Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    جو عبرت سے نہ سمجھے ، دلائل بھی نہ مانے تو
    قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی!
    بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے پر آج میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کیسا محافظ ہے یہ مرد جس سے عورت خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتی۔ کیا محافظ ایسے ہوتے ہیں؟
    14 اگست ۔۔ آزادی کا دن۔۔ جشن کا سماں۔۔ جگہ بھی مینار پاکستان!!کیا دیکھنے کو ملتا ہے کہ حوا کی بیٹی کو دن کے وقت میں ایک نہیں ، دو نہیں ، سو نہیں بلکہ پورے 400 درندے یک دم گھیر لیتے ہیں ۔ معافی چاہتی مگر مرد تو دور کی بات میں انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین سمجھتی ہوں۔ پھر ! پھر کیا حوس کے یہ پجاری دل بھر کے اس کی عزت کا تماشہ بناتے ہیں، ہوا میں اچھالتے ہیں ا ور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اور حد یہاں ختم ہوتی کہ اس کو ان درندوں سے بچانے کی بجائے وہاں کچھ حیوان اس سب کی ویڈیوبنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ بھی آزادی کے دن، اقبال پارک میں۔۔ کیا ہم سب پاکستانی واقعی آزاد ہیں!! یا اس ملک میں صرف یہ درندے آزاد ہیں جو جب چاہیں ، جہاں چاہیں، جسے چاہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیتے ہیں، جنہیں اب تک کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں لگام ڈالنے میں ناکام رہیں۔
    چلیں اس بات کو بھی مان لیتے ہیں کہ لڑکی خراب تھی وہ ، ٹک ٹاکر تھی، ناچ رہی تھی ، بے حیا تھی اس لیے اس کے ساتھ یہ سب ہوا مان لیتے سوشل میڈیا پہ ان درندوں کو ڈیفنڈ کرنے والوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں۔ مگر ابھی پچھلے ہی عرصے کی بات ہے جب راولپنڈی میں ایک لڑکی جو ٹیچرتھی مکمل عبائے میں یہاں تک کہ منہ بھی ڈھکا ہواہاتھ میں کچھ کتابیں لیے نظریں جھکائے صبح کے وقت سکول میں بچوں کو تعلیم دینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک درندہ بائیک پہ آتے ہوئے اس کو عبائے سمیت زور سے کھینچتا ہوا گرا کہ چلا جاتا ہے۔ کیا یہ لڑکی بھی خراب تھی؟اس کا کیا قصور تھا۔ چلیں اسے بھی چھوڑیں پر یہ سوچیں کہ زینب جیسی ان ننھی بچیوں کا کیا قصو ر ہوتا جنہیں یہ درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ساری زندگی وہ اس صدمے سے نکل نہیں پاتیں۔آج جو بھی سوشل میڈیا پہ کہہ رہا ہے کہ باحیا لڑکی کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں انہیں بتانا چاہتی جب انسان میں انسانیت کی جگہ درندگی لے لیتی ہے نہ تو اس کے لیے یہ حیا اور بے حیا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔یہ الفاظ اس کے لیے بےکار ہو جاتے ہیں۔۔ ایسے لوگ اپنی حوس کی تسکین کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔
    بس ایک چیز جو مجھے بے چین کر رہی ہے اور ذہن کو سکون نہیں لینے دے رہی کہ وہاں موجود تمام لوگوں میں سےکوئی ایک بھی مرد نہ تھا یا سارے مرد ہی ایسے ہوتےہیں ! کیا کسی ایک کا بھی نہیں دہلا! کسی ایک کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے! اپنے نبی ﷺکا سامنا کیسے کریں گے! میں پوچھتی ہوں کہ کس منہ سےنبی کی بیٹیوں کی بے حرمتی پہ روتے ہو، کیا تم کسی یزید سے کم ہو؟
    عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بنواتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو

    @MS_14_1

  • تاریخِ  افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں  کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    تاریخِ افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ،
    افغان باقی، کہسار باقی
    الحکم اللّٰہ، الملک اللّٰہ!!
    ہم سب آج کل افغانستان پر بہت سے تجزیے، کہانیاں اور خبریں دیکھ رہے ہیں، افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے چرچے اب ہر گزرتے دن کے ساتھ معمول کے معاملات لگ رہے ہیں، بیس سالہ پرانے طالبان اب جدید معاشرے کے ماڈرن گُڈ لکنگ بوائز جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
    طالبان، کٹھ پتلی افغان حکومتین جن کے سربراہان جو پاؤں جلنے پر دم دبا کر بھاگ نکلے، ایک فریق امریکہ اور اتحادی، مزید برآں خطے کے باقی ممالک کی شوروغل بھری آوازوں میں کیا کسی نے افغان قوم کی بہادری وجرات کو بھی ایک نظر دیکھا کہ خطہ ایسی دلیر قوم سے بھرا پڑا ہے کہ یہاں ماضی میں جتنے بھی حکمران آئے، اگر وہ افغان عوام سے مخلص نہیں تھے تو ان کی کرسی زیادہ دیر نہیں چلی، کٹھ پتلی حکمرانوں کی کرسیاں گرانے کی افغان عوام کی ایک تاریخ ہے، آئیے آج دیکھتے ہیں کہ ماضی میں کس کس نے افغانستان پر حکمرانی کی اور پھر کس طرح اپنی کرسی سے ہاتھ دھوئے۔

