Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مینار پاکستان پر بنت حوا کی عصمت دری ۔۔ اور ہمارے معاشرے میں لنڈے کے دانشور۔۔  تحریر: آصف شاہ خان

    مینار پاکستان پر بنت حوا کی عصمت دری ۔۔ اور ہمارے معاشرے میں لنڈے کے دانشور۔۔ تحریر: آصف شاہ خان

    مینار پاکستان پر چند انسانوں کے نام پر دھبوں نے ایک بنتِ حوا کی عصمت دری کی۔ پہلے کی طرح اس مقام پر بھی میں یہی کہوں گا کہ ہمیں پاکستانی قانون میں چند تبدیلیاں لانا ہو گی ورنہ کھبی بچوں کا کھبی بچیوں کی اور کبھی اس قوم کی دوشیزاؤں کا یہی عصمت دری والا رواج جاری رہے گا۔ بہتر حل یہ ہے کہ اس طرح کیسسز کے لئے اسلامی عدالتوں کو فعال بنا دیا جائے۔
    آج ہمارے اس مضمون کا موضوع قانون نہیں تو لہذا اس پر پھر کبھی بات کرینگے، آج کا موضوع ہمارا ان لوگوں کو سامنے لانا ہے جو اپنے منطقی دلائل سے ان درندوں کو جو اپنے ہوس کی بھوک مٹانے کے لیے سفید جسموں کا جیون سیاہ کرتے ، ان کو ڈھکے چھپے الفاظ میں جائز قرار دیتے ہیں۔
    ہوا یوں کہ مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر لڑکی کی سینکڑوں کے اجتماع نے عصمت دری کی۔ ان درندوں کے تلاش میں ادارے لگے ہوئے ہیں اللّٰہ کرے مجرموں کو پکڑ کر سزا ہو جائے۔ لیکن یہ الگ بات ہے اصل بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے کئی لوگوں کی تحریریں میری نظروں کے سامنے سے گزری جو ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ لڑکی فحاشی پھیلا رہی تھی تو اگر ان لوگوں نے عصمت دری کی تو کیا ہوا۔ یاد رکھیں فحاشی پھیلانا اسلام میں جائز نہیں اور ہمیں اپنے بچیوں بہنوں اور ماؤں کو باپردہ رہنے کے تلقین کرنا چاہیے۔ ہر برے کام کے خلاف آواز بھی اٹھانا چاہیے اور برے کام کے خلاف کوشش کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ مفہوم ہے حدیث کا کہ برائی کو ہاتھ سے روک لے، اگر ہاتھ سے نہیں کرسکتے تو منہ سے روک لے اور اگر منہ سے بھی نہیں کرسکتے ہو تو دل میں ہی برا سمجھو اور یہ ایمان کا کمزور درجہِ ہے۔ لیکن اس حدیث کے مفہوم سے ہمیں یہ بات واضح ہے کہ برائی کو روکنا چاہیے لیکن اس مفہوم میں یا آگر ہم کسی اس طرح اور احادیث و آیات کے مفاہیم میں جائے تو کہی ہمیں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ کوئی گناہ کر رہا ہو تو اس کو گناہ کے زریعے روک دے۔
    کسی بھی جگہ یہ درس ہمیں نہیں ملتا ہے اسلامی تعلیمات میں کہ ایک لڑکی اگر فحاشی پھیلا رہی ہے تو مرد اس کی عصمت دری کرسکتے ہیں یہ کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔ اسلام بڑا واضح پیغام دیتا ہے کہ عورت پردہ کرلے اور ساتھ مردوں کو بھی نظر کی حفاظت کا حکم ہے۔ اسلام تو اس معاملے میں اتنا واضح پیغام دیتا ہے کہ مرد کیلئے یہ بھی ممنوع ہے کہ وہ طوائف کے پاس چلا جائے۔ اسلام میں کسی بھی صورت بغیر نکاح کے جسم کو مساء کرنا جائز نہیں۔ پھر آخر وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر لنڈے کے دانشور بنے بیٹھے ہیں کیوں اپنے منطقوں سے اس بات پر بضد ہیں کہ وہ لڑکی فحاشی پھیلا رہی تھی اس لیے یہ ہوا، خدارا اپنے بیانات پر زرا سوچیئے اگر لڑکی فحاشی پھیلا رہی ہو تو کیا مردوں کے پاس اس کی عصمت دری کا لائسنس آجاتا ہے؟؟
    اگر ایک عورت بدکار طوائف کیوں نہ ہو تب بھی نہ اسلام، نہ ہمارا ملک اور نہ اخلاقیات ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ اس کے جسم کو نوچ لیا جائے بلکہ جو لوگ اس طرح کے کاموں سپورٹ کر رہے ہیں دراصل یہ ان کے تربیت کا نتیجہ ہے۔ یہ اس تربیت کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ان درندوں کا ہوس بے لگام ہوگیا ہے۔
    ایک عورت ہو یا مرد غلط راستے پر ہو ہمیں اخلاق کے دائرے میں سمجھانا چاہئے اگر اس سے ٹھیک نہ ہو جائے تو پھر قانون کا سہارا لینا چاہیے لیکن ہر گز یہ حق کسی کے پاس نہیں کہ دوسرے کے گناہ کو ثبوت بنا کر خود گناہ کرنے لگ جائے یا قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے کوشش کرلے۔
    یہ معاشرے کے مسائل ہے اور اس کے لئے ہم سب کو اپنا حق ادا کرنا ہوگا۔ قوم کی بیٹیاں اسلامی تعلیمات پر عمل کرلے کیونکہ اس میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے اور مرد حضرات خدا کا خوف کرلے کسی کے گناہ کو دلیل بنا کر مردوں کو گناہ کرنے کی لائسنس نہیں ملتا ہے۔ اگر ایک لڑکی چاہیے وہ جسم فروشی کیوں نہیں کر رہی ہو کسی مرد کو اسلام یہ اجازت نہیں دیتا ہے کہ اس کی عصمت دری کی جائے۔ اور جو لوگ سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کے سپورٹ میں دلائل پیش کر رہے ہیں یاد رکھیں آپ لوگ دوسروں کو غلط کام کرنے کے لائسنس دے رہے ہو برائے مہربانی گناہ کے زریعہ نہ بنے۔ ماں باپ سے یہ عرض ہے کہ اپنی بچیوں کی حفاظت کرلے اور ان کو اسلام سیکھائے اور اپنے بچوں کے تربیت کا خاص خیال رکھیں کیونکہ آج کسی اور کی بیٹی کی عصمت دری ہو رہی ہو کل خدا نہ کرے اپنے گھروں میں دیکھنا پڑے اور ساتھ ساتھ بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ بھی نظر رکھے کہ فرزند کیا کر رہا ہے۔
    اس معاشرے کے ہر شخص کی یہ زمہ داری ہے ۔
    اللّٰہ پاکستان کا اور امت مسلمہ کا حامی و ناصر ہو۔ امیں۔

