Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    چھوٹے ہوتے ہوئے بزرگوں سے یہی کہانیاں سنتے آئے ہیں کہ ہمارے دور میں ہم عورتیں اور مرد بڑے بڑے ہو کر بھی اکٹھے کھیلتے ہوتے تھے، کسی کے ذہن میں بے حیائی کا نام تک نہیں آتا تھا۔ وہ اچھے وقت ہوا کرتے تھے، آنکھوں کا نہیں دل کا پردہ ہوتا تھا۔ زنا اور زیادتی کے وقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر آج کل کی جنریشن پتا نہیں کیا کھا کے پیدا ہوئی ہے کہ سنبھالی ہی نہیں جا رہی۔ کوئی شرم و حیا نہیں رہ گئی کوئی ادب اور سلیقہ نہیں ہے۔
    یہ وہ باتیں ہیں جو آج بھی پرانے بابے بزرگ ہمیں فخر سے سناتے ہیں لیکن وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی سچائی کو سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے زمانے میں گھر کے سربراہ کا اتنا دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی موجودگی میں اس کے خوف سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فیصلہ حکم آخر تصور ہوتا تھا جس کے خلاف نہیں جایا جا سکتا تھا۔ اس وقت گھر گھر میں یہ ٹی وی اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے فتنے نہیں آئے تھے۔ بیٹیاں کتابوں کے اندر اپنے آشناؤں کی تصاویر نہیں چھپایا کرتی تھیں۔ کتاب کے اندر جاسوسی اور رومانی ناول نہیں رکھ کے پڑھے جاتے تھے۔ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے مرد بازار سے ساری شاپنگز کر کے لے آتے تھے اور وہ سارا سامان خواتین کا پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔ خواتین بلا وجہ گھر سے باہر نکلا عیب سمجھا کرتی تھیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں دروازے پہ ہونے والی دستک کا جواب تک نہیں دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بہترین عمل جو اس وقت کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں بچوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں۔
    موجودہ دور اس دور سے بالکل مختلف ہے۔ بچوں کو سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جانے لگا ہے کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں، آپ کا استاد آپ کو ڈانٹے تو پولیس میں رپورٹ کر کے اسے گرفتار کروا دیں۔ اگر باپ اصلاح کے لئے ڈانٹ دے تو اسے بھی اندر کروا دیں۔ مرد و زن کا اختلاط روشن خیالی تصور ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نہ خرید کر دینے پہ نوجوان اولادیں والدین کو خود کشی کی دھمکیاں دینے لگی ہیں پھر بچے بچیاں موبائلوں پہ کیا کر رہے ہیں والدین کو پوچھنے تک کا اختیار نہیں۔ اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کیمپسز میں ایک دوسرے کو پروپوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاسٹلز میں گناہ ہوتے پائے جاتے ہیں۔ گناہ اس حد تک معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے کہ معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا۔
    بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والی اولادیں قرآن و حدیث کو، جو ان کے لئے اور ہم سب کے لئے مشعل راہ اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، اپنی آزادی کا دشمن تصور کر کے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب انہیں قرآن کی کوئی آیت سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی باتیں، ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں تو اس کے مطابق چلیں گے۔ ذرا سوچیئے! جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن سناتے تھے تو کیا وہ بھی یہی بات نہیں کہتے تھے کہ یہ قرآن تو صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں؟
    اس سب سے بڑھ کر جو لوگ کہتے ہیں پردہ دل کا ہونا چاہیئے تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا ان کے دل ازواج مطہرات اور صحابیات ؓ سے زیادہ پاک تھے؟ پھر اللہ نے کیوں نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کرام کی بیویوں کو پردہ کروایا جائے؟ کیوں صحابیات کو اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جازت بھی نہیں دی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ جب مرد اور عورت کہیں اکیلے ہوتے ہیں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے؟ کیوں کہا کہ قیامت کے قریب آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے؟
    اگر پردہ صرف دل کا ہی ہے تو ایک نابینا صحابی (ابن ام مکتوم ؓ ) کے آنے پر نبی ﷺ نے وہاں بیٹھی خواتین کو پردہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟
    راستوں پہ بیٹھنے والے صحابہ کرام ؓ کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا۔

    اس ساری بحث کا مدعا یہ ہے کہ یا تو آپ خود کو مسلمان کہلواتے ہوئے قرآن و سنت پہ بنا کسی شد و مد کے عمل کریں یا پھر مسلمان ہونے کا دعوٰی چھوڑ کر جو دل میں آتا ہے کرتے پھریں۔

