Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر  حصہ اوّل  تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر حصہ اوّل تحریر چوہدری عطا محمد

    ارض پاک اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22وزیز اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی نے آج سے تقریباً 24سال سے کچھ قبل اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اب پاکستان کے 22 وزیرِ اعظم جناب عمران احمد خان نیازی 5 اکتوبر 1952 کو پنجاب کے خوبصورت شہر میانوالی کے ایک نیازی پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ عمران خان کا کا خاندان بعد میں لاہور میں مقیم ہوگیا جہاں انہوں نے اپنی جوانی لڑکپن کا زیادہ تر حصہ گزارا۔
    اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور چار بہنوں کا لاڈلا بھائی زرا طبعیت میں تیز مزاج کہا جاتا تھا عمران احمد خان نیازی سے ہمیشہ ہی اس بارے میں جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس کی تردید کرتے ہی نظر آتے ہیں عمران خان صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہہ وہ لڑکپن میں شرمیلی طبعیت کے مالک ہوتے تھے اور اکثر اوقات اپنے آپ میں ہی رئیتے تھے سکول کے دور سے ہی عمران خان کو کرکٹ سے کافی لگاؤ تھا
    اس کی ایک وجہ ان کا تعلق ایک بہت اچھے عظیم کرکٹ گھرانے سے تھا ان کے دو کزن جو ننھیالی تھے جاوید برکی اور ماجد خان آکسفورڈ سے پڑھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی بھی کر چکے تھے
    عمران احمد خان نیازی نے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی پھر کیتھڈرل اور پھر برطانیہ میں رائل گرامر سکول میں تعلیم حاصل کی

    اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفورڈ میں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی برقرار رکھا اسی وجہ سے وہ 1974 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی بنے
    شروع میں تو اپنے کالج کے لئے ہی کھیلتے رہے بعد میں انگلش کاؤنٹی ورسسٹر کے لئے کھیلتے رہے پاکستان کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کا پہلا میچ تقریباً 18 سال کی عمر میں 1971 میں برمنگھم میں کھیلا اپنی مخنت اور کرکٹ سے لگن کیوجہ سے جلد ہی قومی ٹیم میں مستقل اپنی جگہ بنا لی
    اےک بہترین آل راؤنڈر کی طرح تمام شعبوں بیٹنگ فیلڈنگ اور خصوصا باؤلنگ میں سوئنگ کیوجہ سے ٹیم کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوۓ

    پاکستان کو 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ کی پہلی اور اےک یاد گار فتح دلوانے کے بعد عمران خان نے اپنے اسپوٹس کریئر کے عروج پر کرکٹ چھوڑ دی۔
    اس وقت تک وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 362 وکٹیں حاصل کر چکے تھے اور 3807 رنز بھی بنا چکے تھے۔
    زندگی کا کافی عرصہ گزارنے کیوجہ سے عمران احمد خان نیازی کو کچھ مشہور شخصیات اور ایکسپرٹ ان کو مشرق اور مغرب کا بہترین امتزاج’ کہتے ہیں۔

    1987 میں جب عمران خان نے پاکستان کو انڈیا کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جتوائی تواس وقت ارض پاک کے صدر اور فوجی جنرل ضیاء الحق نے انہیں اپنی قائم کردہ پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) میں نہ کہ صرف شمولیت کی دعوت دی بلکہ ساتھ پارٹی میں عہدے کی پیشکش کی۔ جسے عمران خان نے شائستگی سے یہ پیشکش رد کردی۔
    1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے اپنی حقیقی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان ایک سرگرم فلاحی شخصیت کی شکل میں ابھر کر سامنے آۓ سیاست اور فلاحی زندگی پر بات جاری رہے گی حصہ دوم میں
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • درس کربلا تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    درس کربلا تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد واقعہ کربلا تاریخ کی اولین قربانیوں میں سے ایک ایسی قربانی ہے جو اپنے پچھلے واقعات کی طرح بہت سی باتیں تاریخ کے اوراق میں؛ قم کر گیا.
    حق کے لیے قربانی کا سلسلہ ازل سے چلتا آ رہا ہے لیکن یہ قربانی اپنی نوعیت کی الگ ہی قربانی ہے. جس میں جدائی قربانی _ یوسف کی طرح عارضی جدائی کا امتحان کا درد یا بیٹے کی گردن کی جگہ دنبہ کی قربانی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں سارا کنبہ اللّٰہ کریم کی راہ میں نچھاور کر دیا گیا. بلاشبہ موضوع اتنا حساس ہے کہ کسی بھی واقع کی حقیقت میں کمی یا موازنہ مقصود نہیں صرف اور صرف قربانی کی تاریخ سمجھانے کے لیے ان واقعات کا تزکرہ کیا گیا ہے.
    اس قربانی کے واقعات تو اکثر ملتے ہیں لیکن اس سے سبق کیا ملتا ہے اس بات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے. کیونکہ کسی بھی مقصد کے بنا قربانی کو سمجھنا اس کی اصل کو رائیگاں کر جاتا ہے جو کہ صریح غلط ہے. اور اس قربانی کی ادب کی خلاف بھی ہے.
    یہاں سے جو سوالات اٹھتے ہیں ان میں سے ایک کا تزکرہ کرتے ہیں
    قربانی کی انتہا کیا ہے؟
    جب دین کو ضرورت ہو تو انسان کی سب سے پہلی ترجیح اسلام کی روایات اور احکامات کی تکریم ہے. من و عن ان لر سر تسلیم خم کا جزبہ ہے. جس سفاکیت سے کنبہ اہل بیعت رضوان اللہ علیہم اجمعین کو باری باری شہید کیا گیا یہ اس بات کی علی الاعلان گواہی ہے دین کی حفاظت کے لیے اپنے وجود سے منسلک ہر رشتے کا درد بھی سینے پر سہنا پڑے سہا جاے لیکن دین سے کسی صورت انحراف نا کیا جاے. جناب نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ میدان کربلا میں کر دکھایا ایک ایک کر کہ جان سے پیارے نچھاور ہوتے رہے لیکن شعائر اسلام سے ایک انچ بھی مصالحتی پالیسی نہیں اپنای. بس جو احکام رب العالمین ہیں اور اس میں جو حدود ہیں انہیں پر قائم رہنے کا درس دیا.
    قربان جائیں تربیت نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تربیت سیدہ فاطمہ الزہراء اور شجاعت حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیا خوبصورت تربیت گاہ تھی دو پھول دونوں دین پر ایک سے بڑھ کر ایک نچھاور ہوے لیکن دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی. عشق اپنی پہچان رکھتا ہے. جب رب العالمین سے ہو جائے تو پھر کربلا میں کٹتے جگر کے ٹکڑے بھی رب العالمین کے حضور عاجزا پیش کر دیے جاتے ہیں.اس قربانی سے ہمیں ایک درس یہ بھی ملتا ہے کر زندگی کا اختتام بھی بندگی رب العالمین پر ہو. لب پر قرآن کریم کے الفاظ ہوں اور سر رب العالمین کی بندگی میں ہو. واہ کیا کمال عشق تھا کتنی خوبصورتی سے اپنے رب العالمین سے وفا کر گیا. پہلے ایک ایک کر کے کنبہ لٹایا پھر اپنے سینے پر زخم کھاے اور جب جان نکل رہی زکر اللہ کریم کی سب سے پیارے کلام کا سر اسی کے سامنے سجدے میں اور دل میں عشقِ رب العالمین کا سمندر لیے عشقِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ؛ للہ رب العالمین کے حضور پیش کیا گیا.اس عظیم قربانی سے ملنے والے درس کو آج سمجھنے کی ضرورت ہے. کہ جب حکم رب العالمین آ جاے تو مال جان اولاد سب کی حیثیت ثانوی اور دین اسلام کی سر بلندی اولین ترجیح ہونی چاہیے. زندگی آخری دموں پر آ جاے تب بھی دل میں چراغ عشق رب العالمین روشن تعلیمات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے جسم کا رواں رواں معطر ہو سر رب العالمین کے ہر حکم پر تسلیم خم ہو اور رعح پرواز کر جاے.

    @EngrMuddsairH

  • ملک میں بڑھتی مہنگائی، پر قصور وار کون؟ تحریر: سحر عارف

    ملک میں بڑھتی مہنگائی، پر قصور وار کون؟ تحریر: سحر عارف

    عوام کو درپیش مسائل کی ایک وجہ مہنگائی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کافی حد تک پریشانی کا شکار ہیں۔ ہر چیز کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی یے۔ ایک غریب کے لیے تو زندگی حقیقتا تنگ ہوچکی ہے۔ مہنگائی کے ستائے عوام موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں۔ لیکن یہاں کچھ باتیں سمجھنے کی بھی ہیں کہ مہنگائی کی اصل وجہ کیا یے؟

    کیا صرف حکومت اکیلی قصور وار ہے یا کسی اور کا بھی ہاتھ ہے؟ تو دیکھیں مہنگائی جیسی بیماری تو شروع ہی سے اس خطے میں رہی ہے۔

    بس پچھلے کچھ سالوں سے اس میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ پر کیا کسی نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟ تو پھر سنیں موجودہ حکومت سے قبل جو چوروں اور لٹیروں کا ٹبر ملک پر حکومت کررہا تھا اس نے اس حد تک باہر کے ممالک سے قرضے لیے کہ آج پاکستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے جس کی غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔

    غیر ملکی قرضے لے لے کر باہر اپنی ناجائز جائیدادیں بناتے رہے اور یہاں پاکستان کی غریب عوام کو بےوقوف۔ آج اگر پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی چیز پہ ٹیکس لگا ہے تو صرف اس لیے کہ ملک پر چڑھا قرضہ اتارا جاسکے۔

    کیونکہ دنیا میں کبھی بھی وہ قوم اور ملک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ قرضے کے بوجھ تلے دبا ہو۔ اب خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اگر آپ نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی غیر سے قرضہ لیا ہو تو کیا آپ کبھی اس شخص کے سامنے کھل کر اس کے خلاف حق سچ بات کہہ سکتے ہیں؟

    نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس وقت آپ اس کے مقروض ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ خود تو دو وقت کی روٹی کھا کر بھی گزارا کر لیا جائے لیکن جلد از جلد اپنے ملک کو قرضے کے بوجھ سے آزادی حاصل کروایں۔ اسی وجہ سے حکومت نے جب ہر چیز پر ٹیکس لگایا تو پاکستان مہنگائی سے دوچار ہوا۔

    پھر رہی سہی کسر چور مافیا نے پوری کردی۔ اب حکومت کی طرف سے جس چیز کی جتنی قیمت رکھی گئی ہے دکاندار اس سے کہیں زیادہ قیمت میں وہ چیز فروخت کرتے ہیں۔ تو پھر جناب ملک میں بڑھتی مہنگائی کے قصور وار کسی حد تک ہم بھی ہیں جو خاموشی سادھتے ہوئے وہ چیزیں خرید لیتے ہیں بجائے اس کے کہ ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

    @SeharSulehri

  • انسان خطا کا پتلا  تحریر  : راجہ ارشد

    انسان خطا کا پتلا تحریر : راجہ ارشد

    اس دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں جو غلطیوں اور گناہوں سے پاک ہو۔ ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔اس مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اکثر غلطیاں اور گناہ ہوتے رہتے ہیں جو معافی مانگنے اور توبہ کرنے سے مٹا دیئے جاتے ہیں۔

    غلطیوں کی کئی قسمیں ہیں۔کچھ غلطیاں چھوٹی ہوتی ہیں اور کچھ بڑی جو گناہ کے درجے میں آتی ہیں۔دونوں کے لیے معافی مانگنا اور توبہ کرنا ضروری ہے۔بڑی غلطیاں جو گناہ ہیں ان میں اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا ۔ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نا فرمانی ، خدا کے بندوں کو تنگ کرنا اور والدین کی نافرمانی شامل ہیں۔

    چھوٹی غلطیوں میں دوستوں لڑائی کرنا ، استادوں کی نافرمانی و بے ادبی وعدہ پورا نہ کرنا ، جھوٹ بولنا ،چغلی کرنا ، گالی دینا ، چوری کرنا ، غیبت اور حسد شامل ہیں۔
    ان سب میں سے چھوٹ سے تو سب ہی نفرت کرتے ہیں۔

    ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے معزز سمجھے جاتے تھے ۔یہاں تک کہ محمد ﷺ کے بجائے صادق کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔آپ ﷺ نے کبھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔آپﷺ نے فرمایا:
    سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ سچ بولنا ایسی نیکی ہے جو جنت میں لے جاتی ہے۔

    ابتدا میں جب غلطی ہو جاتی ہے تو وہ چھوٹی ہی ہوتی ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا مگر بار بار غلطی کرنے ، اس پر شرمندہ نہ ہونے اور معافی نہ مانگنے سے وہی چھوٹی غلطی بڑے گناہ میں بدل جاتی ہے۔بندہ غلطیاں کھلے عام بھی کرتا ہے اور چھپ کر بھی ، مثلا جیسے سکول میں کوئی بچہ کسی کی پینسل ، قلم وغیرہ اٹھا لے اور بار بار یہ عمل کرے اور پھر چوری ظاہر ہو جانے پر جھوٹ بھی بولے یہی چھوٹی غلطی بڑے گناہ میں تبدیل ہو جائے گی اور وہ بچہ بھی بڑا ہو کر مجرم بن جائے گا۔

    اس پورے کالم میں نصیحت ہے کہ جب بھی آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر معافی مانگ لیں تاکہ دوسروں کی دل بھی نہ دکھے اور آپ کی یہ عادت آئندہ زندگی میں آپ کو ایک اچھا اور نیک انسان بننے میں مدد بھی دے۔

    @RajaArshad56

  • عثمان بزدار حکومت اور پنجاب حصہ اول۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے کوئی صحیح قیادت اور کوئی معاشی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ برسوں سے معاشی بدحالی کا شکار رہا ۔ 2018 میں باشعور عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا اور تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔

    تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت ایک پس ماندہ اور محروم علاقے سے تعلق رکھنے والے کم گو لیکن اپنے کام کو فرض سمجھ کر کرنے والے شخص عثمان بزدار کے حوالے کر دی۔ جی ہاں وہی عثمان بزدار جن پر ہر طرف سے تنقید کے نشتر چلائے گئے لیکن ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے بڑی محنت اور لگن سے صوبہ پنجاب کی تقدیر بدلنے کے لیے دن رات ایک کر دئیے۔

    صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور حقیقی معنوں میں وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کے نئے پاکستان بنانے کی بنیاد صوبہ پنجاب بن رہا ہے۔

    آئیے صوبہ پنجاب کی معاشی حالت درست کرنے اور عوام کو بہتر روزگار کی فراہمی کے لیے کئے گئے عثمان بزدار حکومت کے چند اہم اقدامات پر نظر ڈالتے ہیں۔موجودہ حکومت سے قبل پنجاب میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہیں تھی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں سب سے پہلے ایک جامع صنعتی پالیسی لانے کے اقدامات کئے اور پنجاب کو پہلی صنعتی پالیسی دی۔ اس صنعتی پالیسی کے تحت پنجاب میں معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔
     
    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انڈسٹریز لگانے پر نظر ڈالیں تو عثمان بزدار حکومت اس وقت تک 8 نئے سپیشل اکنامک زونز بنا چکی ہے جبکہ 4 پرانے انڈسٹریل اسٹیٹس کو اپ گریڈ کر کے ان کو انڈسٹریل زونز کے سٹیٹس بھی دیا جاچکا ہے۔
    پنجاب کے شہر فیصل آباد میں قائم کیا جانے والا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی 3217ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے جس سے براہ راست 4لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ جبکہ مجموعی طور پر 10لاکھ افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

    پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں موٹروے کے نزدیک 1536 ایکڑ رقبے پر مشتمل پاکستان کے پہلے سمارٹ اکنامک زون قائداعظم بزنس پارک کے منصوبے کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اس پروجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس پراجیکٹ سے روزگار کے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہونگے۔

     عثمان بزدار حکومت نے صوبے کی مختلف شہروں میں جیسے بھلوال، رحیم یار خان اور وھاڑی کی انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون کا درجہ دیا ہے۔ جس سے باالترتیب 6000،5500اور 4000روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیڈمک میں ون ونڈو سروس سنٹر بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔

    قارئین عثمان بزدار حکومت کے کچھ اور کاموں کا تذکرہ کل کریں گے ان شاء اللہ۔ اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو۔

    تحریر : راجہ حشام صادق

    @No1Hasham

  • فتح مبین تحریر-محسن ریاض

    پندرہ اگست یوں تو یوم انڈیا کے طور پر منایا جاتا تھا مگر اس بار ایک انہونی ہوئی اور خدا کے سپاہیوں نے اپنی سرزمین قابض افواج سے واپس لے لی-کوئی بھی عقلمند شخص یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ یہ بھی ممکن ہے مگر دنیا نے دیکھا کہ کسے ان خدا کے سپاہیوں نے مناسب وقت کا انتظار کیا اور اپنا حق حاصل کر لیا-ابھی چند روز پہلے امریکی صدر دنیا بھر کے میڈیا کو یہ بتا رہا تھا کہ افغانستان کے پاس ساڑھے تین لاکھ کے قریب فوج ہے جبکہ ہم نے ان کی ٹریننگ کی ہے اور ان کے پاس ہمارا جدید ترین اسلحہ ہے لہذا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ طالبان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ افغانستان پر قبضہ کر سکیں مگر انہوں نے جس جرات اور بہادری سے تاریخ رقم کی ہے اسے دنیا نے دیکھا ہے افغان صدر نے صبح کے وقت دارلحکومت کی سرحدوں پر موجود فوجیوں کے پاس گئے اور انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں مگر جس بزدلی کے ساتھ فرار ہوئے وہ بھی ایک الگ ہی منظر تھا اس کے علاوہ یہ فتح ہوں ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی فہرست تھی ایک ایسے ہی واقعے کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب امریکہ حملہ آور ہوا تھا تو قابل میں کافی تعداد میں طالبان گھیرے جا چکے تھے اس وقت دوستم نے ان کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ اگر آپ ہتھیار ڈال دیں تو آپ کو چھوڑ دیا جائے گا اور طالبان نے بھی یہ مناسب سمجھا کہ مناسب وقت کا انتظار کیا جائی کیونکہ اس وقت لڑنا سراسر حماقت تھی مگر ان کی ساتھ دھوکہ کیا گیا اور کنٹینر میں بند کر کہ ان پر گولیوں کو برسات کی گئی اس وقت ان کے پیچھے موجود گاڑی میں موجود صحافی بتاتے ہیں کہ سڑکیں خون سے دھل گئی تھیں اس کے علاوہ دشت لیلیٰ بھی اس کا ایک گواہ ہے جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں طالبان کو دفنایاگیا-آج یہ انہی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ طالبان نے متحد ہو کر مناسب وقت کا انظار کیا اورآخر کار اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرے اس کے علاوہ جس منظم انداز میں انہوں نے بغیر کسی جانی نقصان کے دارلحکومت کو فتح کیا وہ بھی ایک دیدنی منظر تھا جب انہوں نے صدارتی محل میں داخل کر کر سورۂ نصر سے اپنے نئے دور کا آغاز کیا اس نے ایک بار تمام دنیا کو یہ احساس دلا دیا کہ دنیا کی تمام طاقتیں ایک طرف اور اللہ کی طاقت ایک طرف ہو تو فتح خدا کے سپاہیوں کی ہی ہوتی ہے بیس سال تک امریکہ اپنے تمام تر سازوسامان اور لاولشکر کے ساتھ یہاں پر ٹکریں مارتا رہا مگر یہ سپاہی چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہے اور خدا کے وعدے پر یقین رکھا-آج جب پوری دنیا یہ پراپیگنڈہ کر رہی تھی کہ یہ قتل و غارت کریں گے سکول گرا دیں گے تباہی مچا دیں گے مگر انہوں نے جس تربیت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے تمام دنیا کو حیران کر دیا ہے ہر طرف ٹریفک رواں دواں تھی مارکیٹیں اور بازار کھلے تھے اس کے بعد آج صبح ایک منظر دیکھکر خوشی ہوئی کہ طالبات سکول جارہی تھی اور طالبان نے اقتدار کی منتقلی کی پرامن منتقلی کا معاہدہ کر رہے ہیں-اس کے علاوہ عالمی منظر نامے پر تو اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ بعد کی بات ہے مگر اس وقت بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے بیس سال سے یہاں پر دہشتگردی میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی مگر طالبان کے کنٹرول کے بعد ان کا ساری سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے بھارت نے باقاعدہ طور پر اشرف غنی حکومت کو اسلحے سے بھرے ٹرک بھیجے تھے تاکہ ان کہ مفاد محفوظ رہیں مگر خدا کے سپاہیوں نے ان کے ارادے خاک میں ملا دیے ہیں آج یہ منظر دیکھ کر کہنے کو دل کر رہا ہے کہ بے شک وہ غالب قدرت والا ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی-

    باغی ٹی وی :بی بی سی کے مطابق فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قانون کے تحت طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم نے امریکہ کی خطرناک تنظیموں سے متعلق پالیسی کے پیش نظر طالبان کو اپنی خدمات کو فراہم کرنا بند کردیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ماہر ٹیم ہے۔

    طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔


    طالبان کی جانب سے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول فیس بک کو اس گروپ سے متعلق مواد سے نمٹنے کے لیے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے یا ان کی حمایت میں بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے اور تمام پلیٹ فارمز پر طالبان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔

    فیس بک نے مزید کہا کہ اس گروپ سے منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغانستان کے دری اور پشتو بولنے والے ماہرین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو پلیٹ فارم پر ابھرتے ہوئے مسائل کی شناخت اور آگاہ کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

    سوشل میڈیا دیو نے کہا کہ وہ قومی حکومتوں کی پہچان کے بارے میں فیصلے نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے "عالمی برادری کے اختیار” کی پیروی کرتا ہے۔

    فیس بک نے روشنی ڈالی کہ یہ پالیسی اپنے تمام پلیٹ فارمز بشمول اس کے فلیگ شپ سوشل میڈیا نیٹ ورک ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر لاگو ہوتی ہے۔

    فیس بک نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس کے اکاؤنٹ کو گروپ سے منسلک پایا گیا تو وہ کارروائی کرے گا حریف سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اس بات کی جانچ پڑتال میں ہیں کہ وہ طالبان سے متعلقہ مواد کو کس طرح سنبھالتے ہیں-

  • سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    ضروریات کی تخلیق کرنا، لوگوں کی ضروریات کی نشاندھی کرنا یا کسی بھی چیز کو لوگوں کی ضرورت بنا دینا مارکیٹنگ کہلاتا ہے۔

    دورے جدید میں انسان نے بہت ترقی کی مختلف پروڈکٹ بنائیں، ان پروڈکٹ کو لوگوں میں متعارف کرنے کے لیے مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا اور اس طرح وہ پروڈکٹ آج آپ کے گھروں میں موجود ہیں یا ان پروڈکٹ کا آپ کی زندگیوں سے گہرا تعلق ہے، چاہے آپ ان پروڈکٹ کو خرید پائن یا خریدنے کی خواہش کریں۔

    مارکیٹنگ کا علم رکھنے کے دعوےدار اتھیکل مارکیٹنگ پر یقین رکھنے کا درس دیتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ میں ایتھکس یا ایتھیکل مارکیٹنگ بھی کسی چیز کا نام ہے؟

    یقینا نہیں, مارکیٹنگ اور ایتھیکس دو الگ الگ چیزوں کے نام ہیں، ماہرین نے مارکیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پروڈکٹ کو کنزیومر کے دماغ میں ایسے پوزیشن کیا کہ وہ انہیں اپنے فائدے میں اور اپنے اسٹیٹس کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ اسی طرح کوئی بھی برینڈ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی پروڈکٹ اس کے مدمقابل سے کم بکے، اس لیے وہ ہر راستہ اپناتا ہے جس سے وہ اپنے مدمقابل پروڈکٹس کو ڈیمج کرسکے تاکہ لوگ اس کے مدمقابل کو چھوڑ کر اس کے برینڈ کو اپنا سکیں، یہ سب وہ غیر اخلاقی مارکیٹنگ سے ہی حاصل کرسکتا ہے، تو کیا اب ہم غیر اخلاقی طریقہ کار پر مارکیٹ ہوئی پراڈکٹ کے اوپر بھی اعتبار کرنا شروع کر دیں؟

    ففتھ جنریشن وار فیئر کے دوران سیاست میں لوگوں کو مارکیٹ کرنا شروع کیا گیا، جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، مودی، عمران خان, وغیرہ وغیرہ۔

    ایک ایسا مارکیٹنگ پلان جس میں ہزاروں لوگوں کے سوشل میڈیا سیل بنائے گئے ٹی وی شوز کے پرائم ٹائم پر عمران خان کو بٹھایا گیا وہ سوالات پوچھے گئے جو پرائم منسٹر شپ کے کینڈیڈیٹ سے پوچھے جاتے ہیں، پاکستان کے بڑے میڈیا چینلز کے اینکرز،انفلوئنسرز کو انگیج کیا گیا۔ پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کا میڈیا ٹائم خریدا گیا، مشہور گلوکاروں سے گانے بنوائے گئےاور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی مدد لی گئی اور عوام میں ایک ایسا امیج بلڈ کیا جس سے انہیں لگا کہ یہی وہ آخری مسیحا اور سٹیٹس مین ہے جو کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے۔

    اس مارکیٹنگ پلان کی سب سے اہم حکمت عملی عمران خان کو نواز شریف کے مخالف اسٹیبلش کرنا تھا، جس میں پاکستان کے بہترین دماغوں نے بیٹھ کر نواز شریف کے خلاف کمپین تیار کی اور نواز شریف کو چور اور کرپٹ اسٹیبلش کر دیا۔
    عوام سے مارکیٹنگ سٹریٹجی کے طور پر اوور کمینٹس کی گئیں، جیسے کہ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، پاکستان کے قرضے اتارنا، آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ مت پھیلانا، بیرون ملک سے لوگ پاکستان نوکریاں لینے آئیں گے۔

    ناممکن چیزوں کو بغیر ایگزیکیوشن پلان کے ممکن کرنا مارکیٹنگ کا ہی تو ایک کمال ہے، جس کو ایتھیکل(اخلاقی) مارکیٹنگ کہاجا رہا ہے۔

    مارکیٹنگ کی ایک قسم جس کو برینڈ پوزیشنگ کہتے ہیں، جس کی مدد سے خاص ماہرین نے عمران خان کو پاکستان کی تقدیر بدلنے والے مسیحا کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ "آپ کی شلوار گیلی ہو جائیں گی” جیسے غیر اخلاقی الفاظ بھی عمران خان کے سپورٹرز کو اچھے لگنے لگے۔

    اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مارکیٹنگ کی مدد سے عمران خان کا ایسا امیج عوام کے دماغ میں پوزیشن کیا گیا، جس سے ان کی غیر اخلاقی باتیں بھی عوام کو اخلاقی لگنے لگی۔

    کچھ لوگ عمران خان کو پہلے سے ہی بنا ہوا بہت بڑا اسٹیبلش برینڈ کہتے تھے، مگر سیاسی مثبت امیج بنانے کے لیے، غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا، (مارکیٹنگ کو مارکیٹ کرنے کے لئے مارکیٹنگ کی ہی ضرورت پڑی)۔

    مارکیٹنگ ایک ایسا فن ہے جو غیر اہم کو اہم بنا دیتا ہے۔
    اس لئے مارکیٹنگ کو اپنی زندگی کا اہم ستون بنائیں اور اس دنیا میں عجوبے پیدا کریں۔

  • آزاد لیکن غلام تحریر: عزیز الرحمن

    آزاد لیکن غلام تحریر: عزیز الرحمن

    غلامی کی دو اقسام ہیں۔ایک جسمانی غلامی اور دوسری ذہنی غلامی۔ان دونوں غلامیوں کی تین وجوہات ہوتی ہیں۔ غربت، جنگ اور جہالت۔ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور انسان کی سب سے بڑی قوت اس کی ذہنی و فکری آزادی ہے۔جب انسان ذہنی طور پر آزاد ہو تو وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور جسمانی طور پر غلام لیکن ذہنی طور پر آزاد قوم بہت جلد جسمانی آزادی حاصل کر لیتی ہے۔لیکن ذہنی غلامی میں مبتلا قوم اپنے آپ کو غلام ہی نہیں سمجھتی اس لیے آزادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہمارا سب سے بڑا المیہ ہم نے اپنے اپنے مسالک، اکابرین، جاگیرداروں اور وڈیرے ہیں۔ہمارے ہاں دلائل کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
    ہمدردی کی نسل سے تعلق رکھتی یہ غلامی اْس غلام کی دوہری کمر کی طرح ہے جو پنجرے میں پڑے پڑے ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور پنجرے سے باہر نکلنے پر بھی ہم آہستہ آہستہ سیدھی ہوتی کمر کو پھر سے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوہری کمر کے عادی ہو چکے ہیں۔
    تقسیم برصغیر پاک و ہند میں ہم نے انگریزوں سے جسمانی آزادی تو حاصل کر لی لیکن ذہنی طور پر ہم اب بھی غلام ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ہمارے رہن سہن، ہماری سوچ سب انگریزوں اور ہندووں کے غلام ہیں۔ ہمارے معاشرے میں متعدد گھرانوں کی بیٹیاں صرف اس وجہ سے شادی کے بندھن میں بندھنے سے گریزاں ہے کہ ان کے ماں باپ اْن کے جہیز کا بندوبست نہیں کر پاتے۔یہ لعنت بھی ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے جبکہ حقیقی معنوں میں جہیز کی لعنت کا ہمارے دین اور ثقافت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں، لیکن کیا کریں صاحب ہم بھی برصغیر پاک و ہند کی سر زمین پر پروان چڑھے ہیں تو پھر ہندووں کی یہ روایات اپنانا ہماری زندگی کا لازمی جزو بن گیا ہے۔
    ایک دوسرا پہلو اس نوجوان طبقے کا ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیتے کہ ہمیں کس کا غلام بننا ہے، خود کو کتنی قیمت پر بیچنا ہے اور غلامی کا طوق ہمارے گلے میں نہ ڈالا گیا تو پھر اپنی ڈگری،تعلیمی اداروں اور حکومت کو کیسے لعن طعن کرنا ہے یا غلامی نے ہمیں نہ قبول کیا تو ہم موت کو قبول کر لیں گے۔
    ہماری عوام،ہمارے حکمران سب ہی انگلش کو اپنی زبان سمجھتے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی اردو میں بات کرے تواْسے جاہل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہم تو ذہنی غلام ہیں۔ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرنا ابھی تک انسانیت کا خواب ہے۔ حکومتوں نے اپنی پالیسوں کے ذریعے،بزنس مین نے کاروباری پالیسی کے ذریعے، ذرائع ابلاغ نے ٹی وی ریڈیو اخبارات رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ بشمول انٹرنیٹ کے ذریعے ذہنی غلامی کو نہ نسبت کم کرنے کے اور زیادہ کیا۔ انسان کی سوچ، طرز عمل اور انداز کو توڑ مروڑ کر اپنا مطیع کیا گیا ہے۔ایک آزاد انسان جس کی سوچ بھی آزاد ہونی چاہیے مگر اس کی سوچ کو مختلف طریقوں، زاویوں اور حربوں سے قید کیا گیا۔ آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے۔ آزاد سوچ انسان کا پیدائشی حق ہے۔ آزادی کو سمجھیں اور آزادی کی قدر کریں۔ اپنے معاشرے کو محکومیت سے نجات دلانے کے لیے ہمت کریں۔جہاں آزادی کو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی، خطرے میں دیکھیں تو انسانیت کی خاطر آزادی اور اس کے متوالوں کا بلا جھجک دفاع کریں۔ ہمیں احساس کمتری کو ترک کرکے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔
    دوسروں کی بجائے اپنی برائیوں کو دور کر کے زندگی کے داخلی اور خارجی انتشار میں راستے خود تلاش کرنا ہونگے، ہر دلکش اور رجحان بن جانے والی چیز کو اپنی راہ نجات سمجھنے کی بجائے اْس کی حقیقی قدروقیمت معلوم کرنا ہوگی۔ہمیں اپنی افضل ترین امت ہونے اور زرخرید غلام ہونے میں فرق معلوم ہونا چاہیے۔ ہم میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ جب ہمارے حقوق کی پامالی کی جائے تو اس کے خلاف احتجاجاََ کھڑے ہو سکیں۔

    @The_Pindiwal

  • میرے امی ابو جنت کے پھول تحریر :فرزانہ شریف

    میرے امی ابو جنت کے پھول تحریر :فرزانہ شریف

    ماں کے قدموں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ
    جب تک باپ اولاد سے راضی نہ ہواولاد چاہئیے کتنی بھی نیک ہو جنت میں نہیں جاسکتی اس لیے والدین کو ان کی ذندگی میں ہی راضی کرلواگر وہ کسی بات سے منع کرتے ہیں تو اولاد کے فائدے کے لیے کیونکہ انھوں نے اپنے تجربات سے اتنا کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے جو آپکو اپنی پوری ذندگی لگا کر سیکھنا پڑتا ہے
    اکثر دیکھتی ہوں کچھ مرد پوری ذندگی محنت کرتے ہیں دن رات ایک کرتے ہیں اپنی اولاد کو عیش کی ذندگی دینے کےلیے اپنی ہستی تک بھول جاتے ہیں ان کی ذندگی کا ایک ہی مقصد بن کر رہ جاتا ہے جن چیزوں کو وہ خود ترسے اپنی اولاد کو ان چیزوں کے لیے ترستے ہوئے نہ دیکھے تو اس گھن چکر میں وہ اپنی اولاد سے دور ہوجاتے ہیں جس کے لیے وہ اتنی محنت کررہے ہوتے ہیں ذیادہ وجہ اولاد سے دور ہونے کی بیرون ملک جاب کرنا یا پھر ذیادہ گھنٹے کام کرنا گھرمیں بہت کم وقت دینا یا پھر کچھ اور وجوہات کی بنا پر اولاد سے اپنائیت بھرا تعلق نہیں بنا پاتے جس وجہ سےان کے بیچ اظہار کا ایک فاصلہ رہتا یے ۔۔۔
    یہ ذمہ داری ماں پر ہوتی ہے کہ شروع سے اپنے بچے کے دل میں اس کے باپ کی محبت پیدا کرے جب موقع ملے اپنے بچوں کو ان کے باپ کی اچھی صفات بتائیں کہ بچے کے دل میں شروع سے اپنے باپ کی محبت مضبوط جڑیں پکڑنی شروع کردیں وہ اپنے باپ کو فالو کرنے اور اپنے باپ کو آئیڈیل بنانا پسند کریں ایک نسلی ماں کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے بچے باپ سے فاصلہ رکھیں اور اس سے ذیادہ پیار کریں میں نے کبھی اس گھر میں خیر نہیں دیکھی جس گھر میں باپ کو اس کا اصل حق نہ ملے اس کی اولاد کی طرف سے ۔۔کہتے ہیں دنیا میں واحد باپ ہوتا ہے جو چاہتا ہے میری اولاد مجھ سے بھی کامیاب ہو تو پھرایسی ہستی سے کوئی کیسے دور رہ سکتا ہے یا اس کا دل دکھا سکتا ہے باپ اولاد کے لیے گنا شجرسایہ ہے جب یہ سائے سر سے اتر جاتے ہیں تو اولاد تہی دامن ہوکر رہ جاتی ہے پھر کچھ عرصہ تک تو انسان خود کو اندر سے ویران اور خالی سا پاتا ہے ایسا لگتا ہے دنیا ہی ختم ہوگی ہے یہ اللہ تعالی کی ہم انسانوں پر خاص کرم نوازی ہے کہ اس نے انسان میں بھولنے کی جیسی نعمت دی ہوئی ہے ورنہ ہم اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کو ہر دم یاد کرکر کے خود کو بھی ختم کرلیتے ۔ماں یا باپ میں سے ایک بھی دنیا سے رخصت ہوجائے تو اولاد کے لیے یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے حضرت ایوب علیہ السلام جیسا صبر مانگنے کو دل کرتا ہے لوگوں کے لیے تو نارمل بات ہوتی ہے چند ماہ چند سال کہ فلاں کا باپ یا ماں دنیا سے رخصت ہوئی تھی لیکن اولاد کے لیے ہر دم یہ زخم تازہ رہتا ہے ۔۔پھر دنیا کی ہر نعمت ہر چیز انجوائے کریں لیکن دل کا ایک کونا ہمیشہ دکھی غم سے نڈھال رہتا ہے دنیا کی کوئی خوشی اس دکھ کو ختم نہیں کرپاتی کہ انسان بچوں کی طرح اپنے پیاروں کی جدائی میں بلک بلک کر روتا ہے جو دنیا میں آیا اس نے ایک دن واپس جانا ہے کیونکہ یہ روح کا اللہ سے وعدہ ہوتا ہے بس ہم انسان کیا کریں ہمیں صبر کیوں نہیں آتا چاہ کر بھی ۔۔جتنا انسان کو اپنے باپ اور ماں سے پیار ہوتا ہے اتنا ہی اپنے چچا سے اپنی خالہ سے اپنے ماموں جی سے ہوتا ہے ۔۔یہ دکھ جانا میں نے کہ میں نے اپنا باپ کھویا عزیز الجان دو چچا جی ایک سال میں کھوئے کہ دل کے زخم تھوڑے سے ٹھیک ہوتے ہیں کہ پھر ان کی یادوں کا ان کی محبت شفقت کا کوئی پل یاد آجاتا ہے تو دل کے زخم پھر سے ہرے ہوجاتے ہیں کاش کوئی ایسا ورد ہو کوئی ایسی دوا ہو یا دعا ہو کہ انسان اس اذیت سے باہر نکل آئے ۔۔!!!
    اکثر ایسا ہوتا ہے اور دیکھنے ہیں ہم کہ بچے عمومآ ماں کے ساتھ رہنے اور ماوں کی طبیعت میں نرمی اور بے اختیار اپنی اولاد سے محبت اور اظہار کے باعث بچے ماں سے ذیادہ قریب رہتے ہیں ہر بات باپ کی نسبت ماں سے شئیر کرکے ذیادہ ایزی فیل کرتے ہیں۔ماں کے گرد گھیرا ڈالے اولادیں اس سے لاڈ پیار کرتے بھول جاتی ہیں کہ باپ جس نے گرمی سردی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو پراسائش ذندگی دینے کے لیے اپنا سکھ چین لٹا دیا اس کا بھی اولاد پر اتنا حق ہے جتنا ماں کا کہ اولاد باپ کے گرد بھی ایسے ہی ڈیرا ڈالے لاڈ کرے جیسے ماں سے ہر کام مشورہ کرکے کرتے ہیں باپ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں تو اولاد کی دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی ۔۔!!!
    اور جو اولاد اپنے والدین کی نافرمان ہوتی ہے اسے نہ دنیا میں عزت ملتی ہے نہ اخرت میں ۔کہاوت ہے کہ
    "جو ماں باپ کا نہیں ہوسکتا وہ کسی کا بھی نہیں ہوسکتا”
    ماں باپ اللہ کی طرف سے اولاد کے لیے سب سے خوبصورت انعام ہوتا ہے جو بانصیب ہوتے ہیں وہ ان قیمتی چیزوں کی دل سے قدر کرتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے کی عمر میں پہنچ جاتے ہیں ان کی کسی بات پر اف تک نہیں کہتے تو اللہ ایسی نیک اولاد کو دنیا میں ہی بےحد بےحساب عزتوں سے نواز دیتے ہیں ایسی نیک اولاد اللہ کا پیارا تحفہ ہوتی ہے والدین کے لیے ۔۔!!!!
    میاں بیوی میں سو اختلاف بھی ہوجاتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماں اپنے بچوں کے دل میں اس کے باپ کے لیے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرے وہ باتیں ان کے ذہنوں میں ڈالے کر جو ان کے باپ کی فطرت میں بھی نہیں ہوتیں تو ایسی عورتوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا وہ عورتیں دراصل اپنی اولاد کی دشمن ہوتی ہیں ایک دن وہ ہی نفرت ایسی عورتوں کی طرف پلٹ کر آجاتی ہے کہ "دنیا مکافات عمل ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے "۔کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا اگر ہم انسان مکمل ہوتے تو پھر ہم فرشتے ہوتے ۔۔ایک اچھی نسلی ماں اپنے بچے کو نفرت جیسے شدید خطرناک وائرس سے بچا کر رکھتی ہے اگر وہ ایسے نہ کرے تو یہ زہر اس کی آنے والوں نسلوں میں بھی ایسے ہی انجیکٹ ہوتا رہے گا پھر
    خدانخواستہ ایک بیمار معاشرے کی تشکیل ہوگی ۔۔۔۔۔
    اس زہر سے اپنی اولاد کو بچا لیں جیسے نشہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے ایسے ہی نفرت کسی دوسرے کا نقصان نہیں کرتی بلکہ جس دل میں دوسروں کے لیے نفرت پروان چڑھائی ہوتی ہے وہ دل وہ انسان اندر سے کھوکھلے ہوجاتے ہیں اپنی نسلوں کو اس تباہ کن وائرس سے بچائیں
    شوہر کے رشتہ داروں کے لیے بھی اپنے بچوں کے دلوں میں ایسے ہی محبتیں پیدا کریں جیسے اپنے رشتہ داروں کے لیے پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں یقین کیجئے یہ عمل آپ کو نقصان نہیں بلکہ بہت فائدہ پہنچائے گا لوگ ایسی ماووں کی تربیت کو ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں ایک اچھی ماں پوری نسل کی آمین ہوتی ہے اللہ سبحان تعالی ہمیں خوشیاں محبتیں بانٹنے والا بنائے ۔۔
    کسی گھر کی خوش حالی اور سکون دیکھنا ہو تو اس کے گھر کا ماحول دیکھیں والدین کی اور اولاد کی آپس کی ذہنی ہم آہنگی دیکھیں مجھے ہمیشہ وہ گھر اچھے لگتے ہیں جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا بےحد خیال رکھتے ہیں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے مشعل راہ کی مثال بنتے ہیں کل کو وہ اولاد اپنے والدین کے نقشے قدم پر چل کر ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھیں گے اور اس صحت مند معاشرے کی کلیدی مثال بنانے والے اپنے والدین کو دل و جان سے عزت محبت مان پیار دیں گے اور دل سے اپنے والدین کی قدر کرے گے ۔۔۔۔!!
    ابھی بھی وقت ہے والدین میں سے کوئی ایک بھی آپ سے ناراض ہے ان کو ۔انکی ذندگی میں ہی راضی کرلو اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے اپنے ماں باپ کے پاس جو وقت آپ گزاریں گے کچھ سالوں بعد آپکو جب وہ وقت یاد آئے گا تو آپ کو لگے گا سب سے پیارا قیمتی وقت ہی وہ تھا جو ہم نے اپنے والدین کے ساتھ گزارا۔۔۔ایک چھوٹی سی کوشش ۔۔!!
    "شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ”

    تحریر "فرزانہ شریف ”

    موضوع تحریر ۔۔”میرے امی ابو جنت کے پھول "