گذشتہ دنوں مینار پاکستان پر ایک دردناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نہتی لڑکی کو ایک ہجوم نے گھیرلیا اور جس طرح اس لڑکی کی عزت کو نیلام کیا وہ دیکھ کر ہر ذی روح انسان کانپ جائے جس درندگی اور حیوانیت کا مظاہرہ کیا گیا وہ دیکھ کر شائد جانور بھی انسانوں سے خوف کھانے لگ جائیں
اس سے ذیادہ افسوس کی بات تب نظر آئ جب چند لوگ اس واقعہ کا الزام بھی لڑکی پر لگاتے نظر آئے ،کسی نے کہا وہ اکیلی نکلی کیوں،وہ تو ٹک ٹاک اسٹار تھی ،اور کسی نے کہا اس نے کپڑے ایسے پہنے تھے بہرحال ایسے چند لوگ تھے باقی تمام صاحب عقل لوگ اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت ہی کرتے نظر آتے ہیں
اس واقعے کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اسلام آباد میں لڑکی کو ذیادتی کا نشانہ بناکر گلہ کاٹنے والے حیوان ظاہر جعفر جیسے لوگ ہماری گلی کوچوں اور بازاروں میں ہر جگہ کہیں نا کہیں موجود ہیں ،جو عورت ذات پر گندی نظر رکھنے ،اسے حوص کا نشانہ بنانے اور پھر الزامات بھی عورت پر ہی لگانے کے لئے بے تاب کھڑے ہوتے ہیں اور پھر یقین کریں جو ہم کسی اور کی ماں،بہن،بیٹی کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں وہی سب کچھ اور لوگ ہماری بھی ماوں،بہنوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں
اس لئے خدارا ہمیں ایسی سوچ ،اس چھوٹی ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے یقین کریں اگر ہر انسان انفرادی طور پر خود سے یہ وعدہ کرلے کہ میں کسی اور کی ماں،بہن،بیٹی پر کبھی گندی نظر نہیں رکھوں گا بلکہ معاشرے میں کہیں بھی ضرورت پڑی تو میں ایسی خواتین کا باپ،بھائ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا اس سوچ کو پروان چڑھائیں ہمارا یہ معاشرہ بہت خوبصورت اور حیوانگی سے پاک ہوجائے گا آپ دوسروں کی ماں،بہن کی عزت محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے تو آپ کے گھر کی خواتین بھی محفوظ رہیں گی
عورت موقعہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتی ہے ،لاہور جیسے یا اس بھی ذیادہ بھیانک کئ واقعات آئے روز ہمارے معاشرے میں ہوتے نظر آتے ہیں یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے ان چند بھیڑیہ صفت لوگوں کی وجہ سے ہماری خواتین کتنی غیر محفوظ ہیں
اس پر کنٹرول حکومت بھی کرواسکتی ہے قانون بھی موجود ہے ،خواتین کی عزت اور ان کے حقوق کے حوالے سے ہمارے پاس بہت مضبوط قانون موجود ہے ،لیکن ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین بیچاری خاندان کی عزت ،اپنی عزت وغیرہ کے ڈر سے چھوٹے موٹے واقعات کی پولیس رپورٹ درج ہی نہیں کرواتی اور کچھ ہمارے پولیس محکمے میں بھی ایسے لوگ بیٹھے ہیں جن کے پاس اکیلی خاتوں رپورٹ درج کروانے جاتے ہوئے بھی اپنی عزت کی وجہ سے ڈری ہوتی ہے
اس لئے جب تک ہم ایک قوم بن کر اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے معاشرے سے اس ناسور کو ختم کرنے کا عہد نہیں کرتے تب تک شائد ہمارے معاشرے میں خواتین اسی طرح آئے روز اپنی عزتیں نیلام کرتی ہی نظر آئیں گی
پوری قوم متحد ہو کر آگے بڑھے دوسروں کی بہن ،بیٹی کو اپنی بہن بیٹی سمجھیں،ماں باپ اور خاندان والے اپنی بیٹیوں ،بہنوں کو اپنا مکمل اعتماد دیں اور ان کو ہمیشہ سمجھائیں کہ کہیں بھی کوئ معمولی سا واقعہ بھی آپ کے ساتھ پیش آئے بلاخوف اپنے گھر بتائیں ،گھر والے اس پر مکمل قانونی کاروائ کروائیں ،پولیس اپنا رویہ بہتر بنائے ،میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کرے ،اسلامی تعلیمات دی جائیں اور خواتین کو محفوظ معاشرے میں عزت اور سکون کے ساتھ رہنے اور جینے کی مکمل آزادی دی جائے
اللہ پاک ہمارے اس معاشرے کو حیوانوں اور درندوں سے پاک کرے تاکہ ہماری اور آپ کی خواتین کی عزت محفوظ ہو سکے آمین
Category: بلاگ
-

مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر
-

مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب
عورت…؟
کون ہے عورت…؟
مرد کے لیے عورت تو بس اپنی ہوس بجھانے کا ایک ذریعہ ہے. 14 اگست کے موقع پر مینار پاکستان لاہور میں اسلامی حکومت ہونے کے باوجود عائشہ کو 400 مرد، مرد نہیں جانور، (ان جیسوں کو جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین ہو گی) درندے مل کر ایک عورت کا استحصال کرتے ہیں. بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی وہ 400 مرد اس سارے منظر، اس سارے ظلم، اس ساری بربریت کو اپنے موبائل کی ویڈیو ریکارڈنگ میں محفوظ بھی کرتے جاتے ہیں. چار سو مرد، آٹھ سو آنکھیں، آٹھ سو ہاتھ، مگر ان میں سے کسی ایک کو شرم نہیں آئی، کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر عائشہ کی عزت بچانے کی کوشش نہیں کی، کسی ایک نہیں بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی، کسی ایک مرد کی غیرت نہیں جاگی.
وہ عورت در بدر اپنی عزت بچانے کے لیے بھاگتی رہی مگر ان چار سو مردوں میں سے کسی ایک نہیں بھی اس کی مدد نہیں کی، وہ سب تو اپنی ہوس بجھانے میں مصروف تھے. سادت حسن منٹو نے آج سے اتنے سال قبل ہی شاید ان جیسے مردوں کے لیے ہی کہا تھا کہ "ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی، بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم مرد اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جسکی ہوش زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ہی ٹکی رہتی ہے اور ہمارے منہ سے اس گوشت کو دیکھ کر رال ٹپکتی رہتی ہے.”
میرا سوال ہے اس معاشرے کے مردوں سے کہ آپ کے گھر کی بیٹی کی عزت، عزت ہوتی ہے مگر کسی اور کی بیٹی کی عزت کی آپکو کیسے پرواہ نہیں ہو سکتی؟ کیا آپ سب مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کی جزا اور سزا پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا آپ مردوں کو پتا نہیں کہ مکافات عمل ایک حقیقت ہے اور اگر آج آپ کسی کی بیٹی کی عزت نہیں کرو گے تو کل کو آپ کی اپنی بہن بیٹی کے ساتھ کوئی دوسرا بلکل ایسا ہی کرے گا.
تاریخ گواہ ہے پیسے اور شان و شوکت کی ہوس نے،تاریخ کو بھلا دینے کی روش نے، اسلاف کے طریقوں کو چھوڑنے کے چکر میں اس قوم میں بس غلام پیدا ہوئے ہیں وہ بھی جاہل غلام جو اپنے نفس کی ڈوری کو تھامے ہوئے اندھا دھند مغرب کے سورج کی طرح ڈوب رہیں ہیں!!
