Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے     اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد ہائیکورٹ

    معروف چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کر لی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا، 4 صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی مناسب جواز پیش نہیں کر سکا، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے وکیل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ ٹک ٹاک پابندی کا معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھا ٹک ٹاک پر ٹیکنالوجی کے دوسرے ذرائع سے رسائی ممکن ہے، ٹاک ٹاک پر پابندی اس لیے بھی غیر موثر ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع سے رسائی ہو سکتی ہے۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جب یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک فیصد افراد ٹک ٹاک کاغلط استعمال کررہے ہیں تو سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی حل نہیں، سوسائٹی میں تنزلی کی علامت کو سوشل میڈیا سائٹس پر موجود مواد سے نہیں ملایا جا سکتا، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی نے سوسائٹی میں بہت سے چیلنج سامنے لائے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    حکمنامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق حکومتی پالیسی کیا ہے، پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی اے 20 ستمبر کو وفاقی حکومت کی پالیسی سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔

    ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ

  • نور  بھی  کسی  گھر  کی  آنکھ  کا  تارا  تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    آج کل کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں انسان کا Exposure اتنا ہو گیا ہے کہ چھ سال کے بچے کو آج اتنا پتا ہے جو ساٹھ سال کے بزرگ کو نہیں پتا اور ہر لمحہ خبر اور دنیا میں پے در پے ہونے والی زیادتی کی خبروں نے اس حد تک ناظرین کے دماغوں کو بے حس کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔ کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے۔ ہم اسے کے بارے میں ایک لمحہ سوچتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
    لیکن ان انکشافات پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں تھوڑا سا آپ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں نور مقد م صرف ایک کیس نہیں ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی اور ہنستی کھیلتی لڑکی کا نام تھا۔ لوگ کہتے ہیں نور مقدم کیس پر تو مٹی ڈل گئی ہے۔ عائشہ کا کیس آگیا ہے، لاری اڈا چنگچی والا واقعہ پیش آ چکا ہے۔وہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کی لاہور میں دن دیہاڑے آبرو ریزی ہو چکی ہے۔
    اب تو یہ کیس پرانا ہو گیا ہے۔ نہیں نور مقدم کا کیس اس وقت تک پرانا نہیں ہو گا جب تک ظالم درندے کو پھانسی اور اس کے سہولت کاروں کو سزا نہیں ہو جاتی۔ اس ظالم درندے کو کس نے اتنی ہمت دی کہ اس نے ایک معصوم کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کس کی شہ پر ، کس طاقت کے نشے میں وہ اتنا مطلق العنان سوچ کا مالک ہو گیا تھا کہ اس نے ایک بچی کو ذبحہ کر ڈالا۔ کیا اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد کیسے اس صورتحال سے نکلے گا۔ وہ کیسے اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے سے بچائے گا۔ یقینا سوچا ہو گا لیکن پھر اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ میرے بابا اسے سنبھال لیں گے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو لاش کو ٹھکانے لگانے کی کابلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں میں نور کو ختم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔
    23 october کو یعنی قتل کے تین ماہ بعد جب اس کی سالگرہ اآئے گی تو اسکے گھر والے اور دوست اسے یاد کر کے کتنا روٴیں گے۔ وہ نور مقدم جو جہاں جاتی تھی اپنی ملنساری سے دل جیت لیتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا اپنے دوستوں کے لیے شوق سے لے جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو ہر روز اپنے والد کو پھل کاٹ کر دیتی تھی۔وہ نور مقدم جو مہمان آنے کی صورت میں آپنی ماں کی مدد کرتی تھی۔وہ نور مقدم جو اآپنے والدیں کے ساتھ ہر رشتے دار کے گھر جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی بڑی بہن سے آٹھ نو سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی بہترین دوست تھی وہ نور مقدم جو اپنے بھانجے کی بہترین دوست تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے، کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔وہ نور مقدم جو دنیا بھر میں گھومنے کے باوجود پاکستان سے پیار کرتی تھی اور پاکستان میں رہنا چاہتی تھی اور بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو بھی پاکستان میں رہنے کی ترغیب دیتی تھی۔وہ نور مقدم جسے پینٹنگ کا شوق تھا اور اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی پینٹنگ آج بھی اس کے گھر میں لگی ہوئی ہیں۔وہ نور مقدم جو کسی کو بھی دکھی دیکھ کر غمگین ہو جاتی تھی اور دوسروں کو Comfortable کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور یہی چیز اس کی جان لے گئی۔
    ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچین نور کی کتنی عادتیں ہماری بیٹیوں سے مشترک تھی اگر آپ ایک دفعہ بھی نور سے ملے ہوتے تو آپ کو نور میں اپنی بیٹی نظر آتی۔۔کیا ہم اپنی بیٹی کے قاتلوں کو اس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ نہیں بلکل نہیں۔نور قدم کیس کے حوالے سے میں مسلسل آپ کو اپ ڈیٹ دیتا آرہا ہوں۔
    اورہر روز ایک نئی گتھی جہاں سلجھتی ہے وہاں کئی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔اس وقت نور مقدم کیس میں درندے ظاہر جعفر اس کے والدین، تین نوکر سمیت پانچ اہلکار تھراپی ورکس کے اور چھٹا مالک گرفتار ہے۔بائیس سے زائد لوگوں کے بیانات قلم بند کروائے جا چکے ہیں۔ DNAFinger prints سمیت کئی فرانزک آچکے ہیں جبکہ لیپ ٹاپ کا فرانزک بقایا ہے۔ آج نور مقدم کو قتل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے درندے ظاہر جعفر کے فون کے ڈیٹا کا کچھ اتا پتا نہیں آخری اطلاع کے مطابق وہ ایف آئی اے کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اس کی سکرین ٹوٹی ہوئی ہے۔
    ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت ایک دفعہ ریجکٹ ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ کے لیے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ قوم اس بچی کو بھولے اور وہ کرپٹ سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق گھمائیں۔اور تو اور تھراپی ورکس کا مالک طاہر ظہور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے
    وہ کہتا ہے کہ میں تو موقعہ واردات پر گیا ہی نہیں، میں تو معصوم ہوں۔ میری عمر 73 سال ہے اور میں شوگر، دل اور کڈنی کے امراض میں مبتلا ہوں۔ کوئی اس ظالم آدمی سے پوچھے کے ایک تہتر سال کے بوڑھے کو پارٹیاں کروانا زیب دیتا ہے۔ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ملازم بھجوائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قتل کا پتا چلنے کے باوجود حقائق کو پولیس سے چھپائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملازم امجد پر مجرم کے حملوں کو روڈ ایکسیڈینٹ بنا دے۔ کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ڈگر ی نہ ہونے کے باوجود۔ جعلی تھراپی ورکس چلائے اور لوگوں کے بچوں کے علاج کی بجائے انہیں مزید عذاب میں مبتلا کروا دے۔ یہ پاکستان میں اشرافیہ کا وطیرہ ہے ظلم کرتے ہیں زیادتیاں کرتے ہیں ، ملک کی دولت لوٹتے ہیں اور جب قانون کا شکنجہ گردن پر پڑتا ہے تو فورا معصوم بن جاتے ہیں۔تھراپی ورکس کے مالک طاہر کے وکیل فرماتے ہیں کہ میرے موکل کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسا جرم کیا ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جائے۔
    واہ کیا بات ہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت
    لاشیں ٹھکانے لگانے والے آج اپنا جرم پوچھ رہے ہیں ، قاتل درندے کو مشکل صورتحال سے نکالنے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے اور چھپانے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔اور تو اور زخمی امجد جو تھراپی روکس کے لیے کام کرتا ہے، اور قاتل اور مقتول کو سب سے پہلے دیکھتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ اس کیس کا سب سے بہترین گواہ ہے۔
    اسی نے پولیس کو فون کر کے بتایا۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ فون کس نے کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بتانے والے نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔ ورنہ پولیس کو اطلاع دینے والوں کے تو فون نمبر سے لے کر شناختی کارڈ تک کا پوچھ لیا جاتا ہے۔ اور جو شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا وہی ہسپتال میں اپنے زخمی ہونے کی وجوہات چھپا رہا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ میرا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اس وقت کیوں اس نے یہاں تک کہ ہسپتال سے حقائق چھپائے تاکہ اسے شامل تفتیش کر کے کہیں ظالم درندے کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے۔ امجد پر یقینا طاہر کا پریشر ہو گا کہ وہ حقائق چھپائے تاکہ اس کے کلائنٹ پر کوئی مشکل نہ اآئے۔ اور بات یہ ہے کہ اگر امجد کو گواہ بنا لیا گیا۔ جو اب تک ان کا کردار رہا ہے اگر اس نے آگے جا کر یہ کہہ دیا کہ وہاں ظاہر کے علاوہ بھی نقاب پوش لوگ تھے۔ اور وہ کھڑکی سے بھاگ گئے تو سارا کیس وہیں تباہ ہو جائے گا۔
    کہ نور مقدم کیس کے چشم دید گواہ نے جو دیکھا وہ بتا دیا اور کیس کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت حقائق چھپانے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔
    طاہر کا کردار اس کیس میں بہت اہم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر قاتل درندے کا وٹس ایپ ڈیٹا ریکور کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ہر وٹس ایپ اکاونٹ کا
    Back up
    بھی ہوتا ہے جسے بڑے آرام سے فون نمبر کی مدد سے کسی بھی فون پر ریکور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس یہ کرنے میں ناکام رہی جو کہ بہت ہی آسان کام ہے تو سمجھ لیں کہ کافی لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔
    تھراپی ورکس کے بارے میں میں واحد شخص نہیں ہوں جو تشویش میں مبتلا ہو اس جعلی ڈاکٹر کو لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے ہیں۔ اور کئی نے تو اس کے خلاف کیس بھی کیا ہوا ہے۔ایک بلکل اسی طرح کا کیسTherapy Works & Tahir Zahoor Ahmed کے خلاف Dec 2020میں کیا گیا Civil Suit 1080/20
    تھا جو Sr. Civil Judge South, Karachi کی عدالت میں آج بھی پینڈنگ پڑا ہے۔ اور رہی بات تھراپی ورکس کے جعلی این او سی کی۔ یہاں پر نہ صرف مریضوں کو لوٹا جاتا ہے بلکہ طالب علموں کو بھی چونا لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھی یہاں سے بھاری معاوضہ دے کر کو رس کرتے ہیں انہیں شائد ہی کبھی سرٹیفیکیٹ ملا ہو۔

  • رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپس آگئے ہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے 36 سالہ رونالڈو کی کلب واپسی کی تصدیق کر دی گئی ہے رونالڈو کو ساڑھے چار ارب روپے تنخواہ ملے گی اور یہ معاہدہ 2 سال کے لیے طے ہوا ہے۔

    رونالڈو اس وقت پرتگال میں موجود ہیں جہاں وہ طبی معائنے کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گے رونالڈو نے یووینٹس کی طرف سے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مانچسٹریونائیٹڈ اور یووینٹس کے درمیان ٹرانسفر ڈیل پر اتفاق ہوگیا۔

    پرتگال سے تعلق رکھنے والے رونالڈو اس سے پہلے بھی مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

    اس سے قبل اطالوی کلب جوانٹس کے مینجر نے اعلان کیا تھا کہ اسٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو جوئنٹس کی طرف سے مزید نہیں کھیلیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جووئنٹس کے منیجر ماسیمیلانو الیگری نے کہا تھا کہ رونالڈو کو کل کے میچ میں شامل نہیں کیا جائے گا رونالڈو نے کلب کی ترقی کیلئے کردار اد ا کیا، اس کیلئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  • تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد  تحریر ، راحیلہ عقیل

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد تحریر ، راحیلہ عقیل

    سگریٹ کے ڈبے پر بھیانک تصویر گلا سڑا منہ اور ساتھ لکھی ہدایات کے باوجود تمباکو نوشی کرنے والوں میں کوئی ڈر خوف نظر نہیں آتا وہ جانتے بوجھتے اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھوئیں سے آس پاس موجود افراد بھی اسکا شکار ہوتے ہیں چھوٹے بچوں کے سامنے تمباکو نوشی کرنا نا کے صرف بچوں کو نقصان پہنچایا جارہا بلکہ بچوں کو انجانے میں نشے کی ترغیب بھی دی جارہی، بہت سے گھروں میں اگر ایک والد تمباکو نوشی کرتا ہے تو لازمی سی بات ہے اسکے بچے بھی یہی چیز سیکھیں گے” کہ ایسا کیا مزہ ہے اس میں بچے گھروں سے باہر جاکر دوستوں میں تمباکو نوشی کرتے پھر دھیرے دھیرے یہ عادی ہوجاتے جب تک گھروالوں کو خبر ہوتی بچہ اس نشے کا عادی ہوجاتا آپ بچے کو ڈانٹیں ماریں اس پر دباو ڈالیں گے تو مزید بچہ بگڑے گا وہ چڑچڑا ہوگا اسکو سکون ملے گا صرف تمباکو نوشی میں، والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کے ہمارے بچے کن دوستوں میں اٹھ بیٹھ رہے کہیں انکا کوئی دوست ساتھی انکو تمباکو نوشی پر تو نہیں لگا رہا

    تمباکو نوشی انسانی معاشرے کی ایک بہت بڑی کمزوری ہے اس کے کئی جسمانی وذہنی نقصانات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک بڑے طبقے میں اس کا استعمال مدتوں سے دیکھا جارہا ہے تمباکو نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، ہر سال ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکونوشی سےمتعلق بیماریوں کےباعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔یعنی یہ زہر روزانہ سیکڑوں افراد کو لقمہ اجل بناتاہے، تمباکو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے ۔اس کے پتے pestisides ہیں اس میں پندرہ اقسام کےسرطان مخفی بتائے جاتے ہیں جن کی براہ راست وجہ تمباکو ہے۔دنیا میں جو دس بڑی بیماریاں جن میں چھ کی وجہ تمباکو نوشی بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کےانسداداور نان اسموکرز کے تحفظ کا قانون مجریہ2002سے رائج ہے ۔جس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرنا قانون جرم ہے جس کی سزاقید کےساتھ جرمانہ بھی ہے، اسکے باوجود ہمیں سڑکوں پر دفاتر میں کھلے عام یہ نشہ کرتے لوگ نظر ہیں جن میں کوئی ڈر خوف نہیں نا ہی قانون کی سختی نظر آتی ہے،

    اکثر طلباء پرھائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں، بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے، تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔یعنی تمباکو نوشی کی جانب بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سے بارہ سال ہے۔تمباکو نوشی میں مبتلا افرادکے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اوراٹھارہ سال سے کم عمر کےافرادکو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،لیکن اسکے باوجود آپ کو ہر دوسرا بچہ سگریٹ لیتا نظر آئے گا چائیے پھر وہ خود چھپ کر تمباکو نوشی کرے یا کسی کے لیے خرید رہا ہو دکاندار کو اس سے کوئی سرکار نہیں

    حکومت پاکستان کو تمباکو نوشی پر ہر سال ٹیکس لازمی لگانا چاہیے اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے جارہے ہیں جن پر عمل ہونے سے کافی حد تک پاکستان میں تمباکو نوشی پر قابو پالیا جائے گا، ہمیں چائیے زمہ دار ہوجاہیں ایسے اچھے اقدامات میں حکومت کو سپورٹ کریں تاکہ ہماری نسلیں اس زہر سے بچ سکیں

    *تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد*
    شائد آپ خود آپ کو زیادہ صحتمند اور تازہ دم محسوس کریں، آپ کی روزمرہ کی ادویات میں کمی ھونے کے زیادہ امکانات ہیں، درازی عمر اور اچھی صحت کا واحد راستہ،
    اپنے پیاروں کو بچوں کو اس نشے سے بچائیں کیونکہ آپکی جان قیمتی ہے کوشش کریں جلد ازجلد اس لت سے آزادی ملے،

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن

    یہ جملہ آپکو سگریٹ کے ہر ڈبے پر لکھا نظر آے گا، ساتھ ہی ایک بھیانک اور گلے سڑے منہ کی تصویریں بنی ہو گی لیکن اس کو دیکھ کر اور پڑھ کے بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے ہیں۔

    نشہ ایک لعنت ہے جو کسی بھی چیز کا ہو جائز نہیں ہے۔
    کچھ لوگ دوستوں کے کہنے پر ایک دو کش لگانا شروع کرتے ہیں اور پھر سگریٹ پینے میں وہ اپنے نشئ دوستوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔

    کچھ لوگ شوقیا پینا شروع کرتے ہیں اور اتنے سگریٹ پیتے ہیں کے سگریٹ بھی کبھی کبھی تنگ آ کے کہتا ہوگا "او بس کر دےماما ہن ”

    کچھ لوگوں کی عجیب منطق ہے سگریٹ پیتے ہوئے ویڈیو بنا کر سٹیٹس بھی ڈال دیتے ہیں جیسے بڑے کُول لگ رہے ہیں لیکن میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کے نہیں لگتے بھائی تم کُول بلکے بہت منحوس لگتے ہو۔

    ایک اور بری عادت جو ہے کے آپ کسی کے گھر جاؤ یا کوئی آپ کے گھر آ جاۓ تو آپ سگریٹ لگا لو اور یہ لمبے لمبے دھویں والے کش لو، بھئ یہ بھی عجیب جہالت ہے۔

    کچھ لوگ ویسے شغل میلے میں سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے بہت نقصان ده ثابت ہوتا ہے، عموماً لوگ سگریٹ کے بعد چرس اور افيم بھی شروع کر لیتے ہے جس سے وہ نشہ کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے انکے اپنے اور ان کے گھر والوں کے لیے ایک نہایت تکلیف ده بات ہے،

    کچھ لوگ اپنی ٹینشن کو کم کرنے کے لئے بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں، کچھ لوگ پیار میں دھوکھا کھانے کے بعد اپنے محبوب کی یاد کو دل سے نکالنے کے لیے بھی سگریٹ پیتے ہیں جب کہ میرا ماننا ہے ہے محبوب اپکا بےغیرت نکل ہی آیا ہے تو اپنے آپکو اسکی سزا کیوں دیں،

    ہمارے معاشرے میں اور بھی بہت سے نشے ہیں جو کے لوگ عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔
    ماہرین کہتے ہیں سگریٹ کا دھواں سگریٹ پینے والے سے زیادہ اس انسان کے لیے نقصان دے جو سگریٹ پیے بغیر سگریٹ کا دھواں اپنے سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے۔

    سگریٹ سے آپ بیشمار بیماریاں کا شکار ہو سکتے ہیں، جیسے کے کینسر ، سانس لینے کا مسلہ، دل کا مسلہ ، پھیپھڑوں اور جگر کی بیماری، دانتوں کا مسلہ، سگریٹ نوشی آپکی سماعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

