Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں!تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں!تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    "ہمارا بچہ تو ہماری سنتا ہی نہیں”۔۔۔”بے کہنے کا ہو گیا ہے”۔۔۔”نہ تووقت پے سونا ہے نہ وقت پراٹھنا”۔۔۔” پڑھنا لکھنا ہے نہیں بس سارا دن موبائل ہے”۔۔۔”ہر ایک سے بدتمیزی اب تع محلے سے بھی شکاتیں آرہی ہیں”۔۔
    یہ ہیں وہ جملے اور آوازیں جو آجکل تقریبا ہر گھر سے سنائ دی جا رہی ہیں ۔۔۔ ماں باپ بچوں کی شرارتوں اور منفی روئیے سے بے حد پریشان نظر آتے ہیں۔۔۔پرائیوٹ اسکولوں کی بھاری بھاری فیسیں دے کربھی بچہ نہ تو پڑھ پارہا ہے اور نہ ہی کوئ تربیت حاصل کر پارہا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ ٹیوشن کا بوجھ الگ ہے لیکن بچے ویسے ہی بدتمیز_بے سلیقہ اور بد تہزیب۔۔۔ایسا کیوں ہے۔۔۔؟؟
    دراصل آج کل کی مصروف زندگی میں والدین نے اپنی زمہ داریاں بھی اسکول اور ٹیوشن کی ٹیچر پر ڈال دی ہے ان کو یہ بات معلوم ہی نہیں کہ بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں اور بچوں کی سب سے بڑی تربیت گاہ اس کا اپنا گھر ہے اور اس کے گھر کا ماحول جیسا ہو گا بچہ بھی ویسے ہی ڈھلے گا یاد رکھئے آپ کا بچہ جو آپ کو دیکھ کر سیکھ سکتا ہے وہ کوئ دوسرا سکھا ہی نہیں سکتا یہ ایک ایسا خودکار عمل ہے جس کو سمجھنے کے لئے کوئ روکٹ سائنس نہیں۔۔۔
    مجھے یاد ہےجب ہم چھوٹے تھے ۔۔تو جیسے ہی ازان کی آواز آئ ابا جی نےٹیلی ویژن بند کر دینا تھا اور فورا نماز کے لئے چلا جاتےتھے جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے تو ازان ہوتے ہی ہم بھی ٹی وی بند کر دیتے اور نماز کے لئے مسجد کی دوڑ لگا دیتے تھے مجھے یاد نہیں کہ کبھی ابا جی نے ہمیں نماز کی سختی کی ہو ہم ابا جی کے طرزعمل کو دیکھ دیکھ کر اتنے عادی ہو چکے تھے کہ نماز چھوٹتی ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔
    اس کے علاوہ میرے والد صاحب جب گھر میں داخل ہوتے تو پہلے دروازہ کھٹکھٹاتے اور داخل ہو کر باآواز سلام کرتے تھے اور امی سے مسکراتے ہوئے بات کرتے۔۔۔ آہستہ آہستہ یہ عادتیں ہم سب بہن بھائیوں میں بھی منتقل ہوئیں سب بہن بھائ بناء دستک دئے اپنے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔۔۔ اور داخل ہوتے ہی باآواز ہو کے سلام کرتے اور امی کے پاس بیٹھ کر پہلے گپ شپ۔لگاتے پھر دیگر کاموں میں لگتے تھے۔۔۔۔
    مجھے یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ابا جی جب آفس سے گھر آتے۔۔۔ تو پہلےدادی جان کے پاس بیٹھتے اور ان کا ہاتھ چومتے تھے۔۔۔ابا جی کی یہی عادت ہم سب بہن بھائیوں نے بھی پائ۔۔۔ گھر آتے ہی امی کے پاس بیٹھتے کوئ ان سے لپٹ کر اپنی محبت کا اظہار کرتا توکوئ ان کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ جاتا اور کوئ تو باقاعدہ پیار کرنا شروع کر دیتا تھا۔۔۔
    اس کے علاوہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اکثر ابا جی گھر کے کام کاج میں امی کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے اگر امی کپڑے دھو رہی ہوں یا کھانا پکا رہی ہوں تو وہ بھی انکی مدد کرتے تھے۔۔۔بالکل یہ ہی عادتیں کم و بیش ہم سب بھائیوں میں منتقل ہوئیں ہم سب کام کاج میں اپنی بیگمات کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔۔۔
    علاوہ ازیں ہم نے ہمیشہ امی کو پنجگانہ نماز پڑھتے دیکھا کبھی سر سے دوپٹہ نہیں اترتا تھا ۔۔۔صبح صبح اٹھ جانا ۔۔فجر سے فارغ ہو کر تلاوت کلام ان کا معمول تھا ۔۔۔اور آپ یقین جانئے میری تمام۔بہنیں بالکل امی کی طرح ہی صبح سویرے اٹھتی ہیں اور وہی معمولات زندگی اپنائ ہوئ ہیں جو میری والدہ کے تھے۔۔۔۔
    ہم نے تو کبھی اپنے والدین کو لڑتے ہوئے بھی نہیں دیکھا لڑنا تو دور کی بات ہماری امی جی ابا کے آگے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتی تھیں۔۔۔ہمیشہ اہل محلہ کے دکھ درد میں شریک رہتی تھیں ۔۔۔محلے میں کسی کے گھر کوئ تقریب ہو ہمارا بیٹھک والا کمرہ شادی کی تقریب والے محلے داروں کو دے دیا جاتا تھا ۔۔۔جہاں ان کے مردمہمانوں کا انتظام ہوتا تھا۔۔۔اور امی اور ابا دونوں ان کے لئے ایسے بڑھ چڑھ کرکام کرتے تھے جیسے وہ محلے دار نہیں رشتہ دار ہوں۔۔۔اب تو سارے محلے کے گھر ہی بڑے ہو چکے ۔۔۔لیکن پھر بھی ان کے دکھ سکھ میں ہم سب ان کے ساتھ ویسے ہی کھڑے ہوتے ہیں جیسے ہمارے والدین ہوتے تھے۔۔۔
    اچھا ہمارے گھر میں ایک اور اچھی بات تھی کوئ بھی بات ہو۔۔۔مسئلہ ہو۔۔۔یا کسی کے رشتے وغیرہ کی بات ہو۔۔ابا جی ہم سب سے مشاورت ضرور کرتے تھے۔۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں کافی چھوٹا تھاجب میری بڑی بہن کا رشتہ آیا تو ابا جی نے مجھ سمیت سب بہن بھائیوں سے مشورہ کیا تھا۔۔۔ اکثر دیگر امور میں بھی وہ ہمیں مشاورت میں شامل رکھتے تھے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ میں بھی اپنے گھر میں کسی بھی امور پر اپنی فیملی سے مشاورت کرتا ہوں اور ہمارے گھر میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں باہمی رضامندی سے ہی ہوتے ہیں۔۔۔
    ایک بات اور۔۔۔میرے گھر میں صفائ کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا والدہ بغیر ہاتھ دھوئے کچن میں بھی نہیں جاتی تھیں اور ہمیں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔گھر ہمیشہ شیشے کی طرح دمکتا رہتا تھا۔۔۔ جھوٹ بولنے کو اور گندے الفاظ کے استعمال کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔۔۔اور اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ ہی عادت ہم سب بہن بھائیوں میں بھی ہے سب کے گھر صاف ستھرے روشن ۔۔اور ہمیشہ ہی سچ اور ستھرا ہی بولتے ہیں۔۔۔۔
    تو دوستوں! یہ تمام عادات جو ہمیں اپنے والدین سے ملیں اور ہم نے بھی وہی طرز زندگی اپنے انفرادی گھرانے میں بھی اپنائ ہے۔۔۔اب ماشاء اللہ میری اولاد بھی اسی نقش قدم پر چل رہی ہے۔۔۔ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے والدین نے ہمیں سرکاری اسکولوں میں ہی پڑھایا اور بڑے نے چھوٹے کو پڑھائ میں رہنمائ کی اور اس نے اور نیچے والے کو ۔۔اس طرح ٹیوشن سے بھی دور رہے۔۔۔ ہماری تربیت توازخود ہی ہوتی رہی۔۔۔ نہ کوئ بھاری فیس والا اسکول ۔۔۔اور نہ کوئ قیمتی ٹیوشن۔۔۔ سب بہن بھائ ماشاءاللہ اس معاشرے میں ایک کامیاب باعزت زندگی بھی گزار رہے ہیں۔۔اور اللہ تعالی کا بڑا احسان ہے ہمارے گھر سے ایسے جملوں کی آواز بھی نہیں آتیں جن کا زکر میں نے مضمون کے شروع میں کیا ۔۔

    @Azizsiddiqui100

  • عمران خان ، پاکستان اور افغانستان تحریر ملک منیب محمود

    ۔ افغانستان جو 1980 کی دہائی سے جنگ زدہ ملک ہے ، طالبان کے ایک اور ممکنہ قبضے کی طرف بڑھ رہا ہے ، جیسا کہ اس نے 1996 میں کیا تھا۔ پاکستان نتائج اور ایک اور ممکنہ خانہ جنگی سے پریشان ہے۔ دوحہ معاہدے کے بعد امریکی اور نیٹو افواج تیزی سے افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگست تک اپنی فوجیں نکال لے گا۔ یہ موقع دیکھ کر طالبان نے بڑی تعداد میں اضلاع پر تیزی سے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین سیاسی تصفیہ کے بغیر افغانستان سے نکل رہا ہے جسے جلد شروع کیا جانا چاہیے جو کہ افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔
    پاکستان اس صورتحال سے پریشان ہے اور پرامن اور سیاسی طور پر مستحکم افغانستان چاہتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں ، اور تین دہائیوں تک 30 لاکھ افغان مہاجرین کی خدمت کی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے مہاجرین کی ایک اور لہر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان افغانستان میں کیا چاہتا ہے اور عمران خان کیا سوچتے ہیں ، ہم بات کریں گے۔ پاکستان کیا چاہتا ہے؟ بھارت ، ایک انتہا پسند وزیر اعظم کی سربراہی والا ملک ، پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے اور پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کرسکتا۔ یہ ایک وسیع حقیقت ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قندھار اور کابل میں بھارتی قونصل خانے درحقیقت پاکستان میں دہشت گردوں کی نگرانی کے مراکز ہیں۔
    پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین خطے میں اپنے مفادات کے خلاف استعمال ہو اور نہ ہی اس کے لوگوں کے خلاف کسی کے ہاتھوں۔ پاکستان دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کو برداشت کر رہا ہے اور کئی فوجی کارروائیوں کے بعد بالآخر امن بحال ہوا ہے۔ پاکستانی چاہتے ہیں کہ یہ امن قائم رہے اور کسی کی سرزمین سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر طالبان لڑائی کے ذریعے کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ اس کے دشمنوں کے لیے ایک موقع ہو گا کہ وہ افغانستان کی زمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔ دراصل پاکستان اپنے لوگوں اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں کون حکومت کرے گا یہ پاکستان کا کاروبار نہیں ہے۔ پاکستان افغانستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو افغان عوام کے لیے قابل قبول ہو۔
    اگر طالبان افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ممکنہ طور پر خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ ماضی کی طرح خطے میں پناہ گزینوں کے بحران کا باعث بنے گا۔ پاکستان اپنی کمزور معاشی صورتحال کے باوجود تقریبا 3 30 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ اور مہاجرین کی ایک اور لہر ، جو کہ تقریبا 7 7 سے 8 لاکھ لوگ ہیں ، پاکستان برداشت نہیں کرے گا۔ عمران خان کا افغانستان کے بارے میں نظریہ امریکہ ایک سیاسی معاہدے کے ذریعے افغانستان سے نکل رہا ہے ، جو 2001 کے بعد پرامن حل کا پہلا آپشن ہونا چاہیے تھا۔ جب امریکہ جنگ میں گیا تو یہ تباہ کن تھا کیونکہ پورے خطے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو فضائی اڈے دیے جس سے افغان آبادی میں نفرت پیدا ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر دوڑ گئی۔
    عمران خان پاکستان کی واحد سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے 2001 سے فوجی آپریشن کے بجائے سیاسی تصفیے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت عمران خان کو سیاسی تصفیے سے متعلق اپنی پوزیشن کے لیے "طالبان خان” کہا جاتا تھا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان صحیح تھے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد ، خان نے امریکیوں اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی نشست کا استعمال کیا۔ عمران خان سیاسی طور پر مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتے ہیں۔ ماضی کے برعکس ، بطور وزیراعظم عمران افغانستان پر حکمرانی کے حق میں نہیں ہیں۔ عمران جو چاہتے ہیں وہ افغانستان میں حکومت ہے جو افغانوں کے لیے قابل قبول ہے۔ کون ہوگا ، یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر یہ طالبان کی حکومت ہے تو یہ پاکستان کے لیے قابل قبول ہوگا اگر افغان عوام اسے قبول کریں۔
    عمران افغانستان میں شورش اور خانہ جنگی کی مخالفت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اگر طالبان تشدد کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے تو پاکستان اپنی سرحد بند کر دے گا۔ یہ مہاجرین کی ایک اور لہر کو خانہ جنگی سے ابھرنے سے روکنا ہے۔ کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے پاکستان پناہ گزینوں کے ایک اور بحران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عمران خطے میں معاشی روابط بڑھانے کی کوشش میں پاکستان کو جیو پولیٹکس سے جیو اکنامک پالیسیوں میں بھی منتقل کر رہے ہیں۔ عمران وسطی ایشیا کو پاکستان کے لیے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے کے لیے ایک بڑی منڈی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک وژن بھی رکھیں جو ان ممالک کے درمیان مضبوط معاشی بندھن بنائے گا اور یہ پورے خطے کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ہوگا۔ لیکن اس کا انحصار افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر ہے۔ جب اشرف غنی افغان امن عمل میں پاکستان کے "منفی کردار” کے بارے میں بات کرتے ہیں تو عمران نے موقع پر ہی واضح کر دیا کہ منفی کردار پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ، پھر ہم اس کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں؟ پاکستان طالبان اور دیگر گروہوں کے ساتھ سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ عمران یہ بھی چاہتا ہے کہ جو بھی افغانستان پر حکمرانی کرے وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کرے۔ خاص طور پر بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری پر۔ وہ ایک سیاسی طور پر مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتا ہے ، جو تجارتی اور اقتصادی تعلقات اور ترقی پر توجہ دے۔ اور یہ خطے میں کسی کے مفادات کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کے لیے تیار رہنا چاہیے اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے ایک مشکل دن آگے ہے ، اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ عمران خان کا افغانستان کا وژن مثبت سمت میں آگے بڑھے گا اور افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط معاشی اور سیاسی تعلقات بنائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا ، ورنہ یہ خطے میں ایک نئی تباہی کا آغاز ہوگا۔

  • صرف خواب نہ دکھائیں… تحریر جام محمد ماجد

    مملکت خداداد
    پاکستان کو ایک عظیم فلاحی اسلامی ملک بننا تھا لیکن یہاں جو بھی حکمران برسراقتدار آیا اسلام بیزار اور امریکہ اور یورپ کا وفادار طبقہ ہی مسلط رہا جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہا یہ مذہب بیزار طبقہ جن کا مفاد امریکی غلامی سے وابستہ رہا اس لئے کسی بھی حکمران نے کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی کیوں کے پاکستان کو قائم ہوے ستر سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے لیکن عوام کی حالت جوں کی توں ہی ہے کیوں کے آج تک کسی حکمران یا پارٹی نے کبھی سنجیدہ ہو کے عوام کے بارے میں اصلاحاتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی جس وجہ سے پاکستانی قوم کو جو بھی حکمران آتا ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتا اور محرومی کی چکی میں پسی عوام پھر سے اسی امید پر سہانے خواب سجا لیتی کیوں کے یہاں یہ رواج عام ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ عوام کو سنہرے خواب ضرور دکھائے جاتے ہیں جن پر یہ بھولی بھالی عوام گزشتہ ستر سال سے یقین کرتی چلی آرہی ہے لیکن بد قسمتی سے خواب ہیں جو پورے ہی نہیں ہو رہے خوابوں کی تعبیر کے پیچھے بھاگتی بھاگتی جب پاکستانی عوام اپنا سفر طے کرکے مطلوبہ مقام پر پہنچتی ہے تو اسے یہ دیکھ کر شدید حیرانی اور پریشانی ہوتی ہے کہ وہ جسے منزل مقصود کا آب حیات سمجھ رہی تھی وہ تو دراصل ریت پر مشتمل ایک ریگستان ہے جسے سراب کہہ سکتے ہیں۔
    ستر سالوں سے منز ل مقصود کی متلاشی پاکستانی قوم کسی رہبر کی تلاش میں ادھر ادھر سرگرداں نظر آتی ہے لیکن طویل تر سفر کے باوجود وہ بالآخر نقطہ آغاز پر واپس پہنچ جاتی ہے گول دائرے میں ایک عرصے سے جاری ہماری قوم کایہ سفر صفر سے شروع ہو کر بالآخر صفر پر ہی پہنچ جاتا ہے اور حکمران عوام کو ایک اور خواب کے پیچھے لگا دیتے ہیں جس کی منزل ہی نہیں ہوتی خدا جانے ہم کب تک اس سراب کے پیچھے بھاگتے اور اپنے لیڈروں سے دھوکا کھاتے رہیں گے؟میرا خیال ہے کہ جب تک کرپشن اور پیسے کی بنیاد پر استوار اسلامی جمہوریہ پاکستان کا موجودہ گلا سڑا اور بد بو دار نظام تبدیل نہیں ہوتا اور ایک فلاحی اسلامی نظام جب تک رائج نہیں ہوتا پاکستان جو کے اسلام کا قلعہ ہے تھا اور رہے گا حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا کیوں کے اسلامی نظام ہی وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں پاکستان کی ترقی اور بقا وابستہ ہے کیوں کے ایک اسلامی نظام اور معاشرا ہی واحد حل ہے اور جب تک مساوات پر لوگوں کو انصاف اور حق نہیں ملتا وطن عزیز حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔
    اس کے لئے ضروری ہے کے پاکستان کو قائد اور اقبال کے نظریہ فلسفہ اور سوچ کے مطابق ڈھالا جائے حقیقی فلاحی اسلامی مملکت بنایا جائے کے جس میں سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوں اور سب شہری آزادی سے چاہے وہ کسی بھی رنگ نسل اور مذہب کا ہو بے خوف و خطر زندگی گزار سکیں
    پاکستان زندہ باد ہمیشہ پائندہ باد…
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں ….
    @Majidjampti

  • عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    عورت کمزور نہیں ہے تحریر: مریم وحید

    میں آج بات کر نا چاہتی ہوں’’ کمز ورعورت‘‘ کے بارے میں ۔’’کمز ورعورت‘‘ ہمارے معاشرے کا دیا گیا عورتوں کو ایک ایسا لقب ہے جسے ہمارے معاشرے کی خواتین نے دل کھول کر قبول بھی کیا ہے یہ چ ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے وہ جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتی ہے مرد کے ایک تھپٹر سے گر جاتی ہے۔ وہ روحانی لحاظ سے بھی کمزور ہوتی ہے۔ اپنوں کی جھوٹی محبت کی خاطر اپنا آپ مٹا دیتی ہے والدین کی عزت کی خاطر اپنے حقوق بھلا دیتی ہے، بھائی کی غیرت کی خاطر اپنی خواہشوں کو مار دیتی ہے۔

    سرال کی نا انصافیاں، ظالم شوہر کی مار پیٹ صرف اس رشتے کو بچانے کی خاطر سہتی جاتی ہے اپنی زبان سی لیتی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی کیونکہ ماں باپ نے تو پہلے ہی کہہ دیا ہوتا ہے کہ یہی نصیب ہے تمہارا اس کے ساتھ گزارا کرو اس طرح وہ پوری زندگی ظلم سہتی سہتی بوڑھی ہوجاتی ہے۔اپنے بچوں کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے اپنا آپ مٹادیتی ہے ۔چ ہے وہ بیٹی بن جاۓ یا بہن بیوی بن جاۓ یا بہو یا پھر وہ ماں ہی کیوں نہ بن جاۓ ہر رشتے میں ہر صورت میں وہ کمزور ہی تو ہوتی ہے لیکن کیاوہ پیدائشی کمزور ہوتی؟ یا پھر اللہ نے ہی اسے کمزور پیدا کیا ہے؟ کیا وہ خدا کی اتنی ہی کمزور مخلوق ہے؟ میں نے اسکا جواب ڈھونڈ نے کی کوشش کی مگر کہیں بھی کسی بھی کتاب یا قرآن کی کسی بھی آیت میں مجھے ایسا کہیں کچھ نہیں ملا جس کی تفسیر کہتی ہو کہ عورت غیرت کے نام پر قتل ہونے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورے شوہر کی مار پیٹ اور سسرال کے طعنے سنے کے لئے بنائی گئی ہے، کہ عورت اپنے بچوں کی نافرمانی برداشت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ میں نے کہیں یہ لکھا ہوانہیں پڑھا کہ وہ تمام ظلم اور زیادتیاں خاموشی سے سہنے کی پابند ہے۔