ہمیں اپنی روایات کو بھلانا نہیں چاہیے،،،، ہمارے پیارے نبی محمدﷺ تو اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے، عورت کو حد سے زیادہ عزت دیا کرتے تھے تو آج ان کے ماننے والے نام نہاد مسلمان ہو کر آپ کیسے کسی کی بیٹی کی عزت کو سرعام رسوا کر سکتے ہو، کیسے کسی کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہ سکتے ہو؟ یاد رکھیں ظالم تو ظلم کرتا ہی ہے مگر جو ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہے وہ بھی ظالم کے ساتھ اس ظلم میں مکمل شریک ہوتا ہے.
میں نے جب سے عائشہ کو درندوں کے درمیان رسوا ہوتا دیکھا ہے تب سے سکون سے سو نہیں پائی، سوچتی ہوں کہ کیا میں ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستان میں محفوظ ہوں؟ کیا میں اس معاشرے کے مردوں میں محفوظ ہوں؟ یہ درندہ نما انسان ہمیں کسی بھی جگہ چین سے جینے نہیں دیں گے. نہ ہم گھر میں محفوظ ہیں، نا گلی میں، نا ہی سکول میں، نا روڈ میں. ارے ! ہم خواتین تو درندوں کی درندگی سے قبر کی گہرائیوں میں بھی محفوظ نہیں.
کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟ جب بھی کوئی عورت گھر سے باہر نکلنے لگتی ہے تو کہا جاتا ہے ساتھ محرم کو لے جاؤ.
بتائیں میں کس محرم کو ساتھ لے کر جاؤں؟ اپنے چھوٹے 15 سال کے بھائی کو ساتھ لے کر چلوں یاں اپنے بوڑھے بابا کو؟
محرم ساتھ بھی ہو تو ہمیں کون سا بخشا جاتا ہے؟
سانحہ موٹروے کے مرکزی مجرم نے 2013 میں شوہر کے سامنے اسکی بیوی اور بیٹی کی عزت پامال کی تھی…. کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟
اگر ہم عورت ہیں تو سانس لینا بھی چھوڑ دیں؟
اللّٰہ پاک سے صرف دعا ہی ہے کہ وہ اس ملک پاکستان میں بسنے والی یر بیٹی کی عزت محفوظ رکھیں آمین….!@BinteZainab33
-

مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق
یہ شرم ناک سانحہ اس چودہ اگست کو مینار پاکستان کی چھاؤں میں ایک پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ پیش آیا جو ٹک ٹاک بنا رہی تھی
جس نے پاکستانی پرچم کی نسبت سے سفید شلوار قمیض پہن رکھا تھا اور سبز رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا کہ منٹو پارک میں موجود ہزاروں پاکستانی نوجوان اُس لڑکی پر یوں جھپٹے گویا کُتا کھلے گوشت پر جھپٹنا ہے
پھر کیا تھا حوّا کی ہم جنس کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کر ڈالا
وہ ننگی آزاد پاکستانی لڑکی چیختی چلاتی رہ گئی مگر آدم کے بیٹوں نے مینار پاکستان کے سائے میں اس کا وہ حشر کیا کہ سنتالیس میں عزتیں لوٹنے والے ہندوؤں کی آتما شرمندہ ہوگئی
تب ہندو نے مسلمان بچیوں کو بے آبرو کیا تھا آج پاکستانی مسلمان اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں
جی ہاں یہ واقعہ چودہ اگست دو ہزار اکیس کو لاہور کے اقبال پارک میں پیش آیا
آج منٹو کا پہلا افسانہ “کھول دو “ یاد آگیا جو تقسیم کے وقت کی ایک کہانی تھی جس میں ایک محاجر باپ سراج دیں اپنی بیٹی سکینہ کو محاجر کیمپ میں تلاش کرتا پھر رہا تھا
سراج دین اپنی بیٹی سکینہ اور بیوی کے ساتھ پاکستان کی طرف سفر کر رہا تھا راستے میں اسٹیشن پر بلوائیوں نے حملہ کردیا
سراج دین کی بیوی تو موقع پر ماری گئی مگر سکینہ بچھڑ گئی
بس اُس کا دوپٹہ سراج کے پاس رہ گیا تھا
روتے دوھوتے سراج دین کو کسی نے بتایا کہ کچھ نوجوان ہیں جو لاری لیکر بندوقیں تھام کر امرتسر جاتے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو باحفاظت پاکستان لاتے ہیں یعنی وہ اُس وقت رسکیو کا کام کر رہے تھے
سراج دین اُن عظیم جوانوں کے پاس گیا اور بڑی امید سے بتایا کہ سکینہ کے گال پر بڑا سا تل ہے اور نین نقش ایسے ہیں امرتسر کے پاس مجھ سے جُدا ہوئی تھی
نوجوانوں نے سراج دین کو یقین دلایا کہ وہ اُس کی بیٹی کو جلد ڈھونڈ لائیں گے
اور لاری لیکر نکل گئےامرتسر کے راستے میں رضاکاروں کی نظر ایک لڑکی پر پڑی لڑکی گھبرا کر بھاگ گئی رضاکاروں نے بھاگ کر اُس لڑکی کو روکا
دیکھا تو گال پر بڑا سا تل تھا
یہ سراج دین کی سکینہ ہی تھی
آٹھ لڑکوں نے اس کی دل جوئی کی اپنا کوٹ اتار کر دیا کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث سکینہ اُلجھن محسوس کر رہی تھی
کئی دن گزر گئے جب سکینہ کا
سراغ نہ ملا تو سراج دین اُن رضاکار جوانوں کے پاس گیا اور پوچھا “ سکینہ کا کچھ پتہ چلا “
چل جائے گا ۔ چل جائے گا کہہ کر جوان چلے گئے
سراج دین نے ایک بات پھر اُن نوجوانوں کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگیایک شام چند لوگ کچھ اٹھا کر عارضی کیمپ ہسپتال میں لائے تھے
سراج دین نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑی تھی جسے لوگ اٹھا لائے ہیں
سراج دین ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا اسٹریچر پر ایک لاش پڑی تھی
سراج دین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا
کمرے میں روشنی ہوگئی سراج دین
نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا
سکینہ !
