Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محرم الحرام کی قرآن اور احادیث کی روشنی میں فضیلت | تحریر احسان اللہ خان

    محرم الحرام کی قرآن اور احادیث کی روشنی میں فضیلت | تحریر احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات پیدا کیں اور ہر مخلوق میں کسی نہ کسی کو چن کر بااختیار بنا کراپنی تمام مخلوق پہ فوقیت دی جیساکہ فرشتوں میں سے چار فرشتے معتبر، انسانوں میں سے رسول بنائے جبکہ رسولوں میں سے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری عطاء فرمائی اور رحمت اللعالمین کے لقب سے نوازا، زمین سے مساجد کو اختیار دیاجبکہ مساجد میں بیت اللہ شریف کو رحمت الہیٰ کا مرکز قرار دیا۔

    کلام میں سے قرآن شریف کو کلام الہیٰ کا لقب دے کر عزت بخشی ۔ایام میں جمعتہ المبارک کو مبارک دن قرار دیاجبکہ راتوں میں لیلتہ القدر کو چنا، اسی طرح مہینوں میں چار مہینوں کوخاص فوقیت دی جن میں محرم الحرام بھی شامل ہے یقینا محرم الحرام عظمت والا اور بابرکت مہینہ ہے اسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے جو کہ اسی فطری نظام کائنات کے تحت جیسا کہ خالق کائنات نے مقرر فرمایا ہے ۔ ان عدةالشہورعنداللہ اثنیٰ عشر شہرافی کتاب اللہ یوم خلق السمٰوات والارض منہااربعتہ حرم ذلک الدین(سورہ توبہ)ترجمعہ یقینا مہینوں کی تعداد تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ ہے اللہ کی کتاب (لوح محفوظ )میں جس دن کہ پیدا کیا آسمانوں اور زمینوں کواور ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں ہی سیدھا درست دین ہے۔

    ان بارہ مہینوں کی ترتیب محرم سے شروع ہو کر ذی الحجہ پہ ختم ہوتی تھی اور چار مہینے محرم،رجب،ذیقعدہ، ذی الحجہ اشہر حرم تھے جن میں قتل و قتال جائز نہیں تھا ۔اہل عرب ان چار مہینوں کا لحاظ و پاس کرتے تھے حالانکہ ریگستان عرب کے بدووں اور بادیہ نشیں قبائل کی معیشت و زندگی کا دارومدار عام طور پر لوٹ مار پر تھا قافلوں اور مسافروں کو لوٹنا ان کا مشغلہ تھا بلکہ روزی روٹی کے حصول کیلئے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پہ حملہ آور ہوتا تھا اسی وجہ سے عرب کی زمین پر خون خرابہ قتل و قتال اور غارت گری کا ایک چلن تھا جو قبیلہ زیادہ جنگجو ہوتا اسکی عظمت و شوکت تسلیم کی جاتی تھی مگر یہ تمام خون خرابے لوٹ پاٹ اشہر حرم میں موقوف کر دئے جاتے تھے۔اسلام نے انکے عزت و احترام کو مزید بڑھایا ۔نیز ان مہینوں میں نیک اعمال اور اللہ کی اطاعت ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کو برائیوں سے سخت ہے لہذاٰ ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں۔

    اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق میں مقام منیٰ میں حجتہ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛ .لوگو!زمانہ گھوم پھر کر آج پھر اسی نقطہ پہ آگیا ہے جیسا کہ اس دن تھا جبکہ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی تھی ۔سن لو،سال میں بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں،وہ ہیں؛ذوالقعدہ،ذوالحجہ ۔محر م اور رجب ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایاان مہینوں میں عمل صالحہ بہت ثواب رکھتا ہے اور ان مہینوں میں ظلم و زیادتی بہت بڑا گناہ ہے صحیح بخاری کتاب التفسیر میں حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک زمانہ گھوم کرپھر اسی نقطہ پر آگیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کئے تھے۔سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں جس میں تین لگاتار ہیں ذی قعد،ذی الحجہ اور محرم ،چوتھا رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ۔ انحرمت والے چار مہینوںمیں کسی قسم کی برائی اور فسق و فجور سے کلی طور پر اجتناب کرنا اور انکے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے ۔ماہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں دس تاریخ کورسول اللہ نے روزے کا دن قرار دیااور اسے سال بھر کیلئے کفارہ گناہ ٹھہرایا ہے۔

    محرم کے روزے
    حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ، رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہیں ،جو اللہ کا مہینہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے ۔ (صحیح مسلم ؛کتاب الصیام ،باب فضل صوم المحرم /مشکوة ص178)
    عاشورہ محرم کا روزہ
    حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ ،آپ ۖچار چیزیں نہ چھوڑا کرتے تھے ان میں سے ایک عاشورہ کا روزہ ہے ۔(سنن النسائی)
    ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ۖ کو کسی دن کے روزے کا دوسرے عام دنوں کے روزوں پر افضل جاننے کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح یوم عاشورہ اور ماہ رمضان کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔(بخاری، مسلم)
    عاشورہ کے ساتھ ٩یا ١١ /محرم کا روزہ
    بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کی مشابہت سے بچنے کیلئے اسکے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا ۔چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے ،ابن عباس اس حدیث کے روای ہیں کہ ،، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو رکھنے کا حکم دیا تو لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ تو ایسا دن ہے جسکی یہود ونصاریٰ بڑی تعظیم کرتے ہیںتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایاکہ آئندہ سال انشاء اللہ ہم دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھیں گے ۔اگلا سال آنے سے قبل آپۖوفات پا گئے ۔(صحیح مسلم /مشکوة179)
    ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ،، یہود دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں تم ان کی مخالفت کرو اور اسکے ساتھ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھو
    ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ،، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاشورہ کے روزے کا حکم فرماتے ہیں مگر جب رمضان فرض ہو گیا تو فرماتے تھے جو شخص چاہے روزہ رکھے جو چاہے افطار کرے ۔(صحیح بخاری)
    اور مسند احمد کی ایک روایت میں ١١/محرم کا ذکر بھی ملتا ہے یعنی ٩محرم یا ١١ /محرم
    ماہ محرم کی بدعات
    ہم نے ماہ محرم میں بہت سے غلط رسم و رواج کو اپنا رکھا ہے اسے دکھ اور مصائب کا مہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کیلئے سیاہ لباس پہننا شروع کر دیا ہے ۔رونا پیٹنا ،تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزا وغیرہ کا اہتمام کرنا یہ سب کچھ ثواب کا کام سمجھ کر حضرت حسین سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ سب چیزیں نبی اکرم حضرت محمد ۖ کے فرمودات کے صریح خلاف ہیں ۔شیعہ حضرات کی دیکھادیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہو گئے ہیں مثال کے طور پہ اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب وآلام کے دور کی ابتدا کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتاہے حالانکہ محرم میں شادی کرنا کوئی گناہ یا برائی نہیں ۔سال کے کسی بھی مہینے میں شادی کرنا نہ ہی گناہ ہے ،نہ ہی عیب ہے کوئی مہینہ منحوس نہیں لہذامحرم میں بھی شادیاں کرنی چاہئے کیونکہ محرم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا ،سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مبارک ہوا۔لوگ اس ماہ میںاعمال مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں
    کیا ماہ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟

    شہادت حسین رضی اللہ عنہ اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جسکی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر بجا لانا لانا چاہئے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی تھی نیز اگر اتفاق سے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہو گیا تو بعض دیگر جلیل القدرصحابہ کرام کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے مثلاً سطوت اسلام کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت نماز میں ابولوء لوء فیروز نامی ایک مجوسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے ،اس لئے شہادت حسین کا دن منانے والوں کو انکا دن بھی منانا چاہئے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو شاید سال کو کوئی ہی دن ایسا باقی رہ جائے جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا عظیم سانحہ رونما نا ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوارایام منانے اور ان کے انتظام میں لگے رہیں گے ۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت ،صحابہ کرام اور سلف صالحین پرایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔کیا شہادت حمزہ ،شہادت عمر ،شہادت عثمان ذوالنورین،شہادت علی المرتضیٰ اور شہادت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے لرزہ خیز واقعات سننے کی تاب کسی کو ہے ؟ تو بتائیے کس کس کا دن منایا جائے؟
    اچھے یا برے دن منانے کی شرعی حیثیت
    اسلام نے واقعات خیر و شر کو ایام کا معیار فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی کرنے سے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کفار کے اس فعل کی مذمت بیان کی ہے۔
    ترجمعہ ؛ہمیں زمانہ کے خیرو شر سے ہلاکت پہنچتی ہے (سورہ الغاثیہ 24) اور حدیث میں ہے ؛ زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ برا بھلا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (بخاری ومسلم)
    نوحہ اور ماتم۔۔۔۔بزرگان ملت کی تعلیم کے خلاف اور انکے مشن کی توہین ہے !
    ہم دیکھتے ہیں یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر واستقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں ۔انکے خلفااور ورثابھی ان کے نقش قدم پر چلے ۔نہ کسی نے آہ و فغاں کیا،نہ کسی نے انکی برسی منائینہ چہلم نہ روئے نہ پیٹے ،نہ کپڑے پھاڑے ،نہ ماتم کیااور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال بعدتیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں لیکن یہ سب حرکتیں اور رسوم و رواج نہ صرف روح اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی تلقین و ارشاد کے خلاف ہیں بلکہ ان بزرگوں کی توہین اور غیر مسلموں کیلئے استہزا کا سامان ہیں۔اسلام تو ہمیں صبرو استقامت کا درس دیتا ہے اور (صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو) کا مژدہ سناتا ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ؛ترجمہ ،، وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(سورہ البقرہ ١٥٦)
    نوحہ اور ماتم کی مذمت زبان رسالت سے
    نوحہ اور ماتم کی مذمت کے سلسلہ میں اگرچہ قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال کیا جا سکتا ہے بلکہ شیعہ حضرات کی معتبر کتابوں سے ان کی ممانعت ثابت کی جاسکتی ہے۔

    ١۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ؛جو شخص رخسار پیٹے ،کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے ،وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(بخاری و مسلم)
    ٢۔ حضور صلی اللہ وآلہ وسلم کے ارشادگرامی کا مفہوم ہے کہ ؛ جو شخص سر منڈوائے ،بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے ،میں اس سے بیزار ہوں ۔(بخاری و مسلم)
    نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی من گھڑت بدعات ،محرم میں دور جاہلیت کی رسمیں زیادہ تر پاکستان میں ہیں یاشاید ہی کسی اور ملک میں ہوں ۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک میں ایسا کچھ بھی نہیں اورنہ ہی کسی وطنی یا غیر وطنی کو ایسی بدعات پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہے حالانکہ یہی لوگ صحابہ کرام اور تابعین کی اولاد میں سے ہیں انکی مساجد نمازیوں سے آباد ہیں اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی یہ لوگ ہم سے بہت آگے ہیں ۔آخر کیوں؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علماء اور حکومت وقت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک میں ایسی بدعات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جن کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں کیونکہ پاکستان کلمہ کے نام پہ حاصل کیا گیا خالصتاً اسلامی ملک ہے ۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعاہے کہ تمام اہل اسلام کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
    Twitter | @IhsanMarwat_786
    https://twitter.com/IhsanMarwat_786

