Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    زندگی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جو ہمیشہ چلتی رہتی ہے کبھی ایک اسٹیشن سے دوسرے پر تو کبھی دوسرے سے تیسرے پر- بہت سے مسافر اس ریل گاڑی پر سفر کرتے ہیں کوئی اپنے مقررہ سٹیشن پر پہنچ چکا ہوتا ہے تو کوئی اپنے اسٹیشن کا انتظار کر رہا ہوتا ہے لیکن ریل گاڑی اپنا سفر جاری رکھتی ہے- جیسے ریل گاڑی اپنے آخری اسٹیشن پر جا کر ٹھہر جاتی ہے بالکل اسی طرح زندگی کا بھی آخری اسٹیشن آتا ہے جہاں زندگی رک جاتی ہے اور یہ ایسے لمحے ہوتے ہیں جب انسان کے جسم میں نہ طاقت رہتی ہے اور نہ باقی رہتی زندگی میں کچھ نیا حاصل کرنے کی خواہش رہتی ہے- یوں تو پوری زندگی انسان اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں گزار دیتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے لیکن خود کے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نہیں نکال پاتا اور جب خود کے لیے وقت ملتا ہے تو تب انسان کی زندگی ریل گاڑی کی طرح اپنے آخری اسٹیشن پر کھڑی ہوتی ہے- بڑھاپے میں داخل ہونے کے بعد انسان کے پاس اپنی پوری زندگی میں گزارے وقت کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا- انسان کی زندگی میں بڑھاپا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انسان منہ نہیں موڑ سکتا اور بڑھاپے میں آنے کے بعد جب تک انسان اس دنیا میں حیات رہتا ہے تب تک وہ بوڑھا ہی رہتا ہے –
    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے- اور یہ کب ہاتھ سے نکل جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا- یہ وقت ہی ہوتا ہے جو انسان کو گزری زندگی سے سبق دیتا ہے- اس دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں جو وقت کا وقت پر صحیح استعمال کر پاتے ہیں- وقت کی رفتار کو سمجھنا ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور جو لوگ وقت کی رفتار سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ان کے لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے وہ لوگ اپنی زندگی کی خواہشات اور ارادوں کو مقررہ وقت پر ہی سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں وقت ضائع نہیں کرتے- اور جو لوگ اس وقت کی اہمیت اور اس کی رفتار کی نوعیت کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سے سبق حاصل کرتے ہیں تو ایسے لوگ زندگی میں سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے اور آج کے کام پر ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اور کل پر ڈالتے ہیں اور روزانہ اسی سوچ کے ساتھ پورا دن گزار دیتے ہیں کہ اپنے کام کو کل پورا کریں گے- وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا اور نہ ہی زندگی کبھی روکتی ہے- زندگی گزر ہی جاتی ہے جیسے انسان اپنے بچپن کے دنوں میں سوچتا ہے کہ شاید وہ پوری زندگی بچہ ہی رہے گا اور کبھی جوان نہیں ہوگا لیکن بچپن گزر جاتا ہے اور انسان اپنی جوانی کے دور میں قدم رکھ لیتا ہے اور اس کے بعد انسان ایک بار پھر اپنی سوچ کو دہراتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ اسی طرح تندرست اور جوان رہے گا لیکن بالآخر انسان کی یہ سوچ بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی کے آخری حصہ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ انسان کی زندگی کا آخری اسٹیشن ہوتا ہے جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہر جاتی ہے- انسانی زندگی میں صحت و تندرستی ایک نعمت ہے اور ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مصروف زندگی میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نکالیں اور جتنا ہوسکے دوسروں کی مدد کریں اور آسانیاں پیدا کریں- اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا-

    Twitter: ‎@AfaqHussainKhan

  • پاکستانی مرد تحریر:حفصہ قاسم


    مصروف زندگی میں فراغت کے چند لمحات میں جب موبائل فون کو دیکھتی ہوں تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ایک ہی داستان جنگل میں آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ مرد ! درندہ ہے جانور ہے، بےحس ہے بے غیرت ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی لیکن اسی عنوان کے ساتھ۔ یہ سب دیکھ کے میرا دل دکھتا ہے۔ ہاں میں خود تو ایک لڑکی ہوں لیکن مردوں کے خلاف کچھ برا سن کے اچھا محسوس نہیں کرتی۔

    کہنے والے کہتے ہیں کہ مرد کو صرف اپنے گھر کی عورت ہی قابل عزت لگتی ہے لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ کچھ دن پہلے ایک بیکری پر جانے کا اتفاق ہوا کاؤنٹر پر مردوں کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن ایک لڑکی کو دیکھتے ہی سب نے اسے آگے بڑھ کے چارجز ادا کرنے کا موقع دیا۔ وہاں سے نکل کے جب رکشہ لیا تو رکشے میں اگلی سیٹ پر ہم دو لڑکیاں تھیں راستے میں کئی لڑکے اور مرد ملے جن کو تیسری سیٹ پر بیٹھایا جا سکتا تھا لیکن معمولی رکشہ چلانے والے نے اپنا نقصان کر لیا لیکن کسی لڑکے کا لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے سڑک کو پار کرنا تھا۔ میں سڑک کے کنارے پریشان کھڑی تھی کیونکہ وقت کم اور رش بہت زیادہ تھا۔ جیسے ہی مجھے سڑک کے کنارے کھڑا دیکھا تو دور سے آنے والے مرد جن میں کچھ گاڑیوں پر اور کچھ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، سب نے اپنی سپیڈ آہستہ کر دی اور میں نے پر سکون ہو کر سڑک کو پار کیا۔

