Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور   تحریر  نسیم کھیڑا

    پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور تحریر نسیم کھیڑا

    یہ خبر آج کل ہر چینل کی زینت بنی ہوئی ہے ہر کوئی اس کی coverage کرکے اپنے آپ کو انسانی حقوق, خواتین کے حقوق کا علم بردار ثابت کرنے کی کوشیش کر رہا rating بڑھ رہی ہے اور خوب رونق لگی ہوئی ہے اور ہم بھولے بھالے عوام گوں مگوں کی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ کس کو سچ مانیں اور کس کو چھوٹ.
    جو ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے.
    خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
    آج کے جدید دور کو, جسے ہم ترقی یافتہ دور بھی کہتے ہیں حالانکہ ترقی مادی لحاظ سے ہے روحانی طور پر ہم ہم تنزلی کی جانب گامزن ہیں اس میں کوئی خبر چاہے چھوٹی ہو یا سچی, چُھپ نہیں سکتی اور اس خبر کے حوالے سے مزید خبریں ,تبصرے, آراء اور ہمدردیاں سامنے آتی ہیں. یہ بات ازل سے ثابت ہے کہ خیر اور شر دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اچھائی نہ ہو تو برائی کی پہچان ممکن نہیں برائی نہ ہو تو اچھائی کی شناخت کرنا ممکن نہیں
    اب آتے ہیں اس خبر کی طرف خبروں سے خبریں نکلتی ہیں اور ان خبروں سے حقائق سامنے آتے ہیں پنجابی میں کہاوت ہے.
    ” کملا گل کرے ,سیاڑاں قیاس کرے ”
    یہ لڑکی جو خود کو مظلوم کہتی ہے اور جس کے ساتھ ان اوباش نوجوانوں نے جو کچھ کیا کسی طور بھی اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا. ہم اس لڑکی کی بد کرداری , بدچلنی یا کسی بھی قسم کی کردار کشی کا گھر بیٹھ کر کوئی جائزہ فتویٰ یا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہمیں ہمارا مزہب اور قانوں اجازت دیتا ہے. لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس پورے معاملے میں لڑکی معصوم نہیں. اس نے خود اپنے fans / follower کو بلایا کہ ہم سب یومِ آزادی کو مل کر منائیں گے تم سب میرے دیوانے پروانے آجاؤ تمارے درمیان میں اپنی tik tok بناؤں گی اور مشہور ہوجاؤں گی. لیکن………… جناب گیم ہوگئی الٹی. وہ سب social media کے فرینڈز جھلائے ہوئے کتوں کی طرح اس پر چڑھ دوڑے
    "بھیڑ جب بھیڑیوں میں جائے گی تو کیسے جان کی امان پائے گی”

    اور اس بہتی گنگا میں جس نے نہیں بھی ہاتھ دھونے تھے دھولئے . اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد اس نیک پروین لڑکی نے کسی تھانے میں اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شکایت نہ کی لیکن جب بد سلوکی کی وڈیو تشتِ ازبام ہوئی تو تیسرے دن اس نے یاسر شامی اور اقرار الحسن سے رابطہ کیا کہ مجھے آپ بھائی لوگ انصاف دلائیں. یہ اور اس قسم کے کئی لوگ تو پہلے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ:
    ” کوئی خبر لگے اور ہمارا دھندہ چلے ”

    اس کے پیچھے کیا اسباب, واقعات اور حقائق ہوتے ہیں ؟ اس بات سے انھیں کوئی غرص نہیں ہوتی.
    بس اِس کے بعد کیا ہوا میں آپ تین چار روز سے دیکھ رہے ہیں نیوز چینل, انسانی حقوق, عورت فاؤنڑیشن, اداکار, اداکارئیں اینکرز غرض جس کو نہیں بھی بولنا بول رہا ہے اور اس واقعہ کی آڑ میں پوری دنیا کو بتا رہا ہے کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ دنیا کا غلیظ ترین معاشرہ ہے یہاں بائیس کروڑ انساں نہیں بلکہ بھیڑے رہتے ہیں . اور ہماری بُزدار حکومت( فارسی میں بُز’ بکری’ کو کہتے ہیں ) کی دوڈیں لگی ہوئی ہیں. ہماری پنجاب پولیس افراد کے نامعلام جم غفیر کی تلاش میں سرگرداں ہیے اور ایک 79 سالہ بزرگ کو بھی شاملِ تفتیش کرلیا ہے اور جلد مجرموں کو کیفرے کردار تک پہنچائے گی.
    پیڑاں ہور تے پکھیاں ہور.
    میں آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں برے لوگوں کے ساتھ اچھے بھی لوگ ہیں عورتوں کا ادب احترام کرنے والے بھی ہیں ہمارا معاشرہ اتنا بھی گندہ نہیں جتنا ہم اسے ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں. ہر خبر کو دیکھیں سنیں لیکن یقین سمجھ بوجھ سے کریں
    ‎@Naseem_Khera

  • ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ    تحریر: زاہد کبدانی

    ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ تحریر: زاہد کبدانی

    غربت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ اکثر لوگوں کے پاس محدود اقتصادی وسائل ہیں اور ان کا معیار زندگی کم ہے۔ عوام تعلیم ، صحت ، مواصلات اور اچھی خوراک میں جدید سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ آمدنی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ متوازی زندگی گزارنے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مقابلے کے اس دور میں وہ اپنے حقوق سے محروم محسوس کرتے ہیں اور کمتریاں ان پر حاوی ہوتی ہیں۔ وہ کنبے کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہیں دیے جاتے کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی دوستی ایک ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا معیار زندگی تعلیم اور معاشی وسائل کے بغیر نہیں بڑھتا۔ غربت خود ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ غریب لوگ نئے رجحانات پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سماجی زندگی میں نئے طریقے اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ غربت کو ایک سماجی مسئلہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آگے بڑھنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ترقی کے طریقے نہیں سمجھتے: وہ زیادہ تر مایوس ہوتے ہیں جب ان کی ضروریات زندگی نہیں ہوتی
    پوری. مایوسی میں وہ جارحانہ ہو جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہیں۔ دوسروں کی نفرت کی وجہ سے وہ رد عمل لیتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشی عدم مساوات کی وجہ سے امیر لوگوں کی گاڑیاں اور املاک تباہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات امیر آدمی کا بچہ اغوا ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کی گاڑی اٹھا لی جاتی ہے اور کبھی ”اس کے گھر میں ڈاکو ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ امیر آدمی پر قتل جیسے زیادہ گھناؤنے جرم کی طرف جاتا ہے۔ اس طرح سے. غربت ایک سماجی مسئلہ ہونے کی وجہ سے سنگین نوعیت کے دیگر سماجی مسائل پیدا کرتا ہے۔
    ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر غربت۔
    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ یہ کئی سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
    1. غربت ناخواندگی اور جہالت پیدا کرتی ہے۔
    بہت سے بچے اس مسئلے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر سال لاکھوں بچے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کے بجائے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    2۔ دہشت گردی بھی غربت کی پیداوار ہے۔
    دہشت گرد بہت سارے پیسے دے کر چھوٹے بچوں اور غریب نوجوانوں کو پھنساتے ہیں اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد بننے کی تربیت دیتے ہیں۔
    3. جرائم اور معاشرتی برائیاں:
    جرائم اور معاشرتی برائیاں کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ غربت کی چھتری لوگ غربت کی وجہ سے جرائم کرتے ہیں۔ بہت سی سماجی برائیاں بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
    4: اقتصادی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ:
    5: غربت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے جو پوری قوم کو پریشان کرتی ہے۔ تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ بھی ہے
    کہ، بہت سے دوسرے سماجی مسائل کی ماں ہے،

    غربت کی وجوہات۔
    غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں۔ جن میں. قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کمی:
    ہم قدرتی ماحول سے معاشی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ زمین ، پہاڑ ، پہاڑ ، دریا اور آبشار ہیں جہاں سے ہم اپنی تکنیکی مہارت سے دولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پہاڑوں سے بہنے والے پانی کو ڈیموں میں کنٹرول اور موڑ سکتے ہیں جہاں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہروں کو آبپاشی کے لیے۔
    کم معیار کے کام سے بچیں:
    2: ہماری قوم کے لوگ محنت اور مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ، سڑک پر اور سڑک پر کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزدوری میں کام نہ کرکے بلکہ صاف ستھرا لباس پہن کر اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔ احترام اور وقار کا یہ تصور انہیں گھروں میں گھس جاتا ہے ، رہنے کے لیے گندی جگہیں اور ان کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی سہولتوں سے محروم معیاری کھانا۔
    محنت کی کمی منشیات کی لت کا باعث بنتی ہے:
    3: ایسے لوگ جو محنت سے گریز کرتے ہیں غریب آدمی کی زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ہیروئین ، چرس اور زیادتی کی دوسری چیزوں میں گھس جاتے ہیں۔ ممنوعہ حرکتیں ان کی عادات میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتی ہیں ، جو زندگی میں مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہیں۔
    مخالف سماجی عادات:
    4: بے روزگار اور بے روزگار لوگ بھی ایسی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں ، جو کہ سماج مخالف ہیں ، جیسے ’جوا ، شراب نوشی ، دھوکہ دہی ، چوری اور ڈکیتی۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ان اقسام کے ساتھیوں میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ وہ مطمئن رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے چیزیں چوری کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی اور جھوٹ بولنا بری عادت ہے جو ایسے بے کار بالغوں کے عمومی رویے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بیکار اور بیکار لوگ ہیں جو اچھے شہریوں سے نفرت کرتے ہیں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • دنیا میں زمین کا وہ مقام جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ کی گئی

    دنیا میں زمین کا وہ مقام جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ کی گئی

    دنیا میں زمین کا ایک ایسا مقام بھی موجود ہے جہاں پہلی بار بارش ریکارڈ ی گئی گرین لینڈ کی سطح سمندر سے 2 میل بلند چوٹی پر موجود وسیع و عریض پٹی پر بارش نے ماہرین کو حیران کر دیا

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جسے ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں زمین کے ایسے مقام پر جہاں 1950 سے جب سے بارش کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے آج تک بارش ریکارڈ نہیں ہوئی تھی وہاں آسمان سے پانی برسنے نے سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کر دیا۔

    امریکہ میں طوفانی بارشیں، 22 افراد ہلاک متعدد لاپتہ

    اس 3 ہزار 2سو 16 میٹر بلند چوٹی پر عموماً درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے مگر حال ہی میں وہاں گرم ہوا کے نتیجے میں شدید بارش ہوئی اور 7 ارب ٹن پانی برفانی پٹی پر برس گیا۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے موسمیاتی اسٹیشن نے 14 اگست کو اس مقام پر بارش کو برستے دیکھا مگر ان کے پاس جانچ پڑتال کے لیے پیمانہ ہی نہیں تھا کیونکہ یہاں کبھی بارش نہیں ہوئی گرین لینڈ کے اس مقام پر 3 دن تک درجہ حرارت اوسط سے 18 سینٹی گریڈ زیادہ رہا جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں برف پگھلتے دیکھا گیا۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں جولائی میں بھی بڑے پیمانے پر برف پگھلی تھی اور 2021 گزشتہ صدی کا چوتھا سال بن گیا جب اس طرح بڑے پیمانے پر برف پگھلی اس سے قبل 1995، 2012 اور 2019 میں ایسا ہوا تھا۔

  • عمر خیام کون تھا؟  تحریر: آصف شاہ خان

    عمر خیام کون تھا؟ تحریر: آصف شاہ خان


    ہمارے ہاں بہت سی شخصیات ایسی ہیں جن کی اصل شہرت ہم نہیں جانتے ہیں اور ہمیں ان شخصیات کے صرف وہی کارنامے جانتے ہیں جو ان شخصیات کی زندگی اور ان کی شہرت میں ثانوی مقام رکھتے ہیں۔۔۔
    آؤ چلتے ہیں تخیلات کی دنیا میں اور عمر خیام پر اپنی بحث شروع کرنے سے پہلے ایک مثال لیتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کو دیکھیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا نام سن کر ہمارے ذہنوں میں شاعری آتی ہے، اس میں شک نہیں کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری لاجواب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری کو بھی جس وجہ سے شہرت حاصل ہے وہ اس کا فلسفہ ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ بیک وقت ایک عظیم فلسفی، ایک کامیاب وکیل⁦، ایک باستقامت رہنما اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں کے ذہنوں میں صرف اس کی شاعری ہے۔
    بالکل اسی طرح معاملہ عمر خیام کے ساتھ بھی ہے۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ پر پھر کبھی بات کرینگے آج چلتے ہیں عمر خیام کے بیت النجوم میں اور عمر خیام کے بارے میں پڑھتے ہیں۔۔۔
    جیساکہ اوپر زکر کیا ہے عمر خیام کے ساتھ بھی علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا معاملہ ہے⁦، عمر خیام ایک عظیم ماہر فلکیات، ماہر علم نجوم، عظیم ریاضی دان اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا۔۔۔
    عمر خیام 1048ء میں نیشاپور کے ایک خیمہ ساز کے گھر میں آنکھ کھلی۔ ابتدائی تعلیم زمانے کے عرف کے مطابق حاصل کی۔ علمی و تحقیقی مضامین کی طرف ملن زیادہ تھا اس وجہ سے باپ کا پیشہ اختیار نہیں کیا بلکہ علمی دنیا میں سفر جاری رکھا۔۔۔۔
    جوانی میں عمر خیام باپ کے سایے سے محروم ہوگیا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن علم و تحقیق سے اپنا رشتہ نہیں توڑا ۔۔۔۔
    سلطان الپ ارسلان کے روم کے خلاف ملاذگرد کی جنگ میں عمر خیام کی ملاقات سلطان الپ ارسلان کے بیٹے سلطان ملک شاہ سے ہوا اور اس کو تین پیشنگوئیاں کیں کہ جنگ میں فتح سلطان الپ ارسلان کی ہوگی لیکن بعد میں شہنشاہ روم اور سلطان الپ ارسلان فوت ہو جائینگے ۔۔۔۔
    خدا کا کرنا بھی ایسا ہوا۔ اس وجہ سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم نجوم پر کافی یقین پیدا ہوا، سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم سے کافی متاثر تھے۔
    اس جنگ کے بعد عمر خیام سلجوقی سلطنت کی سرپرستی میں ریاضی کے ایک ماہر استاد سے ریاضی پڑھنے لگا۔ اس کے استاد نے اس کے اندر چھپی صلاحیتیں دیکھیں اور اس نے نظام الملک طوسی کو ایک خط بیجھا کہ عمر خیام میں بہت صلاحیتیں ہیں اگر اس کو موقع دیا جائے یہ بہت کچھ کر پائے گا۔ نظام الملک طوسی سلطان ملک شاہ کا وزیراعظم تھا اس نے عمر خیام کے بارے میں سلطان ملک شاہ کو بتایا۔ ملک شاہ پہلے سے عمر خیام کے علم کا گرویدہ تھا اس لیے بنا وقت ضائع کیے عمر خیام کو ایک تجربہ گا تعمیر کروایا عمر خیام کی خواہش پر جو "بیت النجوم” کے نام سے مشہور ہوا۔ وہاں وہ مختلف تجربات و مشاہدات کرتا تھا۔ اور بعد میں سلطان ملک شاہ نے اس کو دربار میں منجم خاص کے عہدے سے نوازا۔۔۔۔۔
    عمر خیام کے وہ کارنامے جس کی وجہ سے ان کو شہرت ملی تھی ہم میں سے اکثر کو معلوم نہیں وہ صرف شاعری نہیں تھی بلکہ اس کے یہ کارنامے علم فلکیات، فلسفہ اور ریاضی کے شعبوں میں ہیں۔۔۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ شمشی کیلنڈر میں ہر چار سال بعد فروری 29 دن کا ہوتا ہے اور اس طرح سال 366 دن کا۔ یہ عمر خیام کا کارنامہ ہے عمر خیام نے سلطان ملک شاہ کے دور میں بیت النجوم میں سات سال کی مشکل محنت کے بعد یہ اندازہ لگایا تھا کہ سال میں 365 دن نہیں بلکہ 365 دن اور 6 گھنٹے ہوتے ہیں جو کل ملا کر چار سال میں ایک دن بنتا ہے۔ اس لیے سلطان ملک شاہ کے لئے نئے کیلنڈر کو اس نے جو ترتیب دیا تھا اس میں عمر خیام نے یہ فرق مٹایا تھا۔ یہ وہ کارنامہ ہے کہ آج کے جدید دور کی سائنس بھی اس کو درست مانتی ہے حالانکہ اس زمانے میں یہ جدید آلات نہیں تھے۔۔۔۔
    ریاضی کے شعبہ میں اس کے بھی بڑے بڑے کارنامے ہیں مثال کے طور پر الجبرا میں اس کی مشہور کتاب الجبرا و مقابلہ، جس سے آج کے دور میں بھی الجبرا پڑھنے والے مستفید ہوتے ہیں۔ اس طرح الجبرا میں اس نے چھ نئی کلیے دریافت کیے ہیں۔ مسلہ دو رقمی (بائنمیل تیورم) کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے ۔۔۔۔
    عمر خیام 1131ء میں وفات پائی۔ وفات ہونے سے پہلے عمر خیام نے ایک دفعہ پھر بڑی مشکل زندگی گزاری تھی۔ ہوا یوں کہ عمر خیام نے ایک نظریہ دیا تھا جو آج کل سارے لوگ اس کو صحیح مانتے ہیں لیکن اس زمانے میں عمر خیام کو اس کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ سورج دنیا کے گرد نہیں گھومتا ہے بلکہ اس کے برعکس دنیا سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس زمانے میں یہ ایک کفریہ سوچ تصور کیا جاتا اور لہذا اس وجہ سے سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد عمر خیام پر مقدمہ چلایا گیا اس میں بڑے بڑے علماء جیسے کہ امام غزالی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اور بڑے بڑے قاضیوں نے شرکت کی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ عمر خیام کو قتل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کی تصانیف کو جلایا جائے، اس کی تصانیف کو مدراس میں نہیں پڑھایا جائے گا اور اس کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کی تکمیل کیلئے اس کو نیشاپور سے نکال دیا گیا اس کی تصانیف اور ایجادات کو اگ لگائی گئی اور مدارس میں بھی اس پر پابندی لگ گئی۔ ۔۔
    عمر خیام کی شاعری کا زیادہ حصہ اس نے اس کے بعد مرنے تک لکھا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔

  • اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو "گھبرانا نہیں ہے” فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ”کا نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بھی بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل تو کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر یہاں کی واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہ چل پائے گا اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے ۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں کے نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔
    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا "خوشحال گڑھ”

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ” نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل ، کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر اس واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہیں چل پائے اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔ اگر یہاں کا نوجوان اب بھی نہ جاگا تو پھر دینا سے 50 سال پیچھے اس خوشحال گڑھ میں ہماری نسلیں، پسماندگی کو دیکھ کر ہمیں ضرور کوسیں گی۔

    @EjazulhaqUsmani

  • بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

    بات کچھ یوں ہے .تحریر:آمنہ فاطمہ

    لفظ عورت کا مطلب "پوشیدہ” اور "چھپا کر رکھنے” کے ہیں زمانہ جاہلیت میں عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا یہاں تک کہ بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا مگر اشاعت اسلام کے بعد عورت کو جو حقوق اور عزت ملی انہی کو استعمال کرتے ہوئے آج عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
    اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق و حیات اور دین فطرت ہے جس کا ہر قانون کردار کی تشکیل کے ساتھ ساتھ افراد کی زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کوسکون بھی فراہم کرتا ہے اسلامی قوانین مرد و زن دونوں پر مساوی نافذالعمل ہیں عورت کے لیے متعین کیے گئے احکام و قوانین میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ‘حجاب’ یعنی پردے کا حکم ہے اور قدرت کے ہر اصول میں حکمت پوشیدہ ہے جس کا فائدہ انسان کو ہی ہوتا ہے اسی طرح پردے کا حکم دراصل عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنایاگیا
    اسلام میں عورت کو گھر کی زینت قرار دیا گیا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنی قیمتی چیز کو چھپا کر اور سنبھال کر رکھتا ہے نہ کہ اسکی نمائش کرتا ہے اسلام عورت کو بننے سنورنے پر روکتا نہیں بلکہ پردے اور حدود میں رہ کر سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے عورت کا حقیقی زیور شرم و حیا ہی تو ہے جسے زیب تن رکھنے کی اشد ضرورت ہے
    آج کے ماڈرن دور میں عورت بالخصوص مسلمان عورت کو مغربی فتنے سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے ‘فیمینزم’ کےنام پر مغربی لباس پہننا مغربی اقدار کو اپنانا میرے معاشرے میں ایک ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے جسکی روک تھام بہت ضروری ہے اس معاشرے میں جب بھی عورت کے کردار پر بات ہوئی تو تو سب سے پہلے اسکے حجاب اور لباس پر تنقید شروع ہوئی کیونکہ جب مسلمان عورت نیم عریاں لباس پہن کر چادر تو دور دوپٹہ تک اوڑھنا مناسب نا سمجھے اور باہر پبلک پلیسز پر نکلے گی تو وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے گی کیا آج کی مسلمان خواتین بھلا چکی ہیں خاتونِ جنت حضرت فاطمہ س اور خاندان مصطفی حضرت محمد ص کی باقی تمام پاک بیبیوں کی تعلیمات کو اور جن کے صدقے میں عورت کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا گیا یا پھر اس عارضی دنیا کی رنگینیوں میں کہیں گم ہو کر رہ چکی ہیں
    مجھے پیار آتا ہے ان بہنوں پر جو آج بھی ایمان کے درجے پر ڈٹی ہوئی ہیں چاہے پھر وہ نقاب ہے, حجاب ہے یا چادر اوڑھنا ہے اور چاہے پھر وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں یا مغرب میں جو آج بھی اپنے باپ اور بھائی کے سامنے چادر لئے بغیر نہیں جاتیں ماڈرن بنیں مگر ان شعبوں میں جن سے ملک و قوم ترقی کرے معاشرے کے دیگر افراد کو گناہ اور گمراہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ عورت اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے بناؤ سنگھار کرے اور اپنی نسل کی بہترین تربیت کرے اور اسکے لئے پہلے اسے خود کو مثال بننا ہوگا کیونکہ ایک ماں ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے

  • رحمت تحریر:افشین

    رحمت تحریر:افشین

    جب اللّلہ پاک خوش ہوتے ہیں تو وہ اہل خانہ کو بیٹی سے نواز دیتا ہے مگر اس جدید دور میں بھی بہت سے گھروں میں بیٹی کی پیدائش کو دل سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اولاد اللّلہ پاک نوازتے ہیں چاہے بیٹا ہو یا بیٹی اللّلہ پاک کی مرضی اس میں شامل ہوتی ہے مگر کچھ گھرانوں میں نا شکری عروج پہ ہوتی ہے اور وہ بیٹی کو رحمت نہیں زحمت سمجھ لیتے ہیں اور الزام ماں پہ ڈال دیتے ہیں کہ بیٹی کیوں پیدا ہوگئ ۔ اس میں اب ماں کا کیا قصور جب دینے والی رب پاک کی ذات ہے ۔ بیٹی رحمت ہے نہ کہ زحمت ۔ لوگوں کو بیٹی کی پیدائش پہ اعتراض ہوتا کیوں ہے ؟؟ کیوں کہ بہت سے گھرانوں میں یہ سوچا جاتا ہے بیٹی پرائی ہوتی ہے اور بیٹے سہارا بن سکتے ہیں بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اسلئے کہ ایک دن انکی شادی کرنی پڑے گی جہیز دینا پڑے گا اکثر خاندان جائیدادیں بیٹیوں کو دینا پسند نہیں کرتے وہ سوچتے ہیں جائیداد گھر سے باہر نہ جائے یا تو بیٹی کی شادی خاندان میں کردی جاتی ہے۔ یا پھر کی ہی نہیں جاتی اسکو ساری زندگی کنوارہ بیٹھائے رکھتے ہیں ۔ تاکہ جائیداد کا بٹوارا نہ ہو اسکو خود غرضی کہا جائے یا کیا کہا جائے؟؟اگر بیٹی خود اپنی خوشی تلاش کرنے کی ہمت کرے خاندان سے نکلنے اور کہیں باہر شادی کرنے کا سوچ بھی لے یا کوشش بھی کردے اسکو قتل کر دیں گے مگر اسکو جینے نہیں دیں گے ۔بیٹی کو جائیدادیں نہیں چاہیے ہوتیں پیار محبت توجہ اچھا برتاؤ چاہیے ہوتا ہے ایک تو ایسے گھرانے میں بچیوں کو ساری زندگی کے طعنے سننے پڑتے ہیں اور دوسرا بیٹے کو ہی اہمیت دی جاتی ہے کہ سب کچھ بیٹے کا ہی ہے سب چیزوں، خوشیوں پہ اسی کا حق ہے ایسے بچیاں احساسِ کَمتَری کا شکار ہو جاتی ہیں ۔آخر کیوں ایسا سوچا جاتا ہے؟؟ بیٹی ہونا جرم نہیں ہے آخری لمحات میں یہ بیٹیاں ہی کام آتی ہیں بیٹیاں وقت پڑنے پہ ماں باپ کا بیٹے کی طرح سہارا بن سکتی ہیں انکو حقیر نہ سمجھا جائے وہ برابر توجہ کی مستحق ہوتی ہے۔ خوشیاں ان کو بھی چاہیے ہوتی ہیں وہ بھی انسان ہوتی ہیں انکے پاس بھی دل ہوتا ہے جو کہ دھڑکتا ہے مردہ دل نہیں رکھتی کہ جینا چھوڑ دیں ۔بیٹی پیدا ہو جائے نا شکری نہ کریں اللّلہ کی رضا پہ راضی رہا کریں ۔بیٹی کی جب شادی کی جاتی ہے اسکی مرضی پوچھنی چاہیے مگر اکثر خاندانوں میں اسکی مرضی نہیں پوچھی جاتی آخر بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کیوں کی جاتی ہے ؟؟اگر بیٹے اپنی مرضی کر سکتے ہیں بیٹیوں کا بھی حق ہے ۔بیٹی ہونا جرم نہیں جو ساری زندگی محرومیوں میں جینے کے لیے سزا سنا دی جاتی ہے۔بیٹیاں بہت معصوم ہوتی ہیں ۔ بہت سی تلخیوں دشواریوں کے ساتھ زندگی آخرکار گزر ہی جاتی ہے۔ یہ ہے تو ایک تلخ حقیقت مگر محرومیوں میں جینا آسان نہیں ۔ فقط بیٹی رحمت ہے کوئی گناہ نہیں ۔بیٹی کو محبت و شفقت دیں اس کو بھی ہر وہ چیز دیں جو بیٹے کو دیتے ہیں اسکو بھی تعلیم دلوائیں کیونکہ تعلیم پہ بیٹیوں کا بھی حق ہے آپکی ناقدری آپ کو مہنگی پر سکتی ہے ۔ اولاد کو برابر حقوق دیں خاص طور پہ بیٹیوں کے ساتھ نرمی برتیں ۔کوشش کریں انکی ہر جائز خواہش پوری کریں ۔ اور بیٹیوں کو جہیز جائیدادیں نہیں دینی مت دیں مگر اپنے پیار سے محروم مت رکھیں ۔


    ‎@Hu__rt7

  • فواد عالم نے معروف بھارتی بلے بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    فواد عالم نے معروف بھارتی بلے بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستانی کرکٹر فواد عالم نے اپنے کیرئیر کی پانچویں سنچری بنا کر کوہلی ٹنڈولکر، گنگولی اور گاواسکر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری سکور کر کے فواد عالم ایشیا میں سب سے کم اننگز میں 5 سنچریز بنانے والے بیٹسمین بن گئےہیں، انہوں نے یہ اعزاز 22 اننگز میں حاصل کیا۔

    بھارت کے چتیشور پجارا نے 24 اننگز میں 5 ٹیسٹ سنچریز بنا رکھی ہیں جبکہ ساروو گنگولی اور سنیل گاواسکر 5 سینچریاں 25 اننگز کھیل کے بنا سکے۔ اور ان کا اس فہرست میں تیسرا اور چوتھا نمبر ہےجب کہ پاکستان کی طرف سے یونس خان 28 اننگز میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں-

    فواد عالم نے ٹیسٹ کرکٹ میں تقریباً ایک سال قبل واپسی کی اور اب تک وہ چار سنچریز بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ سچنریز نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بنائی ہیں۔

    پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں فواد عالم

    فواد عالم نے جنوبی افریقہ کے خلاف 109، نیوزی لینڈ کے خلاف 102، زمبابوے کے خلاف 140 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

    واضح رہے کہ اس حوالے سے قومی کرکٹر فواد عالم کا کہنا تھا کہ پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ہ آج کی سنچری اپنے والدین کے نام کرتا ہوں میچ سے پہلے والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی ماں نے کہا تھا کہ اس میچ میں تم سنچری بناؤ گےوالد کی بھی خواہش تھی کہ ویسٹ انڈیز میں سنچری اسکور کروں ماں کی دعا ساتھ ہو تو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-

    فواد عالم کا کہنا تھا کہ وکٹ آسان تھی نہ موسم، میچ کے پہلے روز گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا اللہ جب دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اپنے والد سے متاثر ہوا ہوں زندگی میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے مگر میرے والد نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا خوش قسمت ہوں کہ مشکل وقت میں میرے اہلخانہ نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیاوالد ہمیشہ کہتے تھے کہ لگے رہو تمہارا وقت ضرور آئے گا-

  • حالات حاضرہ اور افضل سراج صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین

    خبر: تبدیلی کے تین سال، غریب عوام کے لئے ظلم کی تین صدیاں، شہباز شریف۔
    تبصرہ: اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن کیا جناب بتانا پسند کریں گے کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
    کیا آپ نے اپنے تیس سالہ عہد سلطانی میں کوئی ایک ادارہ ایسا چھوڑا جو منافع دے رہا ہو؟ کیا کبھی آپ نے اتنا ٹیکس اکٹھا کیا جتنا خود کے لئے پیسے اور کک بیکس؟ میٹرو بس اور اونج ٹرین جیسے ذہر بھرے لقمے حکومت کے گلے میں ڈال کے چلے گئے جو نہ نگلے جا رہے ہیں نہ تھوکے جا رہے ہیں اور حکومت ہر سال اربوں روپے ڈال کے خالی بسیں بھی چلا رہی ہے اور ان کا قرض بھی دے رہی ہے۔ آپ لوگوں کے لئے ہوئے قرض چکانے کے لئے حکومت کے پاس مہنگائی اور ٹیکس لگانے کے علاوہ کیا راستہ تھا؟؟
    لیکن آپ کو احساس پروگرام، کامیاب جوان پروگرام، بلین ٹری سونامی، کوئی بھوکا نہ سوئے، پناہ گاہیں اور لنگر خانے نظر نہیں آئیں گے جو غریب کا پیٹ پھرتے ہیں۔ تف ہے آپ کی سوچ پر۔

    خبر: جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے، اخباری ذرائع
    تبصرہ: آپ کو بتاتے چلیں کہ موصوف پر اوقات (آمدن) سے زائد اثاثے بنانے کا کیس اور منی ٹریل پیش نہ کر سکنے کا ٹرائل سپریم جوڈیشل کونسل میں ہی چل رہا تھا، اب جبکہ موصوف خود بھی اس کونسل کا حصہ بن بیٹھے ہیں تو بھولی عوام کا اس ملک کے عدالتی نظام پہ اور بھی یقین مضبوط ہو گیا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ جیسی بلی کو دودھ کی رکھوالی سونپ دی گئی ہو۔ سب کہیں سبحان اللہ

    خبر: ججوں اور بیوروکریٹس کو قرعہ اندازی سے ملنے والے پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
    تبصرہ: یقین نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ سے سامنے آ رہا ہے اور اتنے حیران کن ریمارکس سن کے طبیعت حیران پریشان ہو گئی ہے۔ جج صاحب فرماتے ہیں کہ اس تقسیم میں "کرپشن اور جرائم” میں سزا پانے والے ججوں کو بھی پلاٹ ملے۔ چلیں آج اتنا تو سمجھ میں آیا کہ اس ملک کے منصف بھی راشی اور جرائم پیشہ ہیں۔ پھر یہاں انصاف کی امید لگانا کہاں کی دانشمندی ہوئی؟

    خبر: سعودی عرب میں سکیورٹی اہلکار کے قاتل کا سر قلم، اخباری ذرائع
    تبصرہ: جرائم کی روک تھام تب تک ممکن نہیں جب تک جزا و سزا کا نظام پوری طرح کاآمد نہ ہو۔ جب یہ خبر پڑھی تو میرے ذہن میں پاکستانی نظام انصاف گھعمنے لگا جہاں سینکڑوں لوگوں کے قتل میں ملوث عزیر بلوچ عدم ثبوت کی بنا پر رہائی پاتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک سیاستدان دن دیہاڑے ڈیوٹی دیتے ایک سرکاری پولیس والے کو نشے کی حاکت میں اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے لیکن عدالت اسے بھی ضمانت پہ رہا کر دیتی ہے۔ ایک امریکی دن دیاڑے تین پاکستانیوں کو گولی سے بھون دیتا ہے لیکن ہم "قوم کے وسیع تر مفاد میں” اسے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ جہاں چند سیاستدان ملک کی جڑیں کھوکھلی کر ڈالتے لیکن عدالتیں انہیں چھٹی کے دن بھی ضمانتیں دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
    جناب من! جب تک بنیادی انصاف کا نظام بہتر نہیں ہوگا، آپ ایسے ہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    اور اب افضل سراج صاحب کی ایک غزل:

    ‏اِدھر ہے آنکھ چوکهٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر
    لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر

    ترے آنے سے پہلے ہی، تجهے پہچان لیتا ہے
    مہکنے خود ہی لگتا ہے، مرا دالان آہٹ پر

    اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بهی خبر لے لے
    جہاں وہ بهول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر

    ‏بہت مانوس ہیں تم سے، مرے گهر کی سبھی چیزیں
    چہک اٹهتے ہیں پردے، کهڑکیاں، گلدان آہٹ پر

    بڑی حسرت سے تکتے ہیں تمهاری راہ دن بهر یہ
    لگے رہتے ہیں دروازے، دریچے، لان آہٹ پر

    بنا سلوٹ کے بستر پر پڑی بے جان آنکهوں میں
    چمک اٹهتے ہیں پل بهر میں کئی ارمان آہٹ پر

    ‏ڈیوڑهی، صحن، خلوت خانہ، پائیں باغ، بیٹھک تک
    چہکتی پهرتی ہے گهر بهر میں اک مسکان آہٹ پر

    کشن، فٹ میٹ، ٹیبل، کرسیاں، قالین، ترپائی
    امڈ آتی ہے ہر شے میں انوکهی شان آہٹ پر

    ہمہ تن گوش ہیں کمرے، سراپا شوق دروازے
    کوئی دیکهے کہ ملتا ہے انبہیں کیا مان آہٹ پر

    ‏یہی ہے وقت آنے کا، بڑی بےتاب دهڑکن ہے
    "نکلتی جا رہی ہے لمحہ لمحہ جان آہٹ پر”

    ٹهٹهرتا رات دن افضل میں سُونے گهر میں رہتا ہوں
    بهڑک اٹهتا ہے سینے میں اک آتش دان آہٹ پر

    آخر میں آج کا شعر:

    وہ مجھے روز بلاتا ہے تماشے کے لئے
    روز میں خاک اڑاتا ہوا آ جاتا ہوں

    @Being_Faani

  • آخر پردہ ہی کیوں ضروری ہے؟

    آخر پردہ ہی کیوں ضروری ہے؟

    انسان جہاں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط وہاں پہ ایک تنکے سے زیادہ کمزور بھی ہے۔
    اللہ نے انسان کو جوڑے کی صورت پیدا کیا مرد اور عورت۔ پھر ان میں ایک دوسرے کیلئے راحت اور سکون رکھا یعنی انکو ایک دوسرے کے سکون کا ذریعہ بنایا۔
    جب دونوں عاقل بالغ ہو جائیں تو نکاح کریں اور حلال طریقے سے ایک دوسرے سے راحت حاصل کریں۔ اس کے علاوہ اسلام نے ہر طریقے اور کام کو حرام قرارا دیا جس سے جنسی تسکین کا سامان پیدا کیا جائے۔
    اللہ نے انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کا شرعی حل بھی ساتھ دے کر دنیا میں بھیجا۔ سیدھا راستہ دکھانے کیلئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ ہر پیغمبر نے اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات کو بخوبی احسن طریقے سے اپنی قوم تک پہنچایا۔
    ہماری رہنمائی کیلئے اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اور دنیا کے ہر کام کی تعلیم دی اور اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات کو قول اور فعل سے امت تک پہنچایا۔
    ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری تعلیمات انسانیت اور ایک اچھے معاشرے کا بقاء ثابت ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دین اسلام پوری انسانیت اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے اور اسکی بقاء کا ضامن ایک خوبصورت تحفے کے طور پر دیا۔
    اسلام کے آنے کے بعد انسانیت کی ایک بہترین صورت سامنے آئی۔ انسان کو جینے کا شعور اور زندگی گزارنے کیلئے ایک بہترین راستہ عطا کیا۔
    اسلام کا ہر حکم ہر طریقہ معاشرے اور انسانیت کی خوبصورتی کا ضامن ہے۔
    اسلام کے آ جانے سے معاشرے سے جھوٹ فراڈ سود جیسی بیماریوں کو ختم کرنے کے احکامات آئے جس سے معاشرہ میں اخلاقی توازن آیا۔ اسلام نے حلال اور حرام کی تمیز سکھائی اور جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے انسان کو انسان کی طرح زندگی گزارنے کا شعور اور سلیقہ سکھایا۔
    اسلام نے سکھایا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو کیوں نہ پھر وہ ایسے کام۔کرے جس سے وہ سب سے منفرد اور ممتاز نظر ائے۔
    اسلام کے آ جانے سے عورت کو جینے اور زندہ رہنے کا حق دیا گیا ورنہ اسلام سے پہلے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی اس کو دفنا دیا کرتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث شرم اور ذلت سمجھا جاتا تھا اور نحوست مانا جاتا تھا لہذا پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔
    اسلام کے آتے ہیں اس فرسودہ اور غیر انسانی روایت کو ختم کر دیا گیا بلکہ اللہ کے عذاب کا سبب بتایا گیا اور بیٹی کو اللہ کی رحمت کا نام دیا گیا۔ عورت کے مقام کو سمجھایا گیا اور لوگوں کو عورت کے ہر روپ کی قدر و منزلت سمجھائی گئی۔
    ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی بیٹی کو اللہ۔کی رحمت کہا گیا عورت کے حقوق مقرر کیے گئے عورت کو جائیداد میں حق دار قرار دیا۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی اور عظیم درسگاہ بنا دیا گیا ماں کے پیار کو بچے کیلئے شفا بنا دیا ماں کی دعاوں کو اولاد کی کامیابی کا ضامن کہا ماں باپ کی نافرمانی سے روکا گیا سخت وعیدیں سنائی گئیں۔
    جہاں عورت کو یہ وقار اور رتبہ دیا وہاں پہ اس کو اپنی حفاظت کیلئے کچھ تعلیمات دی گئیں جن کا مقصد عورت کی حفاظت اور اس کو پاک دامن رکھنا ہے۔ وہ تعلیمات دی گئیں جن سے عورت کی عزت کو چار چاند لگ گئے اور عورت کا مقام عزت اور رتبہ اور بڑھ گیا۔
    اسلام نے عورت کو اپنا جسم چھپانے کی تعلیم دی تاکہ اس پہ کسی کی بری نظر نہ پڑے اور ساتھ ہی مردوں کو حکم دے دیا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کی طرف نظر نہ اٹھائیں یہاں یہ قید مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے کہ دونوں اپنی نظروں کی حفاظت کریں۔ مرد کو عورت کی طرف دیکھنے سے منع کر دیا۔ اور عورت کو اپنے جسم کو چھپانے کا حکم دے دیا۔ تاکہ کسی کی نظر اگر پڑے بھی تو پردے کی وجہ سے کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔
    پردہ عورت کی حفاظت کا ضامن ہے اس کا لباس ہی ایسا ہو گھر سے باہر نکلتے وقت کہ اس پہ کسی کی نظر رک نہ پائے کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ یہ کس عمر کی عورت جا رہی ہے؟
    انسان کمزور ہے گناہ کی طرف جلد مائل ہو جاتا ہے پھر شیطان بھی انسان کے ساتھ ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں مرد اور عورت اپنی نظروں کی حفاظت کریں نظریں جھکا کہ چلیں تاکہ کوئی بھی فتنہ انکے دل و دماغ میں داخل نہ ہو۔
    کرنے اور کہنے کو یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں پردہ کرنا اور نظریں جھکانا لیکن یقین جانیں برائی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی دو چیزیں ہیں۔
    جب نظریں نہیں جھکیں گی تو لازمی حرام کی طرف بھی نظر جائے گی اور اگر پردہ نہیں ہو گا تو لازمی بات ہے کہ خرابی پیدا ہو گی۔
    انسانی کمزوریاں غالب آ جائیں گیں۔
    آج جو کچھ ہمارے ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے مردوں کی بڑی تعداد کا بناو سنگھار غیر محرم لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہوتا ہے اور اس طرح کچھ عورتوں کے بناو سنگھار کا مقصد بھی صرف غیر مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے تو اس صورت میں ہمارا معاشرہ کس سمت جائے گا؟
    اسلام قوانین کا احترام کسی کے دل میں نہیں ہے تو معاشرے سے یہ ناسور کیسے ختم ہو گا؟
    دور جدید میں جہاں انٹرنیٹ نے ہماری زندگی میں بےشمار سہولتیں لائیں وہاں کچھ مصیبتیں بھی ہمارے گلے پڑیں جنہوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ آج دیکھا جائے معاشرے میں جنسی درندگی کے بڑھتے واقعات کا ایک سبب یہ انٹرنیٹ بھی ہے۔
    اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے لیکن دینی تعلیم فرض ہے۔ اس فرض کو اچھے طریقے سے نبھائیں اور بچوں کا انسان بنائیں وحشی درندے نہیں جو ماوں بہنوں کی عزت کے محافظ ہوں عزتوں کو تار تار کرنے والے جانور نہیں۔
    اللہ ہماری ماوں بہنوں کو شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
    ﺁﻣــــــــــــــــــﻴﻦ ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِـــــــــﻴْﻦ
    https://twitter.com/Emerging_PAK_B?s=09