Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورت اور معاشرہ تحریر: فروا نزیر

    عورت اور معاشرہ تحریر: فروا نزیر

    عورت کو ہمارے معاشرے میں بہت اہم مقام حاصل ہے جب بھی عورت کا نام لیا جائے تو ایک خوبصورت احساس دل میں جاگ جاتا ہے جیسے یہ کسی قابل محترم ہستی سے بڑھ کر کوئی اور چیز ہے۔
    یہ عورت ماں بہن بیوی کے روپ میں دیکھی جاتی ہے جس میں ہمارا ایک گھر نہیں بلکہ پورا خاندان سنبھالنا اس ایک عورت کے ذمہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اسلام میں عورت کے مقام کی بات کریں تو شایدہی دنیا میں ایسا کوئی مذہب ہو جہاں عورت کو اتنی زیادہ عزت اور وقار حاصل ہوگا اور نہ ہی کسی معاشرے میں عورت کو اتنے زیادہ حقوق دیے گئے جتنے اسلام میں عورت کو حقوق حاصل ہیں۔
    اگر ہم مغرب کی بات کریں تو ہمارے معاشرے میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس میں مغرب کی عورت اسلام میں عورت کے حقوق اور عزت و مرتبہ کو دیکھ کر اسلام قبول کر چکی ہیں۔
    اسلام کے ابتدائی دور سے آج کے جدید دور تک عورت کو ہر طرح کی آزادی دی گئی ہے

    کیا عورت نے اپنی آزادی کا ٹھیک استعمال کیا؟
    جو عزت اور آزادی اس عورت کو دی گئی کیا عورت نے اس کا مثبت استعمال کیا؟
    افسوس کے ساتھ میں ان باتوں کا جواب ہاں میں نہیں دے سکتی
    عورت کو گھر کی زینت کہا گیا ہے اس کو دنیا کی تمام آسائشیں اس کے گھر میں میں دیے جانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عورت کسی بھی قسم کی مشکلات کا شکار نہ ہو اور باہردنیا کی گندی نظر کا شکار نہ ہو۔ عورت کو مردوں سے زیادہ حقوق دیے گئے تاکہ اس کو معاشرے میں کبھی خود کو کمتر محسوس ہونے کا خیال آئے

    لیکن معذرت کے ساتھ آج کل کے جدید دور میں عورت اپنے حقوق کا غلط استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہے اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا تاکہ اپنی قیمتی چیز کو بری نگاہ سے بچا کے رکھا جائے کیا عورت پردے میں رہی؟
    نہیں نہیں بلکہ ہمارے میڈیا چینلز ز پے جب تک عورت کو دکھاہا نہیں جاتا تب تک آپ کی چیز نہیں بکے گی۔

    ایک صابن کے کمرشل سے لے کر کر مردوں کے شیونگ بلیڈ تک عورت کو دکھایا جاتا ہے
    چائے کے کمرشل میں عورت کا ناچ گانا اتنا ضروری کر دیا گیا ہے جیسے چائے میں چینی
    کیا یہ ضروری ہے عورت کو ماڈل بنا کر دکھایا جائے؟
    ہم مردوں کو کیوں نہیں کسی صابن کے کمرشل میں ایسے دکھاتے جیسے عورت کے جسم کی نمائش کی جاتی ہے۔
    یہ تمام چیزیں ہمارے معاشرے میں گھر بیٹھے بچوں اور بچیوں کی تربیت کو بگاڑنے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بچے جو چیز ٹی وی پر دیکھتے ہیں اسی چیز کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں
    اسی طرح اگر ہم ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کو دیکھیں اس میں ہر دوسرے گھر میں لڑکی کو گھر سے بھاگ جانے اور بسا بسایا گھر اجاڑ کے دوسرے مرد کے ساتھ شادی کرنے کا دکھایا جارہا ہے کیا یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب کر رہی ہیں؟
    نہیں ہرگز نہیں یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں بیہودگی کو کو شہ دے رہی ہیں خدارا میرا ان تمام چیزوں سے خود کو دور رکھیں
    یہ غلط چیزیں ہمارے معاشرے کے ساتھ ساتھ آ نے والی نسلوں کو بھی تباہ کر دیں گی۔
    باقی حقیقت آپ کے سامنے ہے میرا مقصد عورت پر تنقید کرنا نہیں صرف اپنا مقام یاد دلانا ہے۔اللہ تعالی نے عورت کو پاکیزہ بنایا اور ہمارا مقام بہت بلند رکھا گیا ہے۔
    قدر کیجئے اپنی اور خود کو سنبھال کے رکھیے۔
    خدا ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین

  • خنجراب کی جغرافیائی اہمیت تحریر:خالد عمران خان

    خنجراب کی جغرافیائی اہمیت تحریر:خالد عمران خان

    پاکستان بے پناہ جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے دنیا کی تین بڑی سپرپاورز انحصار کرتی ہیں خوبصورت علاقوں اور مقامات کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں اہم مقام رکھتا ھے آج کی تحریر پاکستان کے اہم علاقے ” خنجراب” سے متعلق ھے۔۔۔

    خنجراب کیا ھے؟
    خنجراب پاکستان کے شمال میں واقع سرسبز میدان،ہرے بھرے کھیت،باغات،میٹھے پانی کے چشموں، بے پناہ قدرتی خوبصورتی،وسائل اور معدنیات سے مالامال ایک مقام شمار مواقع موجود ہیں۔ یہاں بلند وبالا برف پوش ،وسیع و عریض پہاڑی سلسلوں کے علاوہ بے شمارسرسبز میدان، گلیشیئرز، آب شاریں، چشموں کی جھیلیں اور ہری بھری وادیاں دعوتِ نظارہ دینے کو موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیاح اور کوہ پیماء قدرت کے اس عظیم الشان شاہکار کو دیکھنے کے لئے اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

    درہ خنجراب کی جغرافیائی اہمیت

    درّہ خنجراب، سلسلہ کوہ قراقرم میں ایک بلند پہاڑی درّہ ہے، جس کی بلندی 4693 میٹر یا 15397 فٹ ہے۔ پاکستان اور چین کو آپس میں ملانے والے اس درّے کو (world’s roof) یعنی دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔درہ خنجراب ایک اہم فوجی مصلحتی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان کے بہترین دوست چین کو ملانے والا خنجراب پاس بھی واقع ہے اس کے علاوہ 952 کلومیٹر تک پھیلی طویل پاک چائنہ بارڈر کی لمبائی ہے چین کے ساتھ ہونے والی تمام تجارت خنجراب پاس کے زریعے ہی ہوتی ھے۔

    خنجراب اور شاہراہ قراقرم

    قراقرم (قومی شاہراہ ) پاکستان کو چین سے ملانے کا زمینی ذریعہ ہے۔ اسے قراقرم ہائی وے اور شاہراہ ریشم بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہے۔ درہ خنجراب کے مقام پر سطح سمندر سے اس کی بلندی 4693 میٹر ہے۔ یہ چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔

    خنجراب پاکستان کے لئے انتہائی اہم ھے مستقبل قریب میں یہ علاقہ علاقہ تجارت کے لئے اہم "گیٹ وے” تصور کیا جائے گا اس علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر اہم اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بھرپور فائدہ حاصل کیا جاسکے دنیا بھر کے ممالک ایسے جغرافیائی محل وقوع رکھنے والے اپنے علاقوں پر اربوں ڈالر خرچ کرکے ان کو دنیا بھر میں اسٹیبلش کروا کر بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اگر کوئی بھی حکومت بہتری کے اقدامات کرتی ھے تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم آج بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔سیاسی قیادت کو ملکی بقاء اور ترقی کے لئے مل بیٹھ کر سوچ بچار کرکے اقدامات کرنے چاہئیں اور سب سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے یہی ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز ہے اور یہی ہمارے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا پاکستان کے لئے سب کو ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا۔
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ماحولياتی آلودگی ایک سنگین مسلہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ماحولياتی آلودگی ایک سنگین مسلہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    آلودگی کا لغوی معنی اس چیز کی موجودگی ہے جو نقصان دہ ہے یا ماحول پر برا اثر ڈالتی ہے۔ آلودگی قدرتی ماحول میں منفی تبدیلیوں کا اسباب بن سکتی ہے۔ صاف ستھری فضا اور تازی ہوا ہماری بنیادی ضرورتوں میں ایک ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی زمینی فضا کو کافی حد تک نقصان پہنچاتی ہے اور اسکے نتیجے میں منفی ماحول زندگی کیلٸے نقصان دہ نہیں ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہمارا موجودہ رہہن سہن ہے ۔ اس سے کچھ ایسی نقصان دہ تبدیلیاں ہوئی ہیں جو ہمارے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔ آلودگی کی اہم وجہ بہت مختلف قسم کے فضلہ مواد ہیں۔ آلودگی ماحول اور ماحولیاتی نظام کے توازن میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ ترقی اور جدیدیت نے آلودگی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے اور اس نے مختلف انسانی بیماریوں کو جنم دیا ہے اور سب سے المنگ بات یہ ہے کہ اس سےگلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان دنیا کا وہ خوش قسمت ملک ہے، جسے قدرت نے حسین وادیوں، اونچے کُہساروں، سمندر، بندرگاہوں،صحراؤں، اور وسیع میدانی خطّوں سے نوازا ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملک بدترین ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے، جس سے شہریوں کی صحت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    عالمی ادارے صحت کا کہنا ہے، پاکستان کا شمار ایشیا کے آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ اوربھی ہےکہ لوگ ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں.

    پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضاف، بنیادی خوراک اور رہائش کی طلب میں اضافے کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی تیز ہوگئی ہے۔ انسانوں کے ذریعہ پھیلائی ہوئی زہریلی گیس جیسے کہ، کاربن مونو آکسائڈ مٹی ، ہوا اور پانی کی آلودگی کا سب سے بڑی وجہ ہے۔

    پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان، خصوصاً پنجاب کی فضا میں اسموگ کا مسلہ بہت ہی سنگین ہوگیا ہے اور ان علاقوں میں رہنے واے لوگ سانس کے مسئلہ کا شکار ہوجاتے ہیں ، ان کے پھیپھڑے بھی اس آلودگی سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ نیز، ملک کے دیگر شہروں، جیسے کراچی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، کوئٹہ اور پشاور میں بھی فضائی آلودگی کی مقدار بین الاقوامی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ فضائی آلودگی سے نہ صرف فصلوں بلکہ درختوں پر انتہائی بُرے اثرات مُرتب ہورہے ہیں

    لہذا پاکستان کے بڑے بڑے شہروں پر نظر ڈالیں، تو ہر جگہ گندگی غلاظت ، اور کوڑے کرکٹ کے اَنبار نظر آتے ہیں۔ پولیتھین بیگز، سیوریج لائن بلاک کا سبب بنتے ہیں، جس کیوجہ سے نالوں کا پانی روڈز پر پھیل جاتا ہے اور اُن پر بیٹھنے والی مادھوں مکّھیاں اور دیگر رینگے والے حشرات مختلف بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ پھر ملک پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا سبب دھواں پھیلانے والے کارخانے بھی ہیں، جن پر کوئی حکومتی محکمہ ایکشن نہیں لیتا ہے.

    اگرچہ حکومتیں ان مسائل سے نمٹنے کیلٸے بھرپور کوششیں کررہی ہیں۔ البتہ، پاکستانی عوام پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کوششوں میں حکومتیں کا ساتھ دیں کہ ماحولیاتی آلودگی کسی ایک کا نہیں،بلکہ ہم سب کا سنگین مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

    ‎@JahantabSiddiqi

  • پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں    فواد عالم

    پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں فواد عالم

    قومی کرکٹر فواد عالم کا کہنا ہے کہ پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    باغی ٹی وی : فواد عالم نے کہا کہ ہمارا ہدف ویسٹ انڈیز کو جلد از جلد آؤٹ کرنا ہے کل میزبان ٹیم کو کم سے کم رنز پر آؤٹ کردیا تو میچ جیتنے کی پوزیشن میں ہوں گے-

    قومی کرکٹر نے کہا کہ آج کی سنچری اپنے والدین کے نام کرتا ہوں میچ سے پہلے والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی ماں نے کہا تھا کہ اس میچ میں تم سنچری بناؤ گےوالد کی بھی خواہش تھی کہ ویسٹ انڈیز میں سنچری اسکور کروں ماں کی دعا ساتھ ہو تو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-

    مکہ مکرمہ: غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہوگی

    فواد عالم کا کہنا تھا کہ وکٹ آسان تھی نہ موسم، میچ کے پہلے روز گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا اللہ جب دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اپنے والد سے متاثر ہوا ہوں زندگی میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے مگر میرے والد نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا خوش قسمت ہوں کہ مشکل وقت میں میرے اہلخانہ نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیاوالد ہمیشہ کہتے تھے کہ لگے رہو تمہارا وقت ضرور آئے گا-

    سینچری کو سیلیبریٹ کرنے کے حوالے سے فواد عالم نے کہا کہ یہ سلیبیریشن اسٹائل ترکش ڈرامہ ارطغرل غازی سے متاثر ہوکر اپنایا ہے یہ سلیبیریش اسٹائل اظہر علی کے ساتھ طے کیا تھا ہم دونوں نے سینچری بنانے پر یہ اسٹائل اپنانے کا فیصلہ کررکھا ہے-

    واضح رہے کہ جمیکا ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 9 کھلاڑی آؤٹ 302 رنز پر ڈکلیئر کردی فواد عالم نے کیریئر کی پانچویں سنچری بنائی، وہ 124 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

    پاکستان کی جانب سے بابراعظم 75، محمد رضوان 31 اور فہیم اشرف 26 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    ویسٹ انڈیز کی طرف سے کیماروچ اور جیڈن سیلز نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ جیسن ہولڈر کے حصے میں 2 وکٹیں آئیں 302 رن کے جواب میں تیسرے دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کے 39 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے ہیں، دو وکٹیں شاہین شاہ آفریدی نے لیں جبکہ ایک کھلاڑی کو فہیم اشرف نے آؤٹ کیا۔

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ پنجم   ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ پنجم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ اور یہی سے اگر کہا جاۓ تو نواز شریف کے اختتام کا آغاز ہوگیا تھا

    اس کے سے لے کر سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ،پاکستان عوامی تحریک ،اور عوامی مسلم لیگ نے سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف کئی پٹیشنز دائر کی گئیں
    تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک بار پھر کرپشن کے خلاف اپنے ساتھیوں کو بھر پور احتجاج جاری رکھنے کا کہا اور پھرعمران خان نے کرپشن کے خلاف ایک اور طویل دھرنے کا تصور پیش کیا جسے ‘اسلام آباد لاک ڈاؤن’ کا نام دیا گیا۔
    مگر یہ دھرنا دینے کی نوبت اس لئے نہ آئی کیوں کہہ اس دھرنا سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ نے پاناما گیٹ پر پٹیشنز کی سماعت کی اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز طلب کیے۔
    اس کے بعد باقاعدہ طور پر اس کیس کی سماعت ہونی شروع ہوگئ پاناما کی کہانی آخر کار 6 جولائی 2018 کو اس وقت اختتام پزیر ہوئی جب احتساب عدالت نے نواز شریف، اور ان کی بیٹی مریم نواز، اور داماد کیپٹن صفدر کو کرپشن کرنے پر نااہل کر دیا اور جیل بھیج دیا۔

    پانامہ لیکس کے مقدمہ اور فیصلے کے درمیان کئ سیاستدان مقدمات کی زد میں آۓ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر بھی ن لیگ کے حنیف عباسی کی طرف سے نااہلی کے لئے پیٹیشن دائر کی گئ جس کی لمبی سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کے خلاف دسمبر 2017 میں کیس خارج کر دیا جبکہ ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین نااہل قرار پائے۔

    عمران خان نے 2018 میں اپنی تیسری شادی بشریٰ بی بی سے کر لی۔ بشریٰ بی بی پاک پتن سے تعلق رکھتی ہیں اور عمران خان دو سال سے ان کے پاس باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ یہ شادی لاہور میں سادگی سے ہوئی۔
    پھر الیکشن قریب آگیا اور آخر کار کپتان عمران خان کی مخنت رنگ لے آئی اور 25 جولائی کے عام انتخابات میں پاکستان کو بے مثال انداز میں قومی اسمبلی کی 116 نشستیں حاصل ہوئیں۔ عمران خان نی پانچ سیٹوں پر الیکشن لڑا اور پانچوں نشستوں سے کامیاب ہوئے کپتان کی اس کامیابھی کے بعد دیگر جماعتیں بوکھلا گئ اور انتخابات کو بغیر کسی ثبوت کے پورے کے پورے الیکشن کو ہی دھاندلی زدہ قرار دے دیا
    قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے اور مخصوص نشستوں پر اپنے امیدواروں کو نامزد کرنے، اور عمران خان اور دو دیگر ارکانِ قومی اسمبلی کی جیتی گئی اضافی نشستیں خالی کرنے کے بعد ان کا نمبر 152 تک پہنچ گیا۔
    پارٹی کے اس وقت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے پارٹی کو 180 سے زائد ارکانِ قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
    اگر مقبولیت کی بات کی جاۓ تو جیسے ہی انتخابات کے نتائج آنے شروع ہوئے تھے اور پی ٹی آئی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی تو عمران خان کو ‘اگلا وزیرِ اعظم’ کہا جانے لگا تھا جبکہ پارٹی سربراہ عمران خان نے انتخابات کے اگلے دن ہی ایک فاتحانہ تقریر بھی بنی گالہ سی کی تھی
    اور اگر اس تقریر کی بات کی جاۓ تو وہ عمران خان کی یادگار تقریروں میں سے ایک تقریر تھی جس میں انہوں نے ثابت کیا تھا کہہ وہ ایک حقیقی رہنماء ہیں اپنی تقریر میں انہوں نے بہت ساری تاریخی باتیں کی جس میں سے ایک عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا، "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں سیاست میں کیوں آیا۔ میں سیاست سے کچھ لینے نہیں آیا اور نہ سیاست مجھے کچھ دے سکتی ہی ۔ میں صرف پاکستان کو وہ ملک بنانا چاہتا تھا جس کا خواب میرے رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔”

    اللہ پاک ارض پاک کو قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنماء اصولوں پر چلنے کی توفیق دے