    @Being_Faani

  • ماں نے سلا دیا ہے تھپک کے لال کو تحریر محمد وقاص شریف

    ماں نے سلا دیا ہے تھپک کے لال کو تحریر محمد وقاص شریف

    اعتزاز حسن نے اپنی ایک نظم میں ریاست کو ”ماں“کا درجہ دیکر ہر خاص و عام کو ایک امید کی کرن دلائی اور عوام میں یہ شعور جگایا کہ ریاست کا اصل کردار اپنے عوام کو ماں جیسی توجہ دینا ہوتا ہے،ایک ماں کا کردار ایسا مثالی کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ستر ماؤں جیسا پیار دینے والا قرار دیا ہے۔ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہ پاکستان کم اور مسائلستان زیادہ ہے۔”ایک ماں کا تصور لے کر ملک کا حکمران بننے والا خود بچہ بن جاتا“ الٹا ملک کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اُس بچے کو سہارا دے۔پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے اور ترقی یافتہ بننے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہا ہے۔یہاں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے،ملک کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔حق یہ بنتا ہے کہ اس ملک کی پالیسی میں غریب اور غربت پہلے نمبر پر ہو لیکن یہاں عوام پر پیسہ لگانے کا رجحان نہایت کم ہے۔ریاست مدینہ میں انڈر پاس، اوورہیڈبرج،فلائی اوور،میٹرو اونج ٹرین اور موٹر وے کا تصور تک نہیں۔نبی اکرمﷺ نے اپنی ساری توجہ لوگوں پر دی، اپنے اعلیٰ اخلا ق سے لوگوں کے دل جیتے۔مدد کیلئے آنے والے شخص کو پیسے نہیں دیئے کلہاڑا دیا اور بازار کی راہ دکھائی۔لوگوں پر سرمایہ کاری کی۔انتہائی محدود ذرائع کے باوجود وہ ریاست مدینہ قائم کردی جس کے خواب آج کے حکمران بھی دیکھ رہے ہیں۔ڈیڑھ سال ختم ہونے کو ہے،ریاست مدینہ کے علاوہ ہر وہ کام ہورہا ہے جس کی مخالفت 22سال تک کی جاتی رہی۔عمران خان کی یہ بدقسمتی ہے کہ جن امور کی وہ ساری زندگی مخالفت اور تنقید کرتے رہے،حالات ان سے وہ سارے کے سارے کام کروا رہے ہیں جس کی وجہ سے PTIکا ورکر،سپورٹر اور ووٹر شرمندہ شرمندہ دکھائی دیتا ہے اور اُس کی اڑان اب جواب دیتی جارہی ہے۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو غریب کو اپنے مسائل کا حل درکار ہوتا ہے جو حکومت اسے روٹی، کپڑا،مکان،صحت، تعلیم کاتھوڑا سا بھی حصہ دے دے وہ حکومت عوامی ہوجاتی ہے۔بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا اور اس پر 10%بھی عمل درآمد نہ ہوسکا لیکن جتنا قلیل عمل ہوگیا اس نے بھٹو کو نہ صرف یہ عوامی لیڈر بنا دیا بلکہ وہ ساری زندگی کے لئے”امر“ ہوگئے۔آج بھی ان کا نام بیچا جارہا ہے اور شائد اگلے 20سال تک بھی بھٹو زندہ رہے گا۔وہ دن کسی بھی پاکستانی حکومت کے لئے کامیابی اور کامرانی کا پہلا د ن ہو گا جس دن عوام پر پیسہ لگانے کا عملی کام شروع ہوگا۔ چائنا نے اپنی قوم پر پیسہ لگایا،غربت ختم ہوگئی وہاں کے لوگوں نے اس عمل کاReturnدینا شروع کیا،عمل کا ردعمل سامنے آیا اور چائنا دنیا کا دوسرا بڑا کامیاب ملک بن گیا۔آج امریکہ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں کیونکہ اگلے دس سالوں تک امریکہ کی چودھراہٹ چین کے ہاتھوں ختم ہونے جارہی ہے۔یہ ساری کامیابی غربت کے خاتمے اور عوام پر سرمایہ کاری کی مرہوں منت تھی۔کیا پاکستان میں ایسا ممکن نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ ہاں ایسا ممکن ہے کیونکہ پچھلی حکومتوں نے انفراسٹرکچر پر اتنا کام کردیا ہے کہ اب مزید پیچھے صرف عوام ہی رہ گئے ہیں،اگر اینٹ گارے سے حکومتیں کامیاب ہوتیں تو مسلم لیگ نواز کا حق بنتا تھا کہ انہیں اگلے 20سال بھی ملتے۔یہ ایک مثال ہے جو عمران حکومت کیلئے سبق ہونی چاہئے۔بدقسمتی سے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود حکومت میں سب کچھ ہے لیکن عوام نہیں۔تاریخ پہ تاریخ ڈالی جاری ہے اور مہلت پہ مہلت مانگی جارہی ہے لیکن یاد رہے دنیا کی تاریخ میں عوام اقتدار تو دے دیتے ہیں لیکن مہلت نہیں دیتے،کارکردگی نہ دکھانے والے ماضی کا قصہ بنا دیئے جاتے ہیں۔عمران خان کو بھی اقتدار دے دیا گیا ہے۔Deliverنہ کیا گیا تو مہلت ان کو بھی نہیں ملے گی کیونکہ عوام کو ریلیف درکار ہوتا ہے، حکومت چاہے نمرود کی ہی کیوں نہ ہو
    @joinwsharif7

  • اصل مجرم کون؟  تحریر: احسان الحق

    اصل مجرم کون؟ تحریر: احسان الحق

    رواں ہفتے لاہور میں دو دلخراش اور انتہائی افسوس ناک واقعات پیش آئے. دونوں واقعات نے تمام پاکستانیوں کو غمگین کر دیا بالخصوص مینار پاکستان والے واقعے نے تو جہاں پاکستانیوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا وہیں کچھ اسلام اور پاکستان مخالف لوگوں نے بھی اس واقعے اور موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی. مینار پاکستان والے واقعے میں دونوں فریقین کی غلطی ہو سکتی ہے مگر دوسرے رکشے والے واقعہ میں ایک بدقماش اور آوارہ لڑکوں کے جھنڈ کی سراسر غلطی تھی. ان دونوں واقعات سمیت ملک بھر میں پیش آنے والے تمام واقعات میں ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے والدین کی طرف سے اولاد کی تربیت کا فقدان.

    ویسے تو ہر جرم کے ہر مرتکب شخص کی شرعی اور اخلاقی تربیت کا فقدان ہوتا ہے مگر ایسے تمام واقعات بالخصوص جن میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور نازیبا حرکات کی جاتی ہیں ان میں لازمی طور پر تعلیم و تربیت کا فقدان ہوتا ہے. صبح سے شام تک سخت گرمی اور سردی میں رزق حلال کما کر یا یکم سے 30 تک پورا مہنیہ کام کرکے اپنے بچوں کو کھانا کھلا دینا، اسے والدین اپنی ذمہ داری کی تکمیل مت سمجھیں. اپنی اولاد کو کھانا کھلانے اور جائز ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری تو ایک خاص عمر اور خاص حالت تک عائد ہوتی ہے مگر تربیت کے لئے تو والدین اور بچے کی ساری عمر ناکافی ہے اور لازمی ہے.
    اسلام نے والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کے لئے پابند بناتے ہوئے وسیع اختیارات بھی دے رکھے ہیں. نماز کی پابندی اور شرعی تربیت کے لئے والدین کو اسلام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بچے کو سمجھاؤ، نہ سمجھے تو ڈانٹ ڈپٹ کرو، پھر نہ سمجھے تو ہاتھ اٹھا سکتے ہو اگر پھر بھی باز نہ آئے تو گھر سے نکال کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جائیداد سے عاق کرکے لاتعلقی کا اعلان کر سکتے ہو.