    بیسویں صدی سے شروع ہوتے ہوئے سب سے پہلے بات کرتے ہیں بادشاہ ظاہر شاہ کی۔
    ظاہر شاہ تاریخِ أفغانستان میں اس خطے پر سب سے زیادہ عرصہ حکمرانی کرنے والاے حکمران کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں جب یہ روم گئے ہوئے تھے اس دوران ان کے کزن داؤد خان نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔انہیں 2002 تک جلاوطنی میں رہنا پڑا۔ ان کا چالیس سالہ دورِ حکومت پوری أفغان تاریخ کا سب سے پرامن عرصہ جانا جاتا ہے۔طویل علالت کے بعد ظاہر شاہ نے 2007 میں 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔

    داؤد خان۔۔
    ظاہر شاہ کے دورِحکومت میں دو مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے داؤد خان 1973 میں ظاہر شاہ کی حکومت گرانے کے بعد پہلے صدر بنے۔
    1978 میں سویت یونین کے بننے کے بعد افغان خطے میں آنے والے انقلابِ ثور کے بعد داؤد خان کو اپنے خاندان کے بیشتر افراد سمیت ظالمانہ حملے میں اس وقت کی انقلابی جماعت پی ڈی پی اے کے افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ انقلابِ ثور کی تنظیم میں شامل تین افراد نور محمد ترکئی ، حفیظ اللہ امین اور ببرک کمال کا کردار کلیدی تھا۔
    داؤد خان اور خاندان کی باقیات 2008 میں ایک اجتماعی قبر سے ملے تھے جنہیں بعد میں کابل میں دفنا دیا گیا تھا۔

    نور محمد ترکئی۔۔
    انقلابِ ثور کے تین مرکزی کرداروں میں سے ایک نور محمد ترکئی تھے۔ یہ بمشکل ایک سال کا عرصہ ہی صدارت کے عہدے پر رہ سکے۔ اس ایک سالہ دورِ حکومت میں نور محمد نے قتل و غارت کی ندیاں بہا دیں تھیں۔ انقلابِ چور کی مخالفت کرنے والے ہر افغان کو کونے کونے سے ڈھونڈ کر بدلے لینے میں نور محمد نے کوئی کسر نہیں اٹھائی تھی۔
    حیران کن بات یہ ہے کہ انقلاب کے ساتھی اور داؤد خان کے تختے کو الٹانے والے حفیظ اللہ نے ہی ستمبر 1979 میں تختہ الٹا اور 8 اکتوبر 1979 کو قتل کر دیا۔

    حفیظ اللہ امین۔۔

    ان کا انجام نور محمد ترکئی سے بھی بد تر نکلا۔سویت یونین کو شک تھا کہ حفیظ اللہ کے تانے بانے امریکی ایجنسی سی آئی اے سے ملتے ہیں، دسمبر 1979 میں مشہورِ زمانہ آپریشن سویت 333 میں انکو مار دیا گیا۔

    ببرک کرمال۔۔

    ببرک کرمال جو انقلابِ ثور کے تیسرے کردار تھے، انہوں نے جب قیادت سنبھالی تو انکا عرصہِ حکومت 7 سالہ تھا۔یہ سویت یونین کی کٹھ پتلی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
    1980 کی دہائی میں جب افغان مجاہدین نے پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے سویت یونین سے لڑنا شروع کیا تو ببرک کرمال پر سویت پریشر بڑھنا شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں انکو استعفیٰ دینا پڑا اور 1996 میں کینسر سے وفات پائی۔

    نجیب اللہ ۔۔
    روسی جاسوس ایجنسی کے تربیت یافتہ نجیب اللہ نے ببرک کرمال کی جگہ جب حکومت سنبھالی تو یہ اس وقت کے اشرف غنی ثابت ہوئے، جب مجاہدین باقی سارا افغانستان اپنے نام کرتے جا رہے تھے تو نجیب نے کابل کو سنبھالنے میں بہت مزاحمت کی، آخر کار اپنے ہی دوست جنرل دوستم نے جب مجاہدین سے ہاتھ ملایا تو نجیب سے روسیوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا، بالآخر نجیب کو 1992 میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پناہ لینا پڑی۔ بہت مزاحمت کے بعد نجیب نے طالبان کے کہنے پر استعفیٰ دیا اور بھارت بھاگنے کی کوشش میں ناکام ہوئے۔ 1996 میں طالبان نے انہیں اور ان کے بھائی کو اقوامِ متحدہ کی عمارت سے گھسیٹ کر نکالا اور پھانسی پر لٹکا دیااور کئی دنوں تک کابل کے مرکز میں لٹکے رہے۔
    ملا عمر نے اس وقت نجیب کے بارے میں کہا تھا کہ، "ہم نے اسے اس لئے مارا کیونکہ یہ ہمارے لوگوں کا قاتل تھا”

    برہان الدین ربانی۔۔۔
    1992 میں سویت یونین کے انخلا کے بعد یہ ایک سال تک افغانستان کے صدر رہے، ان کے دورِ حکومت میں کابل سمیت افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں طالبان بطور حکمران ابھر کر آئے، ستمبر 2011 میں برہان الدین ربانی کو ایک طالبان خود کش حملہ آور نے پگڑی میں بم رکھ کر ان کی رہائش گاہ پر مار دیا تھا۔

    ملا عمر۔۔۔
    90 کی دہائی اور برہان الدین کے خانہ جنگی کے دور کے بعد طالبان کے دور میں ملا عمر افغانستان کے حکمران بنے، انکی حکومت کو پاکستان نے تسلیم کیا جبکہ امریکہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔11/9 کے بعد اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا۔ انکے مرنے کے دو سال بعد دنیا کو انکے مرنے کا پتہ چلا تھا۔

    حامد کرزئی۔۔۔
    2001 سے 2014 تک امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی تھے۔ جو اب بھی کابل میں طالبان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ اشرف غنی سینکڑوں ملین ڈالروں سمیت ملک سے بھاگ چکے ہیں۔

    اشرف غنی۔۔
    اشرف غنی کو اب کون نہیں جانتا۔۔ حامد کرزئی کے بعد ڈالروں سمیت ملک سے بھاگنے والے اشرف غنی کو افغان تاریخ میں اب صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اگر گزشتہ 50 سالہ تاریخ کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ افغانستان کی مٹی ہی ایسی ہے کہ یہاں سے روسی بھی رسوا ہوئے اور امریکہ بھی بے سرو سامان نکلا، حالانکہ جو کوئی بھی حکمران عوام کی امنگوں سے نہیں آیا تو افغان عوام نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں امن و سلامتی کی فضا ہوگی اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا ایک امن کا گہوارا بنے گی۔ آمین!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    @Kirankhan9654

  • حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل

    حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل

    عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام عمر بن خطاب، لقب ‘فاروق’ اور کنیت ‘ابو حفصہ’ تھی۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار بہترین علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اور پہلے مسلم لیڈر تھے جنہیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔ ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ،آپ کے سب سے قریبی دوست ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا پہلا خلیفہ چنا گیا اور انہوں نے تقریباً دو سال تک مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی، جب ابوبکر صدیق کو اپنا آخری وقت قریب دکھائی دیا تو انہوں نے اپنے قریبی رفقاء کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ انکا ساتھ اب ختم ہونے کو ہے اس لیے اب وہ اپنا اگلا خلیفہ اپنے درمیان سے کسی کو چن لیں۔ لیکن بہت سی بحث اور مشوروں کے بعد بھی جب کی فیصلہ نہیں کر سکے تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کرنے کا اختیار سونپا ۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا۔۔

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آس پاس کے کچھ لوگوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ک چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت ہی سخت مزاج اور غصیل شخصیت کے حامل ہیں تو لوگوں پر بہت سختی کریں گے۔ جسکے جواب میں
    حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت اُن سب میں سے بہترین انسان ہیں۔ حضرت عمر فاروق کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے طور پر چن لیا گیا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے اپنے لوگوں سے خطاب کیا اور خود سے اپنی توقعات کے بارے میں وضاحت کی۔۔ آپ کو اپنی سخت گیر طبیعت کے بارے میں لوگوں کی تشویش سے آگاہی تھی اس لیے اپنے خطاب میں اسکے متعلق فرمایا:

    لوگو! گواہ رہی کے مجھے آپ لوگوں کے معاملات دیکھنے کے لیے چنا گیا ہے اس لیے میری سختی آپ لوگوں کے لیے اب کمزور پڑ گئی ہے۔ لیکن میری سختی اور کھردرا پن ابھی بھی حد سے تجاوز کرنے اور جبر کرنے والوں کے لیے قائم ہے۔ اور انکے رخسار مٹی میں ملاؤں گا ۔۔ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی حفاظت کے لیے میں اپنے رخسار بھی مٹی میں ملا ڈالوں گا۔
    ساتھ ہی ساتھ آپ نے لوگوں کو بتایا کہ وہ جو کچھ بھی کاشت کرتے ہیں یا جو بھی مال غنیمت انکا ہے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے ہاں مگر بس اتنا ہی جتنا کے اللہ کا حکم ہے۔ اور اس مال کو بھی وہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ انکی تنخواہیں بڑھائیں گے اور انکی سرحدوں کی حفاظت کریں گے. آپ نے وعدہ کیا کے وہ اپنی فوج کو غیر ضروری خطرے میں نہیں ڈالیں گے اور انکو زیادہ لمبے عرصے تک اپنے خاندانوں سے دور نہیں رکھیں گے۔ اور انکی غیر موجودگی میں ریاست انکے بیوی بچوں کی ذمےداری لیے گی۔ آپ یقین رکھتے تھے کے لیڈر کا کام اپنی ریاست کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔

    آپ اتنی بڑی ریاست کے حکمران ہونے کے باوجود ،اپنے ساتھ کوئی محافظ نہی رکھتے تھے۔ مدینہ کی گلیوں میں آپ ایک عام انسان کی طرح گھومتے پھرتے تھے، حتٰی کہ رات کے وقت بھی۔ بلکہ رات کے وقت وہ جان بوجھ کر گلیوں میں گھومتے اور مجبور لاچار لوگوں کی مدد فرماتے۔

    آپ خود کو ایک معمولی انسان گردانتے لیکن تاریخ اور حقائق حمے یہی بتاتے ہیں کے آپ ایک عظیم الشان حکمران اور انسان تھے، آپ جسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے بہت مضبوط انسان تھے۔ آپ بہت سخی، نیکوکار اور عاجزی سے زندگی گزارنے والے انسان تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح کاربند تھے۔ آپ حق اور باطل کی بخوبی پہچان کر سکتے تھے۔ آپ تکلیف محسوس کرتے تھے جب امت یا کوئی ایک فرد بھی کسی تکلیف میں ہوتا اور آپ خوش ہوتے تھے جب امت کو خوشحال اور مطمئن دیکھتے تھے۔ آپ چار خلفائے راشدین میں سے تھے۔ آج بھی آپ طاقت، انصاف، پیار اور رحم کرنے میں سب کے لیے ایک مثالی شخصیت ہیں۔آپ ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔
    @NiniYmz

  • افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان حکومت کا قیام اور تشکیل ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں مضبوط اسلامی قومی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے افغان طالبان کی موجودہ حکمت عملی ماضی سے مختلف ہے طالبان کے نائب امیر اور قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر المعروف ملا برادرکو سونپی جا رہی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کو ملا برادر” کے نام سے جانا جاتا ہے جو 1994 میں افغانستان میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین بھی رہے ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبے ارزوگان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق افغانستان کے انتہائی بااثر پوپلزئی قبیلے سے ہے، وہ کئی سال افغان صوبے قندھار میں مقیم رہے اور طالبان دور میں ہرات کے گورنر رہنے کے علاوہ طالبان فوج کے سربراہ بھی رہے چکے ہیں ۔ 2001 میں ملا عبدالغنی برادر نائب وزیر دفاع بھی رہے

    فروری 2010 میں پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں ملا برادر کو پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور افغان حکومت سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اُنہیں 2018 میں رہا کر دیا گیا۔ 2020 میں ملا عبدالغنی برادر نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد ہی افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اگر طالبان کے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو سربراہ امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ سابق چیف جسٹس طالبان اور 2016 سے طالبان کے سربراہ بھی ہیں اور سیاسی ، مذہبی عسکری امور پر حتمی فیصلے کے مجاز ہیں نائب ملا محمد یقیوب بانی طالبان ملا عمر کے صاحبزادے ہیں اور ملٹری آپریشنل کمانڈر ہیں نائب امیر سراج حقانی سربراہ حقانی نیٹ ورک ہیں اس کے علاوہ سنئیر جج ملا عبدالحکیم نگران طالبان عدالتی نظام اور دوحہ مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں لیڈر شپ کونسل یعنی رہبری شوری طالبان اعلی ترین مشاورتی فیصلہ ساز اتھارٹی 26 اراکین پر مشتمل ہے۔

    طالبان کو اپنی حکومت کے قیام سے جلد ہی افغانستان میں موجود تجربہ کار غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت میسر آئی۔ اس حمایت نے طالبان کو عسکری محاذ اور ملک پر اپنا قبضہ جمانے میں بھرپور مدد فراہم کی۔طالبان کے افغانستان کے کنٹرول کے بعد تمام امریکی سفارتی اہلکاروں کو کابل سے نکال لیا گیا ہے دوسری طرف یہ ترجمان وائٹ ہاوس کا کہنا تھا کہ طالبان نے شہریوں کو بحفاطت ائیر پورٹ جانے کی اجازت دی امید کرتے ہیں طالبان اپنے وعدوں کو پورا کرے گئے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے افغانستان میں طالبان کی فتح قرار دیا اور تسلیم بھی کر لیا۔ دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم نے طالبان کی حکومت نہ مانے کا اعلان کیا ہے ان کا موقف یہ تھا کہ منتخب افغان حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹایا گیا برطانوی وزیرخارجہ نے افغان حکومت کے قیام کی امید ظاہر کی ہے

    پاکستان سےزیادہ افغانستان میں امن کا خواہشمند کوئی ملک ‏نہیں، موجودہ صورتحال میں افغان رہنماؤں پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نے طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف اور دہشتگردی کے لیے ‏استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔پاکستان افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے پاکستان افغانستان میں دیر پا امن کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کے لئے تیار ہیں افغان وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران پاک فوج کی قربانیوں اور کامیابیوں کو سہراہا اور ساتھ ہی پاک فوج کی افغانستان کی سماجی واقتصادی ترقی اور امن کے لئے کوششوں کو قابل قدر قرار دیا۔

    email saima.arynews@gmail.com

  • لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی  تحریر: زاہد کبدانی

    لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی تحریر: زاہد کبدانی

    اگر ہم آبادی پر نظر ڈالیں تو ، پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ممالک ہے۔ تاہم ، لڑکیوں کی تعلیم کی شرح ملک میں کافی کم ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں اعداد و شمار کو دیکھ کر کافی پریشان کن ہے جہاں خواتین کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اعدادوشمار میں کافی حد تک بہتری آئی ہے لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

    قدیم پاکستان میں عورتوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی ، لیکن وقت بدل رہا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ بھی بدل رہی ہے۔ وہ اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینے اور انہیں زندگی میں کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ، دیہی پاکستان میں ایسا نہیں ہے جو کہ آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کی اتنی کم شرح کے عوامل کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کچھ حل تلاش کیے جا سکیں۔

    لڑکیوں کی تعلیم کی کم شرح میں شراکت کرنے والے عوامل
    مختلف عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اول ، غربت کی شرح تشویشناک ہے۔ اگرچہ تعلیم مفت کی جا رہی ہے ، پھر بھی اس میں لڑکیوں کو سکول بھیجنے کے لیے کافی خرچ آتا ہے۔ اس لیے وہ خاندان جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

    دوم ، دیہی علاقوں میں ، بہت سارے اسکول نہیں ہیں۔ اس سے دوری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ دیہات سے بہت دور واقع ہیں۔ کچھ علاقوں میں طالب علموں کو اپنے اسکول تک پہنچنے کے لیے تین سے چار گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لڑکیوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے لہذا والدین ان کو اتنا دور بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے۔
    مزید یہ کہ لوگوں کی رجعت پسندانہ سوچ لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ کچھ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنے گھروں میں رہتی ہیں اور باورچی خانے کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ وہ عورتوں کو یہ پسند نہیں کرتے کہ گھر کے کاموں کے لیے کوئی دوسرا کام کریں۔
    اس کے علاوہ ، بچپن کی شادی اور چائلڈ لیبر جیسے سماجی مسائل بھی لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ والدین بیٹیوں کو کم عمری میں شادی کے لیے سکول سے نکال دیتے ہیں۔ نیز ، جب لڑکیاں چائلڈ لیبر میں مشغول ہوتی ہیں تو انہیں پڑھائی کا وقت نہیں ملتا۔
    لڑکیوں کی تعلیم کے فوائد
    اگر ہم پاکستان کو ترقی اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ وہ واقعی ہماری قوم کا مستقبل ہیں۔ مزید یہ کہ جب وہ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو انہیں اپنی معاش کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
    لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ملک کا مستقبل روشن اور بہتر ہوگا۔ اسی طرح ہماری معیشت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے اگر زیادہ سے زیادہ خواتین مالی طور پر مضبوط ہو جائیں اور اس طرح غربت کم ہو۔

    مزید یہ کہ جو خواتین تعلیم یافتہ ہیں وہ اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کر سکتی ہیں۔ اس سے مستقبل مضبوط ہوگا کیونکہ کم بچے ویکسینیشن کی کمی یا اسی طرح کی وجہ سے مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ خواتین کے لیے بھی ان کے ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض بننے کے امکانات کم ہوں گے کیونکہ وہ نتائج سے آگاہ ہوں گے۔
    سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین سماجی مسائل جیسے کرپشن ، کم عمری کی شادی ، گھریلو زیادتی اور بہت کچھ میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ وہ زیادہ پر اعتماد ہوں گے اور اپنے خاندانوں کو تمام شعبوں میں بہتر طریقے سے سنبھالیں گے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ عورت دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں اتنی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    کربلا عراق کا ایک اہم شہر ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے شہید کیا جو عراق کا حکمران تھا۔ کر بلا کا وقعہ ایک اہم واقعہ ہے جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یاد کیا جائے گا ۔
    حق اور باطل کا معرکہ دنیا میں ہمیشہ بر پا رہا ہے اور آیندہ بھی برپا رہے گا ۔
    موسی اور فرعون، ابراھیم اور نمرود محمد اور ابوجہل اور حسین اور یزید کے چراغ وشرر کی آویزش پیہم ہی نے انسانی تاریخ کی اکثر داستانوں کو دلچسپ اور زندہ جاوید بنایا ہے۔ جب تک دنیا قایم ہے حق وہ انصاف کی طرفداری اور ناانصافی و ظلم کی سر کوبی کے لئے ، نیک اور جرات مند روحیں پیدا ہوتی رہیں اور ایسے مصلحت اندیش اور بزدل لوگ بھی جنم لیتے رہیں گے جو دنیاوی مفادات کے لئے ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور جن کی بدولت ان کے بازوؤں میں قوت اور ہاتھ میں تیغ آتی ہے ، بالا آخیر ان ہی پر چڑھ ڈورتے ہیں۔
    عاشورہ کے روز امام حسین نے یزیدی فوجوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا” کیا تمیں معلوم ہے کہ تم حسین بن علی اور اسلام کے بہترین اور مخلص ترین جانباز سپاہیوں کے خلاف تلواریں سونت رہے ہو ؟ یہ واہی تلواریں ہیں جو پیغمبر اسلام نے تمارے ہاتوں میں دی تھی. جو آگ ہم نے اپنے اور تمارے دشمن بهسم کرنے کے لئے جلائی تھی واہی آگ اب تم ہمیں جلانے اور تباہ کرنے کے لئے استعمال کرہے ہو۔”
    امام عالی مقام نے ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کرنے کی بجائے جنگ کے راستے کا انتخاب کر لیا تھا اور یہ ان کا قطعی اور اٹل فیصلہ تھا انہوں نے فرمایا ” یہ بات کہ ہم ذلیل ہو نہ اللّه کو پسند نہ اس کے رسول کو اور نہ مومین کو۔ ہم نے جن ماؤں کے پاکیزہ گودوں میں پرورش پائی ہے ان کو یہ منظور نہیں کہ اپنے یا امت کیلے ذلت وہ خواری اور مایوسی وہ ناامیدی کا دروازہ کھولیں یہ بہادر جو میرے ساتھ ہیں یہ جواں مرد جو یہاں تک میرے ہمراہ آئے ہیں اور میرے ارد گرد صف آراء ہیں انکو بھی اپنی اور امت کی خواری منظور نہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو ادنی ا درجے کے لوگوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کی شہادت کو ترجیح دیں۔ ”
    تاریخ نے شہادت حسین سے پہلے بھی شہادت حسین کے بعد بھی ہر دور میں یہی شہادت دی کہ سچائی اور صداقت کی راہ میں جان دینے والے بظاھر بظاھر شکست کھانے کے باوجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی پیشانی کا جھومر بنتے ہیں اور نا انصافی اور باطل کا ساتھ دینے والے اور سیاست اور حکومت میں نفسیاتی خواہشات کی اطاعت وہ فرمابرداری کرنے والے وقتی کامرانیوں کے باوجود تاریخ کی نگاہ میں ادنی درجے کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یزید کو فتح حاصل ہوئی لیکن عزت وتوقیر امام حسین کو ملی۔ امام حسین کے نزدیک طاقت اور قوت حق نہیں حق بزات خود طاقت اور قوت ہے قوت حق کا اظہار امام حسین کے علاوہ تاریخ تاریخ اسلام اور بہت سی محترم شخصیتوں نے کیا ہے۔ یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا لیکن حق کی وہ کونسی سطح ہے جیس کے لئے عظیم شخصیتں جان و مال کی قربانی دیتی آئی ہیں اور جیس کے حوالے سے امام حسین کے قیام اور تحریک نے اسلامی تاریخ کی اگلی پچھلی تمام مقدس تحریکوں میں مرکزی حثیت حاصل کر لی ہے ۔
    جاری ۔۔۔۔۔
    @I_MJawed

  • فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک مسلمان ملک اور مسجد الاقصیٰ کا تعارف ہے۔ مسجد اقصی کو مسلمانوں کا قبلۂ اول مانا جاتا ہے۔مسجد اقصٰی مشرق میں یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جس پر ان دنوں اسرائیل قابض ہے۔اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ فلسطین کے تاریخی واقعات میں سر فہرست ہے۔
    اسلامی ملک فلسطین کی سرحدیں لبنان، اردن، شام اور مصر سے ملتی ہیں۔
    لبنان اور مصر کے درمیان واقع کا علاقہ فلسطین کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے آدھے حصّے پر اب اسرائیل کی حکومت ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کا حصہ تھا۔ 1948ء میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ تاحال جاری ہے۔
    اس سے پہلے اس علاقے پر فرانسیسی اور انگریز حکومت کرتے رہے ہیں۔
    اس ملک کا دار الحکومت بیت المقدس ہے۔جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، اور اس دوران حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد اقصٰی کی بنیاد رکھی۔خدا کی توحید اور وحدانیت پر ایمان کی تبلیغ کا آغاز پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کی فلسطین میں آمد سے ہوا۔حضرت ابراہیمؑ کا مزار بھی سر زمین فلسطین پر ہے۔بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم بھی کہا جاتا ہے،
    مسلمانوں کا قبلہ اول اسی جگہ واقع ہے۔ اور اس شہر کو مسلمان، یہودی ، اور مسیحی جو کہ مختلف مزاہب رکھتے ہیں، اس کو آج بھی مقدس مانتے ہیں۔

    فلسطین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے، دین اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں کئی انبیاء کرام حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، ،حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اس مقدس سر ذمین سے گزرے ہیں ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مقیم رہے ہیں۔
    جبکہ آج کل اسرائیل اور مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی شناخت کرتے ہیں۔قابض ملک اسرائیل کے موجودہ عرب شہری اپنی شناخت اسرائیلی، فلسطینی یا عرب کے طور پر کرواتے ہیں۔
    اکثریت آبادی مسلمان ہے، اور سرکاری زبان عربی ہے۔
    اہم شہر غزہ، بیت لحم، الخلیل اور
    ادیان اسلام ہیں۔

    فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اور اس کی آزادی کی جنگ اس کے وجود میں آتے ہی شروع ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے۔ دنیا کی ہرزبان کے ادب میں اس کی آزادی کی جدوجہد پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
    اور آج کل اسرائیلی جارحیت کے تحت یہ سرزمین اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، اپنی آزادی کی جنگ کے دوران اس ملک میں کئی جنگیں، عوامی تحریکیں اور بڑے پیمانے پر شہریوں پر مظالم اور ان کے قتل عام ہوتے رہے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی آبائی سرزمین فلسطین سے نکال دیا گیا، اور مقامی لوگوں نے اپنی سرزمین چھوڑ کر قریبی ممالک مصر ، عراق، لبنان اور شام کی جانب رخ کیا۔ اور جو لوگ اس وقت رہ گئے تھے، وہ اسرائیلی ریاست کے تسلط میں ہیں، جن کے ساتھ آج تک اسرائیلی مظالم جاری ہیں۔
    اسرائیلی دہشت گردی گزشتہ 73 سالوں سے جاری ہے، جس کا نتیجہ ہر بار معصوم جانوں کا ضیاع اور نقل مکانی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
    رواں سال بھی اسرائیل فوج نے اس بار رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ليلۃ القدر کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالا، اور پر تشدد حملے شروع کیے، ان حملوں کے دوران رواں برس 7 سے 18 مئی 2021 ء کی سہ پہر تک 34 خواتین اور 58 بچوں سمیت 201 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔
    اسرائیل کی یہ کاروائیاں کئی برسوں سے جاری ہیں، اور تمام امت مسلمہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق سال 2017 ء میں تقریباً 30 لاکھ کے قریب فلسطینی شہری بے آسرا اور گھروں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ ان کے گھر اسرائیلی جارحیت کے دوران مسمار کر دئیے گئے ہیں، اور شہر میں آئے دن یہودی بستیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    پس سات دہائیوں سے مظالم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
    گذشتہ کئی روز سے فلسطینی اپنے گھروں تک محدود ہو کے رہ گئے تھے، کیونکہ باہر نکلنا بھی موت کا باعث بن سکتا تھا۔
    اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔خاص طور پر اسرائیلی افواج نے اس دوران معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔

    اس کے علاوہ غزہ شہر دہشت گردی کے دوران بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ اور متاثر ہوا ہے۔تاہم گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ تازہ فلسطینی جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے حماس کے اسرائیلی جارحیت کے مد مقابل انتہائی منظم خودکش حملوں کے سلسلے کو بہت پذیرائی ملی ہے، اور تمام فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، حماس اور اسرائیل اپنی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
    دنیا میں حماس فلسطینیوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی لڑائی کے لیے اور یروشلم، (مسجد اقصٰی) اور فلسطینی ریاست کے حقوق کے لیے قربانیاں دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
    حماس کی طرف سے دنیا کیلئے ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ اس کے خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے والے بہادر جنگجو ”آخری دم تک یروشلم کے لیے لڑتے رہیں گے”
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف امن و امان کی کارکردگی میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے،
    اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کی خاطر مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونا ہے۔

