Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کیجے: تحریر محمد جاوید

    آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کیجے: تحریر محمد جاوید

    :
    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو نظریاتی بنیاد پہ بنا اور مذہب کے بنیاد پہ بننے والا دنیا کا واحد ملک ہے جس کا بنیاد نظریہ پاکستان پہ تھا اور یہ نظریہ ہمارے پاس دو قومی نظریہ سے نکلا تھا ۔اس دو قومی نظریہ کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے کیوں کہ اسی کی بنیاد پہ یہ ملک بنایا گیا تھا ۔
    جب ہم دو قومی نظریے کی بات کرتے ہیں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس دو قومی تشخص کو سب سے پہلے البرونی نے دسویں سنچری میں بتایا تھا جب وہ برصغیر پاک وہ ھند کے دورے پہ آیا تھا اس وقت اپنی ایک کتاب کے اندر اس نے دو لفظ مینشن کیا تھا "They and We” اس میں They ہندوں کے لیے استعمال کیا تھا اور We مسلمانوں کے لئے ۔

    ہمارا وطن پاکستان جہاں ہم رہتے ہیں وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بننے والو کو ملاہے بلکہ پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کےلئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہواہے۔ اتنی گراں قدر تخلیق کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں اپنا من دھن، بھائی، عزیز واقارب قربان کئے۔ حصول پاکستان کےلئے لاکھوں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ کتنی ماﺅں کے سامنے ان کے بچے قتل کر دئیے گئے۔ کتنی پاکدامنوں نے نہروں اور کنوﺅں میں ڈوب پاکستان کی قیمت ادا کی ۔ کئی بچے یتیم ہوئے جو ساری زندگی والدین کی شفقت کےلئے ترستے رہے۔14اگست 1947ءوہ مبارک وقت تھا جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔ مسلمانوں کے اتفاق اور قائداعظیم کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم سلطنت وجودمیں آئی، ہندوﺅں نے طرح طرح کی مکاریوں سے پاکستان کے مخالفت کی انگریزوں نے بھی طر ح طرح کی رکاوٹیں ڈالی ، ہمیں ہر قسم کی آزادی اور سامان اور آسائش وآرائش مہیا ہے مگر یہ کبھی نہ بولیں کہ اس میں لاکھوں لوگوں کی قربانياں انکا خون شامل ہے اور سر سید کی نگاہ دوربین اقبال کے افکار قائداعظم کی جدوجہد اور دوسرے اکابرین کا ایثار شامل ہے اے میرے ہموطنو ! بیشک آزادی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو یہ وطن تمہارے بزرگوں نے بہت مصیبتوں اور مشکلات سے حاصل کیا ہے۔ اے میرے ہم وطنو! یہ جو تم آزادی سے رہ رہے ہو یہ بڑی مہنگی اور قیمتی ہے ۔ہم وطنو آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔
    اس آزادی کی قدر کرو جیسا کہ آپکو معلوم ہے اس وقت انڈیا اور کشمیر کے اندر رہنے والے مسلمان کس طرح انڈین حکومت کے غیر جمہوری اور غیر انسانی پاليسیز کا سامنا کرہے ہیں ذرا ان بھیوں سے پوچھو تو پتا چلے گا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے ۔ آج ہم جتنا بھی اللّه کا شکر ادا کریں تو کم ہے کہ ہمیں اس عظیم نعمت سے ہمکنار کیا ہے ۔
    پاکستان بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا اس کو بنانے میں بہت ساری قربانیاں دی گئی بہت سارے لوگ شہید ہوگئے، بہت ساری ماؤں کے گود اجڑ دئے گئے پھر جاکر یہ ملک آزاد ہوا ۔
    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا بہت سارے پاکستانی دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے اور اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال ہورھے ہیں۔ کاش انکو معلوم ہوتا کتنی قربانیوں کے بعد یہ آزادی نصیب ہوئی ہے
    بے شمار بچے اپنی ماؤں کے سامنے مارے گئے اور بہت سے خاندان اپنے گھروں میں جلا ے گئے۔ بہت سی نیک عورتوں نے کنوؤں اور نہروں میں چھلانگ لگائی اور اپنی زندگی پاکستان کے لئے قربان کی۔
    بچے یتیم ہو گئے اور ساری زندگی اپنے والدین سے محروم رہے۔ لوگوں نے مصیبتیں جهيلے تکلیفیں اٹھائی اپنوں کو کھو دیا گھر بار لٹا دیں کس لئے ؟؟صرف کہ صرف اس آزادی کے لئے مگر جن کو آج فری میں آزادی ملی انکو اس کی قدر نہیں ذرا فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو پڑھ لیں تب انکو پتا چلے گا۔
    آج یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بتائیں کہ پاکستان کتنی عظیم قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا تھا اور ہمیں اس آزادی کی قدر کرنی چائے۔
    اتمام محب وطن پاکستانیوں کو جشن آزادی بہت مبارک ہو اللّه پاکستان کو تاقیامت قائیم وا دایم رکھیں۔
    پاکستان زندہ آباد ۔
    @I_MJawed

  • آل انڈیا مسلم لیگ، اصل مسلم لیگ . تحریر : عظمیٰ صابر

    آل انڈیا مسلم لیگ، اصل مسلم لیگ . تحریر : عظمیٰ صابر

    𝐇𝐀𝐏𝐏𝐘 𝐈𝐍𝐃𝐄𝐏𝐄𝐍𝐃𝐄𝐍𝐂𝐄 𝐃𝐀𝐘 Flag of Pakistan

    یہی ھے دل، یہی دُنیا و دین ! زندہ باد
    مرا گھروندا، مری سرزمین ! زندہ باد

    جمالِ سبز ! ترے حاسدین پر لعنت
    ھلالِ نُور ! ترے عاشقین، زندہ باد
    رحمان فارس

    پاکستان مسلمانان برصغیر کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے جب مسلمان ایک قوم بن کر ابھرے۔جان ,مال ,گھر بار ہر طرح کی قربانی دی اور اپنے مقصدکو پالیا یہ وطن دین اسلام اور اس کی اساس "کلمہ طیبہ ” سے والہانہ عقیدت کا انعام ہے جسے اللہ رب العزت نے 14 اگست 1947 کو ہمارے دامن میں ڈالا

    ہمارا پاکستان ,ہماری نسلوں کا پاکستان ہمارے دلوں کی دھڑکن اس دنیا میں ہماری جائے اماں

    برصغیر میں ہندوئوں کی نمائندہ جماعت "انڈین نیشنل کانگریس 1885 میں قائم ہوئ بیشتر مسلمان بھی اس جماعت سے وابستہ ہوگئے لیکن وقت نے اور ہندو لیڈروں کے متعصبانہ رویے نے ثابت کیا کہ کانگریس محض ہندوئوں کی نمائندہ جماعت ہے مسلمان ان کے رویے سے کافی دلبرداشتہ ہوئے مسلمان رہنمائوں نے ڈھاکہ میں 1906 میں ” آل انڈیا مسلم لیگ "کی بنیاد رکھی تاکہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے انکی بہتر طور پر نمائندگی کی جاسکے.

    "پاکستان ”
    جسکی تخلیق کا سہرا عام مسلمانوں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سر ہے ۔وہ مسلم لیگ جسکے رہنمائوں نے قائد کی سربراہی میں مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کے لئے امنگ پیدا کی ۔اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھائ ۔انکی بےلوث رہنمائ کی ۔وہ عظیم لوگ جن کے کردار سے صداقت کی مہک آتی تھی انکی رہنمائ میں پاکستان ہماری منزل بنا ہندوستان میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کا نام "مسلم لیگ ” جس نے نامساعد حالات میں برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کی سیاسی جنگ لڑی ۔قائداعظم جو وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقدمے کی پیروی اس خوبی سے کی کہ دنیا کا دوسرانظریاتی ملک جسکی اساس کلمہ ہے ہمارا وطن ٹھہرا وہ وطن جو ہماری دھڑکنوں میں بستا ہے وہ وطن جسکی ازاد فضائوں میں ہم سکون سے سانس لیتے ہیں بالاخوف زندگی جیتے ہیں میرے جذبات کی تفسیر ہے پاکیزہ زمین میرے ایمان کی تکمیل ہے یہ حبِ وطن ملک عزیز میں قومی پرچم
    "پارٹی پرچم "نہیں بن سکتا

    لیکن ……
    پاکستان کی خالق سیاسی پارٹی
    "مسلم لیگ ” کا نام استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے؟
    پاکستان کی خالق جماعت کانام بھی قومی پرچم کی طرح معزز اور محترم کیوں نہیں؟
    اس نام پر درجن بھر بچہ پارٹیاں جن کی ناتو عوام میں جڑیں ہیں اور ناہی پذیرائی۔ جن کے لیڈروں کا کردرا اس نام سے میل ہی نہیں کھاتا جو کسی بھی طرح اس قابل نہیں کہ مسلم لیگ کی حقیقی لیڈر شپ کے وارث کہلاسکیں وہ کیسے اس نام کو استعمال کرتے ہیں؟
    وہ کیسے معصوم عوام کی مسلم لیگ سے محبت کو کیش کرتے ہیں کیسے انکی کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں؟
    اگر مسلم لیگ کے نام پر بنی تمام پارٹیاں اور انکی لیڈر شپ اتنی ہی قابل ہے تو اپنے زور بازو پر عوامی مقبولیت کا مظاہرہ کریں الیکشن میں حصہ لیں اور اکثریت حاصل کرکے اپنی قابلیت کالوہا منوائیں.

    لیکن …………..
    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمام سیاسی پارٹیاں جو مسلم لیگ کے نام سے عوام کے سامنے اتی ہیں ان سے اگر مسلم لیگ کے نام کا اسمان چھین لیا جائے تو انکے پائوں تلے زمین بھی باقی نا رہے وہ بچہ جس کی تعلیم محض واجبی یا پرائمری تک ہے ۔اسے صرف اتنا پتہ ہے کہ "مسلم لیگ "پاکستان کی خالق جماعت ہے اور وہ تمام عمر لفظ "مسلم لیگ "کا احسان مند رہے اور حقیقی مسلم لیگ کی کارکردگی پر دو نمبر مسلم لیگ کو ووٹ دیتارہے تو قصوروار کون ہے ؟
    وہ کم علم رکھنے والا فرد توبلکل بھی نہیں کیونکہ وہ تو یہ شعورہی نہیں رکھتا اسکی حب الوطنی کسی شک سے مبراہے وہ یہ شعور نہیں رکھتا ہمارے ملک میں خواندگی کا تناسب بہت کم ہے بلکہ بہت سے پڑھے لکھے افراد بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موجودہ مسلم لیگ کا قیام پاکستان سے کوئ تعلق نہیں۔
    "مسلم لیگ "پاکستان کاقابل فخر اور خالق برانڈ "ہے جسکا ٹیگ استعمال کرنے کی اجازت ہر کسی کو نہیں دی جاسکتی
    کجا یہ کہ اسکے نام پر بےتحاشہ سیاسی پارٹیاں سیاست کرنے کی کوشش کریں اورعوام کی معصومیت کافائدہ اٹھائیں ۔کیونکہ :

    "دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ”

    اب مسلم لیگ کے نام پر جاری اس کھیل کو بند ہوجانا چاہیے.

    @Nucleus_Pak

  • چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    آزادی ایک خوبصورت احساس بے خوف ہوکر جینے کا احساس آزادی کی قدر محکوم اقوام سے پوچھیں کسی قید پرندے یا انسان سے پوچھیں آزادی نام ہے احساس ذمےداری کا آزادی نام ہے ملک سےوفاداری کا تخیل کی پرواز کا گھٹن سے نجات کا کھلی فضائوں میں سانس لینے کا آزادی کو چھو نہیں سکتے یہ محسوس کرنے اور جینے سے متعلق ہے آزادی بھی اصولوں کی پابند ہے شتر بے مہار آزادی اصل آزادی نہیں بلکہ آزادی کے بھی قواعد وضوابط ہیں آزادی بھی حدود کی پابند ہے آزادی محض اجسام کی آزادی نہیں بلکہ اصل آزادی "فکر اور تخیل "کی آزادی ہے غلامانہ سوچ سے بری کوئ شے نہیں یہ قوموں کے وجود کو نگل جاتی ہے.

    ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں جولاکھوں دیپ بجھےہیں تو یہ چراغ جلا پاکستان عطیہء خداوندی اللہ نے ہم پر احسان کیا ہم کو پاکستان دیا ورنہ آج ہم اور اورہماری نسلیں ہندوستان میں بدترین زندگی گزار رہے ہوتے سجدہء شکر واجب ہے آزادی کی اس عظیم نعمت پر، اللہ کے عطاکردہ اس انعام پرملک پاکستان پرمیرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثارمیں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن اے میرے پاک وطن ہم آزاد قوم ہیں جشن آزادی مناتے ہیں دھوم دھام سے مناتے ہیں کئ دہائیوں سے منا رہے ہیں.

    لیکن ……..؟
    کیا محض اجسام کی آزادی، آزادی ہے؟
    کیا بحیثیت قوم ہماری فکر آزاد ہے؟

    جی بلکل فکر آزاد ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے اکثریت کی فکر اج بھی آزاد نہیں وہ اج بھی اسکادرست ادراک نہیں رکھتے
    وہ اج بھی آزادی کے تقاضوں سے ناواقف ہیں اس سےجڑی ذمےداریوں سے ناواقف ہیں ہم نے یوم آزادی کو محض ایک تہوار بنا دیا ہم اسکی قدروقیمت سے صحیح طور پر ابھی واقف نہیں ہیں ابھی تک پائوں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی دن اجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں اتی آزادی کاسفر ابھی جاری ہے حقیقی آزادی پانے تک انگریز کےدیے نظام سے اپنی اقدار اور روایات سے جڑے نظام تک اسلام کے حقیقی نفاذ تک یہ سفرابھی جاری ہے حقیقی منزل ابھی دورہے.

    یوم آزادی پر اپنے گھر پر قومی پرچم لگا کردشمن ملک کی موسیقی سے لطف اندوز ہونا انکے ہیروز کی فیشن میں پیروی کرنا
    کیا ایک باوقارقوم کوزیب دیتاہے؟
    ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں دشمن ملک کا مواد نشر ہونا کیا ہماری آزادی اور حب الوطنی پر سوالیہ نشان نہیں؟
    ہندی کے الفاظ کا کثرت سے استعمال اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا بہت سہولت سے حصہ بنالینا کیا مناسب طرزعمل ہے؟
    ہمارے ملکی وقار اور خود داری اس سے مجروح نہیں ہوتی کیا ؟
    یہ کمزوری کی علامت کہ اپ اپنے اپنےدشمن کی زبان کواہمیت دیں
    بلاوجہ غیر ملکی مصنوعات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور ملکی مصنوعات کو نظر انداز کرنا کیا قومی وقار کے خلاف نہیں؟
    پچھلی صدی کے انگریز کےبنائے ہوئے قوانین جو موجودہ دورسے مطابقت نہیں رکھتے یاجن میں محکومی کی جھلک ہے اج بھی نافذالعمل ہیں
    یہ کیسی آزادی ہے؟
    جو غیروں کی مرعوبیت سےنکلنے نہی دیتی؟
    اپنی دینی اور معاشرتی ذمےداریوں میں کوتاہی برتنا اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا
    کیا مناسب ہے؟
    کیا ممکن ہے کہ ہمارے اس رویے سے ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک دنیا میں بہتر مقام حاصل کرسکے؟
    ہمارا ملکی نصاب کیا ہماری ضروریات , قومی امنگوں اور ترجیحات کے مطابق ہے؟

    بلکل بھی نہیں بلکہ ہمارے نصاب تعلیم میں ہماری زبان اور ہمارے دین سے متعلق مضمون سب سے کم اہم گردانا جاتا ہے ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے دین سے دوری کا شکار ہے ہم نے زندگی کے ہر شعبے کو ایک "بزنس "بنا کر رکھ دیا ہے اور انسانیت طاق پر دھری کوئ غیر اہم شے ہے چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا سیاست وکالت ہو یا عدالت مسیحائ ہو یا صحافت ہمار ےاندر کا بنیا ہر جگہ نظر اتا ہے جو موقع محل دیکھے بغیر چار ٹکے کمانا چاہتا ہے احساس اور ہمدردی غیر اہم جنس ٹھہری

    تو ہم قوم کیسے بنیں گے؟
    اتحاد ,تنظیم اور یقین محکم کب ہماری زندگی کے اصول بنیں گے؟
    کب ہم دین کی رسی کو تھامیں گے؟
    کب قائد کے اصولوں کو اپنائیں گے؟
    اور ……..
    کب فکر اقبال ہمارے ذہنوں کو منور کرے گی؟
    کب ہم اپنے رویوں کو بدلیں گے؟
    اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے؟

    صفائ نصف ایمان ہے لیکن ہم نےپورے ملک کو”کچرادان بناڈالا کرپشن کا زہر حہمارے قومی وجود میں سرایت کرچکا کردارسازی ہمارے لئے غیر اہم ٹھہری سود کی لعنت سے ہم پیچھا نہیں چھڑا پائے

    اب وقت ہے اس تعفن سے نجات پانے کا
    آزادی سے جڑی اپنی ذمےداریاں نبھانے کا۔
    قیام پاکستان کےاصل مقاصد کو منزل بنانے کا
    ملک میں نفاذ اسلام کا خواب پوراکرنے کا

    ہم کب سمجھیں گے کہ ملکی ترقی صرف حکومت اور اداروں کی مرہون منت نہیں بلکہ ہم سب کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اپنی استعداد کے مطابق ملکی ترقی اور فلاح عامہ میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ:

    "ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
    جب یہ ستارے ٹمٹمائیں گے
    تو انکی روشنی میں ہمارے راستے اور منزل واضح ہوکر اور نکھر کر سامنے ائے گی یقین کا اجالا ہر سمت پھیلے گا ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا ہم ایک طاقت اور قوت بن کر ابھریں گے

    عالم اسلام میں
    عالم اقوام میں

    اندھیرے سے لڑائ کا
    یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں
    جو دیا ہو ، وہ جلا دینا

    @Nucleus_Pak

  • عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی  (جدون )

    عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    دیکھا جائے تو عورت عرصہ دراز سے مظلوم چلی آرہی ہے. دنیا کا ایسا کوئی حصہ نہیں جہاں عورت پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں.
    اسلام سے پہلے اہل عرب میں عورت کے وجود کو باعث شرمندگی سمجھا جاتا تھا اور زندہ دفن کردیا جاتا تھا.
    کہیں پہ شوہر کی چِتا پر اسکی بیوہ کو جلایا جاتا تھا اور دنیا میں بیشتر تہذیبوں میں عورت کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی نہ ہی اسکو معاشی حقوق حاصل تھے.
    اسلام ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو اس ذلت سے نکالا اور اسکا اسکا اصل مقام دیا.
    زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اسکے کیا حقوق ہیں اور اسکی فطرت کے مطابق نبی کریم نے عورت کو ذمہ داریاں دی.
    حضرت محمد مصطفی کا لایا ہوا دین اسلام عورت کو عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اسلام نے عورت کو اسکے تمام فطری حقوق دیئے.
    مگر آج آ پ سے بحیثیت ایک عورت ہونے کے کچھ باتیں شئیر کرونگی.
    سب سے پہلے ایک سوال کہ آج کی عورت کہاں کھڑی ہے ؟ ؟؟

    کئ عورتیں حقوق کے نام پر عورت ذات کے تقدس کی پامالی کررہی ہیں. جیسے کہ میرا جسم میری مرضی…
    اور یہ اس لئے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے. مگر میں نے کئی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو اپنا گھربار اور مستقبل اپنے مفاد کے لئے ختم کر دیا ہے.
    میرے نزدیک ایک شادی شدہ عورت کے لئے اسکی پہلی ترجیح اسکا اپنا گھر اور اسکے بچے ہیں اسکے بعد اسکا مستقبل.
    عورتوں کو حد سے زیادہ آزادی ہمارے معاشرے نے دے دی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں جب لڑکی جوان ہوتی ہے عموماً وہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے. کئی تو انٹرنیٹ پر دوستی پھر محبت تک پہنچ جاتے ہیں.
    اور پھر جب یہ کہا جاتا ہے کہ عورت مظلوم ہے تو مجھے وہ منظر یاد آ جاتا کہ عورت ہی بعض دفعہ عورت پر ظلم کرتی آرہی ہے..
    ہمارے جاننے والی ایک فیملی ہے لڑکے کی شادی ایک غریب گھرانے میں ہوئی, جس سے اسکے تین بچے بھی ہیں.
    کافی ٹائم بعد انکے گھر جانا ہوا تو میری ملاقات وہاں ایک نئے چہرے سے ہوئی.

    میں نے اس خاتون سے پوچھا تو پتا چلا اسکی بھی شادی اس گھر میں ہوئی ہے مطلب اس لڑکے نے اس سے شادی کرلی تھی.
    وہیں پہلی بیوی بھی آ گئی. کافی دیر بات ہوئی اس دوران میں نے محسوس کیا کہ دوسری بیوی پہلی والی کو کسی خاطر میں نہ لا رہی. باتوں میں پتا چلا کہ نئی دلہن پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی ماں ہے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائی ہے جس میں سے دو کی شادی اس گھر میں آ کے ہوئی.
    تین سال سےوہ عورت اس پہلی عورت کے شوہر کے ساتھ تعلقات میں تھی اُسی کے پاس وہ رہتا تھا. جب پہلی بیوی کے علم میں بات آ ئی تو اسنے اُسے کہا کہ بہتر ہے شادی کرلو, جس طرح تم کررہے ہو یہ غلط ہے.
    یوں وہ 5 بچوں کی ماں اپنے بچوں سمیت دلہن بن کے اُس گھر میں آ گئی. اور اسکے آ تے ہی اسکا مطالبہ تھا پہلی والی کو طلاق دو. پہلی والی نے شوہر کے پیر پکڑ کے کہا میرے بچے ہیں میں کہاں جاؤنگی ماں باپ مر گئے ہیں اور کوئی ٹھکانہ نہیں. مجھے اس گھر میں رہنے دو بیشک میرے سے تعلق نہ رکھو.
    مجھے یہاں پہلے والی تو انتہائی مظلوم لگی جبکہ دوسری والی نہایت ظالم.
    جس عورت نے اسے عزت دی ایک مقام دیا اب وہ اُسی عورت کا گھر اجاڑنے پر تُلی ہوئی.
    کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شادی شدہ مرد کو عورت اپنے مفاد اپنے پیار کے چنگل میں پھنسا کر اسکو اپنے گھر میں رکھے ؟؟؟
    اُسکی جوان بیٹیاں اُن پر کیا اثر پڑا ہوگا کہ انکی والدہ کے پاس یہ مرد کون آ تا ہے.

    چلو شادی ہوگئی یہ اچھا ہوا مگر ایک بات صاف کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور کئی گھرانے توڑنے میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے.
    ایک عورت ہونے کے ناطے اس میں یہ جذبہ بھی ہوتا کہ وہ کسی دوسری عورت کو ظلم سے بچائے بجائے اسکے وہ خود آ گے بڑھ کر ظلم کی ترغیب دیتی ہے..
    جب ہم عورت پرہونے والے ظلم کی داستان کو اسکے پس منظر کے ساتھ دیکھیں تو ثابت ہوجاتا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے.
    زرا سوچیں وہ کون جو دوسری عورت کے راز سے پردہ اٹھاتی ہے الزام تراشی کرتی ہے. بدکردار, مکار کہتی ہے اور عورت کو ہی سرعام رسوا کرتی ہے.
    عورت نے مرد کو ظالم ثابت کرنے کے لئے رو پیٹ کر عالمی یوم خواتین منانے کا حق منوا تو لیا مگر خود جو عورت ہی عورت پر ظلم کرتی آ رہی ہے وہ دن کب منایا جائے گا.
    مرد ظالم ہوتا نہیں یہ صرف ان عورتوں نے ظالم دیکھایا ہے اور معاشرے میں مردوں کو ظالم ہی پیش کیا جاتا ہے. یہ نہیں دکھایا جاتا کہ مرد بھی عورت کی طرح کئی ذمہ داریوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اور بہت سے رشتوں میں بندھا ہوتا ہے. اسے وہ سارے رشتے بھی نبھانے ہوتے ہیں, اگر ان سے وہ منہ پھیر لے تو بےحس ثابت کردیا جاتا ہے.
    اپنی تسلی کے لئے کسی ایسی عورت سے پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں جسکی شادی کو پندرہ بیس سال ہوئے ہو کہ اسکا اپنے خاوند کے بارے میں کیا خیال ہے تو 80% خواتین کا جواب ہوگا یہ میں ہی ہوں جو اسکے ساتھ گزارا کررہی ہوں. ورنہ یہ اس لائق نہیں..

    ایک مرد ایک عورت سے میرے خیال میں وفاداری چاہتا ہے جو بدقسمتی سے ناپید ہوتی جارہی ہے..
    کچھ دن پہلے ایک عورت گھر میں اسپتال کا بتا کے نکلی 4 بچوں کی ماں
    مگر اسپتال کی بجائے عدالت پہنچ گئی کہ میرا شوہر نشئی ہے مارتا ہے مجھے اسکے ساتھ نہیں رہنا. دارالامان بھیجا جائے اور دوسرے دن دارلامان کی بجائے اسی سے نکاح کرلی جس کے ساتھ تعلقات تھے. اور شوہر دو دن تلاش کرتا رہا اسپتالوں میں. بعد میں پتا چلا کہ وہ تو نئی شادی کرلی. برحال کیا ہوتا آ گے وہ عدالت کا کام.
    عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی جنگ کو ختم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا.
    مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ جب عورت, عورت کی ڈھال بن جاتی ہے تو اسکا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا.
    @Rehna_7

  • آزادی اور قربانیاں  تحریر  : راجہ حشام صادق

    آزادی اور قربانیاں تحریر : راجہ حشام صادق

    آزادی اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے آزادی کی قدر ان کو ہے جنہوں نے یا تو بہت ساری قربانیوں دیں یا آزادی کے لیے جدوجہد کی یا جو آج بھی اپنی آزادی کے لئے قربابیاں دے رہے ہیں۔پچھلی گئی دہائیوں سے سے جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اس میں ہمارے بہین بھائی کشمیری بھی ہیں۔

    جہاں کئی دہائیوں سے اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لئے جدوجہد جاری ہے۔ لاکھوں قربانیاں ہمارے یہ بھائی دے چکے ہیں۔ لیکن یہ آزادی کے متوالے ایک پل بھی تھک کر بیٹھے نہیں۔ ان کی جدوجہد آزادی آج بھی جاری ہے۔

    مجاہد برہان وانی کی شہادت نے اس تحریک جدوجہد آزادی میں ایک نئی روح ڈالی اور تحریک نے اور روز پکڑ لیا ۔اسی دوران ایک اور نوجوان جس نے اپنی خواہشات کو ترک کرکے اپنی نسلوں کی آزادی کے لئے قربانی دے دی۔ اس نوجوان نے بھی اپنی جان قربان کر کے تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

    مجاہد کشمیر کا بہادر بیٹا کمانڈر ریاض نیکو کی شہادت کے بعد کشمیر کے نوجوانوں میں مزید جدوجہد آزادی کا جذبہ پیدا ہوا۔اپنی جانوں کی قربانیوں سے نہ ڈرنے کی ایک عظیم داستان جو قائم ہو رہی ہے یہ اپنی مثال ہے۔

    اس تحریک آزادی کی گونج تو پوری دنیا سن رہی ہے مگر یہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے آج جس مشکل میں کشمیر کے لوگ ہیں۔ یہی مشکل گھڑی کسی بھی قوم پر آ سکتی ہے ۔دنیا کے اس ٹکڑے کو جسے جنت کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔ اس وادی کشمیر کو جہنم بنا دیا گیا ہے۔لگتا ہے آج دنیا پھر کسی محمد بن قاسم کا انتظار کر رہی ہے
    شاید کشمیر قوم اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ دنیا ہماری مدد کو نہیں آئے گی اس لیے اپنی مدد آپ کے تحت یہ تحریک آزادی ابھی تک بھرپور طریقے سے چلا رہے ہیں۔

    اب وہ جان چکے ہیں کہ اپنی جنگیں خود لڑی جاتی ہیں اب وہ زمانہ نہیں جب کسی بیٹی کی پکار پر کسی دور ریاست کا حکمران اپنے لشکر کے ساتھ پہنچ جاتا تھا۔مگر اس وقت ہر ریاست کے اپنے مفادات ہیں آج مجھے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پر تیسری بار لکھنے کا موقع ملا لیکن ہر بار اس قوم کا جذبہ دیکھ کر امید رہتی ہے۔ کہ مسلسل جدوجہد کے بعد کامیابی ضرور ملتی ہے۔ان شاء اللہ

    یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب اپنے اندر غدار پیدا ہو جائیں تو پھر وہ تحریکیں اتنی مضبوط نہیں رہتی دشمن ہمیشہ آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لئے طاقت کا استعمال تو کرتا ہی ہے۔ لیکن ایسی تحریکوں کے لشکر میں غداروں کی تلاش بھی جاری رکھتا ہے۔ایسے لوگوں کو خرید لیتا ہے۔ جو اپنے حقوق اپنے ضمیر اور آنے والی نسلوں کی آزادی کا سودا کرتے ہیں۔بس یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کی یہ جنگ لڑی تو جا رہی لیکن کچھ اپنے آج بھی دشمن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

    جو اس تحریک آزادی کو کمزور کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں ایسی بیشمار قربانیوں کے بعد جب ظالم سے آزادی ملے گی تو اس قوم کو اپنی آزادی کی قدر بھی ہو گی۔ بہت خوش قسمت ہیں وہ قومیں اور تاریخ میں زندہ ہیں وہ لیڈرز جنہوں نے اپنے آنے والی نسلوں کی آزادی کے لئے قربانیاں دیں۔ اور آج وہ قومیں آزاد فضائوں میں سانس لے رہی ہیں۔

    اللہ پاک کشمیریوں کی اس تحریک آزادی کو کامیاب بنائیں۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • 14اگست اور قائد کی باتیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    14اگست اور قائد کی باتیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    ایک اور یوم آزادی منایا جا رہا ہے جس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم نے آزادی حاصل کی۔ہم نے دو قوموں سے آزادی حاصل کی ایک انگریز اور دوسرا ہندو سامراج سے۔ جبکہ ہمارے ہمسائے نے صرف ایک سے آزادی حاصل کی اور وہ تھا برطانیہ۔
    پاکستان بننے کا خواب جو شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے دیکھا وہ رمضان المبارک کی ستائیسویں اور اگست کی 14 تاریخ کو قائد اعظم نے حقیقت بنا کر پورا کیا۔ پاکستان قائد کی انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد کے بعد دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
    قائد اعظم ایک با اصول اور سچے انسان تھے مسلمانوں کے عظیم لیڈر اور رہنما تھے۔ ایک ایسا سچا انسان جس نے اپنے تن من دھن کی بازی لگا دی۔علامہ اقبال کا جو خواب تھا قائد کی محنت اور ذہانت کے بعد مسلمانوں کو آزاد اسلامی ریاست کی صورت میں ملا۔
    14اگست ہماری آزادی کا دن ہے اس دن تنقید کرنا معاشرتی آداب کے خلاف ہے. لیکن آزادی کا دن ضرور ہے مگر کس آزادی کا؟ آزادی ایک قوم کی جو تھی؟ آزادی ایک قوم کی جو ہے؟ آج ہم بحثیت ایک قوم اپنی کارگردگی کا جائزہ لیں تو بڑی افسوسناک حقیقت سامنے آئے گی۔ کہ ہم نے اس طویل عرصے میں اپنے ملک کو چلانے کے اہل ابھی تک نہیں ہوئے جس کا خواب ہمارے قائد نے دیکھا تھا۔
    بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے جمہوری اقدار، آئین کی پاسداری اور برابری کے علاوہ انسانی حقوق کی تکریم پر مبنی معاشرے پر قائم ہونے کا خواب دیکھا تھا۔
    قائد اعظم نے 2مارچ 1940 کو ایم ایس ایف کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ”کسی قوم کا ایک ملک کو چلانے کیلئے تین بڑے بڑے ستونوں کی ضرورت ہے۔ تعلیم، معاشی طور پر مستحکم ہونا اور بیرونی جارحیت کے خلاف ہر وقت تیار رہنا یعنی دفاعی لحاظ سے مضبوط ہونا۔
    قائد اعظم کے مطابق کسی ملک کو چلانے کیلئے پہلی شرط تعلیم ہے جس میں بدقسمتی سے آج تک ہم نے وہ ترقی حاصل نہیں کی جسکا خواب ایک زمانے میں دیکھا گیا تھا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم پر دوسرے معاملات کو ترجیح دی۔ اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پر کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کی۔ جسکی وجہ سے ہماری شرح خواندگی پچاس سے ساٹھ کے درمیان میں اٹکی ہوئی رہتی ہے۔ جبکہ ہمارے خطے کے دوسرے ممالک ہم سے بہت آگے ہیں جس میں سری لنکا اور ایران سب سے بہتر ہیں۔ ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں پائی جانے والی خرابیاں دور کرنے پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دینی چاہیے تھی۔ اس شعبے میں ناکامی کی اصل وجہ اور بنیادی وجہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طالب علم اور معلم دونوں کیلئے سہولیاتوں کی شدید قلت ہے۔ جس کی وجہ سے نہ کوئی دل لگا کر پڑھتا ہے اور نہ کوئی اپنےدل سے فروغ تعلیم کیلئے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اور آج تک پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی کو یہی نعرہ لگاتے سنتے آئے ہیں کہ ہم تعلیم پر اپنی پوری توجہ دیں گے بعد ازاں حکومت میں آتے ہی ان کو یہ شعبہ نقصان لگنے لگتا ہے کیونکہ اسکی مالی انکم زیرو ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 30اکتوبر 1948 کو لاہور میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ” تعلیم ہماری قوم کیلئے زندگی اور موت والا مسلئہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ اگر آپ نے خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ کیا تو خدا نخواستہ ہم مٹ نہ جائیں۔ اپنی غفلت سے ہم نے قائد کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کر دیکھایا ہے۔
    اگر بات معاشی استحکام کی کاروبار، تجارت اور صنعت کے میدان میں کی جائے تو یہ بڑی پریشان کن ہے۔ یہاں کوئی اطمینان کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں انتہا پسندی، بے یقین سیاسی صورتحال اور دہشت گردی نے سب کو پریشان کیا ہوا ہے۔ اور تجارت کی صورتحال یہ ہے کہ ہم آزادی سے لے کر اب تک ہماری درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات بلکل کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر یہ معاملہ بھی ذرمبادلہ پر بوجھ ڈالتا ہے اور یہ اس وقت تک بہتری نہیں آئے گی جب تک ہم درآمدات اور برآمدات میں توازن نہ قائم کر لیں۔ پاکستان کی پہلی سالگرہ پر 1948 میں قائد اعظم نے فرمایا کہ ” ہمارے دشمنوں نے پاکستان کو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کی انہوں نے سمجھا کہ پاکستان اپنی معیشت کو قابو نہیں کر سکے گا اور جلد ہی دیوالیہ ہو جائے گا۔ وہ جو تلوار سے حاصل نہ کر سکے وہ ہمارے تباہ شدہ مالی حالات سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا پہلا بجٹ ہی فاضل بجٹ رہا۔ اور دشمنوں کو زبردست مایوسی اٹھانا پڑی۔ آج جو پاکستان مالی مشکلات کا شکار ہے اسکی بڑی وجہ ہم نے اپنے پاؤں چادر سے باہر پھیلا لیے ہیں ہمیں اپنی چادر کے سائز کو بڑا کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ساتھ اپنے پاؤں بھی سمیٹنے چاہیے اور سادگی اپنائی جائے۔جیسے ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے کہا تھا اب اسے عملی طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ تعلیم اور تجارت کے برعکس ہم نے دفاعی لحاظ سے کافی ترقی کی ہے۔ پاکستان کی فوج ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہے اور ہر نوعیت میں خود کا دفاع کرنے کے اہل ہے ہماری فوج ایٹمی اسلحے سے لیس ہے جس میں دشمن ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔
    23جنوری 1948 کو قائد اعظم نے پاکستان نیوی کو اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کتنا ہی مظبوط نہ ہو اپنے وطن کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری ہماری ہے۔
    یوں غالباً یہ واحد ادارہ جس میں ہم قائد اعظم کے خواب کے مطابق پورے اترے۔

  • ‏میرا پہلا پیار ۔۔۔۔۔پاکستان تحریر سویرااشرف

    ‏میرا پہلا پیار ۔۔۔۔۔پاکستان تحریر سویرااشرف

    پاکستان ہمارا پیار ترین ملک جس کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں پیش کی۔ہماری عظمت کا نشان، ہمارے جینے کی وجہ، ہمارا فخر، ہمارا پیارا پاکستان
    بابا جی واصف علی واصفؒ نے فرمایا تھا کہ” پاکستان نورہے اور نور کو زوال نہیں “۔ اللہ کے خاص کرم سے ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔اگر اس وطن کو حاصل کرنے کی جدوجہد پر روشنی ڈالی جاۓ تو قربانی کی کٸی دستانیں ملیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں اقبالل نے خواب دیکھا، قاٸد نے تکمیل کی، چوہدری رحمت علی نے نام رکھا اور یوں پاکستان بن گیا۔ جبکہ لفظ پاکستان کا ایک ایک حرف اپنے اندر لمبی لمبی داستان رکھتا ہے۔یہ ایک بہت طویل، تکلیف دہ، تھکا دینے والا سفر تھا۔ 23 مارچ 1940 سے لیکر 14 اگست 1947 تک کے سفر میں ہمارے آباواجداد نے بیشمار قربانیاں دی۔ ہجرت کے دوران لاکھوں لوگ شہید ہوۓ، ہزاروں بچے یتیم ہوۓ، کٸی عورتوں کے سہاگ اجڑے، سینکڑوں لوگ اپنے پیاروں سے دور ہوۓ،بچے اپنی ماوں سے دور ہوۓ، لوگوں کے ہاتھ پاوں کٹ گٸے،راوی کے پانی کا رنگ خون جیسا سرخ ہو گیا۔ ہجرت کے تکلیف دہ سفر کے بعد پاکستان آ کر بغیر کسی سامان کے زندگی کا آغاز کرنا، اتنی لازوال قربانیوں کے بعد ہمیں یہ پیارا وطن حاصل ہوا جس میں ہم آج سانس لے رہے ہیں اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں۔پاکستان ہمارے بزرگوں کی نشانی ہے۔ اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ اس پر جان نثار کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہیئے۔لیکن ہم احسان فراموش لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے? کیا ہم نے کبھی خود سے تنہاٸی میں سوال کیا ہے کہ اس سرزمین کو ہم نے کیا دیا ہے? گندی سڑکیں، کوڑا کرکٹ، گندگی،اپنے ملک کا کھا کر اپنے ملک کو ہی گالیاں دیتے ہیں?
    بطور پاکستانی ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمارا پہلا پیار یہ ملک ہو۔ جیسے ہم اپنے محبوب ترین چیز کی حفاظت کرتے ہیں ویسے ہی اپنے محبوب وطن کی سڑکیں اور گلیاں صاف رکھیں، اسکو گندگی سے محفوظ رکھیں، پودے لگا کر اسکو سرسبز بناٸیں، کرپشن، سود، رشوت خوری، حرام کاموں سے اسکو پاک کریں کیونکہ اس کی خوشحالی کی لیئے اخلاص کے ساتھ کام کرنا ہماری نیت اور ارادہ ہونا چاہیئے۔ ہمیں اس کی مضبوطی اور حفاظت کے لیئے اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے تا کہ اس کی دیواریں اتنی مضبوط ہوں کہ کوئی دشمن اس کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہ سکے۔
    پاکستان ہمارا فخر ہے، غرور ہے، ہماری عزت ہے۔اس کی مٹی،ہوا،پانی اسکا ایک ایک ذرہ ہماری عزت ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے اسکے بغیر نہ ہماری کوٸی پہچان ہے نہ کوٸی شناخت، ماں باپ کی شناخت ملنے سے پہلے یہ زمین ہمیں شناخت دیتی ہے ۔ہم اسکی مٹی پربستے ہیں۔ یہاں اپنے اور اپنے بچوں کے لیئے روزی روٹی کما تے ہیں۔آزادی سے سانس لیتے ہیں، ہم اسی مٹی پر جیتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں۔ یہاں ہم ہمارے پیارے بستے ہیں۔ یہاں ہماری بزرگ ہستیاں دفن ہیں۔ ہمارے آباو اجداد دفن ہیں۔ایک دن ہمیں بھی اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور روزِ قیامت اس مٹی سے اٹھائے جائیں گے۔
    ہم جذبہ و جوش کا پہاڑ رکھتے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے، ہمارے سینے فخر سے چوڑے ہوجاتے ہیں۔جہاں بھی پاکستان کا ترانا گونجتا ہے، سن کر دل کو قرار ملتا ہے کہ یہ ترانہ ہماری آزادی کا اعلان ہے۔ دل ایک عجیب سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
    پاکستان پانچ دریاؤں کی خوبصورت سرزمین ہے۔اللہ کی خاص عنایت ہے کہ یہاں چار موسم پائے جاتے ہیں۔ یہاں مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں۔ اس کی سرزمین قیمتی ہے۔پاکستان کے بہت سے علاقے اپنی خوبی میں ثانی نہیں رکھتے اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
    یہ

    لیکن افسوس ہماری الوطنی صذف چودہ اگست پر دیکھنے کو ملتی ہے ہم گھروں پر جھنڈے لگا کر اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں کری ضرور کریں لیکن اس جھنڈے کو زمین پر کبھی بھی گرنے نہ دیں۔ یہ جھنڈا ہماری آن، بان، شان اور پہچان ہے۔ اور اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ پودے لگا کر اپنے ملک کو سرسبزو شاداب بناٸیں پھر جھنڈیوں اور پودوں دنوں کی حفاظت کریں۔
    انبیاء کرام علیہ السلام بھی اپنے وطن سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہمارے پیارے آقا رسول پاکِ ؐ کو مکہ سے بہت محبت تھی۔ جب مدینہ میں آپؐ جا بسے تو آپؐ نے مکہ شریف کے لیئے دعائیں کی۔ پس! وطن سے محبت ہمارے ایمان کا کا جزو ہے۔ انشاء اللہ پاکستان نے قیامت تک قائم دائم رہنا ہے اور دنیا پر راج کرنا ہے۔
    14 اگست کا دن جوش و جذبے سے مناتے ہوۓ قاٸداعظم علامہ اقبال سمیت سب رہنماوں اور آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں۔اللہ پاک انکی قربانی قبول فرماۓ آمین۔
    اللہ ہمیں آزادی جیسی نعمت کی قدر کرنے اور اس سرزمین کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین
    خدا کرے میری ارضِ پاک پر اترے
    وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    آمین
    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پاٸندہ باد

    ‎@IamSawairaKhan1

  • میری دھرتی کے محافظ .تحریر: فروا نذیر

    میری دھرتی کے محافظ .تحریر: فروا نذیر

    انسان ایک معاشرتی جانور ہے۔ انسان اور حیوان میں فرق صرف شعور کا ہے۔ انسان نے جب شعور حاصل کیا تو یہ دوسری مخلوقات سے افضل اور نمایاں ہو گیا۔ شعور کا تقاضہ ہے کہ ایک خاص تہذیب اور رہن سہن اختیار کیا جائے۔ جب مختلف تہذیبیں وجود میں آتی ہیں تو مختلف قومیں، ممالک اور معاشرے بنتے ہیں۔ جب معاشرے اور قومیں الگ الگ ہوتی ہیں تو ان کے مفادات بھی علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اور جب مفادات علیحدہ ہوں تو اپنے مفادات اور حدود کا دفاع لازم ہو جاتا ہے۔
    پاکستان ہمارا ملک ہے۔ ہمارا اپنا ایک الگ نظریہ، اپنی جغرافیائی حدود، اپنا ماضی اور اپنی اخلاقی روایات ہیں۔ پاکستان کے بھی اپنے مفادات اور محافظ ہیں۔ پاکستان روزِ اول سے ہی اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ چنانچہ پاکستان کو پہلے دن سے ہی مختلف سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارا سب سے پہلا دشمن ہمارا ہی ہمسایہ بنا۔ پاکستان کی شہہ رگ ہی پاکستان کے حوالے نہیں کی گئی۔ ان سب حالات میں وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان کو اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک سے محفوظ رکھنا واقعی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کام افواجِ پاکستان کے ذریعے کیا۔ افواجِ پاکستان شروع سے ہی انتہائی کم وسائل کے باوجود احسن طریقے سے پاکستان کا دفاع کرتی آ رہی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں ایک بھی آرڈیننس فیکٹری نہیں آئی۔ لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان نے ہمت نہیں ہاری اور وجود میں آنے کے ایک سال بعد ہی لڑی جانے والی جنگ میں کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارت سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد کی جنگوں میں بھی پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے۔
    آخر کون ہیں وہ جو دشمن کے توپوں کے سامنے سینہ سپر کرتے ہیں؟ کیا وہ فرشتے ہیں؟ جنات ہیں؟ یا کوئی اور نادیدہ مخلوق؟
    وہ افواجِ پاکستان کے جوان ہیں۔ جو زمین پہ ہوں تو شیر، فضا میں ہوں تو شاہین اور پانی میں ہوں تو شارک بن جاتے ہیں۔ حالت جنگ میں پہلے مورچوں پہ موجود ہوتے ہیں اور دشمن کے گولوں کو اپنے سینے پہ روکتے ہیں۔ لیکن مادرِ وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے۔ جب حالتِ امن ہو تو اکثر اوقات سول اداروں کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی قدرتی آفت آئے یا کہیں ایمرجنسی ہو جائے، ایک ایسا فقرہ ہے جسے سننے کے بعد ہر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کی سانس میں سانس آ جاتی ہے اور وہ ایک فقرہ یہ ہے:-
    "افواجِ پاکستان نے کنٹرول سنبھال لیا”
    بارڈر پہ جنگ ہو یا شہری علاقوں میں زلزلہ، دیہات میں طوفان ہو یا قصبوں کی آگ، ہر جگہ افواجِ پاکستان کے سپوت ہی پہلی صفوں میں ملتے ہیں۔ ہر جگہ قربانی اور دفاعِ وطن کے جذبے سے سرشار یہ جوان دفاعِ وطن میں مگن ہیں۔ کہیں کندھوں پہ رائفل لئے ہوئے مورچوں کی حفاظت کر رہے ہیں تو تو کہیں منفی بیس ڈگری کے درجۂ حرارت میں پاکستان کے تاج سیاچن کی چوٹیوں کے دفاع میں مگن ہیں۔ کہیں فضاؤں اور سمندروں کا سینہ چیرتے ہوئے وطن کے رکھوالے بنے ہوئے ہیں تو کہیں گمنام مجاہد بن کر اس دھرتی ماں کی حفاظت کے کئے گئے وعدے کی تکمیل کے لئے دشمنوں کے دیس میں بھیس بدلے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی بھی گمنامی میں گزرتی ہے اور موت بھی گمنامی میں آتی ہے۔ اس دھرتی ماں کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے۔
    صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلیبیوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کے نت نئے طریقے آزمائے اور ایجاد کئے۔ جن میں ایک یہ بھی تھا کہ افواج اور عوام میں اگر دوری پیدا کر دی جائے تو اس ملک پر آسانی سے قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ اسی وقت سے شروع ہو چکا ہے۔ کبھی کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی کیا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ وطن بیزار لوگ افواجِ پاکستان پر تنقید کرنا ثواب سمجھتے ہیں اور ہماری بھولی بھالی عوام ان پر یقین کر کے مزید آگے پھیلانے میں بھی معاون بن جاتی ہے۔ جیسے پچھلے دنوں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے بارے میں ایک افواہ اڑائی گئی کہ انہوں نے آسٹریلیا میں کوئی جزیرہ خریدا ہے۔ حالانکہ حقیقتاً دنیا میں کہیں بھی اس جزیرے کا کوئی وجود نہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے جنرل (ر) کیانی ایک دن بھی بیرونِ ملک نہیں گئے، وہ راولپنڈی میں اپنے گھر میں رہتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کس حد تک پراپیگنڈہ ہو رہا ہے۔
    دشمن سالانہ اربوں ڈالر اس انفارمیشن وارفیئر پر خرچ کر رہا ہے۔ تاکہ عوام اور افواج کے درمیان تناؤ قائم کیا جا سکے۔
    لیکن ہم نے اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا اپنے خاندان سے دور تپتے صحراؤں میں دن رات دشمن کی گولیوں کے نشانے پہ کھڑے ہو کر دھرتی ماں کی حفاظت پہ ڈٹے ان جوانوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا۔
    ایک طاقت ور فوج ہی ایک مضبوط ملک کی علامت ہے۔
    اللہ پاک پاکستان کو قائم و دائم رکھے۔ آمین
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر: سیدہ بخاری

    وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر: سیدہ بخاری

    تیرہ اور چودہ کی درمیانی شب، جونہی گھڑی کی سوئیاں بارہ کے ہندسے پر پہنچیں مصطفی علی ہمدانی کی آواز ریڈیو سٹیشن میں گونج اٹھی۔
    "السلام علیکم پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس، ہم لاہور سے بول رہے ہیں”
    آج پاکستان کے پچھترویں یومِ آذادی کے موقع پر جب میں یو ٹیوب پر یہی اعلان سنتی ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے آنسو امڈ آتے ہیں اور میرا ذہن اور دل چوہتر سال پیچھے چلا جاتا ہے، اور میں خود کو ان لوگوں میں محسوس کرتی ہوں جنہوں نے اپنے کانوں سے یہ اعلان سنا ہوگا اور اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا ہوگا۔
    ہم ان لوگوں کے خون اور انکی قربانیوں کا قرض کبھی نہیں چکا سکتے، ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انکی جانوں، مال اسباب اور لٹی پٹی عزتوں کا بدلہ کبھی چکا سکیں گے ۔
    لیکن ہم اتنا تو ضرور کر سکتے ہیں کہ جو پاکستان ہمارے بڑوں بیش بہا قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اسکو آگے بڑھانے، اسکا نام روشن کرنے اور ساری دنیا کے سامنے اسکا مثبت چہرہ دکھانے کی کوشش کریں 
    یہ زمین مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
    اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
    پاکستان ہمارے لئے اللہ کا خاص انعام ہے اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ اللہ کے اس انعام کی قدر کریں اور اسکو آگے بڑھانے، ساری دنیا میں اسکی عزت اور نام بنانے کے لئے مثبت کردار ادا کریں۔
    اس ملک کی ماؤں نے بہت سے ہیرے جنے ہیں جنہوں نے پاکستان کی شان بڑھائی اور وہ آج بھی پوری آب و تاب سے چمک رہے ہیں،
    قائد اعظم سے لے کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک اللہ پاک نے اس ملک کو بہت سے عظیم لوگوں سے نوازا ہے۔
    کوئی اس ملک کو بنانے کے لئے اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر دن رات  جُتا رہا تو کوئی اسکو اسکی حفاظت کیلئے اپنی جان و مال اور گھرانے کی پرواہ کئے بغیر سرحدوں پر پہرے دیتا رہا اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتا رہا ،
    کوئی اسکو آگے بڑھانے لئے اپنے دن رات ایک کرتا رہا تو کوئی اس کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے بیرونی طاقتوں سے لڑتا رہا۔
    اس ملک نے بہت بہادر بیٹے اور بیٹیاں اپنی آغوش میں سمیٹ رکھے ہیں جنہوں نے اسکا نام روشن کرنے میں ہر ہر لمحہ اپنا بہترین کردار ادا کیا۔
    گو کہ ہم ایک ترقی پزیر ملک ہیں لیکن اللہ پاک نے اس ملک کو بہترین افواج سے نوازا ہے ،
    1979 سے 1989 تک دس سال کا عرصہ روس
    نے افغانستان کے بہانے پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ کے فضل سے ہمارے بہادر جوانوں کی شجاعت اور بہترین حکمت عملی کی وجہ سے روس ناکام ہو کر واپس لوٹ گیا اور اسی طرح 2001 میں امریکہ بہادر اور اسکے اتحادیوں نے ایک مرتبہ پھر سے افغانستان کے بہانے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بہت کوشش لیکن یہ ساری دنیا نے دیکھا کہ الحمدللہ ہمارے ملک کی ایجنسیوں  نے انکے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا اور امریکہ کو بھی اس میں منہ کی کھانی پڑی۔
    اور پھر اپنے آقاؤں کی دیکھا دیکھی کچھ لگڑ بگڑ 26 فروری کو جھوٹی سرجیکل سٹرائیک کرنے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے لیکن ہمارے شاہینوں نے انکو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا اور پھر ساری دنیا کے سامنے اللہ نے ہمارے دشمن کو زلیل و رسوا کیا۔
    اسی لئے ہمارے ہر دشمن کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ
    ” There is no power on earth that can undo Pakistan.”
    اور میرا یہ ایمان ہے کہ لا الہ کے نام پر بننے والا یہ ملک ہمیشہ قائم رہے گا اور اسکو کبھی زوال نہیں آئے گا۔

    دہشتگردی کی یہ جنگ جو ہم پر ہمارے کم ظرف
    ہمسائیوں کی طرف سے مسلط کردی گئی تھی اس
    میں اس بہادر قوم اور فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اور مجھے اللہ کی ذات پر پورا یقین ہے کہ ان قربانیوں
    کا صلہ ہمیں ضرور ملے گا اور پاکستان اس دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی مانند ابھرے گا۔

    سوشل میڈیا پر جب بھی کبھی میں لوگوں کو پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مجھے دکھ ہوتا ہے کہ کیوں ہر وقت ہم  اپنے وطن سے شکوے کرتے رہتے ہیں اور کیوں ہم اپنے وطن کے صرف منفی پہلو ہی اجاگر کرتے ہیں۔
    ہمیں شرمین عبید نہیں بننا ،ہمیں اپنے وطن کے مثبت پہلو بھی اس دنیا کو دکھانے ہیں، اگر یہاں دھوکہ دہی ہے ،بے حسی ہے تو یہاں عبد الستار ایدھی اور مسرت مصباح جیسے عظیم لوگ بھی ہیں جو بس خاموشی سے اس وطن کے مجبور اور بے بس لوگوں کو بنانے میں لگے رہتے ہیں،
    ایکدوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کے بجائے ہمیں اپنے حصے کا دیا جلانا ہوگا ہے،بے غرض ہو کر اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
    برائیاں ہیں بھی تو کیا ہوا؟
    ہر ملک میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن کون اپنے ہی گھر کی برائیوں کا چرچا کرتا ہے؟
    کون اپنے عیب لوگوں کو دکھاتا ہے؟
    ہمیں بھی اپنے حصے کا دیا جلانا ہے ، اس ملک کو آگے بڑھانا ہے، جتنا ہمارے بس میں ہے ہمیں اتنا فرض ادا کرنا ہے۔
    تنکا تنکا جڑ کر آشیانہ بن جاتا ہے ایسے ہی ہمیں جھوٹے جھوٹے مثبت اقدام سے اپنے وطن کا نام روشن کرنا ہے اور اسکی بہتری کے لئے ساتھ مل کر کوشش کرنی ہے کیونکہ
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تم کو
    ذندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

  • غیبت ایک مرض ۔حصہ سوم  تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض ۔حصہ سوم تحریر محمد آصف شفیق

    کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور مذکورہ ارشاد گرامی کے ذریعہ گویا ان پر یہ واضح کیا کہ تم نے جو بات کہی ہے وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے اس قدر ہیبت ناک ہے کہ اگر بالفرض اس کو کسی دریا میں ملا دیا جائے تو دریا اس کے سامنے ہیچ ہو جائے اور یہ چند الفاظ اس دریا کی وسعت و عظمت کے باوجود اس پر غالب آ جائیں اور اس کو متغیر کر دیں اور جب ان الفاظ کے مقابلہ میں دریا کا یہ حال ہے تو سوچو کہ تمہارے اعمال کا کیا حشر ہو سکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے اس درجہ کے عیب کو بقصد حقارت بیان کرنا فلاں شخص کو تاہ قد ہے غیبت ہے
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میں کسی شخص کی نقل اتاروں اگرچہ میرے لیے ایسا اور ایسا ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی اگر کوئی مجھے بے حساب مال و زر اور کتنا ہی زیادہ روپیہ پیسہ بھی دے تو بھی میں کسی کی نقل اتارنا گوارا نہ کروں۔مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 792
    تشریح
    کسی کی نقل اتارنا قولی ہو یا فعلی ، حرام اور غیبت محرمہ میں داخل ہے۔
    حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس مسلمان بھائی کی مدد کرے بشرطیکہ وہ مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔ اور اگر وہ مدد کرنے پر قادر ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مواخذہ کرے گا۔ (شرح السنہ)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 911

    تشریح
    مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے سامنے بھائی کی غیبت کی جا رہی ہے اور اس کے عیوب کو بیان کر کے اس کی حثییت و عزت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ اگر وہ اس پر قادر ہو تو اپنے اس مسلمان بھائی کی ذات و حثییت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اس طرح نہ صرف اپنے ایک مسلمان بھائی کی مدد ہوتی ہے بلکہ اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں اللہ کی مدد نصرت کا مستحق بنایا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی اس ذمہ داری پوری کرنے سے گریز کرے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ قدرت کا ہاتھ اس کا گریبان پکڑے گا اور اس کو دنیا و آخرت میں مواخذہ الٰہی سے دو چار ہونا ہوگا۔
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی تباہ کن برائی سے محفوظ رکھیں ،دین اسلام کو سمجھنے اور نبی کریم ﷺکی سنت پر عمل کرنے والا بنا دیں
    محمد آصف شفیق
    @mmasief
    حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا غیبت کرنا زنا کرنے سے زیادہ سخت برائی ہے، صحابہ ؓنے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺغیبت زنا سے زیادہ سخت برائی کس طرح سے ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا اس طرح کہ جب آدمی زنا کرتا ہے تو توبہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا جب تک کہ اس کو وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے یعنی زنا کاری چونکہ اللہ کی معصیت و نافرمانی ہے اس لیے وہ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اس کو بخش دیتا ہے جبکہ غیبت کرنا حق العباد سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ غیبت کرنے والے کو اس وقت تک نہیں بخشتا جب تک وہ شخص اس کو معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زنا کرنے والا توبہ کرتا ہے اور غیبت کرنے والے کے لیے توبہ نہیں ہے۔ (ان تینوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 807
    تشریح
    اور غیبت کرنے والے کے لیے توبہ نہیں ہے، غالباً اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص زنا میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کے دل پر اللہ کا خوف طاری ہو جاتا ہے اور اس تصور سے لرزنے لگتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مواخذہ کر لیا تو نجات کا راستہ نہیں ملے گا اس لے وہ اپنے اس فعل شنیع پر نادم و شرمسار ہو کر توبہ کرتا ہے جب کہ غیبت اگرچہ اللہ کے نزدیک بڑے گناہ کی چیز ہے کہ مگر غیبت کرنے والا اس کو ایک ہلکی چیز سمجھتا ہے کیونکہ جب کوئی برائی عام ہو جاتی ہے تو اس کی قباحت دل سے نکل جاتی ہے اور لوگ اس میں مبتلا ہو جانے کی برائی محسوس نہیں کرتے یا یہ بات بھی بعید از مکان نہیں ہو سکتی ہے کہ غیبت کرنے والا غیبت کو سرے سے کوئی برا فعل ہی نہ سمجھے بلکہ اس کو جائز و حلال جانے اور اس طرح وہ کفر کے بھنور میں پھنس جائے، اور یا اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ غیبت کرنے والا توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بذات خود کارگر نہیں ہوتی بلکہ اس توبہ کا صحیح و مقبول ہونا اس شخص کی رضا مندی اور اس کی طرف سے معاف کر دیئے جانے پر موقوف ہوتا ہے جس کی اس نے غیبت کی ہے چنانچہ اوپر کی حدیث سے یہی واضح ہوتا ہے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں (ایک دن مجھے کیا سوجھی کہ) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ بیٹھی کہ صفیہ کے تئیں بس آپ کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں اس بات سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے قد کی کوتاہی(چھوٹے قد کا ) کا ذکر کرنا تھا رسول اللہﷺ نے میری یہ بات سن کر ناگواری کے ساتھ فرمایا تم نے اپنی زبان سے ایک ایسی بات نکالی ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملایا جائے تو بلاشبہ یہ بات دریا پر غالب آ جائے (احمد، ترمذی، ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 788
    تشریح
    حضرت صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ تھیں ان کا قد چھوٹا تھا چنانچہ ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے اس عیب کا ذکر کریں اور اس طرح انہوں نے مذکورہ الفاظ اپنی زبان سے ادا کیے ظاہر ہے کہ یہ غیبت تھی جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مبتلا ہوئیں اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور مذکورہ ارشاد گرامی کے ذریعہ گویا ان پر یہ واضح کیا کہ تم نے جو بات کہی ہے وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے اس قدر ہیبت ناک ہے کہ اگر بالفرض اس کو کسی دریا میں ملا دیا جائے تو دریا اس کے سامنے ہیچ ہو جائے اور یہ چند الفاظ اس دریا کی وسعت و عظمت کے باوجود اس پر غالب آ جائیں اور اس کو متغیر کر دیں اور جب ان الفاظ کے مقابلہ میں دریا کا یہ حال ہے تو سوچو کہ تمہارے اعمال کا کیا حشر ہو سکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے اس درجہ کے عیب کو بقصد حقارت بیان کرنا فلاں شخص کو تاہ قد ہے غیبت ہے
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میں کسی شخص کی نقل اتاروں اگرچہ میرے لیے ایسا اور ایسا ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی اگر کوئی مجھے بے حساب مال و زر اور کتنا ہی زیادہ روپیہ پیسہ بھی دے تو بھی میں کسی کی نقل اتارنا گوارا نہ کروں۔مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 792
    تشریح
    کسی کی نقل اتارنا قولی ہو یا فعلی ، حرام اور غیبت محرمہ میں داخل ہے۔
    حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس مسلمان بھائی کی مدد کرے بشرطیکہ وہ مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔ اور اگر وہ مدد کرنے پر قادر ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مواخذہ کرے گا۔ (شرح السنہ)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 911

    تشریح
    مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے سامنے بھائی کی غیبت کی جا رہی ہے اور اس کے عیوب کو بیان کر کے اس کی حثییت و عزت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ اگر وہ اس پر قادر ہو تو اپنے اس مسلمان بھائی کی ذات و حثییت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اس طرح نہ صرف اپنے ایک مسلمان بھائی کی مدد ہوتی ہے بلکہ اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں اللہ کی مدد نصرت کا مستحق بنایا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی اس ذمہ داری پوری کرنے سے گریز کرے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ قدرت کا ہاتھ اس کا گریبان پکڑے گا اور اس کو دنیا و آخرت میں مواخذہ الٰہی سے دو چار ہونا ہوگا۔
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی تباہ کن برائی سے محفوظ رکھیں ،دین اسلام کو سمجھنے اور نبی کریم ﷺکی سنت پر عمل کرنے والا بنا دیں

    @mmasief