    اسلام میں کہیں بھی ایسا کوئی ذکرنہیں تھا اسلام کہتا ہے کہ وہ پردہ کرنے کی پابند ہے ، وہ اپنی عزت کی حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوۓ زندگی گزارنے کی پابند ہے،

    کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکی کالج جاۓ گی تو بگڑ جاۓ گی، ایسا کیوں ہوتا ہے یہ صرف تربیت پر منحصر ہوتا ہے، اگر عورت پسند کی شادی کرنے کا حق رکھتی ہے تو پھر کیسے کوئی اپنی جھوٹی غیرت کا مسئلہ بنا کر اس سے چھین لیتا ہے؟ وہ اپنے شوہر سے عزت کی حقدار ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ شو ہراسے مارنے پیٹنے کا حق رکھتا ہے؟ وہ اپنی اولاد کی جنت ہوتی ہے تو پھر کیسے وہ اولاد اپنی جنت سے نافرمانی کرسکتی ہے؟ تو کیا عورت واقعی کمزور ہے یا اسے کمزور بنایا گیا؟ پیدائش کے پہلے دن سے اسکے پاؤں میں اصولوں کی زنجیر ڈال دی جاتی ہے، جھوٹی غیرتوں کی بیڑیاں ڈال کر اسے کمزور بنا دیا گیا۔ وہ بچوں کی پیدائش کے اگلے ہی دن پورے گھر کا کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ پھراسے کہا گیا کہ وہ کمزور جسم کی مالک ہے وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت کی خاطر اپنی محبت کو قربان کر دیتی ہے۔ وہ جواپنے شوہر کی خوشی کے لئے اپنا آپ لٹا دیتی ہے، وہ جواپنی اولا دکا پیٹ بھرنے کے لئے خود بھوکی سوجاتی ہے، اس اولا د نے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جانے کے بعداسکی جانب دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ تو کیا عورت کمزور تھی؟

    نہیں!! اسے کمزور بنایا گیاہے وہ کمزور نہیں تھی۔ وہ آج بھی کمزور نہیں ہے، عورت تو بہادر ہوتی ہے، عورت تو طاقتور ہوتی ہے، وہ جب اپنے لئے قدم اٹھاتی ہے تو راستے خود ہی بنتے چلے جاتے ہیں ۔وہ جب ان تمام مظالم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو ظالم خود ہی کمزور ہونے لگتے ہیں۔ وہ جب اپنے حقوق حاصل کر نے پر آتی ہے تو اسے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔

    حقیقت یہی ہے کہ اس اللہ نے عورت کو کمزور نہیں بنایا۔ اس نے اسے خاص بنایا ہے۔

    تحریر: مریم وحید

    @meryamWaheed

  • قاسم علی شاہ تحریر-محسن ریاض

    قاسم علی شاہ تحریر-محسن ریاض

    تمام پاکستانی جو سوشل میڈیا کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہوں گے یا استعمال کرتے ہوں گے وہ یقیناً اس نام سے واقف ہوں گے- قاسم علی شاہ ایک معلم ، موٹیویشنل سپیکر ہیں اور پوری دنیا میں ان کو مثبت سوچ پھیلانے کا باعث بننے کی وجہ سے بہت زیادہ سراہا جاتا ہے اس وقت پاکستان میں ان کی فاؤنڈیشن بھی فعال ہے جس کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو اس طرح تیار کرنا ہے کہ وہ ایک ایسی زمدگی بسر کریں جس کا انہوں نے خواب دیکھا ہو-اس وقت وہ بارہ کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی کتاب بڑی منزل کے مسافر نے سیل کے کئی ریکارڈ بنائے ہیں سوشل میڈیا اس وقت ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو ہر انسان کے ہاتھ میں ہے اور وہ بنا سوچے سمجھے چلا رہا ہے کئی بار تو اس کو درست استعمال کیا جاتا ہے مگر کئی دفعہ اس کو غیر مناسب انداز میں استعمال کیا جاتا ہے ایسی ایک مثال آپ قندیل بلوچ کے حوالے سے سیکھ سکتے جس کو آخر کار موت کی وادی میں سونا پڑا ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں پیش آیا جب کسی نے قاسم علی شاہ کی چند ایسی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈال دیں جس میں انہوں نے قمیض نہیں پہنی ہوئی تھی اس پر ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا -لوگوں نے بغیر کچھ جانے یا سوچھے طرح طرح کی باتیں بنایا شروع کر دی غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں-ٹویٹر پر ایک صارف واصف نے یہ لکھا کہ ابھی تو اصل کھیل شروع ہوا ہے آپ انتظار کریں تھوڑی دیر بعد قاسم علی شاہ کی ویڈیو اپلوڈ کروں گا جس میں وہ رنگرلیاں منا رہے ہیں اور کئی عورتوں کے ساتھ ناچ رہے ہیں ایک اور صارف عدنان نے لکھا کہ یہ قاسم علی شاہ ایک بہروپیہ ہے جس نے دانائی کا بھیس بدلا ہوا ہے جبکہ یہ ایک درندہ ہے جس نے کئی لڑکیوں کی زندگیاں بربا د کی ہیں اور آواز اٹھنے پر ان کو پیسے دے کر یا پھر طاقت کے زور پر دبا دیا گیا ہے اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ ٹرینڈنگ میں چلنے لگا اور قاسم علی کو خود آ کر ان تصویروں کے معاملے کی وضاحت دینی پڑ گئی-قاسم علی شاہ نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری فیملی یہ دیکھ کر ہنس رہی ہے کہ لوگ کیا کیا کہہ رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ تصویریں ان کے گھر کہ اندر کی ہیں اور انہوں نے خود بنائی ہیں اور تین سال پرانی ہیں انہوں نے اپنے گھر کی موجودہ تصویریں بھی شیئر کی اور دیکھایا کہ جو بیک گراؤنڈ تصویروں میں ہے وہی اب بھی ہے اور وہ اکثر کھر میں دھوتی اور بنیان میں ہوتے ہیں اس دن بھی میں ایک ایسے ہی لباس میں ملبوس تھا -اس کے علاوہ انہوں نے ان لوگوں کو مخاطب کیا جو لوگ اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ ابھی ویڈیوز آنے والی ہیں شائد وہ مایوس ہوں گے کیونکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے-اس کے علاوہ انہوں نے تصویریں لیک ہونے کے بارے میں بتایا کہ موبائل میں خرابی کے باعث اسے مکینک کی پاس بھیجا گیا اور وہاں سے یہ تصویریں لیک ہوئی جن کی وجہ سے یہ سارا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے آخر میں قاسم علی شاہ نے رب کی رضا کے لیے ان تمام لوگوں کو معاف کر دیا جو اس پراپیگنڈے میں شامل تھے اور ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے تھے -اب آتے ہیں اس طرف کہ یہ معاملہ کیوں پیش آیا یوں تو اس کی کئی وجوہات ہیں مگر جو اہم ہے وہ ہماری دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہے سب سے پہلے مکینک نے کوتاہی کرتے ہوئے تصویریں لیک کی اس کے بعدلوگوں نے بغیر کسی ثبوت کے باتیں بنائی شروع کر دی اور عزت اچھالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا -کاش ہم ایک بہتر معاشرے کی تخلیق کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • مہنگائی اور حکومت تحریر:محمد وقاص شریف

    کہا گیا تھا کہ مہنگائی حکومت میں بیٹھے مافیا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو اپنے مفاد کی خاطر ذخیراندوزی کرتے ہیں اور پھر قلت کا فائدہ اٹھا کر منہ مانگے داموں پر اشیاء فروخت کرتے ہیں
    کہا گیا تھا کہ قرض کرپشن کک بیک اور بھتہ خوری کے لیے لیا جاتا ہے۔
    کہا گیا تھا کہ بیروزگاری ناقص حکومتی پالیسوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔
    کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینا غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل ہے تاکہ ملک غیروں کا ہمیشہ کے لئے محتاج رہے اور ان کی ڈکٹیشن پر چلے
    کہا گیا تھا کہ بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھو حکمران کرپٹ ہیں
    کہا گیا تھا اسٹاک ایکسچینج گرجائے تو اس کی وجہ حکومتی ناقص معاشی پالیسی ہوتی ہے
    کہا گیا تھا کہ میٹرو اور اورنج ٹرین سفید ہاتھی منصوبے ہیں۔
    کہا گیا تھا کہ موٹروے انڈرپاس اس اوورہیڈبرج اور فلائی اوور سے قوم نہیں بنتی
    کہنے والے جب یہ سب کہہ رہے تھے تو شاید ان کو یہ پتہ نہ تھا
    کہ بہت جلد ان کا کہا انہیں کے گلے کی ہڈی بن جائے گا۔ اور انہیں اپنے ایک ایک کہے پہ ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درج بالا نکات میں سے ایک نکتہ بھی ایسا نہیں جن کو دو یا چار سے ضرب دیکر
    عوام کے آگے نہ رکھا گیا ہو۔ اقتدار سے باہر رہ کر زبان چلانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ملک خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا یہاں سو طرح کے حقیقی مسائل ہوتے ہیں
    اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں نئے مسائل بھی جنم لے لیتے ہیں۔ حکومت ایسا جال ہوتا ہے جس میں سانس تو لی جا سکتی ہے۔ مگر باہر نہیں آیا جا سکتا۔ پی پی پی اور مسلم لیگ پر لعن طعن کرنے والوں کو اقتدار میں آکر پتہ چل گیا ہے۔ کہ اگر ہم سچے تھے تو جھوٹے یہ بھی نہیں تھے۔ پچھلی دونوں حکومتیں اتحادیوں کے زور بازو پر ضرور بنیں۔ مگر ان کے پاس سادہ اکثریت ذاتی طور پر موجود تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک ایک دن گن کے گزارا اور جیسے تیسے مدت پوری کی۔ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو ذاتی طور پر سادہ اکثریت ہے۔
    اور نہ ہی ایسے اتحادی ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ان کے لیے فطری حثیت رکھتے ہو ں ایک اتحادی بھی سلپ ہوگیا تو خان منہ کے بل گر جائے گا۔ مہنگائی کا طوفان ان کے اپنے لوگوں نے برپا کیا ہوا ہے۔ تیاری اگلے الیکشن کی ہو رہی ہے اگر مافیا کو من مرضی نہ کرنے دی گئی
    تو جہانگیر کا تیز ترین جہاز نہیں اڑ سکے گا۔ اور اگلا الیکشن خطرے میں پڑ جائے گا۔ آنکھیں بند کرکے مہنگائی کی اجازت چند ہفتوں کے لیے دی گئی ہے۔ تاکہ اگلے الیکشن کے لیے فنڈز کا مسئلہ حل ہو جائے۔ یہ مسئلہ حل ہوتے ہی ستمبر کے آخر تک
    روزمرہ استعمال کی گیارہ اشیاء کو معمول پر لایا جائے گا۔ اور کامیابی کا جشن منایا جائے گا
    کہ مہنگائی کنٹرول ہو گئی۔ غریب عوام کے ساتھ بہت بڑا ہاتھ کیا گیا۔ کتیا چوروں کے ساتھ مل چکی ہے۔ مڈٹرم الیکشن کا فیصلہ اندریں خانہ ہوچکا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ بیساکھیوں سے جان چھوٹ جائے اور ایک مضبوط حکومت دوبارہ بنائی جائے تاکہ اتحادیوں کی بلیک میلنگ سے نجات مل جائے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ عوام پر جو پچھلے اٹھارہ ماہ سے ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے
    یہ کرب ان کے دل و دماغ بلکہ خون کا حصہ بن چکا ہے۔ جسے کسی بھی لالی پاپ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت نے جو بربادی کرنی تھی کر چکی۔ اب عوامی ردعمل کا ٹائم ہے۔ اب عوامی سونامی تیار ہو چکا ہے
    عوام حکومتی نااہلی سے واقف ہو چکی ہے۔ تالیاں بجانے والے بھی نادم ہیں۔ اور تھپکی دینے والے بھی شرمندہ ہیں۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ غلط گھوڑے پر ہاتھ رکھ بیٹھے ہیں
    میدان خالی کرانے والے بھی تیار ہیں۔ اور گھوڑا بھی بھاگنے پہ راضی ہے عوام تو پیں نکال کر انتقام نہیں لیتی۔ جس طرح لاتی ہے اسی طرح بھگا دیتی ہے.
    @joinwsharif7

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05 تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 4 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے ملاوٹ اور دھوکا دہی سے کماۓ پیسے انسانی زندگی کو فلوج کیا ہوا ہے یہ معاشرے کا ایسا ناسور ہے جس کو ختم کرنے سے کبھی ختم نہیں ہوتے جب تک انسان کی سوچ نہیں بدلتی ۔ اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا یہ سب دھندے عروج پر ہیں

    سبزیوں پر رنگ کرنا:
    سبز پتوں والی سبزیاں صحت کیلئے قیمتی ہوتی ہیں، لیکن اب ان میں بھی اصلیت نام کی حد تک محدود رہ گئی ہے ۔ کیمیکل کی مدد سے ان کی پیداوار بڑھائی جارہی ہے اتنا ہی نہیں کریلے، بھنڈی، بیگن، ہری مرچ اور مٹر سمیت بہت ساری سر سبز سبزیوں کو ہرا اور تازہ رکھنے کے لئے سینتھٹک رنگ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، یہی حال پھلوں کا بھی ہے، پھلوں کو تازہ، میٹھا اور چمک دار بنانے کے لئے کیمیکل کا استعمال بے روک ٹوک ہورہا ہے۔ ہری سبزیوں کی قدرتی پیداوار کے ساتھ ملاوٹ کا دھندہ عروج پہ ہے اسی طرح سبزیوں کو کیمیکل کی مدد سے ایک ہی رات میں کافی بڑا کردیا جاتا ہے، جن میں لوکی، کریلا، تربوز، خربوز، کھیرا ککڑی سمیت دیگر سبزیاں شامل ہیں بہت سارے لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جس کھیرے اور ککڑی کو وہ سلاد میں استعمال کرکے کھارہے ہیں وہ صرف ایک ہی رات میں 10 سے 12 گھنٹے میں پوری طرح تیار ہو جاتے ہیں۔