  • سنیں جنت تک ہی تو جانا ہے۔ تحریر: نصرت پروین

    کچھ تھک رہے ہیں اپنی آخرت بنانے میں
    کچھ تھک رہے ہیں اسے تباہ کرنے میں
    کچھ تھک رہے ہیں دنیا کی جنت بنانے میں
    کچھ تھک رہے ہیں حقیقی جنت پانے میں
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کر کے اس دنیا میں بھیجا اور جنت انسان کے لئے ایک امتحان بنا دی۔ پھر انسان کو دو راستے بتا دیئے ایک جو جنت کو جاتا ہے اور ایک جو جہنم کو جاتا ہے دونوں واضح ہیں۔اور پھر دنیا کو ہر طرح کی رنگینیوں سے بھر دیا۔ کہیں دولت کا رنگ، کہیں شہرت کا رنگ، کہیں مادیت پرستی کا رنگ، کہیں کسی کی محبت کا رنگ، کہیں رشتوں کا رنگ ، کہیں بغض و حسد کا رنگ، اور سب سے بہترین کہیں اللہ کا رنگ جو جنت کی طرف جاتا ہے۔ اپ یہ انسان پہ منحصر ہے کہ وہ دنیا کے ظاہری عارضی رنگوں میں کھو کر اپنی حقیقی جنت کا سودا کر لے اور نقصان میں پڑ جائے۔ یا اللہ کے رنگ میں رنگ کر جنت کا سفر طے کر لے۔
    "ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے”
    تو اس حدیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ جنت کے گرد کا پردہ ناگوار کاموں کو کرنے سے چاک ہوتا ہے جیسے عبادتوں میں دل جمعی کے ساتھ مصروف رہنا، اور ہمیشگی برتنا، اس سلسلے میں پیش آنے والی مشقتوں کو برداشت کرنا، غصے کو دبانا، عفودرگزر سے کام لینا، برا سلوک کرنے والے کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا اور شہوتوں سے گریز کرنا یہ سب ناگوار ہیں۔ لیکن جنت انہی کے گرد چھپی ہے۔ جب انسان یہ تمام اعمال انجام دیتا ہے تو وہ جنت کا سفر طے کر لیتا ہے دوسری طرف جہنم دنیاوی زندگی، خواہشاتِ نفس، لذتوں، شہوتوں سے بھرپور ہے۔ اس سے مراد تمام حرام کام ہیں جن سے اللہ نے منع کیا ہے لیکن انسان خواہشات کا غلام بن کر وہ کام انجام دیتا ہے تو جنت کھو بیٹھا ہے۔ تکبر، سر کشی، اللہ کی عبادت سے انکار، شراب نوشی، زنا، چوری، غیبت اور باقی تمام کام جن کو عام طور پر ہم سب برا سمجھتے ہیں لیکن کیونکہ نفس کے غلام ہیں تو اکثر لوگ یہ ہی اعمال انجام دیتے ہیں۔ آپ نے ان اکثر میں شامل نہیں ہونا۔ آپ چند میں شامل ہو کر جنت کا راستہ چن لیں اور اس راستے میں دوڑ جاری رکھیں راستے کی طوالت اور رکاوٹوں کی پرواہ نہ کریں۔ دیکھیں بعض اوقات آپ کو تھکن بھی محسوس ہوگی دنیا آپ سے کہے گی کہ چھوڑ دیں بیٹھ جائیں لیکن آپ نے جاری رکھنا ہے۔ اگر بیٹھ جائیں گے تو پھر بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ دیکھیں جنت تک ہی تو جانا ہے آپ ان لوگوں کو مت دیکھیں جنہوں نے دنیا کا رنگ چن لیا۔ جو آرام سے دنیا کے رنگ میں رنگ کر عارضی لذتوں میں مبتلا ہوگئے آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو جنت کی تلاش میں آپ سے آگے ہیں۔ جو جنت کی تلاش میں ایسے چلے کہ رب کی رضا کا پروانہ حاصل کر گئے۔ اگر آپ رک گئے تو دوبارہ چلنا محال ہو گا سو منزل پہ نظر رکھیں اور جنت بہترین منزل ہے۔ اور انسان اس کے لئے کوشش کرے تو ہمیشہ اسی میں ہی ہمیشہ رہے گا۔
    قرآن وحدیث کی روشنی میں جنت کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
    جنت میں ہر قسم کی شادمانی و راحت، فرحت کا سامان موجود ہے۔ سونے چاندی و موتی و جوہرات کے لمبے چوڑے محل بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے خوبصورت خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرف طرح طرح کے لذیذ دل پسند میووں کے گھنے شاداب اور سایہ دار درختوں کے باغات ہیں۔ اور ان باغوں میں شیریں پانی، نفیس دودھ، عمدہ شہد اور شراب طہور کی نہریں جاری ہیں۔
    قسم قسم کے بہترین کھانے اور طرح طرح کے پھل ستھرے اور چمکدار برتنوں میں تیار کر رکھے ہیں۔ اعلی درجے کے ریشمی لباس اور ستاروں سے بڑھ کر چمکتے اور جگمگاتے ہوئے سونے چاندی کے جوہرات کے زیورات، اونچے اونچے تخت،ان پر غالیچے اور چاندنیاں بچھی ہوئی اور مسندیں لگی ہوئی ہیں۔ عیش و نشاط کے لئے دنیا کی عورتیں اور جنت کی حوریں ہیں جو بے انتہا حسین ہیں۔ خدمت کے لئے خوبصورت لڑکے چاروں طرف ہر وقت حاضر ہیں۔ الغرض جنت میں ہر طرح کی بے شمار راحتیں ہیں۔ اور جنت کی ہر نعمت اس قدر بے مثال اور بے نظیر ہے کہ نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔ جنتی لوگ بلا روک ٹوک ان تمام نعمتوں سے لطف اندوزہوں گے اور سب سے بڑی نعمت جنتیوں کو اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوگا جنت میں نہ نیند آئے گی نہ بڑھاپا ہوگا نہ کوئی بیماری لگے گی جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور تندرست اور جوان رہیں گے۔ اس کے علاوہ قرآن و حدیث میں جنت کے بارے میں بہت سی معلومات ملتی ہے جو جنت کی طرف راغبت بڑھاتی ہے۔
    سنیں حقیر دنیا کی خاطر جنت کو نہ چھوڑیں۔ جنت ابدی ہے پر دنیا میں اس کی خاطر جدوجہد وقتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے لئے بہت پیاری دعا سکھائی آپ جنت کے لئے جدوجہد کریں اور یہ دعا ضرور اپنی زندگی میں شامل کر لیں۔
    اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُكَ الْجَنَّةَ الْفِرْدُوْسَ
    @Nusrat_writes

  • قدرتی نظَارے تحریر:افشین

    قدرتی نظَارے تحریر:افشین

    ” قدرتی نظَارے”

    اللّلہ پاک کی قدرت کے نظارے ہر سُو موجود ہیں ایسے دِلکَش نظارے اپنے آپ میں بہت کچھ سمائے ہوئے ہیں۔ سمندر کی گہرائی جیسے اس میں بہت سے راز پوشیدہ ہوں اور لہریں ساحل سے ٹکرا ٹکرا کے داستاں سناتی ہوں مگر آج تک سمندر کی گہرائی کوئی بھی سائنسدان معلوم نہ کر سکا۔ بلند وبالا پہاڑ آسماں کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں اور مضبوط چٹانیں جن کو کوئی ہلا نہ سکتا، بہتی آبشاریں جیسے موجِ رواں ہوں، جیسے بہتا کارواں ہو برستی بارش زمین کو سیراب کرتی ہے اور بارش کی بوندیں پڑتے ہی زمیں مہک جاتی ہے۔ چرِند پرِند ہر شئے میں جلوہ قدرت ہے ۔ صبح گھونسلوں سے نکل کے جانے والے پرندے شام ہوتے ہی لوٹ آتے ہیں اور یہ درس دیتے ہیں کہ کوشش میں حِکمت چھپی ہے۔
    طلوع سورج سے آفتاب سورج تک روشنی اور پھر رات کو چاند کی دھیمی سی روشنی کا الگ ہی نظارہ ہوتا ہے۔ستاروں کی چمک جیسے فلک پہ خوبصورت سی کوئی چادر پڑی ہو دھرتی پہ لگے پھَل پھُول اور درختوں کے یہ جھُنڈ اسے صحرا سے زیادہ پرکشش بناتے ہیں حَسِیں وادیاں اور وہاں کی خاموشیاں بہت سکوں دیتی ہیں ۔اس زمیں میں موجود بشر ہر کوئی ایک دوسرے سے منفرد خوبصورت و حَسِین ہے۔
    ہر طرف قُدرَت کے جلّوے ہیں ایک سے بڑھ کے ایک قدرت کا نظارہ دلکش وحسیں ہے زمینی جانوروں کی الگ اور آبی جانداروں کی الگ الگ خصوصیات ہیں غرض اللّلہ پاک ہر ایک شئے چرند پرند انسان و حیواں کی تخلیق بلاوجہ نہیں کی سب کو ایک دوسرے سے منسلک کیاسورج سے زمین پہ لگے پودوں کو حرارت ملتی ہے تو پانی سے نمی، ہوا سے زندگی ۔پودے جانوروں کی خوراک بنتے ہیں تو وہی جانور انسانوں کی ۔ اللّلہ پاک کی رَنگا رَنگ تخلیق دیکھ کے عقل دَنگ رہ جاتی ہے بلندوبالا پہاڑوں پہ جب برف باری ہوتی ہے تو وہ ایک الگ ہی خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں. جہاں سے زندگی نا ممکن نظر آتی ہے وہ وہاں سے بھی اپنی قدرت کے کرشمے دیکھاتا ہے پتھر سے بھی کیڑے مکوڑوں کی زندگی کی ابتداء کر دیتا ہے. شہد کی مکھیاں کس طرح شہد بنا لیتی ہیں. وہ رب پاک اپنی قدرت کے جلوے دیکھاتا ہے ۔ آبی جانور پانی کے اندر رہتے ہیں اور انسان زمین پہ اللّلہ پاک ہر انسان کو مکمل بنایا ناک، ہاتھ، کان ہر جسمانی عضا دیا اگر کسی میں کوئی کمی ہے تو وہ دنیا کی نظر میں کمی ہے اللّلہ پاک کی نظر میں سب برابر ہیں اور اس میں اللّلہ پاک کی حکمت چھپی ہے کوئی بھی کمتر نہیں اسلئے اللہ پاک کے بنائے انسانوں اور ہر شئے میں نُقص نکالنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔یہ جو بھی ہمارے پاس ہے سب اللّلہ پاک کی قدرت ہے دنیا کی ہر شئے اللّلہ پاک انسانوں کو عطا کی نا شکری سے گریز کریں اللّلہ پاک کی حکمت کو سمجھیں سب اللّلہ پاک کی قدرت ہےکیسے کیسے نظارے ہیں سب قدرت کے اشارےہیں. انسان سب سمجھنے سے قاصر ہے پر بھی کتنے پیارے ہیں۔جتنا بھی ہم قدرت کے دلکش نظارے دیکھتے ہیں ہر شئے میں اللّلہ پاک کی حکمت نظر آتی ہے اللّلہ پاک کی ہر شئے پُرکشش ہے اللّلہ پاک نے انسان کو بنایا عقل سے نوازا اور انسان اپنی عقل و فہم سے ایسی ایسی چیزیں بنا ڈالی کہ زندگی جنگل کی ویرانوں سے نکل کہ آرام وآرائش میں منتقل ہوگئ. اب زندگی میں ہر آسائش موجود ہے زندگی کو آسان بنا دیا گیا. اللّلہ پاک زمین سے پودے میں جان ڈال دی اور پودے بہت سے چرند پرند کیڑے مکوڑوں کی خوراک کا ذریعہ ہیں۔ قدرت میں ہر چیز حیرت انگیز اور منفرد ہےدریاووں میں بہتہ پانی کتنا پیارا لگتا ہے دیکھتے ہی ایک ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے پانی جب رواں ہوتا ہے بہتا جاتا ہے رستے میں آنے والی ہر شئے کو بہا کے لے جاتا ہے ۔اللہ پاک کی بنائی ہوئی ہر شئے کو خوبصورت انداز میں دیکھیں تو آپ جان پائیں گے ہر بنائی ہوئی چیز بے مقصد نہیں۔اپنی زندگی بھرپور انداز میں جئیں ۔ اور اللّلہ پاک کی ہر دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کریں ۔

    #افشین
    @Hu__rt7

  • سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز –  محمد نعیم شہزاد

    سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز – محمد نعیم شہزاد

    سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز
    محمد نعیم شہزاد

    1896 میں مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا اور انسان ہوا کے دوش پر اپنی آواز کو دور دراز منتقل کرنے کے قابل ہو گیا۔ دنیا کے پہلے کمرشل ریڈیو اسٹیشن KDKA نے امریکی ریاست پنسلوینیا میں پٹس برگ کے مقام پر اکتوبر 1920 میں کام کا آغاز کیا۔ پاکستان میں ریڈیو کا آغاز آزادی کے ساتھ ہی ہو گیا۔ صبح آزادی کا پہلا اعلان 13 اگست 1947 کی شب 11:59 پر مصطفیٰ علی ہمدانی کی آواز میں لاہور سے اردو اور انگریزی زبان میں کیا گیا اور عبداللہ جان مغموم نے پشاور سے پشتو میں یہی اعلان کیا۔

    السلام علیکم
    پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں ۔تیرا اور چودہ اگست ، سنہ سینتالیس عیسوی کی درمیانی رات ۔ بارہ بجے ہیں ۔ طلوع صبح آزادی ۔

    The English translation of this announcement is as follows:

    Greetings Pakistan Broadcasting Service. We are speaking from Lahore. The night between the thirteenth and fourteenth of August, year forty-seven. It is twelve o’clock. Dawn of Freedom.

    جبکہ اس وقت ریڈیو پاکستان 34 زبانوں میں براڈ کاسٹنگ کر رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت سے ایجادات ہوتی رہیں اور ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا رہا۔ آج کے جدید دور میں ریڈیو سے بڑی کئی ایجادات ہماری دسترس میں ہیں۔ نت نئے سوشل میڈیا ٹولز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان ٹولز میں عوام میں عمومی طور پر مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ میسنجر ہے جس کے ذریعے ہم تحریری، آڈیو، ویڈیو اور دیگر میڈیا میسجز بھیج سکتے ہیں۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک مقبول پلیٹ فارم ٹویٹر بھی ہے۔ حال ہی میں ٹویٹر نے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے جس Space کا نام دیا گیا ہے۔ صارفین اپنی مرضی کا عنوان منتخب کر کے ایک space بنا سکتے ہیں جس میں دوسروں کو مدعو کر سکتے ہیں اور دوسرے صارفین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس فیچر کے تحت زبانی گفتگو کی جاسکتی ہے جیسے ہم فون کال پر کرتے ہیں اور دوسرے کی گفتگو کے دوران چند ایموجیز بھی بھیج سکتے ہیں۔ آج ایک معروف تعلیم کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ادارے ایجو سولز پاکستان ( EduSols Pk) کی جانب سے ایک space بنا کر کرونا وبا کے بعد کی تعلیمی صورتحال اور محکمہ تعلیم حکومت پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ ایک گھنٹے سے کچھ زائد وقت تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں پاکستان میں کرونا وبا آنے کے بعد کی تعلیم کے میدان میں ہونے والی پیشرفت پر سیر حاصل بات چیت کی گئی۔ گفتگو کے لیے تعلیم سے وابستہ بعض سرکاری ملازمین، پرائیویٹ سیکٹر کے افراد، طلباء نمائندگان اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا گیا جن کے بروقت اجراء سے پاکستان میں حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہ کر ممکنہ بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہو سکیں۔ مجموعی طور پر وبا کے دوران ایمرجنسی کے حالات میں کی جانے والی تعلیمی کاوشوں کے اطمینان بخش ہونے پر اتفاق کیا گیا اور اسے حکومت کی بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔ جس سے طلباء کے قیمتی تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچا لیا گیا اور ملک میں تعلیم و تعلم کے سلسلے میں نئی جہتوں کا کامیاب اضافہ کیا گیا۔ آج کے اس تجربے سے پہلے کئی بار جب ٹویٹر پر کسی صارف سے تبادلہ خیال کرنا ہوتا تو واٹس ایپ کا آڈیو فیچر شدت سے یاد آتا کیونکہ لکھ کر بات کرنے کی نسبت بول کر اپنی بات بتانا نسبتاً آسان عمل ہے مگر آج عملی طور پر ٹویٹر پر بھی یہ طریقہ استعمال کر لیا کہ بول کر اپنی آواز کے ذریعے اپنا پیغام مخاطب تک پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریڈیو کی یاد بھی آنے لگی جہاں ہم مخاطب کو دیکھے بغیر محض اس کی آواز سنتے ہیں ۔ ایجاد اگرچہ پرانی ہے مگر نئے انداز سے اس فیچر کا ٹویٹر میں اضافہ اچھا لگا اور صارفین کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہوا جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے تاثرات اور خیالات جان سکتے ہیں۔