    اب بات کر لیتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی۔
    تھوڑے سے فاصلے پر کچھ آدمی ایک لڑکے کو پیٹ رہے تھے وہ اسے تھپڑوں کے ساتھ گالیوں سے بھی نواز رہے تھے۔ مجمع بکھرا کچھ رش کم ہوا تو جاننے میں آیا صاحب کسی خاتون کو پریشان کر رہے تھے اسی وجہ سے انکی عزت افزائی تھپڑوں اور گالیوں سے کی جا رہی تھی۔ یہ میں اپنے گھر کے مردوں کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی ان مردوں میں سے کسی کے گھر کی عورت کی بات کر رہی ہوں۔

    میں پاکستان میں رہتی ہوں اور صرف پاکستانی مرد کو ہی جانتی ہوں ایک ہی دن میں مختلف جگہوں پر میں نے مختلف مردوں کو دیکھا میرا تجربہ ایسا ہی رہا کہ مرد عورت کی عزت کرتا ہے لیکن اس کے بعد کچھ ایسے آدمی بھی معاشرے کا حصہ ہیں جو ناقص تربیت اور شر پسند طبیعت کی وجہ سے عورت کو نشانہ بناتے ہیں ایسے حالات میں بھی اکثر دوسرے مرد عورت کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

    اچھے اور برے لوگ ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ہی جنس کو ٹارگٹ کرکے بار بار مرد کی غیرت کو للکارنے سے ہم انھیں بےحس بنانے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔ عزت نفس ہر انسان کا اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے جب کسی انسان کی عزت نفس کو مسلسل مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو بے غیرت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بےضمیر بھی ہوجاتا ہے۔

    ظلم وزیادتی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ ایک دفعہ اپنے گریبان میں ضرور جھانک لیں کہ آپ ان حالات میں اپنا کردار کیسے نبھا رہے ہیں۔ اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آغاز اپنی ذات سے کریں اور پھر اپنے گھر سے۔

    یاد رہے معاشرے میں کچھ ہوس پرست لوگ ضرور موجود ہیں لیکن سب کو نشانہ مت بنائیں۔ اپنی حفاظت خود کرنا سیکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    میں سلام پیش کرتی ہوں ان تمام مردوں کو جو ہوس پرستی کے اس دور میں بھی عورت کی عزت کرتے ہیں۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستانی مردوں کو۔

    ‎@hafsaaqasim

  • بلوچستان کے زمینداروں کے ان گنت مسائل۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان کے زمینداروں کے ان گنت مسائل۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان کے مسائل لکھنے میں اگر سارے ملک کے لکھاری مل کر بھی لکھتے رہے تو شاید یہ مسائل ختم نہ ہوں اور لکھاری تھک جائیں گے۔ مسائل دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن بلوچستان کے نہ حل ہونے والے مسائل روز بروز بڑھکر ان گنت ہوتے جارہے ہیں، مقامی لوگ اب حکومت سے مایوس ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حال میں بلوچستان آئے ہوئے ایک نوجوان محمد اکبر کا کہنا ہے کہ میں نے ماضی میں بہت سفر کیا۔ میں نے جن مقامات پر جانا تھا ان میں سے ایک شمالی بلوچستان تھا جو بنیادی طور پر پشتون ہے۔
    میرے ماموں جو اپنی 80 کی دہائی کے آخر میں ہے نے اس علاقے میں کافی وقت گزارا ہے۔ ایک بار اس نے مجھ سے اپنے پرانے پشتون دوستوں کے ساتھ رہنے کو کہا جن میں سے اکثر کاکڑ تھے میں نے اس کی خواہش پوری کی۔
    میں نے اپنے چچا کے دیئے گئے تمام پتے دیکھے لیکن یہ جان کر دکھ ہوا کہ اس کے تمام دوست مر چکے ہیں۔ ان کے بچے خود اب بڑے ہو چکے تھے۔
    اس وقت فارم اور باغات بلوچستان کی شمالی پٹی پھلوں اور سبزیوں پر پھیلے تھے جو زمین کی تزئین کو سبز رنگ دیتے ہیں۔
    لیکن جب میں نے حال ہی میں اس خطے پر نظرثانی کی تو مجھے اپنی پسندیدہ جگہیں بنجر اداس نظر آنے پر دکھ ہوا۔
    ان مقامات میں سے ایک پشین ضلع کا ایک گاؤں زلند ہے۔زلند پشتو میں ‘چمکنے’ لو کہتے ہیں
    پشین کوئٹہ کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا ، لیکن 1975 میں اسے ضلع بنا دیا گیا۔ اسے 1990 کی دہائی میں پشین اور قلعہ عبداللہ ضلع میں تقسیم کر دیا گیا۔
    اگرچہ پشین صوبائی دارالحکومت سے زیادہ دور نہیں ہے ، بتہ یہاں بھی بنیادی سہولیات موجود ہیں،
    زلند کو پچھلے سال ٹڈیوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا ، جو تقریبا کوویڈ 19 کے آغاز کے ساتھ ہی تھا۔ ایک سکول ٹیچر اور کسان عبدالحئی کاکڑ یاد کرتے ہیں ، "ہم نے اپنے طور پر سپرے کیے کیونکہ انتظامیہ نے ایسا کرنے کی زحمت نہیں کی۔” "ٹڈیوں کا حملہ اس وقت ہوا جب فصلیں تیار تھیں۔
    اگرچہ سیلف ہیلپ کی بنیاد پر کام قابل تحسین ہے ، لیکن یہ حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے منصوبوں کا متبادل نہیں ہے۔ انتظامیہ کی بے حسی خطے کے زوال کا ذمہ دار ہے۔
    دوسری چیزوں کے علاوہ کچھ پرانے درخت مر رہے ہیں۔ "ہم نے جبرالک ایسڈ ، ایک گولی درختوں پر لگائی۔ میرے خیال میں ’’ علاج ‘‘ (ٹیبلٹ) ، ستم ظریفی یہ ہے کہ ان درختوں کی موت واقع ہوئی۔
    "زلینڈ میں پانی کی سطح گر گئی ہے ، جس سے ہمارے کھیت خشک ہو گئے ہیں۔”
    شمالی بلوچستان کے کئی مقامات کے دوروں کے دوران میں نے سیکھا کہ بارش اور برف کی کمی کی وجہ سے پانی کی قلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کے سبز دھبے خشک ہو رہے ہیں۔ پھلوں کے سوکھے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ضلع پشین میں ایسے مناظر بہت زیادہ ہیں۔
    گھریلو استعمال کے لیے پانی لے جانے والے ٹینکر ایک عام منظر ہیں۔ "ہم ان ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں ،” لورالائی وادی زنگیوال کے ایک نوجوان کسان آصف کاکڑ نے کہا۔ "میرا ٹیوب ویل جو بجلی پر چلتا ہے ، میری پانی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا کیونکہ بجلی کی فراہمی عام طور پر صرف ایک گھنٹہ رہتی ہے۔”
    صوبائی دارالحکومت واپس آنے کے بعد میں نے کوئٹہ میں مقیم زراعت کے ماہر ڈاکٹر عزیز بڑیچ سے بات کی کہ اس ویرانی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کہ اب بلوچستان کے شمال کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی طرح گلوبل وارمنگ بلوچستان میں تباہی مچا رہی ہے۔
    ان کے مطابق صوبے کی شمالی پٹی نے شاید ہی کبھی ایک یا دو دہائی قبل درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ دیکھا ہو۔ "لیکن ان دنوں یہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے عام ہے۔”
    اس کے نتیجے میں ، سیب جیسے پھل سخت گرمی میں مرجھا جاتے ہیں۔
    عزیز بڑیچ نے کہا کہ بارش اور برف کی کمی کی وجہ سے پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے۔
    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قیمتی پانی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ لیکن این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) بلوچستان کے شمالی علاقوں میں حکومت سے زیادہ سرگرم ہیں۔

