Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم  .تحریر:صائمہ رحمان

    ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم .تحریر:صائمہ رحمان

    ہماری قوم پاکستانی ایک مضبوط، بہادر مستحکم قوم تصور کی جاتی ہے یوں تو ہم بڑے جوش جذبے سے نعرے لگاتے ہیں قائداعظم محمد علی جناج زندہ باد کے نعرے لگاتے لیکن کیا ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیرا ہیں بھی یا نہیں ؟ اتحاد ، ایمان اورتنظیم
    اپریل 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرے نوجوان دوستو! آپ اپنی شخصیت کو محض سرکاری ملازم بننے کے خول میں محدود نہ کیجئے۔ اب نئے میدان، نئے راستے اور نئی منزلیں آپکی منتظر ہیں۔ سائنس، تجارت، بنک، بیمہ، صنعت و حرفت اور نئی تعلیم کے شعبے آپکی توجہ اور تجسس کے محتاج ہیں۔” آج بھی قائد اعظم کے بتائے اصول ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ قائد اعظم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنا تمام تر وقت حصولِ علم کیلئے وقف کریں اور اپنے ملک کیلئے حقیقی معنوں میں اثاثہ بنیں اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنالیں۔ آج آدھی صدی گذار چکے ہیں جس ریاست کے قیام کے لئے انتھک جدوجہد قربانیاں دی گئی جس مقصد کے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم اس مقصد سے بہت دور ہو چکے ہیں ہم صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں ملک کا نہیں سوچ رہء کیتنی مشکلات کے بعد ہم نے حاصل کیا گیا اور ہم اپنے پاکستانی قوم کی حثییت کیا ہم اہنا اپنے ملک کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟

    ہم اس ملک کو تخلیق کرنے کے مقاصد ہی نہ پورے کر پا رہے دستور کی تدوین سے لیکر جمہوری اداروں کی تشکیل ہو یا ملکی استحکام سے لے کر داخلی و خارجی پالیسیوں کی ترتیب ہو، سب کچھ ادھورا چھوڑا ہوا ہے کوئی بھی اس ملک کا نہیں سوچ رہا قائداعظم کے فرمان سے ہم پاکستانی قوم بہت پیچھے رہے گئی ہے۔ بس حوسِ اقتدار کی خاطرحکمران قائد اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے الجھ کر گروہوں میں بٹ چکے ہیں ۔ پاکستان کو ترقی دینے قائداعظم کی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نسلی، لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہو چکے ہیں ملک میں اب صرف ۔ اقتصادی بحران، دہشت گردی، مہنگائی، کرپشن، اقرباء پروری اور قتل و غارت گری ہے اس سب کا ذمہ دار ہم سب پاکستانی ہیں
    یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم وہ سنہری اصول جن کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا گیا کیا ہم ان اصولوں پر چل رہے ہیں یعنی محبت، یقین محکم، تحمل اور برداشت آج ہم نے خود ان اصولوں کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ رہے ہیں کیا ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم وقت کی پابندی کرتے ہیں ؟ قانون پر چلتے ہیں؟

    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں ؟یا یہ ایک نغمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
    علامہ اقبال نے کہا تھا؛ نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
    کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں۔۔۔
    ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے پاکستان کی ترقی کے لئے کیا کیا ہے یہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہے جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے ؟
    شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس پاکستانی قوم کو اٹھانے کے لئے کے لئے اپنی ساری زندگی صرف کر دی۔ بڑی مشکل سے یہ قوم جاگی اور بالآخر پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیربنایالیکن بد قسمتی دیکھئے کہ یہ قوم بلا آخرپھر سو چکی ہےنہ انہیں اپنی خبر ہے اور نہ کسی اور کی خبر ۔
    اگر ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم سچے دل سے صرف پاکستان کا سوچئے تو یہ ملک بہت ترقی کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ایسی کوئی کمی نہیں بس اس ملک سے سچی محبت کرنے والے لوگ چاہیے جو اس ملک کو ترقی کی طرف لے جائے اور ہم پر فرض ہے ہم اس کو سنھبانے اور اس لو ٹنے کے بجائے اس کی حفاظت کرے کیوں کہ یہ ملک ہیں تو ہم ہیں۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • منشیات معاشرے کا ناسور 

    منشیات معاشرے کا ناسور 

    آج کے اس معاشرے میں جہاں بے شمار مسائل پائے جاتے ہیں وہیں

     ایک بڑا مسئلہ منشیات کا بھی ہے.. 

    منشیات میں ہر طرح کا نشہ شامل.ہے پھر وہ ڈرگز ہو یا شراب ،بھنگ ہو یا افیون ہو ہر طرح کا نشہ انسان کیلیے ایک لعنت ہے جو اسے آہستہ آہستہ کرکے مارڈالتا ہے

    نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئ منشیات کی عادت اور لت انکو بربادی کے دہانے پر لے جارہی ہے… صرف یہی نہیں بلکہ اونچے طبقے کے لوگوں میں میں اب یہ فیشن بن چکا ہے… آج کی نسل میں منشیات کے بڑھتی لت انکے مستقبل اور انکے خوابوں کو کس طرح موت کے دہانے پہ لے جارہی انکو اس چیز کا شعور ہی نہیں ہے ….اس معاشرے میں برائ سے زیادہ تیزی سے منشیات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے جس سے نہ صرف آج کی نوجوان نسل بلکہ آگے آنے والی نسل بھی اس لعنت کا خمیازہ بھگتے گی…منشیات کی بڑھتی ہوئ  عادت ہمارے ملک کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی…. منشیات کا استعمال نئ نسل کیلیے ایک قاتل زہر ہے جو انکی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو برباد کررہا ہے اور ایک صحت مند انسان کو موت کے دہانے پر لے جارہا ہے اس نسل کا مستقبل برباد کررہا ہے…. …. 

    پہلے وقت کے لوگوں میں لوگوں میں نشہ کرنا ایک معیوب عادت سمجھی جاتی تھی اور منشیات کا استعمال ہر کسی کی دسترس میں نہیں تھا مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں منشیات کا استعمال ایک فیشن بن چکا ہے، فلموں کا ہیرو عادی شرابی دکھایا جاتا ہے اور ہمیں اس میں کوئ برائ بھی نہیں لگتی کیونکہ یہ ایک ٹرینڈ سیٹ کردیا گیا ہے ہمارے ذہنوں میں کہ نشہ کرنا قابل فخر بن گیا ہے… منشیات تک اب ہر ایک کی پہنچ ہے چاہے وہ غریب ہو یا امیر… غریب ماں باپ جو نہ جانے کتنے جتن کر کر کے اپنی اولاد کو پڑھانے لکھانے کا بندوبست کرتے ہیں مگر یہ معاشرہ اسے منشیات کا عادی بنادیتا ہے اور اسکے بعد وہ کہیں فٹ پاتھ پہ پڑا پایا جاتا ہے یہ ہےمنشیات کے استعمال کا بھیانک چہرہ! 

    نوجوان نسل کو برباد کرنے کیلیے منشیات کی فروخت اب ایک عام سا جرم بن چکا ہے… جو کہ ہم جانتے ہی نہیں کہ یہ معاشرے کا ناسور بن چکا ہے جس سے چھٹکارہ پانا بھی ایک انتہائ مشکل عمل بن چکا ہے…. یونیورسٹیز اور اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کو منشیات کا عادی بنادیا جاتا ہے…. منشیات کے اڈوں کو روکنے والا کوئ نہیں… بڑے بڑے اسرو رسوخ رکھنے والے لوگ پس پردہ منشیات کا کاروبار چلاتے ہیں اور اپنی ہی آنے والی نسل کو اس ناسور کا عادی کردیتے ہیں… 

    منشیات سے پھیلنے والی تباہی کا ازالہ بعد میں کوئ بھی نہیں کرسکتا اسلیے اس ناسور کو ابھی ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا اوراس نسل اور آنے والی نسل کو تباہی سے بچانا ہوگا جو اس ملک کا مستقبل ہیں…. 

    اللہ کے رسول نےبھی شراب کو ام الخبائث قرار دیا ہے یعنی نشہ ہر برائ کی جڑ ہے اسی لیے اسلام میں نشہ حرام کردیا گیا تاکہ مسلمان اس تباہی و بربادی سے بچا رہے بلاشبہ رب العزت کے ہر حکم میں مصلحت پوشیدہ ہے… 

    آج کے پرفتن دور میں لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ نشہ منشیات کا استعمال انسان کیلیے صرف اور صرف تباہی ہے اور نشہ ایک مسلمان کیلیے اسی لیے حرام کردیا گیا ہے ….خدارا محض فیشن کا حصہ بننے کیلیے اپنی آگے کی پوری زندگی داؤ پر نہ لگائیں… 

    منشیات کا استعمال عام طور پر تب کیا جاتا ہے جب انسان ذہنی کشمکش اور اذیت سے دوچار ہو… منشیات کی روک تھام کیلیے نوجوانوں کو سہی سمت پر لگانا ہوگا… 

    ہمیں اپنے معاشرےسے اس برائ کا خاتمہ کرنے کیلیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی اپنی نوجوان نسل کا مستقبل بچانا ہوگا… تاکہ ہمارا معاشرہ منشیات کی لعنت سے پاک ہو اور اسکی روک تھام کیلیے خصوصی اقدامات کرنا ہونگے وگرنہ منشیات کی لت اس معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی اور معاشرے کاآنے والا کل بہت تاریک ہوگا… 

    @timazer_K

  • قسمت ، محنت اور کامیابی    تحریر : مقبول حسین بھٹی

    قسمت ، محنت اور کامیابی  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    1997 میں ، مشہور سرمایہ کار اور کثیر ارب پتی ، وارن بفیٹ نے ایک سوچے سمجھے تجربے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا ، "تصور کریں کہ آپ کے پیدا ہونے سے 24 گھنٹے پہلے ایک جنتی آپ کے پاس آئے گا۔”

    "جینی کہتی ہے کہ آپ جس معاشرے میں داخل ہونے والے ہیں اس کے قوانین کا تعین کر سکتے ہیں اور آپ جو چاہیں ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ آپ کو سماجی قواعد ، معاشی قواعد ، حکومتی قواعد وضع کرنا ہوں گے۔ اور یہ قوانین آپ کی زندگی اور آپ کے بچوں کی زندگی اور آپ کے پوتے پوتیوں کی زندگی کے لیے غالب رہیں گے۔ "لیکن ایک پکڑ ہے ،” انہوں نے کہا۔ "آپ نہیں جانتے کہ آپ امریکہ یا افغانستان یا پاکستان میں امیر یا غریب ، مرد یا عورت ، کمزور یا قابل جسم پیدا ہونے والے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ آپ کو ایک بیرل سے ایک گیند نکالنی ہوگی جس میں 5.8 بلین گیندیں ہوں گی۔ اور یہ تم ہو۔ ”

    "دوسرے الفاظ میں ،” بفیٹ نے مزید کہا ، "آپ اس میں حصہ لیں گے جسے میں ڈمبگرنتی لاٹری کہتا ہوں۔ اور یہ سب سے اہم چیز ہے جو آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ ہونے والی ہے۔ یہ اس بات کا تعین کرنے جا رہا ہے کہ آپ کس اسکول میں جاتے ہیں ، آپ کتنی محنت کرتے ہیں ، ہر قسم کی چیزیں۔ جب اس طرح وضاحت کی جائے تو ، زندگی میں قسمت ، بے ترتیب اور اچھی قسمت کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل لگتا ہے۔ اور واقعی ، یہ عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آئیے ایک دوسری کہانی پر غور کریں۔ جب اس طرح وضاحت کی جائے تو ، زندگی میں قسمت ، بے ترتیب اور اچھی قسمت کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل لگتا ہے۔ اور واقعی ، یہ عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آئیے ایک دوسری کہانی پر غور کریں۔

    1969 میں ، ویت نام کی جنگ کے چودھویں سال کے دوران ، یو یو نامی چینی سائنس دان کو بیجنگ میں ایک خفیہ تحقیقی گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ یونٹ صرف اس کے کوڈ کے نام سے جانا جاتا تھا: پروجیکٹ 523۔ چین ویت نام کے ساتھ ایک اتحادی تھا ، اور پروجیکٹ 523 اینٹی ملیریا ادویات تیار کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جو فوجیوں کو دی جا سکتی ہیں۔ بیماری ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی تھی۔ ویت نام کے بہت سے فوجی جنگل میں ملیریا سے مر رہے تھے۔ ٹو نے اپنے کام کا آغاز سراگ ڈھونڈ کر کیا جہاں وہ انہیں مل سکتی تھی۔ اس نے پرانے لوک علاج کے بارے میں دستی کتابیں پڑھیں۔ اس نے قدیم تحریروں کی تلاش کی جو سینکڑوں یا ہزاروں سال پرانی تھیں۔ اس نے پودوں کی تلاش میں دور دراز علاقوں کا سفر کیا جس میں کوئی علاج ہو سکتا ہے۔ کئی مہینوں کے کام کے بعد ، اس کی ٹیم نے 600 سے زائد پودے اکٹھے کیے اور تقریبا 2،000 2 ہزار ممکنہ علاج کی فہرست بنائی۔ آہستہ آہستہ اور طریقے سے ، ٹو نے ممکنہ ادویات کی فہرست کو 380 تک محدود کر دیا اور لیب چوہوں پر ان کا ایک ایک کر کے تجربہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ "یہ ایک بہت ہی محنت طلب اور تکلیف دہ کام تھا ، خاص طور پر جب آپ کو ایک کے بعد ایک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔”

    سینکڑوں ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں سے بیشتر نے کچھ حاصل نہیں کیا۔ لیکن ایک ٹیسٹ چنگھاؤ کے نام سے مشہور میٹھے کیڑے کے پودے کا ایک اقتباس امید افزا لگتا ہے۔ ٹو اس امکان سے پرجوش تھا ، لیکن اس کی بہترین کوششوں کے باوجود ، پلانٹ کبھی کبھار ایک طاقتور اینٹی ملیریا ادویات تیار کرتا تھا۔ یہ ہمیشہ کام نہیں کرے گا۔ اس کی ٹیم پہلے ہی دو سال سے کام پر تھی ، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ انہیں شروع سے دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تو نے ہر امتحان کا جائزہ لیا اور ہر کتاب کو دوبارہ پڑھا ، کسی چیز کے بارے میں کوئی اشارہ تلاش کیا جس سے وہ چھوٹ گیا تھا۔ پھر ، جادوئی طور پر ، وہ دی ہینڈ بک آف پرسکیپریشن فار ایمرجنسی کے ایک جملے پر ٹھوکر کھا گئی ، جو 1500 سال پہلے لکھی گئی ایک قدیم چینی تحریر ہے۔ مسئلہ گرمی کا تھا۔ اگر نکالنے کے عمل کے دوران درجہ حرارت بہت زیادہ تھا تو میٹھے کیڑے کے پودے کا فعال جزو تباہ ہو جائے گا۔ ٹو نے کم ابلتے نقطہ کے ساتھ سالوینٹس کا استعمال کرتے ہوئے تجربے کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا اور بالآخر ، اس کے پاس اینٹی ملیریا ادویات تھیں جو 100 فیصد وقت کام کرتی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت تھی ، لیکن اصل کام ابھی شروع ہوا تھا۔ ہاتھ میں ثابت ادویات کے ساتھ ، اب یہ انسانی آزمائشوں کا وقت تھا۔ بدقسمتی سے ، چین میں اس وقت کوئی نئی سنٹر نہیں تھیں جو نئی ادویات کی آزمائشیں کر رہی ہوں۔ اور منصوبے کی رازداری کی وجہ سے ، ملک سے باہر کسی سہولت پر جانا سوال سے باہر تھا۔ وہ مردہ انجام کو پہنچ چکے تھے۔ تب جب آپ نے رضاکارانہ طور پر ادویات کی کوشش کرنے والا پہلا انسانی موضوع بننے کی کوشش کی۔ میڈیکل سائنس کی تاریخ کی ایک جرات مندانہ حرکت میں ، وہ اور پروجیکٹ 523 کے دو دیگر ممبران نے خود کو ملیریا سے متاثر کیا اور اپنی نئی دوا کی پہلی خوراک وصول کی۔ یہ کام کر گیا. تاہم ، اس کی ایک کامیاب دوا کی دریافت اور اس کی اپنی زندگی کو لائن پر ڈالنے کی خواہش کے باوجود ، ٹو کو اپنی نتائج کو بیرونی دنیا کے ساتھ شیئر کرنے سے روکا گیا۔ چینی حکومت کے سخت قوانین تھے جو کسی بھی سائنسی معلومات کی اشاعت کو روکتے تھے۔ وہ بے قرار تھی۔ ٹو نے اپنی تحقیق جاری رکھی ، بالآخر دوا کی کیمیائی ساخت کو سیکھنا – ایک کمپاؤنڈ جسے سرکاری طور پر آرٹیمیسنین کہا جاتا ہے – اور دوسری اینٹی ملیریا ادویات بھی تیار کرنے جا رہا ہے۔ یہ 1978 تک نہیں تھا ، اس کے شروع ہونے کے تقریبا ایک دہائی بعد اور ویت نام جنگ ختم ہونے کے تین سال بعد ، آخر کار ٹو کا کام بیرونی دنیا کے لیے جاری کیا گیا۔ اسے سال 2000 تک انتظار کرنا پڑے گا اس سے پہلے کہ عالمی ادارہ صحت ملیریا کے خلاف دفاع کے طور پر علاج کی سفارش کرے۔ آج ، ملیریا کے مریضوں کو 1 ارب سے زیادہ بار آرٹیمیسینن علاج دیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ ٹو یویو پہلی خاتون چینی شہری ہیں جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا ، اور میڈیکل سائنس میں اہم شراکت کے لیے لاسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی چینی شخصیت ہیں۔

  • حکومت ہر محاذ پر ناکام ، تحریر:نوید شیخ

    حکومت ہر محاذ پر ناکام ، تحریر:نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔ جلسے جلوسوں، احتجاجوں اور مظاہروں سے نہ تو اسے کوئی فرق پڑتا ہے نہ حکومت ان کو اتنی اہمیت دیتی ہے ۔ کیونکہ حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔۔ اب اس صورتحال میں پی ڈی ایم دوبارہ سے احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہی ہے ۔ یہ تھوڑا سمجھ سے باہر ہے ۔

    ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ایک جانب وکلاء احتجاجی تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کی پولیس سے مڈبھیڑ شروع ہو چکی ہے۔ مہنگائی اور گورننس کی تو کیا بات کرنی ۔ اس کو چھوڑ ہی دیں ۔ یہ ہماری سیاسی اشرافیہ کامسئلہ ہی نہیں ہے ۔ پر اس سب کے باوجود حکومت کو کوئی فرق پڑتا نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ کسی سے بھی پوچھ لیں حکومت اپنے پیروں پر مضبوط کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ پر اپوزیشن جماعتوں کے جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم اپنی تحریک کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پی ٹی ایم میں دراڑ تو کافی عرصے پہلے کی پڑی ہوئی ہے ۔ س حوالے سے حکومت کو مریم نواز اور نواز شریف کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ کہ انھوں نے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا ۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر پی ڈی ایم ایسی ہی ہے جیسے کھیر میٹھاس کے بغیر ہو۔ اب آپ دیکھیں جہاں حکومت پی ڈی ایم کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے تو پیپلزپارٹی والے تو ان کی بینڈ بجاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    ۔ اب پی ڈی ایم کا حالیہ کراچی جلسہ تو کافی بڑا تھا ۔ اسلام آباد مارچ کا بھی اعلان ہوچکا ہے ۔ شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان ، نواز شریف اور دیگر نے بلند و بانگ دعوے بھی خوب کیے ہیں ۔ مگر قوم دوبار پہلے بھی ان کی احتجاجی تحریکوں اور اسلام آباد پر چڑھائی کو دیکھ چکی ہے ۔ اس لیے حکومت سے شکایتیں اپنی جگہ پر اپوزیشن کی کارکردگی بھی کوئی خاص خاطر خواہ نہیں رہی ۔ یوں پی ڈی ایم بارے یہ کہنا کہ آج بھی یہ ایک مقبول سیاسی اتحاد ہے تو مجھے اس پر کچھ خاص بھروسہ نہیں رہا ۔ ایک سیاسی تحریک کے لئے جو ایندھن چاہیے ہوتا ہے ۔ وہ اس وقت موجود ہے اور یہ خود حکمرانوں نے فراہم کیا ہے۔ پر اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں کے پاس ایک لگثرری ہوتی ہے کہ یہ جب چاہیئں یہ کہہ کر موقف بدل لیتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ۔ تو اس بار بھی ممکن ہے کہ یہ پی ڈی ایم والے سجی دیکھا کر کھبی مار جائیں اور عوام یوں ہی منہ تکتے رہ جائیں ۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ورکرز وغیرہ تو نکلیں گے ۔ خوب ہلہ گلہ بھی ہوگا ، تقریریں بھی ہوں گی ۔ میڈیا پر برینگنگ نیوز کے پھٹے بھی چلیں گے ، تجزیے بھی ہوں گے ۔ مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ حکومت جہاں کھڑی تھی وہاں ہی کھڑی رہے گی اور پانچ سال عزت کے ساتھ پورے کر گی ۔ بلکہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بن جائیں جو اپنے پانچ سال پورے کرے ۔ اس طرح کرکٹ کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی ایک نیا ریکارڈ بناتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ پراپیگنڈہ کہہ لیں ۔ میڈیا ہینڈلنگ کہہ لیں ۔ عمران خان کی حکومت اس معاملے میں کامیاب ضرور دیکھائی دیتی ہے کہ لوگوں کو اب بھی اس سے امیدیں وابستہ ہیں ۔ چاہے مہنگائی ریکارڈ توڑ رہی ہے ۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔ گورننس کی صورتحال خراب ہے ۔ پر اس سب کے باوجود ابھی تک عوام اپوزیشن کے بیانیے کو own کرتے دیکھائی نہیں دیتی ۔ الٹا سوشل میڈیا پر تو اکثر خوب تنقید کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ یوں لوگ ابھی بھی ملک لوٹنے والوں اور احتساب کے قصے پھنسے دیکھائی دیتے ہیں ۔ حالانکہ احتساب ہوتا کہیں دیکھائی نہیں دیتا ۔ اور شاید لوگوں نے یہ بھی کڑوی گولی سمجھ کر نگل لی ہے کہ جہاں تین سال عثمان بزدار اور محمود خان کے ساتھ گزارا کر لیا ہے اگلے دو سال بھی کر لیں گے ۔ کہ ایک بار اس حکومت کو پانچ سال پورے کر ہی لینے دیں ۔ پھر ان سے کارکردگی کا حساب مانگیں گے ۔ پھر ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم اپنا تمام اخلاقی جواز تب کھو بیٹھتی ہے جب نواز شریف تقریر کرنے آتے ہیں ۔ ان کی توپوں کو جو رُخ اسٹبلشمنٹ کی جانب ہوتا ہے ۔ اس سے ہر بار شہباز شریف کی جانب سے کی ہوئی محنت پر پانی تو پھر ہی جاتا ہے ۔

    دوسرا آپ لاکھ توجیہات دے دیں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ نوازشریف بیماری کا بہانہ کرکے باہر بیٹھے رہیں اور خواہش ان کی ہو کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں یا ان کی پارٹی کو حکومت مل جائے ۔ اس سوشل میڈیا کے دور میں لوگوں کو یوں بے وقوف بنانا ممکن نہیں ۔ میرے خیال میں اگر نواز شریف یوں دن دیہاڑے بیماری کا بہانہ کرکے نہ بھاگتے اور پاکستان میں ہی رہتے تو ن لیگ کی سیاست کو زیادہ فائدہ پہنچتا ۔ باہر جا کر انھوں نے ایک تو حکومت کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورننگ کریں ۔ پھر جو وہ کبھی کافی پیتے ، چل قدمی کرتے ، پیزے کھاتے ، پولو میچ دیکھتے اور کبھی نواسے کی شادی پر ہٹے کٹے دیکھائی دیتے ہیں تو پھر لوگوں نے تو سوال کرنے ہی ہیں ۔ یعنی اب نوازشریف کے پاس چاہے کہنے کو بہت کچھ ہو۔ پر لندن میں بیٹھ کر کچھ بھی کہنے کا ہر اخلاقی جواز وہ کھو چکے ہیں۔

    ایک حوالہ مریم نواز کا بھی ہے ۔ آپ دیکھیں جہاں جہاں مریم گئیں ۔ اس چیز کا بیٹرو غرق ہی ہوا ۔ چاہے ن لیگ کی اپنی حکومت ہو ۔ گلگت بلتسان ، کشمیر اور ضمنی الیکشن ہوں ۔ غرض جس جس معاملے میں مریم نواز آگے ہوئیں وہاں وہاں ن لیگ کو سبکی ہوئی ۔ دیکھا جائے تو پی ڈی ایم کا زوال بھی لاہور جلسے سے ہوا ۔ کیونکہ یہ کافی مایوس کن کارکردگی تھی ۔ لوگ بہت کم تعداد میں آئے ۔ جس کا نقصان پی ڈی ایم کی تحریک کو ہوا ۔ لوگوں نے اس وقت ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ مریم نے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ اب کی بار یہ مریم کو ہٹا کر شہباز شریف کو آگے تو لےآئیں ہیں ۔ پر لگتا نہیں ہے کہ اکیلے شہباز شریف خود کچھ کر پائیں گے ۔ کیونکہ مریم اور نواز شریف نے اپنی spoilerکا کردار ادا کرنے والی جبلت سے رکنا نہیں ۔ پر اس سب میں مولانا فضل الرحمان کی پوزیشن دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے تو سب سے اہم بیان اور حوالہ شیخ رشید کا ہی دیا جاسکتا ہے ۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں studentsکی آمد سے کسی کا کچھ بنے یا نہ بنے ۔ مولانا فضل الرحمان کو البتہ ریلیف ملتا دیکھائی دیتا ہے ۔ یقیناً ان کے قد کاٹھ میں بھی مزید اضافہ ہوا ہے ۔ جس کا فائدہ ان کو آنے والے الیکشن میں ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کچھ تو یہ کہہ بھی رہے ہیں کہ شاید 2023کے بعد کے پی کے یا بلوچستان میں سے کسی ایک صوبے میں مولانا حکومت بھی بنا لیں ۔ مگر یہ چیز ابھی قبل ازوقت ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ پی ڈی ایم کا اس وقت کوئی چانس نہیں ہے کہ وہ حکومت کوکوئی ڈینٹ ڈال سکے ۔ ہاں البتہ جنرل الیکشن میں شاید یہ کوئی نقب لگانے میں کامیاب ہوجائیں تو علیحدہ بات ہے ۔ اس لیے مجھے پی ڈی ایم کا یہ نیا ریلا حکومت گرانے سے زیادہ الیکشن تیاری لگتا ہے ۔ حکومتی محاذ پر دیکھا جائے تو وزیرِ اعظم عمران خان ،حکومتی وزیر و مشیر اورپی ٹی آئی کے حامی ،سب کے نزدیک ملک ترقی کررہا ہے اور پی ٹی آئی حکومت گذشتہ ادوار میں قائم ہونے والی حکومتوں سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے ملک چلا رہی ہے۔یہ بہت حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی ہے کیونکہ جب آپ کو ہر چیز ہی ٹھیک دیکھائی دے گی تو آپ بہتری کیا لائیں گے۔ حالانکہ کوئی عوام سے ان کے دل کا حال پوچھے تو وہ بتائیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ۔

    ۔ یوں اگر موجودہ حکومت کے اِن تین برس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ ایک جو سب سے بڑا مسئلہ اس حکومت کا رہا ہے کہ وہ یہ ہے کہ عمران خان ہر مسئلہ پر تجزیہ تو پیش کرتے رہے مگرمسئلہ کے حل کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دیے۔ پھر جن مسائل کی کی طرف بڑھنے کی کوشش بھی کی تو وہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو کر رہ گیا۔ بعض سماجی سطح پر جنم لینے والے اَلمیوں پر ایسے سخت بیانات اور ایسا ردِعمل دیا کہ خود کو فریق بنابیٹھے۔ اس کی مثال ہزارہ برادری پر ٹوٹنے والی قیامت کی دی جاسکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اِن تین سالوں میں منصوبے ضرور بنائے ہیں۔ پر ان پر عمل نہیں کرسکے۔ جیسے وزیر اعظم نے ہسپتال تعمیر کیے،سڑکیں بنائیں،پُل بنائے ،ٹرانسپورٹ کا نظام درست کیا، تعلیمی ادارے قائم کیے ،فیکٹریاں کھڑی کیں،زراعت کے شعبے کو ترقی دی ،نوجوانوں کو نوکریاں دیں،بے روزگاری کا خاتمہ کیا،غربت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بیانات کی حد تک تو ہوا ہے ۔ گراونڈ پر کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ دیکھا جائے تو حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی اپنی گیم کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ عوام سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں۔ یوں حکومت تین سال کاجشن منا چکی ہے اب اگلے دوسال مکمل کرنے پر ’’عظیم کامیابی‘‘کا جشن منایا جائے گا اور اپوزیشن اپنے رٹے جملوں کو دُہرائے گی اور سمجھے گی کہ عوام کی ترجمانی کا خوب حق ادا کیا۔

  • تمباکو نوشی لعنت ہے”  تحریر: حسیب احمد

    تمباکو نوشی لعنت ہے” تحریر: حسیب احمد

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کا استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں آئے لوگ لاکھوں لوگ اس کو خریدتے ہیں اور نوش کرتے ہیں۔ دنیا میں سگریٹ وہ واحد چیز ہے جو ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے اور لاکھوں سگریٹ روزانہ کی بنیاد پر تیار کیئے جاتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی سگریٹ پینے والے لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور اندازہ لگائیں روزانہ کی بنیاد پر کتنے لوگ خرید کرتے ہیں اور کتنا ریونیو جنریٹ ہوتا ہے سگریٹ کمپنیوں کا۔ اور ہم اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں سگریٹ نوشی کرکے۔ 

    پہپہڑوں کی بندش ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ہمیں ہی تکلیف ہوگی ناکہ ان کمپنیوں کو ان کو صرف پیسے سے مطلب ہے۔ اگر ہم لعنت سے اپنی جان چھڑا لیں تو خدا کی قسم جو یہ پیسہ ان چیزوں پر خرچ کررہے اس کو بچا سکتے ہیں اور یہ پیسہ مستقبل میں ہمیں کام ائے گا اور اگر ہم تمباکو نوشی کرتے رہے تو ایک دن اس ہماری جان جائے گی اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔

    تو آج سے ہی عزم کرلیتے ہیں ہم جتنا ہوسکے گا اس لعنت سے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں۔ اپنی نسلوں کو تحفظ دیں یا ناکہ اس تمباکو نوشی سے اپنی نسلوں کی جائیں خطرے میں ڈالیں۔

    تمباکو نوشی کو توڑنا ایک مشکل عادت ہے کیونکہ تمباکو میں بہت زیادہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین ہوتا ہے۔ ہیروئن یا دیگر نشہ آور ادویات کی طرح ، جسم اور دماغ تیزی سے سگریٹ میں نیکوٹین کی عادت ڈالتے ہیں۔ جلد ہی ، ایک شخص کو صرف نارمل محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ای سگریٹ باقاعدہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ان میں تمباکو نہیں ہوتا۔ لیکن ان میں موجود دیگر اجزاء بھی خطرناک ہیں۔ در حقیقت ، ای سگریٹ استعمال کرنے والے لوگوں میں پھیپھڑوں کو شدید نقصان اور یہاں تک کہ موت کی بھی اطلاعات ہیں۔ لہذا ماہرین صحت ان کے استعمال کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہیں۔ ہکہ پانی کے پائپ ہیں جو منہ کے ساتھ نلی کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ دھواں ٹھنڈا ہوتا ہے جب یہ پانی سے گزرتا ہے۔ لیکن کالے گنک کو دیکھو جو ایک ہکہ نلی میں بنتا ہے۔ اس میں سے کچھ صارفین کے منہ اور پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے پاس فلٹرز نہیں ہیں اور لوگ اکثر انہیں طویل عرصے تک استعمال کرتے ہیں ، ان کی صحت کے خطرات اور بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہکہ عام طور پر مشترکہ ہوتے ہیں ، لہذا پائپ کے ساتھ ساتھ جراثیم کے گرد پھیلنے کا اضافی خطرہ ہوتا ہے۔

    آج سے عہد کریں نا خود نوش کریں گے نا کسی کو کرنے دیں گے اور اپنے مستقبل کے ایک اچھا اقدام اٹھائیں گے۔

    تمباکو نوشی ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو برباد اور تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ 

    پاکستان میں ہزاروں لوگ اس کے ادی ہوجاتی ہیں. لوگ خود کو اس نشے میں اندھا کرتے ہیں اور اپنی صحت والی زندگی سے کھیلتے ہیں. پاکستان میں لوگ نشے سے ایسے لیپٹ جاتے ہیں جیسے سردیوں میں کمبل سے لوگ لیپٹ جاتے ہیں۔غیر قانونی طور پر کمپنیاں بغیر ٹیکس اس ملک میں بیچتے ہیں۔ اس سے عوام کو ان کمپنیوں کی وجہ سے بھر پور ٹیکس دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ٹیکس ریونیو جمع نا ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پھر پاکستان کے غریب سے غریب تر ہوجاتے ہیں اور فائدہ صرف یہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین بنانے والی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

    @jaanbazHaseeb 

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09 

  • یوم دفاع  اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں   تحریر: احسان الحق

    یوم دفاع اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں تحریر: احسان الحق

    پاکستانی قوم حسب روایت بڑے جوش وجذبے اور حب الوطنی کے ساتھ 6 ستمبر کو یوم دفاع منا رہی ہے. پاکستان کی تاریخ کے چند اہم ترین دنوں میں سے 6 ستمبر 1965 کا ایک دن "یوم دفاع” کا ہے جب قوت ایمانی سے سرشار اور شہادت کی تمنا لئے پاکستان کے جانباز سپاہیوں نے ہمت و شجاعت کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کرتے ہوئے اور ناقابل یقین جوانمردی کا مظاہر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دشمن کو تاریخی عبرت ناک شکست دی.

    ہندوؤں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی نئی بات نہیں، اس تعصب اور دشمنی کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ ہے. تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہندو روز اول سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صف آراء رہے ہیں. قیام پاکستان کے بعد تعصب اور دشمنی میں اضافہ ہوا، بھارت نے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی، ثقافتی، دفاعی اور سیاسی الغرض ہر لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اور کرتا آ رہا ہے. اس کی بہت ساری وجوہات ہیں. قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور ہندوؤں کی پاکستان اور اسلام دشمنی سب پر عیاں ہو چکی ہے. آج ہم اسلام اور ہندو مت کے درمیان چیدہ چیدہ تاریخی معرکوں کے بارے میں جانتے ہیں.

    تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معرکہ خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا. ہندو معاشرہ رنگ نسل، ذات پات میں بٹا ہوا تھا. امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون تھا. ہندو معاشرے میں برہمنوں اور دلتوں کے لئے الگ الگ نظام زندگی تھا. سن 14 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے فارس کو فتح کرکے اسلامی ریاست میں شامل کر لیا. اس وقت برصغیر کے متعصب ہندو حکمرانوں کو یہ بات قطعی پسند نہ آئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ایسا نظام رائج ہو جس میں عدل و انصاف ہو، جہاں مالک اور نوکر، آقا و غلام اور امیر غریب کے لئے ایک جیسا انصاف ہو، جہاں کسی امیر کو غریب پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی سبقت نہ ہو، جہاں ذات پات کی کوئی قید نہ ہو.

    چنانچہ سن 28 ہجری میں ہندوؤں نے اسلامی ریاست پر حملہ کرتے ہوئے ہرات پر قبضہ کر لیا. موجودہ ہرات اس وقت ایران میں شامل تھا. اس وقت خلیفہ ثالث امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مہلب بن صفرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی قیادت میں لشکر بھیجا. اسلامی لشکر نے برہمنوں کو شرمناک اور ذلت آمیز شکست دیکر ہرات کو واپس اسلامی ریاست میں شامل کر دیا. مگر ہندوؤں کو چین نہ آیا، وہ موقع کی تلاش میں رہتے اور وقتاً فوقتاً حملہ آور ہوتے رہتے تھے. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی خَلافت میں مکران فتح ہوا. مکران کی سرحد سندھ سے ملتی تھی جہاں ہندو راجہ داہر کی حکومت تھی.

    امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے ایک عرب سردار کو سندھ کے ساحلی علاقوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے مقرر فرمایا. خلافت راشدہ کے بعد اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کی خلافت میں عراقی گورنر حجاج بن یوسف نے سندھ کی طرف خصوصی توجہ دی. سندھ کا ہندو حکمراں راجہ داہر مسلمانوں کے لئے بہت ظالم اور جابر حکمران تھا. سری لنکا سے جانے والے مسلمان قافلے کو سندھ کے نزدیک سندھ کے بحری قزاقوں نے لوٹ کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا جن کو راجہ داہر کی سرپرستی حاصل تھی. حجاج بن یوسف کے خبردار کرنے کے باوجود راجہ داہر مغویوں اور سامان کو بازیاب کرانے میں عدم دلچسپی سے کام لیتا رہا اور عذر پیش کرتا رہا کہ بحری قزاق میرے دائرہ اختیار میں نہیں. حجاج بن یوسف نے نوعمر سپاہ سالار محمد بن قاسم کی سرپرستی میں لشکر بھیج کر راجہ داہر کو شکست فاش دیتے ہوئے سندھ فتح کر لیا.

    عہد سبکتگین میں پنجاب کے ہندو حکمراں جے پال غزنی پر حملہ آور ہوا مگر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا. تاوان کے بدلے سبکتگین نے امن معاہدہ کر لیا، بعد میں جے پال تاوان دینے سے مکر گیا. اگلے سال پشاور کے نزدیک سبکتگین نے جے پال کو شکست دی.

    سبکتگین کی وفات کے بعد محمود غزنوی نے پشاور کے نزدیک نہ صرف جے پال کو شکست دی بلکہ گرفتار کر لیا.

    جے پال کی موت کے بعد اس کا بیٹا انند پال تخت حکمرانی پر بیٹھا تو اس نے گردونواح کی ریاستوں بالخصوص دہلی، قنوج، کالنجر اور گوالیار کے حکمرانوں سے ملکر محمود غزنوی کے خلاف مشترکہ اور متحدہ حملہ کیا مگر حسب روایت اس بار بھی ہندوؤں کو شکست ہوئی.

    1021 میں انند پال کے بعد ترلوجن پال نے بھی محمود غزنوی کے خلاف جنگ کی مگر پنجاب پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا. 1025 میں محمود غزنوی نے ہندوؤں کے متبرک مندر سومنات پر حملہ کرتے ہوئے تمام بتوں کو توڑ ڈالا. بہت سارا مال غنیمت لیکر محمود غزنوی واپس غزنی روانہ ہو گئے.

    سن 1186 میں محمود غزنوی کے بعد محمد غوری نے پشاور اور لاہور فتح کر لئے. سن 1191 میں محمد غوری کو شمالی ہندوستان کے پرتھوی راج سے شکست ہوئی. بہت جلد ہی اگلے سال 1192 میں محمد غوری نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوج اکٹھی کرکے ترائن کے مقام پر پرتھوی راج کو شکست دی اور اسی جنگ میں پرتھوی راج مارا گیا. 1194 میں محمد غوری نے قنوج اور بنارس کے ہندو حکمرانوں کو شکست دی.

    علاء الدین خلجی نے 1297 میں کاٹھیاواڑ بغیر لڑے فتح کیا. جب ہندو فوج کو علاء الدین کی پیش قدمی کا پتہ چلا تو وہ بھاگ گئی. 1527 میں مغل بادشاہ بابر نے میواڑ کے راجے رانا سنگرام سنگھ کو شکست دی. رانا سانگا یا سنگرام سنگھ کو بابر نے گرفتار کر کے قتل کر دیا. پھر کبھی بھی ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابلے میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    1542 میں شیر شاہ سوری نے مالوہ فتح کیا اور 1544 میں رائے سیس کے قلعہ پر حملہ کیا. کالنجر کے قلعے کا محاصرہ کرتے ہوئے. اسکو بھی فتح کیا گیا. یہاں شیر شاہ سوری زخمی ہو گئے اور بعد میں 22 مئی 1545 کو خالق حقیقی سے جا ملے. 1576 میں بادشاہ اکبر نے ہلدی گھاٹ کے مقام پر رانا پرتاب کو شکست دی اور رانا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا. 1614 میں شہزاد خرم نے میواڑ پر حملہ کر کے امر سنگھ کو شکست دی. 1676 میں اورنگ زیب کے خلاف ہندوؤں کے ایک سادھوؤں کے فرقے نے بغاوت کر دی جس کو کچل دیا گیا.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

    آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

    قارئین نے پچھلے کچھ عرصہ میں دیکھا ہو گا کہ ہر دوسری سپیس (ٹوئیٹر پر) اسی موضوع پر ہو رہی تھی۔ اس وقت حالات حاضرہ، معاشی صورتحال، انحطاط کا شکار ہمارا معاشرہ، تربیت سے عاری نوجوان، والدین کی لاپرواہی سے رقم داستان، نوکریوں کا فقدان، کرونا کی بڑھتی گھٹتی غیر یقینی فضاء، امید و بیم میں پھنسی زندگی کی کشتی ہچکولے لیتی بڑھ تو رہی ہے لیکن ذہنی دباؤ، اور تناؤ کی صورتحال نے تقریبا” ہر شخص کو بےحال اور بدحواس کر رکھا ہے۔ صرف یہی معاملہ ہوتا تو شاید انسان وقتی طور پر صبر آزما حالات کا مقابلہ احسن طریقہ سے کر لیتا لیکن پاکستان میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، اعمال کی بداعمالیوں سے پریشان ہے، سفارش اپنے عروج پر چل رہی ہے۔ اگرچہ حکومتی اقدامات بہت کئے جا رہے ہیں، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے خود ملوث ہوں تو پرسان حال کوئی نہیں۔ ان تمام معاملات میں سونے پر سہاگہ مہنگائی کا اژدہا ہے کہ ہر شئے کو نگلنے کے درپئے محسوس ہوتا ہے۔ غریب انسان ایک جانب معاشی ابتری کا رونا ہی رو رہے ہیں کہ دوسری جانب امیر خاندانوں کے بے راہرو جوانوں نے غریب کی عزت کا جنازہ نکالنا شروع کردیا۔ آئے روز کے واقعات نے عجیب خوف کی فضاء پیدا کرکے ہر عزتدار انسان کو پریشان کر رکھا ہے۔ جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہاں محکمہ پولیس کی نااہلی اور عدالتوں کی سست روی کا شکار معاشرے کو فقط بے انصافی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہیں۔
    ان بیرونی حالات کے ساتھ ہی خاندانی نظام بھی ان عوامل کے اثرات سے بچ نہیں پا رہا۔ اثرات کم یا زیادہ ہر خاندان پر پڑتے نظر آتے ہیں۔ انفرادی طور پر قوم نظر نہیں آتی تھی تو اجتماعی طور پر نظام ناکام نظر آ رہا ہے۔ قریبی رشتوں نے بھی آنکھیں پھیرنا شروع کر دیں۔ سگے بہن بھائی کرونا کا سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، لمبے زمینی فاصلے، سماجی فاصلوں میں تبدیل ہونے لگے۔ اولاد، والدین، بہن بھائی، اقرباء اور پڑوسی، یعنی سبھی سماجی بندھنوں سے نکل کر سماجی فاصلوں کے راستوں پر گامزن ہو رہے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے، کہ سب کام بخوشی اور رضا و رغبت سرانجام پا رہا ہے۔

    اب ان حالات میں ہر پاکستانی خوشی کی تلاش میں ہے۔ بظاہر اوپر والے حالات کسی کو بھی دل کا عارضہ عطا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن کیا یہ سب ایسے ہی ہے جیسا کہ نظر آ رہا ہے؟ سوال تو اٹھتا بھی ہے اور اکثر جہلاء میڈیا پر بیٹھ کر ان حالات کو مزید بڑھا چڑھا کر اپنی روزی روٹی کمانے میں مصروف ہیں۔ رہی سہی کسر یورپی میڈیا پوری کر دیتا ہے جو آئے دن ایسے ہونے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا نظر آئیگا۔ اپنے آپ سے چند سوالات کریں۔
    ۔ کیا یہ جنسی، راہزنی، ڈکیتی، چوری، بدمعاشی وغیرہ کے واقعات پہلے نہ ہوتے تھے؟
    ۔ کیا سب واقعات "قومی سطح کی خبر” کی حیثیت سے پیش کئے جاتے تھے؟
    ۔ کیا ہمارا میڈیا اچھائیاں بھی اسی انداز سے خبروں میں اسی رفتار سے شامل کرتا ہے؟
    میرا خیال ہے کہ قارئین پر صورتحال بہت واضح ہو سکتی ہے اگر عمیق نگاہوں سے جائزہ لیا جائے۔ امید کا دامن چھوڑنا ناصرف عقلمندی نہیں بلکہ ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ کسی معاشرے کی تباہی اس کی قومی تباہی بن جاتی ہے۔ آئیے دو سطحوں پر الگ الگ بات کریں۔

    قومی سطح۔

    ہر پاکستانی کو چاہئیے کہ اپنے آپکو کسی بھی سیاسی پارٹی کا مستقل رکن یا سپورٹر نہ سمجھے۔ کسی بھی پارٹی کی سپورٹ فقط الیکشن تک محدود کر دیں۔ الیکشن کے بعد پوری قوم غیرجانبدار بن جائے۔ حکومت کا ساتھ ہر شخص غیر مشروط طور پر دے۔ لیکن ہر غلط کام پر سب ایک ہو کر آواز بلند کریں۔ سختی سے روکنے کی کوشش کریں۔ تصحیح کریں۔ درستگی کا عمل شروع کرائیں۔ ہر برائی کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔ رشوت لینے والوں کو بےنقاب کریں۔ سفارش کرانے والوں کے نقاب نوچ لیں۔ برائی سے نفرت کو عروج پر پہنچا دیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد اگلے الیکشن تک کسی سیاسی کال پر کان مت دھریں۔ یوں رفتہ رفتہ قائدین کی فہرست سے نااہل لوگ نکلتے رہیں گے۔ یاد رکھیں یہ ہم سب کا ووٹ ہے جو ایک عام آدمی کو کندھا دیکر ایوان اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ تو آئیے اسی ووٹ کے ذریعے ایسے قائدین کو جو بداعمال ہوں، بدکردار ہوں یا نااہل ہوں، کندھا دیکر ہمیشہ کیلئے سیاسی قبرستان میں دفن کر دیں۔

    محدود اور خاندانی سطح۔
    اپنے اردگرد نگاہ رکھیں۔ کسی برائی پر آنکھ بند کرنا چھوڑ دیں۔ خود سے گریبان پکڑنے کی عادت ڈالیں۔ لیکن یہ سب تبہی ممکن ہے جب خود صاحب کردار ہونگے۔ اچھے برے کی تمیز رکھتے ہونگے۔ رشتوں کا تقدس اور خاندان کی اہمیت سے آگاہ ہونگے۔ یہ صبر آزما طویل راہ ہے اور مسافر کی قوت برداشت کا کڑا امتحان بھی ہے۔ حالات مقابلہ کرنے سے درست ہوتے ہیں ناکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے خود بخود سدھرنے والے ہیں۔ ہر کام حکومت کے کرنے کا نہیں ہوتا۔ عوام کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ اپنے سے درستگی کا عمل شروع کرنے والے لوگ جلد ایسے حالات پر قابو پا سکتے ہیں۔ آخر بے راہرو لوگ کسی خاندان سے ہی تو ہیں، ہم سب سے ہی تو جڑے ہیں تو پھر صاحبان کردار کیوں بدکردار کی شامت بن کر سامنے نہیں آ سکتے؟
    میری چند تجاویز آخر میں ہر فرد کیلئے عرضی ہیں۔
    1۔ اپنے بچونکو درست و صحیح کی پہچان دیں۔
    2۔ اپنے بچونکو معاشرے پر بوجھ مت بنائیں بلکہ ہنرمند بنا کر معاشرے کیلئے رحمت بنا دیں۔
    3۔ اپنے گھروں میں بچونکو صاحبان کردار بنائیں۔
    4۔ یاد رکھیں کہ پریوں کی کہانیاں، یورپ کی تاریخ، فکشن وغیرہ سے زیادہ سبق آموز، جاندار اور کردار ساز کہانیاں اسلام کی تاریخ میں ہیں۔
    5۔ قرآنی تعلیمات کو فقط فرض ہی مت سمجھیں بلکہ انسان کی فطرتی ضرورت مان کر بچونکو کو سکھائیں۔
    6۔ رشتوں کا پاس، پڑوسی کے حقوق، اقرباء کے حقوق، عزت و احترام کے اسباق، استاد کے مقام کا تعین، کام پر اسلام کے قوانین کا اطلاق، زندگی میں شریعت کی اہمیت۔۔۔ سب ہی چھوٹی عمر میں بچونکی تعلیم کا نصاب ہونا لازم ہے جو والدین کی اولین ترجیحات میں ہونا لازم ہے۔
    7۔ انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت کی طرف رغبت دیں۔

    حکومتی سطح پر بھی بہت سے کام ہونے والے ہیں جو بنیاد کو درست سمت دے سکتے ہیں۔ کسی زمانہ میں ہماری دینیات میں مضامین میں اہل بیت ع اور اصحاب رض کی کہانیاں اور اہم واقعات شامل تھے جنہیں رفتہ رفتہ نکال دیا گیا۔ ان سب کی موجودگی میں معاشرہ اتنا متشدد اور پریشانی سے دوچار نہ تھا اور ناہی منفی سوچ نظر آتی تھی۔ بہتر ہے کہ حکومت اس پر خاص توجہ دے اور نصاب کو بہتر انداز میں تشکیل دے تاکہ معاشرے کی تعمیر نو ہو سکے۔
    اگر ہم سب ایک مقصد زندگی میں بنا لیں تو انفرادی طور پر اس کے حصول میں کوشاں ہو جاتے ہیں اور ذہن میں منفی رجحانات ختم ہو جاتے ہیں۔
    یاد رہے خوشی کا تعلق ہی مثبت سوچ سے جڑا ہے۔ جس دن ذہن سے منفی سوچ کا خارج کرکے مثبت سوچ کو لے آئے، یہی معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

    ٣١ اگست ٢٠٢١ء

  • نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

    :
    نشہ کیا ہے یہ سوال ذہن میں آتا ہے جواب نشہ موت ہے جو آپکی زندگی کو آہستہ آہستہ سے کھوکھلا کرتا جاتا ہے نشے کی اقسام کون کون سی ہیں یہ جانیے
    افیون گانجا ہیروئن شراب آئیس پٹرول پالش ثمر بوند پوڈر اور انجیکشن نشہ کرنے والا شخص کسی کا نہیں ہوتا آخر میں وہ اپنے ماں باپ کو بھی بیچنا چاہے گا آپ سوچتے ہیں نہ نشہ کرنے میں کچھ نہیں ہوگا میں بتاتی جاؤں کہ
    آخر میں آپکے اپنے آپکے ماں باپ بلکے آپکی اپنی اولاد تک آپکا ساتھ چھوڑ جاتی ہے یہ اتنی بری علامت ہےاس شخص کی نہ اللّٰہ کے سامنے کوئی قدر رہتی نہ ہی دنیا میں کوئی عزت کرتا ہے یہ بات میں قسم کھا کر بھی کہ سکتی ہوں میں آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتی ہوں میری دوست بہت ہی اچھے گھرانے سے تعلق ہے ہمارے ساتھ کالج میں پڑتی تھی ہمارے کالج میں نشہ وار چیزوں کا عام استعمال ہوتا ایک دن ایک ایسی لڑکی سے اسکی دوستی ہوئی جو نشہ وار چیزیں بہت کرتی تھی کالج میں ٹیچرز کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی نہ وہ دیکھتے جا کے کیا ہو رہا ہے میری دوست نے انجکشن لگوا لیا وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتی دوسرے دن پھر لگوا لیا مجھے پتا نہیں تھا ایسے گم سم رہنے لگی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتی تھی یہ سلسلہ 1 مہینہ چلتا رہا اچانک سے اسکی شادی ہو گئی میرا ربطہ ہوا تو اس نے مجھے بتایا سب کچھ میں کافی پریشان ہو گئی سوچا اسکے گھر والوں کو بتاؤ پر اس نے مناہ کر دیا بہت ہی مشکل ٹائم تھا اس کیلئے اسے نشہ بلکل نہیں مل رہا تھا وہ نشے کی اتنی عادی ہو چکی تھی 1 دن نہیں ملتا تو سکا جسم ٹوٹتا تھا غصے سے چختی تھی چلاتی تھی بستر پر ہو جاتی تھی سسرل والے کافی سخت تھے انکو نہیں بتا تھا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے نہ وہ گھر سنبھال سکتی تھی نہ کی سسرال والوں کی پروا تھی خود کو بھی بھول گئی فقیروں جیسی حالت ہوگئی کوئی دوا اثر نہیں کرتی اس نے اپنے سسرال والوں کو مجبور ہو کر بتایا میں نشہ کرتی ہوں انجکشن لگاتی ہوں خود کو تبھی چل پاتی ہوئی اگر انجکشن نہ ملے تو مجھے دنیا کا ہوش نہیں رہتا جیسے ہی شوہر نے سانس فارن طلاق ہوگئی آج وہ کہاں کچھ پتا نہیں بہت سمجھایا گھر والوں نے پھر انھوں نے بھی آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ دیا نہیں جانتی وہ کہاں ہے کس حال میں نشہ کی روک تھام کیلئے ہماری گورنمنٹ کو جلد از جلد ایکشن لینا ہوگا پاکستان میں نشہ کا استعمال بہت ہی عام ہوتا جارہا ہے اسکی وجہ گورنمنٹ کی نااہلی ہے کچھ شہروں میں عام میڈیکل سٹور زیادہ سیل نہیں ہو رہا پر ایسا ہو بھی رہا ہے عمران خان کے اپنے آبائی شہر میانوالی میں بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر نشہ بیچا جارہا ہے یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے ہماری آنے والی نشہ میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور قریب دس سے اٹھارہ سال تک کے بچے جو چائلڈ لیبر ہیں وہ عام سوسائٹی کی نسبت اس کا زیادہ شکار ہیں
    جبکہ کالج لیول اور یونیورسٹی لیول اور عام سوسائٹی میں شراب چرس آئیس اور انجیکشن وغیرہ کے نشے زیادہ مقبول ہیں نشے کی فراہمی بہت عام ہوتی جارہی ہے مجھے افسوس ہے اور یہ اندرونے اور بیرون ملک عام سے ماحول میں باآسانی سمگل ہو رہے ہیں ان سب میں اہم بات یہ کہ ان تمام نشہ آور نشوں میں جب عام نشوائی تک ترسیل ہوتی ہے تو کوئی بھی نشہ حالص حالت میں نہیں آتا بلکہ مختلف چیزوں کی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھا کر مزید خطرناک کیا
    جاتا ہے ۔۔۔!!!

    @Miss__niazi

  • فضائلِ اہل بیت تحریر : واجد خان

    جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں ، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس گھرانے کے افراد کا مرتبہ بھی کائنات سے بڑھ کر ہے ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ،
    ” اے ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ) گھر والو ! اللّٰہ تعالٰی یہی چاہتا ہے کہ تم سے ( ہر طرح کی ) آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک صاف کر دے ۔
    ( سورتہ الاحزاب آیت نمبر 33)
    اس آیت مبارکہ کی تفسیر لکھتے ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے مراد بالخصوص آپ کی ازواجِ مطہرات، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت فاطمتہ الزہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور آپ تمام کی اولاد مراد ہے ، ان میں سے کسی کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا، ورنہ اہل بیت کا مفہوم پورا نہیں ہو گا ۔۔۔
    یہ وہ اہل بیت ہیں جن کی محبت میں جینا عبادت اور مرنا شہادت ہے ، جن کا احترام، تعظیم و تکریم اور محبت شعائر ایمان ہے ۔
    جن کی عزت و شان یہ ہے کہ تمام مسلمان ہر نماز میں ان پر درود و سلام کا نذرانہ بھیجتے ہیں۔
    جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بزم عالم میں تشریف لائے اور آپ نے اپنی امت کو توحید باری تعالیٰ ، اپنی نبوت و رسالت ، جنت و دوزخ ، حساب و کتاب اور عذاب وثواب کے علاؤہ ان کو دعوت اسلام دی ، پتھر کے پجاریوں کو ایک خدا کا پرستار بنایا ، کفروشرک کے سمندر میں ڈوبنے والوں کو ایمان کی دولت عطا کر کے کنارے لگایا تو اللّٰہ کی طرف سے حکم ہوا ،
    "اے محبوب ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ اس دعوت دین اور اس کی تبلیغ واشاعت اور تم کو دولتِ ایمان عطا کرنے کے صلے میں تم سے کوئی مال و دولت طلب نہیں کرتا البتہ میں تمہیں کلمہ طیبہ پڑھانے کا صلہ تم لوگوں سے یہ مانگتا ہوں کہ میرے اہل
    بیت اور قرابت داروں سے محبت کرو "۔
    ( سورتہ الشوریٰ : آیت نمبر 23 )
    اس آیت مقدسہ میں اللّٰہ تعالٰی نے اپنے پیارے محبوب سے یہ اعلان کروا دیا کہ میرے محبوب کے قرابت داروں سے محبت کرو ، پتہ چلا کہ جس نے اہل بیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے محبت نہ کی اس نے اپنے نبی کا حق ادا نہیں کیا ہے ۔۔۔
    حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ آپ کے قریبی کون لوگ ہیں جن سے محبت کرنا ہم پہ واجب ہے "؟
    حضور پاک نے ارشاد فرمایا، ” علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے یعنی حسن و حسین علیہم السلام ہیں ۔۔۔
    اللّٰہ پاک نے قرآن پاک کی ایک اور آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ؛ بے شک تمہارا حاکم اللّٰہ ہے ؛ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں ۔”
    تمام مسلمان اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے نماز کی حالت میں ایک سائل کو انگوٹھی عطا فرمائی تھی ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ،
    ” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ” ۔
    حضرت فاطمتہ الزہرا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی تھیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بے حد محبت تھی، جن کے بارے میں حضور کا ارشاد ہے، ” فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے”۔
    حضرت فاطمہ جب آپ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی چومتے اور اپنی نشست گاہ سے ہٹ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے ۔ جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ کے پاس جاتے اور سفر سے واپس آتے تو جو شخص سب سے پہلے خدمت میں حاضر ہوتا ، وہ
    بھی حضرت فاطمہ ہی ہوتیں، آپ کی فضیلت کا اندازہ اس بات ہی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، ” فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی "۔۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہاں کے سردار ہیں آپ نے حسنین کریمین کو جنت کے نوجوانوں کا سردار قرار دیا ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ” بے شک حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں ”
    حسنین و کریمین سے بغض رکھنا حضور سے بغض رکھنے کے مترادف ہے ۔ حضرت سلمان فارسی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
    ” حسن و حسین دونوں میرے بیٹے ہیں اور جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا اس نے اللّٰہ تعالٰی کو محبوب رکھا اور جس نے ان دونوں کے ساتھ بعض و کینہ رکھا اس نے اللّٰہ سے بغض رکھا ، اللّٰہ تعالٰی نے اس کو جہنم میں داخل فرمایا "۔۔۔۔
    حضرت امام حسن و حسین دونوں حضور نبی کریم کے ساتھ باطنی مشابہت کے آئینہ دار تھے ۔ اس امر کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین کو محبوب رکھتا ہے اللّٰہ تعالٰی بھی اس کو محبوب رکھتا ہے۔”
    اہل بیت کی محبت دنیا و آخرت دونوں میں بھلائی کا ذریعہ ہے ، اللّٰہ ہمیں اہل بیت سے محبت کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔
    ( آمین )
    ‎@Waji_12

  • ایشیا- اگلا ورلڈ لیڈر  تحریر : شفقت مسعود عارف

    ایشیا- اگلا ورلڈ لیڈر تحریر : شفقت مسعود عارف

    دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وقت کی ایک سپر پاور برطانیہ کا زوال اور دو نئی سپر پاورز کا عروج بیک وقت شروع ہوا امریکہ اور روس
    دونوں طاقتیں ایک دوسرے سے براہ راست تصادم سے گریزاں تھیں اور ایک نئی طرز کی سرد جنگ کا آغاز ہوا دونوں کا میدان جنگ دوسرے ممالک تھے جہاں دونوں اپنی گرفت مضبوط بنانے اور اپنے اپنے بلاک کو وسیع کرنے کیلئے کوشاں رہیں اس دوران ایک ایسا دور آیا جب براہ راست ٹکر نہ ہونے کے باوجود روس کی دہشت امریکہ کی جارحیت سے زیادہ تھی لیکن جب زوال کا وقت آیا تو سب سے پہلے روس کے ٹکڑے ہوئے
    روس کے بعد امریکہ اسی سرزمین پر بھرپور فوجی طاقت سے اترا جہاں جنگ آزمائی کی غلطی روس کے ٹکڑے ہونے کا باعث بنی تھی اور اس سے بھی پہلے برطانیہ نے وہاں ایک تلخ سبق سیکھا تھا اس دور کی واحد عالمی فوجی قوت امریکہ بھی 20 برس بعد اپنی معیشت پر ناقابل بیان دباو اور میدان میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا نہ کر پایا اور بالآخر اسطرح وہاں سے نکلا جیسے کوئی سویا ہوا اس وقت ہڑبھڑا کر اٹھ بھاگتا ہے جب اسے پتہ چلے کہ اس کے کمبل میں سانپ گھس آیا ہے
    یہ سارا منظر نامہ اس وقت تشکیل پا رہا ہے جب ایشیا سے اگلی سپر پاور چین کا ظہور ہو رہا ہے چین نے نہ صرف امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک پر اپنی الگ ہی طرز کی معاشی گرفت مضبوط کی ہے بلکہ اپنی فوجی طاقت میں بھی بے پناہ اضافہ کے ہے
    سپر پاور بننے کیلئے بس ایک کمی تھی دوسرے ممالک تک آسان رسائی۔ جسے اس نے سی بیک کے ذریعے ممکن بنایا ہے
    چین کا کوئی قریبی مدمقابل تھا تو وہ تھا بھارت جو آبادی اور فوجی شماریات میں اس کے قریب تر تھا لیکن بھارت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک بند ملک ہے جس کے پاس دوسرے ممالک تک رسائی آسان نہیں
    بھارت کی زمینی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں جن سے اس کی دشمنی ہے
    نیپال اور بھوٹان کا مشکل جغرافیہ اس کیلئے کسی کام کا نہیں
    سری لنکا میں دس سال دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کے بعد وہاں سے کسی مثبت بات کی توقع نہیں رکھ سکتا بنگلہ دیش سے بھی بھارت کو کوئی خاص مدد نہیں مل سکتی
    اسلئے سپر پاور بننے میں بھارت کا راستہ باقی عوامل سے پہلے اس کے جغرافیہ نے روک دیا ہے
    چین کے علاوہ ایشیا میں ایک اور قوت بھی ہے حالات اور جغرافیہ جس کے حق میں خود بخود راہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں وہ ہے پاکستان
    ایک طرف وسط ایشیائی ریاستوں اور دوسری طرف مشرق وسطی تک براہ راست آسان رسائی کے علاوہ افغانستان کے معاملات میں ہمیشہ سے مثبت کردار اور افغانوں سے تعلقات پاکستان کیلئے بہت اہم ثابت ہونگے دوسری طرف اسلامی دنیا میں امیر ترین ممالک بھی قیادت کیلئے اور مشکل میں مدد کیلئے پاکستان کی طرف دیکھنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں
    پاکستان کیلئے صرف ایک مشکل ہے وہ ہے معاشی مسائل لیکن بدلتے حالات میں واضح ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے جغرافیائی حالات اور عالمی حقائق کے مطابق اپنی پوزیشن اور اہمیت کا صحیح ادراک اور استعمال کیا تو وہ بہت جلد ان مسائل سے چھٹکارا پا لے گا
    امریکہ کی سکڑتی معیشت اور عالمی معاملات میں بڑھتی مخالفت اسے بہت جلد زوال پذیر کر دیگی ایسے میں اگلی عالمی فوت بلاشبہ چین ہو گی لیکن چین کو اس سٹیٹس کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کے ساتھ کی ہمیشہ ضرورت رہے گی اور پاکستان کے کردار کی آئندہ عالمی سیاست میں اہمیت مسلسل بڑھتی چلی جائیگی ایک سیمی سپر پاور کی طرح جیسے اس وقت برطانیہ اور فرانس ہیں
    چین ہو یا پاکستان
    یا چین اور پاکستان کا اتحاد
    آئندہ سالوں میں ایشیا ہر حال میں عالمی معاملات کی قیادت کرتا نظر آئےگا

    Twitter handle
    @ShafqatChMM