ڈاکٹر جس نے لائٹ جلائی تھی سراج دین سے پوچھا
کیا ہے ؟
سراج دین کے منہ سے صرف اتنا نکل سکا ۔ جی میں
جی میں ۔۔۔اسکا باپ ہوںڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا اس کی نبض ٹٹولی اور سراج دین سے کہا
“کھڑکی کھول دو “سکینہ کے مُردہ جسم میں جُنبش پیدا ہوئی ۔ بے جان ہاتھوں سے اُس نے ازاربند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی
بوڑھا سراج دین خوشی سے چلایا
زندہ ہے ، میری بیٹی زندہ ہے
ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا(مطلب یہ کہ سکینہ کی عزت کے لٹیرے وہی آٹھ رکھوالے رضاکار تھے)
دوستو اس افسانے کے چھپنے کے بعد منٹو پر کیس کر دیا گیا وہ تاریخیں بھگتا رہا
جس رسالے نے یہ افسانہ چھاپہ تھا وہ سیل کر دیا گیا
اور منٹو کو فحش لکھاری قرار دیکر ادیبوں کی فہرست سے نکال دیا گیا
کیونکہ وہ آیئنہ دکھا رہا تھا
مگر آج منٹو کے کردار ہمیں تسلسل سے نظر آ رہے ہیں کبھی زینب لُٹ جاتی ہے
کبھی موٹر وے پر حوّا کی ہم جنس بے آبرو کر دی جاتی ہے
کبھی مدرسے کا مفتی لوطی قوم کا پیروکار نکل آتا ہے تو کبھی حوّا کی بیٹی کے کپڑے پھاڑ کر کتوں کی طرح بھمبھوڑا جاتا ہے
کیوں ؟ کیوں ہوتا ہے یہ سب ؟
سب سزا کی بات کرتے ہیں کہ چوک میں لٹکا دو
گولی مار دو
سر قلم کر دو
سب جرم کے بعد کی بات کرتے ہیںمگر میں کہتا ہوں کہ ان سانحات کو ہونے سے روکا جائے اور اُس کے لئے ریاست مدینہ دوئم میں اخلاقی ایمرجنسی نافذ کر دی جائے
تاکہ یہ انتہا پسندی ختم ہو
ورنہ یہ شہوانی خود کُش حملہ آور یا تو عورتوں کو بے آبرو کریں گے
یا
دھرم کے نام پر رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑیں گے
کسی غریب کی چنگ چی جلائیں گے
یا
سڑک بلاک کر کے ٹائروں کو آگ لگا کر اپنے آلودہ ذہن کی طرح پاکستان کی پاک فضاء کو آلودہ کریں گے
ہن اینا دا کج کر لو رب دا واسطہ جے 🙏
پا جی معیشت نئیں معاشرت سنوارو -

امریکہ نے کیا غلطیاں کیں ؟؟ طالبان اچھے کیوں ہیں ؟؟ طعنے دینے والوں کو صاف جواب
۔ اچھا ایک چیز جو میں کمنٹس میں ، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پرمسلسل دیکھ رہا ہوں کہ لوگ بہت طعنے دے رہے ہیں کہ شاید ہم طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مشورے دے رہے ہیں کہ اتنے اچھے آپکو طالبان اور ان کا نظام لگتا ہے تو افغانستان چلے جائیں تو ۔ میں آپکو بتاوں ہو کیا رہا ہے ۔
۔ ہم بھی اور بھی کئی لوگ کئی دنوں سے کہہ رہے تھے کہ یہ نظر آرہا ہے کہ طالبان نے افغانستان پر غلبہ حاصل کرکے وہاں حکومت بنا لینی ہے تو ہم نے رپورٹ تو کرنا ہے جو دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اور فورس آتی ہے اور وہ طالبان کو ہٹاتی ہے تو ہم وہ بھی رپورٹ کریں گے ۔ تو اس چیز کو ذہن میں رکھیں ۔ اب اچھی چیزیں سامنے آرہی ہیں تو اچھا ہی رپورٹ کریں گے ۔ جب بری آئیں گی تو بڑا بھی رپورٹ کریں گے ۔۔ دوسرا جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم بڑے خوش ہیں طالبان سے اور وہ اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ وہاں چلے جائیں تو اس کی مثال کچھ یوں ہے ۔ کہ ہم تو فن لینڈ سے بھی بڑے خوش ہیں ۔ ہم تو ناروے سے بھی بہت خوش ہیں ۔ بڑے اچھے ملک ہیں ۔ بڑے خوبصورت ملک ہیں ۔ انسانی حقوق کا ان ملکوں میں بہت خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن ہم وہاں نہیں جاتے ۔ تومیری نظر میں یہ بیکار کی باتیں ہیں ۔ جو لوگوں کو خوشی ہورہی ہے ۔ جو memesبن رہی ہیں ۔ لطیفے چل رہے ہیں ۔ پرانے آڈیو اور ویڈیو کلپس اس حوالے سے وائرل ہورہے ہیں وہ لوگوں کو یہ خوشی نہیں کہ طالبان جیت گئے ہیں ۔ طالبان نے معرکہ سر کر لیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ ہار گیا ہے ۔ اس کے بڑے بول زمین بوس ہونے پر لوگ خوش ہیں ۔ وہ جو امریکہ کہتا تھا کہ either you are with us or against usاس پر خوش ہورہے ہیں کہ امریکہ زلیل ورسوا ہوکریہاں سے نکالا ہے ۔
۔ اسی لیے اب تو جوبائیڈن بھی کہہ رہا ہے ۔ کہ افغانستان کو درست طور پر سپرپاورز کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہم نے گزشتہ 20 سالوں میں دیکھا، اس سے ثابت ہو گیا کہ وہاں فوجی طاقت سے کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔ یعنی اب امریکہ مان گیا ہے کہ اس کی پالیسی غلط تھی ۔ بش نے غلط حملہ کیا افغانستان پر ۔ ۔ تو آج سے چالیس سال پہلے جو rambo
کی فلم آئی تھی ۔ اس میں اس نے کہا تھا اس وقت ان کو سن لینا تھا ۔ کہ افغانستان سپر پاور کا قبرستان ہے ۔ اب وہ جو سارے لوگ اعتراض کر رہے تھے اور تنقید کررہے تھے وہ جا کرجوبائیڈن کو برا بھلا کہیں ۔ ۔ اس چیز پر بات کریں نہ یہ کہ امریکی کتنے موقع پرست ہیں کہ اپنی تمام ہار کی ذمہ داری جوبائیڈن نے افغان فوج پر ڈال دی ہے ۔ کہ مجھ کو افغان لیڈر شپ کہہ رہی تھی کہ ہم لڑیں گے یہ کریں وہ کریں گے ۔ مگر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ تو ہمارا کیا قصور ۔ ۔ تو امریکہ ، اسکے حمایتوں اور امریکی انتظامیہ کو ذرا آئینہ دیکھا دوں کہ یہ جو مغرب کا رونا دھونا ہے کہ بندوق کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرناجائز ہے۔تو جب افغانستان پر حملہ ہوا ، عراق پر حملہ ہوا ، لیبیا پر حملہ ہوا وہاں امریکہ نے کیسے تبدیلی لانے کی کوشش کی ۔ ۔ بندوق کی زور پر ۔۔ تو یہ لاجک اپنی موت آپ مر جاتی ہے ۔ اور عراق یا لیبیا میں کون سے weapons of mass destruction مل گئے ۔ ساتھ ہی ایران نے کتنے ممالک پر حملہ کر دیا ہے جو پابندیاں لگائی گئیں ۔ جبکہ دیکھا جائے تو امریکہ نے ہی کیا دو دفعہ نیو کلیئرحملے ۔۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی پالیسی جو ہے وہ کتنی دیر پا اور دوراندیش ہے ۔ اب یہ امریکہ اور مغرب نے سوچنا ہے ۔ ہم تو ویسے ہی third world country ہیں ۔ ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ کیوبا ، ویتنام ، عراق ، ایران ، لیبیا ، شام ہر جگہ امریکہ کو مار پڑی ہے ۔ تو رہنے دو نہ یار ۔ امریکہ نے ہمیشہ صرف تباہی کی ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔ اب اس کے اخلاقی جواز یا غیر اخلاقی جواز کی بحث اپنی اہمیت کھو چکی ہے ۔ کچھ لوگ اسے آج مان لیں گے اور کچھ کل ۔ ۔ جیسا کہ چین اور روس نے طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا اعلان کردیا ہے تو ایران کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست سے امن کا راستہ ہموارہوگیا ہے ۔ یہاں تک کہ ترکی نے کابل ائیرپورٹ کی سکیورٹی سنبھالنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔ یعنی وہ بھی اب پیچھے ہٹ گیا ہے ۔ امریکہ بھی green signal دے چکا ہے کہ وہ بھی طالبان کی حکومت کو مان لے گا اگر طالبان اسکو کچھ تسلیاں کروادیں ۔
۔ اچھا یہ اب حقیقت ہے کہ طالبان کے جیتنے میں اور طالبان کی گورننس میں زمین آسمان کا فرق ہوگا ۔ اس بار آپ دیکھیں تو طالبان بہت کوشش کر رہے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ پہلے والے طالبان نہیں ہیں ۔ اس سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات بھی کرتے دیکھائی دے رہے ہیں جیسے عورتوں کے متعلق ، دیگر فرقوں کے حوالے سے ، داڑھی کے حوالے ۔۔۔ ۔ چلیں دو چیزوں کا فرق آپکو بتاتا ہوں کہ کابل ایئرپورٹ کا انتظام وانصرام امریکہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے ۔ وہاں آپ دیکھ لیں کیا ۔ قیامت کا منظر برپا ہے ۔ کہ بیچارے وہ افغانی جو ان کی غلامی کرتے رہے جو ان کو سپورٹ کرتے رہے وہ جہازوں سے نیچے گر رہے ہیں۔ ان کو امریکی وہاں پر گولیاں مار رہے ہیں ۔ پر دوسری جانب وہ اپنے پالتو کتوں تک کو جہازوں کی سیٹوں پر بیٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ اور یہ کوئی مفروضہ یا سنی سنائی خبر نہیں ہے مستند افغان میڈیا رپورٹ کر رہا ہے ۔
۔ دوسری جانب کابل کی سڑکوں پر سکون ہے۔ کاروبار ، سکول سب کچھ کھلا ہے ۔ محرم کے حوالے سے شعیہ کمیونٹی کو اجازت ہے کہ وہ جلوس نکالے ۔ ۔ طالبان رہنما مختلف ہسپتالوں کا دورہ کر رہے ہیں ڈاکٹرز کو کام جاری رکھنے اور تحفظ کی یقین دہانی کروارہے ہیں ۔ تاجر برداری سے مل رہے ہیں ان کو بھی تسلی دے رہے ہیں کہ آپ افغانستان چھوڑ کر نہ جائیں۔ ۔ ایک دن پہلے لوٹ مار کے حوالے سے خبر آتی ہے اگلے ہی روز وہ مسلح افراد گرفتار ہو جاتے ہیں جو طالبان کے نام پر لوٹ مار کر رہے تھے۔ ۔ یہاں تک کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کہہ رہے ہیں کہ طالبان سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔۔ تو طالبان کافی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے سے متعلق ہر پراپیگنڈہ کا اثر زائل کریں اور دنیا کو بتائیں کہ اب وہ نوے کی دہائی والے نہیں ۔ یہ بھی بدل چکے ہیں ۔ ۔ پر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ان کی مرکزی سوچ بدل جائے گی ۔ مرکزی سوچ تو وہ ہی ہے ان کی ۔ کہ طالبان افغانستان کو بنائیں گے تو وہ ہی اسلامی امارات ۔ جس کے لیے وہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں ۔ ۔ میری نظر میں مغربی میڈیا یا ممالک اس وجہ سے خوف زدہ ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں ایک نفراسٹکچر بنا دیا ہوا ہے ۔ جیسے سٹرکیں ، پل ، ایئر پورٹس وغیرہ ۔ افغانستان کے خزانے میں بھی کوئی چار بلین ڈالرز ہیں ۔ اور اب افغانستان پر ایک آنے کا قرضہ نہیں ۔ تو اگر وہ پانچ سات بلین ڈالرز قرضہ بھی لے لیتے ہیں اور وہ چار بلین اپنا بھی لگاتے ہیں تو حقیقت میں تو افغانستان ایک لش پش جگہ بن جائے گی ۔ ۔ ایسا ہوجاتا ہے تو افغانستان طالبان کی قیادت میں ایک ماڈل مسلم ریاست بن جائے گی ۔ دراصل یہ چیز مغرب کو خوف زدہ کرتی ہے ۔ کیونکہ یوں ہو گیا تو ہر مسلمان کہے گا کہ ریاست ایسی ہونی چاہیے کیونکہ انکا system of justice عام آدمی کو apeal کرتا ہے ۔ کیونکہ عام آدمی کو آپ جتنا مرضی قانون سمجھا لیں ۔ پڑھا لیں ۔ وہ کہتا ہے کہ یار مجھے چالیس سال ہوگئے ہیں ۔ میرے بزرگ بھی فوت ہوگئے ہیں لیکن ہماری زمین کا مقدمہ وہیں ہے ۔ تو اس کو نہیں سمجھ آتی یہ بات ۔
۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ والا سسٹم خراب ہے اور طالبان والا اچھا ہے ۔ یا طالبان کا خراب ہے اور یہ والا سسٹم اچھا ہے ۔ ۔ بات کی جائے تو یہ درست ہے طاقت کا توازن اس وقت طالبان کے حق میں ہے۔ لیکن صرف طاقت کے بل بوتے پر طالبان، افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکتے، کیونکہ خود امریکہ اور نیٹو ممالک اس حکمت عملی میں ناکام ہو چکے ہیں۔۔ بیس سال پہلے اور آج کے طالبان میں فرق یہ ہے کہ اس بار وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ بیس سال پہلے وہ جنگ و جدال کو ہی ہر مسئلے کا حل سمجھتے تھے۔۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان کے طالبان نے خانہ جنگی سے گریز اور اپنے رقیبوں ، دشمنوں کو عام معافی دینے کا جو اقدام اٹھایا ہے۔ وہ ایسا اقدام ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ساری دنیا، طالبان کی اس دریا دلی اور ”نئی بصیرت“ پر حیران ہے۔ خدا کرے یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھے اور افغانستان کے نئے حکمران افغان عوام کے خیر خواہ ہی ثابت ہوں ۔
-

سرزمین چکوال کا چمکتا ادبی ستارہ، عرفان خانی تحریر:اعجاز الحق عثمانی
یوں تو چکوال کے کئی اک تعارف ہیں۔مگر چکوال کا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ ‘یہاں کا ہر دوسرا آدمی سپاہی اور ہر تیسرا آدمی شاعر ہے’۔ یہاں کہ مکینوں نے پنجابی، فارسی،اردو اور انگریزی ادب کے کئے شہکار تخلیق کیے۔ چکوال جیسی زرخیز ادبی سرزمین پر چمکنے والے ستاروں میں آج کل سب سے زیادہ متحرک، نوجوان اور ادب سے محبت کرنے والا شاعر "عرفان خانی” کو کہنا غلط نہ ہوگا۔ عالمی ادب اکادمی کے سرپرست اعلیٰ ،عرفان خانی کے قلمی نام سے پاکستان کے ہرشہر اور ہر دیہات میں پہچانا جانے والا عالمی شہرت یافتہ یہ نوجوان شاعر،تحصیل کلرکہار کے علاقہ خیر پور شریف کا رہائشی ہے۔ ادب سے محبت ان کے لہجے اور اشعار میں جھلکتی ہے۔ ایک دن میں کئی ادبی تقریبات کروانے جیسی منفرد خصوصیات کی حامل تنظیم عالمی ادب اکادمی کے زیر اہتمام ہی کلرکہار میں پہلی دفعہ جھیل میں کشتیوں کے اندر مشاعرہ ہوا۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی شہر یا دیہات ایسا ہوا جہاں انھوں نے کوئی ادبی تقریب نہ کروائی ہو۔ انکی اور تنظیم کی شہرت اور ادبی کارکردگی کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ عالمی ادب اکادمی کی 126 ادبی تنظیمیں ممبر ہیں۔ عرفان خانی کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ادبی گروہوں اور دھڑے بندوں کی مخالفت کی۔ نوجوان شاعروں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے نظر آئیں گے۔ ان سے جب بھی بات ہوئی تو محبت اور شفقت انکے لہجے سے جھلکتی نظر آئی۔ادب کی ترویج کے لیے ایسے کوشاں رہتے ہیں کہ جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی اچھی پرورش کےلیے،۔ "مین آف لٹریچر،خان ادب، فخر ادب، نشان ادب” جیسے کئی ایوارڈز اور القابات سے نوازے کئے اس شخص کو سرزمین چکوال اور ادبی دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔
عرفان خانی بے لوث محبتوں کے امیں تو ہیں ہی مگر وہ روایت سے جڑے ہوئے خوبصورت فکر و خیال کے شاعر بھی ہیں۔ان کی شخصیت کی طرح انکی شاعری بھی دل کو چھو لیتی ہے۔ انکی شاعری عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قاری کو اپنے دل کی صدا محسوس ہوتی ہے۔ جس کی مثال یہ اشعار ہیں۔
ﺟﻨﮕﻞ ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﻣﯿﮟ
ﺗﺘﻠﯽ ﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﺋﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺎﺱ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻝ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ
ﮐﯿﮍﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺱ ﻣﯿﮟﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﭘﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﻣﯿﮟ
ﺻﺤﺮﺍ ﮐﯽ ﺗﺸﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻣﯿﮟﭘﺘﮭﺮ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ
ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﮔﻼﺱ ﻣﯿﮟﻋﺮﻓﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ زﺧﻢ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ
ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﻟﮩﻮ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟاعجاز الحق عثمانی
@EjazulhaqUsmani -

افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تقاضے تحریر-سید لعل حسین بُخاری
افغانستان کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان جو بھی قدم اُٹھاۓ۔
سوچ سمجھ کے اٹھاۓ۔
کوئ بھی فیصلہ کرتے وقت پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھا جاۓ۔
اسکے علاوہ تیل دیکھو،تیل کی دھار دیکھو کے مصداق بین الاقوامی برادری اور خطےکے فیصلوں پر بھی گہری نظر رکھی جاۓ۔
جس طرح طالبان نے پچھلے دور اقتدار سے کچھ سبق سیکھے ہیں،اسی طرح پاکستان بھی اپنے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوۓ وہ غلطیاں نہ دہراۓ،جو ماضی میں کی گئیں۔جن کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔اربوں کے مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگ شہید بھی ہوۓ۔کسی کی جنگ کو ہمیں مجبورا” اپنی جنگ سمجھ کر لڑنا پڑا کیونکہ اس میں ہمارے بچے شہید ہو رہے تھے/
مرتا کیا نہ کرتا،کے مصداق ہمیں اپنے گلے میں پڑے اس ڈھول کو بجانا پڑا۔
افغانستان کے معاملے میں اب تک پاکستان نے اپنے کارڈز بہتر انداز میں کھیلے ہیں۔
عمران خان کے اس موقف کو دنیا بھر میں زبردست پزیرائ مل رہی ہے،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی ہو گا،عسکری طریقے سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ رات امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اپنی کانفرنس میں عمران خان کے موقف ہی کو اپنایا۔
عمران خان نے افغانستان کے مسئلے کو اپنے مشاہدات کی نظر سے پرکھا اور پھر
Absolutely not
کہہ کر دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان امریکہ کو پاکستان سے افغانستان پر حملے کے لئے اڈے فراہم نہیں کرے گا۔
امریکہ کی طرف سے اس سیدھے سادھے جواب پر سخت ردعمل بھی آیا،بعض معاملات پر پاکستان پر دباو بھی ڈالا گیا۔جس میں فیٹف کا معاملہ بھی شامل ہے۔جس میں خاطر خواہ پیش رفت کے باوجود پاکستان کو ابھی تک گرے لسٹ میں جان بوجھ کر رکھا جا رہا ہے۔
مگر ابھی تک پاکستان اپنی اسی بات پر ڈٹا ہوا ہے،
ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو اپنی اس ناں کی مزید قیمت بھی چُکانا پڑے۔
قوم کو زہنی طور پر ہر چیز کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ہم پر کچھ پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں،جو ان شاءاللہ پاکستان چین جیسے دوست ملک اوراپنی بہتر حکمت عملی سے برداشت کر لے گا۔
بڑے فیصلوں کی بعض دفعہ بڑی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔
مگر کوئ بھی قیمت ستر ہزار جانوں سے زیادہ بڑی نہیں ہو سکتی۔
جو پچھلی دفعہ ہم نے غلط فیصلوں کی بدولت ادا کی۔
عمران خان حکومت نے اب تک جو بھی فیصلے کئے ہیں،وہ درست ثابت ہوۓ ہیں۔حکومت کے ہر فیصلے میں پاک فوج اسکے ساتھ کھڑی ہے،جو ہماری کامیابی کا ٹرمپ کارڈ ہے۔
افغانستان کی پیچیدہ صورتحال کی نزاکتوں کو نہ سمجھتے ہوے ترک صدر طیب اردوان نے امریکہ کے جانے کے بعد کابل کی حفاظت کی زمہ داری قبول کرنے کی جو غلطی کی۔اسے جلد ہی اسکا ادراک ہو گیا کہ اس قسم کا فیصلہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔
بحرحال خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ترکی نے اپنی اس غلطی کا احساس ہوتے ہی اسکا ازالہ کرتے ہوۓ اپنی پوزیشن کو بیک فُٹ پر کر لیا ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹے میں طیب اردوان کی عمران خان سے دو بار بات ہو چکی ہے،جو عندیہ ہے اس بات کا کہ افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرتے وقت پاکستان اور ترکی ایک پیج پر ہوں گے۔
پچھلے کچھ گھنٹوں میں جرمنی کی سربراہ اور برطانیہ کے وزیر اعظم کا عمران خان کو افغانستان کی صورتحال پر فون واضح کرتا ہے کہ پاکستان اس وقت اس تنازعے میں کتنا اہم ملک ہے۔
پاکستان میں پچھلے دو دنوں سے جشن کا سا سما ہے۔
افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائ کرنے اور سازشیں کرنے والے سابق کابل رجیم کے بڑے بڑے نا سور اس وقت تک راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔
بھارت کی ساری سرمایہ کاری،جو اس نے پاکستان کے خلاف کر رکھی تھی۔ڈُوب چکی ہے۔
بھارت میں افغانستان کی موجودہ صورتحال کو لیکر اس وقت سوگ کی سی کیفیت ہے۔
انہیں لگ رہا ہے کہ انہوں نے جو گڑھا پاکستان کے لئے کھودا ہے۔وہ اپنی بد نیتی کی وجہ سے خود ہی اس میں گر چکے ہیں۔
افغانستان سے اشرف غنی اور اسکے حواریوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ بھارت کی زبان بولی۔
وہ اتنے احسان فراموش اور نمک حرام تھے کہ یہاں تک بھول گئے کہ پاکستان کب سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کئے ہوۓ ہے،
دیگر کئی احسانات بھلا دئیے گئے،ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائ معمول تھا۔
اس سب کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا تھا،اسی لئے ان سب دشمنان پاکستان کی پسپائ پاکستانیوں کے لئے اچھی خبر لے کر آئ ہے۔
طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد امید ہے کہ ہماری افغانستان سے ملحقہ مغربی سرحد محفوظ ہو جاۓ گی۔
اس سرحد پر پاکستان بہت سی قربانیوں کے بعد باڑھ کا کام بھی مکمل کر چکا ہے۔
ماضی میں اس سرحد سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ بھی اس باڑھ اور طالبان کے اقتدار کی وجہ سے رک جاۓ گا،
جو بھارت کے لئے اضطراب کا باعث ہے۔
افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ چین،روس،ترکی،ایران،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک اسکے ساتھ ہوں،
تبھی ہم امریکہ کی ناراضگی کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل ہو سکیں گے#@lalbukhari
-
تخلیقی عمل ایک پروسز ہے ، واقعہ نہیں۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی
1666 میں ، تاریخ کے سب سے زیادہ بااثر سائنسدانوں میں سے ایک باغ میں ٹہل رہا تھا جب اسے تخلیقی چمک کا ایک جھٹکا لگا جس سے دنیا بدل جائے گی۔ ایک سیب کے درخت کے سائے میں کھڑے ہوتے ہوئے سر آئزک نیوٹن نے ایک سیب کو زمین پر گرتے دیکھا۔ نیوٹن نے حیرت سے پوچھا ، "وہ سیب ہمیشہ زمین پر کیوں گرتا ہے ؟” "وہ کنارے ، یا اوپر کی طرف کیوں نہیں جاتا ، بلکہ مسلسل زمین کے مرکز کی طرف؟ یقینا ، وجہ یہ ہے کہ ، زمین اسے کھینچتی ہے۔ مادے میں ڈرائنگ پاور ہونی چاہیے۔
اور اس طرح ، کشش ثقل کا تصور پیدا ہوا۔ گرتے ہوئے سیب کی کہانی تخلیقی لمحے کی پائیدار اور نمایاں مثال بن گئی ۔ یہ الہامی ذہانت کی علامت ہے جو آپ کے دماغ کو ان "یوریکا لمحات” کے دوران بھرتا ہے جب تخلیقی حالات ٹھیک ہوتے ہیں۔ تاہم ، زیادہ تر لوگ بھول جاتے ہیں ، یہ ہے کہ نیوٹن نے تقریبا بیس سال تک کشش ثقل کے بارے میں اپنے نظریات پر کام کیا یہاں تک کہ 1687 میں ، اس نے اپنی زمینی کتاب شائع کی ، دی پرنسپیا: قدرتی فلسفے کے ریاضی کے اصول۔ گرتا ہوا سیب محض سوچ کی ایک ٹرین کا آغاز تھا جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ نیوٹن برسوں سے ایک عظیم آئیڈیا کے ساتھ لڑنے والا واحد نہیں ہے۔ تخلیقی سوچ ہم سب کے لیے ایک عمل ہے۔ اس آرٹیکل میں ، میں تخلیقی سوچ کی سائنس کا اشتراک کروں گا ، بحث کروں گا کہ کون سے حالات تخلیقی صلاحیتوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور کون سے اس میں رکاوٹ ہیں ، اور زیادہ تخلیقی بننے کے لیے عملی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ جب آپ کی تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کی بات آتی ہے تو یہ "شخصیت کے عوامل” بالکل کیا ہیں؟ سب سے اہم اجزاء میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو اندرونی طور پر کیسے دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر ، آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کا بڑی حد تک تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ تخلیقی عمل کو فکسڈ مائنڈ سیٹ کے ساتھ رجوع کرتے ہیں یا ترقی کی ذہنیت کے ساتھ۔ ان دو ذہنیتوں کے مابین فرق کو کیرول ڈیوک کی لاجواب کتاب ، مائنڈ سیٹ: دی نیو سائیکالوجی آف کامیابی (آڈیو بوک) میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ جب ہم ایک طے شدہ ذہنیت کا استعمال کرتے ہیں تو ہم کاموں سے اس طرح رجوع کرتے ہیں جیسے ہماری صلاحیتیں اور صلاحیتیں طے شدہ اور کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہیں۔ ترقی کی ذہنیت میں ، تاہم ، ہمیں یقین ہے کہ کوششوں اور مشق سے ہماری صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اپنی کوششوں کے بارے میں کس طرح بات کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں اس کی بنیاد پر ہم خود کو ایک سمت یا دوسری سمت آسانی سے ہٹا سکتے ہیں۔ ہم کس طرح ترقی کی ذہنیت کو عملی لحاظ سے تخلیقی صلاحیتوں پر لاگو کر سکتے ہیں؟ میرے تجربے میں ، یہ ایک چیز کی طرف آتا ہے: کسی سرگرمی کا پیچھا کرتے وقت برا دیکھنے کی خواہش۔ جیسا کہ ڈویک کا کہنا ہے کہ ، ترقی کی ذہنیت نتائج سے زیادہ عمل پر مرکوز ہے۔ یہ نظریہ میں قبول کرنا آسان ہے ، لیکن عملی طور پر اس پر قائم رہنا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ اس کے ساتھ آنے والی شرمندگی یا شرمندگی سے نمٹنا نہیں چاہتے جو اکثر نئی مہارت سیکھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ غلطیوں کی فہرست جن سے آپ کبھی بھی باز نہیں آسکتے بہت مختصر ہے۔ میرے خیال میں ہم میں سے بیشتر کو کسی نہ کسی سطح پر اس کا احساس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہماری لکھی ہوئی کتاب فروخت نہیں ہوتی یا اگر ہم کسی ممکنہ تاریخ سے مسترد ہو جاتے ہیں یا جب ہم کسی کا تعارف کراتے ہیں تو ہم اس کی زندگی تباہ نہیں بلکہ اس کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ اس واقعہ کے بعد کیا آئے جو ہمیں پریشان کرے ۔ یہ بیوقوف لگنے ، ذلیل ہونے کا احساس ، یا راستے میں شرمندگی سے نمٹنے کا امکان ہے جو ہمیں بالکل شروع کرنے سے روکتا ہے۔ ترقی کی ذہنیت کو مکمل طور پر اپنانے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ، آپ کو ان جذبات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے جو اکثر ہمیں روکتے ہیں۔ دیانتدار حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیت صرف محنت ہے۔ ایک بہترین کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ اس رفتار کا انتخاب ہے جسے آپ برقرار رکھ سکتے ہیں اور مستقل بنیاد پر مواد بھیج سکتے ہیں۔ عمل کا پابند ہوں اور ایک شیڈول بنائیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقت بننے کا واحد راستہ جہاز رانی ہے۔ تخلیقی عمل ایک عمل ہے ، واقعہ نہیں۔ یہ صرف ایک یوریکا لمحہ نہیں ہے۔ آپ کو ذہنی رکاوٹوں اور اندرونی بلاکس کے ذریعے کام کرنا ہوگا۔ آپ کو جان بوجھ کر اپنے ہنر پر عمل کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ اور آپ کو سالوں تک اس عمل کے ساتھ رہنا ہوگا ، شاید نیوٹن کی طرح کئی دہائیوں تک ، تاکہ آپ اپنی تخلیقی ذہانت کو کھلتے دیکھیں۔ اس آرٹیکل کے آئیڈیاز تخلیقی ہونے کے طریقے کے بارے میں مختلف طریقے پیش کرتے ہیں ۔Twitter handle
@Maqbool_hussayn -

بھٹو سندھ کے ہر اسکول میں موجود ہے تحریر:عقیل احمد راجپوت
سندھ کا تعلیمی نظام ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بدحالی کی جانب جا رہا ہے مگر سندھ سرکار سب اچھا ہے کا نغمہ سنا رہی ہے سندھ کے اسکول اصطبل میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں مگر سائیں سرکار کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ حکمرانوں کے بچوں نے کونسا سرکاری اسکولوں میں جانا ہوتا ہے وہ تو آکسفورڈ میں پڑھ کر ہم پر حکمرانی کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور ہم جیسی عوام کو ملنے بھی ایسے ہی حکمران چاہئے کیونکہ جیسی عوام ویسے حکمران والا محاورہ بلکل درست ہی کہا ہے کسی نے سندھ نئی نسل غیر تعلیم یافتہ بڑی ہونے سے صرف حکمرانوں کو ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ جاہلیت بیروزگاری کا بہت بڑا سبب بنے گی اور پھر چوری ڈکیتی اور دہشت گردوں کو اپنے اعلیٰ کار باہر سے نہیں بھیجنے پڑیں گے کیونکہ اپنے بچوں کو بھوکا مرتا ہوا دیکھنے والا بات کسی بھی پاکستان مخالف گروہ کا آسان ہدف ہوسکتاہے پاکستان کی ترقی صوبوں کی ترقی میں پوشیدہ ہے اگر صوبے ترقی یافتہ نہیں ہونگے تو ملک کی ترقی ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں مہربانی کریں میری قوم کے معماروں کو اچھی تعلیم جو ان کا بنیادی حق ہے ان کو دینے کا مناسب بندوبست کریں تاکہ وہ اس ملک کی خدمت کر سکیں اور اپنے ماں باپ اور ملک کا نام روشن کرکے محب وطن پاکستانی کہلائیں جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب پڑھا لکھا سندھ آپکی اصل ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تھا مگر آپکی ترجیحات حکومت گرانے اور مخالفین کو بزور بازو دبانے کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتی سیاست دان ہونے کے ساتھ آپ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے بھی ہیں محترمہ کی سیاست غریبوں کے حقوق کے لئے ہوا کرتی تھی محترمہ کے چلے جانے کے بعد سندھ کے ہر سرکاری اسکول میں بھٹو تو موجود ہے مگر تعلیم نا جانے کہا کہو گئی ہے جسے سندھ کی عوام 13 سالوں سے ڈھونڈ رہے ہیں ہو سکے تو سندھ کے لوگوں کا بنیادی حق تعلیم ان کو عنایت فرمائیں اپنے وزیروں سے پچھلے 13 سالوں میں تعلیم پر خرچ ہونے والے بجٹ کی تفصیلات طلب کریں اور اس تفصیل کے بعد تعلیم کی جگہ اپنا بینک بیلنس بڑھانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم سے کم مزید تعلیمی بجٹ ہڑپ کرنے والوں کو تو روک ہی لیں کیونکہ اتنا تو آپ پارٹی کے چیئرمین ہونے کے ناطے کر ہی سکتے ہیں اور اگر آپ یہ بھی نہیں کر سکتے تو سندھ کی حکمرانی کا اپکو کوئی اختیار نہیں کیونکہ سندھ میں حکومت کرنا آپکا آئینی حق ہے تو سندھ کے شہری ہونے کے ناطے اسی آئین کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق عوام کے حق پر مارا جانے والے ڈاکے پر آواز بلند کرنا ہمارا بھی آئینی حق ہے جسے کوئی بھٹو کوئی زرداری ہم سے نہیں چھین سکتا ہم عوام کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر آواز حق بلند کرتے رہیں گے آپ زیادتیاں کرے دیکھتے ہیں حق اور باطل کی لڑائی میں فتح کس کو حاصل ہوتی ہے
-

افغانستان کی صورت حال اور پاکستان پر اثرات تحریر:: خالد عمران خان۔
افغانستان کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے بد امنی
اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ افغان باشندوں نے جہاں داؤد خان کے ہاتھوں شاہ افغان ظاہر شاہ کے اقتدار کا خاتمہ دیکھا وہیں کمیونزم کے نظریات کے حامی نور محمد ترکئی کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے جیسے سیاسی تغیرات کا سامنا کیا ۔70 کی دہائی کے اختتام میں سوویت یونین کی افغان سر زمین پر چڑھائی نے دنیا اور بالخصوص خطے کی سیاست پر گہرے نقوش ڈالے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ اور سویت یونین کے درمیان چھڑنے والی سرد جنگ نے جب دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تو پاکستان نے اپنی حمایت امریکہ کے پلڑے میں ڈال دی۔ پاکستان نے نہ صرف سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدات کیے بلکہ فوجی اتحاد نیٹو کا غیر رکنی اتحادی بھی بن گیا۔اور اس طرح پاکستان نے سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا کے لئے شروع کی جانے والی افغان جنگ میں بھرپور ساتھ دیا۔پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے سوویت یونین کی گرم پانیوں کی جانب پیش قدمی کے اندیشے کو
افغان جنگ میں حصہ لینے کی وجہ قراردیا۔ سوویت افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کی بھرپور حمایت کے ساتھ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد افغانستان میں ایک دفعہ پھر بدامنی کا نیا باب کھل گیا۔9/11
حادثے کے بعد اقوام عالم نے دنیا بھر میں دہشت گرد
کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں اپنی افواج داخل کردیں۔امریکہ نے افغانستان کی سرزمین کو امریکہ کی سالمیت کے خلاف استعمال ہونے کے مؤقف پر انحصار کرتے ہوئے نہ صرف افغانستان پرحملے کا جواز پیش کیا بلکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو اس کا سرغنہ بھی قرار دیا۔پاکستان نے ایک دفعہ پھر امریکہ کی غیر مشروط حمایت کی۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ نے پاکستان کی سالمیت پر اندوہناک اثرات ڈالے۔افغان شہریوں کی پاکستان کی جانب ہجرت اور 30 لاکھ مختلف شہروں میں آبادکاری سے سالمیت اور معیشت متاثرہوئی۔ وطن عزیزدہشت گردی جیسی آگ کی لپیٹ میں آگیا جس سے سنگین حد تک جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا وہیں ایک طویل جنگ لڑی گئ۔
گزشتہ چند برسوں میں افغانستان کے مسئلے کے فوجی حل کی ناکامی کا اندازہ لگاتے ہوئے قیام امن کے لئے مذاکرات کی ضروت محسوس کی۔اس زمن میں 2020 میں افغانستان میں قیام امن کے لئے قطر کےدارلحکومت دوحہ میں ،افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان افغانستان سے امریکی افواج کے 14 ماہ کے اندر افغان سرزمین سے انخلاء کے متعلق ماہدہ طے پایا۔گزشتہ چند ماہ میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت حال نے جنم لیا۔چندروزسے ملکی و غیر ملکی خبر رساں اداروں میں طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور 85 فیصد علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی خبریں گردش عام تھیں۔اتوار کے روزکابل پر افغان طالبان کے کنٹرول اور اشرف غنی کی اقتدار سے دست برداری سے بالاخر یہ قصہ اپنے اختتام کو پہنچا۔یہ دنیاکی سیاست میں ایک انتہائی اہم پیشرفت واقع ہوئی ہےجس سے آئندہ دنوں ميں خطے کی سیاست کے یکسر بدلنے کے امکانات ہیں ۔
تاریخ کے اوراق اس بات پرمہر ثبت ہیں کہ آخر افغانستان میں قیام امن پاکستان کی سالمیت کے لئے کس حد تک ناگزیر ہے۔علاو ازیں جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کا خواب افغانستان میں امن کے بغیر ناممکن ہے۔جغرافیائی حیثیت سے دیکھا جائے تو پاکستان قدرتی دولت سے مالامال وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرنے کا واحدذریعہ افغانستان ہے۔اس کے علاوہ پاک چین راہداری منصوبہ کی کامیابی کے لیے قیام امن مشروط ہے۔یہی وجہ ہے پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئےاپنا بھرپور کردار ادا کررہاہے۔ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر پاکستان افغان طالبان کی کابل میں حکومت کےقیام کے حمایتی کے طور پر نظر آتا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برس سے کابل میں دوستانہ حکومت کے قیام کا خواہشمند رہاہے۔تاہم ماہرین نے متعدد بار افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے اندیشے کا اظہار کیا ہے۔کلعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر نور ولی محسود کے امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے دوران پاکستان کے خلاف کھلم کھلا مخالفت باعث تشویش ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 6000 سے زائد کلعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد افغان سر زمین میں پناہ لیے بیٹھے ہیں ۔اس زمن میں پاکستان کو اپنے وسیع تر قومی مفاد کو بالاتر رکھتے ہوئے افغان طالبان جانب سے اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ ماضی میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف استعمال ہونے والی سرزمین دوبارہ اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں حالیہ تغیرات کے باعث لاکھوں مہاجرین کا سیلابی ریلہ پاکستان میں داخل ہونے کے در پے ہے اس مسئلے کا سدباب عالمی سطح پر ناگزیر ہےتاکہ ماضی کی طرح ہونے والے نقصانات سے بچا جاسکے۔
Written By: Khalid Imran Khan
Twitter ID: @KhalidImranK -
اسلامی دنیا کے مساٸل اور حل تحریر:شمسہ بتول
اسلامی دنیا دورِ جدید میں بھی بہت سے مساٸل سے گزر رہی ہے باوجود اس کے کہ اسلامی ممالک کے پاس قدرتی وساٸل کی افراط ہے لیکن ان وساٸل کا بہترین استعمال ابھی تک یقینی نہیں بنایا گیا ۔
مغرب کے معاشی نظام نے ترقی پزیر ممالک اور اسلامی ممالک کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسلامی ممالک کا حال بھی اس وقت وہی ہے جو ترقی پزیر ملکوں کا ہے۔ اسلامی ممالک کو بین لاقوامی منڈی میں اپنے ملک میں بناٸی گٸی اشیاء کو اپنے ٹریڈ مارک سے بیچنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر انہیں اس بات کی اجازت لینا ہو تو اس کے لیے انہیں بہت زیادہ کمیشن ادا کرنا پڑتا۔ آٸی۔ایم ۔ایف اور ورلڈ بینک کی بہت سی پالیسیز ایسی ہیں جو کہ ترقی پذیر ممالک اور اسلامی ممالک کی معیشت کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ اور بعض دفعہ یہ جان بوجھ کر بہت ایسی پالیسیز تشکیل دیتے ہیں جس سے حکومتوں کو گرایا جا سکا۔
آج سے 51 سال پہلے25 ستمبر 1969 اسلامی ممالک کی تنظیم وجود میں آٸی جس کا کام اسلامی مملک کی فلاح و بہبود تھا لیکن اس تنظیم کے قیام کے اتنے عرصے بعد بھی مسلمانوں کی حالت میں کوٸی بہتری نہیں آٸی۔دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1٠5 بلین ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کے پاس کوٸی ویٹو پاور نہیں ۔دیگر اقوام مسلمان قوم کو تحقیر آمیز نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
اسلامی بلاک امیر ممالک پر مشتمل ہے جیسے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور لیبیا۔ لیکن وہ اتنے فعال اور طاقتور نہیں ہیں جیسا کہ ان کے بلاک میں کسی غریب ملک کی مدد کرنے کے لیے ان کے پاس بنیادی وسائل ہیں لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں ان میں ترقی کی کمی ہے۔ ان کے پاس اربوں ڈالر ہیں جو تیل کی فروخت سے آتے ہیں ، لیکن امریکہ یا مغربی ممالک کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان ، مذکورہ اسلامی ممالک کے مقابلے میں کم وسائل والا ہے ۔اسلامی ممالک پر یہ فرض ہے کہ وہ مسلم ممالک کے عالمی مسائل میں مقابلہ کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کو بھی ترقی دیں۔
اتحاد کا فقدان مسلم ممالک کی ایک اور اہم معذوری ہے۔ وہ مختلف مسائل پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ سازش کرنے والے اور غدار ہمارے اپنے بھی ہیں۔ جو اپنے مقصد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ کشمیر کے لیے ان کے پاس متحد آواز نہیں ہے۔ فلسطین اور کشمیر عرصٸہ دراز سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان کے گھروں کو آگ لگا دی گٸی بچوں کو شہید کر دیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گٸی مگر اقوامِ متحدہ اور امن کے علمبردار دیگر ممالک خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے رہے یہاں تک کے انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں بچوں کے عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں لیکن سب سے زیادہ ان ممالک کے لیۓ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک نے بھی ان کا اس مشکل گھڑی میں ساتھ نہیں دیا۔ جبکہ کشمیر اور فلسطین پوری امت مسلمہ کا مسٸلہ ہے اور دنیا کی طرف حل طلب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے لیکن افسوس کے تمام مسلم ممالک نے اتفاق نہیں کیا اس مسٸلہ پر۔ فلسطین میں اسرائیل أور بوسنیا کی راۓ اور مطالبات میں اختلاف ہے ۔پی ایل او ، مصر اور لیبیا ہندوستان کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں ۔ فلسطین کے لیے ، مصر کا باقی عرب دنیا سے اختلاف ہے۔ عراق کویت جنگ میں ہم دونوں ممالک کو بچا نہیں سکے کیونکہ ہم ایک اُمت ہو کر بھی ٹکڑوں میں بٹے ہوے ہیں جس کا نقصان ہمارے مسمان بھاٸی بہنیں اور بچے اُٹھا رہے ہیں۔ ہمارے درمیان باہمی اتفاق اور اتحاد اور اعتماد کی شدید کمی ہے جس کا فاٸدہ ہمارے دشمن بخوبی اُٹھا رہے ہیں۔
امت مسلمہ کا اتحاد اپنی آزادی ، ترقی ، استحکام ، بقاء کو برقرار رکھنے اور اپنی سابقہ شان و شوکت اور وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے ۔ وہ تمام رکاوٹیں جو مسلم اتحاد کی راہ میں حائل ہیں ہمیں ان رکاوٹوں کا تدارک کرنا ہو گا اور باہمی اتحاد سے ان رکاوٹوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانا ہو گا ہمارے پاس وساٸل ٹیلنٹ اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل موجود ہے ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو آپسی اتفاق اور بھاٸی چارے کی۔ مسلم دنیا اس کمی کو ختم کرنا ہو گااور مل جل کر اپنے تمام تر وسائل کو بہتر طریقے سے بروۓ کار لانا ہو گا۔ بین الاقوامی منڈی میں اپنی تجارت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ مسلم دنیا کے اپنے مالیاتی ادارے ، دفاعی پیداواری یونٹ ، فلاحی تنظیمیں ، چارٹر وغیرہ ہونا بہت ضروری ہے ۔مسلمانوں کو کسی بھی فریق کے خلاف ہدایت نہیں دی جاتی لیکن پھر بھی دنیا ان کے لیے دہشتگرد اور انتہا پسند جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مسلمان ممالک متاثر ہوۓ اور سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دیں۔ اگر مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و اعتماد پیدا کر لیں تو مسلمان نہ صرف ایک عظیم قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھریں گے بلکہ دنیا سے استحصال ، ناانصافی ، جہالت ، ظلم ، اندھیرے ، ناامیدی وغیرہ کو بھی دور کر دیں گے۔ ان کا اتحاد قوموں کے اتحاد میں ان کا درجہ بلند کرے گا.تمام اسلامی ممالک کے سر براہان کو آپس میں اور اپنی قوموں کے درمیان اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہو گا تا کہ ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ بحال کر سکیں۔@b786_s