Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خون کو خون تصور کرنا ہوگا تحریر: سحر عارف

    خون کو خون تصور کرنا ہوگا تحریر: سحر عارف

    پاکستان میں قتل وغارت کی بیماری ایسے پھیل رہی ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی ہے۔ ہمارے ملک میں اب خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ ہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے پہ اتر آتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہم مسلمان کس راہ پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارا تو دین کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

    پھر بھی ہمارے ہی معاشرے میں یہ چیز عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ اب تو یہ قتل وغارت کی خبریں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ کہیں کوئی لوٹ مار کرتے ہوئے کسی کی جان لے لیتا ہے تو کوئی معمولی سے آپسی لڑائی جھگڑے کے دوران۔

    اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جو منظر عام پر آتے ہیں اور جو منظر عام پر نہیں آتے وہ الگ سے ہوتے ہیں۔ اب یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگ جائیں تو یہ خبر ان کے گھروالوں کی غیرت کے خلاف سمجھی جاتی ہے اور پھر نتیجہ اگلے ہی روز سامنے اجاتا ہے جب ان دونوں کی لاشیں ملتی ہیں۔

    نہیں نہیں یہ میں کوئی فلم یا کسی ڈرامے کا سین نہیں بتارہی یہ تو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا اصل روپ ہے جس سے ہم سب باخوبی واقف ہیں۔ پھر سلسلہ یہاں ہی نہیں رک جاتا اگر خوش قسمتی سے ایک دوسرے کو پسند کرنے والے دو لوگ اپنے گھروالوں سے بچ کر نکاح جیسے پاک رشتے میں منسلک بھی ہوجائیں تب بھی یہ بات ان کے باپ بھائیوں کو گوارہ نہیں گزرتی اور وہ ان کے لیے ناقابل قبول ہوجاتے ہیں۔

    اور پھر ایک نا ایک دن وہ بھی موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ انھوں نے ہماری عزت اچھالی ہے اور ہماری غیرت ہمیں یہ اجازت نہیں دیتی کہ ہم انھیں زندہ رہنے دیں۔ ہم مسلمان ہوتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ اللّٰہ پاک نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے انتخاب کا حق خود دیا ہے۔ پھر کون سی غیرت؟ کہاں کی غیرت؟ یہاں تو خون اتنا سستا ہے کہ درندے چھوٹے چھوٹے بچوں تک کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد انہیں قتل کر دیتے ہیں۔

    جہاں ہر سال ہزاروں بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں وہیں ان میں آدھ سے زائد جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیے جاتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ہمارے معاشرے میں اگر لڑکا کسی لڑکی کو شادی کی پیشکش کرے اور وہ انکار کردے تو اس کو بھی قتل کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پھر یہ کوئی ایک آدھ بار نہیں بلکہ خواتین کی ایک کثیر تعداد اس سے متاثر ہوئی ہے۔ تو اس سب سے آپ کو باخوبی اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ یہاں خون کس حد تک سستا ہے۔

    پر افسوس صد افسوس کے ایسے واقعات روز کے روز کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے چلے جارہے ہیں آخر کیوں؟ کیوں طاقت ور خونیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی نہیں کی جاتی؟ کیوں ان جانوروں کو ان کے جرم کی نسبت کم سزائیں دی جاتی ہیں؟

    ہمارے ملک کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں صرف امیر کے خون کو ہی خون تصور کیا جاتا ہے اور اس کے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا بھی جاتا ہے۔ پر اس کے برعکس ایک غریب کا خون بھی اس کی طرح غریب ہی ہوتا ہے جس کے بہنے اور ضائع ہونے سے شاید کسی کو فرق نہیں پڑتا۔

    @SeharSulehri

  • غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی  تحریر  : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کیا مانگے دو وقت کی روٹی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مشکل اور مشکلات کا دوسرا نام زندگی ہے۔ ہم نے تو ہی سنا ہے۔ اس مختصر سی زندگی کو جینے کے لئے مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں شاید اتنی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر ہم انسانیت کا درس دیتے اور عملی طور پر انسانیت کے لئے کچھ کرتے تو اس دنیا میں بے بس اور مجبور انسان بھوک سے نہ مر رہے ہوتے۔

    آج ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمارے ہاں مذہبی رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے ہمارے مذہبی علما منبر پر بیٹھ کر سادگی اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کا درس دیتے نظر آتے ہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک عملی طور پر ہمیشہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی میں متحرک نظر آتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑی سے اتر کر بہترین اور مہنگی خوشبوئیں لگا کر پیر صاحب عالم صاحب مولانا صاحب مریدین کے گھیرے میں آتے ہیں۔

    یہاں کوئی ہاتھ چوم رہا تو کسی نے قدموں کا بوسہ لیا لاکھوں روپے خرچ کر کے محفل سجتی ہے کھانے بنتے ہیں نذرانے پیش کیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک غریب کا بچہ کسی اشارے پر کھڑے گاڑیوں کو صاف کر رہا ہوتا یا کسی پارک میں پھول بیچتا نظر آتا ہے۔
    میرے خیال میں پھول کے ہاتھوں سے پھول خریدتے وقت زندہ ضمیر ضرور سوچتے ہوں گے ان میں انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہو گا مگر کروڑوں میں کوئی ایک ہی عبدالستار ایدھی بنتا ہے۔ہمارے حکمران سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی کے نام پر خرچ کرتا ہے

    وہیں یہ سب کچھ دیکھ کر غریب کا بچہ ڈر رہا ہوتا ہے جو احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے صاحب اسے تو دو وقت کی روٹی چاہیئے وہ اپنی ماں کا لاڈلا اپنی بہنوں کا ویر عمر میں جتنا بھی چھوٹا ہو اپنے گھر کا بڑا ہوتا ہے۔ حالات اور مشکلات کے مارے زندگی کے ستائے یہ غریب لوگ روز قیامت اپنے خدا سے سوال ضرور کریں گے۔ وہ اس تقسیم پر اپنے اللہ تعالٰی سے ضرور پوچھیں گے۔ پھر اس کا جواب اس کا ذمہ دار ہر وہ صاحب استطاعت شخص ہو گا ہر وہ عالم ہو گا ہر بادشاہ ہو گا جو اپنی زندگی میں مگن رہا جس نے اپنے علم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا خدارا آپ اپنے اندر رحم پیدا کریں۔

    ان پارکوں میں کھڑے بچے بازاروں ، گلی ، محلوں میں ریڑھی لگائے معذور اور کم سن کسی سڑک کے کنارے کچھ بیچتے ہوئے بوڑھے۔
    میری بہنوں اور بھائیوں اس وطن کے باشعور شہریوں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں نہ محلات بنانے کی کوئی خواہش ہوتی ہے نہ ہی حکمرانی کرنے کی وہ صرف دو وقت کی روٹی کے لئے زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں او آج عہد کریں ہم اپنے اندر احساس پیدا کریں گے۔ہمیں خود کو بدلنا ہو گا خود کو تبدیل کرنا ہو گا کوئی حاکم ہمیں نہیں بدلے گا۔

    یہ چراغ ہم خود ہی روشن کرنا ہوگا اپنے حصے کی شمع خود روشن کرنی ہو گی ۔
    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • ایک قوم ایک آواز تحریر  : راجہ ارشد

    ایک قوم ایک آواز تحریر : راجہ ارشد

    ہو سکتا ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں کہ شاید ہم نے تو ایک قوم بننے کے لئے ابھی سفر کا آغاز کیا ہے۔ کبھی ہم ایک قوم تھے جب قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحدہ ہندوستان میں ہم ایک قوم بن کر سامنے آئے اور جدوجہد آزادی کی جنگ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جن تک آزادی کا سورج طلوع نہ ہوا۔

    کوئی شک نہیں تب بھی مشکلات اور کچھ اپنوں کی سازشیں شامل تھیں اس کے باوجود قائداعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیا اور ایک الگ اور خودمختار وطن حاصل کر لیا۔وطن عزیز کے قیام کے بعد بہت سے مہاجرین یہاں آئے جن کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں تھی۔ بے سروسامان لٹے پٹے قافلے جب آزاد سرزمین پر داخل ہوئے تو یہاں بسنے والوں نے کھلے دل سے قبول کیا اور ایک قوم بن کر جدوجہد کرنے لگے ۔

    ایک خود مختار قوم اور مضبوط اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے شب و روز ایک کر کے انڈسٹریاں ہوں یا زراعت یا پھری ملکی دفاع اپنے فریضہ کو بخوبی انجام دیا اس قوم کے اندر وفا اور بہادری بے مثال ہے۔بدقسمتی سے خود غرض ، لالچی اور اقتدار کے بھوکے، پجاری حکمرانوں نے ہمیشہ اس قوم سے سچ اور حقائق کو چھپایا غلط بیانی جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں جھوٹی شہرت اور کبھی رعب و دبدبے سے زور بازو پر اس قوم کی آواز کو دبایا گیا ہے۔

    یہاں اس نظام سے بغاوت کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا گیا یہی وجہ تھی 1971 میں جب اقتدار کے پجاریوں نے اس سازش اور جرم کے کرداروں نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اس وقت بھی قوم سے سچ کو چھپایا گیا تھا قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اور یہ نظام ہمارے جاگیرداروں اور طاقتوروں کا محافظ بن گیا تھا۔

    چند خاندانوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس قوم کو رنگ ذات پات میں تقسیم کر دیا کسی نے پختون تو کسی نے مہاجر کا نعرہ لگا دیا۔بلوچ انتہا پسند راہنمائوں نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اپنے معصوم لوگوں کو بغاوت پر اکسایا اور ان کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دی گئی۔

    یہاں فوجی اور جمہوری حکمرانوں میں آنکھ مچولی کا کھیل تو چلتا ہی آیا مگر اس دوران ایک تیسرا طبقہ جو اس ملک کے عام شہری تھے وہ ظلم و زیادتی اور غربت کی چکی میں پستے ہی رہے اس ملک کے کہنے کو عوامی نمائندے اور اس ملک پر حکمرانی کرنے والے اپنے قارئین یہ بات یاد رکھیں صرف اپنے بچوں کے لئے محلات اور کاروبار بناتے رہے۔ لیکن اس قوم کے بچے دو وقت کی روٹی کے لئے اپنا مستقبل تباہ کرتے رہے۔اعلی تعلیم اگر حاصل بھی کر لی تو مقصد نوکری کرنا اور ان امیروں اور جاگیرداروں کی غلامی کرنا تھا ایک قوم بنانے کی بجائے اس قوم کو جہالت اور غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔

    آج ایک ایسا حکمران اس ہجوم نما قوم کو ملا جو پھر ایک قوم بنانے نکلا ہے جس نے رنگ ، نسل ، زبان کی تفریق کے بغیر سب کو ایک قوم بنانے میں لگا ہے جو اس قوم کو دنیا کی عظیم قوم بنانے کا خواب دیکھتا ہے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے محب وطن حاکم اور ایماندار لیڈر کا ساتھ دیں۔ ہم سب اپنے اپنے حصے کا کام کریں اپنے کام اور اپنے وطن سے محبت کریں۔ اس دنیا کی باقی قوموں کی طرح ہم نے ایک ایماندار قوم بننا ہے۔ اس لیڈر کو آپ کی اور اس قوم کی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اس نے نہ کرپشن کرنی ہے نہ کرنے دینی ہے اور نہ ہی بیرون ملک محلات تعمیر کرنے ہیں۔ اس کی پہلی ترجیح قوم کا وقار بلند کرنا ہے۔آپ نے دیکھا اسی وجہ سے بہت کم وقت میں آج ہم دنیا کے ساتھ برابری کے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان شاءاللہ

    پاکستانیوں 1947 کی طرح ہم آج بھی جناح ثانی کی قیادت میں ایک عظیم قوم بنیں گے ۔بس ایک قوم ایک آواز بن جائیں۔

    تمام عزیز ہم وطنوں کو جشن آزادی مبارک ہو۔
    اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    قوم و ملک کو ترقی کی معراج لے جانا ہے تو تعلیم پر بھر پور توجہ دینا ہوگی اس لئے نہ صرف ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی ترک کرنا ہوگی بلکہ مزید سرکاری تعلیمی ادارے قائم کرنے ہونگے۔ تعلیم وصحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے مگر پاکستان میں جہاں غربت مہنگائی،بےروگاری نے غریب بچوں کو اسکولوں سےدور کردیاہے کہ ان کیلئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے وہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے تعلیم کو اس قدر مہنگا کردیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں

    ایسے حالات میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائے یہ تعلیم کے بھاری اخراجات برداشت کریں چاروں طرف لوگوں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے گلی اور محلوں میں پرائیویٹ سکول کالجز اور یونیورسٹیاں تک قائم ہوچکی ہیں۔

    والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرے لیکن آسمان سے باتیں کرتی فیسوں نے شفید پوش والدین کیلئے بچوں کی تعلیم کو ایک خواب بنا دیا ہے

    میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات تو سرکاری اداروں میں بھی عام آدمی کیلئے برداشت کرنا بہت مشکل ہے ۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں 40سے50لاکھ کون ادا کرے؟

    جس کو میرٹ کہا جاتا ہے وہ کہاں ہے؟ اب تو صرف دولت ہی میرٹ ہے صلاحیت کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تعلیم نے بیوپار کا روپ اختیار کر لیا ہے یہی وجہ ہےکہ غریب کے بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلواسکتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے۔

    ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں چھوٹے بن کر رہ جاتے ہیں
    اس پر لکھنے کو بہت سے الفاظ ہیں ان شاءاللہ اگلی تحریر میں مزید بات ہوگی غریب بچوں کی تعلیم کے مسائل پر
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • مفاد پرست اور معصوم ووٹرز تحریر : احمد خان

    مفاد پرست اور معصوم ووٹرز تحریر : احمد خان

    میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ اللہ تعالی اس مرتبہ میری قوم کو ایسا شعور عطا کر دے کہ یا تو وہ خود سے یہ اقدام اٹھائیں یا پھر میرا کالم پڑھ کر ان کے دل بدل جائیں
    میرے پاکستانیو اپنے اپنے علاقوں اور اپنے اپنے شہروں کے ایم این اے ایم پی ایز کی لسٹ تیار کرکے رکھ لیجئے اور اس مرتبہ جو بھی ایم این اے یا ایم پی اے تمہارے در پر ووٹ لینے کے لیے آئے تو تم نے دھکے دے کر نکالنا ہے

    اور میں اپنے ایم این اے ایم پی اے کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر بھول کر بھی تم میرے در پر مجھ سے ووٹ لینے یا مجھ سے ملاقات کرنے آئے تو میں تمہارا منہ کالا کرتے ہوئے تمہیں دھکے دے کر نکال باہرکرونگا میں تو تم کرپٹوں کی شکلیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا
    الیکٹیبلز ان مفاد پرست MNA MPA’s کو کہتے ہیں جو اپنے ذاتی فائدے کے لیے ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں جن کا خدمت خلق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جن کا نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا تعلق صرف اور صرف اپنی ذات تک ہوتی ہے
    یعنی ان کی سیاست کی کل اوقات یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے علاقے کے ووٹرز کو سہانے خواب دکھا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں اور بعد میں وہ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
    اور جس بنیاد پر یہ ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرتے ہیں جیتنے کے بعد یہ اسی کامیابی کو اپنی عیاشیوں اور کرپشن کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں
    حکومت جو فنڈذ ان کو ووٹرز کی فلاح و بہبود اور علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کرتی ہے یہ بھوکے ننگے حریص ایم این اے ایم پی ایز عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے انہی پیسوں میں غبن کرتے ہیں
    اور پھر پسماندہ علاقوں کے جن غریب عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کو اس امید پر ووٹ دیا ہوتا ہے کہ یہ جیتنے کے بعد ہمارے مسائل حل کریں گے ہمارے علاقے میں ترقیاتی کام کروائیں گے
    عوام کے مسائل یا ترقیاتی کام کروانا تو دور یہی کرپٹ جیتنے کے بعد اپنے علاقوں سے ہی ہجرت کر جاتے ہیں کوئی کرپشن کے بعد اپنی پراپرٹی اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقوں میں خرید کر وہاں شفٹ ہو جاتا ہے
    کوئی لاہور منتقل ہو جاتا ہے تو کوئی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اچھے مستقبل اور ان کے کاروبار کی خاطر عوام کے پیسوں سے کرپشن کرکے بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے
    اور پیچھے بچتی ہے وہی معصوم عوام جو ہمیشہ ان الیکٹیبلز کے جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں پر اعتبار کرکے اسی امید پر پانچ سال گزار دیتی ہے کہ ہمارے مسائل حل ہوں گے ہمارے علاقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے ہماری زندگی بہتر ہو جائے گی ہمیں اچھی تعلیم اچھی صحت اور اچھے روزگار کے مواقع میسر آجائیں گے
    لیکن اس عوام کے حصے میں سوائے ذلت و رسوائی اور انتہا درجے کی خوشامد کے کچھ نہیں آتا اور یوں یہ عوام جن سانپوں سے ماضی میں ڈسی ہوتی ہے ایک مرتبہ پھر ان سانپوں کے حق میں خوشامدانہ نعرے لگاتے ہوئے گلے پھاڑتے ہوئے ان کے جھوٹے نعروں اور وعدوں پر ایک مرتبہ پھر اعتبار کرتے ہوئے انہیں ووٹ دے کر خود اپنی تباہی اور بربادی کا سامان کر لیتی ہے اور انہی سے پھر سے ڈسوانا شروع کر دیتی ہے
    اے کاش میرے ملک کے ووٹرز کو یہ احساس ہو جائے کہ تم بھی انسان ہو تمہارے بھی بچے ہیں تمہاری بھی عزت نفس ہے ووٹ دینے کے بعد اپنے رہنماؤں سے اپنے ووٹ کا حساب لینا بھی تمہارا حق ہے اپنے رہنماؤں کی کارکردگی پر ان کا گریبان پکڑ کر ان کا احتساب کرنا بھی تمہارا حق ہے
    اے کاش اس مرتبہ میری قوم اسی طریقہ کار پر چلتے ہوئے ان تمام کرپٹ الیکٹیبلز کا منہ کالا کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دے اور میں یہ دعوے سے کہتا ہوں پھر نہ تو فوج کی یہ جرات ہوگی کہ وہ تمہارے اوپر کسی کرپٹ کو مسلط کرے اور نہ ہی کسی پارٹی کی یہ جرات ہوگی کہ وہ کسی کرپٹ الیکٹیبل کو ٹکٹ دے
    جب تم عوام ہی اپنے ووٹ سے بدترین کمینوں اور مفاد پرستوں کا انتخاب کرو گے تو پھر میرے پاکستانیوں مجھے بتاؤ کہ فوج اور سیاسی جماعتیں پھر ایسے لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیوں نہ کریں جب تم خود ہی برے لوگوں کا انتخاب کرتے ہو تو پھر فوج اور سیاسی جماعتوں کو تم الزام نہیں دے سکتے
    میرے پاکستانیو اس مرتبہ اپنے جائز حقوق کی خاطر اپنی بوسیدہ اور غلامانہ زندگی کی کایا پلٹ دو
    اور انسانوں کی طرح عزت اور وقار کے ساتھ سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سیکھ لو…

    ‎@iamAhmadokz

  • غربت بڑھ گئی!  تحریر :اقصٰی صدیق

    غربت بڑھ گئی! تحریر :اقصٰی صدیق

    عام طور پر کسی انسان یا معاشرے کی بنیادی ضروریات زندگی کو دیکھتے ہوئے اس کی خوشحالی اور غربت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آئے روز مہنگائی اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت کی ایک اہم اور بڑی وجہ ہے۔حال ہی میں سال 2020ء میں کرونا وبا کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اور موجودہ سال میں بھی حالات کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں ۔
    موجودہ دور میں پاکستان کئی مسائل میں گھرا ہوا ہے، اور اس وقت ملک کا ایک بڑا مسئلہ غربت ہے، اور غربت کی بنیادی وجہ بے روزگاری ہے۔جس سے دیگر کئی مسائل جیسا کہ، جہالت، بھوک و افلاس معاشی و معاشرتی پسماندگی اور چوری و ڈکیتی جیسے کئ گھناؤنے جرائم جنم لے رہے ہیں۔

    در حقیقت بے روزگاری ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے، کئ ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جہاں اکثریت آبادی امیر و برسرِ روزگار ہے، وہ بھی غربت کی زد میں آگئے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں بےروزگاری کو ایک سماجی و معاشرتی برائی کے طور پر لیا جاتا ہے، جس سے فاقہ کشی اورمختلف وباؤں کے پھیلنے جیسے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں۔اور انہیں حالات کی زد میں آکر لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
    پاکستان میں تین طرح کے لوگ آباد ہیں، پہلے نمبر پر امیر طبقہ ہے، جس کے پاس ہر قسم کی آرام و آسائش کی سہولتیں موجود ہیں، اور وہ بہترین زندگی گزار رہے ہیں، دوسرے نمبر پر درمیانی قسم کے لوگ ہیں،جو غربت کی چکی میں پسنے والوں سے تھوڑا اوپر ہیں ، اور تیسرے نمبر پر اس ملک کا غریب ترین طبقہ ہے جو کہ محض دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ترستا ہے۔
    میرے ملک پاکستان میں امیر آئے دن امیر ترین اور غریب، غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔جو کہ اس ملک میں غیر منصفانہ تقسیم کا سبب ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق دنیا کی ٪85 دولت صرف ٪10 فیصد افراد کے پاس ہے جبکہ دولت کا صرف ٪15 فیصد باقی کی ٪90 فیصد آبادی کے پاس ہے۔ یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔

    غربت کی بھی بہت سی وجوہات ہیں۔

    جن میں سے ایک بڑی وجہ بے روزگاری، روزگار کے مواقعوں کی کمی ہے، اور دوسری بڑی وجہ جہالت، تعلیم کا فقدان ہے، اور جو افراد تعلیم یافتہ ہیں، تو ان کو ملازمت کے حصول کیلئے رشوت اور کسی اچھی سفارش کا سہارا چاہیئے۔ اور اس کے بغیر تو ملازمت کا حصول ناممکن ہے، اس طرح کے نظام سے ہماری نوجوان نسل ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔آئے روز خبروں میں یہی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں جگہ، فلاں شہر میں غربت سے تنگ آکر نوجوان نے خود کشی کر لی۔ باپ نے بچوں سمیت خود کو مار ڈالا، وجہ دو وقت کی روٹی پوری نہ کر سکا ۔
    آخر کب تک ہمارا معاشرہ اسی نظام کے تحت چلتا رہے گا؟
    معاشرے کے اس طرح کے نظام سے لوگوں میں مایوسی اور بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے اور یہی مایوسی اور بے اطمینانی نوجوان نسل میں حکومت کے خلاف انتشار کے جذبات ابھارتی ہے، اور یہی انتشار بغاوت کا سبب بنتا ہے، اور پھر بغاوت انقلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے،
    ہم آخر کب سمجھیں گے؟ کہ ہماری نوجوان نسل ہمارا سرمایہ ہے۔
    مگر میرے ملک کے حکمران خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔موجودہ حکومت کے حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ اس ملک سے غریب کو نہیں، بلکہ غربت کو مٹانا ہے، غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کرنا ہے۔تا کہ معاشی اور سیاسی مسائل پیدا نہ ہوں۔
    اور مزید کڑوا سچ یہ ہے کہ حکمران عوام کو صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور برسر اقتدار آتے ہی انہیں عوام کا خیال نہیں رہتا۔

    غربت دیمک کی طرح انسانی معاشرے کی خوشیاں اور آرام و سکون کھا جاتی ہے۔غربت پر قابو پائے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اور ترقی یافتہ معاشرے کے بغیر کوئی ملک ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا۔
    چائلڈ لیبر غربت زدہ معاشرے کی ذندہ مثال ہے، جن بچوں کو اسکول میں ہونا چاہئے، وہ فٹ پاتھ پر چیزیں بیچتے، گھروں اور ہوٹلوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ہمارے معاشرے نے ان معصوموں کا بچپن، ان کے جینے کا حق اور یہاں تک کے ان کے چہروں سے مسکراہٹ تک چھین لی ہے۔
    کل کو یہی بچےحقوق کی حق تلفی کی وجہ غلط راہ پر چلیں گے۔ ہمارے ملک میں ہر سال لاکھوں بچے جنسی و جسمانی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، تقریباً 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں ۔اس کے باوجود ہم چائلڈ لیبر کے خلاف آواز بلند نہیں کر پاتے، کیوں کہ ہمارے خیال میں اس کے پیچھے ہمارا ہی فائدہ ہے۔
    یاں ان کا فائدہ ہے، جو غربت کے سبب دو وقت کی روٹی کے عوض ان معصوموں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
    ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 4.4فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہوچکی ہے۔
    آبادی میں آئے دن بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے، وسائل ختم ہو رہے ہیں، جس کی بدولت غربت بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ زراعت میں بھی کچھ خاص حالات ٹھیک نہیں ہیں۔سالانہ بارشوں کی وجہ سے فصلوں کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو جاتا ہیں۔
    ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم،اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
    غربت کے خاتمے کے لیے ہمیں تین بنیادی میدانوں یعنی آبادی میں اضافے، تعلیم اور ٹیکس وصولی کے شفاف نظام پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اہل افراد کو ان کی اہلیت کی بناء پر ملازمتیں دی جائیں۔
    پاکستان ہر سال غربت کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک، سے کچھ سالانہ امداد حاصل کرتا ہے،
    جبکہ ملک کے اندر بھی بینظیر انکم سپورٹ، احساس پروگرام، EOBI، اخوت اور پاکستان بیت المال جیسے کئ پروگرام غریب لوگوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں،لیکن اس کے باوجود لاکھوں مستحق افراد غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے اس امداد کو لے نہیں پا رہے۔
    پاکستان کو غربت کے خاتمے کے لیے مذید سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہے۔غرباء کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے، تعلیمی نظام بہتر کیا جائے اور آبادی میں اضافہ کو روکا جائے، تا کہ آئندہ سالوں میں ملک کسی بھی قسم کے بحران کا شکار نہ ہو۔

    ‎@_aqsasiddique

  • اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی معاشرے میں عورت کامقام و مرتبہ اور تاریخ اسلام میں عورت کی خدمات تحریر:شمسہ بتول

    اگر ہم اسلام سے قبل عورت کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ عورت کو کس قدر حقیر اور کمتر جانا جاتا تھا ۔ عورت کو آزادٸ راۓ کا کوٸ حق حاصل نہ تھا نہ ہی اس کی کوٸی عزت اور مقام تھا۔ بیٹی کی پیداٸش کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ مگر پھر عرب میں ایک چاند نمودار ہوا جسے دنیا محمد صلى الله عليه واله وسلم کے نام سے جانتی ہے اس ہستی کی آمد تھی کہ جہالت کے ساۓ جھٹنے لگے اور انسانیت کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔ ممحمد صلى الله عليه واله وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہے۔ انہوں نے اسلامی قوانین کے نفاز کو یقینی بنایا اور اسلام میں خواتین کو جو حقوق حاصل تھے دنیا کو اس سے روشناس کروایا۔
    اسلام نے تعلیم، وراثت اور پسند نا پسند اور نکاح میں بھی حق دیا کہ اگر وہ چاہے تو ہاں کرے اور اگر اس کی مرضی شامل نہ ہو تو زبرددستی نکاح نہیں کرو غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تمام حقوق دیے ہیں ۔ کسی بھی مرد کو عورت کی تزلیل کا حق حاصل نہیں ۔ اسلام نے اسے عملی طور پر ثابت کیا اور بتایا کہ عورت جس بھی روپ میں ہو وہ معاشرے کے لیے قابل احترام ہے اسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ۔ عورت ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی اور اگر بیٹی ہے تو فرمایا کہ یہ باعث رحمت ہے اور اگر بہن ہے تو وفا کا پیکر ہے اور اگر بیوی ہے تو تمہارا ایمان
    مکمل کرتی ہے. اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب جیسی جیسے پروان چڑھی۔
    عورتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں کارہاۓ نمایاں سرانجام دیے۔
    حضرت خدیجہؓ اپنے وقت کی مشہور کاروباری خاتون تھیں اور عاٸشہؓ وہ روشن مثال ہیں جن کے زریعے امت تک احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ پہنچا اور اسی طرح میڈیکل ساٸنسز اور علم جراحی اور سرجری میں حضرت رفیدہؓ کا نام معتبر ہے اور دستکاری اور صنعت و حرفت کے شعبے میں حضرت زینبؓ بنت حجش کا نام شامل ہے غرض یہ کہ خواتین نے ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان فنون کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین ایڈمنسٹریشن کے مناصب پر بھی فاٸز رہیں۔ خواتین انتظامی عہدوں پر بھی فاٸز ہو سکتی ہیں اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سلطان صلاح الدین کی بھتیجی سیدہ حنیفہ حلب کی والیہ رہیں اور شریفہ فاطمہ یمن صنعا اور نجران کی والیہ رہیں اور اس کے علاوہ جنگی محاز پر بھی خواتین نے فراٸض سرانجام دیے ۔ عزرہ بنت حارث نے اہل بیسان سے لڑاٸی میں لشکر کی قیادت کی اور ام عطیہؓ نے محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ام حرام بنت ملحان پہلی بحری مجاہدہ تھیں ۔ ان تمام کارناموں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کے کردار ان
    کے علم و ہنر کی قدر کی اور اسے سراہا۔ حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں خواتین کو بھی نماٸندگی حاصل تھی۔ اور انہیں آزادی راۓ کا حق دیا گیا تھا کہ وہ بلا خوف خطر اپنی راۓ دے سکتی اور اپنا حق لے سکتی ہیں اس کی بہت عمدہ مثال ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے عورتوں کے حق مہر کی تعداد متعین کرنے پر راۓ لی تو مجلس شوریٰ میں ایک عورت اُٹھ کھڑی ہوٸی اورکہا کہ آپ کو یہ اختیار نہیں کہ آپ مہر کی مقدار متعین کریں جبکہ قرآن میں ہمیں یہ حق دیا گیا ہے تو عمرؓ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے ۔
    برطانیہ نے 1918 میں عورت کو ووٹ کا حق دیا ۔ امریکہ نے 1920 کے بعد انیسویں آٸینی ترمیم میں عورت کو ووٹ کا حق دیا اور نیوزی لینڈ میں 1893 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ اسلام نے ان سب سے پہلے عورت کو راۓدہی کا حق دیا۔
    نوع انسانی میں اسلام نے سب سے پہلے خواتین کے حقوق متعارف کرواۓ اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے کسی کی حق تلفی کرے۔ہمیں ایک دوسرے کے حقوق سلب کرنے کی بجاۓ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔ اسلام نے جو حقوق اور حدود مقرر کی ہیں ہمیں عملی زندگی میں ان کا نفاذ کرنا ہو گا تا کہ حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا قیام عمل میں آسکے 😇

    ‎@b786_s

  • پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا تحریر یاسمین ارشد

    پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا تحریر یاسمین ارشد


    ہمارے پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا ہے جس طرح ہماری نوجوان نسل منشیات کے عادی ہو رہی ہے یہ بہت ہی خطرناک ہے حکومت اور اداروں کو منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہوگا ہماری یونیورسٹیز کالجز میں تقریبا 90% سٹوڈنٹس منشیات کے عادی ہوچکے ہیں ہمارے پاکستان میں نوجوانوں کی کل آبادی 64 فیصد ہیں کسی ملک کا مستقبل اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے میرے نوجوان بھائیوں اور بہنوں ہمارے معاشرے میں جس طرح برائی کو لعنت قرار دیا جاتا ہے منشیات کی پیداوار اور غلیظ نشے میں استعمال کی جانے والی مختلف صورتیں اور ان کے نتیجے میں اثر انداز عوامل ہماری زندگی کو بہت نقصانات پہنچاتے ہیں منشیات جیسی لعنت کس دور میں شروع ہوئی یہ تو نہیں معلوم لیکن اس نشے کو استعمال کرنے والوں کے غم اور پریشانیاں تھوڑی دیر کے لئے تو دور ہو جاتی ہیں لیکن کچھ لوگ اپنی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے اس غلیظ نشے کا بہت استعمال کرتے ہیں پھر بعد میں اس غلیظ نشے کو چھوڑنے کا دل میں ارادہ ہو بھی جائے تو بہت ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے منشیات انسان کے ذہن دل جسم کے علاوہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے منشیات استعمال کرنے والے لوگ حقیقت میں کمزور قوت ارادے کے مالک ہوتے ہیں بعض اوقات انسان کو بے چینی اور اضطرابی کیفیت بھی نشے میں مبتلا کرنے کا سبب بنتی ہے نشہ کرنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ اور دیرپا ہیں افیون چرس گانجا یہاں تک سگریٹ اور نشے کے انجیکشن انسان کو بہت ہی تیزی کے ساتھ اس کے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں منشیات استعمال کرنے والے انسان نفسیاتی اور روحانی طور پر بہت ہی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں اور انسان کی جسمانی اعضاء بھی اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کرتی منشیات کے عادی انسان دوسرے لوگوں کی نظروں میں گر جاتے ہیں ایسے لوگ اپنے آباء و اجداد کی جائیداد نشے کی لالچ میں اڑا دیتے ہیں نشہ کرنے والے افراد کی فیملیاں ٹوٹ پھوٹ جاتیں ہیں چھوٹے معصوم بچے بچیاں اس معاشرے میں رل جاتے ہیں اس غلیظ نشے سے، منشیات کے عادی لوگوں کی اپنی ذاتی زندگی ہی نہیں معاشرے ملک صوبے اور ہماری آنے والی نسلیں تباہ و برباد ہو جاتی ہے ہمارے پیارے وطن سے منشیات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سب سے زیادہ والدین اساتذہ اور علمائے کرام اور اہل قلم میڈیا کو چاہیے اپنی نوجوان نسل میں منشیات کے خلاف شعور پیدا کریں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہماری نوجوان نسل تباہ و برباد ہو جائے گی اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس غلیظ ترین نشے کی عادی ہو جائیں گی اللہ پاک منشیات فروخت کرنے والوں کو تباہ و برباد کرے جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہے ہیں اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو دشمنوں کی نظر سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@IamYasminArshad
    https://t.co/fHEB4fnA8M‎

  • ‏قدرتی آفات خدا اور انسان   تحریر: نعمان خان

    ‏قدرتی آفات خدا اور انسان تحریر: نعمان خان

    حالیہ چند برسوں میں انسانی آبادی کو بہت سی مہلک وباؤں نے اپنی لپیٹ میں لیا جس میں سب سے اہم تو کرونا وائرس تھی جس کی وجہ سے انسانی زندگی اور سماج بہت حد تک مفلوج ہو چکا ہے اور حالیہ اعداد شمار کے مطابق اس سے مرنے والے لوگوں کی تعداد چھ میلین تک جا پہنچی ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئے جانے والی تدابیر نے رنگ لانا شروع ہی کیا ہے کہ ترکی میں لگنے والی آگ نے انسانوں کو ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور ترکی کے ایک بڑے علاقے کو اس آگ نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور لوگوں کی بہت سی قیمتی املاک جل کر کوئلہ ہو گئیں اور بہت سی انسانی جانوں کا ضیائع بھی ہوا ہے۔
    بلکل ایسے ہیں پچھلے ماہ مغربی یورپ ، جرمنی اور دیگر ممالک میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہر روز ایک نئی آفت سے انسانیت دوچار ہونے کی خبریں زیر گردش ہیں۔

    اور ایسی کئئ آفات ہیں جن کے بارے ابھی ہم غیر سنجیدہ ہیں لیکن آنے والے وقتوں میں وہ انسانوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہوں گی مثلا میٹھے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ایک ایسا امر ہے جو آنے والے وقت میں بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے عالمی درجہِ حرارت بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کی بنا پر پہاڑوں موجود برفانی تودے بڑے پیمانے پر پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ برفانی تودے گلیشئر دنیا کے میٹھے پانی کا تقریبا ستر فیصد ہیں اور انکے پگھلنے کے یقینی اثرات پہلے پہل سیلاب اور بعد میں ایک بڑے عالمی بحران کے طور پر ظاہر ہوں گے۔

    سوال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں کا شدید مذہبی طبقہ اسے خدائی عذاب قرار دے کر کندھے جھاڑ دیتا ہے اور غیر مذہبی افراد بھی اسے قدرت کا کھیل کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر ان سب میں سب سے اہم بات یہ ہے ان قدرتی آفات میں قدرت سے زیادہ انسانی افعال کا ہاتھ ہے جو اس سب کا سبب ہیں۔

    جدید سرمایہ داری نظام نے سرمایہ بنانے کے لیے گاہک (کنزیومر) کو چیز بیچنے کی غرض سے فطرت کو بری طرح مسخ کرنا شروع کر دیا ہے انسانی آبادی کو سہولت کے نام پر جنگلات کے کٹاؤ سے لے کر جدید آلات سے خارج ہونی والی تابکاری لہروں تک ہر شہ فطرت سے ٹکراؤ لے رہی ہے اور جس کا خمیازہ پوری انسانیت بھگت رہی ہے ۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر آی الیون میں آنے والا سیلابی ریلا بھی ایک ناکام ٹاؤن پلانگ کی مثال ہے جس میں ایک غیر موزوں رہائشی علاقے میں لوگوں کو بے ہنگم طریقے سے بسا دیا گیا اور جس کا نتیجہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیائع کے طور پر سامنے آیا۔

    ہم وہی کاٹ رہے جو ہم بو رہے ہیں اگر ہم نے فطرت جو مسخ کرنے اور اس سرمایہ داریت کے منہ زور گھوڑے کو لگام نہ دی تو فطرت اور اسکے عناصر ہمیں مسخ کر دیں گے سو ہوش کے ناخن لیں اور اس بڑھتے ہوۓ کمرشلزم اور سرمایہ داریت کو جان کر اس کے خلاف موثر اقدامات کے لیے آواز اٹھائیں۔
    Twitter Link: ‎@inoumanspeaks

  • خونی لبرلز۔کو لگام دیں گےتحریر فرزانہ شریف

    ‏پہلے صدیق جان پھر مبشر لقمان اب عمران ریاض نے لبرل مافیا کی دم پر پاوں کیا رکھا کونے کھدروں سے لبرلز کے چمچے کڑچھے باہر نکل آئے فحاشی کو سپورٹ کرنے اور ان حق سچ کی آواز بلند کرنے والوں کی جان کے دشمن ہوگے لیکن پوری قوم اپنے نڈر بے باک صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ان شاءاللہ ۔۔
    عمران ریاض نے کیا کہا ۔۔!! بس یہ کہا کہ "والدین اپنے بچوں پر توجہ دیں کہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کو تشکیل دیتا ہے تو خونی لبرلز کو جیسے کسی نے انگاروں پر بٹھا دیا ہو۔
    ہماری سپورٹ حق سچ بولنے والے قوم کے ان بیٹوں کے ساتھ ہے جب تک جان میں جان ہے اور ان کی طاقتور آواز کے ساتھ ہر پاکستانی کھڑا ہے ۔۔۔
    نور مقدم کو انصاف فراہم کرنے کے لیے جو سٹینڈ ‎@ImranRiazKhan نے لیا ہے یہ بات تو طے ہے اس سے نہ صرف خونی لبرل بے نقاب ہوجائیں گے بلکہ ان کے آلہ کاروں کے لیے بھی ایک سبق ہوگا کہ بے حیائی فحاشی پھلانے والوں کو صرف ذلت کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے پہلے کسی نے لبرل طبقے کے چودہ طبق روشن کیے بھی نہیں تھے اس لیے ان کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں لیکن ہر پاکستانی ہر اس صحافی کے ساتھ کھڑا ہے چاہے وہ مبشر لقمان ہو عمران ریاض ہو یا صدیق جان ہو ۔یا
    پھرعمران ریاض خان ہو ۔حق سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافی پاکستان کا سرمایہ ہیں ہم اپنے سرمائے کی حفاظت کرنا جانتے ہیں الحمداللہ ۔۔
    میں اپنا بتاتی ہوں جب جب پاکستان میں ہونے والےناخوشگوار واقعات پر یا سیاسی مکاروں کے ٹولے نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور میں رنجیدہ یا پریشان ہوئی عمران ریاض کا وی لاگ تبصرہ اندھیرے میں جگنو کی طرح چمکتا ہوا محسوس ہوا ایک جرآت مند صحافی اینکر ہر دل عزیز ۔ہر دل عزیز اس لیے کہ عمران ریاض پاکستان کی آواز ہے ہر سچا پاکستانی اس کو سننا چاہتا ہے اور سچے انسان خونی لبرلز کے لیے موت ہیں ان سے جان جاتی ہے ان نام نہاد لبرلزکی” میرا جسم میری مرضی” کے مائنڈ سیٹ کے پیچھے بھی اس خونی لبرلزطبقے کا ہی ہاتھ ہے اور اس لبرل طبقے کی ڈوریں بیرونی ایجنڈوں پر چلنے والوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جب جب پاکستان میں انتشار پھیلانا ہوتا ہےیہ لبرل طبقہ میدان میں آجاتا ہے اور ہمارے کچھ معصوم پاکستانیوں کو ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں لیکن اب وقت بدل چکا ہے اب قوم جاگ چکی ہے اب فحاشی پھلانے والوں کے دن گنے جاچکے ہیں اب ان کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہوگا بلکہ یہ جب جب فحاشی کو پرموٹ کرنے لگیں گے پاکستانی عوام ان کو منہ توڑ جواب دے گی ہم پاکستانی جیسے سر پر بٹھاتے ہیں اتارنا بھی جانتے ہیں
    عمران ریاض خان ۔مبشر لقمان صدیق جان صحافت کے چمکتے ستارے ہیں ان پر تھوکنے والوں کا تھوک واپس ان کے منہ پر گرے گا۔۔۔
    بھائی اب کہیں اور جاکر اپنا چورن بیچو پاکستان کی جان چھوڑو۔۔۔!!!