Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں – محمد نعیم شہزاد

    میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں – محمد نعیم شہزاد

    میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں
    محمد نعیم شہزاد

    ماحولیات پر انسانی عوامل کے اثرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کرتی دنیا فطرت سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں تباہ کن ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ہمارے لیے مشکلات کھڑی کر دیتی ہیں۔ انھیں مشکلات میں سے ایک سموگ بھی ہے ۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پاکستان کے بڑے شہر لاہور میں صورتحال دگرگوں رہی اور شہری سموگ کی وجہ سے پریشان رہے۔ ان حالات کو قابو کرنے کے لیے حکومت نے شجر کاری اور جنگلات لگانے کی مہم کا آغاز کیا جو بہت خوش آئند اقدام ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب دس ارب درخت لگانے کا خواب رکھتے ہیں اس کی تکمیل کے لیے انھوں نے لاہور میں میاواکی جنگلاتی منصوبے کا افتتاح بھی کر دیا ہے۔

    مرحوم جاپانی نباتاتی ماہر اکیرا میاواکی کی طرف سے شروع کی گئی ایک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ، جنگل 12.5 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں 165،000 سے زیادہ پودے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متوقع طور پر درختوں کے عام رفتار کی نسبت 10 گنا تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے ۔ 10 ملین آبادی کا یہ بڑا شہر حالیہ برسوں میں سموگ کی لپیٹ میں آیا ہے جس نے سکولوں کو بند کرنے پر مجبور کیا ہے اور اسے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ایک بنا دیا ہے۔

    جب سے 2018 میں درخت لگانے کی مہم شروع ہوئی ہے ، ملک میں 1 ارب مزید درخت لگائے گئے ہیں اور مون سون کے موسم میں مزید 500 ملین پودے لگائے جا رہے ہیں۔

    یقیناً یہ ایک مثبت اصلاحی اقدام ہے اور عوام نے اس کا بھرپور استقبال بھی کیا ہے اور اس سال یوم آزادی پر ہر گھر کی طرف سے ایک درخت اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ اور عوامی طور پر شعور بیدار کیا جا رہا ہے کہ یوم آزادی پر ہر سال لوگ جھنڈے، بیجز، جھنڈیاں اور دیگر اشیاء پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں جن سے سوائے خوش طبعی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر ایک درخت اگانے سے ہمارے ماحول میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ فضائی آلودگی کم ہوگی اور سموگ جیسی مصیبت سے بھی جان چھوٹے گی۔

    شجر کاری اور جنگلات کا پھیلاؤ یقیناً حکومت کا احسن اقدام ہیں مگر ماحولیاتی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوامی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے ورنہ یہ مسائل حکومت کی مقبولیت کو بری طرح گرا دیں گے اوردوسری سیاسی جماعتیں مہنگائی جیسے ناسور کا فائدہ اٹھا کر حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکیں گے۔ موجودہ وقت کا سب سے بڑا عوامی مسئلہ حد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ پھل، سبزی، گراسری، پیٹرولیم مصنوعات کسی بھی چیز کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں ہیں ۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں اپنانی چاہئیں جو عوام دوست ہوں اور عوام کو ریلیف بھی دیں ۔ یہ عوام ہی ہیں جو کسی بھی جمہوری حکومت کی طاقت بنتے ہیں۔ ڈلیور کیے بغیر محض گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لا کر عوام کو خوش نہ کیا جا سکے گا۔ عوام حقیقی اور معنوی تبدیلی چاہتے ہیں۔ نا انصافی اور ظلم کے نظام کی تبدیلی، وی آئی پی کلچر کی تبدیلی، اختیارات کے ناجائز تصرف رکھنے اور بوسیدہ بیوروکریسی کے نظام میں تبدیلی۔

    تبدیلی کا نعرہ لگانا اور اس نعرے سے عوام کو مائل کرنا بہت اچھا تجربہ رہا مگر عوام کو اس سے مایوس کر دینا ایک ایسا تلخ تجربہ ہو گا جس کا تصور بھی ناممکن ہے۔ وزیراعظم صاحب کو فی الفور عوامی ریلیف کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دینی چاہیے۔

