس طرح بیٹھے ہوں جنہیں اپنے پروردگار کی قدرت پر پورا ایمان و یقین ہو۔شریکِ حیات، روٹی کے چند ٹکڑے اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ کر واپس جا رہا ہو۔
    ہاجرہ ؑ پوچھ رہی ہوں کہ اے ابراہیم علیہ السلام یہ سب کیا کر رہے ہو۔ روٹی کے چند ٹکڑوں اور پانی کے ایک مشکیزہ پر ہم کیسے گزارہ کریں گے، اور پھر اس کے بعد ہمارا کیا ہوگا۔
    اور وہ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہوں کہ اللہ پر بھروسہ رکھو، اور میں اسی کے حکم سے تم دونوں کو یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
    ماں کا صبر و شکر دیکھنے کے قابل ہے، اپنی پرواہ نہیں کرتی بلکہ بچے کی معصوم صورت پر نظر ڈال کر اللہ کے آگے سر جھکا لیتی ہے، اس وقت ماں کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی؟
    ماں کی ممتا تڑپ رہی ہو مگر وہ پیکر تسلیم و رضا بنی اپنے جگر گوشے کو سینے سے لگائے ہوئے قدرت خداوندی کے کرشمے کی منتظر ہے۔
    آخر کار وہی ہوا پانی کا ایک مشکیزہ آخری قطرے بھی اپنے اندر سے انڈیل کر اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہے۔ شرم کے مارے آنکھیں خشک ہو گئی ہیں، مشکیزہ اپنی بے چارگی اور بے بسی پر افسردہ ہے۔
    کاش! اس وقت ندامت کے کچھ آنسو ہی مشکیزہ سے نکل پڑتے کہ معصوم کی جان بچ جاتی۔
    حضرت ہاجرہ ؑ بے چین اور بے قرار ہو جاتی ہیں، پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتی ہیں، لیکن کہیں پانی موجود نہیں اور بچے کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ بچے کو لیے سوچتی ہیں کہ پانی کہاں سے لاؤں۔
    سامنے ایک پہاڑی نظر آتی ہے سوچتی ہیں کہ اس پر چڑھ کر دور کہیں نظر دوڑائیں شاید کہیں پانی نظر آ جائے۔صفا پر جاتی ہیں پانی نظر نہیں آتا، تھوڑی دور ایک اور پہاڑی نظر آ رہی ہے جو صفا کے سامنے ہے، دوڑتی ہیں اور اس پہاڑی پر جا کر نظر دوڑاتی ہیں۔
    اس طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی دوڑ ہو رہی ہے۔
    ادھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دے رہا ہے کہ دیکھو، غور کرو اس ماں کی محبت کی یہ ادا ہمیں تمام امت مسلمہ کے لیے فرض کرنا ہے۔میں آنے والی نسلوں کو تاقیامت یوں ہی بے قرار دوڑتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔
    اس کے بعد ہی ماں کی بے قراری پر اللہ رب العزت کی رحمت کو جوش آتا ہے اور اچانک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ سے پتھر کا دل موم ہو جاتا ہے۔آبِ شیریں کا چشمہ ابل پڑتا ہے، جس میں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے، یہ پانی نہیں بلکہ آبِ حیات تھا۔
    صرف ان ماں بیٹے کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے تھا، جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو پڑھنے کا عہد کیا۔
    حضرت ہاجرہ ؑ زم زم کہہ کر اسے روکتی ہیں، اور بچے کو یہ پانی پلا کر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتی ہیں۔
    مینڈھ باندھ کر پانی کو روک لیا گیا ہے، خوش نوا پرندے پانی کی تلاش میں ادھر آتے ہیں، قبیلہ جرہم پرندوں کو اڑاتا ہوا دیکھ کر آ کر یہیں قیام کر لیتا ہے۔
    یہ قبیلہ شاید اسی لیے آیا تھا کہ ان ماں بیٹے کی نگہداشت کر سکے۔
    درحقیقت ماں کی محبت اور قربانی کا یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ ہر صفحے سے ماں کا تصور اس طرح ابھرتا ہے، کہ آدمی ماں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچ سکتا۔

    @_aqsasiddique

  • زِندَگی تحریر:افشین

    زِندَگی تحریر:افشین

    زِندگی وہ پھول ہے جو اپنی خوشبوں سے چاروں اِطراف کو مہکا دیتا ہے پھول میں اگرچہ کانٹے بھی موجود ہوتے ہیں پر وہ بھی پھول کا حصہ ہیں ۔ جیسے تکلیفیں ،آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں ۔ زندگی اس سفر کا نام ہے جو مسافروں کی بھیڑ میں طے کیا جائے پر منزل پہ تنہا پہنچا جائے ۔ ہماری زندگی اس کتاب کی مانند ہے جو لکھ دی گئ ہے لکھنے والا رَبّ پاک ہے۔ ہماری زندگی کی کتاب کو پڑھنے والا ہر کوئی نہیں ہوتا کچھ ادھورا پڑھ کے چھوڑ دیتے ہیں کچھ مکمل اور کچھ پَرکھ کے اپنی رائے خود ہی قائم کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ مطلب یہ کتاب دلچسپ نہیں لہذا پڑھنی ہی نہیں ۔ کچھ لوگ پڑھ کے بھی سمجھ نہیں پاتے ۔زندگی خوابوں کا افسانہ ہے جس میں خواب تو بہت ہیں مگر ادھورے ۔زندگی وہ حقیقت ہے جس میں کڑواہٹ بھی ہے پھر سچائی سے بھری ہوئی ہےزندگی نعمتِ خدا ہے خوشیاں غم سب اسکا حصہ ہیں ۔زندگی ان لوگوں کے لیے حسِیں سفر کی مانند ہے جو یہ سوچتے ہیں یہ لطف اندوز ہونے کے لیے ہے اور وہ اپنی زندگی بہترین انداز میں جیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے زندگی تلخ ہے جو زندگی کو با مقصد جینا چاہتے ہیں کچھ خواب بناتے ہیں انکی تکمیل کے لیے ہر طرح کے حالات سے لڑتے ہیں مشکلات جھیلتے ہیں ۔زندگی بہت کچھ کھونے اور پانے کا نام ہے ۔ زندگی سب کے لیے آسان نہیں ہوتی ۔کچھ جی لیتے ہیں اور کچھ کو یہ زندگی تھکا دیتی ہے ۔ زندگی سانس لینے اور رکنے تک کا نام ہے ۔ زندگی ایک امتحان ہے جیسے پاس ہونے کے لیے محنت اور کوشش درکار ہے، ایسے ہی زندگی کے امتحان بھی کوئی آسان نہیں ہوتے کچھ پانے کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور کوشش اور محنت سے پھل ملتا ہے ۔زندگی کے اس سفر میں صبر ایک اہم جُزو ہےصبر و تحمل سے ہی زندگی کا سفر آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اللّلہ پاک کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پہ چلیں گے تو کامیابی آپکے قدم چومے گی راہ بھٹکنے پہ دنیا و آخرت میں سزا منتخب ہے ۔دوسروں کی زندگی آسان بنائیں تاکہ آپکی زندگی کے سب کانٹے خود بخود ہٹ جائیں ۔زندگی رنگوں سے بھری ہے اپنے اردگرد دیکھے ہر طرف رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔ ان رنگوں کو سمٹ کے اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر لیں ۔ زندگی کو جینا سیکھیے ہمت نہ ہاریں ۔انسان چرند پرند جانور سب کو زندگی دینے والا ایک رِبّ العزت ہی ہے جس اس دنیا کو بنایا اورسب کی تخلیق کی ۔ وہ جب چاہے زندگی لے لے اور جس کو جتنی چاہے زندگی دے دے ۔یوں تو ہر طرف لوگوں کا میلا ہے پھر بھی انسان اکیلا ہے دنیا میں آئے بھی اکیلے ہی تھے جانا بھی اکیلا ہی ہے ۔ پھر کیا گلے شکوے رضائے الٰہی ربِ کائنات کے فیصلوں پہ خوش رہیں۔ اپنی زندگی کو نعمتِ خدا سمجھیں اور اسکو حالات سے تنگ آ کے ختم کرنے کے بجائے مقابلہ کریں اور رَبّ پاک کا شکر ادا کریں کیونکہ زندگی کانٹوں کی سیج ضرور ہے پر یہی کانٹے پھولوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں ۔زندہ رہنے کے لیے ہوا پانی غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ انسان جی تو رہے ہوتے ہیں مگر انکا کہنا ہے ہم بس زندہ ہیں۔ زندگی گزر رہی ہے انکے لفظوں میں مایوسی ٹپک رہی ہوتی ہے مطلب انکا جسم ہوا پانی خوراک آکسیجن سب لے رہا ہے پھر بھی وہ خود کو مردہ تصور کر رہے ہوتے ہیں ۔ صرف جسم کا زندہ ہونا ضروری نہیں روح کا زندہ ہونا بھی لازم ہےزندگی گزارنے اور جینے میں بہت فرق ہے ۔اپنی روح کو زندہ رکھے اور اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ خوش رہے مایوسی زندگی کو دشوار بنا دیتی ہے پُر امید رہیں۔ خوش رہے ۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹ کے خود بھی جئیں، خود سے پیار کریں ۔ یہ زندگی بہت قیمتی ہے اسکی قدر کریں۔

    @Hu__rt7

  • پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    ایک شخص کو کہا جائے میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں وہ شخص کی بھی آپ کے لیے احساس فیلنگ ہو لیکن کسی کی مداخلت کرنے سے حالانکہ دوسرے کی غلطی بھی نہ ہو وہ پھر بھی چھوڑ جائے اس شخص نے مداخلت کا نہ کہا ہو اس کو پتہ بھی نہ ہو اس کے پیٹھ پیچھے کیا چل رہا ہے لیکن اگلا شخص آپ سے بھی ناراض ہو جائے تو یا تو پہلے دور جانا چاہتا ہوگا بس موقع نہیں مل رہا ہوگا یا اس کے قریبی دوست نے کہا ہوگا مداخلت کا بہانہ بنا کر وہ ساتھ چھوڑ جائے جو کہ میں مانتا ہوں کہ مداخلت کرنا بھی غلط ہے کوئی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ہمارے درمیان یہ مداخلت کر رہا ہے لیکن اس کو بھی سوچنا چاہیے رشتے ایسی باتوں پر ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو لوگ نبھانا چاہتے ہیں تو وہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں نبھا جاتے ہیں جو نہیں نبھانا چاہتے ان کےلئے صرف ایک بہانہ کافی ہے چھوڑ کر جانے کے لئے

    زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر ہماری مرضی کی کہانی نہیں لکھی ہوتی لیکن ہر صفحہ ہمیں پڑھنا ہی پڑتا ہے کسی کو اپنی جان سے زیادہ چاہنے کا انعام درد اور آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اس لیے اپنی راتیں ان کے لئے خراب کرنا چھوڑ دو جن کو یہ بھی پروا نہیں کہ تم صبح اٹھو گے بھی کہ نہیں یہ مطلبی زمانہ ہے نفرتوں کا قہر ہے یہ دنیا دکھاتی شہد ہے اور پیلاتی زہر ہے

    انسان نے اگر زندگی میں دھوکا نہیں کھایا تو جان لو کہ زندگی میں سے کچھ سمجھا ہی نہیں یہ دنیا بھی بڑی عجیب ہے یہاں مطلب کی بات تو ہر کوئی سمجھتا ہے پر بات کا مطلب کوئی نہیں سمجھتا یہاں پر لوگ محفل میں بد نام اور منہ میں سلام کرتے ہیں

    ہم نے اپنی سی بہت کی وہ نہیں پگھلا کبھی اس کے ہونٹوں پر بہانے تھے بہانے ہی رہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ رشتہ دھیرے دھیرے ہی ختم ہوتا ہے بس پتا اچانک چلتا ہے

    ہیرے کو پرکھنا ہے تو تو اندھیرے کا انتظار کروں کیوں کہ دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکنا شروع ہو جاتے ہیں

    اپنی زندگی کا یہ اصول بناؤ کہ جتنا آپ کے پاس ہے اس سے کم دکھاؤ اور جتنا آپ جانتے ہیں اس سے کم بولو سفر کا مزا لینا ہے تو سامان کم رکھوں اور اگر زندگی کا مزہ لینا ہے تو ارمان کم رکھو کیوں کہ کبھی نہیں سنا کہ انسان کو اس کی عاجزی لے ڈوبی انسان کو ہمیشہ اس کا تکبر ہی لے ڈوبتا ہے

    جیسے ایک چھوٹا سا چھید پوری ناؤ کو ڈبو دیتا ہے ویسے ہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑے بڑے نقصان کروا دیتی ہے

    آسمانوں کو زمینوں سے ملانے والے جھوٹے ہوتے ہیں تقدیر بتانے والے اب تو رشتہ ہی برے وقتوں میں مر جاتا ہے پہلے مر جاتے تھے رشتوں کو نبھانے والے جو تیرے عیب بتاتا ہے اسے مت کھونا اب کہاں ملتے ہیں آئینہ دکھانے والے

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے اگر لوٹ کر آیا تو آپ کا اگر نہ آیا تو آپ کا تھا ہی نہیں کسی بھی رشتے میں بھروسا ہونا ضروری ہے پیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے اس لیے اپنا پیار ہمیشہ اس کے لئے سنبھال کے رکھوں جس سے اس کی قدر ہو

    زندگی میں جو گزر گیا ہے اسے پیچھے مڑ کر مت دیکھو ورنہ جو ملنے والا ہے اسے بھی آپ کھو دو گے زندگی میں ہمیشہ دلوں کو جیتنے کا مقصد رکھنا ورنہ دنیا جیت کر بھی تو سکندر بھی خالی ہاتھ گیا تھا پیسے کمائیں یا نہ کمائیں لیکن دعائیں ضرور کمانا کیونکہ پھر جھونپڑی میں محل جیسا سکون ملے گا

    @k__Latif

  • سگریٹ و تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    سگریٹ و تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    آج کل نوجوان نسل میں تمباکو و سگریٹ نوشی کا رجحان دن بدن بڑھتی جارہا ہے ہماری نوجوان نسل کی صحت کے لیے تمباکو و سگریٹ ایک ناقابل یقین حد تک نقصان دہ ہے اگر آپ اپنے تمباکو کو سگار ، یا حقے سے تبدیل کرکے خود کو تسلیاں دیتے ہیں یہ آپ کی صحت پر کیسی بھی خطرات کا موحب نہیں تو یہ آپ کی احمقانہ سوچ ہے

    سگریٹ و تمباکو میں تقریبا چھ سو سے زائد اجزاء شامل ہیں ، جن میں سے بہت سے سگار اور حقے میں بھی مل سکتے ہیں۔جب یہ اجزاء جل جاتے ہیں تو ،سات ہزار کے قریب انتہائی مضر صحت کیمیائی مادے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے کیمیکل زہریلے ہیں اور ان میں سے کم از کم 69 کینسر سے منسلک ہیں۔.