    19 اگست ، سنہ دو ہزار اکیس عیسوی کی رات ۔ بارہ بج کر چھپن منٹ ہوئے ہیں ۔ پچھترہویں سال کی طلوع صبح آزادی ۔

  • رزق کی عزت تحریر : شاہ زیب

    کھانا اور ‘جینا انسان کی زندگی کےدو اہم ترین کام ہیں وہ مقولہ تو آپ نے سُنا ہو گا کہ کچھ لوگ تو جینے کے لیے کھاتے ہیں اور کچھ لوگ کھانے کے لیے جیتے ہیں آج کا موضوع یہ ہی کھانا خوراک اور رزق ہے جو کہ انسان کی زندگی کا اہم ترین پہلو ہے دنیا میں بہت سے لوگوں کی عادت ہے کھانا ضائع کرنے کی مثال کے طور پر ہمارے ہاں مختلف تقریبات میں لوگ ضرورت سے زیادہ کھانا لے لیتے ہیں جو بعد میں کھا نہیں پاتے اس طرح وہ رزق ضائع ہو جاتا ہے وہ رزق جو اللہ پاک نے بہت محنت سے انسان کو دیا ہے اور انکی مخلوق نے بھی بہت محنت کر کے اس رزق کو تیار کیا ہوتا ہے جو کچھ لوگ لمحوں میں ضائع کر دیتے ہیں نہ صرف تقریباًت میں بلکہ بعض افراد ہر جگہ یہ ہی کام کرتے ہیں جیسے کہ گھر میں ضرورت سے زیادہ کھانا لینا اور بعد میں ضائع کرنا
    اس رزق کی عزت کیا کریں بہت سے لوگ ہیں جو اس کے لیے ترستے ہیں بہت سے لوگ ہیں جو اس کے لیے اپنی جان ہلکان کرکے سخت محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی اپنا من پسند کھانا نہیں حاصل کر پاتے
    جو اللہ تعالی نے دیا ہے اس کی عزت کرکے اس کا شکر ادا کرنا سیکھیں کہ اس نے نہ صرف دینے والی ذات خوش ہوگی بلکہ اس کی قدر و منزلت میں بھی اضافہ ہوگا یہ صرف کھانا اور اناج ہی نہیں ہے۔
    یہ اللہ تعالی کی ایک نعمت ہے ہے یہ اللہ تعالی کی ایک نعمت ہے جو وہ اپنے محبوب بندوں سے خوش ہوکر آپ کو نوازتا ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اس نعمت کا ویسے ہی حق ادا کریں جیسے کرنا چاہیے کیونکہ بے شک شکر گزاری اللہ کو پسند ہے اور وہ اس کو مزید نوازتا ہے جو اس کا شکر کریں اور اس کی دی نعمت کی قدر کریں۔۔
    یہ رزق بہت محنت سے اور بہت سے مراحل سے گزر کر آپ تک آتا ہے بہت سے لوگ روز اس کے لیے ترستے ہیں بہت سے لوگ بھوکے سوتے ہیں اگر آپ ضائع کرنے کی بجائے ان کی مدد کر دیں تو اس سے نہ صرف اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے بلکہ کیسی کی مدد بھی ہو جائے گی کھانا بھی نعمت ہے اس کی قدر کرنا سیکھیں اور اس رزق کی عزت کریں تاکہ آپ بھی اس سے محروم نا
    @shahzeb___

  • تیرا قصور یہ ہے کہ تو غریب ہے تحریر: سحر عارف

    تیرا قصور یہ ہے کہ تو غریب ہے تحریر: سحر عارف

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں محبت، اپنائیت، بھروسے اور تعلقات کا اصل معیار پیسہ ہے۔ جس کے پاس جتنا پیسہ ہوگا وہ اتنا ہی ان سب چیزوں کا حقدار ہوگا اور جس کے پاس جتنا کم پیسہ ہوگا وہ اتنا ہی ان اس سب کا کم حقدار ہوگا۔ یہاں صرف پیسہ دیکھ کر کسی انسان کے بارے میں اپنی رائے رکھی جاتی ہے۔ زیادہ دولت مند کے لیے تو تقریباً ہر زبان سے جی حضور ہی نکلتا ہے اور غریب کو صرف پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔

    جناب یہ پیسہ تو ایک ایسی چیز ہے جس کی رمک دھمک ہر کسی کو اپنی طرف ایسے کھینچتی ہے جیسے مکھناتیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ بھی سو فیصد سچ ہے کہ آج ہر فساد کی جڑ صرف پیسہ ہے۔

    اب تو یوں لگتا ہے جیسے یہ دنیا صرف اور صرف امیروں کے لیے ہی باقی رہ گئی ہے یہاں غریبوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ غریب ہی تو ہوتا ہے جو آسانی سے مار کھا جاتا ہے۔ اسے ہر جگہ نا صرف دھتکارا جاتا ہے بلکہ اسے اس کا قصور بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ تو غریب ہے اور غربت اس کی دشمن ہے۔ یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ ایک غریب کا بچہ امیر کے بچے کے برابر تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ویسے عالی شان سکول کالجز نہیں ہوتے کیوں کے ان سکولوں اور کالجوں کی فیسیں تو آسمانوں سے باتیں کرتی ہے۔

    پھر غریب کو تو یہاں زمین پر آرام سے جینے کا حق نہیں تو وہ آسمانوں سے باتیں کرنے والی فیسیں کہاں سے دیں گے۔ کیسے ہی کر کے وہ اپنی چادر کے مطابق پیر پھیلاتے ہوئے سرکاری سکولوں کا رخ کرتے ہیں۔ پر وہاں بھی ٹوٹی پھوٹی عمارتیں، وہی ٹوٹا پھوٹا فرنیچر اور ڈھیلے ڈھالے اساتذہ ان کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ وہ اساتذہ جن کے پاس علم تو ہوتا ہے پر اب غریب کے بچے پہ کون اپنا وقت صرف کرے۔

