Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کا مطلب کیا… تحریر… ڈاکٹر ذکاءاللہ

    پاکستان کا مطلب کیا… تحریر… ڈاکٹر ذکاءاللہ

    ‏1947ء سعادت حسن منٹو جب اپنی فیملی کے ساتھ بمبئی سے کراچی پہنچا۔
    تو لاہور کیلیے ریلوے ٹکٹ بُکنگ رش کی وجہ سے کئی کئی دنوں بعد کی ہو رہی تھی! منٹو نے کلرک کو رشوت دینا چاہی! تو اُس نے منٹو سے کہا
    "بھائی صاحب! پاکستان بَن گیا ہے اَب یہاں یہ کام نہیں چلے گا”
    آئیں آج ہم اَپنی تاریخ‏ میں 74 سال پیچھے جائیں اور اَپنی آزادی کے سفر کا آغاز کراچی کے اُس ریلوے بُکنگ کلرک سے کریں

    ہمیں سکول میں اکثر باور کرایا جاتا تھا کہ پاکستان کلمے کے نام پر معرض وجود میں آیا ھے
    پاکستان بنانے کیلیے بہت سی تحریکیں بناییں گییں ان تحریکوں کو بہت سخت مسایل کا سامنا بھی کرنا پڑا
    شروعات میں مسلمانوں کیلیے ایک علیحدہ ریاست برصغیر میں بنانے کی تحریک شروع ھویی جس میں اکثر مسلمان اس تحریک میں بڑھ چڑھ شریک ھوے تمام مکتب فکر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ ریاست بنانے کیلیے اپنے اپنے لحاظ سے جتنا ممکن ھو سکا اس تحریک میں حصہ لیا جو مسلمان جو کچھ مالی کے طور پر دے سکتے تھے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی اور اس تحریک کو کامیاب کرایا
    اس تحریک نے چند ھی سالوں میں پوری دنیا میں اور بالخصوص انگریز حکومت جو اس وقت برصغیر پر برسراقتدار تھی کو اپنی کامیابی سے ان کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی
    قایداعظم محمد علی جناح باباے قوم جس نے اپنے تمام موجود لیڈروں کو جو اس وقت ایک علیحدہ اسلامی ملک کیلیے اس تحریک میں شامل تھے ان سے صلاح مشورے کے بعد اپنی سیاسی جماعت جو تمام مسلمانوں کیلیے برصغیر میں وجود میں آیی اس سیاسی پارٹی کا نام مسلم لیگ رکھا گیا
    مسلمانوں کی تمام قیادت جو اس وقت انگریزوں کی گرفت میں تھی جن کے اوپر انگریز کا قانون چلتا تھا اب ایک نیی ریاست کیلیے اٹھ کھڑے ھوے ھماری مسلمان خواتین بھی اپنے مردوں سے پیچھے نہیں تھیں مادر ملت فاطمہ جناح کی سربراھی میں تمام سرکردہ خواتین نے اپنی طرف سے اس ریاست کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا ان خواتین قیادت نے گھر گھر جاکر نیی اسلامی ریاست کیلیے تمام مسلمان خواتین کو دعوت دی اور اس تحریک کا حصہ بنوایا
    ھمارے نوجوانوں نے سکول کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی اس تحریک کیلیے سیمینار شروع کردییے جس سے عام مسلمان نوجونوں میں بھی اس تحریک کیلیے شعور بیدار ھوا
    دور دراز کے مسلمانوں تک پہنچنے کیلیے اور اس ریاست میں شامل ھونے کیلیے گروپ بناے گیے جو مسلم لیگ کی قیادت کا پیغام ان مسلمانوں تک پہنچاتے تھے
    تقریبا دس سال کے کم ترین عرصے میں مسلم لیگ برصغیر میں ایک بہت بڑی سیاسی پارٹی بن گیی جس کی واحد خواہش مسلمانوں کیلیے ایک علیحدہ ریاست تھی
    ہر سال بعد اس تحریک میں تعداد بڑھتی گیی اور مسلمان جوق در جوق مسلم لیگ کے ہر کنونشن اور جلسوں میں شامل ھونے لگے
    جس سے مسلم لیگ کی پوزیشن دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ھوتی گیی
    اس پارٹی کا واحد مقصد ایک علیحدہ ریاست تھی الیکشن میں کامیابی کے باوجود اس تحریک نے ایک اسلامی ریاست کی تگ ودو شروع رکھی
    اس اسلامی ریاست کیلیے جب اجلاس ھوا تو اس پیارے ملک کا نام پاکستان تجویز کیا گیا
    اس ملک کیلیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سے بنیاد رکھی لاکھوں عورتوں کی بےحرمتی کی گیی لاکھوں سے زیادتی کی گییں ہزاروں عورتوں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر گہرے کنووں میں کود کر اپنی جان گنوا دی لاکھوں بچے قتل ھوے
    مسلمان جو باڈر کے اس پار یعنی موجودہ بھارت میں رہتے تھے اپنے تمام اثآثے جاییدادیں اس ملک کیلیے وھاں چھوڑ دیں
    اور
    خوشی خوشی اس ملک کیلیے سفر شروع کیا تو ان پر رستے میں ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے
    ان کو چلتی ٹرین پر قتل کیا گیا ان کو لوٹا گیا
    لیکن
    آفرین ان غیرت مند مسلمانوں پر جنہوں نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا
    آج
    ھم جس پاکستان میں سکون سے زندگی بسر کررھے ہیں وہ صرف اور صرف ان مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ممکن ھوا ھے
    آج حالت یہ ھے کہ ھمارے ملک کا انصاف کا نظام تقریبا ختم ھوچکا ھے دنیا میں انصاف کے لحاظ سے پاکستان125ویں نمبر پر ھے
    ایک اسلامی ملک جو کلمے طیب کے نام پر معرض وجود میں آیا جس کی بنیاد کیلیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سےرکھی اب وھاں انصاف نام کی کویی چیز نہیں ھے
    رشوت کے بغیر آپ کسی ادارے میں اپنا جایز کام بھی حل نہیں کرا سکتے
    کیا اس لیے یہ ریاست معرض وجود میں آیی.
    …نہیں..
    اس ریاست میں وھی قانون لاگو تھے جو ریاست مدینہ میں بھی لاگو تھے
    اقلیت اور اکثریت سب کیلیے ایک قانون تھا
    اللہ پاک اپنے محبوب مُحَمَّد ﷺ کے صدقے ان مسلمان مرد و عورت کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرماے جنہوں نے اس ملک کیلیے اپنے جان ومال کا نقصان اٹھایا.. آمین

    لیکن پھر غدار وطن اور کرپٹ ٹولوں نے اس پاک دھرتی کو نوچ ڈالا اللہ پاک انہیں برباد کرے جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا اور لوٹا ھے..
    اللہ پاک اس پیارے ملک کو ہمیشہ قایم و دایم رکھے آمین
    اور
    اس ملک کے دشمن نیست و نابود ھو جاییں

  • یومِ آزادی اور ہم تحریر عبید الله

    یومِ آزادی اور ہم تحریر عبید الله

    آج آنکھ کھلی تو گلی میں عجب شور شرابہ اور قہقہوں کی آواز سنائی دی پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج یومِ آزادی منایا جا رہا ہے یہ سن کر میں سکتے میں آگیا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے کہ ہمیں اپنا آزادی کا دن یاد نہیں جو کہ ہمیں پتہ نہیں کتنی قربانیوں سے نصیب ہوا۔ ابھی میں انہیں سوچوں میں گُم تھا کہ وقت نے میرا ہاتھ پکڑا اور 14 اگست 1947 کے دن لا کھڑا کیا تو یہاں ایک الگ دنیا دیکھنے کو ملی ایک طرف دیکھا تو عورتیں شکرانے کے نوافل ادا کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف بزرگوں کو فکر مند دیکھا کہ جیسے وہ کسی طوفان کی آمد اور نقصان سے پیشگی با خبر ہیں۔ ابھی میں انہیں فکر مند دیکھ رہا تھا کہ اچانک رات کی تاریکی کو ایک پر سوز نسوانی آواز نے چیرا اور اس کے ساتھ ہی کچھ نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے تو کچھ نہتے گلی کو بھاگے، کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے بری خبر سنائی کہ چاچے نورے کی بیٹی کو کافروں نے عصمت دری کے بعد قتل کر دیا ہے۔ یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور بزرگوں کی خاموشی موت کی خاموشی میں بدل گئی۔ گو کہ یہ مظالم مسلمانوں کے لیے نئے نہ تھے اور دنگے فساد بھی کافی دن سے شروع تھے لیکن آج آزادی کے اعلان کے بعد ان میں شدت آگئی تھی۔ کافر بھوکے کتوں کی طرح مسلمانوں کو ڈھونڈ کر چیتھڑے کرنے میں مصروف تھے اور ابھی تک یہ واحد مسلم اکثریتی علاقہ محفوظ تھا کیونکہ یہ شہر سے بہت دور ویرانے میں آباد تھا لیکن بد قسمتی سے اس کی بھنک بھی کافروں کو لگ چکی تھی۔ اب کیا تھا کہ نوجوان گلیوں میں پہرہ دینے میں مصروف تھے جدھر سے کوئی آہٹ سنائی دیتی اسی سمت بھاگ پڑتے۔ اس سانحہ کے بعد بزرگوں کی خاموشی سرگوشیوں میں تبدیل ہو گئی، بچوں کی شرارتیں معصومیت میں تبدیل ہو گئیں اور وہ ماؤں کی گودیوں میں سہم کر بیٹھ گئے۔
    دوسری طرف پورا گاؤں ایک دوسرے کو یوں دیکھ رہا تھا کہ جیسے کہ صبح کی روشنی میں ایک دوسرے کو دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگائے رورہی ہیں تو باپ بیٹوں کا ماتھا چوم کر بہنوں کی عصمتوں کی حفاظت کی قسم لے رہے تھے کہ کچھ کمزور اور با عزت افراد نے صرف اس وجہ سے اپنی بیٹیوں کو ذبح کر دیا یا اندھے کنوئیں میں دھکا دے دیا کہ ان کی بیٹیاں درندگی کا شکار ہو کر بغیر کفن کے دفن نہ ہوں اور کچھ بہادر بیٹیوں نے آگے بڑھ کر موت کو خود گلے لگا لیا صرف اس وجہ سے کہ وہ پاکستان کی جانب ہجرت کے دوران کسی رکاوٹ کا باعث نہ بنیں اور درندگی کا نشانہ بننے کی بجائے عزت کی موت کو ترجیح دی۔ اسی دوران گاؤں کے ایک تاجر کی چیخ سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا کیونکہ اس کی اکلوتی بیٹی نے کنویں میں چھلانگ لگا کر جان دے دی۔اسکے بعد رات کی تاریکی میں پورے گاؤں نے اپنے گھر، مال اور پیاروں کی نعشوں کو بھیگی آنکھوں سے خیر آباد کہا اور اپنے سفر کا آغاز کیا۔ رات کی تاریکی میں ان بے گھر مسافروں پر کہیں سے کوئی مشتعل افراد کی ٹولی حملہ آور ہوتی اور کئی کو زخمی اور شہید کر کے چلے جاتے۔ قافلے میں شامل عورتوں اور لڑکیوں کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیتے، دودھ پیتے بچوں کو برچھیوں پر تسبیح کے دانوں کی طرح پرو دیتے۔ ان سب سے بچنے کے لیے وہ لوگ دبے پاؤں چلتے اور بچوں کو سلائے رکھنے کی کوشش میں مصروف رہے تاکہ وہ کافر وں سے اپنی جان محفوظ رکھ پائیں۔ صبح کے سورج نے کیا دیکھا کہ وہ سینکڑوں افراد کا قافلہ صرف چند نفوس کا بچ گیا اورادھر ان کے گاؤں میں ان کے عزیزوں کی نعشیں بغیر کفن کے سورج کی کرنوں کو لپیٹے ہوئے کافروں کومنہ چڑھا رہی تھیں اور بتا رہی تھیں کہ ان کے ناپاک عزائم مسلمانوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ ساری رات کا بھوکا پیاسا، تھکا ماندہ چند افراد پر مشتمل یہ قافلہ آخر کار ایک بڑے قافلے کا حصہ بننے میں کامیاب ہو گیا جوکہ کافی علاقوں کے افراد پر مشتمل نوجوانوں کے حصار میں تھا لیکن ان کے حالات بھی مختلف نہ تھے بلکہ یہ بھی لٹاپٹا قافلہ اپنے بہت سارے پیاروں کی نعشوں کو سورج کی بے رحم قرنوں کے حوالے کر آئے تھے۔بلآخرکئ دن کی مشکلات اورمسافت کے بعد جب یہ قافلہ اپنی منزل پر پہنچا تو امدادی کیمپوں میں مقیم افراد نے اپنا غم بھول کر ان کو گلے لگایا تو ایسا منظر آسمان نے دیکھا کہ سورج نے مارے شرم کے منہ چھپا لیا اور بادلوں نے اس بات پر آنسو بہائے کہ کیونکر انسان اپنا غم بھلائے دوسروں کو سہارا دے رہاہے۔ اپنا بیٹا کھوکر دوسرے کے بیٹے کو گلے لگا رہا ہے، اپنا خاندان اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتا دیکھ کر بھی دوسرے خاندان کی خدمت میں لگا ہے شاید اس دن آسمان کو بھی سمجھ آیا ہو گا کہ انسان کو اشرف المخلوقات کیوں بولا گیا۔
    میں ان سب حالات کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک مجھے میرے بھائی نے آں جھنجھوڑا اور واپس آج کے دن میں لے آیا۔ اس نے آزادی کے دن کی مبارکباد دی اور رونے کی وجہ پوچھی، نہ جانے کب سے میری آنکھوں سے غیر محسوس طور پر آنسو نکل رہے تھےاور میں بےخبر اپنی سوچوں میں گم تھا، میں نے اپنے بھائی کے سوال پر آنسو صاف کرتے ہوئے محض مسکرا کر سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ آخر اسے جواب دیتا بھی تو کیا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کس قدر قربانیوں سے آزادی حاصل کی اور ہمارے لیے یہ محض ایک چھٹی کا دن بن کر رہ گیا ہے۔جس دن بچے گھر وں کو جھنڈیوں سے سجاتے ہیں اور نوجوان اپنی بائیک کا سلنسر نکال کر گلیوں میں گھماتے اور تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اگلے دن جھنڈیوں کی گلیوں میں بے حرمتی ہوتی ہےاور نوجوان یا تو اپنی تیز رفتار ی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر کسی سرکاری ہسپتال کے بستر پر ہاتھ پاؤں تُڑواکر زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہوتے ہیں اور ہمارا ملک آج بھی ترقی کی راہ پر کھڑا ہمارا منتظر ہے۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن تب ہی ہوسکتا ہے جس وقت کہ ہم اس ملک اور آزادی کی اہمیت سمجھ کر اسکےلیے دل و جاں سے محنت کریں گے اور شاید شہداء کی قربانیوں کا تھوڑا سا قرض ادا کر سکیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں آزادی جیسی نعمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
    ا

    @ObaidVirk_717

  • خونی لبرلز بے لگام  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خونی لبرلز بے لگام تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مبشر لقمان اور عمران ریاض خان نے نہ جانے ایسی کونسی خطا کر دی کہ خونی لبرلز کی دُم پر پاؤں آگیا کہ وہ ان دونوں پر چڑھ دوڑے اور ان پر طرح طرح کے زاتی حملے شروع کر دئیے۔
    مگر پاکستان میں پاکستانیت اور اسلامی روایات کے علمبرداروں نے ان خونی لبرلز کی بینڈ بجا دی
    خونی لبرلز بے لگام والا ٹویٹرٹرینڈ مسلسل کئی گھنٹے بیک وقت تین ملکوں پاکستان،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے دیگر کئی ادارے تو نظر نہیں آتے جو روزانہ بے تحاشہ جانور اور مرغیاں مارتے ہیں،مگر عید قرباں پر جب مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوۓ جانوروں کی قربانی کرنے لگتے ہیں تو انہیں جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں آوارہ کتوں سے ہونے والی معصوم انسانی ہلاکتیں تو نظرنہیں آتیں،مگر جب ان کتوں کو تلف کرنے کی بات آتی ہے تو،انہیں کتوں کے حقوق ضروریاد آجاتے ہیں۔
    بے شرمی کی انتہا ہے کہ اسلام اور مشرقی روایات کو ہر وقت نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزادئ راۓ کا اس سے زیادہ ناجائز استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔
    یہی لوگ ہیں جو بیرونی فنڈنگ سے ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
    حکومت جب انہیں لگام ڈالنے کی بات کرتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے جس انداز سے نور مقدم کیس اُٹھایا،
    اسکی مثال نہیں ملتی۔اس پر وہ دونوں لائق داد ہیں۔
    مبشر لقمان نے نور مقدم کے قاتل درندے کو جس طرح بے نقاب کیا،
    اس سے اس درندے اور اسکے حواریوں کی چیخیں آسمان تک سنی گئیں۔
    حتی کہ انہوں نے مبشر لقمان کو قانونی نوٹس تک بھجوا دیا،جس کی نہ صرف اندرون ملک،بلکہ آسٹریلیا،امریکہ اور برطانیہ سمیت بیرون مُلک میں بھی وسیع پیمانے پرشدید مذمت کی گئی۔
    جہاں تک مبشر لقمان کو میں جانتا ہوں،وہ اپنے ماضی کے بے باک ریکارڈ کی بدولت ایک قاتل درندے کو معصوم پرندہ کہنے سے تو رہا۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نور مقدم کیس میں ایک پیج پر تھے۔
    دونوں نے قاتل کی نہ صرف دل کھول کے شدید اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی بلکہ اسے سرعام پھانسی جیسی سخت سزا بھی تجویز کی
    تاہم ان دونوں نے اس کیس میں نور مقدم کے اس
    Contactکی بات ضرور کی کہ نور مقدم کے ٹیلی فون ریکارڈ کے مطابق اس نے پچھلے کچھ مہینوں میں قاتل ظاہر جعفر سے تو سینکڑوں بار رابطہ کیا،جبکہ اسکا اپنے والدین سے صرف چند بار ہی رابطہ ہوا۔
    یہ نور مقدم کے رہن سہن پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ وہ بغیر شادی کے ایک غیر محرم کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔
    اور یہی غلطی بالاخر اسکی جان بھی لے گئی۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے صرف اتنی تلقین کی کہ والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟
    کہیں یہ سرگرمیاں ان کے لئے جان لیوا تو ثابت نہیں ہوں گی؟
    کہیں اس میں کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا جو ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے؟
    عمران ریاض نے اپنے ایک وی لاگ میں مبشر لقمان کے اس معاملہ پرسٹینڈ کو نہ صرف سراہا بلکہ اسکی تائید بھی کی۔
    عمران ریاض نے کہا کہ مبشر لقمان نے قطعا” ایسی کوئ بات نہیں کی،جس سے
    Victim blaming
    کا کوئ حلقہ ساشائبہ بھی ملتا ہو۔
    ان باتوں کی سچائ سے کون انکار کر سکتا ہے،
    سواۓ ان مٹھی بھر موم بتی مافیاز کے،جن کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں۔
    ظاہر ہے وہ تو انہیں کے لئے بھونکیں گے،جن سے انہیں ہڈی ملتی ہے۔
    پاکستان میں رہنے والے 99فیصد لوگ ان درخشاں روایات کی پاسداری چاہتے ہیں،جو ہمارا اثاثہ ہیں۔جن میں دین اسلام کی تعلیمات اور مشرقی روایات کی خوبصورت آمیزش ہے۔
    مگر لنڈے کے لبرلز،یہ کالے انگریز کچھ اور ہی ایجنڈا رکھتے ہیں
    مگر فساد پر مبنی یہ ایجنڈا،اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ یہاں چلنے نہیں دیں گے۔
    کوئ دوسرا ایجنڈا چاہنے والوں کو اس ملک کے بیٹے اور بیٹیاں ہر میدان میں اسی طرح شکست دیتے رہیں گے۔
    جس طرح انہوں نے مبشر لقمان اور عمران ریاض کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دی۔
    یہ مُلک اسلام کے نام پر بنا تھا اور رہتی دنیا تک اسلام کے طریقوں کے مطابق ہی چلے گا۔
    ان شاءاللہ#

    @lalbukhari

  • سپر پاور امریکہ کی افغانستان میں ناکامی۔  تحریر: طیبہ ناز

    سپر پاور امریکہ کی افغانستان میں ناکامی۔ تحریر: طیبہ ناز

    امریکہ جس کو سپر پاور ہونے کا گھمنڈ ہے اس کو افغانستان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جدید اسلحے سے لیس گاڑیاں اور کھربوں ڈالر خرچ کیے اس کے باوجود کامیابی نہ ملی۔ پاکستان نے افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوج کے انخلا کیلئے امریکہ کی مدد کی اور ان کو آسان راستہ دکھایا۔ افغان طالبان اور امریکہ کو ایک مزاکرات کی ٹیبل پہ لایا آخرکار فورسز کو بیس سال بعد واپس بولا لیا گیا۔دو دہائیوں سے امریکہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیت سکا ہے اور پسپاہ ہو کہ وہاں سے نکلنا پڑا۔
    اس لیے یہ کہا جاسکتاہےکہ افغانستان جیسے مسلے کا فوجی حل ناممکن ہے۔ اگر کوئی حل ہے تو وہ صرف اور صرف مزاکرات ہی ہیں۔ لیکن اشرف غنی کے ہوتے ہوئے طالبان کبھی بھی مزاکرات کیلئے تیار نہیں ہونگے۔۔
    وزیراعظم عمران خان نے بھی اکثر اسی بات پہ ہی زور دیا ہے کہ امن کیلئے مزاکرات ہی کییے جانے چاہیں۔ پاکستان ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ افغانستان میں امن کی انتہائی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ الزام تراشیوں کے باوجود ساتھ دیا اور دیتا رہے گا۔
    اشرف غنی اور افغان طالبان آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ نیٹو فورسز کےافغانستان سے نکلتے ہی افغان طالبانوں نے تقریبا 20صوبائی دارلحکو متوں پہ قبضہ جما لیا ہے مذید یہ خدشہ ہے کہ کابل پہ بھی جلد ہی قبضہ ہو جائے گا۔ جو بھی اسلحہ تھا اور جدید اسلحے سے لیس گاڑیاں سب اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔
    امریکہ اور انڈیا نے مفادات کی خاطر بہت سے ایسے تجربات کیے کہ شاید ان کو کامیابی مل جائے لیکن ان کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہو اہے۔اس ناکامی پہ انڈیا نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلنا شروع کر رہا ہے۔ہر پراپیگینڈہ جو انہوں نے پاکستان کے خلاف کیالیکن وہی یہ بری طرح ایکسپوز ہوا ہے۔ آخرکار کار انڈیا کو اپنا سفارتخانہ بھی بند کرنا پڑا۔
    بعد آزاں جب عمران خان نے اڈے دینے سے انکار کیا تو امریکہ نالاں ہی نظر آتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان نے پہلے ہی غیروں کی جنگ میں ستر ہزار جانیں گنوائیں ہے۔ امریکہ جو اس وقت بھارت کی گود میں بیٹھا ہو اہےمذیدیہ کہ اسٹریٹجک پارٹر بنا ہوا ہے اور چائینہ کے خلاف ساذشوں میں مصروف ہیں۔
    کیونکہ ان کے معاشی مفادات جڑے ہوئے ہیں اسلئیے امریکہ اور انڈیا کو افغانستان کے امن سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کے کچھ ذاتی مفاد سے مزید بیگاڑ پیدا ہوا ہے اور پہلے سے زیادہ امن تباہ ہوا ہےلوگ بے گھر ہوئے اور کامیابی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اب تو پاکستان بھی مذید افغانیوں کو پناہ دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔

    Twitter ID : @JeeTaiba

  • امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر کیوں لگا رہا ہے   تحریر:

    امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر کیوں لگا رہا ہے تحریر:

    کچھ دن پہلے امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا ’’کہ افغانستان افغانیوں کا ملک ہے اور اس کا دفاع کرنا افغانیوں کی ذمہ داری ہے‘‘۔ آخر کار بیس کے بعد امریکہ کو خیال آیا کہ افغانستان کو ڈیفینڈ کرنا افغان حکومت اورافغان عوام کی ذمہ داری ہے اور دوسری بات جو کہ بالکل گھٹیا تھی وہ یہ ’’کہ پاک افغان سرحد پر ایسے ٹھکانے اور پناہ گاہیں ہیں جہاں سے افغانستان کا امن خراب ہو رہا ہے اور پاکستان کو اس کا خیال رکھنا چاہیے اور اسے کنٹرول کرنا چاہیے‘‘۔ یہ بات بہت مضحکہ خیز اور بے معنی ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب یورپی یونین کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ’’کہ اندازے کے مطابق طالبان نے افغانستان میں 65 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے‘‘  اور اب تک طالبان بارہ صوبے لے چکے ہیں اور بہت جلد ہی انیس صوبوں پر قابض ہو جائیں گے۔ اب سے تقریبا تین ماہ پہلے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے امریکی اخبارات کو ایک خبر لیک کی تھی ’’کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک کابل کھڑا رہ سکتا ہے‘‘۔ ان تمام صورتحال میں امریکی وزیر دفاع کا تبصرہ انتہائی بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔
     آج کل طالبان نے ایک عجیب حکمت عملی اختیار کی ہے وہ چار یا پانچ جنگجوؤں ذریعے ایک شہر یا قصبے یا دارالحکومت کو پیغام بھیجتے ہیں اور وہاں کے لوگوں اور لیڈرشپ کو مطلع کر دیتے ہیں کہ ہم یہاں پہ آ چکے ہیں ، آپ ہماری پناہ میں آجائے اور ہتھیار ڈال دیں۔ اور یہ فارمولا کافی حد تک کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ اور اگر انہوں نے ابھی تک بڑے شہروں یا بڑے صوبوں پر قبضہ نہیں کیا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ، کہ زیادہ خون نہ بہایا جائے اور سرحدوں کو پہلے کنٹرول کیا جائے اور اب تک ایران ، وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان کے ساتھ منسلک سرحدیں ، اس کے روٹس ، اور اس کی شاہراہیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

    اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر *’’ سینکشن پاکستان ‘‘* کے نام سے ایک کمپین چلائی جا رہی ہے۔ اس کمپین کا آغاز 30 جون کو کیا گیا تھا۔ ایک پاکستانی سوشل میڈیا تجزیہ کار ، عمر،  جو "ویو لائٹکس” کے نام سے ایک ویب سائٹ چلاتا ہے ، نے اس کمپین کا مکمل تجزیہ کیا ہے کہ یہ مہم کیسے شروع کی گئی اور کیسے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔ اس کمپین میں 9 اگست تک تقریبا دو لاکھ ٹویٹس اور ریٹویٹس کیے گئے تھے ، جن میں سے بیشتر جعلی اکاؤنٹس تھے ، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس پوری کپمین کا تعلق افغان حکومت اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت سے ہے۔ اس کمپین کے ذریعے ایک پورا ماحول بنایا جا رہا ہے اور پاکستان کو افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں اس کمپین کو کاونٹر کرنا اور دلائل کا سہارہ لے کر بھرپور جواب دینا چائیے۔

