Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    بعض اوقات ہمیں بہت سی چیزیں سمجھ نہں آرہی ہوتی اور دماغ بہت منتشر سا ہوتا ہے اور آپ کو سمجھ نہں آرہا ہوتا کے کس طرح سے دماغ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات
    تحریر
    خالد عمران خان کو سکون میں لایا جائے تو اس کا ایک آسان طریقہ کوئی اچھی سی کتاب پڑھیں چائیے وہ کلام پاک ہو اِسکا سکون ہی الگ ہے لیکن اس کے علاوہ اگر آپ کہانیوں کی کتابیں پسند کرتے ہیں تو وہ یہ اپنے پسندیدہ مضبون کی کتاب پڑھیں کتاب پڑھا آپکے دماغ کو سکون پنہچاتا ہے۔آزما لیں.

    کتابیں آپکو ہر جگہ مل جاتی ہیں۔ لائبریریاں بڑی اور چھوٹی اور کتابوں کی دکانیں پورے کالج کیمپس اور بڑے شہروں میں آسانی سے ہر طرح کی کتابیں دستیاب ہیں۔ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ کتابیں تلاش کرنے کے لیے متعدد جگہوں کے بارے میں آپکو بتا بھی دیتے ہیں اچھی کتابیں تلاش کرنا مسئلہ نہں۔ جو لوگ کتابوں کے مداح نہیں ہیں وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کے کتابوں۔ میں ایسا کیا ہے کہ قارئین کو کتابوں کے بارے میں جنون میں مبتلا کرنے کا کیا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے جنون کی ایک وجہ ہے۔ آپ اسے ہر وقت سنتے ہیں دوسروں سے سنتے ہیں.

    اگرچہ پڑھنا سادہ تفریح ​​کی طرح لگتا ہے ، لیکن سب سے اچھی بات یہ آپ کے یہ آپ کے جسم اور دماغ کی مدد کر سکتا ہے یہاں تک کہ آپ کو احساس بھی ہو کہ کیا ہو رہا ہے كس طرح سے کتابیں پڑھنا آپکی زندگی پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر پڑھنا زیادہ اہم ہو سکتا ہے نہ کہ صرف علم۔ وہ لوگ جو کتابیں پڑھنے کی لذت نہں جانتے ایسے لوگوں کے لیے جو پڑھنا پسند نہیں کرتے فوائد کے بارے میں سن کر آپ اپنا خیال بدل سکتے ہیں۔ کیا پڑھنے جیسی آسان اور تفریحی چیز آپ کی زندگی میں اتنی مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیا فائدے ہو سکتے آپ کو کتابیں پڑھنے کے؟ یقینا آپکو سمجھ آجائے گی کے کتابیں پڑھنا کتنا اثر رکھتا ہے اور یہ کیا اثر کر سکتا ہے! پڑھنا آپ کے لیے بہت سے مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے – جیسے آپ کے ذہن ، تخیل اور لکھنے کی مہارت کو تیز کرنا۔ پڑھنے کے بہت سے فوائد کے ساتھ ، کم از کم کچھ پڑھنا روزانہ کا معمول ہونا چاہیے۔
    کتابیں پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ہمارے خیالات کو ترقی دیتا ہے ، ہمیں لامتناہی علم اور اسباق دیتا ہے جبکہ ہمارے ذہنوں کو متحرک رکھتا ہے۔ ہم بہت کچھ ان کتابوں سے سیکھتے ھیں وہ ہماری دینی کتابیں ہوں یا دنیاوی کتابیں.
    کتابیں ہمیں بہت کچھ سیکھا تی ہیں ہم اپنے کسی بھی کام میں بہتری لانا چاہتے ہیں اپنے مزاج میں بہتری لانا چاہتے ہیں یہ اِرد گِرد کے لوگو میں تو یہ علم بھی ہیں کتابوں آی حاصل کر سکتے ہیں دین دنیا دونوں کے متعلق ہمیں ان سے معلومات مل جاتی ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی چیز کے برعکس ہر قسم کی معلومات ، کہانیاں ، خیالات اور احساسات رکھ سکتی ہیں۔ چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں ہماری مدد کے لیے کتاب کی خاصیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

    پر سکون نیند کے لیے بھی آپ کا کتابیں پڑھنا بہت فائدے مند رہتا ہے اگر آپ سونے سے پہلے کس اچھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ آپکو کو سونے میں مدد کرتا ہے آپکے خیالات کو بھٹکنے سے روکتا ہے اور آپ ایک پر سکون نیند سو سکتے ہیں آزما کے دیکھیں۔

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • ہماری معیشت کو درپیش مساٸل تحریر:شمسہ بتول

