Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپنے غموں اور پیاروں کو دھوئیں میں نہ اڑائیں تحریر : اقصٰی صدیق


    دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف” ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ” منایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دن کے منائے جانے کا مقصد انسانی صحت کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سگریٹ بچینے والی کمپنیاں اپنے نفع کی خاطر لوگوں کی صحت سے کھیل رہی ہیں ۔اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے والے بڑے بڑے رنگین اشتہارات ان کی اخلاقیات و احساسات کے کھوکھلے پن کا واضع عکس ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں کسی بھی قومی مہم میں ان کی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا ہے، جب تک تمباکو انڈسٹری حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتی، عوام کی اس موذی نشے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
    یوں تو سگریٹ کے علاوہ پان، چرس، بھنگ، افیون اور ہیروئین سمیت سب ہی نشے کے زمرے میں آتے ہیں۔
    مگر سگریٹ کے استعمال کو نقصان دہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
    پاکستان میں 65 سے 75٪ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی ضرور کرتی ہے،
    اسطرح ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک اعشاریہ تین کھرب افراد تمباکو نوش ہیں۔
    اور یہ سب نقصانات سے آگاہی کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

    ماہرین کے مطابق ایک شخص جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ نوشی کی عادت سےنا صرف وہ بلکہ اس کے اردگرد میں رہنے والے افراد خصوصاً بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے کے پھیپھڑے متاثر ہونے کے باعث اس کو کورونا لگنے کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
    تمباکو نوشی میں تمباکو سگریٹ اور اس کے علاوہ کئی نشہ آور چیزوں میں جیسا کہ نسوار، افیون اور ہیروئین میں استعمال ہوتا ہے۔
    تمباکو کو عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،
    تمباکو کو امریکہ، چین اور اس کے علاوہ کئی ممالک میں منافع بخش پیداوار کے لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست آتا ہے۔
    تمباکو کی کئی اقسام ہیں،ایک تحقیق کے مطابق تمباکو میں موجود 300 کیمیائی اجزاء انتہائی خطرناک ہیں۔خاص طور پر تمباکو میں پایا جانے والا ایک کمیکل نکوٹین ایک نشہ آور مضر صحت کمیکل ہے۔
    نیز تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت نقصان دہ چیز ہے۔
    یہ کس طرح نقصان دہ ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
    جلتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اور اس میں شامل زہریلے اجزاء نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے کے دل، دماغ، پھیپھڑے، معدے اور دیگر جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اس کے دھوئیں سے اہل خانہ سمیت ارد گرد کے معصوم لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
    دنیا بھر میں تقریباً ہر سال 53،000 افراد سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہو کر پھیپھڑوں کے مختلف امراض حلق، ہونٹ منہ کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر، چھاتی کے امراض اور خاص طور پر ٹی بی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    نیز تمباکو نوشی بیماریوں کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتی ہے،
    نقصان دہ کمیکلز میں ٹار، نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ سر فہرست ہیں۔ٹار پھیپھڑوں پر داغ کی صورت میں حملہ آور ہو کر سرطان (کینسر) کا سبب بنتا ہے۔
    کینسر میں مبتلا عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی شروع کردیتے ہیں۔
    دیگر کمیکلز میں نکوٹین سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے، اس کے زہریلے اثرات جسم میں خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس کے سبب افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بلند فشار خون ہارٹ اٹیک کی وجہ بن جاتا ہے،
    نکوٹین کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے رگیں سکڑ کر مزید تنگ ہو جاتی ہیں، اور جب جسم سے دماغ کو خون پہچانے والی رگوں میں خون کی گردش کم یا منقطع ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔
    نکوٹین کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ایک سے زیادہ امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود بھی لوگ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑتے؟
    انسان کی فطرت ہے کہ جس کام سے اسے روکا جائے وہی زیادہ کرتا ہے، کسی کو چائے کا نشہ لگ جاتا ہے، تو کسی کو نسوار، پان یا گٹکے کی لت،
    اور تو کوئی اپنے غم سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوتا ہے۔
    اور ویسے بھی تمباکو نوشی زیادہ تر غریب آدمی ہی کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہی سب سے بڑی تفریح ہے۔
    تمباکو نوشی جیسی بری عادت چھوڑنا تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر نا ممکن نہیں۔
    موجودہ دور تمباکو نوش افراد سگریٹ کے علاوہ پائپ، حقہ اور شیشے کی طرف بھی راغب ہیں، یاد رہے کہ حقہ اور آج کل نوجوان نسل میں مقبول ہونے والا شیشہ اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ سگریٹ ۔
    مسلسل تمباکو نوشی سے کئی اندرونی جسمانی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
    اس سے مرد و عورت دونوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جلد بھی متاثر ہو سکتی ہے، دانتوں پر دھبے پڑ جاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تمباکو نوش کی تو سانس سے بھی بدبو آنے لگتی ہے، جس سے آس پاس کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے جائیں؟

    دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ
    ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل میں سگریٹ کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔
    تمام مواصلاتی ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ اور اخبارات ہر فورم پر تمباکو کے نقصانات، وضاحت اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
    دکانوں اور سڑکوں پر سگریٹ کے بورڈز لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
    کھیل اور شوبز سے وابستہ افراد کو ٹی وی اس کی تشہیر سے روکا جائے۔
    پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی جائے۔خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ کیا جائے۔
    اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام تعلیمی اداروں، اسپتال، لائبریریوں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں سے بس ایک ہی درخواست ہے کہ، نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور آس پاس کے لوگوں کی صحت کی خاطر آج ہی سے تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔
    اور تمباکو نوشی سے خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ہمارا تعلیمی نظام  تحریر مدثر حسن

    ہمارا تعلیمی نظام تحریر مدثر حسن

    ہمارے ملک میں تعلیم کے مختلف معیار ہیں،
    اور ہم اس سے مطمئن بھی ہیں کیوں کے ہماری ترجیح تعلیم نہیں بلکے سڑکیں، پل ، گلی اور نالی پکی کروانا، ایم این اے سے سفارش کروا کے اپنی میٹرک پاس نکمی اولاد کی نوکری لگوا لینا، ایم پی اے یا علاقے کے کونسلر سے تعلقات بنا کر لوگوں پر رعب جھاڑ لینا اور سب سے بڑھ کر اگر کبھی پولیس پکڑ لے تو فون لگا کر کہنا ک” اے رانا صاھب نئی اے اپنے پرا نے”

    پاکستان کے آزاد ہونے سے لے کر اب تک عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا ہے، انکو تعلیم اور شعور سے دور رکھا گیا ہے کے اگر عوام سمجھدار ہو گئی تو کچھ لوگوں کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی،
    پاکستان میں تین طرح کا تعلیمی نصاب پڑھایا جاتا ہے، اور سونے پر سہاگا ہر صوبے کا تعلیمی نظام بھی وکھرا ہے۔
    پہلے ہم صوبہ سندھ اور اس کے تین مختلف تعلیمی نظاموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    اگر آپ غریب کے بچے ہیں تو آپ کے لیے گورنمنٹ فری تعلیم مہیا کرے گی۔ جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ ایسے ایسے استادزہ رکھے جاتے ہیں جو اسکول انے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور اگر آ بھی جایں تو سواۓ مکھیاں مارنے کے اور بچوں کے لنچ باکس خالی کرنے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام سر گرمی انجام نہیں دیتے ہیں، کبھی کبھی تو آپکو اسکول میں بھینسیں اور گدھے بھی بندھے مل جایں گے، ظاہر ہے انکا بھی دل کرتا ہوگا تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس میں کون سا بڑی بات ہے، کہیں قبضہ مافیا سر گرم ہوتا ہے تو کہیں نقل مافیا،، آپ اردو میڈیم میں آٹھ دس جمعاتیں پڑھیں اور پھر اپنے باپ دادا کے ہی آبائی پیشے میں سر کھپایں، کیوں کے آپ کو اعلی تعلیم دلوا دی گئی تو کہیں بھوٹو صاھب نا انتقال کر جایں۔

