Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خود احتسابی  تحریر: حلیمہ اعجاز ملک

    خود احتسابی تحریر: حلیمہ اعجاز ملک

    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا روز مرہ کا ایک جدول بنا کر اس کے مطابق اپنا محاسبہ کیا کریں تا کہ خود احتسابی کے عادی ہو سکیں مگر یاد رہے کہ خود احتسابی کے لیے یکسوئی اور ضمیر اور اس کی عدالت کا ہونا لازمی ہے یعنی ہمارے ضمیر کی عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں

    کچھ لمحے کی لیے سر جھکا کر اپنی گزشتہ زندگی کا احتساب کریں کہ کہاں سے چلے تھے اور آج کہاں ہیں؟ نفع میں ہیں یا نقصان میں جا رہے ہیں۔ اگر نفع میں ہیں تو اللّٰه کا شکر ادا کریں

    نفع سے مراد یہ ہے کہ زندگی نیکی اور اچھائی کے کاموں میں گزری ہو یعنی نماز، روزے کی پابندی کی ہو، ریاکاری، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر، وعدہ خلافی، والدین کی نافرمانی و دل آزاری سے بچنے کے ساتھ ساتھ دیگر احکاماتِ خداوندی بجا لاتے ہوئے زندگی بسر کی ہو تو نفع میں ہیں

    لیکن اگر اس کے برعکس زندگی کے لمحات گناہوں اور فضولیات میں گزرے ہوں تو سمجھ جائیے کہ ہم اس کاروبارِ حیات میں نقصان اٹھا رہے ہیں لہٰذا فوراً سنبھل جائیے اور توبہ کر کے اللّٰه کو راضی کرنے والے کاموں میں لگ جائیے

    دل میں جب بھی کوئی خیال پیدا ہو تو اس پر عمل کرنے کے بجائے ذرا توقف فرما کر سوچیے کہ یہ خیال رضائے الٰہی کے حصول کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ قربِ خدا کا باعث بن سکتا ہے تو اس سے پہلے کہ یہ فوت ہو جائے اس پر فوراً عمل کر گزریئے۔ اس کے برعکس اگر کوئی ایسا خیال آئے جو اللّٰه سے دوری کا سبب بنے تو اسے دل کی تختی سے فوراً مٹا ڈالیے کہ کہیں وہ پختہ نہ ہو جائے بلکہ کوشش کیجیے کہ جب بھی آپ کی دل میں ایسا کوئی خیال آئے جو یادِ اللّٰه سے دور کرنے والا ہو تو فوراً بدل دیجیئے اس خیالِ غیر کو خیالِ یار سے تا کہ وہ آپ کو نہ بدل سکے۔

    حضرت ابو طالبؓ فرماتے ہیں کہ وہ مختلف روایات میں مروی ہے کہ بعض نیک کام عمر میں زیادتی و برکت کا سبب بنتے ہیں تو جان لیجیے کہ عمر میں برکت سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنی چھوٹی سی عمر میں رضائے رب الانام کے حصول کی خاطر نیک کام کر کے وہ مقام و مرتبہ پانے میں کامیاب ہو جائیں جو دوسرے طویل عمر میں اپنی غفلت کے سبب نہ پا سکے اس طرح 12 ماہ کے قلیل عرصہ میں آپ علم و عمل کے اس بلند مقام پر فائز ہو سکتے ہیں جس مقام پر کوئی دوسرا شخص دین سے دوری کی بنا پر 20 سالوں میں بھی نہ پہنچ پائیں

    اب سوال یہ ہے کہ خود احتسابی کیسے کریں؟؟

    خود احتسابی سے مراد نفس کا محاسبہ کرنا اور روزانہ یہ دیکھنا ہے کہ آج کیا کیا؟ نیکی کے کام کر کے قربِ رب العزت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں؟ اور اگر کوئی شخص محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نامۂ اعمال میں نیکیوں کی کمی اور گناہوں کی زیادتی پائے تو اسے چاہیے کہ اللّٰه سے ڈرے اور توبہ کرتے ہوئے نیکیوں کی کثرت کی خواہش کرے کہ گناہ کے بعد نیکی کرنا گناہ کو مٹا دیتا ہے

    فرمانِ اللّٰه ہے

    "بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں”

    زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے، موت اپنی تمام تر سختیوں سمیت پیچھا کر رہی ہے۔ عنقریب ہمیں مرنا ہے اندھیری قبر میں اترنا ہے، اپنی کرنی کا بھگتنا ہے۔ یقیناً وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو مرنے سے قبل آخرت کی تیاری کر لیتے ہیں

    اے بے خبر! موت سے غافل نہ ہو
    یہاں سب چھوڑ کر جانا ہے تجھ کو

    کاش! دیگر فرائض و سنن کی بجائے آوری کے ساتھ ساتھ ہم تمام لوگ قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لیں۔

    کچھ نیکیاں کما لو، جلد آخرت بنا لو
    کوئی نہیں بھروسا اے لوگو زندگی کا

    @H___Malik

  • نوجوان اور منشیات. تحریر  ​فاروق زمان

    نوجوان اور منشیات. تحریر ​فاروق زمان

    منشیات تباہ کن زہر ہے جو لوگوں خصوصاً نوجوانوں کی رگوں میں سرائیت کر کے رفتہ رفتہ انھیں موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ آج کے نوجوان تیزی سے منشیات کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس کے پیچھے مختلف محرکات اور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کوئی عوامل اور وجہ اتنی ٹھوس نہیں ہو سکتی کہ منشیات کے زہر قاتل کو اپنا کر اپنی زندگی ختم کر بیٹھیں۔ منشیات کا استعمال نہایت خطرناک ہے، اور یہ جان لیے بغیر نہیں ٹلتا۔ منشیات نوجوانوں کو دیمک کی طرح ضائع کر رہی ہیں، اور لوگ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    چرس، شراب، سگریٹ، ہیروئن، شیشہ اور کوکین وغیرہ عام استعمال ہونے والی منشیات ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء میں ان کا استعمال عام ہے ان کا استعمال فیشن بن گیا ہے۔ اور صرف لڑکے ہی نہیں، لڑکیاں بھی اس کے استعمال میں آگئی ہیں۔ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے۔

    اسلام میں نشہ اور اشیاء کی سخت ممانعت ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر نشے اور خمار کی چیزوں سے دور رہنے کا کہا گیا ہے۔ حیف صد حیف، مذہب اور قرآن سے دوری کی وجہ سے ہی نوجوان منشیات اور برائی کے کاموں کا شکار ہوتے ہیں، ان کو مذہب اور قرآن کے احکامات، تعلیمات اور بیان کون بتلائے۔

    منشیات کا شکار ہونے والے نوجوان صرف اپنی زندگی ہی جہنم نہیں بناتے بلکہ خود سے منسلک کتنی ہی زندگیاں اجیرن کرتے ہیں۔ پورے گھرانے کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جو ان کی خوشیوں کو نگل لیتی ہے، ان کے خوابوں اور خواہشوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہے۔ والدین بے بسی سے اپنی اولاد کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    منشیات صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہیں۔ منشیات کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی کام کرنے اور پڑھنے لکھنے کی صلاحیتیں ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی تمام طاقتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ وہ نوجوان جنھوں نے سنہرے خوابوں کی تکمیل کرنی تھی، روشن راہوں پر چلنا تھا، خوبصورت مقصد حاصل کرنے تھے وہ اخلاقی برائیوں کا شکار ہو کر زوال پزیر ہو جاتے ہیں۔ وہ سارے دیکھے گئے خواب ملیامیٹ ہو جاتے ہیں اور بہت سی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔

    دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان ایڈونچر کرنے کی غرض سے منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یا دوستوں کے کہنے پر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں، پھر وہ اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں اور چاہ کر بھی اس دلدل سے نہیں نکل پاتے۔ بہت سے ایسے نوجوان ہیں جو منشیات کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    جو نوجوان اس کا شکار ہو چکے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ خود اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ مثبت سوچ اور انداز کو اپنا کر اس سے چھٹکارا پائیں۔ بہترین عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنا نصب العین متعین کریں اور اس کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں۔ اپنی اور اپنے سے منسلک لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ آپ ملک اور والدین کا قابل قدر سرمایہ ہیں، جود کو ضائع مت کریں۔ بلکہ خود کو ثابت کریں۔

    ہمیں مل کر منشیات کے ناسور کو اپنے ملک سے ختم کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کی روک تھام کے لیے اعلیٰ سطح پر بہترین، جامع اور مؤثر حکمت عملیاں بنائے۔ زیادہ سے زیادہ ریہیبلیشن سنٹرز اور صحت مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ جو اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے ری ہیبلیشن سنٹرز نہیں جا سکتے، ان کا مفت علاج ممکن ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات سمگلرز کو سخت سے سخت سزائیں دیں اور منشیات کے فروغ میں کردار ادا کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اس کے علاوہ منشیات کے خلاف آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے، اس ضمن میں میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں بھی اپنے حصے کا دیا جلانا ہو گا، نشے کے شکار افراد کے ساتھ بہتر رویہ اپنائیں، ان کو زندگی کی طرف مائل کریں، جو لوگ زیادہ مقدار میں منشیات کا استعمال کرتے ہیں ان کی نشاندہی کریں اور انھیں ری ہیبلیشن سنٹرز لے جائیں۔ تاکہ ان کا علاج ہو اور وہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ ہم مل کر منشیات کا جڑ سے خاتمہ کر سکتے ہیں۔