    یہی سوچتے ہوئے بس تقریباً ہر ٹیچر اپنا ٹوٹل پورا کرتا ہے اور بچوں کو ان کے اصل حق سے محروم کردیتا یے۔ سکول سے آگے کی تعلیم تو بہت ہی کم غریب بچوں کے نصیب میں ہوتی ہے اور جن کے حصے میں وہ تعلیم آتی ہے انھیں اپنی بھوک کی قربانی دینا پڑتی یے۔ اپنے پیٹ کو باندھ کر جب وہ غربت سے جنگ لڑکر تعلیم حاصل کرلیتے ہیں پھر اس سے آگے کا مرحلہ آتا ہے جو بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ مرحلہ روزگار ہے، ہر شخص تعلیم حاصل کرتا ہی اچھے روزگار کے لیے ہے تاکہ کل کو اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو ایک اچھا اور روشن مستقبل دے سکے۔

    یہ ساری جنگ ہوتی ہی ایک اچھے روزگار کے لیے ہے۔ پر یہاں بھی ہمیشہ کی طرح غریب کے ساتھ ناانصافی ہی ہوتی ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اب سفارشات کے بغیر ایک اچھی نوکری بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ آج ہر کوئی منہ کھولے رشوتیں لینے بیٹھا ہوتا ہے۔ ابھی ایک ڈیڈھ ماہ پہلے ہی کی مثال دیکھ لیں جب پٹواریوں کی بھرتی کے لیے کچھ آسامیاں آئیں جس کے لیے کھلم کھلی رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔

    رشوت بھی کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ لاکھوں کی رشوت مانگی گئی۔ اسی طرح اب ایک اچھی نوکری کے لیے رشوت اور سفارش دونوں کا ساتھ ساتھ ہونا ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ہر جگہ ایسے ہی ہے یقیناً ابھی بھی ہمارے معاشرے میں خوف خدا رکھنے والے کچھ لوگ موجود ہیں۔ لیکن بہت سی جگہوں پر ایسا ہی ہے جہاں غریبوں کے ساتھ ناانصافی عام یے اور وجہ پھر وہی کہ غریب کا قصور اس کی غربت ہے۔ اس پر مزید بھی بات ہوگی انشاء اللہ۔

    @SeharSulehri

  • دل پے دستک جو ہو جائے۔ تحریر  : راجہ ارشد

    دل پے دستک جو ہو جائے۔ تحریر : راجہ ارشد

    فقط ارواح تھے ہم سب کہ ہم نے تو ابھی اجسام بھی پائے نہیں تھے ابھی دنیا میں ہم آئے نہیں تھے۔ہم ہی کیا وہ بھی جو آ کر چلے گئے اور وہ بھی جو ابھی آئیں گے دنیا میں غرض ہم سب کے سب ارواح تھے جب ہمارے رب نے ہم کو جمع کر کے ہم سے پوچھا تھا۔ کہو کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو ہم سب پکار اٹھے آپ ہی رب ہیں ہمارے مگر دنیا میں آکر اور یہ اجسام پاکر بھول ہی بیٹھے ہیں ہم حاضری کی اس گھڑی کو۔

    ابھی تمہاری روح کو جسم میں منتقل نہیں کیا گیا تھا۔تمیں ایک میدان میں جمع کیا گیا اور تم سے کہا گیا۔کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔تم سب ایک آواز ہو کر کہا آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ یعنی تم نے اللہ تعالٰی کو اپنا رب مان لیا اور اس کی بندگی کا عہد کر لیا ۔

    اس کے بعد تمہارے باپ آدم اور تمہاری ماں حوا پیدا کیا گیا ۔انھیں رہنے کے لیے جنت میں جگہ دی اور انھیں ایک خاص پھل چکھنے سے منع فرمایا گیا۔تمہارے ماں باپ سے بھول ہوئی اور انھوں نے ممنوع شجر کے پھل کو چکھ لیا۔ان کے رب نے انھیں سزا کے طور پر ان کے گھر جنت سے بے دخل کر دیا ۔انھیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ۔ان کے رب نے انھیں معافی مانگنا سکھایا۔انھوں نے معافی مانگی اور انھیں معاف کر دیا گیا۔

    اب انھیں دنیا میں بھیج دیا گیا جسے تم زمین کہتے ہو انھیں زندگی گزارنے کے کچھ اصول اور قاعدے بتائے اور یہاں بھی ان سے اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کا مطالبہ کیا ۔ ان کو دنیا خاص مدت کے لیے بھیجا گیا۔جس کا انھیں بھی علم نہیں تھا۔انھیں اپنے رب کی اطاعت کرنے کے انعام کے طور پر ان کے گھر یعنی جنت کے دروازے ان کے لیے دوبارہ کھولنے کی یقین دہانی کروائی ۔کہنا نہ ماننے والوں کا ٹھکانہ جہنم بتایا جہاں کھولتا ہوا پانی آگ اور کانٹے ان کے منتظر ہوں گے۔
    حضرت آدم اور اماں حوا سے لے کر آج تک بے شمار انسان اس دنیا میں آئے اور چلے گئے ۔ابھی تم دنیا میں موجود ہو ۔ کل تمہاری جگہ کوئی اور ہو گا۔تم سے بھی تمہارے رب کا وہی مطالبہ ہے جو آدم اور حوا سے تھا۔تمہیں نہیں معلوم کب تمہیں واپس بلا لیا جائے گا۔دنیا کی چکا چوند ،مکانوں اور دکانوں سے تم دھوکا مت کھاجانا۔تمہارا وطن اور اصلی گھر جنت ہے ۔تمہیں بھی آدام اور حوا کی طرح وآپس اپنے گھر جانا ہے ۔ دنیا کی رنگینیوں میں محو ہو کراپنا اصل گھر بھول مت جانا۔

    اگر بھول گئے تھے تو آج ہی اپنے رب سے معافی مانگ لو۔وہ مہربان ہے ۔ تمہیں معاف کر دے گا بس تم اس سے کیا وعدہ پورا کرو اور اپنے گھر جنت میں وآپس جانے کی تیاری کرو
    کیا خوب کہا ہے علامہ محمد اقبال نے
    عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
    سب مسافر ہیں بظاہر نظر آتے ہیں مقیم۔