    اگر آپ کو یہ نظام پسند نہیں اور آپ کے اچھے حالات ہیں تو آپ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں بھی داخل کروا سکتے ہیں، جہاں آپ کے بچوں کو انگلش میڈیم پڑھایا جاتا ہے،آپ کے بچے تو اچھی تعلیم حاصل کر لیں گے لیکن آپ کی جائیداد رہے نہ رہے اس کے بارے میں کچھ کہ نہیں سکتے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کے لیے دھکے کھانا ایک الگ ٹوپک ہے۔

    اگر آپ سیاست دان ہیں، کسی جرنل، کرنل یا کسی جج کی اولاد ہیں تو آپ کے لیے مثلا ہی کوئی نہیں ، آپ پاکستان میں رہ کے آکسفورڈ کی کتابیں پڑھیں آپ کے لیے اعلی سے اعلی نظام ہے،نوکری پلیٹ میں رکھ کے ملے گی آپکو اور اس کے بعد دل کرے تو پاکستان نہیں تو بیرون ملک جا کر اپنی خدمات پیش کریں۔

    پنجاب کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، لیکن یہاں اتنا فرق ہے کے آپکو اسکول میں گدھے اور بھینسیں نظر نہیں آیئں گی اور نا ہی نقل مافیا سر گرم لیکن استاتذہ کی حالت تقریباً ملتی جلتی ہی ہے،
    یہاں بھی بہتر تعلیم کے لیے آپکو پرائیویٹ اسکولز کا رخ کرنا پڑتا ہے، اور نوکری کے لیے دھکے کھانا پڑتے ہیں، کیوں کے میرٹ کا اور ہمارا تو دور دور تک کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں ہے۔ یہاں بھی آپکو تین مختلف تعلیمی نظام ہی نظر ایں گے۔ کیوں کے اچھا اور بہترین تعلیمی نظام ہونے سے شیر آنے کے بجاے جا بھی سکتا ہے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا خاں کے حالات پہلے دہشت گردی کی وجہ سے ابتر رہے لیکن ہماری آرمی کی خاطر خواہ قربانیوں کی وجہ۔ سے اب حالات کافی بہتر ہیں اور ایک اچھا تعلیمی نظام آپکو میسر ہے۔

    موجودہ حکومت نے پورے ملک میں۔ ایک تعلیمی نظام کے لیے کچھ اقدامات لئے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کے اب سے تمام بچوں کو برابر ترقی کے حقوق ملیں گے۔

    ‎@MudasirWrittes

  • کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    جب یہ دنیا بنی تھی تو اس وقت زمانہِ جاہلیت تھی ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور بیٹیوں کیلۓ ان کے دلوں میں نفرت تھی۔ جب حضرت محمدﷺ اس دنیا میں تشریف لاۓ اور لوگوں کو اللہ کے دین کے بارے میں بتایا تو تب لوگوں کو احساس ہوا۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیۓ ہے وہ دنیا میں کسی اور مذہب کو نہیں دیۓ گۓ۔ اسلام میں اس بندے کو منحوس اور شیطان کا ایجنٹ بولا گیا ہے جو عورتوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتا ہو۔
    اللہ نے سب سے پہلے عورت کو برابری کا اعزاز دیا ہے اور اللہ فرماتے ہے کہ ” پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔
    اسلامی معاشرے میں رہتے ہوۓ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلاام ہمیں کیا کہتا کہ ہم نے کس طرح عورتوں کو ان کے حقوق دینے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ مغربی طرز پر چل رہا ہے اور عورتوں کو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ عورتوں کو اپنے حواس نکالنے کیلۓ استعمال کرتی ہے ۔
    عورتوں کو ہر جگہ نوکری دینے سے پہلے اپنی حواس نکالنے کا کہا جاتا ہے تب عورت کو نوکری دی جاتی ہے ۔ حالانکہ حضورﷺ کے دور میں بھی عورتیں باقاعدہ جہاد کرنے جاتی تھی۔ حضرت سمیہؓ وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے اسلام کیلۓ قربانی دی تھی۔ یہ وہ عظیم عورت تھی کہ سرداران قریش ان پر ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے لیکن پھر بھی یہ عورت اللہ کے دین پر قائم رہی ۔
    عورت اس معاشرے کی زینت ہے اگر عورت نہ ہوتی تو یہ دنیا نہ ہوتی ۔ عورت ایک ماں کا نام ہے ۔ عورت ایک بیٹی کا نام ہے ۔ عورت ایک بہن کا نام ہے ۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس دنیا میں اللہ نے عورت کو کتنا اہم مقام دیا ہے ۔ اس کے ساتھ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی عورت کے حقوق کے بارے میں واضح کیا ہے کہ مردوں کا اپنی عورتوں پر اس طرح حق ہے جس طرح
    عورتوں کا اپنے مردوں پر ہے ۔
    اگر اس دنیا میں مرد ہے تو مطلب یہاں عورت بھی ہے کیونکہ عورت اور مرد ایک حقیقت ہے ۔ حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ نے ایک مرد کے ساتھ عورت کو شامل کرکے یہ دنیا بنائ۔ یہ دنیا عورت کے بغیر بڑھنا مشکل تھا.
    اب اگر بات میرے ملک پاکستان کے کی جاۓ تو یہاں آج لوگ مغرب کے طرز پر جارہے ہے اور لڑکیوں کو اپنی غلامی اور اپنے حوس نکالنے کیلۓ استعمال کرتے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا ہے اور انہیں وہ عزت اور حق نہیں دے رہے جو ہمیں اسلام نے بتایا ہے.
    آج یہاں عورت مخفوظ نہیں ہے نہ گھر میں نہ گھر سے باہر۔ میں یہ مانتا ہو کہ آج کل ہماری عورتوں نے مغربی لباس پہننا شروع کیا ہے جس سے مرد یہ سمجھتے ہے کہ ہا‌ں یہ لڑکی واقعی خراب ہوگی ۔ لیکن دوسری طرف یہا‌ں تو وہ عورتیں بھی محفوظ نہیں ہے جو پردہ کرتی ہے ۔
    عورتوں پر یہ پابندی لگانا کہ وہ گھر سے باہر نہیں جائیگی یہ بلکل غلط ہے ۔ جب جنگ احد ہورہا تھا تو اس میں عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور زخمیوں کو پانی پلاتے تھے.
    میرے اس کالم کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج یہاں عورت درندوں کا شکار ہورہی ہے ۔ابھی کچھ ہی دن پہلے عورتوں کے ساتھ لاہور میں درندگی کے بےشمار واقعات سامنے آۓ ہے ۔ ہمیں اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کے بارے میں سوچنا ہوگا ورنہ تو اس کی سزا ہمیں اللہ بہت سخت دے گا۔

    Waseem Khan
    Twitter id: ‎@Waseemk370

  • اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    ‏”
    جب آپ مصیبت کے چہرے میں ہمت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو، آپ اپنی زندگی اور دوسروں کو تبدیل کرتے ہیں۔
    دنیا میں سب سے زیادہ اشتعال انگیز لوگ وہی ہیں جو اوسط کے لئے حل نہیں کریں گے اور مصیبت کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے. ہم سب سے زیادہ ان لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جنہوں نے مشکل کا سامنا کیا ہے اور، کبھی حوصلہ نہیں چھوڑتے ہیں.

