Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واقعی ہم سا کوئی نہیں تحریر : سلمان اکرم

    ہم پاکستانی ہیں. ہمارے دیس میں بہت سے مسائل ہیں، مہنگائی بے روزگاری، کرپشن اور اس جیسے دیگر مسائل.
    ان تمام موضوعات پر لوگ کھل کر لکھتے اور بولتے ہیں. مگر آج آپکو ہم پاکستان کی کچھ خوشگوار امتیازی خصوصیات سے روشناس کرواتے ہیں.
    .
    سب سے پہلی خوبصورت بات یہ ہے کہ ہم بلا کے مہمان نواز ہیں. ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں مہمان نوازی کی عجیب سے عجیب تر روایات ہیں. اپنے عزیز و اقارب کے لیے تو ہم ہر حد سے گزرتے ہیں ہم انجان مسافروں کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی نہیں کرتے. ہمارے گھروں میں مہمان آ جائے اور ہماری جیب افوڈ نہ کر سکتی ہو تو ہم ادھار لے کر مہمان کی خدمت کرتے ہیں. اور اسے باعث خیر و برکت سمجھتے ہیں.
    .
    دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا جوائنٹ فیملی سسٹم دنیا میں سب سے مضبوط جوائنٹ فیملی سسٹم ہے. یہاں آج کی والدین کا مرتبہ سب سے بلند ہے. آج بھی والدین کے ساتھ جڑے دیگر رشتوں کے تقدس میں کوئی کمی نہیں لاتے. ہم تنگ گھروں میں کھلے دل کے ساتھ رہتے ہیں. آج بھی ہمارے دکھ اور سکھ سانجھے ہیں.
    .
    تیسری اہم خوبی یہ ہے کہ تیسری دنیا کا ملک ہونے کے باوجود ہم میں تعلیم کا رجحان بہت زیادہ ہے. ہماری قوم علم دوستی میں اپنی مثال آپ ہے. ہر سال کسی مزدور ریڑھی بان یا نان بائی کی اولادوں میں سے کوئی کسی نہ کسی فیلڈ کا ٹاپر ہوتا ہے.
    ہمارے ملک کی کچی آبادیوں میں بھی پرائیویٹ سکولز بنے ہوئے ہیں.
    یہ ہماری علم دوستی کی جیتی جاگتی مثال ہے.
    .
    چوتھی اہم بات یہ ہے کہ غریب ملک ہونے کہ باوجود ہم دنیا میں خیرات کرنے والوں میں نمایاں ہیں. ہمارے ملک کی 98فیصد آبادی صدقہ ادا کرتی ہے.
    .
    پانچوں خوبی یہ ہے کہ ہم خدمت خلق میں پیش پیش رہتے ہیں. پاکستان یا پاکستان سے باہر کہیں کوئی ناگہانی آفت آ جائے پاکستانی اپنی جان تک لٹانے کو. تیار ہو جاتے ہیں.
    ٹی وی پر ایک خبر نشر ہو کہ فلاں ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والوں کے لیے خون کی ضرورت ہے ہسپتالوں کے باہر ڈونرز کی لائنیں لگ جاتی ہیں.
    کہیں سیلاب یا زلزلہ آ جائے ہم اپنے گھروں سے اضافی سامان اٹھا کر متاثرین کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں.
    .
    پاکستانی معاشرے کی چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں. دنیا میں جہاں بھی ڈکٹیٹر آتے ہیں تو کئی کئی دہائیوں تک حکومت کرتے ہیں. پاکستان میں جب بھی کسی نے جمہوریت پر شب خون مارا اسے اپنی بقا کے لیے جمہوریت کا سہارا لینا پڑا. کوئی آمر دس گیارہ سال سے زیادہ نہیں ٹک پایا. اور اسے جمہوریت کو بہال کرنا پڑا.
    .
    ساتویں خوبی یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا باقی تمام دنیا کے میڈیا سے زیادہ آزاد ہے. یہاں ریاست مخالف بیانیہ بھی مین اسٹریم میڈیا میں چلا دیا جاتا ہے.
    .
    آٹھویں خوبی یہ ہے کہ ہماری عدلیہ اس قدر آزاد ہے کہ ستر سال پرانے کیس بھی زیر التواء ہونے کے باوجود کسی نے اس عدلیہ کو چھیرنے کی کوشش نہیں کی. اگر کوشش کی بھی تو ناکام رہا. عدلیہ اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ہے اب اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کس حد تک ہوتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے.
    .
    نویں خوبی پاکستان کی یہ ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں. تقریباً تمام ہی بنیادی ضرورت کی اجناس ہمارے وطن میں پیدا ہوتی ہیں. چاول، گندم گنا مکئی، کپاس، پھل سبزیاں اور کیا کچھ ہے جو نہیں ہوتا.
    .
    پاکستان کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا تیسرا بڑا اور فعال نہری نظام ہے. پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں آج بھی پینے کو صاف پانی وافر دستیاب ہے. اب جہاں پانی نہیں پہنچتا یہ ہماری نالائقی ہے مگر ایسا نہیں کہ پاکستان میں پانی کی قلت ہو.
    .
    گیارہویں خوبی پاکستان کی یہ کہ پاکستان دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں سے ہے جن کے پاس طاقتور فوج ہے. جو ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ہے. ہماری فوج پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ جذبہ ایمانی کے ساتھ لڑنے والی ایک منفرد فوج ہے. .
    .
    بارہویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کا موسم عطا کیا ہے. پاکستان کے اکثر علاقوں میں چار موسم اپنے پورے جوبن کے ساتھ آتے ہیں. پاکستان میں سارا سال گرم رہنے والے علاقے بھی موجود ہیں اور سارا سال سردی والے علاقے بھی موجود ہیں. .
    .
    تیرہویں خوبی یہ ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی زمین موجود ہے، پہاڑ میدان،. صحرا، پتھریلی اور ہموار زمین اللہ نے پاکستان کو عطا کر رکھی ہے. یہ خوبی دنیا کے تین سے چار ممالک میں موجود ہے. .
    .
    چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی قدرتی معدنیات موجود ہیں. سونا، چاندی،. لوہا بھی ہماری زمین میں موجود ہے اور گیس تیل اور کوئلہ بھی.
    .
    پندرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریا بھی دیے اور سمندر بھی، پاکستانی سمندر میں دنیا کا سب سے گہرا سی پورٹ گوادر ہے. .
    .
    یہ اور اس جیسی دیگر کئی خصوصیات ہیں جن میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اوج کمال عطا کیا ہے. .
    لہٰذا اللہ تعالیٰ کی اس دین کا شکریہ ادا کریں اور ان تمام وسائل کا مثبت استعمال کرنے کی کوشش کریں. اور اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کریں
    *