    @FarooqZPTI

  • 15اگست2021یوم آزادی،یوم سیاہ اور یوم الفتح تحریر: سردار حمزہ رافع

    15اگست2021یوم آزادی،یوم سیاہ اور یوم الفتح تحریر: سردار حمزہ رافع

    15 اگست2021 مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے طورپر منایا گیا۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں 30 سال سے متواتر جاری ہے۔ اس روز پوری وادی میں مکمل ہڑتال ہوتی ہے۔ کہیں بھی کوئی عوامی تقریب نہیں ہوتی سوائے سرکاری تقریبات کے جو فوج کے کڑے پہرے میں ہوتی ہیں۔ سرینگر بخشی سٹیڈیم میں مکمل کرفیو اور فوجی محاصرے میں گورنر ہو یا وزیراعلیٰ ڈرتے ہوئے ترنگا لہراتا ہے اور وہاں سے بھاگ نکلنے کی سوچتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی سنتی گولی یا مارٹر گولہ آکر تقریب کیساتھ ساتھ ان کا بھی خاتمہ کر دے اور دوسری طرف افغانستان میں طالبان مجاہدین نے سپر پاور امریکہ اور36 نیٹو ممالک کی فوجوں کو شکست فاش سے دوچار کر کے بھارت کے یوم آزادی کے دن یعنی 15اگست 2021 کو یوم الفتح منایا
    امریکی فوج نے سنہ 2001 سے اب تک افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کے خلاف لڑتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں افغانستان میں جنگ میں دو لاکھ 41 ہزار اموات، 22 کھرب 60 ارب ڈالرز کے اخراجات ہوئے تحقیق کے مطابق یہ اموات براہِ راست اس جنگ کی وجہ سے ہوئیں۔ جن میں 71 ہزار 344 عام شہری، دو ہزار 442 امریکہ کے فوجی اہلکار، 78 ہزار 314 افغان سیکیورٹی اہلکار اور 84 ہزار 191 مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔۔دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی،اسلحہ، بحری بیڑوں اور دنیا کے 37 سے زیادہ ممالک کی فوجوں نیٹو کا اتحاد اور اسلامی و غیر اسلامی ملکوں کے سفارتی تعلقات کو بروئے کار لانے کے باوجود بالآخر امریکہ اور نیٹو بیس سال کی طویل جنگ ہار کر افغانستان کو چھوڑ گیا امریکہ نے ایک ڈرامہ رچایا اور اور پھر اسے جواز بنا کر افغانستان پر چڑھ دوڑا اسے اس بات سے قطعاً غرض نہ تھی کہ کل کیا ہوگا بلکہ یقین تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ علاقے کو بھی تسخیر کر لے گا مگر یہ ایک بھیانک خواب ثابت ہوا اور اب اس نے شکست تسلیم کر لی.بلکہ یوں کہوں کہ دنیا کی جدید ترین جنگی سامان سے لیس فوج افغانوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست سے دوچار ہوگئی.اس جنگ میں جہاں افغانستان کا بہت نقصان ہوا وہاں پاکستان کا بھی کچھ کم نہیں رہا افغان باشندوں کی مدد کے عوض ستر ہزار سے زائد انسانوں کی جان کا نذرانہ دینا پڑا مگر افسوس دنیا اس قربانی کو سمجھنے سے قاصر ہے
    ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کے ادارتی صفحات پر چھائے امریکی ’’ماہرین‘‘فقط اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کو بے چین ہیں کہ مسلسل 20برسوں تک سوسے زیادہ ارب ڈالر کے خرچ سے تیار ہوئی افغان فوج جسے جدید ترین اسلحہ بھی فراہم ہوا تھا ایک لاکھ سے کم بتائے طالبان رضا کاروں کے سامنے ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوئی۔
    میرے نزدیک افغانستان میں امریکہ کی شکست کی بہت بڑی اک وجہ افغان مجاہدین کا آپنے بازوؤں اور پروں پہ بھروسہ تھا ،یہی وجہ تھی کہ افغان مجاہدین نے امت مسلمہ کو قصور وار ٹھہرانے کی بجائے یا پاکستان پر طعن و تشنیع کی بجائے اپنی جنگ خود لڑی اور اس کے نتیجے میں آج دنیا کی سپر پاور کو عبرتناک شکست ہوئی اور افغانی شیروں کو فتح حاصل ہوئی
    آج مقبوضہ کشمیر میں مسلسل غیر انسانی فوجی محاصرے، ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی چالیں، انسانی حقوق کی مجموعی خلاف ورزیوں نے مقبوضہ کشمیر میں دائمی انسانی و سیکیورٹی بحران،غیر انسانی محاصرہ اور بدترین غیر انسانی جبر جاری ہے تو مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف اففانستان کو ماڈل سمجھتے ہوئے بلخصوص بیس کیمپ اور بالعموم پورے کشمیر کے باشندوں کو کردار ادا کرنا ہو گا،اہلیان کشمیر کے پاس وسائل کی موجودگی کے ساتھ ساتھ لیٹریسی پوائنٹ بھی بلند ترین سطح پہ ہے،صرف اور صرف دنیا کے بدلتے حالات کی وجہ سے کشمیر کی جنگ کا دورانیہ بہت زیادہ لمبا اور اسی کے نتیجے میں مایوسیاں پیدا ہوئی اور لیڈرشپ کا فقدان پیدا ہوا،وہ بیس کیمپ جس کا تحریک آزادی کشمیر میں بنیادی کردار بنتا تھا مگر بدقسمتی سے بے حس اور بزنس مائینڈ کے لوگ بیس کیمپ پر قابض ہو گے اور تحریک آزادی کشمیر کو صرف اپنی سیاسی مفادات لینے کی خاطر استعمال کرتے رہے،آج بھی وقت ہے کہ بیس کیمپ کے شہری مقبوضہ کشمیر کی غیور نوجوانوں برھان وانی،پی ایچ ڈی اسکالر سبزار احمد صوفی،پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی،پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر بلال احمد ڈار کی طرح ملی بیداری کا ثبوت دیں اور کشمیر کے حقیقی پشتیبانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہو جائیں اور تحریک کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے لے۔وہ وقت دود نہیں جب امریکہ کی نسبت بہت کمزور ملک ہندوستان شکست کھا جائے گا کشمیر کے باشندے آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے۔۔۔
    کام نگار
    سردار حمزہ رافع

  • ایک  لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    ایک لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    ملکِ پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں خاتون کے ساتھ ظلم و جبر، بدسلوگی ، ہراساں کرنے ،قتل کرنے کی کوشش، اجتماعی زیادتی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نور مقدم، ماہم ، کنول ، قرة العین اور صاٸمہ کے واقعات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے سانسیں روک لیں، کبھی بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورتیں پامال ہوئیں، تو کبھی قبروں سے نکال کر خواتین کے ساتھ زیادتی کی گٸی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تین ماہ کی بچیوں سے لے کر بڑی عُمر تک کی خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔

    حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر دل دہلا دینے والے عاٸشہ اکرام کے واقعہ نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دل سوز واقعہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آیا۔ چودہ اگست کو شام ساڑھے چھ بجے عاٸشہ اکرام اور اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم چار سو اوباش اور درندے صفت ٹولے نے عاٸشہ اور انکے ساتھیوں پر حملہ کردیا۔ لڑکی کو ہراساں کیا اور اسکے کے ساتھ کھینچا تانی کی گٸی ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام اس بیٹی کے کپڑے تک پھاڑےگٸے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے ۔

    عاٸشہ اور اس کے ساتھیوں نے درندے صفت مردوں کے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران انتظاميہ کی جانب سے مینار پاکستان کے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن جانوروں نے جنگلے کو پھلانگ کر اس لڑکی کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی ہر پاکستانی دل گرفتہ ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ یہ کیسے جانور ہیں ، درندگی پر اتر آئے ہیں

    معذرت کے ساتھ چار سو مردوں میں ایک بھی مرد ایسا نہ تھا جو عاٸشہ کی مدد کرسکتا ۔ اپنی بہن سمجھ کر اسکی عزت و آبرو کی حفاظت کرتاہے ، اس کا محافظ بنتا اور اس کو بچاتا مگر افسوس کے ساتھ ان چار سو نا مردوں کی، آٹھ سو آنکھیں میں حیا نہیں تھی کہ کیسی بہن، بیٹی کے ساتھ یہ ہوتے دیکھ رہے تھے خدا نہ کریں اس کی جگہ ان کی بہن، بیٹی ہوتی تو کیا یہ سب اسی طرح تماشا دیکھتے

    آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی مرد کی روح نہیں کانپی، کسی کی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے ، ہماری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا وحیشانہ سلوک نہ کروں سب درندوں کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

     سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، یا معاشرے کی کوئی بھی عورت، ہمارے اسلام میں اسے ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا اور مردوں کو ان کے ادب و احترام کا حکم دیا گیا ہے

    خود نبیِ کریم  ﷺ  نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی ،بہترین برتاوٴ ، اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو ۔ترمذی

    درندگی کا یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ انسانیت سوز درندگی کے واقعہ میں ملوث چار سو ملزم کو ایسی عبرتناک سزادی جائے جو رہتی دنیا تک یاد رہے۔ تاکہ کیسی کی بہن بیٹی کی عزت یوں سرعام تار تار نہ ہو ۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے تاہم اب طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بھی بلاک کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پابندیوں کی امریکی پالیسی پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی قوانین کے تحت طالبان پر پابندی عائد ہے جس پر ان کے اکاؤنٹس بلاک کردیئے ہیں۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ لوٹ مار اور تشدد کی شکایات کے لیے بنائی گئی طالبان کی واٹس ایپ ہاٹ لائن کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ طالبان کےنام سے بنائے گئے آفیشل اکاونٹس بھی بلاک کیے گئے ہیں۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر طالبان سے متعلق تمام مواد پر پابندی عائد کی تھی فیس بک کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ایپلی کیشن نے اپنے پلیٹ فارمز سے طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ وہ طالبان کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اس لیے اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ٹیم مخصوص کی گئی ہے طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

  • عورت اور معاشرہ  تحریر:  خدیجہ نقوی

    عورت اور معاشرہ تحریر: خدیجہ نقوی

    ‏ایک سوال قانون نافذ کرنے والے _اداروں سے
    ایک سوال حکومت وقت سے
    ایک سوال مردوں سے
    بس ایک سوال۔۔۔۔_
    کیا پاکستان میں عورت اتنی سستی ھے؟
    آج صبح واک سے واپسی ہوئ تو حسب معمول گھر آتے ہی پہلا کام موبائل پہ مختلف ایپز کو چیک کرنا واٹس ایپ، فیس بک کے بعد باری آئ ٹیوٹر کی جہاں #minarepakistan ٹرینڈنگ تھا مجھے لگا کہ یقیناً کوئی مثبت چیز ھی ہو گی بس جزبہ حب الوطنی ٹھاٹھے مارنے لگا اور میں نے سوچا کیوں نہ اسے چیک کیا جاۓ اور دو چار ٹویٹس کر کہ شہیدوں میں اپنا نام بھی لکھوا دیاجاۓ
    مگر جیسے ہی ٹرینڈ اوپن کیا میں تو جیسے چکرا کہ رہ گئ کہ مسمات عائشہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے مانو میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی ہو۔ ایک اکاؤنٹ نے تو باقاعدہ ویڈیو ہی پوسٹ کی تھی۔
    اس واقعے پہ لوگوں کے ملے جلے خیالات کومنٹس میں موجود تھے کوئ اظہار ہمدردی کر رہا تھا تو کوئی سراپا احتجاج اس کے ساتھ کچھ لوگ لڑکی کو قصور وار مان رہے تھے۔ ایک دو اکاؤنٹس نے لڑکی کا بیک گراؤنڈ ھی غلط ثابت کر دیا کہ لڑکی تو ٹک ٹاک بناتی تھی۔ تنگ لباس پہنا ہوا تھا۔ چار سو بندوں میں یہ کرنے کیا گئ تھی وغیرہ وغیرہ
    ایک حد تک تو آپ کی سب باتیں ٹھیک ھیں مگر میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا اگر ایک لڑکی tiktok بنتی ہے تنگ لباس پہنتی ہے اپنی مرضی سے گھر سے باہر آتی جاتی ہے تو کیا وہ مال غنیمت ہے اسکی کوئی عزت نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ٹھیک تھا صرف اس وجہ سے کے وہ یہ سب کام کر رّہی تھی۔
    میرا دین تو سراپا رحمت ہے اگر کوئی بھٹک جائے تو دین میں تو اس کے لیے بھی واپسی کا راستہ ہے دین میں تو آسانی ہے، رحم ہے عفو درگذر ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان کن اقدار کے پیروں کار بن گئے ہیں جس دین میں سب سے زیادہ تلقین نفس پر قابو کرنے پر دی گئی ہے وہاں روز بروز زینب، نور،عائشہ جیسے کیس کہاں سے نمودار ہو رہے ہیں؟ کیا کوئ جواب ہے ہمارے پاس؟ کیا اس واقعے کو دیکھنے اور سننے کے بعد وہ لڑکیاں جو تعلیم، روزگار کی غرض سے گھروں سے باہر نکلتی ہیں ان کے ماں باپ انکی واپسی تک سولی پے لٹکے نہیں رہیں گے۔
    اسلام نے انبیاء نے ہماری زندگی ہمارا دین بہت آسان بنایا ہے پھر ہم یہ کس کی پیروی کر رہی ہیں؟کیا ہم ایک قوم ہیں؟ کیا ہم ایک سلجھا ہوا معاشرہ ہیں؟ کیا ہم اشراف المخلوقات ہیں؟ ذرا سوچیے۔۔۔۔
    @KhadijaNaqvi01
    Twitter handle

  • ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
    جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
    جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
    اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
    آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔

  • "کیا ہم صرف برے ہیں” تحریر: شاہ زیب

    آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستانی ہیں ہی ایسے ان کا کچھ نہیں ہو سکتا پاکستانی ہوں اور دو نمبری نہ کریں’ ہو ہی نہیں سکتا اس قوم نے کبھی بھی ٹھیک نہیں ہونا
    اور اس طرح کی بیشمار باتیں ایسی باتیں کرنے والوں سے میرا سوال ہے کہ آپ ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی برائی ہی کیوں کرتے ہیں ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں باقی لوگوں کی اچھائی دیکھتے اور سراہتے ہوئے آپ پاکستان کی برائی ہی کیوں دیکھاتے ہیں پاکستان میں اگر کیسی کو کوئی بھی مشکل ہوتی ہے تو لوگ بنا جان پہچان کہ بھی اس شخص کی مدد کر دیتے ہیں اگر کیسی کا ایکسیڈینٹ ہو جاتا ہے تو لوگ اپنا کام چھوڑ کر پہلے اس کو ہاسپٹل لے کر جاتے ہیں
    اگر کسی کے مالی حالات بھی خراب ہوتے ہیں تو اپنا خرچ محدود کر کے سب سے پہلے اس کی مدد کرتے ہیں.
    وہ ملک ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی ہر طرح کی مدد اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں، جہاں سب کی بیٹیاں سانجھیاں ہیں ، جہاں کوئی کسی مشکل میں ہو تو اس کو ان حالات سے سب مل کر نکالتے ہیں، نہ کے مغربی ممالک کے سوکالڈ پڑھے لکھے لوگوں کی طرح اپنے کام سے کام رکھتے ہیں یہ وہ ملک ہے جہاں لوگ سالانہ کروڑوں میں قرار دیتے ہیں اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنے ہم وطنوں کی مدد کرتے ہیں ۔
    سوال یہ ہے کہ یہ مٹھی بھر لوگ صرف ہمیں ہماری برائی ہی کیوں دکھاتے ہیں اگر سو لوگوں نے اچھا کام کیا اور ایک نے برا تو یہ کبھی اس سو لوگوں کا ذکر نہیں کریں گے ہاں اس ایک کا نہ صرف زکر کریں گے بلکہ جتنا ممکن ہو سکے گا اس کی تشہیر بھی کریں گے
    کیونکہ ان کا مقصد ہی ایک ہے اور وہ ہے پاکستان کو بُرا دکھانا.
    وہ لوگ جو دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے ہوئے نہیں تھکتے ان کو چاہیے کہ اپنی تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں اور سمجھیں اگر آپ میں اتنا ظرف نہیں ہے کہ آپ پاکستان اور پاکستانی عوام کی تعریف کر سکیں تو برائے مہربانی اپنے یہ فارمولات بھی اپنے تک رکھیں کیوں کہ پاکستانی عوام جیسی بہترین عوام کہیں نہیں ہمیں بس اپنی اچھائی دیکھنے کی ضرورت ہے

    ‎@shahzeb___

  • ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اس خطے کو امن کا پیغام  ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں تحریر: صائمہ رحمان

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اس خطے کو امن کا پیغام ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں تحریر: صائمہ رحمان

    پاکستانی نیوز چینلز پر پہلی بار ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی براہ راست پریس کانفرنس میں کہا کہ 20 سال جنگ کے بعد افغان طالبان نے افغانستان کی سر زمین کو آزاد کروا لیا۔نااہل افغان حکومت آخرتک جنگ کی بات کرتی رہی اب چاہتےہیں ایسانظام بنےجس میں تمام طبقےکےلوگ شامل ہوں ہم نے11دن میں پورےافغانستان کوفتح کیاہے۔ سیاسی نظام پرکام جاری ہے جلداعلان کردیاجائےگا۔ یہ صرف ہماری ہی نہیں بلکے پوری وقم کی فتح ہے آزادی ہر قوم کا حق ہے آزادی افغان عوام کا بھی بنیادی حق ہے افغانستان میں تمام غیرملکیوں کورہنےکاحق بھی ہے احترام کرتےہیں ہمارا کابل میں ‏داخل ہونےکاکوئی ارادہ نہیں تھا لیکن کرپٹ حکمران وقت سےپہلےبھاگے نکلےلوٹ مارہوئی توکابل میں ‏داخل ہوئے ہم لوگوں کی حفاظت کیلئےمجبوری میں کابل میں داخل ہوئے طالبان نہیں چاہتےکہ افغانستان میں جنگ جاری رہے.
    ‏ عام معافی کااعلان افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں کرنےدیں گے ۔ خواتین کو شرعی حدود کے مطابق کام کرنے دیا جائے گا خواتین کسی بھی معاشرےکااہم جزہوتی ہیں ان کااحترام کرتےہیں۔ خواتین کوشریعت اورقانون کےمطابق مکمل حقوق دینگے۔
    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی مفادات کے خلاف کوئی چیز نشر نہ کی جائے یہ بھی ایک تجویز دی گئی کابل میں سفارتخانوں اورگرین زون کومحفوظ بنایا جائے گا پڑوسی ممالک کو بھی ہمارےاصولوں کا احترام کرناچاہیِے ہماری افغان عوام سےکوئی دشمنی نہیں اسلامی امارت افغانستان میں ‏سیاسی نظام کی تشکیل کیلئےمشاورت جاری ہے چاہتےہیں ایسانظام بنےجس میں تمام طبقےکےلوگ ‏شامل ہوں ہم نے11دن میں پورےافغانستان کوفتح کیاہے ہم تکبرکی بات نہیں کرتےامن کی بات ‏کرتے ہیں۔ کسی سےذاتی دشمنی نہیں چاہتے کےکابل میں داخل ہونےکےبعدکسی کوتکلیف نہیں پہنچائی گئی یقین دلاتے ہیں عوام کےجان ومال کی حفاظت کی جائےگی افغانستان کوقبضےسےآزادکرانےپرفخرمحسوس کرتے ہیں
    افغانستان کوحق ہےکہ وہ قانون بنائےجواقدارکےمطابق ہوافغانستان کی تعمیرمیں بین الاقوامی برادری تعاون کرے ایسی حکومت تشکیل دی جائےگی جو عوام کی خدمت کرےافغان عوام اب افغانستان میں مثبت تبدیلی دیکھیں گےہم نےافغانستان کاکنٹرول سنبھال چکے ہیں اورجنگ ختم کر چکے ہیں اب ہم سب مل کر ایک متحدہ افغانستان چاہتےہیں اب عہدکر چکے ہیں افغان سرزمین دوسروں کےخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے میڈیاکوعوام کی اقداریااسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہو گی۔ افغان سرزمین کو آزادکرانا ہمارابڑاہدف تھا جو پورا ہوا۔
    میڈیاآزادہےتمام ادارےاپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ہماری تین تجاویزہیں،غیرجانبداری ہونی چاہیے نشریات اسلامی اقدارسےمتصادم نہیں ہونی چاہئیں قومی مفادات کےخلاف کوئی چیزنشرنہ کی جائےمعاشی ترقی کےحصول کوشش کی جائے گی انفرااسٹرکچرکی تعمیرکیلئےکام کیا جائے گا۔ روس چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ہم اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہیں آنے والے دنوں میں افغانستان منشیات سےپاک ملک ہوگا حکومت کےقیام کےبعدہی افغانستان کےجھنڈےکافیصلہ ہوگا۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • اللہ سے مضبوط تعلق دل کے سکون کا ذریعہ تحریر:تسمیہ یعقوب