    قسمت بہت اچھی ہے، لیکن زندگی کے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ بعض اوقات کشیدگی سے باہر کا واحد راستہ اس کے ذریعے ہے۔ زندگی میں چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سبق سکھانے میں مدد کے لئے کئی بار جدوجہد ہوتی ہے۔ ہم یا تو اس سبق سے سیکھ سکتے ہیں یا اس سے انکار کرسکتے ہیں۔
    ایک ارتقائی نقطہ نظر سے انسانی ذہن کا بنیادی مقصد آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ کبھی کبھی یہ خود کو سبوتاژ کرنے کی طرف جاتا ہے کیونکہ آپ کے آرام کے زون میں رہنا اور خطرے سے بچنا آسان ہے۔ تاہم، بڑے بڑے کام کبھی ماداوکراٹی سے آتے ہیں۔ اوسط کے لئے حل کرنا چھوڑ دیں اور غیر معمولی کے لئے کوشش کریں۔
    ذیل میں وہ الفاظ ہیں جو میں نے طاقتور زندہ بچ جانے والوں سے متاثر ہوکر لکھے ہیں۔ ایک محرک اسپیکر کی حیثیت سے، میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملتا ہوں جو بدقسمتی سے بچ گئے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ کشیدگی میں طاقت تلاش کرنے، خوف کو فتح کرنے اور اپنے خوابوں کو زندہ کرنے کے لئے ایک حوصلہ افزائی تقریر کے لئے مندرجہ ذیل نقطہ نظر ہے.
    حوصلہ افزائی تقریر ٹیمپلیٹ، کبھی بھی اپنے خوابوں کو ترک نہ کریں۔
    دلیری کے ساتھ آپ کے خواب کی سمت میں جاتے ہیں۔

    قد کھڑے ہیں اور دنیا کو دکھائیں جو آپ بنا رہے ہیں. جب دنیا آپ کو ہرا دیا، واپس دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک وجہ تلاش کریں۔ کبھی کامیابی پر ہاریں۔
    کوشش کریں، کوشش کریں، کوشش کریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ کامیابی کے اپنے دماغ کے خیالات کو کھانا کھلانا، ناکامی نہیں.
    یاد رکھیں، اگر آپ کو چھوڑ دو تو آپ ناکام ہوسکتے ہیں. جب بھی آپ ناکام ہوجاتے ہیں، آپ کامیابی کے ایک قدم قریب آجاتے ہیں۔
    آپ خوفزدہ نہیں ہیں۔ آپ باہمت ہیں۔ آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ طاقتور ہیں۔ آپ عام نہیں ہیں، آپ قابل ذکر ہیں.
    پیچھے نہ ہٹیں، ہار نہ مانیں۔
    جب آپ اپنی زندگی پر نظر آتے ہیں، تو افسوس نہیں ہے. اپنے آپ پر یقین کریں، اپنے مستقبل پر یقین کریں، آپ کو اپنا راستہ مل جائے گا۔

    آپ کے اندر ایک آگ جل رہا ہے جو بہت طاقتور ہے ؛ یہ روشن جلانے کے لئے انتظار کر رہا ہے. آپ بڑے بڑے کام کرنے کے لئے کیا مراد ہیں۔
    آپ کے خواب کے بعد خوفناک اور دلچسپ دونوں ہو سکتے ہیں۔
    ہمت کو خوف کا سامنا ہے۔ ناکامی کا خوف زیادہ تر لوگوں کو پیچھے رکھتا ہے۔ آپ زیادہ تر لوگ نہیں ہیں۔
    دوسروں کو اپنے منصوبوں کے بارے میں برقرار رکھیں اور قائل کریں، کیونکہ وہ حقیقی ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا لیکن آپ. ہمارے خوابوں کی راہ میں کوئی نہیں ملے گا۔

    زیادہ تر لوگ واضح مالک ہیں; آپ ایسی چیز بنا رہے ہیں جو پہلے نہیں تھا. یہ جلی ہے، یہ خوبصورت ہے اور یہ آپ ہے۔
    اسے اپنی پوری کوشش کرو، اور آپ کے خواب زندگی میں آئیں گے۔ کامیابی آپ کا ہے۔
    آپ کے خواب کے لئے جانا۔ یہ آپ کی باری ہے۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    ‎@AQsmt2

  • پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط

    پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط

    ۱۴ اگست ، اُس پاکستان کی آزادی کا دن جسے اسلام کے نام پہ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا لیکن بد قسمتی سے اس وطن کی آزادی کے جشن کے نام پہ جو تماشہ ملک بھر میں ہر سال لگایا جاتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی.
    کل بادشاہی مسجد کا ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا جس میں پاک سرزمین کی بیٹیاں مسجد کے احاطے میں کھلے سر اور تنگ لباس میں موجود فوٹوشوٹ میں مصروف دیکھائی دیں جبکہ دوسری طرف اسی بادشاہی مسجد میں غیر ملکی سیاحوں کا کافی بڑا گروہ ( جس میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی) سر پہ دوپٹہ اوڑھے مسجد کے تقدس کا پورا پورا خیال رکھ رہا تھا۔ غیر مسلموں کا مسجد کیلئے احترام اور مسلمان عورتوں کی مسجد میں بےحیائی دیکھ کر شرم سے نظریں جھک گئیں۔

    پاکستان کی آزادی کا جشن منانے کا آخر یہ کون سا طریقہ ہے کہ سبز اور سفید لباس زیب تن کر کے فوٹوشوٹ کروا کے اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا اور غیر مردوں سے واہ واہ وصول کرنا ۔ ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں یاد رہتا کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیئے خاندان کے خاندان شہید ہوئے ہیں ان بچیوں کو ان کے بڑے کیوں نہیں بتاتے کہ عزّت اتنی قیمتی شۓ ہے کہ تقسیمِ ہند کے موقعے پہ جوان بیٹیوں نے اپنی آبرو بچانے کی خاطر کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی عزت کو پامال ہونے سے بچایا تھا اور آج ان قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کے نام پہ پاکستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

    حال ہی میں ہوئے سانحہ مینار پاکستان کے بارے میں بات کی جائے تو اپنے اجداد سے شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ جگہ جہاں اسلام کے نام پہ ایک علیحدہ ملک بنانے کی قرارداد پیش کی گئی وہ ملک جس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش میں لاکھوں لوگوں نے خاندان کے خاندان گنوائے اس جگہ اتنی بےحیائی کا مظاہرہ کیا گیا ۔میں اس معاملے کی شدید مذمت کرتی ہوں جو ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا وہ خاتون مکمل لباس میں تھیں تو پھر کیوں ۴۰۰ درندوں نے اس خاتون کا لباس تار تار کیا ؟ بہت غلط کیا ،نوچ کھسوٹ کی، گناہ کیا۔ اس خاتون کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں لیکن کچھ سوالات ذہن میں سر اُٹھا رہے ہیں ؛ خاتون کا پچھلا ٹریک ریکاڈ کہیں سے بھی مہذب نہیں دیکھائی دیتا ، لباس کے انتخاب سے لیکر ان کی ویڈیوز کے مواد ( کانٹینٹ) تک میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کے قابل ستائش ہو ، ہاں قابلِ شرم کافی زیادہ کچھ ہے ۔ میڈم کا کانٹینٹ جس نچلی سطح کا ہے اسی لحاظ سے پست ذہنیت والے اس کانٹینٹ کے شیدائی ان کے فالورز بھی ہیں جو ایسا مواد دیکھنا اورسراہنا پسند کرتے ہیں ۔ اب میڈم نے جب ان کو کھلے عام ملنے کیلئے دعوت عام دی تو کیسے انکے مداح اپنی اسٹار کو دیکھنے حاضر نہ ہوتے ؟
    جب آپ خود اپنی فکر کیے بغیر ، ایک پبلک پلیس پہ دعوت دے کر غیر محرموں سے ملنے کیلئے ، غیر محرم کے ہی ساتھ تشریف لائیں گی تو آپکی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟ وہ گندی ذہنیت والے مداح جو آپکی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھ کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں یا پھروہ برائے نام دوست یا منگیتر جو بھرے مجمعے میں آپ کو ڈھکنے کے بجائے موقع پہ چوکہ لگاتا دیکھائی دیا گیا ہے ۔ اگر اس منگیتر صاحب کی جگہ آپ کسی محرم کے ساتھ ہوتیں تو میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں وہ آپ کی عزت پہ آنچ نہ آنے دیتا ۔

    اب تھوڑے حقائق جو منظر عام پہ آئے ہیں انکی بات کی جائے تو پارک کے گارڈ کا بیان سامنے ہے ، محترمہ کا اگلے دن کا انسٹاگرام پوسٹ جس میں وہ خوش باش دیکھائی دے رہی ہیں ، انکے بقول ان کے جسم پہ کہاں کہاں زخم ہیں وہ دیکھا بھی نہیں سکتیں لیکن چہرہ ، ہاتھ، پاؤں سب بےداغ ہیں ، محترمہ کا انٹرویو کسی اور کے گھر میں ہوا، جس کو اپنا گھر اور والدین کہا وہ پہجاننے سے انکاری ہیں ، انکے ٹک ٹاک پیغامات میں دیکھائی دیتا ان کا اطمینان اور اس سب سے بڑھ کے اب محترمہ کا پولیس سے تحقیقات روکنے کا مطالبہ مجھے آزردگی میں مبتلا کر گیا ہے۔

    بہت اچھی بات ہے کہ حکومت نے نوٹس لیا ، تحقیقات کروائی جا رہی ہیں اور ان درندوں کو سزا بھی ضرور ملے گی لیکن مجھے اس بات کا جواب چاہئیے کہ اگر یہ سب پہلے سے طے شدہ پبلسٹی اسٹنٹ ہوا تو کیا اس خاتون بمع ان کے منگیتر اور وہ تمام حضرات (جو ملک پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ، ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہیں ) سے کوئی ہرجانہ مانگا جائے گا؟؟ ان ۴۰۰ لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف بھی کوئی کاروائی ہوگی ؟ کیونکہ ان کے ایک فالتو اور فضول کے میٹ اپ پروگرام کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر جس درجے کا نقصان پہنچا ہے ان لوگوں کی سات نسلیں بھی اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتیں ۔ سستی شہرت کی بھوکی خاتون اور اسکے حامی و مددگار افراد نے پاکستان میں آنے والے ٹورسٹ کے دلوں میں اس قدر خوف و ہراس بھر دیا ہے کہ غیر ملکی جو پاکستان کو محفوظ تصور کرکے یہاں سیاحت کی غرض سے آنے لگے تھے ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تھے ان کی روزی روٹی پہ لات مارنے کے جرم کی کیا سزا ہوگی؟ ہزاروں خاندانوں کو بےروزگار کرنے پہ کیا یہ حکومت ان میڈیا ہاؤسز سے کوئی سوال کرے گی جن کے واویلے نے دنیا میں پاکستان کو ایک مشکوک ملک بنا دیا ہے ؟؟

    میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتی ہوں کے اس واقعے کی تحقیقات مکمل کروائی جائیں ہر ایک کو جو ذمہ دار ہے ان ۴۰۰ لوگوں سمیت سزا دی جائے کہ کسی اور کی آئندہ پاکستان پہ کیچڑ اچھالنے کی ہمت نہ ہو ساتھ ہی میں یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ پاکستان کو مکمل ریاست مدینہ نہ بھی بنا سکیں تو کم از کم اس واہیات ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں مکمل طور پہ بین کیا جائے ساتھ ہی ان ٹک ٹاکرز کے اکاؤنٹ اگر کسی بھی ڈیوائس سے لاگ ان ہوں تو ان ڈیوائس کو بھی بلاک کیا جائے ۔ اسکرین پہ صرف مکمل سطر پوشی کے ساتھ آنے کی اجازت ہو کیونکہ اصل فساد کی جڑ بےحیائی ہے۔ اسلام نے عورت کو بہت تحفظ فراہم کیا ہے چاہے وہ معاشرے میں ہو یا جائیداد میں لیکن آج کی خواتین کو جائیدار میں حصہ والا اسلام تو یاد رہتا ہے لیکن پردے کے حکم پہ میرا جسم میری مرضی کا قانون لاگو کرنے کیلئے تیار رہتی ہیں انہیں کوئی بتائے کے اللّٰہ جسے عزت بخشتا ہے اسی کو ڈھانپنے کا حکم دیتا ہے خانہ کعبہ کے کسوہ کی تبدیلی کا طریقہ کار اس کی واضح مثال ہے ،قرآن مجید کا غلاف قرآن اس عزت کی واضح تعریف ہے تو جب اسی اللّٰہ نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت دی آپکو آخر یہ عزت کیوں راس نہیں آرہی ؟ جب آپ سلیو لیس ، ٹاپ لیس ، بیک لیس پہن کے عوام کو اپنا جسم دیکھانے کیلئے ذہنی طور پہ تیار ہیں تو پھر ستائش بھری اٹھتی نظروں کے ساتھ بڑھتے ہاتھوں کے لیئے بھی تیار رہیے ۔

    نہ بھولیں کہ آپ جس ملک میں رہتی ہیں اسکا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یہ کوئی سیکیولر ریاست نہیں اگر آپ میں اسلام کے خلاف زیادہ جراثیم پنپ رہے ہیں تو کسی ایسی ریاست تشریف لے جائیں جہاں آپکو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پر برائے مہربانی جس تھالی میں کھائیں اسی میں چھید کرنے سے گریز کریں۔ شکریہ

    Twitter handle : ‎@HaayaSays

  • ٹک ٹاکرز بے لگام  تحریر :فاطمہ

    ٹک ٹاکرز بے لگام تحریر :فاطمہ

    14اگست کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ لوگوں نے بدتمیزی کی گٸ اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔

    میں نے سنا ہے کہ بہت سے لوگ ٹک ٹاک پر فولوز لینے کے چکر میں اپنے آپ کو ننگا بھی کر دیتے ہیں اور نہایت نازیبا
    قسم کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں جو کہ یقینا آپ لوگوں نے بھی کم و بیش دیکھا یا سنا ہی ہو گا
    آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے فالوورز کس قسم کے لوگ ہونگے۔
    اور پھر یہی لڑکیاں جب پبلک میں کھڑی ہو تی ہیں تو یہ ثابت کرنے لگ جاتی ہیں کہ میرے اتنی زیادہ چاہنے والے لوگ ہیں تو اس قسم کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
    انہیں بس اس بات سے غرض ہے کہ بہت چاہنے والے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کس قسم کے چاہنے والے ہیں اللہ ہی حافظ ہے ان لوگوں کا۔
    پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور مسلمان ہوتے ہوئے کیا ہمیں اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ ہم ٹک ٹاک پر بیہودہ قسم کی وڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں؟
    سنا ہے سعودیہ میں ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکوں کو جنسی جذبات ابھارنے پر بہت ساری لڑکیوں کو جیل ہوئی اور بہت سخت جرمانے ہوئے پاکستان میں بھی اس قسم کے قانون کی سخت ضرورت ہے۔ بیہودہ وڈیوز بنانے والوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سخت سزا اور جرمانے کیے جائیں۔

    لڑکوں کا تو پھر بھی مسئلہ نہیں لیکن اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسے مسائل ہوتے رہے تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوگی۔
    ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ یہ لڑکی کا شہرت پانے کے لۓ ایک ڈرامہ اور سکینڈل ہو کیونکہ ہم نے بہت زیادہ ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ویڈیوز میں ننگی ہو جائے یا سر عام لوگوں کے ہاتھوں سے کپڑے پھٹ وا لیں۔ اب وہ لڑکی باقاعدہ سوشل میڈیا پر اپنا چہرہ بھی دیکھا رہی ہیں کہ میں ہی وہ لڑکی ہوں۔
    ویڈیو میں لوگ دیکھیں نہ دیکھیں اور اس طرح اس کو سب نے دیکھ لیا۔
    کینیڈین روزی بھی ایک عورت ہے پورا پاکستان اکیلے گھوما ہے، لوگوں نےفری بائیک ٹھیک کرکے دی جہاں گئیں کھانے کےپیسے نہیں لیےگئے لوگوں نےاپنے گھروں میں فری رہائش دی ،
    400 کیا ہزاروں لوگوں سے ملی پورا پاکستان دیکھا اور دنیا کو پاکستان کی مثبت چہرہ دکھایا۔
    ا سے کسی ایک نےبھی بری آنکھ سےنہیں دیکھا کیونکہ روزی ناچ گانا نہیں کرتی تھی، اس نے بےحیا لوگوں کو اپنا فین نہیں بنایا تھا خدارا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو اس طرح سے رسوا نہ کریں۔ کچھ ان بے ہودہ ٹک ٹاکروں کو بھی لگام دی جائے ۔
    قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر سخت سے سخت ایکشن لیتے ہوئے اس ٹک ٹاکر کے ساتھ آنے والے لڑکوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔
    وہ لڑکی جسے اتنے لوگوں نے تنگ کیا تب اس کے ساتھ آنے والے ٹک ٹاکر لڑکوں نے اسے کیوں نہیں بچایا؟
    اتنے سارے مردوں کے مجمع میں اس واحد لڑکی کو ہر ایک کی طرف فلائنگ کس کرنے سے اس کے دوستوں میں سے کسی نے کیوں نہیں روکا؟
    400 لوگوں کے درمیان ہی اس کا ایک ساتھی اس لڑکی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کیوں کھڑا تھا؟
    کیا اسلامی معاشرہ میں یہ سب حرکتیں زیب دیتی ہیں؟
    میرا سوال ہے سب پڑھنے والوں سے

    ‎@Khak_e_Taiba

  • مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم

    مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم


    مدینہ کی ریاست۔۔۔نام لیتے ساتھ ہی ایک احترام ایک سرور سا اترتا ہے دل میں۔۔پاک ریاست پاک لوگ۔۔۔پاک زندگیاں۔۔۔
    ہمارا نعرہ مدینہ کی ریاست ہماری چاہت مدینہ کی ریاست۔۔۔ہماری مانگ آج ہی پوری ہو ۔۔۔کیسے ہو۔۔۔کیسے ہو۔۔۔
    ہم کتنے قابل ہیں اس ریاست کے۔۔مدینہ کی ریاست مدینے ولوں نے بناٸی اپنی پاک بازی سے۔اپنی سچاٸی سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے رہ کر فاقے کر کے بنا کسی کو الزام لگاۓ اپنےبل بوتے پر اپنی سود، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، نفا ق سے پاک تجار ت ایک دوسرے کادرد محسوس کر کے۔۔ صبح خالی پیٹ گھر سے نکلنا شان کو واپسی پر کچھ کھانے کو نہ ملنے پرایک کجھور پانی کے ساتھ کھا کر صبر شکر کر کے سونا ۔۔۔اللہ پر توکل۔۔ نہ گالی نہ گلوچ۔۔اخلاق اتنے کہ کوٸی پتھر مار دے تو دعا دینا۔۔۔
    ہم مانگ رہے مدینہ کی ریاست
    کون ہیں ہم
    دسترخوان پہ پیٹ بھر کھانا ہے مگر ایکسٹرا بریانی کی چاہت ہے نہیں کھا سکتے گنجاٸش نہیں دو حکومت کو گالیاں اسی دکھ میں باہر نکلے کسی سے منہ ماری ہو گٸی دو اسے ماں بہن کی گالیاں۔۔۔
    کام پہ گۓ۔۔سو جھوٹ سو چالبازیاں منافقت سے بھری خوشامدوں کے بعد گھر واپسی تھکے ہوۓ آۓ ہیں بیوی بچوں پہ غصہ۔۔ماں سے بدتمیزی ۔۔۔
    پھر ا س سب کے بعد جب اپنے کرتوتوں سے رزق میں کمی حالات خراب ہوں تو اپنے سے اونچوں سے حسد شروع۔۔۔
    معاشرتی طور پر اتنا بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔۔
    ٹک ٹاک پہ منہ بنا بنا کے ایک آنکھ بند کر کر کے ویڈیوز دیکھتے ہیں۔۔استغفار کرتے جاتے ہیں آنکھوں کا زنا ہاتھوں کا زنا باتوں زنا کرتے جاتے ہیں
    جہاں زلیخا دیکھی یوسف کو بھول کر اس کی اداٶں پر مرمٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں
    نہ عورت فاطمہ ؓ جیسی بننے کو تیار ہیں
    نہ مرد یوسف بننے پر راضی ہے
    اور تو اور یہ عالم ہے
    ہمارے ہاں عورت برقع میں ہو نظروں سے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں

    کیا ہم بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ۔۔۔
    ہم سے ایک دن تیل کے بغیر شوربے والی ہانڈی نہ کھاٸی جاۓ۔۔مبادا کہ پیٹ پہ پتھر باندھنا
    ہم اپنے آگے کسی کی بات برداشت نہیں کرتے مبادا کہ پتھر کھا کہ دعا دینا
    ہم بغیر جھوٹ کے اپنا مال نہیں بیچ سکتے
    زخیرہ اندوزی کے بغیر ہم اپنے عید تہوار پر سسستاسامان نہیں بیچ سکتے
    ہم کیسے بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ
    مدینہ کی ریاست میں حکم ربی اترتا تھا سب گردن جھکا کر لبیک کہتے تھے۔۔
    آج ہم مدینے کی ریاست میں چودہ سو سال پہلے اترے حکم ربی میں حجتیں کرتے ہیں دلیلیں گھڑتے ہیں۔پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

    دسروں کو حکم ربی سنا کرخود فادغ ہو جاتے ہیں
    کون ہیں ہم۔۔۔
    کیا چاہتے ہیں ہم
    مدینے کے اسلام میں اور ہمارے آج کے اسلام میں ہم نے وہ فرق ڈال دیا ہے۔کہ آج مدینے والے پلٹیں تو ہمیں کسی اور نٸے مذہب پہ پاٸیں
    خدارا پہلے خود کو اس قابل بناٸیں کہ
    آپ کے ارگرد خود آپ کو مدینے کا حساس ہو
    پہلے اپنے اندر احساس پیدا کریں
    مدینہ میں پہلے حکم جاری ہوۓ تھے۔۔سزاٸیں بعد میں اتری تھیں۔حکم ماننے والوں نے سزاٸیں اترنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔سزاٸیں تو نافرمانوں کے لٸیے اتری تیں۔۔تم فرمابردار کیوں نہیں بنتے۔۔؟
    کیوں نافرمان ہو کر انتظار کرتے ہو کہ سزاوٶ ں کی بات ہو پھر ہی سدھرو گے۔۔معاشرہ بناٶ تم بناٶ
    مدینہ بناٶ تم بناٶ۔۔۔خود کو پہلے سے فرمانبردار بناٶ
    لبیک کہو۔۔
    کسی کو کہنے روکنے ٹوکنے سے کچھ نہیں ہوگا
    پہلے اپنا دل مدینہ بناٶ
    مدینہ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے
    پہلے پاک ہو جاٶ
    پہلے پاک ہو جاٶ
    تحریر ہما عظیم
    ‎@DimpleGirl_PTi

  • ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ماضی میں ہم نے ایک گانا سنا تھا جو جاوید اختر نے لکھا تھا جس کے الفاظ تھے
    ؎ سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
    جوچٹھی آتی ہے، وہ پوچھے جاتی ہے
    سندیسا اصل میں سنسکرت کے لفظ سندیش سے ہے جو کہ پراکرت میں آکر سندیس ہوگیااور اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اس سے مرادپیغام، خبر اور اطلاع ہے۔چٹھی جو کہ سنسکرت زبان کے”چتر”اور”اکا“ سے ماخوذ ہے۔چٹ،پرچی،خط، مراسلہ،رقعہ،پتر،مکتوب،سندکارگزاری،اجازت نامہ، پاس، پرمٹ اور لیبل جیسے الفاظ چٹھی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔کسی دور میں جب کسی کے گھر چٹھی آتی تھی تو غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے کو ملتے تھے اور جب تک وہ چٹھی پڑھا ئی نہیں جاتی تھی سکون نصیب نہیں ہوتا تھا۔ ایسے میں اکثر وبیشتر چٹھی رساں ہی چٹھی کو پڑھنے کا فریضہ سرانجام بھی دیا کرتا تھا کہ اس دور میں پورے گاؤں میں یا تو امام مسجد پڑھ سکتا تھا یا پھر اسکول کا استاد۔چٹھی سے ہی چٹھی بہی لفظ بنا جس سے مراد خطوط کی آمد وروانگی درج کرنے والا رجسٹر ہوتا ہے، چٹھی چپاتی یا پتر بھی ہے جس سے مرادلکھت پڑھت ہوتا ہے،چٹھی سند بھی لفظ تھا جس سے مرادصداقت نامہ یا انگریزی لفظ سرٹیفیکیٹ ہے اور چٹھی کا کھیل بھی ہے جس کا مطلب قرعہ اندازی اور لاٹری سمجھ لیجیے۔ایک کہاوت بھی ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہے ”چٹھی نہ پروانہ مار کھائیں ملک بیگانہ (حکومت کی بدانتظامی سے بدمعاش خواہ مخواہ لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں)۔اس کہاوت کو اپنی حکومت پر نہ رکھ چھوڑئیے گا کیوں کہ اپنا ملک تو سفید ہاتھی ہے جس کو ماسواے معدودے لوگوں کے اکثرنے شروعات سے ہی لوٹنا شروع کردیا تھا اور لوٹ بھی وہی رہے ہیں جنھوں نے قوانین پر عمل درآمد کروانا تھا۔چھوٹے موٹے راہ زن تو اپنی راہ ہی کھوٹی کررہے ہیں کیوں کہ چند پیسوں کی خاطر وہ دنیا کے بھی مجرم بن رہے ہیں اورآخرت کے بھی۔ملکی خزانے لوٹنے والے تو عیش وعشرت سے زندگی گزار رہے ہیں اور ہزاروں لوٹنے والا پولیس کے ہاتھوں سرراہ مبینہ مقابلے میں مارا جارہا ہے۔ملکی خزانوں کو لوٹنے والوں کا معاملہ روزآخرت پر رکھتے ہیں۔آپ اظہر نیر کا شعر ملاحظہ کیجیے
    ؎تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی
    جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا
    ڈاک خانہ ہماری زبان میں اس طرح سے آیا ہے کہ آج بھی اسے سنا، پڑھا اور سمجھا جاسکتا ہے اگرچہ اس کے متبادل پوسٹ آفس لفظ زیادہ مستعمل ہے۔لفظ ”ڈاک“ پراکرت کے لفظ ”ڈک“ سے نکلا ہے جس کے مترادف الفاظ سلسلہ،برید،تسلسل،تواتر،پوسٹ،چوکی اور متلی وغیرہ ہیں۔ڈاک کا مطلب خط وغیرہ موصول اور روانہ کرنے کا نظام ہے۔چٹھیوں کے تھیلے کو بھی ڈاک کہا جاتا ہے۔جابجا سواری کا نظام مراد گھوڑوں یا پالکی کی چوکی جو سڑک پر مسافروں وغیرہ کولے جانے کے لیے کی جاے۔ویسے لفظ ڈاک سے مراد بندرگاہ کا ایک حصہ بھی ہے جہاں جہاز آکر ٹھہرتے ہیں۔
    ؎کیا لکھوں حال تباہ اپنا کہ سودا وہ جو لوگ
    چاہتے تھے یہ دن ان کے یاں سے واں تک ڈاک ہے
    ڈاک سے بواپسی ڈاک بھی بنایا گیا جس سے مراد خط ملتے ہی یاپہلی ڈاک سے ہے۔ محکمہ ڈاک، محصول ڈاک،ڈاک ایڈیشن،،ڈاک بجلی(ٹیلی گراف)،ڈاک بہنگی، ڈاک پالکی، ڈاک پرچی اور ڈاک چوکی وغیرہ جیسے الفاظ اسی ڈاک سے جوڑ کر بناے گئے ہیں۔ پراکرت کے اسی لفظ ڈاک کے ساتھ فارسی کا خانہ لگاکر ڈاک خانہ بنایاگیا جو کہ یہاں پر ظرفیت کا معنی دیتا ہے جیسے باورچی خانہ، شراب خانہ ویسے ایک لفظ ڈاک گھر بھی موجود ہے جوکہ پراکرت کے دو لفظوں ”ڈاک“ اور ”گھر“ کو ملا کربنایا گیا ہے۔شیخ محمد عبداللہ کی سوانح عمری ”آتش چنار“کے صفحہ نمبر 391پر لکھا ہوا ہے ”پاکستان کے قیام پر سری نگر کے ڈاک خانہ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا“۔اب آئیے لفظ پوسٹ آفس کی طرف جو کہ دو لفظوں پوسٹ اورآفس سے مل کر بنا ہے۔لفظ Post کا مطلب کھمبا، ستون،کھونٹا،عہدہ، اسامی،تقرراورڈاک کا نظام وغیرہ ہے۔پوسٹ آفس کو عربی میں مکتب البرید،ترکی میں Postane اور فارسی میں ادارہ پست کہتے ہیں۔میری معلومات کے مطابق پوسٹ آفس کا لفظ پہلی بار اردو میں معرکہ چکبست و شرر میں ملتا ہے۔اسی سے پھر ڈاکیا پوسٹ مین بن گیا۔ لفظ پوسٹ لاطینی زبان میں بطور سابقہ اور بہ معنی پیچھے یا مابعد کے بھی مستعمل ہے جیسے پوسٹ گریجوایٹ اور اب اگر پوسٹ مارٹم پر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ مرنے کے بعد نعش کے طبی معائنہ یا تجزیہ کرنے کو پوسٹ مارٹم کہتے ہیں۔مارٹم بھی لاطینی زبان سے ہی انگریزی میں آیاہے۔پوسٹ باکس،پوسٹ بواے،پوسٹ بیگ،پوسٹ پارسل،پوسٹ کارڈ اورپوسٹ ماسٹرجیسی ان گنت اصطلاحات اب ہمارے ہاں موجود ہیں۔اردو زبان کی یہی خوبی ہے جو اسے بین الاقوامی زبانوں کے درمیان لاکھڑا کرتی ہے کہ یہ زبان مختلف زبانوں کے لفظوں کو اس قدر خوب صورتی سے اپنے اندر سموتی ہے کہ وہ لفظ اس کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔

  • سگریٹ نوشی کے مضر اثرات ،تحریر: فروا نذیر

    سگریٹ نوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ آپ کو ختم کرسکتا ہےاور اس کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے
    سگریٹ نوشی کا دن بدن زیادہ اثر ہماری نوجوان نسل پر ہو رہا ہے
    سگریٹ نوشی ایک ایسا نشہ ہے اگر کوئی ایک بار استعمال کرلیں تو اس کیلیے چھوڑنا محال ہوجاتا ہے
    جسکی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں
    ہماری نوجوان نسل کو پاکستان کیلیے کام کرکے اگے لے کرجانا چاہیے لیکن یہ سگریٹ نوشی انسان کو تباہ و برباد کردیتی ہے
    زیادہ تر ہماری نوجوان نسل جو کہ تعلیمی ادارے کا حصہ ہے ان کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے خاص طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کو فیشن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات بہت زیادہ ہیں:
    جس طرح تمباکو نوشی منہ، گلا، خوراک کی نالی کا کینسر، معدہ کا کینسر، جگر کا کینسر، مثانہ کا کینسر، لبلبہ اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کی تمام اقسام بشمول سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، وغیرہ اور تمباکو سونگھنا خطرناک ہوتی ہیں

    اللہ پاک نے ہر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اللہ نے ہم سب کو علم و شعور دیا ہے تاکہ ہم سب صیحیح اور غلط کی پہچان کر سکیں لیکن لوگ غلط راستے کو چنتے ہیں
    ہماری تعلیمات ہمارا اسلام یہ نہیں سیکھاتا
    اسلام میں نشے کے بارے میں سختی سے منع ہے
    میں یہ نہیں کہوں گی کہ سب ہی کرتے ہیں دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو نہیں کرتے لیکن جو لوگ کرتے ہیں ان کیلیے یہ کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور زندگی میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے

    اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن انسان پھر بھی ایسی چیزوں کی طرف جائے جو اسلام میں منع ہے تو وہ اللہ کے حکم کو نہیں مان رہا
    کیا اچھی چیزوں اور نعمتوں کی کمی ہے کیا اللہ نے دنیا میں کر طرح کا پھل دیا ہے نعمت دی ہے تاکہ کسی کے دل میں حسرت باقی نہ رہے
    لیکن پھر بھی یہ انسان کی بد قسمتی ہے جو وہ اللہ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا

    میرا اس ٹاپک پر آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہ ہے اگر انسان اس برائی کی طرف جانے لگے تو رک جائے
    ویسے تو اس حقیقت کو سب ہی لوگ جانتے ہیں لیکن انجان بنتے ہیں
    حالانکہ سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا ہوتا ہے
    "٬٫سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے٫٬”

    پہلے تو میں حکومت سے اس بارے میں کہنا چاہوں گی کہ جس پر مضرصحت لکھا بھی ہوا ہے تو پاکستان میں لانے کا کیا فائدہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کیا فائدہ جس سے انسان کا سکون برباد ہو۔

    میری ان سب لوگوں سے التماس ہے جو اسکا استعمال کرتے ہیں وہ اپنی زندگی کا سوچیں جو اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور اسکو چھوڑ دیں

    اور جو اسکا استعمال نہیں کرتے وہ بہت فائدے میں ہیں

    اللہ پاک ہم سب کو صیحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • کپتان کے تین سال _ بے مثال .تحریر : فضیلت اجالہ

    کپتان کے تین سال _ بے مثال .تحریر : فضیلت اجالہ

    شیروانی کا بٹن نہیں دیں گے ،وزیر اعظم بننے کا خواب ،خواب ہی رہے گا،
    عمران خان کو سیاست نہیں آتی الیکشن کیسے جیتے گا اپوزیشن کی اس طرح کی لاتعداد خواہشات پر پانی پھیرتے ہوئے اور ان کے مزموم مقاصد کو مٹی میں ملاتے ہوئے اگست 2018 میں عمران خان نے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا
    اور اپوزیشن کی بے حد مخالفت ،یہ حکومت نہیں چلے گی ،دو سالوں میں حکومت ختم،جنوری میں حکومت گرائیں گے ، مارچ میں حکومت توڑ دیں گے ،تحریک عدم اعتماد لائیں گے جیسے کھوکھلے نعروں کے دباؤ میں نا آتے ہوئے عزم و ہمت سے ریاست مدینہ کے ہم آہنگ نئے پاکستان کی تکمیل کا سفر جاری و ساری رکھا ہوا ہے
    دور اقتدار کے تین برسوں میں تحریک انصاف نے کون کون سی کامیابیاں سمیٹی ان کی ایک جھلک پیش خدمت ہے

    پاکستان تحریک انصاف کی سب سے بڑی کامیابی کامیاب خارجہ پالیسی ہے جس میں سب سے اہم مسئلہ کشمیر کی بہترین سفارت کاری ہے ۔یہ عمران خان کی کوششوں کا اثر تھا کہ پہلی دفعہ مغربی دنیا نے بھارتی مظالم پر لکھا ،یہ میرے قائد عمران خان کا ہی حوصلہ اور جراءت تھی کہ انہوں نے مودی کے ہٹلر پن اور آر ایس ایس کے نازی پن کو دنیا میں اجاگر کیا ۔

    کشمیر کے بعد افغانستان معاملہ بھی عمران خان کی دور اندیشی اور باکمال ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عمران خان کی کہی بات کہ افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت ہے بلکل درست ثابت ہوئی ۔پاکستان نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان کو لےکر پاکستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے مسلے کو انتہائی بہترین انداز میں حل کیا۔

    تحریک انصاف نے خارجی تعلقات میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ۔ وہ ملک جس کے حکمران ہمیشہ ” جیسے آپ کا حکم” کہنے کے عادی تھے اسکا حکمران امریکہ جیسے ملک کو "”Absolutely not”” کہہ کر دنیا کو بتاتا ہے کہ پاکستان ایک آزد ملک ہے اور اب دنیا کو اس نئے خود مختار پاکستان کی عادت ڈالنی ہوگی

    تحریک انصاف حکومت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا اور اس میں کامیاب بھی ہوا۔یہ عمران خان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ انتہائی دباؤ کے باوجود انہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور دنیا کو بتایا کہ ہر مظلوم مسلمان کے چاہے وہ کشمیری ہو ،فلسطین ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو پاکستان اس کے حق کیلیے کھڑا ہوگا ۔

    ماضی کے حکمرانوں نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات ہمیشہ زاتی مفادات کیلیے رکھے عمران خان وہ واحد حکمران ہے جس نے اپنے لیے کوئ فائدہ کوئی چور راستے کا تقاضہ نہیں کیا بلکہ دیار غیر میں پھنسے مظلوم پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور سلیکٹڈ حکمران کہنے والے بغضیوں کو بتایا کہ عمران خان اپنے زاتی مفادت کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی فلاح و بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

    پاکستان تحریک انصاف نے روس اور چائنہ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کیا۔
    عمران خا ن کی ماحول دوست سرگرمیوں کو اقوام عالم نے سراہا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو عالمی ماحولیاتی دن کی سربراہی کا اعزاز حاصل ہوا۔

    خارجہ کے بعد اگر اندرونی معاملات کو دیکھیں تو ان تین سالوں میں سب سے پہلہ مسلہ covid-19 ہے جس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ مما لک سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ لیکن خدائی نصرت کے بعد یہ عمران خان کی فہم و فراست کی دلیل ہے کہ جب پوری دنیا گھروں میں محصور تھی تحریک انصاف نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو عالمی سطح پر سراہا گیا ، اور آج الحمدللہ پاکستان اپنی ویکسین بنا رہا ہے ۔
    جو بھارت کو پاکستان سے بہتر قرار دیتے ہیں ان ضمیر فروشوں کو آئینہ دکھاتی چلوں کہ کورونا کے لحاظ سے 50 بدترین ممالک کی فہرست میں بھارت تیسرے نمبر پہ جبکہ پاکستان کرونا پر بہترین انداز میں قابو پانے والے ممالک کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہے

    وزیر اعظم عمران خان ناموس رسالت کے محافظ بن کر ابھرے اور مغربی ایوانوں میں لاالہ اللہ کی دھاڑ پہلی دفعہ سنی گئی ،
    تحرک انصاف کے تین سالوں میں وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر اسلام فوبیا کے خلاف جنگ لڑی اور دنیا کو بھارت کے سفاک چہرے سے روشناس کروایا

    ماضی کی حکومتوں اور اداروں کے درمیان ہمیشہ ایک تناؤ کی کیفیت رہی پہلی مرتبہ پاکستان حکومت اور ادارے ایک صف میں کھڑےہیں جو ملک دشمن عناصر کیلیے خاصی پریشان کن صورتحال ہے

    تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت میں نیب نے پانچ سو ارب روپے کی ریکوری کی جو کہ ماضی کی حکومتوں کے اٹھارہ سالہ دور حکومت میں کی گئ 290 ارب کی ریکوری سے دوگنا ہے
    معیشت میں استحکام ایک بڑی کامیابی ہے ،آٹے ،چینی پیٹرول مافیا کے خلاف کاروائ کرتے ہوئے ان تمام بحرانوں پر قابو پایا گیا جو ماضی کی حکومتوں نے کبھی نہیں کیا۔

    بیس ارب ڈالر اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ شروع ہونے والی حکومت اس کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 25 ارب ڈالر کے ریکارڈ سر پلس پر لیکر گئ
    وزیرا اعظم احساس پروگرام کا آغاز غریب اور مزدور طبقے کیلیے عمران خان کے احساس و فکر کی علامت ہے
    علاج غریب کی پہنچ میں ‘ کے تحت تحریک انصاف حکومت نے تمام صوبوں میں مفت علاج کی فراہمی کیلیے صحت کارڈ کا اجراء کیا
    کامیاب جوان پروگرام کے انعقاد سے تحریک انصاف نے نوجوانوں میں عزم و ہمت کو استحکام بخشا اور نوجوان صلاحیت کو اگے بڑھنے کا موقع دیا
    عمران خان حکومت کے تین سالوں میں کورونا کے باوجود
    ٹیکسٹائیل شعبے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ، آٹو موبائل، کنسٹرکشن انڈسٹری، اسٹاک ایکسچینج میں بھی نمایاں ترقی نظر آئی

    تحریک انصاف کے تین سال کسانوں اور زراعت کیلیے ہر لحاظ سے انتہائی مفید رہے ،زراعت کے شعبے کو ترقی دی گئی اور کسان کارڈ کے اجرا سے چھوٹے کسانوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے ۔
    تحریک انصاف نے عورتوں اور اقلیتوں کو مساوی اور آزادانہ حقوق دیے ۔
    پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ تحریک انصاف حکومت نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلیے عملی طور پر کام کیا اور ان کیلیے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔
    پناہ گاہوں کا قیام تحریک انصاف کا لازوال قدم ہے جس نے لاکھوں بے گھروں کو رہنے کیلیے چھت مہیا کی
    کوئی بھوکا نا سوئے پروگرام کے تحت ملک گیر لنگر خانوں کا قیام اور موبائل لنگر خانے وزیرا اعظم عمران کے ریاست مدینہ کی تکمیل کے نظریہ کی جانب اہم پیش رفت ہے

    تحریک انصاف نے ان تین سالوں میں سستا گھر سکیم کے تحت ہزاروں بے گھروں کو اپنا گھر بنانے میں معاونت فراہم کی۔
    گزشتہ تین سالوں میں تحریک انصاف حکومت نے تعلیمی اصلاحات پر بھی کام کیا جہاں ای لائبریریز کا قیام تعمیر و ترقی کی جانب پیش رفت ثابت ہوئ وہیں یکساں نصاب تعلیم کے نفاز نے بہت سے طالب علموں کو احساس کمتری سے نجات دلا کر وزیر اعظم کے دو نہیں ایک پاکستان کے نظریہ کو تقویت بخشی
    ان تین سالوں میں جہاں تحریک انصاف نے بے شمار کامیابیاں سمیٹی وہیں روزگار کے مواقع بڑھنے کے باوجود مہنگائ کے عفریت نے عوام کو اپنی لپیٹ میں رکھا ۔امید ہے آنے والے دو سالوں میں عمران خان اس پر قابو پانے میں کامیاب ہونگے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں گے
    انشاء اللہ تعالی آنے والے دو سال پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی جبکہ اپوزیشن کی بد حالی کے سال ثابت ہونگے ۔اللہ اور عوام کا سلیکٹ کردہ یہ وزیر اعظم نا صرف یہ حکومتی مدت پوری کرے گا بلکہ اگلے پانچ سالوں کیلیے بھی منتخب ہوگا ۔انشاءاللہ ۔
    @_Ujala_R