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • عورت ماں، بہین اور بیٹی ہے۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    عورت ماں، بہین اور بیٹی ہے۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    دل ہے کہ ماننے کو تیار ہی نہیں ابھی چند دن پہلے جو صوبہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں ہوا مینار پاکستان میں عائشہ نامی ٹک ٹوکر لڑکی کے ساتھ جو واقعہ ہوا یہ واقعہ قابل مذمت ہے اللہ پاک نہ کریں ایسا واقعہ کسی کے ساتھ ہو
    میرے لیے اس واقعہ پر یقین کرنا انتہائی مشکل ترین ہے۔ یہ اس شہر کا واقعہ ہے جہاں کے لوگ زندہ دلانے لاہور کہلاتے ہیں۔ میرا دل و دماغ یہ ماننے کو ہر گز تیار نہیں ہے کہ چار سو مردوں نے ایک اکیلی وہ بھی نہتی لڑکی کے ساتھ زیادتی کر دی
    یہ کیسے ممکن ہے کہ چار سو کے چار سو ہی ایک ہی کام میں لگے ہوں۔

    دیکھنے اور سننے میں تو یہ آتا ہے کہ آج بھی اگر اس قوم کی ماں، بہین ، بیٹی کو دو لڑکے راہ چلتے چھیڑ دیں تو دو سو بھائی اور اس قوم کے بیٹے ان دو لڑکوں کی وہ ٹھکائ شروع کرتے ہیں کہ انہیں وہاں سے دم دبا کے بھاگنا ہی پڑھتا ہے۔ اور ایسے موقعوں پر ہر راہ گیر بھائی بن کر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔کوئی خاتون اگر مذاق میں بھی یہ کہہ دے کہ اس لڑکے نے مجھے چھیڑا ہے تو اس قوم کے بیٹے پھر نہ آو دیکھتے ہیں نہ تاو بنا تصدیق کے ہی یہ بھائی اس لڑکی کی بات کو سچ مانتے ہوئے لڑکے پر اپنے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دینگے ایک اور بات جانے اتنے جلدی یہ سب بھائی اکھٹے کیسے ہو جاتے ہیں کہ ایک ہجوم سا بن جاتا ہے۔اور پھر جب تک پولیس نہ پہنچ جائے وہ لڑکا ہجوم سے پٹتا ہی رہتا ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ ہم پاکستانی بہت جزباتی لوگ ہیں جو کبھی بھی کسی بھی واقعہ کی بنیادی وجہ کو تلاش نہیں کرتے شاخوں پر چھولتے رہیں گے مگر بیماری کو جڑ سے نہیں پکڑیں گے۔
    اگر چار سو لڑکوں نے ایسا کیا ہے تو ہرگز ان کی طرف داری نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کا یہ عمل انتہائ قابل مزمت ہے

    مگر دوسری طرف یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ لڑکی وہاں مینار پاکستان پے کیا کر رہی تھی؟ یہ ٹک ٹوک اور مختلف لائیو اپس کی ایپلی کیشن کیسے عورت کو ایک نمائشی آلہ بنائےچلی جارہی ہیں۔ اور میری بہنوں کیا ہو گیا ہے تم کو عورت ہے کہ نمائش بنتی جا رہی ہے۔چند لائک اور فالوورز کے چکر میں سرئے عام ، پارک میں ، چلتی سڑک پر ، اسی معاشرے کے مردوں کے ہجوم میں یہ دوپٹہ اتار دینا ، باریک اور تنگ لباس پہن کر کے رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو بنانا۔ایسی سستی شہرت حاصل کرنے کی چکر میں آپ کو عزت سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑیں گے ۔محترم حریم شاہ بنیں گی تو مولوی عبدالقوی تو پھر ہر جگہ مل ہی جائیں گے۔ شہد کو کھولا رکھنے سے مکھیاں تو اس پے بیٹھیں گی۔

    وہ لڑکے بھی قابل لعنت ہیں جو اس گندے فعل کے مرتکب ہوئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کے لئے بھی اس ٹک ٹوک ایپلی کیشن نےتو اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال رکھا ہے۔
    میں حکومت وقت سے اپیل کروں گا کہ ایسی اپس فوری طور پر پاکستان میں بند کی جانی چاہئیں۔
    ایسی خواتین جن کو گھر یا خاندان کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہے وہ اپنے ہاتھ یا پیر دکھا کر بکواس اور بےہودہ جملوں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ کبھی آپ ان لڑکیوں کی ان ویڈیوز پر کمنٹس پڑھ لیں تو اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے رہ جائیں گے ۔یہ سب ہو کیا ہورہا ہے؟؟؟

    قارئین عورت کی اتنی تزلیل کہ وہ ایک مارکیٹنگ ٹول بن کے رہ گئی ہے ۔یاد رکھیں عورت ماں، بہین ،بیٹی اور پھر ایک بیوی ہے۔ایک اچھی ماں ہی معاشرے کی نشوونما کر سکتی ہے ۔ایک ماں نے ہی ہماری آنے والی نسل کو سنوارنا ہے۔ اپنی پرورش سےہماری اقداراور رواج کو نئ نسل میں منتقل کرنا ہے ۔ ذرہ سوچیئے گا ضرور کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ کس طرف جا رہے ہیں ہم؟ کیا ہم خود ہی اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فریسٹریشن کو جنم نہیں دے رہے؟

    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے پر رحم کرے ۔اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • ماحولیاتی آلودگی اور اس کے اسباب تحریر: سحر عارف

    ماحولیاتی آلودگی اور اس کے اسباب تحریر: سحر عارف

    آج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ کیا امیر اور کیا غریب ممالک سب کے سب ہی اس کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ امیر ممالک دولت کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے اور یقیناً وہ وقت دور نہیں جب وہ اس میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کرلیں گے۔ دوسری طرف آتے ہیں غریب ممالک جن کے پاس اتنی دولت نہیں ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے کوئی بڑے بڑے اور مہنگے مہنگے اقدامات کر سکیں۔

    پھر یہی وجہ ہے کہ غریب ممالک ہی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کی بھی بہت سی اقسام ہیں جیسے کہ پانی کی آلودگی، فضائی آلودگی، زمینی آلودگی اور شود کی آلودگی وغیرہ۔ اگر بات کی جائے فضائی آلودگی کی تو اس میں پچھلے ایک دو سالوں میں بہت حد تک کمی آئی ہے۔

    کیوں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس حوالے سے اقتدار سنبھالتے ہی توجہ فرماتے ہوئے اقدامات شروع کر دیے تھے۔ اپنی عوام کی صحیح رہنمائی کرنے اور انہیں فضائی آلودگی کی بڑھتی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کا مشورہ دیا اور خود مہم کا آغاز بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اب پچھلے کئی سالوں کی نسبت فضائی آلودگی میں کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔

    پھر پانی کی آلودگی اس وقت ملک میں پائی جانے والی ماحولیاتی آلودگی کی ایک اور قسم ہے۔ جس کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکا اور اسی وجہ سے پاکستان کی آبی مخلوق بہت حد تک نقصان اٹھا چکی ہیں۔ پانی کی آلودگی کی بڑی وجہ کارخانوں سے نکلتا گندہ تیل اور زہریلا مادہ ہے۔

    جنہیں پانی میں بہا دیا جاتا ہے اور پھر وہی آبی مخلوق اور سی فوڈ کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ شور کی آلودگی بھی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے جس کی وجہ سے معاشرہ اچھا خاصا بے سکونی کا شکار ہے۔ شود کی آلودگی کی وجوہات یہ ہیں کہ بڑی گاڑیوں پر لگا اونچا ہارن جس کے بجنے سے ہر انسان اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ وہ لوگ سب سے زیادہ اس آلودگی سے اثر انداز ہوتے ہیں جن کی رہائش موسیقی کے علاقوں میں ہو یا جو دیہاتوں میں رہتے ہیں۔

    جہاں کھیتوں میں ہل چلانے کے ساتھ ساتھ کسان اونچی آواز میں گانے لگا دیتا ہے۔ خود تو اس سے لطف اندوز ہورہا ہوتا ہے پر باقیوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا یے۔ یہی وجہ ہے آج کل لوگ بہت تیزی سے ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کی چوتھی قسم ہے زمینی آلودگی ہے اس قسم کی آلودگی میں مزید مٹی اور کھانے کی آلودگی شامل ہیں۔ مٹی کو آلودہ کرنے میں بھی انسان کا ہی سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔

    جو ہر گندہ مادہ اور کیمیائی تغیرات مٹی میں شامل کردیتا ہے۔ پھر کھانے کی آلودگی تو آج سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ آج ہر کوئی کھانے پینے کی اشیاء میں کھلم کھلی ملاوٹ کر کے کھانے کو خوراک کو انسانی صحت کے لیے زہر آلود بنا رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کو پیش آنے والے مسائل کی ایک وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ اسی لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک دو شخص سے ممکن نہیں اب پوری قوم کو یکجان ہونا ہوگا۔

    @SeharSulehri

  • پیش بندی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    دوستوں اب ہم دجالی دورمیں قدم رکھ چکے ہیں،یہ دجالی دورآنے والے دنوں میں ہمیں بہت کچھ نیا دکھائے گا ایک کرونا ہی دکھا کر پوری دنیا کو کیسا گھما دیا گیا ہے جس کا ادراک تو ہو جکا ہو گا اور ابھی تک دنیا کو کچھ سمجھ نہیں آپارہا ہے کہ کیا کرے۔بالکل اسی طرح آگےآنے والے دور کے فتنے اس سے بھی زیادہ سخت ہونگے اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے ایک توتمام حالات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں دوسرا یہ کہ ان سب حالات کی خبر ہمارے سرکار دو عالم نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پہلے ہی دے چکے ہیں کہ یہ سب ہو کر رہے گا، اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا، دانشمندی اور ایمان و عمل کو اختیار کرے گا.اس لیے اب ایمانی، جسمانی، روحانی اور اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے، اگر زندہ رہنا ہے اور ان تمام فتنوں سے بچنا ہے تو اب ذرا جاگ جائیں…!
    اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں…
    جسمانی طور پر، ذہنی طور پر اور روحانی طور پر بھی…
    ان کو اردو انگریزی اور عربی زبان لازمی طور پر سکھائیں، اسلامی تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں ،مزہبی طور پر مضبوط بنائیں اوراپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں، کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
    جیسے سلطان عبد الحمید ثانی جوسلطنت عثمانیہ کے 34ویں فرماں روا تھے لیکن وہ ایک بڑھئ کا ہنر جانتے تھے۔انہوں نے ذاتی طور پر کچھ اعلی معیار کا فرنیچر تیار کیا تھا ، جسے آج بھی استنبول کے یلدز محل ، سیل کوسکو اور بییلربی محل میں دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح محی الدین اورنگزیب عالمگیر سلطنت مغلیہ کےچھٹے فرمانروا تھے۔ان کے پاس خطاطی کا ہنر تھا انہوں نے متعدد قرآن پاک کے نسخے تحریر کیے۔ اس کے علاوہ انبیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں
    حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اولاً کپڑا سازی کا کام کِیا کرتے تھے پھرکھیتی باڑی کرنے لگے۔حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام لکڑی کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے حضرت اِدْرِیْس عَلَیْہِ السَّلَام درزی گری، حضرت ہُود و صالح عَلَیْہِمَاالسَّلَام تجارت،حضرت اِبراہیم و لُوط عَلَیْہِمَا السَّلَام کھیتی باڑی اور حضرت شُعَیْب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے تھے۔اسی طرح حضرت مُوسیٰ کَلِیۡمُ اللہ بکریاں چراتے،حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام زِرَہ(جنگ میں استعمال ہونےوالا فولاد کا جالی دار کرتا) بناتے،حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پوری دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود پنکھے اور زنبیلیں بنانے کا فن جانتے تھےاورہمارے پیارےآقا احمدِ مُجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تجارت کواپنی ذات ِ بابرکت سے شرف بخشاتھا گویا
    اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔اپنے اجداد کی طرح ہنر مند ہونے کی ضرورت ہے
    بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی ایسا بالکل نہیں ہوگا اب آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے، اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی..
    اپنے بچوں کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازماً ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں، جس طرح اسکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہےبالکل ویسے ہی جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔ساری صلاحیتیں آپ کے بچے میں بدرجہ اتم موجود ہونی چاہئے۔گو کہ آج کل ہمارے بچے بہت ہی آرام طلب اور نازک ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں بچوں کو ایسا تعلیمی نظام دینا ہوگا جیسے ماضی میں دیا جاتا تھا جب بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھایاجاتا تھا، تمام مسلمان اپنے ہاتھوں میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے…
    کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا، کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری.کا بلکہ انکی کاسٹ بھی ان کے پیشے سے ہی منسوب ہوتی تھی۔اس زمانے میں کسی کو نوکری تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی سب ہنر مند تھے۔یاد رکھئےآپ کی ہنر مندی ہی آپ کو کامیاب بناسکتی ہے اور خود کفالت تک لے جاسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کے ملک کو ہر نعمت سے نوازا ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔دوستوں! جو آپ کے پاس ہے اس سے ہی استفادہ کرنے کی عادت ڈالیں اور کوشش کریں کہ غیر ضروری درآمد نہ کی جائے زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش کریں اور اپنی ہنر مندی کی بدولت اپنے منفرد کام کو دنیا کو برامد کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک میں زر مبادلہ آسکے۔دوستوں یاد رکھنا ایک وقت آئیگا سب کو اپنے وطن واپس لوٹنا پڑے گا کوئ ملک کسی دوسرے ملک کے شہری کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا عملی مظاہرہ شروع بھی ہو چکا ہے تو بہتر یہ نہیں ہے کہ ہم پہلے سے ہی پیش بندی کر لیں۔سب ایک ساتھ بھائ چارگی سے اللہ کے دئے گئے وسائل سے استفادہ کریں ۔اسراف نہ کریں۔سادگی کو شعار بنالیں۔اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت بنا لیں۔اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔

    @Azizsiddiqui100

  • تعمیر پاکستان کا مقصد سمجھییے تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    تعمیر پاکستان کا مقصد سمجھییے تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    لفظ پاکستان بولنے سے جیسے اپنائیت کا احساس آ جاے جیسے روح کو تازگی مل جاے.
    لیکن کیا ہم عملی طور پر اس کی قدر کر رہے ہیں. کیا ہمارے اعمال اس بات کی سے اس بات کی اکاسی ہوتی ہے؟ کیا پاکستان حاصل کرنے کا مقصد بھی ہم عملاً پورا کر رہے ہیں؟
    پاکستان جس کے لیے ماؤں نے اپنے لعل کٹواے، بہنوں نے اپنے بھائی گنواے. باپ نے اپنا بڑھاپے کا سہارا کھویا. بیٹی کے سر کا سایا گیا تو بیوی کا سہاگ. اتنی قربانیاں پاکستان کے لیے دے دی گئیں لیکن 75 سال میں ہم قوم ایک مہذب نا بن سکے. ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ رائیگاں کر دیا گیا. پاکستان مملکت تو مل گئ لیکن ہم اس کی صحیح قدر نا کر سکے. یہ کیسی آزادی ہے جہاں بچیوں کا ریپ کیا جاے، رکشے میں جاتی بچیوں کے ساتھ دست درازی اور بے حرمتی. دوسری جانب عورتیں نیم برہنہ لباس پہن کر خود پر فخر محسوس کریں اور اسے آزادی اظہارِ رائے کا نام دین، کسی کی بہن بیٹی کی عزت اجاڑنا اپنا سٹیٹس سمجھا جائے، کسی کو نوکری دے کر اس اپنا غلام سمجھا جائے، کسی کی مدد کر کے اسکی غریبی یا تنگدستی کا مزاق اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کیا جاے پھر اس کی تشہیر سے خود کو خدا ترس باآور کرایا جائے. کیا یہ مقصد تھا قیام پاکستان کا؟
    کیا ہم بحیثیت پاکستانی پاکستان کا حق ادا کر پا رہے ہیں.
    ہاے افسوس!
    ہم نے ملاوٹ کا بازار گرم کر رکھے، اپنے ساتھ والے کو دھوکا دے کر فخر سے سینہ چوڑا کرتے اور خود کو عقلمند اور اسے بےوقوف ثابت کرتے. کمزور کا حق کھا کر اپنے آپ کو طاقتور ثابت کرتے ہیں لیکن یہ ہم اسطرح پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے.خدارا ہوش کے ناخن لیجئیے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ہم اپنا اخلاق اچھا بنائیں اپنا کردار اچھا بنائیں تاکہ دنیا میں اپنا کھویا وقار بحیثیت قوم دوبارہ حاصل کر سکیں
    قائد اعظم محمد علی جناح کے منشور کو سمجھیں ایمان اتحاد اور تنظیم سے اپنے پاکستان کے رنگوں کو دوبارہ تازگی بخشیں. دین کی سربلندی کے لیے اپنے کردار کو عملی نمونہ بنا کر ایک مثال بنا کر معاشرے میں پیش کریں تاکہ پاکستانی اور سچے مسلمان کی حقیقی معنوں میں پہچان ہو سکے. ہمیں آج خود سے عہد کرنا ہے. پاکستان اور اسلام سے وفا کرنی ہے خود کو بدلنا ہے اور اپنی ایک نئی پہچان بنانی ہے جو کہ حصول پاکستان اور اسلامی تہذیب کی اصل بنیاد ہے.
    ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالی’علیہ نے ہمیں نا صرف یہ تحفہ پاکستان عطا کیا بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ بھی بتا کر گئے ہیں آج ان کے فرامین کو فراموش کر ہے ہم مذید پستی کا شکار ہو چکے ہیں ہمیں خود کو پہچاننا ہو گا آج کی تحریر میں میں ان کے فرامین کو دوبارہ شامل کروں گا.
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کے ایک جلسے میں 28 دسمبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے* ”
    پھر لاہور کے ایک جلسے میں 30 اکتوبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی* ”
    پھر 15 جون 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے* ”
    11 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں ارشاد فرمایا.” *انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔* ”
    1944 میں مسلم یونیورسٹی یونین میں خطاب کیا اور فرمایا
    ” *دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔* ”
    چٹاگانگ کے جلسے میں 23 مارچ 1940 کو فرمایا. ” *پاکستان کی داستان ‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔*”
    ڈھاکہ جلسے میں خطاب 21 مارچ 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا. ” *یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیر دیا جاناچاہئے۔* ” یہی وہ کامیابی کے راست ہیں جو اس قوم کو عمل کرنے سے بدل سکتے ہے ہمیں انہیں سمجھ کر ان پر عملی طور پر خود کو ڈھالنا ہوگا
    کیونکہ شاعر. مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا
    *افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*

    @EngrMuddsairH

  • عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔

    تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔

    اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔

    عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔

    مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
    یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
    بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
    خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
    بیٹے کی شکل میں تو مان۔
    پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
    اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
    ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔

    جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

    ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین

    @BetaGirl__