    اللہ سے مضبوط تعلق دل کے سکون کا ذریعہ تحریر:تسمیہ یعقوب

    آج کے اس مصروف دور میں ہر انسان مختلف قسم کی پریشاینیوں اور بے خینیوں سے دو چار ہے۔ وہ زندگی کی اس دوڑ میں ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اتنے ساتھ لوگوں کو خوش رکھ سکے اور خود بھی ذہنی سکوں حاصل کرے۔۔۔۔۔۔
    لیکن افسوس انسان اس کوشش میں ناکام ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہی نہیں ہے کہ سکون کیا ہے اور وہ اسے کیسے حاصل کرے۔
    اس بے سکونی اور بے چینی کی وجہ سے وہ آئے دن مشکلات میں گھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ اتنوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے، اپنے دوستوں سے علیحدہ ہو جاتا ہے حتی کہ اپنے عستے بستے گھر کو اجاڑ بیٹھتا ہے۔۔ اور آہستہ آہستہ وہ خود کشی کی طرف جا پہنچتا ہے۔ اس کی زندگی کی کمائی اس کو ذرا برابر بھی سکون نہیں دے پاتے۔۔۔۔
    امام غزالی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ : "بندے کی اپنے رب سے دوری بندے کو بندے سے دور کر دیتی ہے۔
    لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سکون کس چیز میں ہے؟؟ جب اس دنیا کی آسائشیں سکون نہ دے سکی ۔۔ اس دنا کی کوئی رشتہ سکون نہ دے سکا تو آخر وہ کیا ہے جس سے سکون حاصل ہو۔۔۔۔ وہ کیا ہے جو زندگی میں مشکل سے مشکل حالات میں ڈگمگانے نہ دے؟؟
    وہ صرف اللہ کی طرف رجوع ہے۔۔۔۔ وہ اللہ سے ربط قائم کرنا ہے۔۔۔۔ وہ اللہ کی کتاب احکامات کو مضبوطی سے تھام لینا ہے۔۔
    پھر چاہے زندگی میں کوئی بھی حالات ہوں، زندگی کی ایسی مشکلات ہوں کہ جینا بھی دو بھر ہو تو جینا مشکل نہیں لگتا ۔۔۔ کیوں اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ وہ اپنے نیک بندے کےلیے ہر مشکل راستہ آسان کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔
    اللہ سے تعلق استوار کرنا کیا ہے؟؟
    اللہ سے تعلق استوار کرنا یہ ہے کہ اس کے احکام ماننا، اس کا ہر ہر حکم بجا لانا، اس کی عبادت میں خود کو مصروف کر لینا، اپنے روز مرہ کے کاموں میں اللہ کی احکام کے خلاف نہ جانا، اور کیسی بھی پریشانی ہو، کیسی بھی مشکل ہو اس کو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے برداشت کرنا۔۔۔۔۔
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
    اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(28)
    "جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں "۔
    یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ یونہی اللّٰہ تعالیٰ کی یاد محبت ِ الٰہی اور قرب ِ الٰہی کا عظیم ذریعہ ہے اور یہ چیزیں بھی دلوں کے قرار کا سبب ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ بھی کہا جائے تو یقینا درست ہوگا کہ ذکرِ الٰہی کی طبعی تاثیر بھی دلوں کا قرار ہے ، اسی لئے پریشان حال آدمی جب پریشانی میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تواس کے دل کو قرار آنا شروع ہوجاتا ہے ،یونہی قرآن بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس کے دلائل دلوں سے شکوک و شبہات دور کرکے چین دیتے ہیں ، یونہی دعا بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی حاجتمندوں کو سکون ملتا ہے اور اسمائے الٰہی اور عظمتِ الٰہی کا تذکرہ بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی محبانِ خدا کے دلوں کو چین ملتا ہے۔
    اللہ رب العالمین نے قرآن کریم کے اندر سورہ زخرف میں فرمایا :
    "وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَهُ قَرِینٌ.
    ” اور جو کوئی رحمان کے ذکر سے منہ موڑتا ہے، اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں، جو اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔ ( سورہ زخرف : 36)
    ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اس کے ذکر و اذکار سے اپنی زبان تر رکھیں، بندوں کے حقوق کی مکمل رعایت کریں، مشکل و پریشانی کے لمحات میں بھی خوش و خرم رہنا سیکھیں، غم و الم کی چادر اوڑھ کر بیماریوں کو دعوت نہ دیں، ورنہ تندرست و توانا ہونے کے باوجود بھی ہسپتالوں کے چکر کاٹیں گے، فراغت و خوش حالی کے باوجود بھی قلبی راحت و سکون سے محروم ہوکر ذہنی و نفسیاتی اذیتیں ہمارا جینا دوبھر کر دیں گی۔ اللہ ہمیں سکون کی دولت سے مالا مال کرے۔۔آمین!

    Twitter ID: @T7__G