    محمد نعیم شہزاد

  • جعلی مارخورز اور خواتین، ایک حساس موضوع تحریر: حسن ساجد

    جعلی مارخورز اور خواتین، ایک حساس موضوع تحریر: حسن ساجد

    افواج پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ مہارت، بہادری اور عوام دوستی میں مقبول ہیں۔ ہماری بہادر فوج، ہر کٹھن وقت میں قوم کی امیدوں کا واحد مرکز و محور ہے۔ وطن کی سرحدوں کی حفاظت ہو یا کسی ناگہانی آفت کا سامنا افواج پاکستان ہمیشہ قوم کی امنگوں پر پورا اترتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عوام اپنی افواج سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد ہوں یا خواتین سبھی بلا تفریق عمر و جنس پاک فوج سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں۔ عوام کی محبت یوں تو ہر طرح کی فورسز سے دیدنی ہے مگر دفاع وطن کی آخری لکیر اور پاکستان کے خفیہ اداروں کو حصول چاہت میں امتیاز حاصل ہے۔
    افواج پاکستان بالخصوص انٹیلی جنس افسران سے عوام کی اسی بے پناہ محبت کا چند بے ضمیر لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور خود کو سیکرٹ مارخور (آئی ایس آئی یا ایم آئی کا مجاہد) بول کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان نوسربازوں کے وار زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کا اصل ہدف سوشل میڈیا پر موجود وہ خواتین ہیں جو افواج پاکستان کے ساتھ جنون کی حد تک محبت رکھتی ہیں اور اس کا برملا اظہار سوشل میڈیا پر بھی گاہے گاہے کرتی رہتی ہیں۔ انہیں میں سے اکثر خواتین گمراہ کن باتوں میں آکر سوشل میڈیا پر موجود جعلی اور خود ساختہ سیکرٹ مارخورز کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایسے واقعات میں آئے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے لہذا حالات کو دیکھتے ہوئے ضرورت کے پیش نظر راقم الحروف نے اس حساس موضوع کو زیر قلم لانے کا سوچا ہے۔ ایک دلچسپ مگر افسوس ناک واقعہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں تاکہ معاملہ کی سنگینی آپ پر واضح ہوسکے۔
    یہ واقعہ ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کا ہے جو ایسے ہی کسی خود ساختہ پلاسٹک مارخور کی ہوس کا نشانہ بن گئی۔ خود ساختہ مارخور نے خاتون کی ملٹری سے محبت کو استعمال کرتے ہوئے اس کے سامنے خود کو ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے نان کمیشنڈ آفیسر کے طور پر پیش کیا۔ اس خود ساختہ جعلی مارخور نے خاتون سے سوشل میڈیا پر تعلقات استوار کیے ۔۔وہ نوسر باز اس لڑکی کو شادی بیاہ کا لالچ دے کر اسے اپنی ہوس و زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور پھر اچانک سے غائب ہوگیا۔ خاتون/ لڑکی نے اپنے سیکرٹ مارخور کی تلاش شروع کردی اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنے جعلی مارخور کی بتائی گئی برگیڈ میں جاپہنچی ۔ خاتون اپنے والد کے ہمراہ سی او (کمانڈنگ آفیسر) کے سامنے پیش ہوئی اور اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی. انسان دوست اور فرض شناس سی او صاحب کے حکم پر ایک آزاد اور خودمختار کمیٹی بنائی گئی جس نے واقعہ کی مکمل جانچ پڑتال کی اور معلوم ہوا کہ مطلوبہ نام کا کوئی شخص تو کسی یونٹ میں جمعدار (جھاڑو لگانے والا) تک نہیں ہے۔ اس وقت خاتون کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ تھا اور جو اذیت اسکے ضعیف العمر باپ کے چہرے پر میں نے دیکھی وہ بیان سے باہر ہے۔
    یہ ایک واقعہ ہے جو میری آنکھ سے گزرا۔ ایسے بہت سے واقعات سے آپ لوگ بھی واقف ہوں گے اور ایسے بے شمار واقعات اور بھی ہوں گے جو میری یا آپ کی آنکھ سے اوجھل ہیں۔
    یہ بات عین حق ہے کہ انفارمیشن وارفئیر کا دور دورہ ہے اور سوشل میڈیا ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے جہاں کون کس روپ میں بیٹھا کیا کررہا ہے کسی کو معلوم نہیں مگر یقین کرلیں جو ہمارے اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ان میں ایک خوبی ضرور پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ان کی تربیت بے حد پیشہ وارانہ انداز میں کی جاتی ہے وہ کبھی بھی آپ کو یہ نہیں بتائیں گے کہ وہ مارخور یا خفیہ کے کارندے ہیں اور وہ فلاں مشن کے لیے سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ یہ لوگ بے حد سلجھے ہوئے اور اپنی دھن کے مگن لوگ ہوتے ہیں انہیں کسی سے کچھ لینا دینا نہیں انکی نظر میں انکا کام مقدم ہے جسے وہ خاموشی سے انجام دے رہے ہوں گے۔ اس لیے میرے نزدیک ایسے واقعات کے رونما ہونے میں پہلا قصور خواتین کا اپنا ہی ہے جو جذبات کی رو میں اس قدر بہہ جاتی ہیں کہ انہیں نہ تو خیر و شر کی تمیز رہتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے والدین یا خاندان کی عزت کا خیال کرتی ہیں۔
    دوسری قصوروار ہستی ہمارا نظام ہے جہاں ملزمان کے پاس عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کئی ہتھیار موجود ہیں ۔ اگر ان کا ایک ہتھیار نہ چلے تو دوسرا یا تیسرا یا موجود تمام میں سے کوئی ایک ان کے کام ضرور آ جاتا ہے ۔ لہذا ان گمراہ کن جعلی مارخورز کی روک تھام اور عوام میں شعور کی غرض سے چند اہم باتیں پیش خدمت ہیں.
    ہمارے ہاں ایک غلط العام تاثر پایا جاتا ہے کہ پرائیویٹ یا بلینک (خالی) نمبر سے جب بھی کال آئے تو وہ سیکرٹ یا خفیہ کے اداروں سے آتی ہے۔ آپ لوگ سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور کرلیں کیونکہ پرائیویٹ نمبر، غیر تصدیقی نمبر یا بلینک کال آنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کال کسی خفیہ ادارے یا سکیورٹی ادارے کے کسی اہلکار کی جانب سے کی گئی ہے. آجکل کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل ترقی یافتہ دور میں ذرائع ابلاغ کا نظام جدید اور ترقی یافتہ ہو چکا ہے کہ ہر بڑے شہر میں پرائیویٹ کالنگ سروسز مہیا کرنے والے سینکڑوں لوگ موجود ہیں جو اپنی خدمات معمولی معاوضے کے عوض عام عوام کو آفر کرتے ہیں۔ یوں وہ پرائیوٹ نمبر جسے ہم سیکرٹ ایجنسی کا سمجھ رہے ہوتے ہیں کسی گاوں کے ماجے گامے یا شیدے طیفے کا بھی نکل سکتا ہے۔
    معاشرے کے جدید تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اور اختیارات کے ناجائز اور غیر ضروری استعمال کو روکنے کی غرض سے محکمہ انٹیلی جنس میں ایک باقاعدہ نظام موجود جس کے تحت کسی بھی شخص کا ریکارڈ رکھنے، اسکی حرکات و سکنات پر غور کرنے اور اسکا ٹیلی فونک اور دیگر میڈیا سے متعلق ریکارڈ پرکھنے سے متعلق اصول و ضوابط موجود ہیں. یاد رکھیے ایسی ذمہ داریاں اور اختیارات ادارے کے سرکردہ مخصوص افسران کو ہی سونپے جاتے ہیں اور ان کے سوا کسی کی ذاتی معلومات تک کسی کی رسائی نہیں ہوتی۔ یہ افسران انتہائی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ماہر ہوتے ہیں وہ ایسی ذمہ داریاں اور ایسے حساس اختیارات آگے اس انداز سے تقسیم کرتے ہیں کہ ان کے ناجائز استعمال کو حتی الامکان حد تک روکا جاسکے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا خفیہ ڈیٹا آپ کی متعلقہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے کسی اہلکار سے چند سکوں کے عوض بیچا ہو جس کی بنیاد پر آپ ایک نوسرباز کو سیکرٹ مارخور سمجھ رہے ہوں۔
    تیسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے جو اپنی سوسائٹی میں روابط اور تعلقات کو پروان چڑهاتا ہے. وہ لوگوں سے ملنا اور ان سے مراسم قائم کرنا چاہتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں مختلف لوگوں میں ہم آہنگی اور دوستی بھی ایک فطری عمل ہے جس کی بنیاد پر کوئی شخص کسی طریقہ سے آپ کے متعلق معلومات حاصل کرسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں معاشرہ خیر اور شر کے مشترکہ خمیر سے وجود میں آنے والی چیز ہے لہذا ہر ادارے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں کیونکہ اگر بدی نہ ہو تو نیکی کے وجود کی اہمیت کا ہمیں اندازہ کیسے ہو۔ ایسی صورتحال کے پیش نظر یہ بعید نہیں کہ آپ سے رابطہ کرنے والا شخص اصلی مارخور ہی ہو جو کسی بھی وجہ سے ایسی حرکت کربیٹھے۔ ایسے حالات سے بلکل بھی نہ گھبرائیں بلکہ یاد رکھیں کہ کوئی بھی شخص ماروائے قانون نہیں ہے اگر کوئی شخص آپ کو اس طرح ہراساں کرتا ہے یا آپ کو کسی غلط فعل کی دعوت دیتا ہےتو اس سے مرعوب ہونے کی بجائے فی الفور اس کے خلاف ایک عام شہری کی حیثیت سے پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائیں۔ تمام حالات و واقعات اور ثبوتوں کو تفصیل سے رپورٹ کا حصہ بنائیں. کوشش کریں کہ اسکے خلاف رپورٹ میں اسکا خفیہ کا اہلکار ہونا ظاہر نہ کیا جائے بلکہ پولیس کو آزادانہ تحقیقات کرکے خود نتائج تک پہنچنے دیا جائے کہ آپ کو تنگ کرنے والا سیکرٹ ایجنٹ ہے یا جعلی نوسرباز۔
    پولیس FIR اس عمل کا پہلا۔زینہ ہے۔ آپ محض پولیس کی رپورٹ پر ہی اکتفا مت کریں بلکہ سائبرکرائم ایکٹ اور ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت بھی متعلقہ شخص کے خلاف درخواست دائر کریں اور عدالت سے انصاف کے لیے رجوع کریں۔ اگر متعلقہ حکام آپ کی بات پر کان نہیں دھرتے تو آپ کے پاس سٹیزن پورٹل جیسی بہترین سہولت موجود ہے اس کا استمعال کریں۔