    پیٹرول میں گندا تیل:
    پاکستان میں ہر جگہ ملاوٹ ہو رہی ہے تیل کے ملاوٹ سے ہم جو موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ اثر انداز ہو رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی موٹر سائیکل یا گاڑی میں ڈالا گیا تیل ملاوٹ سے پاک ہے یا نہیں تو کس طرح چیک کر سکتے ہیں
    1- سب سے پہلے ایک سفید رنگ کا کاغذ لیں اور اس کے اُوپر چند قطرے پٹرول کے ڈال دیں اِس کے بعد اُس پٹرول کو منہ سے پھونک نکال کر خشک کریں اگر پٹرول خالص ہوا تو ہوا میں اُڑ جاۓ گا اور سفید پیپر بالکل صاف ہوگا اور اگر پٹرول ملاوٹ شدہ ہوا تو وہ داغ چھوڑ جاۓ گا اس کا مطلب یہ ہوا جو ہم پٹرول استعمال کر رہے ہیں اس میں مٹی کے تیل کی ملاوٹ کی گئی ہے
    2- پٹرول میں کچھ لوگ ریزن کا استعمال بھی کرتے ہیں یہ ٹھوس اور مائع دونوں حالتوں میں دستیاب ہوتا ہے اس کو جلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس کو چیک کرنے کیلئے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی ہے کہ نہیں اس کیلئے ایک پیالی لیں اس میں تھوڑی سی مقدار میں پٹرول ڈال دیں اب اس پٹرول کو آگ لگا دیں اگر آگ لگنے کے بعد پٹرول کے ساتھ پیالی کے پیندے کو بھی آگ لگ گئی ہے اور وہ کالی ہو گی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی گئی ہے اسی طرح اگر وہی پٹرول ملاوٹ سے پاک ہوگا تو اس پیالی کے پیندے کو صاف ستھرا پائیں گے

    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل:
    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل کا بہت استعمال کیا جا رہا کھانے کی اشیاء سے لے کر کھیلنے کی ایشیاء تک ہو ہر ایک چیز میں ملاوٹ کی جاتی ہے اور بچے کھیلتے وقت کھیلونوں کو منہ میں ڈال لیتے ہیں جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اس لئے بچوں کو جو کھلونے دیں ان کو روزانہ کی بنیاد پر اچھی طرح اچھے محلول سے دھو کر دیں (جو جراثیم وغیرہ سے بھی پاک ہو)

    گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا:
    جیسا کے آپ سب جانتے ہیں گوشت ہر گھر کی ضرورت ہے اور لوگ بڑے شوق سے بناتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے جس جانور کا گوشت آپ لے رہے ہیں کیا وہ تندرست ہے یا بیمار یہ ہمیں پتا نہیں چلتا اسی طرح کیا گوشت میں پانی کے انجیکشن لگاۓ جارہے ہیں کہ نہیں
    ایسی ملاوٹ کی روک تھام کیلئے فوڈ سیفٹی اتھارٹی موجود ہے لیکن تمام زمہ داری تاجروں پہ ڈال دی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ رشوت خور رشوت لےکر اپنا کام ایمانداری سے سرانجام نہیں کرتے
    کسی بھی جانور کے گوشت میں پانی کے انجیکشن سے مراد ہے کہ جس جانور کو صبح ذبح کرنا ہو اس کو رات کے وقت ہی نتھنوں سے ایک ٹیوب گزار کر جسم میں پانی بھر دیا جاتا ہے یہ عمل جانور کیلئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور پھر وہ پانی نظام انہضام کے ذریعے جانوروں کے خون اور خلیوں میں شامل ہو جاتا ہےاس سے گوشت کے وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس طرح کرنے سے جانور زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا اس لیے ذبح کرنے سے کچھ گھنٹے پہلے اس طرح کا عمل کرتے ہیں
    زندہ جانوروں میں پانی لگانا نہ صرف ظالمانہ ہے ، بلکہ ہمارے ملک کے متعلقہ قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور کھانے کی حفاظت میں بھی بہت سے خطرات سامنے آتے ہیں

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح لوگ بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مردہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں تاکہ عوام باخبر ہو اب تو لوگوں کا شیوہ بن گیا ہے دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کے لین دین سے خفیہ طریقے سے پیسے کمانا لیکن لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی ہے کہ ہم کہاں ملاوٹ کر رہے ہیں اس ملاوٹ کو دور کریں اور اپنے بچوں کو حلال روزی کھلائیں یاد رکھیں ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو ضرور دیکھنا چاہیے ہم کیا ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ؟ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • اردو میٹھی زبان تحریر۔۔فرزانہ شریف

    اردو میٹھی زبان تحریر۔۔فرزانہ شریف

    ہر پاکستانی کی طرح میرا دل بھی شدت سے چاہتا ہے کہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ان کی زبان بولی جاتی ہے ویسے ہی ہمارے ملک میں ہماری ذبان بولی جائے اتنا میرا ملک ترقی کی منازل طے کرلے کہ پھرمیرے ملک میں رہنے والوں کو اردو زبان بولتے ہوئے شرم نہ آئے یا احساس کمتری کا احساس نہ ہو یہ بات بیرون ملک آکر میں نے بہت شدت سے محسوس کی کہ ہم خود کو بڑا ایڈوانس اور کوئی اونچی شے شو کرنے کے لیے اپنے بچوں کو فل انگلش میڈیم سکول میں تعلیم دلواتے ہیں اور فخر سے اپنے رشتےداروں کو بتاتے ہیں کہ جہاں ہمارا بچہ پڑھ رہا ہے وہاں مکمل آکسفورڈ کا نصاب ہے اردو کی بکس نہیں تو یہاں سے ہی ہماری قومی زبان کی بے حرمتی شروع ہوجاتی ہے ہمیں سب کو انفرادی طور پر اپنا آپ بدلنا ہوگا اگر چاہتے ہیں کہ ہماری ذبان کو بھی عزت ملے ۔مانتی ہوں انگلش انٹرنیشل زبان ہے بعض جگہ پر بولنی ضروری بھی ہوجاتی ہے اپنا پیغام کو بہتر انداز سےرسائی دینے کے لیے۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اپنی زبان کو بھول ہی جائیں ہمارے بچے انگلش میں بات کرنی ذیادہ آسان سمجھیں بنسبت اردو کے ۔اور ہم اپنے بچوں کو فر فر انگلش بولتے ہوئے دیکھ کر واری صدقے جانا شروع ہوجائیں ۔۔ا
    پاکستان کا ماحول ہی ایسا بن چکا ہے بچے تو بچے بڑے بھی اردو کے بجائے انگلش میں بات کرنا ذیادہ آسان سمجھتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ سامنے والا انھیں کوئی بہت اونچی چیز سمجھ رہا ہے بڑا پڑھا لکھا سمجھ رہاہے ۔۔اور تو سکول میں بچوں کو کلاس میں بھی سختی سے انگلش میں بات کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے توان بچوں نے پھر انگلش میں ہی بات کرنی ہے ناں جیسا ماحول ویسی تربیت ۔۔۔!!
    اور اگر خوش قسمتی سے بچہ سرکاری سکول۔کالج میں داخل کروا دیں تو وہاں بھی دوسری قوموں کی غلامی کرنے پر ہماری پاکستانی قوم نمبر ایک پر ہی آئے گی فارسی ۔عربی کو لازمی نصاب میں شامل کیا ہوتا ہے ان مضامین میں پاس ہونا لازمی ہے ۔انگلش تو ہے ہی لازمی ۔اردو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے مطلب اس مضمون میں فیل بھی ہو جاو گے تو بھی کوئی بات نہیں آپ کو فیل نہیں مانا جائے گا بس انگلش میں پاس ہونا ضروری ہے ۔۔!!
    افسوس ہم احساس کمتری کے ماری قوم ہمیں اپنی پہچان پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے دوسروں کی پہچان کا رنگ اپنے اوپر حاوی کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ہمارا پھر وہ حساب بن جاتا ہے۔۔
    "کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ”
    بس یہ ہی کہنا چاہوں گی کہ ہمیں اپنی زبان کو ذندہ کرنا ہوگا ہر صورت ۔ہرقیمت پر ۔ہمیں طے کرنا ہوگا ہماری قومی زبان ہی ہماری دفتری زبان ہے یہ نہیں جس ملک سے ہمیں بھیک کے نام پر امداد مل جائے اسی کے گن گانے لگ جائیں اور اپنی روایات بھول جائیں اور اسی ملک کی زبان کے رٹے لگانے شروع کردیں
    تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے کہ کتنے ملک پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے تھے آج وہ ملک ترقی پذیر ممالک میں شامل ہوچکے ہیں ہمارے ملک کو سب نے اپنے گھر کی لونڈی سمجھ رکھا تھا ۔خوب نوچا گھسوٹا اور دوسرے ممالک میں بھاگ گے ۔ایک وقت تھا جرمنی نے پاکستان سے قرض لیا تھا آج جرمنی کہاں اور ہم کہاں ۔۔!!ابھی بھی ملک کی تباہی نکل جاتی اگر اللہ تعالی پاکستان کو صادق وآمین ملک کا سربراہ عنائت نہ فرما تا صد شکر ۔۔تو بات کررہی تھی اردو زبان کی ۔جو سکون بھری راحت میں اردو میں محسوس کرتی ہوں اپناناپن محسوس ہوتا ہے ایسا دنیا کی کسی زبان میں محسوس نہیں کیا میری کوشش ہوتی ہے کم ازکم اپنے پاکستانیوں سے اردو میں بات کروں غیر ملکیوں سے ان کی زبان میں بات کرنا ہماری مجبوری ہے ورنہ میرا بس چلے تو انھیں بھی اپنی زبان سکھا دوں ویسے کافی غیرملکی لوگوں کو جن کے ساتھ میری اچھی دعا سلام ہے ان کو السلام علیکم بولنا سکھایا ہے ۔۔۔
    ہماری پاکستانی عوام کو اب غفلت کی نیند سے جاگ جانا چاہئیے اپنے بچوں کو اپنے کلچر کے بارے میں بتاتے رہنا چاہئے ۔ اپنے بچوں کو بتانا چاہئیے کہ اردو بولنی کیوں ضروری ہے اردو زبان سے ہمارا کیا رشتہ ہے ۔اور اردو بولنا جہالیت نہیں اردو ہماری قومی زبان ہے ہمارا فخر ۔۔میں دوسروں کی کیا بات کروں میں اپنی کزنز سے کبھی وٹس آپ پر بات کروں تو وہ جواب انگلش میں دیتی ہیں اور میں دل میں کہتی ہوں ” ایڈی تسی انگلش دی جانشین "جیسے میں تو آپکو جانتی ہی نہیں ہوں ۔۔!!
    پھر میں تو اردو میں ہی جواب دیتی ہوں کبھی احساس کمتری محسوس نہی ہوا اپنی زبان بولتے ہیں الحمدللہ ۔
    اب پاکستان کے حالت بدل چکے ہیں ۔اب ہمیں اپنے گلے سے غلامی کا طوق اتار کر پھینک دینا چاہئیے کنویں کے مینڈک بن کر بہت ذندگی گزار لی اب اس حصار سے خود کو نکالنا ہوگا بحثیت قوم ہمیں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہونا ہوگا خود سے ابتدا کرنی ہوگی اور ایک تندرست معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اپنے لیڈر قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا۔۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    "نہیں بدلی کبھی ان قوموں کی حالت
    جن کو خیال نہیں آتا اپنی حالت خود بدلنے کا ۔۔ !!

