Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    میرا جسم میری مرضی تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اس موضوع پر ایک عرصہ سے قلم اٹھانا چاہ رہا تھا لیکن موقعہ و وقت نہ مل سکا۔اس موضوع کو احاطہ کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن کوشش ہوگی کہ انصاف سے کام لیا جائے۔

    ایک زمانے سے بحث رہی ہے کہ جناب عورت کے حقوق نہیں ادا ہوتے۔عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا۔مرد استحصال کا مرتکب ہوتا ہے۔یہ کہانی آج کی نہیں ہے بلکہ صدیوں سے یہ آوازیں بلند ہیں اور آئندہ ان میں شدت آتی رہے گی۔
    اللہ سب کا خالق ہے۔انسان کو خلقت کے اعتبار سے مرد و عورت میں تقسیم نہیں کیا گیا۔یہ عجب معاملہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو الگ تصور کرے یا مرد خود کو الگ مان لے۔جبکہ خلقت و تولید کا سلیقہ و قرینہ ایک ہے۔
    اسلام نے عورت کی حفاظت کیلئے بہت سے قوانین بنائے ہیں جو عام شریعت سے ہٹ کر ہیں۔مثال کے طور پر،قتل کے گواہوں کی تعداد دو (2) شریعت نے مقرر کی لیکن جب زنا کی بات آئی تو یہاں چار عادل گواہ طلب کئے۔حالانکہ قتل سرعام ہو سکتا ہے،جبکہ زنا کا سرعام ہونے احتمال نہ ہونے کے برابر ہے۔مقصد عورت کی عزت و حرمت کو محفوظ کرنا ہے۔اسی طرح جب کوئی حاملہ خاتون کسی بھی جرم کی مرتکب پائی جائے تو اس کی سزا مؤخر کرنے کا حکم آتا ہے۔طلاق حاملہ عورت کی نہیں ہو سکتی۔حتاکہ بدکردار عورت کو جس کی گواہیاں پوری نہ ہو سکیں، بھی چھوڑنے کا حکم ہے مارنے کا نہیں۔یہ سب کچھ عام عورت کیلئے حفاظتی اقدامات کئے گئے جن میں سے چند بیان کئے ہیں اشاراتی طور پر۔تفصیل اس کی خود ایک ضغیم باب بن سکتا ہے۔
    معاشرے میں استحصال اور ظلم ہی تب ہوتا ہے جب کسی کا حق روک لیا جائے۔مثلا” خواتین کی اجرت کم کر دی جائے مرد کے مقابلے میں، بسوں اور ویگنوں میں سیٹیں کم ہوں حالانکہ آبادی کے لحاظ سے خواتین مردوں سے زیادہ تعداد میں ہیں، جائیداد میں حصہ نہ دینا، بغیر عورت کی اجازت کے اسکی شادی طے کرنا، بچیوں کو انکی عمر سے بہت زیادہ یا بہت کم عمر سے شادی کروانا فقط جائیداد بچانے کیلئے، ظلم تو یہ ہے کہ جب کسی گاؤں میں بچی کی شادی قرآن سے کی جاتی ہے (استغفراللہ) تاکہ جائیداد گھر میں رہے تو میرے خیال میں اس طرح کے ظلم سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اگر مرد طلاق دے تو دوسری شادی کر لے لیکن معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو اتنا ذلیل سمجھا جانا کہ جیسے وہ اچھوت ہو گئی، ظلم ہے۔ اللہ نے عورت کو معاشرے میں بہت بلند اور عزت کا مقام دیا ہے۔ ماں (عورت) کے پاؤں تلے جنت رکھی، بہن (عورت) کو رحمت کہا، بیٹی (عورت) کو والد کیلئے رحمت قرار دیا، بیوی (عورت) چار رشتوں (شوہر، بیٹا، بھائی اور والد) کو جنت لیجانے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر وہ ایمان والی ہے۔
    میرا جسم میری مرضی نہیں ہوتی، بلکہ مرضی اللہ کی ہے کہ زندگی کیسے گزاریں۔ وحشی جانور بن کر ہم بستری اور ننگے پن سے منع فرمایا، ستر ڈھانپنے کا حکم ہے ناکہ شلوار قمیض یا کسی مخصوص لباس میں قید کیا گیا۔ لیکن اگر ویسے عام طور پر دیکھیں تو مرد کو حاکمیت اللہ نے دی ہے جو 4 شرطوں کی وجہ سے ہے۔
    1۔ نان نفقہ
    2۔ محبت و خلوص کیساتھ نگہداشت
    3۔ حقوق کی بجاآوری
    4۔ شریعت کی پابندی

    اسی طرح عورت کو بھی پابند کیا
    1۔ شوہر و اولاد کی نگہداشت
    2۔ گھر کی نگہداشت
    3۔ ایمان پر قائم ہونا
    4۔ محبت و خلوص

    دونوں کیلئے مشترکہ شرائط بہت ہیں جیسے۔
    ۔ بدکاری سے اجتناب
    ۔ بدکلامی سے اجتناب
    ۔ ایکدوسرے کی عزت و تکریم
    ۔ بچونکی تعلیم و تربیت
    ۔ معاشرے میں مثبت کردار
    ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

    اگر خواتین جو میرا جسم میری مرضی پر یقین رکھنے والی یا مرد جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور وہ مرد و خواتین جو اس نعرہ سے سخت اختلاف رکھتے ہیں، سب ہی ایک بار اسلامی قوانین اور احکامات الہی کا مطالعہ کر لیں تو یقین جانیں کہ مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ آئے روز جو زنا بالجبر وغیرہ کے معاملات ہیں، ان پر بہت سخت قوانین موجود ہیں، قرآن میں بھی اور پاکستان پینل کوڈ میں بھی۔ مسئلہ ہمارے یہاں قوانین کا ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ ان قوانین کا درست اور سختی سے نفاذ ہے۔مجرموں کا بچ نکلنا فقط عدلیہ اور تحقیقی اداروں کی غفلت یا انکے ذاتی مفاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کوئی قانون بنا لیں لیکن جب تک قانون کے نفاذ کیلئے صاحبان کردار نہ ہونگے، وہ قوانین ردی کا ٹکڑا ہی رہیں گے اور معاشرہ انحطاط کا شکار۔

    میری گزارش ہے کہ اس فضول بحث کو سمیٹ دیں۔ اسکا حاصل کچھ نہیں۔ اپنے فرائض کی طرف سب توجہ دیں، حقوق خود ملنا شروع ہونگے۔ ادارے اپنا کام کریں اور چیک اینڈ بیلنس کو قائم کریں۔
    والسلام۔