    ہماری معیشت کو درپیش مساٸل تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان کی معیشت کو اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندرونی طور پر معیشت کو درپیش مساٸل میں کم برآمدی شعبے ، سستی درآمدات پر زیادہ انحصار ، ایندھن اور توانائی کی زیادہ قیمت ، اعلی شرح سود ، کم تربیت یافتہ لیبر فورس ، سرمایہ کاری پر کم منافع ، جدید ٹیکنالوجی کی کمی وغیرہ شامل ہے ۔ان معاشی مسائل نے ایک بڑی آبادی کے لیے موثر طریقے سے پیداوار کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے اور ان سب کی وجہ سے بالواسطہ طور پر بیرونی معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے توازنِ اداٸیگی میں بگاڑ ہیدا ہوتا جس نے ملک کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے قرض کے بوجھ تلے دبا دیا اور آٸی ۔ایم ۔ایف کی سخت پالیسیز کو اپنانے پہ مجبور کر دیا۔گھریلو صنعت اور پیداوار کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لیے ہمیں معاشی پالیسیز کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر صنعت کو بڑھانے کے لیے مزید درآمدات کی جاٸیں تو اس طرح ہمارے اپنے غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہو گی یا وہ ختم ہو جاٸیں گے۔ غیر ملکی ذخائر میں کمی ناپسندیدہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا باعث بنتی ہے جس سے ہماری معیشت مزید ابتری کی طرف جاۓگی۔ ہمیں اپنی درآمدات کو کم سے کم کرنا ہو گا اور متبادل ذراٸع دریافت کرنا ہوں گے تا کہ کرنٹ اکاٶنٹ خسارے سے بچا جا سکے ۔
    آئی ایم ایف کی سخت پالیسیز اور سود کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے ہماری معیشت مزید کمزور ہو رہی ۔ ملک کا یہ کمزور معاشی ڈھانچہ ایک تنگ صنعتی بنیاد ، کم برآمدات ، زیادہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں ، متضاد تجارتی پالیسیوں ، غیر صنعت کاری کا نتیجہ ہے۔فاٸنل اشیاء کی برآمدات اور خام مال کی درآمدات ملکی وساٸل کا بہترین استعمال نہ کرنا یہ سب ناقص معاشی کارکردگی کی وجہ بنتی ہیں جب برآمدات درآمدات سے کم ہوتی ہیں تجارتی خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تجارتی خسارہ ملک کے قیمتی غیر ملکی ذخائر کو کھا جاتا ہے۔ یہ تجارتی خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی برآمدات تقریبا $ billion 22 فراہم کرتی جبکہ اس کی درآمدات $ 52bn کے گرد گھوم رہی ہیں۔ 30 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ جو ہوا اسے قرض لے کر پورا کیا جاتا پھر world Bank ہو یا IMF یہ ترقی یافتہ ممالک کے اصولوں پہ عمل کرتے ہوۓ ترقی پزیر ممالک کو سخت شراٸط پر قرض دیتے جس سے آہستہ آہستہ ہماری معیشت مزید خسارہ کا شکار ہونے لگتی
    آئی ایم ایف سے قرض لینے سے عارضی طور پر تو کرنٹ اکاٶنٹ خسارہ کنٹرول ہو جاتا ۔ لیکن یہ مصنوعات کو مہنگا کر دے گا ہماری روپے کی قدر مزید گر جاتی اور اس طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ۔ یہ معیشت کے لیے غیر متنازعہ صورتحال پیدا کرتا ۔
    موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ڈالر کے مقابلے میں ہمارے روپے کی قدر مزید گری اور ڈالر 112 سے 165 روپے تک مہنگا ہوا۔ پاکستان قدرتی زخاٸر سے مالا مال ملک ہے ہمارے پاس وہ تمام وساٸل موجود ہیں جن کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے ہم معیشت کے بہت سے مساٸل پر قابو پا سکتے۔ہمارے پاس لیبر فورس کی بھی کوٸی کمی نہیں لیکن ہمیں اس لیبر فورس کو ٹرینگز دینا ہو گی انہیں سکلز سکھانا ہونگی ۔ ہمارے پاس خام مال کے وسیع زخاٸر ہیں ہم ان وساٸل کو استعمال کر کے اشیاء کو اپنے ملک میں پیدا کرنے پر ترجیح دیں اور فاٸنل پروڈکٹس کو عالمی منڈی میں پیش کریں۔ ہماری صنعت تباہ حالی کا شکار اسلیے بھی ہے کیونکہ ہم خام مال سستے داموں درآمد کرتے اور مہنگے داموں ان سے اشیاء خریدتے جسکی وجہ سے توازن اداٸیگی بگڑ جاتا۔ لیکن اگر ہم اس خام مال سے خود اشیاء تیار کریں گے تو اس سے ہماری معیشت پر اچھا اثر پڑے گا ہماری گھریلو صنعت کو فروغ حاصل ہو گا لوگوں کو روزگار ملے گا اور ہمارے زرمبادلہ میں بہتری آۓگی
    ہزاروں مسائل سے دوچار معیشت کی بحالی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں قرضوں کا یہ سلسلہ ہماری آنے والی نسلوں تک جا رہا 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ تقریباً 130,000 کا مقروض ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہوا ہی نظر آ رہا۔ اس وقت بیرونی قرضہ 116.3 بلین ڈالر ہے۔معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف ڈیل پر انحصار کرنا ایک خوفناک غلطی ہوگی۔ ہمیں اپنے وساٸل اپنی لیبر فورس اور انسانی سرماۓ کے وساٸل کو بروۓ کار لانا ہو گا ایک بہترین انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہو گا جو معیشت کو بحالی کی طرف لے جاۓ ورنہ مستقبل میں ہمیں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    @b786_s

  • سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    کسی بھی چیز کی زیادتی کو اسکی عادت ہو جانے کو نشے کا نام دیا جاتا ہے ،پھر وہ نشہ وہ عادت چاہے کسی چیز کی ہو یا انسان کی آپکو تباہی کے دہانے تک لے جاتی ہے جہاں آپ اپنی زندگی اور اپنے سے جڑے لوگوں کیلیے صرف باعث تکلیف بن کر رہ جاتے ہیں
    یوں تو بہت سے نشے ہیں لیکن سب سے سستہ اور نوجوان نسل میں برقی رفتار سے پھیلتا ہوا نشہ سگریٹ نوشی ہے
    سگریٹ نوشی دو طرح کی ہوتی ہے
    ایکٹو سموکنگ، جس میں کوئی بھی شخص براہ راست سگریٹ نوشی کرتا ہے اور اس زہریلے دھویں زہریلے مواد کے ساتھ اپنی رگوں میں اتار کر لمحہ لمحہ موت کو قریب کرتا ہے۔
    اور
    پیسو سموکنگ ،جس میں آپ بذات خود سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن آپ کے ارد گرد موجود سگریٹ نوشوں کے سگریٹ کا دھواں ہوا میں شامل ہوکر آپکے پھیپھڑوں تک جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی نا صرف ہمیں معاشرتی طور پر تباہ و برباد کرتی ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتی ہے ، اور جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جن میں مبتلا ہو کر ہر سال لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔
    سگریٹ نوشی سے ہونے والی دس بڑی بیماریاں اور ان کے جسم انسانی پر اثرات درج زیل ہیں

    1 پھیپھڑوں کا کینسر
    ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث موت کا شکار ہونے والے دس لاکھ افراد میں سے %85 ایسے لوگ ہیں جن میں کینسر کا سبب سگریٹ نوشی ہے ۔
    سگریٹ میں موجود زہریلے مرکبات سانس کی نالی سے ہوتے ہوئے پیپھڑوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور خلیات کو تباہ کرتے ہیں ۔ مرض کے ابتدائی دور میں اسکی علامات ظاہر نہیں ہوتی عموما اس کی تشخیص آخری مراحل میں ہوتی ہے ۔اسکی عام علامات میں ،مسلسل کھانسی ،کھانسی کے دوران منہ سے خون کا آنا،سانس لینے میں رکاوٹ ،سینے کی تکلیف ،اور سر درد وغیرہ شامل ہیں
    بر وقت ڈاکٹر سے رجوع،سگریٹ نوشی کا بائیکاٹ ،مکمل احتیاط اور علاج کے زریعے اس بیماری سے چھٹکارہ ممکن ہے
    2. (دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری) COPD
    ایک رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری ہے جس کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سنگین طویل مدتی معذوری اور ابتدائی موت کا سبب بنتا ہے۔ سی او پی ڈی تھکاوٹ سے شروع ہوتی ہے اور، پھر خراب ہوتی جاتی ہے ، یہاں تک کہ سیڑھیوں کے مختصر سیٹ پر چڑھنا یا پیدل چلنا ناممکن ہے۔ یہ لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کردیتی ہے ، اپنی پسند کی چیزیں کرنے یا دوستوں کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ تمام سی او پی ڈی کا تقریبا 80 فیصد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    3۔دل کی بیماری
    تمباکو نوشی آپ کے جسم کے تقریبا ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے ، بشمول آپ کے دل۔ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں میں رکاوٹ اور تنگی کا سبب بن سکتی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ آپ کے دل میں خون اور آکسیجن کا بہاؤ کم ہے۔ جب امریکہ میں سگریٹ کا استعمال کم ہوا تو دل کی بیماریوں کی شرح بھی کم ہوئی۔ پھر بھی ، دل کی بیماری امریکہ میں موت کی پہلی وجہ بنی ہوئی ہے۔