    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ڈرامہ اچانک کیوں رچایا جا رہا ہے؟* اس کا ایک پس منظر یہ ہے کہ نیٹو ممالک کے آپس میں ڈیبیٹس ہوئی ہیں ، کہ بیس سال پہلے ہم امریکہ کے ساتھ افغانستان گئے اور وہاں سے طالبان کی حکومت کو ہٹا دیا۔ اب بیس سال بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے افغانستان کو دوبارہ طالبان کے حوالے کر دیا ہے اور یہ نہ صرف امریکہ کی بلکہ نیٹو ممالک اور ان کی افواج کی بھی ناکامی ہے۔ اور اب ان کی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ نیٹو کی بطور اتحاد بڑی ناکامی ہے۔  جس سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ نیٹو کی فعالیت اور افادیت کیا رہ جاتی تھی۔ اور اب سب ایک دوسرے پر ملبہ پھینک رہے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ڈیلی میل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے امریکہ پر الزام عائد کیا ’’کہ امریکہ کا فیصلہ بالکل غلط ہے اور امریکہ کو ایسی واپسی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹو کے باقی ممالک کو ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی پوری کوشش کی کہ برٹش افغانستان میں بیٹھنے کے لیے تیار ہے لیکن نیٹو کے دیگر ممالک میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہے‘‘۔ لیکن حقیقت کچھ مختلف ہے کیونکہ برطانوی معیشت کے حالات بالکل ایسے نہیں ہیں کہ امریکہ کے بغیر برٹش افغانستان میں بیٹھ کر وہاں ذمہ داری لے سکیں۔ اس انٹرویو میں برطانیہ کے سیکریٹری دفاع نے یہ بھی کہا ’’کہ ہمارے وسائل اس وقت اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن ہم دس یا پندرہ سال بعد واپس آ سکتے ہیں۔ اگر یہاں حالات خراب ہوئے تو ہم ایک بار پھر افغانستان کا دفاع کریں گے‘‘۔ لیکن اگر برطانیہ کی اپنی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے، تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ، برطانیہ کے اندر انگش ، سکاٹش ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کے درمیان برطانوی معیشت ، سیاسی مسائل ، انگریزی قانون اور برطانوی آئین پر تنازعہ پیدا ہوا ہے جس سے برٹش کے اپنے وجود کو کافی خطرہ ہے۔

    اگر ایک طرف یہ رونا پھیٹنا ہے ہے تو دوسری طرف چین اور روس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اس لیے مغرب میں پچھتاوے کا ایک احساس ہے اور اس احساس ندامت میں مغرب کو قربانی کا ایک بکرا چاہیے ، اس لیے وہ پاکستان کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ پاکستان کی وجہ سے ہم افغانستان میں ناکام ہوگئے۔ بیس سال تک دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد افغانستان میں بیٹھا رہا اور کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام رہا۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر بائیڈن اس بات پر قائم ہیں کہ 31 اگست تک تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ امریکہ نے کچھ فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ لیکن سوچنے کے بات کہ حملے کیسے کی گئیں؟ بحرحال یہ ایک کاسمٹک نیچر کے حملے ہیں اور اگر بیس برس میں اس قسم کی بمباری سے اور اس قسم کی حکمت عملی سے بہت فرق نہیں پڑا تو اب کونسا فرق پڑ جانا ہے۔ *یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں کوئی میدان نہیں ہارا لیکن 20 سالہ جنگ ہار گئی۔* اس کی وجہ کیا ہے؟  
     
    دوسری طرف طالبان کے پاس امریکی اور نیٹو افواج کی بھاری مشینری کو چیلنج کرنے کے لیے طاقتور فوج اور بھاری فوجی مشینری نہیں تھی۔ مختصر یہ کہ طالبان کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ مستقل مزاج تھے اور انہوں نے کسی بھی صورت میں ہتھیارنہیں ڈالنا تھا اور امریکی غلامی اور امریکہ کے لائے ہوئے نظام کو قبول نہیں کرنا تھا۔ دوسری طرف اپنی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایک سیاسی نظام قائم کرنا تھا جس میں طالبان کو جگہ دی جا سکے۔ اور اس نظام کو لانے کے لیے امریکہ کے پاس 2002 کے بعد درجنوں مواقع تھے جب امریکہ نے طالبان کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کر لیا ، لیکن امریکہ نے ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ پاکستانی حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور دفتر خارجہ نے بارہا امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا کہ آپ طالبان کے ساتھ مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں تا کہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت بن سکے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے *’’کہ وزیراعظم عمران خان نے ستمبر 2020 میں واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں عمران خان نے لکھا تھا کہ افغانستان میں استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن امریکہ کو جلد بازی میں انخلا نہیں کرنا چاہیے‘‘۔*
     
    لیکن امریکہ کی شاید ایک مختلف حکمت عملی تھی تاکہ وہاں کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہو سکے اور وہ چاہتے تھے کہ افغانستان میں امن خراب ہو تاکہ وہ اسے ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں۔ حقیقت میں امریکہ نے افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور اس کے برعکس پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ طالبان کے ساتھ ہمارے مذاکرات کروائیں۔ اور وہ مذاکرات دوحہ میں کئی مہینوں تک جاری رہی اور اس کے نتیجے میں امریکہ نے اشرف غنی حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ کرنے کے بجائے دو الگ الگ معاہدے کیے ، ایک طالبان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بارے میں اور دوسرا اشرف غنی کے ساتھ اس کی حمایت جاری رکھنے کے لیے۔
     
    اس کے علاوہ ایک بڑا *سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیوں تھا؟* ظاہر ہے کہ امریکہ کا عوامی بیانیہ یہ رہا ہے کہ ہم یہاں نیشن بلڈنگ کے لیے آئے ہیں اور یہاں سے ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔ لہذا ہمیں اسے نیوٹرلائز کرنا ہے تاکہ یہاں سے امریکہ پر مزید دہشت گردانہ حملے نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے اندر فیصلہ سازی کے کئی مراکز ہیں جن میں پینٹاگون ، وائٹ ہاؤس ، این ایس اے ، اسٹیٹ ڈیمپارٹمنٹ اور سی آئی اے شامل ہیں۔ بہرحال سی آئی اے اور پینٹاگون افغانستان میں رہنا چاہتے تھے اورپوری خطے کو یہاں کنٹرول کرنا چاہتے تھے تاکہ چین کی وسطی ایشیا اور روس تک ممکنہ اقتصادی اور اسٹریٹجک توسیع کو روکا جاسکے ، اور پاکستان اور ایران پر بھی نظر رکھی جائے۔ لیکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس پر واضح رائے تھی کہ ہمیں افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ اب یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اربوں ڈالر ضائع ہو رہے ہیں اور اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ جو سابق امریکی صدرٹرمپ نے بھی قبول کیا تھا اور بعد میں صدر بائیڈن نے بھی اینڈورس کیا۔
     
    اس ساری صورتحال میں پاکستان کے لیے بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا۔ دوسری طرف طالبان امریکہ ، پاکستان ، چین ، روس اور دیگر پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور طالبان نے یہ بھی باور کروایا ہے کہ پاکستان بشمول تمام ہمسائیہ ممالک کے لیے ہمارے طرف کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ ایسے میں طالبان کمانڈر نے حال ہی میں 15 منٹ کا ایک آڈیو ریکارڈ جاری کیا ہے۔ جس میں طالبان جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری املاک اور سرکاری دفاتر کو نقصان نہ پہنچائیں اور ایسی شکایات عوام کی طرف سے نہیں آجانا چاہئیے۔ اور معلومات سے یہ بھی  پتہ چلتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے سوشل میڈیا پر وائرل تشدد کی زیادہ تر ویڈیوز ، خبریں اور افواہیں جعلی یا پرانی ہیں۔
     
    طالبان اب بھی امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد ایک وفد کے ساتھ قطر پہنچے ہیں جہاں وہ طالبان سے ملاقات کررہے ہیں اور وہ طالبان پر ایک بار پھر زور دے رہے ہیں کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ سیاسی سیٹلمینٹ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کو سیاسی حل کے لیے مجبور کرے۔ اس صورتحال میں بھارت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے بھرپور کوشش بھی کی لیکن ابھی تک کوئی بامعنی مذاکرات نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ بھارت دونوں طرف سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ طالبان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے ، تو دوسری طرف وہ کابل حکومت کو مدد کی یقین دہانی کروا رہا ہے۔

    Written by: Zubair Hussain 
    PhD scholar, School of Medicine,
    Seoul National University 
    South Korea 
    Email: 2021-25986@snu.ac.kr
    Twitter: @zamushwani

  • قوموں کے عروج و زوال کا قانون!  تحریر: محمد اسعد لعل

    قوموں کے عروج و زوال کا قانون! تحریر: محمد اسعد لعل

    دنیا کی ترقی یا دنیا کے عروج و زوال کے لیے اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں اور قرآن مجید کی روشنی میں اُس کو دیکھیں تو ایک قانون ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے مادہ پر تجربات کیے اور مادہ جن قوانیں پر کام کرتا ہے وہ قوانیں دریافت کر لیے ہیں۔ جب یہ قوانین سائنسی طور پر دریافت ہو گئے ہیں تو آپ نے دیکھا کہ ایجادات کا انبار لگ گیا۔ یعنی انسان نے اپنے سننے، اپنے دیکھنے کی صلاحیت کو حیرت انگیز حد تک بڑھا لیا ہے۔ یہ صرف اس لیے ممکن ہوا ہے کہ ہم ان قوانیں کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
    اسی طرح قوموں کے عروج و زوال کے بھی قوانین ہیں۔ ان کو اگر بالکل خلاصہ کے طور پر بیان کریں تو وہ تین ہی چیزیں ہیں بنیادی طور پر جو قوموں کو عروج پر قائم رکھتی ہیں۔قومیں دنیا کی سٹیج کے لیے منتخب کیسے ہوتی ہیں وہ ایک الگ بات ہے جبکہ عروج پر قائم کیسے رہتی ہیں اس کے لیے تین ہی بنیادی چیزیں ہیں۔
    پہلی بنیادی چیز یہ ہے کہ کوئی قوم علم اور اخلاق کے لحاظ سےکس مرتبے پر ہے۔ یہاں علم سے مراد دنیاوی علم ہے، وہ علم جس سے آپ مادہ کے قوانیں دریافت کرتے ہیں، وہ علم جس کے مطابق آپ انسان کا مطالعہ کرتے ہیں اور معیشت اور معاشرت کے قائدے بناتے ہیں۔ اور اخلاق، یعنی وہ اخلاق جو اجتماعی زندگی کی ضرورت ہوتا ہے۔ جس میں انسانوں کے باہمی روابط کو ترتیب دیا جاتا ہے۔ علم و اخلاق کے لحاظ سے اگر کوئی قوم پستی میں ہے تو پھر وہ عروج کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔
    وہ کسی سطح پر بلند ہو کر آ گئی ہےتو اب اس کے لیےگویا توقع پیدا ہوتی ہے۔اور وہ دنیا کے مقابلے میں برتری پر چلی جائے تو سب سے زیادہ جو چیز نمایاں ہو گی وہ یہ ہے کہ اس قوم نے یا اس جماعت نے علم اور اخلاق میں برتری حاصل کر لی ہے۔
    جو لوگ بھی عروج کا خواب دیکھتےہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قومیں عروج کی طرف بڑھیں، ان کے لیے پہلا قدم جو ہو سکتا ہے وہ علم اور اخلاق کا ہے۔
    دوسری چیز یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی نظریہ ہے تو اس کے ساتھ اس کی یکسوئی کا معاملہ کیا ہے۔ یعنی کیا نظریاتی انتشار میں مبتلا ہے پوری کی پوری قوم یا اس کے ہاں جو بنیادی حقائق ہیں اس کے متعلق نظریہ یکسوئی کے ساتھ اختیار کر لیا گیا ہے؟
    آپ نے قرآن مجید میں پڑھا ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کی تعریف کرتے ہیں یا تعارف کرواتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ مسلمِ حنیف تھے۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ صرف مسلمان تھے بلکہ یکسو مسلمان تھے۔
    اور تیسری چیز یہ ہوتی ہے کہ جو قوم اپنی برتری کا یا اپنی بہتری کا خواب دیکھتی ہے اس کی سیاسی وحدت کا کیا حال ہے۔ اگر آپ اس دور سے پہلے رومن امپائر کو دیکھیں تو تب سیاست میں مذہب بنیادی فیصلے کر رہا تھا۔اس کے بعد جو نئی دنیا پیدا ہوئی اس میں ہم نے دیکھا کہ خیالات میں تبدیلی آئی اور جو نئی دنیا بن کر ہمارے سامنے آئی ہے اس میں سیاسی وحدت کا فقدان ہوا اِس سے پہلی اور دوسری جنگ عظیم برپا ہو گئی۔ یعنی خود مغربی قومیں اپنے اندرون سے ایک عسکری چیلنج سے دو چار ہو گئیں۔ دونوں جنگوں سے نکل کر ایک نظام بنایا گیا۔ وہ نظام یہ تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ بنایا گیا جس نےاس برتری کو یکسوئی میں بدل دیا ۔
    اور اس یکسوئی میں سیاسی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے چار چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
    قوموں کا حقِ خود ارادی، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس پر مغربی دنیا ٹھہری ہے۔
    یہ تینوں چیزیں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ چنانچہ اگر دنیا میں کسی بھی قوم کو بالا تر ہونا ہے تو اس کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ تسبیح پر سبحان اللہ کا ورد کر لے۔ جب یہ تین چیزیں کوئی قوم حاصل کر لیتی ہے تو اگر خدا نہ چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ آپ پوری تاریخ کا مطالعہ کر لیں ہمیشہ اسی اصول پر یہ معاملہ ہوا ہے۔
    ہمارے دین میں یا قرآن میں دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہےکہ”میں ایک کے بعد دوسری قوم کو دنیا کی سٹیج پر آنے کا موقع دیتا ہوں،اور یہ موقع تو میں اپنے انتخاب سے دیتا ہوں۔بالکل ایسا ہے جیسے میں کسی کو امراء کے گھر میں پیدا کر دیتا ہوں تو کسی کو غرباء کے گھر میں، لیکن جب میں ایک بار کسی قوم کو یہ موقع دے دیتا ہوں تو پھر وہ اپنے عروج کو قائم رکھنے کے لیےاصول و قوانین کی پابند ہوتی ہے۔”
    یہی وہ اصول و قوانین ہیں جو میں نے اوپر بیان کر دیے ہیں۔یعنی جب تک کوئی قوم ان پر قائم رہے گی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "میں اپنا معاملہ اُن سے تبدیل نہیں کرتا وہ دنیا میں اپنی برتری کو قائم رکھتی ہے” اور جب وہ قوم ان تینوں چیزوں سے محروم ہونا شروع ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ "میں بھی اپنا معاملہ ان سے تبدیل کر لیتا ہوں۔”اور اس کا پھر نتیجہ بیان کرتے ہیں” دنیا کی تاریخ میں ہر قوم کو اسی طرح موقع دیا ہے، ایک ترتیب کے ساتھ موقع دیا ہے۔ اور جب میں موقع دیتا ہوں تو نتیجے دو ہی نکلتے ہیں۔ قیامت کے دن تک میں اسی طرح ایک کے بعد دوسری قوم کو دنیا کی سٹیج پر لاتا رہوں گا، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو طبعی موت مر جائیں گے، اور کچھ وہ ہوں گےجن کو میں پیغمبر بھیج کر تنبہ کرکےعذاب دوں گا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔”
    میں جب قرآن مجید کی روشنی میں دنیا کی تاریخ کو دیکھتا ہوں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ کی اولاد میں سے پہلے حام کو اقتدار ملا پھر سامی قوموں کو اقتدار ملا اور اب یافث کی اولاد کے پاس اقتدار ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سٹیج پر آخری قومیں ہیں لیکن اقتدار اور عروج کی بنیاد وہی تین چیزیں ہیں۔ جب تک یہ تین چیزیں حاصل ہیں یہ عروج پر رہیں گی۔ اگر آپ بھی عروج چاہتے ہیں تو آپ کو ان تین چیزوں پر عمل کرنا ہو گا۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal

  • نیا پاکستان تحریر:محمد وقاص شریف

    نیا پاکستان تحریر:محمد وقاص شریف

    عمران خان نئے پاکستان کا تصور لے کر 2018 کے الیکشن میں داخل ہوئے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیے پاکستانی قوم کو الفاظ کے گورکھ دھندے میں پھنسا یا۔ سبز باغ دکھائے۔ فیاضی کا یہ عالم کے تمام پارٹیوں کے بھگوڑوں کے لئے بنی گالہ کے دروازے کھول دیے۔ سابقہ حکومتوں کی خوب درگت بنائی اور یوں کرکٹ کے سحر کو سیاست میں پیوست کر کے وہ ایک لولی لنگڑی۔ ٹیری تھتی اور توتلی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ 1 جی ڈی اے 2 ایم کیو ایم 3 مسلم لیگ ق اور بی این پی مینگل کے تعاون سے وزیر اعظم کا لفظ عمران خان کے ساتھ لگ تو گیا مگر حالت یہ ہے کہ یہ چاروں ستون آ ئےروز آ گے پیچھے ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے نیازی صاحب ڈاواں ڈول ہوتے رہتے ہیں۔ حالت اتنی نازک ہے کہ ایک ستون بھی غائب ہو گیا تو تخت زمین بوس ہو جائے گا۔ عمران خان ماضی کی حکومتوں کو یہ کہتے تھکتے نہیں تھے کہ وہ وہاں فلاں فلاں پارٹی کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں۔ مگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ملکی تاریخ کی بدترین بلیک میلنگ کا آجکل خان صاحب خود شکار ہیں۔ اتحادی جماعتوں میں سے کسی ایک کو چھینک بھی آجائے تو دو تین وفاقی وزرا جوشاندہ لے کر حاضر خدمت ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نئے پاکستان والی حکومت کا پرانے پاکستان کی حکومتوں سے بھی برا حال ہے۔ میں بھی کبھی کبھی خواب دیکھتا ہوں جو حال ہی میں خواب آیا ہے وہ بڑا اندوناک ہے۔ آس خواب کے مطابق واقعی نیا پاکستان بننے جارہا ہے۔ مودی حکومت کے بنائے گئے نئے قانون کے مطابق ہندوستان کے مسلمانوں پر ہندوستان کی زمین تنگ کی جارہی ہے۔ رجسٹریشن اور شناخت نام کا ثبوت مانگنے کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔ مودی حکومت اندریں خانہ یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا گزارا مشکل ہے۔ زیادہ تر ہندو وہاں کے مسلمانوں کو پاکستان نواز اور دہشتگرد سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے گھروں۔ سکولوں اور مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حملے کرائے جا رہے ہیں۔ مجھے 1947 کا منظر یاد آ نے لگ گیا ہے اللہ خیر کرے کہیں انسانی المیہ تو رونما نہیں ہونے جا رہا ہے ؟ کیا تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے جارہی ہے ؟ کیا پھر سے ریل گاڑیوں کی چھتوں پر لوگ سفر کریں گے ؟ کیا پھر سے قتل عام ہوگا؟ کیا پھر سے آباد کاری کی مہم چلے گی ؟ کیا دو قومی نظریہ اپنی خالصتاً شکل میں رونما ہونے جارہا ہے؟ کیا اب سارے مسلمان اکٹھے ہو جائیں گے؟ کیا خالص ہندوستان اور خالص پاکستان بننے جارہا ہے۔ کیا نیا پاکستان بننے جا رہا ہے.
    twitter.com/joinwsharif7

  • غیبت  ایک مرض ۔ حصہ چہارم تحریر: محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض ۔ حصہ چہارم تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے یعنی اس کے سامنے اگر کوئی شخص مسلمان بھائی کی برائی اور غیبت کر رہا ہو تو اس کو اس حرکت سے روکے تو اس کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرے گا۔ (بہیقی)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 912
    تشریح
    غیبت کرنے کو بطور گوشت کنایہ کھانے سے تعبیر کیا ہے یعنی جو شخص کسی کی غیبت کرتا ہے تو گویا وہ اس کا گوشت کھاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں غیبت کی برائی ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ” ایحب احد کم ان یاکل۔ الخ۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے۔غیبت کرنے کو گوشت کھانے سے تشبیہ دینے کا سبب یہ ہے کہ غیبت کرنا دراصل اس کی آبرو ریزی کرنا ہے اور آبرو چونکہ جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے لہذا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کے ذریعہ آبرو ریزی کی اس نے گویا اس کو ہلاک کر دیا اور اس کا گوشت کھا لیا ۔ بظاہر یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ لفظ بالمغیبۃ کا تعلق لفظ ذب سے ہے اور غیبت یعنی عدم موجودگی کے مفہوم میں ہے تاہم احتمال بھی ہے کہ بالمغیبۃ کا تعلق بلحم اخیہ سے ہو اور مفہوم کے اعتبار سے غیبت یعنی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنے کے معنی میں ہو اس صورت میں عبارت گویا یوں ہوں گی من ذب عن اکل لحم اخیہ بالمغیبۃ یعنی جو شخص کسی اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کے ذریعہ اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے۔ لیکن حدیث کا حاصل دونوں صورتوں میں ایک ہی رہے گا وہ یہ کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کی غیبت کرنے سے باز رکھنے والے کی فضیلت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔
    ” دوزخ کی آگ سے آزاد کرے ” کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اس شخص کو شروع ہی میں دوزخ کی آگ سے نجات یافتہ قرار دیا جائے گا یا یہ کہ اگر وہ شخص اپنے گناہوں کے سبب دوزخ میں داخل کیا جائے گا تو اس کو وہاں عذاب پورا کیے بغیر نکال لیا جائے گا۔
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع پر مدد کرے اور غیبت کرنے والے کو غیبت سے نہ روکے جہاں اس کی بے حرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد نہیں کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے اور جو مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع پر مدد کرے جہاں اس کی بے حرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے۔ (ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 914

    حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی عزت کو منافق کے شر سے بچائے گا اللہ اس کے لیے ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کو قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر ایسی چیز یعنی کسی عیب و برائی کی تہمت لگائے گا جس کے ذریعہ اس کے مقصد اس مسلمان کی ذات کو عیب دار کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کے پل پر قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ اس تہمت لگانے کے وبال سے نکل جائے۔ (ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 917تشریح
    یہاں منافق سے مراد غیبت کرنے والا ہے اور عیب جو شخص ہے اس کو منافق اس لیے فرمایا گیا ہے کہ غیبت کرنے والا کبھی بھی کسی شخص کے منہ پر اس کی برائی نہیں کرتا بلکہ اگر وہ سامنے ہوتا ہے تو دل میں اس کی طرف سے برائی رکھنے کے باوجود اس کی خیر خواہی کا دم بھرتا ہے اور پیٹھ پیچھے اس پر عیب لگاتا ہے غیبت کرنا اور عیب جوئی منافق کا کام ہے جس کا ظاہر کچھ ہوتا ہے اور باطن کچھ۔ حدیث کے آخری الفاظ حتی یخرج مما قال کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ شخص اپنی اتہام تراشی کے گناہ سے صاف نہ ہو جائے اس وقت تک اس کی گلو خاصی ممکن نہیں ہو گی۔

    حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے معراج کی رات اوپر لے گیا تو عالم بالا میں میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں کو کھرچ رہے تھے ان کی اس حالت کو دیکھ کر میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے یعنی لوگوں کی غیبت کرتے ہیں ان کی عزت و آبرو کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ (ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 974
    حضرت مستورد رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی غیبت، برائی کرنے یا اس پر زنا وغیرہ کی تہمت لگانے کے ذریعہ اس کی آبروریزی کر کے ایک لقمہ کھائے تو اللہ اس کو اس لقمہ کی مانند دوزخ کی آگ کھلائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی تحقیر و امانت کے بدلہ میں کسی کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کپڑے کی مانند دوزخ کی آگ کا کپڑا پہنائے گا اور جو شخص کسی کو سنانے اور دکھانے کے لیے کھڑا کرے تو قیامت کے دن اللہ اس کے سنانے اور دکھانے کے لے خود کھڑا ہوگا۔ (ابوداؤد)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 975
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مجھے پروردگار عالم نے معراج پر بلایا تو میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا جبریل! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھانے والے (غیبت کرنے والے اور لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہیں ۔مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 2302
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی نیکیوں کو برباد کردینے والی بیماری سے بچائیں ، اللہ کے دین کی سمجھ عطا فرمائیں دین اسلام پر چلنے والا بنا ئیں۔ آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ  کس ملک کو برآمد کی؟

    پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو برآمد کی؟

    اسلام آباد:پاکستان نے فور جی ٹیکنالوجی کے پاکستان میڈ موبائل فونز برآمد کرنا شروع کردئیے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے امور تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات میں پاکستان کے لیے آج بڑا دن ہے پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ہوگیا، میڈ اِن پاکستان فورجی موبائل کی پہلی کھیپ یو اے ای برآمد کردی گئی پہلی کھیپ میں 5500 موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں ہمیں امید ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ ویلیو ایڈڈ برآمدات کے دور کا آغاز ہوگا۔


    عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ یہ ہماری روایتی اشیا سے ہٹ کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کی شروعات ہے پاکستان میں موبائل مینوفیکچررز کو کہوں گا کہ وہ اس مثال کی تقلید کریں اوراپنی مصنوعات برآمد کریں۔

    واضح رہے کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی تجاویز پر آئی ٹی انڈسٹری سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں جس میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کو نقد انعامات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ آئی ٹی برآمدات کا ایک فیصد سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے لیے مختص کیا جائے گا اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فنڈز کو اسکل و بزنس ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی پارکس کے قیام پر خرچ کرے گا۔

    آئی ٹی کمپنیوں کے ٹیکس مسائل سے متعلق وزارت خزانہ نےاختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اور ایف بی آر نظر ثانی شدہ ٹیکس تشریحات تشکیل دے گا۔

    شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کو معاملات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرا ئی جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا تھا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر خزانہ کے مشکور ہیں۔

    جبکہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ ملکی معاشی اور سائنسی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے میں ترقی کیلئے فعال اقدامات اٹھائے جائیں عالمی سطح پر ترقیاتی پالیسیوں کا فوکس ترقیاتی منصوبوں سے انسانی وسائل کی فکری ترقی کی سمت جارہا ہے۔ پاکستان کو انسانی وسائل کی سائنسی اور فکری ترقی کے لئے جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

  • ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹک ٹاک چین کی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے اور یہ دنیا میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک ہے دنیا کے 150 ممالک میں ٹک ٹاک کے ایک ارب سے زیادہ صارفین موجود ہیں امریکہ میں اب تک 200 ملین سے زائد باراس ایپلیکیشن کو ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے بچہ بڑے نوجوان سب ہی اس ایپ کے فین ہیں جہاں اس ایپ کو مقبولیت ملی وہیں آئے دن یہ مختلف تنازعوں کا شکار رہتی ہے پاکستان میں اس ایپ پر کئی دفعہ پابندیاں لگ چکی ہیں-

    تاہم یہ ایپ صارفین کی شکایات دور کرنے اور نت نئی سہولتیں دینے کے لئے اپنے نئے نئے فیچر متعارف کراتی رہتی ہے تاہم اب بھی ٹاک ٹاک نے اپنے نو عمر صارفین کی فلاح و بہبود کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے نئے فیچر میں 13 سے 15 سال کے صارفین کو رات 9 بجے اور 16 سے 17 سال کے صارفین کو رات 10 بجے کے بعد کوئی نوٹیفیکیشن نہیں ملے گا۔

    ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کا نیا فیچر نو عمر صارفین کے کام ، مطالعہ اور آرام کو زیر نظر رکھ کر بنایا گیا ہے ٹک ٹاک کے نئے فیچر کا مقصد نوجواں نسل کو مثبت ڈیجیٹل عادات کے آغاز میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    نیشنل سوسائٹی برائے آن لائن چائلڈ سیفٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک انڈسٹری لیڈر شپ دکھا رہا ہے جو نوجواں نسل کے لیے فائدے مند ثابت ہو گی۔

    اس سے قبل ٹک ٹاک نے اسنیپ چیٹ اسٹوریز کی طرز پر 24 گھنٹے میں اسٹوری غائب ہونے والے فیچر محدود پیمانے پر متعارف کروایا تھا۔ اس فیچر سے ٹک ٹاک کی اسٹوری میں لگایا گیا مواد 24 گھنٹے بعد خود غائب ہوجاتا ہے۔