Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے  تحریر : آصف شہزاد

    جب سوات کے باسیوں کیلئے سیاحت وبال بن جاتا ہے تحریر : آصف شہزاد

    وادئ سوات پاکستان کا وہ سیاحتی علاقہ جوکہ قدرت کے حسین نظاروں اور دلکش وادیوں کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے یہاں بدھ مت اور ہندو شاہی کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کے دونوں اطراف مختلف ادوار کے باقیات اور آثار نمایاں طور پر سیاحوں کو اپنی اپنی طرف راغب کرتے ہیں

    مخدوش حالات اور فوجی اپریشن کے بعد جب سوات میں سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوئی تو یہ علاقہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ بین الاقوامی اور ملکی میڈیا پر سوات کے حوالہ سے گاہے گاہے خبروں نے اس علاقہ کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ کردیا جس سے ملک بھر کی عوام کا تجسس وادئ سوات اور یہاں سے جڑے سیاحتی مقامات کو دیکھنے کیلئے بڑھ گیا۔ساتھ ہی ساتھ جب فوجی اپریشن اختتام پزیر ہوا اور حالات بہتر ہوئے تو سوات کے لوگوں نے انتہائی مثبت کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحت کی فروغ میں اپنا حصہ شامل کردیا، نئے سیاحتی مقامات کے دریافت سے لیکر بین الاقوامی معیار کی سہولیات تک سوات کی وادیاں سیاحوں کیلئے پر کشش بنادی گئیں جن سڑکوں کو خراب حالات اور سیلاب کی وجہ سے نقصانات پہنچے تھے چند سال گزرنے کی بعد ان پر تعمیری کام کا آغاز ہوا جس سے سوات کی سیاحت کو مزید ترقی مل گئی جبکہ کالام اور ملم جبہ کی سڑکیں بن جانے سے یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگ گئے۔

    ملم جبہ چیئر لفٹس بحال ہوئے ،تباہ شدہ ہوٹل دوبارہ تعمیر ہوئے ، مزید بے شمار ہوٹل بن گئے جبکہ نو ہزار فٹ زیادہ کی بلندی پر واقع وادئ ملم جبہ میں طرح طرح کے بین الاقوامی معیار کے کھیلوں کی داغ بیل ڈال دی گئی جس سے ملم جبہ کی وادی میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ان کھیلوں میں حصہ لینے پر مجبور ہوگئے، ملم جبہ میں سیمسنز کمپنی کے انتظامیہ نے اس ضمن قابل تحسین کردار ادا کیا۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردار موجودہ حکومت نے سوات ایکپریس وے کی تعمیر کی شکل میں ادا کیا جس سے سفر میں آسانی اور وقت کی بچت نے سیاحوں کو سوات کی جانب راغب کیا۔

    عزیزان من !
    پورے ملک کے سیاحوں کو تو وادئ سوات نے اپنے سینے پر جگہ دیدی جوکہ یہاں کے عوام کیلئے کافی خوش کن تاثر کا سبب ہے تاہم لانگ ویکینڈ اور عید کی چھٹیوں میں یہاں کے مقامی لوگوں کو سیاحت کا جو موقع میسر تھا اب وہ نہیں رہا !

    کیونکہ ان مخصوص دنوں میں سیاحوں کی جو جم غفیر وادئ سوات پہنچتی ہے اس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور چند کلومیٹر کے سفر میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ پورے ملک سے بالعموم جبکہ خیبر پختونخواہ سے بالخصوص سیاح سوات کی طرف امڈ آتے ہیں جبکہ ان مواقع پر سوات کی انتظامیہ اکثر اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان سیاحوں کیلئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی مرتب نہیں دیتے اسلئے یہاں کی تنگ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ جاتیں ہیں اور شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔

    حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بڑی عید کی چھٹیوں میں اسی ہزار سے زائد گاڑیاں سوات میں داخل ہوئیں جن میں لاکھوں افراد سوار تھے اور متوسط اندازہ ہے کہ ان گاڑیوں میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سوات میں داخل ہوئے، جوکہ ظاہری طور پر ایک بڑی تعداد ہے اسی طرح یوم آزادی کی چھٹیوں میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ حالیہ محرم کی چھٹیوں میں کالام سمیت ضلع بھر کے سولہ سو ہوٹل سیاحوں کیلئے کم پڑگئے اور لوگ ٹینٹوں اور گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہوگئے یعنی مشاہدہ کے مطابق سوات کی موجودہ سڑکیں ، ہوٹلز ، اور ریستوران اس تعداد کو سنبھالنے کا متحمل نہیں !

    اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک جام سے مقامی آبادی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر جب کسی مریض کو ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہو اور ہسپتال پہنچانا ہوتا ہے تب مذکورہ ٹریفک جام میں پھنس کر خطرات کا شکار ہونا یہاں کے باسیوں کیلئے معمول بن گیا ہے، جن مقامی تاجروں کے گھر کالام روڈ پر واقع ہیں اور کاروبار مینگورہ شہر میں ہیں ان کیلئے مذکورہ دنوں میں چند کلو میٹر کا فاصلہ کوہِ گراں کو عبور کرنے کے مترادف ہوتا ہے شہر پہنچنے کیلئے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا اور پھر واپسی پر اسی وبال کا سامنا کرنا ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے جس کا صبر کے علاوہ کوئی حل ان کے پاس موجود نہیں ہے
    دوسری جانب یہ بات قطعی طور پر نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مقامی لوگوں کیلئے بھی ان مخصوص دنوں کی چھٹیاں کبھی تفریح کا موقع ہوا کرتی تھیں لیکن اب سیاحوں کے اس جم غفیر میں ان مقامی لوگوں کی چھٹیاں گھروں پر ہی گزرتی ہیں کیونکہ اگر مقامی لوگ بھی مذکورہ رش میں شامل ہوجائے تو ممکنہ طور پر سیاحوں کیلئے مزید پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں اسلئے اب سوات کے باسی پختون روایات کے مطابق سوات آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر ان مخصوص دنوں میں اپنی تفریح کی قربانی دیتے ہیں اور سیاحوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں اور اپنی چھٹیاں گھروں میں ہی گزارتے ہیں۔