    4.دمہ/ استھما
    دمہ پھیپھڑوں کی ایک دائمی بیماری ہے جو آپ کے پھیپھڑوں سے ہوا کو باہر سے اندر اوراندر سے باہر منتقل کرنا مشکل بناتی ہے – دوسری صورت میں اسے "سانس لینے” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چونکہ سگریٹ کا دھواں ہوا کے راستوں کو پریشان کرتا ہے ، یہ اچانک اور شدید دمہ کے حملوں کو متحرک کرسکتا ہے۔ دمہ ایک سنگین صحت کی حالت ہے۔ تمباکو نوشی اسے مزید خراب کرتی ہے۔

    5۔زیابیطس
    اگر آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو آپ کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 30 سے ​​40 فیصد زیادہ ہے۔ مزید برآں ، تمباکو نوشی ذیابیطس کی تشخیص کے بعد پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھاتا ہے ، جیسے دل اور گردے کی بیماری ، ٹانگوں اور پیروں میں خون کا ناقص بہاؤ (جو کہ انفیکشن اور ممکنہ کٹائی کا باعث بنتا ہے) ، اندھا پن اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    6۔اسٹروک
    چونکہ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے ، اس لیے یہ فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ فالج اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے دماغ کو خون کی فراہمی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ دماغ کے خلیات آکسیجن سے محروم ہوتے ہیں اور مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ فالج ، دماغی فعل میں تبدیلی اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اسٹروک ریاست ہائے متحدہ میں موت کی پانچویں اہم وجہ اور بالغ معذوری کی ایک اہم وجہ ہے۔

    7۔اندھا پن ، موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط۔

    تمباکو نوشی آپ کو اندھا کر سکتی ہے۔ یہ آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔ عمر سے متعلق میکولر انحطاط تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ 65 اور اس سے زیادہ عمر کے بالغوں میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    8۔خواتین میں تولیدی اثرات۔

    تمباکو نوشی عورتوں میں ایکٹوپک حمل کا سبب بن سکتی ہے ، جو اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرٹیلائزڈ انڈا بچہ دانی کے علاوہ کسی اور جگہ لگاتا ہے۔ انڈا زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر علاج نہ کیا گیا تو ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی بھی زرخیزی کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے ، اس کا مطلب حاملہ ہونا زیادہ مشکل بناتا ہے۔

    9۔قبل از وقت ، کم پیدائشی وزن والے بچے۔
    تمباکو نوشی کے اثرات نہ صرف ماں کی صحت پر بلکہ اس کے بچے پر بھی پڑتے ہیں۔ حاملہ ہونے کے دوران تمباکو نوشی سے بچے وقت سے پہلے اور کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہت جلد یا بہت چھوٹے پیدا ہونے والے بچوں میں صحت کی پیچیدگیوں اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    10. کینسر کی 10 سے زائد دیگر اقسام بشمول بڑی آنت ، گریوا ، جگر ، معدہ اور لبلبے کا کینسر

    بنیادی طور پر ، تمام کینسر۔ کینسر کے مریضوں اور زندہ بچ جانے والے دونوں کے لیے ، سگریٹ نوشی کرنے والوں میں دوسرا پرائمری کینسر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اور اب ہم جان چکے ہیں کہ تمباکو نوشی کم از کم ایک درجن کینسر کا سبب بنتی ہے ، بشمول جگر اور کولوریکٹل ، اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی بقا کی شرح کو کم کرتی ہے۔
    لہذا حکومت اور ہر ایک شخص تمباکو نوشی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے

  • جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے  تحریر اکرام اللہ نسیم

    جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان میں جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ناقابل یقین درجے تک بڑھ چکے ہیں
    بچوں کے ساتھ زیادتی کو روکنا عام آدمی کے لئے کیا حکومت وقت کے لئے بھی روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں
    صرف اگر ہم حال ہی کے مینار پاکستان واقعہ کو لے لیں اسپر غور و فکر کریں تب جاکرسمجھ آسکتا کہ معاشرے میں بستے انسانوں کے آنکھوں سے حیا دل سے ایمان اور انسانیت پر رحم کھانے کا حس مردہ ہوچکا
    کسی کے دل میں رحم باقی نہیں رہا انسانیت صرف نام کی حد تک رہ گئی دلوں کو زنگ لگ چکے زبان سے غلاظتوں کے تیر نکل رہے ہیں خوف خدا ختم ہو چکا
    جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے روک تھام کے لیے سب سے پہلے والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہن سازی کریں کہ بیٹا اگر کوئی عام آدمی آپکو پکڑتا ہے آپ کو پیار کرتا ہے مطلب چمی وغیرہ لیتا ہے اس آدمی کا کوئی حق نہیں کہ وہ آپ کو پیار کرے یہ صرف والدین کا حق ہے کسی دوسرے بندے کا حق نہیں
    دوسری بات والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں ذہن سازی کریں اگر بیٹا ہے اسے سمجھائیں کہ کسی کی ماں بہن بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا کیوں کہ اسلام نے اس طرح کے افعال منع کیا ہے اس میں گناہ ہے اللہ ناراض ہوتا
    اور اگر بیٹی ہے تو اسے بھی سمجھائیں کہ بیٹی کسی غیر محرم مرد کے ساتھ باتیں نہ کرنا اسکی طرف نگاہیں اٹھا کر نہ دیکھنا اسلام نے ان چیزوں کو سختی سے منع کیا ہے
    اور یہ ذہن سازی اگر بچوں کی بچپن سے کی جائے تو اسکا بہت فائدہ ہوتا ہے
    جب بچہ اور بچی ان غیر شرعی افعال سے بچ جائیں گے اور معاشرے کے اندر جو موجودہ بگاڑ بچوں کے ساتھ زیادتی کی صورت میں سامنے آرہا ہے بلکل کم ہو جائے گا
    اسکے بعد ذمہ داری استاد کی بنتی ہے کہ استاد بچوں کو سمجھائیں انکو اس بارے میں لیکچر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مردوں اور عورتوں کے لئے احکامات بھیجیں ہیں
    قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)
    ترجمہ
    مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے ۔
    اسی طرح نگاہیں جھکا کر رکھنے اور حرام چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کی ترغیب دیں استاد
    اکثر احادیث مبارکہ میں بھی مسلمان مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے
    اور اسی طرح کا حکم عورتوں کے لیے بھی اللہ نے سورت النور کے اندر بیان فرمایا
    وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اَخَوَاتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التَّابِعِيْنَ غَيْـرِ اُولِى الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّـذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرَاتِ النِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۚ وَتُوْبُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ جَـمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُـوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
    اگر یہی ترغیب استاد ہفتہ وار بچوں کو دیں
    تو ان شاءاللہ اللہ رب العزت سے قوی امید ہے کہ معاشرے میں جو آئے روز جنسی زیادتیوں کے واقعات رونما ہوتے ہیں اس میں کافی حد تک کمی آجائے گی مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نہ تو بچوں کی اس بارے میں ذہن سازی کی جاتی ہے اور نہ ہی انکو قرآن مجید اور احادیث میں ان افعال سے روکنے کے لئے ذکر کردہ احکام کی تعلیم دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں جسکی وجہ سے جنسی ہراسگی کے واقعات تیزی سے بڑھتے چلے جارہے ہیں
    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
    @realikramnaseem