    اس کے برعکس سگریٹ میں موجود تمباکو کے اندر جو کیمیائی جزو دراصل جو سب خطرناک اور متاثر کن سرطان کاباعث بنتا ہے وہ نکوٹن کہلاتا ہے۔ تاہم نکوٹن کے علاوہ بھی تقریبا چار ہزار قسم کے دوسرے کیمیائی اجزا سگریٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف زہریلا اور متاثر کن اثر رکھتے ہیں بلکہ کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ تقریبا ساٹھ اجزا کینسر کا محرک ہیں۔ جن میں زہر آلود کیمیائی اجزاء کے نام کاربن مونو آکسائیڈ، ٹار، بینزیں، کیڈمیم، امونیا، ایسی ٹلڈ یٹائیڈ، نائیٹروسوامانٹین وغیرہ شامل ہیں۔

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ اسے تمباکو نوشی کیسے کرتے ہیں ، تمباکو آپ کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔. کسی بھی تمباکو کی مصنوعات میں ایسیٹون اور ٹار سے لے کر نیکوٹین اور کاربن مونو آکسائڈ تک کوئی محفوظ مادہ نہیں ہے۔. آپ جو مادہ سانس لیتے ہیں وہ صرف آپ کے پھیپھڑوں کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔. وہ آپ کے پورے جسم کو متاثر کرسکتے ہیں۔.

    سگریٹ و تمباکو نوشی بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے جیسے قلبی امراض (سی وی ڈی) ، پھیپھڑوں اور کینسر کی دیگر اقسام اور سانس لینے میں دشواری کے علاوہ گردے، مثانہ، حلق، سانس کی نالی، نرخرہ، پیٹ اور غذا کی نالی کا کینسر بھی تمباکو نوشی کے سبب ہو سکتے ہیں نوجوان نسل بھی اپنے والدین کی سگریٹ نوشی کی سزا بھگتتی ہے۔ کم وزن کا بچہ پیدا ہونا، وقت سے پہلے بچہ کی پیداٸش ہو جانا، مرا ہوا بچہ پیدا ہونا، سڈ یعنی اچانک ہی کسی بچے کا پیدا ہوتے ہی مر جانا ۔

    سگریٹ و تمباکو نوشی جسم میں مختلف قسم کی جاری پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے ، نیز آپ کے جسمانی نظام پر طویل مدتی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔. اگرچہ تمباکو نوشی کئی سالوں میں آپ کے مختلف قسم کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتی ہے ، لیکن جسمانی اثرات میں سے کچھ فوری طور پر ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ، ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے 128،000 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔. ایک رپورٹ کے مطابق ، پاکستان کے 19.1٪ (23.9 ملین) بالغ سگریٹ نوشی میں مشغول ہیں ، جس میں 31.8٪ مرد اور 5.8٪ خواتین شامل ہیں ، جو روزانہ کی بنیاد پر تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں۔. شہری علاقوں میں 10٪ کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں کا تناسب 3.9٪ ہے۔. اکثر ، تمباکو نوشی تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے واقف ہوتے ہیں لیکن وہ سگریٹ میں نیکوٹین کے عادی ہونے کی وجہ سے اس کو چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔.

    سگریٹ نوشی نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کرنے والوں کو بھی نقصان ہوتا ہے جو غیر فعال سگریٹ نوشی کے ذریعہ اس دھواں کو کھاتے رہتے ہیں۔.

    حکومت پاکستان کو خاص طور پر یونیورسٹیوں میں نوجوانوں میں سگریٹ و تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لئے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔. حکومت سگریٹ و تمباکو پر ٹیکس بڑھا دے یا فروخت کی قیمتوں میں اضافہ کرے۔. طویل مدت تک ، پاکستان میں تمباکو کمپنیوں پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔. اس عادت کو قابو کرنے کے لئے خاص طور پر دیہی علاقوں میں تمباکو نوشی کے خلاف مختلف آگاہی پروگراموں کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔. مذکورہ بالا اقدامات کرکے حکومت بہت ساری جانیں بچا سکے گی۔.

    ضروری ہے کہ ہم آنے والی نوجوان نسلوں کیلٸے سگریٹ و تمباکو نوشی کے خلاف متحرک ہو جائیں۔ اور ان اپنی نسل نو کو سگریٹ و تمباکو چھوڑنے میں مدد دیں جو اس لت کا شکار ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی مہم کا حصہ بنائیں۔ اور انہیں سگریٹ اور تمباکو کے جان لیوا مرض سے بچاسکے۔

    ‎@HamxaSiddiqi