Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام جو کہ ہجری کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے جہاں سے اسلامی سال کی شروعات ہوتی ہے اور حرمت کے چار مہینوں، جن میں ذوالقعد، ذوالحج اور رجب کے بعد محرم الحرام بھی ان میں سے ایک ہے۔ جنہیں اللہ تعالی نے اشہرُ الحُرُم کے نام سے بھی نوازا ہے۔ محرم الحرام جو کہ اسلامی تاریخ میں حرمت و ادب کے اعتبار سے اپنی الگ پہچان تو رکھتا ہی ہے لیکن اگر ہم بنی نوع انسان کی تاریخ کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سے دیکھیں تو بھی ہمیں بہت سے ایسے اہم واقعات ملتے ہیں، جو کہ اس حرمت کے مہینے محرم الحرام میں پیش آئے ہیں۔

    اور انہی پیش آنے والے اہم واقعات میں سے چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

    حضرت آدم علیہ السلام کو جب ابلیس کے اکسانے پر غلطی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے حکم پہ جب جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کی اللہ تعالی سے کی گئی بہت سی دعاؤں اور معافیوں و استغفار کے بعد پھر جب اللہ تعالی اُن کی توبہ کو قبول فرمایا تو تب محرم الحرام کا ہی مہینہ تھا۔

    اور پھر جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمانے کے بعد جب میدانِ عرفات میں جبل رحمت کے مقام پر اُن کی ملاقات حضرت اماں حوّا سے کروائی، تو تب بھی 10 محرم الحرام ہی تھا۔

    حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پہ جب اللہ تعالی کے حکم سے عذاب نازل کیا گیا جس کو طوفانِ نوح بھی کہتے ہیں، اور اللہ کے حکم سے تب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو اور جانوروں و پرندوں کے ایک ایک جوڑے کو اپنی بنائی ہوئی ایک کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ تو اس طوفان کے تھمنے کے بعد جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑ پہ جا کر ٹھہری، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    اللہ کے ایک اور پیارے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کلیم اللہ کا لقب بھی حاصل ہے۔ تو جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پہ ایمان لے کر آنے والے ان کے ساتھیوں کا پیچھا کر رہا تھا لیکن پھر اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے انھوں نے اپنا عصا سمندر میں مارا تو سمندر کے پانی نے اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو گزرنے کے لیے راستہ دیا اور پھر فرعون اپنے لشکر سمیت اُسی سمندر میں غرق ہو گیا تھا، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھر ایک اور اللہ کے نبی حضرت یونس علیہ السلام جب اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے آئی ہوئی آزمائش کے طور پہ چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد جب اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے باحفاظت باہر آئے، تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھرحضور اقدس جناب محمد رسول اللہ کی اللہ سے دعاوں کے زریعے مانگي گئی مراد اور تقریباً بائیس لاکھ مربع میل تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اسی حرمت کے مہینے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو ہی ہوئی تھی۔

    تو اب آتے ہیں اُس عظیم اور دلوں کو چیر دینے واقعے کی طرف جو 10 محرم الحرام کو ہی پیش آیا تھا۔ لیکن ان سب بڑے بڑے تاریخی واقعات پہ اپنی عظمت کی وجہ سے چھا گیا۔ اللہ کے سب سے پیارے نبی و رسول اور نبی آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی اور جنت کی تمام عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے چوتھے اور آخری خلیفہ اور اللہ کے شیر کا لقب پانے والے جناب حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور نواسہ رسول و جگر گوشہ بتول اور نبی مکرم ﷺ سے شکل و صورت میں مشابہت رکھنے والے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار جناب حضرت حسین علیہ السلام نے جب اپنے اہلِ و عیال، عزیز و اقارب اور ساتھیوں سمیت تقریباً 72 افراد نے (جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے)۔ جب کربلا کے میدان میں ظالم و جابر یزید اور اس کے لشکر کے ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ظالم آپ علیہ السلام سے اپنی حکمرانی کو قبول کرنے کے لیے بیعت لینا چاہتا تھا۔

    اور اس سے پہلے بھی اور تب بھی اس ظالم یزید نے اپنی بیعت کروانے کے بدلے میں حضرت حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان و ساتھیوں کی جان بخشی کرنے اور انہیں بہت سے دنیاوی انعام و اکرام سے نوازنے کی بھی مسلسل پیش کشیں کیں۔ لیکن حضرت حسین علیہ السلام نے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی تعلیمات اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اُس ظالم و جابر یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں سمیت کربلا کی تپتے ہوئی ریت والے ریگستانوں میں اُس ظالم اور اُس کے لشکر کے خلاف ڈٹے رہنے کے بعد شہادت کی عظیم مثالیں قائم کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش فرمائے۔

    اور شہادت کی ان عظیم مثالوں کے زریعے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے دینِ اسلام میں ایک نئی روح پھونکی اور اسلام پہ چلنے والے مسلمانوں کے لیے حق کی راہ میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جانوں تک کو قربان کر دینے سے بھی نہ کتراتے کی عظیم مثال قائم کی، جو کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کے طور پہ بھی یاد رکھی جائے گی۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کی اِس عظیم مثال سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی اور اُس کے رسول ﷺ اور اسلام کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز جاننا چاہیے اور حق بات پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ کسی ظالم یا جابر سے ڈر کر اپنی جان بچانے کی خاطر کبھی اُن کا ساتھ نہیں دینا چاہیے، بلکہ وقت پڑنے پر حق تعالی کی خاطر جان کی بازی تک لگا دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو حضرت حسین علیہ السلام کی قائم کی ہوئی اس عظیم مثال پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name: Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • باعث شرم واقعات اور ہماری تقسیم  تحریر-سیدلعل حسین بُخاری

    باعث شرم واقعات اور ہماری تقسیم تحریر-سیدلعل حسین بُخاری

    چودہ اگست کے روز مینار پاکستان میں ہونے والے افسوسناک واقعہ کی ابھی دُھول بھی نہیں بیٹھی تھی کہ چنگ چی رکشے والا شرمناک واقعہ رونما ہوگیا۔بد قسمتی سے یہ واقعہ بھی اسی روز ہوا۔جب
    بظاہر انسان نُما ایک شخص نے کُتے کی طرح لپک کر رکشے پر بیٹھی لڑکی کے ساتھ وہ حرکت کی،جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔
    اس جانور کی حرکت دیکھنے والے کچھ بزدل وڈیو بناتے رہے،کچھ بے شرموں کی طرح دانت نکالتے رہے اور کچھ بے غیرتی میں حصہ ڈالتے ہوۓ ہنس ہنس کر محظوظ ہوتے رہے۔
    ان میں سے کوئ مائ کا لعل ایسا نہیں تھا جو اس لعنتی کو پکڑ کر دو چار لگا سکتا؟
    اگر اتنا نہیں کر سکتے تھے تو کم ازکم اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے ہی کر دیتے۔
    یہ بےحسی کی انتہا ہے۔
    جب ہم ایسے معاملات پر خاموش تماشائ بن جائیں گے تو ایسے زلیل لوگوں کے حوصلے بڑھیں گے۔
    ان معا شرتی ناسوروں کے ہاتھوں کسی کی بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔
    ایسے لوگوں کو پٹہ ڈال کر زنجیر سے باندھنا ضروری ہے۔
    جہاں ایسے واہیات اور ننگ انسانیت لوگوں کی سرکوبی حکومت کی زمہ داری ہے،
    وہیں ہمارے بھی کچھ فرائض ہیں۔ہماری آنکھوں کے سامنے ایک مردود ہماری ایک بیٹی کے ساتھ اس قسم کی گھناؤنی حرکت کرے اور ہم خاموش تماشائ بنے رہیں،
    کہاں کی مردانگی ہے یہ؟
    کہاں ہے ہماری غیرت؟
    اس واقعہ میں نظر آنے والی لڑکی ہم سب کی بیٹیوں یا بہنوں جیسی تھی تو پھر لوگ محض تماشا کیوں دیکھتے رہے؟
    کیوں سب نے خاموش تماشائ کا کردار ادا کیا؟
    بیٹیاں ،مائیں اور بہنیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔
    آج اس قسم کا واقعہ ایک لڑکی کے ساتھ ہوا ہے،جس سے ہمارا خونی رشتہ نہ سہی،مگر انسانیت کا رشتہ تو ہے !
    کل کلاں اس قسم کا واقعہ کسی ایسی بچی کے ساتھ ہو سکتا ہے،جو ہماری اپنی ہو،ہوسکتا ہے ہماری رشتہ دار ہو۔
    تو آئیے ملکر ایسے گندے انڈوں کے خلاف منظم مہم کا آغاز کریں۔
    ایسی حرکت کرنے والے جہاں نظر آئیں،اُن کے ہاتھ روکیں۔ان کو نشان عبرت بنانے کے لئے اداروں سے نہ صرف تعاون کریں بلکہ اجتماعی طور پر ایسا کرنے کے لئے ان اداروں پر دباؤ بڑھائیں۔
    اگرہم ایسا نہیں کریں گے تو معاشرہ تباہی کی طرف مزید کھسکتا رہے گا۔
    بربادی ہمارے اور قریب آتی جاۓ گی۔
    ایسے واقعات کی روک تھام کی بنیادی زمہ داری تو حکومت کی ہوتی ہے۔
    مگر بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ بزدار حکومت ان معاملات پر ستو پی کر سوئ ہوئ ہے۔
    حکومت کو جاگنا ہو گا،
    کیونکہ ایسے واقعات سے عمران خان اور پی ٹی آئ کے نظریے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
    اسے حکومت کی ناکامی کے طور پر لیا جا رہا ہے،اور لیا بھی جانا چاہیے۔
    ہر چیز،ہر بیماری اور ہر مسئلے کو پچھلی حکومتوں پر ڈال کر جان چھڑا لینے کی روش اب ختم ہونی چاہیے۔
    کب تک آپ لوگ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کرتوتوں کے پیچھے چھپتے رہیں گے۔تین سال بہت ہوتے ہیں۔اپنے بلند و بانگ دعوووں کی کوئ جھلک تو دکھائیں عوام کو۔عوام نے مہنگائ برداشت کر لی مگر آپ معاشرے کے ان بگڑے دگڑ دلوں کو تو نتھ ڈالیں،جنہوں نے بہنوں اور بیٹیوں کا گھروں سے نکلنا محال کر رکھا ہے،اور ہر جگہ دندناتے پھرتے ہیں۔
    نئے پاکستان میں پرانے نقائص ختم کئے جائیں ورنہ لوگ پھر پرانے پاکستان ہی میں واپس جانے کو ترجیح دیں گے۔
    پولیس ابھی تک عوام کو روایتی طور طریقوں سے ہانکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    مگر اب عوام اس قسم کے لولی پاپ سے مطمئن ہوتی نظر نہیں آتی کہ آپ کچھ افسران کو معطل یا ٹرانسفر کر کے لوگوں کی جھوٹ موٹ اشک شوئ کر دیں۔
    غفلت برتنے والے اہلکاروں کے لئے یہ کوئ سزا نہیں ہے۔اگر کسی کو اسکی نااہلی اور فرائض سے چشم پوشی کی سزا دینا ہی ہے تو انہیں نوکروں سے برطرف کر کے جیلوں میں ڈالیں۔
    مینار پاکستان واقعہ میں کل کچھ افسران کو معطل اور ٹرانسفر کر کے وہی پرانا ڈرامہ دہرایا گیا۔
    مگر اس ڈرامے کو پزیرائ نہیں ملی۔
    ایسے ہونے والے پے در پے واقعات کا تسلسل سے ہونا،
    جہاں صوبائ انتظامیہ کی نااہلی ہے،
    وہیں ہماری تقسیم کا بھی نتیجہ ہے۔
    اب انہیں واقعات کو لے لیں،
    علامہ اقبال گریٹر پارک والے واقعہ میں کچھ لوگ ٹک ٹاک والی متاثرہ لڑکی کے پیچھے پڑ گئے،
    کچھ نے اقرار الحسن کو ٹارگٹ کر لیا۔
    کچھ ان سینکڑوں افراد کو برا بھلا کہتے رہے،جنہوں نے لڑکی کو زدوکوب کیا،
    اور اسے بر ہنہ کر کے اچھالتے رہے۔
    جب لوگ اس طرح بٹ جائیں اور راۓ عامہ تقسیم ہو جاۓ تو انتظامی مشینری کو کُشن مل جاتا ہے۔
    وہ اسی سپیس کا فائدہ اٹھا کر پتلی گلی سے نکل جاتی ہے کہ لگے رہو تم سب آپس میں،
    ہم یہ گئے۔
    یہی لمحہ فکریہ ہے ہمارے لئے۔
    ہم غلط کو غلط تو کہتے ہیں پر اپنی مرضی کا رنگ دیکر۔
    ہم تو یہاں تک سوچتے ہیں کہ کس سائیڈ پہ لکھنے کی وجہ سے ہمیں زیادہ لائیک ملیں گے۔
    ضروری نہیں،
    جو زیادہ لوگ کہہ رہے ہیں ،
    وہی سچ ہو۔
    ہمیں خصوصا” سوشل میڈیا پر ان معاشرتی برائیوں پر لائیکس اور ریٹویٹس کے لئے نہیں بلکہ معاشرے سے ان برائیوں کو خاتمے کے لئے لکھنا چاہیے۔
    ہو سکتا ہے سچ لکھتے وقت آپ کی تائید میں کم لوگ ہوں۔
    اس بات کی پرواہ مت کریں کہ آپ سچ لکھ کر اکیلے ہیں۔
    جھوٹ خواہ کتنا بھی زیادہ ہو،مگر جیت ہمیشہ سچ ہی کی ہوتی ہے۔
    گزشتہ روز چنگ چی رکشے پر بیٹھی بچیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا،
    اُس نے صرف میرا ہی نہیں بلکہ ہر زی شعور شخص کاسر شرم سے جھکا دیا۔
    میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اُس نُطف نا مراد کے خلاف کچھ کر سکوں۔
    اتنی غلیظ حرکت وہ بھی سر بازار اور چودہ اگست ہی والے دن۔
    مگر میری افسوس اور حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی،جب میں نے کچھ لوگوں کو رکشے میں بیٹھی بچیوں کو اس واقعہ کا مورد الزام یہ کہہ کر ٹھہراتے دیکھا کہ جی ان لڑکیوں کا لباس بھی ٹھیک نہیں تھا؟
    حد ہوتی ہے،منفی سوچ کی۔
    اور اپنا وکھرا لُچ تلنے کی۔
    پہلی تو بات یہ ہے کہ مجھے ان بچیوں کا لباس قطعا” نامناسب نہیں لگا۔
    اور اگر اس میں کسی قسم کی کمی بیشی رہ بھی گئی ہو تو کیا ہم آوارہ نسل کے پاگل کتوں کو اجازت دے دیں گے کہ وہ لپک کر ان لڑکیوں کا بوسہ لیں؟
    یہ کونسا فلسفہ ہے،
    جو ہمیں اس قدر محدود سوچ کی طرف لے کر جا رہاہےکہ ہم ایک چھوٹی سی غلطی کو پکڑ کر بلنڈر کرنے والوں کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
    خدا کے لئے بس کردیں اپنی پروفیسریاں،
    نکلیں ان خود ساختی فتووں سے۔
    اور پیچھا کریں معاشرے میں بڑھتے ہوۓ ان درندوں کا۔
    ان وحشیوں کا،جو نہ صرف ہماری ماوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھنبوڑ رہے ہیں بلکہ
    اسلام اور پاکستان کا نام بدنام کرنے پر بھی تُلے ہوۓ ہیں۔#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پہ جو ماحول بن چکا ہے اس نے مجھے دوبارہ قلم اٹھانے میں مجبور کردیا۔ مینار پاکستان پر ہونے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پہ کافی دنوں سے کافی ہل چل مچی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی توجہ کا رخ مرد ذات کی طرف ہے۔ ہر مرد و عورت کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ اگر سو مرد ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہیں تو ضروری نہیں کہ ان میں سارے کے سارے عورت کی عزت کرنے والے ہی ہونگے۔

    یقیناً ان میں سے آٹھ دس غلط مرد بھی شامل ہونگے جو کہ عورت کو بری نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ اسی طرح ہر سو میں آٹھ دس عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عورت ہونے کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کبھی مردوں پر الزام تراشی، تو کبھی غلط قسم کی آزادی کے لیے عورت مارچ کا حصہ بن کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں۔

    تو پھر کیا ہم باقی کے مردوں اور عورتوں کے خلاف بولنے لگ جائیں اور انہیں غلط کہنا شروع کردیں؟ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر مرد اور ہر عورت برے ہوں۔
    کچھ روز قبل مینار پاکستان پر جو حرکت چار سو مردوں نے کی اس واقعے نے مرد ذات پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ لیکن کیا یہ ٹھیک بات ہے کہ ہم معاشرے میں موجود چند گندے انڈوں کی وجہ سے باقی مردوں کے کردار پر بھی بات کریں؟کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس دنیا میں صرف وہی چار سو مرد نہیں رہتے۔

    ہمارے اردگرد وہ مرد بھی موجود ہیں جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں۔ ان کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے سکیورٹی فورسز میں بھی تو زیادہ تعداد مردوں کی ہے اور وہ نا صرف عورتوں کی بلکہ پوری قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تو ہم کیوں ان چار سو بھیڑیوں کی وجہ سے اپنے محافظ مردوں کو بھول جائیں۔ اس کے علاؤہ ہم نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جو سوشل میڈیا پر اور جب جہاں ضرورت پڑے عورت کے حقوق اور ان کی جائز آزادی کے لیے اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں۔ ہر اس مرد کے خلاف بھی بولتے ہیں جو عورت کی تذلیل اور اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں۔ پھر میں کیسے کہہ دوں کہ مرد ذات بری ہے جب کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے گھر کے مردوں کی ہی وجہ سے ہوں۔

    جنہیں میں نے ہمیشہ ہر عورت کی عزت کرتے دیکھا ہے۔ میں کیسے کہہ دوں کہ ہر مرد برا ہے جب کہ میں نے اپنے اردگرد ایسے بےشمار مرد دیکھیں ہیں جو عورتوں کو دیکھتے ہی اپنی نظریں جھکا لیتے ہیں۔ مرد بھی عزت کے قابل ہے۔ جو صبح سے شام تک اپنے گھربار کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت اور اس کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ عورت کی طرح مرد بھی مظلوم ہے۔ خاص کر آج کے معاشرے میں جہاں جب بھی کوئی جنسی تشدد اور گھریلو تشدد کا کوئی واقع سامنے آجائے تو پوری کی پوری مرد ذات پر آوازیں قسی جاتی ہیں۔

    کیا مرد انسان نہیں؟ کیا کچھ گندے بھیڑیوں کی وجہ سے ہم باقی مردوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں جناب جو عزت کے قابل ہے اسے عزت ملنی چاہیے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں مظلوم مردوں کے لیے بھی اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • نیا پاکستان اور ہماری عوام  تحریر  : راجہ حشام صادق

    نیا پاکستان اور ہماری عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس نظام کے نفاذ  کے لیے دیکھا جانے والا وہ  خواب جو ستر سال پہلے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا الحمدللہ ۔ اس چشم فلک نے علامہ محمد اقبال کے اس خواب کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں حقیقت میں بنتے ہوئے دیکھا۔

    اس خواب کو حقیقت میں بدلنےکے لیے مسلمانوں کو عبرت ناک سزائیں برداشت کرنی پڑھیں ۔ جانیں اور عزتیں تک نہ بچ سکیں ۔ اللہ تعالٰی کی خاص کرم سے پاکستان بنا بھی۔ ہمارے لیڈر جنہیں ہم بابائے قوم بھی کہتے ہیں قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت کی بدلت اور پھر سنبھل بھی گیا۔

    ہمارا یہی وطن 60 کی دہائی میں دنیا کے لیے مثال بنا ہوا تھا۔ اسی دوران مارشل لاء کا دور بھی آیا اور جمہوری حکومتیں بھی آئیں مگر ترقی اور استحکام کا سفر نہ رک سکا۔

    بد قسمتی سے 80 کی دہائی کے آخر میں وہ لوگ پاکستان کی سیاست بھی گھس گئے ۔ جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی پیٹ پوجا تھا۔ بزنس مین ذہن بھی وطن عزیز کی سیاست کی بھاگ دوڑ سنبھالنے لگا۔
    ان بزنس مین ذہنوں میں شامل دو خاندان جن کے بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی عرب پتی بن بیٹھے۔اور کیا ہونا تھا ۔ تیری باری میری باری والا سیکول شروع ہوا ۔ ان کے ہر ایڈیشن نے ملکی معیشت کا بیڑا ڈبونا شروع کردیا۔

    ان کاروباری ذہنوں نے اپنے مفاد کے حصول کے لیے نوکرشاہی سے ان کا پروفیشنلزم چھین لیا۔ اسی دور میں کرپشن نامی جن نے جنم لیا جس کی دھاک پورے ملکی نظام کے جوڑ جوڑ میں سرا گئی ۔اس وقت سے لے کر اب تلک حالات اس نہج تک پونچ چکے کہ نوکری سے لے کر برتن سرٹیفکیٹ لینے تک کے لیے عملے اور آفیسرز کی جیبین گرم کرنا پڑتی ہیں۔

    ایک دستخط جو بامشکل پانچ منٹ کا بھی کام نہیں اس کے لیے بھی مہینے لگ جاتے ہیں ہاں افسر شاہی کی جیب گرم کریں وہی کام پانچ کیوں دو منٹ میں اسی آفیسر کا چپڑاسی آپ کو کرا کے دے دے گا۔ 
    جب چیزیں اس قدر خراب ہوں تو ہم کیسے ان کو پلک چھپکتے ہوئے ٹھیک کر سکتے ہیں؟؟

    اب ایک اور لیڈر نے اس ملک کو ایک عظیم ملک بنانے کا خواب دیکھا ہے وہ ہمیں بھی وہ خواب دیکھا رہا ہے وہ خواب ہے نیا پاکستان وہ پاکستان جہاں عدل و انصاف کا نظام ہو ایسا نظام جو تمام پاکستانیوں کے لیے برابر ہو وہ نظام جو ریاست مدینہ میں تھا ایک ایسا نظام جہاں ہمارے غریب لوگ بھی اسی معاشرے میں عزت کی زندگی جی سکیں۔

    اپنی جدوجہد کے تقریبا پچیس سال بعد کپتان عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بکھرے ہو ہجوم کو اس نے ایک کر دیا اتنا باشعور کر دیا ہے کہ وہ اب غلط کو غلط کہنے کی جرات کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس صیح اور غلط میں دوست اور دشمن میں مکمل طور پر پہچان نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ پچیس سال بعد بھی وقت کا کپتان اکیلا کھڑا ہے۔اور اس قوم کے بچوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔ریاست مدینہ کے ماڈل کی ریاست کا خواب دینے والا کپتان نے تو راستے کا بہتر انتخاب کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی کپتان کے اس خواب کو سچ بنانے کے لیے اس کا بھرپور ساتھ دیں آخر یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔منزل تک پہنچنے کے لئے عوام کا ساتھ ضروری ہوتا 

    ہماری قوم کو وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان  فلمی انداز میں بدلا ہو چاہے۔ جو چیزیں تیس سالوں میں خراب ہوئیں وہ کیا ہم ایک سال یا تین سال میں ٹھیک کرسکتے ہیں؟
    اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    گزشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں ایک ٹک ٹوکر لڑکی کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ واقعہ قابل مذمت ہے لیکن اس بات پر یقین کرنا میرے لئےانتہائی مشکل ہے۔ دل و دماغ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ چار سو مرد ہوں اور سب کے سب ایک ہی کام میں لگے ہوں۔ مشاہدہ میں تو یہ آتا ہے کہ آج بھی اگر ایک لڑکی کو دو لڑکے راہ چلتے چھیڑ دیں تو دو سو مرد ان دو لڑکوں کی ٹھکائ کرنے فوراجمع ہو جاتے ہیں۔ کوئی خاتون اگر مذاق میں بھی یہ کہہ دے کہ اس لڑکے نے مجھے چھیڑا ہے تو بنا تصدیق کئے باقی تمام مرد اس لڑکی کی بات کو سچ مانتے ہوئے لڑکے پر اپنے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دینگے اورجب تک پولیس نہ پہنچ جائے وہ بے چارہ ہجوم سے پٹتا ہی رہے گا۔
    ہم وہ جزباتی لوگ ہیں جو کبھی بھی بنیادی وجہ کو تلاش نہیں کرتے،جڑ نہیں پکڑتے شاخوں پرچھولتے رہتے ہیں ۔ اگر چار سو مرد حضرات نے ایسا کیا ہے تو ہرگز ان کی طرف داری نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کا یہ عمل انتہائ قابل مزمت ہے اور یہ بات کہنے بھی کوئ عار نہیں کہ وہ لوگ مرد تھے ہی نہیں مرد ہوتے تو ایسا کام نہیں کرتے۔
    لیکن دوسری جانب یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں؟ یہ ٹک ٹوک اور مختلف لائیو سٹریمنگ کی ایپلی کیشن کیسے عورت کو ایک نمائشی آلہ بنائےچلی جارہی ہے اور عورت ہے کہ نمائش بنتی جا رہی ہے۔چندلائکس شیئر اور فالوورز کے چکر میں سر راہ ، پارک میں ، چلتی سڑک پر ، مردوں کے ہجوم میں یہ دوپٹہ اتار دینا ، باریک اور تنگ لباس زیب تن کر کے رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو ریکارڈ کرانا تو پھرسستی شہرت حاصل کرنے کی چاہ میں آپ کو عزت سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑے گا۔اگر آپ حریم شاہ بنیں گی تو مولوی عبدالقوی تو پھر مل ہی جانے ہیں۔ شہد کو کھول کر رکھنے کے بعد یہ توقع کرنا کہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھیں کیسے ممکن ہے۔گھر کی دیوار کو اگر چھوٹا رکھا جائے گا یا دروازہ کھلا رکھا جائےگا توچوری تو ہو گی ہی۔
    وہ مردبھی قابل لعنت ہیں جو اس گندے فعل کے مرتکب ہوئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کیلئے بھی ۔۔اس ٹک ٹوک اور اس جیسی ایپلی کیشن نےتو اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ جن خواتین کو گھر یا خاندان کا کوئی ڈر ہے تو وہ صرف اپنے ہاتھ یا پیر دکھا کر بکواس اور بےہودہ جملوں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ کبھی آپ ان لڑکیوں کی ان ویڈیوز پر موجود کمنٹس پڑھ لیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتے رہ جائیں۔یہ سب کیا ہورہا ہے؟ عورت کی اتنی تزلیل کہ وہ ایک مارکیٹنگ ٹول بن کے رہ جائے۔۔ جس نے آنے والی نسل کو پالنا ہے اپنی پرورش سےہماری اقداراور رواج کو نئ نسل میں منتقل کرنا ہے ۔
    کیا ہے یہ سب ؟ کس طرف جا رہے ہیں ہم؟ کیا ہم خود ہی اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فریسٹریشن کو جنم نہیں دے رہے؟ بڑے بڑے شاپنگ مال ہوں یا کوئی بھی جگہ ، مارننگ شو ہو یا پھر کوئی پروگرام ۔ عورت کو ایک ٹول کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔۔ یہ سفر کہاں کا ہے ؟کہاں ختم ہو گا؟پتہ نہیں !
    اچھا پھر ہوتا کیا ہے کہ مبینہ طور پرآپ ایسی سستی شہرت تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن بعدمیں ایسے واقعات ملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو ایسے واقعات کو نمک مرچ کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمارے جزباتی دوست بناء سوچے سمجھے اس ففتھ جنریشن وار کا حصہ بن جاتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں چل پاتا کہ وہ کتنی خوبصورتی سے دشمن کی سازش کا شکار ہو گئےاورخود ہی سوشل میڈیا پردشمن کے خلاف چلنے والے ٹرینڈ ختم کرکے اپنے ہی ملک کے خلاف ٹرینڈ شروع کر دیتے ہیں کبھی سوچئے گا کس کمال مہارت سے دشمن نے آپ کے ہی ہاتھوں موضوع بدلوا دیا اور پھر ایسی کیمپین چلائ کہ لگاپاکستان سے غیرتمند مرد ہی ختم ہو گئے ہیں۔ جب کہ آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ آج بھی دیگرمعاشروں سے لاکھ درجے بہتر ہے ۔ یہاں آج بھی بیٹی اور بہن کی عزت ہے ۔ اس کے محافظ موجود ہیں ۔
    میری رائے میں اسلامی قانون کا نفاذ ہی ان مسائل کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے ۔اس کام میں تو ابھی وقت لگے گا لیکن ان ایپس پر تو فوری پابندی عائد کی جاسکتی ہے جو اخلاقیات کے جنازے نکال رہی ہیں اورپابندی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ذہن سازی بھی ہونی چاہئے تاکہ ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کچھ کرنے کیلئے کوئی مثبت راستے مل سکیں اور وہ اس طرح کی ایپس وغیرہ اور سستی شہرت سے دور رہ سکیں ۔ لیکن یہ سب ہو گا کیسے ہمیں توصرف شور مچانے کی عادت پڑ چکی ہے ۔۔
    اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے پر رحم کرے ۔ آمین

    @Azizsiddiqui100

  • اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے.   تحریر: احسان الحق

    اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے. تحریر: احسان الحق

    جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے، اور انسان ہمیشہ اسی کام میں رہے گا اور روز قیامت اسی کام کو سرانجام دیتے ہوئے زندہ کیا جائے گا. اعمال کی مقبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور ان مقبول اعمال کا فائدہ بندے کے خاتمے پر منحصر ہے. اگر کوئی بندہ ساری زندگی اعمال صالحہ کرتا رہے اور خدانخواستہ اس کا خاتمہ اچھا نہ ہو تو ان اعمال کا فائدہ نہیں ہوگا. اگر کوئی بندہ نیک اعمال نہیں کرتا مگر اس کا خاتمہ باالخیر ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے فلاح پا جاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
    بعض اوقات تم جس بندے کو اعمال صالحہ اور تقویٰ کی بنیاد پر جنتی سمجھ رہے ہوتے ہو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوتا ہے اور معصیتوں اور برے کاموں کی بنیاد پر جس بندے کو تم جہنمی سمجھ رہے ہوتے ہو بعض اوقات اس کا ٹھکانہ جنت میں ہوتا ہے.
    مندرجہ بالا ارشاد عالیشان سے مراد یہی ہے کہ خاتمہ ہر حال میں خیر پر اور بہتر ہونا چاہئے.

    شریعت نے ایسے امور کی راہنمائی فرمائی ہے جو اچھے خاتمے کا سبب بنتے ہیں. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ.
    "اللہ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا فرماتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور قیامت کے دن بھی” یہاں قول ثابت سے مراد لا اله الا الله مطلب توحید ہے. بندہ صحیح معنوں میں توحید پر ڈٹا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت کے متعلق ثابت قدمی عطا فرماتے ہیں.
    دوسرے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے اس وقت تم گمراہ نہیں ہونگے، ایک قرآن اور دوسری حدیث.

    خاتمے کی بنیاد پر جنتی یا جہنمی کا فیصلہ ہو جاتا ہے. اس حوالے سے متعدد صحیح واقعات احادیث مبارکہ میں موجود ہیں.
    ایک غزوہ میں ایک آدمی بڑی شجاعت اور جوانمردی سے کفار کا قتال کر رہا تھا. کفار کی جس صف میں گھستا سب کو موت کے گھاٹ اتار کر واپس نکلتا. صحابہ کرامؓ فرماتے کہ قتال، شجاعت اور بہادری میں اس دن اس سے کوئی بڑا نہیں تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں میں سے کسی نے جہنمی کو دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لو.
    صحابہ کرامؓ یہ سن کر پریشان ہو گئے کہ اتنی بہادری سے کفار کا قتل عام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا. ایک صحابی اس آدمی کے تعاقب میں رہتے ہیں. وہ بندہ اسی شجاعت اور جوانمردی سے قتل پہ قتل کرتا جا رہا ہے. آخرکار وہ شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تکلیف کو برداشت نہ کر پایا. اپنی تلوار کا دستہ زمین پر لگا کر اپنا سینہ تلوار پر رکھ کر جھول گیا اور تلوار دو کندھوں کے درمیان پشت سے آرپار ہو گئی اور وہ حرام موت مر گیا. ساری زندگی اچھے کام کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آخری جنگ میں شریک ہو کر کفار کا قتل عام بھی کیا مگر خاتمہ اچھا نہیں ہوا.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت کے دن شہید کو لایا جائے گا، اس کی شہہ رگ کٹی ہوئی ہوگی، خون بہہ رہا ہوگا. خون کا رنگ تو لال ہوگا مگر اس سے جنت کی کستوری والی خوشبو آ رہی ہو گی. جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے وہ کام کرتے ہوئے اس کو زندہ کیا جاتا ہے.
    ایک محدث رحمتہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ سلف صالحین کی آنکھوں کو جس بات نے سب سے زیادہ رلایا وہ خاتمے کے متعلق ہے. وہ اس بات پر روتے رہتے تھے کہ خاتمہ کس صورت اور کس حال میں ہوگا.

    صحیح بخاری میں ایک شخص کا قصہ مزکور بے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کر رہا تھا. طواف کرتے ہوئے تلبیہ پڑھ رہا تھا. کہیں اس کی سواری کا پاؤں کسی ناہموار جگہ یا کسی بل میں چلا گیا، جس سے اونٹنی اپنا توازن کھو بیٹھی اور آدمی گردن کے بل گر گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے احرام کی چادروں کو نہ بدلو، اسی احرام کی چادروں میں دفن کرو. اس کا سر نہ ڈھانپو، دوران حج احرام میں سر ننگا ہوتا ہے. اس کو خوشبو بھی مت لگاؤ کیوں کہ احرام کی صورت میں خوشبو لگانا منع ہے. یہ بندہ حالت حج کی ادائیگی میں فوت ہوا اور قیامت کے دن اسی طرح حج کرتے ہوئے اٹھے گا.

    بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے کہ 100 بندوں کے قاتل کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیتے ہیں. کیوں اس بندے کا خاتمہ خوف الٰہی کی وجہ سے توبہ کی تلاش پر ہوا. وہ بندہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر توبہ کی غرض سے دوسری بستی جا رہا ہوتا ہے کہ راستے میں موت واقع ہو جاتی ہے.
    کفل کا واقعہ بھی ہم سب جانتے ہیں، آخری درجے کا زانی اور شرابی تھا. ایک رات برائی کرتے وقت دل میں خیال آیا اور عورت کو مقررہ رقم دے کر واپس بھیج دیا. خوف خدا دل میں آیا اور توبہ کی اور اسی لمحے فوت ہو گیا. اللہ تعالیٰ نے اس کے دروازے پر لکھوا دیا کہ کفل کو معاف کر دیا گیا ہے.

    صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت محمد رسولﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی موت کے وقت اسکو لا اله الا الله کا علم ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا. موت کے وقت خالی کلمہ کے ورد کا فائدہ نہیں، لا اله الا الله میں توحید ہے. اس میں ایک اثبات اور نفی ہے. اس کلمے کی بنیاد پر مرنے والے شخص کا خاتمہ ہونا چاہیے. اللہ کے رسولﷺ نے تبلیغ کے ذریعے تمام لوگوں تک توحید کا پیغام پہنچا کر حجت قائم کر دی. بندے کے خاتمے اور ٹھکانے والا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق دیں اور خاتمہ باالایمان عطا فرمائیں.

    @mian_ihsaan

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ چہارم  ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ چہارم ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    پاکستان تحریک انصاف نے2013میں بننے والی ن لیگ کی حکومت کے اگلے سال ہی الیکشن میں دھاندلی اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق سیاستدانوں کے احتساب کے لئے ایک احتاجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

    2014 میں عمران خان نے اپنی اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا اور دارالحکومت تک لانگ مارچ لے گئے اور 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف طویل ترین دھرنا دیا۔
    انہوں نے اس دھاندلی کے لیے ن لیگ کی حکومت کو اس کا زمہ دار ٹھہرایا احتجاجی تحریک میں چار چاند اس وقت لگ گے جب عمران خان نے علامہ طاہرالقادری سے سے ہاتھ ملا لیے جو کہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
    اور پھر دونوں رہنماؤں نے مل کر لانگ مارچ کا آغاز کر دیا
    مسلم لیگ ن کے بھرپور ہتھکنڈوں جیسا کہہ گوجرانوالہ میں عمران خان کے قافلہ پر پتھراؤ اور گولیوں کے باوجود یہ دونوں رہنما اپنے اپنے قافلہ کو لانگ مارچ کی صورت میں بزریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوگے
    اس میں ان کو عوام کی طرف سے بھر پور حمایت حاصل تھی دارلحکومت اسلام آباد پہنچ کر تاریخ کا ایک لمبا ترین 126دن کا دھرنا دے دیا اور اس میں حکومت کو بہت مشکل ٹائم دیا اس دھرنا میں جو مطالبات تھے وہ نواز شریف کا استعفی اور چار حلقوں کے الیکشن کھولنے اور ماڈل ٹاؤن کے زمہ داروں کو کٹہرے میں لانا تھا
    دھرنے میں جہاں بہت سی مشکلات آئی الزامات لگے جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑ دی اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگاۓ اور دھرنا کا زمہ دار ان کو ٹھہرایا لیکن عمران خان نے ہمت نہیں ہاری اور ڈٹے رہے
    اسی دوران انہوں نے ایک صحافی خاتون ریحام خان سے شادی بھی کر لی
    شادی بنی گالہ میں سادی سی تقریب کی شکل میں منعقد ہوئی اس شادی کو عوام نے شروع میں بہت سراہا
    دھرنا اس وقت ختم کرنا پڑا جب آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشتگردوں نے ایک بڑا حملہ کر دیا جس میں 135افراد شہید ہوۓ جن میں زیادہ تعداد سکول کے معصوم بچوں کی تھی
    دھرنا میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت عروج پر جانے کم بعد جب کم ہونے لگی تو اسی اثناء میں تب ہی اپریل 2016 میں پاناما پیپرز اسکینڈل سامنے آیا۔ عمران خان، جنہوں نے لیکس کو "خدائی تحفہ کا بھیجا گیا” قرار دیا تھا، نے وزیرِ اعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اپنی دولت کا حساب دیں۔
    احتساب کے اسی طرح زور دینے کے دوران کچھ مہینوں میں حکومت اور اپوزیشن کا شریف خاندان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی شرائطِ تحقیقات پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔اور ریفرینس کی ٹرمز نہ تہہ ہوسکی

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ یہ نواز شریف کے اختتام کا آغاز تھا۔اور کپتان عمران خان کے عروج کا وقت پھر سے شروع ہونے لگا۔ جاری ہے

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • معاشرے میں تربیت کا فقدان تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    لفظِ ”تربیت“ اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے۔ سادھے الفاظ میں ”تربیت“ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ برے اخلاق وعادات اور غلط اور غیر مثالی ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک مثالی اور پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ”تربیت“ ہے۔

    تربیت کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور تربیت کے بغیر انسانوں کا معاشرہ نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی۔ تربیت کے فقدان کےباعت ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے

    ماضی میں ہمارے اجداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تھے اسکے باوجود بھی وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے ادب و آداب پر خاص توجہ دیتے تھے اور اپنے بچوں کو سیکھتے تھے کہ بڑوں کا ادب کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کیسے کی جاتی ہے مگر افسوس اب ہمارے معاشرے میں تربیت کا فقدان واضح نظر آتی ہے۔

    بچے مستقبل میں قوم کے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت و تعیلم دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک بہترین اور مضبوط معاشرے کیلٸے ایک صحیح بنیاد ڈال رہے ہیں۔ اپنے بچوں کی بہترین تعليم و تربیت سے ایک بہترین اور مثالی معاشرہ وجود میں لاسکتے ہیں کیونکہ ایک بہترین پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!
    اپنے بچوں کی شخصیت میں اخلاقی بحران اور تہذیبی اقدار کی قلت کی سب سے بڑی وجہ ہماری غفلت ہوتی ہے۔ ہم اپنے مسائل و مصائب میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم تیزی سے دوڑتی زندگی کے چیلنجز اور مشکلات سے نمٹنے میں اپنے بچوں کو فراموش کرجاتاہے ہمارا اور اپنے بچوں کے درمیان رابطوں کا یہ فقدان بعض اوقات وہاں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی ہے

    اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو وقت دینا چاہیے، انہیں زندگی گزارے کے طور طریقے سیکھاٸیں، انہیں صحیح اور غلط کی تمیز سیکھاٸیں، انہیں دین کی جانب راغب کریں، انہیں بتاٸیں کہ عورتوں کے ساتھ احسن طریقے پیش آنا چاہیے اگر معاشرے کوٸی جانور عورت پر ظلم و ستم کر رہا تو اس کو روکے اور اسکی ڈھال بنیں ۔ بچوں کو سیکھاٸیں کہ بزرگوں اور بڑوں کا احترام و تکریم سیکھاٸیں، بچوں کو دین پر چلنا اور اللہ اور اسکے ارشادات پر عمل کرنے والا بناٸیں، والدین کے ساتھ احسن سلوک کرنا سیکھاٸیں، حلال کماٸی کی جانب راغب کریں، حیا اور بےحیاٸی میں فرق کرنا سیکھاٸے اور اپنے بچوں وہ سب سیکھاٸیں ،جو ایک مثالی معاشرے کی اہم ضرورت ہے

    قارئين !!ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہی اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں، اپنے بچوں کو تعلیم کیلٸے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں داخل کراتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کیا ان اداروں میں آپ کے بچے کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کی جاٸیں یا نہیں۔ اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہو تو معاشرہ ترقی کی سیڑھی نہیں چڑھ سکتا۔

    آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی انداز میں کریں کہ اگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل بھی ہوں تو معاشرے کی آلودگی ان کو متاثر نہ کرسکے۔

    دعا ہے کہ اللہ ﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    مینار پاکستان پر جو بھی واقعہ پیش آیا یقیناً افسوس ناک تھا اور اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے
    لیکن یہ میڈیا اور پاکستان کے خلاف بغض رکھنے والے لبرل ٹولے نے یہ کیا تماشا شروع کر رکھا ہے کہ
    ایک بیچاری لڑکی کو چارسو بغیرت مردوں نے نوچ لیا کوئی بھی غیرت مند نہ نکلا؟
    ان کے پاس لوگوں کی غیرت ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟
    کیا ثبوت ہے کہ اس عورت کو ڈالا جانے والا ہر ہاتھ اسے رسوا کرنے کیلئے تھا؟
    وہ ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے اور بچاو کے لیے بھی توہو سکتا ہے نا؟
    کیسے دی جاسکتی ہے یہ سٹیٹمنٹ کہ سب مرد بھیڑیے تھے؟

    اگر واقع ہی وہاں موجود سب مرد عورت کی بے حرمتی کے لیے اکھٹے ہوئے ہوتے تو آج محترمہ کی بوٹیاں بھی نہ ملتیں معذرت کے ساتھ!!!!!
    اگر دس بارہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کی لڑائی ہوگئی تھی تو یقیناً باقی ویلی عوام اس تماشے کو دیکھنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہوگی۔اور باقی کچھ عورت کے بچاو کے لیے۔
    ویسے جب مرد اور عورت برابر ہیں تو وہ ہاتھا پائی بھی تو سکتی ہے نا واویلا کیسا؟

    لڑکے لڑکے بھی تو لڑتے ہی ہیں لڑکی لڑکا لڑ پڑے تو اب عورت کو عورت کارڈ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ہمارے ملک کو تباہ ہی یہ لبرل اور ان کی گندی سوچ نے کیا ہے۔ یہ گندے لوگ آپس میں ہی لڑ مر کر معاشرے کی بربادی اور بدمامی کا سبب بن رہے ہیں ۔کبھی آزاد خیال نور مقدم اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے تو کبھی عائشہ آوارہ لونڈوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے

    لیکن بدنام کون ہوتا ہے؟
    ہم سب عورتیں
    ہم سب مرد
    سب پاکستانی
    نور مقدم کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیاگیا پھر لبرل قاتل اس کے سر کے ساتھ کھیلتا رہا یقیناً ظلم ہوا۔نور کے ماں باپ کو زندگی بھر کا روگ لگ گیا لیکن کیا اس سب میں قصوروار صرف قاتل اور اسکی ذہنی گندگی تھی؟؟ کیا پورا لبرل ٹولا قصوروار نہیں تھا جس نے ماڈرن بننے کے لیے بے حیا بننے کو لازم قرار دے دیا ہے؟
    تو اب ہم مقتولہ کے غم میں کیوں نڈھال ہوتے رہیں؟اللہ اسکی مغفرت فرمائے بس۔

    جب ان عورتوں کو گھر پہ ٹکنے اور باہر نکلتے ہوئے مناسب لباس پہننے اور پردہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ خواتین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں قید سمجھتی ہیں آزادی چاہتی ہیں تو لے لیں آزادی کے مزے اب رونا پٹنا کیوں ڈال رہی ہیں؟
    ابھی تو شروعات ہے اگر ہمارا میڈیا اور لبرل ٹولا مل کر ایسے ہی نوجوان نسل کے دماغوں میں گند بھرتے رہے تو ایسے اور بھی واقعات پیش آئیں گے
    تواتر سے پیش آئیں گے
    اور ہماری یہ مزمت ان واقعات کو بالکل کنٹرول نہیں کرسکے گی۔
    اس لیے ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور لوٹ آئیں اپنے دین کی طرف۔چھوڑ دیں بے حیائیاں اور اور الله کی حدود کو پامال کرنا خدارہ چھوڑ دیں
    چھوڑ دیں وہ تمام حرکتیں جن کا انجام اتنا بھیانک نکلتا ہے کہ انسانیت کیا حیوانیت بھی شرما جائے

  • زمہ دار پاکستانی بنیں تحریر : شاہ زیب

    زمہ دار پاکستانی بنیں تحریر : شاہ زیب

    ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس سرزمین سے قدرتی طور پر ہمیں بہت لگاؤ ہوتا ہے۔
    اسی طرح پاکستان ہے یہ وہ سرزمین ہے جسے ہمارے بزرگوں نے بہت سی جانی مالی قربانیاں دے کر حاصل کیا اس دھرتی سے محبت ہمیں ہمارے ورثہ میں ملتی ہے ہر پاکستان کو یہ سرزمین کسی بھی شے سے بڑھ کر عزیز ہے
    ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کے بھی ہم پر کچھ فرض یا زمہ داریاں ہیں جس میں سرفہرست اس کی حفاظت اور اس کی عزت ہے۔
    جی ہاں ! جی ہاں عزت اس سرزمیں کی اس دھرتی کی اس ملک کی جس میں ہم رہتے ہیں
    اس ملک میں کچھ بھی ہوتا ہے تو بجائے متعلقہ اداروں کو اطلاع کرنے اور ان کو انکا کام کرنے کے ہم پہلے ہی طوفان اٹھا دیتے ہیں بغیر تحقیق کے جزبات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اس کا ڈھونڈورا پیٹ ڈالتے ہیں ہم اس بات کا بلکل خیال نہیں کرتے کہ یہ سب بطور ریاست پاکستان کے امیج کے لیے کتنا برا ہے
    سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر شخص کے ہاتھ میں سمارٹ موبائل ایل اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی ادھر کوئی واقعہ ہوا ادھر ہم نے دھڑا دھڑ پاکستان کو بد نام کرنا شروع کر دیا
    کیا جرائم یا برے واقعات صرف ہمارے معاشرے میں ہوتے ہیں؟
    نہیں بلکل بھی نہیں یہ ترقی یافتہ تو کیا ترقی پذیر ممالک میں بھی ہوتے ہیں
    اور اس کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے لیکن کیا آپ نے کبھی دوسرے ممالک کی عوام کو اس طرح کرتے دیکھا ہے وہ لوگ جرائم پر آواز ضرور اور بلند کرتے ہیں ہیں جو کہ کرنی بھی چاہیے اور اس سے نہ آپ کو کوئی منع کر رہا ہے نہ کر سکتا ہے کہ یہ آپ کا حق ہے لیکن اپنے ہی ملک کو بد نام مت کریں کریں اگر آپ کے پاس سوشل میڈیا کی طاقت ہے تو خدارا اس کا درست استعمال کریں جس طرح کا آج کل پاکستان کی نوجوان نسل کا حال ہے ان کے ہوتے ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں اپنی طاقت کو پہچانیں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اس ملک کی عزت کی حفاظت کرے جو کہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
    جب ہم لوگ احتیاط نہیں کرتے اور ایک چھوٹی سی چنگاری کو بھڑکا کر خود آگ لگا دیتے ہیں تو اس میں نہ صرف ہم بلکہ ہمارے ملک کی عزت بھی داؤ پہ لگ جاتی ہے نادانی میں ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور ہم دشمن کو موقع فراہم کر دیتے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ ہمیں ملکی اور غیر ملکی ہر سطح پر بدنام کرنا شروع کر دیتا ہے یہ وہ ہی لوگ ہیں جو پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار میں سرگرم ہیں دوسرے ممالک میں اگر کوئی جرم کرتا بھی ہے تو وہاں کی عوام اس کے خلاف اس طرح پروپیگنڈا نہیں کرتی کیونکہ ان کو پتہ ہے اس سے ہمارے ملک کا وقار مجروح ہوگا لیکن یہاں پر بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں عوام اور جیسے ہی کچھ حادثہ ہوا وہ اس پر شور کرنا شروع کر دیتے ہیں ہیں یہ درست ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظالم ہی ہوتا ہے مگر زمہ داری کے ساتھ کسی بھی ملک کی عزت اور وقار اس ملک کی عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے ہم جیسا رویہ رکھتے ہیں اور جس طرح دوسروں کو اپنا ملک دکھاتے ہیں وہ ہی ان کو نظر آتا ہے۔
    یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کی عزت کی حفاظت کریں اس کے خلاف ہونے والی مہم میں نہ استعمال ہوں نہ ہی دشمن کو موقع دیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے پہلے ہمیں انفرادی طور پر اس پر کام کرنا ہوگا جب ہم خود ٹھیک ہوں گے تو یہ معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔۔ شکریہ
    @shahzeb___