    اگر پانی اور بجلی کے یہی حالات رہے تو بلوچستان کے زمین دار باغات اکھاڑنے پر مجبور ہوجائیں گے اور اپنے اولاد کے لیے کمانے کا ذریعہ معاش بھی تباہ ہوجائے گا۔
    بلوچستان کے زمیندار کی حیثیت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، یہاں کے سیب، انگور، تربوز، خربوز، زردآلو اور سبزیاں ملک بھر میں پسند کیجاتی ہیں۔
    حکومت وقت کو بے شک آپ کے ہر جگہ کی پہنچ نہیں ہے اور نہ ہی خبر ملتی ہے لیکن علاقائی سطح پر جو مسئلہ میڈیا کی زینت بن جاتا ہے اس کو تو کم از کم حل کردینا چاہئے۔ اور یہاں کے ہر ڈیپارٹمنٹ کے افسروں کو تنبیہ کیا جائے کہ جو بھی مسئلہ کسی بھی ضلع میں پیش آجائے ان سے حکومت کا اگاہ کیا جائے،
    وزیراعلٰی کو چاہئے کہ تمام ضلعوں کا وزٹ کرکے عوامی مسائل سن لے، اور بلوچستان بالخصوص پشتون بیلٹ میں بجلی اور پانی کے مسائل کا حل نکالے۔

    ‎@iHUSB

  • امارت اسلامیہ تحریر: یاسر خان بلوچ

    امارت اسلامیہ تحریر: یاسر خان بلوچ

    دنیا نے ایسے فاتح نہیں دیکھے ہوں گے۔ خدا کے سامنے جھکنے والی گردنوں کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھکا سکی۔ ان کی فتح کا راز یہ ہے کہ وہ دنیاوی طاقتوں کے سامنے سر کو جھکانے کی بجائے ایک اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے جھکتے ہیں۔ اور پھر رب تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی ایسی لاج رکھتا ہے کہ وقت کے فرعون صفت متکبر سُپر طاقت اپنا سامانِ جنگ چھوڑ چھاڑ کر اور دم دبا کر بھاگ کھڑی ہوئی ہے۔ اور صرف 15 دن میں پورا ملک فتح کرنے کے باوجود عاجزی کا یہ عالم ہے کہ زمین پر بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے ہیں۔
    یہاں بات اس انٹرویو کی کرتے ہیں جو کہ ملا عمر نے وائس آف امریکہ کو دیا تھا۔ جس میں ملا عمر نے کہا تھا ” میرے سامنے دو وعدے ہیں ایک وعدہ بُش کا اور دوسرا وعدہ میرے اللہ کا۔ میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ میری زمین بہت بڑی ہے اگر تم اس زمین پر کسی بھی جگہ جاؤ وہاں سکونت اختیار کر سکتے ہو اور تمہاری حفاظت کی جائے گی۔ دوسری جانب بُش کا یہ وعدہ ہے کہ زمین پر ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں تم چھپ سکو اورہم تلاش نہ کر سکیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے کون سا وعدہ پورا ہوتا ہے”۔ اور آج اللہ کا وعدہ پورا ہوا ور سُپر پاور بھی کچھ نہ کر سکی اور امارت اسلامیہ کا اعلان ہو گیا۔
    ایک اور سوال کے جواب میں ملا عمر نے کہا” ہم مسلمانوں کی مدد اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ کفار سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ پاور کے اعتبار سے امریکہ بہت پاور فل ہے۔ اگر وہ اس سے بھی دو گنا زیادہ پاور فل ہو جائے تو بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا مالک ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں کوئی بھی دنیا کی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی” اور آج یہ بات بھی ملا عمر کی سچ ثابت ہوئی جب دنیا کی سُپر پاور فوج نے بھی انکے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

    دنیا کو آخر طالبان سے ڈر کیوں ہے؟ کس وجہ سے امارت اسلامیہ سے ڈرتے ہیں؟ کیا یہ طالبان سے ڈرتے ہیں؟
    نہیں بلکل نہیں کیونکہ ہم گناہ کرنے سے نہیں بلکہ اس گناہ کی سزا سے ڈرتے ہیں۔ ہم زنا سے نہیں ڈرتے بلکہ کوئی اس کی سزا اسلامی نظام کے مطابق دے اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم چوری کرنے سے نہیں ڈرتے بلکہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے سے ڈرتے ہیں۔ ہماری عورتیں کم لباس پہننے سے نہیں ڈرتی بلکہ اسلامی نظام کے مطابق لباس پہننے سے ڈرتی ہیں۔ اور برملا طور پر کہتی ہیں کے اس سے ہمارا دم گھٹتا ہے اور ہمیں آزادی دو۔ ہم کسی کا قتل کرنے سے نہیں بلکہ اسلام میں قتل کے قصاص کی بات ہوئی اور اس قصاص کو دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم حرام کی کمائی کے خاتمے سے ڈرتے ہیں۔ ہم سنت کے مطابق اپنے چہرے بنانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم داڑھی رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم اوقات نماز کاروبار بند کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم چھوٹے بچوں سے زیادتی سے نہیں ڈرتے بلکہ اسکی سزا اسلامی نظام سے ہو اس سے ڈرتے ہیں۔ الغرض ہم طالبان سے نہیں ڈرتے بلکہ اسلامی نظام سے ڈرتے ہیں جسمیں ہم سب کیلئے بھلائی ہے۔ اور جہاں تک بات امارت اسلامیہ کے حصول کی ہے تو یہ اسلامی نظام کے مطابق ساری سزائیں ہو گی جس وجہ دنیا پریشان ہے۔
    مگر میرے اللہ جسے چاہیں عزت دیں اور جسے میرے اللہ چاہیں ذلیل و خوار کریں مگر اب کی بار اللہ نے عزت مجاہدین کو دی اسلام کی فتح ہوئی اللہُ اکبر کی صدائیں بلند ہوئی۔
    جیسے ہر ملک کی اپنی پالیسی یہی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کسی کی دخل اندازی نہیں برداشت کرتا تو پھر طالبان چاہیے زورِ بازو سے حکومت لے چکے لیکن یہ بات یاد رکھیں جب انہوں نے کابل لیا کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی اور اقتدار لینے کے بعد ذمہ واری کا ثبوت دیتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا۔ تو دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ امارت اسلامیہ کو تسلیم کرے۔

  • دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    ڈھاکہ: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دنیا کی سب سے چھوٹی گائے چل بسی۔

    باغی ٹی وی :مختلف نیوز پورٹل ، سوشل میڈیا پوسٹس اور ساور میں لائیو سٹاک آفس نے کہا ہے کہ رانی ، جسے اس کے مالکان نے دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ، ڈھاکا کے ساور صوبے میں فوت ہو گئی ہے۔

    صوبہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ لائیو سٹاک آفیسر عبدالمطلب نے اس کی موت کی خبر کی تصدیق کی کہا کہ "مویشی دو دن پہلے بیمار پڑا اور اسے ڈیڑھ بجے کے قریب لائیو سٹاک آفس لے جایا گیا اسے علاج دیا گیا لیکن بچایا نہیں جا سکا۔ بعد میں شکور ایگرو فارم کے اہلکارگائے کو واپس لے گئے-”

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گائے رانی کا پیٹ کافی زیادہ سوج گیا تھا جس کے بعد اسے علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز اس کی جان نہیں بچا سکے اور وہ محض چند گھنٹوں میں ہی دنیا سے رخصت ہوگئی ڈاکٹرز نے بتایا کہ گائے کے پیٹ پر سوجن زیادہ کھانے اور گیس جمع ہوجانے کے باعث ہوئی۔

    واضح رہے کہ عید الضحیٰ سے قبل دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ’میڈیا اسٹار‘ بن گئی تھی جسے دیکھنے روزانہ ہزاروں لوگ فارم کا رخ کر رہے تھےگائے کی عمر تقریباً دو سال تھی اور اس کا قد 20 انچ تھا جو اپنی معصومیت اور سب سے چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

    گائے کے مالک کا کہنا تھا کہ اس گائے کا نام انہوں نے رانی رکھا گائے کے مالک کا دعویٰ تھا کہ اپنی عمر کے اعتبار سے رانی دنیا کی بونی ترین گائے تھی جس کا وزن ‏‏26 کلو تھا۔

  • معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چین میں کریک ڈاؤن اور ایلون مسک کے ٹیسلا کی جانب سے اسے مزید ادائیگی کے طور پر قبول نہ کرنے کے فیصلے کے بعد مئی میں کرنسی کی قیمت تیزی سے گر گئی تھی لیکن اب تین ماہ بعد سرمایہ کاروں کے رجحان میں بہتری نظر آرہی ہے اور زیادہ مرکزی کمپنیاں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال شروع کر رہی ہیں۔

    جنوری سے اب تک بٹ کوائن کی قدر میں 81 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جنوری میں بٹ کوائن صرف 27ہزار ڈالر میں ٹریڈ کر رہا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ٹریڈنگ کے دوران کرپٹو مارکیٹ میں ایک بِٹ کوائن کی قدر 3.2 فیصد اضافے کے بعد 50 ہزار 298 ڈالر ہوگئی ہے جو پاکستانی روپوں میں 82 لاکھ سے زائد بنتی ہے جب کہ رواں سال مئی کے بعد یہ بِٹ کوائن کی ریکارڈ قیمت ہے-

    اس کے علاوہ دیگر ورچوئل کرنسیز بشمول کارڈانو، اتیھریم اور ڈوج کوائن کی قیمتوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    کرپٹو کرنسی کی قدر میں اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی کمپنی پے پال نے کہا کہ وہ برطانیہ میں صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو خریدنے ، بیچنے اور رکھنے کی اجازت دے گا ۔ یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ سے باہر اپنی کرپٹو خدمات کو بڑھایا جا رہا ہے۔

    خیال رہےکہ رواں برس کے اپریل میں بِٹ کوائن کی قیمت 65 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھی جس کے بعد اس کی قدر میں کمی واقع ہورہی تھی۔

  • کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہے      شاہین شاہ آفریدی

    کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہے شاہین شاہ آفریدی

    قومی کرکٹرشاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں جلد آؤٹ کرنے میں ہر کھلاڑی نے بھرپور حصہ ڈالاکل میچ کا آخری مگر اہم دن ہے
    کوشش ہوگی ویسٹ انڈیز کو مکمل آؤٹ کرکے سیریز برابر کریں –

    باغی ٹی وی : شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ میچ جیتنے کے لیے ہمیں اچھی اور نپی تلی باؤلنگ کرنی ہوگی ہمیشہ کہتا ہوں بیٹنگ کی طرح باؤلنگ میں بھی پارٹنرشپ کی ضرورت ہوتی ہےپہلی اننگز میں محمد عباس، فہیم اشرف اور حسن علی نے عمدہ باؤلنگ کی-

    انہوں نے کہا کہ دوسرے اینڈ سے عمدہ باؤلنگ نے حریف ٹیم پر دباؤ ڈالے رکھا کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہےٹیسٹ کرکٹ میں آج اپنی بہترین باؤلنگ اپنے اہلخانہ کے نام کرتا ہوں-

    واضح رہے کہ دو میچوں پر مشتمل سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز محمد عباس اور شاہین شاہ کی شاندار بولنگ کے باعث ویسٹ انڈیز 150 پر ڈھیر ہو گئی جمیکا میں کھیلے جا رہے بارش سے متاثرہ میچ میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز پر 152 رنز کی برتری حاصل ہے-

  • (محبت  امام حسین ) حضور نبی کریم (ﷺ) کی حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے محبت تحریر چودھری عبداسلام

    (محبت امام حسین ) حضور نبی کریم (ﷺ) کی حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے محبت تحریر چودھری عبداسلام

    محرم الحرام کا نام آئے اور نواسہ رسول (ﷺ)،جگر گوشہ بتول، لختِ جگر حیدرِ کرار سید الشھداء امام حسین ؓ کی لازوال قربانی کا تصور قلوب و اذہان کو چُھو کر نہ گزرے؛ مسلمان سے اس بات کا تصور ممکن نہیں-آپ ؓ اللہ تعالیٰ کی وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کا اسم مبارک آسمانوں پہ (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس سے منظورہوکر)رکھاگیا،آپ ؓ کی نہ صرف قبل از ولادت و قبل از شہادت خبریں مشہور ہوئیں بلکہ دنیا میں ہی جنتیوں کا سردار ہونے کا لازوال شرف حاصل ہوا- حضور نبی کریم (ﷺ) آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور اپنی امّت کو بھی اپنے اہلِ بیت سے محبت کرنے کی تلقین فرمائی اور محبتِ اہلِ بیت کو اپنی محبت کے حصول کا ذریعہ بھی قرار دیا۔

    حضرت اُم الفضل بنت حارث (رضی اللہ عنہ)، رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، یارسول اللہ (ﷺ)! میں نے گزشتہ رات ایک خطرناک خواب دیکھا ہے، آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا: مَا هُوَ؟(وہ کیاہے؟) اس نے عرض کی: وہ بہت خطرناک ہے،آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا: ’’مَا هُوَ؟‘‘ آپ (رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: مَیں نے دیکھا ہے کہ آپ (ﷺ) کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے- رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ’’رَأَيْتِ خَيْرًا‘‘’’تم نے یہ اچھاخواب دیکھاہے‘‘ (اس کی تعبیر یہ ہے کہ )ان شاءاللہ (سیدہ )فاطمہ(رضی اللہ عنہ)کے ہاں بچہ پیداہوگا اور وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا-چنانچہ سیدہ فاطمۃ الزہراء (رضی اللہ عنہ) کے ہاں حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کی ولادت ہوئی اور رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان کے مطابق وہ میری گود میں دئیے گئے- (المستدرک علی الصحیحین ،باب:اَوَّلُ فَضَائِلِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الشَّهِيدِ (رضی اللہ عنہ)

    آپ ؓ کی ولادت با سعادت ہجرت کے چوتھے سال، 5 شعبان کو(مدینہ منورہ) میں ہوئی-( سیراعلام النبلاءباب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ)

    حضرت علی بن طالب ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت حسن ؓ کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین ؓ کی ولادت ہوئی تو میں ان کا نام ان کے چچاکے نام پہ ’’جعفر‘‘رکھا-آپ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا:

    ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اپنے ان دونوں بیٹوں کے نام تبدیل کروں‘‘- (حضرت علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: ’’اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‘‘-اللہ اوراس کارسول بہتر جانتے ہیں؛ پھر آپ (ﷺ) نے ان کے نام مبارک حسن اورحسین رکھے-( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،كِتَابُ الْأَدَبِ)

    ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : ’’مَیں نے ان (شہزادوں )کے نام حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد کے نام پر ’’ شَبَّر، وَشَبِير، وَمُشَبّر‘‘رکھاہے ‘‘-( باب:الحسین بن علی(رضی اللہ عنہ) أسد الغابة فی معرفة الصحابة)

    حضرت امام حسین ؓ کے فضائل و مناقب احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں :

    آپ ؓ کی ذاتِ مبارک کے فضائل و مناقب انسانی بساط لکھنے سے قاصرہے ،حصول برکت کے لیے چندروایات رقم کرنے کا شرف حاصل کیاجاتاہے –

    حضرت ابو ایوب انصاری (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اس حال میں کہ امام حسن وحسین (﷠) آپ (ﷺ)کے سینہ مبارک پہ کھیل رہے تھے،تو مَیں نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! ’’کیا آپ (ﷺ)ان دونوں سے محبت کرتے ہیں؟ توآپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا :میں ان سے محبت کیسے نہ کروں، یہ دونوں دنیاکے میرے دوپھول ہیں‘‘- ( سیراعلام النبلاء ،الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ ؓ)

    ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
    ’’جو مجھ سے محبت کرنا چاہتا ہے وہ ان دونوں شہزادوں سیدنا امام حسن ؓ اور سیدنا امام حسین ؓ سے محبت کرے‘‘-
    (مسند أبی يعلى،باب :مسند عبداللہ بن مسعود)

    ’’حضرت ابوجعفر ؓ سے مروی ہےکہ ایک مرتبہ رسول اللہ (ﷺ) انصار کی مجلس سے گزرے اس حال میں کہ آپ (ﷺ) دونوں شہزادوں کو (اپنے کندھوں پہ) اٹھائے ہوئے تھے،تو لوگوں نے عرض کی:کتنی اچھی سواری ہے! تو آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں ‘‘- (مصنف ابن ابی شیبہ،باب: مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)

    حضرت یعلیٰ عامری ؓ سے مروی ہے کہ ہم حضور نبی کریم (ﷺ) کے ساتھ ایک دعوت میں شرکت کے لیے نکلے راستے میں حضرت امام حسین ؓ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے،پس آپ (ﷺ)باقی لوگوں سے آگے تشریف لے گئے اور(حضرت امام حسین ؓ کو پکڑنے کے لیے )آپ (ﷺ)نے اپنادستِ اقدس بڑھایا،لیکن آپ ؓ کبھی اِدھربھاگ جاتے کبھی اُدھر اور حضور نبی کریم (ﷺ) خوش ہو رہے تھے یہاں تک حضور نبی کریم (ﷺ) نے آپ ؓ کو پکڑ لیا اور آپ (ﷺ)نے اپنا ایک ہاتھ مبارک آپ ؓ کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا گردن پہ رکھاپھرآپ (ﷺ)نے اپناسرمبارک جھکاکر اپنا دہن مبارک حضرت امام حسین ؓ کے دہن پہ رکھا اور انہیں بوسہ دیا اور پھر آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:

    ’’حسین مجھ سے ہیں اورمیں حسین سے ہوں یااللہ تواُس سے محبت فرما جوحسین سے محبت کرے،حسین (میرے) نواسوں میں ایک نواسہ ہے‘‘ – (مصنف ابن ابی شیبہ،باب: مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)

    حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

    ’’(حضرت)حسن ؓ و حسین ؓ میرے بیٹے ہیں جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اللہ اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے اللہ فرمائے گا اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اللہ اس سے ناراض ہوگا اور جس سے اللہ ناراض ہوگا اسے جہنم میں داخل کرےگا‘‘-یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہےلیکن ان (شیخین) نے اس کو ذکر نہیں کیا- (المستدرك على الصحيحين،وَمِنْ مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنِي بِنْتِ رَسُولِ اللہِ(ﷺ)

    حضرت علی المرتضےٰ ؓ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضوان اللّٰہ علیھم کے ہاتھ کو پکڑا اورارشاد فرمایا:

    ’’جس نے مجھ سے، ان دونوں سے،ان دونوں کے والد (محترم) سے اور ان کی والدہ (محترمہ) سے محبت کی تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا‘‘-(سنن الترمذی، کتاب المناقب)

    ’’ایک مرتبہ حضورنبی کریم (ﷺ) سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے گھرسے سیدہ فاطمۃ الزہراء ؓ کے گھرکی طرف تشریف لے گئے اور آپ (ﷺ)نے سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے رونے کی آواز سنی تو آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا :
    ’’کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ ان کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے؟‘‘

    حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سجدہ فرما رہے تھےحضرت حسن یاحضرت حسین ؓ تشریف لائے اور حضور نبی کریم (ﷺ)کی پیٹھ مبارک پہ سوار ہو گئے تو آپ (ﷺ) نے سجدہ کو لمبا فرما دیا، عرض کی گئی یارسول اللہ (ﷺ)! أَطَلْتَ السُّجُودَ؟ آپ (ﷺ)نے سجدہ بہت لمبا کیا ہے؟ تو رسول اللہ (ﷺ)نے ارشادفرمایا :
    ’’میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تو میں نے اسے جلدی سے اتارنا پسند نہ کیا‘‘-( مسند أبی يعلى الموصلی،باب: ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسٍ)

    حضرت زید بن ارقم (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت علی المرتضیٰ، سیدہ فاطمۃ الزہراء اور حسنین کریمین (رضی اللہ عنھم) سے ارشادفرمایا :جو تم سے جنگ کرے گا مَیں اس سے جنگ کروں گا اور اس سے صلح کروں گا جوتم سے صلح کرے گا‘‘- ( سنن الترمذی ، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا)

    صحابۂ کرام اور ادبِ حضرت امام حسین(رضی اللہ عنہ):

    (جب مسلمانوں کو خوشحالی ہوگئی) حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جب و ظائف مقرر فرمائے، غزوہ بدرمیں شریک حضرات کے لیے پانچ پانچ ہزار وظیفہ مقرر فرمایا اور بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ کے صاحبزادوں کے لیے دو دو ہزار وظیفہ مقررفرمایا سوائے حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنھم کے – ’’رسول اللہ (ﷺ) کی قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے حسنین کریمین (﷠) کاوظیفہ ان کے والد حضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) جتنا (پانچ ہزار) مقررفرمایا- (حالانکہ آپ (رضی اللہ عنہ) نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر کے لیے بھی تین ہزار وظیفہ مقرر فرمایا )‘‘-( الطبقات الکبرٰی لابن سعدؒ،باب: ذِكْرُ اسْتِخْلافِ عُمَرَ )

    امام زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضور نبی کریم (ﷺ)کے اصحاب (﷢) کو جب کپڑے دیئے (تو آپ کی سوچ کے مطابق ) ان کپڑوں میں حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین(رضی اللہ عنھم) کی شان کے مطابق کوئی کپڑانہ تھا؛ ’’تو آپ ؓ نے ایک شخص کو یمن بھیجا وہ ان دونوں شہزادوں کے لیے لباس لے کرآیااور(جب کپڑے آگئے تو)آپ ؓ نے فرمایا :اب میرادل خوش ہوگیا‘‘- ( مسند أمير المؤمنين أبی حفص عمر بن الخطاب ؓ، (لابن کثیرؒکتاب الجھاد)

    حضرت مدرک بن عمارہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو دیکھا وہ حضرت حسن اور حضرت حسین (رضی اللہ عنھم) کی سواری کی لگام پکڑئے ہوئے ہیں- آپ سے عرض کئی گئی :کیا آپؓ حسنین کریمین (رضی اللہ عنھم) کی سواری کی لگامیں تھامے ہوئے ہیں حالانکہ آپ (رضی اللہ عنہ) ان سے بڑے ہیں ؟توآپ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:

    ’’بے شک یہ دونوں رسول اللہ (ﷺ)کے نواسے ہیں تو کیا یہ میرے لیے سعادت نہیں کہ میں ان کے سواری کی لگام کو تھاموں‘‘- ( تاریخ دمشق لابن عساکر،باب: الحسين بن علی بن أبی طالبؓ)

    ’’حضرت عمروبن العاص ؓ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے جب آپ نے حضرت حسین بن علی ؓ کو آتے ہوئے دیکھاتو آپ ؓ نے فرمایا:
    ’’یہ ہستی آج مجھے زمین و آسمان میں سب سے زیادہ محبوب ہے‘‘- (تہذیب التہذیب للعسقلانیؒ،باب:الحاء)

    حضرت ابوالمہزم ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوھریرہ ؓ اپنے کپڑے کے کنارے سے سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ) کے قدمین شریفین سے مٹی جھاڑ رہے تھے تو حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا: اے ابوھریرہ! آپ یہ کیاکررہے ہیں؟ تو حضرت ابوھریرہ (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا:

    ’’مجھے چھوڑدیجیے،اللّٰه رب العزت کی قسم !اگر لوگوں کو آپ کے بارے میں وہ علم ہوجائے جومیں جانتاہوں تو وہ آپ کو اپنے کندھوں پہ اٹھالیں ‘‘- ( الطبقات الکبرٰی کتاب:الحسين بن علیؓ)

    اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار بالخصوص حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائیں کہ آپ کی محبت سے ہی حضور نبی کریم(ﷺ) کی محبت اور رضا حاصل ہوتی ہے۔ اور ہمیں یزید ملعون اور اس کے کے ساتھ مل کر حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے جنگ کرنے والوں اور بے وفائی کرنے والوں کے گمراہی والے راستے پر چلنے سے بچا کر رکھے۔ آمین۔

    @ChAbdul_Salam

  • تیرا قصور یہ ہے کہ تو غریب ہے تحریر: سحر عارف

    تیرا قصور یہ ہے کہ تو غریب ہے تحریر: سحر عارف

    جیسا کہ پہلے بھی اس حوالے سے ذکر ہوا کہ ہمارے معاشرے میں آج ایک غریب کی کیا حیثیت ہے۔ آج یہاں غریبوں کے لیے نہ تو کوئی احساسات ہیں اور نا ہی اس کی کوئی عزت۔ اب مقام اور عزت کا حقدار تو صرف امیر ہی کے لیے ہے۔ جس کے پاس جتنا پیسہ اتنی اس کی عزت اور مقام معاشرے میں۔ یہ ہے تو ایک حقیقت پر ہے بہت تلخ ٹھیک ویسے ہی جیسے سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔

    پچھلی بار بات ہوئی کہ کس طرح غریبوں کو تعلیم اور روزگاری کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر ان کی وجہ سے وہ کس قدر احساس کمتری کا شکار بھی ہوتا یے۔ لیکن صرف بات تعلیم اور روزگار پر ہی ختم نہیں ہوتی۔ یہاں ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی غریب کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے انہیں کبھی بھی انصاف نہیں ملا۔

    ظلم پہ ظلم کی انتہاء تو دیکھیں ایک تو زیادتی بھی غریب کے ساتھ ہو اور پھر اسے انصاف نہ دیتے ہوئے اس پر ایک اور زیادتی بھی کی جائے۔ اپنی زندگی میں ایسے واقعات بھی دیکھے ہیں جہاں پہ ہمیشہ بیچارے غریب کو شکست سے دوچار ہونا پڑتا یے۔ غریبوں کو تو صدیاں لگ جاتی ہیں اپنے جائز انصاف کے حصول کے لیے پر پھر بھی ناکامی اور شکست منہ کھولے ان کا انتطار کر رہے ہوتے ہیں۔

    پہلے غربت ان کی کمر توڑ دیتی ہے اور پھر رہی سہی کسر عدالتوں کی ناانصافی پوری کر دیتی ہے۔ آپ خود کو ایک غریب مجبور انسان کی جگہ رکھ کر دیکھیں ایک ایسے بےبس انسان کے جو ہر جگہ اپنی غربت کی مار کھا جاتا ہے۔ جب اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف تھک ہار کر عدالت کا رخ کرتا ہے صرف اپنے حق کا انصاف لینے کے لیے تو ایسے میں سب سے پہلے عدالت کی لمبی لمبی پیشیاں بھگتنا پڑتی ہیں۔

    پھر وکیلوں کو اپنی اوقات سے بڑھ کر اپنا سب کچھ بیچ کر انہیں ان کی فیسیں دیتا ہے اور ساری عمر جوانی سے بڑھاپے تک صرف انصاف کے انتظار میں بیٹھے رہتا ہے۔ آخر میں وہی عدالت اور عدلیہ منہ چڑا جاتے ہیں۔ پھر دوسری طرف ایک امیر کی مثال لے لیں اس کے لیے تو ہمارے ملک کی عدالتیں اور عدلیہ ہمیشہ پیش خدمت رہتے ہیں۔ جنہیں نا تو انصاف انصاف کے لیے بار بار عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے اور نا ہی اپنی شکست کا کوئی ڈر ہوتا ہے۔

    کیونکہ ان کے پاس دولت کی فراوانی ہوتی ہے جو انہیں مضبوط اور طاقتور بنائے رکھتی ہے۔ پھر دوسری طرف چلتے ہیں آج کے دور میں غریب جہاں بہت سی مشکلات کا شکار ہے وہیں جب وہ کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو ایک اور نئ دشواری ان کا انتطار کیے ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو پھر اس کے علاج کے لیے اچھی خاصی رقم بھی درکار ہوتی ہے۔

    جس سے وہ اپنی ادوایات کا خرچہ اٹھا سکے۔ پر یہاں بھی ایک غریب کیا کرے؟ ابھی تک تو ان کے لیے بہت ہی مشکل وقت تھا کیوں کہ اس ملک میں غریب کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہوتا تھا کہ بروقت اپنا صحیح علاج کروا سکے اور اس کے برعکس ایک امیر کو اگر کوئی معمولی سے معمولی بیماری بھی ہوتی تو وہ علاج کے لیے باہر کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ پر اب اس نئے پاکستان میں بہت سی امید کی کرنیں نظر آئی ہیں۔

    جس کی سب سے بڑی مثال احساس صحت کارڈ ہے۔ جس کی بنیاد وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حال ہی میں رکھی ہے۔ اس کی وجہ سے اب غریب کی کچھ ہمت بندھی ہے۔

    @SeharSulehri

  • تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ  تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    حیا کیا ہے کوئی بھی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے قبل دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہوتی ہے اسے حیا کہتے ہیں۔ اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ اپنے رب سے تعلق میں مضبوط ہو گا اور گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا کی صفت نمایاں تھی ہمیں آج سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے احساس پسند تھے کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے تھے یہ درس ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے۔ آپﷺ نے گناہ میں گواہ بنانے سے سخت منع فرمایا.

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلی ترین اخلاق میں بھرپور ادب نظر آتا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد محترم کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزار سکے مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔ اپنی رضاعی حضرت والدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں کا احترام فرماتے ہمیں بھی یہ سمجھنا چاہیے اور اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے مراد با ادب با مراد۔
    ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت اور احساس جیسی اعلی عادات بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ بھلا کسی کی کیا احساس کرے گا؟
    خدمت خلق اللہ تعالٰی کا یہ پسندیدہ عمل ہے۔ جس ستمے تکبر کا عنصر ختم ہوتا اور احساس کو فروغ ملتا ہے اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ صفت نمایاں تھی۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی رب العالمین کی رضا کے لیے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے اور ترغیب دیتے تھے۔ آج اس عمل کی اشد ضرورت ہے.

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے. پاکیزگی کے عمل پر زور دیا اور فرمایا اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ اس سے مراد من کی خوبصورتی ہے اعمال کی پاکیزگی کی ناکہ رنگت کی. کیونکہ اللہ کریم پسندیدہ بندوں میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں جس سے رنگ کے امتیاز کی نفی کی گئی ہے. آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ منع فرما دیا اور کہا شخص نماز نہ پڑھائے۔ پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب الہی ہوتا ہے۔ کتنی خوبصورتی سے امت کو پاکیزگی کا درس دیا گیا ہے آپ ﷺ کے بے شماد مزید فرامین موجود ہیں. جن سے مقصد زندگی اور اصول زندگی کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے

    اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں اصول زندگی سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

    @EngrMuddsairH