  • مُضَرصحت”  (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    مُضَرصحت” (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    اس جَدید دور میں اب ایک عام انسان کے پاس بھی اتنی معلومات ہوتی ہے کہ اب ہر کوئی جانتا ہے تَمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے پھر بھی کچھ افراد اپنی صحت کا نہیں سوچتے اور اسکا استعمال مسلسل کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔ تمباکو میں ایک کیمیائی مادہ نکوٹین شامل ہوتا ہے جو کہ زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتا ہے جس سے وقتی طور پہ تسکین حاصل ہوتی ہے مگر یہ انتہائی زہریلا ہوتا ہے اس سے گردے بھی متاثر ہوتے ہیں اور زیادہ استعمال سے گردے فیل ہوجاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ بھی بلڈ پریشر ،ہارٹ اٹیک انجائنا جیسی بیماریاں گھر کر لیتی ہیں ۔ پھیپھڑوں پہ بھی برا اثر پڑتا ہےسب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کتنا مضر زہر ہے سب یہ زہر خود خوشی سے خریدتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے دشمن کیوں ؟ کیا لوگ یہ سب شوق سے کرتے ہیں ؟ انکی اس حالت کا ذمہ دار کون؟ یہ خود یا ان سے جڑے افراد یا پھر حکومت ؟؟بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے مسئلوں میں اس کدھر الجھ جاتا ہے اسکو سکون تک میسر نہیں ہوتا افراتفری کا یہ عالم ہے کہ مصروفیت کے باعث اب انسان خود کے لیے بھی ٹائم نکال نہیں پاتا بعض افراد خود کو پریشانیوں کا گھر سمجھ کے تمباکو نوشی کا استعمال کر کے خود کو مسئلوں سے دور کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں انکو لگتا ہے اسکے استعمال سے انکے ذہن کو سکوں میسر ہوگا ۔جبکہ کچھ افراد دیکھا دیکھی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ایسے دوستوں کے ساتھ بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں یہ کام صیحح سمجھ کے انکی نقل کرتے ہیں مگر کیا یہ صیحح عمل ہے ؟؟جب ایک بار یہ لت لگ جائے اس سے چھٹکارا آسانی سے نہیں ملتا بروقت روک تھام سے علاج سے ممکن ہے کہ وہ انسان صحت یاب ہوجاتا ہے پر جو پوری طرح سے اس دلدل کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں نشہ انکے اندر اس قدر سرایت کر چکا ہوتا ہے کہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے نشہ نا ملنے پہ وہ انسان گھر والوں سے جھگڑا کرتا ہے مار پیٹ کرتا ہے پیسے ادھار لیتا رہتا ہے نا صرف گھروالے گردونواح والے بھی اس سے تنگ آجاتے ہیں۔ ایسے افراد بہت سے جرائم کی وجہ بننے لگتے ہیں ۔یہ سب خریدنے کے لیے وہ گھروں میں چوری بھی کرنے لگتے ہیں اپنے بال بچوں کا بھی نہیں سوچتے ۔اسکی روک تھام جلد از جلد ہونی چاہیے حکومت کو ایسے افراد کو پکڑ کے سزا دینی چاہیے تاکہ وہ ان چیزوں کی فروخت نہ کرسکیں اور نوجوان نسل کو اس راہ پہ ڈال کے اس ملک کے نوجوانوں کو گمراہ نہ کر سکیں ۔ ایسے اقدام زیادہ تر سکول کالجز میں زیادہ ہوتے ہیں اساتذہ بچوں پہ نظر رکھیں اور والدین بھی اپنے بچوں پہ نظر رکھیں اور تمباکو نوشی سے بچا کے رکھیں -جو لوگ دوسروں کو نشہ لگانے میں مصروف ہوتے ہیں ایسے لوگ ایک ایماندار آفیسر کو تو ٹکنے نہیں دیتے جو بھی انکے راستے میں آئے یا انکے خلاف بولنے لکھنے کی کوشش بھی کردے اسکو نقصان ہی ملتا ہے حکومت سے اپیل ہے اس مسئلے پہ نظرِ ثانی کریں ۔تمباکو نوشی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہےنوجوان نسل کو پوری طرح سے تباہ کرنے میں یہ تمباکو نوشی ایک ہتھیار بنا ہوا ہے ۔ماوں کے لاڈلے بچوں کو اس راہ پہ چلا کے ان ماوں کا سہارا چھین لیا جاتا ہے پیسہ کی خاطر ضمیر فروش افراد اپنی ہی نسل کے دشمن بنے ہوئے ہیں احتیاط ضروری ہے بچوں پہ دھیان دیں ایسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں ۔ اور ایسے افراد کو گرفتار کیا جائے جو نوجوان نسل کو نشے میں لگانے کی کوشش میں سرگرم ہیں ۔ خود پہ خیال رکھیں ایسے میل جول سے پرہیز کریں۔ جو اپکی ذات کو نقصان پہنچائے ۔

    #افشین
    @Hu__rt7

  • ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    ۔ڈریم لینڈ خوبصورت اٹلی تحریر فرزانہ شریف

    اٹلی یورپ کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے جسے ہم ڈریم لینڈ بھی کہہ سکتے ہیں ۔اور پورے یورپ کے لیے ایسے ہی حثیت رکھتا ہے جیسے ہمارے لیے سعودی عرب ۔مطلب مقدس شہر ۔۔
    ۔یہاں اتنے تاریخی مقامات ہیں کہ آپ اگر گھومنا شروع کردیں ایک سال لگ جائے دیکھنے میں اور تاریخی مقامات ختم نہ ہوں یہاں کے لوگ بہت اچھے بہت بااخلاق ہر دم مدد کے لیے تیار رہنے والے ۔اور خوبصورتی میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہیں وجہ یہاں لوگ اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھتے ہیں اتنا خیال کہ آپ کو یہاں 90فیصد لوگ سلم سمارٹ نظر آئیں گے ۔90 سال کے لوگ آپ کو ایسے لگیں گے جیسے یہ 40 سال کے ہیں صرف وجہ حد سے ذیادہ فٹنس اور ہشاش بشاش ۔۔۔
    ۔یہاں کی قومی خوراک پیزا۔ہے پاستا اور پیزا یہاں ایسے کھایا جاتا ہے جسے ہم پاکستان میں دال سبزی کھاتے ہیں ۔۔۔۔اور مچھلی ۔یہاں کی مرغوب غذا جیسے پاکستان میں ہم بریانی پسند کرتے ہیں دنیا کی ہر قسم کی یہاں پنیر ۔چیز تیار کی جاتی ہے یہاں زیتوں کا تیل عام کھانوں میں یوز کیا جاتاہے صرف فرائی چیزوں میں مکئی یا پھر مونگ پھلی ۔سورج مکھی کا تیل یوز کیا جاتا ہے ۔چونکہ یہاں زیتون کثرت سے کاشت کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں زیتون کھایا بھی بہت جاتا ہے اور تیل بھی نارمل قیمت سے ملتا ہے کہ ہر انسان کی پہنچ میں ہے ۔یہاں 99فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔یہاں کی گورنمنٹ ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح سفید پوش عوام کا بہت خیال رکھتی ہے ان کی بجلی گیس کے بل معاف ہوتے ہیں ان لوگوں کےجن کے تین بچے18 سال کی عمر سے کم ہوتے ہیں۔۔ ہر بچے کا 100 یورو پر منتھ ملتا ہے ۔۔۔
    کھانے پینے کی مارکیٹس میں ہر ہفتے مختلف چیزوں کی پرائس کم کی ہوتی ہے تو متوسط طبقہ پورے ماہ کی شاپنگ کرلیتے ہیں جو چیزیں عارضی طور پر سستی کی ہوتی ہیں کیونکہ اگلے ہفتے وہ چیزیں اصل پرائس پر آجاتی ہیں ۔یہاں لوگ گورنمنٹ کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ قانون کو فالو کرتے ہویے اپنے ٹیکس خوشی سے ادا کردیتے ہیں ۔ہر انسان خوشی سے کام کرنا پسند کرتا ہے اگر کوئی ذیادہ تعلیم حاصل کرلے اور اس کی تعلیم کے مطابق جاب نہ ملے تب تک وہ صفائی سے لیکر ریسٹورینٹ میں برتن دھونے تک ہر کام خوشی سے کرتا ہے ایسے کام کرنے میں اپنی توہین نہیں سمجھتا حتی کہ واش روم بھی صاف کرتے ہیں ۔۔جب لڑکی لڑکا 18 سال کے ہوجاتے ہیں تو اسے گورنمنٹ سے پیسے ملنے بند ہوجاتے ہیں تو وہ لڑکا لڑکی اپنی تعلیم کے ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی سٹارٹ کردیتے ہیں ۔اس طرح تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو کام کرنے کا تجربہ بھی آتا جاتا ہے ساتھ ان کا دل ودماغ بھی مصروف رہتا ہے جس وجہ سے وہ غلط صحبت سے بچ جاتا ہے۔۔
    اگرچہ یہاں بہت آزادانہ ماحول ہے آپ کو ہر حرام حلال کام کرنے کی مکمل آزادی ہے 18 سال کے بعد لڑکیاں لڑکے مکمل آزاد ہوتے ہیں اپنی ذندگی کے فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔لیکن والدین کی اچھی تربیت بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ جوڑے رکھنے کی وجہ سے 70 فیصد بچے اپنی روٹین کے مطابق ٹھیک سمت پر چلتے رہتے ہیں ۔۔
    18 سال سے کم عمر بچوں کو والدین مارپیٹ نہیں سکتے اگر ایسا وہ کریں تو ان پر کیس بن جاتا ہے اور بچہ یہاں کی کونسل لے جاتی ہے پھر بچے کی مرضی کے بغیر بچہ والدین کو واپس نہیں ملتا ۔۔
    یہ تاثر غلط پھیلایا جاتا ہے کہ یورپ میں ذیادہ والدین اولڈ ہاوس میں بچوں کی نافرمانی کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔اس میں 30 فیصد اولاد نافرمان ۔آذادی کی ذندگی گزارنے کی شوقین مجبورآ والدین کو اولڈ ہاوس جانا پڑ جاتا ہے ۔40فیصد والدین اپنی جائیداد گھر اپنے نام رکھتے ہیں مرتے دم تک تو وہ اولاد والدین کو نہیں چھوڑتی۔۔ 20فیصد بچے اپنے والدین سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ان سے لاڈ پیار ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم پاکستانی اپنے والدین سے کرتے ہیں۔۔
    یہاں والدین اپنے بچوں کو دنیا کی ہر اچھی چیز مہیا کرنے کے لیے دونوں میاں بیوی کام کرتے ہیں بہت کم ایسے گھرانے ہیں جہاں صرف شوہر کام پر جاتا ہو اور بیوی گھر سنبھالتی ہو ۔۔بچے صبح سکول نرسری میں چھوڑ کر خود کام پر ہوتے ہیں جس وجہ سے یہاں غربت کا تناسب 5 پرسنیٹ ہے۔۔!!
    ۔یہاں پاکستان کی طرح زمینداری کا بہت کام ہے مکئی وسیع پیمانے پر کاشت ہوتی ہے اور جدید ترین مشینری کے ذریعے اس کا سارا کام کیا جاتا ہے اور ملک کی ضرورت سے بہت ذیادہ کاشت ہونے کی وجہ سے باقی یورپین ممالک اور انگلینڈ کو فراہم کی جاتی ہے ۔یہاں سے باقی ممالک میں زیتون ۔پاستا ۔مچھلی ۔سبزیاں بھیجی جاتی ہیں ۔عام مزدور کی تنخواہ 5یورو فی گھنٹہ سے لیکر 10 یورو تک ہے فیکٹری ریسٹورینٹس میں کام کے حساب سے تنخواہ ملتی ہے۔۔
    یہاں کی ذندگی بہت پرسکون ہے ہر انسان اپنے کام سے کام رکھتا ہے آپ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر بھی پبلک پلیس پر جاسکتے ہیں مارکیٹ میں جائیں کوئی اپ کی طرف حقارت کی نظر سے نہیں دیکھے گا لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا یہ سب چیزیں نوٹ کرنے کا ۔۔۔
    یہاں رہنے کے لیے آپکو یہاں کی زبان آنی بہت ضروری ہے اٹالئین لینگویج کے بغیر نہ آپ کام کرسکتے ہو نہ آپ ڈاکٹرز کے پاس جاکر اپنی پرابلم بتاسکتے ہو یہاں انگلش لینگویج کو سخت ناپسند کیا جاتا ۔کسی کو آتی ہی نہیں سلیبس میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں گورنمنٹ سکول میں انگلش کی ایک کتاب۔۔
    کھانے پینے کی چیزوں کے ہر مارکیٹ میں مختلف ریٹس ہوتے ہیں لیکن فکس پرائس ۔۔ عام عوام کے لیے یہاں سب سے مشہور اور انتہائی سستی گروسری کی مارکیٹس ایرو سپن۔اور MD۔ہیں کہ غریب سے غریب بندہ بھی اچھی کوالٹی کی چیزیں مناسب قیمت سے خرید سکتا ہے ۔
    یورپ کی ذندگی بہت آسان ہے اللہ تعالی کی پتہ نہیں کیا حکمت ہے اس میں کہ یہ ملک جتنے خوبصورت ہیں۔ اتنا ہی یہاں امن ہے بم دھماکے یا دہشت گردی کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہی نہیں ۔ان کے خیال میں یہ دہشت گرد ملک پاکستان ہے ان کو لگتا ہے ہمارا ملک انتہا پسندوں کا ملک ہے انھیں لگتا ہے ہمارے مرد ظالم ہیں یہ اپنی بیویوں پر سختی کرتے ہیں اپنی بیویوں کو مارتے ہیں ۔۔۔۔!!
    ایک پاکستانی ہوتے دل کو کافی تکلیف ہوتی ہے پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات جان کر پتہ نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے میں جب سے سوشل میڈیا پر ہوں میری سمجھ میں تو وہی بیرونی طاقتیں ہیں جو ہمارے ملک کے ناسمجھ لوگوں کو اپنے ساتھ لگا کر پاکستان کا غلط چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کررہے ہیں بہت سالوں سے لیکن اب ان کی ساری محنت سارا پراپوگنڈہ خاک میں مل چکا ہے پاکستانی عوام کو خان صاحب نے جگا دیا ہے اب ہمارے خلاف کسی کو منفی پراپوگنڈہ کرنے کی جرآت نہیں ہوسکے گی ہم خود لوگوں کو اپنے کردار اپنے رویے سے بتائیں گے کہ ہم دہشت گرد شدت پسند نہیں ہیں بلکہ جتنی ہوسکتی ہے ہر اوورسیز پاکستانیوں کا فرض ہے اپنے ملک کا اچھا چہرہ دوسرے ممالک میں پیش کریں انھیں بتائیں کہ ہم شدت پسند نہیں ۔انھیں بتائیں کہ ہمارے ہاں عورت کو جو مقام دیا جاتا ہے عزت محبت دی جاتی ہے ایسی کسی مذہب میں نہیں دی جاتی بیٹی ہے تو والدین کے جگر کا ٹکڑا بیوی ہے تو شوہر کے دل کا سکون ۔ بہین ہے تو بھائی کی عزت ۔۔
    جتنا پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف ہونا تھا ہوچکا اب ملک خلاف قوتوں کا چورن نہیں بکے گا ان شاءاللہ ہم فخر سے سر اٹھا کر چلیں گے کہ ہمارے ملک کا سربراہ جرات مند دلیر اور اپنے ملک کا سچا وفادار ہے کہ دشمن اس کی للکار سے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اب وہ وقت دور نہیں پاکستان بھی یورپ ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا بلکہ ان شاءاللہ بہت جلد سپر پاور ممالک کی لائن میں کھڑا ہوجائے گا چین اور امریکہ کی طرح !!