    لاہور

  • جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش  تحریر : اقصٰی صدیق

    جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش تحریر : اقصٰی صدیق

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
    آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
    موجودہ دور میں چند تولے زیورات کی قیمت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    اس لیے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سونے کے زیورات دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔
    مہنگائی کے اس دور میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کا جینا مرنا محال کر دیا ہے۔
    اور مہنگائی کے اس دور میں شادی کے اخراجات بیس، پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
    ایسے میں والدین بیچارے بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچ سوچ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہیز اور غیر ضروری رسموں کے سبب بابل کی دہلیز پر بیٹھے لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے۔
    کم جہیز یا جہیز نہ دینے پر بنت حوا تشدد و جبر کا نشانہ بنتی آ رہی ہے، سسرال میں ساری زندگی طعنہ زنی کا شکار ہوتی رہتی ہے، اور کبھی تو جہیز کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے، اور کبھی تیزاب پھینک کر جلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جہیز کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
    انہیں صرف یہی فکر رہتی ہے، کہ کسی طرح بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔
    والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کیلئے جہیز جمع کرتے ہیں، تاکہ آنے والے وقت میں ان کی اور ان کی اولاد کی عزت میں آنچ نہ آئے۔
    ایک زمانہ تھا جب شادی کرنا بہت آسان تھا، بیٹی کو جہیز میں دیا جانے والا سامان محض چند سکوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپوں میں ہوتا تھا، اگرچہ مہنگائی کا اس وقت بھی رویا جاتا تھا۔لیکن اس دور میں اتنے فضول رسم و رواج نہیں تھے، جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔
    رنگ برنگے پکوان تیار نہیں کیے جاتے تھے، صرف ایک ہی کھانا بنتا تھا۔
    اور بیٹی والے جہیز میں اتنا قیمتی سامان بھی نہیں دیتے تھے، جتنا آج کل لڑکی کے سسرال والے فرمائشیں کر کے مانگتے ہیں۔سادہ لوح لوگ تھے، ہر طرح کی بناوٹ سے عاری۔
    والدین حسب استطاعت بیٹی کو جہیز اور زیورات دے کر خوشی خوشی رخصت کر دیتے تھے۔پرانے وقتوں میں ایک کنبہ میں درجنوں افراد کی کفالت صرف گھر کا ایک فرد جو گھر کا کفیل ہوا کرتا تھا، اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔اس وقت تقریباً لڑکی لڑکے کا تناسب برابر تھا جبکہ روپے پیسے کی اتنی ریل پیل نہ تھی۔
    اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح آسائشیں میسر تھی، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کو ذہنی سکون میسر تھا۔
    دور جدید میں ہر کام میں تیزی آ گئی ہے، آج جدید دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ہم نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں۔ہم نے بہت سی غیر اسلامی اور غیر ضروری رسومات اپنا لی ہیں۔
    جوں جوں بیٹیاں جوان ہوتی ہیں، انہیں دیکھ کر والدین کی کمر جکھتی جاتی ہے۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر بے تحاشا مہنگائی ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بات بھی قابل قبول ہے کہ ہم نے معاشرے میں اعلٰی مقام کی خاطر کئی فضول رسمیں اپنا رکھی ہیں۔
    نفسا نفسی کے اس دور میں ہم سادگی کو بھول کر آگے نکلنے کی کوشش میں دلی سکون کھو بیٹھے ہیں۔
    ہم نے یہ بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو شادی پر اتنا جہیز دیا ہے تو ہم کیونکر پیچھے رہیں،
    دھاگہ ڈالنے والی سوئی سے لے کر گاڑی تک جہیز میں دے کر اپنی حیثیت کا لوہا منواتے ہیں۔

    لڑکے والے بھی اپنا حق سمجھ کر سب کچھ رکھ لیتے ہیں، چاہے گھر میں رکھنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔
    ہمارا مذہب ہب اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔
    عورت کا بہترین زیور اس کی تعلیم و تربیت ہے،
    فضول رسم و رواج کو ترک کر کے ہم شادی بیاہ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔
    لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہل کون کرے گا؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امراء لوگ جنہوں نے شادی کے دنوں کو ہفتوں میں تبدیل کر دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کی نفی کریں، انسان کی اصل حیثیت اس کا روپے پیسہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔جہیز سے ہٹ کر آج کل پارلر آنے جانے کے چکروں میں بھی ایک کثیر رقم ضائع کر دی جاتی ہے۔
    یہ بات بھی حقیقت ہے کہ روپے پیسے کی فراوانی اور جہیز کی زیادتی سے آپ اپنی بیٹی کی قسمت تو نہیں بدل سکتے۔لڑکی نے اپنا گھر خود بسانا ہے، اس لیے اچھی تربیت اور عادات و اطوار ہی اس کے لیے اس کا قیمتی زیور اور اثاثہ ہیں۔جسے اپنا کر وہ اپنا گھر بسا سکتی ہے، اور اسی سے ہی آگے چل کر ایک اچھا گھرانہ، اور اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    بے شک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادگی کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی کی تلقین کی۔بحثیت مسلمان ہمیں روز محشر ہر چیز کا حساب دینا ہے، یہ ظاہری نمود و نمائش کہیں ہمارے لیے باعث فخر کی بجائے باعث عذاب ہی نہ بن جائے، لہٰذا اس بارے میں ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی بیحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ بات محض جہیز کی ممانعت پر تبصرے کرنے کی نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔

    @_aqsasiddique

  • قصہ ایک سیاہ فام عورت کا   تحریر: احسان الحق

    قصہ ایک سیاہ فام عورت کا تحریر: احسان الحق

    اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے بہت سارے فائدے ہیں. اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے. بندے کو اس تعلق کے ثمرات دنیا میں بھی ملتے ہیں اور آخرت میں تو حقیقی ثمرات ملیں گے جب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سوا کوئی امید اور آسرا نہ ہوگا.

    ایک سیاہ فام عورت تھی، جس کا خیمہ مسجد نبویؐ میں گاڑھا ہوا تھا. ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ عورت نظر نہ آئی اور آپﷺ کے دریافت کرنے پر صحابہؓ نے عرض کی کہ یارسولﷺ وہ عورت فوت ہو گئی ہے اور ہم نے اس کی تدفین کر دی تھی. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کی؟

    عرض کی گئی یارسولﷺ آپ آرام فرما رہے تھے، ہم نے آپ کے آرام میں خلل پیدا کرنا مناسب نہیں سمجھا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مجھے اس کی قبر پر لے چلو. اس کی قبر جا کر آپ نے جنازہ پڑھایا. رحمت اللعالمین اور امام الانبیاء کا تشریف لے جانا یہ اس عورت کی عظمت اور فضیلت کی نشانی ہے. یہ واقعہ امام بخاری رحمہ الله نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے.

    وہ عورت واقعی ہی عظیم عورت تھی. کبھی کبھی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھی. ایک دن وہ عورت ایک شعر کو بار بار دہرا رہی تھی اور پھر شعر پڑھتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. شعر کا مطلب یہ تھا کہ

    "اس دن ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت ساری نشانیاں دیکھیں، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل کو اس قوم  سے اچاٹ کر دیا، سب سے بڑی نشانی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دارالکفر سے نجات عطا فرمائی”

    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وجہ دریافت کرتے ہوئے سارا معاملہ پوچھا. اس عورت نے اپنا قصہ سنایا.

