Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حوصلے کیوں بڑھتے ہیں ۔۔۔۔           تحریر: آصف گوہر

    حوصلے کیوں بڑھتے ہیں ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    "جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔”
    سورة المائدة 33
    گذشتہ چند روز سے تسلسل کے ساتھ دل دہلا دینے والے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں کبھی کسی نواجوان لڑکی کا گلا کاٹ دیا جاتا ہے کبھی مینار پاکستان پر ہجوم خاتون کے ساتھ دست درازی کی خبر ملتی ہے کم سن بچیوں کے ساتھ درندگی اور چنگ چی رکشہ پر بیٹھی خواتین کے ساتھ چلتی سڑک پر بھیڑیا نما انسانوں کی چھیڑ خانی کی واردت ۔ان سب لرزہ خیز وارداتوں نے بیٹیوں والوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں کہ اس غیر محفوظ معاشرے میں اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ ان درندوں کے حوصلے کیوں بڑھ گئے ہیں ان کو کیوں پکڑے جانے اور سزا کا خوف نہیں
    ۔۔؟
    وجہ صرف اور صرف لاقانونیت پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کی مکمل ناکامی اور غیر مساوات پر مبنی فیصلے ہیں ہمارا انصاف کا نظام امیر آدمی کو فوری اور سستا انصاف مہیا کرتا ہے بڑے آدمی کو اگر ماتحت عدالتیں سزا بھی دے دیں تب بڑی عدالت کی مداخلت سے وہ مکھن سے بال کی طرح سرخرو ہو کر نکل جاتا ہے ۔نیب ملزمان کو بڑے بڑے اسکینڈلز میں گرفتار کرتا تو ہے لیکن کمزور تفتیش اور پراسیکیوٹرز کی وجہ سے چند ماہ بعد وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے نظام کا مذاق اڑا رہا ہوتا ہے۔ مرضی کی جعلی میڈیکل رپورٹس تیار ہو جاتیں ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جیل بند مجرم کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے کر بیرون ملک فرار ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے چھٹی والے دن ضمانتیں منظور کر لی جاتیں ہیں ۔ عدالت کو بتائے بغیر ملزم کو دوبارہ گرفتار نہ کرنا کا حکم دیا جاتا ہے۔ ایم پی اے اپنی گاڑی کے نیچے ٹریفک پولیس کے اہلکار کو کچل کر بھی سزا سے بچ جاتا ہے ۔جب عام عوام انصاف کا یہ عالم دیکھتے ہیں تو سفاک مجرموں اور شوقیہ جرم کرنے والوں کے حوصلے بڑھتے ہیں اور وہ درندگی پر اتر آتے ہیں انسانوں پر کھلے عام تشدد کرتے ہیں شرفا کی عزتیں پامال کرتے ہیں اور پھر ان سے نہ کسی کی بیٹی محفوظ ہوتی ہے نہ بہن ۔ ہمارے ہاں پتا نہیں کیوں پبلک میں سرعام سزا دینے سے گریز کیا جاتا ہے اعدادوشمار اٹھا کر دیکھیں لیں جن ممالک میں سرعام لٹکانے کوڑے مارنے اور سر کاٹنے کی سزا پبلک میں دی جاتی ہے وہاں پر جرائم کی شرح بہت کم ہے۔
    کسی معاشرہ میں جب انصاف کا نظام زمین بوس ہوجائے پھر وہاں لاقانونیت اور انارکی کا راج ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گھناونے اور انسانیت کے خلاف جرائم بارے سخت قانون سازی کی جائے خصوصی عدالتوں کے ذریعے تیز ترین کاروائی سماعت کرکے پبلک میں سزاوں کا نفاذ کیا جائے تاکہ بیمار ذہن درندوں کو عبرت حاصل ہو۔ قرآن نے معاشرے میں فساد پھیلانے والے سفاک مجرموں کو قتل کربے سولی چڑھانے ان کے ہاتھ پاوں کاٹنے ،اور انہیں جلاوطن کرنے کا حکم دیا ہے ۔تاکہ مسلم معاشرے انسانیت سوز جرائم سے محفوظ رہیں ۔
    @Educarepak

  • کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    زیست و حیات کا سفر محنت و مشقت سے عبارت ہے اور دشوار گزار مراحل کو مشقت و جانفشانی کے بل بوتے پر ہی تحمیل پز یر کیا جاسکتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی اس سے منفر نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ان ٹھن مراحل کو ایک ٹیبل ٹینس کے کھیل سے بہ آسانی تعیہ دے سکتے ہیں جہاں پر گیند کو ہر جانب سے پیا جا تا ہے ۔آخر ہمیں اپنے دور حیات میں نا کا میوں سے ہمکنار کیوں ہونا پڑتا ہے۔ یہ سوال دل کو بار باغیرمطمئن کرتارہتا ہے۔ ہراشرف المخلوقات خدا کی عطا کی ہوئی بہترین نعمت ہے۔ ہمیں قدرت کی جانب سے عقل وفراست اور شعور عطا ہوا ہے۔ ہمارے اندر مہارتیں اور ہنر مندیاں ہیں، کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں پر بھی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وقوع پزیر ہونے والی تبدیلیوں چینج، پریشانیوں یا مصائب زدہ مسائل کوحل کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہرانسان امن وسکون ،خوشحالی بنشرت اور کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کی جستجو میں در بدر کی ٹھوکر میں کھارہا ہے، لیکن اپنے گردوپیش کا مشاہدہ میں تاتا ہے کہ کامیابی یافت مندی بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ میں ایسے بے شارانسانوں سے واقف ہوں جو کہ کامیابی اور مسرت حاصل کرنے کی دھن میں اپنی زندگی کو بر بادکر بیٹھے ہیں، کامیابی حاصل کرنے کے جنون میں ان کی زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے۔لکر، مایی ، تاؤ زدہ ماحول کے جال میں وہ پوری طرح الجھ چکے ہیں۔جس کے سب غصہ نگی ، مای ، یاسیت اور نا کا میابی ان کا مقدر بن چکی ہے۔اس گر دش دوراں سے کیاوہ نکل پائیں گے؟ کیوں نہیں نکل پائیں گے۔ بے شارافراد کے خواب بڑے اعلی قسم کے ہوتے ہیں لیکن ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے لازمی ہمت ،مضبوط قوت ارادی قلبی استقلال نظم وضبط مستحکم
    ارادے ان مسائل کا میں یکسر فقدان پایا جا تا ہے ۔ چندلوگ تقذ یر پرانحصار کرتے ہیں اور بعض افراد خدائی دین پر اور پر ضروری کوشش کرتے ہی نہیں۔خداتو اس کی مد دکرتا ہے جو جہد مسلسل سے کام لیں۔ اگر جہد وٹل میں جذ بہ دل شامل نہیں ہوتا کوئی پھر لا کھ چا ہے ئیدعا حاصل نہیں ہوتا

    ہر با کمال انسان میں ایک جذ بہ مشتر کہ ہوتا ہے اور وہ بندمی کی فرسودہ فکر سے انحراف اور کچھ نیا کر دکھانے کی آرزو می تمام یا تیں نا کام انسان یکسرفراموش کر بیٹھتا ہے۔ لہذانا کا میوں اور مایوسیوں کے گھنگھور اندھیروں میں گھر جا تا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک کھل منصوبہ بند طریقے سے لائھ مل کو ترتیب دینے اور یح و مثبت سمت میں سفر کا تعین کرنے کی ضرورت اور ہمت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ریاضت ہے جس کے لئے آپ کا قلب جسم، دماغ اور روح کا ہم آہنگ ہونا از حد ضروری ہے۔جسم، ذ ہن ودماغ اور روح میں رہ نہیں ہوگا تو متوقع کامیابی حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہ ہوسکیں گے ۔ ا دوستو! اپنے ضمیر سے واقفیت یا تلاش نفس یا خودی کی تلاش ایک عظیم انقلاب کی علامت ہے۔ جس کی بناء پر میرا اپنادور حیات کی جانب دیکھنے کا نظریہ ہی مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ بدلاؤ یقینا تسلی بخش اور مسرت آمیز ثابت ہوا۔اپی بالذات کی آزمائش کے بناء پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ میں آج بھی بڑے حیرت وتعجب کے سمندر میں موجزن ہوں کہ اس سے قبل میں نے ان راہوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ ان راستوں سے میں لالم کیوں تھا؟ میرا اپنا تجر بہ و مشاہدہ آپ کے ساتھ بانٹا ہے ۔
    @Hi_Awaiz

  • پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان

    پاکستان کی بیٹی:- تحریر از عمرہ خان

    کچھ دن سے سوشل میڈیا کی ہر ویبسائٹ پر ایک عورت مشہورِ ہوئی وی ہے ۔۔۔۔انسٹا فیسبک ٹوئیٹر یہاں تک کہ واٹساپ کے اسٹیٹس دیکھو تو وہاں بھی اس ہی کا ذکر نظر آرہا!!! پہلے ایک دن تو ٹوٹلی جسے دیکھو پاکستانی ہونے پر شرمسار نظر آرہا تھا!!!!
    تو اول تو یہ کہ بھائی ذرا ٹھنڈے رہئے میں بھی پاکستان کی شہری ہوں اور میں ایک عورت ہوتے ہوئے اس قلعے کے تحفظ کو محسوس کرسکتی ہوں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے کہ کسی شمر نے میرے کاندھوں سے آنچل نہیں کھینچا ۔۔۔۔۔ آپ ایک چھوٹے سے طبقے یا گروہ کے ڈرامے سے اپنی سر زمین پر کیسے نادم ہیں آخر کیسے؟؟؟
    ایسا نہیں ہے کہ مجھے واقعے پر شرمندگی نہیں ہے بلکل میں ہوں شرمندہ ۔۔۔۔۔۔اور اس بات پر شرمندہ ہوں کہ چند لوگوں نے وطن عزیز کو اسکی سالگرہ پر یہ گھٹیا تہمت تحفے میں دی اور ہم انکے ساتھ اپنے وطن پر گندگی اور کیچڑ اڑانے میں آگے آگے رہے ،میں شرمندہ ہوں اسلئے کہ میرا پاکستان بے انصاف لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔یہاں اگر پہلی بچی یا پہلی عورت کے مجرم کو سرعام سزا ہوتی تو آج یہ دو ٹکے کا بدمعاش طبقہ میرے وطن کے خلاف یہ گھناؤنا کھیل نہ کھیل پاتا۔۔۔۔وہ عورت اور اسکے ساتھی اپنی گندگی کو میرے وطن کے سر نہ کرپاتے ۔۔۔۔۔
    کیا مطلب ہے بہن تم کس منہ سے خود کو پاکستان کی بیٹی کہتی ہو؟؟ پاکستان کی بنیاد کلمہ لاالہ الااللہ ہے اور یہ اسلام پر چلنے والوں کو ایک تجربہ گاہ چھین کر دی ہے قائد اعظم نے کہ جہاں مسلم عورتوں کے سروں سے کوئی چادر نہ کھینچ سکے جہاں ایک مسلمان بیٹی ،ایک پاکستان کی بیٹی آزادی سے باہر نکلے مگر نہیں میرے اس جملے میں موجود لفظ آزادی کا مطلب آپنے اس ہی حساب سے لینا ہے جو مغرب سے عورتوں کے ذہنوں میں بٹھایا جارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو اسلام ہے نہ یہ ایک نظام کا نام ہے جو عورت کو سکھلاتا ہے محرم کے ساتھ نکلو، راستے میں بیچ میں نہ چلو، ایک طرف ہوکر چلو ، اپنی زینت چھپاؤ، اب یہ جاہلیت لگنے لگے گی ؟؟ بہن جاہلیت وہ تھی جو اسلام آنے سے پہلے تھی جو آج بھی یورپ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔میں اس پاکستان ( عورت کیلئے غیر محفوظ ملک) میں جب باہر نکلتی ہوں تو مجھے راستہ دیا جاتا ہے بابا یا بھائی کے ساتھ نکلوں تو انکے پیچھے پیچھے چل کر جو تحفظ کا احساس ہوتا ہے مجھے وہ آپ یورپ میں یا اس واک میں جو آپنے گریٹر پارک میں کی محسوس نہیں کرسکتیں ۔۔۔ یہاں کے وحشی جانور مرد( أپکے اور آپکے فینز کے گھٹیا ڈرامے کے بعد یہی پہچان بنی ہے ) کبھی باجی اور کبھی بہن کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور نقاب میں دیکھ کر اوروں سے زیادہ عزت دیتے ہیں کبھی چیز لینے بھی گئی ہوں برقعے میں تو دکان پر گاہک سائڈ پر ہوکر آگے جگہ دیتے ہیں کہ پہلے میں خرید لوں ۔۔۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں یہ والی گمنامی بہتر ہے یا وہ گندی مشہوری جو آپ کو حاصل ہوئی ۔۔۔۔ اسلام نے جو مجھ پر لاگو کیا وہ میں کرتی ہوں اور میں نے اپنے گرد لوگ بھی ایسے ہی پائے ہیں جو مجھے عزت دیتے ہیں ایک بہن ایک بیٹی کی حثیت سے اور یہی آزادی ہے ۔۔۔۔۔
    ہم بینک سے بڑی رقم اور جیولر سے جیولری نکلوا کر جب باہر آتے ہیں تب ہم اسکو اچھی طرح چھپا کر نکلتے ہیں اور اس طرح نکلتے ہیں کہ کسی ریکیی کرنے والے کو علم نہ ہوسکے کہ میرے پاس کچھ ہے یا میں نے کچھ نکلوایا یہاں سے ۔۔۔۔۔ پھر یہاں آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائیں کہ آپ ایک عورت ہیں۔۔۔اور عورت ہے ہی ایک چھپانے کی چیز جسے مختلف لوگوں کی نظریں گندا کردیتی ہیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ پاکستان کلمہ کے نام پر بنا جب آپ اسکے اصول ہی لاگو نہیں کر رہیں پھر؟؟ پھر کیسے پاکستان کی بیٹی؟؟ یہ ایسا ہی ہے میں بلی کو گوشت دکھاؤں اور کہوں یہ جھپٹا نہیں مارے گی ۔۔۔۔۔۔ اب میری بات بھی مرد پر آگئی تو ایک بات یہ کہ مرد وہ بلی نہیں ہوتا جو گوشت پر جھپٹے وہ بھیڑئے تھے جو اس ویڈیو پیغام کے ذریعے بلائے گئے تھے وہ بھی مذہب اور اسلام کے اصولوں سے ناآشنا میراثی تھے میرے ملک کا چہرہ نہ تھے میرے ملک کا چہرہ وہ لوگ ہیں جو عورت سے بات کرتے ہیں تو نظریں جھکا کر چاہے عورت بے حجاب ہو یا باحجاب ۔۔۔۔۔ وہی مرد پاکستان کا فخر ہیں وہ جنھیں آپ لائیں وہ گندگی تھے وہ مرد نہیں تھے ۔۔۔۔ کچھ اور گندی مخلوق تھے جو آج کل ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو پر پیدا ہورہے اور صرف یہی نہیں میرے ملک میں اگر گندگی ہے تو وہ چینلز اور یہ ٹک ٹاک اور اسنیک ویڈیو۔۔۔۔ چینلز پر گند دکھا دکھا کر لوگوں کی ہوس جگائی جاتی ہے باقی کی کمی ٹک ٹاک پر مجرے پوری کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اور بلکہ میری تو گزارش ہے کہ قارئین میں اگر کوئی صحافی ہے تو جیسا کے عورت کے کیس ختم کرنےکی نیوز آرہی ۔۔۔تو صحافی حضرات کو چاہیے کہ جہاں ایسے تمام کیسز پر جلدی کی تاریخیں لیکر مجرموں کو سزا سنائی جائے وہیں اس عورت، ریمبو اور دو صحافیوں پر ہتک عزت کا کیس کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں بھی اگر پہلے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا ہوچکی ہوتی تو آج یہ لوگ یہ گندہ ڈرامہ رچانے سے پہلے سو بار سوچتے۔۔۔۔۔ بس اب جلدی کسی ایک ایسے مجرم کو سرعام سزا ہو تا کہ آگے حقیقی واقعات میں بھی کمی واقع ہو ۔۔۔۔ باقی یہ کہ پردہ تحفظ ہے ان واقعات کی روک تھام کیلئے اسے بھی رائج کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مغرب جانتا ہے کہ مسلمان عورت کیا ہے مگر مسلمان عورت اپنے آپ سے ،اپنی اہمیت سے ناآشنا ہے ۔۔۔۔۔۔ مذہب پر عمل نہ دقیانوسیت ہے نا ہی جہالت ہے اور مذہب پر چلنے والے ہی میرے ملک کا اصل چہرہ ہیں ۔۔۔۔۔ہمیں آزادی ملی ہے تو ہم نے اسکا کچھ اور ہی مطلب لیا ہے ۔۔۔۔پوچھیں انڈیا یا مغرب کی مسلمان عورتوں سے انھیں چہرہ ڈھانپنے کی آزادی نہیں وہ یہ آزادی چاہتی ہیں کہ انھیں چہرہ ڈھانپنے سے کوئی نہ روکے تو وہ مروہ الشربینی کی طرح شہید کردی جاتی ہیں ان سے وہ چادر چھینی جاتی ہے جو انھیں تحفظ کا احساس دلائے ۔۔۔۔۔اور یہاں آپ اپنے برہنہ سر کو آزادی سمجھ بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ میں ایک لڑکی ہوں اور لڑکی ہوتے ہوئے میں زیادہ بہتر وہی جانتی ہوں جو مجھ پر لاگو ہوتا ہے ۔۔۔۔ بس آخر میں اتنا کہونگی کہ ظاہر ہے قصور وار وہ 401 تھے تو ساتھ ہی ساتھ وہ صحافی بھی قصور وار ہیں جو بجائے اسکے کے گیم سامنے آنے کے بعد وہ ان سے متعلق سوالوں کے جواب دلوائیں ان لوگوں سے بلکہ وہ اب یہ کہ وہ ہمیشہ ٹھیک تھے اور انہوں نے اس عورت کے گیم کا حصہ بنکر بلکل ٹھیک کیا یہ ثابت کرنے کیلئے وہ اور گھٹیا گھٹیا واقعات ڈھونڈ ڈھونڈ کر میڈیا پر چلوارہے اور میرے وطن عزیز پر اور کیچڑ اچھال رہے اور جیسا کہ تجزیہ نگاروں کے نزدیک ساری سازش جس کھیل کا حصہ بتائی جارہی تب تو میرا یہ کہنا ہے کہ اور جتنے جنسی زیادتی کے واقعات ہیں ان میں سے 75٪ واقعات قوم کی معصوم بیٹیوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت رونما کئے گئے ہیں عدلیہ سے گزارش ہے کہ ایسے واقعات کے مجرموں کو جلد سزا دے اور پاکستان کو گندہ کرنے میں شریک کار نہ بنے۔۔۔۔ میرا پاکستان میرے لئے تحفظ کا ایک قلعہ ،ایک احساس ہے
    اور بہن بھائیوں سے گزارش ہے کے اپنا وقار برقرار رکھئے کردار کی پستیوں میں نہ گرئیے
    پاکستان کا جو خاکہ آپ دنیا کو پیش کر رہے وہی آپکا حوالہ ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k

  • ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان

    ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان

    جب دسمبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان میں کوویڈ 19 وبائی مرض کا پہلا کیس آیا تو چین میں تعلیمی ادارے سمیت ہر چیز بند کردی گئی اور سفری پابندیاں لگا دی گئی۔ جیسے جیسے کوویڈ 19 کے کیسز دوسرے ممالک میں سامنے آتے گئے تو ہر ملک میں تعلیمی ادارے بند کردئے گئے۔ اس دوران ہزاروں طلباء جو چین میں زیرتعلیم تھے جو چین کے مختلف یونیورسٹییز سے BS, MS اور PhD کی ڈگریز کر رہے تھے وہ پاکستان آئے جو آج تک اس انتظار میں ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کے کلاس رومز، ریسرچ لیبز اور لائبریری کا پڑھائی والا ماحول کبھی دیکھیں گے۔ 19 ماہ سے لے کر آج تک چین کا ویزا ملنا ان پاکستانی طلباء کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔

    پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں کچھ ایسے بھی ہے جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے یونیورسٹیوں میں داخلہ ملا ہے۔ ان نئے طلباء نے ابھی تک اپنی یونیورسٹی کا ماحول دیکھا بھی نہیں۔ چین میں زیر تعلیم بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلباء کو پاکستان میں پھنسے 19 ماہ ہو چکے ہیں اور انکو ویزا نہیں مل رہا۔ یہ طلباء پاکستانی حکومت کا بے بسی کے علم میں 19 ماہ سے دروازہ کھٹکھٹکا رہے ہیں لیکن زرائع کے مطابق کوئی حکومتی رہنما ان کی مدد کیلئے آواز نہیں اٹھا رہا۔ البتہ اپوزیشن سیاسی جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رانا مشہود احمد خان اور ایم پی اے بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان طلباء کو ہر قسم کی مدد کا یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ 16 جولائی 2021ء کو ن لیگ کے پنجاب کے نائب صدر و پنجاب اسمبلی کے ممبر رانا مشہود احمد خان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ٹویٹر بیان میں طلباء کیلئے ہر محاذ پر آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ 17 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں پاکستان کے طلباء کو پیش انے والے مسائل کیلئے آواز اٹھائی۔

    22 جولائی 2021ء کو ٹویٹر پر پنجاب اسمبلی کے لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں کہ طلباء پر سفری پابندی کا معاملہ نہ صرف اسمبلی میں بلکہ ہر جگہ اٹھاؤنگا۔ ساتھ میں انکا یہ بھی کہنا تھا کہ چائنیز قونصلیٹ سے طلباء کے مسئلے کیلئے رابطہ کیا ہے اور ان کے ساتھ جلد ملاقات ہوگی۔

    29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے پاکستان میں پھنسے چین میں ریز تعلیم طلباء کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے رہنما طحیہ نون اور خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے لیگی رہنماؤں نے طلباء کے مسائل سنے اور ان کیلئے آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ اس موقع پر رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت بھی اس معاملے میں طلباء کی کوئی مدد نہیں کر رہی اور انہوں نے طلباء کو یقین دہانی کروائی کہ ہم طلباء کے تعلیمی مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دیں گے اس کے لیے جس فورم پربھی آواز اٹھانی پڑی اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اسمبلی میں ان طلباء کےمستقبل کےلیے آواز اٹھائیں گے۔

    29 جولائی 2021ء کو ن لیگ کی خاتون رہنما اور پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کی اور طلباء سے کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے کے حوالے سے ان کے مسائل سنے۔ طلباء کے ساتھ اس ملاقات کی تصدیق کی۔ لیگی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں طلباء کے ساتھ یہ عزم کیا کہ پنجاب اسمبلی میں سفری پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

    29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اور بشری انجم بٹ نے پنجاب اسمبلی میں پاکستانی طلباء کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے قرارداد اور تحریک التوائے کار جمع کرا دی جسکی تصدیق مسلم لیگ ن کے پنجاب کے نائب صدر نے اپنے ٹویٹر بیان میں کی۔

    19 اگست کو رانا مشہود احمد خان اپنے ٹویٹر بیان میں لکھتے ہیں کہ میری قیادت میں طلباء کا ایک وفد چینی کونسل جنرل سے ملاقات کرنے جا رہا ہے۔ 20 اگست 2021ء کو مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود احمد خان نے طلباء کے ایک وفد کو ساتھ لے کر چینی کونسل جنرل سے ملاقات کی۔ پنجاب اسمبلی کے ن لیگی ایم پی اے نے اپنے ٹویٹر پر جاری کردا بیان میں چینی کونسل جنرل لانگ ڈنگبن سے ملاقات کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس ملاقات میں چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن نے رانا مشہود احمد خان کو یقین دہانی کروائی کہ آئیندہ ماہ ستمبر میں شروع ہونے والے سمسٹر سے قبل تمام طلباء کے مسائل کو اولین بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ طلباء اپنے تعلیمی سال کو مکمل کر سکے گے۔ رانا مشہود نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن کے ساتھ ملاقات کے کچھ تصاویر بھی شیر کئے ہیں جس میں چین میں زیرتعلیم طلباء ان دونوں چینی و ن لیگی رہنماؤں کے ملاقات میں موجود ہیں۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان

    ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان

    ورکنگ ویمن وہ خواتین ہیں جو گھر سے ملازمت کی غرض سے نکلتی ہیں اور ملازمت کے کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملازمت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہے ورکنگ وومن کو دوران ملازمت اس سے زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ لیکن خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر ہر میدان میں آگے ہیں۔ ہر جگہ ملازمت کر رہی ہیں لیکن ورکنگ وومن کو اس سب میں بہت سی مشکلات جھیلنے کے ساتھ کئی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ورکنگ وومن صرف وہی نہیں ہیں جو فیکٹریوں اور آفسز میں کام کرتی ہیں، بلکہ وہ خواتین بھی ورکنگ وومن ہیں جو دیہات اور گاؤں میں گھروں سے نکل کر کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔

    ورکنگ وومن عام گھریلو خواتین اور مرد حضرات سے زیادہ ذمہ داریاں اور کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام کاج سنبھالنا، بچوں کے کام، خاندان کی ذمہ داریاں، تقریبات، لین دین اور دیگر امور یہ سب عورت کے ذمہ ہوتا ہے وہ مردوں سے کئی گنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک مشکل زندگی ہے۔ اگر توازن نہ ہو تو ایسی مشکل زندگی تھکاوٹ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ ورکنگ وومن دو کشتیوں میں سوار رہتی ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہوئے ملازمت کے کام یاد آتے ہیں اور ملازمت کے کام کے دوران گھر کے کاموں کی طرف توجہ بھٹک جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا ارتکاز بٹ جاتا ہے۔ اور وہ اپنا کام توجہ سے سرانجام نہیں دے پاتیں۔ گھر اور ملازمت اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتی ہیں۔ ورکنگ وومن کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ چھٹی کے دن بہت سے نظر انداز یا موخر کئے گئے کام توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔

    ۔معاشی بوجھ اٹھانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ بہت سی مجبوریوں اور خواہشوں سے مجبور ہوکر معاشی بوجھ بھی ڈھوتی ہیں۔ مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے بڑھ کر کام کرتی ہیں۔ ورکنگ وومن گھر چلانے میں معاون ہیں، کیونکہ آج کے دور میں صرف مرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ گھر، رشتوں سے جڑے رہنا اور اس کے ساتھ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد ثابت کرتے ہوئے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنا۔ اور بہتر طریقے سے کردار نبھانا بلاشبہ عورت کے عظیم ہونے کا ثبوت ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر اور ملازمت کی زندگی لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

    ورکنگ وومن کے لیے گھر سے نکل کر ملازمت کے لیے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر کا آرام سکون چھوڑ کر باہر کی سختیاں جھیلنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گھر بار بچے چھوڑ کے ملازمت کی جگہ پر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اکثر اوقات غیر محفوظ طریقے سے سفر کرنا اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا یقینا زہنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ پر ہراسگی، برے رویے کا سامنا، نا زیبا کلمات و غیر شائستہ باتیں سننا، اخلاق سے عاری لوگوں کا سامنا، برے جملے سن کر برداشت کرنا ورکنگ وومن کی شخصیت کو روند ڈالتے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر عورتوں کو تحفظ اور عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ورکنگ وومن کو چاہیے کہ بہادری کا مظاہرہ کریں، خود مضبوط رہیں، ڈٹی رہیں تو وہ بہت سے محاذوں پر جنگ لڑ سکتی۔ ہیں برے لوگوں کے جملوں اور ہر اسگی کا بلا خوف و خطر سامنا کر سکتی ہیں۔ اپنی بالا دستی کی جنگ جیت سکتی ہیں۔

    بہت سی خواتین ضرورتاً اور کئی شوقیہ ملازمت کرتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو غلط کردار کا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر باتیں کی جاتی۔جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب کا رویہ ان کے ساتھ عجیب سا ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں عورتوں کو ملازمت کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو وہ سب کچھ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اپنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی۔ ورکنگ وومن کو بھی انسان سمجھیں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ وہ مدد اور سہارے کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنی کہ گھر میں رہنے والی عورتیں۔ورکنگ وومن کو ویسے ہی عزت و تحفظ دیں۔ جیسے باقی تمام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔

    مردوں کے معاشرے میں اگر عورتیں کام کر رہی ہیں تو یہ بات نہیں ہے کہ مرد کا کردار اور صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یا ان پر کوئی شک و شبہ ہے۔ نہیں مرد کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ مرد و عورت کے تقابل کے بغیر عورتوں کی صلاحیتوں اور کردار کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو عزت اور تحفظ دینا چاہیے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے سازگار ماحول اور بہتر مواقع ملنے چاہئیں۔ اور انہیں ملازمت کی جگہ پر مکمل تحفظ اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

    @FarooqZPTI

  • پٹھان اور پاکستان تحریر:: طاہر علی

    پٹھان اور پاکستان تحریر:: طاہر علی


    14 اگست 1947 کو وجود میں آنے والا ملک پاکستان بے شمار لوگوں کی قربانیوں سے معرضِ وجود میں آیا، پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں اپنی ایک شاندار تاریخ رکھتی ہیں، ان ہی میں ایک غیور قوم پٹھان بھی ہے جو اپنی سادگی، حبُ الوطنی اور غیرت مند قوم کے نام سے جانی جاتی ہے، آٸیے آج کچھ پٹھان قوم کے حوالے سے اہم باتیں جانتے ہیں۔
    فارسی میں پشتون، مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان کہا جاتا ہے۔ یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوٸی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے،جن میں پاکستان ، افغانستان اول نمبر پر ہیں۔
    دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ لفظ پشتون کا مطلب غیرت و وفا والا ۔
    پشتونوں نے قیامِ پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے اور ایک چھوٹی سی اقلیت کو چھوڑ کر وہ سنی مسلمان ہیں۔ حال ہی میں ، افغانستان کی قبائلی بادشاہت کو کنٹرول کیا ، اور کچھ ادوار کے دوران پٹھان یا افغان بادشاہوں نے ہندوستانی میدانی علاقوں پر اپنا راج قائم کیا۔ پشتو بولنے والوں کی 1984 کی آبادی تقریبا 20 ملین تھی۔ اس میں پاکستان کے 11 ملین اور افغانستان میں 9 ملین شامل ہیں۔ 1979 سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تقریبا 20 لاکھ پٹھان پناہ گزین بن کر پاکستان چلے آۓ۔ پٹھان افغانستان کی 50 سے 60 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ سب سے بڑے اور بااثر نسلی گروہ کے طور پر ، پٹھانوں نے پچھلے 200 سالوں سے اس ملک کے معاشرے اور سیاست پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ افغانستان میں دیگر اہم نسلی اقلیتوں میں ہزارہ ، تاجک اور ازبک شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد سے ، پٹھان پاکستان کا دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ پاکستان کی 1981 کی مردم شماری کے مطابق ملک کے 13 فیصد خاندان پشتو بولنے والے ہیں۔
    پٹھان علاقوں کے دیہات حال ہی میں بڑی حد تک خود کفیل رہے ہیں۔ روایتی طور پر تجارت اور یہاں تک کہ کاشتکاری بھی پٹھانوں کی سرگرمیوں کو نظرانداز کیا گیا جس کے باعث انھوں نے چھاپہ مار ، اسمگلنگ اور سیاست کو عزت کے حصول کے طور پر دیکھا۔ ایسے علاقوں میں جہاں اس طرح کے رویے برقرار رہتے ہیں ، غیر پٹھان (اکثر ہندو) دکاندار اور پیڈلرز یا خانہ بدوشوں کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔ ان روایات کے باوجود ، بڑے شہروں اور شہری علاقوں میں پٹھانوں نے کامیاب تاجروں اور تاجروں کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔پٹھانوں کی زندگی میں اسلام ایک لازمی اور متحد موضوع ہے ، اور یہ پٹھانوں کو مومنوں کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ جوڑتا ہے۔ پٹھانوں کی بھاری اکثریت حنفی لیگل سکول کے سنی مسلمان ہیں۔ کچھ گروہ ، خاص طور پر پاکستان کی کرم اور اورکزئی ایجنسیوں میں ، شیعہ اسلام پر عمل پیرا ہیں۔
    پاکستان کی تاریخ میں پٹھان قوم کا بڑا عمل دخل ہے مگر کچھ لوگ اس بات کو اب بھی
    پوری طرح تسلیم نہیں کرتے۔۔۔ *مگر پٹھانوں نے پاکستان کے لئے 1947 میں ووٹ پٹھان قوم نے دیا۔
    *1948میں آذاد کشمیر کا تحفہ پٹھان قوم نے دیا۔
    *1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ پٹھان لڑے۔
    *1969 میں دیر سوات اور چترال کی پشتون ریاستیں بلا مشروط پاکستان میں شامل ہوئیں۔
    *1971 کی جنگ میں پٹھان قوم نے پاکستانی فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔
    *1979 میں جب روس نے پاکستان کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب دیکھا توان کے اس خواب کو پٹھان قوم نے مٹی میں ملا کر اپنے خون سے پاکستان کادفاع کیا۔
    *1999 میں کارگل جنگ میں کرنل شیر خان جیسے بہادر پٹھان نے پاکستان کا دفاع کیا.
    * دہشتگردی کے پندرہ سالہ جنگ کے اس ادوار میں پٹھان قوم نے اپنے جان، مال اور اولاد تک کی قربانی بے دریغ دے کر صرف پاک فوج اور پاکستان کا ساتھ دیا۔
    *کچھ لوگوں نے پشتون قوم کا روپ دھار کر ملک و فوج کے خلاف محاذ کھڑا کیا،لاشوں پر سیاست کر کے فوج اور پاکستان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی مگر یہاں بھی اس غیرت مند قوم نے ملکر ان کے خلاف آواز اٹھاٸی اور ان سے ہر طرح کا باٸیکاٹ کیا گیا اور یہ ثابت کیا کہ غیرت مند پشتون اپنے ملک و ملت کا وفادار ہوتا ہے۔
    آٸیے ہم سب مل کر دنیا کو بتاٸیں کہ یہ ایک امن پسند، محبِ وطن، اپنی روایات سے محبت کرنے والی اور اپنے ملک و ملت پر جان قربان کر دینے والی قوم ہے۔

    @TahirAli_Twitts

  • تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں  تحریر:-محسن ریاض

    تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں تحریر:-محسن ریاض

    کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یوم آزادی کے موقع پر رکشے پر سوار دو عورتیں جا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے ایک درندہ چلتے رکشے پر سوار ہوتا ہے اور بوسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے اس منظر کو دیکھنے والے کئی لوگ تھے اور چند لوگ اس کو فلمانے میں مشغول تھے مگر کسی میں بھی اتنی اخلاقیات موجود نہ تھی یا اتنی ہمدردی نہ تھی جو ان کی اپنی ماں یا بہن کی لیے ہونی چاہیے اس لیے کی نے اس درندے کو پکڑنے کی کوشش تک نہ کی بلکہ اس منظر کو دیکھ کر چند اور منچلوں نے اس حرکت کو دوبارہ سرانجام دینے کی کوشش کی لہذا مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ایک عورت نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوتا اتار لیا اور ان بزدلوں کو للکارا جس کی وجہ سے وہ یہ حرکت کرنے سے باز رہے اگر وہ اس طرح ہمت نہ کرتی تو شائد یہاں پر بھی مینار پاکستان پر عائشہ کے ساتھ مردوں کی طرف سے اجتماعی بے حرمتی کی گئی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے -اس ویڈیو میں ایک اور بات جو ابھی تک میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے وہ یہ کہ جو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار اس ساری واقعے کو فلمانے میں مصروف تھے اگر وہ چاہتے تو باآسانی اس حیوان کو پکڑ سکتے تھے مگر وہ بے حس اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ وہ لڑکا جو بے ہودہ حرکت کر رہا تھا وہ بازی لے گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں اگر یہی عمومی رویہ ہے تو شائد ابھی ہمیں انسان بننے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں لگیں-اس ویڈیو میں ایک اور بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پچھلے چند دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں ان کو صرف جوتوں کی زبان ہی سمجھائی جا سکتی ہے اگر اس طرح کہ دو چار اور واقعات میں عورتیں بدتہذیبی کرنے والے دو چار آوارہ گردوں کو جوتے مار دیتی ہیں تو شائد اس طرح کے واقعات میں کمی آ جائے ایک اور بات جس کو کہنے کے لیے شدت سے دل کر رہا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ کہنے سے شائد عائشہ اور اس طرح کی دیگر لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ متاثر نہ ہو جائے -وہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح تمام مرد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مینار پاکستان میں ہونے والے واقعے میں جو کہ یقیناً ایک بہت ہی بھیانک منظر تھا اور لوگ اس معصوم کو اچھال رہے تھے اور اپنی وحشت کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اس میں چند ایسے مرد بھی تھے جو اس کی مدد کر رہے تھے جس کا اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے جنگلا ہٹایا تاکہ وہ چند شرپسند عناصر جو نازیبا حرکات کر رہے تھے ان سے محفوظ ہونے کے لیے اندر آ جائے اور ان میں وہ مرد بھی شامل تھے جو اس کے فالورز تھے اور اس کے ساتھ ویڈیو بنانے کے لیے آئے ہوئے تھے اور کچھ اس کے ساتھ ویڈیو بنا چکے تھے مگر کچھ بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ اچانک چند نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ سامنے آیا اور اس نے اس طرح کی حرکات شروع کر دی لہذا تمام مردوں کو اس میں مورد الزام ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں اس کے بعد وکٹم بلیمنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی سرانجام دی ہے تاکہ شہرت حاصل کی جاسکے جبکہ یہ دلیل بھی جا رہی ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگ بےگناہ تھے تو یہ بات ماننے کو بھی دل تیار نہیں ہے اگر یہ باتیں مان بھی لی جائیں تو کیا رکشے میں سوار خواتین بھی مشہور ہونے کے لیے یہ سب کررہی ہیں خدارا انسان بن جائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہماری عورتیں اپنے آپ کو اس ملک میں محفوظ تصور کریں-
    تحریر-محسن ریاض
    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • اللہ کی خاطر محبت، فوائد و نشانیاں تحریر: رمیز راجہ

    "ایمان کی سر بلندی یہ ہے کہ الله کے لئے دوستی ہو اور الله کے لئے دشمنی ہو، الله کے لئے محبت اور الله کے لئے نفرت ہو۔”
    سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر یا اس کی رضا کے لیے محبت کرنے سے کیا مراد ہے، اُس کی صِفات کیا ہیں ؟ جن کی موجودگی میں اُس کی پہچان ہو تی ہے ؟ اِن شاء اللہ آج ہم اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم مُحمدؐ کے فرامین مُبارکہ میں اِن سوالات کے جوابات کا مطالعہ کریں گے ۔
    اجمالی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خاطر مُحبت وہ ہے جِس میں کوئی مُحب کسی کو صِرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مَحبُوب رکھے اور پھر وہ مُحب اپنے مَحبُوب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی طرف بلاتا رہے اور اس میں اس کا مددگار رہے ، اور نافرمانی سے روکتا رہے اور نافرمانی سے رُکے رہنے میں اُس کا مددگار رہے ، اُسے کفار و مشرکین اور اہل بدعت سے محفوظ رہنے میں اُس کا مددگار رہے ۔ عموما ً لفظ مُحبت سن کر اُن جذبات کا خیال آتا جو دو متضاد جنسوں میں ایک دوسرے کے لیےپائی جانے والی رغبت کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ، جبکہ مُحبت صِرف اُنہی جذبات کا نام نہیں بلکہ مُحبت انسانوں میں تو کیا بعض جانوروں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں اور تعلقات میں تقریباً ہر رشتے اور تعلق میں موجود ہوسکتی ہے ۔ مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
    اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول کریمؐ کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فوائد ہیں اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں میں اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ، ان خبروں کا بغور مطالعہ ہمارے لیے اُن سوالات کے جوابات مہیا کرنے والا ہے جو میں نے اپنی بات کے آغاز میں پیش کیے تھے، آئیے اُن خبروں میں سے کچھ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    اللہ کی خاطر محبت کرنے کےفوائد:
    1۔ تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے۔
    ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا،” جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا” (سنن ابو داؤد)
    2۔ ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐ نے ابو ذر الغِفاری سے فرمایا، ” اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟”۔ ابو ذر نے عرض کیا، ” اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں”۔ تو رسول اللہ ؐ نے اِرشاد فرمایا، ” اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے لیے نفرت کرنا”۔
    3۔ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے۔
    مُعاذ ابن جبل کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ، "اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی”۔
    4۔ قیامت والے دِن بھی یہ مُحبتیں قائم رہیں گی۔
    "اُس دِن سب ہی دوست دُشمن بن جائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے "۔سُورت الزُخرف (43)/آیت67
    5۔ انبیاء اور شہداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐکے دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفارق کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا، "بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے "۔ صحابہ نے عرض کیا، ” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ "۔ تو اِرشاد فرمایا، ” وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے "۔

    اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں:
    1۔ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
    2۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار رہنا۔
    3۔ ایک دوسرے کو برائی سے روکنا اور ظلم سے بچانا۔
    اللہ تبارک و تعالی ٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے مُحبت کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے اختلافات کو ہماری مُحبت کے خاتمےکا سبب نہ بننے دے ، بلکہ اُسی مُحبت میں ایک دوسرے کی اصلاح کی نیک کوششوں کی ہمت دے ۔ آمین!

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • بد دعائے محبت تحریر؛بسمہ ملک

    بد دعائے محبت تحریر؛بسمہ ملک

    کزن یار, یہ الفاظ کبھی مجھے سخت ناپسند تھے۔اور کہنے والا بھی ۔ مگراب یہی الفاظ میرا سرمایہ حیات ہیں۔میری سماعتوں میں آج بھی یہ الفاظ گونجتے رہتے ہیں۔میرا نام نوشین ہے گھر والے سب نوشی کہتے ہیں۔مگروہ مجھے ہمیشہ کزن یاپھر کزن یار، ہی کہتا تھا۔وقت وقت کی بات ہے کبھی وہ مجھے سخت ناپسند تھا اور اس کے یہ الفاظ بھی۔بلکہ یوں کہہ لیں کہ مجھے اس سے نفرت ہی تھی۔اس کے کزن یار کہنے سے میں چڑجاتی تھی۔اور اسے خوب بےعزت کرتی تھی۔اسے بات بےبات بےعزت کرنا اور اس کی عزت نفس مجروح کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔اوریہی مشغلہ اب میرا عمر بھرکاپچھتاوا۔ بلکہ روگ بن گیا ہے۔وہ جو محبت پہ ہنستا تھاپھر اسے آ لیا محبت نے۔یہ شعر مجھے اسی نے سنایا تھا۔وہ اکثر مجھے شعر سنادیتا تھا۔اسے شاعری سے لگاؤ تھا ۔اور مجھے شاعری سخت ناپسند تھی۔مگراب مجھے بہت سی غزلیں اور شعر یاد ہیں وہ سب شعر بھی یاد ہیں جو اس نے مجھے اکثر بیشتر سناۓ تھے۔وہ میرے ماموں کا بیٹا تھا۔نام تو اس کا عدنان تھا۔مگرسب اسے عادی کہتے تھے۔سواۓ میرے۔میں نے اسے کبھی نام سے بلایا ہی نہیں تھا۔اور نہ کبھی اسے انسان سمجھا تھا۔میں ہمیشہ اسے اوۓ یا اوۓ پینڈو کہہ کر ہی بلاتی تھی۔وہ ہماری گاڑی چلاتا تھا جس کی وجہ سے میں اسے اکثر ڈرائیور بھی کہہ دیتی تھی۔اس سے میرا مقصد فقط اس کو ذلیل کرنا ہوتا تھا۔مگراس نے کبھی مجھ سے شکوه نہیں کیاتھا۔اور نہ ہی کبھی ناراض ہوا تھا۔وہ نویں کلاس میں تھا جب ماموں فوت ہوۓ۔گھر میں سب سے بڑا ہونے کے ناطے ساری ذمہ داری عادی کے کندھوں پر آپڑی تھی۔اس نے سکول کو خیرآبادکہا اور محنت مزدوری کرنے لگا۔ہمارے سمعیت عادی کے باقی رشتےدار بھی اچھے بھلے کھاتے پیتے تھے۔مگرکسی کو بھی اتنی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ کوئی ان کے سر پہ ہاتھ رکھ دیتا۔سب اپنی اپنی دنیامیں مست تھے۔وقت گزرتارہا عادی نے اپنے بہن بھائیوں کو پڑھایا اور جیسے تیسے گھر کا خرچ بھی چلایا۔پتہ نہیں اس نے کب اور کہاں سے ڈرائیوری سیکھی۔؟؟؟وہ لوگ کبھی کبھی ہمارے گھر ہم سے ملنے آجاتے تھے۔مگرہم لوگ کبھی ان کے گھر نہیں گئے تھے۔امی ایک دوبار گئی تھیں باقی کوئی نہیں جاتا تھا۔اب کی بار عادی اپنی امی کے ساتھ آیا تو ابونے اسے گھر ڈرائیور کی آفر کی جس کو اس نے قبول کرلیا۔ابو نے گھر میں کوئی ڈرائیور نہیں رکھا تھا۔وہ خود ہی مجھے اور میری چھوٹی بہن ثمرین کو کالج یونیورسٹی چھوڑنے جاتے تھے۔عادی کے آنے سے ابو بےفکر ہوگئے تھے۔میں جانتی تھی عادی مجھے پسند کرتا ہے ۔مگرمیں نے کبھی اس پر توجہ ہی نہیں دی تھی۔یوں کہہ لیں کہ میں اسے توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھتی تھی۔پھر ایک دن اس نے ہمت کرکے اپنی پسند کا اظہار کرہی دیا۔اس نے کہا تھا نوشی میں تمہیں بچپن سے پسند کرتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے قابل نہیں ہوں

    مگر یہ دل کے فیصلے ہیں اس پر کسی کا زور نہیں چلتا

    تم کسی قابل نہیں ہو میں نے اسے کہا تھا

    ویسے فیصلے دماغ کرتا ہے دل نہیں

    بشرطیکہ کسی کے پاس دماغ نام کی کوئی چیز ہو میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا

    محبت کے فیصلے دل کے ہی ہوتے ہیں کزن

    عادی نے دھیمے سے لہجے میں کہا

    محبت میں اگر فیصلے دماغ کرنے لگے تو محبت، محبت نہیں رہتی مفاد پرستی بن جاتی ہے

    بے خطر کود پڑا اتش نمرود میں عشق

    عقل محو تماشا لب بام تھی ابھی

    اس نے حسب حال اپنی بات کی دلیل میں شعر بھی سنا دیا اس کے اظہار کے بعد تو مجھے جیسے اس سے خدا واسطے کا بیر ہی ہوگیا تھا

    میں نے جان بوجھ کر اسے یہاں تک بھی کہہ دیا تھا کہ وہ مجھے محبت کے چکر میں پھنسا کر امیر ہونا چاہتا ہے اس نے کہا تھا کہ شادی اور محبت دو الگ چیزیں ہیں

    ضروری نہیں کہ ہم جس سے محبت کریں اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے مگر یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی

    میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا مگر کسی بھی بات پہ سہی مجھے تو اس کو ذلیل کرنا تھا

    اس کے بعد جب جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بے عزت کیا میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا بہت ہی بے حس تھی میں۔

    دولت کی فراوانی سے مجھ میں تکبر انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا

    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کروایا

    میری دوست اس کی محبت اور غربت پر طنز کرتی رہیں

    عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔!

    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگر اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعی سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا ہے

    اور ہم نے اس بات  پہ بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا

    میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا

    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانہ تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا

    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آ گیا منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر گیا شاید اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتا ہے دیکھ سکتا 

    وہ تین چار دن بعد واپس آیا تھا

    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دیکھائی اور کہا کے دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں

    اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتے ہاں یار میں جانتی ہوں تم میرے لیے جان بھی دے سکتے ہو۔۔۔

    (جاری ہے)

    @BismaMalik890