  • غلط کو غلط کہیں گے  اور متحد رہیں گے انشاء الله –  تحرير حمیرا راجپوت

    غلط کو غلط کہیں گے اور متحد رہیں گے انشاء الله – تحرير حمیرا راجپوت

    ‏حالات وواقعات کی موجودہ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پر لکھنے سے پہلے چند باتوں کو مدنظر رکھ کر دھرانا ضروری سمجھتی ہوں کہ جیسا سب ہی جانتے کہ آجکل جنگوں کو طاقت کے زور پر لڑنے سے پہلے دنیا کو اپنا اچھا چہرہ دکھانا بھی ضروری ٹھہرتااور موجودہ دور ہی پروکسیز کی طاقت پر ملکوں کا معیار گرانا اور معیشت کو سنبھلنے نادیتے ہوئے چہره اتنا مسخ کردینا کہ دوسرے ممالک بھی بڑھ جڑھ کر حصہ لیں اور اسی ایماء 3طرح کا فائدہ حاصل ہوتا ہے
    1 دنیا کی نظر سافٹ کارنر ہوکر اپنی پاور دکھانےکااثر ملتا ہے
    2 دوسر ے ممالک پر اپنی سپرویژن دکھا کر قدر بڑھانےکاموقع
    3 دوسرے ممالک کی طاقت اور پیسہ استعمال ہوجانے سےاپنے ملک کا پیسہ بچالیاجاتا ہے اب سب ہی جانتے کہ اچھےحالات وترقی میں بہتری سے وہی روکتے ہیں جو دشمن ہوتے ہیں اور اسلام مخالف قوتیں پاکستان مخالف طاقتیں ہر کمزور پہلو سے فائده اسی طرح اٹھاناچاہتی ہیں جس طرح تاریخ کا حوالہ دوں تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی منافقین کا سامنا رہا یاصلیبی جنگیں تقریباً سن 1095 سے 1230 کے درمیانی عرصہ میں لڑی گئیں یاورلڈ وار 2 ہمیشہ سے میر جعفر و میر صادق جیسے لوگوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کئے گئے ہیں بالکل اسی طرح بہانہ کچھ اور نشانہ کچھ کی بنیاد بنا کر جب سے معرض وجود ھمارا ملک آیا ہے دشمنان نوجوان اسلام کو بھٹکانے اخلاقی دینی اور اصلاحی معیار گرانے کے پیچھے پڑے ہیں کبھی جذبات کے نام پر بھٹکا کر بے چینی اور نقصان کا سبب بنا دیا جاتا ہے کبھی ڈس انفاریشن کی جنگ سے اب جب دھشت گردی الحمد الله 2001 سے 2012 والا وه اثر نہیں رکھتی اور جو ازلی دشمنوں کو15اگست کے دن ضرب لگ چکی اس تکلیف کا اثر ہے کہ یہاں معاشرے کے ایک کمزور پہلو کو اٹھا کر اپنے مقاصد کا حصول شروع کردیا گیا اور مستقبل میں بھی کمزور پہلو پرہی وار کیا جائے گا کیونکہ براہ راست ون آن ون الجھنے کے باجود اتحادیوں کی طاقت مدد کا ہونا سود مندی اور قابل یقین جیت سمجھی جاتی ہے اور انہیں واقعات کا فائده اٹھاکر اب مردو خواتین سوشل میڈیا یا عام زندگی کے حصوں میں بٹے جارہے ہیں یا بانٹ دیا گیااور یہاں آپس کے الجھاؤ سے فائدہ وه اٹھانا چاہتے ہیں جو عوت کیلئے صرف8 مارچ کو نظر آتے ہیں معاشرے کے اس بگاڑ میں سب سے بڑی کمزروی میڈیا کی ہے جو اپنی ریٹنگ کے چکر اسلامی اور اصلاحی پروگرامز اور اچھے مقرررین ہر مسلک کے وه عالم جو تفرقہ کی بات نہیں کرتے انہیں موقع کیوں نہیں دیتے کہ آئیں اور پروگرامز کا حصہ بنیں معاشرے کی اصلاح کیلئے اصلاحی پروگرامز صرف رمضان ٹرانسمشن کا حصہ نہیں 24 گھنٹے میں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ایسے پروگرامز کو دینا ہی ہوگا یہاں والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وه بچے یا بچی کی خوشی ٹکٹاک جی آفت سے اصلاح کے دائرے تک رکھیں وہیں حکومت وقت بھی اگر اس ٹکٹاک کو بند نہیں کرتی تو خصوصی اس کے قوانین اور بھاری جرمانے عائد کرے تاکہ کوئی بے حودگی اور بگاڑ کے چانسز کم سے کم تر کئے جاسکے اور جذباتی حضرات میں شامل ہونے سے بہتر کہ جہاں جس کی غلطی ہو وہاں اسی کو قصوروار ٹھہرائیں بجائے کسی ایک کی طرف داری پر اپنا موقف دیکر اس پر قائم ہوجائیں حقیقت کھلنے پر بجائے عزیمت اٹھانی پڑے اور قوم کو اصلاح بھرا کچھ کہہ کر صحافت کا معیار بلند کرنے کو اپنے موقف پر انا بنا کر کھڑے رہنا انتہائی افسوس کا مقام بنتا ہے اور یہی بگاڑ کی وجوہات بھی بنتی ہیں آخر میں ایسے جذباتی حضرات کو سانحہ موٹروے یاد کروادیتی ہوں جس پر اب تک کسی نے موازنہ نہیں کیا کہ وہ بھی ایک عورت ہی تھی لہذا مردو خواتین کو معاشرے کے چند حیوانوں کی وجہ سے ملک اور معاشرےسےمتنفر کرنے والے اپنی توانائی معاشرے کے سدھار کیلئے استعمال کریں الحمد الله نامم بے چین ہونگے نامتنفر نا کسی کے غم تکلیف میں استعمال ہوکر ملک کا چہرہ بگاڑیں گے اللّه پاک قوم کو اپنے اسلامی معاشرے پر فخر سے کیساتھ ھمیشہ متحد اور ملک کوکام یابیوں کی جانب گامزن رکھے🤲آمین
    تحریر…
    ‎@humiraj1

  • خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    خواتین کو ہراسمنٹ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، تحریر:ذیشان علی

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جسے دنیا میں اپنی ایک مثال قائم کرنی تھی اور پوری دنیا ہمارے اس معاشرے کی تعریف کرتی اور ہمیں سراہتی دنیا بھر میں یہ بات واضح ہوتی اور ہر کوئی اس کو تسلیم کرتا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین محفوظ ہیں، اگر ہم عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرتے،
    لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنے رویوں سے اپنے اعمال سے ہم اس معاشرے کو دنیا میں تنقید کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں،
    مجھے نہیں پتا معاشرے کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے خوش خیالی اور بے انتہا آزادی کا نتیجہ ہے،

    تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ آزادی ہر عورت کا حق ہے وہ جس لباس میں چاہے جیسے چاہے اور جہاں چائے جا، آ، سکتی ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے یا اس سے کوئی نامناسب حرکات کرے،
    ہم بحثیت مشرقی اقدار سب سے بڑھ کر ایک مسلمان معاشرے کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں،
    یہاں ہمارے اعمال اور ہمارے طور طریقے اور ہماری تہذیب اور ہماری اقدار کو مناسب رویوں کے ساتھ ہے ہمیں اپنانا ہوگا۔
    ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور نامناسب رویوں کا بڑھتا ہوا اضافہ ہمارے لئے انتہائی شرم کا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،
    اور ہمیں پھر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ دنیا ہمارے اس عمل سے ہماری سوچ ہماری اقدار ہماری روایات کو برا سمجھتی ہے۔
    اور ہمارے لوگوں کا شمار دنیا کے بدترین لوگوں میں کیا جاتا ہے، ہمیں اپنی اس روایات کو بدلنا ہوگا جو ہم نے نہ جانے کہاں سے سیکھ لی، ہمیں اپنے معاشرے اور اپنے ملک کی عزت و آبرو کو تار تار ہونے سے بچانا ہوگا۔
    کسی بھی بچے، بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کی تباہی اور بربادی کو آواز دینے جیسی ہے،
    بطور ماں باپ بطور اساتذہ بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہیں انہیں یہ سکھانا بہت ضروری ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب واحترام اور شرم و حیا کا خاص خیال رکھنا ہے دین کے ساتھ جڑے رہنے سے ہم شیطانی وسوسوں سے دور رہ سکتے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو ہم اپنے معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنا سکتے ہیں،
    ورنہ ہمارے معاشرے کی اس بگڑتی صورتحال کو جلد کنٹرول نا کیا گیا تو ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا جو معاشرے اور ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،
    اللّٰہ ہماری ماؤں بہنوں کو شرم والی چادریں نصیب کرے اور ہمارے بھائیوں کو بھی اللہ تعالی شرم و حیا دے کہ وہ معاشرے کی دوسری خواتین کو اپنی مائیں بہنیں سمجھے اور انہیں عزت و احترام دیں اور معاشرہ ایسے جرائم اور ایسے واقعات سے محفوظ ہو جائے،
    سزا و جزا کے عمل کو ریاست ہے بہتر بنائے اور درندہ صفت انسانوں کو جو کبھی بھی انسان نہیں بن سکتے انہیں ہمارے معاشرے ہماری اصلاح اور ہماری روایات کا قتل ہرگز نہیں کرنے دینا چاہیے انہیں ان کے ہر برے کام پر ان کو بدترین سزا سے گزارا جائے تاکہ اگر انسان بن سکتے تو بہت ہی اچھا ہو گا اگر نہیں تو وہ اسی طرح اور ہمیشہ کے لئے سزا کے مستحق ہیں،
    آئین پاکستان کی رو سے شہریوں کی عزت و ناموس ان کی جان اور ان کے مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائیں ،
    اور ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ساتھ بچوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ ایسی حرکتوں سے ایسے عمل سے ہمیشہ کے لئے باز رہے ہیں،
    اللہ ب ہدایتوں کوہدایت دے، آمین

    @zsh_ali