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آیام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی جانب سے اقدامات قابل ذکر ہیں جن میں ٹریفک وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولیس سر فہرست ہیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ٹورسٹ پولیس غیر فعال ہوتے نظر آرہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی اس ضمن غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔جس کے نقصانات یہ برآمد ہوئے کہ جگہ جگہ شدید ٹریفک جام کیساتھ ساتھ سوات کی تاریخ میں پہلی بار سیاحوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع ہوا اگرچہ مقامی پولیس کیمطابق سیاحوں کو لوٹنے والے گروہ تو گرفتار کرلئے گئے ہیں تاہم مقامی پولیس کی غیر فعالی اور مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی نے ایسے واقعات کو جنم دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سوات ایکپریس وے کے فیز ٹو کیلئے فنڈز ریلیز کئے جائیں تاکہ سیاحوں کو دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ سفری آسانی یقینی بنائی جاسکے اور سوات میں معیشت کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کو چاہئے کہ ٹورسٹ کیلئے مرتب دئے گئے پولیس دستہ کی فعالی اور بہتری میں کردار ادا کریں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ھدایات جاری کریں کہ مذکورہ بالا حالات پر قابو پانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے ، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کو سیاحتی مقامات کی صفائی اور اس حوالہ سے منصوبہ بندی کی ذمہ داریاں دی جائیں تاکہ سیاحوں کی تعداد ان وادیوں کے قدرتی حسن پر اثر انداز نہ ہو ، دریائے سوات پر سیلاب کی وجہ سے بہہ جانے والے درجن بھر پُل تاحال تعمیر نہیں ہوسکے جس سے نئے سیاحتی مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہے لہٰذا ان پُلوں کی تعمیر سے ملم جبہ اور کالام پر سیاحوں کا رش کم کیا جاسکتا ہے جس سے ٹریفک کے نظام پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کافی کمی آسکتی ہے ، کالام سے کمراٹ تک باڈگوئی پاس پر سڑک کی تعمیر سے دیر اور سوات کی سیاحت کو مزید ترقی ملیگی جس سے دیر کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ ممکن ہے۔

  • پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

    پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

     
    پروفیسر فتح محمد ملک جیسے عظیم دانشور ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کرتے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال اور قائد کے نظریہ سے روشناس کرتے ہیں۔ اور نظریہ پاکستان اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف اعتدال پسند پروفیسر جنکی محفل آپ کو گھنٹوں علم سے بھرپور گفتگو سننے پر مجبور کردے اور اختتام پر آپ کا دل پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی نشست چھوڑنے پر اگلی بیٹھک تمنا رکھے۔
    تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان، اقبال اور قائد اعظم بارے علم سے سرشار ایسا انداز بیان کے آپ انکی سادہ گرفتار کے اسیر ہوجائیں۔ فتح محمد ملک کی زبان و بیان اور عمل و فکر سے ناصرف اقبالیات جھلکتی ہے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان اور وسیع النظر اسلامی سوچ کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔
    پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ انہیں ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جاتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فتح محمد ملک کو کالج میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو اس وقت جو آپشن تھا اس میں راولپنڈی کا گارڈن کالج، زمیندار کالج گجرات، گورنمنٹ کالج چکوال اور گورنمنٹ کالج کیمل پور یعنی اٹک تھا۔ لیکن ملک گل محمد نے کیمل پور کالج کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برگ اور پروفیسر محمد عثمان جیسے ہونہار اساتذہ تھے۔

    اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس زمانے میں پروفیسر صاحب کے والد گرامی نے عمارت یا فاصلے کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ وہاں تعلیم کون دے رہا ہے جہاں ملک صاحب کے ہم جماعت شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی تھے۔ بعد ازاں جب ملک صاحب روالپنڈی کالج ایم اے کرنے کیلئے آئے تو وہاں  منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا کے ساتھ مقامی اخبار روزنامہ تعمیر میں ملازمت بھی کی جس کے ایڈیٹر محمد فاضل تھے۔ پھر تینوں بیروزگار ہوگئے تو یہ دوست تقریباً بائیس دن تک لیاقت باغ میں سوتے رہے کیونکہ ان کے پاس بیروزگاری کے سبب رہنے کی جگہ نہیں تھی اور سامنے ایک چائے والا تھا جس کے ساتھ کنٹریکٹ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چائے اور رس دے گا یعنی انہوں نے مسلسل بائیس روز تک بنا روٹی کے چائے اور رس پر کھلے آسمان تلے گزارا کیا۔
    اس دوران ریڈیو پاکستان کے کمپیئر طارق عزیز مرحوم کچھ دنوں کیلئے بیمار ہوگئے تو انہوں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری جگہ آپ آجائیں اور خبریں پڑھیں اور منو بھائی کو سکرپٹ رائٹر بنا دیا گیا۔ پھر جب انہیں تنخواہ کا چیک ملا اور یہ پیدل آرہے تھے اور اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا تو راستے میں ہوٹلوں پر تکہ کڑاہی اور گوشت بنا نظر آیا تو فتح ملک نے ہاتھ پکڑ کر منو بھائی مرحوم سے کہا اس طرف نہیں دیکھنا بلکہ پہلے اپنے اس محسن چائے والے کا ادھار چکانا ہے کیونکہ اس نے بائیس دن تک ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
    پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں  باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔

    اس کے علاوہ مصنف و قلم کار محمد حمید شاہد نے پروفیسر فتح محمد ملک کی زندگی پر “پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن” کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور انہوں نے پروفیسر صاحب کے مزاج اور عظمت کو یہ کہہ کر جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ: "علامہ محمد اقبال نے نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو جیسے پروفیسر فتح محمد ملک بارے کہا تھا۔ یہ ایسی عظیم اور اعلی طبیعت شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں۔”
    پروفیسر فتح محمد ملک کی شادی اپنے آبائی علاقہ عطا اللہ شاہ بخاری کے احراری خاندان کی ذکیہ ملک سے ہوئی تھی جو پڑھی لکھی اور انتہائی عظیم خاتون تھی جن کی تربیت ان کے چاروں بچوں میں جھلکتی ہے، جس میں محمد طارق ملک موجودہ چیئرمین نادرا، پروفیسر طاہر نعیم ملک نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد، اور پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی لندن جبکہ چھوٹی بیٹی سعدیہ ملک بھی پروفیسر ہیں۔
    فتح محمد ملک کی رفیق حیات ذکیہ ملک ایک ہاوس وائف خاتون تھیں جو بیماری میں مبتلا ہو کر 1995ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئی تو فتح محمد ملک کو رشتہ داروں اور احباب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کرلیں لیکن ملک صاحب نے انہیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ: "یہ تو بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ میرے دل میں کوئی اور ہو اور گھر میں کوئی اور۔”
    پروفیسر صاحب پر نمل یونیورسٹی، بہاولدین زکریا یونیورسٹی، اور بہاول پور یونیورسٹی میں تین ایم فل ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں اردو یونیورسٹی میں ان کی علمی، ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا ایک تھیسس بھی لکھا گیا ہے۔ اور علم و ادب کی بے پناہ خدمات پر 2006 میں ستارہ امتیاز، 2017 میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی جامعات سے بھی آپ وابستہ رہے۔ جن میں کولمبیا یونیورسٹی، ہیڈلبرگ یونیورسٹی، ہمبولٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
    پروفیسر صاحب  نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات کو اہمیت دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نیا پاکستان بنانے کا عزم ذوالفقار علی بھٹو بھی سامنے لائے تھے لیکن ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا جائے کیونکہ اس پاکستان کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس پاکستان کیلئے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی تھی۔ اور وہ اپنے نظریات کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ حقیقی پاکستان بنانے کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ سردار اور وڈیرا نظام شاہی وہ چاہے کہیں بھی ہو ختم ہوگا تو عام عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے۔
    قائداعظم نے سب سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ: نسل، رنگ  اور لسانی تصورات کے تعصبات کو ختم کیا جائے۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان  کے دوران قائد اعظم ایک بہت بڑے جلسے کی قیادت کررہے تھے تو ان کے کان میں ایک آواز سنائی دی کہ حضرت مولانا قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد اس پر انہوں نے جلوس کو روک کر نعرہ لگانے والوں کو مخاطب کر کے انگریزی میں  کہا میں آپ کا مذہبی رہنما نہیں بلکہ سیاسی رہنما ہوں، اس لیے مجھے مولانا نہ کہیں۔
    پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ: کاش جنرل ضیاء جیسی ذہانت کے لوگ اس جلسہ میں شریک ہوتے اور قائد کے اس فرمان سے سبق اندوز ہوتے۔
    ہمارے ہاں موسیقی کو اسلام سے دوری سمجھا جاتا ہے لیکن پروفیسر صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میں ہیڈلبرگ  یونیورسٹی میں ایک کلاس میں پڑھا رہا تھا جس میں اس سمسٹر کا مضمون تھا Muslim thoughts and South Asia تو وہاں ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی اور وہ گیٹ پر میرا انتظار کررہی تھی، میں جیسے باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ جناب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی اور بتانے لگی "میں میڈکل کی طالبہ ہوں۔” انتظار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی مجھے آپ کی اجازت چاہئے تاکہ آپ کی کلاس میں، میں بھی بیٹھ سکوں؟  کیونکہ میں اسلام سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ جس پر میں نے انہیں کہا خوش آمدید، ضرور آئیں اور پھر اس نے اپنا ایک واقع سنایا کہ: میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پب میں بیٹھی تھی اور وہاں ایک میوزک لگا ہوا تھا اور اتنا لطیف میوزک تھا، بہت اعزاز کی کیفیت تھی۔ خیر میں نے سمجھا کہ شائد میں زیادہ (شراب) پی گئی ہوں اس لیے یہ کیفیت ہے۔ لیکن دوسری صبح میں نے سوچا اب دوپہر کو جاونگی وہاں دوپہر کا کھانا کھاوں گی اور ان سے اسی موسیقی کی فرمائش کروں گی۔  تو انہوں نے جب وہ میوزک لگایا تو وہی کیفیت وہی وجد طاری ہوگیا تو میں حیران ہوئی اور ان سے جاکر پوچھا کہ: یہ کس ملک کا میوزک ہے اور یہ موسیقار کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ پاکستانی میوزک ہے اور نصرت فتح علی خان وہاں کے بہت بڑے موسیقار ہیں یہ ان کی گائیکی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ پاکستان سے کسی کو کہہ کر منگوانا پڑے گا، جس پر جواب ملا نہیں باہر جاکر کسی موسیقی کی دوکان پر یہ نام بتائیں اور آپ کو مل جائے گا۔ میں نے جاکر خرید لیا اب یہ سنتی ہوں اور بہت لطف اندوز ہوتی ہوں  اور پھر سوچا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ ہونی چاہیے۔ اور میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں۔
    جہاں پر پروفیسر صاحب نے وضاحت کی موسیقی بھی اللہ کی دین ہے اور یہ سننے اور گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس زاویہ سے سنتا ہے۔
    ملک صاحب نے ناصرف اقبال کے نظریہ پر چلتے ہوئے اس ملت کو بحث تنقید بنایا جس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ “نیم حکیم خطرہ جان؛ نیم ملا خطرہ ایمان، دین کافر فکر و تدبیر و جہاد، دین  ملا  فی سبیل اللہ فساد” بلکہ جب فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اس سے متعلق ایک مضمون بعنوان ” آزادیء اظہار یا آزادی آزار” لکھا اور اس میں متذکرہ بالا جریدے اور فرانسیسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو صحافتی دہشت گردی قرار دیا اور فرانسیسی قیادت کو اس قبیح حماقت پر ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری جیسے القابات سے مخاطب کیا۔ اور یہ مضمون مصنف کی کتاب “چچا سام اور دنیائے اسلام” میں بھی موجود ہے۔
    قارئین آپ کو ان کی تحاریر پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ یہ مذہبی انتہاپسندی اور لبرل فاشزم دونوں کے خلاف ہیں ایک اعتدال پسند یعنی پروگریسو مسلمان ہیں۔ تبھی تو ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ نئی نوجوان نسل میں وہ اپنی قلم کے ذریعے حقیقی پاکستان، اسلام اور علامہ اقبال و قائد کی روح پھونک سکیں۔ چونکہ نوجوان نسل ہی قوم و ملک کا مستقبل ہوتی ہیں تو اگر ان کے دل اقبال اور قائد کے فکر و عمل سے صحیح معنوں میں سرشار ہونگے تو تب جاکر کہیں حقیقی پاکستان کا تصور عمل میں لانا ممکن ہوگا۔
     پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی عمر اب 85 سال کو پہنچ گئی جس میں 55 سال اور علم ادب کی خدمات میں گزرگئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لہذا اس عظیم دانشور کی بے بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ تحریر بالکل ناکافی ہے کیونکہ یہ احقر ایک علم کے پہاڑ کے سامنے مٹی کا ایک زرا ہے۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے دانشوروں کا سایہ ہم طلبہ اور انکے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

  • عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    عورت ہوں تو کچھ بھی کروں گی تحریر: سحر عارف

    18 اگست کو اچانک سے سوشل میڈیا پہ کچھ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں ٹک ٹاک سٹار عائشہ اکرم نے دعویٰ کیا کہ انھیں 400 مردوں کی جانب سے حراس کیا گیا۔ یہاں پاکستان کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی کیونکہ کچھ لوگوں یا یوں کہوں تو غلط نا ہوگا کہ نمک حراموں کی طرف سے اس واقعہ کا سارا ذمہ پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہ ملک عورتوں کے لیے محفوظ نہیں۔

    ایک معروف صحافی کی جانب سے جب یہ جملہ کہا گیا کہ خوش قسمت ہے وہ انسان کہ جسے اللّٰہ نے اس ملک میں بیٹی نہیں دی تو بہت افسوس ہوا۔ کیونکہ پاکستان نے تو ہمیشہ سب کو تحفظ دیا ہے۔ یہ ملک تو بنا ہی ہماری حفاظت کے لیے ہے۔

    پھر جنسی تشدد، حراسگی اور ایسے تمام واقعات کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ اس ملک میں پلنے والے وہ جانور اور وہ درندے ہیں جو عورت کو عورت سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ عورت کے لیے غیر محفوظ ملک بھارت ہے۔ جہاں ایسے واقعات عام سے عام تر ہیں۔ اب اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کتنے خودغرض اور ناشکرے ہیں جو اپنے ہی ملک کو بار بار کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

    خیر مینار پاکستان والے واقع پر پہلے تو بہت سے لوگوں نے تشویش اور غصے کا اظہار کیا لیکن پھر جیسے جیسے حقیقت سے پردہ اٹھنے لگا تو ایسی چند تصویریں اور ویڈیوز منظرعام پر آئیں جس میں دیکھا گیا کہ کس طرح عائشہ اکرم خود انھیں غیر مردوں جن پر محترمہ نے حراسگی کا الزام لگایا چپک چپک کے سیلفیاں بنارہی تھی۔

    عوام کو یہ سمجھنے میں بالکل بھی وقت نہیں لگا کہ بی بی نے یہ سارا ڈرامہ رچایا تھا تو صرف اور صرف ایک سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے۔ کیونکہ اگر اس واقع کا حقیقت سے کوئی تعلق ہوتا تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب واقعہ 14 اگست کو ہوا تو محترمہ نے 4 دن کی خاموشی کیو سادھی؟ 4 دن بعد ہی کیوں یاد آیا کہ مجھے 400 لوگوں نے حراس کیا تھا؟ اسی وقت اپنے مجرموں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

    ایک طرف الزام تراشیاں جاری تھیں تو دوسری طرف راتوں رات عائشہ اکرم کے ٹک ٹاک پر تیس ہزار سے زائد فولوورز کا اضافہ بھی ہوا۔ یعنی وہ مقصد پورا ہوگیا جس کے لیے یہ سارے دو نمبر ڈرامے کا سہارا لیا گیا۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہارے معاشرے میں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو صرف چند ہزار فولوورز بڑھانے کے لیے کچھ بھی کرجاتی ہیں۔

    پر ایک بات واضح کرتی چلوں کہ یہ قوم اپنی ہر اس ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کھڑی ہے جو حقیقتاً ایسے واقعات کا شکار ہوتی ہیں۔ پھر عائشہ اکرم جیسی خواتین جو سستی شہرت کے لیے اپنے عورت ذات ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں ایسی عورتوں کو یہ قوم مسترد کرتی ہے۔

    کیونکہ یہی چند عورتیں عورت کے نام پر سیاہ داغ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • غنی دربدر سے غنی برادر تک تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    "مجھے نفرت ہے ان لوگوں سے جو ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں” یہ تاریخی الفاظ ہیں سابق صدرافغانستان کے جو اب خود ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں اور پوری دنیا میں دربدر ہے۔
    بہتر سالہ اشرف غی 2014 کے اوائل میں امریکی آشیرباد سے افغانستان کے صدر بنائے گئے وہ ایک سیاستدان، تعلیمی اور معاشی ماہر سمجھے جاتے تھے جنہوں نے 2014سے15 اگست 2021 کے درمیان افغانستان کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ مجوزہ طور پر بھارت کے بہت نزدیک شمار کئے جاتے تھے اور پاکستان مخالف بیانات اور سازشوں میں ان کا کوئ ثانی نہ تھا۔ پھر اللہ کا کرناایسا ہوا کہ امریکہ نے افغانستان کی طویل ترین جنگ سے جان چھڑانی چاہی تو اپنی فورسز کو افغانستان سے واپس بلانے کا اعلان کر دیا امریکی اعلان کے ساتھ ہی وہاں موجود طالبان نے بھی افغانستان پر قبضے کی کوششیں تیز کر دیں اور جیسے جیسے امریکی فورسز افغانستان چھوڑتی رہی ویسے ویسے طالبان افغانستان پر قابض ہوتے گئےاور بالآخر 15اگست2021 کو تمام تر بھارتی جنگی ساز وسامان اور بھارتی تربیت کی موجودگی میں افغان فورسز کو بناء مزاحمت کے طالبان نے پچھاڑ کے رکھ دیا اور افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا جب کہ اشرف غنی مجوزہ طور پر افغانستان سےفرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اشرف غنی کے بارے میں اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ ڈالروں سے بھری تین گاڑیاں بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ جب اشرف غنی فرار ہو کر تاجکستان پہنچےتو تاجکستان میں موجود افغانستان کے سفارت خانے نے انٹرپول سے کہا کہ وہ عوامی فنڈز غبن کرنے پر اشرف غنی کوگرفتار کرے پھر اشرف غنی پہلے اومان پہنچے پھر خبر آئ کہ قطر ہوتے ہوئےمتحدہ عرب امارات پہنچ گئےاور آخری خبریں آنے تک وہیں موجود ہیں۔
    افغانستان پر طالبان کی تیز ترین فتح کے بعد پوری دنیا نے اپنے ممالک میں ہنگامی اجلاس کا آغاز کر دیا اورطالبان کے موجودہ سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ نےتین رکنی مزاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی جو مشاورت کے بعدانتقال اقتدارکے عمل کو ممکن بنائے گی۔
    اب تک کی اطلاع کے مطابق ملا عبدالغنی برادراخوند ممکنہ طور پر افغانستان کے نئے صدر ہو سکتے ہیں ملا عبدلغنی برادر ایک افغان جنگجو رہے ہیں جو افغانستان میں طالبان کے بانیوں میں سے ہیں اور طالبان کے موجودہ سربراہ ملا ہیبت اللہ کے نائب امیر بھی ہیں جو مزاکراتی کمیٹی کے نگراں کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ موجودہ جنگ بندی پر امریکہ سے مزاکرات میں بھی پیش پیش رہے۔ملا غنی برادر طالبان کے بانی رہنما ملا عمر کے نائب بھی رہ چکے ہیں اور ملا عمر نے ہی انہیں "برادر”کا لقب دیا تھا جس کا مطلب بھائ کے ہیں۔ ملاغنی برادرافغان طالبان کے لئے تمام دنیا سے مزاکراتی عمل میں بااثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
    یہ بات پوری دنیا کے لئے بہت خوش آئند ہے کہ طالبان نے افغانستان میں فتح حاصل کرنے کے بعد مخالفین کے ساتھ جو برتاو کیا ہے وہ بہت قابل ستائش ہے اور امید کی جاسکتی ہے ملا غنی برادر کی سربراہی میں ایک پر امن افغانستان اس خطے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور
    غنی دربدر کے بجائے غنی برادر پاکستان کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے امن و سلامتی کے ضامن بنیں گے۔

    @Azizsiddiqui100

  • اللّٰہ کو راضی کرنے کا آسان اور انمول طریقہ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    اللّٰہ کو راضی کرنے کا آسان اور انمول طریقہ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کے زمہ عبادت کی زمہ داری دی ہے. اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا.
    "ہم نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا.”
    اگر غور کیا جائے تو اسی مقصد کے لیے اللہ رب العزت کے حضور بہت سے فرشتے بھی اس کام کے لیے منتخب ہیں اور اس کام کو انجام دے رہے ہیں.
    ایک جماعت مسلسل قیام دوسری رکوع تو تیسری سجدے کا شرف حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کر رہی ہے.
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے سر اشرف المخلوقات کا سہرا بھی سجا رکھا ہے. اور دیکھا جائے تو اوپر مذکورہ عبادت میں مشغول فرشتے بھی تو مخلوق ہی ہیں. تو پھر عبادت کے ساتھ ساتھ کونسی ایسی چیز انسان کے زمہ ہے جسے نبھایا جائے تو انسان اشرف المخلوقات کی صف میں شامل ہوتے ہیں.وہ انمول صفت احساس کی ہے دوسری مخلوقات میں اس صفت کو اس انداز میں ممتاز نہیں کیا گیا جس انداز میں انسان میں رکھا گیا ہے. انسان اور جانور میں فرق کرنے والی خصوصیت بھی یہی ہے.جانور زیادہ تر اپنی بقا آور ضرورت کی سوچ لیے ہوتا ہے. جبکہ انسان کو احساس اور ایثار کی دولت سے نوازا گیا ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا احساس کے لیے وسیع دولت لازمی ہے؟
    بلکل نہیں احساس حقوق العباد کا ایسا رکن ہے جس میں ہر جگی دولت ضروری نہیں. بعض اوقات کسی کو آپکی اچھے گفتگو اس کے اعصابی دباؤ کو کم کر دیتی ہے. بعض اوقات آپ کی خوش اخلاقی اس کے لیے دردِ دوا بن جاتی ہے. کوئی شخص پریشان ہو اس کو اس کی ہریشانی سے نکال دینا بھی تو نیکی ہی ہے.
    آئیے اس کو ایک شریعت کے اوراق سے دیکھتے ہیں.
    ایک دن نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مخاطب ہوے اور کہا کہ مانگو عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کیا مانگتی ہو. دریائے رحمت کو اس قدر جوش میں دیکھ کر اجازت طلب کی کہ میں اپنے والد محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ نا کر لوں؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور اجازت دے دی. سوال حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے رکھا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انتہائی دانشوری سے سوال تجویز کیا کہ پوچھو کہ واقع معراج النبی میں جب اللہ سے ملاقات ہوئی تو اس وقت کچھ راز و نیاز کی باتیں ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بات بتا دیں.حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال لا کر آپ ﷺ کی بارگاہ میں رکھ دیا. حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور جواب ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ میں سب سے زیادہ خوش اس شخصیت سے ہوتا ہوں جو کسی کے ٹوٹے ہوے دل کو جوڑے.وعدے کے عین مطابق جب سوال کا جواب لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جناب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں اور جواب سے آگاہ کیا تو جواب سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بار مسکراے اور پھر رونے لگے. حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے وجہ پوچھی تو جواب دیا کہ میں مسکریا اس لیے کہ کائنات کا مالک کسی بندے کے بظاہر اتنے چھوٹے سے عمل سے سب سے زیادہ راضی ہو جاتا ہے. لیکن رویا اس لیے کہ اگر کسی سے کسی کا دل ٹوٹ جاے تو رب العالمین کتنا ناراض ہو گا اس بد بخت انسان سے.
    تو پتا چلا کہ حقوق العباد صریحاً کنجی _ رضا _ رب العالمین ہے.
    خدارا اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو حقوق العباد کے بظاہر اس معمولی لیکن انتہائی اہم پہلو کو نظر انداز مت کیجئے. اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں سے اچھی گفتگو کیجیے اگر ممکن ہو تو ان کے مسائل کا حل تجویز کیجیے مخلوق کی اللہ کی رضا کے لئے خدمت کیجیے تا کہ اللہ ہم سے راضی ہو.

    @EngrMuddsairH

  • ہم ہیں پاسبان اس کے ۔ تحریر  : راجہ ارشد

    ہم ہیں پاسبان اس کے ۔ تحریر : راجہ ارشد

    وطن عزیز دہائیوں سے بادشاہت کے نظام تلے دبی دبی سانسیں لیتا رہا لفظ جمہوریت ماضی میں صرف فسادات برپا کرنے کیلئے یا کالے دھن کو چھپانے کے لئے استعمال ہوتا رہا جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے اس کے معنی بدل دئیے ۔ یہ لفظ چوروں قاتلوں غرض کہ ہر طرح کے مافیا کیلئے بطورِ ڈھال استعمال ہونے لگا۔

    2018 سے پہلے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکمرانی میں تخت شاہی کی جنگ صرف دو گھرانوں میں پروان چھڑتی رہی اس ملک کی حکمرانی ان دونوں گھرانوں میں ہی تقسیم ہوتی رہی اس ملک کو ان بادشاہوں نے اپنی وراثتی جائیداد سمجھ رکھا تھا جو نسل در نسل منتقل ہونے کی خواہش مند تھے۔جیسے باپ کے بعد بیٹی ، بیٹی کے بعد بیٹی کا شوہر اور پھر نواسہ تو کبھی باپ کے بعد باپ کا بھائی ، بیٹی اور بھتیجا وغیرہ۔

    یہ شجرہ نصب جوں کا توں ہی آگے بڑھتا رہتا اگر ایک شخص ان بادشاہوں کے سامنے آ کر انہیں للکارتا نہ تو۔ یہ ایسے ہی وطنِ عزیز کی بندر بانٹ کرتے رہتے۔
    اس مردے مجاہد نے بائیس سال کی انتھک محنت سے ان موروثی بادشاہوں کا تخت چھین کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ مگر اس تخت کے لالچ نے ان بادشاہوں کی اولادوں کو سکون نہ لینے دیا ۔ دونوں گھرانوں نے اپنے خاندانی وطیرہ بلیک میلنگ کو بروئے کار لاتے ہوئے ریاست کو کمزور کرنے کی ٹھان لی کبھی اداروں پر لفظوں کی گولا باری تو کبھی قومی سلامتی پر ۔ ان کا مقصد ملک میں عدم استحکام کو پیدا کرنا تھا۔
     ۔
    پاکستانی قوم پر سب سے بڑا احسان جو اس شخص نے کیا سوئی ہوئی قوم کو جگا دیا ۔یہ قوم خوابِ غفلت کے مزے لے رہے تھی اس شخص نے قوم کی آنکھیں کھول دیں ۔ پاکستانی عوام کو زبان دی۔اس قوم کو ان کے حقوق سے آشنا کیا۔اور اس قوم کو غلامی کی ان دیکھی زنجیروں سے آذادی دلائی اس قوم کی غیرت ،عزت اور وقار کو جگا دیا۔شعور کی اس دولت سے بڑا ہتھیار اس مافیا کے خاتمے کیلئے اور کوئی نہیں ہو گا۔قوم کا بچہ بچہ تختِ شاہی کے نظام کو مسترد کرتا ہے۔