    ارشاد ربانی کے مطابق "بہترین عزت والا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو”، انسانیت کے حوالے سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کے مطابق
    "تم میں سے بہترین مومن وہ ہے جس کے ہاتھ، کان اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو” اسی طرح ایک اور جگہ رسولﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
    "بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے”. ان تمام احکامات کو جنسی ہراسگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو بات سمجھ آ جاتی ہے کہ برائی کی وجہ کیا ہے. جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوگا ان میں عورت پردے اور چادر کا خیال کرتے ہوئے باحیا ہو گی اور اسی طرح مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر چلے گا اور ہر عورت کو عزت دے گا. مسلمان اپنے قول و فعل سے کسی کو تکلیف پہنچانے سے باز رہیں گے.

    جرم کی سب سے بڑی وجہ والدین ہیں اور مجرمین سے زیادہ مجرم والدین ہیں. جو اپنی اولاد کی تربیت نہیں کرتے. اگر تمام والدین اسلامیات اور اخلاقیات کی روشنی میں اپنی اولاد کی تربیت کرنا شروع کر دیں تو معاشرے سے جرم مکمل طور پر ختم ہو جائے. خواتین کے متعلقہ تمام واقعات میں والدین کی تربیت کہیں نظر نہیں آتی. آج کل کے دور میں والدین اپنے بچوں کو وقت نہیں دیتے کیوں کو وہ تربیت کو اہم نہیں سمجھتے. اپنی اولاد کی شرعی اور اخلاقی تربیت کرنا والدین پر فرض ہے. بدقسمتی سے والدین اسلام سے دور ہیں، والدین کی اولاد کے متعلق ترجیحات اور اہداف نہ غیر ضروری ہیں بلکہ بعض اوقات اسلام اور اخلاقیات کے بھی متصادم ہوتے ہیں. بہت سارے والدین اپنی اولاد کے لئے گلوکاری، اداکاری، سوشل میڈیا پر فالورز اور ریٹنگ لینے کے لئے محنت اور دعا کرتے نظر آتے ہیں.

    مینار پاکستان واقعہ، نور مقدم واقعہ، اسلام آباد عثمان مرزا واقعہ، یہ ایسے واقعات ہیں جن میں دونوں فریقین اور ان کے والدین برابر کے مجرم ہیں. والدین کی تربیت میں ناکامی یا عدم دلچسپی پاکستان اور اسلام کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے. نور مقدم کے والدین اور قاتل ظاہر جعفر کے والدین نے نہ صرف اپنی اولادوں کی تربیت کرنے میں ناکام رہے بلکہ ان کے درمیان ناجائز تعلقات پر بھی راضی رہے. اسی طرح مینار پاکستان والے معاملے میں لڑکی عائشہ کے والدین بخوبی جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کیا کر رہی ہے اور ریمبو کون ہے اور ان دونوں کے درمیان کیا تعلقات ہیں.
    والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی شرعی اور اخلاقی تربیت کریں. اگر ان کی اولاد میں سے کوئی بھی غلطی کرے اسکو سزا دیں، پولیس اور اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بیٹے، بیٹی یا بہن بھائی کو قانون کے حوالے کریں. اچھی تربیت کے بعد صرف سزا ہی ہے جس کے ذریعے معاشرے کو سدھارا جا سکتا ہے.
    اولاد کی اچھی تربیت کئیے بغیر اور مجرم کو قرار واقعی سزا دئیے بغیر جرم کو ختم کرنا تو دور کی بات، کم بھی نہیں کیا جا سکتا. اچھی تربیت اور سزا کے ذریعے ہی جرم ختم کیا جا سکتا ہے.

    دوسرے نمبر پر ان جرائم کی ذمہ دار ریاست اور متعلقہ ادارے بھی ہیں. سزا جزا کا عمل ناپید ہو چکا ہے. اگر کوئی سنگین جرم میں اقبال جرم کر لے تو چند ہزار کے بدلے عدالت ضمانت پر رہا کر دیتی ہے. جس سے مجرم سزا اور قید سے بچ جاتا ہے. میں آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا مطلب کیا ہے. اسلام میں سزا اور جزا ہے، اسلام میں معافی بھی ہے اگر متاثرہ خاندان یا شخص اور لواحقین گناہ گار کو معاف کر دیں. سنگین مجرموں کو ضمانت پر بھی رہائی نہیں ملنی چاہیے. مجرم کو جیسا جرم ویسی سزا یقینی ملنی چاہیے.

    ایسے غیر اخلاقی اور ناخوشگوار واقعات کی وجوہات میں سے تیسرا نمبر غیر اخلاقی اور غیرمعیاری ڈرامے اور فلمیں ہیں. جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا تب تقریباً سب صحیح تھا. معیاری، اخلاقی اور ثقافتی ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے. جس سے نئی نسل کی کردار سازی ہوتی تھی. اب واہیات، فحش اور بے ہودہ ڈراموں نے گھر اجاڑ دئیے، میاں بیوی کے درمیان طلاق کی شرح میں اضافہ کردیا. معاشرے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کو بڑھا دیا.
    میرے خیال میں موجودہ حالات کی مخلوط نظام تعلیم بھی ایک وجہ ہے. غیر مردوں کے ساتھ غیر عورتیں اور غیر عورتوں کے ساتھ غیر مرد بیٹھ کر پڑھیں گے اور پڑھائیں گے تو معاشرہ سدھرنے اور سنورنے کی بجائے مزید بگاڑ کا شکار ہوگا.

    لب لباب یہ ہے کہ معاشرے کو سنوارنے کے لئے تربیت کے حوالے سے والدین پر اولین اور سب سے اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے. اس کے بعد ریاست اور اداروں کو ذمہ داری نبھاتے ہوئے سزا و جزا کو یقین بنانا ہوگا اور نظام تعلیم میں تبدیلی لاتے ہوئے تعلیم کو اخلاقیات اور شریعت کے عین مطابق بنانا ہوگا.

    @mian_ihsaan

  • اکیسویں صدی اور پاکستان کے چیلنجز  تحریر: زاہد کبدانی

    اکیسویں صدی اور پاکستان کے چیلنجز تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان کی سابقہ ​​حکومتوں کی جانب سے سخت الفاظ اور اعلانات کے باوجود ، موجودہ صدی کے چیلنجوں کو قبول کرنے میں افسوسناک نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ صورتحال نے بدترین کوانٹم لیپ لیا ہے۔ دوسری طرف بنی نوع انسان کی ریکارڈ شدہ تاریخ میں پیش رفت کے نقطہ نظر میں انتہائی دلچسپ وقت ہے۔ دنیا کے تمام ممالک زندگی کے تقریبا تمام شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ یہ ممالک اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی دنیا بن چکی ہے۔ طاقت کے ساتھ دنیا پر حکمرانی کا پرانا تصور پچھلی صدی کی آخری دہائی میں سوویت یونین کے ٹوٹنے سے مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ بہت سے ممالک کی ترقی کی رفتار قابل ذکر ہے۔ چین کو پاکستان کے دو سال بعد آزادی ملی لیکن اس نے اپنی ترقی کی رفتار کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔ آج چین میو کے بعد دنیا کی دوسری تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کا درجہ حاصل کر رہا ہے ، چین نے 1977 اور 1987 کے درمیان اپنی فی کس آمدنی کو دوگنا کرنے میں ایک ہمہ گیر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ صرف $ 3.0 کھرب سے کم ہے جو امریکہ کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگر کوئی 1995 کے رینڈ سٹڈی کے تخمینوں کو قبول کر لے تو چین 2010 تک 11.3 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ چین کئی ممالک کی منڈیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس کی تجارتی صلاحیتوں نے زرمبادلہ کے بڑے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب چین ایسی کار بنانے میں داخل ہوچکا ہے جسے نئی صدی کے چیلنجنگ ماحول سے نمٹنے کے لیے بہت اچھی طرح سے تیار ملک سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج عالمی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی اگر چین سود کی شرحوں میں کم ایکسچینج رسک پریمیم کا حصہ نہیں ہے اور اس نے سرمایہ کاری کے مطالبات میں اضافہ کیا ہے۔ ایک ہی کرنسی کی بازگشت پوری دنیا میں فری ٹریڈ زونز کے ساتھ پھیل گئی۔ یورو کی اس شاندار کامیابی کی وجہ سے ، بہت سے ممالک نے حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے بھی اپنی گیند کو اسی سمت میں گھمانا شروع کیا۔ ہالینڈ میں ڈچ لوگوں نے مویشیوں کے لیے ایسی خوراک ایجاد کی ہے جو مویشیوں کو بہت تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہالینڈ کے لیے مویشی بہت اہم ہے کیونکہ یہ بہترین معیار کے دودھ ، مکھن اور گوشت کی برآمد میں ایک بڑا مقام رکھتا ہے۔ اس سے ہالینڈ کے لیے بڑی مقدار میں زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ ڈچ لوگوں نے ایک خاص ٹیلی ویژن پر بھی کامیابی سے کام کیا ہے جو کمپیوٹر کی تمام سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ڈچ لوگ موجودہ صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت اچھی طرح تیار ہیں۔

    پاکستان میں عالمگیریت کے مسائل
    دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ فاصلے قابل تعریف حد تک کم کیے گئے ہیں۔ امریکہ میں لوگوں نے ایک نئی مشق شروع کی ہے۔ اعلیٰ حکام دفاتر نہیں جاتے۔
    وہ اپنے زیادہ تر سرکاری معاملات کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ان کے قیمتی اوقات کو بچانے میں ان کی بہت مدد کرتا ہے جسے وہ سفر میں ضائع کرتے۔

    کوریا ، ملائیشیا ، تھائی لینڈ اور ویت نام جیسے ممالک بہت محنت کر رہے ہیں۔ اس محنت نے انہیں موجودہ ہزار سالہ چیلنجوں کا انتہائی باوقار طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ ان ملکوں نے اس حد تک ترقی کی ہے کہ پاکستان کے لیے اپنے موقف کو جوڑنا دور کی بات بن گیا ہے۔ کوریا نے کاروں اور دیگر گاڑیوں کے برآمد کنندگان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ 1960 میں ملائیشیا کی معیشت بہت خراب تھی لیکن محنت کے ذریعے انہوں نے اپنی معیشت کو کافی حد تک مضبوط کیا ہے۔ ملائی ٹیلی ویژن اور دیگر الیکٹرانک آلات نے واقعی بہت سے ممالک کی مارکیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان ممالک نے اپنی مناسب معاشی حکمت عملیوں ، اچھی تعلیمی پالیسیوں ، حب الوطنی کے جذبے اور بہترین خارجہ پالیسیوں کے ذریعے استحکام کی یہ پوزیشن حاصل کی ہے۔
    شرح ترقی۔
    نئی صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ترقی کی شرح پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں بھی بہت زیادہ ہے۔ ہندوستانی عوام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں واقعی حیرت انگیز کام کیا ہے۔ ہندوستانی سافٹ وئیر انجینئرز نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس میدان میں غیر معمولی اختراعات کی ہیں۔ بھارتی حکومت نے اپنے لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے مدراس میں سلیکن ویلی قائم کی ہے۔ سافٹ ویئر پروگراموں کی برآمد کے ذریعے ہندوستان بہت زیادہ زرمبادلہ کما رہا ہے جس نے ہندوستان میں معاشی بدحالی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستانی معیشت بہت مضبوط ہو چکی ہے۔ ملک میں خواتین کے روزگار کے تناسب سے بھی ہندوستان کو فائدہ ہوا ہے۔ خواتین بھی تقریبا تمام پیشوں میں مردوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
    ملک کی قیادت میں مسلسل تبدیلی تمام شعبوں میں ترقی کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوئی۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں نواز شریف کی حکومت نے ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے۔ انہوں نے مواصلات کے ذرائع کو بہتر بنانے کے لیے ڈائیو کمپنی کے ساتھ مل کر موٹروے پراجیکٹ قائم کیا۔ انہوں نے نارووال کے لوگوں کو ایک نئے ٹیلی فون ایکسچینج کی سہولت بھی دی انہوں نے "ییلو ٹیکسی” کی شکل میں سیلف ایمپلائمنٹ سکیم متعارف کرانے کی کوشش کی جس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ٹیکسی کاریں بہت آسان اور سستی اقساط پر فراہم کی گئیں۔ اس کا مقصد ملک میں روزگار کے تناسب کو بڑھانا تھا لیکن یہ اسکیم بھی ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ ان کی پارٹی کے کئی اراکین نے اس اسکیم کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔

    @Z_Kubdani

  • میرے آنسو تحریر سیدہ بنت زینب

    میرے آنسو تحریر سیدہ بنت زینب

    کیا آپ کبھی کمزور ہوئے ہیں یا کسی چیز کے لیے نااہل محسوس کیے ہیں؟ کیا کسی چیز نے اتنا لاچار محسوس کروایا ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے یا صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اتنا درد محسوس کیا ہے جہاں ایسا لگتا ہے کہ اس نے آپ کے جسم کو غیر متحرک کردیا ہے؟ کیا آپ نے خود کو کبھی اتنا افسردہ محسوس کیا ہے کہ آپ واقعی نہیں جانتے کہ افسردگی کا ذریعہ کہاں سے آرہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو میرے ذہن میں آتے ہیں جب میں ہر اس آنسو کے بارے میں سوچتی ہوں جو کبھی میرے چہرے پر پلکوں سے بہہ کر آ گرتا ہے. میں حیران ہوں کہ کتنے آنسو اصل میں میرے چہرے کو مار رہے ہیں، کتنے اصل میں میری جلد میں اب تک جذب کر گئے ہیں. مجھے حیرت ہے کہ کیا لوگ ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا میں سوچتی ہوں یا وہ کبھی کبھی ویسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا میں محسوس کرتی ہوں. بہت سے الفاظ اکثر اپنے مفہوم کو کھو دیتے ہیں. میرے لیے ایک آنسو اب آنسو نہیں رہا. میری لیے آنسو ہر اس اذیت کا مجموعہ بن گیا ہے جس سے اس وقت میں گزر رہی ہوں، جیسے اپنے نفس کی جنگ میں میں مبتلا ہوں اور کوئی میرے ساتھ نہیں ہے. میں کسی کو بتا نہیں سکتی کہ میں کس قدر کمزور پڑ رہی ہوں، اپنوں کو پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں بول سکتی کہ مجھے ضرورت ہے آپ کی.
    ایک آنسو ہر اس چیز کی عکاسی کرتا ہے جو میں محسوس کرتی ہوں. کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ میں کیوں روتا ہوں یا لوگ عام طور پر کیوں روتے ہیں؟ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر میں نے کبھی آنسو نہیں بہایا تو پھر کبھی بھی مجھے تکلیف نہیں ملے گی. میں اس پر یقین کرتی ہوں کیونکہ جب بھی میں روتی ہوں تو یہ آنسو یادوں کو واپس لاتا ہے، زیادہ تر خوبصورت یادوں اور باتوں کو جنہیں میں بھلا دینا چاہتی ہوں، اور احساسات کو زیادہ تر وہی احساس جو ہمیں کمزور ترین انسان بنا رہے ہیں.
    میں کہتی ہوں کہ ایک آنسو ان مسائل کو بیان کرتا ہے یا لاتا ہے جن میں میں ہوں، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ جب وہ چھپے ہوئے آنسو بہتے ہیں تو وہ بہت زیادہ پھیل جاتے ہیں، اور وہ میری برداشت سے بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں.
    میرے آنسو چھپے ہوئے ہیں. وہ آج سے پوشیدہ ہیں. وہ دنیا سے پوشیدہ ہیں. وہ چھپے ہوئے ہیں کیونکہ میرا درد جو آنسوؤں کے ساتھ آتا ہے وہ بھی پوشیدہ ہے. آنسو مجھے نااہل محسوس کرواتے ہیں. وہ مجھے بے اختیار اور کمزور بنا دیتے ہیں. آنسو وہ واحد طاقت چھین لیتے ہیں جس میں میں اکٹھا ہو سکتی ہوں یاں مضبوط بن سکتی ہوں. آنسو ایک کمزور شخص کی خصوصیت کہلاتے ہیں اور میں ایمانداری سے اس بات کو واقعی سچ مانتی ہوں، تاہم میں سمجھتی ہوں کہ یہ سوچنا احمقانہ ہے.
    اب سے میں نے خود کو بدلنے کا عہد کیا ہے. اب میری سوچ یہ ہے کہ ہمیں اپنے آنسو نہیں بہانے چاہیئے کیونکہ کوئی ہمارے آنسو پونچھنے نہیں آئے گا. کسی کو فرق نہیں پڑتا آپ سے. آپکی زندگی کے 80 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں آپ کے آنسوؤں سے کوئی سروکار نہیں اور باقی کے 20 فیصد لوگ خوش ہوں گے کہ آپ تکلیف میں ہیں. تو ہمیں اپنی ذات کو خود مضبوط بنانا ہو گا. جب انسان کے ساتھ کوئی نہیں ہوتا تو اسکے ساتھ اسکا رب ہوتا ہے اور وہ پاک ذات تو شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ آپکے ہر دکھ ہر آنسو ہر تکلیف کو جانتا ہے اور وہی آپکو آپکی سوچ سے بہترین نوازے گا. بس صبر کریں اور یقین رکھیں 🙂

    @BinteZainab33

  • اللہ جسے ہدایت دے  تحریر: نصرت پروین

    اللہ جسے ہدایت دے تحریر: نصرت پروین

    ویسے تو یہ دنیا انسان کی بہت سی مادی ضرورتوں پر مشتمل ہے۔ لیکن سب سے اہم ترین ضرورت جس میں دنیا آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے وہ ہدایت ہے۔ ہدایت سے مراد رہنمائی کرنا، سیدھا رستہ دکھانا، نفع مندی کا راستہ، انبیا کا راستہ جس کی منزل جنت ہے۔ وہ راستہ جس پر اللہ نے اپنے تمام انعام یافتہ بندوں کو چلایا۔ وہ سب اللہ کی نظر میں محبوب تھے۔ اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں ہدایت سے نوازا۔ ان میں سارے انبیا حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام ، اور بھی سارے انبیا شامل ہیں وہ بھی جن کا تذکرہ قرآن میں نہیں ملتا۔ وہ سب کے سب اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں کوششیں کی، دکھ رنج اور تکلیفیں سہی، انہوں نے ہجرتیں کی، اپنا گھر بار سب الل کے لئے لگا دیا، انہیں اپنے علاقوں میں نہیں رہنے دیا انہوں نے ہدایت کے سفر میں تمام تکلیفیں صبر اور اللہ کی مدد سے برداشت کی اور پھر اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں استقامت دی انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ یقیناً ان سب کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ کرتے، نہ ہم نمازیں پڑھتے۔ بےشک وہ اللہ ہی اول و آخر ہے۔ اس کی طرف سے ہم آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ ہی تو ہے جس نے زندگی جیسی دولت بخشی، وہی تو ہر چیز کا اصل اور ہمیشگی والا ہے۔ باقی سب تو فنا ہے۔ ہدایت بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کر دے۔ انسان کے ذمے کوشش کرنا ہے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:
    لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۲﴾
    ترجمہ: انہیں ہدایت پر لاکھڑا کرنا تیرے ذمّہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالٰی دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ سورۃ البقرہ:272
    اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
    ترجمہ: گو آپ ان کی ہدایت کے خواہشمند رہے ہیں لیکن اللہ تعالٰی اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کردے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔
    سورۃ النحل:37
    اللہ کے تمام انعام یافتہ، ہدایت یافتہ بندوں نے بھی ایک ہدایت یافتہ سوسائٹی کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے کبھی انفرادی طور پر زندگی بسر نہیں کی ہمیشہ انسانیت کی اصلاح کے لئے کوشش کی لیکن اللہ نے جسے چاہا ہدایت دی جسے چاہا گمراہ کردیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی ہدایت کے لئے بہت کوشش کی۔ ابو طالب کا آخری وقت تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ رہے تھے آپ کلمہ پڑھ لیں میں اللہ سے آپ کی سفارش کروں گا لیکن اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا عبدالمطلب کا دین چھوڑ دو گے اپنے باپ دادا کا دین۔ تو ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا اور اپنے اسی دین پر رہے حتی کہ دنیا سے چلے گئے۔ اسی حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی ازواج وہ کافر ہی رہی۔ حالانکہ نبی کی ازواج تھیں۔ اس طرح اللہ نے انہیں ہدایت نہیں دی۔ حالانکہ نبیوں نے ان کے لئے کوششیں کی لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے انہیں بھی ہدایت دی جو لوگ گمراہ تھے۔ اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ ہدایت دو چیزوں سے ملتی ہے۔
    1۔ قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے سے
    2۔ اور ہھر اس پر قائم رہنے سے
    یہ ہی ہدایت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہوا۔
    امام ابو تیمیہ رقمطراز ہیں:
    1۔ ‏جب انسان پروردگار کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرے اور اس سے دعا کرتا رہے اور اس کے ساتھ ساتھ کلام اللّٰہ، احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا مسلسل مطالعہ کرتا رہے تو اس کے لیے ہدایت کا راستا کھل جائے گا۔
    2۔ سچا مسلمان جب الله تعالی كی عبادت اس كی شریعت كے مطابق كرتا ہے تو الله تعالی جلد ہی اس پر ہدایت كے انوار كھول دیتا ہے۔3۔ اسلام میں صحابہ کرام ہر ایک علم ، نیکی، ہدایت اور رحمت کی اصل بنیاد ہیں۔
    4۔ ہدايت كا راستہ علم كے بغير نہيں مل سكتا اور اس پر ثابت قدمى صبر كے بغير ممكن نہيں۔
    ‏امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    کسی دوسرے کو راہ دکھلانا,علم کی بات بتانا,خیرخواہی کرنا,خود پرہدایت کادروازہ کھولنا ھے۔کیونکہ جزاء ھمیشہ عمل کے مطابق ھوتی ھے۔پس جو کسی دوسرے کو علم اور ہدایت کی راہ دکھلاتا ھےالله اسے علم اور ہدایت سے نوازتا ھے_
    رسالته الى أحد اخوانه ١٠
    انسان کی ذمہ داری ہے کہ معاشرتی طور پر ہدایت کے لئے کوشش کرے۔ دین کا علم حاصل کرے اور اللہ سے اس پر استقامت کے لئے مدد مانگے۔ خود ثابت قدم رہنا اور پھر دوسروں لے لئے کوشش کرنا بہت اہم اور لازمی ذمہ داری ہے جو ترک نہیں کی جا سکتی۔
    اور جب انسان کوشش کرتا ہے تو اللہ ہدایت دیتا ہے، اللہ دل بدل دیتا ہے، گمراہ لوگ بھی بدل جاتے ہیں، آپ دیکھیں انبیا کے دور میں کیسے انقلاب آیا تھا۔ کیسے لوگوں نے اللہ کی مدد سے ہدایت کا سفر چنا۔ آپ بھی کوشش کریں اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔
    لیکن اگر انسان کوشش ہی نہ کرے اللہ کا دین ہی نہ سیکھے اور کہے کہ میرے نصیب میں گمراہی لکھ دی گئی ہے تو یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
    آیا تھا کیا کرنے اور کیا کر گیا؟
    دیکھیں سب نگہبان ہیں اور سب سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اللہ کے دین کو چھوڑ کر اگر آپ نگہبانی کریں گے تو کیا فلاح پائیں گے۔ میں ایسی ماؤں کو جانتی ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کی خوب نگہبانی کی انہیں خوب وقت دیا لیکن انہیں دین نہیں سکھایا یقین کریں میں نے ان بچوں کو بے راہ روی کی راہوں میں پایا۔ تو اللہ کے دین کا علم حاصل کرنا اس پر عمل کرنا یہ ہی ہدایت ہے اور اسے آگے پہنچانے کے لئے کوشاں رہنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ تو آئیے ذمہ داری کو خوب پورا کیجیے اور فلاح پائیے۔
    اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
    یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے۔
    جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • تبدیلی سرکار بھی تبدیل نا لاسکی تحریر راحیلہ عقیل

    تبدیلی سرکار بھی تبدیل نا لاسکی تحریر راحیلہ عقیل

    پاکستان تحریک انصاف کی جیت کے ڈنکے جتنے زور شور سے بجے تھے لگتا تھا بس خان صاحب وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھتے ہی جادو کی چھڑی گھمائیں گے اور فورا نیا پاکستان وجود میں آجاے گا جتنے خواب پاکستان تحریک انصاف نے عوام کو دکھائے تھے وہ سارے تو کچھ ماہ میں ہی چکنا چور ہوئے سو ہوئے مزید عوام مہنگائی بوجھ تلے دب گئی۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں الیکشن سے پہلے عوام نواز شریف، آصف علی زرداری کو کوستی تھی وہی عوام دوسالوں میں نوازشریف، زرداری کی حکومت کی تعریفیں کرنے لگی انکو یاد کرنے لگی
    خان صاحب نے تو جیسے قسم کھائی ہوئی تھی کہ حکومت آتے ہی سیاسی انتقام لینا ہے پھر کیوں نے دوسری جماعتوں سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر حکومت بنانی پڑے ۔۔۔۔۔۔۔ جگری دوست کو جہاز کے ساتھ روانہ کردیا جہاں جو بکا خریدا حکومت بنائی اور پھر شروع کردیا احتساب ۔۔۔۔۔بڑے بڑے دعوے وعدے سارے ایک طرف دو سالوں تک تو عوام کو یہی سنایا گیا نواز شریف ،زرداری چور سب کچھ لوٹ کر لے گئے ہمارے پاس کچھ نہیں ملک کیسے چلے گا ۔۔۔ خودکشی کرلونگا قرضہ نہیں مانگو گا ! یوٹرن جو نہیں لیتا وہ لیڈر نہیں چلیں جی !آپ نے گھبرانا نہیں ہے! خطابات عوام کو سنا سنا کر دو سالوں تک خوش کرتے رہے عوام مہنگائی بوجھ تلے دب کر خان صاحب کو کوستی رہی۔ تمام تر کرپشن کے غربت مہنگائی بےروزگاری ، عدالتی ناکام نظام، پولیس کی کارکردگی، سب گزری حکومتوں پر ڈال کر اپنے وزیروں کو آگے کردیتے وزیر بھی ماشاءاللہ ہر جمعے تو خان صاحب کی کابینہ میں تبدیلی ہوتی جو وزیر جتنا میڈیا پر آکر خان صاحب کی کھل کر تعریف کرتا وہ اگلے جمعے اہم وزارت پر ہوتا ۔۔۔۔۔۔

    کراچی کے لیے بڑے بڑے پیکچ صرف اعلانوں تک محدود کراچی میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں پاکستان تحریک انصاف نے کیسے جیتی اس بات سے کراچی والے باخوبی واقف بتانا ضروری نہیں ، اتنی سیٹیں ملنے کے بعد بھی وزیراعظم کو کراچی نظر نا آیا نا ہی انکے نکمے ایم پی اے ، ایم این اے ، کو خیال آیا، جوش آیا تھا علی زیدی کو کراچی کا کچرا صاف کرینگے لاکھوں روپیہ ہضم کرکے بیٹھے ہیں کراچی جوں کا توں ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کے وہ کارکن جنہونے کراچی میں اس جماعت کو بہت سپورٹ کیا آج وہ بھی تنگ ہیں تو سوچیں عوام کا کیا حال ہوگا کہیں کوئی کام ہوتا نظر نا آیا سوائے ایک دو علاقوں میں ،

    کرپشن کرپشن کا شور کرکے ووٹ تو مل گیا لیکن چلائیں کیسے حکومت ؟
    دوسروں جماعتوں سے جمع کیے لوٹے حکومتی مدت ختم ہوتے ہی کہیں اور نکل جائیں گے خان صاحب آپ عوام کو کیا جواب دینگے کس بنیاد پر دوبارہ ووٹ مانگیں گے ؟ یا پھر نے 2018 والا طریقہ دھرایا جاے گا ؟؟
    اپنی ہی حکومت کے خلاف کنٹینر پر چڑھ کر ووٹ مانگا جاے گا ؟ یا پھر عوام کو یہ کہہ کر پاگل بنایا جاے گا کے ہماری تو پہلی حکومت تھی جناب کہا گیا بائیس سال کا تجربہ دکھائیں عوام کو اپنی کارکردگی بنائیں نیا پاکستان ختم کریں مہنگائی، بےروزگاری نوکریوں کے جو ٹرک بھر بھر کر نکلے تھے وہ ابھی تک پہنچے نہیں ! ہوسکتا ہے پیٹرول ختم ہوگیا ہو آپ نے مہنگا جو اتنا کردیا ہے ۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کے لیے انصاف مانگے والے سانحہ ساہیوال پر گونگے بہرے بنے رہے اس وقت آپکو انصاف یاد نہیں آیا یا کرسی پر بیٹھ کر انسانیت ختم ہوجاتی ہے ؟ طاقتور کے لیے قانون مذاق غریب کے لیے قانون سخت زینب کے قاتل کو پھانسی ہوئی آپ کی حکومت میں کتنے ذیادتی کے مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ؟
    روزانہ ریپ کیسز سامنے آرہے کیوں سختی سے کام نہیں لیا جارہا ؟ تاریخ میں یاد رکھا جاے گا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صرف اور صرف کرپشن کرپشن کرپشن کا شور کرنے سے شروع ہوئی اور اسی پر ختم ۔۔۔۔۔۔۔عوام ایک بار پھر سوچ سمجھ لیں کرپشن کے نعروں سے آپکے بچوں کا پیٹ نہیں بھرے گا

  • گوگل کی  اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے صارفین کیلئے ہنگامی وارننگ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : گوگل کا مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن مہیا کرنا تھا۔ اسی وجہ سے گوگل کو مقبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی یہ دنیا کا سب سے ذیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے تاہم اس نے اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ جاری کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق گوگل کی اپنے 2 ارب صارفین کے لیے 2 ماہ میں چوتھی وارننگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤزر فوری اپ گریڈ کریں-

    گوگل کے علاوہ مائیکروسافٹ کے سرچ انجن ‘ ایج’ نے بھی چوتھی ہنگامی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے صارفین کو کہا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤز فوری اپ گریڈ کرلیں۔

    براؤزر کو اپ گریڈ کرنے کا طریقہ:

    براؤزر اپ گریڈ کرنے کے لئے آپ کو سیٹنگز میں جانا ہو گا اور پھر ہیلپ میں جاکر اباؤٹ گوگل کروم کھولنا ہو گا اپنے براؤزر کا ورژن چیک کریں، اگر Linux ، macOS یا Windows پر آپ کا براؤزر 92.0.4515.159 یا اس سے آگے کا version ہے تو آپ محفوظ ہیں۔

    گوگل فی الحال ان مسائل کے بارے میں بہت کم معلومات دے رہا ہے تاہم یہ ایک یہ معیاری عمل ہے جو کمپنی معلومات کو محدود کرنے کی کوشش میں کرتی ہے تاکہ صارفین کی پرائیوسی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہیکرز کو روکا جائے۔

  • قومی کرکٹ ٹیم  ویسٹ انڈیز سے وطن کب واپس روانہ ہوگی

    قومی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز سے وطن کب واپس روانہ ہوگی

    قومی کرکٹ ٹیم 25 اگست بروز جمعرات کو ویسٹ انڈیز سے وطن واپس روانہ ہوگی-

    باغی ٹی وی : قومی اسکواڈ مقامی وقت کے مطابق شام بجے جمیکا سے براستہ لندن لاہور کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرے گا قومی اسکواڈ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 12:50 بجے لاہور پہنچے گا-

    چار کھلاڑی بیٹسمین اظہر علی، لیگ اسپنر یاسر شاہ، فاسٹ باؤلرز محمد عباس اور نسیم شاہ وطن واپس نہیں آئیں گےیاسر شاہ اور نسیم شاہ کیریبین پریمیئر لیگ میں شرکت کے لئے کچھ دیر بعد انٹیگا روانہ ہوجائیں گے محمد عباس اور اظہر علی کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے لندن میں قیام کریں گے-

    ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے بابر اعظم

    واضح رہے کہ کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے بولنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کو 219 رنز پر آؤٹ کردیا۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 329 رنز کا ہدف دیا تھا تاہم ویسٹ انڈینز یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں 109 رنز سے شکست ہوئی۔

    میچ میں شاہین آفریدی نے بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا۔ شاہین آفریدی نے دوسری اننگز میں 4 جب کہ مجموعی طور پر اس میچ میں 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ نعمان علی نے 3 اور حسن علی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ بیٹنگ میں پاکستانی بلے باز فواد عالم چھائے رہے، وہ 124 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    ٹیسٹ میچ کے آخری روز ویسٹ انڈیز نے ایک وکٹ پر 49 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا۔ویسٹ انڈیز کے کپتان کریگ بریتھ ویٹ سمیت کوئی بھی ویسٹ انڈین بلے باز پاکستانی بولرز کا جم کر مقابلہ نہ کرسکا، بریتھ ویٹ 39 رنز پرپویلین لوٹئ۔ نکروما بونر 2، روسٹن چیز 0، جرمین بلیک ووڈ 25 رنز، کائل میئر 32، جیسن ہولڈر 47، کیمروچ 7 اور جوشوا ڈی سلوا 15 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    پاکستان دوسرا ٹیسٹ میچ 109 رنز سے جیت گیا : تین میچوں کی سیریز برابر

  • ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے   بابر اعظم

    ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے بابر اعظم

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ک کہنا ہے کہ آج کی جیت پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہےجب بھی جیت ملتی ہے بطور کپتان بہت اعتماد ملتا ہے
    تمام کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کیا-

    باغی ٹی وی : بابر اعظم نے کہا کہ وکٹ سے مدد نہیں ملی تو فیلڈنگ پوزیشنز بدل کر حریف ٹیم پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیاخوشی ہے کہ پہلی اننگز میں جلدی وکٹیں گنوانے کے باوجود فواد عالم کے ساتھ پارٹنرشپ ہمیں میچ میں واپس لائی-

    انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا شاہین شاہ آفریدی بہت بااعتماد باؤلر ہیں جب بھی انہیں باؤلنگ کا کہتا ہوں وہ جارحانہ باؤلنگ کرتے ہیں خوشی ہے کہ شاہین شاہ آفریدی جیسا باؤلر میرے پاس ہے-

    پاکستان دوسرا ٹیسٹ میچ 109 رنز سے جیت گیا : تین میچوں کی سیریز برابر

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ نوجوان فاسٹ باؤلر نے اپنی عمدہ باؤلنگ سے میزبان ٹیم کو بیک فٹ پر ہی رکھا ہم نے حکمت عملی کے تحت ویسٹ انڈیز کو چوتھے روز بیس اوورز کھیلائے-

    بابر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ کہتا ہوں فواد عالم بہت تجربہ کار بیٹسمین ہیں مشکل کنڈیشنز میں انہوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ڈومیسٹک کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والے فواد عالم ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے-