Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کرکٹ،دل کا روگ     تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کرکٹ،دل کا روگ   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جب سے ہوش سنبھالی ہے،اپنے وطن کی جمہوریت اور اپنی کر کٹ ٹیم کی بیٹننگ کو خطرے ہی میں پایا ہے۔

    لیکن بیٹنگ والی یہ کہانی ہوئ پرانی،اب تو اکثر باؤلنگ بھی دھوکا دے جاتی ہے۔

    جبکہ ہماری فیلڈنگ کی رنگ بازیاں تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

    ابھی ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز ہی کو لے لیں۔

    اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہمیں جیتنا چاہیے تھا،

    مگر اس بہت ہی کلوز میچ کے آخری فیصلہ کن مرحلے میں کئی کیچز چھوڑ کر ہم نے ایک سنسنی خیز میچ ہار کر سیریز جیتنے کا موقع بھی گنوا دیا۔

    گزشتہ رات دوسرا اور سیریز کا آخری ٹیسٹ ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد جیت کر ہم نے وہ سیریز بمشکل برابر کر لی،

    جو ہمیں آرام سے جیتنی چاہیے تھی۔

    اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جاۓ تو پاکستان ٹیم ٹیسٹ کر کٹ کے لحاظ سے ویسٹ انڈیز سے بہت مضبوط نظر آتی ہے۔

    ہماری ٹیم کا ہر دور میں مسئلہ رہا ہے کہ ٹیم کا بوجھ محض چند ایک کھلاڑی اٹھاتے ہیں،

    بقیہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی تفریحی دورے میں گئے ہوۓ ہیں۔

    جیسا کہ آجکل ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کا بیڑا بلے بازی میں بابر اعظم،محمد رضوان اور فواد عالم جبکہ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی نے اُٹھا رکھا ہے۔

    اس دوسرے ٹیسٹ کی جیت میں فواد عالم کی سنچری اور شاہین شاہ آفریدی کی دس وکٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    اس میچ میں ہمارا مقابلہ ویسٹ انڈیز ٹیم کے ساتھ ساتھ بارش اور خراب موسم سے بھی تھا۔

    اس فیصلہ کن ٹیسٹ کو ہم نے 4دنوں میں اپنے حق میں کر کے فیصلہ کن بنانا تھا،

    کیونکہ ایک مکمل دن پہلے ہی بارش کی نظر ہو چکا تھا۔

    پھر کرتے کراتے جب ٹیسٹ میچ کےآخری دن لنچ کے بعد میچ بارش کے سبب رکا تو ،میچ ڈرا ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے،

    کیونکہ اس وقت ویسٹ انڈیز کی آخری تین وکٹیں باقی تھیں۔

    تاہم ایمپائروں نے اس ٹائم کو کور اپ کرنے کے لئے ٹائم سے پہلے ہی چاۓ کے وقفے میں تبدیل کر کے بہتر حکمت عملی سے میچ کنڈکٹ کیا۔

    اس میچ میں قسمت کی دیوی مہربان رہی اور بالاخر آخری سیشن کا میچ شروع ہوا اور پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے آخری تین کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا کر ملک  کی لاج رکھ لی اور ہم یہ سیریز بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سیریز ہارنے سے سیریز ڈرا کر لینا بحرحال ایک اچھا شگون ہے،

    جو کم ازکم ٹیم کا مورال تو بلند رکھے گا،

    جو ہمیں آنے والے ٹی20ورلڈ کپ میں ایک نئی توانائ فراہم کرے گا۔

    اس سیریز میں شاہین شاہ آفریدی شہنشاہ آفریدی کے روپ میں نظر آۓ۔

    انہوں نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 18وکٹیں لیکر پاکستان کی طرف سے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

    اس سے پہلے آج تک کوئ بھی پاکستانی تیز باولر دو ٹیسٹ میچوں میں اتنی وکٹیں نہیں لے سکا تھا۔

    کارکردگی کے لحاظ سے یہ سیریز عمران بٹ،عابد علی،اظہر علی اور یاسر شاہ جیسے کھلاڑیوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔

    جو کھلاڑی ویسٹ انڈیز جیسی قدرے کمزور ٹیم کے خلاف کارکردگی نہیں دکھا سکے،وہ آسٹریلیا،بھارت اور انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیموں کے خلاف کیسے کارکردگی دکھائیں گے؟

    عمران بٹ نے سیریز میں کیچز کا ریکارڈ قائم کیا،

    انہوں نے کئی ناممکن کیچز بھی لئے۔مگر اپنے اصل شعبے یعنی بیٹنگ میں بری طرح نا کام رہے۔

    اب رمیز راجہ کے بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بناۓ جانے سے امید پیدا ہوئ ہے کہ اب ٹیم سے سفارش اور اقربا پروری کا کلچر ختم ہو گا اور ٹیم میں صرف اہل کھلاڑی جگہ پانے میں کامیاب ہوں گے،

    جبکہ ریلو کٹوں کی چھٹی ہو جاۓ گی_

    ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

    اظہر علی،شعیب ملک اور محمد حفیظ کو اور کتنے مواقع دئیے جائیں گے؟

    یہ کھلاڑی ہر بار کسی نہ کسی ڈومیسٹک یا علاقائ ٹورنامنٹ میں اچھی پرفارمنس دکھا کر یاپھر بورڈ کے خلاف بیان بازی کر کے ٹیم میں آجاتے ہیں۔

    جیسا کہ ابھی حالیہ دنوں میں ہونے والی کشمیر لیگ میں شعیب ملک نے پھر اچھے رنز بناۓ ہیں،

    جس کے بعد اسے پاکستان ٹیم میں دوبارہ شامل کرنے کے لئے لابنگ شروع ہو چکی ہے۔

    حتی کہ کپتان بابر اعظم نے بھی شعیب ملک کی واپسی کی درخواست کر دی ہے،

    جسے تادم تحریر بورڈ ماننے سے انکاری ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی اچھی پرفارمنس کے حامل کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کروانا کپتان کا استحقاق ہوتا ہے،

    مگر صرف بڑے نام کی وجہ سے یازاتی تعلقات نبھانے یا کچھ پریشر گروپوں کے زیر اثر آکر کسی کو ٹیم میں ڈالنے کی بات نا مناسب لگتی ہے،

    خصوصا” ایک ایسے کھلاڑی کو لانے کی ضد،

    جو کئی سیریز میں مسلسل ناکام رہا ہو۔

    ہمیں پاکستان ٹیم میں سلیکشن کے معیار کو شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    پرچی مافیا کی بدولت ٹیم کو پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہچ چکا ہے۔

    ہماری رینکنگ تینوں شعبوں میں نیچے گر چکی ہے۔

    اگر ابھی بھی ٹیم سلیکشن میں شفافیت اور میرٹ آگے  نہ آیا تو پھر کبھی بھی نہیں آۓ گا۔

    کیونکہ اس وقت کا وزیر اعظم پاکستان عمران خان بزات خود دنیاکرکٹ کا ایک عظیم کھلاڑی رہا ہے۔

    ابھی تک کرکٹ ورلڈ اسے کامیاب ترین کپتان،نمبر ون آل راؤنڈر اور شاندار کھلاڑی کے طور پر جانتی ہے۔

    وہی عمران خان جس نے اپنے پورے کیرئر میں ایک بھی نو بال نہیں کروائ وہ کرکٹ بورڈ میں اتنی لوز بالیں کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

    وقت آگیا ہے کہ بطور پیٹرن انچیف پاکستان کرکٹ بورڈ عمران خان کرکٹ بورڈز کے معاملات بشمول ٹیم سلیکشن اور مالی نظم ونسق کے،

    کچھ ایسا کر جائیں،

    جس سے دنیا ان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کرکٹ میں ہونے والی بہتری کے خالق اور موجد کے طور پر بھی اسی طرح یاد رکھے،

    جس طرح بطور کرکٹر یاد رکھتی ہے۔

    اور جس عمران خان کو میں جانتا ہوں،اسکے لئے کرکٹ بورڈ کے معاملات اور کرکٹ ٹیم کو ٹریک پر لانا کوئ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے#

     

    تحریر۔سیدلعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Regards,

  • آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    لفظ آزادی بے پناہ وسعت رکھتا ہے اور آزادی کی تعریف زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ جدید تک مختلف افکار کے مطابق مختلف رہی۔ آزادی کہتے کسے ہیں؟ آج کا یہ اہم موضوع ہونا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر اس طرح کام نہیں ہورہا جس کی وجہ سے معاشرہ بجائے محفوظ ہونے کے انتشار کا شکار ہے۔ کیا آزادی کا مطلب مدر پدر آزادی ہے؟ کیا آزادی دین سے بیزاری کا نام ہے؟ کیا آزادی کا مطلب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی کی جان مال کو غصب کرنے کا نام ہے یا پھر آزادی معاشرے میں رہتے ہوئے جیو اور جینے دو کی پالیسی کا نام ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلم ہمارے ہاں آزادی کا تصور زرا مختلف ہے لیکن یہاں دیکھیں گے کہ مغرب آزادی کی تعریف کیسے کرتا ہے؟ اسکے قدیم اور جدید مفکرین کیسے بیان کرتےہیں؟
    ہیگل مغربی مفکرین میں ایک اہم نام سمجھا جاتا ہے۔ وہ آزادی کے متعلق لکھتا ہے "دنیا کی تاریخ سوائےاس امر کے اور کسی واقعہ سے بھرپور نہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ آزادی کے تحفظ میں مسلسل کوشش جاری رکھی اور وہ آج تک تحفظ آزادی کے لیے سرکرداں ہے، البتہ آزادی کی نوعیت میں فرق ضرور پڑتا رہا ہے۔ کبھی یہ آزادی زاتی نوعیت کی رہی کبھی مجموعی نوعیت کی، کبھی شخصی حکومت کی آزادی کا تحفظ رہا ہے، کبھی جمہوری طرز کا بچاؤ ہوتا رہا ہے۔ بہرحال حقوق کے تحفظ کی آزادی کی بنا پر تاریخ ارتقائی مراحل طے کرتی رہی ہے۔ جہاں تک مشرقی اقوام کا تعلق ہے انکے زہن میں انفرادی آزادی، سماجی آزادی کے علاوہ روحانی آزادی بھی سمائی رہی ہے۔” ہیگل کے نزدیک فرد کی آذادی کی ضامن صرف ریاست ہے ۔اگر فرد کو ریاست کی پشت پناہی حاصل نا ہو تو فرد کی آزادی کیا اسکی جان مال کو بھی خطرہ ہے۔اسکا مطلب ہیگل انسان کی انفرادی آزادی کے ساتھ اسکی قومی آزادی کا خواہاں ہے۔اسکے نزدیک انفرادی آزادی کا راز رائج الوقت قوانین کی اطاعت اور اپنے حقوق کی اسانی سے جڑا ہے۔ ایسے حقوق جن کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہو۔اخلاقی قدروں کے تقاضے کے مطابق اگر کوئی فرد کچھ وقت کے لیے ریاست کے دوسرے حصے یا دوسری ریاست چلا جاتا ہے تو بھی اپنی ریاست کے قوانین کی پاسداری اسکے فرائض میں ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو دوسری ریاست بھی اسکی عزت کرےگی اسکے وقار میں اضافہ ہوگا۔ کیا اجکل ایسا ہورہا ہے؟ کیا آزادی کا یہ کانسیپٹ متصادم نہیں ہے موجودہ دور کے لفظ آزادی کی تشریح میں؟ ایک اور مغربی مفکر ہےفشے (Fachte) کا کہنا بھی یہی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مزاج اطوار مختلف ہیں اور اس اختلاف نے انفرادی آزادی کی مختلف اقسام کو جنم دیا۔اور اسی لیے دنیا میں ثقافت کے بھی کہئ رنگ ہوتے ہیں۔جو بالآخر افراد کی نفسیات، خیالات، اور مطمع ہائے نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فرد بنیادی طور پر اطاعت کے لیے پیدا ہوا ہے چاہے یہ اطاعت ریاست کی ہو، یا مقتدر اعلیٰ کی، اخلاقی نوعیت کی ہو یا روحانی۔ ہرفرد کو اطاعت شعار ہونا پڑتا ہے، لیکن اس اطاعت کے باوجود اسکے کچھ حقوق ہیں، ان حقوق کا آسانی سے حاصل ہوجانا آزادی کی دلیل ہے۔کسی بھی فرد کو حقوق اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک اسکا تعلق براہ راست کسی ریاست سے نہیں ہوتا۔

    ایک اور مفکر جان سٹورٹ مل ہے ۔اسکا نظریہ آزادی تھوڑا مختلف ہے ہیگ اور فشے سے یہ شخصی آزادی کو اہمیت زیادہ دیتا ہے ریاست کے اختیارات محدود کرتا ہے یہ کہتا ہے کہ ریاست اس وقت دخل دے سکتی ہے جب کسی دوسرے کے مفاد عامہ کو نقصان ہو۔ ورنہ شخص جہاں چاہے جائے جو مرضی کرے کسی کو حق نہیں کہ وہ اسکی آزادی کو سلب کرے اگر یہ بات مان لی جائے تو بات وہی ہے جو اس سے پہلے والے مفکرین کر چکے کہ آزادی کا مطلب دوسروں کو روند دینے کا نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اپناتے ہوئے معاشرے میں امن قائم کرنا ہے۔ مل ایک قدم اگے ضرور بڑھتا ہے وہ خواتین. کی آزادی کو بھی شامل کرتا ہے۔ وہ خواتین کو تمام حقوق مردوں کے برابر نا سہی لیکن کچھ حقوق ضرور ملنے چاہیئں۔ مل کا خیال ہے فرد کو نجی ملکیت کا حق ہونا چاہیئے کیونکہ نجی املاک افرادمعاشرہ کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    ٹامس ہل گرین آزادی کا مداح ہے لیکن ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کے جو دل میں آئے وہی کرتا پھرے چاہے اس سے دوسرے کو نقصان ہی کیوں نا پہنچے بلکہ وہ آزادی کو کی حد مقرر کرنے پر زور دیتا ہے۔آزادی اسی وقت تک مستحسن ہوسکتی ہے جب وہ کسی دوسرے کے نقصان کا موجب نا بنے۔ اسک کہنا ہے کہ آزادی کا مطلب. معاشرے کی فلاح ہے ناکہ مزاحمت۔ ایک اور مفکر ہر برٹ اسپنسر ہے کا کہنا ہے۔”ہرایک انسان اپنی مرضی اور عمل میں ازاد ہے، بشرطیکہ وہ دوسرے انسانوں کی آزادی پر دست درازی نا کرے جو اسی کی طرح انہیں حاصل ہے۔”ان تمام مفکرین کی اراء میں بھی کہیں ازادی کا مطلب دوسروں کو تہس نہس کرنا نہیں بلکہ آزادی کوریاست کے تابع کرنا ہے دوسروں کی آزادی کا اتنا ہی خیال رکھنا ہے جتنا کہ اپنی آزادی پھر یہاں کیوں لوگ چند دنیوی فائدے کے لیے ملکی اقدار کو داؤ پے لگا دیتے ہیں کیسے وہ اسائلم کے لیے یا روپے پیسے کے لیے ملکی اداروں کی ساکھ داؤ پے لگا دیتے ہیں؟ ریاست زمہ دار ہے اپکی تو کیوں اسکے خلاف برسرپیکار ہیں؟ اپنی ریاست یا اپنا ملک اپکی پہچان ہے اسکے نام کو وقار کو داؤ پے لگاؤگے تو عزت خود بھی کہیں نہیں پاؤگے۔ شخصی آزادی یا اجتماعی آزادی ہو ریاست سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہمارے ملک کے ساتھ وفادار رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ امین
    جزاک اللہ
    تحریر تحقیق ارم رائے

  • ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا پر برہم

    ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا پر برہم

    پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کے خلاف منفی افواہیں پھیلانے پر بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لے لیا-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں نیرج چوپڑا نے کہا تھا کہ اس نے تاخیر کے بعد جلدی سے اپنا پہلا تھرو لیا کیونکہ وہ اپنانیزہ نہیں ڈھونڈ سکا ، جسے اس نے پاکستان کے ارشد ندیم کے ہاتھوں میں دیکھا تاہم نیرج چوپڑا کی اس بات کو انڈین میڈیا نے خوب اچھالا اور ارشد ندیم کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا-

    جس پر جمعرات کو نیرج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے تبصروں پر "رد عمل سے انتہائی مایوس” ہےمیں سب سے گزارش کروں گا کہ براہ کرم مجھے اور میرے تبصروں کو اپنے ذاتی مفادات اور پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال نہ کریں-


    انہوں نے کہا کہ نیزے کو استعمال کرنے والے معاملے کو نہ اچھالا جائے، ارشد نے میرا نیزا اٹھایا تھا، یہ کھلاڑیوں کے لیے عام بات ہے اور فائنل کے دوران جو کچھ ہوا وہ قواعد کے مطابق تھا ، اور اس کو کوئی بڑا مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی تاہم مجھے دکھ ہے کہ بھارتی میڈیا اس معاملے کو میرا سہارا لے کر اچھال رہا ہے۔

    نیر ج چوپڑا کا کہنا تھا کہ "ایک انٹرویو میں میرے ریمارکس پر ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہےتمام جیولن تھرور آپس میں بہت پیار سے رہتے ہیں، اسپورٹس سب کو مل کر رہنا سکھاتا ہے میں اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو اتنا مت اچھالیں۔

    خیال رہے کہ بی بی سی کے مطابق اپنے وطن واپسی پر ایک انٹرویو میں نیرج نے کہا تھا کہ اگر پوڈیم پر ان کے ساتھ پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے تو ’ایشیا کا نام ہو جاتا اور یہ کتنا اچھا ہوتا‘۔

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    نیرج چوپڑا نے یہ بھی بتایا تھا طلائی تمغہ جیتنے کے ایک دن بعد انہوں نے اختتامی تقریب سے پہلے ڈائننگ ہال میں ارشد ندیم سے ملاقات کی تھی۔ دونوں نے بہت گرمجوشی سے ملاقات کی۔ نیرج چوپڑا کے مطابق ارشد ندیم نے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں مبارکباد دی تھی۔

    ارشد ندیم نے اپنی پہلی تھرو 82 اعشاریہ چار میٹر دور پھینکی، ان کی دوسری تھرو فاؤل قرار پائی جبکہ ان کی تیسری تھرو 84 اعشاریہ چھ دو میٹر دور پہنچی۔ اس تیسری تھرو کے باعث وہ 12 ایتھلیٹس میں سے پانچویں نمبر پر رہے۔

    ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں میں 85 اعشاریہ 16 میٹرز دور جیولن پھینک کر فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ وہ کوالیفائنگ مقابلوں میں گروپ بی میں پہلے نمبر پر رہے تھے جبکہ مجموعی طور پر کوالیفائنگ راؤنڈ میں ان کی تیسری پوزیشن رہی تھی۔

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

  • ہماری قومی زبان اردو ہماری پہچان ،صائمہ رحمان

    زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نا صرف اس کی شناخت ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد ہوتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی قومی زبان پر منحصر ہے ہوتی ہے امریکہ جرمنی جاپان اور فرانس ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے وہ اس لئے انھوں نے اپنی اپنی زبانوں کو بہت فوقیت دی اور قومی زبان کو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان زبان کے طور پر فروغ دیا۔ دوسری طرف ایک عظیم مثال ہمارے چینی بھائیوں نے قائم کی انھوں نے اپنی چینی زبان کو فروغ دیا۔

    خود دار اور با وقار ملک ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کی قدر کرتی ہیںجو ان کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں قدر اور فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی زبان کی اہمپت اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بیرون ملک میں جا کر اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان کو فوقیت دی جانا مجوری بن جاتی ہے اردو زبان واحد زبان ہے جس میں تازگی اپنا پن محسوس ہوتا ہے اردو زبان بول کر ہم باآسانی اپنی بات اپنے پیغام کو پہنچا سکتے ہیں جواثر بھی کرتی ہے دنیا میں جن قوموں نے ترقی کے مراحل تیزی سے طے کئے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی ثقافت اوراپنی قومی زبان کو اہمیت دی ہے زبان کسی بھی ملک شناخت ہوتی ہے۔

    اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزی زبان اور دوسری زبانیں بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ بنتی ہےباقی زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت افادیت اپنی جگہ موجود ہے۔ انگریزی زبان کوبین الاقوامی معاملات زیر بحث لائیں ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہماری قومی زبان اردو کی اہمیت اپنی ہی جگہ ہے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان کو ہمیشہ ہر معاملے میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    قومی زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں وہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں اردو پاکستان کی قومی زبان اور دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے،

    اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان پر برطانوی راج کے دور میں شمالی ہندوستان میں اردو رابطے کی سب سے موثر زبان کے طور پر تسلیم کی گئی تھی اور یوں سرکاری طور پر اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔

    1837 میں اردو کو انگریزی کے ساتھ سرکاری درجہ حاصل ہوا۔ یہ زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بھی موثر ترین پل کے طور پر استعمال ہوتی تھی اس موقع تک ہندوستانی زبان نستعلیق رسم الخط ہی میں لکھی جا رہی تھی اور اس وقت اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ ایسے میں آریا سمائی احتجاج شروع ہوا، ہندوستانی کے لیے مقامی دیوناگری رسم الخط پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ہندوستانی زبان کو دو الگ الگ رسم الخط میں لکھا جانے لگا اور یہیں سے اردو اور ہندی کی راہیں جدا ہوئیں۔
    اس دور میں اردو بولنے والے معاشرے کے سامنے ایک بہت ہی اہم مسئلہ اپنی زبان ، اپنی ثفاقت اور تشخص کا تحفظ کا ہے زبان کا لکھنا پڑھنا اور اس کی نظم ونثر کا تعارف ، حساب، ماحول کی سمجھ اور مل جل کر رہنے کی صلاحیت شامل ہے پرائمری تعلیم کے بنیادی مقاصد میں زبان اور کلچر کا تحفظ اور آگے منتقلی ہے اردو زبان کے سکھنے کے لئے پانچ سال بہت ہوتے ہیں ۔ اسے اورمنظم مربوط اور موثر بنائیں اس کی جدید کاری پر توجہ دی جائے

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان نے حیرت انگیز فتوحات حاصل کرتے ہوئے 15 اگست کے روز چند گھنٹوں میں کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے تخت افغانستان پر اپنی عملداری قائم کرلی، دنیا نے اس بار افغان طالبان کی ایک نئی شکل و صورت اور حکمت عملی کا بھی مشاہدہ کیا کہ کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے کوئی قتل عام کیا ناں ہی سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا تاہم اب بھی بہت سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہیں کیونکہ تاریخ کبھی بھی صرف رونما ہونے والے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوا کرتی بلکہ پیش آنے والے واقعات کے درپردہ محرکات اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ تک بذریعہ سوال و جواب ہی پہنچا جاتا ہے۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات نے امریکا کی ناں صرف افغانستان بلکہ جنوب ایشیائی خطے میں ناکام پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دنیا کی سپرپاور بننے کے جنون میں مبتلا امریکا کی ان ناکام پالیسیوں سے کئی انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں تاہم اگر چین اور پاکستان مربوط کوششیں کریں تو اس سے ایک نیا افغانستان ابھر کر سامنے آئے گا جو ناں صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ماہرین کی طرف سے یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکومتی سیٹ اپ کے قیام کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا؟ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جائے گی؟ کیا مستقل بنیادوں پر خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے؟

    کیا طالبات کو تعلیم اور خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بحال رکھے جائیں گے؟ دنیا بھر کی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی نظریں افغانستان اور طالبان کی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں بسنے والے افغان طالبان سے وہ سب کچھ چاہتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں عوام کو میسر نہیں تاہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی جیسا کہ خواتین کو ملازمتوں میں مناسب نمائندگی دینا، بچیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے اقدامات ممکن ہیں اور یقینی طور پر افغان طالبان اپنے وعدوں اور ارادوں کو پورا کریں گے جس کے لئے افغان طالبان پر حامی ممالک کی طرف سے دبائو بھی ہے۔ اس حقیقت میں تو اب کوئی دو رائے نہیں کہ افغان طالبان افغانستان کے کونے کونے میں پھیل چکے ہیں اور صرف کابل یا کسی مخصوص علاقے میں افغان طالبان نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ وسطی افغانستان کی طرح دوردراز علاقوں میں بھی اپنی عملداری قائم کر لی ہے تاہم دور دراز دیہی علاقوں میں قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان پر بھی طالبان قیادت کو سنجیدگی سے سر جوڑنا ہوگا کیونکہ طالبان کی قیادت و سیاست کا امتحان ابھی ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے اور انہیں افغانستان اور افغان باشندوں سے اپنی محبت کے ساتھ اپنی اہلیت کا بھی عملی نمونہ پیش کرنا ہے

    جسے ایک نئی آزمائش اور نئی گیم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں مغربی دنیا کو بھی اپنا مثبت رول ادا کرتے ہوئے افغان طالبان کی سرپرستی اور قیادت میں بننے والے نئے حکومتی سیٹ اپ کو بھرپور انداز میں سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ دو دہائیوں پر محیط حالیہ خانہ جنگی کے بعد افغانستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور سالہا سال سے مہاجرین کی زندگی بسر کرنے والے افغان باشندے ایک پرامن اور خوشحال افغانستان میں زندگی بسر کر سکیں۔

  • پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار میں انوائرنمٹ یعنی کہ ماحول اور جتنی بھی اُس سے متعلق جزیات ہیں یہ سب اِ س نہ نظر آنے والی جنگ کا بہت بڑا حصہ ہوتی ہیں، مثلاَ اگر کسی فرقہ کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تو اُس نفرت کو استعمال کر کے دُشمن اپنا کام نکالتا ہے اِسی طرح اگر کسی کیلئے کسی کی محبت پائی جاتی ہے تو محبت کو استعمال کر کہ اپنا کام کیا جاتا ہے۔
    ہائبرڈ وار فیئر میں دشمن ملک کی معیشت کو گرانا بھی ایک ہتھیار ہےجیسے اِس وقت پاکستان میں دن بہ دن بڑھتی مہنگائی جس طرح کنٹرول سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے ، ایسی حالت میں موجودہ حکومت کو ایک وقت میں کئی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔

    ہر سرکاری اِدارے کا نظام متاثر ہوتا ہے ، عوام میں غصہ، بے یقینی بڑھتی ہے حکومت پر اعتماد کم ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کیلئے ہمدردی کی بجائے مخالفت پیدا ہو رہی ہے ، یہ معاشی جنگ انتہائی خطرناک ہے اور اِس وقت پاکستان جیسے ہی افغانستان کی بدلتی صورتحال اچھے سے سنبھالنے کے ساتھ اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا رہا ہے ۔
    ساتھ ملک کی معاشی صورتحال کو خراب کرنے والےدشمن پاکستان پر مسلط معاشی جنگ کو تیز کرتے نظر آرہے ہیں ایسے حالات میں حکومت کو چاہئے کہ اپنی عوام میں آگہی کے ساتھ مکمل لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے وزیرِ اطلات کی ذمہ داری لگائے میڈیا پر جس طرح پبلک سروس میسیج دیا جاتا ہے بالکُل اُسی طرح اپنی عوام کو بتائے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور اِس جنگ میں کیا کیا مشکلات آسکتی ہیں اور ہمیں کیسے اِن آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے ،

    یہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ، وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو گراؤنڈ کے حالات بتانے والے اُنہی کے وزیر اور مشیر ہی ہیں ناں۔۔۔! جو پہلے اُنہیں دو خاندانی سیاسی پارٹیوں میں سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں تو کیا تحریکِ انصاف اِن کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو صاف سُتھرا بنانے کی لانڈری ہے ؟ جبکہ عمران خان صاحب کو علم ہے مگر جیسا کے کئی بار وہ اپنی لاتعداد تقاریر میں خُود بھی کہہ چُکے ہیں مجھے معلوم ہے کون کیا کر رہا ہے مگر نظام خراب ہے ، تو وزیرِاعظم صاحب یہی صحیح وقت ہے ایکشن لینے کا اور عوام کو تیار کرنے کا کے آپ22 کروڑ لوگوں کو حقائق سے اگاہ کریں ، آپ کی ٹویٹ 22کروڑ لوگ نہیں دیکھتے وہ کیا سمجھیں گے پاکستان پر معاشی جنگ مسلط ہے ، یہ بات عام پاکستانی تک پہنچانا بہت ضروری ہے ، پچھلی 3 سالہ کارکردگی میں عوام کو ترقیاتی کام نظر نہیں آئیں گے اُنہیں نظر آئے گا تو گھی، چینی، دال، آٹا ، یہ مہنگائی یہ معاشی جنگ کا شکار پاکستانی کیا جانے پاکستانی کرنسی کیوں گری کیسے گری ، اسٹیٹ بینک ڈالر کیوں گرنے دے رہا ہے ایک عام پاکستانی جو ریڑھی چلاتا ہے روزانہ دھاڑی کر کے شام کو گھر جاتا ہے اُسے کیسے بتائیں گے کہ ہم معاشی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں کس وجہ سے یہ مہنگائی ہو رہی ہے۔؟ نہیں ایسے نہیں آپ کو اِس معاشی جنگ کو شکست دینے کیلئے ایک اور حل بھی ہے مگر اُس کے لئے بہت بڑا جگر چاہئے بلکہ یوں کہا جائے کے تاریخ رقم کرنا ہوگی آپ کو ایک مثال قائم کرنا ہوگی اور وہ دیکھا جائے تو مشکل بھی نہیں لیکن اُس کے لئے آپ کو ایک دلیر ٹیم درکار ہے جو کہ آپ کے پاس اِس وقت ساتھ نہیں ۔ اور وہ ہے آپ کا معاشی نظام آج اگر آپ اپنی تجارت ڈالر کی بجائے سونے میں کریں تو آپ چند دنوں میں اپنی معیشت بہتر کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لئے آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی ٹیم کا ہر ممبر ایک سوچ ایک نظریئے کا مالک ہو تب ممکن ہو سکتا ہے اِس کہ علاوہ اور کوئی حل نظر نہیں آتا آپ لاکھ چین، ترکی، ایران، سعودی عرب ، کا بلاک بناتے رہیں دشمن آپ کو اسلحے سے نہیں اِس وقت معیشت کی مار ،ماررہا ہے اور اِس کے لئے دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ مستند اور جری ،دلیر رہنماؤں کی ضرورت ہے جو آپ کی ٹیم میں دور دور تک نظر نہیں آرہے،

    تو بجائے اِس کے کہ آپ اِن ویزروں مشیروں سے پلان بناتے بگاڑتے رہیں آپ عوام کے درمیان آئیں اپنے ویڈیو کلپ بنائیں خاص طور پر مہنگائی کی وجہ بتائیں اگاہی مہم چلائیں نوجوان آپ کے ساتھ ہیں آپ یہ مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اِس نظام کی خرابی بھی بتائیں اِس لنگڑے لولے جمہوری نظام میں اب دم خم نہیں یہ نظام ہائبرڈ وار فیئر اور ففتھ جنریشن وار جیسی نہ نظر آنے والی جنگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اِس میں کمزوریاں ہیں جو دشمن کو فائدہ اور اِس ملک کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں ۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khizar

  • سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی گلہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اِردگرد کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے.
    سگریٹ پینے والا انسان سگریٹ کے دھوئیں سے اپنے ساتھ ساتھ بچوں اور عورتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے.
    پاکستان میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے, اس وقت پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 35 سے 40 کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے کارخانے موجود ہیں اور اسکی فروخت میں حکومت اربوں کے حساب سےسالانہ ٹیکس وصول کرتی ہے.
    پروفیسر ڈاکٹر جاوید کے مطابق پاکستان میں مناسب قانون نہ ہونے کی وجہ سے سگریٹ عام دستیاب ہیں اور اگر قانون ہے بھی تو اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا.
    پاکستان میں ناخواندگی زیادہ ہے اور سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے. لہذا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لئے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں.

    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں.
    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے. اس سے نہ صرف پھیپھڑے تباہ ہوتے ہیں بلکہ ہڈیوں پر بھی اسکے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں. ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں.
    سگریٹ نوشی سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دل کے امراض بہت بڑھ سکتے ہیں.
    اور کسی کھلاڑی کے لئے سگریٹ نوشی اسکا مستقبل تباہ کرسکتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی سے سانس پھول جاتا ہے.
    ریسرچ کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے نو جن کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے وہ سموکرز ہوتے ہیں .
    سگریٹ نوشی کرنے والے کو نمونیہ کا خدشہ بھی ہروقت لگا رہتا ہے.

    ہمیں معاشرے میں یہ شعور اُجاگر کرنا ہے کہ تمباکو نوشی کی عادت اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے ہر ممکن حد تک بچنا ہے.

    دیکھیں کسی بھی نشے کی طرح سگریٹ نوشی کی عادت سے بھی چھٹکارا پانا بہت آسان ہے بس اسکے لئے مضبوط ارادے اور خود کو مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے.
    پاکستان میں انسداد سگریٹ نوشی کے سلسلے میں قوانین پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے.
    صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سگریٹ نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے اور جو ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے سگریٹ نوش افراد ہیں.. انکی بھی سگریٹ نوشی کی عادت ترک کروانے میں کوشش کریں گے.
    ہم سب نے مل کر سگریٹ نوشی کی اور خاص کر پبلک مقامات پر اسکی حوصلہ شکنی کرنی ہے.

    @Rehna_7

  • لکھیئے۔۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    لکھیئے۔۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ
    "ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.”
    لفظ لکھنا سے مراد حروف تہجی کی اشکال کو کسی چیز پر بنانا یا اتارنا مزید یہ کہ حروف تہجی کو اس ترتیب سے لکھنا کہ بیان کی گئ بات سمجھ میں آسکے۔۔۔
    نثر اور شاعری کی اصناف کے لئے لوگ کتب رسائل اور اخبارات کے لئے لکھا کرتے تھے۔ لکھاری ہاتھ سے تحریری مواد لکھتا بار بار غلطیوں کے بعد جب مسودہ تیار ہوجاتا پھر اخبار یا رسائل کے دفاتر تک پہنچانا اور وہاں پر بھی واقفیت اور جان پہچان کے بغیر تحریر کا شائع ہوجانا جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہوتا تھا کیونکہ وہاں پر پرانے اور نامور کالم نویسوں کا قبضہ تھا جس کی وجہ سے نئے لکھاریوں کی کاوشیں زیادہ تر ردی کی ٹوکری میں جاتی تھیں۔
    اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا کا دور آیا اور پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بھرمار ہوگئ اور لکھنے کی اجارہ داری صرف پرانے اور معروف مصنفین تک محدود ہوکر رہ گئ اور مزید ان کو اپنی تجزیہ کاری کے لئے ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم اور ٹاک شوز کی سہولت میسر آگئ اور یوں نئے لکھاریوں نے لکھنے اور کوشش کرنے کو ایک لمبے عرصہ تک خیرآباد کہ دیا۔
    پھر پاکستان میں ڈیجیٹل سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کر دیا اور صارفین کو اپنے نظریات کے پرچار کے لئے فیس بک ٹویٹر اور بلاگر پیج میسر آگئے اور یوں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ بڑے اور معروف مصنفین کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئ۔ نئے لکھاریوں نے دھڑا دھڑ لکھنا شروع کیا یوٹیوب چینلز معرض وجود میں آگئے اور تحریریں صفحہ قرطاس کی محتاجی سے آزاد ہوگئیں ۔ لکھنے کے شوقین حضرات نے انفرادی طور پر اپنی اپنی بلاگ ویب سائٹس بنالیں اور کچھ نے ویب ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور مضامین لکھنے شروع کردئیے ۔
    ویب ٹی وی چینلز کی صف میں باغی ٹی وی کا خوشگوار اضافہ ہوا اور باغی ٹی وی کی مقبولیت اور مستند مواد کو دیکھتے ہوئے سماجی روابط کے پلیٹ فارم ٹویٹر نے باغی ٹی وی کے آفیشل اکاونٹ کی تصدیق کردی اور ساتھ سوشل میڈیا کے مقبول ترین اور کئ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ٹیمز کے ساتھ کام کرنے والےباغی ٹی وی کے ایڈیٹر طہ منیب کا اکاؤنٹ ٹویٹر سے اس وقت ویریفائی ہوگیا جب پاکستان میں صرف چند سو افراد کے اکاونٹس ٹویٹر سے ویریفائیڈ تھے طہ منیب نے ویریفیکیشن کے اگلے ہی روز اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس اور چینلز کے ذریعے دیگر ٹویٹر صارفین کی رہنمائی کی کہ کس طرح آپ اپنا ٹویٹر اکاونٹ ویریفائی کرواسکتے ہیں اور ساتھ ہی نئے لکھاریوں کو باغی ٹی وی پر بلا کسی سفارش اور روک ٹوک کے اپنے مضامین اور کالمز لکھنے کی سہولت فراہم کردی جس کے بعد دیکھا دیکھی نئے لکھاریوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا صرف تین چار مضامین لکھنے والوں کی باغی ٹی وی پروفائل بن گئیں اور کئ لوگوں کے ٹویٹر اکاونٹس ویریفائی بھی ہوگئے۔ طہ منیب کا یہ رویہ قابل تحسین ہے بصورت دیگر ویریفائیڈ ٹویٹر اکاونٹ کے حاملین اپنے آپ کو سلیبریٹی سمجھنے لگتے ہیں اور چھوٹے اکاونٹس والے صارفین کے سلام کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے ۔
    اب آپ کے پاس باغی ٹی وی کا پلیٹ فارم دستیاب آپ لکھیئے آپ کے پاس معاشرے میں بےشمار موضوعات ہیں کسی ایک کا انتخاب کریں اور لکھ ڈالیں ۔شوبز تعلیم سماجی ٹیکنالوجی سیاست ادب حکومتی پالیسیوں اصلاحات شہری مسائل لاقانونیت اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور طب سمیت اپنی دلچسپی کے موضوع لکھیں اور باغی ٹی وی کو ارسال کر دیں۔
    میں باغی ٹی وی مینجمینٹ
    طہ منیب ممتاز اعوان اور ادارتی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری تحریروں کی اشاعت کے لئے اپنے پلیٹ فارم مہیا کیا اور مجھ سمیت سینکڑوں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی۔
    @Educarepak

  • قید مسلسل  تحریر: سید مصدق شاہ

    قید مسلسل تحریر: سید مصدق شاہ

    وہ پورا دن گھر میں بند رہتی کوئی محلے والے بھولے بھٹکے میلاد قرآن خوانی کی دعوت دینے آ جاتی تو آجاتی
    زیادہ تر تو اس سے خائف نہیں رہتیں
    بڑے نخرے ہیں نہ ملنا نہ جلنا
    دیوار سے دیوار ملی ہے
    مگر مجال ہے جو کبھی آس پڑوس میں چکر لگا لیں۔
    نہ کبھی کسی دعوت میں گئی نہ جنازے میں ۔
    ایسا بھی بھلا کیا ہے
    عورت ہے پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرتی اور وہ جو سب کی نظر میں بری تھی کسی سے کیا کہتی
    اسے تو اس کے سگے بہن بھائی خائف رہتے باقی رشتہ داروں کا کیا کہنا
    تم تو عید میں بھی نہیں اتی اب میں نہیں آؤں گی دو سال پہلے بہن عید پر ملنے آئیں تو کہتے ہوئے گئی تھی دو سال سے وہ بہن سے ملیں بھی نہ تھی
    باجی ملنے نا او فون پر ہی بات کر لیا کرو چھوٹا بھائی سال بھر پہلے شدید بیماری سے صحتیاب ہو کر آیا تھا تو شکوہ کر گیا تھا پھر وہ بھی نہ آیا وہ کسی کو کیا بتاتی وہ کیسے ان سب سے ملنے کو تڑپتی ہے بھائی کی بیماری پر اس کا بس نہ چلتا تھا کہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے بہن بھانجے بھانجی بھتیجے بھتیجی سب سے ملنے کو ترستی مگر وہ تو ایک قید مسلسل میں مبتلا تھی۔
    اس کو یاد تھا کہ اس کی شادی کیلئے بیوہ ماں نے کتنے مشکلیں اٹھائی تھی کہیں بات ہی نہ بن پاتی تھی
    عمر تھی کہ نکلتے ہی جارہی تھی اور رشتہ ہو ہی نہیں پاتا باپ سر پر نہ تھا۔ چھوٹا بھائی اور ماں روز و شب اس کے لیے پریشان رہتے۔ بہن الگ ہر جگہ رشتہ تلاش کرتی پھرتی
    کمی کوئی نہ تھی بس کسی کو عمر پر اعتراض ہوتا تو کسی کو رنگ پر ہوتا تھا آخر کار اس نے امید توڑ دی ماں کے پیچھے لگ کر چھوٹے بھائی کی شادی کرادی گئی یہ کیوں میری وجہ سے جوگ کاٹے
    میرے نصیب میں ہوئی تو ہو ہی جائے گی ماں نے نمناک آنکھوں سے حامی بھرلی بیٹے کئی دنوں سے بدلہ راویہ ماں کو ہولا رہا تھا جیسے امبر نے زبان دے دی تھی بھابی آئیں تو مانو گھر میں بہار آگئی
    کچھ عرصہ بعد ہی امبر کے لیے ایک رشتہ آگیا لڑکا کویت میں 13 سال گزار کر آیا تھا یہاں آکر کاروبار کرنے لگا تھا آگے پیچھے کوئی تھا نہیں
    بس عمر چالیس سے قریب تھی کوئی
    ماں کو اعتراض ہوا مگر پھر ہاں کردی بہو آگئی تھی اس کا کھوٹا کمزور ہوچکا تھا جیسے تیسے امبر کی شادی ہوگی شادی کے دو ماہ بعد ماں ہی دنیا سے رخصت ہو گئی جیسے بس بیٹی کی شادی کا ہی انتظار تھا
    اطہر اور امبر کے مزاج میں آسمان زمین کا فرق تھا شادی کے اگلے دن ہی امبر کو اطہر کے تنگ نظر ہونے کا پتہ چل گیا تھا مگر وہ ماں سے چھپا گئی وہ پہلے ہی اس کی وجہ سے اکتیس سال اذیت میں مبتلا رہی تھی
    بس پھر امبر اطہر کی لگائی گئی پابندیوں میں جینا سیکھ ہی گئی
    اسے اپنے گھر جانے کی اجازت نہ تھی ماں کی زندگی میں بھی اطہر کی مرضی ہوتی تو لے جاتا ورنہ وہ تڑپتی رہ جاتی اور اب تو اطہر کے نزدیک اس کا میکہ ختم ہو چکا تھا امبر کے بہن بھائی سے اطہر کو چیڑ تھی اسے وہ بہت تیز لگتے تھے بہکانے والے،
    محلے میں جانے کی امبر کو اجازت نہ تھی اطہر کو عورتوں کا مفل میں جانا آوارگی لگتا تھا اطہر گروسری وہ خود لاتا عید کے کپڑے تک خود ہی لا دیتا امبر سارا دن گھر میں قید رہتیں دروازوں کھڑکیوں پر اطہر نے بڑے بڑے پردے ڈال رکھے تھے کہ بے پردگی نہ ہو چھت پر اسے جانے کی اجازت نہ تھی کبھی باہر گول گپے والا آتا تو وہ تڑپ جاتی ہیں
    شادی سے پہلے وہ ان چیزوں کے شوقین تھے اطہر نے شادی کی رات ہی اسے موبائل کے نقصانات پر درس دیتے ہوئے اس سے عہد لیا تھا کہ وہ اس خرافات سے دور رہے گی اماں سے رابطہ وہ اطہر کے فون سے کر سکتی ہے مجبوری اتنی کے وہ یہ سب کسی سے شیئر بھی نہ کرسکتی بہن بھائی سالوں میں آجاتے تو اطہر ان کے ساتھ ہی چپکارہتا اب تو وہ بھی نہ اتے۔ بس زندگی گزر رہی تھی ایک قید تھی جو ختم نہ ہوتی تھی کوئی روزن نہ تھا نہ ہی کوئی کھڑکی کے ہوا آئے یا روشنی
    اطہر روز بن ٹھن کر کام پر جاتا اسے تو لپ سٹک لگانے پر لتاڑ دیتا کہ کون انے والا ہے آج۔
    وہ پھر دنوں میک آپ کے پاس نہ جاتی کیا شاری قائم رکھنے کے لئے یہ قید ضروری تھی؟
    اگر ہاں تو وہ قید کاٹ رہی تھی اور نہ جانے کتنی ہی لڑکیاں یہ قید کاٹ رہی ہیں۔ کچھ کم کچھ زیادہ۔ ان کے رشتہ دار ناراض ہیں کہ وہ ان سے ملتی نہیں ہیں باتیں نہیں کرتیں مگر قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے
    لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ شادی کے بعد گھر آنگن عورت کے دم سے ہی چلتا ہے کچھ معاف کر دو، کچھ نظر انداز کر دوں، مگر گھر ٹوٹنے نا دو۔
    مگر بعض اوقات کچھ عورت ساری زندگی ایک ایسی ہی قید مسلسل کو کاٹنے میں لگا دیتی ہے جن سے زندگی بہت کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔
    سارے رشتے چھوٹ جاتے ہیں اور بس عمر ختم ہو جاتی ہیں
    Tweeter ID Handel @SyedmusaddiqSy4

  • نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ


    قارئین محترم پاکستان 60 فی صد نوجوانوں پہ مشتمل ایسا ملک ہے جس کی بیشتر افرادی قوت بے کار ہے.
    وجوہات مختلف بیان کی جاتی ہیں مگر آج جن نکات پہ قلم آزمائی کروں گی ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے.
    اگر ہم نوجوان نسل کو تین درجوں میں تقسیم کر لیں تو ہمارا مضمون عام فہم ہو جائے گا.
    پہلا درجہ 9 سے 14 سال، دوسرا 15 سے 20 سال اور تیسرا 21 سے 30 سال تک کے افراد پہ مشتمل ہے.
    بات کرتے ہیں اول الذکر نو خیز جوانوں کی جو بچپن کی دہلیز چھوڑ کر جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں.ان نوجوانوں کی زیادہ تر تعداد چونکہ سکولوں سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے انکی ترجیحات رحجانات اور دلچسپیاں اپنے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں.
    اس دور کے یہ نوجوان انٹرنیٹ کی دنیا میں اسقدر مگن ہیں کہ ان کو اپنے معاشرتی اور سماجی فرائض کی ہوش نہیں.یہ وقت کردار سازی اور تعلیمی اور معاشی مستقبل طے کرنے کا بہترین وقت مانا جاتا ہے جب سمت کا تعین کر کے تمام تر توانائیاں اسی مقصد کے حصول میں صرف کرنا ہوتی ہیں.
    بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان نوجوانوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں اور نصابی کتب کے رٹے اور گریڈز کے حصول تک مقید کر دیتے ہیں.
    مثال لے لیجئے کہ ہر بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے مگر شعبہ طب کے اندر موجود شعبہ جات سے آشنا نہیں کروایا جاتا.مختصراً گلہ کروں تو کیرئر کونسلنگ نہیں کی جاتی.
    اس نسل کو Swaggerبننے کی دھن ہے اور ایسے میں بے راہروی کی جانب جانا نہایت Charming اور Adventure سے بھرپور بن جاتا ہے .
    انگریزی الفاظ کے لیے معذرت مگر یہ الفاظ رائج ہیں کوئی متبادل لفظ حق ادا نہیں کر سکتا.
    اس نسل کو سب سے بڑی بیماری بی ایف اور جی ایف کی لگ جاتی ہے.جو انکی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کر جاتی ہے.

    ثانئ الذکر کی بات کی جائے تو یہ نسل خاصی آذادی حاصل کر چکی ہے اس طبقے کا تعلق کالجوں سے ہے.کالجوں کا ماحول سازگار ہو تو ان کو اپنی ترجیحات اور آزادی کے بل پہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں.
    مہم جوئی کے نام پہ سگریٹ نوشی اور شیشے کے چھلے بنانا..
    جی ایف بی ایف کو اعلانیہ ساتھ گھومنا گھمانا شروع ہو جاتا ہے.
    کیونکہ والدین کی اکثریت گھروں سے ہی ساری ذمہ داریاں پوری کرنے کے قائل ہیں تو انکو بھرپور مواقع کے ساتھ اپنا آپ اپنی ساکھ اپنی زندگی تباہ کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے.
    موٹر سائکل گاڑی موبائل فون اور نت نئے لباس جنس مخالف کو متاثر کرنے کے لیے حاصل کرنا انکی تمام تر کوششوں کا مرکز ہوتا ہے.
    ثالث الذکر طبقہ یو کہیے تو
    دہری ذہنی اذیت سے دوچار ملتا ہے .جو ماضی سے نالاں اور مستقبل کے لیے متفکر اور حال کے متعلق بلکل بے بس مایوس نظر آتا ہے.
    کیا کہیے کہ سب کچھ لٹا کے آئے ہیں کچھ بھی بچا نہیں کے مصداق ترجیحات کے انتخاب میں چُوک جاتے ہیں.
    دیھاڑی دار اور مزدور بن جانے والے پھر ڈال روٹی چلا لیتے ہیں
    جبکہ SWAG والے جوان اپنے سویگ کی توہین سمجھتے ہوئے نوکریوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں.
    اپنے جوانوں کو افرادی قوت کے طور پہ استعمال کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو منصوبے ہیں نہ فکر.
    ان کو حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد سیانپ آ جاتی ہے کہ اس وقت اس کی بجائے یہ کیا ہوتا تو یہ نہ ہوا ہوتا…
    مگر کب تک ہم اپنے نوجوانوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیں گے؟
    کب تک دبئی ترکی اور یورپ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ لیتے رہیں گے؟
    ہم خود کب ان کے لیے ترجیحات طے کرنا شروع کریں گے.
    ان سوالوں کے ساتھ آپکی آراء کی منتظر

    ‎@hsbuddy18