    اس تحریر میں تمام ممکنات کو زیربحث لانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر آپ کا کوئی سوال یا کوئی نکتہ باقی ہے تو آپ مجھے ٹویئٹر (DSI786@) پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ اس تحریر کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اپنے حقوق کی آگہی رکھتے ہوئے آزاد شہری کی حثیت سے جئیں اور جینے دیں۔

    @DSI786

  • والدین کی خدمت کا انعام تحریر:محمد سدیس خان

    والدین کی خدمت کا انعام تحریر:محمد سدیس خان

    والدین کی خدمت کیسے دامن کو خوشیوں سے بھرتی ہے، اس کی جھلک درج ذیل واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے، اپنے بچپن میں دیکھا کہ ہمارے ضعیف داداجان کو دمہ کی تکلیف تھی ان کی رہائش بالائی منزل پر تھی تو والد صاحب نے دادی جان کو کہہ رکھا تھا کہ جب والد صاحب کو تکلیف ہو تو آپ مجھے بلانے کے لیے آواز نہ دیں بلکہ کمرے کے فرش پر کھڑکادیا کریں میں حاضر ہو جاؤں گا۔
    ہم نے خود بار ہاد دیکھا کہ دادی جان فرش پر کسی چیز سے آواز کردیتں، بس پھر کیا ہوتا والد صاحب بعض اوقات ننگے پاؤں بھاگ کر والد صاحب کی خدمت میں پہنچ جاتے اور ان کی تیمارداری ہی نہ کرتے بلکہ ان کا دل بہلانے کیلئے انہیں امید افزا باتیں کرتے، داداجان کی یہ تکلیف بعض اوقات ساری رات جاری رہتی تو والد صاحب بھی تمام رات جاگ کر گزارتے۔
    والد محترم خشکی کے راستے حج پر تشریف لے گئے واپس آتے ہی اپنی ایک قیمتی جائیداد فروخت کی اور والدین کو حج پر لے جانے کی کوشش شروع کی، بعض لوگوں نے منع بھی کیا کے اتنی قیمتی جائیداد کو بیچنا مناسب نہیں تو آپ فرماتے کہ میری قیمتی ترین متاع میرے والدین ہیں۔ خیر والدین کے ہمراہ حج پر تشریف لے گئے اور دوران سفر والدین کی خوب خدمت کی اور بعض مقامات پر والدین کو کندھوں پر سوار کرکے چلتے رہے۔
    حضرت والد صاحب کی زندگی خدمت سے عبارت ہے مذکورہ چند سطور میں اس خدمت کی جھلک دکھائی گئی ہے جو سعید لوگوں کیلئے کافی وافی ہے۔
    آپ نے خدمت والدین سے سعادتیں وصول کیں اور والدین کی مقبول و مستجاب دعائیں حاصل کیں۔ والدین کی دعاؤں کا ثمرہ دنیا میں ملا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے دنیاوی دیگر نعمتوں کے علاوہ کثیر صالح اولاد سے نوازا جن میں سے اکثر حافظ و قاری ہیں اور دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔
    دوسری عظیم نعمت یہ حاصل ہوئی کہ بچپن ہی سے آپ کے دل میں مدینہ منورہ کی زیارت واقامت کا داعیہ وجذبہ تھا تو اللّٰہ تعالیٰ نے پورا فرمایا اور آپ عرصہ دراز سے مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔
    حضرت والد محترم الحاج عبد القیوم مہاجر مدنی مدظلہم اپنے
    والدین کی بے پناہ دعاؤں وقت کے اکابر علماحق و بزرگان دین کی توجہات کی بدولت تا حال بحمد للہ صحت وعافیت سے ہیں عرصہ 30 سال سے مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔ دین کی بے لوث خدمت آپ کے رگ و ریشہ میں سرایت کئے ہوئے ہے۔
    خاص طور پر تحریک ختم نبوت سے آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ عمر کی تقریباً 75 بہاریں دیکھنے کے باوجود تا حال ہمت وعزم کی یہ کیفیت ہے کہ مسلسل 10 گھنٹے یومیہ اعصاب شکن مطالعہ اور تالیف وترتیب وغیرہ کا کام جاری ہے اور ذریعہ معاش کیلئے 8 گھنٹے ڈیوٹی اس کے علاوہ ہے۔
    دینی دسترخوان کی اشاعت اور متوقع پذیرائی سے والد محترم کو مزید حوصلہ ہوا تو تعمیر انسانیت کے نام سے دو ضخیم جلدوں میں ایک نیا مجموعہ مرتب فرمادیا، سچ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے دین متین کی خدمت ایسے درویش صفت وغیر معروف ہستیوں سے بھی اس طرح لے لیتے ہیں کہ عقل حیراں کھڑی سوچتی رہتی ہے
    ابھی ان کتب کی تالیف ہی میں مصروف تھے کہ دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ اردو کی ضخیم اور مستند چھ تفاسیر کے ضروری، عام فہم اقتباسات کو جمع کرکے ایک نیا گلدستہ تیار کیا جائے جس پر حالت خواب و بیداری میں کئی طرح کی بشارتوں سے نوازے گئے علماء اکرام کی مشاورت اور بزرگوں کی مستجاب دعاؤں کے بعد مدینہ منورہ کی مبارک فضاؤں میں اس صبر آزما کام کیلئے دن رات ایک کر کے گلدستہ تفاسیر کا سات جلدوں پر مشتمل ایک عظیم تحفہ عوام الناس کی خدمت میں پیش کردیا جس سے عوام وخواص کے علاوہ علماء اکرام اور تفسیر کے مدرسین نے خاطر خواہ استفادہ کیا اور تا حال مستفید ہورہےہیں یاد رہے کہ اس عظیم تفسیری مجموعہ کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
    Twitter : @msudais0

  • "مذہبی آزادی”  تحریر : شاہ زیب

    "مذہبی آزادی” تحریر : شاہ زیب


    آج جب پاکستان کی عوام 75واں یوم آزادی منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ہر طرف رونق اور خوشیاں ہیں تو ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے باقی ہم وطنوں کا بھی خیال رکھیں جو اقلیت پاکستان میں ہے یہ ملک اتنا ہی ان کا بھی ہے جتنا کے آپ کا یا میرا ۔۔۔
    پاکستان بنانے والے ہمارے بزرگوں نے کبھی بھی مذہبی انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ آپ کا مذہب جو بھی ہو آپ جس بھی عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اس ملک میں بدقسمتی سے کچھ عرصہ سے کچھ شدت پسند پسند عناصر ہماری عوام میں لسانی اور مذہبی فسادات کروانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ اکثر کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور سادہ لوح عوام کو آپس میں لڑوا کر خوش ہوتے ہیں۔
    یہ بات ہمارے سمجھنے کی ہے کہ اس ملک میں ہم آزاد شہری ہیں جو اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار سکتے ہیں اپنی عبادت اپنے مذہب اور اپنے عقیدے کے لحاظ سے کر سکتا ہے ہم میں سے کوئی بھی کسی کے عقیدے یا مذہب پر نا سوال کر سکتا ہے نہ ہی اسے کرنا چاہیے پاکستان وہ ملک ہے جہاں مسلمان ہندو عیسائی سکھ سمیت بہت سے مسلک کے لوگ رہتے ہیں یہاں پر ہر کوئی آزاد ہے خدارا کسی کی باتوں میں آکر کسی کے مذہبی عقیدے پر سوال نہیں اٹھایا اور نہ ہی ہیں انجانے میں اس کی دل آزاری کا باعث بنیں۔۔ شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • 14 اگست ہماری آزادی کا دن ہے  تحریر زاہد کبدانی

    14 اگست ہماری آزادی کا دن ہے تحریر زاہد کبدانی

    14 اگست ہماری آزادی کا دن ہے اور اس کا مطلب ہے وہ دن جب ہمیں نہ صرف اپنے بے رحم حکمرانوں سے آزادی ملی تھی بلکہ ذلت سے آزادی ملی تھی۔ اس دن ہمیں اپنی شناخت اور اپنے والوز ملے۔ پاکستان 1947 میں ایک خودمختار ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ 14 اگست وہ دن ہے جب ہمارے قومی ہیروز کی کوششوں کو سراہا اور منایا جاتا ہے اور ایک دن جب ہمیں اپنا نام اور عزت ملتی ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری اپنی اقدار ، روایات اور مذہب ہے۔ ہم مسلمان اس دن کو مکمل اطمینان اور ایک علیحدہ علاقے میں ہونے کی خوشی سے مناتے ہیں جہاں ہم ہر طرح سے زندگی گزارنے کی آزادی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری پارلیمانی وفاقی اسلامی جمہوری ریاست ہے۔ پاکستان کے چار صوبے ہیں ، پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا۔

    یہ دن پاکستان میں ایک قومی تعطیل ہے اور ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات ، قومی ہیروز کو خراج عقیدت اور دارالحکومت اسلام آباد میں آتش بازی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ صدر اور وزیر اعظم تقریر کرتے ہیں اور تقریر میں رہنما حکومت کی کامیابیوں ، مستقبل کے لیے مقرر کردہ اہداف اور بابائے قوم قائداعظم کے الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں ، "اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط” لاتے ہیں۔ اس کے لوگوں کو. دن کا آغاز دارالحکومت اسلام آباد اور اسی طرح پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پرچم کشائی کی تقریبات سے ہوتا ہے۔ مارچ پریڈ اور گارڈز کی تقریبات کا تبادلہ قائداعظم کے مزار پر ہوتا ہے۔

    پاکستانی عوام ، اس قومی تعطیل پر منار پاکستان جیسی قومی یادگاروں کا دورہ کرتے ہیں جو برطانوی سلطنت سے پاکستان کی آزادی کی یاد میں مکمل طور پر روشن ہوتی ہے۔ واہگہ بارڈر پر جھنڈا اٹھانے کی تقریبات ہوتی ہیں جبکہ ہر کوئی "قومی انتھم” کے اعزاز میں خاموش اور بے حرکت کھڑا ہوتا ہے ، اس کے بعد فوجی پریڈ کو ستارے ملتے ہیں۔

    محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال اور سر سید احمد خان جیسے لوگوں کے نام ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھے جاتے ہیں۔ قائداعظم کے نام سے مشہور محمد علی جناح پاکستان کے حقیقی بانی ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی پرجوش شاعری سے مسلمانوں کو سوچنے اور دنیا میں اپنی قومیت اور نام کمانے کی ترغیب دی۔ سر سید احمد خان نے مسلم قوم کو آگے بڑھایا اور مسلمانوں کے لیے سکول اور کالج بنائے تاکہ وہ جان سکیں کہ کس طرح پیشگی عمر کے جدید تقاضے پورے کیے جائیں
    لوگوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں کیونکہ وہ آزادانہ طور پر اسلام کی پیروی نہیں کر سکتے تھے اور اپنے مذہبی فرائض برصغیر میں صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکتے تھے۔ جب وہ اپنے مذہبی فرائض سرانجام دیتے ہیں تو انہیں سزا دی جاتی ہے یا پریشان کیا جاتا ہے۔ اس نے مسلمانوں کو ناراض کیا لیکن چونکہ وہ کمزور قوم تھے ، وہ کچھ نہیں کر سکے۔ پاکستان بے شمار جانوں کی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ ہمارے بہت سے آباؤ اجداد نے صرف اپنی آنے والی نسلوں کی آزادی کے لیے اپنی جانیں گنوائیں ، آزاد سرزمین کی خاطر جہاں تمام مسلمان اپنی مذہبی ذمہ داریاں اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔

    آزاد پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے ، ہمیں ان اقدار اور اصولوں پر غور کرنا چاہیے جو ہماری آزادی کے لیے لڑنے اور قربان کرنے والوں کے ذہنوں اور دلوں میں تھے۔ انہوں نے زمانوں سے ملک میں پرورش پانے والی اقدار سے متاثر ہو کر تصویر کشی کی۔ اب ہم ایک آزاد قوم کے طور پر رہ رہے ہیں ، جو اپنے ہی وطن کی تمام خوبصورتیوں ، کرشموں سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ایک آزاد اور خود سے متعلق قوم ہونے کے ناطے ، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملک کی بہترین سے خدمت کریں۔ ہمیں اپنے پیارے وطن کی ترقی کے لیے پورے دل سے اور پوری لگن کے ساتھ کام کرنا چاہیے ، ہمیں اپنے آباؤ اجداد اور قومی رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جس نے اس سرزمین کو ہمارے رہنے کے لیے ایک غیر محدود علاقہ بنا دیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس جذبے کے ساتھ کام کیا جائے جو ہمارے قومی ہیروز کے خون میں شامل تھا جنہوں نے ہماری آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی پاک سرزمین کی بہتری کے لیے مضبوط عہد کریں۔ ہمیں اپنی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنی آزادی اور سالمیت کو دنیا کی دوسری غالب طاقتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اس آزاد دن پر ہم اپنے منصوبوں ، اپنے اعمال اور ان کے نتائج کے بارے میں دوبارہ غور کریں۔ ہم سب کو اپنی پاک سرزمین کے لیے اس بہترین دن پر دعا کرنی چاہیے اور اپنے آپ سے وعدہ کرنا چاہیے کہ ہم اس پر کوئی نقصان نہیں ہونے دیں گے اور اپنی آخری سانس کے دن تک اس کے دفاع کے لیے کام کریں گے۔

    اللہ پاک ہماری پاک سرزمین کو سلامت رکھے ، اللہ ہمارے پاکستان کو سلامت رکھے! آمین۔
    یوم آزادی مبارک

    @Z_Kubdani

  • امریکی غلام نو مور سے پریشان تحریر: زبیر احمد

    امریکی غلام نو مور سے پریشان تحریر: زبیر احمد

    14 اگست کو پاکستان اپنی آزادی کی 74ویں سالگرہ منائے گا۔ پاکستان برطانوی نوآبادیاتی ہندوستان سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لازوال قربانیوں کے بعد آزاد ہوا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں موجود ہندوؤں کی اکثریت مسلمانوں کے حقوق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، انگریز کے جانے کے بعد یہ ہندوستان کے 30فیصد مسلم آبادی کو اپنے زیر تسلط رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن پاکستان کو مسلمانوں کی ایک محفوظ پناہ گاہ بننا تھا جہاں وہ اسلامی قوانین، ثقافت اور اخلاقی اقدار کے مطلب رہیں گے۔
    یوم آزادی کے اظہار کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن میں عوام کے مفادات، بھلائی کا خیال رکھا جائے۔ آزادی کے وقت بھی مسلمان یہی چاہتے تھے کہ ملک کو اسلامی قوانین کے مطابق چلایا جائے اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کے اصولوں پہ آگے بڑھے گا۔
    لیکن بدقسمتی سے اشرافیہ چاہتی ہے کہ پاکستان پہ صرف ان کا تسلط قائم رہے، اشرافیہ شدید احساس کمتری کا شکار ہے۔ یہ ہر طرح سے مغرب کی تقلید کرتے ہیں، زبان، لباس، آداب، خوراک، طرز زندگی غرضیکہ ہر طرح سے مغربی طرز زندگی اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، یہ ملک میں مادر پدر آزاد معاشرے کو قائم کرنے کے لئے مغرب طرز کی پالیسیاں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عوام کے ساتھ اس سے بھی زیادہ حقارت سے پیش آتے ہیں جتنا انگریز نے اپنے دور حکومت میں کیا۔
    اشرافیہ مغرب کی سرپرستی کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی، خواہ وہ زندگی کتنی بھی توہین آمیز اور ذلالت بھری کیوں نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان سے غیرملکی صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان امریکیوں کو افغانستان کے اندر آپریشن کرنے کے لیے فوجی اڈے فراہم کرے گا، جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "بلکل نہیں” بعدازاں انہوں نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ماضی میں پاکستان کا موقف اور امریکہ کی بولی لگانے کی پالیسیوں نے ملک کو شدید انسانی اور معاشی نقصان پہنچایا ہے۔
    امریکی ایجنٹ فوری ان کے پاوں پر کھڑے ہوگئے اور عمران خان کے خلاف واویلا شروع کردیا۔ ان کی دلیل کا زور یہ تھا کہ امریکہ کی خوشامد جارہی رکھو اور اس سے دشمنی نہ کرو ورنہ شاید آسمان گر جائے گا۔ دوسروں نے الزام لگایا کہ افغانستان کے بارے میں عمران خان کوئی پالیسی نہیں رکھتے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ عمران خان امریکی مطالبہ من و عن قبول کرلے اور افغانستان میں جارحیت جاری رکھنے کے لئے پاکستان فوجی اڈے فراہم کرے۔ ایک کالم نگار تو اس حد تک اس خلاف ہوگئے کہ حکومتی تعلیمی پالیسی کا مذاق اڑاتے ہیں کہ بچوں کو ابتدائی عمر میں ہی عربی اور قرآن کی تعلیم دینا ایک رجعت پسندانہ قدم ہے اور عربی سیکھنے اور ایک سے زیادہ زبانوں کی وجہ سے بچوں پہ ذہنی طور پہ پریشر آجائے گا اور سائنسی تعلیم میں پیچھے رہ جائیں گے۔ حالانکہ حقیقت میں دنیا میں اکثر ذہین ترین شخصیات ایک سے زائد زبانوں پہ عبور رکھتی تھیں۔ پاکستانی سیکولر اس لئے بھی پریشان ہیں کہ عمران خان امریکہ کے توہین آمیز مطالبات سے پاک ایک آزادانہ پالیسی اپنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس میں امریکی ڈومور کی گردان سے کنارہ کشی اختیار کی جاسکے۔ امریکی فوج کو افغانستان میں کسی منظم فوج نے نہیں بلکہ طالبان نے شکست دی جو کسی طور پہ بھی ہر طرح کے اسلحہ سے لیس منظم آرمی نہیں کہا جاسکتا بلکہ ان کے یقین محکم اور ایمانی طاقت نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا، یہی وہ چیز ہے جو پاکستانی سیکولرز کو خوفزدہ کرتی ہے، جیسا کہ جان ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں جبکہ ناکامی یتیم ہوتی ہے۔
    افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے آج سپرپاور کے طور پر امریکہ کا افسانہ ہندوکش کے پہاڑوں میں پلٹ دیا گیا ہے۔ یہ تو بہت پہلے سے ظاہر ہوچکا تھا کہ امریکہ طالبان کو فتح نہیں کرسکتا لیکن پے در پے امریکی حکومتیں فوجی صنعتی کمپلیکس کو خوش رکھنے کے لیے اپنے ہی لوگوں سے جھوٹ بولتی رہیں۔ پاکستانی سیکولرز کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے گارڈ فادر افغانستان میں جنگ ہار چکے ہیں اب امریکہ واپس نہیں آرہا چاہے وہ واپسی کی کتنی ہی خواہش رکھتا ہو۔ اگرچہ امریکہ شرارتیں کرنے سے باز نہیں آئے گا کیونکہ اس سے سمجھ آنے سے پہلے بہت سی شکستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو امریکہ کی جنگوں سے کوئی لینا دینا نہیں اس کے بجائے اسے اپنے مسائل کو حل کرنے پہ توجہ دینی چاہیے۔
    پاکستان کے فیصلہ سازوں کو سمجھ آجانا چاہیے کہ امریکہ کسی بھی عام پاکستانی کو قبول نہیں اور نہ امریکہ سے کسی بھلائی کی توقع رکھنی چاہئے۔ انکل سام کے ساتھ 74 سالہ تعلقات میں ہمیشہ اس نے اپنا مفاد ختم ہونے کے بعد پاکستان کو آنکھیں ہی دکھائی ہیں۔ سیکولرز کو امریکی شکست پہ اٹھنے والے مروڑ کو بھگتنے دیں، جبکہ پاکستان کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا امریکہ کے تسلط سے نکل کر آگے بڑھ رہی ہے۔

    tweets @KharnalZ

  • یوم آزادی! یوم احتساب اور یوم عہد تجدید  تحریر: احسان الحق

    یوم آزادی! یوم احتساب اور یوم عہد تجدید تحریر: احسان الحق

    ہر سال ہم پاکستانی بڑے جوش وخروش اور بڑے اہتمام کے ساتھ 14 اگست کا دن "یوم آزادی” کے طور پر مناتے ہیں کیوں کہ 14 اگست 1947 کو یہ عظیم ملک معرض وجود میں آیا. عظیم پاکستان کا عظیم 75واں یوم آزادی نزدیک ہے. اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کے بعد بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ اور مسلمانان برصغیر کی محنتوں اور قربانیوں کی بدولت ہم ایک آزاد ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے. الحمدللہ رب العالمین.
    پاکستان صرف کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا. پاکستان حاصل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آزاد ملک میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کی اطاعت و پیروی بے خوف و خطر کی جائے. ایک ایسا ملک ہونا چاہئے جہاں کا آئین اسلام ہو اور مسلمان آزادی سے اپنی مذہبی عبادات اور رسومات ادا کر سکیں.

    اگر یوم آزادی کو یوم احتساب اور یوم عہد تجدید کے طور پر منائیں تو شاید ہم مسائل کی دلدل اور برائیوں کی منجدھار سے جلدی نکلنے میں کامیاب ہو جائیں. ہمیں اپنا ذاتی، انفرادی اور مجموعی احتساب کرنا چاہئے کہ 1947 سے 2021 تک، 75 سالوں میں ہم نے کیا حاصل کیا، کیا حاصل نہیں کیا، کیا حاصل نہیں کرنا چاہئے تھا اور کیا حاصل کرنا چاہئے تھا؟ یوم احتساب اس حوالے سے بھی کہ ہم نے عظیم ملک کن اغراض ومقاصد کے لئے حاصل کیا تھا اور وہ مقاصد حاصل کر لیئے گئے ہیں یا حاصل کئے جا رہے ہیں؟ کیا حضرت قائداعظمؒ نے جس پاکستان کی بنیاد رکھی یہ وہی پاکستان ہے؟ کیا مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا یہ وہی پاکستان ہے؟ کیا اقلیتوں کو حقوق مل رہے ہیں؟ کیا پاکستان میں اللہ اور اللہ کے رسول کا نظام رائج ہے؟ کیا اردو قومی زبان اور سرکاری زبان ہے اور اردو کو پوری پوری عزت اور اہمیت دی جا رہی ہے؟ کیا طاقتور اور کمزور کے لئے ایک جیسا قانون ہے؟ کیا ہمارے ادارے ایمانداری اور غیرجانبداری سے کام کر رہے ہیں؟ کیا عدالتیں بغیر کسی مجبوری یا دباؤ کے سزا اور جزا سنا رہی ہیں؟ ان سب کا جواب تقریباً نفی میں ہے.

    یوم آزادی 14 اگست کو یوم عہد تجدید کے طور پر بھی منانا چاہیے کہ آئندہ اس غظیم ملک کو عظیم تر اور عظیم ترین بنانے میں کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں. کسی بھی ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے انفرادی اور ذاتی کوشش اہم ترین ہوتی ہے. جب معاشرے کا ہر فرد ذاتی اور انفرادی طور پر اپنی قومی، اخلاقی اور شرعی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو 90 فیصد سے زیادہ مسائل حل ہو جاتے ہیں.
    ذاتی اور انفرادی طور پر اس غطیم ملک کو عظیم تر بنانے میں کیسے کردار ادا کیا جا سکتا ہے. ہر بندہ قواعدوضوابط، قانون اور آئین کی پاسداری کرے، اپنے گھر اور محلے کی صفائی کا خاص خیال رکھے، ملازمین طبقہ وقت کی پابندی کریں اور محنت اور ایمانداری کا مظاہرہ کریں. تاجر حضرات ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ سے توبہ تائب ہو جائیں. پولیس اور عدالتوں کو چاہئے کہ ظالمین کو سزا دینے اور مظلومین کو انصاف دینے میں کوئی سمجھوتہ اور دیر نہ کریں. چھوٹے بڑوں کا احترام اور بڑے چھوٹوں سے پیار کریں.

    بزرگان کو چاہیے کہ وہ نئی اور آئندہ نسل کو بتائیں اور احساس دلائیں کہ کس طرح یہ پاکستان حاصل کیا گیا تھا تاکہ نئی اور آئندہ نسل کو اس عظیم ملک کی قدرومنزلت کا پتہ چل جائے. پاکستان کی اصل قدر اور قیمت وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے اس کی آزادی کے لئے عملی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنا تن، من اور دھن قربان کر دیا تھا. ہمارے بزرگوں نے منزلِ مراد تک پہنچنے کے لئے آگ اور خون کے کئی دریا عبور کئے تھے. ان محال مَرتَبَت لوگوں نے اپنے عزیزوں کو ہندوئوں اور سکھوں کی شقاوتِ قلبی کی نذر ہوتے ہوئے دیکھا تھا. اپنے بچوں کو نیزوں کی نوک پر اچھالے جانے کا دل دھلا دینے اور کلیجہ چھلنی کر دینے والے مناظر دیکھے. اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کی عصمت دری ہوتی دیکھی. اس سب کے باوجود یہ لوگ محض آزادی کی لگن اور پاک وطن کی سرزمین پر سجدہ شکر ادا کرنے کی دُھن میں کسی بھی مشکل اور رکاوٹ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے صرف اور صرف آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور جنّت نظیر پاکستان میں داخل ہو گئے. ہمارے بزرگان نے پاکستان کے لئے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانی دی اور ہجرت کی. آزادی کی تحریک میں حصہ لینے والوں اور پاکستان بنانے والوں میں سے آج محض گنتی کے لوگ ہی باقی رہ گئے ہیں اور انہیں لوگوں کی سانسوں اور خون میں پاکستان رچا بسا ہوا ہے اور ہر قطرہ خون کے ساتھ گردش کرتا ہے.

    آئیں! اس یوم آزادی پر ہم سب اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کے لئے ذاتی اور انفرادی ہر ممکن اپنی کوشش کریں گے. آئین کی پاسداری کرنے اور آئین شکنی نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں. اس یوم آزادی کو محرم الحرام کی وجہ سے سادگی کے ساتھ منائیں گے. اس سال جھنڈوں اور جھنڈیوں سے زیادہ درخت لگائیں گے. اپنی گلی اور محلے کی صفائی کا خاص خیال رکھیں گے.ان شاءاللہ تعالیٰ پاکستان تاقیامت قائم ودائم رہنے والا ہے.
    @mian_ihsaan

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    صبح 19 جولائی کو ہم آخری پڑاؤ مالم جبہ کی طرف چلے۔ مالم جبہ جانے کی خواہش تو بہت پہلے سے تھی جب لگتا تھا کہ یہاں پہاڑ آسمان سے چند فٹ کے فاصلے پر ہیں۔ موڑ انتہائی خطرناک لیکن روڈ صاف اور خوبصورت تھے۔ وہاں تو ٹھنڈک کا احساس ہی نیا تھا۔ وہاں رہائش عام طور پر گھر جیسے بنے ہوٹلوں کی تھی۔ ہر جگہ نئے ہوٹل بننا اس بات کی غمازی تھی کہ ماحول اچھا اور فضا پرسکون ہے۔ جبکہ سیاحت کے لیے بہترین ہے۔ ہمارا مسلہ یہ تھا کہ جتنی تعداد میں گئے تھے عام طور ہمیں پورا پورشن لینا پڑتا تھا جس میں چار سے پانچ کمرے ہوتے تھے۔ یہاں پہنچ کے دکھ ہوا کہ پہلے کیوں نا آئے یا ایک دن اور مل جاتا جو یہاں مزید رہتے۔ مالم جبہ کالام کی نسبت زیادہ ڈیویلپ تھا۔ چیئر لفٹ سے لے کرپی سی تک موجود تھا۔ چیئر لفٹ اور کیبل کار بہت خوبصورت اور نئی تھی۔ ماحول بھی ٹھیک تھا مقامی پولیس کے علاوہ فوجی جوان بھی دیکھے۔ جو کہ کسی بھی ناگہانی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند تھے۔ چیئر لفٹ سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو دوبارہ تیاری پکڑ لی پی سی جانے کی۔ پی سی یعنی پاک کانٹینینٹل جس میں جا کر حیران ہوئے کہ تمام تر سہولیات سے مزین تھے وہ تمام سہولیات جو میدانی علاقے میں پائے جانے والے پی سی اور بھوربن میں پایا جانے والا پی سی ہے۔ حیرت ہوئی کہ اتنی سہولیات دی گئیں لیکن مقامی ابادی کے پاس ہیلتھ اور سکول کی اتنی بہتر سہولیات نہیں تھیں۔ مقامی لوگوں کے پاس صحت کے مراکز اس طرح ڈیویلپ نہیں تھے جتنے وہاں ہوٹلز اور سیاحتی چیزیں تھیں۔ تھوڑا مقامی ابادی دیکھ کر دکھ ہوا۔ لیکن جگہ اور سیاحوں کے لیے انتظامات مزید بہتر کیے جارہے ہیں۔ ان انتظامات میں اگر مقامی ابادی کی بہتری کے لیے بھی کچھ تجاویز شامل کر لی جائیں تو بہترین ہو جائے گا۔ پی سی سےواپسی پے جب ہوٹل پہنچے تو ٹھنڈک بہت بڑھ چکی تھی۔ لگتا تھا شایدجنوری کا مہینہ ہو۔ وہاں صحیح معنوں ميں میں سکون سے سوئی۔ صبح کا منظر اس قدر خوبصورت اور دلنشین تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب صاف شفاف سبز پہاڑوں کی وسط سے بادل اڑ رہے تھے اس منظر کو صرف کیمرہ میں نہیں بلکہ دل کے کیمرہ مین محفوظ کیا۔ وہ بادل اڑتے اڑتے ہم تک آئے یہاں تک کہ دھند کی شکل میں ہمارے چاروں طرف پھیل گئے ہم سب بلکل بچوں کی طرح خوش ہورہے تھے۔ اور بچے تھے کہ واپس آنے سے ہی انکاری تھی۔ ہر بچے کی زبان پرایک ہی بات تھی کہ "ہم پنجاب نہیں جائیں گے” یہی حال بڑوں کا بھی تھا۔ اگر اگلے ہی دن بکرا عید نا ہوتی تو یقیناً ہم ایک رات اور رہتے وہاں اس ٹھنڈ کو بادلوں کو مزید انجوائے کرتے۔ مالم جبہ سے واپسی بہت برے دل سے ہوئی ایک تو وہ منظر چھوڑنے کو دل نہیں تھا دوسرا پنجاب کی گرمی یاد آرہی تھی۔ پر کیا کرتے واپس تو آنا ہی تھا ہم بھی آئے بہت خوبصورت یادیں سمیٹ کر بہت سارا پیار سمیٹ کر اور دوبارہ جانے کی خواہش کے ساتھ۔ ان شاء الله دوبارہ موقع ملا تو ضرور جائیں گے۔ آپ سب بھی سوات اور اس سے اگے جائیں کافی بہتر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ آپ لوگ جائیں گے تو وہاں کے لوگوں کا اعتماد بڑھےگا پھر اس سے بھی بہتر طریقے سے وہ کام کریں گے۔ کیونکہ انکا روزگار بھی تو سیاحوں کا مرہون منت ہے۔کچھ باتیں ہیں جن پر حکومت اگر نظرثانی کرے۔۔

    جس طرح ما شاء الله وہاں آمن آیا ہے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی آئی ہے جو کہ افواج پاکستان اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ہے۔ انکی قربانیوں کی وجہ سے ہے اگر مزید پرامن جگہ بنانا ہے تو فوجی چیک پوسٹس بنائی جائیں جو مستقل بنیادوں پر ہوں انکے ساتھ وہاں کے مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جائے
    جسطرح سکول، کالج، یونیورسٹی سوات میں دیکھی میڈیکل کالج دیکھے انکا دائرہ کار کالام مالم جبہ تک بڑھایا جائے انکو مکمل سکیورٹی دی جائے
    ہیلتھ کارڈ کی جس طرح سہولت دی ہے اسی طرح ہیلتھ کیئر سینٹر جگہ جگہ بنائے جائیں تاکہ علاج کے لیے مشکل نا ہو۔

    پرائمری اسکول کا دائرہ بڑھایا جائے چونکہ پہاڑی علاقے ہیں بچوں کے لیے زیادہ سفر نقصان دہ بھی ہوسکتاہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہاں گاڑیوں کی رجسٹریشن کروائی جائے۔ کیونکہ جو گاڑی پنجاب میں پچیس تیس لاکھ کی وہاں بامشکل دو سے چار لاکھ کی ہے۔ نمبر پلیٹس کے بغیر۔ وہاں سے گاڑی لی نہیں جاسکتی کیونکہ پنجاب میں داخل ہوتے ہی ضبط کر لی جانی ہے۔ تو وہاں بھی اسکوقانون کے دائرے میں لایا جائے۔ جسطرح مری سے لے کر ایبٹ آباد تک اور ناران کاغان تک ہوٹل اور معیاری جگہیں بنائی گئی ہیں یہاں نا صرف بنائی جائیں بلکہ انکی تشہیر بھی کی جائے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزراء یہاں آئیں اور اسے پروموٹ کریں تاکہ پاکستان کی خوبصورتی دنیا دیکھے۔ اور یہ جان سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے سیاحت کے حوالے سے اور دشمن کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ جزاک الله
    دعا گو ارم رائے

  • صدارتی نظام آ رہا ہے . تحریر : نعمان سرور

    صدارتی نظام آ رہا ہے . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان کو آزاد ہوئے 73 سال ہو گئے ہیں، پاکستان برطانوی تسلط سے آزاد ہوا تو دیگر ریاستوں کی طرح ہم نے بھی برطانیہ کا جمہوری نظام ملک میں لاگو کر دیا گیا۔
    پاکستان میں عملی طور پر صدارتی نظام ایوب خان کے دور میں سن 1958 میں آیا پھر اس کے بعد 1977 میں جنرل ضیا کے دور اور 1999 کے مشرف دور کو بھی صدارتی نظام کہہ سکتے ہیں یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کے اگر ملک پاکستان کی ترقی دیکھیں اور ملک کی خوشحالی کے منصوبے دیکھیں تو وہ ادوار آپ کو سب سے آگے نظر آتے ہیں جن میں صدارتی نظام حکومت تھا اگر قانونی طور پر نہیں بھی تھا تو عملی طور پر تو تھا ہی۔

    کیا وجہ ہے کے صدارتی نظام حکومت اتنا کامیاب ہے ؟ کیا وجہ ہے کے دنیا کے وہ ممالک جو ترقی کر رہے ہیں ان میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے مثال چین کی لیں یا روس کی یا پھر امریکہ،ترکی وغیرہ کی ان سب ممالک میں صدارتی نظام حکومت ہے، لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت کا چورن بیچا جاتا یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کے ملک کی عوام کا فائدہ کس نظام میں جمہوریت کے نام پر ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرتا ہے اور یہ الو سیدھا کرنے میں ہمارے ٹی وی چینل سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسوقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جسے اپنے پاؤں جمانے میں ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا گیا اس کی وجہ کیا تھی ؟

    یہ سمجھنا بہت آسان ہے کے اس نظام میں جب بھی کوئی حکومت آتی ہے تو وہ اپنے لوگ ملک کے ہر ادارے میں بیٹھا دیتے ہیں چاہے وہ عدلیہ ہو بیوروکریسی ہو یا دیگر ادارے پھر بوقت ضرورت ان لوگوں سے کام لیتے ہیں اور یہی کچھ عمران خان حکومت کے خلاف کیا گیا۔
    جمہوری نظام میں وزیراعظم کے پاس سب اختیارات ہوتے ہیں وہ پارلیمنٹ سے ایم این ایز کے ووٹ لے کر آتا ہے جن ایم این ایز کو عوام منتخب کرتی ہے۔

    وزیراعظم بننے کے لئے اگر اپنی جماعت کی اکثریت نہ ہو تو منتخب ہونے کے لئے دوسری جماعتوں کی شرائط ماننا پڑتی ہیں جیسے عمران خان کو بھی ماننا پڑی۔
    جبکہ صدارتی نظام میں صدر کا انتخاب پورے ملک کی عوام کرتی ہے۔ اصل میں جمہوری نظام یہی ہے، اس میں صدر کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہوتے ہیں، صدر اپنی مرضی کی ٹیم لے کر آ سکتا ہے وہ کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوتا وہ ملک بھر سے قابل لوگ لا کر انہیں اپنی ٹیم میں شامل کر سکتا ہے جب کے جمہوری پارلیمانی نظام میں اسے ہر طرح کی مفاہمت کرنی پڑتی ہے۔
    صدارتی نظام میں سربراہ مملکت کو اس بات کی آذادی ہوتی ہے کے وہ پورے ملک سے قابل لوگ اپنی کابینہ کا حصہ بنا سکتا ہے اور صحیح جگہ پر صحیح بندے کو زمہ داری دے سکتا ہے۔

    صدارتی نظام حکومت میں کام جلدی ہو پاتے ہیں کیونکہ اس میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر ختم ہو جاتے ہیں اس لئی یہ نظام ڈلیور کر پاتا ہے اور حکمران جو عوام سے وعدے کر کے آتا ہے اسے عملی شکل دے پاتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے کئی ادارے بیٹھے ہوتے اور فائل کو قانونی طور پر کئی کئی ماہ روک کر رکھتے ہیں۔
    صدارتی نظام میں قانون ساز اسمبلی اور صدر کے اپنے اپنے اختیارات ہیں اور دونوں ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔
    جمہوری نظام میں چونکہ سارے کاموں کا دارومدار پارلیمنٹ اور ان کے ممبران پر ہوتا ہے اس لئے اگر وہاں کوئی ایسی حکومت آ جائے جس کی دو تہائی اکثریت نہ ہو تو اس حکومت کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس طرح عوام کی فلاح کی پرجیکٹس بس فائلوں تک رہ جاتے ہیں حکومت ایک بعد دوسری آ جاتی ہے لیکن پراجیکٹ مکمل نہیں ہوتا۔

    اس کے علاوہ صدارتی نظام حکومت ایک مضبوط نظام حکومت ہے جبکہ پارلیمانی نظام میں اگر آپ کے ساتھ اتحادی جماعتیں کسی بھی وجہ سے کسی اختلاف کی وجہ سے اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو ووٹ آف نو کانفیڈنس سے آپ کی حکومت چند گھنٹوں میں ختم ہوسکتی ہے، اوریہ تلوار ہر وقت آپ کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔
    دنیا بہت آگے بڑھ گئی ہے اگر دنیا کی رفتار سے ترقی کرنی ہے یا ان کا مقابلہ کرنا ہے تو روایتی طریقوں سے یہ نہیں ہوگا
    ضرورت اس بات کی ہے سول سوسائٹی،نوجوان نسل اور ہمارے آنے والے مستقبل طلبا میں اس بات پر ہم آہنگی پیدا کی جائے کے پاکستان کی بہتری کے لئے صدارتی نظام کے حق میں ایک منظم مہم شروع کی جائے اور اسے ایک تحریک بنایا جائے تاکہ آنے والے سالوں میں ہم یہ نظام حکومت تبدیل کر سکیں یہ مطالبہ جب عوام کا مطالبہ بنے گا تو کوئی بھی سیاسی جماعت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی، لیکن اس کے لئے ہماری نوجوان نسل کو مستقل مزاجی سے کام کرنا ہوگا۔
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    پاکستان زندہ باد

    @nomysahir