Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کامیابی کے اصول تحریر: نوید خان

    کامیابی کے اصول تحریر: نوید خان

    کامیابی دراصل بہت خوش رہنا خوب مُسکرانہ
    ذہین لوگوں میں اپنی جگہ بنانا بچوں میں اپنی محبت جگانا
    لوگوں میں موجود بہترین صلاحیتوں کو ڈھونڈنا
    خوبصورتی کو سراہنا
    آسانیاں پیدا کرنا
    دنیا کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑنا
    معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کا نام ہے۔

    ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار قسمت کو ٹہراتے ہیں
    حالاکہ قسمت کا ہماری ناکامی میں قصور
    اور ہماری کامیابی میں کردار بہت کم حد تک ہوتا ہے
    جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہماری کامیابی یا پھر ناکامی میں قسمت کا نمبر 23واں ہے

    میری نظر میں کامیابی کا صرف ایک ہی فارمولہ ہے
    بار بار کوشش کرنا۔۔۔۔۔۔
    جی ہاں کامیاب ہونے کے لئے بار بار کوشش کیجئے ایک نہ ایک دن آپ ضرور کامیاب ہو جاؤ گے
    اور کبھی ہمت مت ہاریں

    چٹانوں کا کٹ جانا دریا کی طاقت نہیں بلکہ اس کی روانی و استقامت کی وجہ سے ہوتا ہے
    یہ2چیزوں کو ظاہر کرتی ہیں
    نمبر 1 بار بار کوشش
    نمبر 2 مستقل مزاجی

    مستقل مزاجی دراصل کسی ایک سمت کسی ایک فیصلے یا پھر کسی ایک idea پر ڈٹ جانے کو کہتے ہیں
    مستقل مزاج لوگ زندگی کا مقصد بھی جلد حاصل کرلیتے ہیں کہ اصل میں انہیں کرنا کیا ھے اور انہیں زندگی میں کیا بننا ہے

    مجھے اپنے استاد معروف کالم نگار اور صحافی محترم جاوید چوہدری صاحب کا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے بہت خوبصورت باتیں کہیں

    انہوں نے کہا اگر آپ محنتی ہے تو آپ ٪30 کامیاب ہے
    اور اگر آپ ایماندار ہے تو آپ ٪ 50 مزید کامیاب ہے
    ایماندار ہونے سے مراد سچا، اپنے قول کا پکا اور وعدہ وفا کرنے والا شخص!
    اور آپکو Skills، ہنر یا پھر پروفیشن ٪20 کامیاب کرتی ہے
    ہر کامیاب انسان نے اُس کامیابی کی قیمت چکا کر ہی وہ کامیابی حاصل کی ہوتی ہے
    اور پھر ایسے ملک میں جہاں بہت محدود وسائل اور مواقع ملتے ہیں کامیاب ہونے کے لئے تو
    اگر کوئی کامیاب ہے یا پھر ہو رہا ہے ہمیں اُسکی کامیابی کو کھلے دل سے سراہنا چاہیے۔۔

    کیونکہ ہر کامیاب انسان اپنے ساتھ بہت سارے لوگوں کو کامیاب کرتا ہے یا پھر بہت سارے لوگوں کو کامیابی کا راستہ دے جاتا ہے۔

    یہ دنیا ایسے لوگوں کو بھلا دیتی ہے جو اس دنیا کے لئے اہم نہیں ہوتے
    اور اس دنیا کے لئے اہم صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی جان مال اور وقت لگاتے ہیں کیونکہ اصل جینا دراصل دوسروں کے لئے جینا ہے۔
    بہت سارے کامیاب لوگ اتنی مصروف زندگی گزار رہے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کسی کی رہنمائی کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ان میں کچھ لوگ یہ راز ہی نہیں بتاتے شاہد اس ڈر سے کہ دوسرے اُن کی جگہ نہ لے لیں حالاکہ حقیقت اس سے مختلف ہے کسی کو راستہ دینے سے آپکا بھی راستہ صاف ہوتا ہے۔
    کامیاب لوگوں کو کچھ وقت دوسروں کی صلاحیتوں کو ڈھونڈنے اور پھر اُن صلاحیتوں کو کامیابی کی راہ پر ڈالنے کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
    ایک ستائیس سالہ نو عمر انسان نے صرف اپنی ہائی سکول کی تعلیم کے ساتھ، ایک مختصر سی مدت میں بہت کچھ حاصل کر لیا۔یہی انسان صرف تین سال پہلے اپنی ذاتی بائیک تک نہیں رکھتا تھا اور اب ایک صحت مند، سماجی عزت و احترام اور لامحدود کامیابی کا حامل ایک امیر کاروباری ہے۔
    یہ سب نا قابلِ یقین لگ رہا ہے اور سب سے حیرت انگیز احساس یہ ہے کہ وہ انسان کوئ اور نہیں بلکہ میں خود ہوں اور یہ میری کہانی ہے۔
    میرا ہرگز یہ مطلب نہیں میری زندگی کامیابیوں کی انتہا ہے۔ظاہر ہے ہم سب کے اپنے کچھ خواب ہوتے ہیں اور کچھ نظریات ہوتے ہیں، جنہیں ہم اپنی زندگی میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔
    اس لئے ہمیں اپنے خواب پورے کرنے کے لئے آج سے شُروات کرنی چاہیے۔
    تاکہ ہمارے خواب جلد از جلد پورے ہو۔۔

    Handle ‎@Naveedmarwat55

  • اسلام کے دشمن ___تاریخ کے جھروکوں سےتحریر: حادیہ سرور


    ظلم کر رہے ہیں وہ اور مجرم ہیں وہ جو پاکستان کی نٸی نسل کو شیواجی کے بارے میں نہیں بتاتے ۔۔۔۔
    ماضی میں ممبٸ میں جو کچھ ہوا, اسکی ذمہ داری بغیر کسی ثبوت کے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر ڈالنا کوٸی نٸ بات نہیں لیکن افسوس! اگر نوے فیصد طالبعلم ان سکولوں میں ہونگے جن میں چھتیں ہیں نہ استاد اور دس فیصد طالبعلم ان سکولوں میں پڑھیں گے جنکے نصاب کیمرج اور آکسفورڈ میں تیار کیے جاتے ہیں تو ہندو کی نفسیات سے کون آگاہ ہو گا!!!
    ممبٸی سے ایک سو کلو میٹر مشرق کی طرف شیوناری کے مقام پر شیواجی1627 میں پیداہوا۔ اسکے باپ شاہ جی نے ایک نوجوان لڑکی توکاباٸی سے شادی کرکے پہلی بیوی جیحاباٸی سے علیحدگی اختیارکر لی۔ شیواجی, جیحاباٸی کے پاس ہی رہا۔ اسکی پرورش کی ذمہ داری اسکے باپ نے ایک کٹڑ ہندو سردار داداجی پر ڈالی جس نے شیوا جی کو بھیس بدلنے سے لیکر شب خون مارنے تک ہر فریب دہی سکھاٸی اور مسلم دشمنی اسکی رگ رگ میں بیٹھا دی۔ سولہ سال کی عمر میں شیواجی نے ڈاکوں کے جتھوں میں شرکت کی اور مار دھاڑ سے ہوتا ہوا قلعوں کو فتح کرنے لگا۔ بیجاپور کے سلطان عادل شاہ کو اس نے لکھا کہ جہاں پناہ! یہ سب کچھ میں آپ کے غلام کی حثیت سے کررہا ہوں اور باج گزار ہوں لیکن ساتھ ہی شیواجی نے اپنی مہر بطور حاکم استعمال کرنا شروع کی۔پھر ایک وقت آیا شیواجی نے مغل علاقوں پر حملے شروع کر دیے۔ شہزادہ اورنگزیب دکن کا گورنر تھا مغل فوجیں اسکو ختم کرنے کے قریب تھیں کہ اس نے پینترا بدلا اور شہزادے کی خدمت میں ایلچی بھیج کر اپنی غلامی کا یقین دلایا۔ اورنگزیب تخت نشینی کی جنگ میں پھنسا ہوا تھا اس نے اسے معاف کیا لیکن جانتا تھا کہ یہ بد خصلت قابل اعتبار نہیں ہے۔ ایک موقع پر اورنگزیب نے اسکے بارے میں کہا
    ”یہ پہاڑی چوہا مغل سلطنت کے کناروں پر منہ مارتا رہے گا یہ سگ زادہ انتظار کرہا ہے“ سگ زادہ انتظار کرتا رہا پھر ایک ریاست قاٸم کر لی۔ اب بیجاپور کے سلطان عادل شاہ کو احساس ہوا کہ پانی سر سے گزر چکا ہےتو اس نے اپنے نامور جرنیل افضل خان کو اسکی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ افضل خان نے اسکی فوج اور نومولود ریاست کے پرخچے اڑا دیےاورشیوا جی پر تاب گڑھ کے قلعے کی طرف پسپا ہو گیا۔ یہاں سے اس نے افضل خان کو پیغام بھیجا کہ افضل خان جیسے جرنیل کے سامنے آخر اسکی حیثیت کیا ہے وہ ہتھیار ڈالنا چاہتا ہے لیکن اسے یقین دلایا جاٸے کہ اسے معاف کردیا جاٸے گا۔افضل خان اسکی عاجزی کے جال میں آگیا۔

    یہ وہ نکتہ ہے جو پاکستان کی نٸی نسل کے لیے سمجھنا لازم ہے اگر وہ یہ نہ سمجھ پاٸے ہندو مکار ہے اگر انہیں یہ نہیں معلوم کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام کا محاورہ بنانے والے الو نہیں تھے تو یہ ہمیشہ ہندوٶں کے فریب میں آتے رہیں گے۔ مسلمان دھوکہ نہیں دیتا لیکن دھوکہ کھانا بھی تو نہیں چاہٸے
    افضل خان کی خوش نیتی دیکھیے کہ شیوا جی کو معاف کیا اور اپنا ایلچی گوپی ناتھ نامی برہمن کو بھیجا جسے شیوا جی نے یقین دلایا کہ وہ یہ سب کچھ ھندودھرم کے لیے کر رہا ہے اور اسے تحاٸف سے نوازا۔ دونوں نے دیوی کی قسم کھاٸی ۔ واپس جاکر گوپی ناتھ نے بتایا شیواجی تو خوف کے مارے کانپ رہا ہے اسے ملاقات کا شرف بخشا جاٸے ۔ ملاقات میں شیواجی نے زہرآلود خنجر سے وار کرکے جان لے لی۔
    پاکستان افضل خان ہے شیوا جی بھارت ہے آپ ایٹمی ہتھیاروں سے ہلاک کریں گے لیکن ہندو تو خوف کے مارے تھر تھر کانپتا ہے,آپ کے گھٹنوں کو چھوتا ہے, پاٶں کے تلوے چاٹتا ہے, پھر جب آپ کو اونگھ آجاتی ہے تو آستین سے خنجر نکالتا ہے پھر وہ سفارتکاری کے میدان میں اتنی چابک دستی دکھاتا ہے یوں سسکارے بھرتا ہے کہ دنیا اسے مظلوم اور آپ کو ظالم سمجھتی ہے لیکن تب تک چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں اور کشمیر میں ظلم و ستم شروع ہو چکا ہوتا ہے ۔ ضمیر جعفری نے اسے یوں بیان کیا!
    سچ کہتا تھا افضل خان
    تری پورہ تا راجستان
    مر گیا ہندو میں انسان

    ‎@iitx_Hadii

  • افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان میں ذلت آمیز شکست ۔ جو کہتے تھے پتھروں کے دور میں دھیکل دیں گے ہوئے ذلیل ورسوا !!!

    افغانستان کے حوالے سے اتنی خبریں ہیں کہ ہر پانچ منٹ بعد خبر پرانی ہو جاتی ہے ۔ ہاں البتہ ایک قدر ان خبروں میں مشترک ہے کہ یہ خبریں اشرف غنی ، مودی اور جوبائیڈن کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

    ۔ اشرف غنی کے گرد تو ویسے ہی گھیرا روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے ۔ پر اب تو امریکہ کو بھی لالے پڑے ہوئے ہیں کہ پتہ نہیں جب طالبان کابل پر قبضہ کریں گے تو کابل میں اس کے سفارت خانے کا کیا حشر کیا جائے گا ۔ مودی کی بات کی جائے تو بھارت کی تنصیبات اور جنگی آلات سمیٹے اور لپیٹے جا رہے ہیں۔ کہیں ہیلی کاپٹر تو کہیں بھارت کے جنگی جہاز طالبان قبضے میں لے رہے ہیں ۔ اب اس غم میں امریکہ ہو یا بھارت یا پھر ان کی کٹھ پتلی غنی حکومت سب پاکستان کو مودر الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ ہمارے وجہ سے یہ افغانستان میں رسوا ہوگئے ذلیل وخوار ہوگئے ۔

    ۔ ایک لمحے کے لیے چلیں ایسا مان بھی لیں تو پھر بھی امریکہ ، بھارت اور نیٹو ممالک کو ڈوب مرنا چاہیئے کہ پاکستان ہاتھوں دنیا کی سپر پاورز کو شکست ہوگی ۔۔ سی آئی اے ، ایم آئی 6 ، موساد ، را ۔۔۔۔ ان سب ایجنسیوں کو بھی ڈوب مرنا چاہیئے اگر ایسا ہے تو ۔۔ ان تمام ممالک کی فوج کو بھی چوڑیاں پہنچ لینی چاہیئے ۔ اور ان تمام فرسٹ ورلڈ ممالک کی عوام کو اپنی حکومت کو گریبان سے پکڑ لینا چاہیے کہ انھوں نے ہم کو دنیا میں بدنام کروا دیا ۔۔ کہ بیس سالہ جنگ ، 2.3ٹریلین ڈالرز اور دو لاکھ چالیس ہزار ہلاکتوں کے باوجود افغان حکومت بیس دن بھی طالبان کے سامنے نہ کھڑی ہوسکی ۔

    ۔ اور اگر اس سب کے پیچھے پاکستان ہے تو پھر امریکہ سمیت اس کے تمام حواریوں کو کسی صورت سپر پاور رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے ۔ جو ایک ملک کی سازش کی وجہ سے ٹریلین ڈالر خرچ کر، بیس سال لگا کر بھی جنگ نہیں جیت سکے ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ سب مغربی میڈیا کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اور اپنی شکست کو مان لینے کی بجائے ۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی ایک مذموم سازش ہے ۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ جو ٹریلین ڈالر افغانستان میں لگا کر گیا ہے وہ سب ہوا ہو چکا ہے ۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جو افغان فورسز کو ٹریننگ دی ۔ وہ ایسی ہے کہ وہ صرف سرنڈر کرنا جانتے ہیں ۔ ابھی تک تین لاکھ تو دور کی بات کسی بھی جگہ تین ہزار افغان فوجی بھی طالبان کا سامنا کرتے دیکھائی نہیں دیے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ افغان حکومت اور افغان فوج کرپشن میں نمبرون ہے ۔ جو اسلحہ اور پیسہ ان کو ملتا تھا ۔ وہ افغان فوج تک پہنچتا ہی نہیں تھا ۔ یہ بابر سے باہر ہی بیچ دیا کرتے تھے ۔ اب وہ طالبان کے پاس جاتا تھا کہاں جاتا تھا یہ کام سی آئی اے کا تھا وہ پتہ لگاتی ۔کہ americi tax payerکا پیسہ کہاں غائب ہورہا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ طالبان جس بھی شہر جا رہے ہیں کوئی مذمت ہوہی نہیں رہی ہے ۔ اشرف غنی حکومت کے گورنر یا تو دوسرے ملکوں میں بھاگ رہے ہیں یا پھر طالبان سے معاہدے کررہے ہیں اور جان بخشی کروا رہے ہیں۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ افغان طالبان نے بڑے شہروں پر قبضہ کیا تو مزاحمت ہی نہ ہوئی اور ان کی مقامی انتظامیہ یہ کہتے ہوئے بری الذمہ ہوتی گئی کہ علاقے کے معززین نے خون ریزی سے بچنے کیلئے فوج ہٹانے کی درخواست کی تھی جو قبول کر لی گئی۔ ۔ پھر افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ تو ملک سے فرار ہوئے ہی ہیں ۔ یہاں تک وہ احسان فراموش نائب صدر امراللہ صالح جیسے لوگ جو صبح شام پاکستان کے خلاف غلاظت بکتے تھے ۔ اب وہ بھی دم دبا کر کابل سے بھاگ چکے ہیں ۔ اب اطلاعات ہیں کہ وہ تاجکستان سے بیٹھ کر ویڈیو پیغام میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ یعنی جلتے ہوئے جہاز سے جیسے چوہے نکل نکل کر بھاگتے ہیں وہ صورتحال بنی ہوئی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہر شہر میں طالبان کا استقبال کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرپٹ افغان حکومت سے لوگ تنگ تھے ۔ افغان صحافی ہیں bilal sarwayانھوں نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان ہرات کی 207ظفر کارپس میں مہمانوں کی طرح داخل ہوئے ، چائے پی ، قبائلی عمائدین ساتھ تھے ۔ ایک بھی گولی نہیں چلی اور سب نے سرنڈر کر دیا ۔۔ اس صورتحال میں مغرب اور بھارت گھبراہٹ میں اپنے لوگوں کو تو افغانستان سے نکال ہی رہے ہیں ۔ ساتھ ہی مغربی میڈیا اور بھارتی میڈیا بھی بوکھلاہٹ کا شکار دیکھائی دیتا ہے ۔ ایک ایسے انجانے خوف کا شکار دیکھائی دیتا ہے کہ طالبان جب آئیں گے تو پتہ نہیں کیا کریں گے ۔ اب اس ڈر میں وہ مفروضوں پر مبنی ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کیا جائے ۔ اب دو خبریں ہیں ایک کہ طالبان کی تیز پیش قدمی کے پیش نظر امریکہ نے تین ہزار اہلکار افغانستا ن بھیجنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ ان تمام اہلکاروں کو اگلے24سے 48 گھنٹوں کے دوران کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر تعینات کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی اگر افغانستان میں ایئر پورٹ کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہوئی تو ایک انفینٹری بریگیڈ کویت میں بھی تعینات کیا جائے گا ۔ جبکہ امریکی فوج اور ایئر فورس کا ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ یونٹ قطر میں بھی تعینات کیا جائے گا۔

    ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آسان الفاظ میں یہ سمجھیں کہ امریکہ اور طالبان کا معاہدہ ختم ۔ مجھے فی الحال اس خبر کی خبریت پر شک ہے ۔ کیونکہ امریکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ہاں اشرف غنی اور بھارت کو وقتی خوشی اور حوصلہ دینے کے لیے یہ خبر ٹھیک لگتی ہے ۔ یا کیا پتہ امریکہ اشرف غنی کو تسلی دینے کی کوشش کی ہو کہ ڈٹے رہو اور مرتے رہو ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اور سیکرٹری آف ڈیفنس نے اشرف غنی سے بات کی ہے کہ وہ مستعفی ہوں تاکہ طالبان کو مذاکرات کے لیے راضی کیا جا سکے ۔

    ۔ تو جس چیز سے میں آغاز کیا تھا کہ گروانڈ پر تو امریکہ ، بھارت ، نیٹو اور تمام اتحادی ممالک افغانستان میں ہار چکے ہیں اور اب صرف ایک بیانیے کی جنگ جاری ہے ۔ اور ان سب کا مودا ایک ہی ہے کہ افغان جنگ ہاری ہے تو پاکستان کی وجہ سے ۔۔۔ یہ سب ایک ڈھکوسلا ہے ۔ فریب ہے ، دھوکہ ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے ۔۔ صورتحال یہ ہے کہ طالبان مزید پانچ صوبائی دارالحکومتوں غزنی، ہرات،قلعہ نو ،لشکر گاہ اور قندھار پر قبضہ کرچکے ہیں ۔ ۔ بغیر مزاحمت پسپائی پر افغان حکومت نے غزنی کے اپنے ہی گورنر محمد داؤد لغمانی کو کابل آتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے ۔ افغانستان کا تیسرا بڑا شہر اور صوبائی دارالحکومت ہرات بھی طالبان کے قبضے میں ہے ۔ طالبان ٹوٹل انیس کے قریب صوبوں پر قبضہ کر چکےہیں ۔

    ۔ حالات یہاں تک بگڑ چکے ہیں کہ صدر اشرف غنی نے دارالحکومت کابل کو بچانے کیلئے خطے کے ممالک اور غیرقانونی مسلح ملیشیا گروپوں سے بھی التجا کر رہے ہیں۔ کہ آؤ اور ہماری مدد کر دو ۔ ۔ اس وقت افغان حکومت ، امریکہ اور بھارت کے لیے ہر چیز الٹ سمت میں جا رہی ہے اور طالبان امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ افغانستان پر قابض ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی روکنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔۔ شمال سے مغرب ہر طرف آپکو طالبان کا ہی جھنڈا دیکھائی دے گا ۔ یہاں تک اسماعیل خان جیسے وار لارڈ بھی طالبان کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور سرنڈر کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ افغان فوج کی پسپائی کے مناظر کو دیکھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر وہ تحریک نہیں۔وہ جذبہ نہیں۔ جو طالبان کے جذبے کا مقابلہ کر سکے۔ ۔ افغان فوجی مرنا نہیں چاہتے ۔ طالبان کو دیکھتے ہی دوڑیں لگا دیتے ہیں۔ یہ بات ہے بھی بالکل درست ۔ آخر کیوں وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلی حکومت کیلئے اپنی جان کی قربانی دیں۔

    ۔ عجیب بات ہے کہ صدر اشرف غنی تین لاکھ پچاس ہزار فوجیوں پر مشتمل طاقت کے ہوتے ہوئے پرانے وارلارڈز سے التجائیں کر رہے ہیں کہ میدان میں اتریں اور حکومت کو بچائیں۔ وہ عوام میں بھی جہاں ممکن ہے۔ اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں اور تلقین فرما رہے ہیں کہ طالبان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج وہ بھی مغربی طاقتوں کی تربیت یافتہ اور ان کی مسلح کردہ کہاں گئی؟ ۔ مغربی سٹریٹجک منصوبہ سازوں، دفاعی مفکروں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے دانشوروں کو یہ چیزیں اور سوالات اپنی حکومتوں سے پوچھنے چاہیئے ۔ نہ کہ ہم کو موردالزام ٹہرانا چاہیئے ۔۔ ان کو پوچھنا چاہیے کہ بیس سالہ مغربی جنگ نے افغانستان میں کتنے لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا؟

    ۔ چلیں لاکھوں افغانوں کی ہلاکت کی خبروں کی صداقت پرشک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خود امریکی ذرائع چالیس ہزار طالبان کو موت کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ رات کو دیہاتیوں کے گھروں میں گھس کر حملہ کرنے اور چادر و چاردیواری کی روایتی حرمت کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو کیا افغان بھول پائیں گے؟ ۔ اور کیا کابل میں متعین امریکہ کے اشاروں پہ ناچنے والوں کو افغانستان میں خون خرابے کا ذمہ دار قرار نہیں دیں گے؟ ۔ میرے خیال سے افغان حکومت کو بات اس وقت سمجھ آ جانی چاہئے تھی جب صدر ٹرمپ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ خود براہ راست طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ کابل کی طرف سے سہما سا احتجاج اور درخواستیں کہ دیکھیں ۔۔۔۔ہمارا کیا بنے گا۔ امریکہ کے فیصلے کو تبدیل نہ کر سکے۔

    ۔ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ صدر اشرف غنی کو ملا۔ وہ بھی تو طالبان سے بات چیت کو معنی خیز بنا سکتے تھے۔ پر اقتدار کی خواہش اندھا کردیتی ہے۔ آخری وقت تک لڑنے کی جرأتمندی کے بیکار نعرے گھڑنے سے زمینی طاقت کا توازن تو نہیں بگاڑا جا سکتا۔

    ۔ امن معاہدہ ہو یا طالبان کابل کا گھیرائو کرکے دبائو ڈالیں۔ لکھ لیں اشرف غنی کو امریکہ میں پناہ لینا ہی پڑے گی۔ جیسے ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوج کے حامی جہازوں میں لاد کر امریکہ اور دیگر ملکوں میں لائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کسی دن سنیں گے کہ صدر غنی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

  • تبدیلی ممکن نہیں تحریر: نعیم عباس

    تبدیلی ممکن نہیں تحریر: نعیم عباس

    پاکستان میں بس ووٹ ڈالنے پر زور ہے۔ چاہے الیکشن وکلاء بار کے ہو۔ انجنئیرنگ کونسل کے ہو۔
    پریس کلب کے ہو۔ اساتذہ اور پرفیسر تنظیموں کے ہو۔ مزدورو کے ہو۔ پیرا میڈیکل کے ہو۔ پی ایم ایس کے ہو۔ تاجروں کے ہو۔ یا چاہے ملک کے جنرل الیکشن ہو۔ کوئی بھی الیکشن کبھی فیئر نہیں ہوئے ہیں۔ کوئی بھی الیکشن کبھی میرٹ۔ اہلیت۔ پر نہیں لڑے گئے ہیں ۔ ووٹ کبھی منشور یا پروگرام کو نہیں دیئے گئے ہیں ۔ ان سب مذکورہ بالا الیکشن میں سارہ زور ووٹ چھینے پر ہوتا ہے۔ چاہے خرید کر یا ورغلا پھسلا کر حاصل کیا جا سکے۔اور جیتا جا سکے۔ ووٹ ھمیشہ پروپیگنڈے کو ڈالے گئے ہیں۔ پروپیگنڈے کو ھمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل رہی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے کندھے کے بغیر تو مذکورہ بالا الیکشن لڑنے والے اپنے امیدوار تک فائنل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پاکستان جیسے ممالک میں ووٹ اور جمہوریت کے نام پر بندر نچانے والے ڈرامے ہجوم اکٹھا کرنے کے لئے اور اپنا چو کر بھیجنے کا ڈرامے گذشتہ کئی دہائیو ں سے بڑے کامیابی کے ساتھ کھیلتے آ رہے ہیں۔ ظلم ۔ غربت۔ بنیادی حقوق سے دوری اور محرومی۔ ایسے الیکشن لڑنے کی وجہ سے ہی ہے۔ کیا وکلاء الیکشن سے نظام انصاف کی سرجری ممکن ہوئی ہے یا اس سے زہم ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ کیا انجینئرنگ کونسل کی الیکشن سے پراجیکٹس معیار اور مقدار کے مطابق بہتر ہوئے ہیں۔ کمشن کا خاتمہ ہوآ ہے۔ روزگار کا انقلاب آیا ہے۔ انجینئرز۔ ٹھکیدار اور دلالوں کے مابین گھٹ جوڑ میں فرق آیا ہے اور ان سب کے ضمیر جاگ گئے ہیں۔ کیا کبھی پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے الیکشن سے نوٹ کے بجائے عوام کے درد کو فوقیت ملی ہے۔ کیا اخباروں کے پیٹ غیر جانبداری اور حقائق کی خبروں سے بھرے ہوئے ہے۔ کیا اس سے مظلوم کی داد رسی ممکن ہوئی ہے۔ کیا اساتذہ اور پروفیسرز کے الیکشن سے تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بہار آئی ہے۔ طلباء کی تربیت میں انقلاب آہے۔ تعلیمی نظام پر والدین کی نظام تعلیم پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ کوچنگ سنٹر۔ اکیڈمیوں ۔ ٹیوشن سنٹروں کا خاتمہ ہوا ہے کیونکہ اب الیکشن سے اساتذہ اور پروفیسر ایماندری کے ساتھ پڑھانا شروع کیا ہے۔ کیا پیرا میڈیکل اور مزدوروں کے الیکشن سے مریضوں اور مزدوروں کو درپیش مسائل یک دم غائب ہوگئے ہے۔ تاجروں کے الیکشن سے مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ہوا ہے۔ ملاوٹ اور جھوٹ. کو شکست ہوئی ہے۔ ذخیرہ اندازی سے توبہ کیا ہے۔ جنرل الیکشن میں سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اندر عوام کے حقیقی نمائندے پہچ گئے ہیں جمہوری نظام اور جمہوریت سے ہر طرف خوشحالی۔ ہریالی۔ ہے۔ عوام پر کرامات برس رہی ہیں دیگر تمام ادارے جمہوریت کے سائے میں مضبوط ہو رہے ہیں۔ عوام چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ ان تمام الیکشن کے نتیجے میں ایسا کچھ بھی اس وقت تک ہونے والا نہیں جب تک الیکشن اور ووٹ کا استعمال میرٹ پر نہیں بنایا جاتا۔ جب تک ووٹ اور الیکشن پراسس پروگرام اور اس پروگرام کی سخت اختساب کے روشنی میں نہیں ڈالے جاتے ۔ مسائل کم ہونے ۔حل ہونے کی بجائے سنگین ہوتے جائینگے۔ موجودہ نظام کے تمام بیماریوں ۔ خرابیوں ۔ آفتوں ۔ محرومیوں اسباب ان نام نہاد الیکشن کی وجہ سے ہی ہے ۔ الیکشن کے ٹوپی ڈرامہ سے اور اسکے نتیجے میں کسی بھی قسم کے نظام حکومت سے تبدیلی ممکن نہیں۔
    ‎@ZaiNi_Khan_NAK

  • انسانیت تحریر: سیدہ بنت زینب

    انسانیت تحریر: سیدہ بنت زینب

    انسانیت کی تعریف انسان ہونے کے معیار سے کی جا سکتی ہے. انسان کی عجیب و غریب اور منفرد فطرت، جس سے وہ دوسری مخلوقات سے ممتاز اور افضل ٹھہرایا گیا ہے. انسان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک فرد انسانیت رکھتا ہے.
    اگر آپ کسی فرد میں انسانیت کے معیار کو سمجھنا چاہتے ہیں تو نوٹ کریں کہ وہ ان لوگوں کے لیے کیا کرتا ہے جو ان کے پیش کردہ احسان کے بدلے اچھائی واپس دیتے ہیں.
    ایک انسان میں غیر معمولی انسانیت کی سب سے نمایاں مثال عبدالستار ایدھی نے خوبصورتی سے پیش کی ہے. انسانیت سے مراد جب بھی اور جہاں بھی ممکن ہو دوسروں کی دیکھ بھال اور مدد کی جائے. اس کا مطلب ہے دوسروں کی اس وقت مدد کرنا جب انہیں سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہو. یہ اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں اپنے مفادات کو بھولنے میں مدد ملتی ہے جب دوسروں کو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اللّٰہ نے ہمیں ان کی مدد کے لیے خاص طور پر چنا ہوتا ہے.
    ہم سب انسانیت دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. یہ صرف تسلیم کرنے سے ہو سکتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں، چاہے وہ کسی بھی جنس، ذات پات، جلد کا رنگ یا نسل اس سب سے بالاتر ہو کر سب انسانوں کو ایک جیسا سمجھا اور مانا جائے. ہم سب کو حقیقی ہمدردی کا نمونہ بنانا چاہیے اور ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور احترام اور عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے.
    انسانیت کا مطلب زمین پر موجود ہر جاندار کے لیے غیر مشروط محبت کو بڑھانا ہے. غریبوں اور معذوروں کی خدمت انسانیت کی سب سے بڑی مدد ہے جو ایک فرد اپنی زندگی میں مہیا کر سکتا ہے. اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ہم انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ہر وہ چیز جو ہم چاہتے ہیں وہ کسی بھی وقت ہمیں ملتی ہے.
    اگر کھانا اور تفریح ​​کرنا صرف یہی وہ کام ہے جو ہم کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں تو ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جانور بھی ذندہ رہنے کے لیے ایسی سرگرمی کر سکتے ہیں. اگر خدا نے ہمیں انسان بنایا ہے تو اس کے پیچھے کوئی وجہ ہونی چاہیے.
    صرف انسان ہی انسانیت کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے اور یہ ذہانت کے نتیجے میں انسانیت ہے جو دراصل انسانی وجود کو بنیادی جوہر دیتی ہے. انسانی سرگرمیوں میں حصہ ڈالنے کے لیے آپ کو بھاری بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہوگی. اپنی گھریلو مدد کو مناسب طریقے سے ادا کرنا بھی انسانیت ہے. آپ اپنے میڈیکل چیک اپ کے لیے ہزاروں روپے ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن جب اپنے ملازم کو ادائیگی کی بات آتی ہے آپ ہر پیسہ بچانا چاہتے ہیں. ایسا کرنا اپنے ملازمین پر ظلم کرنے جیسا ہے.
    انسانیت کے لیے آپ سب کو کوئی بھاری عطیات کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر کے انسانیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں. ایک بوڑھی عورت کا بھاری بیگ اٹھانا انسانیت ہے، معذور کو سڑک پار کروانے میں مدد کرنا بھی انسانیت ہے، اپنی ماں کو کام کرنے میں مدد دینا انسانیت ہے. درحقیقت ضرورت مندوں کی مدد کرنا انسانیت ہے.
    آج کے کرونا جیسے مشکل حالات میں سید اقرار الحسن اور ٹیم سرعام کے جانباز انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے جو تاریخ رقم کر رہے ہیں وہ قابلِ ذکر ہے. کسی ضرورت مند تک راشن پہچانا ہو یاں اپنا خون عطیہ کر کے کسی کی جان بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز پورے ملک میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں. اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو بھی انسانیت کی خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائیں آمین.
    پاکستان ذندہ باد

    ‎@BinteZainab33

  • سیاست میں نوجوان نسل اور ان کو درپیش مسائل  تحریر : اسامہ خان

    سیاست میں نوجوان نسل اور ان کو درپیش مسائل تحریر : اسامہ خان

    جب سے پاکستان بنا ہے اور پاکستان میں سیاست شروع ہوئی ہے تو اس میں نوجوان نسل کا بہت بڑا کردار ہے لیکن ہمیشہ نوجوان نسل کو سیاستدان اپنے الیکشن کے لیے استعمال کر کے ایسے پھینکتے تھے جیسے کوئی ٹشو پیپر کو پھینکتے ہیں۔ بعد میں ان کے مسائل کا حل نہیں کیا جاتا تھا اور نوجوان طبقہ ایسے ہی برباد ہو رہا تھا لیکن جب پاکستان تحریک انصاف بنی انہوں نے سب سے پہلے نوجوانوں کے لئے اقدامات کیے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور ہمیشہ ان کے ساتھ چلے صرف اپنے مفاد کے لئے ان کو استعمال نہیں کیا جب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی نوجوان طبقے کو ہمیشہ اپنی نظر میں رکھا گیا۔ اور جب سن دو ہزار اٹھارہ میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان صاحب وزیراعظم ملک پاکستان کے بنے تو انہوں نے نوجوان نسل کے لئے سوچنا نہیں چھوڑا اور نہ ہی انہیں پچھلی حکومتوں کی طرح اکیلا چھوڑا نوجوان نسل کے لئے کامیاب جوان پروگرام شروع کیا گیا جس سے نوجوان طبقہ حکومت سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے آج تک حکومت پاکستان بیس ہزار نوجوانوں کو قرضہ دے چکی ہے جس میں سے 12 ہزار ایسے نوجوان تھے جنہوں نے نیا کاروبار شروع کیا ۔ جب ایک طالب علم ایک یونیورسٹی میں ہوتا ہے تو وہاں اپنی زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتا ہے لیکن جب وہ اس یونیورسٹی سے پاس ہوکر مارکیٹ میں جاتا ہے تو اس کو اس طرح کی جوب نہیں ملتی جس طرح کی وہ امید رکھتا ہے اس طرح کی جوب حاصل کرنے کے لیے اس کو اور تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے لیکن اگر وہ کامیاب جوان پروگرام سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار شروع کرتا ہے تو اس سے ملک پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا اور اس کو خود بھی۔ اگر دیکھا جائے تو پورے ملک میں سب پولنگ سٹیشن پر نوجوان طبقہ ہی ہوتا ہے ہر پارٹی کی طرف سے لیکن پھر بھی ان کے آج تک مسائل حل نہیں کئے گئے آج جب حکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان صاحب نوجوان نسل کے مسائل حل کر رہے ہیں اور نوجوان نسل کو اپنا اثاثہ کہہ رہے ہیں تو دوسری پارٹیوں کے بھی آنکھ کھل گئی اور خود کو نوجوان نسل کے لیڈر سمجھتے ہیں جو آج تک نوجوان نسل کے مسائل حل نہیں کر سکے وہ آگے جا کر کیا کریں گے۔ ابھی حالیہ کشمیر کے الیکشن میں نوجوان نسل کی بہت بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر نظر آئی اور بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کے کچھ نوجوان شہید بھی ہوئے لیکن پاکستان تحریک انصاف نے اپنی نوجوان نسل کو اکیلا نہیں چھوڑا اور قاتلوں کو پکڑ کر ان کو جیلوں کے اندر بند کیا اس بات کی یقین دہانی کی کہ یہ اپنی سزا مکمل کریں۔ نوجوان اپنے ملک کے پاکستان سے بے لوث محبت کرتا ہے لیکن یہ کچھ سیاستدان اس کا فائدہ اٹھا کر نوجوان نسل کو کمزور سمجھتے ہیں اور ان کو ان کا حق نہیں دیتے میں آج بھی نوجوان نسل سے کہوں گا کہ وہ اپنے سچے لیڈر کو پہچانے اور اس بات کو ضرور دیکھیں کہ ان کے مسائل کون حل کروا رہا ہے اور ان کے ساتھ کون چل رہا ہے اور اپنے جیسے سچے اور صادق امین لیڈر کو ملک پاکستان کا وزیراعظم بنوائے کیونکہ جب نوجوان نسل کے مسائل حل ہونا شروع ہونگے تو تب کرے گا پاکستان ترقی۔ پاکستان وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ایک اور بہت بڑا اقدام احساس پروگرام جس میں طالب علم کو اسکالرشپ دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے اور جب ان کی تعلیم ختم ہو تو کامیاب جوان سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار شروع کر سکیں یہ دو ایسے بڑے پروگرام ہے جو ملک کے پاکستان کو بہت آگے لے کر جائیں گے کیونکہ پاکستان میں بہت سے ایسے نوجوان ہے جو کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو اب وہ کامیاب جوان سے مفید ہو سکتے ہیں
    Twitter : ‎@usamajahnzaib

  • پاکستان، لازوال قربانیوں کا ثمر  تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان، لازوال قربانیوں کا ثمر تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    14 اگست 1947 وہ دن ہے جب پاکستان دنیا کے نقشہ میں ابھرا ،دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نمودار ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ رب العزت کا معجزہ تھا اور ملک پاکستان کی بنیاد ہمارے اجداد کی لازوال قربانیوں اور انتھک محنت و کاوش پررکھی گئی ،قیام پاکستان تک کا سفر آسان نہیں تھا، اس منزل تک پہنچنے کیلٸے برصغیر کے مسلمانوں کو جن جاں گداز مراحل سے گزرنا پڑا، اسے لفظوں میں تحریر نہیں کیا جا سکتاہے

    آئیے! قارٸین اکرام ، صرف ایک لمحے کو تصور کریں ان حالات اور لمحات کا، جب آناً فاناً مسلم قوم کی بستیوں کو اجاڑ دیا گیا، مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی، انہیں بےدردی سے شہید کیا ، مسلمانوں کو مولی ، گاجر کی طرح کاٹا گیا، ہماری بہنیں ، بیٹیوں اور ماٶں کی عزتیں لوٹیں گٸیں ۔ بزرگوں و بچوں کے ساتھ بدسلوگی کی گٸیں، انکے گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے

    ان قافلوں کو بے دردی سے لوٹا اور شہید کیا گیا، جو ملک پاکستان کی جانب رواں دواں تھے۔ مسلمان کے بچوں اور بڑوں کو بے دریغ شہید کیا گیا، وہ خون کی ہولی کون بھول سکتا ہے ، جو سکھوں اور ہندوؤں دونوں نے مل کر مسلمان کے خون سے کھیلی، ان دردناک لمحات کوکیسے بھلایا جا سکتا ہے ؟؟ جب ہماری ماؤں کے سامنے ان کے بیٹوں و بیٹیوں کو ،بہنوں کے سامنے انکے بھائیوں کو،بیویوں کے سامنے انکے شوہروں کے سینوں کو گولیوں، کلہاڑیوں ، چھڑیوں ، تلواروں اور نیزوں کے وار سے چھلنی کردیا گیا۔

    وہ ہمارے آبا ٕ و اجداد کا لال لال گرم گرم بہتا ہوا لہو کون بھول سکتا ہے؟؟ جس میں نہ جانے کتنی ہماری ماؤں کے اشکوں کی گرمی شامل تھی، جس میں نہ جانے کتنی ہماری بہنوں کے ارمان سلگ رہے تھے، جس میں نہ جانے کتنی بیگمات کے سہاگ کی مہندی رچی تھی، جس میں نہ جانے کتنی بیٹیوں کے خوابوں کا قتل ہوا

    آج بھی ان کرب ناک لمحات کا تصور کرکے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ ہماری مائیں، وہ ہماری بہنیں ، وہ ہمارے بچے، وہ ہمارے ضعیف اور جوان جن کے سامنے یہ سب کچھ ہوا، وہ یہ سب کیسے بھول سکتے ہیں؟؟۔ان سب صدموں و مشکلات کے باوجود جب اہل ایمان کے لُٹے پٹے یہ قافلے پاکستان کی پاک سرزمین پر پہنچتے تھے تو وہ لوگ سجدے میں گر کر اللہ رب العزت کا شکر بجا لاتے تھے

    شہدا ٕ پاکستانی کی قربانیاں اور کاوشیں رنگ لائیں اور پاکستان بن گیا یہ دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم پاکستان کیلئے کچھ کر کے دکھائیں اور اسکے استحکام کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں یہ ملک ہمارے آبا ٕ و اجداد کی انتھک محنت اور بے مثال قربانیوں کا ثمر ہے جو ہمیں ملک پاکستان کی صورت میں عطا ہوا ہے۔ اور ہمیں اپنے ملک پاکستان کی قدر کرنی چایئے اس لئے کہ لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیکر اس ملک کی آبیاری کی ہے ہم ان تمام شہداء کو سلام پیش کرتےہیں۔

    میرے پاکستانیوں! آئیے مل جل کر پاکستان کو وہ ملک بناٸیں ، جو دین اسلام کا مطلوب ہے ۔جس کا خواب ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور قائد اعظم ؒ نے جس کیلئے جدوجہد کی ۔جس ملک کے قیام کی نوید ہمیں تحریک پاکستان میں سنائی گئی تھی۔پاکستان کو حقیقی معنوں میں پاکستان بنانے کے جو تقاضے ہیں ان کو عملی جامہ پہنایا جاٸیں ۔۔

    اٹھیے! پاکستان کو صحیح معنوں میں پاکستان بنانے کے لیے دن رات محنت کریں، تحریک پاکستان کیلٸے جدوجہد کرنے والے رہنمائوں اور کارکنوں کی روحوں کو ابدی راحت و تسکین پہنچانے کیلٸے اپنی آنے والی نوجوان نسلوں کی دنیا اور آخرت سنوارنے کیلٸے ملک پاکستان کو دین اسلام کا گہوارہ بنانے کیلٸے دن رات انتھک محنت کریں ۔

    آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا وہ لٹے پٹے سے قافلے، جو نہ رک سکے، نہ جھک سکے، جو وطن پاکستانی بنا کر چلے گئے، جو چمن سجا کر چلے گئے، ہمیں یاد ہیں، ہمیں یاد ہیں!!

    شہدا ٕ پاکستان کو سلام

    میری دعا ہے کہ اللہ پاکﷻ ہمارا وطن خوشحالی اور امن کا گہوارہ بنے ، اسے دشمنوں کی نظروں سے محفوظ رکھےاور شہدا پاکستان کے درجات کو بلند فرماٸے ۔آمین یارب العالمین !!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • یوم آزادی اور ہمارے مساٸل تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    یوم آزادی اور ہمارے مساٸل تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    وطن عریز کو آزاد ہوئے 74 برس مکمل ہوچکے ہیں، پاکستانی عوام 75ویں یوم آزادی جوش و خروش سے منارہی ہے۔ 75 ویں یوم آزادی منانے کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی 74ویں برس کی خطاٶں کا جائزہ لیں کہ کس کس جگہ اور کہاں کہاں ہم سے خطاٸیں سر زد ہوئی ہیں۔کیونکہ اگر خطاٸیں نہ ہوئی ہوتیں تو یقیناً آج ہماری پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا۔

    ملک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم کبھی پاکستان کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی اور ہمیشہ عارضی نوعیت کے مسائل پر غیر معمولی وقت اور توانائیاں صرف کرتے رہے ہیں۔ ملک پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی انتقال کے بعد سے قیادت کے بحران کا شکار ہے ۔

    ملک پاکستان میں غربت، پانی کی قلت،تعلیم ،جہالت ، سماجی مسائل اور بے روزگاری عام ہے ملک پاکستان کا عدالتی نظام ، پولیس محکمہ اور دیگر ادارے بھی بحران کا شکار ہیں ، ملک پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلٸے کالاباغ ڈیم جیسا منصوبہ بھی سیاست کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور اب اقتصادی راہداری منصوبہ بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ اور "ردالفساد ” کے ذریعے جو کامیابیاں حاصل کی گئیں، اس پر افواج پاکستان مبارکباد کے مستحق ہے، لیکن اب ملک پاکستان میں افراتفری کی سیاست فروغ پا رہی ہے جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

    بھارت پاکستان کو معاشی بد حالی سے دو چار کرنے کیلٸے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے حال ہی میں بھارتی فضاٸیہ کےونگ کمانڈر ابھیندن 27 فروری 2019 پاکستان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے پکڑا گیا مگر وہ اپنے منصوبوں میں ناکام ہوگیا ، بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے جس نے پاکستان میں افراتفری پھیلا کر ایسے حالات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کیں جس سے ہمارا وطن عزیز کا امن و امان تباہ ہو سکے۔

    آج ملک پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قائد اعظم ؒ کے فرمودات سے برملا انحراف کیا جارہا ہے، ملک پاکستان میں صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ رعایا بھی اپنی الگ الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور ہم اپنی پہچان بطور پاکستانی نہیں، بلکہ ہمد سندھی ہیں ، ہم بلوچی ہیں، ہم پٹھان ہیں اور ہم پنجابی ہیں کے علاوہ بھی دیگر علاقوں کی مناسبت سے کرانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں

    ان شاء اللہ ایک دن پاکستان کے تمام تر مساٸل ضرور حل ہونگے اور پاکستان یقینی طور پر بنیادی مسائل پر قابو پاکر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو جاٸیں ، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحدہوں اور قومی سطح پر ملک پاکستان کی فلاح و بہبود کیلٸے پالیسیاں مرتب کی جائیں، بالخصوص اقتصادی راہداری کے قیام کیلٸے پوری قوم کو متفق ہونا ہوگا تاکہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نو جوان نس میں جذبہ حب الوطنی کو اجاگر کیا جائے

    ۔ملک پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر وطن عزیز کا ہر فرد یہ عہد کرے کہ وہ ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی، اور فلاح و بہبود کیلٸے اپنے فرائض ایمانداری اور دیانت داری سے سرانجام کرے گا اور ملک پاکستانی کے وسیع تر مفاد و استحکام کیلٸے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا ،اگر ایسا ہوگیا تو پھر یقین مانیں کہ وہ وقت جلد آئے گا ان شاء اللہ جب ملک پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔ میری طرف سے تمام اہل وطن کو 75ویں یوم آزادی مبارک ہو۔۔۔

    اللہ پاکستان کو رہتی دنیا تک شاد و آباد رکھے آمین

    ‎@JahantabSiddiqi

  • جشن آزادی کے موقع پر گوگل نے اپنا ڈوڈل پاکستان کے نام کر دیا

    جشن آزادی کے موقع پر گوگل نے اپنا ڈوڈل پاکستان کے نام کر دیا

    پاکستان کی 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر گوگل نے اپنے ڈوڈل میں صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور شہر سے تقریباً 80 کلو میٹرکے فاصلے پر صحرائے چولستان میں قلعہ ڈیراور کی تصویر آویزاں کی ہے۔

    باغی ٹی وی :دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر اس خاص دن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے اپنے لوگو کو جسے کمپنی ڈوڈل کا نام دیتی ہے اسے پاکستان کے جشن آزادی کی مناسبت سے تبدیل کردیا۔

    گوگل نے اپنے ڈوڈل میں صوبہ پنجاب کے صحرائے چولستان میں قلعہ ڈیراور کی تصویر آویزاں کی ہے جیسے ہی گول سرچ انجن میں جائیں تو سامنے جو پیج کھلے گا اس پریہ تصویر نمایاں نظرآئے گی ایسا پہلی بار نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی متعدد بار گوگل اپنا ڈوڈل پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے تبدیل کرچکا ہے۔

    عباسی خاندان کی ملکیت یہ قلعہ عرف عام میں قلعہ دراوڑ کی نام سے بھی جانا جاتا ہے مگر آزاد ریاستِ بہاولپور کے آخری حاکم نواب سر صادق محمد عباسی کے نواسے صاحبزادہ قمر الزماں عباسی، جو اب اس قلعے کے نگہبان بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا اصل نام قلعہ ڈیراور ہے اور اپنی کتاب میں انہوں نے یہی نام استعمال کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ہر سال یوم آزادی کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات جیسے فاطمہ ثریا بجیا، صادقین اور نصرت فتح علی خان کے یوم پیدائش کے موقع پر بھی گوگل اپنا ڈوڈل اس دن کی مناسبت سے تبدیل کرچکا ہے۔

  • سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    "امتحان ” اس جانچ کا نام ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ طلباء نے کس خاص مضمون میں کس قدرمہارت اور سمجھ بوجھ حاصل کرلی ہے. تدریس کے مقاصد کس حد تک حاصل کیے گئے ہیں. اسکول میں تدریس کے عمل میں طلباء، اساتذہ اور والدین تینوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے. کوئی ایک بھی اپنے کردار کو ادا کرنے میں غفلت کرے تو تدریس کا عمل متاثر ہوتا ہے. ملک عزیز میں کرونا کی آمد کے بعد معاشی، سماجی اور تعلیمی روابط بری طرح متاثر ہوئے ہیں.

    تعلیم کو ہی دیکھیں تو تدریسی عمل اورامتحانی عمل دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں. پہلے تو احتیاط کے طور پر تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کردیا گیا تھا. پھر تدریس کے عمل کو online classes کی طرف لے جایا گیا تھا. یہ عمل کارآمد ثابت نہ ہوسکا. کیونکہ کبھی بجلی کی بندش اور کبھی انٹرنیٹ کی مختلف علاقوں میں عدم دستیابی ہوتی ہے. لیکن پھربھی یہ ایک عمدہ کاوش ضرور تھی.

    گزشتہ سال طلباء کو بغیر امتحان لیے اگلی جماعت میں پروموٹ کردیا گیا تھا. انہیں تین نمبر اضافی بھی دیے گئے تھے. جبکہ انکی قابلیت میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا تھا. رواں سال طلباء سے صرف اختیاری مضامین کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اس فیصلے کا جواز سمجھ سے باہر ہے. جب طلباء مطلوبہ قابلیت نہیں رکھتے تو انہیں اپ کس حد تک سہارا دے سکتے ہیں.

    یہ بات سمجھ سے باہر ہے.
    کیا یہ لازمی مضامین کو نظر اندازکرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟
    "لازمی ” کیسے غیر ضروری؟
    کیا یہ طلباء مستقبل میں معاشرے کے لئے اس حد تک کارآمد ہونگے جتنا کہ انکو ہونا چاہیئے ہے؟

    والدین نے کرونا کے دوان خراب معاشی حالات کے باوجود اپنے بچوں کے لئے معمول سے زیادہ کوشش کر کے online classes کے دوران اپنے بچوں کو کمپیوٹر اور موبائل لے کر دینا اور انٹرنیٹ کا اضافی بوجھ اٹھانا ہر طبقے کے لئے سہل نہیں تھا. اساتذہ اور طلباء نے ایک نئے طریقہ تدریس کو اپنایا جسکی اس سے پہلے مثال نہیں تھی. "سمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ سمارٹ سلیبس” کی اصطلاح بھی سماعتوں نے سنی ہے. جب طلباء تمام سلیبس میں مہارت حاصل نہیں کریں گے تو مطلوبہ نتائج تو حاصل نہیں ہوں گے. بلکہ کمزورنتائج حاصل ہوں گے.

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلباء کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں. یونیورسٹیاں کرونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی اپنے مطلوبہ معیارسے نیچے آنے کو تیار نہیں ہیں. انکا کہنا ہے کہ پہلے سمسٹر کو مکمل کرنے سے پہلے گزشتہ امتحان میں مطلوبہ نمبرز کا ہونا ضروری ہے.

    جو طلباء مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے ان کی یونیورسٹی کو ادا کی گئی فیسوں اور پہلے سمسٹر میں لگائے جانے والےوقت کا کیا ہوگا؟
    کیا ان پر یہ اضافی دبائو نہیں ہوگا کہ آگےانکے ساتھ کیا ہوگا؟

    سونے پرسہاگہ ہمارا تعلیمی نظام جو جدید تعلیمی اصولوں سے ابھی کوسوں دور ہے. تعلیمی اداروں کا تمام تر زور اپنے تعلیمی کاروبار سے منافع حاصل کرنے پر ہے. تعلیم کا معیار بہتر بنانا، طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنا انکا مطمع نظر ہے ہی نہیں. رہی سہی کسر ہمارا امتحانی نظام اور نقل کا بڑھتا ہوا رجحان پوری کردیتا ہے. امتحانات میں مارکنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی بہت ضرورت ہے. ہمارا تعلیمی نظام بہت زیادہ کمزوریوں کا شکار ہے. فوری توجہ کا طالب ہے. تاکہ تیزی سے گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بہتری کی طرف لے جایا جاسکے.

    جب تلک یہ سوچوں کا زاویہ نا بدلے گا
    منزلیں نا بدلیں گی ,راستہ نا بدلے گا

    @its_usamaislam