    @themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*

  • شکر کرنا سیکھیں   تحریر: نسیم کھیڑا

    شکر کرنا سیکھیں تحریر: نسیم کھیڑا

    ارشاد باری تعالی ہے ۔
    "اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے.”
    سورہ ابراہیم 7
    شکر کے لغوی معنی ہیں کسی کے احسان و عنایت پر اس کی تعریف کرنا , اس کا احسان ماننا , اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار اور اقرار کرنا۔
    ہمارے ہاں عام فیشن اور طرز عمل بن چکا ہے کہ جسے دیکھو وہ ہروقت ناشکری کے کلمات ادا کرتا نظر آتا ہے ۔اگر آپ کسی کاروبار کرنے والے سے احوال پوچھے لیں تو وہ فورا بہت مندہ چل رہا ہے مارکیٹ میں گاہک نہیں ہے دیوالیہ ہوئے جارہے ہیں اس طرح کے کلمات کی گردان شروع ہوجائے گی چاہے آپ کو اس کی دوکان سٹور شوروم پر ہر وقت گاہکوں کا رش ہی کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔
    یہی حال ہمارے تنخواہ دار طبقہ کا ہے گورنمنٹ سے ہر سہولت لے رہے ہوتے ہیں تنخواہ سال میں دو مرتبہ بڑھتی ہے لیکن پھر بھی مارے گئے مہنگائی بہت ہے کے راگ الاپتے نظر آئیں گے
    اور تنخواہیں بڑھانے کے مطالبات لے کر احتجاج کے لئے ہروقت تیار رہتے ہیں۔
    عام عوام کا بھی یہی حال ہے اپنی ذاتی سواری بھی میسر ہوگی ہاتھ میں مہنگا سمارٹ فون بھی ہوگا لیکن پھر بھی چینی مہنگی آٹا مہنگا کا ورد کر رہے ہوتے ہیں ۔اللہ کے بندوں ہر گھر کی ماہانہ ضرورت تقریبا 5 سے 7کلو چینی ہوگی جو کہ 700 روپے کلو کی مل جاتی ہے لیکن زور پھر بھی چینی مہنگی ثابت کرنے پر ہی لگایا جاتاہے جیسے دن میں تین مرتبہ چینی کے ہی پھکے مارنے ہوتے ہیں۔
    پچھلے دنوں ایک عالمی تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لئے سستا ترین ملک ہے۔ شہر کی کسی بھی سڑک پر پانچ منٹ رک کر مناظر دیکھیں گاڑیوں کا نہ روکنے والا سلسلہ دیکھائی دے گا غریب کی سواری سمجھے جانے والی سائیکل کی جگہ موٹرسائیکل نے لے لی ہے اب بتائیں غربت کدھر ہے۔
    چند دن پہلے پچاس لاکھ کی گاڑی کے نئے ماڈل کی بکنگ کے وقت لوگ شوروم میں داخل ہونے کے لئے آپس میں دست و گریباں ہوگئے۔
    مہنگے برانڈ کے کپڑوں کی دکانوں پر خریداروں کا رش ختم نہیں ہوتا سیل پر تو خواتین گتھم گتھا ہوجاتی ہیں ۔الغرض موبائل کپڑے جوتے ڈنر اور لنچ برگر پیزے مہنگے برانڈز جائز و حلال لیکن چینی اور آٹا دس روپے مہنگانہیں خریدنا کہ کہیں ملک کے کسان کو فائدہ نہ ہوجائے۔ کسی بھی پوش علاقے میں چلے جائیں گھر کے گیراج میں تین تین چار چار گاڑیاں اور پانچ ائیر کنڈیشن نظر آئیں گی لیکن مہنگائی کا رونا ختم نہیں ہوگا۔ ۔۔ یاد رہے کہ معاشرے میں پھیلی بےچینی اور اضطراب کا سبب ناشکری بھی ہے اور ناشکرا انسان کبھی بھی مطمئن نہیں ہوسکتا۔اللہ سبحان و تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کریں تاکہ مزید نعمتوں سے نوازے جائیں کیونکہ اللہ سبحان و تعالی کا وعدہ ہے کہ شکر ادا کرنے والے کو مزید دے گا اور اگر ناشکری سے باز نہیں آئیں گےتو نعمتیں چھین بھی سکتی ہیں ۔

  • فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرمُ الحرام سے ہوتا ہے جس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے، یہ مہینہ بہت ہی عظمت و بَرَکت والا مہینہ ہے، جو ہمیں صبر و ایثار کا درس دیتا ہے۔ اس ماہِ حرمت میں عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے متعلق متعدَّد فضاٸل وارِد ہوۓ ہیں، نیز اسی ماہ میں یومِ عاشورہ جو اپنی خُصوصیات میں ممتاز ہے، نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
    آٸیں کچھ اس دن کی فضیلت کے متعلق جانتے ہیں!
    *10 محرم عاشورہ کے روز حضرتِ آدم علیہ الصلوة والسلام کی توبہ قبول کی گٸی۔
    *اِسی دن انہیں پیدا کیا گیا۔
    *اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا۔
    *اسی دن عرش، کرسی، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے اور جنت پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام پیدا ہوۓ۔
    *اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی۔
    *اسی دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام اور آپ کی امت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا۔
    *حضرت عیسیٰ علیہ الصلوة والسلام پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔
    *اسی دن حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوة والسلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔
    *اسی دن حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام کو ملکِ عظیم عطا کیا گیا۔
    *اسی دن سیدنا یعقوب علیہ الصلوة والسلام کی بینائی کا ضُعف دور ہوا۔
    *اسی دن سیدنا یونس علیہ الصلوة واسلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا یوسف علیہ الصلوة والسلام گہرے کنویں سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا ایوب علیہ الصلوة واسلام کی تکلیف رَفع کی گٸی۔
    *آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش اسی دن نازل ہوٸی۔
    *اسی دن کا روزہ اُمتوں میں مشہور تھا۔
    اور
    *اسی دن امامُ الہُمام، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع شہزادگان و رُفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشتِ کربلا میں انتہائی سفّاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
    المختصر یومِ عاشورہ نہایت فضیلت و اہمیت کا دن ہے۔۔۔ اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوۓ عبادات و نیک اعمال کا اہتمام کیا جاۓ، صدقہ و خیرات ،ذکر و درود، تسبیحات ،نوافل اور، روزے کا اہتمام بھی ضرور کیا جاۓ کیونکہ اس دن کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔
    حضرت سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    میں نے رسولِ کریم صلى الله عليه واله وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رمضان کا مہینہ۔
    (صیح بخاری، حدیث:2006)
    حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ:
    رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا:
    مجھے اللہ عزوجل پر گُمان ہے کہ عاشورہ کا روز ایک سال قبل کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔
    (صیح مسلم،حدیث:1162)
    ارشادِ مصطفیٰ صلى الله عليه واله وسلم:
    یومِ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو،اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔
    (مسندِ اماماحمد، حدیث:2154)
    یعنی 10 محرم یومِ عاشورہ ہے تو اس سے ایک دن پہلے 9 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ یا 11 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ، تنہا 10 محرم کا روزہ نہ رکھا جاۓ۔
    یومِ عاشورہ میں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ نیت اور عہد بھی کیا جاۓ، کربلا والوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوۓ کہ ہم اس دن سے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں گے کربلا والوں کے صدقے میں عملی مسلمان بننے کی کوشش شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ عزوجل
    کربلا والوں سے محبت کے دعوے کو عمل کی ضروت ہے۔
    اللہ کریم ہمیں اس دن کی عزت و حرمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
    آمین

    @aqeela_raza

  • مثبت سوچ تحریر: شاہ زیب

    مثبت سوچ ایک ذہنی اور جذباتی رویہ ہے جو زندگی کے روشن پہلو پر مرکوز ہے اور مثبت نتائج کی توقع رکھتا ہے۔  ایک مثبت شخص خوشی ، صحت ، کامیابی کی توقع رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ اور مشکل پر قابو پا سکتا ہے۔
    مثبت سوچ کو ہر کوئی قبول نہیں کرتا۔  کچھ لوگ اسے بکواس سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے والوں پر طنز کرتے ہیں۔  لیکن ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو مثبت سوچ کو حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں اور اس کی تاثیر پر یقین رکھتے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ یہ موضوع مقبولیت حاصل کر رہا ہے جیسا کہ اس کے بارے میں بہت سی کتابوں ، لیکچرز اور کورسز سے ثبوت ہے۔  اسے اپنی زندگی میں استعمال کرنے کے لیے آپ کو اس کے وجود سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔  آپ کو ہر کام میں مثبت سوچ کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

    مثبت رویہ کے ساتھ ہم خوشگوار اور خوشگوار جذبات کا تجربہ کرتے ہیں۔  یہ آنکھوں میں چمک ، زیادہ توانائی اور خوشی لاتا ہے۔  ہماری پوری نشریات ، خوشی اور کامیابی۔  یہاں تک کہ ہماری صحت بھی فائدہ مند طریقے سے متاثر ہوتی ہے۔
    مثبت اور منفی سوچ متعدی ہوتی ہے۔ ہم ان لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں جن سے ہم ایک طرح سے ملتے ہیں۔  یہ فطری طور پر اور لاشعوری سطح پر الفاظ ، سوچ اور احساس اور جسمانی زبان کے ذریعے ہوتا ہے۔  مثبت سوچ تناؤ کے انتظام میں مدد دیتی ہے اور یہاں تک کہ آپ کی صحت کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔

    مثبت سوچ زندگی کو بڑھاتی ہے ، اس سے ڈپریشن کی شرح کم ہوتی ہے ، تکلیف کی سطح کم ہوتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ چیزوں کو حاصل کر سکتا ہے اسے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا اسے کامیابی کے راستے میں کوئی مسئلہ نہیں ملے گا اور ایک دن وہ مثبت جیت جائے گا۔ خود اعتمادی ، عزم ، ثابت قدمی اور محنت کامیابی کی کلید ہے۔ لگن ، کام کے لیے لگن اور عزم کے ساتھ مثبت سوچ کامیابی کا اہم عنصر رہا ہے۔ زندگی ایک جنگ ہے ، کسی کو اس سے بے خوف لڑنا پڑتا ہے۔ اعتماد کے ساتھ لڑیں ، پرعزم اور متمرکز کوشش کے ساتھ مثبت رویہ کامیابی کی یقینی راہ پر گامزن ہے۔ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ آپ کا جوش ہے جو آپ کی مثبت سوچ کو تقویت بخشتا ہے۔ جو ہمیشہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔
    ‎@shahzeb___

  • یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) پر ہیکرز کے حملے کے نتیجے میں ایف بی آر کی طرف سے آپریٹ کی جانے والے تمام سرکاری ویب سائٹس بند ہوگئیں ایف بی آر کے ڈیٹا بیس میں کھربوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور شہریوں کے اثاثوں، آمدنی و اخراجات کی حساس تفصیلات موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے ایکسپریس ٹربیون نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ہیکرز نے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر حملہ کیا اور وہ مائیکروسافٹ کے ہائپر وی سافٹ ویئر کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے، قومی بحران جیسی یہ صورتحال ہفتہ کو رات گئے دو بجے پیدا ہوئی اورآخری اطلاعات تک ویب سائٹس کو بحال نہیں کیا جا سکا۔

    ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر کی ویب سائٹس اور ڈیٹا سینٹر بند ہونے سے ملک کی شپمنٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سائبر حملے کے نتیجے میں کسٹمز پر بھی دباؤ آیا ہے بارڈر سٹیشنز پر تازہ سبزیوں کی کنسائنمنٹس پھنس کر رہ گئی ہیں صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے مستفید ہونے سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

    ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ یوم آزادی کے موقع پر سائبر دہشت گردی ہوئی ہے لیکن ہیکرز کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی تاہم ایف بی آر نے اس حوالے سے کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا۔

    مذکورہ افسر نے بتایا کہ ہیکرز نے ڈیٹا سینٹر کی ورچوئل انوائرمنٹ اور ہائپر وی سافٹ ویئر کو نقصان پہنچایا ، پاکستان نے سسٹم کی بحالی کیلئے ادارہ مائیکروسافٹ سے رابطہ کیا ہے۔اگر مالیاتی ادارے کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کریں تو آخری اطلاعات تک صارفین رسائی حاصل نہیں کرپارہے۔

    رپورٹ کے مطابق بورڈکے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا کہ ہم نئی ورچوئل انوائرنمنٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں دو دن لگ سکتے ہیں، ہم ویب سائٹس اور ضروری ڈیٹا سینٹر کی کل تک بحالی کیلئے کوشاں ہیں تاہم ہم ڈیٹا کی منتقلی میں جلد بازی نہیں چاہتے تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔

    ہیکرز گزشتہ چند دنوں سے ڈیٹا رومز میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور سیریس سائبر اٹیک کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی تاہم ایف بی آر نے وارننگ کو نظر انداز کیا ، آخر کار ہیکرز اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر گزشتہ سال 23 مارچ کو بھی حملہ ہوا تھا جو ناکام رہا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر حکام کا ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ہیک نہیں ہوا ہے۔سی آئی او ایف بی آر نے ایک دوسرے گروپ پر تصدیق کی ہے کہ یہ ایک مائیگریشن سرگرمی ہے – "مائگریشن کی مشق جاری ہے جس میں کچھ خرابیاں آ گئی ہیں جو بہت پرانے ورژن سے نئے ورژن میں منتقل ہو رہی ہیں-

  • اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہندوستان ہے      مشعال ملک

    اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہندوستان ہے مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسمین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر کہا ہے کہ ہندوستان اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشعال ملک نے کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر کہا کہ جتنی چاہیں پرچم کشائی کی تقریبات کرلیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ہندوستان اس صدی کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے –

    انہوں نے کہا میں ہندوستان کے عوام سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ کو آزادی کا مطلب پتہ ہے ؟ خون سے تحریکیں لکھی جاتی ہیں تب آزادی کی نعمت ملتی ہے۔

    مشعال ملک نے کہا کہ آپ اندھے اور بہرے ہو گئے ہیں کیا ؟ کیا ان 70 سالوں میں آپ کو آواز نہیں آئی کہ ایک قوم پر 70 سال سے ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو آزادی منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں اور پوری دنیا کے لیے بلیک ڈے ہے۔

    واضح رہے کہ لا ئن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیری عوام 15 اگست بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں-یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے سے انکار کرتا آ رہا ہے-

    کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر رکھا ہے، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو بند کردیا ہے قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر کو چاروں طرف سے بھارتی نفری اور پولیس دستے تعینات کرکے ایک فوجی چھائونی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت فورم نے دی ہے اور انہیں تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

    کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

  • محرم الحرام اور اسلامی تعلیمات۔  تحریر:نصرت پروین

    محرم الحرام اور اسلامی تعلیمات۔ تحریر:نصرت پروین

    محرم الحرام سال کا مبارک مہینہ ہے جس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مہینہ بہت سی فضیلتوں اور برکتوں کو سموئے ہوئے ہے۔ جب سے زمین و آسمان کی تخلیق ہوئی اس وقت سے خاص واقعات، خاص رحمتیں اور خاص انعامات اسی مہینے سے وابستہ ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ امت میں ماہ محرم الحرام کی حقیقت، فضیلت اور اہمیت، سے متعلق صحیح اور معتبر تعلیمات دھندلا کر رہ گئی ہیں۔ امت کا ایک بہت بڑا طبقہ محرم الحرام سے متعلق بہت سی بدعات، رسومات، غیر شرعی افعال، بے بنیاد باتوں اور بہت سی من گھڑت چیزوں کا شکار ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات سے نا واقفیت ہی ہے کہ بہت سے سادہ لوح مسلمان نظریاتی اور عملی طور پر اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ شریعت کی نظر میں اس مہینے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس مہینے کی حرمت زمانہ جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس مہینے میں جنگ وجدل سے گریز کرتے تھے اور اسلام کے بعد بھی اس کی حرمت کو برقرار رکھا گیا۔ قرآن و حدیث میں اس مہینے کو شھر الحرم یعنی حرمت والا مہینہ اور "شھر الله” یعنی الله کا مہینہ کہا گیا ہے۔ جس سے اس مہینے کی فضیلت، عظمت اور تقدس ظاہر ہوتا ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں:
    کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے محرم کو الله عزوجل کا مہینہ قرار دیا ہے جو اس کی عظمت اور تقدس کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ الله عزوجل اپنی نسبت صرف اپنی خصوصی مخلوقات کے ساتھ ہی فرماتے ہیں۔
    (شرح النووی 55/8)
    محرم الحرام کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ الله تعالیٰ نے چار مہینوں کو خاص کیا ہے۔ ان کی عزت و حرمت کو بڑھایا اور عملِ صالح پر اجر و ثواب کو بڑھا دیا اور نافرمانی کو قبیح قرار دیا۔ رب العزت کا فرمان ہے:
    اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۶﴾
    ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب الله میں بارہ کی ہے اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی متقیوں کے ساتھ ہے ۔
    (سورہ التوبہ:36)
    حجۃ الوداع کے موقع پر رسول صلی الله علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:
    اب زمانہ گھوم کر اسی حالت میں آگیا ہے جس حالت پہ اس وقت تھا جب الله تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق فرمائی، سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں سے چار حرمت کے ہیں تین پے در پے ہیں۔ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم الحرام اور چوتھا رجب ہے جو جمادی الاول اور شعبان کے درمیان واقع ہے۔
    (صحیح بخاری: 4662)
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے دیکھا اور وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتلایا کہ ہم موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے فرعون سے نجات پانے کے شکرانے میں روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہم موسی کی موافقت کے زیادہ حقدار ہیں۔ یہودی صرف عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ان کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لئے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے نویں کا روزہ بھی رکھنے کا حکم دیا۔ اس مہینے میں روزہ رکھنا باقی مہینوں کے مقابلے میں افضل ہے۔ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے اسی طرح عاشورہ سے ایک دن پہلے روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا یہودیوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے۔ لہذا دسویں محرم کا روزہ نویں یا گیارہویں محرم کو ملا کر رکھنا مستحب عمل ہے۔ الله کے رسول کا فرمان ہے۔
    سب سے زیادہ فضیلت والے روزے رمضان کے روزوں کے بعد الله عزوجل کے مہینے محرم الحرام کے روزے ہیں۔
    (مسلم:2813)
    اس مہینے میں روزہ رکھنا اسکی حرمت کی وجہ سے الله کے نزدیک محبوب عمل بن جاتا ہے۔ خصوصاً یومِ عاشورہ کا روزہ بے پناہ فضیلت کا حامل ہے۔ رسول الله نے فرمایا کہ میں یومِ عاشورہ کے روزے سے متعلق امید کرتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔(ترمذی:752)
    یومِ عاشورہ کا دن انبیا سے وابستگی اور ان کی حیات کے اہم واقعات کا اسی روز میں پیش آنے کی وجہ سے بہت فضیلت رکھتا ہے۔ صاحب عمدۃ القاری یومِ عاشورہ کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اسی دن ہی وہ جنت میں داخل کئے گئے اسی دن ہی ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی جبل جودی پر آٹھہری، اسی دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ہی وہ نمرود کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے گئے، اسی دن سیدنا موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات ملی اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریائے نیل میں غرق ہوگیا، سیدنا ایوب علیہ السلام کو ان کی بیماری سے شفا نصیب ہوئی، سیدنا ادریس علیہ السلام کو اسی دن آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا، سیدنا سلیمان علیہ السلام کو ملک کی عظیم بادشاہت نصیب ہوئی، سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی، اسی دن سیدنا یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے، سیدنا عیسی علیہ السلام کی ولادت اسی دن ہوئی اور اسی دن ہی وہ آسمانوں کی جانب اٹھائے گئے۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری:89/7)
    اس مہینے میں جہاں اعمال صالح کا ثواب بڑھایا گیا وہیں گناہ پر بھی زیادہ عذاب ہے۔ لہذا گناہوں سے اجتناب کرنا چائیے۔ دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح اس مہینے میں بھی ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت کا احترام کرنا چاہئیے ۔ کسی پر ظلم، غیبت، چغلی، حسد، گالی دینا، اور دل آزاری جیسے نافرمانی کے تمام افعال سے گریز کر کے نیکی کے تمام اعمال انجام دینے چاہئیں ۔
    سنتِ رسول کو ترک کر کے جو طریقہ اختیار کیا جائے وہ بدعت کہلاتا ہے۔ لہذا زیب و زینت کو ترک کر دینا، سوگ میں ننگے پاؤں ننگے سر اور ننگے بدن رہنا، مرثیہ خوانی کی مجالس منعقد کروانا یا ان میں شرکت کرنا، نوحہ و ماتم، تعزیہ کرنا، سیدنا حسین علیہ السلام کے نام کی سبیلیں چلانا، غیر الله کے نام پر نذر و نیاز دلانا یہ سب کام بدعات کے ہیں۔
    مرثیہ خوانی میں صحابہ کرام کی ہجو اور تحقیر ہوتی ہے۔ ازواجِ مطہرات کو گالیاں دی جاتی ہیں۔رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے صحابہ کو گالی دی ، اس پر الله کی، فرشتوں کی، اورسب انسانوں کی لعنت ہے۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ:2340)
    رسول صلی الله علیہ وسلم نے مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے۔ (ابن ماجہ:1592)
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو ماتم کرے اور اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی طرح پکارے وہ ہم میں سے نہیں۔ (بخاری:1297)
    سیدنا حسین علیہ السلام کے نام پر سبیلیں لگانا کربلا کے میدان مین تین دن بھوک اور پیاس برداشت کرکے شہادت کا مرتبہ پانے والے کی یاد میں ٹھنڈے مشروبات پلانے، منوں کھانے تقسیم کر کے کھانے اور کھلانے اور رب کی یاد سے غافل ہوجانے میں کیا مشترک ہے؟ پھر غیر الله کے نام پر سبیل کا درجہ کیا ہے؟ رب العزت نے فرمایا:
    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۷۳﴾
    ترجمہ: تم پر مُردہ اور ( بہا ہوا ) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ، اللہ تعالٰی بخشش کرنے والا مہربان ہے ۔ (سورہ البقرہ: 173)
    لہذا جس چیز پر الله کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے وہ حرام ہے۔
    رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں نذر کو پورا مت کرو۔(4245)
    الله تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت کی بہترین سمجھ نصیب فرمائے اور اسی کی روشنی میں اعمال انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں   تحریر ام سلمیٰ

    رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں تحریر ام سلمیٰ

    شادیوں میں دعوتوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ بے جا اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں جو کے اِنکی ضرورت سے انتہائی زیادہ ہوتی ہے اور پیٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے پلیٹ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں.اور وہ کھانا آخر میں ضائع کیا جاتا ہے.
    پاکستان میں ایسی بہت کم تنظیمیں کام کر رہی ہے جو بچے ہوئے کھانے کو ضرورت مند تک پنہچا رہی ہیں.
    ہمیں کھانے کی ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت کیوں ہے؟
    یہ ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکے ہمارے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے.

    میری یہ تحریر کھانے کے ضائع ہونے سے اس کے ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات سے لے کر یہ کہ یہ کس طرح ہماری جیبوں میں سوراخ کو گہرا کر سکتا ہے اس پر ہے ، کھانے کا فضلہ بھی ایک بڑا کا مسئلہ ہے۔

    یہ تین وجوہات دیکھیں کہ ہمیں کھانے کا ضیاع روکنے کی ضرورت کیوں ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہے۔
    دنیا بھر میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پاس موجود خوراک کا صحیح استعمال کریں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر شخص اپنے جسمانی وزن سے زیادہ خوراک کو ہر سال ضائع کرتا ہے ، جو صرف ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعی کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع ترقی پذیر ممالک کی طرف سے پیدا ہونے والے تمام کھانے کے برابر ہے۔ صرف یورپ میں ضائع ہونے والا کھانا 200 ملین بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا۔تو اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کھانے کہ ضائع ہونا کس قدر زیادہ ہے.

    جنتی بڑی مقدار کے ضائع ہونے کی ہم بات کر رہے ہیں اگر یہ ملک ہوتا تو ضائع شدہ خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہوگا۔ 3.3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے ساتھ ، خوراک کا فضلہ عالمی آب و ہوا پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ خوراک ضائع ہونے کے ساتھ ، لینڈ فلز اونچائی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، جو ہر قسم کی جنگلی حیات مکھیاں اور کیڑے ان سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور نازک ماحولیاتی نظام کو توازن سے باہر رکھتی ہے۔ سمندری غذا کے فضلے کو دوبارہ سمندر میں پھینکا جانا بھی سمندری زندگی اور ان کے قدرتی توازن پر نقصان دہ اثر ڈال رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی صرف سیارے کے لیے بری نہیں ہے۔ 2050 تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 84 فیصد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پیداوار کو کیسے متاثر کرے گی۔ یہ پہلے ہی ضائع ہونے والی رقم کی ایک بڑی مقدار کا باعث بن رہا ہے ،

    لہذا اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہو ضرور سوچیں کے جیتنا آپ کھا سکتے ہیں اتنا ہی پلیٹ میں نکالیں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے یہ ہی ہماری دینی تعلیم بھی ہی کیوں بچایا ہوا کھانا پھینکا جانا ہے تو ان حقائق اور کھانے کے ضائع ہونے کے نقصانات کو ذہن میں رکھیں۔ بچایا ہوا ہر تھوڑا سا کھانا مدد کرتا ہے ، اور یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔

    @salmabhatti111

  • یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    جیسے ماں باپ اپنی اولاد کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے اور سوچتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نا آئے۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کی ساکھ کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے اقدامات کرے۔

    چاہے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے پیچھلے گزرے تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں جس کی مثال گزرے کئ سالوں اور سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں نہیں ملتی۔

    جی ہاں بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد آخرکار جب عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی باور کروائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد اب جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    پھر بےشک ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے عمران خان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا اور اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے۔ جن کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    پر میرا یہ ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے نڈر اور بہادر وزیراعظم عمران خان کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے۔ جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں تین سالوں میں یعنی عمران خان کی حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    جس کی وجہ ہی یہ تھی کہ ان وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ بےشک ان میں سے وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک عمران خان کو عزیز تھے پر خان صاحب نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے کیے۔ اب سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے خان صاحب اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور خان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی خاصا فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا۔

    کیونکہ وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق عمران کا جو فرض تھا انہوں نے وہ ادا کیا۔ عمران خان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے تھے وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔ اسی طرح موجودہ حکومت سے قبل ہم نے سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ کبھی کسی سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے اس کی ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ نہیں کیا تھا کیونکہ ان کا اصل مقصد ملک کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں۔

    @SeharSulehri

  • پوری قوم کو آزادی مبارک  تحریر  : راجہ حشام صادق

    پوری قوم کو آزادی مبارک تحریر : راجہ حشام صادق

    ماہ اگست شروع ہوتے ہی جشن آزادی کی تیاریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آتی ہے۔جشن آزادی کے پروگرامز کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔جشن آزادی کے اس دن کو پورے جذبے سے منایا جاتا ہے۔کہیں آتش بازی تو کہیں بھنگڑے کہیں مختلف پروگرامز کو ترتیب دیا جاتا ہے۔لیکن اس آزادی کے پیچھے مقصد اور اس کی اہمیت پر کوئی بات نہیں کرتا یہ وطن عزیز کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے ۔اس کے بارے نہ تو کوئی پروگرامز ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو بتایا جاتا ہے۔کہ اس وقت کیوں لاکھوں افراد نے قربانی دیں۔

    لاکھوں ایسے افراد جنہوں نے کئی دہائیاں جدوجہد کی اس وطن کی بنیاد آزادی ایک لفظ آزادی کو بوڑھوں بچوں عورتوں اور نوجوانوں نے اپنے خون سے لکھا ہے ۔دو قومی نظریہ پر وجود میں آنے والی یہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان حقیقی معنوں میں آج بھی مکمل آزاد نہیں ہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں انفرادی طور پر ہر شخص ایک مخصوص سوچ کا غلام ہے۔یہ ایک ایسی ریاست جس میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ہر شخص آزاد ہے وہ اپنی مسجد میں عبادت کرتا ہے ۔ یا مندر میں جاتا ہے لیکن اس آزادی کو بھی ایک سوچ نے غلام بنا رکھا ہے۔ اس معاشرے میں دوسرے مذاہب سے نفرت کو دیکھا جاتا ہے وہیں اپنے ہی مذہب میں مختلف مسلک کے افراد کو بھی نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسلام کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

    جو ریاست بنی ہی برابری کی بنیاد پر تھی جس کا مطلب لا الہ الا اللہ تھا اسی ملک کے اندر امیر غریب رنگ و نسل کا فرق رکھا جاتا ہے۔اسی ملک کی آزادی کے لیے بلا تفریق رنگ و نسل قربانیاں دی گئیں آج اسی سرزمین پر طاقت کے لئے ذات اور نسل سے طاقتور اور کمزور کا فیصلہ ہوتا ہے۔

    جس وطن کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی بنیاد ہی قانون کی بالادستی انصاف اور امن کی بنیاد پر رکھی گئی آج اسی اسلامی جمہوریہ ریاست میں طاقتور کو منصف ظالم کو عادل معافیہ کو معاشرے کے شرفاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ میرے وطن کا مقصد آزاد لوگوں کی ریاست تھا لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اس ملک پر ایک طاقتور طبقہ مسلط ہو گیا جس نے عوام کی فلاح کی بجائے اپنی نسلوں اور خاندان کا سوچا۔

    خاص کر پچھلے 30 سالوں سے اس ملک پر حکمرانی کی جنگ عوام کی خدمت نہیں بلکہ اپنی انا اور طاقت کی جنگ رہی ہے ایک آزاد قوم کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے پھر سے غلام بنا دیا گیا ہے۔ یہ غلامی کسی دوسری قوم یا نسل کی نہیں بلکہ اپنے اوپر اپنی ہی طاقت سے مسلط کئے گئے چند افراد کی طرف سے ہے۔جن کو ہم اپنا رہبر سمجھتے رہے جن کو اپنا مسیحا سمجھے اور ان کے پیچھے چلتے رہے انہوں نے ہی ایک آزاد قوم کو پھر سے غلام بنا دیا ہے۔آزادی کے دن ہی ہم غیر مسلم قوم کی غلامی سے نکل کر اپنوں کے غلام بن گئے تھے ابھی شاید کچھ وقت اور لگے جب ہم خود کو آزاد قوم سمجھیں ۔

    14 اگست کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کیا ہم واقعی آزاد قوم ہیں ؟
    اگر آزاد ہیں تو پوری قوم کو آزادی مبارک۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو۔

    @No1Hasham