    @RajaArshad56

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ دوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ دوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہنے یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران احمد خان نیازی سرگرم فلاحی شخصیت بن گئے۔
    انہوں نے اس کا آغاز ایک بہت ہی بڑے پرجیکٹ یعنی کینسر ہسپتال بنانے سے کیا جس کا منشور ارض پاک میں غریب ضرورت مند لوگوں کا کینسر جیسا مہنگا علاج فری ہو سکے
    عمران خان نے اس ہسپتال کا نام اپنی کینسر سے وفات پانے والی ماں کے نام پر رکھا جس کانام آج بچہ بچہ جانتا ہے وہ ہے شوکت خانم میموریل کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر یان دنوں کی بات ہے جب مسلم لیگ ن نے عمران خان نیازی کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہہ وہ ان کو اپنی پارٹی میں شمولیت کے متمنی ہیں یاد رہے یہ ارض پاک میں نواز شریف کے اقتدار کا پہلا دور تھا

    1992 میں ایک ٹی وی پروگرام میں نواز شریف کہتے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کو کئی سال قبل ہی سیاست میں آنے کی پیشکش کی تھی "مگر انہوں نے ٹھکرا دی۔ وہ کہتے ہیں یہ مجھے ابھی بھی معلوم نہیں کہ کیوں۔ بہرحال، پیشکش اب بھی موجود ہے۔”
    یہ بات 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کی ہے

    اس وقت عمران احمد خان نیازی کی عمر تقریباً چالیس سال سے کچھ اوپر تھی اب وہ اپنے ایک لڑکپن سے بتدریج تاثر کو کم کرنا شروع کر دیا

    برطانیہ کی امیر ترین مشہور و معروف سیاسی و کاروباری شخصیت جیمز گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائمہ نے عمران خان سے 21 سال کی عمر میں پیرس میں 1995 میں شادی کرلی۔
    ان دونوں کے ہاں ماشاءاللہ دو بچوں کو جنم دیا جن میں ایک کا نام سلیمان اور دوسرے کا نام قاسم ہے تقریباً نو سال ساتھ رہینے کے بعد عمران خان اور جمائمہ کے درمیان طلاق ہوگئ
    عمران احمد خان نیازی لکھتے ہیں کہہ طلاق سے پہلے کے تقریباً چھ ماہ اور طلاق کے بعد کے چھ ماہ میری زندگی کے انتہائی مشکل وقت تھا طلاق کے وقت ایک بیان میں عمران خان کہتے ہیں کہہ جمائمہ نے ادھر گھل مل جانے کی بہت کوشش کی مگر میری سیاسی زندگی کیوجہ سے ان کے لئے پاکستان کے حالات اور زندگی سے ہم آہنگ ہونا مشکل تھا
    1993میں معین قریشی کی نگران مقرر ہونے والی حکومت میں عمران احمد خان کو سفیر سیاحت تعنیات کر دیا گیا یہ عہدہ ایک وزیز کے برابر ہی ہوتا ہے انہوں نے تین ماہ بعد نگران حکومت کے خاتمے سے ہی وہ عہدہ چھوڑ دیا
    1995) کے اختتام تک ان کے قریبی دوستوں، نے انہیں سیاسی کریئر شروع کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔

    اور پھر اسی طرح عمران احمد خان نے باقاعدہ اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا اور 25 اپریل 1996 کو عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی۔ اور اسی جماعت کے پلیٹ فام سے 1997 کے عام انتخابات، جو اس جماعت یعنی پی ٹی آئی کے پہلے انتخابات تھے، میں پارٹی نے کوئی بھی نشست نہ جیتی۔ جاری ہے

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • تیز ترین فتح کے اسباب تحریر عبدالعزیز صدیقی آیڈوکیٹ

    تیز ترین فتح کے اسباب تحریر عبدالعزیز صدیقی آیڈوکیٹ

    دنیا کی تاریخ کی تیز ترین فتح طالبان نے اپنے نام کی۔ گزشتہ دنوں طالبان نےصرف تیس دنوں میں کابل فتح کرتے ہی پورے افغانستان میں اپنے جھنڈے گاڑ دئے وہ بھی بغیر کسی بھاری خون خرابے اور نقصان کے۔ یہ سب کیسے ہوا آئئے جائزہ لیتے ہیں !
    سب سے پہلے ہمیں طالبان کا انتظامی ڈھانچہ سمجھنا ہو گا کہ کیسے وہ بیس سال افغانستان میں فعال رہے۔
    جب روس کا افغانستان سے انخلا ہوا تو قندھار میں پہلے سے جاری تحریک طالبان نے زور پکڑ لیا 1996 میں دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد ملا محمد عمر طالبان کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔اس طرح ملا عمر طالبان کے پہلے "امیرالمومنین” کہلائے۔ملا عمر2001 میں امریکی حملے کے وقت بھی طالبان کے سربراہ تھے۔ملا عمر کے انتقال کے بعد جولائی 2015 میں طالبان نے ملا اختر منصور کو اپنا نیا سربراہ بنا لیا اس طرح ملا اختر منصور طالبان کے دوسرے امیرالمومنین ہوئے۔لیکن صرف 10 ماہ بعد ہی مئی 2016 میں ملا اختر منصور ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔ملا اختر منصور کے بعد مولوی ہیبت اللہ اخوانزادہ نئے سربراہ بنے۔ مولوی ہیبت اللہ اخوانزادہ طالبان کے موجودہ امیرالمومنین ہیں ان کے نیچے تین نائب امیر ییں۔پہلے نائب امیر ملا محمد یعقوب جو طالبان کے نظریاتی اور مزہبی امور سنبھالتے ہیں دوسرے نائب امیرسراج الحق حقانی جو طالبان کی عسکری امور دیکھتے ہیں جبکہ تیسرے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر ہیں جو امن مزاکرات میں طالبان کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ طالبان کی ایک شوری ہے جسے طالبان کی کابینہ کہا جاسکتا ہے اس شوری کے نیچے چند ونگ کام کرتے ہیں جن میں عسکری اور سیاسی ونگ کے علاوہ کچھ کمیشن بھی ہیں جنہیں ہم ان کی شاخیں بھی کہ سکتے ہیں جن کی جڑیں عوام تک ہیں۔طالبان کا ہر صوبے کے لئے ایک شیڈو گورنر اور ایک کمانڈر بھی ہوتا ہے۔دیکھیں گزشتہ بیس برسوں میں کس طرح ایک منظم تنظیم سازی کر کے طالبان نے اپنی اس تحریک کو فعال اور متحرک رکھا ہوا تھا اور جب وقت آیا تو کیسے صرف تیس دنوں میں بغیر خون خرابے اور املاک کو نقصان پہنچائے بناء پورا افغانستان فتح کر لیا کیونکہ اس جنگ میں ہتھیار ڈالنے والوں کو طالبان نے قتل نہیں کیا گو کہ بہت سے ایسے طالبان دشمنوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالے جنہوں نے طالبان دشمنی میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا طالبان نے اس تمام۔تر کاروائ کے دوران کسی پر کوئ ٹارچر بھی نہیں کیا اس پورے تیس دنوں کی کاروائ میں ٹارچر کا ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا۔اور اس پوری کاروائ کے دوران نہ کوئ چوری کی نہ کوئ لوٹ مار کی اور نہ یی کوئ اناج وغیرہ لوٹا چاہتے تو بنک اور اے ٹی ایم مشینیں دوکانیں وغیرہ سب لوٹ سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اور یہ ہی سب باتیں عوام میں گھر کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ طالبان نے عام۔معافی کا اعلان کیا اور مخالفین سے مھائدہ کئے اور ان پر عمل کیا اگر کسی مخالف نے ان سے مھائدہ کیا کہ وہ کسی دوسری حگہ حجرت کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے جانے دیا۔اس کے علاوہ خواتین سے بد سلوکی کا کوئ ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس دوران طالبان نے کوئ مزہبی پابندی بھی نہیں لگائ کسے نے داڑھی رکھی ہے یا نہیں جو نماز پڑھ رہا ہے یا نہیں کسی کو کچھ نہیں کہا عورتوں کو کہا کہ آپ پردے میں اپنے سارے امور انجام دیں اسکول کھلوائے اور اس دوران خواتین کی تعلیم میں بھی کوئ رکاوٹ نہیں ڈالی گئ۔جن علاقوں کو بھی فتح کیا وہاں کاروبار بند نہیں کیا دوکانیں کھلی رہیں کاروبار اپنے عمومی انداز میں چلتے رہے۔
    کسی صحافی، غیر ملکیوں کو یا این جو او کے نمائندوں کو قتل نہیں کیا گیا اس کے علاوہ فرقہ ورانہ واقعات بالکل نہیں ہوئے انہوں نے اہل تشیع اور بریلویوں کے ساتھ بھی مھائدات کئے بلکہ دیگر نسل کے شہریوں جیسے تاجک یا ازبک سے بھی مھادات کئے کسی کو فقہی یا نسلی بنیادوں پر کوئ نقصان نہیں پہنچایا۔انہوں نے اس دوران نہ کوئ اسکول بند ہونے دیا اور نہ کوئ سرکاری دفتر سب ان کی نگرانی میں اپنا کام کرتے رہے۔طالبان نے کسی بھی مخالف کے مال و دولت اور اسلحہ وغیرہ پر قبضہ بھی نہیں کیا سوائے غیر ملکی افواج سے چھینا گیا اسلحہ اور مال و اسباب کو مال غنیمت کے طور پر رکھ لیا۔اس کے علاوہ طالبان نے کسی کو زبردستی لڑنے پر مجبور بھی نہیں کیا۔
    یہ ہیں وہ اسباب جس کے باعث بناء خون بہائے دنیا کی طویل ترین جنگ پر طالبان نے تیز ترین فتح حاصل کی۔ اب تو ساری دنیا اس حیرت انگیز واقعہ پر تحقیق کرتی رہے گی اور کتابیں لکھے گی لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب کوئ کام اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے اصول پر چلا جاتا ہے تو ایسے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس خطے سمیت پوری دنیا میں امن و سلامتی ہواور لوگوں کی جان و مال محفوظ رہے۔انشاءاللہ

    @Azizsiddiqui100

  • کیا ہم آزاد ہیں؟ تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    اٹھارہ اگست کی شب کو سونے سے پہلے خیال آیا کہ چلے کچھ منٹوں کیلئے سوشل میڈیا دیکھا جائے. سوشل میڈیا کیا دیکھنا تھا کہ آنکھوں سے نیند اڑگئی اور ان میں آنسو اگئے.
    آنسو کی وجہ سوشل میڈیا میں گردش کرنی والی وہ ویڈیو بنی جس میں گریٹر اقبال پارک میں ایک لڑکی کو بیک وقت پانچ سو افراد نے مل کر اسے تنگ کیا اور ان کو اٹھا کر ہوا میں اچھالتے رہے.

    یہ وہ گریٹر اقبال پارک ہے جس میں ہمارے آباؤ اجداد مل کر پاکستان بنانے کیلئے جلسے و جلوس کرتے تھے مگر آج وہ زمین ہم سے سوال کررہی ہے کیا اسلئے آپکے آباو اجداد نے دن رات محنت کی تھی اور سینے پر گولیاں کھائی تھی.

    کیا ہم خود کو آزاد کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خواتین اکیلے گھر سے نکل نہیں سکتی اور جب وہ نکلتی ہے تو ان کے کندھوں پر گندی نظروں کا اتنا بوجھ ہوتا ہے کہ وہ رونے پر مجبور ہوجاتی ہے. بچوں سے ریپ تو الگ ہی کیس ہے مگر ہم ذہنی پستی کا شکار ہوچکے ہیں کہ دن دیہاڑے گریٹر اقبال جیسے پارک میں لڑکی کو چھیڑ دیتے ہیں.

    مجھے تعجب ہورہی تھی کہ اس پانچ سو سے زائد افراد میں کوئی ایک بھی مرد نہیں تھا جو عائشہ کو اپنی بیٹی یا بہن مان کر ان درندوں سے بچاتا مگر سب لگے ہوئے تھے ویڈیو بنانے یا اس بے حیائی میں حصہ لینے میں.

    ہم آزاد نہیں ہے مگر ہمارے بیٹیوں اور بہنوں پر ظلم کرنے والے آزاد ہے چاہے وہ اسلام آباد والا کیس ہو یا کوئی اور کیس، بس پیسہ کامیاب ہوجاتا ہے اور ہمارے حقوق ردی کے ٹوکری کا حصہ بن جاتا ہے.

    سعادت حسن منٹو نے صحیح کہا تھا کہ اس جیسے درندے صرف اپنے گھر کی خواتین کو عورت سمجھتی ہے اور باقی کو گوشت کی دکان اور خود اس کے سامنے کتوں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں جو اپنی گندی نظروں سے عورتوں کو تاڑتے ہیں.

    مجھے تعجب ہوا کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اس درندوں کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہیں اور عائشہ نامی خاتون کو قصوروار ٹھرارہے ہیں.
    واقعی کہ اس واقعے میں متاثرہ عورت کی بھی غلطی ہے مگر اس کی وجہ سے مردوں کو صحیح ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ بھی اس بے حیائی میں برابر کے شریک تھے. ‏‎‎اگر لڑکی بے حیا تھی تو کیا مردوں نے اسکی عزت پر ہاتھ ڈال کر یہ ثابت کرنی کی کوشش کی وہ اس سے زیادہ ‎بے حیا ہیں؟

    ‏‎‎قرآن نے مردوں کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے اور عورتوں کو بھی باپردہ اور باحیا رہنے کا حکم دیا ہے. لاہور واقعہ میں دونوں نے ہی اپنی حدود سے تجاوز کیا نہ عورت حیا دار تھی نا مرد باکردار تھے اگر ٹافی کھلے عام رکھا جائے گا تو مکھیاں آئیں گی.
    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان پر رحم فرمائے آمین

    نام
    ذیشان اخوند خٹک

    بلاگ ٹائٹل
    کیا ہم آزاد ہیں؟

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10