    @MudasirWrittes

  • جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟  تحریر۔ آمنہ امان

    جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟ تحریر۔ آمنہ امان

    حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی لڑائی بظاہر تو اک قتل پر ہی تھم گٸ تھی مگر درحقیقت وہ صرف شروعات تھی آدم کے بیٹوں کی تعداد بڑھی تو لڑاٸیاں جنگوں میں بدلتی چلی گٸیں اور وجوہات بھی بڑھتیں گٸیں۔
    کہتے ہیں زر ۔زن اور زمین ہی انسانوں کے درمیان وجہ جنگ رہے ہیں تاریخ دیکھیں تو کسی حد تک وجہ درست معلوم ہوتی ہے۔ قدیم یونانی دیو مالائی داستانوں کے مطابق تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ۔۔جنگ ٹراۓ یا ٹراۓ کی جنگ ہے وجہ فساد زن یعنی شہزادی ہیلن تھی اس طرح زمین کی خاطر سکندراعظم مقدونیہ سے نکلا اور آدھی زمین تخت وتاراج کرگیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھا اور زر کیلیے لاکھوں میل دور آگۓ اور کٸ چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد ہندوستان پر قبضہ کیا۔ مگر کیا جنگوں کی صرف یہ تین وجوہات ہی ہیں؟
    نہیں اک پہلو مذہب بھی ہے ۔ اور تاریخ میں سب سے زیادہ جنگیں مذہب کو لے کر ہی ہوٸیں اور اب تک ہوتی چلی جارہیں ہیں ۔یہ جنگیں پہلے تو حقیقت میں کلمتہ اللہ کی سربلندی کے لیے کی جاتیں تھیں ۔حق اور سچ کی فتح شیطانیت کا خاتمہ اور پوری دنیا پر اللہ کا حکم امن اوسلامتی کے راج کے نفاز کے لیے تھیں مگر رفتہ رفتہ ماضی کی جنگوں کی طرح یہ بھی بس اک وجہ بن کے رہ گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ ممالک تو چھوڑ مذہب کے اندر بھی اپنا اپنا گروہ بنا کر فرقوں کے نام دے کر لڑتے ہیں گویا ہابیل اور قابیل کے محض نام ہی بدلے ہیں۔
    درحقیقت اقتدار کی خواہش اور طاقت کا حصول ہی جنگ کی اصل وجہ ہوتا ہے اپنی بات اور اپنے آپ کو صحیح منوانا اور دوسرے کو مطیع کرنا یہی ہابیل قابیل کے درمیان لڑاٸ کی اصل وجہ تھی اور یہی آج تک کی ہر جنگ کی وجہ ہے۔
    اسلحے اور ٹیکنالوجی کی نت نٸ خوفناک ایجادات کے بعد اب ممالک کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کی اک نٸ قسم سامنے آٸ ہے ففتھ جنریشن وار ۔۔محض افواہیں اڑاٸیں اور جھوٹ اتنی شدت سے پھیلا دیں کہ سچ لگنے لگے اس کا مقصد کسی ملک کی عوام کو تقسیم کرنا اور اتنی نفرتیں پھیلا دینا ہے کہ جب اتحاد درکار ہو وہ اک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوں۔ فرقہ واریت لسانیت اور صوباٸیت کا فروغ اس کے اہم اہداف ہوتے ہیں اور اداروں کے مابین نفرت پھیلانا بھی اس جنگ کا مقصد گویا ملک کے جڑیں اتنی کھوکھلی کر دی جاٸیں کہ اس کا انتظامی ڈھانچہ گرانے کے لیے اک ہلکا سا دھکا ہی کافی رہے شام لیبیا اور عراق اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔
    جنگیں لڑنے اور اس سے بچنے کے لیے ہر ملک دفاعی بجٹ مختص کرتا ہے اور اگر زرا بھی دھیان دیں تو دفاعی بجٹ بذات خود بہت سی جنگوں اور بغاوتوں کو جنم دیتا ہے۔
    دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ کی حامل سوکالڈ سوپر پاورز کے سالانہ بجٹ کا اور خراجات کا تقابل کریں تو انسان ورط حیرت میں گم ہوجاتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔
    امریکہ یا چاٸنہ کا دفاعی بجٹ ہی دیکھ لیجیے کیا اس میں لاکھوں کی آرمی کی تنخواہیں یونیفارمز کھانا پینا رہاٸش پینشنز دفاعی آلات کی خریداری مشینری کی مرمت پیٹرول اور ٹریننگ کے اخراجات ہی پورے ہوجاٸیں تو بہت ہے جبکہ اک جنگی بحری بیڑا مع الات خریدیں تو سالانہ بجٹ بہت کم پڑ جاۓ تو یہ سارے باقی اخراجات کیا پورا سال روکے رکھے جاتے ہیں؟ ابدوزیں لیزر گنز حساس سینسرز کے لیس جوتے ہیلمٹ اور لباس کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں ہوتی ہے پھر یہ اخراجات کیسے پورے کیے جاتے ہیں ؟
    تو چلیے دیکھتے ہیں کچھ ہوشربا انکشافات جن سے اندازہ ہو کہ سپر پاورز اپنے اخراجات کیسے پورے کرتیں ہیں۔ دنیا میں منشیات کی چالیس فیصد پیداوار برما یعنی میانمر میں ہوتی ہے یہیں تیار ہوتی یہیں سے سپلاٸ کی جاتی ہے۔دوسرا پیداواری مقام افغانستان ہے تیسرا میکسیکو اور پھر ٹیکساس۔ ان علاقوں میں کبھی امن نہیں ہوا عوام کی حالت خستہ ہے غربت اور خانہ جنگی نے عوام سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں ۔ یہی حال پٹرولیم مصنوعات کے قدرتی وساٸل رکھنے والے ممالک کا ہے۔ وہی شام عراق ہو یا تنزانیہ ان کے خزانے سے سپر پاورز خوشحال اور وہ خود تباہ حال ۔افریقی ممالک کا تو جرم بالکل ناقابل معافی ہے کیونکہ ان کی زمین سونا اور ہیرے اگلتی ہے لہذا خانہ جنگی اور بھوک افلاس ان کا مقدر ٹھہرا دٸیے گۓ۔ اب منشیات کی سمگلنگ ہو یا سونا ہیروں اور پیٹرول کی لوٹ مار ان سب کے پیچھے آپ کو سپر پاورز کی ایجنسیز کا ہاتھ ملے گا اور اس ملک کی عوام کے ہاتھوں میں انہی سپر پاورز کا بنایا اسلحہ نظر أۓ گا۔ کسی بھی ملک میں کوٸ بھی قیمتی معدنیات ہوں یا اس کی جغرافیاٸ اہمیت ہووہاں جنگ یا بغاوت ضرور ہوگی اور اسلحہ سپر پاورز کا دکھتا ہے۔ یعنی اک پنتھ دو کاج۔ آپس میں لڑوا کر اسلحہ بیچ کر پیسے بناٶ اور ساتھ وہاں کے وساٸل بھی لوٹو۔ تو جناب یوں بناۓ جاتے ہیں بحری بیڑے جدید سیٹلاٸٹ اور ابدوزوں کے ذخیرے۔
    اب ایسے میں کسی ملک کی ارمی حلال طریقے سے بیکریز سیمنٹ اور ہاٶسنگ سوساٸیٹیز بنا کر بجٹ کی کمی پورا کرنا چاہے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب سوال تو یہ ہے کہ پورے پورے ملک تباہی اور بربادی کی آگ میں جھونک کر انسانیت کے علمبردار بن جانا اور پھر سپر پاور کہلانا کیوں؟
    مذہب کے لیے لڑنے والوں میں نوے فیصد لوگوں کی اپنی زندگی اسی مذہب کے أصولوں کے خلاف ہوتی ہے جس کی خاطر وہ دوسرے کی جان تک لے لیتا ہے۔ تو کیا وجہ مذہب ہے؟ یا اپنے آپ کو درست ثابت کرنا اپنی بات منوانا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا؟
    آج یہودیوں کو دجال کا انتظار ہے ہندو کالکی کے اوتار کے انتظار میں ہیں عیساٸ حضرت عیسی کے منتظر مسلمان امام مہدی کے منتظر ہیں مگر کیوں؟
    کیا یہ سب اپنی اپنی زندگیاں اپنے اپنے دین ومذہب کے عین مطابق گزار رہے ہیں ؟ یا گزارنے کو تیار ہیں؟ ہرگز نہیں یہ بس اس وعدے کے ایفا ہونے کے منتظر ہیں کہ ان کا نجات دہندہ اۓ گا اور پھر اس کے ساتھ مل کر وہ باقی سب کا خاتمہ کرکے پوری دنیا پر راج کریں گے۔ مطلب خواہش وہی ہابیل وقابیل والی ہے اپنا آپ درست منوانا اور دوسرے کو زیر کرنا۔ مگر انسان اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے خالق کی زمین پر جتنا بھی کشت وخون بہا لے ہوگا وہی جو خالق چاہے گا رسی درزا ضرور ہو گی مگر کھینچی بھی اتنے زور سے جاتی ہے کہ سپر پاورز منہ کے بل آگرتیں ہیں۔ اپنی انا کی تسکین اور غرور کی خاطر چاہے ساری نسل انسانی کا خاتمہ کردے کوٸ الله أكبر کی گونج برقرار رہے گی۔ ان شاء اللہ
    رہے نام اللہ کا۔
    @AmanHarris

  • آزادی کے بعد بھی آزادی کی ضرورت۔ تحریر: سریر عباس

    14 اگست 1947 کو ملک پاکستان کاغذی طورپہ آزاد ہوا۔
    لیکن ذہنی طورپہ آج بھی یہ ملک اور اس ملک کی عوام آزاد نہ ہوسکی البتہ حکمران آزاد ہیں۔
    کیونکہ ملک کی آزادی کیلئے اصل کردار اداء کرنے والے ملک کے آزاد ہوتے ہی پیچھے ہوگئے اور لوٹیروں نے قبضہ کر لیا۔
    علماء و صوفیاء جنہوں نے بھرپور انداز میں تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کو قوت بخشی جب پاکستان بننے کے بعد انہیں عہدوں کی آفر کی گئی تو اکثر نے اس آفر کو ٹھکرا دیا جن میں سب سے بڑا نام شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ (سیال شریف سرگودھا) کا ہے۔
    اسی طرح مولانا عبد الستار خان نیازی جنہوں نے تحریک پاکستان کیلئے تن من دھن قربان کیا۔
    پاکستان بننے کے بعد 1953 کی تحریک ختم نبوت میں صف اول کے مجاھد ہونے کی وجہ سے قید ہوئے اور سزائے موت کی سزاء سنائی گئی۔
    یعنی ملک پاکستان کے اصل وارث اسی دن سے ظلم ستم و جبر کا شکار ہونا شروع ہوگئے جس دن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جس ایمبولنس پہ لے جایا جارہا تھا اس کا راستے میں پٹرول ختم ہوگیا۔
    پٹرول ختم ہوگیا یا ختم کیا گیا۔۔۔
    اس پر بہت ساری بحث و تکرار ہو چکی ہے اور اب بھی وقتاً فوقتاً یہ موضوع زیر گردش رہتا ہے۔
    لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جب بانی پاکستان کی وفات اور پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی وفات کے بعد
    ملک پاکستان کو کوئی مخلص لیڈر نہیں ملا۔
    اگر کوئی مخلص ہوکے سامنے آیا تو اسے ایسا دبایا گیا کہ وہ دوبارہ یا تو سر نہیں اٹھا سکا یا پھر سانس ہی نہیں لے سکا۔
    یہ جاگیردارانہ نظام دن بدن ترقی کرتا چلا گیا
    اور آج یہ نظام اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ قوم کے لٹیرے
    جو من میں آتا ہے اپنی عیاشی کیلئے بل پاس کرکے آزاد ہوتے جارہے ہیں حالانکہ اس ملک کا آئین شریعت کا پابند ہے۔
    لیکن یہاں جو نفاظ شریعت کی بات کرتا ہے اس کیلئے ذہنی و جسمانی سختیاں تو ہیں ہی ساتھ میں غیر شرعی قانون بھی پاس کر کے مزید پابند کرتے چلے جارہے ہیں۔
    قومی و عوامی مسائل پہ کارکردگی صفر، معیشت پہ کارکردگی صفر، وزارت داخلہ و خارجہ پالیسی صفر،
    لیکن مہنگائی و بے رزگاری بڑھانے میں یہ حکمران مکمل آزاد ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن
    عوام مکمل طورپہ ظلم و ستم اور مہنگائی کے چنگل میں جکڑی ہوئی ۔
    ملک آزاد حاصل کیا لیکن ہم آزاد نہ ہوسکے.
    پاکستان میں نظام عدل اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ پاکستان کے اکثر تھانوں میں تعنیات کیا ہوا "ایس۔ایچ۔او” کی اتنی قدر نہیں ہوتی جتنی قدر ہمارے منتخب کردہ "ایم۔این۔اے” یا "ایم۔پی۔اے” کی زبان کی ہوتی ہے۔
    لیکن اس زبان کو طاقت دینے میں ہمارا اپنا بھرپور ساتھ ہوتا ہے
    کیونکہ ہم نے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کرنا اپنی وراثت سمجھا ہوا ہے اسی طرح اگر پڑوسی نے بھی ہم سے لڑنے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوتا ہے۔
    اور جب پڑوسی یا کوئی بھی رشتہ دار ہم سے لڑ پڑے تو "ڈائریکٹ” قانون کا دروازہ نہیں کھٹکٹاتے
    بلکہ ہم ایم این اے کا دروازہ کھٹکٹاتے ہیں جنکے ہم نے نعرے لگائے ہوتے ہیں
    اب ان ایم این اے کو مزید نعروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور تھانوں کو جس طرح پہلے یرغمال بنایا ہوتا ہے وہاں اب مزید دب دبا جما کے اپنا رعب ظاہر کرنا ان کا کام بن جاتا ہے۔
    وہ ایم این اے جس کا کام خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے
    وہ صرف اپنے ماتحتوں کو مضبوط کرتا ہے۔
    تھانے دار کو رشوت دلواتا ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کراکے اس ذہنی غلام قوم سے اپنی واہ واہ سمیٹ لیتا ہے اور ساتھ میں اگلے الیکشن کیلئے ووٹ بھی پکا کر لیتا ہے۔
    سوچنے کی بات تو یہ ہیکہ اس ایم این کا اپنا کیس کبھی ایسا نہیں آتا جس میں پڑوسی کا جھگڑا یا رشتہ دار کا معمولی جھگڑا شامل ہو
    بلکہ یہ کام اس نے اپنے سپورٹروں کے ذمہ لگائے ہوتے ہیں۔
    ہمیں اپنی سوچ اپنے معیار اور اپنے انتخاب کو بدلنا ہوگا
    تانکہ ہم اس معاشرے کو ذہنی غلامی سے نکال کر آزاد ہو سکیں۔
    @1sareer

  • افغانستان  کیسے  دنیا  کا  امیر  ترین  ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک اور پاکستان کیسے دنیا کی سب سے اہم منڈی بن سکتا ہے۔ جبکہ چین کیوں امریکہ کی حماقتوں پر خوش ہے اور آنے والے دن کیسے اس خطے کی قسمت بدلنے والے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں جو بات ہم بار بار سنتے ہیں وہ یہ ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی افغانستان کے حوالے سے کئی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس وقت چین امریکی صدر بائیڈن کے غلط فیصلوں پر قہقے لگا رہا ہے۔ جہاں بھارت یہ شور مچا رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں سب سے بڑا فاتح ہے وہاں دنیا کے بڑے معاشی ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ چین طالبان کے زیر قبضہ دولت کو استعمال کر کے اپنی طاقت میں حیران کن اضافہ کر سکتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ سمیت یورپ میں 2030 کے بعد شائد ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جو الیکٹرک نہ ہو اور پٹرول سے چلتی ہو اس کی وجہبڑھتی ہوئی Pollution سمیت ماحولیات سے دنیا کو لاحق خطرات سے نبٹنا ہے اور جب دنیا کی سب گاڑیاں خاص طور پر مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرک ہو جائیں گی تو انہیں چلانے کے لیے پٹرول کی بجائے۔ طاقتور بیٹریوں کی ضرورت ہو گی۔
    آج گاڑی چلانے کے لیے جتنا اہم سعودی عرب کا پٹرول ہے دس سال بعد وہ اہمیت بیٹریاں بنانے والی دھاتیں لے لیں گی۔

    اور دھات وہ چیز ہے جسے فیکٹریوں میں نہیں بنایا جا سکتا بلکہ معدنیات کے طور پر زمین سے نکالا جاتا ہے۔ بیٹری ایک دھات لیتھیم سے بنتی ہے ۔ اور دنیا بھر میں لیتھیم کی ڈیمانڈ میں دوہزار چالیس تک چالیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔clean energy technologiesکے لیے جن اہم منرلز کی ضرورت ہےاس میں Solar PV
    اور Electricity networks بنانے کے لیے کاپر، ایلومینیم جبکہ EVs and battery storage کے لیئے کاپر، نکل کوبالٹ،لیتھیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معدنیات آج کی ماڈرن انڈسٹری کی Backbone ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پینٹا گون کی ایک اسٹڈی کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے صرف ایک صوبے غزنی میں$1 trillion
    کےuntapped mineral depositsموجود ہیں۔جبکہ اس سے پہلے ہونے والی اسٹڈیز کے مطابق افغانستان میںiron, copper, cobalt, goldاور دیگر ایسے منرل جس میں
    Lithiumبھی شامل ہے کے بڑے خزانے ہیں۔ جو آج کی ماڈرن انڈسٹری کے لیے ضروری ہیں اور یہی چیز افغانستان کو دنیا کے سب سے اہم Mining centers
    میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ ماننا ہے امریکی حکام کا۔۔پینٹا گان کے Internal memo کے مطابقافغانستان لیتھیم کا سعودی عرب ہے۔ یعنی جتنا تیل سعودی عرب میں ہے اتنا لتھیم افغانستان میں ہے اور لیتھیم کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر افغانستان میں موجود ہیں۔ جو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ، کیمروں، ڈرونز اور دوسری ڈیوائسز کی بیٹریز کے علاوہ الیکٹرک کارز کی ری چارج ایبل بیٹریز کا بھی لازمی جزو ہے۔جو آج دنیا میں ختم ہو جائیں تو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جائے۔ اور افغانستان میں تیس کھرب ڈالر سے زائد کی یہ معدنیات موجود ہیں۔ جبکہ بہت سی جگہیں افغانستان میں بد امنی اور دیگر وجوہات کی بنا پر آج تکExplore ہی نہیں ہو سکی۔جیسے تیل سے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ویسے ہی معدنیات سے مالامال ملک ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔جبکہ افغانستان میں یہ معدنیات اتنی بہتات میں موجود ہیں کہ یہ دنیا بھر کی انویسٹمنٹ کمنیوں کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں اور وہاں نسلوں سے جنگیں لڑنے والے نوکریاں ملنے کی صورت میں اپنی قسمت بدل سکتے ہیں۔
    لیکن اس وقت امریکہ کی صورتحال دیکھ کر چینی حکام یقینا قہقے لگا رہے ہوں گے۔ کہ امریکہ نے بیس سال میں ٹریلین ڈالر لگا کر ہزاروں فوجیوں کی قربانی دے کر کیا پایا۔جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین جو روڈ نیٹ ورکس بنانے کا ماہر ہے، افغانستان میں کابل سے اسلام آباد تک روڈ کا منصوبہ تیار کیے بیٹھا ہے، کاپر کی مائننگ کا بڑا کنٹریکٹ وہ کرزئی حکومت کے دور میں لے چکا ہے جبکہ لیتھیم کی مائننگ کے منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین، روس اور پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام ہے جبکہ چین اور پاکستان کے آپس میں تعلقات بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لیے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی دولت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ وہ افغانستان سے مزید Copper, cobalt اور سونا بھی نکالنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے تو امریکہ کو کیا ملا۔ امریکہ کی انڈسٹری اب کیسے Survive کرے گی جبکہ چین افریکہ میں بھی معدنیات کے بڑے منصوبے شروع کر کے بیشتر افریکی ممالک کو اپنے ہاتھ میں کر چکا ہے۔دنیا کو سمجھ نہیں آرہی کہ بائیڈن نے یہ کیا کیا ہے اور یہ امریکہ کی ایک Major strategic failure ہے۔ افغانستان کو اس وقت انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے جبکہ چین کو بھی اپنے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے لیے افغانستان میں انفرا سٹرکچر بلڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کی ضرورتیں بھی ایک ہیں اور دوستی بھی۔چین کے پاس یہ قابلیت ہے کہ و ہ ایک سال میں 100 coal power plant تیار کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے Raw material کی ضرورت ہے جو اب وہ افغانستان سے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔

    امریکہ کی منصوبہ بندی تھی کہ اس خطے میں امن قائم نہ ہو تاکہ چین یہاں پر اپنا کام نہ کر سکے اسی لیے اس نے ایک طرف طالبان سے معاہدہ کر کے نکلنے کا منصوبہ بنا لیا تو دوسری طرف افغان فورسز کو لڑائی کے لیے نہ صرف تیار بلکہ اکساتا رہا ۔ لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے امریکہ کی اس چال کو الٹ کے رکھ دیا۔ اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اگر امن قائم ہوتا ہے تو چین اس سے سب سے زیادہ مستفید ہو سکتا ہے۔
    دوہزار دس کی ہی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 420 ارب ڈالر مالیت کا لوہا270 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ بھی موجود ہے۔ جبکہ افغانستان کی جی ڈی پی بارہ بلین ڈالر کے قریب ہے۔ افغانستان میں غیر قانونی کان کنی پہلے ہی زوروں پر ہے،2001 کے بعد سے افغان حکومت کو مقامی سرداروں اور وار لارڈز کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ جب امریکہ نے دوہزار ایک میں افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی افغانستان کے صوبے لوگر میں چین ایک تانبہ کی کان میںMining کر رہا تھا۔ صرف اسی کان میں تانبہ کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو وہ پچاس بلین ڈالر سے زائد ہے۔لیکن میں یہ ویڈیو کرتے ہوئے مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کو اس کا کیا فائدہ ۔۔۔۔ طالبان کے بعد اگر کوئی دوسرا گروپ یا ملک اگر اس فتح کا کریڈٹ لینے کا مستحق ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اگر سب کچھ چین ہی لے جائے گا تو پاکستان کو اتنی قربانیاں دینے کا کیا فائدہ ہو گا۔ پاکستان کے پاس بلوچستان میں معدنی ذخائر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو افغانستان میں کیا کرے گا۔ کیا پاکستان صرف اپنی راہداری، گوادر اور سی پیک سے ہی مستفید ہو پائے گا۔ کیا پاکستان معدنیات کی منڈی نہیں بن سکتا۔چین کے پاس افغانستان پہنچنے کا پاکستان کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ افغانستان سے چین کی سرحد ایک برفانی اور پہاڑی علاقہ پر ہے جہاں سفر کرنا بہت مشکل اور مہنگا پڑتاہے۔
    افغانستان کے صوبہ بدخشان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے مویشی پالتے ہیں اور وہاں تاجر ٹرکوں پر کھانے پینے کی چیزیں اور آٹا لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے مویشی خرید لاتے ہیں۔ اس روٹ پر ایک چکر کم از کم پندرہ دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور یہ صرف گرمیوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔تو پاکستان چین کے پاس واحد روستہ ہے اپنی چیزوں کو دنیا کی منڈیوں تک پہنچانے کا۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم ساری زندگی اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ بھی کچھ کر پائیں گے۔
    بہر حال افغانستان میں امن پاکستان کو سینٹرل ایشیا سمیت پورے رجن کا تجارتی مرکز بنا دے گا، پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا توانائی سے مالامال علاقہ بھی کھل جائے گا۔
    لیکن طالبان کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس کے لیے امن سمیت سرمایہ کاری کے لیےPerfect
    ماحول فراہم کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن پاکستان اس کے باوجود بلوچستان کی معدنیات سے مستفید نہیں ہو پا رہا۔ افغانستان کی معدنیات بھی ایک بٹن دبانے سے باہر نہیں آجائیں گی۔ بلکہ اس کے لیے دنیا کی بہترین کمپنیوں سے بہتریں کان کنوں کی ضرورت ہو گی۔ جبکہ شفاف کنٹریکٹس اور ممالک کے ساتھ معاہدے بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔
    جبکہ اس وقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے اور طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنا آسان اور اسے MAINTAINکرنا مشکل ہے۔ افغانستان کے تمام وار لارڈز ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں ان کی طاقت ابھی تک موجود ہے، اگر طالبان نے انہیں حکومت میں جائز حق دے کر قومی حکومت نہ بنائی تو افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

  • مورنگا  تحریر -محسن ریاض

    مورنگا تحریر -محسن ریاض

    مورنگا کو ایک کرشماتی پودا کہا جاتا ہے اس کو عام زبان میں سوہانجنا کہتے ہیں اس کو صدیوں سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کو پاکستان میں شجر کاری کرتے وقت لازمی کاشت کریں کیونکہ اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ایک سخت جان پودا ہے اور موسم کی شدت آسانی سے برداشت کر سکتا ہے اس کے علاوہ اس کی بڑھوتری بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ ایک سال میں نو سے دس فٹ تک بڑھ سکتا ہے اس کو برسات کے موسم میں باآسانی قلم کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے اسں کی علاوہ اس کا بیج کے ذریعے بھی زبردست اگاؤ ہے یہ کسی بھی علاقے میں نرسری پر بھی دستیاب ہوتا ہےاور یہ دودھ والے جانوروں کے لیے بھی ایک مفید غذا ہے جس کی مدد سے مقدار کو بڑھایا جا سکتا ہے اور صحت پر بھی مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں انسانی صحت کے لیے بھی یہ بے حد مفید ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن سی اور آئرن بھی پایا جاتا ہے اس کے انسانی صحت پر فوائد بیان کریں تو اس میں سب سے پہلے یہ بلڈ شوگر کو کم کرتا ہے اس کی علاوہ اس میں اینٹی بیکٹیریل زرات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے اس میں کیلشیم اور فاسفورس ہوتا ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت مفید ہے اس کو کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں سب سے مقبول طریقہ اس کا پاؤڈر کی شکل میں استعمال ہے اس طریقہ کار کے مطابق اس کو چھاؤں میں خشک کیا جاتا ہے اور اس کی بعد اس کو پیس کر پاوڈر بنایا جاتا ہے اور کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ قہوے کی شکل میں اسے استعمال کیا جاتا ہے جس میں اس کی چھال اور پتوں کو پانی میں ابال کر قہوہ بنایا جاتا ہے اس کے علاوہ اس کا جوس بھی پیا جاتا ہے اس کے پیسٹ کو چہرے پر جھریوں اور کیل مہاسوں سے بچاو کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آجکل ایک اور طریقہ بے حد مقبول ہو رہا ہے جسے مورنگا پیسٹ کہتے ہیں اور آجکل یہ ملک کی اکثر سٹورز پر دستیاب ہوتا ہے اور آنلائن بھی آپ اسے منگوا سکتے ہیں پاکستان میں اس وقت ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب اس کی پروموٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس کے فوائد بتا رہے ہیں -تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ کاشت کیا جاسکے اس کے علاوہ وہ اپنے یوٹیوب چینل ہیلتھی لائف سٹائل کے ذریعے بھی لوگوں کو صحث مند زندگی گزارنے کے رازبتا رہے ہیں اور وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر بھی ہیں۔ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب نے بتایا کہ صرف چار ماہ کے استعمال سےان کا کولیسٹرول لیول اڑھائی سو سے ڈیڑھ سو پر آ گیا تھا اور اپنی چینل میں برطانیہ پلٹ شخص گلزار سے ان کی صحت میں بہتری سے متعلق چند سوال پوچھے تو ان کے جوابات یہ تھے کہ ان کی عمر اسی سال کے قریب ہے اور طرح طرح کی ادویات استعمال کر کے ان کا جگر اور گردے تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے مگر مورنگا پاؤڈر کے استعمال کے بعد وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں -مورنگا کے تمام فوائد تو شائد گنے نا جا سکیں مگر ان تمام فوائد کو دیکھتے ہوئے ہر انسان کو ایک بار ضرور اس کا استعمال کرنا چاہیے اس کا پہلا فائدہ تو ماحول پر ہوتا ہے اور دوسرا اس سے انسانی صحت بھی لاجواب رہتی ہے اگر ہم عہد کریں کہ شجرکاری کرتے وقت اس کو لگائیں تو ماحول دوستی کےساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں

    ٹویٹر-mohsensays@

  • وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس

    وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس

    20 سال قبل جب امریکہ طاقت میں بدمست نے افغانستان پر حملہ کیا تو مرد قلندر نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اس کا فوجی حل نہیں اس بات پر ساری دنیا نے اس کا مذاق اڑایا اسکو مختلف ناموں سے پکارا طالبان خان وغیرہ وغیرہ !

    اس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشرف کو خبردار کیا کہ اس جنگ میں حصہ مت لو یاد نہیں جب 1935 میں انگریزوں نے پورے ہندوستان سے قبائیلی اضلاع اور افغانستان سائیڈ میں ڈپلائے کی ۔۔ یہ بندوق کی لڑائی ہرگز نہیں۔تاہم پارلیمنٹ میں اس کا ٹھٹہ اڑا اور کوئی اس کے حق میں نہیں بولا !

    اس نے زداری دور میں ڈرون اٹیکس کے خلاف لانگ مارچ کیا کہ اس کو بند کروا دو تو سب نے اسکا مذاق اڑایا کہ امریکہ کو کون منع کرسکتا ہیں یہ سب تو امریکہ کے ہاتھ میں ہیں (کیونکہ انہوں نے جو بوری بھر کر ڈالر لیے تھے اب اپنے آقا خوش کرنا تھا) معصوم لوگ مارے گئے قبائیلی علاقوں میں (وزیرستان) معصوم لوگوں کے گھر 🏠 اجڑ گئے لوگوں بے گھر کردیا تھا!

    مشرف سے لیکر گیلانی تک زرداری سے لیکر نواز تک سب کو سمجھایا کہ ہم امریکہ کی غلامی نہیں بلکہ برابری چاہتے ہیں اس پر سب ہنسے کہ امریکہ کے ساتھ برابری کیسے ممکن ہیں کیونکہ یہ سب تو پیسوں کے پجاری تھے (چند ٹکڑوں پر بھیکنے والے لیڈرز ہیں) ان سب کو پیسے عزیز تھے !

    پھر دنیا نے دیکھا اس نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی سپر پاور کی نیٹو سپلائی روکر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اس نے قوم کو سبق دیا کہ زمینی خداؤں سے الجھنا اتنا مشکل نہیں جتنا غلامی کے زنجیروں سے جکڑا ہوا سوچ رہے ہیں اور اگست 2018 میں آخری ڈرون گرا کر آج تک اس کی حکومت میں سپر پاور نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی اس نے ایبسلیوٹلی ناٹ (Absolutely Not) کہا اور سپر پاور کو اس کی اوقات دکھا کر برابری کے باتوں کو سچ ثابت کردیا بیس سال بعد بھی افغانستان میں اس کی پیشنگوئی سچ ثابت ہورہی ہیں کل دنیا نے دیکھا افغانستان کا اعلی سطحی وفد سب سے پہلے اسے ملنے پہنچا کل تک پاکستان کو اپنے جوتے کے دھول سمجھنے والوں کو اپنے فیصلے سے قائل کرکے پاکستان کے برابر ہونے کا ثبوت دیا کل تک دنیا میں تنہاء ہونے والے پاکستان کے فیصلوں کا آج ساری دنیا منتظر رہتی ہیں !
    ‏برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کی وزیراعظم عمران خان کو کال
    ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کی عمران خان کو کال
    جرمن وزیراعظم اینگلا مرکل وزیراعظم خان کو کال کریں گی۔
    ترک وزیر اعظم کی وزیر اعظم خان کو کال

    کیا یہ وہی پاکستان نہیں ہے جو پچھلی حکومتوں میں دنیا میں تنہا ہو گیا تھا۔۔۔
    جی ہاں میں بات ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کا کررہا ہوں جنہوں نے دنیا کے سامنے پاکستان کا شان و شوکت بڑھایا!
    ماضی میں پاگل /طالبان خان / کرکٹر / جزباتی خان / یہودی ایجنٹ کہلانے والے کی فیصلوں سے آج پوری دنیا اس کی دیوانی ہوچکی ہیں

    ایک ملک میں ویسے تو لاکھوں کڑوروں لوگ رہتے ہیں اور سب ہی اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔ بہت سے اپنی جان تک نچھاور کر دیتے ہیں ۔ لیکن کچھ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اور صرف انسانیت ہی کے لیے جیتے ہیں ۔ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں پاکستان کی سرزمین پر عمران خان جیسے عظیم انسان نے جنم لیا جس نے زندگی کا آغاز ایک عام سے کرکت کھلاری سے کیا لیکن آخر پاکستان کو وہ دے گیا جو نا پہلے اور نا ہی اس کے بعد آج تک کوئی پاکستانی دے سکا ، وہ تھا کرکٹ ورلڈ کپ 1992. اس ورلڈ کپ کو جیتنا شائد عمران خان کے ایک خواب کی تعبیر کی طرف پہلا قدم تھا ۔عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا خواب دیکھا جب اس نے اپنی والدہ محترمہ کو کینسر کہ مرض میں مبتلا ہوتے دیکھا اور پھر اسی مرض کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارتے دیکھا ۔ جو درد عمران نے محسوس کیا اپنی ماں کے لیے جب وہ کینسر جیسے مرض سے لڑ رہی تھی اسی درد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں کینسر کا مکمل اور غریب کے لیے بغیر کسی پیسے کے علاج مہیا کر دیا ۔ آج لاکھوں اس ملک کے غریب اور بے سہارا لوگوں کا مسیحا ہے عمران خان ۔
    یہی جب عمران نے دیکھا کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم کا حصول کتنا مشکل ہے تو میانوالی کے لوگوں کو بڑیدفورڈ کی ڈگری بغیر پیسوں کے اسکالرشپ پر مفت تعلیم مہیا کر دی . عمران کی زندگی انسانیت سے شروع ہوتی ہے اور ختم بھی انسانیت پر ہوتی ہے نہیں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو احساس پروگرام جیسے کام شروع کیے جس سے غریب آدمی کو 2 وقت کا کھانا مل رہا ہے رہنے کے لیے چھٹ مل رہی ہے ۔غریب لوگوں کو کاروبار کے مواقع مل رھے ہیں ۔ ہمیشہ سے عام آدمی کا درد عمران خان نے دل میں محسوس کیا ہے ۔ ایسے اللہ والے لوگ جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ اس عظیم انسان کی زندگی ایسی بہت سے مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ہمیشہ اسے یاد رکھا جاۓ گا ۔ داستانیں اور بھی ہیں اس عظیم وطن کے بیٹے کی جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔ سب کو انسانوں کی خدمت ، مدد اور انکا احساس کرنے کی توفیق دے ۔ اللہ آمین
    پاکستان ذندہ باد
    عمران خان پائندہ باد
    @ZaiNi_Khan_NAK