    "

  • تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!! تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی کرنے والوں کو اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا کچھ احساس ہو تو وہ پیسے بربادی اور اپنی موت کی جانب تیزی سے پیش قدمی چھوڑ کر اپنی زندگی میں خوشیاں لا سکتے ہیں تمباکو نوشی پیسوں کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے گینگرین دل کی بیماری، سانس کی بیماری اور کینسر جیسے مہلک ترین مرض تمباکو نوشی کرنے والوں میں عام انسانوں کی نسبت زیادہ ہونے کا خدشہ ہوتے ہیں مگر ہماری نوجوان نسل میں یہ بیماری بہت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے پوری دنیا اس وبا کے باعث لاکھوں لوگوں کو روز نگل رہی ہے اور ہنستے ہوئے چہرے چند ہی لمحوں میں بے جان لاشوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پیچھے پچھتاوا چھوڑ جاتے ہیں نوجوان نسل اس عمل کو فیشن کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں جس کو چھوڑنے کی لاکھ کوشش کے باوجود یہ لت چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑے کیس سامنے آرہے ہیں جو حکومت کے لئے سوچنے کا مقام ہے سگریٹ کے پیکٹ پر موجود وارننگ کے باوجود عام عوام میں رہنمائی نا ہونے کی وجہ سے بچوں تک کو بآسانی دستیاب ہے ایک نوجوان دن میں ایک سے دو پیکٹ سگریٹ پینے والوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ چکی وزارت صحت اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کے پاس چلی گئی صحت وفاق اور صوبوں میں ایسی بٹی کے ملک کے مریضوں کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیا گیا چھوٹے چھوٹے بچوں میں تمباکو نوشی سراہیت کرتی جارہی ہے جس کا ادراک کرنا بہت ضروری ہے ورنہ معاشرے میں صحت مند معاشرے کا قیام انتہائی ناگزیر ہو جائے گا مسلمان ہونے کے ناطے ویسے بھی نشہ حرام ہے مگر ہمارے معاشرے میں نشہ اور فضول خرچ پر اربوں روپے ضائع ہو جاتا ہے مگر دوسرا تاثر یہ بھی ہے کہ لوگ اسی کاروبار سے پیسے کمانا جائز سمجھتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو تمباکو نوشی کا کام کرنے والوں کا پیسہ جائز ہے یا نہیں اس پر بحث شروع ہوجائے گی تمباکو نوشی سے منسلک ملازمین جو تنخواہیں وصول کرتے ہیں اس پیسے سے صدقے اور حج کرتے ہیں وہ جائز ہے ان پیسوں سے دی جانے والی زکوٰۃ خیرات اللہ بہتر جانتا ہے مگر دین میں نشہ حرام ہے تو نشے کا کاروبار حلال کیسے ہوگیا میرا ذہن قبول نہیں کرتا انتباہ کا نوٹس لگا کر زہر کا کاروبار کرنے والی کمپنی اگر اپنے دل میں یہ سوچ کر مطمئن ہو کہ ہم نے تو لوگوں کا آگاہ کردیا ہے کیا انکے اپنے دل اس بات کو قبول کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ سہی عمل کے ذریعے رزق کمارہیں ہے یہ فیصلہ ان مالکان کے ظمیر کی آواز بن کر ان کے کانوں میں ضرور گونجتا ہوگا بحرحال چھوٹے سے کیبن سے لیکر بڑی بڑی فیکٹریاں اس زہر کو بیچنے کی زمہ دار تو ہیں اس بات سے کوئی لاتعلقی نہیں کرسکتا ہمارے معاشرے میں اس چیز کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہمارے مفتیانِ کرام اور علماء حضرات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خطابات اور پیغامات کے زریعے لوگوں کو اس چیز سے بچنے کی تلقین کریں تاکہ جن لوگوں کو معلومات نہیں ہیں وہ اس عمل سے دور ہوسکیں اور انجانے میں سرزد ہونے والی ان غلطیوں سے خود کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں معاشرے میں آگاہی فراہم کرنا جن کا فرض ہے وہ بھی اس معاملے پر اجتماعات اور سیمینارز منعقد کریں تاکہ لوگوں کو گناہ سے توبہ اور بچانے اور اپنی آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا وسیلہ مل جائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوجائیں

  • منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ   تحریر: زاہد کبدانی

    منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں منشیات کا استعمال 2013 سروے رپورٹ ، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن ، پاکستان شماریات بیورو اور اقوام متحدہ کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 7.6 ملین منشیات کے عادی ہیں ، جن میں سے 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔

    بھنگ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے ، جس میں تقریبا 40 لاکھ لوگ بطور صارف درج ہیں۔ افیون ، یعنی افیون اور ہیروئن ، کل منشیات استعمال کرنے والوں کا تقریبا  ایک فیصد استعمال کرتے ہیں ، 860،000 دائمی ہیروئن استعمال کرنے والے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ منشیات پر منحصر افراد کو پیشہ ورانہ علاج کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم ، بحالی کا دستیاب ڈھانچہ مدد کے محتاج افراد کے ایک حصے سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا۔

    ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافے کی شرح سالانہ 40،000 ہے۔ سروے کے ذریعے سامنے آنے والی سب سے پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہیروئن کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ صارفین کی اوسط عمر 24 سے کم ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ، مرد بنیادی طور پر بھنگ اور افیون کا استعمال کرتے ہیں ، جبکہ خواتین ٹرانکلیوائزرز ، سیڈیٹیوٹس اور تجویز کردہ امفیٹامائنز پر انحصار کرتی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس رپورٹ نے ملک بھر میں نسخہ ادویات کے غیر طبی استعمال کا زیادہ پھیلاؤ (1.6 ملین) ظاہر کیا ، خاص طور پر خواتین میں۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ تقریبا all تمام سروے کی گئی خواتین نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اوپیئڈ پر مبنی درد کش ادویات (مورفین وغیرہ) کا غلط استعمال کیا اور کچھ حد تک پرسکون اور دواؤں کو استعمال کیا جو کہ فارمیسیوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

    زیادہ تر منشیات افغانستان سے آتی ہیں ، جو دنیا کی کم از کم 75 فیصد ہیروئن کی پیداوار اور رسد کا ذمہ دار ملک ہے۔ یو این او ڈی سی کا حساب ہے کہ 15 سے 64 سال کی عمر کے 800،000 سے زائد پاکستانی باقاعدگی سے ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 44 ٹن پروسیسڈ ہیروئن استعمال کی جاتی ہے ، استعمال کی شرح جو امریکہ سے دو یا تین گنا زیادہ ہے۔ افغانستان سے مزید 110 ٹن ہیروئن اور مارفین پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں اسمگل کی جاتی ہے۔ ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق ، خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے سالانہ دو ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

    منشیات کے استعمال کرنے والوں کی تعداد خاص طور پر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے ، جہاں تقریبا 11 11 فیصد آبادی منشیات کی لپیٹ میں ہے۔ 2013 میں بلوچستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 280،000 تھی۔ حالیہ برسوں میں انجکشن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2007 میں ، پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 90،000 منشیات استعمال کرنے والے تھے ، لیکن یہ تعداد 2014 تک بڑھ کر 500،000 تک پہنچ گئی۔

    یہ اضافہ ایچ آئی وی مثبتیت میں اضافے کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق 2005 میں 11 فیصد پاکستانی منشیات استعمال کرنے والے ایچ آئی وی پازیٹو تھے۔ یہ تعداد 2011 میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی تھی۔

    سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کے عادی افراد کی اکثریت عام طور پر نرم منشیات جیسے چھالیہ ، گٹکا اور پان سے شروع ہوتی ہے ، اور پھر ہیروئن ، افیون اور کوکین وغیرہ جیسی سخت ادویات کی طرف بڑھتی ہے۔ ‘ایجنٹ’ ، جو صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہیں۔ ان کے نمبر آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رابطہ نمبر بھی بڑے پیمانے پر ہوسٹلوں ، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر تقسیم کیے جاتے ہیں جو عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں سے چھپے ہوتے ہیں۔

    منشیات کے استعمال اور اس کے متاثرین کے خلاف معاشرے کا ردعمل ناقص اور ناکافی رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ، علاج اور ماہر کی دیکھ بھال کی کمی ہے۔ 30،000 سے کم منشیات استعمال کرنے والوں کو علاج دستیاب ہے۔ سروے سے ظاہر ہوا کہ 64 فیصد جواب دہندگان نے علاج کروانے میں مشکلات کی اطلاع دی۔ بھاری اکثریت (80 فیصد) کے لیے علاج ناقابل برداشت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی سہولیات کی کمی کو 23 فیصد جواب دہندگان نے علاج میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ 44 فیصد نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے پر منشیات کے مسئلے کا علاج حاصل کیا ، اور 96 فیصد کا علاج ہیروئن کی علت کے لیے کیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق سب سے آسان اور موثر حل یہ ہوگا کہ نشے کے عادی افراد کو بحالی مرکز میں بھیج دیا جائے۔ منشیات کے عادی افراد سے نمٹنے کے لیے علاج کی ایک انسانی شکل سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ، سب سے پہلے ، آگاہی اور روک تھام گھر سے شروع ہونا چاہیے ، والدین کے ساتھ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور ان کے بچوں کی کمپنی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سکولوں کی سطح پر بھی منشیات کے تباہ کن اثرات پر بات ہونی چاہیے ، اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اس علم میں محفوظ کہ انہیں چھوا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان سے حساب لیا جا سکتا ہے ، منشیات کے کارٹیل ان کی تجارت کو معافی کے ساتھ چلاتے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس حکومت کا ایک وفاقی ایگزیکٹو بازو ہے جسے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال سے نمٹنے کا کام سونپا گیا ہے ، لیکن اس کا سکور کارڈ بہترین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ادارے منشیات کے کارٹلز پر سختی سے اتریں ، جو ملک میں منشیات کے استعمال کے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

    @Z_Kubdani

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 06) تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 5 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے آدم زاد بکتا ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے  اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں

    بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا:

    بھینسوں کو ٹیکہ لگانے کی وجہ سے عورتوں میں ہارمونز کی تبدیلی اور بہت سی دوسری بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ہر جگہ پر ٹیکے کھولے عام دستیاب ہوتے ہیں ٹیکوں سے بھینس کی عمر میں کمی کے ساتھ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی اور چہروں پر ضرورت سے زیادہ بال اگنے جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے گائے اور بھینسوں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے انہیں اوکسیٹوسن نامی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس سے مویشیوں کے دودھ دینے کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب زہریلا دودھ پینے سے انسانی جانوں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے حکومت کو چاہیے اس کی روک تھام کیلئے چھاپے مارے جائیں تاکہ جو دودھ دیہات سے شہروں کی طرف جاتا ہے اس میں انسانی جان کے خطرات کم سے کم ہوسکے

    شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت:

    کھلی جگہوں سے مردہ گاۓ ، بھینس کے گوشت کو اکٹھا کیا جاتا ہے اس کے بعد مختلف جگہوں پر پہنچا دیا جاتا ہے اور وہاں سے سپلائی کرکے مردہ جانوروں کا گوشت سیل کیا جاتا ہے حکومت اس کی روک تھام کےلئے اقدام کر رہی ہے کہ کسی طرح ایسا گوشت جو تلف کرنا چاہیے استعمال کرتے ہیں ان کو پکڑا جا سکے جب ہم ہوٹل میں یا شوارما کھاتے ہیں تو ہمیں اندازہ نہیں ہوتا جو ہم گوشت استعمال کر رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت: 

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت بہت دفعہ پکڑا گیا ہے لیکن قرار واقع سزا نا ملنے کی وجہ سے دن بدن یہ کام عروج پکڑتا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مرغیاں رکھنے والے صحیح طریقے سے خیال نہیں رکھتے جیسے کہ اگر ناقص  صفائی کا انتظام ہو تو مرغیوں میں بیماریوں کے اثرات واضع ہو جاتے ہیں وہی مرغیاں مارکیٹ میں سستے داموں بیچ کر انہیں ختم کیا جاتا ہے جبکہ شادیوں میں جب گوشت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم آرڈر دے کر چلے جاتے ہیں کہ فلاں وقت آ کر لے جائیں گے حالانکہ ہمیں چاہیے کہ جتنی مقدار میں بھی مرغیوں کا گوشت لینا ہو اسے اپنے ہاتھوں سے زبح کروانا چاہیے لیکن اج کل کے دور میں نفسہ نفسی کے عالم میں وقت کی قلت بہت زیادہ ہے اسی وجہ سے تاجر / دوکاندار اس چیز کا فائد اٹھاتے ہیں اور مردہ مرغیوں کا گوشت سیل کر دیتے ہیں بات رسوائی کی ضرور ہے مگر ہے حقیقت 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ: 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ بہت عام ہے اس کی خاص وجہ جو ملاوٹ روکنے والے ادارے ہیں ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ملاوٹ عروج پر ہے منرل واٹر کی جگہ نارمل پمپ کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پانی کو فلٹر کرکے پھر پیکنگ کرنا چاہیے لیکن مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی شکل میں بہت سی پیکنگ دستیاب ہیں کسی بھی برانڈ کو جانچنا کے صحیح کونسا ہے کیا ہم پینے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں ۔ بہت مشکل ہے جانچنا

    حدیث میں آتا ہے "جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں”

    دن رات ہر چیز میں ملاوٹ ہو رہی کے اور ہم بخوشی سے استعمال کر رہے ہیں اس ملاوٹ کی روک تھام کیلئے حکومت وقت کو چاہیے متحرک ہوکر کاروائیاں کرے اور پکڑے جانے والے کو قرار واقع سزا دلوائیں تک جا کر یہ قوم سدھرے گی

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں ۔ اگر سہی نہیں ہے تو اس کی جانچ پڑتال کیسے کرنی ہے اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

     

  • سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان  تحریر  : حشام صادق

    سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان تحریر : حشام صادق

    میرے دادا جان اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین دادا جان کو لوگ استاد کہ کر پکار کرتے تھے 80 کی دہائی میں دادا جان کے پاس اپنی ویگن تھی اور اس زمانے میں ویگن بہت بڑی سواری تھی۔ دادا جان اسی ویگن سے اپنی حق ہلال کی روزی روٹی کماتے تھے ۔ مطلب پبلک ٹرانسپورٹ۔

    دادا جان کے بارے یہ بات سارے علاقے میں مشہور تھی کہ استاد کسی بھی سواری کو گاڈی میں سگریٹ نوشی نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اگر کوئی سگریٹ نوشی کرنا چاہتا تو دادا جان گاڑی روک کر اس بندے کو اتار دیتے تھے۔ ہمیں بھی ہمارے والدین نے بچپن ہی سے اس چیز سے دور رکھا الحمدللہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ میرے نہ تو دادحال نہ ننہال میں کوئی ایسا ہے جو سگریٹ نوشی کرتا ہو۔ میں اگر اپنی بات کروں تو مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی ناخوشگوار سی خوشبو بلکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی
    سکول کالج کے دور میں بھی اللہ پاک کی کرم نوازی رہی میرا کوئی دوست بھی ایسا نہ تھا جو سگریٹ نوشی کرتا ہوں۔

    کالج کے ٹائم پے ایک تجسس تھا کہ لوگ آخر سگریٹ نوشی کرتے ہی کیوں ہیں؟
    مجھے آچھی طرح یاد ہے ہم نے کالج کے دور میں ایک کیمپ بھی کیا تھا اس ہوالے سے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔آج پھر سے باغی ٹی وی نے یہ کیمپین چلا کے مجھے میرے کالج کے دن یاد دلا دیئے جس کی وجہ سے میں بہت شکرگزار ہو باغی ٹی وی والوں کا اللہ پاک آپ کو بہت ترقیاں نصیب فرمائے اور آپ اسی طرح اپنے ملک کے لیے کام کرتے رہیں۔آمین

    قارئین سگریٹ نوشی اس قدر جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اور اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا
    سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے۔ یہ ایک زہر ہے۔اور وہ یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والا بندہ یہ سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس کے نقصانات سے بچے رہیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔سگریٹ کے دھویں سے آپ کے گرد جو بھی ہو گا وہ لازم متاثر ہو گا۔چھوٹے بچوں سے لیکر بیوی بہین بھائی والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر

    میرے نزدیک سگریٹ نوشی کسی بھی نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور یہاں سے ہی ایک آچھے بھلے انسان کی تبائی کی بنیاد شروع ہوتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل پڑھتا ہے لا شعوری طور پر نسوار، گھٹکا،پان سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک جا پہنچتا ہے۔اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کچھ نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے۔ ایسے بھی لوگ دیکھے جو اپنا گھر باربیچتے پر مجبور ہوئے اس نشے کی وجہ سے زلیل رسوا ہوتے رہے ۔ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے آج کل کے حالات و وقیات دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب تو سکول کالج اور یونیورسٹی میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے ۔

    میں موجودہ حکومت سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ حکومت اس جان لیوا نشے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرئے ۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس زہر سے دور رکھا جا سکے۔ایک بار پھر سے باغی ٹی وی اور اس کے عملے کا شکریہ ادا کرنا چاہوں اور دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو۔آمین

    @No1Hasham