    ______________________

    twitter.com/IbnePakistan1

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : دوئم  تحریر : اے ار کے

    کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : دوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ کو خدا اوندی کے عطا کر دہ ہائی گریڈ کرومائیٹ کی مانگ پوری دنیا میں ہے
    چونکہ یہ عنصر اسلحہ سازی، جہاز سازی، ادویات اور لوہا سازی میں بھی بکثرت استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    ابھرتی ہوئی معیشت اور عالمی منڈی میں تیزی سے پیشرفت کرنے والاچین کرومائیٹ کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ وہاں ہزاروں فیکٹریوں میں یہ استعمال میں لایا جارہا ہے ۔
    کرومائٹ سے مالامال مسلم باغ زراعت اور فروٹ کی پیداوار میں بھی خاصا مقبول ہے۔
    زرعی پیداوار گندم مکئ اور زہرہ اہم فصلیں ہیں اور پھلوں کے حوالے سے مسلم باغ اچھی شہرت رکھتا ہے
    یہاں انگور سیب انار خرمانی انجیر ، الوچہ اور آڑو وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔
    آب پاشی کے قدرتی ذرائع بارش اور برف ہیں ٹیوب ویلوں کے علاوء مسلم باغ میں کاریز، بند اور چشموں کے روایتی طریقوں سے بھی کھیتوں اور باغوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔
    تحصیل مسلم باغ کے شمال میں افغانستان جنوب میں لورالائی و زیارت مشرق میں ضلع قلعہ سیف اللہ اور مغرب میں ضلع پشیں واقع ہیں۔
    مسلم باغ کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے۔ اس میں کوہ توبہ کاکڑی اور اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ کوہ کند اور کوہ سرغنڈ اہم پہاڑ ہیں۔
    کوہ کند کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر مطلع صاف ہو تو پہاڑ کی چوٹی سے قندھار شہر (افغانستان) نظر ا سکتا ہے۔
    جنوبی ایشیاء کا اونچا ترین ریلوے اسٹیشن بھی مسلم باغ( کان مہترزئی ) میں واقع ہے

    موسم سرما میں زیادہ سردی پڑتی ہے
    مسلم باغ اور کان مہترزئی میں کئی کئی فٹ برف پڑتی ہے۔ جس سے نیشنل ہائے روڈ بند بند ہو جاتا ہے اور مسلم باغ کا زمینی رابطہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے منقطع ہو جاتا ہے درجۂ حرارت صفر سینٹی گریڈ سے منفی 16 تک نیچےگرجاتا ہے۔
    موسم بہار میں یہاں کا موسم انتہائی خوش گوار ہوتا ہے۔ باغات ہرے بھرے ہوتے ہیں۔ موسم گرما میں گرمی بڑھ جاتی ہے۔ درجۂ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ تاہم راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
    کرومائٹ کی کانکنی سے لے کر اسے چین اور یورپی ممالک کی عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں یہاں کے ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ ان میں مقامی اور غیر مقامی دونوں شامل ہیں۔
    مقامی مارکیٹ جہاں پر کرومائٹ کے ٹرک
    خالی اور لوڈ کیے جاتے ہیں یہاں کے مقامی لوگ اُسے ڈمّان (منڈی) کہتے ہیں۔
    ڈمّان میں اربوں روپے کا کرومائٹ پڑا رہتا ہے۔ یہاں پر اس کی پرسنٹیج کی شرح اور قیمتوں کا تعین ہوتا رہتا ہے۔ یہاں کی مارکیٹ ساکت نہیں رہتی اُتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔ کرومائٹ کی تجارت کیلیے یہاں ٹن کا پیمانہ استعمال ہوتا ہے۔ کرومائٹ کی اوسط قیمت فی ٹن اجکل45000 تا 52000 ( ہائی گریڈ 52%)روپے ہیں۔ تاجر منڈی میں ایک دوسرے سے خرید و فروخت کے عمل سے گزار کر متعلقہ کرومائٹ شہر کراچی میں موجود گوداموں تک پہنچاتے ہیں، جہاں سے یہ کرومائٹ چین اور یورپی ممالک کی منڈیوں میں پہنچتا ہے۔
    جاری۔۔۔۔۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan

  • حق و سچ کی فتح تحریر : حادیہ سرور

    حق و سچ کی فتح تحریر : حادیہ سرور

    یہ بات ہے 9 ستمبر 2001 ایک کی, جب اسامہ بن لادن کے 4 جہادیوں نے امریکی چار مسافر برادر ہوائی جہازوں کو اغوا کر لیا ۔
    اس کے بعد ایک ان میں سے دو کو ولڈ ٹریڈ سنٹر جبکہ ایک کو پینٹاگون سے ٹکرا دیا گیا جس کے بعد سے لاکھوں امریکی جہنم کی بستی میں جا بسے اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کا اربوں ڈالر کا نقصان الگ ہوا ۔۔۔
    یہ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا اس کےلیے نہایت ہی بے عزتی اور جگ ہنسائی کی بات تھی کہ یوں امریکہ کہ جہاز ہائی جیک ہوئے اور پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکراۓ اور ایک پینٹا گون سے ۔۔
    یوں پوری دنیا میں امریکہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔امریکہ بھی یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ کوئی کیسے اس پر اس قدر بڑا حملہ کرنے کی جرآت کر سکتا ہے ۔لیکن امریکہ نہیں جانتا تھا کہ جزبہ ایمان کی طاقت لیے یہ مجاہد اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں رکھتے۔۔
    9/11 کے بعد اس وقت کے امریکہ کے صدر جارج بش نے انتقام کا فیصلہ کیا اور افغان طالبان کو ریزہ ریزہ اور جڑ سے ختم کرنے کی ٹھان لی ۔۔یوں اس نے افغانستان میں اپنے فوجی بھیجے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔۔اور یوں امریکہ نے افغانستان میں ایک طویل جنگ شروع کر دی ۔۔
    امریکہ جو صرف افغانستان پر قبضہ کرنے نہیں آیا تھا بلکہ اس کی گندی نظریں پاکستان اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر تھیں ۔۔کیونکہ باطل یہ جانتا تھا کہ اسلامی ممالک میں صرف واحد پاکستان ہی ہے جو ایٹمی پاور ہے جس کے وجہ سے بڑے بڑے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتے ہوۓ گھبراتے ہیں ۔۔
    خیر امریکہ نے افغانستان میں اپنے اربوں ڈالرز ضائع کیے اپنی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا اپنا جدید اسلحہ استعمال کیا اپنے ساتھ چالیس نیٹو کے ممالک کے ساتھ ساتھ انڈیا کی مدد لی اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مدد بھی لی ۔۔یوں یہ را ،این ڈی ایس ،سی آئی اے ، ایس آئی ایس سمیت 42 ممالک اور ان کی ایجنسیاں طالبان کو شکست دینے کےلیے اپنی ایڑھی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا ۔۔دوسری جانب طالبان جہادی جو سادہ اسلحے, پٹھے کپڑے اور بغیر جوتوں کے جن کے ساتھ صرف سپورٹ تھی تو یا اللہ کی تھی یا پھر مارخور کی ۔
    دشمن نہیں جانتے تھے کہ افغانستان میں جس مارخور کے ساتھ وہ پنگا لے رہے ہیں اس نے افغانستان میں سویت یونین کو پہلے ہی ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کر چکا تھا تو امریکہ کس کھیت کی مولی ۔۔
    خیر ان بیس سال کے عرصے میں امریکہ اور اسے کے اتحادی اپنا زور لگاتے رہے لیکن مجاہدین جو اللہ کا نام بلند کے میدان جنگ میں اترے تھے جو اسلام کےلیے جہاد کر رہے تھے بھلا ایسے کیسے ہو سکتا تھا وہ باطل سے ڈر جاتے ۔۔انہوں نے باطل کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا ۔یوں صرف چند ہزار افغان مجاہدین نے چالیس ممالک کی افواج کو بیس سال کی طویل جنگ کے بعد دھول چٹا دی ۔
    یہ طالبان اور امریکہ کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ حق و باطل کی جنگ تھی کفار اور اسلام کی جنگ تھی جس کا شرف اللہ تعالی نے مارخور اور طالبان کو بخشا تھا اور اللہ کے فضل سے آج افغان مجاہدین افغانستان کے حکمران ہیں ۔
    افغانستان طالبان نے اپنے سے کہیں گناہ بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ ثابت کیا کہ جنگیں اصلحے ٹیکنالوجی جدید آلات سے نہیں لڑی جاتی بلکہ جیت اسی کی ہوتی ہے جو بہادر ہوتا ہے جس کے اندر ایمان کی طاقت ہوتی جو اسلام اور اللہ کےلیے لڑتا ہے ۔۔
    آج طالبان کی جیت بے شک کشمیری مجاہدین اور حماس کے مجاہدین کےلیے مشعل راہ ہے جس طرح افغان طالبان نے باطل کو شکست دی اسی طرح کشمیری اور حماسی مجاہدین بھی اپنی آزادی کی تحریک کو تیز کریں اللہ پاک افغان مجاہدین کی طرح کشمیر اور فلسطین کو بھی آزادی نصیب فرماۓ آمین

    @iitx_Hadii

  • طالبان کے چودہ اصول  تحریر: محمد اسعد لعل

    طالبان کے چودہ اصول تحریر: محمد اسعد لعل

    طالبان کی افغانستان میں فتح دنیا کی تاریخ میں تیز ترین فتح ہے۔ اس سے پہلے جو جنگ ہم نے دیکھی وہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تھی۔ قرہباخ کے علاقے کو آذربائیجان نے فتح کیا۔ دو تگڑی فوجیں لڑ رہی تھیں، ڈرونز کا استعمال ہو رہا تھا، بڑی تیز فتوحات تھیں لیکن طالبان کی فتوحات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھیں۔
    ایسی فوج جس کے پاس پُرانے ہتھیار تھے اور جس کے پاس فضائی قوت بھی نہ تھی، وہ کیسے فاتح بنی اس پر تو کتابیں لکھی جائیں گی۔ لیکن یہاں جنگ کے دوران طالبان کے وہ چودہ اصول جنہیں دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔
    نمبر 1:
    ہتھیار ڈالنے والوں کو کہیں بھی قتل نہیں کیا گیا۔ کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں تھا کہ کسی نے ہتھیار ڈالے ہوں اور انہیں قتل کیا گیا ہو۔ یہاں تک کے اسماعیل خان نے طالبان کو بہت نقصان پہنچایا تھا، لیکن جب وہ قابو آیا تو اسے بھی جانے دیا۔
    نمبر 2:
    طالبان نے اس پوری مہم کے دوران کہیں بھی ٹارچر نہیں کیا۔ لوگوں پر تشدد کی کوئی ایک ویڈیو بھی آپ کو دیکھنے کو نہیں ملے گی۔
    نمبر 3:
    کوئی چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار اس پوری مہم کے دوران کہیں پر رپورٹ نہیں ہوئی۔ عالمی اداروں اور میڈیا میں کہیں بھی اس طرح کی کوئی شکایت نہیں آئی کہ بنک توڑ دیے گے، لوٹ مار شروع ہو گئی، لوگوں کی دکانیں کھول دی گئیں، غلہ اور اناج لوٹ لیا۔۔۔
    نمبر 4:
    طالبان نے عام معافی کا اعلان کیا۔یہ بہت اہم اور قابلِ تعریف ہے۔ عام طور پر فوجیں ایسا نہیں کرتیں لیکن طالبان کی فوج جہاں بھی داخل ہوئی وہاں عام معافی کا اعلان کیا گیا۔
    نمبر 5:
    اگر کسی نے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہا، ان کا تعلق کسی بھی فرقے یا گروہ سے تھا اور معاہدے کی صورت میں علاقہ چھوڑنا چاہا تو طالبان نے انہیں نہیں روکا۔ معاہدہ کیا اور انہیں جانے دیا۔ جہاں پر بہت سخت لڑائی ہوئی وہاں بھی انہوں نے معاہدے کیے ۔
    نمبر 6:
    خواتین سے بدسلوکی کا ایک بھی واقع پورے افغانستان میں اس دوران رپورٹ نہیں ہوا۔ کسی بھی خاتون نے یہ شکایت نہیں کی یا میڈیا نے یہ نہیں دکھایا کہ کسی خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہو، بد تہذیبی کی گئی ہو، زیادتی کی گئی ہو،زبردستی شادی یا نکاح کیا گیا ہو۔۔۔
    نمبر7:
    لوگوں پر مذہبی حوالے سے اب تک کوئی زور زبردستی نہیں کی۔ داڑھی کسی نے رکھنی ہے رکھے نہیں رکھنی تو نہ رکھے، خواتین بازار میں آ جا رہی ہیں کسی کو نہیں روکا گیا۔ لوگوں کو زبردستی نماز ادا کرنے پر بھی فورس نہیں کیا گیا۔ طالبان نے کہا خواتین سکول پڑھنے اور پڑھانے کے لیے ضرور آئیں، دفاتر میں بھی مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کر سکتی ہیں لیکن پردے میں گھر سے باہر آئیں۔
    نمبر 8:
    جہاں بھی طالبان گئے وہاں لڑائی کے دوران جو ہوا سو ہوا
    لیکن لڑائی کے بعد جب طالبان نے کنٹرول کر لیا تو بازار اور کاروبار کھلے رہے۔ اور اب لوگ بازاروں میں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
    نمبر 9:
    صحافیوں، این جی اوز اور غیر ملکیوں کا قتلِ عام نہیں ہوا۔ جو لوگ طالبان کی طرف سے کوریج کر رہے تھے وہ لوگ بتاتے ہیں کہ طالبان نے جنگ میں اپنی جان سے زیادہ ان کو تحفظ دیا ہے۔
    نمبر 10:
    فرقہ وارانہ واقعات نہیں ہوئے۔ یعنی جو اہل تشیع ہیں ان کے ساتھ بھی معاہدے ہوئے۔ جو بریلوی ہیں ان کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے۔ نسل اور فرقے کا فرق کیے بغیر سب کے ساتھ برابری کا سلوک کیا۔
    نمبر 11:
    طالبان نے اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سکول اور تعلیمی اداروں کو فی الفور فنگشنل کیا اور انہیں کھلا رکھا۔
    نمبر 12:
    سرکاری دفاتر میں کام جاری رکھا۔ انہوں نے اپنے طالبان نگران مقرر ضرور کیے لیکن ملازمین کو اپنا کام جاری رکھنے کو کہا گیا۔
    نمبر 13:
    املاک ،گاڑیوں اور جائیدادوں کو قبضہ میں نہیں لیا گیا۔ یعنی بازار میں کسی کی دکان، جائیداد، گاڑیوں اور ہتھیاروں کو عام لوگوں سے طالبان نے قبضہ میں نہیں لیا۔ صرف غیر ملکیوں سے اور افغان فوج کا سامان جن سے وہ لڑ رہے تھے چاہے وہ گاڑیاں ہیں یا ہتھیار، ان کو طالبان نے مالِ غنیمت کے طور پر اپنے قبضہ میں لیا۔
    نمبر 14:
    کسی کو زبردستی اپنے ساتھ لڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔
    بیس سالہ جنگ کا نتیجہ افغان طالبان کی فتح کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ دنیا کی تیز ترین فتح تھی۔ اور اب پورے افغانستان پر طالبان کی حکمرانی ہے۔ افغانستان کی عوام نے طالبان کا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • کشمیر میں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کا قیام اور اس کی جدوجہد تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر میں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کا قیام اور اس کی جدوجہد تحریر : اسامہ ذوالفقار

    ۱۸۹۲؀ میں کشمیر میں ینگ مینز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ ایک ایسا دور تھا جس میں کشمیر کے اندر کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا۔ صرف اورصرف مدرسوں کے اندر فارسی اور عربی کی تعلیم دی جاتی تھی جو کہ کشمیر کے اندر کسی بھی سرکاری نوکری کے لیے فٹ نہیں تھی۔ سکھوں کا مہاراجہ اس وقت کا بہت ہی سخت اور ظالم حکمران تھا جو کہ مسلمانوں کو کسی بھی صورت ترقی نہیں کرنے دیتا تھا اور اس ایسوسی ایشن کا قیام بھی اس سے چھپ کے لایا گیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے مسلمان نوجوان اس کا حصہ بنے اور اس انجمن کا بھرپور قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد اس کا نام "ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن” رکھ دیا گیا۔
    چند نوجوانوں نے اس انجمن کا قیام جموں میں بھی لایا ۵-۶ نوجوانوں نے مل اس کی چوری چھپے مہم چلائی مہاراجہ کو جیسے ہی پتا چلا اس نے فورن اس پر پابندی لگا دی ابھی اس کی بنیاد ہی ڈلی تھی کہ اس پر پابندی لگ گئی۔ اس کے بعد ۱۹۰۹ تک کوئی خاص کام تو ہوا نہیں اور اس کا صرف نام ہی رہ گیا۔
    اب بات کرتے ہیں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کے مقاصد پر ان کا سب سے پہلا اور اہمیت کے حامل جو مقصد تھا وہ یہ کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی تعلیم دینا اور انہیں اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو حصول تعلیم کے لیے متوجہ کرنا اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے ریاست میں دفاعی کام کرنا۔
    ۱۹۲۲ تک تو اس کی نہ ہونے والی صورت حال چلتی رہی۔ اور اسی عرصے میں چند اور لوگ بھی جمع ہوۓ اور انھوں نے مشورہ کیا اور سوچا کہ اس پر اب تک پہلے جو لوگ تھے انہوں نے کچھ خاص کام نہیں کیا اب اس پر مزید کام کرنا ہے۔
    ادیب قیس (شاعر تھے) ان کے گھر اجلاس ہوا چودھری غلام عباس اپنی کتاب "کشمکش” میں لکھتے ہیں "آٹھ نوجوانوں نے قران مجید پر حلف لیا اور کہا ہم ثابت قدم رہیں گئے”۔ اور پھر ان لوگوں نے خفیہ طور پر کام شروع کیا۔ انھوں نے اپنے مضامین اخبارات میں پیش کیے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس تنظیم میں شامل ہونے لگے اور کام تیزی سے ہونے لگا۔
    ۱۹۲۲ کے بعد منشی غلام علی جو کہ "اٹھمکام” کے رہنے والے تھے جو اس تنظیم میں شامل ہوۓ اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔انھوں نے کشمیر کے اندر بہت سی خدمات انجام دی۔ اگر کوئی مسائل آ جاتے یہ نوجوان وہاں پہنچ کر ان مسائل کو حل کرتے تھے۔
    اس تنظیم نے ریاست میں فرقہ واریت کو ختم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ مسلمان ہوے۔ اس تنظیم نے مسافروں کے لیے جموں میں پناہ گاہ بھی تعمیر کروائی۔ اور ان نوجوانوں نے بہت سی لاوارس لاشوں کی تدفین بھی کی۔
    وقت کے ساتھ اس ایسوسیشن میں نئی روح سی آنے لگی۔ ڈیڈھ سال کے بعد ۱۹۲۴ میں پہلا جلسہ کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں جوش و جذبہ پیدا ہونے لگا۔ اس جلسے میں مولانا عبدالحق نے خطاب کیا اور ہندوستان سے بھی عالم آے۔ اور اسی دوران چودھری غلام عباس نے اپنی کتاب "کشمکش” لکھی اور جلسے میں اس کے بارے میں زکر کیا۔
    جلسہ ختم ہوا مسلمانوں کے دل میں نیا جذبہ پیدا ہونے لگا۔ ان کی رگوں میں خون ڈورنے لگا۔ جموں کے اندر مسلمانون کے اندر پہلی بار اپنے حقوق کے لیے بیداری پیدا ہوئی۔
    سردار فتح محمد فتح خان کریلوی نے اس تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اب مسلمانوں کے اندر ایک شعور پیدا ہونے لگا جو اس ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نوجوان کشمیر کی تحریک کا اہم حصہ بن گئے بہت سے نئے لوگ بھی آنے لگے اور اپنی اس آزادی کی جدوجہد کو مزید جاری رکھا۔ جو کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اب تک جا ری ہے اور جاری رہے گی۔

    Twitter id : @RaisaniUZ_

  • خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    جنسی جرائم انگریزی میں( sex crime) سے مراد وہ جرائم جو جنسی نوعیت کے حامل ہوں. ان میں خواتین پر کئے جانے والے جنسی معاملات ہیں لیکن یہ معاملات صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ ان میں بچوں کے ساتھ جنسی معاملات بھی شامل ہیں اور کچھ معاملات میں مرد بھی شامل ہو سکتے ہیں. اسلام نے عورت کو بہت عزت دی اور تحفظ بخشا دنیا کے بہت سے ممالک میں خواتین اس جنسی استحصال کا شکار ہیں. اگرچہ بہت ترقی یافتہ ممالک میں اس فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے مگر بعض ممالک میں اس قابلِ سزا جرم کو تسلیم نہیں کیا گیا جیسا کہ ملکِ پاکستان میں جنسی زیادتی کو جرائم قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کا حکمران اب تک خاموش ہے جنسی جرائم کا قانون موجود ہے.پر مجرموں کو گرفتاری کے بعد سزائیں نہیں دی جاتیں. مجرم بچ جاتے ہیں. اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی جنسی استحصال کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا تو پھر ایک خاتون کی ترجمانی کیسے ہو پائے گی .اسکی عزت کا تحفظ کیسے رکھا جائے گا. پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اس مسئلے کو جرم قرار دے پائے . اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے 2018 میں قصور کے شہر 12 سالہ بچی کو اغوا کر کے ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا. مگر مجرم 24 دنوں بعد پکڑا گیا.اس پر حکومت نے کچھ خاص ایکشن نہیں لیا.قانونی معاملات مہنگے اور سست ہیں اس وجہ سے بھی بچوں اور عورتوں کے ورثا پیچھے ہٹ جاتے ہیں.جنسی زیادتی میں عورتوں اور بچوں شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے . اندازہ اس بات سے بھی لگایا جائے 2021 میں ماہ جولائی میں بچی کے ساتھ ریپ کر کر اسکو قتل کر دیا گیا اب تک اسکا مجرم گرفتار نہیں ہو پایا. ہمارے نا اہل حکمران کچھ ہوش کے ناخن لے اور قانون پر عمل پیرا ہو کر اس جنسی استحصال کا خاتمہ کیا جائے جب تک ایک ریاست ہر فرد کی ذمہ داری نہیں لے لیتی تب تک عورت گھر میں ہو یا گھر سے باہر اسطرح بے حرمتی کا شکار ہوتی رہے گی ذرا سوچیے کہ جنسی جرائم عورتوں اور بچوں تک ہی محدود کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ عورتوں اور بچوں کو کمزور سمجھتا ہے اور وہ یونہی آسان ہدف بن جاتے ہی. اور اسی طرح جنسی جرائم کو فروغ ملتا رہے گا. ایک اچھے معاشرے کے خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہے
    ایک رپوٹ کے مطابق یومیہ 12 بچے ریپ کا شکار ہوتے ہیں .کیا ہمارا ملکِ پاکستان جسکو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے اس میں مسلمانوں کی توہین ہوتی رہی گی
    قانون ہوتے ہوئے بھی اسکا استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا. ؟کیا ہم ایک اسلامی ریاست میں رہ رہیں ہیں ؟کیا اِسکو اسلامی ریاست کا نام دیں گے ؟ جس میں عورت کی عزت کو پامال کر دیا جاتا ہے جسکو اسلام نے اتنی عزت سے نوازا اسکی چند لمحوں میں بے حرمتی کر دی جاتی ہے بلکہ اسکو اسلامی ریاست کہنا ایک شرمندگی کا باعث ہے
    اس ملک کو اسلامی ریاست میں ہی ڈھالا جائے جس کی بنیادیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہیں۔

    @Zeeshan_9263

  • خواہش تحریر: آفاق حسین خان

    خواہش تحریر: آفاق حسین خان

    زندگی سب کو موقع دیتی ہے کسی کو جوانی میں تو کسی کو جوانی گزرنے کے بعد لیکن موقع ضرور ملتا ہے- پربہت کم لوگ صحیح وقت پرموقع کا فائدہ اٹھا پاتے ہیں- دنیا میں ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی خواہش ہوتی ہے- ہر انسان اسی سوچ و بچار میں لگا رہتا ہے کہ آنے والے کل کو بہتر بنائے اور مستقبل میں اچھی زندگی گزارے- پر بہت کم لوگ ہی اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنا پاتے ہیں- آگے ہر کوئی بڑھنا چاہتا ہے پر محنت کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا محض سوچنے سے خواہش پوری نہیں ہوتی- خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عمر لگانی پڑتی ہے وقت دینا پڑتا ہے انتھک محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے وقت کی شاخ کو ہلانا پڑتا ہے- دنیا ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں آج کے کامیاب لوگ اپنے ماضی میں گزرے برے حالات برے وقت اور برے دنوں سے سبق حاصل کرکے آج اس مقام اور منزل تک پہنچے اور کامیاب ترین لوگوں میں شمار ہوئے اور دنیا کے لیے عظیم مثال قائم کی- پہاڑ چاہے کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو بالآخرعبور ہو ہی جاتا ہے- ہمیشہ مشکلات کے بعد ہی آسانی آتی ہے اور کانٹے دار راستوں سے گزرنے کے بعد ہی انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے اگر ارادے پختہ ہوں محنت اور لگن کے ساتھ اس دنیا میں ہر چیز ممکن ہے دنیا میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو انسان حاصل نہ کر سکے بشرطیکہ اس چیز کو حاصل کرنے کی جستجو انسان میں ہونی چاہیے اور جستجو اتنی گہری ہو کہ وہ ایک جنون اور جذبے کی شکل اختیار کرجائے- ہرانسان میں کسی نہ کسی خواہش کا جذبہ ضرور ہوتا ہے اور یہ جنوں ہی ہوتا ہے جو انسان کو کامیابی کی مانند لے کر جاتا ہے- اس دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جن میں کامیابی کی محض خواہش تو پائی جاتی ہے لیکن ان میں جنون کا عنصر قاصر ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری زندگی بھی خواہشات کے سہارے ہی گزار دیتے ہیں- یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر خواہش کے لئے انسان میں جنون ہوتا ہے اور کیا ہر خواہش اور کامیابی کے لئے انسان جنون کی حد تک جا سکتا ہے تو میرے نزدیک اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں- کیونکہ انسان میں ہزاروں چھوٹی اور بڑی خواہشات پائی جاتی ہیں اور ان ہزاروں یا سیکڑوں خواہشات کو جنون اور جذبے کے ساتھ پورا کرنا ناممکن سی بات ہے- انسان کی زندگی اور عمر کے ساتھ ساتھ انسان کی خواہشات بھی بدلتی رہتی ہیں- جو خواہش انسان بچپن میں کرتا ہے وہ جوانی میں ختم ہوجاتی ہیں اور جوانی میں کچھ نئی خواہشات جنم لیتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ خواہشات بھی ختم ہوجاتی ہیں اور پھر آتا ہے زندگی کا آخری اسٹیشن جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہرجاتی ہے اور وہ ہے بڑھاپا- اور اس بڑھاپے میں بچپن اور جوانی کی کوئی بھی خواہش باقی نہیں رہتی اور چند نئی خواہشات جنم لیتی ہیں جو صرف بڑھاپے کی حد تک محدود رہتی ہیں لیکن انسانی زندگی میں کوئی ایک خواہش ایسی ہوتی ہے جو کبھی اپنا راستہ نہیں بدلتی اور نہ ہی انسان کا پیچھا چھوڑتی یہاں تک کہ پوری زندگی انسان کے ساتھ ساتھ چلتی ہے بچپن سے بڑھاپے تک اور اگر یوں کہا جائے کہ وہ خواہش انسان میں جنون کی حد تک پائی جاتی ہے تو غالبا غلط نہ ہوگا- اور یہی وہ خواہش ہوتی ہے جو وقت کی شاخ کو ہلا دیتی ہے اور بالآخر انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں کامیابی کی اس سیڑھی پر قدم رکھ ہی لیتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا تھا- اور اس منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے جس کے لیے اس نے پوری زندگی کوشش کی-

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • آزادی کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟  تحریر: احسن ننکانوی

    آزادی کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: احسن ننکانوی

    ‏1947 میں، سعادت حسن منٹو، جب اَپنے بیوی بچوں سمیت بحری جہاز سے بمبئی سے کراچی پہنچا تو نجانے کیوں اُس کا دِل چاہا کہ وہ جلد سے جلد لاہور پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں جب اُس نے ریلوے ٹکٹ لینے چاہے تو پتہ چلا کہ رش کی وجہ سے بُکنگ کئی کئی دن بعد کی مِل رہی ہے۔
    منٹو لکھتا ہے کہ اُس ‏نے بُکنگ کلرک کو رشوت دینے کی کوشش کی تو اُس نے منٹو سے کہا: ” بھائی صاحب! اَب پاکستان بَن گیا ہے، اَب یہاں یہ کام نہیں چلے گا”۔
    آئے، آج ہم اَپنی تاریخ میں 74 سال پیچھے جائیں اور اَپنی آزادی کا سفر،کراچی کے اُس ریلوے بُکنگ کلرک سے دوبارہ آغاز کریں۔ آج ہمارے ملک میں بددیانتی ظلم و جبر ناانصافی کرپشن ہر طرح کے کام ہورہے ہیں۔
    حالانکہ ہمیں چاہیے تھا کہ اس وقت تک ہم ایک مضبوط قوم بن چکے ہوتے لیکن بدقسمتی سے آج تک ہم آگے جانے کی بجائے بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔
    کوئی ایک ادارہ نہیں جہاں کرپشن بددیانتی ناانصافی نہ ہو رہی ہو ہر جگہ لوٹ مار کا بازار گرم ہے کیا ہمارے بڑوں نے اس وجہ سے قربانیاں دی تھیں۔
    کیا ہمارے اسلاف کے قافلے روک کر ان کو بے دردی سے مارا گیا اور بچ بچا کر پاکستان پہنچیں میں کامیاب ہوگئے ۔
    اور وہ لٹے پٹے یہاں پہنچیں لیکن انہوں نے پاکستان میں داخل ہوتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔
    1857 میں علماء کرام نے قربانیاں دیں دہلی میں کوئی ایک درخت نہ تھا ۔ جہاں پر کسی مسلمان کی لاش نہیں لٹک رہی تھی ۔
    کیا تحریک آزادی اسی لئے چلائی گئی تھی کی اس ملک کو کنگال کر کے رکھ دیا جائے ۔
    آپ نے پچھلے دنوں ایک خط کا ذکر تو سنا ہو گا ۔
    جو ایک عورت نے وزیر اعلی سندھ کو لکھا ہے ۔
    کہ میرے پاس میرے شوہر کے علاج کروانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔
    وہ عورت کوئی اور نہیں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی بہو ہے ۔
    اور ان کا بیٹا اس وقت بیماری میں مبتلا ہے ۔
    ہاں وہی نواب لیاقت علی خان جو انڈیا میں ضلع کرنال کا بہت بڑا جاگیر دار تھا ۔
    کئی ریلوے اسٹیشن ان کی زمین میں تھے ۔
    آکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجویٹ لیکن جب پاکستان آزاد ہوا تو وہ بنا کچھ لئے پاکستان آ گئے۔ اور یہاں آکر بھی ایک انچ زمین کا کلیم نہ کیا وگرنہ وہ پاکستان کے بہت بڑے جاگیر دار ہوتے ۔
    ہر شہر میں ان کا محل ہوتا ۔
    جب ان کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تو ان کی شیروانی اتاری تو نیچے سے اک پھٹی ہوئی بنیان نکلی قمیض تو پہنی ہی نہیں ہوئی تھی۔ ان کے پاس اپنا ذاتی گھر بھی نہیں تھا ۔
    ان کی بیوی ایک انگریز افسر کی بیٹی تھیں۔
    مسلمان ہونے کے بعد بیگم رعنا لیاقت علی خان کہلوائیں۔ وہ سندھ کی گورنر بھی رہیں اور بہت سارے یورپین ملکوں میں پاکستان کی سفیر بھی رہیں۔
    ہالینڈ میں جب وہ سفیر تھیں تو وہاں کی ملکہ کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی اور ایک دن شطرنج کھیلتے ہوئے ان کی شرط لگ گئی اور جب بیگم رعنا لیاقت علی خان جیت گئیں۔ تو انہوں نے ایک محل تحفے میں دے دیا ۔
    حالانکہ وہ بیگم کا اپنا جیتا ہو محل تھا لیکن انہوں نے اس محل کو پاکستان کا سفارتخانہ بنا دیا ۔
    آج بھی ہالینڈ میں وہی محل پاکستان کا سفارتخانہ ہے ۔ حالانکہ اگر وہ چاہتی تو اپنے پاس بھی رکھ سکتی تھیں۔آج ان کی اولاد گورنمنٹ سے مدد مانگ رہی ہے ۔
    اور یہاں پر اگر سیلاب زدگان کیلئے امداد میں کوئی ہار یا کچھ اور چیز مل جائے تو وہ اپنا ذاتی تحفہ سمجھ کر رکھ لی جاتی ہے۔
    آج ان کی اولاد گورنمنٹ سے مدد مانگ رہی ہے ۔
    اور دوسری طرف ایون فیلڈ اور کروڑوں کی جائیداد اور یہ بھی سب لوگ جانتے ہیں۔
    کہ یہ لٹیرے خاندان جب ہجرت کر کے آئے تھے ان کے پاس کتنی جائیداد تھی ۔
    ملک کو بنانے والوں کی اولادیں آج بہت ہی کمزور حالت میں ہیں۔
    اور ملک کو کھانے والوں کی اولادوں کے پاس کروڑوں کی پروپرٹیز وہ بھی دوسرے ملکوں میں اگر پوچھا جائے کہ یہ رقم کہاں سے آئی تو وہ کہتے ہیں ہمیں کیوں نکالا؟
    ابھی تو صرف جناب نواب لیاقت علی خان صاحب کے خاندان کا یہ حال ہے اگر دیکھا جائے تو جتنے بھی تحریک آزادی میں شامل تھے سبھی کا ایسا ہی ملتا جلتا حال ہے ۔
    اور جنہوں نے اس ملک کو لوٹا ان کا بھی حال سب کو معلوم ہے ۔
    ہمیں مل کر اس ملک کو اس حالت سے نکالنا ہو گا اور اس ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا ہو گا ۔
    اللہ تعالٰی سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
    75 آزادی مبارک۔

  • پروردگار کا دیدار  اور جنت میں داخلہ تحریر:محمد آصف شفیق

    پروردگار کا دیدار اور جنت میں داخلہ تحریر:محمد آصف شفیق

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جس وقت بادل نہ ہوں کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کرو گے اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہو جائے گا اور اس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورتوں میں ان کے سامنے آئے گا کہ جن صورتوں میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے، پھر وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بے شک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم (اے اللہ سلامتی رکھ) ہوگی اور جہنم میں سعدان خاردار جھاڑی کی طرح اس میں کانٹے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے نیک اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پا جائیں گے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو پہچان لیں گے اور ایسوں کو بھی پہچان لیں گے کہ ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایاجائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تر وتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہوگا تو ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ جنت والوں میں سے آخری ہوگا جو جنت میں داخل ہوگا وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا وہ کہے گا کہ اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا پھر پرو ردگار اس سے اس کے وعدہ کی پختگی پر اپنی منشا کے مطابق عہد و پیمان لیں گے پھر اللہ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے اور جنت کی طرف کر دیں گے اور جب وہ جنت کو اپنے سامنے دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ پھر عرض کرے گا اے پروردگار۔ وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم، اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں نفیس اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد وپیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا افسوس ابن آدم تو کتنا دھو کے باز ہے وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں ہی تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بد بخت، وہ اسی طرح اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آجائے گی تو فرمائیں گے جنت میں داخل ہو جا اور جب اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیں گے تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ اپنی تمنائیں اور آرزوئیں ظاہر کر پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمائیں گے اور یاد دلائیں گے فلاں چیز مانگ فلاں چیز مانگ جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ یہ نعمتیں بھی لے لو اور ان جیسی اور نعمتیں بھی لے لو۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا صرف اس بات میں اختلاف ہوا کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰعنہ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے یہ چیزیں دیں اور اس جیسی اور بھی دیں تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دس گنا زائد دیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یہی یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سب چیزیں دیں اور اس جیسی اور دیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم نے یہ سب دیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ دیں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ وہ آدمی ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 451 حدیث قدسی
    دعا ہے کہ رب کعبہ ہمیں اپنا دیدار نصیب فرمائیں اور اپنی رحمت سے جنت الفردوس عطافرمائیں

    @mmasief

  • "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں عورت راز نہیں رکھ سکتی بلکہ اس پر لطیفے بنے ہوئے ہیں کہ کوئی بات پورے محلے میں پھیلانی ہوتو کسی عورت کو وہ بات بتا دو آپ کو اعلان کروانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور بعض اوقات ہم خود بھی ان لطیفوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ عورت "سربستہ” راز ہوتی ہے اگر ماں ہے تو اپنے بچوں کے عیب لوگوں سے ایسے چھپا کر رکھتی ہے جیسے اس کے اپنے عیب ہوں کہ لوگ یہ عیب جاننے کے بعد آپکو عجیب نظروں سے دیکھیں گے اپنے بچوں کی کامیابیاں خوشیاں ہر بندے سے شئیر کرے گی لیکن کبھی اپنی اولاد کا

    "ویک پوائنٹ "کسی کو نہیں پتہ چلنے دے گی حتی کہ اگر بچہ کسی بات پر نافرمانی بھی کرے گا تو بھی اس کو اپنے اور بچے کے درمیان رکھے گی ۔۔اور اسی طرح ایک بہین اپنے بھائی کا کوئی راز کبھی مرکر بھی کسی اور کو نہیں بتایے گی چاہے کوئی اس کی کتنی قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو ۔۔بھائی اپنی بہنوں سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کرکے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں انھیں اپنی بہین پر یقین ہوتا ہے یہ راز بہین اپنے تک محدود رکھے گی ۔۔۔!!!

    ایسی طرح بیوی اپنے شوہر کے ہر راز کی آمین ہوتی ہے اس کے دکھ تکلیف کی ساتھی اگر وہ مالی طور پر کمزور بھی ہے تو بیوی اپنے شوہر کا تماشا غیر لوگوں میں تو کیا بلکہ اپنے سگے رشتہ داروں میں بھی نہیں لگائے گی بلکہ بعض اوقات تو اس کی بےوفائی تک جیسے جرم کو بھی اکیلے اذیت کا گھونٹ پی جائے گی لیکن کسی کو اس راز کی ہوا بھی نہیں لگنے دے گی ۔۔۔!!!
    یہ تو بات تھی ایک وفاشعار مشرقی عورت کی۔۔!!

    نہ سب عورتیں مکمل ہوتی ہیں نہ سب مرد مکمل ۔۔بےعیب صرف اللہ سبحان تعالی کی پاک ذات ہے ہر انسان خطا کا پتلا ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت ۔۔میرا کبھی دل نہیں چاہتا کہ میں بنا وجہ کے مردوں پر یا صرف عورتوں پر تنقید کروں ۔دونوں اپنی جگہ ٹھیک ہوتے ہیں بس ماحول کا فرق ہوتا ہے جس وجہ سے ہر انسان کے رویے میں فرق ہوتا ہے کچھ حالات انسان کو اتنا مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اچھا کرنے کی کوشش میں بھی بعض اوقات وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جو ان کا حق ہوتی ہے ان میں ذیادہ تر وہ طبقہ پیسا ہوتا ہے جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے مالی حالت ۔ ڈیپریشن میں مسلسل اضافے کا باعث بنتے ہیں جس وجہ سے وہ چاہ کر بھی خوش اخلاقی جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہےمسلسل خراب حالات اور ناکامیوں کی وجہ سے چڑچڑاپن اس کی طبعیت میں شامل ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کی صاحب حثیت لوگوں کی طرف سے تھوڑی سی حوصلہ افزائی ان کی ویران مایوس ۔اندھیر ذندگی میں روشنی کی کرن ثابت ہوسکتی ہے مشکل وقت کسی پر ۔کسی وقت بھی آسکتا ہے حالات کا پہیہ چکر میں ۔کون جانے اگلا شکار کون ۔۔۔!!!

    میری ذندگی میں اتنے عظیم رشتے ہیں کہ ان کے تقدس کا سوچتی ہوں تو فخر محسوس ہوتا ہے شائد اس معاملے میں اللہ نے مجھے بےحد بے حساب نوازا ہے میرے عزیز الجان دو ماموں جی میرے آئیڈیل میرے چچا جی بہت معتبر انسان ان کا ایک معاشرے میں ایک مقام ۔میرے بھائی جان ایک آئیڈیل انسان بہت بہت عزت دار ۔کہ عام انسان بھی ان کو دیکھے تو احترام سے کھڑا ہوجائے اللہ سب کو ایسے پیارے رشتوں سے نوازے آمین ۔

    تو بات کررہی تھی کہ راز نہ رکھنے والی بات ہنسی مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے توعام طور پر یہ انسانی کمزوری ہے چاہے عورت ہو یا مرد کسی بات کا پتہ چلنے کی دیر ہے جب تک سب جاننے والوں کو وہ بات بتا نہ دی جائے تب تک سکون والی بات نہیں ۔۔بشری کمزوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ ہر غلط کام کسی ایک جنس پر لاگو کردیا جائے اور خود برالذمہ ہوجائیں ہمیں سوچنا ہوگا ہماری وجہ سے کوئی بےسکون نہ ہو اگر کسی کو خوشی نہیں دے سکتے اس کے دکھ کی وجہ بھی نہ بنیں ۔اگر انجانے میں کسی کو ہرٹ کر بھی دیا ہوتو خلوص نیت سے ہلکی سی معذرت اگلے کے دل سے بوجھ اتار دے گی اور آپکو پرسکون کردے گی کیونکہ ایک مومن انسان کا دل کبھی اس بات پہ خوشی یا سکون محسوس کر ہی نہیں سکتا کہ اس کی وجہ سے کوئی دکھی ہوا یاہرٹ ہوا یا کسی کا سکون ختم ہوا ہو یا کسی کی نیندیں ڈسٹرب ہوئیں ہوں ۔۔۔!! کوشش کریں اپنی ذندگی کی غلطیاں دنیا میں ہی سدھار لیں آگے حساب بہت سخت ہے دنیا میں ہی اپنے معملات نمٹا کر جائیں کہ کل کو اپنی نیکیاں دے کر حساب نہ چکانا پڑے ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے حقوق معاف کرسکتا ہوں حقوق العباد معاف نہیں کروں گا تو اس کے بندوں سے پیار کریں اپنے سے وابستہ رشتوں کا احترام کریں اپنی طرف سے ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھیں ۔جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہ کرے ان سے بھی حسن اتفاق سے بات کرنا آپ کی اعلی ظرفی اور اچھی ماں کی تربیت کی نشانی ہے
    کہتے ہیں
    ‏انسان کے پورے جسم
    میں صرف ایک دل ہی ہوتا ہے
    جو پیدائش سے لے کر موت تک
    بِنا ریسٹ کیے کام کیے جاتا رہتا ہے
    اسے ہمیشہ خوش رکھیں
    چاہے یہ آپ کا اپنا ہو
    یا پھر اپکے پیاروں کا ۔۔
    ۔ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں کہ ان کا بھی وہی اللہ ہے جو اپ کا ہے آپ میں ایسا کیا تھا جو اللہ نے آپکو اتنا بےحد بے حساب نوازا اور آپکو لوگ رشک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں آپ جیسی ذندگی آپ جیسا لائف سٹائل میں جینا چاہتے ہیں شائد آپ کے ساتھ کسی کی دعائیں ہیں جو اللہ آپکو نوازتا ہی جارہا ہے تو اس میں بھی اللہ کا بہت گہرا راز پوشیدہ ہے ہر سانس کے ساتھ اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپکے تمام عیب جاننے کے باوجود آپکو بےحد بے حساب عزت دولت سے نوازا ہوا ہے۔وہ اگر ہمیں ایک جھونپڑی میں پیدا کردیتا تو ہم خدانخواستہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے وہ واحد لا شریک ہے وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور نہ دے کر بھی پھر غرور کس بات کا۔۔شیطان تو چاہتا ہی یہی ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے جیسے اس نے کی ۔۔اور قیامت تک اپنے لیے لعنتیں خرید لیں رہتی دنیا تک اس پر لعنتوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔۔ہر اس انسان پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے جو اپنی دولت شہرت پر غرور سے اکڑ کر چلتا ہے خود کو افلاطون قسم کی کوئی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے جس کے دل میں اللہ سبحان تعالی کا ذرا سا بھی خوف ہوگا وہ اپنی عزت دولت شہرت پر کبھی غرور نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہے گا اسے پتہ ہوگا کہ اللہ کو عاجزی پسند ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کرنے کی کوشش کریں اللہ عاجز بندے کو بےحد بے حساب نوازتا ہے جلدی یا بدیر ۔۔ !!