Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر : اسامہ خان

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو جلا دیا جاتا تھا اور زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کا درجہ بتایا اور بتایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی اس کے گھر اللہ پاک کی طرف سے رحمت نازل ہوگی ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی وہ اپنے ساتھ رحمت اور رزق لے کر آئے گی اور جس کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو بیٹے کو کہا جائے گا کہ جاؤ اپنے والد کے ساتھ ہاتھ بھٹو۔ اسلام سے پہلے طلاق یافتہ عورتوں سے کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب اسلام آیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود مثال پیدا کرنے کے لیے طلاق یافتہ عورتوں سے بھی شادی کی اور دوسروں کو بھی ہدایت بھی کہ وہ بھی طلاق یافتہ عورتوں کے ساتھ ضرور شادی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا۔ جب اسلام آیا تو عورت اور مرد دونوں مسجدوں میں نماز پڑھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب دیکھا گیا اب ہمیں اپنی عورتوں کو گھر تک محدود رکھنا چاہیے تو حکم دیا گیا اے عورتوں اپنی عبادات اپنے گھر میں بیٹھ کر کرو۔ تاکہ تمہیں کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ اگر باہر نکلنا ہے تو اپنے جسم کو پوری طرح ڈھانپ کر نکلو تاکہ غیر محرم مرد کی نظر تمہارے جسم پر نہ پڑے۔ اور اس وقت کی عورتیں اس بات پر عمل بھی کرتی تھیں۔ لیکن افسوس صد افسوس ہم پتا نہیں کس دنیا میں جی رہے ہیں اور کس اسلام کی پیروی کر رہے ہیں اسلام تو عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اس کا ایک بال بھی غیر محرم کو نظر نہ آئے اور وہی اسلام مرد کو بھی حکم دیتا ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم کے پاس نہ جائے۔ بے شک مردوں نے اپنی آنکھوں کا حساب دینا ہے اور عورتوں نے اپنے کپڑوں کا حساب دینا ہے۔ آج عورتیں سب کام کر رہی ہے جو اسلام میں منع کیا گیا ہے اور جب اس کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں اسلام جیسا انصاف دیا جائے جب آپ اپنے لئے اسلام جیسا انصاف طلب کرتی ہیں تو کیوں نہ آپ اسلام پر عمل بھی کریں آج عورت ذات کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنا اور اپنی تصویریں وہاں لگانا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ میں اس بات کے خلاف نہیں ہو کہ عورت گھر سے باہر کیوں نکلتی ہے میں اس بات کے خلاف ہو کہ عورت وہ سب فحاش کپڑے کیوں پہنتی ہے جو اسلام میں منہ کیے گۓ ہیں۔ اسلام نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی لیکن ہائے افسوس صد افسوس ہماری آج کل کی لڑکیاں اس بات کو سمجھ ہی نہ پائی۔ آج اگر مرد ایسے فحاش کپڑے پہننا شروع کر دے تو یہی وہی عورتیں ہوں گی آزادی مارچ والی جنکی تنقید ہی ختم نہیں ہوگی اور اس وقت ان کو اسلام یاد آ جائے گا۔ آج یہ سب عورتیں کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان میں انصاف نہیں ملتا درحقیقت اصلیت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت ذات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ہمارے کلچر میں بھی اور ہمارے قانون میں بھی اگر عورت ذات کسی چیز کی کمپلینٹ درج کرواتی ہے تو بے شک اس میں مرد کی غلطی ہو یا نہ ہو قانون عورت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی خوش نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان کو تو فحاش کپڑے پہننے کی عادت ہو چکی ہے۔ جیسے ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے فرمایا کہ مرد کوئی رپورٹ نہیں ہے اگر آپ فحاش کپڑے پہنے گی تو اس کا ری ایکشن آئے گا۔ اور مجھے اس بات کا بھی بہت افسوس ہے کہ کچھ لڑکیاں اور کچھ لڑکے صرف پبلک سٹی کے لیے ایسی ایسی حرکات کر گزرتے ہیں جن کو دیکھ کر بھی شرم آتی ہے۔ اللہ پاک ہم مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی ہدایت دے کر سیدھے راستے پر چلائے اور نامحرم سے دور رہیں اس کو ہاتھ لگانے کی بات تو دور کی ہے۔ مسلمانوں آج بھی وقت ہے اسلام پر چلو اور اسلام کے بتائے گئے طریقوں پر تاکہ تم اسلام جیسا انصاف پاسکو
    Twitter : @usamajahnzaib

  • مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 3 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 3 کشمیری شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے جس نے فائرنگ کر کے مزید 3 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے قابض فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے-

    قابض بھارتی فوج کی جانب سے پلوامہ میں ترال کے مقابل ناگہ بیرن میں نام نہاد آپریشن کیا گیاقابض بھارتی فوج کے نام نہاد آپریشن کے دوران نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا اس دوران بھارتی فوج کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 3 نوجوان شہید ہو گئے جس کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

    بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز سوپور قصبے کے مختلف علاقوں میں بھی تلاشی اور محاصرے کی ایک بڑی کارروائی شروع کی دریں اثنا فوجیوں نے ضلع راجوڑی کے تھانہ منڈی علاقے میں بھی آپریشن جاری رکھا۔

  • فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے         بابر اعظم

    فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے بابر اعظم

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کا کہنا ہے کہ فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے –

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ دن کے آغاز میں باؤلرز کو پچ سے مدد مل رہی تھی ابتدائی تین وکٹیں جلد گرنے کے بعد فواد عالم نے بھرپور ساتھ دیا-

    بابر اعظم نے کہا کہ فواد عالم سے کہا تھا کہ ٹیم کو مشکل سے نکالنے کیلئے لمبی پارٹنرشپ لگانی ہوگی دونوں نے طے کیا تھا کہ رنز بنانے کیلئے زیادہ دیر کریز پر رکنا ضروری ہےپارٹنرشپ کے دوران فواد کے ساتھ سیشن بائی سیشن اپنے اہداف مقرر کیے-

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ پہلی اننگز میں 300 سے 350 رنز بنانے ہمارا ہدف ہے محمد رضوان اور فہیم اشرف کریز پر موجود ہیں، امید ہے ہم دوسرے روز ہدف حاصل کرلیں گےطویل فارمیٹ کی کرکٹ میں انفرادی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے محنت کررہا ہوں خوشی ہے کہ محنت کا پھل مل رہا ہے-

    انہوں نے کہا کہ فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں، وہ زبردست کھیل پیش کررہے مشکل وقت میں جس طرح فواد عالم کھیلتے ہیں، ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے فواد عالم کو بیٹنگ کے دوران کریمپس پڑے ہیں، ٹیم ڈاکٹر اور فزیو ان کا ٹریٹمنٹ کررہے ہیں فواد عالم کل بیٹنگ کے لیے میدان میں آئیں گے-

  • تصویر کا دوسرا رخ   تحریر: احسان الحق

    تصویر کا دوسرا رخ تحریر: احسان الحق

    شاید ہی کوئی ایسا سورج طلوع ہوا ہو جس دن ملک عزیز میں کسی عورت کے ساتھ جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد نہ کیا گیا ہو یا کسی بچے یا بچی کو جنسی حیوانگی کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو. اکثر کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی رہتی ہے. کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کا ہر واقعہ المناک اور افسوس ناک ہے. اس طرح کے واقعات میں کوئی شکوک وشبہات یا دوسری رائے کا ہونا ناممکن ہے مطلب کسی بھی صورت میں ان واقعات کا دفاع نہیں کیا جا سکتا. ان واقعات میں ملوث تمام انسانی درندوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے.

    دوسری طرف خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے متضاد حقائق سامنے آتے رہتے ہیں. آج ہم خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جنسی اور جسمانی تشدد یا بلیک میلنگ کے واقعات کی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں. پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے تمام ناخوشگوار واقعات کی تصویر کا ہمیشہ ایک ہی رخ دیکھا جاتا ہے. حالانکہ بعض اوقات ان واقعات کے حقائق ہماری قائم کردہ رائے یا سوچ سے مختلف برآمد ہوتے ہیں. ہم ایک جذباتی قوم ہیں، بغیر سوچے سمجھے کسی کو مظلوم اور کسی کو ظالم تصور کر لیتے ہیں. بالخصوص جہاں مرد اور عورت فریق ہوں وہاں ہمارے خیال میں عورت ہی مظلوم اور مرد ہی ظالم ہے. حالانکہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس تھا. خیر، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جب تک تفتیش کے بعد معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کے متعلق رائے قائم نہیں کرنی چاہئے.

    راقم کی ذاتی سوچ اور ذاتی مشاہدے کے مطابق پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی نوعیت اور صورت چار طرح کی ہوسکتی ہے. پہلا یہ کہ واقعتاً اور حقیقتاً متاثرہ عورت معصوم اور مظلوم ہوتی ہے. اس طرح کے واقعات میں کلی طور پر مرد یا مردوں کی طرف درنگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور عورت بے چاری لاچار اور مجبور ہوتی ہے.

    دوسری صورت میں مرد اور عورت برابر کے گناہ گار اور ذمہ دار ہوتے ہیں. اکثر اس طرح کے واقعات میں مرد اور عورت کے درمیان ناجائز اور غیرشرعی مراسم ہوتے ہیں. ان ناجائز تعلقات کے نتائج ہمیشہ افسوس ناک ہوتے ہیں اور کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے. ہمارا جھکاؤ مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیشہ عورت کی طرف ہوتا ہے اور ہم عورت کو مظلوم ثابت کر گزرتے ہیں. اس طرح کے واقعات کافی رونما ہو چکے ہیں.
    حال ہی میں پیش آنے والے دو انتہائی افسوس ناک واقعات کو مثال کے طور پر دیکھتے ہیں. ان واقعات کی بنیاد غیرشرعی اور غیر اخلاقی تھی اور نتائج بھی انتہائی بھیانک نکلے. پہلا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا. عثمان مرزا نامی ساتھیوں کی مدد سے ایک جوڑے کو زدوکوب کرتا ہے، کیمرے کے سامنے کپڑے اتارنے اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لئے زبردستی کرتا ہے. مجرم عثمان مرزا اور ساتھیوں نے انتہائی غلط کام کیا، اس فعل کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. اب سوال یہ ہے کہ وہ جوڑا کون تھا؟ کہاں تھا؟ کیا کر رہا تھا؟ ان کے درمیان کیا تعلقات تھے؟
    مبینہ طور پر لڑکا اور لڑکی اپنے اپنے گھر سے دور کسی دوست کے فلیٹ پر انتہائی شرمناک اور قابل اعتراض حالت میں عثمان اور ساتھیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور انہوں نے جوڑے کو کیمرے کے سامنے وہ سب کرنے کو کہا جو وہ کیمرے کے پیچھے کر رہے تھے. پوری قوم، سارا میڈیا، حکومت اور پولیس جوڑے کی حمایت میں آ گئے اور مجرمین کی مخالفت میں. آج تک اس جوڑے کے درمیان قائم غیراخلاقی تعلقات کی مذمت کسی نے نہیں کی. میرے خیال میں اس واقعے کا ہر کردار گناہ گار ہے. عثمان مرزا اور ساتھیوں سمیت اس جوڑے کو بھی سزا ملنی چاہیے تھی.
    اس طرح کا دوسرا افسوس ناک واقعہ بھی اسلام آباد میں پیش آیا جس کی بنیاد بھی مبینہ طور پر غیر اخلاقی تھی. بغیر نکاح کے ان کے مراسم تھے اور نتیجہ نکلا ایک عورت کے قتل کی صورت میں. پہلے واقعے میں ایک جوڑے کی عزت گئی اور دوسرے واقعے میں ایک جوڑے کی زندگی گئی.
    تعلقات غلط، نتائج غلط.

    تیسری صورت میں عورت اپنا عورت کارڈ استعمال کر رہی ہوتی ہے. مردوں پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں. یہاں بھی ہماری جذباتی قوم عورت کی حمایت اور وکالت میں یکجا ہو جاتی ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر الزامات بے بنیاد تھے. مگر اس وقت تک اس مرد کا گھر عزت اور بعض دفعہ نوکری بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے.
    ذیل میں کچھ واقعات دیکھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت ہمیشہ مظلوم یا سچی نہیں، کبھی کبھی عورت عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے. علی ظفر اور میشا شفیع کا واقعہ سب کو یاد ہوگا. جس میں میشا شفیع نے بے بنیاد الزامات لگائے بعد میں عدالت نے بھی ان الزامات کی تردید کی اور میشا شفیع پر سزا اور جرمانہ عائد کیا. لاہور میں ایک طالبہ اپنے پروفیسر پر الزام لگاتی ہے، الزام جھوٹا ثابت ہوتا ہے مگر وہ پروفیسر خودکشی کر کے اپنی جان لے چکا ہوتا ہے. اسی طرح ایک لڑکی دو یا تین پولیس والوں پر الزام لگاتی ہے، عدالت ان کو سزا سناتی ہے، نوکری سے برطرف کئے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک کی بیوی بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ الزام جھوٹا تھا.

    خواتین سے متعلقہ واقعات کی چوتھی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے جس میں عورت شہرت حاصل کرنے یا مرضی کی شادی کرنے کے لئے ڈامہ رچاتی ہے. اس نوعیت کے بھی متعدد واقعات ہیں بالخصوص ٹک ٹاکر لڑکیوں کے غیراخلاقی سیکنڈل سامنے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد صرف شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے. کچھ دن پہلے اسی طرح کا لاہور میں مینار پاکستان پر واقعہ پیش آیا. ابھی تک اس کے متعلق متضاد خبریں ہیں. راقم کے ذاتی خیال میں یہ واقعہ بھی شہرت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے. والله اعلم
    کچھ ماہ قبل ایک لڑکی کے اغوا کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب اس نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس کے لئے مجھے ڈرامہ کرنا پڑا، ویڈیو میں اس لڑکی نے شادی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے شوہر کو بھی دکھایا. پچھلے سال کراچی میں ایک لڑکی کے اغوا ہونے کا واقعہ وائرل ہوا. کچھ دنوں بعد وہی لڑکی تیسری گلی کے ایک چوبارے سے ملی جہاں وہ اپنے محبوب کے ساتھ رہ رہی تھی.

    ارشاد نبویؐ ہے کہ
    "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو بغیر تحقیق کے آگے پہنچائے”
    بحیثیت مسلمان اور ایک قوم ہمارا اخلاقی اور شرعی فرض ہے کہ جب تک معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کو قصور وار اور گناہ گار نہیں ٹھہرانا چاہیے اور اسی طرح نہ کسی کو معصوم اور مظلوم. سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے. آپکی فیس بک پوسٹ یا ٹویٹ بہت دور تک جاتی ہے.

    #mian_ihsaan

  • تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ،اس ملک کی بنیاد ہی کلمہ پر رکھی گئ ،یہی وجہ ہے کہ آج عالمی دنیا پاکستان پر تنقید کا کوئ بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ پھر اسلام کو بھی لازمی حدف تنقید بنایا جاتا ہے
    کبھی انڈیا میں کوئ واقعہ رونما ہوتو کوئ یہ نہیں کہتا کہ یہ کیسا ہندو مذہب ہے یا کسی دوسرے ملک میں کوئ واقعہ ہو تو اس واقعے کی بنیاد پر اس ملک کے مذہب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا
    لیکن منافقت دیکھیں پاکستان میں کوئ چھوٹا سا بھی واقعہ پیش آجائے اس کا تعلق ہمیشہ پاکستان اور اسلام سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کام میں ہمارے کئ پاکستانی بھی عالمی دنیا کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں
    اب حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والے واقعہ پر وہ طوفان برپا کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آیا وطن کی بدنامی ہوئ اور دنیا نے خاص طور پر سیاحت کے لئے آنے والوں کے نزدیک پاکستان غیر محفوظ ملک بن گیا ہوگا
    مینار پاکستان جیسے واقعات کی کوئ عقل شعور رکھنے والا بندہ حمایت نہیں کرسکتا اور اس واقعے کے بعد پوری پاکستانی قوم نے احتجاج بھی کیا حکومت نے بھی فوری طور ایکشن لیا سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افرار کو سخت سے سخت سزا دی جائے
    لیکن کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے دنیا میں ہماری بہت حد تک رسوائ ہوئ ،ہونا تو اس طرح چاہیے تھا کہ جب تک اس واقعے کی مکمل تحقیقات نا ہوجاتی حقیقت کیا تھی وہ سامنے نا آجاتی تب تک اس واقعے کو اتنا ذیادہ اچھالا نا جاتا کہ دنیا میں ہماری جگ ہنسائ ہوتی
    حکومت اچھی طرح اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اس میں جتنے لوگ ملوث نکلیں گے یقینن ان کو سزا بھی ہوگی لیکن خدانخواستہ اگر یہ واقعہ کوئ مشہوری کے لئے ڈرامے کے طور پر رچایا گیا ہو تو کیا پاکستان کی جتنی بدنامی ہوئ وہ عزت واپس آسکے گی؟ہم کس طرح دنیا کو سمجھائیں گے کہ یہ واقعہ کوئ ڈرامہ تھا اور اس واقعہ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا کتنا مذاق اڑایا گیا ،دنیا میں اسلام کو کس حد تک تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے
    حالانکہ اگر مکمل اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد ہوتا تو شائد وہ لڑکی اس طرح لوگوں کے ہجوم میں کبھی نا جاتی اور اگر چلی جاتی تو شائد وہ مرد اس کی طرف کسی گندی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت تک نہیں کرتے ،اسلام نے جتنی عزت اور مقام عورت کی دی ہے اتنی کسی اور مذہب میں نہیں
    جس طرح کسی بھی دھشتگرد کا تعلق کسی مذہب یا رنگ نسل سے نہیں اسی طرح ایسے کسی انفرادی عمل کا بھی ذمہ دار نا اسلام کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نا ہی اس ملک پاکستان کو
    اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ہمیں چاہیے ہم مثبت تنقید کریں اور معاشرے کی بہتری کے لئے خود سے شروعات کریں تو یقینن ہر طرف بہتری آجانی ہے
    اور خاص طور پر وہ افراد جن کی آواز دنیا بھر میں سنی جاتی ہے وہ ایسے چند واقعات پر مکمل تحقیقات کے بغیر کسی ایسی بات کرنے سے لازمی گریز کریں جس سے پاکستان اور اسلام پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملے
    اور بڑھ چڑھ کر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے معاشرے کی اصلاح ہو اسلام کے حقیقی احکامات سے عوام کو آگاہ رکھیں کسی بھی برائ کو پاکستان یا اسلام سے جوڑنے کی بجائے اس برائ کے خلاف جو اسلامی احکامات ہیں وہ قوم کو بتائے جائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھی ایسی کسی گندگی سے پاک ہو اسلام کی سربلندی ہو اور پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہو
    اللہ پاک ہمیں مکمل اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے ملک پاکستان کو مزید پرسکون اور محفوظ بناسکیں آمین

  • معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں  تحریر: آصف گوہر

    معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں تحریر: آصف گوہر

    "آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن ( یعنی جن کی مخالفت ) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالٰی نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو ۔”
    سورة الأنعام 151
    گزشتہ چند روز میں دو واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے ہمارے خاندانی معاشرتی نظام بارے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ پہلا واقعہ ایک ایلیٹ کلاس کی نوجوان لڑکی جو اپنے بوائے فرینڈ کے گھر پر
    سربریدہ پائی گئ مذکورہ واقعہ کا فوری نوٹس لیا وزیر اعظم عمران خان نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے خود ہدایات جاری کیں ملزم گرفتار ہوا اور اب زیرتفتیش نے ۔ اس بارے کوئی ابہام اور دو رائے نہیں ہے کہ مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ۔ اب اس واقعے کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ والدین نے اپنی بچی کو اتنی آزادی کیوں دی کے وہ ایک غیر محرم کے ساتھ انتہائی میں وقت گزارے اس چیز کی اجازت نہ تو ہمارا معاشرہ دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب ۔ اس پر جب سینئر صحافی عمران ریاض نے یہی بات کی کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا اس کے قاتل کو کڑی سزا دی جائے لیکن اس میں قصور والدین کا بھی ہے کہ کیوں اپنی بیٹی کی تربیت نہیں کہ ہمارا معاشرہ نامحرم کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دیتا یہ غلط ہے عمران ریاض کا اتنا کہنا ہی تھا کہ خونی لبرل نے ان پر ہر جانب سے ہدف تنقید بنا لیا۔دوسرا واقعہ اقبال پارک لاہور میں چودہ اگست جشن آزادی والے روز سامنے آیا واقعہ کے دو روز گزرنے کہ بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مردوں کا بےقابو ہجوم کہ نوجوان لڑکی سے دست درازی کر رہا ہے۔ انتہائی شرمناک اور ناقابل معافی جرم ہے ملوث افراد کو نشانہ عبرت بنایا جائے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے نوٹس لیا مقدمہ درج ہوا متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کی اور پولیس کے اعلی آفیسرز کو غفلت برتنے پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے مزید جدید ذرائع سے پولیس اور نادرا حکام کی ملزموں کی شناخت کے بعد گرفتاریاں جاری ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ لڑکی ٹک ٹاکر ہے اور اس نے اپنے ساتھی لڑکے سے مل کر لوگوں کو چودہ اگست والے روز مینار پاکستان آنے کی دعوت دی کہ ہم کچھ خاص کرنے جا رہے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق پہلے وہاں پر فلائنگ کسز کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان حالات میں نوجوانوں لڑکوں اور مردوں کو موقع خود فراہم کیا گیا۔لیکن اس سب کے باوجود اس میں کوئی اگر مگر لیکن نہیں ہجوم کو کوئی حق نہیں کہ خاتون سے دست درازی پر اتر آئے مذکورہ بالا دونوں واقعات نے سوسائٹی کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا دونوں طبقات ان واقعات کی شدید مذمت تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ ان دالخراش واقعات کے محرکات پر بھی غور کیا جائے کہ کیوں یہ واقعات پیش آئے کچھ لوگ اس کیوں کو "متاثرہ کو مورد الزام ” ٹھہرانا کہ رہے ہیں اور سوال کرنے والوں کے لتھے لے رہے ہیں ۔
    گذشتہ رات ایک نیوز کاسٹر سے صحافی بننے والی خاتون نے نئ بحث چھیڑ دی کہ ماں باپ اپنے لڑکوں کو” Consent” کے بارے بتائیں کہ رضامندی کے تحت جو چاہیں وہ صنف مخالف کے ساتھ کر سکتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور اسلام نے زنا بالجبر اور زنا بالرضا دونوں کو حرام قرار دیا ہے ۔کبھی بغیر نکاح کے اکٹھے رہنے اور تعلقات رکھنے بارے بات کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ سامنا آ چکا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خونی اور متشدد لبرل بن چکے ہیں جو اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کی رائے کو سننے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔
    پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا یہاں پر اسلام نے آباد رہنا ہے اس لئے جو بھی ہماری معاشرتی اقدار کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا عوام اس کا محاسبہ بھی کریں گے اور ان کے پوشیدہ عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
    @Educarepak

  • "افغانستان کا پرچم پکڑے نوجوان کو تھپڑ نہیں مارا جانا چاہیے تھا” تحریر: محمد عبداللہ

    "افغانستان کا پرچم پکڑے نوجوان کو تھپڑ نہیں مارا جانا چاہیے تھا” تحریر: محمد عبداللہ

    "مینار پاکستان ایشو، افغانستان پرچم پر تھپڑ اور ہمارا سوشل میڈیا”
    ہر بندے کی ہر ایشو پر اپنی رائے ہوتی ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے اور اگر اس پر تنقید بھی ہو تو احسن انداز میں ہونی چاہیے لیکن بطور قوم ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر ایشو پر ہم کئی طبقات میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے پر گولہ باری شروع کردیتے ہیں جو نہ تو مہذب لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ ہی کوئی احسن کام ہے.
    حالیہ لاہور مینار پاکستان پر پیش آنے والا واقعہ بھی کچھ ایسے ہی نتائج چھوڑ کر گیا ہے. آپ لڑکی کے عمل اور لباس پر تنقید کریں ضرور کریں لیکن چند اوباشوں کے اس کے ساتھ گھٹیا سلوک کو کسی طور بھی "جسٹیفائی” نہیں کیا جاسکتا وہ حد درجہ غلط ہے غلط ہے.
    ایسے ہی اس واقعے اور اس جیسے دیگر واقعات کو جواز بنا کر پورے پاکستان معاشرے کے مردوں کو غلط ، بھیڑیا اور دیگر برے القاب سے پکارنا بھی کسی طور درست نہیں ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاشرے میں بعض درندے واقعی ہی انسان کھال میں جنسی جانور ہیں لیکن مجموعی صورتحال میں یہ معاشرہ ایک عورت کے لیے دنیا بہت سارے ممالک اور معاشروں سے ہزار درجے بہتر ہے.
    اسی طرح ایک اور واقعہ ہمارے ہمسائیگی میں پیش آیا ہے جس کی ویڈیو تقریباً آپ سب نے بھی دیکھی ہوگی اور اس کو بغیر کسی توجیہ کہ بڑا خوش ہوکر شیئر کیا جا رہا ہے. واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ "اسٹوڈنٹس” کا ایک رکن افغانستان کا پرچم تھامے نوجوان کو تھپڑ مار کر اس سے افغانستان کا پرچم لے کر گاڑی میں رکھ دیتا ہے.
    دیکھیے پرچم کسی بھی ملک کا ہو اس کے لوگوں کی اس کے ساتھ محبت اور انسیت ہوتی ہے. افغانستان کے ایشو میں جب تک "اسٹوڈنٹس” کی باقاعدہ حکومت قائم نہیں ہوجاتی اور وہ اپنے سفید کلمے والے پرچم کو قومی و سرکاری پرچم قرار نہیں دے دیتے تب تک وہ پرچم ایک جماعت کا پرچم ہے اگرچہ وہ جماعت ملک میں فاتح جماعت ہے.
    "اسٹوڈنٹس” نے پورے ملک اور بالخصوص کابل کی فتح کے بعد عام معافی کا اعلان کرکے، لوگوں کی مال و جائداد اور گھروں میں داخل نہ ہونے کا حکم دے کر، بہترین رویے سے پیش آکر جو بہترین "سافٹ امیج” بنایا ہے جو درحقیقت اسلام کا حقیقی چہرہ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا دیا ہے اور لوگ ان کے حق میں لکھنے اور بولنے پر مجبور ہوچکے ہیں.
    میری رائے میں پرچم والے ایشو پر اتنی سختی اور تشدد غیرضروری اور غیر مناسب ہے الا یہ کہ آپ کا پرچم قومی اور سرکاری پرچم قرار دے دیا جائے. ایسے واقعات منافرت اور عدم برداشت کو ہوا دیں گے جو مسائل کا باعث بنے گی. اسٹوڈنٹس کی قیادت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جائے تاکہ عوامی سطح کے منفی ردعمل سے بھی بچا جاسکے اور اپنے مخالفین کو بھی کوئی موقع نہ دیا جائے.

    Muhammad Abdullah

  • جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے  تحریر : آصف شہزاد

    جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے تحریر : آصف شہزاد

    وادئ سوات پاکستان کا وہ سیاحتی علاقہ جوکہ قدرت کے حسین نظاروں اور دلکش وادیوں کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے یہاں بدھ مت اور ہندو شاہی کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کے دونوں اطراف مختلف ادوار کے باقیات اور آثار نمایاں طور پر سیاحوں کو اپنی اپنی طرف راغب کرتے ہیں

    مخدوش حالات اور فوجی اپریشن کے بعد جب سوات میں سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی تو یہ علاقہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ بین الاقوامی اور ملکی میڈیا پر سوات کے حوالہ سے گاہے گاہے خبروں نے اس علاقہ کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ کردیا جس سے ملک بھر کی عوام کا تجسس وادئ سوات اور یہاں سے جڑے سیاحتی مقامات کو دیکھنے کیلئے بڑھ گیا۔ساتھ ہی ساتھ جب فوجی اپریشن اختتام پزیر ہوا اور حالات بہتر ہوئے تو سوات کے لوگوں نے انتہائی مثبت کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحت کی فروغ میں اپنا حصہ شامل کردیا، نئے سیاحتی مقامات کے دریافت سے لیکر بین الاقوامی معیار کی سہولیات تک سوات کی وادیاں سیاحوں کیلئے پر کشش بنادی گئیں جن سڑکوں کو خراب حالات اور سیلاب کی وجہ سے نقصانات پہنچے تھے چند سال گزرنے کی بعد ان پر تعمیری کام کا آغاز ہوا جس سے سوات کی سیاحت کو مزید ترقی مل گئی جبکہ کالام اور ملم جبہ کی سڑکیں بن جانے سے یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگ گئے۔

    ملم جبہ چیئر لفٹس بحال ہوئے ،تباہ شدہ ہوٹل دوبارہ تعمیر ہوئے ، مزید بے شمار ہوٹل بن گئے جبکہ نو ہزار فٹ زیادہ کی بلندی پر واقع وادئ ملم جبہ میں طرح طرح کے بین الاقوامی معیار کے کھیلوں کی داغ بیل ڈال دی گئی جس سے ملم جبہ کی وادی میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ان کھیلوں میں حصہ لینے پر مجبور ہوگئے، ملم جبہ میں سیمسنز کمپنی کے انتظامیہ نے اس ضمن قابل تحسین کردار ادا کیا۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردار موجودہ حکومت نے سوات ایکپریس وے کی تعمیر کی شکل میں ادا کیا جس سے سفر میں آسانی اور وقت کی بچت نے سیاحوں کو سوات کی جانب راغب کیا۔

    عزیزان من !
    پورے ملک کے سیاحوں کو تو وادئ سوات نے اپنے سینے پر جگہ دیدی جوکہ یہاں کے عوام کیلئے کافی خوش کن تاثر کا سبب ہے تاہم لانگ ویکینڈ اور عید کی چھٹیوں میں یہاں کے مقامی لوگوں کو سیاحت کا جو موقع میسر تھا اب وہ نہیں رہا !

    کیونکہ ان مخصوص دنوں میں سیاحوں کی جو جم غفیر وادئ سوات پہنچتی ہے اس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور چند کلومیٹر کے سفر میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ پورے ملک سے بالعموم جبکہ خیبر پختونخواہ سے بالخصوص سیاح سوات کی طرف امڈ آتے ہیں جبکہ ان مواقع پر سوات کی انتظامیہ اکثر اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان سیاحوں کیلئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی مرتب نہیں دیتے اسلئے یہاں کی تنگ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں ہیں اور شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔

    حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بڑی عید کی چھٹیوں میں اسی ہزار سے زائد گاڑیاں سوات میں داخل ہوئیں جن میں لاکھوں افراد سوار تھے اور متوسط اندازہ ہے کہ ان گاڑیوں میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سوات میں داخل ہوئے، جوکہ ظاہری طور پر ایک بڑی تعداد ہے اسی طرح یوم آزادی کی چھٹیوں میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ حالیہ محرم کی چھٹیوں میں کالام سمیت ضلع بھر کے سولہ سو ہوٹل سیاحوں کیلئے کم پڑگئے اور لوگ ٹینٹوں اور گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوگئے یعنی مشاہدہ کے مطابق سوات کی موجودہ سڑکیں ، ہوٹلز ، اور ریستوران اس تعداد کو سنبھالنے کا متحمل نہیں !

    اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک جام سے مقامی آبادی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر جب کسی مریض کو ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہو اور ہسپتال پہنچانا ہوتا ہے تب مذکورہ ٹریفک جام میں پھنس کر خطرات کا شکار ہونا یہاں کے باسیوں کیلئے معمول بن گیا ہے، جن مقامی تاجروں کے گھر کالام روڈ پر واقع ہیں اور کاروبار مینگورہ شہر میں ہیں ان کیلئے مذکورہ دنوں میں چند کلو میٹر کا فاصلہ کوہِ گراں کو عبور کرنے کے مترادف ہوتا ہے شہر پہنچنے کیلئے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا اور پھر واپسی پر اسی وبال کا سامنا کرنا ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے جس کا صبر کے علاوہ کوئی حل ان کے پاس موجود نہیں ہے
    دوسری جانب یہ بات قطعی طور پر نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مقامی لوگوں کیلئے بھی ان مخصوص دنوں کی چھٹیاں کبھی تفریح کا موقع ہوا کرتی تھیں لیکن اب سیاحوں کے اس جم غفیر میں ان مقامی لوگوں کی چھٹیاں گھروں پر ہی گزرتی ہیں کیونکہ اگر مقامی لوگ بھی مذکورہ رش میں شامل ہوجائے تو ممکنہ طور پر سیاحوں کیلئے مزید پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں اسلئے اب سوات کے باسی پختون روایات کے مطابق سوات آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر ان مخصوص دنوں میں اپنی تفریح کی قربانی دیتے ہیں اور سیاحوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں اور اپنی چھٹیاں گھروں میں ہی گزارتے ہیں۔

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آیام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی جانب سے اقدامات قابل ذکر ہیں جن میں ٹریفک وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولیس سر فہرست ہیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ٹورسٹ پولیس غیر فعال ہوتے نظر آرہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی اس ضمن غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔جس کے نقصانات یہ برآمد ہوئے کہ جگہ جگہ شدید ٹریفک جام کیساتھ ساتھ سوات کی تاریخ میں پہلی بار سیاحوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع ہوا اگرچہ مقامی پولیس کیمطابق سیاحوں کو لوٹنے والے گروہ تو گرفتار کرلئے گئے ہیں تاہم مقامی پولیس کی غیر فعالی اور مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی نے ایسے واقعات کو جنم دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سوات ایکپریس وے کے فیز ٹو کیلئے فنڈز ریلیز کئے جائیں تاکہ سیاحوں کو دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ سفری آسانی یقینی بنائی جاسکے اور سوات میں معیشت کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کو چاہئے کہ ٹورسٹ کیلئے مرتب دئے گئے پولیس دستہ کی فعالی اور بہتری میں کردار ادا کریں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ھدایات جاری کریں کہ مذکورہ بالا حالات پر قابو پانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے ، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کو سیاحتی مقامات کی صفائی اور اس حوالہ سے منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ سیاحوں کی تعداد ان وادیوں کے قدرتی حسن پر اثر انداز نہ ہو ، دریائے سوات پر سیلاب کی وجہ سے بہہ جانے والے درجن بھر پُل تاحال تعمیر نہیں ہوسکے جس سے نئے سیاحتی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہے لہٰذا ان پُلوں کی تعمیر سے ملم جبہ اور کالام پر سیاحوں کا رش کم کیا جاسکتا ہے جس سے ٹریفک کے نظام پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کافی کمی آسکتی ہے ، کالام سے کمراٹ تک باڈگوئی پاس پر سڑک کی تعمیر سے دیر اور سوات کی سیاحت کو مزید ترقی ملیگی جس سے دیر کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ ممکن ہے۔

  • پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

    پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

     
    پروفیسر فتح محمد ملک جیسے عظیم دانشور ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کرتے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال اور قائد کے نظریہ سے روشناس کرتے ہیں۔ اور نظریہ پاکستان اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف اعتدال پسند پروفیسر جنکی محفل آپ کو گھنٹوں علم سے بھرپور گفتگو سننے پر مجبور کردے اور اختتام پر آپ کا دل پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی نشست چھوڑنے پر اگلی بیٹھک تمنا رکھے۔
    تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان، اقبال اور قائد اعظم بارے علم سے سرشار ایسا انداز بیان کے آپ انکی سادہ گرفتار کے اسیر ہوجائیں۔ فتح محمد ملک کی زبان و بیان اور عمل و فکر سے ناصرف اقبالیات جھلکتی ہے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان اور وسیع النظر اسلامی سوچ کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔
    پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ انہیں ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جاتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فتح محمد ملک کو کالج میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو اس وقت جو آپشن تھا اس میں راولپنڈی کا گارڈن کالج، زمیندار کالج گجرات، گورنمنٹ کالج چکوال اور گورنمنٹ کالج کیمل پور یعنی اٹک تھا۔ لیکن ملک گل محمد نے کیمل پور کالج کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برگ اور پروفیسر محمد عثمان جیسے ہونہار اساتذہ تھے۔

    اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس زمانے میں پروفیسر صاحب کے والد گرامی نے عمارت یا فاصلے کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ وہاں تعلیم کون دے رہا ہے جہاں ملک صاحب کے ہم جماعت شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی تھے۔ بعد ازاں جب ملک صاحب روالپنڈی کالج ایم اے کرنے کیلئے آئے تو وہاں  منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا کے ساتھ مقامی اخبار روزنامہ تعمیر میں ملازمت بھی کی جس کے ایڈیٹر محمد فاضل تھے۔ پھر تینوں بیروزگار ہوگئے تو یہ دوست تقریباً بائیس دن تک لیاقت باغ میں سوتے رہے کیونکہ ان کے پاس بیروزگاری کے سبب رہنے کی جگہ نہیں تھی اور سامنے ایک چائے والا تھا جس کے ساتھ کنٹریکٹ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چائے اور رس دے گا یعنی انہوں نے مسلسل بائیس روز تک بنا روٹی کے چائے اور رس پر کھلے آسمان تلے گزارا کیا۔
    اس دوران ریڈیو پاکستان کے کمپیئر طارق عزیز مرحوم کچھ دنوں کیلئے بیمار ہوگئے تو انہوں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری جگہ آپ آجائیں اور خبریں پڑھیں اور منو بھائی کو سکرپٹ رائٹر بنا دیا گیا۔ پھر جب انہیں تنخواہ کا چیک ملا اور یہ پیدل آرہے تھے اور اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا تو راستے میں ہوٹلوں پر تکہ کڑاہی اور گوشت بنا نظر آیا تو فتح ملک نے ہاتھ پکڑ کر منو بھائی مرحوم سے کہا اس طرف نہیں دیکھنا بلکہ پہلے اپنے اس محسن چائے والے کا ادھار چکانا ہے کیونکہ اس نے بائیس دن تک ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
    پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں  باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔

    اس کے علاوہ مصنف و قلم کار محمد حمید شاہد نے پروفیسر فتح محمد ملک کی زندگی پر “پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن” کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور انہوں نے پروفیسر صاحب کے مزاج اور عظمت کو یہ کہہ کر جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ: "علامہ محمد اقبال نے نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو جیسے پروفیسر فتح محمد ملک بارے کہا تھا۔ یہ ایسی عظیم اور اعلی طبیعت شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں۔”
    پروفیسر فتح محمد ملک کی شادی اپنے آبائی علاقہ عطا اللہ شاہ بخاری کے احراری خاندان کی ذکیہ ملک سے ہوئی تھی جو پڑھی لکھی اور انتہائی عظیم خاتون تھی جن کی تربیت ان کے چاروں بچوں میں جھلکتی ہے، جس میں محمد طارق ملک موجودہ چیئرمین نادرا، پروفیسر طاہر نعیم ملک نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد، اور پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی لندن جبکہ چھوٹی بیٹی سعدیہ ملک بھی پروفیسر ہیں۔
    فتح محمد ملک کی رفیق حیات ذکیہ ملک ایک ہاوس وائف خاتون تھیں جو بیماری میں مبتلا ہو کر 1995ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئی تو فتح محمد ملک کو رشتہ داروں اور احباب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کرلیں لیکن ملک صاحب نے انہیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ: "یہ تو بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ میرے دل میں کوئی اور ہو اور گھر میں کوئی اور۔”
    پروفیسر صاحب پر نمل یونیورسٹی، بہاولدین زکریا یونیورسٹی، اور بہاول پور یونیورسٹی میں تین ایم فل ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں اردو یونیورسٹی میں ان کی علمی، ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا ایک تھیسس بھی لکھا گیا ہے۔ اور علم و ادب کی بے پناہ خدمات پر 2006 میں ستارہ امتیاز، 2017 میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی جامعات سے بھی آپ وابستہ رہے۔ جن میں کولمبیا یونیورسٹی، ہیڈلبرگ یونیورسٹی، ہمبولٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
    پروفیسر صاحب  نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات کو اہمیت دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نیا پاکستان بنانے کا عزم ذوالفقار علی بھٹو بھی سامنے لائے تھے لیکن ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا جائے کیونکہ اس پاکستان کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس پاکستان کیلئے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی تھی۔ اور وہ اپنے نظریات کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ حقیقی پاکستان بنانے کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ سردار اور وڈیرا نظام شاہی وہ چاہے کہیں بھی ہو ختم ہوگا تو عام عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے۔
    قائداعظم نے سب سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ: نسل، رنگ  اور لسانی تصورات کے تعصبات کو ختم کیا جائے۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان  کے دوران قائد اعظم ایک بہت بڑے جلسے کی قیادت کررہے تھے تو ان کے کان میں ایک آواز سنائی دی کہ حضرت مولانا قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد اس پر انہوں نے جلوس کو روک کر نعرہ لگانے والوں کو مخاطب کر کے انگریزی میں  کہا میں آپ کا مذہبی رہنما نہیں بلکہ سیاسی رہنما ہوں، اس لیے مجھے مولانا نہ کہیں۔
    پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ: کاش جنرل ضیاء جیسی ذہانت کے لوگ اس جلسہ میں شریک ہوتے اور قائد کے اس فرمان سے سبق اندوز ہوتے۔
    ہمارے ہاں موسیقی کو اسلام سے دوری سمجھا جاتا ہے لیکن پروفیسر صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میں ہیڈلبرگ  یونیورسٹی میں ایک کلاس میں پڑھا رہا تھا جس میں اس سمسٹر کا مضمون تھا Muslim thoughts and South Asia تو وہاں ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی اور وہ گیٹ پر میرا انتظار کررہی تھی، میں جیسے باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ جناب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی اور بتانے لگی "میں میڈکل کی طالبہ ہوں۔” انتظار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی مجھے آپ کی اجازت چاہئے تاکہ آپ کی کلاس میں، میں بھی بیٹھ سکوں؟  کیونکہ میں اسلام سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ جس پر میں نے انہیں کہا خوش آمدید، ضرور آئیں اور پھر اس نے اپنا ایک واقع سنایا کہ: میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پب میں بیٹھی تھی اور وہاں ایک میوزک لگا ہوا تھا اور اتنا لطیف میوزک تھا، بہت اعزاز کی کیفیت تھی۔ خیر میں نے سمجھا کہ شائد میں زیادہ (شراب) پی گئی ہوں اس لیے یہ کیفیت ہے۔ لیکن دوسری صبح میں نے سوچا اب دوپہر کو جاونگی وہاں دوپہر کا کھانا کھاوں گی اور ان سے اسی موسیقی کی فرمائش کروں گی۔  تو انہوں نے جب وہ میوزک لگایا تو وہی کیفیت وہی وجد طاری ہوگیا تو میں حیران ہوئی اور ان سے جاکر پوچھا کہ: یہ کس ملک کا میوزک ہے اور یہ موسیقار کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ پاکستانی میوزک ہے اور نصرت فتح علی خان وہاں کے بہت بڑے موسیقار ہیں یہ ان کی گائیکی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ پاکستان سے کسی کو کہہ کر منگوانا پڑے گا، جس پر جواب ملا نہیں باہر جاکر کسی موسیقی کی دوکان پر یہ نام بتائیں اور آپ کو مل جائے گا۔ میں نے جاکر خرید لیا اب یہ سنتی ہوں اور بہت لطف اندوز ہوتی ہوں  اور پھر سوچا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ ہونی چاہیے۔ اور میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں۔
    جہاں پر پروفیسر صاحب نے وضاحت کی موسیقی بھی اللہ کی دین ہے اور یہ سننے اور گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس زاویہ سے سنتا ہے۔
    ملک صاحب نے ناصرف اقبال کے نظریہ پر چلتے ہوئے اس ملت کو بحث تنقید بنایا جس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ “نیم حکیم خطرہ جان؛ نیم ملا خطرہ ایمان، دین کافر فکر و تدبیر و جہاد، دین  ملا  فی سبیل اللہ فساد” بلکہ جب فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اس سے متعلق ایک مضمون بعنوان ” آزادیء اظہار یا آزادی آزار” لکھا اور اس میں متذکرہ بالا جریدے اور فرانسیسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو صحافتی دہشت گردی قرار دیا اور فرانسیسی قیادت کو اس قبیح حماقت پر ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری جیسے القابات سے مخاطب کیا۔ اور یہ مضمون مصنف کی کتاب “چچا سام اور دنیائے اسلام” میں بھی موجود ہے۔
    قارئین آپ کو ان کی تحاریر پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ یہ مذہبی انتہاپسندی اور لبرل فاشزم دونوں کے خلاف ہیں ایک اعتدال پسند یعنی پروگریسو مسلمان ہیں۔ تبھی تو ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ نئی نوجوان نسل میں وہ اپنی قلم کے ذریعے حقیقی پاکستان، اسلام اور علامہ اقبال و قائد کی روح پھونک سکیں۔ چونکہ نوجوان نسل ہی قوم و ملک کا مستقبل ہوتی ہیں تو اگر ان کے دل اقبال اور قائد کے فکر و عمل سے صحیح معنوں میں سرشار ہونگے تو تب جاکر کہیں حقیقی پاکستان کا تصور عمل میں لانا ممکن ہوگا۔
     پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی عمر اب 85 سال کو پہنچ گئی جس میں 55 سال اور علم ادب کی خدمات میں گزرگئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لہذا اس عظیم دانشور کی بے بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ تحریر بالکل ناکافی ہے کیونکہ یہ احقر ایک علم کے پہاڑ کے سامنے مٹی کا ایک زرا ہے۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے دانشوروں کا سایہ ہم طلبہ اور انکے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

  • عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    18 اگست کو اچانک سے سوشل میڈیا پہ کچھ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں ٹک ٹاک سٹار عائشہ اکرم نے دعویٰ کیا کہ انھیں 400 مردوں کی جانب سے حراس کیا گیا۔ یہاں پاکستان کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی کیونکہ کچھ لوگوں یا یوں کہوں تو غلط نا ہوگا کہ نمک حراموں کی طرف سے اس واقعہ کا سارا ذمہ پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہ ملک عورتوں کے لیے محفوظ نہیں۔

    ایک معروف صحافی کی جانب سے جب یہ جملہ کہا گیا کہ خوش قسمت ہے وہ انسان کہ جسے اللّٰہ نے اس ملک میں بیٹی نہیں دی تو بہت افسوس ہوا۔ کیونکہ پاکستان نے تو ہمیشہ سب کو تحفظ دیا ہے۔ یہ ملک تو بنا ہی ہماری حفاظت کے لیے ہے۔

    پھر جنسی تشدد، حراسگی اور ایسے تمام واقعات کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ اس ملک میں پلنے والے وہ جانور اور وہ درندے ہیں جو عورت کو عورت سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ عورت کے لیے غیر محفوظ ملک بھارت ہے۔ جہاں ایسے واقعات عام سے عام تر ہیں۔ اب اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کتنے خودغرض اور ناشکرے ہیں جو اپنے ہی ملک کو بار بار کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

    خیر مینار پاکستان والے واقع پر پہلے تو بہت سے لوگوں نے تشویش اور غصے کا اظہار کیا لیکن پھر جیسے جیسے حقیقت سے پردہ اٹھنے لگا تو ایسی چند تصویریں اور ویڈیوز منظرعام پر آئیں جس میں دیکھا گیا کہ کس طرح عائشہ اکرم خود انھیں غیر مردوں جن پر محترمہ نے حراسگی کا الزام لگایا چپک چپک کے سیلفیاں بنارہی تھی۔

    عوام کو یہ سمجھنے میں بالکل بھی وقت نہیں لگا کہ بی بی نے یہ سارا ڈرامہ رچایا تھا تو صرف اور صرف ایک سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے۔ کیونکہ اگر اس واقع کا حقیقت سے کوئی تعلق ہوتا تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب واقعہ 14 اگست کو ہوا تو محترمہ نے 4 دن کی خاموشی کیو سادھی؟ 4 دن بعد ہی کیوں یاد آیا کہ مجھے 400 لوگوں نے حراس کیا تھا؟ اسی وقت اپنے مجرموں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

    ایک طرف الزام تراشیاں جاری تھیں تو دوسری طرف راتوں رات عائشہ اکرم کے ٹک ٹاک پر تیس ہزار سے زائد فولوورز کا اضافہ بھی ہوا۔ یعنی وہ مقصد پورا ہوگیا جس کے لیے یہ سارے دو نمبر ڈرامے کا سہارا لیا گیا۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہارے معاشرے میں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو صرف چند ہزار فولوورز بڑھانے کے لیے کچھ بھی کرجاتی ہیں۔

    پر ایک بات واضح کرتی چلوں کہ یہ قوم اپنی ہر اس ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کھڑی ہے جو حقیقتاً ایسے واقعات کا شکار ہوتی ہیں۔ پھر عائشہ اکرم جیسی خواتین جو سستی شہرت کے لیے اپنے عورت ذات ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں ایسی عورتوں کو یہ قوم مسترد کرتی ہے۔

    کیونکہ یہی چند عورتیں عورت کے نام پر سیاہ داغ ہیں۔

    @SeharSulehri