    نوجوان یہ وطن تمہارا ہے اور آج کے نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔ اپنے وطن کی پاسبانی خود کریں۔
    الحمدللہ ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو کسی بادشاہ کو اور موروثی سیاست کو اپنے سر پر مسلط نہیں ہونے دیں گے ہم پاکستانی قوم موروثی سیاست کو بلکل مسترد کرچکے۔
    وطن عزیز کے مستقبل کی ڈور سنبھالنے کیلئے اب مڈل کلاس اور غریب کا بچہ آگے بڑھے گا۔ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح اور ہمارے بزرگوں نے اپنے جان و مال کی قربانی دے کر ہمیں آزادی اس لیے نہیں دلائی کے ہم ان بادشاہوں کی غلامی کرتے رہیں جن کا سب کچھ وطن عزیز سے باہر ہے ۔ 2018 کے الیکشن میں لاکھوں نوجوانوں، بزرگوں، ماوئیوں اور بہنوں نے اس فرسودہ نظام کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے۔یہ پیارا وطن کوئی کھلونا نہیں ہے جسے ان بادشاہوں کے بچوں کو بہلانے کیلئے بانٹ دیا جائے ۔

    یہ وطن پاکستانیوں کا ہے جن کے آباو اجداد نے لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ آو مل کے کہہ دو ہم ہیں پاسبان اس کے ۔
    پاکستان زندہ باد

    @RajaArshad56

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ سوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ سوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    25 اپریل 1996 کو عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی۔ 1997 کے عام انتخابات، جو پی ٹی آئی کے پہلے انتخابات تھے، میں پارٹی نے کوئی بھی نشست نہ جیتی۔یعنی عمران خان کو پزیرائی نہ ملی

    پاکستان تحریک انصاف چونکہ کوئی ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی تو کچھ ریٹائرڈ فوجی جو پارٹی کا حصہ تھے اور کچھ تجربہ کا منجھے ہوۓ سیاستدانوں نے پارٹی یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ عمران خان کسی کی بھی بات نہیں سنتے۔ حالانکہ پارٹی چھوڑنے کیوجہ یہ نہیں تھی پارٹی ان سب نے اس لئے چھوڑی کہہ اس پارٹی میں رہ کر وہ اقتدار میں تو دور کی بات کبھی اسمبلی حال کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے

    پھر جب 1999 میں الیکشن ہوۓ تو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان جنرل پرویز مشرف کی کچھ کچھ اور کہیں پر حمایت کرنے لگے اور سابق فوجی جنرل کے تحت ہونے والے 2002 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نے ایک نشست، جو کہ عمران خان کی تھی وہ نشست جیت لی۔

    مگر پھر عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف پاکستان جس کے وہ خود چئیرمین بھی ہیں نے ان پر 2007 میں کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کے بعد قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے لیے بہت دباؤ ڈالا۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے 2008 کے انتخابات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ ایک باوردی صدر کے ماتحت منتخب پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں تھی

    اس طرح پاکستان تحریک انصاف نے 2008کے عام انتخابات جو جنرل پریز مشرف کی صدارت میں ہوۓ ان میں بھی حصہ نہ لیا اور 2008کے الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف کا کوئی ممبر اسمبلی میں نہ جا سکا

    2007 کے تقریباً درمیان میں میں وکلاء کی ایک تحریک چلی جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس میں عمران خان نے بھی حصہ لیا اور پرویز مشرف کے کریک ڈاؤن میں پہلی دفع عمران خان کو بھی اس وقت گرفتار کر لیا گیا بجب وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک مظاہرے کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بیشک اس گرفتاری کا دورانیہ بہت ہی مختصر تھا اگر ہم بینظیر بھٹو کے قتل کی بات کریں تو عمران احمد خان کا شمار بھی ان شخصیات میں ہوتا ہے جہنوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے

    پھر2011 میں عمران خان کو لوگوں نے پھر ایک بار سیاست میں سرگرم دیکھا۔ عمران خان نے کراچی اور لاہور میں بہت بڑے بڑے جلسے کئے جن میں عوام نے بھر پور شرکت کی اب یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی

    اس کے باوجود 2013 کےعام انتخابات میں بھرپور مہم چلانے کے باوجود تحریک انصاف پاکستان عمران خان کی پارٹی مرکز میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 32 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ گئی۔

    لیکن عمران خان کی پارٹی خیبر پختونخواہ میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئ جاری ہے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • طالبان اور مستقبل   تحریر : نواب فیصل اعوان

    طالبان اور مستقبل تحریر : نواب فیصل اعوان

    اب جب طالبان افغانستان کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں تو عالمی دنیا اس کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے کیونکہ امریکہ جو سپر پاور کہلاتا ہے وہ بیس سال افغان جگ میں ضاٸع کرنے کے بعد ناکام و نامراد لوٹ گیا ہے .
    افغان طالبان نے جہاں عام معافی کا اعلان کیا تھا وہیں امریکہ کے ساتھ کام کرنے والے افغانی کابل اٸیرپورٹ سے امریکی جہاز میں چڑھ گیۓ اس خوف سے کہ طالبان ان کو نشان عبرت بناٸیں گے مگر طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور تمام افغانیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ملکی سالمیت و تعمیرو ترقی میں اب کردار ادا کریں ..
    امریکی جہازوں میں چڑھنے والے چھ سو کے قریب افغان باشندے قطر اٸیرپورٹ پہ اتار لیۓ گیۓ ہیں جنکو دو چار دن تک ڈی پورٹ کر دیا جاٸیگا .
    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سرپرستی میں کام کرنے والے افغانیوں کو امریکہ نے بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے .
    اپنے ملک و قوم اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف پیسوں کے عوض کام کرنے والوں کا یہ حال ملک دشمن عناصر کیلۓ عبرت کا نشان ہے .
    امریکہ نے دو ٹریلین ڈالر افغان جنگ میں جھونکے مگر وہ طالبان کے آگے سوویت یونین کی طرح ڈھیر ہوگیا .
    امریکی سابق صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ
    امریکہ کو بیس برس بعد شکست ہوگٸ عبرت ناک شکست .
    الغرض دنیا مے دیکھ لیا اور تسلیم بھی کیا جا رہا ہے کہ سوویت یونین کے بعد امریکہ بھی افغانستان سے ناکام و مراد لوٹا ہے ۔
    اب پاکستان اور چاٸنا مزید معاشی قوت بنیں گے استحکام ہوگا چاٸنہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قاٸم رکھنے کا خواہاں ہے کیونکہ چاٸنا کے بہت مفادات جڑے ہیں پاکستان سے افغانستان میں پاٸیدار امن کے ساتھ پاکستان میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی .
    افغان طالبان نے بھارت کو بھی شٹ اپ کال دی ہے کہ وہ افغانستان میں کسی بھی کارواٸ سے باز رہے ورنہ برے نتاٸج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے علاوہ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اب ان کی اگلی منزل کشمیر ہے ۔
    اس وقت بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے بعض بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان پاکستان اور چاٸنہ مل کر بھارت سے جنگ کر سکتے ہیں ایسا بھی ہوسکتا کہ بھارت کو کشمیر سے ہی ہاتھ دھونا پڑجاٸیں .
    بھارت جو امریکہ کی طرح افغانستان میں کافی ڈویلپمنٹ کر چکا جس میں انفراسٹکچر کے علاوہ ڈیم بھی شامل ہیں جس کا اس کو طالبان کے کنٹرول کے بعد کوٸ فاٸدہ نہ ہوگا اس وقت بھارتی اربوں کھربوں کی انویسٹمنٹ ڈوب چکی ہے بھارت میں طالبان کو لے کر کافی تشویش پاٸ جا رہی ہے بھارت کیلۓ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے .
    دوسری جانب طالبان کی حکومت کو مستقبل میں عالمی دنیا تسلیم کر لے گی کیونکہ طالبان سے اختلاف بہت سے ممالک کے مفاد میں نہ ہوگا .
    جبکہ طالبان کیلۓ سوشل میڈیا کے دروازے بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے کہ تمام پیغام رسانی والی ایپس کو افغانستان میں بند کیا جاۓ جن میں سرفہرست واٹس ایپ فیس بک ٹوٸیٹر اور انسٹاگرام شامل ہیں .
    اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان میں کب تک حکومت فعال ہوتی ہے اور افغانستان کی فلاح و بہبود کیلۓ کیا اقدامات کیۓ جاسکتے اور عالمی دنیا کے ساتھ کیسے روابط رکھے جا سکتے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا .

  • منشیات اور تعلیمی ادارے تحریر- محسن ریاض

    منشیات اور تعلیمی ادارے تحریر- محسن ریاض

    منشیات کا استعمال اس وقت ملک کے طول وعر ض میں پھیل چکا ہے اس کو مکمل روکنا تو ایک لحاظ سے ناممکن ہے مگر کسی حد تک اس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے شروع شروع میں تو اس کی چکھنے کی حد تک یہ صرف مختصر وقت کی لذت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہ مجبوری بن جاتی ہے اور اس سے جان چھڑانا ایک لحاظ سے ناممکن ہو جاتا ہے اس وقت پاکستان کے سکولوں اور کالجوں میں منشیات کا گڑھ بن چکا ہے شہریار آفریدی کے بقول اسلام آباد کے سکولوں میں نوے فیصد کے قریب بچے آئس کے نشے میں مبتلا ہیں یہ ایک انتہائی گھمبیر صورتحال ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار موجودہ ایک وزیر کے ہیں-آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کو استعمال کرنے کے بعد انسان اپنی جاگنے کی مقررہ حد سے کئی زیادہ وقت چاک و چوبند رہ سکتا ہے مگر جس وقت اس کا نشہ اترتا ہے تو اس وقت ان افراد کی حالت قابل ترس ہوتی ہے-آئس بیچنے والوں کے باقاعدہ طور پر سکولوں اور کالجوں میں نیٹ ورک موجود ہوتے ہیں جن کا کام نئے لوگوں کو گھیر کر نشے کا عادی بنانا ہوتا ہے اور باقاعدہ طور پر ان کو اس کام کی تنخواہ دی جاتی ہے اس کام کو بخوبی سرانجام دینے کے لیے ان سٹوڈنٹس کو یہ بات کہہ کر اس طرف راغب کرتے ہیں کہ اس کو استعمال کر کہ آپ بہت زیادہ وقت آسانی سے جاگ سکتے ہیں اس طرح آپ اپنی پڑھائی کو زیادہ وقت دے کر اچھے گریڈز حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح یہ سٹوڈنٹس کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں اس کے علاوہ اور کئی طرح کے نشے مارکیٹ میں اس وقت باآسانی دستیاب ہیں جن میں چرس ،افیون ، شراب اور ایم ڈی ایم شامل ہیں جن کے بارے میں حکومت جانتے بوجھتے ہوئے کوئی قدم اٹھانے میں بے بس نظر آتی ہے سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد نشے کی عادی ہوچکی ہے اور ان کے عادی ہونے کی بنیادی وجوہات میں سے امتحانات میں فیل ہو جانا ، گھر والوں کا دباؤ ، بے روزگاری ، نوکریوں کو تناسب کم ہونا اور اس کے علاوہ بہت زیادہ پڑھائی کا پریشر ہونا اور اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے وہ نشے میں سکون تلاش کرتے ہیں میری ایسے ہی ایک طالبعلم شاہزیب عارف سے بات ہوئی جو جامعہ پنجاب میں قانون کا طالبعلم ہے اور اس نے بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے نشہ کرنا شروع کر دیا اور اس میں وہ سکون حاصل کرنے لگا-شائد نشہ کرنے والے افراد یہ بات سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ اس کا انجام بہت برا ہو گا یا پھر وہ یہ بات سمجھتے ہوں مگر وہ اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر پاتے ہوں کہ وہ اس کو ترک کر سکیں مگر حقیقت میں اس کے اثرات بہت برے ہوتے ہیں جن میں بعض اوقات بات خودکشی تک جا پہنچتی ہے قائداعظم یونیورسٹی کےطالبعلم وسیم عباس نے گزشتہ سال منشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کی کوشش کی مگر قسمت نے یاوری کی اور وہ محفوظ رہا مگر ہر کسی کی قسمت وسیم جیسی نہیں ہوتی اس کے علاوہ منشیات کے نقصان میں غربت ، بے ردزگاری ، وقت کا زیاں اور سرمائے کے نقصان کے علاوہ اور کئی طرح کے عیب شامل ہیں اس لیے طالبعلموں کو چاہئے کہ اس سے جہاں تک ہو سکے اجتناب کریں اس کے علاوہ حکومت کو بھی چاہیے کہ اس طرح کے قانون بنائے جائیں جو تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی کو روک سکیں – موجودہ اعداو و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں چالیس لاکھ کے قریب منشیات کے عادی افراد موجود ہیں اور ان میں طالبعلموں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ان افراد کی بحالی کے لیے سینٹرز بنائے جائیں جہاں ان کو بحالی کے عمل سے گزار کر ایک باعزت شہری بنایا جا سکے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • سورۃ کہف فضائل، عبرت و نصیحت۔ تحریر: نصرت پروین

    سورۃ کہف فضائل، عبرت و نصیحت۔ تحریر: نصرت پروین

    سورۃ کہف قرآنِ کریم کی عظیم سورت ہے۔ کہف غار کوکہتے ہیں اس سورت میں غار والوں کے قصے کی مناسبت سے اسے "کہف” کہتے ہیں۔ یہ سورۃ اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں پر اہلِ مکہ کا ظلم وستم انتہا کو پہنچ رہا تھا تا کہ اصحابِ کہف کا واقعہ سنا کر مسلمانوں کی ہمت افزائی کی جائے وور انہیں بتایا جائے کہ ان سے پہلے مسلمانوں پر اس سے زیادہ ظلم کیا گیا۔ ان کے پائے استقامت میں تزلزل نہیں آیا۔ (تیسیرالرحمن:832/1)
    یہ سورت بہت سے فضائل پر مشتمل ہے۔
    سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لیں، وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم:1883)
    جو اس کی تلاوت کرے گا آئندہ جمعے تک اس پر خاص نور اور روشنی باقی رہے گی۔ (صحیح البانی، صحیح الجامع الصغیر:6470)
    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ نے صفد کے قاضی محمد ابن عبدالرحیم العثمانی کی تحریر دیکھی جس میں لکھا تھا:
    مجھے امیر سیف الدین الحسامی نے بتلایا کہ میں ایک دن صحرا کی طرف نکلا تو علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللّٰہ کو ایک قبر پر کھڑے دیکھا؛
    وہ روتے ہوئے پڑھ رہے تھے اور اور دعا کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ تو فرمایا: اس قبر میں مدفون شخص میرا شاگرد ہے اور مجھ سے پڑھا کرتا تھا؛
    اس کی وفات ہوگئی تو رات مجھے خواب میں ملا ؛ میں نے حال احوال دریافت کیا تو کہنے لگا: جب آپ لوگوں نے مجھے قبر میں دفنایا تو ایک دھاری دار کتا آ دھمکا، جیسے کوئی درندہ ہو؛ وہ مجھ پر غرانے لگا جس سے میں بری طرح خوف زدہ ہو گیا۔ اتنے میں بہت ہی خوب صورت حلیے والا ایک بڑا مہربان سا شخص آیا اور اس کتے کو دھتکار کر وہاں سے بھگا دیا ۔ میں نے پوچھا: آپ کون؟ تو کہا: میں تیرا وہ ثواب ہوں جو تو جمعے کے دن سورت کہف کی تلاوت کر کے کماتا تھا۔
    (الدرر لابن حجر، 5: 325؛ البدر الطالع للشوکانی، 2: 213)
    اس کو پڑھنے سے گھر میں سکینت اور برکت نازل ہوتی ہے۔ سیدنا براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سورۃ کہف پڑھی ان کے گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا۔جو بدکنے لگا تو انہوں نے سلام پھیرا (کیونکہ وہ نماز میں تلاوت کر رہے تھے) کیا دیکھتے ہیں کہ ابر ہے جو سارے گھر میں چھا گیا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں تو قرآن پڑھتا رہ یہ سکینت ہے۔ جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے اتری۔ (صحیح بخاری:3614) سورہ کہف جن واقعات پر مشتمل ہے وہ بہت ہی قابل اور عبرت و نصیحت والے ہیں۔ اللہ نے چار واقعات کے زریعے چار اہم اسباق دئیے ہیں۔
    1۔ دین میں فتنے سے محفظ رہنے کے لئے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ہے۔
    2۔ مال کے فتنے سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی حقیققت کو پہچانے کہ یہ دنیا بہت ہی معمولی اور حقیر شے ہے۔
    3۔ علم کے فتنے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی مخلوق کے ساتھ تواضع و انکساری اختیار کرے۔
    4۔ سلطنت کے فتنے سے بچنے کے لئے انسان یاد رکھے کہ دولت فانی ہے ایک دن ختم ہو جانی ہے۔ کبھی بھی ہمیشہ کے لئے نہیں ملتی۔
    پہلے واقعہ میں غار والوں کا ذکر ہے یہ چند توحید پرست نوجوان تھے۔ جو ایک ظالم بادشاہ کے سامنے حق کا پرچم لئے ڈٹ گئے۔ ایک ظالم و جابر بادشاہ تھا جو اپنی قوم کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا
    چنانچہ چند نوجوان جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ عقیدہ توحید پر قائم تھے۔ اس بادشاہ کے خلاف کھڑے ہو کر حق کی آواز بلند کی۔ اس قصے میں نوجوانوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے اصحابِ کہف نے اللہ کے دین کو بچانے کے لئے کوشش کی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے اللہ کی پناہ طلب کی اللہ نے انہیں پناہ دی اور وہ غار میں 309 سال تک پڑے رہے۔ اور جب وہ بیدار ہوئے تو پورا ماحول بدل چکا تھا وہاں کے لوگ جو بت پرستی اور شرک میں مبتلا تھے توحید کے پرستار بن چکے تھے۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ جو کوئی اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کی لئے فرار ہوتا ہے تو اللہ اسے فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جو اللہ سے پناہ طلب کرتا ہے اللہ اسے پناہ دیتا ہے اور اسے دوسروں کے لئے ہدایت کا زریعہ بنا دیتا ہے۔
    سورہ کہف میں ایک واقعہ مال کے فتنے کے بارے میں ہے جس میں اللہ نے باغ والے کو بہت سی نعمتوں اور رزق کی فراوانی سے بخشا اس نے ناشکری کا اظہار کیا اسے ایک اللہ کا بندہ نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا کہ ماشاءاللہ اور لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا؟ لیکن اس نے مال و دولت پر غرور کیا تو اللہ نے اس کے باغات کو تباہ کر کے سامانِ عبرت بنا دیا۔
    تیسرا واقعہ علم کے فتنے کے بارے میں ہے اللہ نے اپنے نبی موسی کو اس فتنہ سے محفوظ رکھنا چاہاجب بنی اسرائیل نے ان سے پوچھا سب سے بڑا عالم کون ہے انہوں نے کہا میں ہوں ان کا جواب بر حق تھا اللہ نے انہیں تورات عطا فرمائی اللہ کی طرف سے انہیں نو واضح نشانیاں ملیں۔ اور وہ ظالم بادشاہ فرعون سے برسر پیکار تھا۔ جس نے رب ہونے کا دعوی کیا تھا لیکن ان سب کے باوجود اللہ نے ان کی سرزنش کی اور بتایا کہ ہمارا بندہ خضر ہے جو علم اس کے پاس ہے وہ تمہارے پاس نہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام اس عالم سے ملاقات کے لئے 80 سال چلتے رہے۔ لہذا علم کے فتنے سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے لئے تواضع اور خاکساری اختیار کرے اور ہمیشہ اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھے کہ تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔
    چوتھے واقعے میں اللہ کے نیک بندے ذوالقرنین کا ذکر ہے جسے اللہ نے مشرق سے لے کر مغرب تک حکمرانی اسباب اور وسائل دیئے۔ اور اس بندے نے زمین میں تکبر و فساد کی بجائے عاجزی اور اصلاح سے کام لیا۔ لوگوں کو ظالموں کے شر سے بچایا۔ لوگوں کو یاجوج ماجوج کے شر سے بچانے کے لئے ایک قلعہ بند تعمیر کیا اور یاجوج ماجوج وہاں قید ہوگئے اور قیامت تک رہیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ انہیں نکلنے کی اجازت دے دے۔
    اس سورۃ کے تمام واقعات پر غور و فکر کریں۔ اور عبرت و نصیجت حاصل کرنی چاہیے ۔ بالخصوص اس سورۃ کی جمعۃ المبارک کے دن تلاوت لازمی کیجئے۔ اور پہلی دس آیات لازمی حفظ کر لینی چاہیے۔ تاکہ فتنہ دجال جو سب سے بڑا فتنہ ہے اس سے محفوظ رہیں۔
    اللہ تعالیٰ قرآنِ حکیم کی بہترین سمجھ اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes