Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم

    مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم


    مدینہ کی ریاست۔۔۔نام لیتے ساتھ ہی ایک احترام ایک سرور سا اترتا ہے دل میں۔۔پاک ریاست پاک لوگ۔۔۔پاک زندگیاں۔۔۔
    ہمارا نعرہ مدینہ کی ریاست ہماری چاہت مدینہ کی ریاست۔۔۔ہماری مانگ آج ہی پوری ہو ۔۔۔کیسے ہو۔۔۔کیسے ہو۔۔۔
    ہم کتنے قابل ہیں اس ریاست کے۔۔مدینہ کی ریاست مدینے ولوں نے بناٸی اپنی پاک بازی سے۔اپنی سچاٸی سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے رہ کر فاقے کر کے بنا کسی کو الزام لگاۓ اپنےبل بوتے پر اپنی سود، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، نفا ق سے پاک تجار ت ایک دوسرے کادرد محسوس کر کے۔۔ صبح خالی پیٹ گھر سے نکلنا شان کو واپسی پر کچھ کھانے کو نہ ملنے پرایک کجھور پانی کے ساتھ کھا کر صبر شکر کر کے سونا ۔۔۔اللہ پر توکل۔۔ نہ گالی نہ گلوچ۔۔اخلاق اتنے کہ کوٸی پتھر مار دے تو دعا دینا۔۔۔
    ہم مانگ رہے مدینہ کی ریاست
    کون ہیں ہم
    دسترخوان پہ پیٹ بھر کھانا ہے مگر ایکسٹرا بریانی کی چاہت ہے نہیں کھا سکتے گنجاٸش نہیں دو حکومت کو گالیاں اسی دکھ میں باہر نکلے کسی سے منہ ماری ہو گٸی دو اسے ماں بہن کی گالیاں۔۔۔
    کام پہ گۓ۔۔سو جھوٹ سو چالبازیاں منافقت سے بھری خوشامدوں کے بعد گھر واپسی تھکے ہوۓ آۓ ہیں بیوی بچوں پہ غصہ۔۔ماں سے بدتمیزی ۔۔۔
    پھر ا س سب کے بعد جب اپنے کرتوتوں سے رزق میں کمی حالات خراب ہوں تو اپنے سے اونچوں سے حسد شروع۔۔۔
    معاشرتی طور پر اتنا بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔۔
    ٹک ٹاک پہ منہ بنا بنا کے ایک آنکھ بند کر کر کے ویڈیوز دیکھتے ہیں۔۔استغفار کرتے جاتے ہیں آنکھوں کا زنا ہاتھوں کا زنا باتوں زنا کرتے جاتے ہیں
    جہاں زلیخا دیکھی یوسف کو بھول کر اس کی اداٶں پر مرمٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں
    نہ عورت فاطمہ ؓ جیسی بننے کو تیار ہیں
    نہ مرد یوسف بننے پر راضی ہے
    اور تو اور یہ عالم ہے
    ہمارے ہاں عورت برقع میں ہو نظروں سے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں

    کیا ہم بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ۔۔۔
    ہم سے ایک دن تیل کے بغیر شوربے والی ہانڈی نہ کھاٸی جاۓ۔۔مبادا کہ پیٹ پہ پتھر باندھنا
    ہم اپنے آگے کسی کی بات برداشت نہیں کرتے مبادا کہ پتھر کھا کہ دعا دینا
    ہم بغیر جھوٹ کے اپنا مال نہیں بیچ سکتے
    زخیرہ اندوزی کے بغیر ہم اپنے عید تہوار پر سسستاسامان نہیں بیچ سکتے
    ہم کیسے بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ
    مدینہ کی ریاست میں حکم ربی اترتا تھا سب گردن جھکا کر لبیک کہتے تھے۔۔
    آج ہم مدینے کی ریاست میں چودہ سو سال پہلے اترے حکم ربی میں حجتیں کرتے ہیں دلیلیں گھڑتے ہیں۔پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

    دسروں کو حکم ربی سنا کرخود فادغ ہو جاتے ہیں
    کون ہیں ہم۔۔۔
    کیا چاہتے ہیں ہم
    مدینے کے اسلام میں اور ہمارے آج کے اسلام میں ہم نے وہ فرق ڈال دیا ہے۔کہ آج مدینے والے پلٹیں تو ہمیں کسی اور نٸے مذہب پہ پاٸیں
    خدارا پہلے خود کو اس قابل بناٸیں کہ
    آپ کے ارگرد خود آپ کو مدینے کا حساس ہو
    پہلے اپنے اندر احساس پیدا کریں
    مدینہ میں پہلے حکم جاری ہوۓ تھے۔۔سزاٸیں بعد میں اتری تھیں۔حکم ماننے والوں نے سزاٸیں اترنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔سزاٸیں تو نافرمانوں کے لٸیے اتری تیں۔۔تم فرمابردار کیوں نہیں بنتے۔۔؟
    کیوں نافرمان ہو کر انتظار کرتے ہو کہ سزاوٶ ں کی بات ہو پھر ہی سدھرو گے۔۔معاشرہ بناٶ تم بناٶ
    مدینہ بناٶ تم بناٶ۔۔۔خود کو پہلے سے فرمانبردار بناٶ
    لبیک کہو۔۔
    کسی کو کہنے روکنے ٹوکنے سے کچھ نہیں ہوگا
    پہلے اپنا دل مدینہ بناٶ
    مدینہ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے
    پہلے پاک ہو جاٶ
    پہلے پاک ہو جاٶ
    تحریر ہما عظیم
    ‎@DimpleGirl_PTi

  • ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ڈاک، سندیسا، پوسٹ ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ماضی میں ہم نے ایک گانا سنا تھا جو جاوید اختر نے لکھا تھا جس کے الفاظ تھے
    ؎ سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
    جوچٹھی آتی ہے، وہ پوچھے جاتی ہے
    سندیسا اصل میں سنسکرت کے لفظ سندیش سے ہے جو کہ پراکرت میں آکر سندیس ہوگیااور اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اس سے مرادپیغام، خبر اور اطلاع ہے۔چٹھی جو کہ سنسکرت زبان کے”چتر”اور”اکا“ سے ماخوذ ہے۔چٹ،پرچی،خط، مراسلہ،رقعہ،پتر،مکتوب،سندکارگزاری،اجازت نامہ، پاس، پرمٹ اور لیبل جیسے الفاظ چٹھی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔کسی دور میں جب کسی کے گھر چٹھی آتی تھی تو غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے کو ملتے تھے اور جب تک وہ چٹھی پڑھا ئی نہیں جاتی تھی سکون نصیب نہیں ہوتا تھا۔ ایسے میں اکثر وبیشتر چٹھی رساں ہی چٹھی کو پڑھنے کا فریضہ سرانجام بھی دیا کرتا تھا کہ اس دور میں پورے گاؤں میں یا تو امام مسجد پڑھ سکتا تھا یا پھر اسکول کا استاد۔چٹھی سے ہی چٹھی بہی لفظ بنا جس سے مراد خطوط کی آمد وروانگی درج کرنے والا رجسٹر ہوتا ہے، چٹھی چپاتی یا پتر بھی ہے جس سے مرادلکھت پڑھت ہوتا ہے،چٹھی سند بھی لفظ تھا جس سے مرادصداقت نامہ یا انگریزی لفظ سرٹیفیکیٹ ہے اور چٹھی کا کھیل بھی ہے جس کا مطلب قرعہ اندازی اور لاٹری سمجھ لیجیے۔ایک کہاوت بھی ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہے ”چٹھی نہ پروانہ مار کھائیں ملک بیگانہ (حکومت کی بدانتظامی سے بدمعاش خواہ مخواہ لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں)۔اس کہاوت کو اپنی حکومت پر نہ رکھ چھوڑئیے گا کیوں کہ اپنا ملک تو سفید ہاتھی ہے جس کو ماسواے معدودے لوگوں کے اکثرنے شروعات سے ہی لوٹنا شروع کردیا تھا اور لوٹ بھی وہی رہے ہیں جنھوں نے قوانین پر عمل درآمد کروانا تھا۔چھوٹے موٹے راہ زن تو اپنی راہ ہی کھوٹی کررہے ہیں کیوں کہ چند پیسوں کی خاطر وہ دنیا کے بھی مجرم بن رہے ہیں اورآخرت کے بھی۔ملکی خزانے لوٹنے والے تو عیش وعشرت سے زندگی گزار رہے ہیں اور ہزاروں لوٹنے والا پولیس کے ہاتھوں سرراہ مبینہ مقابلے میں مارا جارہا ہے۔ملکی خزانوں کو لوٹنے والوں کا معاملہ روزآخرت پر رکھتے ہیں۔آپ اظہر نیر کا شعر ملاحظہ کیجیے
    ؎تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی
    جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا
    ڈاک خانہ ہماری زبان میں اس طرح سے آیا ہے کہ آج بھی اسے سنا، پڑھا اور سمجھا جاسکتا ہے اگرچہ اس کے متبادل پوسٹ آفس لفظ زیادہ مستعمل ہے۔لفظ ”ڈاک“ پراکرت کے لفظ ”ڈک“ سے نکلا ہے جس کے مترادف الفاظ سلسلہ،برید،تسلسل،تواتر،پوسٹ،چوکی اور متلی وغیرہ ہیں۔ڈاک کا مطلب خط وغیرہ موصول اور روانہ کرنے کا نظام ہے۔چٹھیوں کے تھیلے کو بھی ڈاک کہا جاتا ہے۔جابجا سواری کا نظام مراد گھوڑوں یا پالکی کی چوکی جو سڑک پر مسافروں وغیرہ کولے جانے کے لیے کی جاے۔ویسے لفظ ڈاک سے مراد بندرگاہ کا ایک حصہ بھی ہے جہاں جہاز آکر ٹھہرتے ہیں۔
    ؎کیا لکھوں حال تباہ اپنا کہ سودا وہ جو لوگ
    چاہتے تھے یہ دن ان کے یاں سے واں تک ڈاک ہے
    ڈاک سے بواپسی ڈاک بھی بنایا گیا جس سے مراد خط ملتے ہی یاپہلی ڈاک سے ہے۔ محکمہ ڈاک، محصول ڈاک،ڈاک ایڈیشن،،ڈاک بجلی(ٹیلی گراف)،ڈاک بہنگی، ڈاک پالکی، ڈاک پرچی اور ڈاک چوکی وغیرہ جیسے الفاظ اسی ڈاک سے جوڑ کر بناے گئے ہیں۔ پراکرت کے اسی لفظ ڈاک کے ساتھ فارسی کا خانہ لگاکر ڈاک خانہ بنایاگیا جو کہ یہاں پر ظرفیت کا معنی دیتا ہے جیسے باورچی خانہ، شراب خانہ ویسے ایک لفظ ڈاک گھر بھی موجود ہے جوکہ پراکرت کے دو لفظوں ”ڈاک“ اور ”گھر“ کو ملا کربنایا گیا ہے۔شیخ محمد عبداللہ کی سوانح عمری ”آتش چنار“کے صفحہ نمبر 391پر لکھا ہوا ہے ”پاکستان کے قیام پر سری نگر کے ڈاک خانہ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا“۔اب آئیے لفظ پوسٹ آفس کی طرف جو کہ دو لفظوں پوسٹ اورآفس سے مل کر بنا ہے۔لفظ Post کا مطلب کھمبا، ستون،کھونٹا،عہدہ، اسامی،تقرراورڈاک کا نظام وغیرہ ہے۔پوسٹ آفس کو عربی میں مکتب البرید،ترکی میں Postane اور فارسی میں ادارہ پست کہتے ہیں۔میری معلومات کے مطابق پوسٹ آفس کا لفظ پہلی بار اردو میں معرکہ چکبست و شرر میں ملتا ہے۔اسی سے پھر ڈاکیا پوسٹ مین بن گیا۔ لفظ پوسٹ لاطینی زبان میں بطور سابقہ اور بہ معنی پیچھے یا مابعد کے بھی مستعمل ہے جیسے پوسٹ گریجوایٹ اور اب اگر پوسٹ مارٹم پر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ مرنے کے بعد نعش کے طبی معائنہ یا تجزیہ کرنے کو پوسٹ مارٹم کہتے ہیں۔مارٹم بھی لاطینی زبان سے ہی انگریزی میں آیاہے۔پوسٹ باکس،پوسٹ بواے،پوسٹ بیگ،پوسٹ پارسل،پوسٹ کارڈ اورپوسٹ ماسٹرجیسی ان گنت اصطلاحات اب ہمارے ہاں موجود ہیں۔اردو زبان کی یہی خوبی ہے جو اسے بین الاقوامی زبانوں کے درمیان لاکھڑا کرتی ہے کہ یہ زبان مختلف زبانوں کے لفظوں کو اس قدر خوب صورتی سے اپنے اندر سموتی ہے کہ وہ لفظ اس کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔

  • سگریٹ نوشی کے مضر اثرات ،تحریر: فروا نذیر

    سگریٹ نوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ آپ کو ختم کرسکتا ہےاور اس کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے
    سگریٹ نوشی کا دن بدن زیادہ اثر ہماری نوجوان نسل پر ہو رہا ہے
    سگریٹ نوشی ایک ایسا نشہ ہے اگر کوئی ایک بار استعمال کرلیں تو اس کیلیے چھوڑنا محال ہوجاتا ہے
    جسکی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں
    ہماری نوجوان نسل کو پاکستان کیلیے کام کرکے اگے لے کرجانا چاہیے لیکن یہ سگریٹ نوشی انسان کو تباہ و برباد کردیتی ہے
    زیادہ تر ہماری نوجوان نسل جو کہ تعلیمی ادارے کا حصہ ہے ان کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے خاص طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کو فیشن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات بہت زیادہ ہیں:
    جس طرح تمباکو نوشی منہ، گلا، خوراک کی نالی کا کینسر، معدہ کا کینسر، جگر کا کینسر، مثانہ کا کینسر، لبلبہ اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کی تمام اقسام بشمول سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، وغیرہ اور تمباکو سونگھنا خطرناک ہوتی ہیں

    اللہ پاک نے ہر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اللہ نے ہم سب کو علم و شعور دیا ہے تاکہ ہم سب صیحیح اور غلط کی پہچان کر سکیں لیکن لوگ غلط راستے کو چنتے ہیں
    ہماری تعلیمات ہمارا اسلام یہ نہیں سیکھاتا
    اسلام میں نشے کے بارے میں سختی سے منع ہے
    میں یہ نہیں کہوں گی کہ سب ہی کرتے ہیں دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو نہیں کرتے لیکن جو لوگ کرتے ہیں ان کیلیے یہ کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور زندگی میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے

    اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن انسان پھر بھی ایسی چیزوں کی طرف جائے جو اسلام میں منع ہے تو وہ اللہ کے حکم کو نہیں مان رہا
    کیا اچھی چیزوں اور نعمتوں کی کمی ہے کیا اللہ نے دنیا میں کر طرح کا پھل دیا ہے نعمت دی ہے تاکہ کسی کے دل میں حسرت باقی نہ رہے
    لیکن پھر بھی یہ انسان کی بد قسمتی ہے جو وہ اللہ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا

    میرا اس ٹاپک پر آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہ ہے اگر انسان اس برائی کی طرف جانے لگے تو رک جائے
    ویسے تو اس حقیقت کو سب ہی لوگ جانتے ہیں لیکن انجان بنتے ہیں
    حالانکہ سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا ہوتا ہے
    "٬٫سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے٫٬”

    پہلے تو میں حکومت سے اس بارے میں کہنا چاہوں گی کہ جس پر مضرصحت لکھا بھی ہوا ہے تو پاکستان میں لانے کا کیا فائدہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کیا فائدہ جس سے انسان کا سکون برباد ہو۔

    میری ان سب لوگوں سے التماس ہے جو اسکا استعمال کرتے ہیں وہ اپنی زندگی کا سوچیں جو اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور اسکو چھوڑ دیں

    اور جو اسکا استعمال نہیں کرتے وہ بہت فائدے میں ہیں

    اللہ پاک ہم سب کو صیحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • کپتان کے تین سال _ بے مثال .تحریر : فضیلت اجالہ

    کپتان کے تین سال _ بے مثال .تحریر : فضیلت اجالہ

    شیروانی کا بٹن نہیں دیں گے ،وزیر اعظم بننے کا خواب ،خواب ہی رہے گا،
    عمران خان کو سیاست نہیں آتی الیکشن کیسے جیتے گا اپوزیشن کی اس طرح کی لاتعداد خواہشات پر پانی پھیرتے ہوئے اور ان کے مزموم مقاصد کو مٹی میں ملاتے ہوئے اگست 2018 میں عمران خان نے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا
    اور اپوزیشن کی بے حد مخالفت ،یہ حکومت نہیں چلے گی ،دو سالوں میں حکومت ختم،جنوری میں حکومت گرائیں گے ، مارچ میں حکومت توڑ دیں گے ،تحریک عدم اعتماد لائیں گے جیسے کھوکھلے نعروں کے دباؤ میں نا آتے ہوئے عزم و ہمت سے ریاست مدینہ کے ہم آہنگ نئے پاکستان کی تکمیل کا سفر جاری و ساری رکھا ہوا ہے
    دور اقتدار کے تین برسوں میں تحریک انصاف نے کون کون سی کامیابیاں سمیٹی ان کی ایک جھلک پیش خدمت ہے

    پاکستان تحریک انصاف کی سب سے بڑی کامیابی کامیاب خارجہ پالیسی ہے جس میں سب سے اہم مسئلہ کشمیر کی بہترین سفارت کاری ہے ۔یہ عمران خان کی کوششوں کا اثر تھا کہ پہلی دفعہ مغربی دنیا نے بھارتی مظالم پر لکھا ،یہ میرے قائد عمران خان کا ہی حوصلہ اور جراءت تھی کہ انہوں نے مودی کے ہٹلر پن اور آر ایس ایس کے نازی پن کو دنیا میں اجاگر کیا ۔

    کشمیر کے بعد افغانستان معاملہ بھی عمران خان کی دور اندیشی اور باکمال ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عمران خان کی کہی بات کہ افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت ہے بلکل درست ثابت ہوئی ۔پاکستان نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان کو لےکر پاکستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے مسلے کو انتہائی بہترین انداز میں حل کیا۔

    تحریک انصاف نے خارجی تعلقات میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ۔ وہ ملک جس کے حکمران ہمیشہ ” جیسے آپ کا حکم” کہنے کے عادی تھے اسکا حکمران امریکہ جیسے ملک کو "”Absolutely not”” کہہ کر دنیا کو بتاتا ہے کہ پاکستان ایک آزد ملک ہے اور اب دنیا کو اس نئے خود مختار پاکستان کی عادت ڈالنی ہوگی

    تحریک انصاف حکومت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا اور اس میں کامیاب بھی ہوا۔یہ عمران خان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ انتہائی دباؤ کے باوجود انہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور دنیا کو بتایا کہ ہر مظلوم مسلمان کے چاہے وہ کشمیری ہو ،فلسطین ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو پاکستان اس کے حق کیلیے کھڑا ہوگا ۔

    ماضی کے حکمرانوں نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات ہمیشہ زاتی مفادات کیلیے رکھے عمران خان وہ واحد حکمران ہے جس نے اپنے لیے کوئ فائدہ کوئی چور راستے کا تقاضہ نہیں کیا بلکہ دیار غیر میں پھنسے مظلوم پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور سلیکٹڈ حکمران کہنے والے بغضیوں کو بتایا کہ عمران خان اپنے زاتی مفادت کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی فلاح و بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

    پاکستان تحریک انصاف نے روس اور چائنہ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کیا۔
    عمران خا ن کی ماحول دوست سرگرمیوں کو اقوام عالم نے سراہا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو عالمی ماحولیاتی دن کی سربراہی کا اعزاز حاصل ہوا۔

    خارجہ کے بعد اگر اندرونی معاملات کو دیکھیں تو ان تین سالوں میں سب سے پہلہ مسلہ covid-19 ہے جس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ مما لک سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ لیکن خدائی نصرت کے بعد یہ عمران خان کی فہم و فراست کی دلیل ہے کہ جب پوری دنیا گھروں میں محصور تھی تحریک انصاف نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو عالمی سطح پر سراہا گیا ، اور آج الحمدللہ پاکستان اپنی ویکسین بنا رہا ہے ۔
    جو بھارت کو پاکستان سے بہتر قرار دیتے ہیں ان ضمیر فروشوں کو آئینہ دکھاتی چلوں کہ کورونا کے لحاظ سے 50 بدترین ممالک کی فہرست میں بھارت تیسرے نمبر پہ جبکہ پاکستان کرونا پر بہترین انداز میں قابو پانے والے ممالک کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہے

    وزیر اعظم عمران خان ناموس رسالت کے محافظ بن کر ابھرے اور مغربی ایوانوں میں لاالہ اللہ کی دھاڑ پہلی دفعہ سنی گئی ،
    تحرک انصاف کے تین سالوں میں وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر اسلام فوبیا کے خلاف جنگ لڑی اور دنیا کو بھارت کے سفاک چہرے سے روشناس کروایا

    ماضی کی حکومتوں اور اداروں کے درمیان ہمیشہ ایک تناؤ کی کیفیت رہی پہلی مرتبہ پاکستان حکومت اور ادارے ایک صف میں کھڑےہیں جو ملک دشمن عناصر کیلیے خاصی پریشان کن صورتحال ہے

    تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت میں نیب نے پانچ سو ارب روپے کی ریکوری کی جو کہ ماضی کی حکومتوں کے اٹھارہ سالہ دور حکومت میں کی گئ 290 ارب کی ریکوری سے دوگنا ہے
    معیشت میں استحکام ایک بڑی کامیابی ہے ،آٹے ،چینی پیٹرول مافیا کے خلاف کاروائ کرتے ہوئے ان تمام بحرانوں پر قابو پایا گیا جو ماضی کی حکومتوں نے کبھی نہیں کیا۔

    بیس ارب ڈالر اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ شروع ہونے والی حکومت اس کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 25 ارب ڈالر کے ریکارڈ سر پلس پر لیکر گئ
    وزیرا اعظم احساس پروگرام کا آغاز غریب اور مزدور طبقے کیلیے عمران خان کے احساس و فکر کی علامت ہے
    علاج غریب کی پہنچ میں ‘ کے تحت تحریک انصاف حکومت نے تمام صوبوں میں مفت علاج کی فراہمی کیلیے صحت کارڈ کا اجراء کیا
    کامیاب جوان پروگرام کے انعقاد سے تحریک انصاف نے نوجوانوں میں عزم و ہمت کو استحکام بخشا اور نوجوان صلاحیت کو اگے بڑھنے کا موقع دیا
    عمران خان حکومت کے تین سالوں میں کورونا کے باوجود
    ٹیکسٹائیل شعبے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ، آٹو موبائل، کنسٹرکشن انڈسٹری، اسٹاک ایکسچینج میں بھی نمایاں ترقی نظر آئی

    تحریک انصاف کے تین سال کسانوں اور زراعت کیلیے ہر لحاظ سے انتہائی مفید رہے ،زراعت کے شعبے کو ترقی دی گئی اور کسان کارڈ کے اجرا سے چھوٹے کسانوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے ۔
    تحریک انصاف نے عورتوں اور اقلیتوں کو مساوی اور آزادانہ حقوق دیے ۔
    پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ تحریک انصاف حکومت نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلیے عملی طور پر کام کیا اور ان کیلیے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔
    پناہ گاہوں کا قیام تحریک انصاف کا لازوال قدم ہے جس نے لاکھوں بے گھروں کو رہنے کیلیے چھت مہیا کی
    کوئی بھوکا نا سوئے پروگرام کے تحت ملک گیر لنگر خانوں کا قیام اور موبائل لنگر خانے وزیرا اعظم عمران کے ریاست مدینہ کی تکمیل کے نظریہ کی جانب اہم پیش رفت ہے

    تحریک انصاف نے ان تین سالوں میں سستا گھر سکیم کے تحت ہزاروں بے گھروں کو اپنا گھر بنانے میں معاونت فراہم کی۔
    گزشتہ تین سالوں میں تحریک انصاف حکومت نے تعلیمی اصلاحات پر بھی کام کیا جہاں ای لائبریریز کا قیام تعمیر و ترقی کی جانب پیش رفت ثابت ہوئ وہیں یکساں نصاب تعلیم کے نفاز نے بہت سے طالب علموں کو احساس کمتری سے نجات دلا کر وزیر اعظم کے دو نہیں ایک پاکستان کے نظریہ کو تقویت بخشی
    ان تین سالوں میں جہاں تحریک انصاف نے بے شمار کامیابیاں سمیٹی وہیں روزگار کے مواقع بڑھنے کے باوجود مہنگائ کے عفریت نے عوام کو اپنی لپیٹ میں رکھا ۔امید ہے آنے والے دو سالوں میں عمران خان اس پر قابو پانے میں کامیاب ہونگے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں گے
    انشاء اللہ تعالی آنے والے دو سال پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی جبکہ اپوزیشن کی بد حالی کے سال ثابت ہونگے ۔اللہ اور عوام کا سلیکٹ کردہ یہ وزیر اعظم نا صرف یہ حکومتی مدت پوری کرے گا بلکہ اگلے پانچ سالوں کیلیے بھی منتخب ہوگا ۔انشاءاللہ ۔
    @_Ujala_R

  • معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    معاشرے میں عورت کی اہمیت تحریر:سید عمیر شیرازی

    ایک زمانہ تھا جب عورت کو کسی قسم کی ملازمت کرنے کی یا ڈاکٹر بننے یا نرس کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورتوں میں برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی ہے اور ڈاکٹر بننے کے دوران وہ مشکلات برداشت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ صحیح سے فرائض انجام دے سکتی ہیں
    دوسرے شعبوں کی طرح ڈاکٹر کا پیشہ بھی مردوں کی ذات تک محدود رہ کر رہ گیا تھا
    لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کیا۔
    مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاح و بہبود معاشرتی نظم و ضبط،سیاست معاشی استحکم اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کیوں کہ روئے زمین پر نوح انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے لہذا خواتین کی اہمیت سے انکار کا جواز ہی نہیں عورت ہر روپ میں ہر رشتے میں عزت و وقار کی علامت اور وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے انسان کسی بھی منصب اور حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون احسان ضرور ہوتا ہے بارہا سننے میں آتا ہے ہر کامیاب انسان کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صنف نازک کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں ایک ناقابل تسخیر طاقت ضرور موجود ہے تو پھر اس کی ذات میں کم مانیگی کے احساس نے کب اور کیسے جنم لیا؟اس سلسلہ میں موجود الزام مردوں کو ٹھہرایا جائے یا پھر عورت ہی عورت کی حریف واقع ہوئی؟
    یہ وہ معمہ ہے جسے حل کرنے اہل علم ودانش برس با برس سے سرگردہ ہیں۔

    دیکھیے کیا نتائج سامنے آتے ہیں ہماری تو بس ایک چھوٹی سی عرض ہے کہ خود کو پہچانیں بنت حوا کا وہ چہرہ جس کے نقوش وقتی تقاضوں،مفروضوں اور دیگر نام نہاد جدت طرازیوں سے گرد آلود ہو کر رہ گئے ہیں
    ان کی شناخت کریں ترقی کا سفر روایات اور جدت کے توازن کے بغیر ممکن نہیں مانا کہ جدت اور اپناپن خود میں ایک بے ساختہ تازگی کا احساس لئے ہوتا ہے جیسے بہاروں میں پھولوں کا کھلنا مسرت اور شادمانی کا باعث ہوا کرتا ہے۔
    خود خواتین کا احترام دراصل نوح انسانی کے احترام کے مترادف ہے کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا کے علاوہ دنیا میں کوئی نفس ایسا نہیں آیا جسے ماں نے جنم نہ دیا ہو اگر ہمارے لئے ماں محترم ہے تو دنیا کی ہر خاتون (محترم) ہونی چاہیے یوں بھی عورت کا احتصال اور اسے کمزور و حقیر سمجھنا عہد جاہلیت کے شرمناک رواجوں میں سے ایک ہے،
    اسلام نے جدید ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں حقوق کو غصب کرنا ظلم و جبر تکبر طاقت بےجا استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے بیٹیوں کی ولادت کو باعث شرم سمجھنا اور اس جیسے دیگر اطور کی حوصلہ شکنی بھی کی انسان تو انسان بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا احترام سکھایا
    عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا کہ جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے نیز خواتین کو بھی انتہائی باوقار طرز حیات تعلیم کیا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو اپنا تشخص قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پہلا قدم خود ہی اٹھانا ہے معاشرہ مرد کا ہی سہی کیا کبھی یہ ثابت کیا جا سکا کہ اس مرد کے معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری میں کبھی عورت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا؟نہیں ایسا ممکن ہی نہیں درحقیقت ابتدائے آفرنیش سے آج تک یہ اپنی شخصیت کے بھرپور احساس کے ساتھ ایکسٹ کر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ مراحل پر اسے اپنی اہمیت کا احساس نہ رہا۔۔
    صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی شفقت و مہربانی اور درگزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے اور یہ خواص کسی خاص خطہ اراضی کیا کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ ہر خاتون کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے لیکن اس سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق بہم پہنچائے جائیں
    جن میں پہلا حق تعظیم و اکرام ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزز جانا اور ان کا احترام کیا ان کے حقوق کی پاسداری کی ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

    @SyedUmair95

  • تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت

    تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت


    سائنسدانوں کے مطابق تھکن کی تعریف یہ ہے
    "کسی کام کو کرنے کےلئے آپ میں انتہائی قلیل انرجیکپیسٹی کا ہونا”
    ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگ جلدی تھک جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اگر آپ دماغی کام کر رہے ہیں تو آپ کے تھکنے کے چانسز اس آدمی کے مقابلے میں جو جسمانی کام کر رہا ہے کم ہیں
    اس بات کو ثابت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے تجربات کیے انہوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز لیے جو آفس میں کام کرتے ہیں اور چند ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز بھی لیے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں
    جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج آئے تو یہ پتہ چلا کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگوں میں تھکن سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے جنہیں ہم انگریزی میں fatigue toxins اور ان سے بننے والے پراڈکٹس جنہیں ہم fatigue products جسمانی مشقت کرنے والوں کی نسبت انتہائی کم تھے
    ماہر نفسیات اس بات کو کلیئر کر چکے ہیں کہ تھکن دماغی کام کرنے سے نہیں ہمارے ذہنی رویے اور جذباتی رویے کی پیداوار ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان اگر صحت مند زندگی گزار رہا ہے تو اسکی وجہ بلاشبہ اسکا جذباتی رویہ ہی ہے
    اور ایسے ہی اگر کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان تھکن محسوس کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر کام کو جلدی میں کرنے کے لیے اسے اپنے اعصاب پہ سوار کر لیتا ہے وہ ایگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا اچھا وہ کام کر رہا ہے اسکی اسے داد موصول نہیں ہو رہی یہ چند بنیادی اور بڑی جذباتی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پہ ایک کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا یا آفس ورک کرنے والا انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ شدید ترین سر درد کے ساتھ گھر جاتا ہے
    اس کی تمام تر پریشانی کی جڑ اس کا جذباتی رویہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے جنکا نتیجہ شدید سر درد کی صورت میں نکلتا ہے
    اکثر اوقات ایک بھر پور نیند تھکن کا بہترین علاج ہوتی ہے لیکن یہ علاج تب کارآمد نہیں ہوتا جب ہم پریشانی،ٹینشن یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں کیونکہ ایک ٹینس مسلز ایسا مسل ہوتا ہے جس پہ مسلسل دباؤ پڑ رہا ہوتا ہے اور وہ کام کر رہا ہوتا ہے جب ہم نیند کرتے ہیں تو بھی سوتے وقت ہم اس پریشانی کو سر پہ سوار کرکے سوتے ہیں جسکی وجہ سے مسلز پہ دباؤ کم نہیں ہوتا اور نیند بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی
    اس لیے یہ ضروری ہے کہ خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کریں کسی بھی چیز کو سر پہ سوار نہ کریں اور اپنی انرجی کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچائیں
    رکیں! خود کا ابھی تجزیہ کریں کیا آپ اپنی آنکھوں پہ ایک دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کرسی پہ پر سکون محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یا آپکے کاندھے اکٹھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے چہرے کے مسلز پہ تناؤ موجود ہے؟ اپنے جسم کو ریلیکس فیل کرائیں خود کو ڈھیلا چھوڑیں کیونکہ آپ خود ہی اپنے لیے اعصابی تناؤ اور اعصابی تھکن پیدا کر رہے ہیں اپنے ذہن کو خالی اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے آپ خود کو کافی حد تک پر سکون محسوس کریں گے
    آخر کار کیوں ہم لوگ ذہنی کام کرتے ہوئے غیر ضروری اعصابی تناؤ کا جنم دیتے ہیں؟
    اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سخت محنت کر رہے ہیں چونکہ محنت تھکن کو جنم دیتی ہے اس لیے ہم تھک جاتے ہیں جب تک ہم خود کو تھکا ہوا محسوس نہیں کرتے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے محنت نہیں کی

    آج میں نے تھکن اور اسکی وجوہات پہ بات کی ان شاءاللہ اس آرٹیکل کے اگلے حصے میں ہم اس پہ مزید بات کریں گے اسکی مزید وجوہات اور اسکے علاج پہ بات کریں گے

  • بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    بچوں میں کتب بینی کا شوق تحریر : محمد وقار

    دورِ حاضر میں بچوں میں کتب بینی کی عادت ہونا بہت ضروری ہے. بچوں میں مطالعے کا شوق نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ اور بھی پہلوؤں سے کارآمد ہے. بچوں کو کتابیں پڑھانا تو اتنا مشکل کام نہیں جتنا ان میں مطالعے کا شوق اور دلچسپی ابھارنا مشکل ہے. کسی بھی عادت کی داغ بیل بچپن میں ڈال دیناضروری ہوتا ہے اور مطالعے کی عادت تو باالخصوص بچپن ہی سے پروان چڑھنی چاہیے. مطالعے سے بچے کی زبان و بیان میں نکھار آئے گا، جہاں بولے گا مدلل گفتگو کرے گا. تعلیمی میدان کے معرکے بھی آسانی سے سر کر لے گا.
    بچوں کے اندر کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کے لیے صرف نصیحت کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بچے ان نصائح کی عملی شکل ہمارے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو نقل کرتے ہیں جو وہ بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں. لہٰذا بچوں کے سامنے بیٹھ کر روزانہ مطالعے کو اپنا معمول بنا لیں. بچے بھی ساتھ بیٹھ کر اگر ورق گردانی کرتے رہیں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں کیونکہ بچوں کو سکھانا ہے تو اس مرحلے کو بھی خوش اسلوبی سے طے کرنا ہوگا تا کہ بچے کتابوں سے متنفر نہ ہوں بلکہ پیار کریں.
    کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کے لیے بچوں کے لیے رنگ برنگی تصاویر والی کہانیاں لے کر آئیں، پہلے خود انہیں تصاویر کی مدد سے دلچسپ انداز میں کہانی سنائیں، آسان الفاظ کا استعمال کریں اور بالکل بچے کی ذہنی اور تعلیمی سطح کو ذہن میں رکھیں. کہانی سنانے کے بعد چھوٹے چھوٹے سوالات کریں اور پھر آخر میں بچے سے وہ کہانی ان کے اسلوب میں سنیں.
    گھر میں چھوٹی سی لائبریری کا ہونا بہت ضروری ہے جہاں بچوں کی پہنچ آسان ہو. تا کہ بچے اپنی پسند کی کتابیں اٹھا کر پڑھ سکیں.
    ہم بچوں کو جس طرح ان کی پسند کے کپڑے اور کھلونے دلوانے لے جاتے ہیں اس طرح انہیں بازار لے جانا چاہئیے جہاں وہ اپنی پسند کی کتابیں خرید سکیں. اکثر کتب میلہ لگا کرتا ہے وہاں اپنے ہمراہ لے جائیں تا کہ بچوں کو کتابوں کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہو.
    بچے کو کتابیں لا کر دے کر یا اس کے سامنے دو دن کتابیں پڑھ لینے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ بچہ اب کتابوں کا شوقین ہو گیا ہے، اس ضمن میں صبر سے کام لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جلد بازی کسی بھی طور اثر انگیز ثابت نہیں ہو سکتی.
    اگر بچہ کسی اچھی کتاب کا انتخاب کرے، اس کو خود ہی آپ کی غیر موجودگی میں پڑھ کر آپ کے آنے پر آپ سے ڈسکس کرے تو بھلے اس کا تبصرہ کیسا بھی ہو اس کی کھل کر تعریف کریں اسے سراہیں، حوصلہ افزائی کسی بھی انسان سے کوئی بھی کام کروا لیتی ہے.
    اگر ہم ترقی کی شاہراہ پہ قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کی عادت ہو،کیوں کہ علم کی فصل قلم و کتابت کی جس زمین پر اگتی ہے اسے پڑھنے کا شوق رکھنے والے لوگ ہی سیراب کر سکتے ہیں. جس معاشرے میں مطالعے کا شوق ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے.
    ‎@WaqarKhan104

  • جیکب آباد میں بڑھتا سود کا کاروبار  تحریر :عبدالرحمن آفریدی

    جیکب آباد میں بڑھتا سود کا کاروبار تحریر :عبدالرحمن آفریدی


    سود کی لین دین کرنے والے پر اللہ کی لعنت برستی ہے سود سے اللہ پاک نے دور رہنے کا حکم دیا ہے اس حوالے سے قرآن پاک میں آیات بھی موجود ہیںسو د کھانے والا ماں سے زنا کرنے کے برابر کہا گیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک سود لینے والے سے کتنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔
    جیکب آباد میں سود کاکاروبا ر دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے پہلے ہندو ﺅں سے سود منسوب تھا جو کہ سود یعنی دئے گئے سامان رقم ،زیورات پر تین فیصدمنافع لیتے تھے لیکن اب اس غلیظ کام کو کاروبا ر بنانے والوں میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے سود کے معاملے میں مسلمانوں نے تو ہندوﺅں کو بھی مات دے دی ہے ،سودخور وں کے ظلم و زیادتیوں پر جیکب آباد کے سابق ایس ایس پی فیصل عبداللہ چاچڑ نے تصاویر کے ساتھ جیکب آباد کے ایک سو سے زائد سود خوروں کی تصاویر کے ساتھ فہرست شہر کے چوراہوں پر لگائی تھی جس سے سود خوروں میں کھلبلی مچ گئی تھی اور وہ بلوں میں جا دبکے تھے لیکن انکے تبادلے کے بعد سو د خورایک بار پھر جیکب آباد میں سرگرم ہو گئے ہیں۔
    جیکب آباد میں سود پر پیسے دینے کے لئے اب تو دوکان بھی کھل گئی ہے سود خود پولیس کی مدد سے اپنے کاروبار کو پھیلارہے ہیں سود کے پیسوں کی وصولی کے لئے بھی سود خود پولیس کی مدد لیتے ہیںسود خور آپکو جوا کے اڈوں ،موٹر سائیکل شوروم ،کھاد بازار ،صرافہ بازار میں ملیں گے موٹر سائیکل ،کھاد ،زیورات اور جوا کھیلنے کے لئے ادھار پر پیسے دینے کے لئے سود خود ہر وقت تیار ہوتے ہیں کیونکہ انکو وصول کرنا آتا ہے جیکب آباد میں سود کے پیسوں کی عدم ادائیگی پر لوگوں کے گھروں پر قبضے ،گرفتار کرانے سمیت دھمکانا ہراساں کرنا سمیت ہر طریقہ اختیار کیا جاتا ہے سود خور معمولی رقم دیکر بھاری رقم دینے کا تقاضہ کرتے ہیںجس سے کئی خودسوزی کے انتہائی اقدام پر مجبور ہوتے ہیں تو کئی شہر چھوڑ جاتے ہیں تو کئی روپوشی اختیار کرلیتے ہیں اور پھر سود خور سود لینے والوں کے عزیزو اقارب کو تنگ کرتے ہیںپچاس ہزار کی موٹر سائیکل دو ماہ کی قسط پر 80ہزار میں دی جاتی ہے اگر دو ماہ میں موٹر سائیکل لینے والا 80ہزار نہ دے سکا تو پھر سود کا میٹر چلتا رہتا ہے جتنی تاخیر اتنی زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی اب تو موبائل فون پر بھی سود کی وصولی کی جا رہی ہے ۔
    جیکب آباد کے سود خوروں میں بااثر شخصیات بھی شامل ہیںسیاست میں بھی سود خور کا بڑا عمل دخل ہو گیا ہے کچھ تو سیاسی پارٹیوں میں اہم ذمہ داری رکھے ہوئے ہیں ،سو د خوروں کو پولیس محافظ بھی دئے گئے ہیں سودکے پیسے سے بنائی گئی جائیداد کے بل بوتے پر سود خود اب جیکب آباد میں بڑا اثرو سوخ رکھتے ہیں جوکہ کئی گھر اجاڑ چکے ہیںادھار رقم دیکر سود خور سود لینے والے کی ملکیت دوکان زمین،گھر اور دیگر قیمتی سامان سستے داموں لیتے ہیںاسطرح ایک ضرورت مند کی ضرورت اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دن بہ دن اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کررہے ہیںسود کا کاروبار کرنے والوں میں سرکاری ملازم،سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ کپڑے ،زیورات اب تو ہرقسم کے کاروبا ر میںسود کی لعنت شامل ہو گئی ہے ،سرکاری ملازمین کے چیک بک تک سود خوروں کے پاس ہوتے ہیں جو ہر ماہ بینک عملے کی مدد سے ملازمین کی تنخواہیں حاصل کرتے ہیں،جیکب آباد میں بدامنی کا ایک سبب یہ بھی ہے سو دلینے والا سود ادا کرتے کرتے روڈ پر آجاتا ہے ،پر سو د دینے والاسے لی گئی رقم ادا نہیں کر پاتا ساری عمر گذر جاتی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ سود خوروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور سود خوری کے متعلق قانون بنایا جائے تاکہ کوئی کسی مجبور ضرورت مند کی ضرورت کا فائدہ نہ اٹھا سکے ،معمولی رقم دیکر لاکھوں کا تقاضہ کرنے والے مجبور کے گھر ،زمین ملکیت یعنی سب کچھ ہڑپ لیتے ہیں ،سود خوروں کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائے کہاں سے اتنی جائیداد بنائی ہے اور کتنی ٹیکس ادا کرتے ہیںجب تک معاشرے سے سود جیسی لعنت کو ختم نہیں کیا جائے گا امن، سکوناور بہتری کی توقع ایک خواب ہی رہے گا۔

    ‎@journalistjcd

  • پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر  : فرقان اسلم

    پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر : فرقان اسلم

    ٹین ایجرز سے مراد "ایسے لوگ جن کی عمریں 13 سے 19 سال کے درمیان اور وہ لڑکپن سے جوانی کی منزل طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں”۔
    ہمارے ملک پاکستان میں ٹین ایجرز آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ اگر ہم برِصغیر کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹین ایجرز کو عموماً دبا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کی دلچسپی اور شوق کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ان کو ذہنی طور پر مجبور کردیا جاتا ہے۔جس کے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی اس پریشانی کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔
    اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں رہنے والے لوگوں کی انائیں ہیں جو خود کو ہر کام میں مداخلت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور ٹین ایجرز کو ان کی مرضی یا رائے کے بغیر فیصلہ ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی انکار کرے یا کچھ کہنے کی ہمت کرے تو اس کو گستاخ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ جس کے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت میں نکھار پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہاں تک دیکھنے میں آیا ہے ان کو مارا پیٹا جاتا ہے اور طاقت کے زور پر اپنے فیصلے منوانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے مار پیٹ سے بچہ مزید بگڑ جاتا ہے۔
    ان سب عوامل کی وجہ سے بچے کے ذہن پر دباؤ اور کشمکش کا عالم ہوتا ہے۔ اور ان سب حالات میں بچے کی تربیت کیسے کی جائے یہ بہت اہم سوال ہے۔

    اس کے لیے میں کچھ گزارشات پیش کروں گا:

    1. سب سے پہلے آپ گھر اور باہر کے حالات و واقعات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کریں۔ جس سے آپ کو ان کی ذہنی پختگی کا اندازہ ہوجائے گا۔ پھر اس کے مطابق آپ فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    2.پڑھائی کے متعلق آپ ان کو آزادی دیں۔ ان پر اپنا فیصلہ ہرگز مسلط نہ کریں۔ بلکہ ان کو ان کی مرضی اور شوق کے مطابق چناؤ کا اختیار دیں۔ اس سے ان کے خوداعتمادی اور حوصلہ افزائی پیدا ہوگی۔

    3. انہیں گھر سے باہر جانے کا بھی موقع دیں۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کو گھر تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ جس سے ان کے اندر خوداعتمادی کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ باہر کسی پارک یا تفریحی مقام پر جانے سے ان کے ذہنی نشوونما میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

    4.ان کی محفل پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ برے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں تو ان کو پیار سے منع کریں اور اگر اچھے دوستوں کے ساتھ تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

    5. اسکول یا کالج سے ان کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹ لیتے رہیں۔ ان کی حاضری اور دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھیں اگر کوئی کمی یا کوتاہی نظر آئے تو اسے حل کرنے کی کوشش کریں۔

    6.انہیں نماز اور دینی کاموں کا علم سکھائیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا کہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کا کہیں۔ باقی دینی احکام کا بھی علم سکھائیں۔ اگر بچہ لاپرواہی کرتا ہے تو پیار سے سمجھائیں۔

    7.جتنا ہوسکے موبائل کم سے کم استعمال کرنے دیں۔ بلکہ وہی وقت ہم نصابی سرگرمیوں میں صرف کرنے کا کہیں۔ اس طرح ان کھ اندر کام کی دلچسپی اور شوق پیدا ہوگا۔ موبائل کا استعمال بالکل ممنوع بھی نہیں ہونا چاہیئے ایک حد کے اندر استعمال ہونا چاہیئے۔

    8.ان کے سامنے دوسروں سے ادب سے بات کریں اور ان کو بھی بڑوں کا ادب کرنے کی تلقین کریں۔ اور ہر اچھے کام میں پہل کرنے کا کہیں۔ کیونکہ جو عادت اس عمر میں بن جاتی ہے پھر وہ پختہ ہوجاتی ہے۔

    9. گھر میں ان کے سامنے لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ جیسا آپ کرتے ہیں بچے بھی ویسا ہی سیکھتے ہیں۔ لٰہذا گھر کے ماحول کو بچوں کے سامنے پرسکون رکھیں۔

    10. نصاب کی کتب کے علاوہ دوسری اسلامی، تاریخی اور معلوماتی کتابیں پڑھنے کا بھی کہیں۔ اس سے ان کے مطالعہ میں اضافہ ہوگا اور ان کی شخصیت میں بہتری آئے گی اور وہ میچور ہوں گے۔

    اس ضمن میں سب سے اہم کردار والدین اور اساتذہ کا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچے پر بلاوجہ سختی نہ کریں اور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھیں۔ اور اساتذہ ان کی اچھی خوبیوں کا ان کو بتائیں۔ جس سے ہمارے بچوں کا مورال بلند ہوگا اور ایک صحتمند اور قابل معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا۔
    والسلام

    ‎@Rumi_PK

  • زہریلے سانپ  تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    زہریلے سانپ تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    دنیا کے ہر کُونے میں طرح طرح کے خطرناک سانپ پائے جاتے ہیں کچھ سانپوں کے کاٹنے کی وجہ سے فوری طور پہ موت واقع ہو جاتی ہے کچھ ایسے سانپ بھی ہیں جن کے پاس سے گزر جانے پہ بھی انسان کو نقصان پہنچ جاتا ہے یوں تو چھوٹے موٹے بڑے سانپ ہر جگہ موجود ہیں پر یہ زیادہ ویران جگہوں ، جنگلوں اور کھیتوں والی جگہ پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہیں جدھر صرف سانپ ہی سانپ ہیں جدھر انسان کم بستے ہیں اتنے بڑے سانپ موجود ہیں کہ جو پورا انسان کھا جاتے ہیں ۔مغربی بحرالکاہل کا علاقہ گوام میں بھورے رنگ کے سانپ پائے جاتے ہیں اگرچہ یہ کم زہریلے ہیں مگر انکی تعداد بہت زیادہ ہے اتنی کہ مقامی لوگوں کے گھروں (بستروں) میں پہنچ جاتے ہیں ۔
    برازیل میں بہت خوبصورت جزیرہ ہے مگر وہاں انتہائی زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں جنکا رنگ سُنہرا ہوتا ہے دیکھنے میں خوبصورت پرکشش دکھائی دیتے ہیں مگر ڈس لیں تو انکا زہر اتنا شدید قسم کا ہوتا ہے کہ انسانی گوشت پگھل کے ہڈیوں سے الگ ہوجاتا ہے اور فوری طور پہ موت واقع ہوجاتی ہے اسلیے وہاں انسان نہیں جاتے ان سانپوں کو سُنہرے سانپ کہا جاتا ہے اب بظاہر صورت سے یہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں مگر یہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں اسی طرح کچھ انسان بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں جو اپنے انداز سے دوسروں کو متاثر، متوجہ کرتے ہیں پر ان کا کام بھی سانپ کی طرح موقع ملتے ہی ڈس لینا ہوتا ہے ۔
    سانپ کا زہر نکال لیا جائے تو وہ نقصان نہیں دے سکتا ۔ سانپ کا زہر بہت سے زہریلے مواد میں استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سانپ ایک ایسا جانور ہے جتنا بھی دودھ پلا لیں کاٹتا ضرور ہے ایسے ہی کچھ انسان سانپ کے روپ میں موجود ہوتے ہیں سانپ کا کاٹا شاہد بچ سکتا ہے مگر انسان کا کاٹا ساری زندگی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے سانپ اگر گھر سے باہر موجود ہے اس سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے پر اگر گھر کے اندر موجود ہے وہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتاہے ۔بین الاقوامی سطح پہ ہمارے ملک کو بھی بہت سے سانپوں نے گھر کر رکھا ہے سب سے بڑا سانپ مودی کی شکل میں بھارت میں موجود ہے جو کہ امن کے بجائے فساد برپا کرنے میں سرفہرست رہا ہے کوئی موقع نہیں چھوڑتا پاکستان کو نقصان پہنچانے کا مگر اللّلہ ربّ العِزَت ہمیشہ اپنی ذات سے کرم فرمایا اور دشمن کو اپنے منہ کی کھانی پڑی ۔ باہر کا سانپ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ملک کے اندر موجود غدار سانپ زیادہ زہریلے ہیں ۔جو ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے ان سانپوں کا صفایا لازمی ہےجب ایسے سانپ ملک سے ختم ہونگے پھر باہر کے سانپ خود بخود مر جائیں گے۔ ذاتی طور پہ اگر اپنے اردگرد دیکھا جائے تو بھی اپکو بہت سے سانپ ملیں گے خود کو آستیں کے سانپوں سے بچا کے رکھیں۔ خواب میں سانپ دیکھنا دشمن کی علامت ہوتی ہے۔دشمن کی صورت میں سانپ سے آپ لا علم نہیں ہوتے مگر آستین میں چھپے سانپ کو آپکی نظر نہیں دیکھ پاتی۔ یہ آہستہ اہستہ اپنا زہر منتقل کرتے رہتے ہیں جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں اور آپ ذہنی طور پہ معذور بھی. یہ ذہنوں کو اسطرح سے ڈس لیتے ہیں آپ کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ آپ جو کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں کر نہیں پاتے مشکلوں کے انبار ہونگے پر وجہ نا معلوم ہوگی یہ آپکو اپنی راہ سے بھٹکا رہے ہوتے ہیں آپ کے ذہن پہ پوری طرح سے کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں آپ جو بھی کریں گے انکو بتا کے اور وہ ویسا ہونے نہیں دیتے ۔یہ آستین کے سانپ عموماً لہجےمیں میٹھاس رکھتے ہیں اپکے اردگرد رشتہ داروں اور دوستی کی صورت میں بھی موجود ہوتے ہیں ۔اپنے بھید کسی کو نہ دیں ہر چہرے میں وفاداری نہیں ہوتی جیسے ملک میں موجود غدار پاکستان کی معلومات باہر پہنچاتے ہیں اور پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہمارے اردگرد کے موجود سانپ آپکی معلومات دوسروں تک پہنچا کے آپکو نقصان کے درپے ہوتے ہیں پر جنکا حامی و ناصر ربّ پاک ہو انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔
    اختتام میں یہی کہوں گی جنکا مددگار ربّ پاک ہو انکو کوئی سانپ کیا آستین کا سانپ بھی کاٹ نہیں سکتا۔ دلدل میں گِرانے کی کوشش کرنے والے خود ہی اس دلدل میں جا گرتے ہیں۔ اللّلہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو اور اللّلہ پاک ایسے سانپوں سے ہمیں بھی اور ہمارے ملک کو بھی بچا کے رکھے آمین !!


    ‎@Hu__rt7