    @_aqsasiddique

  • عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض


    ‎ابھی نور مقدم کے قتل کو تین ہفتے ہی گزرے ہیں کہ ہمیں اس سے ملتے جلتے ایک اور سانحے نے آن گھیرا ہے اس جشن آزادی پر گریٹر اقبال پارک میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا ہے جس نے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار سو کے قریب لوگوں نے ایک ٹک ٹاکر عورت کو گھر رکھا ہے اور اس سے ناشائستہ حرکات کر رہے ہیں کچھ لوگ اس کو ہوا میں اچھال رہے ہیں جیسے کسی کھلونے سے کھیلتے وقت اس اچھالا جاتا ہے اس کے بعد تو تمام حدوں کو عبور کر دیا گیا اور اس خاتون کے کپڑے پھاڑ دیے گئے یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میری ہمت جواب دے گئی اور دوبارہ اسے نا دیکھ سکا شائد کتنے ہی ایسے ماں باپ ہوں گے جنھوں نے اپنی بچیوں کو مستقبل میں اعلی تعلیم دلوانے کے خواب دیکھ رکھے ہونگے مگر یہ واقعہ دیکھنے کے بعد شائد وہ بھی یہ بات ماننے پر قائل ہو جائیں کہ پاکستان اب عورتوں کے لیے محفوظ نہیں رہا کیونکہ عثمان مرزا کیس کے بعد نور مقدم والا واقعہ رونما ہوا اس سے پہلے سیا لکوٹ موٹروے سانحہ ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ عورتوں کو اس ملک میں صرف مال غنیمت کی نظر سیے ہی دیکھا جاتا ہے ۔ منگل کے روز پاکستان کے سوشل میڈیا پر لاہور میں کئی مردوں کی جانب سے ایک لڑکی کو سرعام ہراساں کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے کہ کیا پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک ہے
    ‎منگل کے روز متعلقہ خاتون نے لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں درخواست دی کہ وہ 14 اگست کو شام ساڑھے چھ بجے اپنے ساتھی عامر سہیل، کیمرہ مین صدام حسین اور دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم وہاں پر موجود تین چار سو سے زیادہ افراد کے ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔
    ‎درخواست کے مطابق خاتون اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران وہ گارڈ کی جانب سے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ لوگ جنگلے کو پھاڑ کر ان کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی
    شوشل میڈیا پر اس واقعے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور 400#اس وقت ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان چار سو درندوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے اس عورت پر حملہ کیا-اور حکومت وقت اور دوسرے اداروں سے اس بات کی اپیل کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد ان درندوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ لوگوں کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے اس کے علاوہ اس طرح کہ قوانین بنائے جائیں جس سے عورتوں کو گھر سے نکلتے وقت اس بات کی پریشانی نہ ہو کہ اس کس چوک میں بھڑیوں کی طرف سے گھیر لیا جائے گا-بحثیت معاشرہ ہمیں اس وقت اندازہ ہی نہیں کہ ہم جہالت کی کن پستیوں میں رہ رہے ہیں ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کی اس انداز میں تربیت کرنی ہے کہ وہ ایک انسانی معاشرہ تشکیل دے سکیں شائد اس کے لیے ابھی کئی صدیاں درکار ہوں گی-اس تحریر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تمام مرد ایک ہی طرز کہ یقیناً جہاں اچھائی ہوتی ہے وہاں برائی بھی ہوتی ہے اسی طرح وطن عزیز میں کئی اعلی اخلاق کے حامل افراد بھی موجود ہیں اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • یکساں قومی نصاب اور نجی اداروں کا مؤقف  تحریر: خالد عمران خان

    یکساں قومی نصاب اور نجی اداروں کا مؤقف تحریر: خالد عمران خان

    ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک بہتر نظام تعلیم
    کا ہونا اولین شرط ہے۔ گزشتہ کئی دہائوں سے تعلیم کے شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا تا رہا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب پر ایک نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں ، سرکاری سکولوں اور مدارس کے نصاب میں یکسر فرق پایا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل یکساں قومی نصاب کو رائج کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا نفاذ مرحلہ وار عمل میں آئے گا۔ایک سے پانچویں جماعت کے نصاب کو پہلے مرحلے میں پنجاب بھر میں نافذ کر دیا گیا ہے۔وزارت تعلیم پاکستان کے مطابق یکساں تعلیمی نظام یعنی تمام طلباء کے لئے ایک جیسا تعلیمی نظام ہو جس کی بدولت تعلیم کے حصول کے لئے منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
    یکساں تعلیمی نظام کا مقصد ملک بھر کے تمام طلباء جن کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو ان کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا،معاشرتی ہم آہنگی و قومی یکجہتی، تعلیمی مواد میں تفریق کا خاتمہ اور جدید عصری تقاضوں کے مطابق نظام تعلیم کو ڈھالنا شامل ہیں
    حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی ماہرین تعلیم اور میڈیا میں زیر بحث ہے۔ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسویشن کی جانب سے حکومت کی یکساں نصاب کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان کا مؤقف یہ ہے کہ یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ قابل تحسین ہے لیکن جو اختیار کیا جا رہا ہے وہ نہ تو یکساں تعلیمی نظام ہے اور نہ ہی قومی نصاب۔ تعلیم کے شعبے سے منسلک افراد کا اعتراض ہے کہ لازمی مضامین میں مذہبی مواد کو شامل کرنا اقلیتوں کے آئینی حقوق کے خلاف ہے۔ مزید براں یہ اعتراض پایا جاتا ہے کہ نیا نصاب نجی سکولوں کے طلباء کی فکری نشوونما کو بڑھانے کی بجائے رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔اور تنقیدی سوچ کے بجائے رٹے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یکساں نصاب میں مذہبی رجحان تنقید کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نجی اداروں کا موقف ہے کہ اپنے بچوں کے لئے نظام تعلیم کا انتخاب والدین کی صوابدید ہے۔ ریاست کی طرف سے نافذ کیے جانے والے تعلیمی نظام سے نہ صرف والدین کو ان کے اس اختیار سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس سے نجی اداروں کی خودمختاری
    کو بھی نقصان پہنچے گا۔
    البتہ حکومت کا موقف ہے کہ مدارس، سرکاری و غیرسرکاری سکولوں میں یکساں نصاب سے معیار تعلیم بہتر ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ اس برس جہاں پنجاب بھر میں یکساں نصاب کانفاذ عمل میں آیا وہیں چند نامور اور ممتاز نجی اداروں نے نصاب کو نافذ کرنے سے انکار کردیا۔جہاں نجی اداردوں نے مختلف اعتراضات اٹھائے ہیں وہیں پبلیشرز نے یکساں قومی نصاب کے تحت چھپنے والی کتابوں کی جانچ پڑتال پر سوالات کھڑے کیے ہیں ۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اس مد میں انہیں نہ صرف بھاری رقم ادا کرنا پڑے گی بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان کے منافع میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس جب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈسے غیر منظور شدہ نصابی کتب کی جانچ پڑتال کی گئ تو یہ بات سامنے آئی کے سو سے زائد کتابیں جو نجی اداروں میں پڑھائی جا رہی تھیں ان میں نظریہ پاکستان کے مخالف مواد کی نشاندہی کی گئی ۔
    آئین پاکستان کے مطابق جہاں ریاست قانون کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہےوہیں اس کی تعلیمی اصلاحات کو تنقید کا نشانہ بنانا اور یکساں قومی نصاب کے نفاذ کو چند حلقوں کی جانب سے مارشل لاء قرار دینا حیران کن ہے۔ 2006 میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں کی جانے والی تعلیمی اصلاحات کی ناکامی کی بڑی وجہ اس پر عملدرآمد کا نہ ہونا تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے یکساں تعلیمی نظام سے نہ صرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو فائدہ ہوگا بلکہ مدارس کے بچے بھی صحیح معنی میں تعلیمی دھارے میں شامل ہو سکیں گے۔ اس پالیسی کو عملی جامہ پہننانے کے لئے حکومت اور پرائیویٹ سکول ایسوئشن کے درمیان باہمی تعاون بے حد ضروری ہے۔ مزید براں محض نصاب کی تبدیلی سے نظام تعلیم میں بہتر نہیں لائی جا سکتی ہے جب تک کے اس نصاب سےمتعلق اساتذہ کو باقاعدہ ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ تعمیری ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا جا سکےلہذا یہاں بھی حکومت کی توجہ ضروری ہے۔

    Written By: Khalid Imran Khan
    Twitter ID: @KhalidImranK

  • عاشورہ کے فضائل – تحریر خالد اقبال عطاری


    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محروم الحرام ہے جوکہ نہایت عظمتوں اور برکتوں والا ہے. خاص طور پر اس مہینے کی 10 تاریخ یعنی عاشورا کے دن کو دین اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے. ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا. بلکہ اسلام سے قبل بھی لوگ اس دن کا ادب و احترام کرتے اور روزہ رکھتے تھے.
    ہمیں بھی چاہیے کہ اس دن کا روزہ رکھیں اور دیگر عبادات بھی کریں اور اپنے گھر والوں اور دیگر دوست و احباب کو بھی اسکی ترغیب دیں. عاشورا میں کی جانے والی چند نیکیاں بیان کی جارہی ہیں تاکہ ہم ان پر عمل کرسکیں. ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ پاک کے کرم سے امید ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے.
    عاشورا کی رات آئے تو یہ عمل کیجئے.
    عاشورا کی رات میں چار رکعت نفل اس طرح ادا کیجئے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی ایک بار اور سورہ اخلاص تین تین بار پڑھیے پھر نماز سے فارغ ہو کر سو مرتبہ سورہ اخلاص (قل ھواللہ احد پوری سورت ) پڑھئے اسکی برکت سے گناہوں سے پاک ہوگا اور جنت الفردوس میں بیشمار نعمتیں ملیں گی.
    فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو دس محرم کو اپنے بال بچوں کے خرچ میں فراخی (یعنی کشادگی) کرے گا تو اللہ تعالیٰ سارا سال اس کو فراخی دے گا.
    حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا.
    عاشورہ کے دن کی بارہ نیکیاں. عاشورہ کے روز 12 چیزوں کو علماء نے مستحب لکھا ہے.
    1: روزہ رکھنا. 2: صدقہ کرنا. 3: نفل پڑھنا.
    4: ایک ہزار مرتبہ قل ھو اللہ پڑھنا. 5 : علماء کی زیارت کرنا
    6: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا. 7: اپنے اہل و عیال کے رزق میں وسعت کرنا. 8 : غسل کرنا. 9 : سرمہ لگانا.
    10 : ناخن تراشنا. 11: مریضوں کی بیمار پرسی کرنا.
    12 : دشمنوں سے ملاپ( یعنی صلح صفائی کرنا)
    عاشورا کے دن نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء کے ہمراہ گلشن اسلام کی آبیاری کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا. لہذا ہمیں بھی چاہیے اس دن خوب خوب شہدا کربلا کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی، ذکر و درود اور نزر ونیاز کا بھی اہتمام کرنا چاہیے. اور یہ بھی نیت کیجئے کہ آج کے بعد ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی إن شاءاللهُ الكريم.
    کچھ نیکیاں کمالے جلد آخرت بنالے
    کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا.