Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal

  • اسلامی نظام تحفظ کا ضامن۔  تحریر: محمد جاوید حقانی

    اسلامی نظام تحفظ کا ضامن۔ تحریر: محمد جاوید حقانی

    تاریخ انسانیت ہزاروں واقعات سے لبریز ہے
    حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریمﷺ کی ذات اقدس تک بہت سارے انبیاء کرام علیہ السلام کے واقعات الہامی کتابوں میں موجود ہیں۔
    ہر نبی و رسول نے اسلام کی تبلیغ کی
    روئے زمین پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے313 رسول معبوث فرمائے
    ہر سول کو الگ شریعت دے کے زمین میں بھیجا
    کئی انبیاء کے ادوار کا تذکرہ، انکی قوم کا حال، ماننے اور جھٹلانے والوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔
    جن قوموں نے نبی و رسول کی تعلیمات کو تسلیم کیا وہ فائدے میں رہے ار جنہوں نے جھٹلایا ان پر سخت ترین عذاب نازل فرمائے گئے۔
    بالآخر حضور خاتم النبیینﷺ تشریف فرما ہوئے اور دین اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا
    مکہ کی سرزمین سے اس دین کی تبلیغ کا آغاز ہوا۔
    بظاہر ایک چھوٹی سے دکھنے والی جماعت نے مختصر وقت میں انتہائی درد ناک تکلیفیں برداشت کرنے بعد ریاست مدینہ کا قیام عمل میں لایا
    اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ریاست مدینہ کا باب اتنا وسیع ہوا کہ مجاھدین اسلام نے یورپ تک دستک دے دی
    یہاں تک پہنچنے کیلئے ہزاروں مجاھدین اسلام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
    ان عظیم شخصیات کی قربانیاں صرف ایک نظام کو پوری دنیاء میں پھیلانے اور اس نظام کی حفاظت کیلئے تھیں۔
    ایسا نظام کہ جس نظام کے تحت صرف ایک چٹھی کی اہمیت اس قدر ہو کہ وہ چٹھی بھی حاکم کو معزول کردے۔
    آج سے چودہ سو سال پہلے اور پھر اس کے بعد میں پیش آنے والے واقعات نے بھی یہ ثابت کیا کہ "اسلامی نظام” ہر شخص کے جان و مال عزت و آبرو کا محافظ نظام ہے۔
    جب یہ نظام پوری دنیاء پہ رائنج تھا تو ہر چھوٹا بڑا اس نظام کے ماتحت تھا۔
    اس نظام کے نفاظ یعنی دور خلافت کے سینکڑوں واقعات ہیں لیکن میں یہاں صرف ایک واقع پیش کروں گا۔
    ثمر قند اور بخارا ایک دور کے اندر دو بہت اہم شہر رہے ہیں
    قرآن مجید کے بعد احادیث کی سب سے معتبر کتاب "بخاری شریف” کے مصنف امام اسماعیل بخاری اسی "بخارا” شہر کے تھے۔
    اس بخارا شہر سے ایک مجوسی مسلمانوں کے خلیفہ کے پاس شکایت کرنے کیلئے چلتا ہے
    اس وقت مسلمانوں کا دار الحکومت شام کا شہر "دمشق” تھا
    جب یہ قاصد دمشق کی گلیوں میں پہنچا تو خلیفہ کا پتہ پوچھا
    لوگوں نے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے مسلمانوں کے خلیفہ کا گھر ہے
    وہ شخص اس گھر کے پاس جاکے دیکھتا ہے تو اسے ایک شخص دیوار کو مٹی کے ساتھ لپائی (پلستر) کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایک عورت ہے جو اس شخص کی مدد کر رہی ہے پیوند لگے کپڑے اس شخص نے زیب تن کئے ہوئے ہیں۔
    قاصد واپس پلٹا اور لوگوں سے کہا کہ میں نےآپ سے خلیفۃ المسلمین کا پتہ پوچھا ہے
    وہ تو کسی غریب شخص کا گھر ہے
    لوگوں نے کہا کہ وہی غریب شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہے
    قاصد دوبارہ پہنچا اور دروازے پہ دستک دی
    اندر سے پیوند لگے کپڑوں والے خلیفہ عمر ثانی حضرت عمر بن عبد عزیز رحمۃ اللہ علیہ باہر تشریف لائے۔
    قاصد نے شکایت پیش کی جو اس نے ایک کاغذ کی چٹھی پہ لکھی ہوئی تھی کہ
    مسلمانوں نے بغیر اطلاع دئے ہمارے شہر پر حملہ کرکے شہر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
    امیر الموئمنین نے اسی چٹھی کی دوسری طرف لکھ دیا کہ۔
    حاکم بخارہ ایک قاضی مقرر کرے اور اس شخص کی شکایت کو قاضی کے سامنے پیش کرے۔
    قاصد مایوس ہوا کہ اس بات پر کون عمل کرے گا
    لیکن اس نے بات تعمیل کی اور حاکم بخارا کو وہ چٹھی دکھائی کہ آپ کے خلیفہ نے یہ لکھا ہے۔
    حاکم نے قاضی منتخب کیا اور اس مجوسی کا مقدمہ اس کی عدالت میں رکھا
    قاضی نے سوال پوچھا
    کیا آپ نے یہ شہر فتح کرنے سے پہلے شہر والوں کو دین کی تبلیغ کی تھی؟
    جواب ملا کہ اگر ہم ایسا کرتے تو شہر والے ہمارے مخالف ہوجاتے اور وہ ہارے خلاف جنگ کی تیاریاں کرتے
    قاضی نے دوبارہ سوال دوہرایا
    جواب آئیں بائی شائیں ملا
    قاضی نے دوسرا سوال کیا
    کیا آپ نے شہر والوں کو جزیہ دینے کا کہا تھا؟
    جواب ملا کہ اگر ہم ایسا کرتے تو جنگ کے خطرات بڑھ جاتے اور آئیں بائیں شائیں۔۔۔
    قاضی نے سوال دوہرایا
    پھر وہی جواب
    قاضی نے تیسرا سوال کیا۔
    کیا آپ نے حملہ کرنے سے پہلے اطلاع دی تھی؟
    جواب ملا کہ جناب قاضی صاحب یہ جنگی چالیں ہوتی ہیں اگر ہم حملے کی اطلاع دیتے تو شائد یہ شہر فتح نہ کر پاتے
    قاضی صاحب نے فیصلہ سنایا ۔
    اسلامی قوانین کے لہاظ سے مسلمانوں نے شریعت کی مقرر کردہ حد سے تجاوز کیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے
    لہذا یہ شہر غیر مسلموں کے حوالے کیا جائے
    اور تین دن کے اندر اندر تمام مسلمان اس شہر کو خالی کردیں۔۔۔
    اسی دن مغرب سے پہلے پہلے پورا شہر خالی تھا اور لوگ قافلہ در قافلہ واپس جارہے تھے۔
    مجوسیوں نے یہ منظر دیکھا تو انگلیاں دانتوں میں دبائے ہکے بکے رہ گئے کہ آخر یہ لوگ کس مذہب کے ماننے والے ہیں کہ اپنے خلیفہ کی ایک چٹھی پر اتنا اہم شہر چھوڑ کے واپس جارہے ہیں۔۔۔
    مجوسیوں نے تمام مسلمانوں کو واپس بلایا اور شہر ان کے حوالے کرتے ہوئے خود بھی مسلمان ہوگئے۔
    اللہ اکبر
    ‎@JavaidHaqqani

  • ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی بچی کی جس کو بہت غصّہ آتا تھا بات بات پر غصّہ آتا تھا اور جب أس کو غصّہ آتا تھا تو وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کے سامنے کون ہے؟ جو أس کے دل میں آتا تھا وہ سب بول دیتی تھی کئ بار تو وہ کچھ چیزیں اوٹھاتی اور زمین پر پھینک دیتی اور توڑ دیتی أس کے ماں باپ بہت پریشان ہوگئے۔

    أن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کریں أنھوں نے بہت کوشش کی أس بچی کو سمجھانے کی الگ الگ طریقے سے لیکن وہ بچی سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔

    پھر ایک دن أس کی ماں نے أس کی ٹیوشن ٹیچر سے بات کی کیونکہ ٹیوشن ٹیچر ہی ایک ایسی تھی جس کی وہ بچی بات سنتی تھی۔

    ٹیوشن ٹیچر نے أس بچی کی ماں کی ساری باتوں کو سنا اور أن کو بولا کے آپ پریشان نہیں ہو۔ آنے والے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی اس بچی کا غصّہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے گا أس کی ماں کو سمجھ نہیں آیا لیکن پھر بھی کہا کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

    پھر أس دن روز کی طرح وہ ٹیچر آئی اور وہ کلاس شروع ہونے والی تھی۔ تو أس بچی کی ٹیچر نے بچی سے کہا کے آج ہم پڑھائی نہیں کریں گے آج ہم ایک گیم کھیلیں گے اور بچی یہ بات سن کر بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر أس بچی کے ساتھ پیچھے ایک دیوار کے پاس کھڑی ہوگئی اور أس ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم یہ ہے کہ جب بھی تم کو غصّہ آئے تو تمہیں ایک کیل لینی ہے اور یہاں پر آکر اس دیوار میں گاڑ دینی ہے تھوڑی سی جتنی ہو سکے۔

    پھر أس بچی نے ٹیچر سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ تو ٹیچر نے کہا جب یہ گیم ختم ہو جائے گا تو تم کو آخر میں ایک گفٹ ملے گا۔

    پھر أس بچی نے بلکل ویسہ ہی کیا جیسا اس کی ٹیچر نے کہا تھا اب أس بچی کو جب بھی غصّہ آتا تو وہ جاتی اور جا کر ایک کیل أس دیوار میں گاڑ دیتی تو جیسا کے اس بچی کو بہت غصّہ آتا تھا تو پہلے ہی دن أس دیوار پر دس سے زیادہ کیلیں گڑھ گئی۔

    لیکن ان کیلوں کو گاڑھنے کے لیئے بچی کو بار بار گھوم کر پیچھے جانا پڑھتا اور جا کر کیل کو گاڑنا پڑھتا تو بچی کے دماگ میں آیا کے میں جتنی محنت میں لگاتی ہوں اس کیل کو گاڑنے میں اس سے کم محنت میں غصّے کو کنٹرول کر سکتی ہوں اگلے دن آٹھ کیلیں گڑی۔ أس کے اگلے دن 6 پھر 4 پھر 3 پھر 2 پھر 1 اور پھر ایک ایسا بھی دن آیا جب ایک بھی بار أس کو غصّہ نہیں آیا اور ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گڑی اور وہ بچی بہت خوش ہوگئ خوشی خوشی وہ اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بتایا کے ٹیچر دیکھیں آج میں نے ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گاڑی ہے کیونکہ میرے کو ایک بار بھی غصّہ نہیں آیا تو ٹیچر نے أس بچی کو تھوڑی سی شاباشی دی اور ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے کھڑی ہوگئی اب ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اب تمیں کیا کرنا ہے جس بھی دن تمہیں بلکل بھی غصّہ نہیں آتا ہے أس دن کے آخر میں تم ایک کیل کو اس دیوار سے نکال دینا۔

    لیکن کیونکہ کیلیں بہت زیادہ تھی تو ایک مہینے سے بھی زیادہ ٹائم لگ گیا أن ساری کیلوں کو باہر نکلنے میں لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جب ساری کیلیں أس دیوار سے باہر نکل گئی پھر وہ بچی بہت خوش ہوکر اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بولی کے اب أس دیوار میں ایک بھی کیل نہیں ہے تو ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے گئی اور ٹیچر نے دیکھا ایک بھی کیل نہیں ہے دیوار میں پھر ٹیچر نے بچی کو أس کی پسندیدہ چاکلیٹ گفٹ کی اور بولی کے تم اس پرائز کو جیت گئی ہو بچی بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر نے أس بچی سے پوچھا کیا اس دیوار میں تم کو کچھ نظر آرہا ہے؟

    تو بچی نے کہا نہیں ٹیچر اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے ساری کیلیں نکل چکی ہیں پھر ٹیچر نے کہایا ایک بار دیہان سے دیکھو شاید کچھ نظر آئے؟

    أس بچی نے پھر دیکھا اور کہا وہ جو کیلیں میں نے گاڑی تھی أس کے کچھ نشان ہیں جو نظر آرہے ہے دیوار پر جب بچی نے یہ دیکھ کیا تو ٹیچر نے کہا جیسے تم نے اس دیوار میں کیل گاڑی اور اب تم أس کیل کو تو نکال سکتی ہو لیکن أس کے نشان کو نہیں مٹا سکتی ٹھیک اس ہی طرح سے ہوتا ہے جب تم غصّہ کرتی ہو جب تم غصّہ کرتی ہو اپنے ماں باپ پر یا کسی پر بھی تو أن کے دل پر چوٹ لگتی ہے درد ہوتا ہے اور وہاں پر ایک نشان رہ جاتا ہے أس نشان کو تم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی پھر چاہے تم أن سے جتنی مرضی معافی مانگو یہ سن کر بچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ رونے لگی اور بچی بھاگتے ہوئے گئی اور اپنی ماں سے جاکر گلے لگ گئی اور اپنی ماں کو بولی کے ماں میں آج کے بعد کبھی غصّہ نہیں کروں گی مجھے سمجھ آگئی ہے میں نے کیا غلطی کری ہے اور أس دن کے بعد أس بچی نے کبھی غصّہ نہیں کیا۔

    Name: Sadiq Saeed
    Twitter: ‎@SadiqSaeed_

  • افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

    افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

    افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا ھے اور اب تک کی صورتحال کے مطابق زیادہ تر لوگ امریکہ سے آزادی حاصل کرکے خاصا سکون محسوس کررہے ہیں، باقی دنیا کی طرح چند مسلم ممالک کی نظریں بھی ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

    ایران
    ایران، افغانستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے کافی تشویش میں مبتلا ہے بہت سے افغان فوجیوں نے جان بچا کر ایران میں پناہ لے رکھی ھے اگر ہم ماضی کی بات کریں تو 1998 میں طالبان نے ایک ایرانی صحافی کو قتل کردیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت ایران افغان طالبان پر حملہ کرنے والا تھا لیکن اگر ابھی کی بات کی جائے تو کچھ عرصے کے سے ایران کے طالبان سے تعلقات خاصے بہتر ہوئے ہیں اور طالبان کے افغانستان پر مکمل کنٹرول سے پہلے ایرانی نمائندوں کی طالبان نمائندوں سے تہران میں ملاقات ہوچکی تھی تو مستقبل قریب میں یہ ممکن ھے کہ ایران طالبان کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا۔

    ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان

    وسطی ایشیا کے ان تینوں ممالک پر افغانستان کی بدلتی صورتحال کا گہرا اثر پڑتا ھے
    کیونکہ اکثر افغان مہاجرین ان ممالک رخ بھی کرتے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ازبکستان اور تاجکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کے لئے سخت قوانین بھی مرتب کئے گئے تھے جس کی وجہ سے جب جولائی کے مہینے میں کچھ افغان فوجی جان بچانے کی غرض سے بھاگ کر ازبکستان پہنچے تھے تو ازبک حکومت نے ان فوجیوں کو واپس کو واپس لوٹاتے ہوئے سرحد پر سختی کردی تھی یہی اقدامات تاجک حکومت نے بھی سرحد پر سختی برتتے ہوئے تقریباً بیس ہزار مزید فوجی تعینات کردئے تھے۔ازبکستان اور تاجکستان نے افغانستان کی صورتحال دیکھتے ہوئے بچ باہمی اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ جنگی مشقوں کا بھی انعقاد کیا تھا۔وہیں ترکمانستان نے طالبان سے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ھے، سرحد پر طالبان کا کنٹرول مضبوط ہوتے ہیں ترکمانستان نے طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے بلایا تھا حالانکہ طالبان نے واضح اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنے ہمسائیوں کے لئے سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی افغان سرزمین کسی ہمسائے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیں گےباوجود اس کے ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں افغانستان کی صورتحال کے باعث فکرمندی کا ماحول بنا ہوا ھے۔
    وسطی ایشیا کے ان ممالک نے ابھی تک طالبان حکومت سے متعلق کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ھے۔

    ترکی

    طالبان کو افغانستان میں اپنے مقاصد میں مل رہی کامیابی کے باوجود ترکی ابھی بھی کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ترکی نے دو روز قبل جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل ایئر پورٹ کا استعمال میں رہنا فائدہ مند ہو گا۔ ترکی نے امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد کابل ایئر پورٹ کے کنٹرول کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

    ترکی نے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لے گا۔

    حالانکہ طالبان ترکی کے ان ارادوں سے خوش نہیں ہیں۔ طالبان نے ترکی کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ پر اپنی فوج نہ بھیجے۔ترکی کے صدر رجپ طیب اردغان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا ’ہماری نظر میں طالبان کا رویہ ویسا نہیں ہے جیسا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ وہ دنیا کو جلد از جلد دکھائیں کہ افغانستان میں امن بحال ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا تھا ’طالبان کو اپنے ہی بھائیوں کی زمین سے قبضہ چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو کنٹرول کرنے کی ترکی کی پیشکش کو ’نفرت آمیز‘ قرار دیا ہے۔ طالبان نے کہا تھا ’ہم اپنے ملک میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی کسی بھی صورت میں موجودگی کو قبضے کی طرح دیکھتے ہیں۔‘

    وہیں ترکی کے صدر نے اس موضوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا رویہ صحیح نہیں ہے۔

    ترکی نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔ حالانکہ ترکی کے فوجی افغانستان میں موجود نہیں رہے ہیں۔ لیکن ترکی نے افغانستان میں نیٹو افواج کی کارکردگی کی حمایت کی ہے۔
    ترکی کے پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان طالبان اور ترکی کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پاکستان
    دعووں کے مطابق پاکستان کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ بات چیت میں پاکستان ان تعلقات کا استعمال کرتا رہا ہے۔ حالانکہ طالبان اپنے اوپر پاکستان کے اثر و رسوخ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کو محض اپنا ایک اچھا ہمسایہ قرار دیتے ہیں۔افغان حکومت پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے اور افغانستان میں دخل دینے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں صدر اشرف غنی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان تاشقند میں کھلی بحث ہو گئی تھی۔طالبان کے افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے کے بعد تازہ صورت حال پر پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ‘پاکستان افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان سیاسی سمجھوتے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔’ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام افغان فریق اس اندرونی سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ پاکستانیوں، افغان شہریوں اور سفارتی اور بین الاقوامی برادری کو قونصلر کے امور اور پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے تعاون اور ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی عملے، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی تنظیموں، میڈیا اور دیگر کے لیے ویزا/آمد کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک خصوصی بین وزارتی سیل قائم کیا گیا ہےپاکستان میں تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین بھی رہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ ایسے میں پاکستان کو طالبان کے لیے سب سے اہم ہمسایہ ملک بھی سمجھا جاتا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات
    اسلامی دنیا کے سب سے اہم سنی ملک سعودی عرب نے افغانستان کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کے افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ہی تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ سعودی عرب نے طالبان سے بھی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ حالانکہ 2018 میں قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے ہی سعودی عرب نے مذاکرات سے خود کو دور رکھا ہے۔

    سعودی عرب پاکستان کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تو چاہتا ہے، لیکن افغان تنازعے پر کھل کر کچھ نہیں بول رہا۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1980-90 کی دہائیوں میں روس کے خلاف سعودی عرب نے افغان مجاہدین کی حمایت کی تھی۔ لیکن موجودہ تنازعے سے سعودی عرب نے فاصلہ قائم کیا ہوا ہے۔

    ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی موجودہ افغان تنازعے سے دوری برقرار رکھی ہے۔

    قطر
    قطر مسلم دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن افغان تنازعے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ طالبان کا سیاسی دفتر قطر میں ہی ہے۔ امریکہ کے حامی ملک قطر نے اپنی زمین پر طالبان کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے ٹھکانہ فراہم کیا اور تمام سہولیات دیں۔

    2020 میں طالبان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت ہی امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے۔

    اس سارے تجزیئے کے بعد یہ واضح کردوں کہ افغانستان کی ہر لمحہ بدلتی صورتحال میں آگے کیا ہونے جارہا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال ایشیا چین بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ھے اور دیگر ممالک بھی اب عالمی برادری کیا فیصلہ کرتی ھے اور اس میں پاکستان کیا کردار ادا کرے گا آنے والے دنوں میں صورتحال کے واضح ہوجائے گی۔
    KhalidImranK

  • اپنے غموں اور پیاروں کو دھوئیں میں نہ اڑائیں تحریر : اقصٰی صدیق


    دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف” ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ” منایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دن کے منائے جانے کا مقصد انسانی صحت کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سگریٹ بچینے والی کمپنیاں اپنے نفع کی خاطر لوگوں کی صحت سے کھیل رہی ہیں ۔اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے والے بڑے بڑے رنگین اشتہارات ان کی اخلاقیات و احساسات کے کھوکھلے پن کا واضع عکس ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں کسی بھی قومی مہم میں ان کی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا ہے، جب تک تمباکو انڈسٹری حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتی، عوام کی اس موذی نشے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
    یوں تو سگریٹ کے علاوہ پان، چرس، بھنگ، افیون اور ہیروئین سمیت سب ہی نشے کے زمرے میں آتے ہیں۔
    مگر سگریٹ کے استعمال کو نقصان دہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
    پاکستان میں 65 سے 75٪ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی ضرور کرتی ہے،
    اسطرح ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک اعشاریہ تین کھرب افراد تمباکو نوش ہیں۔
    اور یہ سب نقصانات سے آگاہی کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

    ماہرین کے مطابق ایک شخص جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ نوشی کی عادت سےنا صرف وہ بلکہ اس کے اردگرد میں رہنے والے افراد خصوصاً بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے کے پھیپھڑے متاثر ہونے کے باعث اس کو کورونا لگنے کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
    تمباکو نوشی میں تمباکو سگریٹ اور اس کے علاوہ کئی نشہ آور چیزوں میں جیسا کہ نسوار، افیون اور ہیروئین میں استعمال ہوتا ہے۔
    تمباکو کو عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،
    تمباکو کو امریکہ، چین اور اس کے علاوہ کئی ممالک میں منافع بخش پیداوار کے لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست آتا ہے۔
    تمباکو کی کئی اقسام ہیں،ایک تحقیق کے مطابق تمباکو میں موجود 300 کیمیائی اجزاء انتہائی خطرناک ہیں۔خاص طور پر تمباکو میں پایا جانے والا ایک کمیکل نکوٹین ایک نشہ آور مضر صحت کمیکل ہے۔
    نیز تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت نقصان دہ چیز ہے۔
    یہ کس طرح نقصان دہ ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
    جلتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اور اس میں شامل زہریلے اجزاء نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے کے دل، دماغ، پھیپھڑے، معدے اور دیگر جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اس کے دھوئیں سے اہل خانہ سمیت ارد گرد کے معصوم لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
    دنیا بھر میں تقریباً ہر سال 53،000 افراد سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہو کر پھیپھڑوں کے مختلف امراض حلق، ہونٹ منہ کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر، چھاتی کے امراض اور خاص طور پر ٹی بی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    نیز تمباکو نوشی بیماریوں کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتی ہے،
    نقصان دہ کمیکلز میں ٹار، نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ سر فہرست ہیں۔ٹار پھیپھڑوں پر داغ کی صورت میں حملہ آور ہو کر سرطان (کینسر) کا سبب بنتا ہے۔
    کینسر میں مبتلا عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی شروع کردیتے ہیں۔
    دیگر کمیکلز میں نکوٹین سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے، اس کے زہریلے اثرات جسم میں خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس کے سبب افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بلند فشار خون ہارٹ اٹیک کی وجہ بن جاتا ہے،
    نکوٹین کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے رگیں سکڑ کر مزید تنگ ہو جاتی ہیں، اور جب جسم سے دماغ کو خون پہچانے والی رگوں میں خون کی گردش کم یا منقطع ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔
    نکوٹین کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ایک سے زیادہ امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود بھی لوگ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑتے؟
    انسان کی فطرت ہے کہ جس کام سے اسے روکا جائے وہی زیادہ کرتا ہے، کسی کو چائے کا نشہ لگ جاتا ہے، تو کسی کو نسوار، پان یا گٹکے کی لت،
    اور تو کوئی اپنے غم سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوتا ہے۔
    اور ویسے بھی تمباکو نوشی زیادہ تر غریب آدمی ہی کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہی سب سے بڑی تفریح ہے۔
    تمباکو نوشی جیسی بری عادت چھوڑنا تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر نا ممکن نہیں۔
    موجودہ دور تمباکو نوش افراد سگریٹ کے علاوہ پائپ، حقہ اور شیشے کی طرف بھی راغب ہیں، یاد رہے کہ حقہ اور آج کل نوجوان نسل میں مقبول ہونے والا شیشہ اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ سگریٹ ۔
    مسلسل تمباکو نوشی سے کئی اندرونی جسمانی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
    اس سے مرد و عورت دونوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جلد بھی متاثر ہو سکتی ہے، دانتوں پر دھبے پڑ جاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تمباکو نوش کی تو سانس سے بھی بدبو آنے لگتی ہے، جس سے آس پاس کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے جائیں؟

    دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ
    ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل میں سگریٹ کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔
    تمام مواصلاتی ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ اور اخبارات ہر فورم پر تمباکو کے نقصانات، وضاحت اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
    دکانوں اور سڑکوں پر سگریٹ کے بورڈز لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
    کھیل اور شوبز سے وابستہ افراد کو ٹی وی اس کی تشہیر سے روکا جائے۔
    پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی جائے۔خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ کیا جائے۔
    اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام تعلیمی اداروں، اسپتال، لائبریریوں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں سے بس ایک ہی درخواست ہے کہ، نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور آس پاس کے لوگوں کی صحت کی خاطر آج ہی سے تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔
    اور تمباکو نوشی سے خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ہمارا تعلیمی نظام  تحریر مدثر حسن

    ہمارا تعلیمی نظام تحریر مدثر حسن

    ہمارے ملک میں تعلیم کے مختلف معیار ہیں،
    اور ہم اس سے مطمئن بھی ہیں کیوں کے ہماری ترجیح تعلیم نہیں بلکے سڑکیں، پل ، گلی اور نالی پکی کروانا، ایم این اے سے سفارش کروا کے اپنی میٹرک پاس نکمی اولاد کی نوکری لگوا لینا، ایم پی اے یا علاقے کے کونسلر سے تعلقات بنا کر لوگوں پر رعب جھاڑ لینا اور سب سے بڑھ کر اگر کبھی پولیس پکڑ لے تو فون لگا کر کہنا ک” اے رانا صاھب نئی اے اپنے پرا نے”

    پاکستان کے آزاد ہونے سے لے کر اب تک عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا ہے، انکو تعلیم اور شعور سے دور رکھا گیا ہے کے اگر عوام سمجھدار ہو گئی تو کچھ لوگوں کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی،
    پاکستان میں تین طرح کا تعلیمی نصاب پڑھایا جاتا ہے، اور سونے پر سہاگا ہر صوبے کا تعلیمی نظام بھی وکھرا ہے۔
    پہلے ہم صوبہ سندھ اور اس کے تین مختلف تعلیمی نظاموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    اگر آپ غریب کے بچے ہیں تو آپ کے لیے گورنمنٹ فری تعلیم مہیا کرے گی۔ جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ ایسے ایسے استادزہ رکھے جاتے ہیں جو اسکول انے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور اگر آ بھی جایں تو سواۓ مکھیاں مارنے کے اور بچوں کے لنچ باکس خالی کرنے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام سر گرمی انجام نہیں دیتے ہیں، کبھی کبھی تو آپکو اسکول میں بھینسیں اور گدھے بھی بندھے مل جایں گے، ظاہر ہے انکا بھی دل کرتا ہوگا تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس میں کون سا بڑی بات ہے، کہیں قبضہ مافیا سر گرم ہوتا ہے تو کہیں نقل مافیا،، آپ اردو میڈیم میں آٹھ دس جمعاتیں پڑھیں اور پھر اپنے باپ دادا کے ہی آبائی پیشے میں سر کھپایں، کیوں کے آپ کو اعلی تعلیم دلوا دی گئی تو کہیں بھوٹو صاھب نا انتقال کر جایں۔

    اگر آپ کو یہ نظام پسند نہیں اور آپ کے اچھے حالات ہیں تو آپ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں بھی داخل کروا سکتے ہیں، جہاں آپ کے بچوں کو انگلش میڈیم پڑھایا جاتا ہے،آپ کے بچے تو اچھی تعلیم حاصل کر لیں گے لیکن آپ کی جائیداد رہے نہ رہے اس کے بارے میں کچھ کہ نہیں سکتے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کے لیے دھکے کھانا ایک الگ ٹوپک ہے۔

    اگر آپ سیاست دان ہیں، کسی جرنل، کرنل یا کسی جج کی اولاد ہیں تو آپ کے لیے مثلا ہی کوئی نہیں ، آپ پاکستان میں رہ کے آکسفورڈ کی کتابیں پڑھیں آپ کے لیے اعلی سے اعلی نظام ہے،نوکری پلیٹ میں رکھ کے ملے گی آپکو اور اس کے بعد دل کرے تو پاکستان نہیں تو بیرون ملک جا کر اپنی خدمات پیش کریں۔

    پنجاب کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، لیکن یہاں اتنا فرق ہے کے آپکو اسکول میں گدھے اور بھینسیں نظر نہیں آیئں گی اور نا ہی نقل مافیا سر گرم لیکن استاتذہ کی حالت تقریباً ملتی جلتی ہی ہے،
    یہاں بھی بہتر تعلیم کے لیے آپکو پرائیویٹ اسکولز کا رخ کرنا پڑتا ہے، اور نوکری کے لیے دھکے کھانا پڑتے ہیں، کیوں کے میرٹ کا اور ہمارا تو دور دور تک کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں ہے۔ یہاں بھی آپکو تین مختلف تعلیمی نظام ہی نظر ایں گے۔ کیوں کے اچھا اور بہترین تعلیمی نظام ہونے سے شیر آنے کے بجاے جا بھی سکتا ہے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا خاں کے حالات پہلے دہشت گردی کی وجہ سے ابتر رہے لیکن ہماری آرمی کی خاطر خواہ قربانیوں کی وجہ۔ سے اب حالات کافی بہتر ہیں اور ایک اچھا تعلیمی نظام آپکو میسر ہے۔

    موجودہ حکومت نے پورے ملک میں۔ ایک تعلیمی نظام کے لیے کچھ اقدامات لئے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کے اب سے تمام بچوں کو برابر ترقی کے حقوق ملیں گے۔

    ‎@MudasirWrittes

  • کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    کیا عورت اس معاشرے کا حصہ نہیں؟ تحریر: محمد وسیم

    جب یہ دنیا بنی تھی تو اس وقت زمانہِ جاہلیت تھی ۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور بیٹیوں کیلۓ ان کے دلوں میں نفرت تھی۔ جب حضرت محمدﷺ اس دنیا میں تشریف لاۓ اور لوگوں کو اللہ کے دین کے بارے میں بتایا تو تب لوگوں کو احساس ہوا۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیۓ ہے وہ دنیا میں کسی اور مذہب کو نہیں دیۓ گۓ۔ اسلام میں اس بندے کو منحوس اور شیطان کا ایجنٹ بولا گیا ہے جو عورتوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتا ہو۔
    اللہ نے سب سے پہلے عورت کو برابری کا اعزاز دیا ہے اور اللہ فرماتے ہے کہ ” پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔
    اسلامی معاشرے میں رہتے ہوۓ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلاام ہمیں کیا کہتا کہ ہم نے کس طرح عورتوں کو ان کے حقوق دینے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ مغربی طرز پر چل رہا ہے اور عورتوں کو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ عورتوں کو اپنے حواس نکالنے کیلۓ استعمال کرتی ہے ۔
    عورتوں کو ہر جگہ نوکری دینے سے پہلے اپنی حواس نکالنے کا کہا جاتا ہے تب عورت کو نوکری دی جاتی ہے ۔ حالانکہ حضورﷺ کے دور میں بھی عورتیں باقاعدہ جہاد کرنے جاتی تھی۔ حضرت سمیہؓ وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے اسلام کیلۓ قربانی دی تھی۔ یہ وہ عظیم عورت تھی کہ سرداران قریش ان پر ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے لیکن پھر بھی یہ عورت اللہ کے دین پر قائم رہی ۔
    عورت اس معاشرے کی زینت ہے اگر عورت نہ ہوتی تو یہ دنیا نہ ہوتی ۔ عورت ایک ماں کا نام ہے ۔ عورت ایک بیٹی کا نام ہے ۔ عورت ایک بہن کا نام ہے ۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس دنیا میں اللہ نے عورت کو کتنا اہم مقام دیا ہے ۔ اس کے ساتھ آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی عورت کے حقوق کے بارے میں واضح کیا ہے کہ مردوں کا اپنی عورتوں پر اس طرح حق ہے جس طرح
    عورتوں کا اپنے مردوں پر ہے ۔
    اگر اس دنیا میں مرد ہے تو مطلب یہاں عورت بھی ہے کیونکہ عورت اور مرد ایک حقیقت ہے ۔ حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ نے ایک مرد کے ساتھ عورت کو شامل کرکے یہ دنیا بنائ۔ یہ دنیا عورت کے بغیر بڑھنا مشکل تھا.
    اب اگر بات میرے ملک پاکستان کے کی جاۓ تو یہاں آج لوگ مغرب کے طرز پر جارہے ہے اور لڑکیوں کو اپنی غلامی اور اپنے حوس نکالنے کیلۓ استعمال کرتے ہے ۔ آج ہمارا معاشرہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہا ہے اور انہیں وہ عزت اور حق نہیں دے رہے جو ہمیں اسلام نے بتایا ہے.
    آج یہاں عورت مخفوظ نہیں ہے نہ گھر میں نہ گھر سے باہر۔ میں یہ مانتا ہو کہ آج کل ہماری عورتوں نے مغربی لباس پہننا شروع کیا ہے جس سے مرد یہ سمجھتے ہے کہ ہا‌ں یہ لڑکی واقعی خراب ہوگی ۔ لیکن دوسری طرف یہا‌ں تو وہ عورتیں بھی محفوظ نہیں ہے جو پردہ کرتی ہے ۔
    عورتوں پر یہ پابندی لگانا کہ وہ گھر سے باہر نہیں جائیگی یہ بلکل غلط ہے ۔ جب جنگ احد ہورہا تھا تو اس میں عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور زخمیوں کو پانی پلاتے تھے.
    میرے اس کالم کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج یہاں عورت درندوں کا شکار ہورہی ہے ۔ابھی کچھ ہی دن پہلے عورتوں کے ساتھ لاہور میں درندگی کے بےشمار واقعات سامنے آۓ ہے ۔ ہمیں اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کے بارے میں سوچنا ہوگا ورنہ تو اس کی سزا ہمیں اللہ بہت سخت دے گا۔

    Waseem Khan
    Twitter id: ‎@Waseemk370

  • اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    ‏”
    جب آپ مصیبت کے چہرے میں ہمت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو، آپ اپنی زندگی اور دوسروں کو تبدیل کرتے ہیں۔
    دنیا میں سب سے زیادہ اشتعال انگیز لوگ وہی ہیں جو اوسط کے لئے حل نہیں کریں گے اور مصیبت کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے. ہم سب سے زیادہ ان لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جنہوں نے مشکل کا سامنا کیا ہے اور، کبھی حوصلہ نہیں چھوڑتے ہیں.

    قسمت بہت اچھی ہے، لیکن زندگی کے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ بعض اوقات کشیدگی سے باہر کا واحد راستہ اس کے ذریعے ہے۔ زندگی میں چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سبق سکھانے میں مدد کے لئے کئی بار جدوجہد ہوتی ہے۔ ہم یا تو اس سبق سے سیکھ سکتے ہیں یا اس سے انکار کرسکتے ہیں۔
    ایک ارتقائی نقطہ نظر سے انسانی ذہن کا بنیادی مقصد آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ کبھی کبھی یہ خود کو سبوتاژ کرنے کی طرف جاتا ہے کیونکہ آپ کے آرام کے زون میں رہنا اور خطرے سے بچنا آسان ہے۔ تاہم، بڑے بڑے کام کبھی ماداوکراٹی سے آتے ہیں۔ اوسط کے لئے حل کرنا چھوڑ دیں اور غیر معمولی کے لئے کوشش کریں۔
    ذیل میں وہ الفاظ ہیں جو میں نے طاقتور زندہ بچ جانے والوں سے متاثر ہوکر لکھے ہیں۔ ایک محرک اسپیکر کی حیثیت سے، میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملتا ہوں جو بدقسمتی سے بچ گئے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ کشیدگی میں طاقت تلاش کرنے، خوف کو فتح کرنے اور اپنے خوابوں کو زندہ کرنے کے لئے ایک حوصلہ افزائی تقریر کے لئے مندرجہ ذیل نقطہ نظر ہے.
    حوصلہ افزائی تقریر ٹیمپلیٹ، کبھی بھی اپنے خوابوں کو ترک نہ کریں۔
    دلیری کے ساتھ آپ کے خواب کی سمت میں جاتے ہیں۔

    قد کھڑے ہیں اور دنیا کو دکھائیں جو آپ بنا رہے ہیں. جب دنیا آپ کو ہرا دیا، واپس دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک وجہ تلاش کریں۔ کبھی کامیابی پر ہاریں۔
    کوشش کریں، کوشش کریں، کوشش کریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ کامیابی کے اپنے دماغ کے خیالات کو کھانا کھلانا، ناکامی نہیں.
    یاد رکھیں، اگر آپ کو چھوڑ دو تو آپ ناکام ہوسکتے ہیں. جب بھی آپ ناکام ہوجاتے ہیں، آپ کامیابی کے ایک قدم قریب آجاتے ہیں۔
    آپ خوفزدہ نہیں ہیں۔ آپ باہمت ہیں۔ آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ طاقتور ہیں۔ آپ عام نہیں ہیں، آپ قابل ذکر ہیں.
    پیچھے نہ ہٹیں، ہار نہ مانیں۔
    جب آپ اپنی زندگی پر نظر آتے ہیں، تو افسوس نہیں ہے. اپنے آپ پر یقین کریں، اپنے مستقبل پر یقین کریں، آپ کو اپنا راستہ مل جائے گا۔

    آپ کے اندر ایک آگ جل رہا ہے جو بہت طاقتور ہے ؛ یہ روشن جلانے کے لئے انتظار کر رہا ہے. آپ بڑے بڑے کام کرنے کے لئے کیا مراد ہیں۔
    آپ کے خواب کے بعد خوفناک اور دلچسپ دونوں ہو سکتے ہیں۔
    ہمت کو خوف کا سامنا ہے۔ ناکامی کا خوف زیادہ تر لوگوں کو پیچھے رکھتا ہے۔ آپ زیادہ تر لوگ نہیں ہیں۔
    دوسروں کو اپنے منصوبوں کے بارے میں برقرار رکھیں اور قائل کریں، کیونکہ وہ حقیقی ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا لیکن آپ. ہمارے خوابوں کی راہ میں کوئی نہیں ملے گا۔

    زیادہ تر لوگ واضح مالک ہیں; آپ ایسی چیز بنا رہے ہیں جو پہلے نہیں تھا. یہ جلی ہے، یہ خوبصورت ہے اور یہ آپ ہے۔
    اسے اپنی پوری کوشش کرو، اور آپ کے خواب زندگی میں آئیں گے۔ کامیابی آپ کا ہے۔
    آپ کے خواب کے لئے جانا۔ یہ آپ کی باری ہے۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    ‎@AQsmt2

  • پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط

    پاکستان کی ساکھ ، پاکستانیوں کے ہاتھوں برباد تحریر : حیأ انبساط

    ۱۴ اگست ، اُس پاکستان کی آزادی کا دن جسے اسلام کے نام پہ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا لیکن بد قسمتی سے اس وطن کی آزادی کے جشن کے نام پہ جو تماشہ ملک بھر میں ہر سال لگایا جاتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی.
    کل بادشاہی مسجد کا ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا جس میں پاک سرزمین کی بیٹیاں مسجد کے احاطے میں کھلے سر اور تنگ لباس میں موجود فوٹوشوٹ میں مصروف دیکھائی دیں جبکہ دوسری طرف اسی بادشاہی مسجد میں غیر ملکی سیاحوں کا کافی بڑا گروہ ( جس میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی) سر پہ دوپٹہ اوڑھے مسجد کے تقدس کا پورا پورا خیال رکھ رہا تھا۔ غیر مسلموں کا مسجد کیلئے احترام اور مسلمان عورتوں کی مسجد میں بےحیائی دیکھ کر شرم سے نظریں جھک گئیں۔

    پاکستان کی آزادی کا جشن منانے کا آخر یہ کون سا طریقہ ہے کہ سبز اور سفید لباس زیب تن کر کے فوٹوشوٹ کروا کے اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا اور غیر مردوں سے واہ واہ وصول کرنا ۔ ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں یاد رہتا کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیئے خاندان کے خاندان شہید ہوئے ہیں ان بچیوں کو ان کے بڑے کیوں نہیں بتاتے کہ عزّت اتنی قیمتی شۓ ہے کہ تقسیمِ ہند کے موقعے پہ جوان بیٹیوں نے اپنی آبرو بچانے کی خاطر کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی عزت کو پامال ہونے سے بچایا تھا اور آج ان قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کے نام پہ پاکستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

    حال ہی میں ہوئے سانحہ مینار پاکستان کے بارے میں بات کی جائے تو اپنے اجداد سے شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ جگہ جہاں اسلام کے نام پہ ایک علیحدہ ملک بنانے کی قرارداد پیش کی گئی وہ ملک جس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش میں لاکھوں لوگوں نے خاندان کے خاندان گنوائے اس جگہ اتنی بےحیائی کا مظاہرہ کیا گیا ۔میں اس معاملے کی شدید مذمت کرتی ہوں جو ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا وہ خاتون مکمل لباس میں تھیں تو پھر کیوں ۴۰۰ درندوں نے اس خاتون کا لباس تار تار کیا ؟ بہت غلط کیا ،نوچ کھسوٹ کی، گناہ کیا۔ اس خاتون کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں لیکن کچھ سوالات ذہن میں سر اُٹھا رہے ہیں ؛ خاتون کا پچھلا ٹریک ریکاڈ کہیں سے بھی مہذب نہیں دیکھائی دیتا ، لباس کے انتخاب سے لیکر ان کی ویڈیوز کے مواد ( کانٹینٹ) تک میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کے قابل ستائش ہو ، ہاں قابلِ شرم کافی زیادہ کچھ ہے ۔ میڈم کا کانٹینٹ جس نچلی سطح کا ہے اسی لحاظ سے پست ذہنیت والے اس کانٹینٹ کے شیدائی ان کے فالورز بھی ہیں جو ایسا مواد دیکھنا اورسراہنا پسند کرتے ہیں ۔ اب میڈم نے جب ان کو کھلے عام ملنے کیلئے دعوت عام دی تو کیسے انکے مداح اپنی اسٹار کو دیکھنے حاضر نہ ہوتے ؟
    جب آپ خود اپنی فکر کیے بغیر ، ایک پبلک پلیس پہ دعوت دے کر غیر محرموں سے ملنے کیلئے ، غیر محرم کے ہی ساتھ تشریف لائیں گی تو آپکی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟ وہ گندی ذہنیت والے مداح جو آپکی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھ کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں یا پھروہ برائے نام دوست یا منگیتر جو بھرے مجمعے میں آپ کو ڈھکنے کے بجائے موقع پہ چوکہ لگاتا دیکھائی دیا گیا ہے ۔ اگر اس منگیتر صاحب کی جگہ آپ کسی محرم کے ساتھ ہوتیں تو میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں وہ آپ کی عزت پہ آنچ نہ آنے دیتا ۔

    اب تھوڑے حقائق جو منظر عام پہ آئے ہیں انکی بات کی جائے تو پارک کے گارڈ کا بیان سامنے ہے ، محترمہ کا اگلے دن کا انسٹاگرام پوسٹ جس میں وہ خوش باش دیکھائی دے رہی ہیں ، انکے بقول ان کے جسم پہ کہاں کہاں زخم ہیں وہ دیکھا بھی نہیں سکتیں لیکن چہرہ ، ہاتھ، پاؤں سب بےداغ ہیں ، محترمہ کا انٹرویو کسی اور کے گھر میں ہوا، جس کو اپنا گھر اور والدین کہا وہ پہجاننے سے انکاری ہیں ، انکے ٹک ٹاک پیغامات میں دیکھائی دیتا ان کا اطمینان اور اس سب سے بڑھ کے اب محترمہ کا پولیس سے تحقیقات روکنے کا مطالبہ مجھے آزردگی میں مبتلا کر گیا ہے۔

    بہت اچھی بات ہے کہ حکومت نے نوٹس لیا ، تحقیقات کروائی جا رہی ہیں اور ان درندوں کو سزا بھی ضرور ملے گی لیکن مجھے اس بات کا جواب چاہئیے کہ اگر یہ سب پہلے سے طے شدہ پبلسٹی اسٹنٹ ہوا تو کیا اس خاتون بمع ان کے منگیتر اور وہ تمام حضرات (جو ملک پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ، ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہیں ) سے کوئی ہرجانہ مانگا جائے گا؟؟ ان ۴۰۰ لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف بھی کوئی کاروائی ہوگی ؟ کیونکہ ان کے ایک فالتو اور فضول کے میٹ اپ پروگرام کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر جس درجے کا نقصان پہنچا ہے ان لوگوں کی سات نسلیں بھی اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتیں ۔ سستی شہرت کی بھوکی خاتون اور اسکے حامی و مددگار افراد نے پاکستان میں آنے والے ٹورسٹ کے دلوں میں اس قدر خوف و ہراس بھر دیا ہے کہ غیر ملکی جو پاکستان کو محفوظ تصور کرکے یہاں سیاحت کی غرض سے آنے لگے تھے ہزاروں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تھے ان کی روزی روٹی پہ لات مارنے کے جرم کی کیا سزا ہوگی؟ ہزاروں خاندانوں کو بےروزگار کرنے پہ کیا یہ حکومت ان میڈیا ہاؤسز سے کوئی سوال کرے گی جن کے واویلے نے دنیا میں پاکستان کو ایک مشکوک ملک بنا دیا ہے ؟؟

    میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتی ہوں کے اس واقعے کی تحقیقات مکمل کروائی جائیں ہر ایک کو جو ذمہ دار ہے ان ۴۰۰ لوگوں سمیت سزا دی جائے کہ کسی اور کی آئندہ پاکستان پہ کیچڑ اچھالنے کی ہمت نہ ہو ساتھ ہی میں یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ پاکستان کو مکمل ریاست مدینہ نہ بھی بنا سکیں تو کم از کم اس واہیات ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں مکمل طور پہ بین کیا جائے ساتھ ہی ان ٹک ٹاکرز کے اکاؤنٹ اگر کسی بھی ڈیوائس سے لاگ ان ہوں تو ان ڈیوائس کو بھی بلاک کیا جائے ۔ اسکرین پہ صرف مکمل سطر پوشی کے ساتھ آنے کی اجازت ہو کیونکہ اصل فساد کی جڑ بےحیائی ہے۔ اسلام نے عورت کو بہت تحفظ فراہم کیا ہے چاہے وہ معاشرے میں ہو یا جائیداد میں لیکن آج کی خواتین کو جائیدار میں حصہ والا اسلام تو یاد رہتا ہے لیکن پردے کے حکم پہ میرا جسم میری مرضی کا قانون لاگو کرنے کیلئے تیار رہتی ہیں انہیں کوئی بتائے کے اللّٰہ جسے عزت بخشتا ہے اسی کو ڈھانپنے کا حکم دیتا ہے خانہ کعبہ کے کسوہ کی تبدیلی کا طریقہ کار اس کی واضح مثال ہے ،قرآن مجید کا غلاف قرآن اس عزت کی واضح تعریف ہے تو جب اسی اللّٰہ نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت دی آپکو آخر یہ عزت کیوں راس نہیں آرہی ؟ جب آپ سلیو لیس ، ٹاپ لیس ، بیک لیس پہن کے عوام کو اپنا جسم دیکھانے کیلئے ذہنی طور پہ تیار ہیں تو پھر ستائش بھری اٹھتی نظروں کے ساتھ بڑھتے ہاتھوں کے لیئے بھی تیار رہیے ۔

    نہ بھولیں کہ آپ جس ملک میں رہتی ہیں اسکا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یہ کوئی سیکیولر ریاست نہیں اگر آپ میں اسلام کے خلاف زیادہ جراثیم پنپ رہے ہیں تو کسی ایسی ریاست تشریف لے جائیں جہاں آپکو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پر برائے مہربانی جس تھالی میں کھائیں اسی میں چھید کرنے سے گریز کریں۔ شکریہ

    Twitter handle : ‎@HaayaSays

  • ٹک ٹاکرز بے لگام  تحریر :فاطمہ

    ٹک ٹاکرز بے لگام تحریر :فاطمہ

    14اگست کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ لوگوں نے بدتمیزی کی گٸ اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔

    میں نے سنا ہے کہ بہت سے لوگ ٹک ٹاک پر فولوز لینے کے چکر میں اپنے آپ کو ننگا بھی کر دیتے ہیں اور نہایت نازیبا
    قسم کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں جو کہ یقینا آپ لوگوں نے بھی کم و بیش دیکھا یا سنا ہی ہو گا
    آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے فالوورز کس قسم کے لوگ ہونگے۔
    اور پھر یہی لڑکیاں جب پبلک میں کھڑی ہو تی ہیں تو یہ ثابت کرنے لگ جاتی ہیں کہ میرے اتنی زیادہ چاہنے والے لوگ ہیں تو اس قسم کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
    انہیں بس اس بات سے غرض ہے کہ بہت چاہنے والے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کس قسم کے چاہنے والے ہیں اللہ ہی حافظ ہے ان لوگوں کا۔
    پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور مسلمان ہوتے ہوئے کیا ہمیں اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ ہم ٹک ٹاک پر بیہودہ قسم کی وڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں؟
    سنا ہے سعودیہ میں ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکوں کو جنسی جذبات ابھارنے پر بہت ساری لڑکیوں کو جیل ہوئی اور بہت سخت جرمانے ہوئے پاکستان میں بھی اس قسم کے قانون کی سخت ضرورت ہے۔ بیہودہ وڈیوز بنانے والوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سخت سزا اور جرمانے کیے جائیں۔

    لڑکوں کا تو پھر بھی مسئلہ نہیں لیکن اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسے مسائل ہوتے رہے تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوگی۔
    ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ یہ لڑکی کا شہرت پانے کے لۓ ایک ڈرامہ اور سکینڈل ہو کیونکہ ہم نے بہت زیادہ ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ویڈیوز میں ننگی ہو جائے یا سر عام لوگوں کے ہاتھوں سے کپڑے پھٹ وا لیں۔ اب وہ لڑکی باقاعدہ سوشل میڈیا پر اپنا چہرہ بھی دیکھا رہی ہیں کہ میں ہی وہ لڑکی ہوں۔
    ویڈیو میں لوگ دیکھیں نہ دیکھیں اور اس طرح اس کو سب نے دیکھ لیا۔
    کینیڈین روزی بھی ایک عورت ہے پورا پاکستان اکیلے گھوما ہے، لوگوں نےفری بائیک ٹھیک کرکے دی جہاں گئیں کھانے کےپیسے نہیں لیےگئے لوگوں نےاپنے گھروں میں فری رہائش دی ،
    400 کیا ہزاروں لوگوں سے ملی پورا پاکستان دیکھا اور دنیا کو پاکستان کی مثبت چہرہ دکھایا۔
    ا سے کسی ایک نےبھی بری آنکھ سےنہیں دیکھا کیونکہ روزی ناچ گانا نہیں کرتی تھی، اس نے بےحیا لوگوں کو اپنا فین نہیں بنایا تھا خدارا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو اس طرح سے رسوا نہ کریں۔ کچھ ان بے ہودہ ٹک ٹاکروں کو بھی لگام دی جائے ۔
    قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر سخت سے سخت ایکشن لیتے ہوئے اس ٹک ٹاکر کے ساتھ آنے والے لڑکوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔
    وہ لڑکی جسے اتنے لوگوں نے تنگ کیا تب اس کے ساتھ آنے والے ٹک ٹاکر لڑکوں نے اسے کیوں نہیں بچایا؟
    اتنے سارے مردوں کے مجمع میں اس واحد لڑکی کو ہر ایک کی طرف فلائنگ کس کرنے سے اس کے دوستوں میں سے کسی نے کیوں نہیں روکا؟
    400 لوگوں کے درمیان ہی اس کا ایک ساتھی اس لڑکی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کیوں کھڑا تھا؟
    کیا اسلامی معاشرہ میں یہ سب حرکتیں زیب دیتی ہیں؟
    میرا سوال ہے سب پڑھنے والوں سے

    ‎@Khak_e_Taiba