Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انسان خطا کا پتلا  تحریر  : راجہ ارشد

    انسان خطا کا پتلا تحریر : راجہ ارشد

    اس دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں جو غلطیوں اور گناہوں سے پاک ہو۔ ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔اس مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اکثر غلطیاں اور گناہ ہوتے رہتے ہیں جو معافی مانگنے اور توبہ کرنے سے مٹا دیئے جاتے ہیں۔

    غلطیوں کی کئی قسمیں ہیں۔کچھ غلطیاں چھوٹی ہوتی ہیں اور کچھ بڑی جو گناہ کے درجے میں آتی ہیں۔دونوں کے لیے معافی مانگنا اور توبہ کرنا ضروری ہے۔بڑی غلطیاں جو گناہ ہیں ان میں اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا ۔ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نا فرمانی ، خدا کے بندوں کو تنگ کرنا اور والدین کی نافرمانی شامل ہیں۔

    چھوٹی غلطیوں میں دوستوں لڑائی کرنا ، استادوں کی نافرمانی و بے ادبی وعدہ پورا نہ کرنا ، جھوٹ بولنا ،چغلی کرنا ، گالی دینا ، چوری کرنا ، غیبت اور حسد شامل ہیں۔
    ان سب میں سے چھوٹ سے تو سب ہی نفرت کرتے ہیں۔

    ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے معزز سمجھے جاتے تھے ۔یہاں تک کہ محمد ﷺ کے بجائے صادق کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔آپ ﷺ نے کبھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔آپﷺ نے فرمایا:
    سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ سچ بولنا ایسی نیکی ہے جو جنت میں لے جاتی ہے۔

    ابتدا میں جب غلطی ہو جاتی ہے تو وہ چھوٹی ہی ہوتی ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا مگر بار بار غلطی کرنے ، اس پر شرمندہ نہ ہونے اور معافی نہ مانگنے سے وہی چھوٹی غلطی بڑے گناہ میں بدل جاتی ہے۔بندہ غلطیاں کھلے عام بھی کرتا ہے اور چھپ کر بھی ، مثلا جیسے سکول میں کوئی بچہ کسی کی پینسل ، قلم وغیرہ اٹھا لے اور بار بار یہ عمل کرے اور پھر چوری ظاہر ہو جانے پر جھوٹ بھی بولے یہی چھوٹی غلطی بڑے گناہ میں تبدیل ہو جائے گی اور وہ بچہ بھی بڑا ہو کر مجرم بن جائے گا۔

    اس پورے کالم میں نصیحت ہے کہ جب بھی آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر معافی مانگ لیں تاکہ دوسروں کی دل بھی نہ دکھے اور آپ کی یہ عادت آئندہ زندگی میں آپ کو ایک اچھا اور نیک انسان بننے میں مدد بھی دے۔

    @RajaArshad56

  • عثمان بزدار حکومت اور پنجاب حصہ اول۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے کوئی صحیح قیادت اور کوئی معاشی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ برسوں سے معاشی بدحالی کا شکار رہا ۔ 2018 میں باشعور عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا اور تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔

    تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت ایک پس ماندہ اور محروم علاقے سے تعلق رکھنے والے کم گو لیکن اپنے کام کو فرض سمجھ کر کرنے والے شخص عثمان بزدار کے حوالے کر دی۔ جی ہاں وہی عثمان بزدار جن پر ہر طرف سے تنقید کے نشتر چلائے گئے لیکن ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے بڑی محنت اور لگن سے صوبہ پنجاب کی تقدیر بدلنے کے لیے دن رات ایک کر دئیے۔

    صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور حقیقی معنوں میں وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کے نئے پاکستان بنانے کی بنیاد صوبہ پنجاب بن رہا ہے۔

    آئیے صوبہ پنجاب کی معاشی حالت درست کرنے اور عوام کو بہتر روزگار کی فراہمی کے لیے کئے گئے عثمان بزدار حکومت کے چند اہم اقدامات پر نظر ڈالتے ہیں۔موجودہ حکومت سے قبل پنجاب میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہیں تھی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں سب سے پہلے ایک جامع صنعتی پالیسی لانے کے اقدامات کئے اور پنجاب کو پہلی صنعتی پالیسی دی۔ اس صنعتی پالیسی کے تحت پنجاب میں معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔
     
    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انڈسٹریز لگانے پر نظر ڈالیں تو عثمان بزدار حکومت اس وقت تک 8 نئے سپیشل اکنامک زونز بنا چکی ہے جبکہ 4 پرانے انڈسٹریل اسٹیٹس کو اپ گریڈ کر کے ان کو انڈسٹریل زونز کے سٹیٹس بھی دیا جاچکا ہے۔
    پنجاب کے شہر فیصل آباد میں قائم کیا جانے والا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی 3217ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے جس سے براہ راست 4لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ جبکہ مجموعی طور پر 10لاکھ افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

    پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں موٹروے کے نزدیک 1536 ایکڑ رقبے پر مشتمل پاکستان کے پہلے سمارٹ اکنامک زون قائداعظم بزنس پارک کے منصوبے کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اس پروجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس پراجیکٹ سے روزگار کے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہونگے۔

     عثمان بزدار حکومت نے صوبے کی مختلف شہروں میں جیسے بھلوال، رحیم یار خان اور وھاڑی کی انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون کا درجہ دیا ہے۔ جس سے باالترتیب 6000،5500اور 4000روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیڈمک میں ون ونڈو سروس سنٹر بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔

    قارئین عثمان بزدار حکومت کے کچھ اور کاموں کا تذکرہ کل کریں گے ان شاء اللہ۔ اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو۔

    تحریر : راجہ حشام صادق

    @No1Hasham

  • فتح مبین تحریر-محسن ریاض

    پندرہ اگست یوں تو یوم انڈیا کے طور پر منایا جاتا تھا مگر اس بار ایک انہونی ہوئی اور خدا کے سپاہیوں نے اپنی سرزمین قابض افواج سے واپس لے لی-کوئی بھی عقلمند شخص یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ یہ بھی ممکن ہے مگر دنیا نے دیکھا کہ کسے ان خدا کے سپاہیوں نے مناسب وقت کا انتظار کیا اور اپنا حق حاصل کر لیا-ابھی چند روز پہلے امریکی صدر دنیا بھر کے میڈیا کو یہ بتا رہا تھا کہ افغانستان کے پاس ساڑھے تین لاکھ کے قریب فوج ہے جبکہ ہم نے ان کی ٹریننگ کی ہے اور ان کے پاس ہمارا جدید ترین اسلحہ ہے لہذا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ طالبان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ افغانستان پر قبضہ کر سکیں مگر انہوں نے جس جرات اور بہادری سے تاریخ رقم کی ہے اسے دنیا نے دیکھا ہے افغان صدر نے صبح کے وقت دارلحکومت کی سرحدوں پر موجود فوجیوں کے پاس گئے اور انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں مگر جس بزدلی کے ساتھ فرار ہوئے وہ بھی ایک الگ ہی منظر تھا اس کے علاوہ یہ فتح ہوں ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی فہرست تھی ایک ایسے ہی واقعے کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب امریکہ حملہ آور ہوا تھا تو قابل میں کافی تعداد میں طالبان گھیرے جا چکے تھے اس وقت دوستم نے ان کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ اگر آپ ہتھیار ڈال دیں تو آپ کو چھوڑ دیا جائے گا اور طالبان نے بھی یہ مناسب سمجھا کہ مناسب وقت کا انتظار کیا جائی کیونکہ اس وقت لڑنا سراسر حماقت تھی مگر ان کی ساتھ دھوکہ کیا گیا اور کنٹینر میں بند کر کہ ان پر گولیوں کو برسات کی گئی اس وقت ان کے پیچھے موجود گاڑی میں موجود صحافی بتاتے ہیں کہ سڑکیں خون سے دھل گئی تھیں اس کے علاوہ دشت لیلیٰ بھی اس کا ایک گواہ ہے جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں طالبان کو دفنایاگیا-آج یہ انہی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ طالبان نے متحد ہو کر مناسب وقت کا انظار کیا اورآخر کار اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرے اس کے علاوہ جس منظم انداز میں انہوں نے بغیر کسی جانی نقصان کے دارلحکومت کو فتح کیا وہ بھی ایک دیدنی منظر تھا جب انہوں نے صدارتی محل میں داخل کر کر سورۂ نصر سے اپنے نئے دور کا آغاز کیا اس نے ایک بار تمام دنیا کو یہ احساس دلا دیا کہ دنیا کی تمام طاقتیں ایک طرف اور اللہ کی طاقت ایک طرف ہو تو فتح خدا کے سپاہیوں کی ہی ہوتی ہے بیس سال تک امریکہ اپنے تمام تر سازوسامان اور لاولشکر کے ساتھ یہاں پر ٹکریں مارتا رہا مگر یہ سپاہی چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہے اور خدا کے وعدے پر یقین رکھا-آج جب پوری دنیا یہ پراپیگنڈہ کر رہی تھی کہ یہ قتل و غارت کریں گے سکول گرا دیں گے تباہی مچا دیں گے مگر انہوں نے جس تربیت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے تمام دنیا کو حیران کر دیا ہے ہر طرف ٹریفک رواں دواں تھی مارکیٹیں اور بازار کھلے تھے اس کے بعد آج صبح ایک منظر دیکھکر خوشی ہوئی کہ طالبات سکول جارہی تھی اور طالبان نے اقتدار کی منتقلی کی پرامن منتقلی کا معاہدہ کر رہے ہیں-اس کے علاوہ عالمی منظر نامے پر تو اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ بعد کی بات ہے مگر اس وقت بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے بیس سال سے یہاں پر دہشتگردی میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی مگر طالبان کے کنٹرول کے بعد ان کا ساری سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے بھارت نے باقاعدہ طور پر اشرف غنی حکومت کو اسلحے سے بھرے ٹرک بھیجے تھے تاکہ ان کہ مفاد محفوظ رہیں مگر خدا کے سپاہیوں نے ان کے ارادے خاک میں ملا دیے ہیں آج یہ منظر دیکھ کر کہنے کو دل کر رہا ہے کہ بے شک وہ غالب قدرت والا ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی-

    باغی ٹی وی :بی بی سی کے مطابق فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قانون کے تحت طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم نے امریکہ کی خطرناک تنظیموں سے متعلق پالیسی کے پیش نظر طالبان کو اپنی خدمات کو فراہم کرنا بند کردیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ماہر ٹیم ہے۔

    طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔


    طالبان کی جانب سے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول فیس بک کو اس گروپ سے متعلق مواد سے نمٹنے کے لیے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے یا ان کی حمایت میں بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے اور تمام پلیٹ فارمز پر طالبان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔

    فیس بک نے مزید کہا کہ اس گروپ سے منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغانستان کے دری اور پشتو بولنے والے ماہرین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو پلیٹ فارم پر ابھرتے ہوئے مسائل کی شناخت اور آگاہ کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

    سوشل میڈیا دیو نے کہا کہ وہ قومی حکومتوں کی پہچان کے بارے میں فیصلے نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے "عالمی برادری کے اختیار” کی پیروی کرتا ہے۔

    فیس بک نے روشنی ڈالی کہ یہ پالیسی اپنے تمام پلیٹ فارمز بشمول اس کے فلیگ شپ سوشل میڈیا نیٹ ورک ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر لاگو ہوتی ہے۔

    فیس بک نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس کے اکاؤنٹ کو گروپ سے منسلک پایا گیا تو وہ کارروائی کرے گا حریف سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اس بات کی جانچ پڑتال میں ہیں کہ وہ طالبان سے متعلقہ مواد کو کس طرح سنبھالتے ہیں-

  • سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    ضروریات کی تخلیق کرنا، لوگوں کی ضروریات کی نشاندھی کرنا یا کسی بھی چیز کو لوگوں کی ضرورت بنا دینا مارکیٹنگ کہلاتا ہے۔

    دورے جدید میں انسان نے بہت ترقی کی مختلف پروڈکٹ بنائیں، ان پروڈکٹ کو لوگوں میں متعارف کرنے کے لیے مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا اور اس طرح وہ پروڈکٹ آج آپ کے گھروں میں موجود ہیں یا ان پروڈکٹ کا آپ کی زندگیوں سے گہرا تعلق ہے، چاہے آپ ان پروڈکٹ کو خرید پائن یا خریدنے کی خواہش کریں۔

    مارکیٹنگ کا علم رکھنے کے دعوےدار اتھیکل مارکیٹنگ پر یقین رکھنے کا درس دیتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ میں ایتھکس یا ایتھیکل مارکیٹنگ بھی کسی چیز کا نام ہے؟

    یقینا نہیں, مارکیٹنگ اور ایتھیکس دو الگ الگ چیزوں کے نام ہیں، ماہرین نے مارکیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پروڈکٹ کو کنزیومر کے دماغ میں ایسے پوزیشن کیا کہ وہ انہیں اپنے فائدے میں اور اپنے اسٹیٹس کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ اسی طرح کوئی بھی برینڈ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی پروڈکٹ اس کے مدمقابل سے کم بکے، اس لیے وہ ہر راستہ اپناتا ہے جس سے وہ اپنے مدمقابل پروڈکٹس کو ڈیمج کرسکے تاکہ لوگ اس کے مدمقابل کو چھوڑ کر اس کے برینڈ کو اپنا سکیں، یہ سب وہ غیر اخلاقی مارکیٹنگ سے ہی حاصل کرسکتا ہے، تو کیا اب ہم غیر اخلاقی طریقہ کار پر مارکیٹ ہوئی پراڈکٹ کے اوپر بھی اعتبار کرنا شروع کر دیں؟

    ففتھ جنریشن وار فیئر کے دوران سیاست میں لوگوں کو مارکیٹ کرنا شروع کیا گیا، جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، مودی، عمران خان, وغیرہ وغیرہ۔

    ایک ایسا مارکیٹنگ پلان جس میں ہزاروں لوگوں کے سوشل میڈیا سیل بنائے گئے ٹی وی شوز کے پرائم ٹائم پر عمران خان کو بٹھایا گیا وہ سوالات پوچھے گئے جو پرائم منسٹر شپ کے کینڈیڈیٹ سے پوچھے جاتے ہیں، پاکستان کے بڑے میڈیا چینلز کے اینکرز،انفلوئنسرز کو انگیج کیا گیا۔ پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کا میڈیا ٹائم خریدا گیا، مشہور گلوکاروں سے گانے بنوائے گئےاور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی مدد لی گئی اور عوام میں ایک ایسا امیج بلڈ کیا جس سے انہیں لگا کہ یہی وہ آخری مسیحا اور سٹیٹس مین ہے جو کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے۔

    اس مارکیٹنگ پلان کی سب سے اہم حکمت عملی عمران خان کو نواز شریف کے مخالف اسٹیبلش کرنا تھا، جس میں پاکستان کے بہترین دماغوں نے بیٹھ کر نواز شریف کے خلاف کمپین تیار کی اور نواز شریف کو چور اور کرپٹ اسٹیبلش کر دیا۔
    عوام سے مارکیٹنگ سٹریٹجی کے طور پر اوور کمینٹس کی گئیں، جیسے کہ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، پاکستان کے قرضے اتارنا، آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ مت پھیلانا، بیرون ملک سے لوگ پاکستان نوکریاں لینے آئیں گے۔

    ناممکن چیزوں کو بغیر ایگزیکیوشن پلان کے ممکن کرنا مارکیٹنگ کا ہی تو ایک کمال ہے، جس کو ایتھیکل(اخلاقی) مارکیٹنگ کہاجا رہا ہے۔

    مارکیٹنگ کی ایک قسم جس کو برینڈ پوزیشنگ کہتے ہیں، جس کی مدد سے خاص ماہرین نے عمران خان کو پاکستان کی تقدیر بدلنے والے مسیحا کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ "آپ کی شلوار گیلی ہو جائیں گی” جیسے غیر اخلاقی الفاظ بھی عمران خان کے سپورٹرز کو اچھے لگنے لگے۔

    اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مارکیٹنگ کی مدد سے عمران خان کا ایسا امیج عوام کے دماغ میں پوزیشن کیا گیا، جس سے ان کی غیر اخلاقی باتیں بھی عوام کو اخلاقی لگنے لگی۔

    کچھ لوگ عمران خان کو پہلے سے ہی بنا ہوا بہت بڑا اسٹیبلش برینڈ کہتے تھے، مگر سیاسی مثبت امیج بنانے کے لیے، غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا، (مارکیٹنگ کو مارکیٹ کرنے کے لئے مارکیٹنگ کی ہی ضرورت پڑی)۔

    مارکیٹنگ ایک ایسا فن ہے جو غیر اہم کو اہم بنا دیتا ہے۔
    اس لئے مارکیٹنگ کو اپنی زندگی کا اہم ستون بنائیں اور اس دنیا میں عجوبے پیدا کریں۔

  • آزاد لیکن غلام تحریر: عزیز الرحمن

    آزاد لیکن غلام تحریر: عزیز الرحمن

    غلامی کی دو اقسام ہیں۔ایک جسمانی غلامی اور دوسری ذہنی غلامی۔ان دونوں غلامیوں کی تین وجوہات ہوتی ہیں۔ غربت، جنگ اور جہالت۔ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور انسان کی سب سے بڑی قوت اس کی ذہنی و فکری آزادی ہے۔جب انسان ذہنی طور پر آزاد ہو تو وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور جسمانی طور پر غلام لیکن ذہنی طور پر آزاد قوم بہت جلد جسمانی آزادی حاصل کر لیتی ہے۔لیکن ذہنی غلامی میں مبتلا قوم اپنے آپ کو غلام ہی نہیں سمجھتی اس لیے آزادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہمارا سب سے بڑا المیہ ہم نے اپنے اپنے مسالک، اکابرین، جاگیرداروں اور وڈیرے ہیں۔ہمارے ہاں دلائل کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
    ہمدردی کی نسل سے تعلق رکھتی یہ غلامی اْس غلام کی دوہری کمر کی طرح ہے جو پنجرے میں پڑے پڑے ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور پنجرے سے باہر نکلنے پر بھی ہم آہستہ آہستہ سیدھی ہوتی کمر کو پھر سے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوہری کمر کے عادی ہو چکے ہیں۔
    تقسیم برصغیر پاک و ہند میں ہم نے انگریزوں سے جسمانی آزادی تو حاصل کر لی لیکن ذہنی طور پر ہم اب بھی غلام ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ہمارے رہن سہن، ہماری سوچ سب انگریزوں اور ہندووں کے غلام ہیں۔ ہمارے معاشرے میں متعدد گھرانوں کی بیٹیاں صرف اس وجہ سے شادی کے بندھن میں بندھنے سے گریزاں ہے کہ ان کے ماں باپ اْن کے جہیز کا بندوبست نہیں کر پاتے۔یہ لعنت بھی ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے جبکہ حقیقی معنوں میں جہیز کی لعنت کا ہمارے دین اور ثقافت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں، لیکن کیا کریں صاحب ہم بھی برصغیر پاک و ہند کی سر زمین پر پروان چڑھے ہیں تو پھر ہندووں کی یہ روایات اپنانا ہماری زندگی کا لازمی جزو بن گیا ہے۔
    ایک دوسرا پہلو اس نوجوان طبقے کا ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیتے کہ ہمیں کس کا غلام بننا ہے، خود کو کتنی قیمت پر بیچنا ہے اور غلامی کا طوق ہمارے گلے میں نہ ڈالا گیا تو پھر اپنی ڈگری،تعلیمی اداروں اور حکومت کو کیسے لعن طعن کرنا ہے یا غلامی نے ہمیں نہ قبول کیا تو ہم موت کو قبول کر لیں گے۔
    ہماری عوام،ہمارے حکمران سب ہی انگلش کو اپنی زبان سمجھتے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی اردو میں بات کرے تواْسے جاہل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہم تو ذہنی غلام ہیں۔ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرنا ابھی تک انسانیت کا خواب ہے۔ حکومتوں نے اپنی پالیسوں کے ذریعے،بزنس مین نے کاروباری پالیسی کے ذریعے، ذرائع ابلاغ نے ٹی وی ریڈیو اخبارات رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ بشمول انٹرنیٹ کے ذریعے ذہنی غلامی کو نہ نسبت کم کرنے کے اور زیادہ کیا۔ انسان کی سوچ، طرز عمل اور انداز کو توڑ مروڑ کر اپنا مطیع کیا گیا ہے۔ایک آزاد انسان جس کی سوچ بھی آزاد ہونی چاہیے مگر اس کی سوچ کو مختلف طریقوں، زاویوں اور حربوں سے قید کیا گیا۔ آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے۔ آزاد سوچ انسان کا پیدائشی حق ہے۔ آزادی کو سمجھیں اور آزادی کی قدر کریں۔ اپنے معاشرے کو محکومیت سے نجات دلانے کے لیے ہمت کریں۔جہاں آزادی کو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی، خطرے میں دیکھیں تو انسانیت کی خاطر آزادی اور اس کے متوالوں کا بلا جھجک دفاع کریں۔ ہمیں احساس کمتری کو ترک کرکے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔
    دوسروں کی بجائے اپنی برائیوں کو دور کر کے زندگی کے داخلی اور خارجی انتشار میں راستے خود تلاش کرنا ہونگے، ہر دلکش اور رجحان بن جانے والی چیز کو اپنی راہ نجات سمجھنے کی بجائے اْس کی حقیقی قدروقیمت معلوم کرنا ہوگی۔ہمیں اپنی افضل ترین امت ہونے اور زرخرید غلام ہونے میں فرق معلوم ہونا چاہیے۔ ہم میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ جب ہمارے حقوق کی پامالی کی جائے تو اس کے خلاف احتجاجاََ کھڑے ہو سکیں۔

    @The_Pindiwal

  • میرے امی ابو جنت کے پھول تحریر :فرزانہ شریف

    میرے امی ابو جنت کے پھول تحریر :فرزانہ شریف

    ماں کے قدموں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ
    جب تک باپ اولاد سے راضی نہ ہواولاد چاہئیے کتنی بھی نیک ہو جنت میں نہیں جاسکتی اس لیے والدین کو ان کی ذندگی میں ہی راضی کرلواگر وہ کسی بات سے منع کرتے ہیں تو اولاد کے فائدے کے لیے کیونکہ انھوں نے اپنے تجربات سے اتنا کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے جو آپکو اپنی پوری ذندگی لگا کر سیکھنا پڑتا ہے
    اکثر دیکھتی ہوں کچھ مرد پوری ذندگی محنت کرتے ہیں دن رات ایک کرتے ہیں اپنی اولاد کو عیش کی ذندگی دینے کےلیے اپنی ہستی تک بھول جاتے ہیں ان کی ذندگی کا ایک ہی مقصد بن کر رہ جاتا ہے جن چیزوں کو وہ خود ترسے اپنی اولاد کو ان چیزوں کے لیے ترستے ہوئے نہ دیکھے تو اس گھن چکر میں وہ اپنی اولاد سے دور ہوجاتے ہیں جس کے لیے وہ اتنی محنت کررہے ہوتے ہیں ذیادہ وجہ اولاد سے دور ہونے کی بیرون ملک جاب کرنا یا پھر ذیادہ گھنٹے کام کرنا گھرمیں بہت کم وقت دینا یا پھر کچھ اور وجوہات کی بنا پر اولاد سے اپنائیت بھرا تعلق نہیں بنا پاتے جس وجہ سےان کے بیچ اظہار کا ایک فاصلہ رہتا یے ۔۔۔
    یہ ذمہ داری ماں پر ہوتی ہے کہ شروع سے اپنے بچے کے دل میں اس کے باپ کی محبت پیدا کرے جب موقع ملے اپنے بچوں کو ان کے باپ کی اچھی صفات بتائیں کہ بچے کے دل میں شروع سے اپنے باپ کی محبت مضبوط جڑیں پکڑنی شروع کردیں وہ اپنے باپ کو فالو کرنے اور اپنے باپ کو آئیڈیل بنانا پسند کریں ایک نسلی ماں کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے بچے باپ سے فاصلہ رکھیں اور اس سے ذیادہ پیار کریں میں نے کبھی اس گھر میں خیر نہیں دیکھی جس گھر میں باپ کو اس کا اصل حق نہ ملے اس کی اولاد کی طرف سے ۔۔کہتے ہیں دنیا میں واحد باپ ہوتا ہے جو چاہتا ہے میری اولاد مجھ سے بھی کامیاب ہو تو پھرایسی ہستی سے کوئی کیسے دور رہ سکتا ہے یا اس کا دل دکھا سکتا ہے باپ اولاد کے لیے گنا شجرسایہ ہے جب یہ سائے سر سے اتر جاتے ہیں تو اولاد تہی دامن ہوکر رہ جاتی ہے پھر کچھ عرصہ تک تو انسان خود کو اندر سے ویران اور خالی سا پاتا ہے ایسا لگتا ہے دنیا ہی ختم ہوگی ہے یہ اللہ تعالی کی ہم انسانوں پر خاص کرم نوازی ہے کہ اس نے انسان میں بھولنے کی جیسی نعمت دی ہوئی ہے ورنہ ہم اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کو ہر دم یاد کرکر کے خود کو بھی ختم کرلیتے ۔ماں یا باپ میں سے ایک بھی دنیا سے رخصت ہوجائے تو اولاد کے لیے یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے حضرت ایوب علیہ السلام جیسا صبر مانگنے کو دل کرتا ہے لوگوں کے لیے تو نارمل بات ہوتی ہے چند ماہ چند سال کہ فلاں کا باپ یا ماں دنیا سے رخصت ہوئی تھی لیکن اولاد کے لیے ہر دم یہ زخم تازہ رہتا ہے ۔۔پھر دنیا کی ہر نعمت ہر چیز انجوائے کریں لیکن دل کا ایک کونا ہمیشہ دکھی غم سے نڈھال رہتا ہے دنیا کی کوئی خوشی اس دکھ کو ختم نہیں کرپاتی کہ انسان بچوں کی طرح اپنے پیاروں کی جدائی میں بلک بلک کر روتا ہے جو دنیا میں آیا اس نے ایک دن واپس جانا ہے کیونکہ یہ روح کا اللہ سے وعدہ ہوتا ہے بس ہم انسان کیا کریں ہمیں صبر کیوں نہیں آتا چاہ کر بھی ۔۔جتنا انسان کو اپنے باپ اور ماں سے پیار ہوتا ہے اتنا ہی اپنے چچا سے اپنی خالہ سے اپنے ماموں جی سے ہوتا ہے ۔۔یہ دکھ جانا میں نے کہ میں نے اپنا باپ کھویا عزیز الجان دو چچا جی ایک سال میں کھوئے کہ دل کے زخم تھوڑے سے ٹھیک ہوتے ہیں کہ پھر ان کی یادوں کا ان کی محبت شفقت کا کوئی پل یاد آجاتا ہے تو دل کے زخم پھر سے ہرے ہوجاتے ہیں کاش کوئی ایسا ورد ہو کوئی ایسی دوا ہو یا دعا ہو کہ انسان اس اذیت سے باہر نکل آئے ۔۔!!!
    اکثر ایسا ہوتا ہے اور دیکھنے ہیں ہم کہ بچے عمومآ ماں کے ساتھ رہنے اور ماوں کی طبیعت میں نرمی اور بے اختیار اپنی اولاد سے محبت اور اظہار کے باعث بچے ماں سے ذیادہ قریب رہتے ہیں ہر بات باپ کی نسبت ماں سے شئیر کرکے ذیادہ ایزی فیل کرتے ہیں۔ماں کے گرد گھیرا ڈالے اولادیں اس سے لاڈ پیار کرتے بھول جاتی ہیں کہ باپ جس نے گرمی سردی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو پراسائش ذندگی دینے کے لیے اپنا سکھ چین لٹا دیا اس کا بھی اولاد پر اتنا حق ہے جتنا ماں کا کہ اولاد باپ کے گرد بھی ایسے ہی ڈیرا ڈالے لاڈ کرے جیسے ماں سے ہر کام مشورہ کرکے کرتے ہیں باپ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں تو اولاد کی دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی ۔۔!!!
    اور جو اولاد اپنے والدین کی نافرمان ہوتی ہے اسے نہ دنیا میں عزت ملتی ہے نہ اخرت میں ۔کہاوت ہے کہ
    "جو ماں باپ کا نہیں ہوسکتا وہ کسی کا بھی نہیں ہوسکتا”
    ماں باپ اللہ کی طرف سے اولاد کے لیے سب سے خوبصورت انعام ہوتا ہے جو بانصیب ہوتے ہیں وہ ان قیمتی چیزوں کی دل سے قدر کرتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے کی عمر میں پہنچ جاتے ہیں ان کی کسی بات پر اف تک نہیں کہتے تو اللہ ایسی نیک اولاد کو دنیا میں ہی بےحد بےحساب عزتوں سے نواز دیتے ہیں ایسی نیک اولاد اللہ کا پیارا تحفہ ہوتی ہے والدین کے لیے ۔۔!!!!
    میاں بیوی میں سو اختلاف بھی ہوجاتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماں اپنے بچوں کے دل میں اس کے باپ کے لیے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرے وہ باتیں ان کے ذہنوں میں ڈالے کر جو ان کے باپ کی فطرت میں بھی نہیں ہوتیں تو ایسی عورتوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا وہ عورتیں دراصل اپنی اولاد کی دشمن ہوتی ہیں ایک دن وہ ہی نفرت ایسی عورتوں کی طرف پلٹ کر آجاتی ہے کہ "دنیا مکافات عمل ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے "۔کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا اگر ہم انسان مکمل ہوتے تو پھر ہم فرشتے ہوتے ۔۔ایک اچھی نسلی ماں اپنے بچے کو نفرت جیسے شدید خطرناک وائرس سے بچا کر رکھتی ہے اگر وہ ایسے نہ کرے تو یہ زہر اس کی آنے والوں نسلوں میں بھی ایسے ہی انجیکٹ ہوتا رہے گا پھر
    خدانخواستہ ایک بیمار معاشرے کی تشکیل ہوگی ۔۔۔۔۔
    اس زہر سے اپنی اولاد کو بچا لیں جیسے نشہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے ایسے ہی نفرت کسی دوسرے کا نقصان نہیں کرتی بلکہ جس دل میں دوسروں کے لیے نفرت پروان چڑھائی ہوتی ہے وہ دل وہ انسان اندر سے کھوکھلے ہوجاتے ہیں اپنی نسلوں کو اس تباہ کن وائرس سے بچائیں
    شوہر کے رشتہ داروں کے لیے بھی اپنے بچوں کے دلوں میں ایسے ہی محبتیں پیدا کریں جیسے اپنے رشتہ داروں کے لیے پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں یقین کیجئے یہ عمل آپ کو نقصان نہیں بلکہ بہت فائدہ پہنچائے گا لوگ ایسی ماووں کی تربیت کو ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں ایک اچھی ماں پوری نسل کی آمین ہوتی ہے اللہ سبحان تعالی ہمیں خوشیاں محبتیں بانٹنے والا بنائے ۔۔
    کسی گھر کی خوش حالی اور سکون دیکھنا ہو تو اس کے گھر کا ماحول دیکھیں والدین کی اور اولاد کی آپس کی ذہنی ہم آہنگی دیکھیں مجھے ہمیشہ وہ گھر اچھے لگتے ہیں جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا بےحد خیال رکھتے ہیں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے مشعل راہ کی مثال بنتے ہیں کل کو وہ اولاد اپنے والدین کے نقشے قدم پر چل کر ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھیں گے اور اس صحت مند معاشرے کی کلیدی مثال بنانے والے اپنے والدین کو دل و جان سے عزت محبت مان پیار دیں گے اور دل سے اپنے والدین کی قدر کرے گے ۔۔۔۔!!
    ابھی بھی وقت ہے والدین میں سے کوئی ایک بھی آپ سے ناراض ہے ان کو ۔انکی ذندگی میں ہی راضی کرلو اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے اپنے ماں باپ کے پاس جو وقت آپ گزاریں گے کچھ سالوں بعد آپکو جب وہ وقت یاد آئے گا تو آپ کو لگے گا سب سے پیارا قیمتی وقت ہی وہ تھا جو ہم نے اپنے والدین کے ساتھ گزارا۔۔۔ایک چھوٹی سی کوشش ۔۔!!
    "شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ”

    تحریر "فرزانہ شریف ”

    موضوع تحریر ۔۔”میرے امی ابو جنت کے پھول "

  • اِنتقام تحریر:افشین

    اِنتقام تحریر:افشین

    انتقام (بدلہ لینا )
    جب کوئی کسی کے ساتھ بُرا کرتا ہے دوسرا انسان یا تو معاف کردیتا ہے یا پھر انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے کیا اِنتقام لینا ضروری ہے ؟ کیا اِنتقام لینے کے بعد آپ تسکین پا لیتے ہیں؟؟
    یہ حقیقت ہے کہ معاف کرنا آسان کام نہیں ہوتا لیکن جن کو اپنے رب پاک کی ذات پہ، اُنکے فیصلوں پہ بھروسہ ہو وہ ایسے کبھی نہیں کرتے وہ سب اللّه پہ چھوڑ دیتے ہیں پھر اللّلہ پاک خود ہی انصاف کر دیتے ہیں اور اللّلہ پاک کے فیصلے برحق ہوتے ہیں بہترین ہوتے ہیں ۔ اگر آپ کے ساتھ کسی نے بُرا کیا،زیادہ زیادتی کی یا کم، یہ تو اللّلہ بہتر جانتا ہے دوسرے انسان نے جان بوجھ کے کیا یا لا علمی میں کیا، کچھ بُراکیا بھی یا نہیں آپکی نظر میں شاہد وہ قصور وار ہو
    اور حقیقت اسکے برعکس ہو !!تو آپ انتقام اس سے لینے لگ جائیں اسکو ایذا پہنچانے لگیں تو پھر؟؟؟؟کیا ہوگا پھر وہ نہیں آپ اسکے قصوروار ہوجائیں گے رب پاک سب دیکھتا ہے جس کے ساتھ آپ انتقام لیا ایذا دی اگر وہ بے گناہ ہوا تو سزا کے مرتکب آپ خود ٹھہرے پھر اللّلہ پاک کے آگے کیا جواب دیں گے؟؟
    اللّلہ پہ فیصلے چھوڑ دینے چاہئیں جب آپ کو پوری حقیقت کا علم نہ ہو اور اگر علم ہو بھی تو ہو سکتا ہے پوری طرح علم نہ ہو کیوں کہ نیتوں کو صرف رب پاک جانتا ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے ربّ نیت دیکھتا ہے کیونکہ اللّلہ ہر ایک کی نیت سے واقف ہےغصے میں دل چاہتا ہے انتقام لیا جائے پر یاد رہے غصہ ایسا بھی نہیں پالیں کہ آپ میں انسانیت ہی ختم ہوجائے۔
    ہر انسان میں اچھائیاں بُرائیاں ہوتی ہیں ۔ دوسروں کی غلطیاں معاف کر دینی چاہئیں اگر اُس انسان سے دل میں نفرت پیدا ہونے لگے تو اس انسان سے کنارہ کشی کر لیں مگر کسی کو نقصان نہ دیں اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ راضی ہوجائیں زندگی خود بخود آساں ہوجائے گی۔
    کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو جیسا کرے اسکے ساتھ ویسا کرنا چاہیے دیکھیے بُرا کرنے والے کے ساتھ بُرا ہوتا ہے اللّلہ پاک بُرا کرنے والوں کی رسی دراز کرتا ہے انکو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں معافی مانگ لیں سرکشی چھوڑ دیں۔ پر جب وہ اپنی حرکتوں سے نہیں رُکتے دوسروں کو مسلسل ایذائیں دیتے رہتے ہیں اور شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے پھر انکا انجام (مکافات عمل ) اٹل ہےزمین سے لے کے آسمان تک بھی ہمارے گناہ ہو اللّلہ پاک وہ بھی معاف کر دیتا ہے ۔ ہم سب سے زیادہ گناہ گار اللّلہ کے ہوتے ہیں ہم دن میں بہت سی غلطیاں کر کے معافی مانگنا تک بھول جاتے ہیں۔ جب ٹھوکر لگتی ہے پھر ہم کو اللّلہ سے رجوع کرنا اور معافی مانگنا یاد آتا ہے پھر بھی وہ معاف کر دیتا ہے تو انسان دوسرے انسان کے ساتھ کیوں انتقام لینے لگ جاتا ہے ؟ کہیں لوگ قتل عام کرنے لگ جاتے ہیں قتل کا بدلہ قتل ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تو نہیں سیکھایا وہ تو سب کو معاف فرما دیتے تھے صرف اپنی تسکین کے لیے دوسروں کو ایذا نہ دیں ورنہ آپ کسی کے آنسو اور تکلیفوں کے قرض دار بن جائیں گے اگر کسی بہت دل دُکھایا کسی بہت تکلیف دی پھر بھی انتقام لینا چھوڑ دیں، اللّلہ پہ سب چھوڑ دیں، کیونکہ اللّلہ کے فیصلے بہترین ہوتے ہیں۔ انسان غلطیوں کا پُتلا ہے وہ غلطی پہ غلطی کرتا ہے وہ نہیں دیکھ سکتا جو ربّ پاک دیکھ سکتا ہے انسان کی سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے. بے دھیانی میں کہیں آپ کسی کے قصور وار نہ بن جائیں احتیاط کیجئیے اور بدلے کی آگ سے بچیں کیونکہ جب یہ آگ بھڑکتی ہے سب کچھ جلا دیتی ہے

    @Hu__rt7

  • کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    مظفر آباد:کشمیر پریمئیر لیگ (کے پی ایل )کا فائنل آج شام 7 بجے راولاکوٹ ہاکس اور مظفر آباد ٹائیگرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : مظفر آباد ميں کھیلے جارہے کشمیر پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں شاہد آفريدی اور شعيب ملک کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ تھا، راولا کوٹ ہاکس نے میر پور رائلز کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے اپنی جگہ بنائی۔

    پہلی بیٹنگ میں میرپور رائلز کی جانب سے شرجيل خان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 12 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 63 گیندوں پر 141 رنز کی اننگز کھیلی، ٹیم نے مد مقابل ٹیم کومقررہ اوورز میں 4 وکٹوں پر 236 رنز کا ہدف دیا-

    راولا کوٹ کو جیت کے لیے 239 رنز کا ہدف ملا، ناک آؤٹ ميچ ميں کاشف علی نے صرف 51 گيندوں پر 114 رنز بنا ئے آخری اوور کی چوتھی گیند پر انہوں نے چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی کاشف علی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

  • ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق     ازقلم :غنی محمود قصوری

    ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق ازقلم :غنی محمود قصوری

    ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق

    ازقلم غنی محمود قصوری

    2001 کو امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے خواب میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کی محدود وسائل کی بدولت افغان طالبان کو کابل چھوڑنا پڑا اور پھر گوریلہ وار کا آغاز کیا گیا –

    محض دو عشروں میں افغان طالبان نے امریکہ و نیٹو فورسز کی وہ درگت بنائی کہ دنیا حیران ہو گئی اور آخرکار انڈیا کے یوم آزادی کے دن انڈیا کے سب سے بڑی اتحادی کو اسی دن یعنی 15 اگست 2021 کو کابل چھوڑ کر چوروں کی طرح فرار ہونا پڑا طالبان سربسجود ہوتے صدراتی محل میں داخل ہوئے اور ملا عبدالغنی کو افغانستان کا صدر منتخب کیا گیا-

    ملا عبدالغنی کے صدر بنتے ہی کچھ فتہ پروروں کو پیٹ میں مروڑ اٹھا اور پروپیگنڈہ کے طور پر ایک تصوير شیئر کرنا شروع کر دی جس میں ملا عبدالغنی برادر کو ہتھکڑی لگی دیکھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ بہت عجیب عجیب باتیں لکھ کر پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک حقیقت عیاں کرو دو کہ ا ن تصاویر کو شئیر کرنے والوں میں سرفہرست ٹی ٹی پی اور دیگر خارجی فکر رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ پاک فوج آئی ایس آئی اور پاکستانی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی سیاسی و سیاسی مذہبی جماعتیں شامل ہیں –

    جن میں جمعیت علماء السلام و جماعت اسلامی کے انفرادی افراد، پی ڈی ایم اور ن لیگ کے لوگ شامل ہیں یہ سب افراد پاک فوج اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی عزت و فتخ سے ہمیشہ ہی سے تعصب رکھتے رہے ہیں-

    اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی زندگی اور ان کام و پاکستانی ایجنسیوں سے رابطے اور پھر گرفتاری والی حقیقت کی طرف

    ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبہ اروزگان میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق پشتو قبلے پوپلزی سے ہے تاہم کچھ ذرائع نے ان کی سکونت پاکستانی علاقے پارا چنار سے ظاہر کی ہے جو کہ یکسر غلط ہے-

    ملا عبدالغنی افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران صوبہ قندھار میں جہاد کرتے رہے اور بعد میں وہیں میوند کے علاقے میں ملا محمد عمر کے ساتھ مل کر ایک دینی تعلیمی درسگاه بھی قائم کی تاہم کچھ ذرائع کے مطابق ملا عبدالغنی ملا محمد عمر کے ہمزلف بھی ہیں

    1997 میں ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کی افغانستان میں دوران جنگ بھرپور مدد کی اور جنگ لڑی بھی اور اپنی جرات و بہادری جذبہ ایمانی سے علاقے فتخ کرواۓ جس پر انہیں ملا عمر کی طرف سے صوبہ نیمروز کا گورنر مقرر کر دیا گیااور ساتھ ہی مغربی افغانستان کی عسکری کماند کا کمانڈر بنا دیا گیا امریکہ کے دستاویزات میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کی فوج کے نائب آرمی چیف بھی تھے

    ستمبر11 کے امریکی حملوں کے بعد جب امریکہ نے UNO کے سلامتی کونسل کے اندر افغانستان سے جنگ کا اعلان کر دیا تو اس جنگ میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کے شانہ باشانہ لڑے اور امریکی تحقيقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر ہی وہ تھے جنہوں نے ملا عمر کو سنہ 2001 میں محفوظ مقام پر پہنچایا تھا-

    یاد رہے شروع شروع میں تو امریکہ اس جنگ میں اندھا دندھ کُود پڑا تھا اور کوئی انٹیلیجنس رپورٹس انکے پاس نہیں تھیں بس طاقت کا نشہ اور نیو ورلڈ آرڈر کا جنون ہی تھا امریکی شدید فضائی بمباری کرتے رہے مگر بے سوداخیر انہوں نے زمینی انٹیلیجنس بیس آپریشن شروع کیے تو انہیں بہت سی secret باتوں کا پتہ بھی چلا اور اس پر بہت Shocked بھی ہوئے-

    (ان ساری تفصیلات کے لیے آپ کو بی بی سی کی ایک طویل ڈاکومنٹری دیکھنی پڑۓ گی Secret Pakistan -dubble cross تو ہی آپ کو سمجھ لگے گی) انکشاف ہوا کہ ملا عبدالغنی برادر ہی وہ اصل بندہ تھا جو پاکستان میں موجود کوئٹہ شوری کا صدر رہا اور یہاں سے بیٹھ کر جنگ لڑواتا رہا-

    طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد سنہ 2007 تک تحریک طالبان افغانستان کے جنگجو مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے مگر آپس کے اختلافات کے باعث ان کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی-

    پھر صوبہ ہلمند میں سنہ 2007 میں ایک جھڑپ میں ملا داد اللہ کے ہلاک ہونے کے بعد طالبان میں ملا داد اللہ کے نام سے ایک گروہ وجود میں آیا جس نے مکمل طور پر ملا عمر کی مخالفت کا اعلان کر دیا –

    اس واقعے کے بعد 2007 ہی میں کوئٹہ شوریٰ قائم کی گئی جب کہ ملا عبد الغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے اور مبینہ طور پر انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی قیادت کی اور یہ سارا کام پاکستانی ایجنسی کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا بلکہ نظروں ہی میں تھا آپ یہیں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر پاکستانی ایجنسیوں کے کتنے قریب ہیں-

    اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی پاکستانی میں گرفتاری کیوں ہوئی وجہ کیا تھی اصل معاملہ کیا تھا

    ستمبر ١١ کے حملوں کے بعد امریکہ نے UNO کے ادارے سلامتی کونسل کے ذريعے افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجوؤں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کا ذمہ دار ( ثبوتوں کے ساتھ القائدہ کی غلطی کہ حملوں کی مکمل ویڈیوز بطور ثبوت اپلوڈ کر دیں تھیں ) ٹھہرایا اور افغانستان میں موجود طالبان کی حکومت پر حملے شروع کر دیئے-

    اس جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ کامیابی نا مل سکی سواۓ کچھ افغانی اور عربی جہادیوں کی گرفتاری کے مگر اصل ٹارگٹ یعنی ملا عمر، خقانی نیٹ ورک کے لوگ اور اسامہ بن لادن وغیرہ انکے ہاتھ نا لگ سکے-

    امریکہ نے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری جنرل مشرف اور اس وقت کے آئی ایس آئی چیف پر ڈال دی اور بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے یعنی چھوٹے موٹے لوگ پکڑوا دیتے ہیں مگر اصل لوگوں کو تحفظ دیتے ہیں جو کہ پاکستانی اداروں کی مدد کے ذریعہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں-

    امریکہ کے اس شور پر پاکستان پر بہت پریشان تھا اسی دوران جنرل مشرف پر بہت زیادہ اندرونی سیاسی اور بیرونی پریشر ڈالا جا رہا تھا اور انہیں Do more کا کہا جا رہا تھا اور اسی ڈو مور کیلئے امریکہ کی طرف سے اندرونی طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی بحران پیدا کیا جا رہا تھا-

    بے نظیر بھٹو کا قتل کرویا گیا اور ان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ حکومت چھوڑیں اور ملک کی حکمرانی جمہوری حکومت کے حوالے کریں
    جنرل مشرف کی ڈبل گیم امریکہ پر کھل چکی تھی (یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کے لیے آپ بی بی سی کی فل ڈاکومنٹری Secret Pakistan دیکھیں)-

    اسی اثناء میں 18 اگست سنہ 2008 کو جنرل مشرف نے حکومت چھوڑ دی اور ملک میں جمہوری حکومت آ گئی اور
    پاکستان میں امریکہ کی مرضی سے ڈرون حملے ہونا شروع ہوگئے اور امریکہ نے ڈبل ایجنٹس بھرتی کرنا شروع کر دیے اور پاکستان میں آن گراونڈ امریکی ایجنسیوں کے لوگ آپریشن کرنے لگ پڑے جبکہ یہ سارے کام جنرل مشرف کے دور میں نا ہونے کے برابر تھے جس کی وجہ جنرل مشرف کی یہ پالیسی تھی کہ آپ ہمیں ٹارگٹ بتائیں گے اور آپریشن ہم کریں گے نیز اگر ڈرون اٹی بھی کرنا ہوگا تو ہمیں اطلاع دی جائے گی-

    جنرل مشرف کی یہی پالیسی امریکہ کو قبول نہیں تھی پہلے چھ سال تک امریکہ کو پاکستان کی ڈبل گیم کا پتہ تو چل چکا تھا مگر باقاعدہ پروف نا تھے ان کے پاس جنرل مشرف کے جاتے ہی پاکستان میں ڈرون اٹکیز میں اضافہ ہو گیا اور امریکہ کے من مرضی کے ڈرون اور زمینی آپریشن شروع ہو گئےجن کا اصل ٹارگٹ کوئٹہ شوریٰ کی قیادت اور حقانی نیٹ ورک تھا –

    اسی دوارن امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی نرسری کو کھولا تاکہ افغان مجاہدین اور ٹی ٹی پی میں فرق باقی نا رہے اور عوام کی نظر میں افغان طالبان کے خلاف نفرت ڈالی جائے اور اسی آڑ میں مجاہدین کے خلاف دہشت گردی کی آڑ میں کاروائیاں کی گئیں جس میں بہت سے اہم افغان کمانڈروں کی شہادت و گرفتاری ہوئی

    اس ساری گیم میں ٹی ٹی پی اور بیرونی دہشت گرد ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیے گئے تھے مگر اس کےساتھ ساتھ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی اور پاکستان کے اندر کاروائیاں کرنے والوں کو خوب جانتی تھی اور فرق رکھتی تھی آئی ایس آئی خوارج فکر رکھنے والے دہشت گردوں اور کشمیری و افغان مجاہدین میں فرق جانتی تھی –

    اسی لیے کوئٹہ شوریٰ حقانی نیٹ ورک اور کشمیری جہادی تنظیمیں لشکر طیبہ اور جیش محمد والوں کے ساتھ رابطوں میں تھی اور نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ اگر ان تمام تنظیموں میں سے بھی کوئی خوارج ذہنیت والے افراد ہیں تو انہیں پکڑا جائے آئی ایس آئی مکمل مطمئن تھی اسی لیے اس نے بیرونی پریشر کے باوجود ان جماعتوں و قائدین کو شیلٹرز میں رکھا ہوا تھا ملکوں دفاع کے لیے عسکری قیادت اور سول سیاسی قیادت کی سوچوں میں بہت فرق ہوتا ہے-

    جو کام امریکی و اتحادی جنرل مشرف کے دور میں اگست 2008تک نا کر سکے وہ کام انہوں نے جمہوری حکومت میں اگست 2008کے فوراً بعد ہی تیزی سے شروع کر دیا جن میں ان کا اولین کام کوئٹہ حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ پر حملے تھے-

    انہیں دنوں میں ملا عبدالغنی برادر کوئٹہ سے کراچی جاتے ہیں اور کراچی پہنچتے ہی فروری 2010 میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ جنرل مشرف اس وقت جا چکے تھے-

    پاکستانی ایجنسی کو رپورٹ مل چکی تھی کہ ملاں عبدالغنی کی موجودگی کی مخبری ہوچکی اور امریکہ انہیں مروا دے گا یا پکڑ کر لے جائے گا تو اسی وقت ایجنسی نے یہ گیم کھیلی کہ انہیں پکڑا جائے اور ان پر کیس چلایا جائے وہ بھی پاکستانی عدالت میں
    سو انہیں پاکستان میں پکڑا گیا اور پاکستان ہی میں رکھا گیا تھا بلکل ایسے جیسے بھارت کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ امن پاکستانی مجاھدین کو انڈر کسٹڈی رکھا گیا ہے-

    قارئین کرام آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر کو امریکہ کے کہنے پر بھی امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا اور یہ کام ایجنسی نے پاکستانی عدالتی فیصلے کے ذریعہ سے کروایا گیا-

    نیز آپ کو یہ جان کر مذید حیرانگی ہوگی کہ اس سارے کام کو ایجنسی نے ایک زبردست طریقے سے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ خالد خواجہ صاحب کے ذریعے سے کروایا جو کہ آئی ایس آئی کے لیے ہی کام کرتے تھے اور جہنیں امریکہ نے اس کام کے جرم میں اس کام کے فوراً بعد ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ذریعے کرنل امام سمیت شہید کروا دیا تھا کیونکہ امریکہ کو اصل معاملہ کا علم ہو گیا تھا

    فوران اسیری ملا عبدالغنی برادر جو کام اوپن بیٹھ کر کوئٹہ میں کوئٹہ شوریٰ کی صورت میں کرتے وہی کام پاکستان کی ایجنسی کے مہان خانے میں سیف ہاوس میں بیٹھ کرتے رہے ہیں پھر جب پاکستان کو مکمل اطمينان ہوگیا کہ امریکہ بدمست ہاتھی مکمل طور پر گِر چکا ہے اور صلح کی طرف مائل ہو رہا ہے تو ملا عبدالغنی کو دنیاوی نظر میں رہا کر دیا جاتا اور اس سارے معاملے میں وہ ایک اہم کام سر انجام دیتے ہیں جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے

    قارین کرام یقين و اطمينان رکھیں کہ ملا عبد الغنی برادر پاکستانی ایجنسی کے قریب ترین ہیں
    آپ نے وہ جھپھی والی تصویر تو دیکھی ہی ہو گی جس میں ملا عبدالغنی برادر موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جناب فیض حمید صاحب سے گلے مل رہے ہیں اب بات یہ ہے کہ وہ جپھی والی فوٹو چھپا کر گرفتاری کی فوٹو دکھانا افغان طالبان اور پاکستان کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش اور حقائق کو مسخ کرنا نہیں تو کیا ہے ؟؟؟-


    غنی محمود قصوری