Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کشمیری بچوں کا منہ توڑ جواب

    پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کشمیری بچوں کا منہ توڑ جواب

    لاہور:سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں کشمیری بچوں نے پاکستان کے خلاف بولنے والے بھارتی صحافی کو کرار جواب دے کر خاموش کرا دیا-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی اس ویڈیو کوجرنلسٹ عمر جاوید نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کیا ویڈیو میں کشمیری بچے پاکستان اور چین کی تعریف جبکہ بھارت سے نفر ت کا اظہار کر رہے ہیں۔


    بھارتی صحافی بچوں کے ساتھ پاکستان کے بارے میں جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر بھارتی فوج ہٹ جائے تو پھر پاکستان آئے گا، وہ آپ لوگوں کو بم بنا کر دے گا،آپ کو پتہ ہے پاکستان میں ایسے بیٹھنا بھی مشکل ہے تو بچے کسی بھی سمجھدار سے زیادہ ذہین ثابت ہوتے ہیں اور جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ
    ” پاکستان ہمارے ساتھ ہے ، چین پاکستان کا ساتھ دیتاہے اور وہ ہمارا ساتھ دیتا ہےوہ ہمیں مار بھی دیں توبھی منظور ہے ۔“

    بچے یہ بات کرنے کے بعد نعر ہ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ” لے کر رہیں گے آزادی “ بھارتی صحافی بچوں کی باتیں سننے کے بعد تو اپنا سامنہ لے کر رہ جاتاہے اور اس کے پاس کوئی مزید جواب نہیں بچتا۔


    دوسری جانب پنجاب کےگورنر چوہدری محمد سرور نے بھی اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر اس ویڈیو کوشئیرکیاویڈیو شیئر کرتے ہوئے گور نر چوہدری محمدسرور نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیاں اس دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے ، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتی انشاء اللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔

    گور نر چوہدری محمدسرور نے کہا کہ95ہزار سے زائد کشمیری بھارتی افواج کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں بندوق سے لیکر ٹینک تک استعمال کر کے بھی بھارت کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا قتل اور دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کر رہا ہے۔

  • افغانستان کے خلاف  ون ڈے سیریز،قومی ٹیم کا کپتان کون ہوگا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز،قومی ٹیم کا کپتان کون ہوگا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    سری لنکا میں افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم کی کپتانی شاداب خان کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو کم کرنے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں لیا گیا ہے سری لنکا میں شیڈول تین میچوں پر مشتمل سیریز کے لیے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم سمیت محمد رضوان، شاہین آفریدی اور حسن علی کو آرام دیا جا سکتا ہےچاروں کرکٹرز گزشتہ ایک سال سے متواتر طور پر مختلف سیریز کھیلتے آ رہے ہیں۔

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر محمد رضوان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران ہم مسلسل سیریز کھیلتے آ رہے ہیں اور وہ بھی بائیو ببل میں جو کہ کافی مشکل ہوتا ہے ہمارا سب سے اہم ہدف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے، جس کی وجہ سے ہمارے اہم کھلاڑیوں کو آرام درکار ہے تاکہ وہ ورلڈ کپ کے لیے تازہ دم ہو کر آئیں۔

    غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان: سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    افغان کرکٹ آفیشل کےمطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغان قومی کرکٹ ٹیم کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ٹی 20 لیگ کو بھی نہیں روکا جائے گا کرکٹ افغانستان کا سب سےمقبول کھیل ہے، اور حالیہ عرصے میں کھیلوں کے میدان میں بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان کی سری لنکا میں پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز ستمبر میں شیڈول ہے-

    فواد عالم لاجواب فارم میں ہیں وہ زبردست کھیل پیش کررہے بابر اعظم

  • غیر ملکی  کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان:  سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان: سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے

    نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان سے قبل انتظامات کے جائزے کے لئے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان سے قبل انتظامات کے جائزے کے لئے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈیوڈ سنیئر لاہور پہنچ گئے ہیں جبکہ دوسرے ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن کل صبح پہنچیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق نیوز ی لینڈ اور انگلینڈ بورڈز نے دورہ پاکستان کے لئے سیکیورٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں اور ماہرین آئندہ ہفتے سے کا م کا باقاعدہ آغاز کریں گے جبکہ سیکیورٹی ماہرین کو پنجاب اور فیڈرل افسر بریفنگ دیں گے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی افسر قذافی سٹیڈیم اور راولپنڈی سٹیڈیم کا دورہ بھی کریں گے ۔

    نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر کیرنز کامیاب سرجری کے بعد صحتیاب ہونے لگے

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی دونوں ٹیموں کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شامل تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پہلا ایک روزہ میچ 17 ستمبر کو ہو گا-

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم میں 3 ایک روزہ میچز اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گےدونوں ٹیموں کے درمیان 3 ایک روزہ میچز راولپنڈی اور 5 ٹی ٹوینٹی میچز لاہور میں ہوں گے جو 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہیں گے-

    غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    نیوزی لینڈ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے لیےترتیب دیئے گئے بمپر کرکٹ سیزن 22-2021 میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی نیوز ی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کراچی پہنچے گی۔آسٹریلیا بھی آئندہ سال فروری مارچ میں پاکستان کا دورہ کرے گی-

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

  • ایک برگزیدہ خاتون کی داستان تحریر:محمد سدیس خان

    حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ بلندی کے اس مقام تک کیسے پہنچے ، آپ کے والد کا آپ کے بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا، آپ کی والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنا اور اپنے یتیم بچے کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ جب یہ بڑے ہونے لگے تو ماں ڈرگئ کہ اب میرا بچہ بڑا ہورہا ہے، گلیوں میں کھیل رہا ہے کہیں یہ غلط لڑکوں کے ساتھ بگڑ نہ جائے۔
    لوگوں سے مشورہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا مدرسہ ہے وہاں ایک بڑے شیخ ہیں وہاں جو بچے پڑھتے ہیں، وہ اللّٰہ کے ولی بن جاتے ہیں، ہمارا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو وہاں داخل کرادو، بیوہ ماں اپنے یتیم بچے کو لیکر اس مدرسہ میں پہنچی ، وہاں کے شیخ سے ملاقات کی ، تعارف کرایا کہ حضرت میں ایک غریب بیوہ عورت ہوں، محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتی ہوں۔
    اس یتیم بچے کو ساتھ لائی ہوں، یہ گلیوں میں کھیلنے لگا، مجھے ڈر ہے کہ یہ کہیں بگڑ نہ جائے، میری تمنا یہ ہے اور میرے مرحوم شوہر کی بھی یہی تمنا تھی کہ میرا بچہ عالم ربانی بنے، دین کا خادم بنے اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں پھیلائے، آپ اس بچے کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور اس کو ایسا عالم بنا دیجیئے کہ یہ نائب رسول بن جائے اور اللّٰہ کو پسند آجاے۔
    وہ بزرگ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ تم اس بچے کو چھوڑ جاؤ، میں جو کچھ کرسکا وہ کروں گا۔ مگر یہی نہیں جاتے جاتے اس اللّٰہ کی بندی نے ایک درخواست اور کی کہ حضرت! یہ بچہ پہلی مرتبہ گھر سے نکل رہا ہے، اس کو میری یاد بھی بہت آئے گی ، مجھے یاد کرکے روئے گا ، گھر آنے کی اجازت مانگے گا مگر مگر یہ گھر آئے گا تو اس کا دھیان بٹ جائے گا اور یہ وہ نہیں بن پائے گا جو میں اسے بنانا چاہتی ہوں، اس لیے اس کو میرے پاس تب ہی بھیجئے گا جب یہ عالم بن جائے۔
    وہ بزرگ حیران رہ گئے کہ اس بیوہ عورت کی کیا ہمت اور کیا تمنائیں ہیں، بزرگ فرمانے لگے جاؤ دعاؤں سے میری مدد کرنا، مجھ سے جو کچھ ہوسکے گا وہ میں کروں گا۔
    وہ بیوہ ماں بچے کو چھوڑ کر چلی گئیں، بچے کی تعلیم وترتیب کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بچے نے کچھ کچھ مہینوں تک صبر سے کام لیا۔
    بالآخر بچے نے آکر استاد سے کہا کہ مجھے اپنی امی کی بہت یاد آرہی ہے، مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیجئے ، میں گھر چلا جاؤں۔
    اب استاد بہت پریشان کہ چھٹی دیتے ہیں تو اس کی والدہ سے کیا ہوا وعدہ ٹوٹتا ہے اور اگر چھٹی نہیں دیتے تو اس معصوم بچے کا دل ٹوٹتا ہے، اللّٰہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ اللّٰہ اس مسئلہ کا حل فرما دیں۔
    اللّٰہ نے مدد فرمائی، دل میں ایک ترکیب آگئ اور فرمایا کہ میں تمہیں سبق دیتا ہوں، جب تم اسے یاد کرکے شام تک سنادوگے تو میں تمہیں چھٹی دیدوں گا۔ بچہ خوش ہوگیا، استاد نے سبق دیا اور جان بوجھ کر اتنا دیا کہ کہ وہ شام تک یاد ہی نہ ہوسکے۔
    جب بچے نے سبق کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ یہ سبق تو شام تک یاد نہیں ہوسکے گا۔
    اب بچہ حیران کہ میں کیا کروں، دوبارہ استاد کے پاس جاکر سبق کم کرنے کی درخواست کروں تو یہ استاد کی بے ادبی ہو جائے گی۔ اب ماں کو ملنے کو بھی بہت جی چاہ رہا ہے، استاد صاحب تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں رات کو تکیہ پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں حالانکہ میں کافی دیر تک منہ چھپائے روتا رہتا ہوں۔
    ایک ترکیب ذہن میں آئی ، اس نے کتاب کو ادب کے ساتھ رحل پر رکھا اور اللّٰہ سے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللّٰہ! میں نے یہی سنا ہے کہ آپ ہی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کی قدرت سب سے زیادہ ہے اے اللّٰہ ! آج مجھ یتیم بچے کی دعا قبول کرکے اپنی قدرت کو استعمال کردیجیۓ۔
    آج شام تک یہ سبق یاد کروا دیجئے ، اے اللّٰہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی امی کی یاد میں کتنا تڑپ رہا ہوں، اے اللّٰہ! میرے ٹوٹے دل کو سکون دیجئیے۔
    میرے ابو زندہ ہوتے تو وہ آجاتے، میں ان کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیتا، خوب یقین کے ساتھ دعا کی اور پھر سبق یاد کرنے بیٹھا، شام تک اسے سبق یاد ہوگیا۔
    استاد کو یقین تھا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اتنا سبق بچہ ایک دن میں یاد کرلے، بچے نے سبق سنانا شروع کیا اور پورا سبق سنادیا، استاد سمجھ گئے کہ اس بچے کا معاملہ کچھ اور ہے، اب استاد نے گھر جانے کی اجازت دی اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا، بچہ خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
    ہنستا کھیلتا جارہا ہے کہ میں یوں امی سے ملوں گا، آواز دوں گا، پھر چھپ جاؤ گا ، پھر امی سے لپٹ جاؤں گا، پھر امی مجھے کھانا کھلائیں گی، مجھے امی اپنے پاس سلائیں گی کہ کب سے امی کی خوشبو نہیں سونگھی، انہی خیالوں میں وہ معصوم بچہ گھر کی طرف رواں دواں ہے۔
    گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ بند تھا ، آواز دی لیکن جواب نہیں ملا، پھر آواز دی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے؟
    بچے نے باہر سے جواب دیا امی میں آپ کا بچہ بایزید ہوں، اندر سے جواب آیا کون بایزید، میرا بچہ بایزید تو گھر تب آئے گا جب وہ اللّٰہ کا ولی بن جائے گا، بس وہ بچہ وہیں کھڑے کھڑے روتا رہا۔
    وہ سمجھ گیا کے میری امی نہیں چاہتیں کہ میں ابھی ان سے ملوں۔ یوں روتے روتے وہ واپس چلا اور استاد کو سلام کیا، استاد نے پوچھا تم واپس کیسے آگئے خیریت تو ہے؟
    اب بچہ نے جواب دینے کے لیے جو اپنا چہرہ اوپر اٹھایا ، استاد نے دیکھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ استاد نے بچہ کو گود میں لیا ، اپنے عمامہ کے پلو سے اس کے آنسو پونچھے ، گھر کا واقعہ سنایا۔
    استاد نے فرمایا یہ بات بتاؤ کہ تم اپنی امی سے ناراض ہوکر تو نہیں آئے؟
    بچے نے کہا میرا دل ٹوٹا بہت ہے ، میری آنکھیں بہت روئی ہیں لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میں ہزار خوشامد کروں مجھے چھٹی نہ دیجئے گا اور میری درخواست ہے کہ مجھے ویسا بنا دیجیئے جیسا میری امی چاہتی ہیں اور یہ درخواست بھی ہے کہ دعا فرمادیجئے میری امی بیمار رہنے لگی ہیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، مجھے ڈر ہے کے کہیں ان کی زندگی کا چراغ گل نہ ہو جائے۔
    ان کی زندگی میں وہ برکت ہوکہ وہ مجھے وہ بنا ہوا دیکھ لیں جس کی وہ چاہت رکھتی ہیں اور اتنی قربانیاں دے رہی ہیں ، استاد نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں روزانہ ان کی صحت کے لیے دعا کرتا رہوں گا ۔
    پھر بچے کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوگیا، دل کے کانوں سے سنو کہ اگلے ١٦ سال تک یہ بچہ اپنی ماں کے پاس نہیں گیا، اس عرصہ میں بچہ نے چھٹی بھی نہیں مانگی ، پھر کیا ہوا۔
    تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ کی عمر جب تقریباً ٢٢ سال کی ہوگئی تو ایک مرتبہ خواب میں استاد کو بوقت تہجد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان بایزید تمہارے پاس زیر تربیت ہے اس کو ولایت کبریٰ کا جھنڈا دے دیا گیا، اللّٰہ کے ہاں فیصلہ ہوگیا کہ اس کے ذریعے دنیا میں دین کا کام ہوگا، جاؤ اسکو خوشخبری سنادو اور روانہ کردو۔
    استاد صاحب اٹھے ، تازہ وضو کیا، شاگرد کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا ہے، پیچھے بیٹھ گئے، جب بایزید نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ادھر آؤ، سینے سے لگایا اور فرمایا تمہاری ماں کی قربانی رنگ لائی ہے ، تمہارے باپ کی تمنا پوری ہوئی اور تمہارا مجاہدہ اللّٰہ کے ہاں قبول ہوگیا۔
    جاؤ اللّٰہ کے دین کی خدمت کرو، اپنا عمامہ اتار کر شاگرد کے سر پر باندھا، یوں استاد نے دعاؤں کے ساتھ روانہ کردیا۔
    وہی راستہ وہی گھر تھا، انہی گلیوں میں پھرتے ہوئے وہ گھر پہنچے، دیکھا کے دروازہ بند تھا ، آواز دی تو ماں دوڑتی ہوئی آئی اور بچے کو سینے سے لگایا ، وہ نوجوان مسنون لباس سے آراستہ تھا، ماں نے بلائیاں لیں۔
    بچہ ماں کے قدموں میں گرنے لگا تو ماں نے جلدی سے اٹھالیا اور اپنے کلیجے سے لگا لیا اور بستر پر بٹھایا کہ تھوڑی دیر میں تمہیں گرم گرم کھانا کھلاؤں گی۔
    پہلے اللّٰہ کا شکر تو ادا کرلوں، پرانا بوریا بچھایا اور ماں نے دو رکعت کی نیت باندھی۔ پھر دعا کی کہ اے اللّٰہ! مجھ بیوہ کا شکر قبول کرلیجئے، آپ نے میری دعا قبول کرلی، میرے مرحوم شوہر کی تمنا پوری کردی۔
    سلام ہو بایزید بسطامی پر اور سلام ہو ان کی جلیل القدر ماں پر، وہ عظیم بیوہ عورت کی عظمت و ہمت کو دیکھئے۔
    جب عورت کی تمنائیں درست ہوتی ہیں تو امت کو بایزید بسطامی ملا کرتے ہیں۔
    Twitter : @msudais0

  • مومن حیا دار ہوتا ہے  تحریر:  نصرت پروین

    مومن حیا دار ہوتا ہے تحریر: نصرت پروین

    عورت کی حیا حجاب میں ہے۔
    اور مرد کی حیا نظر کی پاکیزگی میں ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اوصاف سے نوازا۔ ان اوصاف میں سے ایک بہترین وصف حیا ہے۔ حیا سے مراد دل کا برائی سے پردہ کرنا ہے۔ حیا کردار کی اکائی ہےاور حیا کا ایمان سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حیا کی وجہ سے انسان میں تقوی پروان چڑھتا ہے اور وہ گناہ سے باز آتا ہے۔ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
    حیا کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور ہے۔ جب دل میں حیا پیدا ہوتا ہے تو انسان ہر حالت میں تنہائی میں یا لوگوں کے سامنے غرضیکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہے۔ وہ برائی سے اجتناب کرتا ہے۔
    حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایسا وصف ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔ اور باحیا اور باپردہ دین والے ہی پاکیزگی کی اعلی مثال ہوتے ہیں۔ اگر حیا رخصت ہوجائے تو باقی تمام خوبیوِں پر خود ہی پانی پھر جاتا ہے۔ انسان ذلت و رسوائی میں پڑ جاتا ہے۔ خواہشاتِ نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ برائی کے کام سرکشی کے ساتھ کرتا چلاجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔
    یہ ایک المیہ ہے کہ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو لوگوں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ لوگ بری عادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں حیا کا سر چشمہ مرد اور عورت دونوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
    "بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر مرد میں حیا نہ رہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان بن جاتا ہے۔ اور اگر عورت سے حیا اٹھ جائے تو نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ اور جب کسی سر زمین پر بے حیائی پھیل جاتی ہے تو وہاں سے اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے وہاں طرح طرح کے عذاب آتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ آج ہمارے معاشرے میں ہورہا ہے۔ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بے حیائی کے پھیلانے میں اہم کردا اد کر رہاہے۔ اس میں میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک جیسی فحاشی سے بھرپور ایپلیکیشنز جو معاشرے سے حیا کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ زمانے میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ہر شعبے میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی ہم مشرقی تہذیب کے امین ہوا کرتے تھے۔ ہمارے مرد و خواتین شرم و حیا کا پیکر ہوتے تھے۔ لیکن پھر جدیدیت کے نام پر بے حیائی کی ایسی ہوا چلی جو ایمان کو بہا لے گئی۔ آج بے حیائی بھی عام ہے۔ اس کو سراہا بھی جاتا ہے۔ دوسروں کو بھی راغب کیا جاتا ہے۔ ان سب کی جیتی جاگتی مثال 14 اگست کے دن مینارِ پاکستان پر ہونے والا واقعہ ہے یقیناً یہ واقعہ ایک عام انسان کے لئے جب پہلی بار سنے تو دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ میں نے خود جب پہلی بار سنا تو بہت ہمدردی ہوئی لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو پتہ چلا کہ سارے واقعے کی جڑ ٹک ٹاک نے ہماری تہذیب کا ایسا جنازہ نکالا کہ جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ بے حیائی بھی گولہ نما ہوتی ہے جس کو جتنا پھیلایا جائے اتنی ہی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اور بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بے حیائی اللہ کی حدود سے تجاوز کر کے برائی کا نام ہے جس ہر اللہ کا عذاب تو ہوتا ہی ہے لیکن دنیاوی طور پہ بھی نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ بہت تکلیف دہ واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ دیکھیں اگر دنیا کی ساری عورتیں برہنہ ہو جائیں تو بھی اسلام مرد کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے اور مرد کا نگاہیں جھکانا ہی حیا ہے۔ اور دنیا کے سارے مرد اندھے ہو جائیں تو بھی اسلام عورت کو حجاب وحیاء کا درس دیتا ہے۔ اور حجاب ہی عورت کا حیا ہے۔ اور جب دونوں یعنی مرد کی نظر کی حیا اور عرت کا حجاب باقی نہ رہیں تو اذیت ناک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بےحیائی پھیلانے والوں کے متعلق فرمایا
    ‏بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    (سورۃ النُّوْر، 24 : 19)
    آج جائزہ لیں تو
    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ حیا کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ :
    1۔ ‏لوگوں میں سب سے کامل زندگی اس کی ہے جو حیا میں کامل تر ہے۔ حیا کی کمی آدمی کی زندگی کی کمی ہے۔
    2۔ ‏حیا لفظ حیات سے مشتق ہے
    پس جس میں حیا ہے وہی درحقیقت
    حیات ہے۔
    3۔ ‏حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔
    4۔ تمام اخلاق و صفات میں سے سب سے افضل اور قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بلند اور نفع بخش صفت حیا ہے، بلکہ یہ انسانی خواص میں سے ہے، جس شخص میں حیا نہیں وہ انسان نہیں محض گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے۔
    5۔ اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے۔
    6۔‏جتنا دل توحید میں کمزور اور شرک میں مضبوط ہوگا وہ دل اتنا ہی بے حیا اور حیا باختہ ہوگا۔
    7۔ ‏معاصی کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ حیا جو قلب کا اصلی جوہر حیات ہے، فنا ہو جاتی ہے حالانکہ ہر خیر و فلاح کی اصل جڑ شرم و حیا ہی ہے۔ جب یہی فنا ہو جائے تو خیر و فلاح کی امید ہی نہیں قائم کی جاسکتی۔
    دیکھیں دنیا ایک ظاہری زیب و زینت پر مشتمل گھاٹے کا سودا ہے۔ جس میں بے حیائی کے کئی رنگ ہیں۔ لہذا ان رنگوں میں گم ہو کر اپنے ایمان کا سودا نہ کریں۔ دین اسلام کا تو مزاج ہی حیا ہے۔ حیا کا ایمان، ادب اور اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ بطور مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دیکھیں۔ وہ کیسے شرم و حیا کا پیکر تھے۔ صحابہ کی زندگیاں پڑھیں جس طرح ہم مغرب ہیروز کو پڑھتے ہیں ایسے ہی اسلامک ہیروز کی حیات کا مطالعہ کریں تو ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ معاشرے کو جو گھن لگ گیا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری بےحیائی ہے جو مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اور مومن کبھی بھی بےحیا نہیں ہوتا ایمان کے دعوے دار تو ہم سب ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے ایمانی لیول کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے اور پھر حیا کو اپنانا اور معاشرے مین پروان چڑھانا ہمارا فریضہ ہے۔
    اللہ رب العزت ہم سب کو ایمان اور حیا کی بہترین حالت میں رکھیں۔ آمین
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • دوسروں کی ترقی سے حسد تحریر:جواد_یوسف زئی

    دوسروں کی ترقی سے حسد تحریر:جواد_یوسف زئی

    ہمارے ملک میں ایک رونا دھونا یہ رہا ہے کہ سرمایہ دار اس ملک کو کھا گئے۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہمیں لوٹ کر دولتمند ہوگئے ہیں۔
    سرمایہ دار کون ہوتا ہے؟ ایسا اشخص جس کو کاروباری طریقے آتے ہوں اور وہ تیزی سے ترقی کرتا ہے۔ جس معاشرے کا مجموعی ڈھانچہ دیانتداری کی بنیاد پر استتوار ہو وہاں کاروبار دینانتداری سے ہوتا ہے لیکن اگر معاشرے میں بد دیانتی کا راج ہو تو کاروبار میں بھی اس کے اثرات اتے ہیں۔ لیکن جو بھی صورت حال ہو، کاروباری شخص معاشرے کا ایک بہت مفید رکن ہوتا ہے اور اس کی برکت سے بے شمار لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ وہ جان مار کر کماتا ہے لیکن کھاتا کم ہے۔ اس کی بچت اس کے اپنے کام کم آتا ہے اور دوسروں کے زیادہ۔
    1890 کے لگ بھگ موجودہ انڈیا کے صوبے گجرات میں حبیب اسمٰعیل نام کا ایک خواجہ لڑکا برتنوں کی دکان میں ملازم ہوا اور چند سالوں کے اندر یہ اس کاروبار کا پارٹنر بن گیا۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1941 میں اس نے جنیب بنک کی بنیاد رکھی۔ آج اس خاندان کا کاروبار نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ سینکڑوں کمپنیوں پر مشتمل کئی گروپ ہیں جو دنیا کا کم و بیش ہر کام کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ یہ ملکی خزانے کو اربوں روپے ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں اور ان کے فلاحی کاموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ سکولوں کے ایک سلسلے کے علاوہ ایک بہت ہی معیاری یونیورسٹی یہ لوگ چلا رہے ہیں۔
    جب پاکستان بن رہا تھا تو قاید اعظم نے اسمٰعیل حیبیب کو پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔ جب ملک قائم ہوا توخزانے میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی۔ اوپر سے انڈیا نے ہمارے حصے کا پیسہ دینے سے انکار کردیا۔ ایسے میں قاید اعظم نے اسمٰعیل حبیب سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ رقم مملکت کو قرض دے سکتے ہیں؟ حبیب اسمٰعیل نے خالی چیک پر دستخط کرکے قاید اعطم کے سامنے رکھ دیا جس پر انہوں نے 8 کروڑ روپے نکال کر حکومت کا کام چلا لیا۔
    بعد کی حکومتوں نے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں کارٹل کہا گیا تو کبھی بائیس خاندان۔ اب ان کا نیا لقب مافیا رکھا گیا ہے۔
    ایک زمانے میں ان سب کا کاروبار زبردستی سرکاری قبضے میں لے لیا گیا۔ بیس سال بعد کارخانے کاٹھ کباڑ کا روپ اختیار کر گئے تو کہا گیا کہ واپس خرید لو۔ 90 کی دھائی میں کراچی میں اسی طرح کی ایک آئل ملز خسارے میں جاکر بند ہوگئی تو اس کے سابق مالک سیٹھ ولی محمد کو واپس لینے کی پیشکش کی گئی۔ اس نے جواب دیا کہ "ظالمو! دو سال اور میرے پاس رہنے دیتے تو میں اس کا مین گیٹ سونے کا بنوانے والا تھا۔ اب زنگ خوردہ کباڑ کا کیا کروں گا؟” یہ بات کارخانے کا سرکاری ملازم منیجر بتا رہا تھا۔
    ہمارے ملک کے پسماندہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی ترقی سے حسد کرتے ہیں۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

    لفظ "طالبان” کا وجود تحریر: عتیق الرحمن

    پہلے بتاتا چلوں پاکستان تحریک طالبان پاکستان نہ کبھی طالبان تھے اور نہ ہی مجاہدین۔ یہ پی ٹی ایم کی پرانی مسلحہ شکل تھی جو صرف اور صرف بھارت کے کہنے پر پاکستان کو بنیاد پرست اور عسکریت پرست باور کروانا چاہتے تھے۔ مُلَّا فضل اللّہ انتہائی ظالم شخص تھا اور اسکا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن صرف حمایت حاصل کرنے کے لئے اس عسکریت پسند گروپ کا نام تحریک طالبان پاکستان رکھا گیا
    اس بات کی وضاحت خود اس گروپ کے ترجمان احسان اللّہ احسان نے گرفتاری کے بعد کی کہ ہماری فنڈنگ بھارت سے ہوتی ہے اور افغان طالبان کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس بات کو بہت ناپسند کیا ور ہمارا داخلہ افغانستان میں ممنوع قرار دیا لیکن کیونکہ افغانستان میں بھارت امریکہ کے ساتھ ملکر سازش کررہا تھا تو اس لئے پاکستان تحریک طالبان افغانستان آتے جاتے رہتے تھے اور ظاہر کرتے تھے کہ انکا رابطہ افغان طالبان ساتھ ہے جو کہ بلکل جھوٹ تھا
    اب آتے ہیں اصل بات پر
    افغان طالبان جو کہ مجاہدین بھی کہلاتے ہیں یہ "طالبان” کیوں کہلاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شروع سے موجود ہیں جو کہ بلکل غلط ہے
    سویت یونین سے لڑائی میں جو افغان جنگجو تھے انہیں "مجاہدین” کہا جاتا تھا اور تب انکے چھوٹے چھوٹے گروپس بنے ہوئے تھے لیکن صرف لڑائی کی حکمت عملی کے لئے
    ان گروپس میں کسی کا نام بھی طالبان نہیں تھا حتی کے اسکا وجود ہی نہیں تھا۔ ان گروپس کی آپس میں مخالفت شروع سے تھی وہ بھی فنڈنگ پر جسکو پاکستان نے بہت کوشش کی کہ ختم ہو مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ حقانی جیسے گروپس اسی قسم کی حکمت عملی کے تحت وجود میں آئے تھے۔
    تب اس لڑائی کے دوران افغان لوگوں کو تعلیم اور رہائش دینے کے لئے پاک افغان بارڈر پر مدرسے قائم کیے گئے جن میں ان لوگوں کو بطور ٹیچر بھرتی کیا جاتا تھا جو جنگ کے دوران زخمی ہوجاتے تھے یا ریٹائرمنٹ لے لیتے تھے۔ ان میں مُلَّا عمر بھی تھا کیونکہ جنگ کے دوران اسکی ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی تو مزید اسے جنگ نہیں لڑسکتا تھا
    اسے ایک مدرسے کا ہیڈ بنا دیا گیا۔ روس جب واپس چلا گیا تو جہاں جہاں مجاہدین کا جو گروپ تھا وہ اس علاقے کا حکمران بن گیا۔ ان میں سے کچھ حکمران بہت ظالم بھی تھے جو لوگوں کو اغوا کرتے ریپ کرتے اور بھتہ وصول کرتے تھے۔ اسی دوران ایک حکمران کے کچھ لوگوں نے مُلَّا عمر کے مدرسے کے ایک بچے کو اغوا کرلیا۔ مُلَّا عمر نے کوشش کی کہ پرامن طور وہ بچہ واپس مل جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ پھر اس نے اپنے مدرسے اور اسکے آس پاس کے مدرسوں کے طلبا کا ایک چھوٹا سا لشکر بنایا اور بچے کی بازیابی کو نکل پڑے۔ انکے پاس زیادہ طاقت تو موجود نہ تھی لیکن پھر بھی انہوں نے بزور طاقت اس بچے کو چھڑوا لیا۔ اب اس دیکھا دیکھی میں اور بھی بہت سے لوگ انکے لشکر میں شامل ہونے لگے اور درخواست کی کہ ہمارے حکمران ہم پر ظلم کرتے ہیں تو آپ ہماری بھی مدد کریں۔ اسطرح لشکر بڑھ کر اتنا بڑا ہوگیا کہ ایک مضبوط گروپ کی شکل اختیار کرگیا۔ تبھی اسے انکو "طالبان” کہا جانے لگا کیونکہ یہ سب ایک مررسے کے طالبعلم تھے۔
    مُلَّا عمر نے پاور میں آنے کے لئے مزید گروپس کو اپنے ساتھ شامل کرنا شروع کیا اور پہلی بار افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ اب یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے جو فنڈنگ روس کے خلاف جنگ میں شروع کی تھی وہ روک لی کیونکہ وہ افغان طالبان کی حکومت امریکہ کی مرضی کے بغیر بنی تھی۔ امریکہ کی فنڈنگ روکنا ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی جس پر افغان طالبان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں 9/11 کا واقعہ رونما ہوا
    کیونکہ اب امریکہ کا افغانستان میں مفاد ختم ہوچکا تھا تو اس لئے اس نے افغان طالبان کو دہشت گرد ڈکلئر کرکے اس پر حملہ کردیا
    اس وقت سے اب تک بھی طالبان نہ صرف موجود ہیں بلکہ اب انہوں نے امریکہ کو بھی شکست دی ہے۔

    @AtiqPTI_1

  • روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    کینیڈین سیاح اور وی لاگر روزی گیبریل نے لاہور سے گوادر تک کا سفر بغیر کسی سیکورٹی کے اکیلے کیا اور دنیا کو اپنے یو ٹیوب چینل سے یہ میسج دیا کہ پاکستان بہت محفوظ جگہ ہے اور پانچ ماہ کے سفر وسیاحت میں ایک مرتبہ بھی پاکستان کے کسی بھی مقام پر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے بعد انہوں نے شمالی علاقہ جات کا بھی سفر کیا اور یہ بتلایا کہ جہاں بھی وہ گئیں، ان کی عزت کی گئی۔ ان کی بائیک خراب ہوئی تو فری ٹھیک کر دی گئی۔ کہیں رات پڑ گئی تو فیملی نے مہمان نوازی کی۔ اس خاتون نے 14 ماہ پاکستان میں گزارے۔ اس قدر متاثر ہوئی کہ اسلام قبول کیا اور ایک پاکستانی سیاح سے شادی بھی کر لی۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں کہ ایک ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرام 14 اگست 2021ء کو مینار پاکستان کے ساتھ ملحق گریٹر اقبال پارک میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنانے جاتی ہے اور ایک ہجوم اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اس کو ہراساں کرتا ہے اور تقریبا اڑھائی گھنٹے تک اس کے جسم سے کھیلتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ لڑکی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔ البتہ اس نے یہ بیان دیا ہے کہ اس کو بالکل برہنہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن واقعے کی جو ویڈیوز اور امیجز موجود ہیں، ان میں کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔ مبینہ ذرائع کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی سلیفیاں لینے کے لیے دھکم پیل ہوئی اور اس دھکم پیل میں اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر ٹچ کیا گیا ہے۔ اس پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ لی ہے۔

    روزی گیبریل اور عائشہ اکرام دونوں میں قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے پردہ نہیں کیا ہوا تھا اور دونوں اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں لیکن ایک کو معاشرے نے عزت دی اور دوسری کو ذلیل کر دیا۔ اس میں فرق کیا ہے۔ اس میں فرق عورت عورت کا ہے۔ روزی گیبریل پورے پاکستان کا اکیلے سفر کرتی ہے اور کوئی اسے دن کیا رات میں بھی ہاتھ تک نہیں لگاتا اور دوسری طرف ایک لڑکی کو دن دیہاڑے لاہور شہر کے ایک معروف پارک میں چار سو افراد کتوں کی طرح پڑ جاتے ہیں۔ آپ ان دونوں کیسز کی ویڈیوز اور امیجز دیکھیں گے تو فرق کھل کر سامنے آ جائے گا۔

    روزی گیبریل جہاں گئی، اس نے مردوں سے فاصلہ برقرار رکھا اور انہیں واضح میسج دیا کہ ہمارے درمیان ایک حد قائم ہے۔ یہ پڑھی لکھی خاتون تھی اور سچی آرٹسٹ تھی۔ اسے مرد کی نظروں سے نہیں، سیاحت میں دلچسپی تھی لہذا لوگوں نے اس کی اور اس کے فن کی قدر کی۔ اس نے ہمیشہ بچوں اور عورتوں کے ساتھ تصاویر کھچوائیں اور انہیں پبلک کیا۔ دوسری طرف عائشہ اکرام کے بارے مبینہ ذرائع یہ کہتے ہیں کہ وہ ٹک ٹاکر تھی، اسے فالوورز چاہیے تھے۔ جس کو وہ ہجوم کہہ رہی ہے، یہ ہجوم نہیں تھا، اس کے فالوورز تھے جنہیں اس نے خود وہاں بلوایا تھا۔ اور پھر یہ ناخوشگوار واقعہ ہوا کہ جس کے بعد ایک دن میں اس کے فالوورز کی تعداد پچاس ہزار بڑھ گئی۔

    تو بھئی عورت عورت کا فرق ہے۔ اس معاشرے کے مردوں کو عورت کے باہر نکلنے پر اعتراض نہیں اور نہ ہی اسے عزت دینے میں مسئلہ ہے۔ لیکن یہ معاشرہ اسی عورت کو عزت دیتا ہے جو خود سے عزت چاہتی ہو۔ جو عورت پہلے ہی مردوں کے ہاتھوں کھلونا بننے کو تیار ہو، ان کی گود میں چڑھ کر یا گلے میں بانہیں ڈلوا کر تصویریں کھچوائے۔ اور پھر سامنے موجود بعضوں کو کہے کہ تم صبر کر کے دیکھتے رہو تو مرد ایسی عورت کی عزت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی فالووننگ سے ہی اس کی فیم کی جبلت پوری ہوئی ہے تو اب وہ چاہتے ہیں کہ بدلے میں وہ ان کی جبلت پوری کرے۔ یہ تو لین دین کا سودا ہے۔ اور یہی سب کچھ مبینہ ذرائع عائشہ اکرام کے حوالے سے نقل کر رہے ہیں۔

    وینا ملک، قندیل بلوچ، حریم شاہ اور عائشہ اکرام کا رستہ بے حیائی کا رستہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ مشہور ہونا چاہتی تھیں یا فیم چاہتی ہیں۔ حریم شاہ کو بھی دیکھ، آج کل شیشہ پیتی نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد دیگر منشیات اور ڈرگز کی بھی عادی ہو جائے گی کہ اس رستے کا انجام ہی یہی ہے حالانکہ یہ مدرسے کی پڑھی ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے حسن وخوبصورتی میں لوئر مڈل کلاس کی خواتین کو بھی وہ فیم اور فالوونگ دلوا دی ہے جو کبھی ایلیٹ کلاس کی خواتین کا مقدر ہوا کرتی تھی تو لوئر مڈل کلاس کی لڑکیاں عورتیں اس فیم اور فالوونگ کے پیچھے پاگل ہو گئی ہیں۔

    پہلے وقتوں میں ایلیٹ کلاس کی عورتوں کو یہ فیم اور فالوونگ اپنے حسن وجمال یا آرٹ کی وجہ سے حاصل ہوتا تھا لیکن اب یہی فیم اور فالوونگ معمولی حسن رکھنے والی لڑکیوں کو مردوں کو لبھانے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسی عورتوں کی بڑی فالوونگ معاشرے کا رذیل مرد ہوتا ہے جو ان کے وجود کو تک کر اپنی آنکھیں سیکتا رہتا ہے۔ اور ان عورتوں کو بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی مرد ان کا فالوور ہے اور جس درجے کا یہ حسن رکھتی ہیں، اس میں ایسا ہی فالوور مل سکتا ہے اور اسی کو لبھا کر ہی فیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ تو یہ ساری گیم مشہوری کی ہے اور سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی ہے۔ کبھی معاشرے پر شیروں کا راج ہوتا تھا لیکن بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ جس نے گیڈروں کو بھی شیروں کی کھال پہنا دی اور انہوں نے اپنے آپ کو شیر سمجھ بھی لیا اور اب یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ لوگ ہماری شیر کے جیسی عزت کیوں نہیں کرتے ہیں۔

    بھئی، کیا بات کرتے ہو، مغرب کا معمولی درجے کا حسن تو وکٹم کو اب ریپ کی بھی یہ خوبصورت تاویل سجھا رہا ہے کہ میں اتنی خوبصورت تھی تو تبھی تو مرد اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پایا اور زبردستی پر آمادہ ہوا یعنی یہ میرے حسن کا کمال ہے کہ جس نے مرد کو جانور بنا دیا تھا۔ مردوں میں سیکس کی جبلت اور عورتوں میں مردوں کے لیے سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت، نہیں معلوم کہ کون سی زیادہ ہے اور کون سی کم۔ دونوں جبلتوں کو جب جب اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک رشتہ ازدواج کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی گئی تو معاشرے میں خیر پھیلا۔ اور جب جب ان دونوں جبلتوں کو مذہب اور اسلام سے آزاد کیا گیا تو اس اس وقت معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ جتنا مرد کا اپنی سیکس کی جبلت کو آزاد چھوڑ دینا فتنہ ہے، اتنا ہی عورت کا اپنی سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت کے لیے کچھ بھی کر گزرنا باعث فساد ہے۔ اور یہاں روزی گیبریل اور عائشہ اکرام کے واقعے میں تقابل کرتے ہوئے قرآن مجید کی ایک آیت سچ صادق آتی ہے: الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ۔ ترجمہ: خبیث مرد، خبیث عورتوں کے لیے اور خبیث عورتیں، خبیث مردوں کے لیے۔ اور پاکیزہ عورتیں، پاکیزہ مردوں کے لیے، اور پاکیزہ مرد، پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ جو لڑکی حریم شاہ بننا چاہتی ہے تو اسے اس معاشرے میں ہر مرد بھی مفتی عبد القوی جیسا ہی ملے گا۔ تو پاکیزہ زندگی گزارو، تمہیں مرد بھی پاکیزہ ہی ملیں گے جیسا کہ روزی گیبریل کو پاکستان میں کوئی ایک مرد بھی ہراساں کرنے والا نہ ملا۔

  • مائی نیم از ریمبو تحریر:م۔م۔مغل

    مائی نیم از ریمبو تحریر:م۔م۔مغل

    نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر طنز مزاح شائستگی اور فکر سے لبریز ایک ڈرامہ سیریل ’’گیسٹ ہاؤس’’ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔معروف ترین کرداروں میں باؤ نوید ، مراد اور خوش نامِ زمانہ ریمبو کا کردار تھا ، جو یقیناً افرنگی تمثیل نگاری کے دبستان ہالی ووڈ کی ایک فلم کے کردار سے مملو تھا، اس کردار کو پاکستان کی تہذیب شناخت اور ثقافت میں ڈھالنے کا سہرا پی ٹی وی ہی کے نام ہے، معروفِ زمانہ کردار ریمبو کا تکیہ کلام ’’ مائی نیم از ریمبو ریمبو جان ریمبو کاکروچ کلر‘‘ تھا،شگفتگی شائستگی اور بے ساختہ اداکاری نے افضل خان کا اصل نام منہا کردیا، ایک زمانےتک بزرگ اور بچوں کی زبان پر یہی مکالمے ہوتے تھے۔۔۔ پی ٹی وی کے ڈرامے اس قدر پراثر اور تربیت افزا ہوتےتھےکہ کسی معروف ڈرامہ سیریل کے وقت میں شہر کی سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں،ڈرامے تو خیرڈرامے ہی تھے ٹی وی پر آنے والے اشتہارات بھی ہماری تہذیب اور اقدار کا پتہ دیتے تھے۔ وقت کروٹیں بدلتا رہا، پی ٹی وی کا شعبہ تمثیل نگاری(ڈرامہ) آہستہ آہستہ اپنی وقت کھونے لگا، کیوں کہ متبادل کے طور پر نجی ٹی وی چینلوں نے ناظرین کے ذہنوں پر اپنے پنجے گاڑنے شروع کردیے تھے، مسابقت اور جدت کی اس دوڑ نے ہماری تہذیب ثقافت اور تربیت میں بگاڑ لانا شروع کیا، ہیجان انگیز موضوعات ، ذو معنی جملوں اور نیم لباسی کی جانب رواں دواں ملبوسات نے ابتدا میں معاشرے کے افراد کو ذہنی اذیت دینا شروع کی، اس بے سروپا نام نہاد فیشن اور تہذیب وثقافت سے دوری پر ناظرین کی جانب سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں مگر انہیں اسی دلدل کے منفعت پرستوں نے ’’ نہیں دیکھنا تو کوئی اور چینل دیکھ لو، ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہے چینل بدل لو’’ کا نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ خاموش اور بعد ازاں عادی کردیا، یوں نئی مسلط شدہ جدت اور فیشن نے پیاز کی پرتیں اتارنی شروع کردیں،۔۔میری اس بات سے اختلاف رکھنے والے دوست زرا شکیب جلالی کا نوحہ تو سن لیں۔۔۔

    کیا کہوں دیدۂ تر ، یہ تو مِرا چہرہ ہے
    سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

    بیس بائیس سال کی مسلسل مغربی تہذیبی یلغار نے ہماری تہذیب ثقافت کا چہرہ نوچنا شروع کردیا،بعد ازاں موبائل فون کے پردہ ٔ سیمیں نے ہر ایک گوشہ عافیت کو اپنے رنگ میں رنگنا شروع کردیا اور ماں باپ کی طرف سے ملنے والی تربیت بھی مفقود ہوتی گئی، رہی سہی کسر مائکرو بلاگنگ، فیس بک، یوٹیوب ، ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیو نے پوری کردی، یہاں میں کئی ایسی ایپلیکیشنز کا ذکر قصداً نہیں کررہا ہوں کہ انسانی تجسس کہیں کچے ذہنوں کو اس غلاظت کی جانب نہ لے جائے جہاں مردو و زن کے پوشیدہ امور محض پیسوں کے لیے براہِ راست نشرکیے جاتے ہیں، بیس سال کی مسلسل عدم توجہی اور بے جاآزادی نے نئی نسل کو موج مستی مذاق شہرت اور اضافی آمدن میں مبتلا کرکےہمیں فکری طور پر کھوکھلا کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹک ٹاک یا اس جیسی دیگر ایپس نے نشے کی طرح نئی نسل کے دماغوں پر قابو پالیا، اب معاملہ ہیپٹانزم کے عامل اور معمول والا ہی رہ گیا ہے، ایک دوسرے سے مسابقت طے کرنے میں نئی نسل کے مرد و زن کونہ تہذیب کا خیال رہا نہ ہی قومی و مذہبی اقدار کا، حال ہی میں پاکستان کے یومِ آزادی پر ایک اندوہناک سانحہ ہوا، جو کسی بھی طور قابلِ معافی نہیں،۔۔۔

    ایک تو عین پاکستان کے جشنِ آزادی کے دن واقعہ رونما ہوا دوم یہ کہ جائے واقعہ قراردادِ پاکستان کے سینے کی میخ یعنی مینارِ پاکستان کے احاطہ میں ہوا، واضح رہے یہ خبر تین روز تک پوشیدہ رہی، عین اس وقت جب ہم پاکستان کا جشنِ آزادی منارہے تھے پڑوسی ملک افغانستان میں انتقالِ اقتدار کا مرحلہ طے ہورہا تھا، پندرہ اگست کو تقریباً پورا افغانستان نئی حکومت کے زیرِ انصرام آچکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب اففانستان میں پاکستان کے خلاف بھارت کے لگائے ہوئے اربوں ڈالر کی روایتی اور انسانی مشینری کو دھچکہ پہنچا تھا، پاکستان میں عوام الناس بھارت کی اس خفت پر خوب لتے لے رہے تھے، بھارتی عوام ، عنان حکومت اور مین اسٹریم میڈیا اپنے یومِ آزادی کی بجائے افغانستان میں ہونے والی خفت کو مٹانے کی کوشش کررہا تھا، یہ صورتحال پاکستان دشمنوں اورنام نہادلبرلوں جنہیں خونی لبرل کہنا زیادہ درست ہے کو ایک آنکھ نہ بھایا،یوں عین ایامِ عزا میں ساتویں محرم کو لاہور مینارِ پاکستان پر ہونے والے سانحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اور ساتھ ساتھ مین اسٹریم میڈیا کے افراد کی کمک بھی دستیاب ہوئی، عام آدمی کتنا ہی محتاط اور تحقیق طلب کیوں نہ ہو ایسے مواقع پر جذباتی ہوجاتا ہے، یہی ہوا پاکستان اور پاکستان سے باہر بسنے والے عوامِ پاکستان اس معاملے پر اشتعا ل میں آگئے یوں یہ خبر واقعہ کے عین تین روز بعد سوشل میڈیا ٹرینڈنگ کرتی ہوئی عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی جاگزیں ہوئی، زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے مرد و زن نے اس واقعہ کی نہ صرف مذمت کی، اپنے جذبات کا اظہار کیا بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا، جب ہمیں یہ خبر موصول ہوئی تو ہمیں آئندہ کے سوشل میڈیا موضوع کا عندیہ بھی دے دیا کہ قوم اب افغان ہندوستان موضوع کو چھوڑ کر اس جانب پر تولنے کو ہے، جذباتی تو ہم بھی ہوئے مگر مینارِ پاکستان کا نام آتے ہی شکوک نے جنم لیا، تیس گھنٹوں تک ہم خاموشی سے اس خبر اور اس خبر سے جڑی ہوئی تفصیلات کھوجنے میں مصروف رہے، اس دوران عوام میں تین طبقاتِ فکر نے دھڑے بندی مکمل کرلی تھی، ایک جو جذباتی ہوکر عائشہ اکرم بیگ سے ہونے والی بدسلوکی اور زیادتی پر مجرموں کے لیے سزاؤں کے طالب تھے، دوسرا طبقہ فکر محدودات کے تتبع میں خاتون ٹک ٹاکر کی حدود سے باہر نکل کر ویڈیو بنانے اور عوام کو رجھانے پر طعنہ زن تھے، عین اس وقت تیسرا طبقہ فکر بھی میدان میں کود پڑا جنہیں ہمیں عرفِ عام میں فیمینسٹ کہتے ہیں، اس تیسرے طبقہ فکر نے اپنے ہم خیالوں کی آشیر باد سے معاملہ کو ملکی و بین الاقوامی میڈیا تک پہنچایا، بھارت کے وہ مخصوص چہرے جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف عف عف بھو بھو کرتے رہے انہوں نے شہ سرخیاں جمائیں، ۔۔

    پاکستان سے محبت رکھنے والے افراد جو کسی وجہ سے ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا سبق جذبات سے مغلوب ہوکر بھول بیٹھے تھے انہیں اچانک وہ سبق یاد آگئے بھارت کے کود پڑنے ، نام نہاد لبرلوں ، فیمینسٹ گروپ اور ملکی میڈیا میں موجود ملک کی بےعزتی کرنے کو کوئی موقع ہاتھ نے نہ جانے دینے والوں کی سرکوبی کے لیے نوجوان سراغ رسانوں نے تلاش بسیار کے بعد کچھ ایسے حوالے کھنگال ہی لیے جن سے یہ پورا معاملہ مشکوک ٹھہرتا ہے، اول تو خاتون عائشہ اکرم بیگ کا وہ ویڈیو جس میں ایک اکاؤنٹ سسپینڈ ہونے کا نوحہ اور ان کے ساتھی ریمبو (جس کے لیے ہم نے تمہید باندھی) کا سرپرائز دینے اور فین فالوئنگ کو مینارِ پاکستان پر ملاقات اور سیلفی کی نوید دی گئی تھی، دوم یہ کہ خاتون نے واقعہ کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نہ کوئی ذکر کیا بلکہ ہنستے کھیلتے کئی تصاویر بھی شائع کیں، مزید یہ کہ درجن بھر افراد کی ٹولی جو خاتون کے بقول پارٹنرز تھے کے ساتھ تقریباً چار سے پانچ گھنٹے گزارے، عینی شاہدین اور اقبال پارک کی انتظامیہ کے بیانات سے ثابت ہوا کہ خاتون کو جانے کے کئی مواقع ملے مگر انہوں نے فین کو ہوائی بوسے ارسال کرنے میں وقت گزارا، سوم یہ خبر کے سامنے آنے والی رات اچانک دو یوٹیوبر بشمول میڈیا اینکر اس خاتون کی داد رسی کو پہنچے اور اور معاملے کی باگ اپنے ہاتھ کرلی، اس خبر کے پھیلنے کے بعد ٹک ٹاکر کے اکاؤنٹ پر ایک لاک سے زائد افراد نے رجوع اور فالو کیا،پولیس کے عام تفتیشی اصول پر بھی پرکھا جائے تو دیکھا جاتا ہے کہ واقعہ کا فائدہ کسے ہوا، یوں عائشہ نامی خاتون کے ساتھی ریمبو دی فالورز کلیکٹر کی ملی بھگت کا سراغ ملتا ہے، واضح رہے موضوع سے متعلق تمام مواد اس وقت سوشل میڈیا پر عوامی تبصروں کے ساتھ پھیل چکا ہے یعنی ہماری بات کی تصدیق کے لیے آپ کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں،۔۔

    اس طویل دورانیے کے ڈرامے میں ان سطور کے قلمبند ہونے کے دوران خاتون کا ایک انٹرویو بھی سامنے آیا، اور ساتھ ساتھ یہ خبر بھی سامنے آئی کے عائشہ اکرم بیگ اور ان کا ریمبو پولیس نے شاملِ تفتیش اور حوالات میں ہے، واقعہ کا اثر ایسا تھا کہ خبر اور رائے کے اختلاف میں ہماری نسل نے تمام حدود وقیود کو پھلانگ کر اختلافِ رائے رکھنے والوں کی ذاتی کردارکشی بھی شروع کردی، ایک عجیب طوفانِ بدتمیزی نے جنم لیا نہ تو مرد وزن کی تفریق رہی اور نہ ہی پیر و جوان کی، جس کے جو منھ میں آیا اسے انگلیوں کی حرکت سے سوشل میڈیا کے صفحات میں انڈیل دیا گیا، خیر قصہ کوتاہ پولیس کو کیس پر کام نہ کرنے کا عندیہ دینے کے بعد عائشہ اکرم بیگ کا کردار مزید مشکوک ہوگیا، بعد ازاں سرکار کی مدعیت میں کیس کااندراج ہوا لیکن خاتون نے اپنا رہائشی پتہ غلط لکھوا کر کارِ سرکار میں رکاوٹ کا ذمہ بھی اپنے سر لے لیا، میری اولین دانست اور اس کیس کے بغور مشاہدے کے بعد میں تاحال اس معاملے میں پورے معاملے کو مشکوک گردانتا ہوں، بنیادی وجہ پاکستان کی جگ ہنسائی ہی ہے، کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل امر ہرگز نہیں، میڈیکو لیگل کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے جسم پر ضربوں اور زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں، تین گھنٹے سے زائد طوالت کی ویڈیوز میں خاردار تاروں کو پھلانگنے اور بھیڑ کے دباؤ کے تحت کوئی بھی زخمی ہوسکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ خاتون بے ہوش اور بے لباس ہوچکی تھی کسی بھی طور پر درست معلوم نہیں ہوتا، مخصوص طبقہ نے جو ویڈیو وائرل کی اس میں زد و کوب کا عنصر تو شامل ہے مگر بے لباسی و دیگر الزامات کی نفی ہوتی ہے، اس پورے واقعے میں ایک اور بدترین کردار سوشل میڈیا صارفین کا رہا جنہوں نے اس حادثے پر چٹخارے دار وی لاگ جذبات برانگیختہ کرنے والے عنوانات اور تصاویر سے اپنے یوٹیوب چینلوں پر عام عوام کوتماش بینوں کی طرح جمع کیا۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ڈالروں کے حصول کی دوڑ میں مبتلا افراد نے اس ہیجان سے جہاں فائدہ اٹھایا وہیں مین اسٹریم میڈیا نے اپنی ریٹنگ (ٹی آرپی) کے حصول کی جنگ میں عشرہ محرم کے تقدس کو بھی پامال کیا، وہ لمحات جو خانوادۂ رسول ﷺ کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے اور ظلم و جبر سے ٹکرانے کے درس کے حصول کے تھے ان لمحات کو ایک مشکوک خبر کی نذر کردیا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاستی ادارے فوراً حرکت میں آتے اور اس معاملے پر قوم کو آگاہ کرتے مگر ہمیشہ کی طرح دیر سے خبر پہنچی، کیا یہ محض اتفاق ہے کہ عین اس دن جب موجودہ حکومت کو ٹھیک تین سال مکمل ہورہے تھے اور عوام حکومتی کارکردگی پر گفتگو کرتے، وہ وقت اس چومکھی جنگ کی طرح پھیلی خبر کی نذر ہوا، افغانستان میں انتقالِ اقتدار ، بھارت کی سبکی، عشرہ محرم اور حکومتی کارکردگی پر سوال جواب کا دورانیہ بلکہ امروز پائلٹ آٖفیسر راشد منہاس شہید کا دن بھی اس تاحال مشکوک رہنے والی خبر کی نذر ہوگیا، اربابِ اقتدار ہوں یا احبابِ فکر و دانش امید ہے کہ ان چار عوامل پرآپ اپنی نگاہ کیجے گا اور اس معاملے کی شفافیت اور حساسیت کو نظر انداز نہ کریں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومتی نمائندے اس معاملے میں عوام کو درست اقدامات اور خبر سے خود آگاہ رکھیں گے تاکہ معاشرے میں پھیلی بے چینی کا زور ٹوٹ سکے۔۔۔

    (انصافستان)

  • لاہور واقعہ چھوٹا سا تبصرہ  تحریر فرید خان

    لاہور واقعہ چھوٹا سا تبصرہ تحریر فرید خان

    ام رباب کا کیس زیادتی سے بھرا پڑا ہے لیکن مجال ہے کہ ان دو ٹھکے صحافیوں اور لبرلز کو کوئی خبر بھی خبر ہو مجال ہے کہ اقرار یا یاسر ان کے گھر جائیں ۔ نور مقدم کا قتل جوہوا یہ وہ کیس ہے جس سے منہ پھیرنا واقعی میں ایک بہت بڑی زیادتی ہے اسی طرح مختلف واقعات ہوتے لیکن لبرلز اور عورت مارچ والوں کے لیے ان میں کوئی سکورنگ نہیں ملتا اور دو ٹھکے کی صحافی جن کا سب کو پتا ہے کہاں رہتے کس کا کھاتے ان کو ریٹنگ اس میں نہیں ملتا تو پھر ان واقعات میں ہاتھ ڈالتے جو کہ ان کے لیے فائدہ مند ہے، مینار پاکستان پر واقعہ چودہ اگست کو ہوا اور اس کے بعد لڑکی بلکل ٹھیک تھی کام ٹھیک چل رہا تھا اور جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوئی تو مظلوم بن گئی۔ مظلوم ہوگی واقعی میں ہوگی اس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہوا کیوں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ لبرلز اور ناکام صحافیوں کو یہ موقع کیوں بخشا ؟جب کیس کی کاروائی ہی روکنی تھی تو پہلے معاملے کو یہاں تک کیوں پہنچایا؟۔ کیوں ہوا کی بات کریں تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لوگوں کو بلایا کیوں ؟ یہ حملہ اگر رینڈم ہوتا بھی تو کوئی جواز بنتا جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ ٹک ٹاک بے حیائی ہے اور بے حیائی کے فینز بے حیا ہی ہو سکتے اور پھر ان بے حیاوں کو بلا لینا اپنے پاس یہ خود جرم کو دعوت دینا تھا۔ دعوت کیوں دیا اپنی شہرت کے لیے اس پر تبصرہ کرنا نا ممکن ہے کیونکہ اللہ جانتا ہے یہ سب لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بے وقوفی تھی جس کی خمیازہ پھر مرد اور عورتوں کے نفرت کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ اس واقعے کے مجرمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا یہ حکومت جانتی ہے سزا ملتا نہیں ملتا یہ عدالت کا کام ہے ، اگر واقعی جرم ہوا ہے تو سزا ملنی چائیے لیکن اس وقعے سے یہ صورت حال بننا جس سے معاشرے کو ایک دفعہ پھر نقصان پہنچانے کی کوشش جو ہر سال مارچ میں ہوتی اس کا کون ذمہ دار؟ ملک دشمن قوتوں کو ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے ہتھیار مہیا کرنا اس کا کون ذمہ دار؟ دنیا کو یہ دیکھانا کہ پاکستان عورتوں کے لیے محفوظ نہیں اس کا کون ذمہ دار؟ حالانکہ صورت حال تو یکسر مختلف ہے، عورتیں محفوظ ہیں ہر وہ عورت جو اپنی عزت کو اہم سمجتا وہ محفوظ ہے لیکن وہ عورتیں جو خود گلی کوچھوں میں بے حیائی اور جرم کو دعوت دینے کے لیے نکلتے ان پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مہذب لوگ جو پاکستانی معاشرے کو جانتے وہ اج بھی ان ٹک ٹاک وغیرہ کو ناسور سمجھ رہے لیکن اگر ٹک ٹاک پر بھی پابندی کی کوئی بات کی جائیں تو یہ لوگ بھی صف اول میں اختلاف کرتے حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف مرد استمال کرتا بلکہ عورتیں بھی کرتی ۔ اچھا جی تو لبرلز اور ناواقف لوگ جو سنسنی خیز باتوں پر انکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں وہ اب بھی اس واقعے پر تبصرے کرتے نظر ارہے ہیں جبکہ نیوز کے مطابق لڑکی نے کیس بند کرنے کی اسدعا کی ہے۔ کیوں خاموش نہیں ہورہے ہیں یہ لبرلز اور عورت مارچ والے؟ کیوں کہ ان کو مارچ میں خواتین کے عالمی دن کے بعد ان کو اس طرح کی واقعوں کا انتظار رہتا۔ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی وہ نہ ملک کو دیکھتے اور نہ ہی دین کو ان کو اپنی روزی حلال کرنی پڑتی لیکن اس میں نقصان ان لوگوں کو ہوتا جو جذباتی ہوتے جن کو یہ امیج دکھایا جاتا کہ پاکستان واقعی میں عورتوں کے لیے محفوظ نہیں اور یہ دیکھایا جاتا کہ دین میں عورت کو وہ مقام نہیں جو مرد کو ہے۔ ناواقف لوگ موجودہ واقعے پر رنجیدہ ہو کر ان کو سنتے ہیں جبکہ یہ لوگ اپنا کام کر جاتے ہیں اور دنیا کو دکھا دیتے کہ جی ایسا ہے سب ۔ الحمداللہ عورتیں بلکل محفوظ ہیں ، جو جرم ہوتا عورتوں کے ساتھ جو کرتے ہیں وہ جانور ہوتےہیں۔ جن کا دفاع نہ اسلام کرتا نہ پاکستان کی قانون کرتا اور نہ ہی کوئی مہذب انسان اور نہ ہی یہ معشرہ لیکن یہی معاشرہ پھر سازش کو بھی سمجھتا یہی معاشرہ پھر گھناونے کام بھی جانتا یہی معاشرہ پھر ملک دشمن قوتوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر اسلام مخالف قوتوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر غیر ملکی این جی اوز کے لیے کام کرنے والوں کو بھی جانتا یہی معاشرہ پھر ضمیر فروشوں کو بھی جانتا۔ عورتوں کی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے حکومت کوشاں ہے، اس وقعے کی تمام وزراہ نے مذمت کی ہے خود وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیا ہے۔انسانی حقوق کی خاتوں وزیر نے بھی معاملے کو نوٹس میں لایا ہے ۔ اس وقعے میں جرم ہوا ہے مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ بے شک لڑکی روکنے کی کوشش کریں لیکں ان مجرموں کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اس واقعے کی اڑ میں ملک اور دین اور اس کے اقتدار کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے رکاوٹ بننا ہمارے لیے ضروری ہیں ۔ اللہ اس ملک پر رحم کریں پاکستان زندہ باد
    twitter @Faridkhhn