    میں ایک قوم کی لونڈی تھی. ان کی ایک بچی کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنا میری ذمہ داری تھی. اس بچی کے گلے میں یمن کے سرخ جواہرات سے بنا ہوا ایک قیمتی ہار تھا. ایک دن میں نے اس بچی کو نہلانے کی غرض سے ہار اتار کر ایک طرف رکھ دیا. اسی اثنا میں ایک چیل آئی اور گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر ہار لے اڑی. قبیلے والوں نے مجھ پر چوری کا الزام لگایا، میں نے انکو واقعہ سنایا مگر میری بات پر کسی نے یقین نہیں کیا. میری تلاشی لی گئی. ہار نہ ملنے پر قبیلے کے چند سرداروں نے حکم دیا کہ اس کو برہنہ کیا جائے، اس نے اپنی شرم گاہ میں ہار چھپا رکھا ہوگا. برہنہ کرنے والی بات سن کر میں پریشان ہو گئی، قریب تھا کہ لوگ میرے کپڑے اتار کر میری تلاشی لیتے…. 

    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قصہ سناتے ہوئے عورت کہتی ہے میرے دل میں اچانک خیال آیا کہ میری کافر قوم جب بھی کسی بڑی مصیبت میں پھنستی ہے تو اپنے جھوٹے اور خود ساختہ خداؤں کو چھوڑ کر صرف ایک ذات کو پکارتی ہے جس کو وہ "اللّہ” کہہ کر مدد طلب کرتے ہیں. میں نے بھی اسی مجلس میں کھڑے ہو کر دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کو پکارا اور اللہ تعالیٰ نے میری التجا سن لی اور میرے اوپر خاص رحم وکرم فرمایا. اسی اجتماع میں وہی چیل آئی اور سب کے سامنے ہار پھینک کر چلی گئی. میں برہنہ ہونے کی شرمندگی سے بچ گئی. قوم والوں نے تسلیم کیا کہ تو چور نہیں ہے، پھر میری تعظیم اور عزت کی مگر میرا دل اس قوم سے بے زار ہو چکا تھا اور میں وہاں سے نکل جانے کے لئے بے قرار تھی.

    راتوں کو جاگتی تھی کہ کوئی قافلہ گزرے اور میں ان کے ساتھ شامل سفر ہو کر یہاں سے کوچ کر جاؤں. میں تنہا اور کمزور عورت تھی، اکیلی سفر نہیں کر سکتی تھی. ایک رات مجھے دور سے قافلہ آنے کی آواز سنائی دی. اسی اللہ کا نام لیکر قافلے میں شامل ہو گئی جس اللہ کو پکارا تھا اور پھر اسی ذات نے میری نصرت فرمائی تھی.

    میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ قافلے والے بات بات پر، اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے اسی اللہ کا ذکر کرتے ہیں، کبھی الحمدلله، کبھی الله اکبر. یہ سب دیکھ کر میں حیران بھی ہوئی اور خوش بھی. میں نے غور کیا کہ یہ لوگ ایک ہستی کا نام بڑی عزت اور بڑے احترام کے ساتھ لیتے ہیں وہ نام تھا محمد رسولﷺ. میرے دل میں اللہ تعالیٰ اس نام اور اس ہستی کی محبت اور عقیدت ڈال دی. اس قافلے کے ساتھ مدینہ میں آ گئی.

    یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے ثمرات ہیں. اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس عورت برہنہ ہونے کی شرمندگی سے بچایا، پھر دارالکفر سے نکالا، اصحاب رسولﷺ کا ہم سفر بنایا، مسجد نبویؐ کا مکین بنایا، اصحابِ رسولﷺ اور ام المؤمنین کی خادمہ اور ساتھی بنایا اور بالخصوص خاتم النبیین اور امام الرسل کا خود تشریف لے جا کر جنازہ پڑھانا. یہ سعادتیں اور انعامات و ثمرات صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہیں. یہ انعام اور اکرام تو دنیاوی تھے. اصل انعامات اور ثمرات تو یوم حساب ملیں گے.

    @mian_ihsaan

  • جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    حال ہی میں جنسی جرائم کے بہت سے واقعات رونما ہوئے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،
    کچھ دن پہلے پیرودھائی کا واقعہ ایک مدرسہ کی طالبہ کو استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانا بنایا گیا،
    اس کی والدہ کے مطابق مدرسہ والوں نے گھر فون کر کے کہا کہ ان کی بیٹی مدرسے میں بے ہوش ہو گئی ہے اسے آ کے لے جائیں، والدین جب بیٹی کو گھر واپس لائے تو بیٹی نے ماں سے کہا کہ اسے استاد نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہ پہلے بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ نازیبا حرکات کر چکا ہے،
    ایسے میں پولیس استاد کو پکڑتی استاد نے عدالت سے 30 آگست تک عبوری ضمانت منظور کروا لی،
    یہ نا سمجھ آنے والی بات ہے کہ ایسے افراد کو کیسے رعایت دی جاتی ہے لیکن حیرت کی بات بھی نہیں ہم قانون اور انصاف کے معاملے میں بہت سستی سے کام لیتے ہیں خاص کرکے جب کسی غریب کو انصاف فراہم کرنا ہو،
    اور حال ہی ایک اور خبر سننے کو ملی کہ 65 سالہ شخص نے سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے،
    دیکھئے ذرا غور تو کیجئے کہ 65 سالہ شخص نے سات سال کی بچی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنا دیا ایسے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے جو معصوموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں میں تو کہتا ہوں انہیں معاشرے میں عبرت کا نشان بنا دیا جائے لیکن میں اکیلا کیا کروں جب تک یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کے لیے سخت سے سخت قانون اور اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا شاید تب تک ان جرائم میں اضافہ ہوتا رہے گا،
    ہمیں ملک بھر روزانہ ایسے بیسوں واقعات سننے کو ملتے ہیں یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں تم میڈیا تک یا آس پاس کے محلے تک یا پولیس تک نہیں پہنچ سکتے ہمارا ہاں ایک اور دستور ہے جو بہت زیادہ عام ہے کہ اگر کسی بیٹی کی عزت چلی بھی جائے تو گھر والے اپنی عزت بچانے کے لیے اس واقعے کو دبا دیتے ہیں کہ پورے خاندان میں ہماری بدنامی ہوگی اور بیٹی کو خاموش کرو دیتے ہیں،
    اس میں اس بچاری کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو معصوم تھی اور رہے گی اس میں ایسے درندوں کا قصور ہے جو معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں خاندان اور گھر والوں کی طرف سے سخت ردعمل ان لوگوں کی عقل کو ٹھکانے لگا سکتا ہے بیٹی کی عزت چلے جانے پر خاموشی ایسے درندے اور بھیڑیوں کو مزید طاقت گویا حوصلہ فراہم کرتی ہے کہ چلو کوئی بات نہیں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ظلم کریں گے وہ بھی خاموش ہو جائیں گے، یہ لوگ کڑی سے کڑی سزا کے مستحق ہیں اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،
    کم سے کم انہیں معاشرے کے آداب تو سکھانے چاہیے کہ کسی کی بیٹی کسی کی بہن اپنی بہن اور بیٹی جیسی ہے جو ظلم وہ کوئی اپنی بہن کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا وہ ظلم کسی دوسرے کی بہن کے ساتھ کیوں کرے،
    اور ایک اور خبر کے متعلق بات کروں گا جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں رپورٹ ہوئی ڈکیتی کرنے والوں نے اس خاتون کے تمام اہل خانہ کے سامنے ایک عورت کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنایا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ظلم یہ درندگی ایک تو ان کے گھر میں گھس کے ان کا مال لوٹا دوسرا ان کی عزت بھی لوٹ لی،
    یہ ہو کیا رہا ہمارے ہاں کون ایسے واقعات کو ہونے سے روکے گا؟ ریاست کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کرنی پڑے گی میری اپنی رائے ہے کہ ایسے ظلم کرنے والوں کو کم سے کم موت کی سزا مختص کرنی چاہیے،
    اور انہیں موت کی سزا بھی ایسی عبرتناک دینی چاہیے انہیں پھانسی دے کر چوکوں اور چوراہوں میں لٹکا دیا جائے ان کی لاشیں چوکوں اور چوراہوں میں لٹکی رہیں جب تک ان کا گوشت چیل کوے نوچ نوچ کر کھا نا لیں،
    ان کے اہل خانہ کے لیے بھی عبرت ہو جو ایسے درندوں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہیں ایسے کام کرنے سے روکتے نہیں جب وہ قانون کی گرفت میں آئیں تو انہیں بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں،
    جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم اہل خانہ کے علم ہوتے ہیں مگر وہ انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے،
    دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ ہمارا ملک ایسے جرائم سے پاک ہو جائے جو ہماری تباہی کا سبب بن سکتے ہیں،

    @zsh_ali

  • دیکھ ٹک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے!!! تحریر ؛ علی خان

    سال رواں بھی قوم نے یوم آزادی مکمل جوش و خروش سے منایا۔ اس سے قبل یوم پاکستان، یوم یکجہتی کشمیر، یوم استحصال کشمیر اور دیگر کئی قومی دن بھی اس جوش و خروش سے منائے گئے۔، آزادی کا یہ ولولہ نہایت خوش کن ہونے کے ساتھ ایسے سوال چھوڑ گیا کہ جو کئی سال سے پوچھے جارہے لیکن جواب یا تو ملتا نہیں اور اگر ملے تو تشنگی باقی رہتی ہے ،، ہر ذی شعور ذہن یہ ضرور یہ سوچتا ہے کہ کیونکر یہ قوم آزادی کی ساڑھے سات دہائیوں بعد بھی دنیا میں وہ مقام نہیں حاصل کرسکی کہ جسکا خواب اسکے بانیان دیکھتے تھے؟؟؟کیوں وطن عزیز کا شمار ترقی پذیر یا کچھ صورتوں میں پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے؟؟؟ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے ان گنت سوالات ہیں جو اذہان میں گونجتے ہیں
    وطن عزیز میں ان مسائل کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا روایت بن گئی ہے۔ لیکن شاید حکومتوں اور حکمرانو ں کا شکوہ کرتے، انکی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک شہری یہ بھول جاتا ہے کہ باقی چار انگلیوں کا رخ اپنی ہی جانب ہے۔ آئیے کچھ دیر کے لیے خود احتسابی کرتے ہوئے ایمانداری ان سب خرابیوں اور مسائل میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں۔ پہلی ذمہ داری جس سے عوام غفلت برتتے ہیں وہ انتخابات میں ووٹ دالنے کا عمل ہے۔ ہر قسم کے انتخابات میں ایماندار، تعلیم یافتہ، عوامی مسائل کا شعور رکھنے والے امیدواروں کی جگہ ذات برادری، ذاتی فائدے، تعلق داری اور تھانے کچہری میں مدد جیسے امور کو مد نظر رکھ کر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں اسی نمائندے سے مسائل حل نہ کرنے، بدمعاشی اور ترقیاتی کام نہ کروانے جیسے شکوے سامنے آتے ہیں
    یہاں ایک اور دلچسپ دلیل دی جاتی ہے کہ مسائل کی اصل ذمہ دار تو نوکر شاہی المعروف بیوروکریسی ہے جو سرکاری و حکومتی ڈھانچے کا مستقل حصہ ہے۔ انکے انتخاب میں تو عوام کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔ حضور والا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ جب بھی ہمارا واسطہ کسی سرکاری ادارے یا اہلکار سے پڑتا ہے تو ہم کتنی بار اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ریلوے ٹکٹ خریدنے سے لے کر ریلوے پھاٹک تک کہیں بھی انتظار ہمیں گوارہ نہیں ہوتا۔ لائن توڑ کرشناختی کارڈ، ڈومیسائل پاسپورٹ بنوانا، بل بھرنا، بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا، ٹکٹ خریدنا گویا من حیث القوم ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کاموں کے لیے رشوت دینے والے، سفارش ڈلوانے والے اور کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے والے بھی ہم ہی ہوتے ہیں
    یہ لاقانونیت اور بے حسی صرف انفرادی سطح پر نہیں پائی جاتی بلکہ پیشے ذات برادری کی بنیاد پر اسکا تحفظ بھی کیا جاتا ہے۔ بار وکلا کی قانون شکنی کا محافظ بن جاتا ہے۔ کم تولنے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب تاجر کی مدد کے لیے انجمن آڑھتیان اور تاجران میدان میں آجاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ہر شعبے، ہر شہر غرضیکہ چہار سو پھیلا ہوا ہے
    قصہ مختصر یہ کہ اگر ہمیں اس ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہے تو ابتدا خود سے ہی کرنا ہوگی۔ ووٹ ایمانداری سے ڈالنا ہوگا۔ خود کو برائیوں سے دور کرنا ہوگا۔ رشوت کی بجائے قانون کی ماننا ہوگی۔ اس سرزمین کو اپنے گھر کی طرح صاف رکھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ جس روز ہماری اکثریت اس پر عمل پیرا ہوگئی تو یقین مانیے حکمرانوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہمارا یہی وطیرہ رہا تو بقول شاعر
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

    تحریر ؛ علی خان
    @hidesidewithak

  • زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے تحریر :شفقت سجاد دشتی

    زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے تحریر :شفقت سجاد دشتی

     

    تاجر و دکاندار اور سرمایہ دار ہمیشہ حساب وکتاب اور بازار کا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں لگے رہتے ہیں، اگر ایسا نہ کریں تو دیوالیہ ہو جائیں اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا، ہماری زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جو کہ ایک دکان کے سامان سے کہیں بڑھ کر قیمتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ اچھے اور پسندیدہ طریقے سے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکیھا جائے، اپنے وقت کو بہترین اور مفید ترین اور اولی ترین کاموں میں صرف کیا جائے،

    اس سے پہلے کہ قیامت میں ہمارا حساب لیا جائے، ہم خود جائزہ لیں، محاسبہ کریں اور اپنے کاموں، فرصتوں اور اعمال کے نقاد بنیں۔

    حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: عباد اللہ زنواانفسکم من قبل ان تو زنوا و حاسبو ھا من قبل ان تحاسبوا: 

    اللہ کے بندو، اپنے نفوس کا وزن خود کرو اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال کا وزن کیا جائے اور اپنا محاسبہ خود کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔

    ہم اپنی عمر کے شب و روز اور فرصت کے لمحات کے سوالوں کے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں کہ یہ سب بطور امانت ہمارے اختیار میں دیئے گئے ہیں اور ایک دن اس بارے میں کہ ہم نے کس طرح سے ان کو صرف کیا ہے ہم سے سوال کیا جائے گا، امام علی علیہ السلام نے فرمایا، من حاسب نفسہ ربح و من غفل عنہ خسر، جو اپنا خود محاسبہ کرے اس نے فائدہ حاصل کیا اور جو اپنے آپ سے غافل رہے گا اس نے نقصان اٹھایا۔

    محاسبہ نفس۔ سبب بنتا ہے کہ خطاؤں، گناہوں و نامناسب اعمال اور گزشتہ غفلتوں اور اپنی زندگی کے خسارے کو ہم پہچان سکیں اور پھر انکی تلافی کی بھرپور کوشش کریں۔ زمانے کے شب وروز سے ہمارا سرد و گرم اور نفع و نقصان وابستہ ہے، عمر و جوانی ونشاط اور سلامتی کو وقت دیتے ہیں، لیکن ان کے بدلے میں کیا حاصل کرتے ہیں؟ فائدہ حاصل کرتے ہیں یا نقصان؟  نیکی و ہدایت میں اضافہ ہو رہا ہے یا گمراہی وتاریکی میں جا رہے ہیں؟  کمال کی طرف جا رہے ہیں یا پستی کی طرف؟ ہم اپنی عمر کا عظیم الشان سرمایہ کس چیز کی خاطر خرچ کر رہے ہیں؟

    زندگی ایک زراعت کی مانند ہے فصلِ جب کٹے گی تب معلوم ہو گا کہ ہم نے کیا بویا اور کیا کاٹا ہے۔ ضروری ہے کہ زندگی کے خزانے میں کیا ہے؟ 

    اس بارے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا، کماتزرع تحصد، جو بویا ہے وہی کاٹو گے۔

    اگر محاسبہ کرنے کو اپنا معمول بنا لیں تو بعد والے نقصانات سے بچ سکتے ہیں آب شیریں کو صحرا میں پھینک کر ضائع نہیں کیا جاتا، اسی طرح زندگی کے قیمتی اوقات کو بیہودہ صرف کرنا ایسے ہی ہے جیسے آب شیریں کو صحرا میں ضائع کیا ہو، جو اپنی عمر کا حساب نہیں رکھتا وہ اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔ جب عمل کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے، پھر وہ حسرت و غم سے کہتا ہے۔ بہت افسوس کہ جب عمر گزر چکی تب اس کا معنی میں سمجھا ہوں۔ میری عمر تین روز کی مانند،اس ترتیب سے گزر گئی۔

    بچپن کھیل کود میں، جوانی اوباشی و عیاشی میں، پیری غفلت و حسرت میں۔

    امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں اہل ذکر و معرفت انسانوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان کے حالات کی خصوصیات اور ان کے کاموں کا محاسبہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں، ان کو دیکھو، اپنے دفتر و کتاب عمل کو کھول کر اس میں غور وفکر سے کام لیتے ہوئے، اپنی چھوٹی بڑی کوتاہیوں اور خامیوں پر نظر ڈال رہے ہیں۔ 

    ۔یہ محاسبہ ذات ہے۔

    اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر ان لوگوں میں شمار ہو گا کہ جن کی عمر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایک حصہ امید کا اور دوسرا حسرت و یاس کا۔ پس ہر  چیز میں حساب کرنا لازم بھی ہے اور مفید بھی۔ 

     

    @balouch_shafqat

  • اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اللہ تبارک و تعالی سے محبت کرو ان کی نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا کیں اور مجھ سے اللہ تبارک وتعالی کی محبت کے سبب محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔”

    (بحوالہ جامع ترمذی حدیث نمبر 3789)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ سے محبت کے بارے میں امت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اہل بیتؓ سے محبت ہم مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے

    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے،ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے وہ ایک تو اللّه کی کتاب ہے اور اللہ تعالی کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔

    (حوالہ حدیث کی کتاب ترمذی)

    اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی ہے اور اپنے 

     اہل کے حقوق بھی یاد دلائے ہیں اور اہل بیت کی فضیلت و عظمت بیان فرمادی ہے کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنا زیادہ سرگرم رہو گے اور ان کی ہر طرح خبر گیری میں جتنا حصہ لوگے تو اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمھیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسے ہی ہے جیسے کوئی شفیق باپ دم رخصت پر اپنی اولاد کے بارے میں وصیحت کرتا ہے کہ یہ میں اپنی اولاد کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا،

    اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوگی یعنی قیامت کے تمام مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور اہل بیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ رہے گا کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر میرے پاس حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کیے ہوں گے اس اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ کرے گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالی بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور جن لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کے حق تلافی کی ہوگی ان دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔

    پس تم سوچ لو یعنی میں نے ان دونوں کی حیثیت واہمیت تمہارے سامنے واضح کر دی ہے اب تمھیں خود احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میرے اہل بیت کے ساتھ تم کیا معاملہ کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک تقاضا ہے کہ اہل بیت سے محبت ہو جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ کی محبت کے بنا پر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی بنا پر میرے اہل بیت یعنی میرے گھرانے کے افراد سے محبت کرو (بحوالہ ترمذی) اور اہل بیت بھی وہ کہ جن کے متعلق اللہ تعالی صحیفہ آخر میں ان کی طہارت و پاکیزگی کا اس طرح اعلان فرماتا ہے:

    "اے پیغمبر کے گھر والو! اللہ تو بس یہی منظور ہے تم سے ہر طرح کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں ایسا پاک صاف کردے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔” (الاحزاب 33) 

    وہ اہل بیت جن کی فضیلت کعبے کا دروازہ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا:

    دیکھو! میرے اہل بیت کی مثال تم میں کشتی نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ بچ گیا اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا (بحوالہ مسند احمد)

    اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس کشتی میں سوار فرما دے جو کہ ہماری فلاح و بقا کا ذریعہ ہے اور یا اللہ ہمیں ہلاکت سے محفوظ فرما دے اور اہلبیتؓ کی ہمارے دلوں میں صحیح عقیدت و احترام نصیب عطا فرمائے آمین۔

    @SyedUmair95

  • سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟ تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جو لوگ کہتے ہیں کہ سگریٹ کی لت اگر ایک دفعہ لگ جاۓ تو چھوڑی نہیں جا سکتی۔

    میرے خیال سے وہ غلط کہتے ہیں۔

    یہ خیالات اُن لوگوں کے تو ہو سکتے ہیں،

     جو کمزور قوت فیصلہ کا شکار ہوں۔

    مگر جن لوگوں کو اپنی قوت ارادی یا

    Will power 

    پر یقین ہوتا ہے،

    وہ ایسا نہیں سمجھتے ہیں۔

    مضبوط قوت ارادی سے اس گورکھ دھندے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جب بھی آپ سگریٹ نوشی ترک کریں گے،

    شروع شروع میں آپ بے چینی سی محسوس کریں گے۔

    اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کام میں مصروف کر لیں،

    اپنا دھیان سگریٹ سے ہٹا کر کچھ ایسا سوچنا شروع کر دیں،

    جو آپ کو سگریٹ کی طلب سے دور لے جاۓ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کئی چین سموکر قسم کے لوگ بھی روزے رکھتے ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہر پانچ دس منٹس کے بعد سگریٹ پھونکنے کے عادی ہوتے ہیں،

    وہ روزے کی وجہ سے گھنٹوں،پہروں اس مُوذی لت سے دور رہتے ہیں۔

    بے شک رمضان المبارک چونکہ ایک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہوتا ہے،

    اسی وجہ سے بندے کے ساتھ روزے کی حالت میں خداۓ بزرگ و برتر کا خاص کرم شامل حال رہتا ہے،

    جو سگریٹ نوشی کے عادی افراد کو بھی صبر عطا کر دیتا ہے۔

    مگر اسکے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی فیصلہ کرنے کی قوت یعنی قوت ارادی کا مرکزی طور پر عمل دخل ضرورہوتا ہے۔

    انسان کو اللہ پاک نے 

    اشرف المخلوقات بنایا ہے۔

    وہ اگر چاہے تو اپنی مستقل مزاجی اور فیصلوں پر ڈٹ جانے کی صلاحیت سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    ایسے میں سگریٹ نوشی ترک کرنا کونسی بڑی بات ہے؟

    سگریٹ چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک شائد آپ کبھی کبھار مضطرب ہونے کے عمل سے گُزریں۔

    مگر یہ کیفیت میرے پروردگار نے چاہا توآہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی۔

    اس جان لیوا عادت سے چھٹکارے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نئی سرشاری محسوس کرنے لگیں گے۔

    آپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں بہتر چاک و چوبند،تازہ اورترو توانا پانے لگیں گے۔

    سگریٹ سے نجات پانے کے بعد آپ کے پاس کچھ ایکسٹرا رقم بھی بچنا شروع ہو جاۓ گی۔

    سگریٹ چھوڑنے سے آپکی زندگی سے کئی ادویات بھی خود بخود کم ہونا یا ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں،

    جو رقم بچنے کا زریعہ بنتا ہے۔

    آپ اس بچی ہوئ رقم سے چاہیں تو اپنے بچوں،ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے پھل وغیرہ یا کچھ اور قسم کے تحائف بھی گھر لاسکتے ہیں۔

    ایسا کرتے وقت آپ اُن لذتوں اور خوشگوار ساعتوں سے آشناس ہوں گے،

    جو منحوس سگریٹ نے آپ کو کبھی نہیں دی ہوں گی۔

    سگریٹ چھوڑنے کے لئے مصمم ارادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اپنے کئے گئے فیصلے کے آگے اپنے آپ کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔

    سگریٹ چھوڑیں تو ایسا چھوڑیں کے آپ کے ہاتھ میں کبھی یہ بدبُو دار چیز نظر نہ آۓ۔

    سگریٹ نوش حضرات کو خود تو اس کی گندی بدبُو  محسوس بھی نہیں ہوتی،

    مگر جب وہ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں ،

    جو سموکر نہیں ہوتا،

    تو ایسے افراد کو طبیعت پہ سخت گراں گزرنے والی یہ ناگوار بُو ضرور محسوس ہوتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مروت کے مارے اپنی ناگواری کا اظہار نہ کریں۔

    مگر اس لت کی وجہ سےآپ کی شخصیت ان کے نزدیک پسندیدہ ترین نہیں رہتی،

    وہ لوگ آپ سے ملاقات کو بوجھ سمجھ کر کر تو لیتے ہیں،

    مگر دل سے وہ آپ کے جلدجانے کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔اُنہیں آپ سے مجبورا” ملنا پڑتا ہے،

     انہیں اندر سے کراہت کے باوجود بعض دفعہ آپ کواپنے فرائض منصبی  کی بدولت برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    انتہائ معذرت کے ساتھ یہ میرا زاتی تجربہ ہے کہ میں جب بھی کبھی کسی ایسے شخص سے ملوں جو سگریٹ پیتا ہو تو میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد باۓ باۓ کے لمحات نصیب ہوں۔

    میرا اس پر اختیار نہیں،کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی سگریٹ کے دھوئیں اور بُو سے الرجی ہے۔

    ان باتوں کے علاوہ ایک سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی اوسط” آپکی عمر دس سال کم کر دیتی ہے،

    کیا یہ بہت بڑا المیہ نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے کے درپے ہوتے ہیں،؟

    کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں،

    اپنے خون پسینے کی کمائ سے موت خرید رہے ہوتے ہیں ؟

    ایک اور سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی ،دل،سانس،بلڈ پریشرشوگر اور کئی قسم کے سرطان کے علاوہ مردوں میں جنسی قوت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے،

    جبکہ سگریٹ نوش خواتین دوران حمل کئی بیماریوں،

    بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور لاغر و بیمار بچوں کی ولادت جیسے مسائل سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    سگریٹ نوشی کے بارے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ عادت آپ کو غیر محسوس طریقے سے ایک خوشگوار زندگی سے دور کرتی جاتی ہے۔

    آپ سگریٹ پی پی کر آپ اپنے آپ کو ایک ایسے دلدلی کنوئیں میں گرا رہے ہوتے ہیں،

    جس سے نکلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔

    قبل اس کے وہ جان لیوا اور ہمارے پیاروں کے لئے وہ مشکل گھڑی آن پہنچے۔

    اپنا فیصلہ ابھی کیجیے !

    ابھی جناب اعلی

    بلکل اسی گھڑی کہ 

    آپ نے اللہ پاک کی دی گئی زندگی جیسی عظیم نعمت کو سگریٹ نوشی کی نظر نہیں ہونے دینا۔

    ابھی فیصلہ کیجیے !

    اور اُس فیصلے پر ڈٹ جائیے ایک 

    مرد آہن کی طرح !#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ)
    ضروری نہیں ہم جس سے محبت کرے اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے جائے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا کتا مگر کسی بھی بات پہ سہی
    مجھے تو اس کو ذلیل ہی کرنا تھا تھا
    اس کے بعد جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بےعزت کیا
    میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا
    تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا
    میں بہت بے حس تھی
    دولت کی فراوانی نے مجھ میں تکبر، انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا
    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کرایا
    میری دوست اس کی محبت اور غربت پہ طنز کرتی رہی عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔۔!!!
    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعہ سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا
    اور ہم نے اس بات پر بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا
    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانا تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا
    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آگیا
    منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر اپنے گاؤں چلا گیا شاید اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتے دیکھ سکتا وہ تین چار دن بعد واپس آیا
    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دکھائے اور کہا کہ دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں
    یہ سب میں نے فقط اسے جلانے کے لئے کہا تھا اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا
    میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتی ہاں یار میں جانتی ہوں تو میرے لئے جان بھی دے سکتے ہو سعد مجھے جتاتا رہتا تھا کہ میں اسے بے حد پسند ہو اور وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے
    کمال کا حوصلہ تھا عادی کا بھی اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا تھا بس کبھی کوئی شعر سنا دیتا یا پھر دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے رکھتا پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ میری ایک ٹانگ میں مستقل درد رہنے لگا بہت علاج کرایا ملک اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا مگر کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا
    ایک دن پڑوسن امی سے کہہ رہی تھی کہ نوش کو کسی عامل کے پاس لے جاؤ ہو سکتا ہے کسی نے کوئی جادو ٹونہ کرا دیا ہوگا پتہ کسی نے کالا جادو گرا دیا ہو پڑوسن کی امی سے کالا جادو کا سن کر میرے ذہن میں پہلا خیال یہی عادی کا آیا تھا اور ضرور اسی کمینے نے حسد میں ایسا کیا ہوگا مجھے اپنی طرف مائل کرنے کے لئے میرے دماغ نے کہا تھا
    اور میں بنا سوچے سمجھے اس بات پر ایمان لے آئی تھی میری عادی سے نفرت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا اب میں اسے اپنے گھر سے ذلیل کرکے نکالنے کا بہانہ ڈھونڈ نے لگی میں اب اس کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی
    چھ سات ماہ کے بعد ٹانگ کا درد ختم ہو گیا تھا مگر بے تحاشہ پین کلر کھانے سے میرے گردے ناکارہ ہوگئے تھے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دونوں گردے ختم ہیں نکالنے پڑیں گے کہیں سے ایک گردے کا بندوبست کر لیجئے
    گردہ خریدنا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں تھا مگر مجھے یقین تھا کہ میرا منگیتر سعد مجھے اپنا ایک گردہ دے گا وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ وہ میرے لئے جان دے سکتا ہے
    ابو نے اپنے جاننے والوں سے بات کی کہ وہ جتنے پیسوں میں بھی ہو سکے کہیں سے ایک گردے کا انتظام کریں
    سعد میرے لئے بہت پریشان تھا
    مجھے یقین تھا کہ وہ کہے گا نوشی میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
    میں ابھی زندہ ہوں میں دوں گا اپنا گردہ تمھیں
    مگر سعد نے ایسی کوئی بات نہیں کی سعد نے اتنا ضرور کہا تھا کہ پریشان نہیں ہونا
    ہم کوشش کر رہے ہیں جلد ہی کوئی انتظام ہو جائے گا
    پھر
    میں نے ایک رات فون پر خود ہی اسے کہہ دیا کہ جانی اپنا ایک گردہ مجھے دے دو نا ۔۔۔؟؟؟
    میں نے بڑے مان سے کہا تھا مجھے یقین تھا کہ سعد کہے گا کہ گردہ کیا چیز ہے تم جان بھی مانگو تو حاضر ہیں
    سعد کچھ پل کے لیے چپ ہو گیا تھا

    نوشی یار۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیسے اپنا گردہ دے سکتا ہوں۔۔۔؟
    کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا
    تو میرے مان اور بھروسے کا محل زمین بوس ہوگیا
    دو دن بعد مجھے ہسپتال داخل کرلیا گیا گردے کا انتظام ہو گیا تھا
    مجھے پتا تھا ابو کروڑوں خرچ کر کے بھی گردے کا انتظام کر لیتے اور انہوں نے لیا تھا
    جب سے میری ٹانگ میں درد شروع ہوا تھا عادی بہت پریشان رہنے لگا تھا
    مگر میں جانتی تھی وہ مجھے صرف دکھانے کے لئے پریشان ہونے کا ڈرامہ کرتا تھا تاکہ مجھے اس پہ شک نہ ہو ورنہ اندر سے تو یہ بہت خوش ہوگا

    پھر میرے گردوں کے ناکارہ ہونے کا سن کر تو مزید پریشان ہو گیا تھا
    شاید اس نے جو عمل مجھ سے کرایا تھا اسے اس کی اس حد تک توقع نہیں تھی۔۔۔؟
    عادی میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے تسلی دی تھی
    کہ پریشان نہیں ہونا اللہ بہتر کرے گا
    مجھے اس کی شکل سے بھی الجھن ہونے لگی تھیں میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ کچھ دیر بیٹھا رہا میں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا پھر وہ خود ہی اٹھ کر چلاگیا
    آپریشن کامیاب ہوا تھا ہسپتال میں سعد اور اس کے گھر والے میرے عیادت کو آئے تھے
    عادی تو پہلے دن سے ہی ہسپتال میں تھا وہ میرے لئے سفید پھول لے کر آیا تھا وہ جانتا تھا کہ مجھے سفید پھول بہت پسند ہے مگر میں نے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اس کے لائے پھولوں کو اسی کے سامنے توڑ کر پھینک دیا تھا
    میں جس حال میں تھی اس کا ذمہ دار عادی ہی تھا اگرچہ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں تھا مگر عادی کے سوا اور کوئی ایسا نہیں تھا جو مجھ سے انتقام لینا چاہتا ہوں میری ہر بےعزتی کو اس میسنے انسان نے ہنس کر اسی لئے سہا تھا کہ بعد میں وہ مجھے روتا ہوا دیکھے گا
    عادی نے اپنے لائی بھولوں کا حشر دیکھ کر بس اتنا ہی کہا تھا
    کزن یار غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا بلاوجہ کسی سے اتنی نفرت بھی نہ کرو کہ آپ کی نفرت سے کسی کے دل پر لگے زخم بعد میں آپ کے لئے ناسو بن جائے
    عادی کہ الفاظ سے مجھے لگا جیسے وہ مجھے جاتا رہا ہوں کے مجھے اس حال تک لانے والا وہی ہے
    میں ہسپتال سے گھر آئی تو عادی کی امی یعنی میری مما نے مجھ سے ملنے آئیں یہ دو تین بار پہلے بھی میری عیادت کو آ چکی تھیں
    کچھ ہی دنوں میں میں مکمل ٹھیک ہو چکی تھی مجھے بس ایسے موقع کی تلاش تھی کہ عادی کو سب کی نظروں میں ذلیل کرکے اس گھر سے نکلو سکوں ۔ اس نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ایک دن مجھے اچانک ہی ایک شیطانی خیال سوجھا

    ہمارے گھر کام کرنے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی آتی تھی میں نے اسے 10ہزار دیا اور کہا میں تمہیں جو کچھ کہونگی وہی سب ابو کے پوچھنے پر ان کے سامنے دوہرا دینا
    دس ہزار کی رقم دیکھ کر وہ فورا تیار ہو گئی تھی میں نے رات کو ابو کے کان بھر دی ہے کہ کام کرنے والی لڑکی نے کہا ہے کہ وہ یہاں کام نہیں کرے گی
    جب تک عادی اس گھر میں ہے
    کیونکہ وہ اسے پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ رات گزارنے کا کہتا ہے
    دو تین بار تو اس نے دست درازی بھی کی ہے اگلے دن کام والے آئی تو میں اسے ابو کے پاس لے گئی اس نے بھی وہی کچھ کہا جو میں رات کو ابو کو بتا چکی تھی
    ابو نے عادی سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا اور اسے بلایا اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا
    عادی ہکا بکا رہ گیا تھا تم نے ہم پر نیکی کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو مرضی کرتے پھرو
    ابو نے عادی سے کہا میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟
    عادی نے سوال کیا تھا
    تم نے جو کچھ کیا وہ کوئی بے شرم اور بے غیرت ہی کر سکتا ہے اس سے پہلے کے ابو کچھ بولتے میں نے عادی کو جواب دیا تم بس اور اس گھر سے دفع ہو جاؤ میں نے بڑی بڑی اکڑسے اس سے کہا
    عادی نے مزید کچھ نہ پوچھا اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چپ چاپ گھر سے نکل گیا
    جانے سے پہلے وہ مجھے کہہ گیا تھا
    نوشی۔۔۔۔!!! مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس حد تک چلے جاؤ گے کیونکہ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کو یہاں سے نکلوانے میں میرا ہاتھ ہے
    میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
    عادی نے کہا
    تو میں نے ہنس کر تکبر سے کہا تھا تم سے معافی کون مانگ رہا ہے۔۔۔۔؟
    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور چلا گیا
    (جاری ہے)

    @BismaMalik890

  • سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تمباکو نوشی پہ متعدد مضامین اور تحقیقات نظر سے گزریں ہر تحریر میں تمباکو نوشی کو مضر صحت لکھا گیا.
    مگر کیا کہنے ان شعراء کے ان کانٹینٹ کریٹرز کے جنہوں نے سگریٹ نوشی کو مضر صحت تو لکھا مگر اس کے نقصانات کو اسقدر رومانوی انداز میں بیان کیا اور پردے پر دکھایا کہ دیکھنے والے کو سب بھول گیا مگر انگلیوں میں سگریٹ دبائے وجاہت سے بھرپور ہیرو یاد رہ گیا.
    شعراء حضرات کے ہاں سگریٹ کچھ یوں ہے

    کمرے میں پھیلتا سگریٹ کا دھواں
    میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا
    کفیل آزرامروہوی

    سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں
    اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے
    والی آسی

    گریباں چاک دھواں جام ہاتھ میں سگریٹ
    شبِ فراق عجب حال میں پڑا ہوں میں
    ہاشم رضا جلالپوری
    اور شاعر افضل خان تو باقاعدہ ایک غزل لکھ بیٹھے سگریٹ کی شان میں
    نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ
    میں تجھکو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

    الغرض انصاف ادب و سخن پہ بھی سگریٹ کا دھواں اپنے نشانات چھوڑنے سے باز نہ آیا
    اگر کبھی کسی طالبعلم کو تمباکو کے مضر صحت ہونے پہ لیکچر دینا چاہا بھی تو اس نے اقبال کے آخری ایام کا تذکرہ کر دیا کہ جی علی بخش تو ان کو حقہ دیا کرتا تھا وہ بھی تو پکے مومن تھے اب بندہ کیا کہے اردو ادب سگریٹ اور اقبال اور ہماری گہری خاموشی.
    اب اس جملے سے ادب میں سگریٹ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے
    مشرف عالم ذوقی صاحب فرماتے ہیں

    "سگریٹ اور چائے میں ان دو بڑی عادتوں کا غلام ہوں”

    سگریٹ اور غمگین زندگی کا تو پوچھئے مت

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگا
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    کسی فلم یا ڈرامے کے ہیرو کو غمگین ہونے کے بعد سگریٹ یا شراب پینا گویا حکایت ہو گئی
    اور ہو بھی کیوں نہ پہلے دس بار اقساط میں ہیرو کے ساتھ انسیت اور ہمدردی کے جذبات ابھارے جاتے ہیں اور ہیرو کی عادات سے مرعوب کیا جاتا ہے
    ہیرو کی دس اچھی عادتوں کا قائل ناظر کیا اس کی گیارہویں بری عادت کو برا گردانے گا؟

    امیرانہ زندگی کا کون ہواہشمند نہ ہوگا.ہمارا ادب ہمارا میڈیا سگریٹ نوشی کو اتنا جاذب اور پرکشش بنا کر پیش کرتا ہے کہ نوجوان نسل ان ہیروز کو ان شعراء کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے بھی اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں.

    تمباکو نوشی کے خلاف ہر مہم ناکامیاب اس لیے رہ رہی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک دن منایا جاتا ہے اور اس کے استعمال پہ سارا سال اشتہار اور اشعار چلتے ہیں.
    کاروبار صحت پہ سبقت لے جاتا ہے سگریٹ کو انڈسٹری کہہ کر پلا جھاڑ لیا جاتا ہے. گھر کے گھر تباہ ہو گئے اس انڈسٹری کے ہوتے ہوئے.
    دنیا میں ایسی کمپنیاں ہیں جو سگریٹ نوشی کرنے والوں کو نوکریاں نہیں دیتیں.بہت سے مقامات پہ سگریٹ نوشی ممنوع ہے.
    اگر روک تھام کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو ممکن ہے چند سالوں میں یہ لعنت ختم کی جا سکے.
    ابھی حال ہی میں کرونا ویکسین لگانے پہ جس طرح مجبور کیا گیا اسی طرح ہر ادارے میں اگر میڈیکل ریپورٹ لازمی قرار دی جائے سگریٹ نوشی کرنے والے اور نشے کے عادی ملازمتوں سے برطرف کیا جائے اور بھرتی کے قوانین میں بھی یہ شق شامل کر لی جائے.یہ ایک ناممکن تجویز ہے لیکن اگر چاہت ہو تو کیا نہیں ممکن.
    اور سگریٹ کو رومانوی انداز میں پیش کرنے والے ہیروز اس سے ہونے والی بربادی بھی بیان کرتے ہیں
    مگر وہ بربادی سبق آموز انداز میں بیان نہیں کی جاتی.

    خدا سے دعا ہے کہ ہم تمباکو نوشی اور دیگر منشیات کے خلاف حقیقی معنوں میں اقدامات کریں محض دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا.

    سگریٹ پہ میرا پسندیدہ شعر

    میری بھی کیوں خراب کی مٹی
    جاتے جاتے بتا تو دے سگریٹ

    اور ہم سب جانتے ہیں سگریٹ کچھ نہیں بتائے گا قارئین بتائیں گے کہ یہ تحریر کا حد تک حقیقت رکھتی ہے آپکی آراء کی منتظر

    @Hsbuddy18