دنیا کی ترقی یا دنیا کے عروج و زوال کے لیے اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں اور قرآن مجید کی روشنی میں اُس کو دیکھیں تو ایک قانون ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے مادہ پر تجربات کیے اور مادہ جن قوانیں پر کام کرتا ہے وہ قوانیں دریافت کر لیے ہیں۔ جب یہ قوانین سائنسی طور پر دریافت ہو گئے ہیں تو آپ نے دیکھا کہ ایجادات کا انبار لگ گیا۔ یعنی انسان نے اپنے سننے، اپنے دیکھنے کی صلاحیت کو حیرت انگیز حد تک بڑھا لیا ہے۔ یہ صرف اس لیے ممکن ہوا ہے کہ ہم ان قوانیں کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
اسی طرح قوموں کے عروج و زوال کے بھی قوانین ہیں۔ ان کو اگر بالکل خلاصہ کے طور پر بیان کریں تو وہ تین ہی چیزیں ہیں بنیادی طور پر جو قوموں کو عروج پر قائم رکھتی ہیں۔قومیں دنیا کی سٹیج کے لیے منتخب کیسے ہوتی ہیں وہ ایک الگ بات ہے جبکہ عروج پر قائم کیسے رہتی ہیں اس کے لیے تین ہی بنیادی چیزیں ہیں۔
پہلی بنیادی چیز یہ ہے کہ کوئی قوم علم اور اخلاق کے لحاظ سےکس مرتبے پر ہے۔ یہاں علم سے مراد دنیاوی علم ہے، وہ علم جس سے آپ مادہ کے قوانیں دریافت کرتے ہیں، وہ علم جس کے مطابق آپ انسان کا مطالعہ کرتے ہیں اور معیشت اور معاشرت کے قائدے بناتے ہیں۔ اور اخلاق، یعنی وہ اخلاق جو اجتماعی زندگی کی ضرورت ہوتا ہے۔ جس میں انسانوں کے باہمی روابط کو ترتیب دیا جاتا ہے۔ علم و اخلاق کے لحاظ سے اگر کوئی قوم پستی میں ہے تو پھر وہ عروج کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔
وہ کسی سطح پر بلند ہو کر آ گئی ہےتو اب اس کے لیےگویا توقع پیدا ہوتی ہے۔اور وہ دنیا کے مقابلے میں برتری پر چلی جائے تو سب سے زیادہ جو چیز نمایاں ہو گی وہ یہ ہے کہ اس قوم نے یا اس جماعت نے علم اور اخلاق میں برتری حاصل کر لی ہے۔
جو لوگ بھی عروج کا خواب دیکھتےہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قومیں عروج کی طرف بڑھیں، ان کے لیے پہلا قدم جو ہو سکتا ہے وہ علم اور اخلاق کا ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی نظریہ ہے تو اس کے ساتھ اس کی یکسوئی کا معاملہ کیا ہے۔ یعنی کیا نظریاتی انتشار میں مبتلا ہے پوری کی پوری قوم یا اس کے ہاں جو بنیادی حقائق ہیں اس کے متعلق نظریہ یکسوئی کے ساتھ اختیار کر لیا گیا ہے؟
آپ نے قرآن مجید میں پڑھا ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کی تعریف کرتے ہیں یا تعارف کرواتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ مسلمِ حنیف تھے۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ صرف مسلمان تھے بلکہ یکسو مسلمان تھے۔
اور تیسری چیز یہ ہوتی ہے کہ جو قوم اپنی برتری کا یا اپنی بہتری کا خواب دیکھتی ہے اس کی سیاسی وحدت کا کیا حال ہے۔ اگر آپ اس دور سے پہلے رومن امپائر کو دیکھیں تو تب سیاست میں مذہب بنیادی فیصلے کر رہا تھا۔اس کے بعد جو نئی دنیا پیدا ہوئی اس میں ہم نے دیکھا کہ خیالات میں تبدیلی آئی اور جو نئی دنیا بن کر ہمارے سامنے آئی ہے اس میں سیاسی وحدت کا فقدان ہوا اِس سے پہلی اور دوسری جنگ عظیم برپا ہو گئی۔ یعنی خود مغربی قومیں اپنے اندرون سے ایک عسکری چیلنج سے دو چار ہو گئیں۔ دونوں جنگوں سے نکل کر ایک نظام بنایا گیا۔ وہ نظام یہ تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ بنایا گیا جس نےاس برتری کو یکسوئی میں بدل دیا ۔
اور اس یکسوئی میں سیاسی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے چار چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
قوموں کا حقِ خود ارادی، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس پر مغربی دنیا ٹھہری ہے۔
یہ تینوں چیزیں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ چنانچہ اگر دنیا میں کسی بھی قوم کو بالا تر ہونا ہے تو اس کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ تسبیح پر سبحان اللہ کا ورد کر لے۔ جب یہ تین چیزیں کوئی قوم حاصل کر لیتی ہے تو اگر خدا نہ چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ آپ پوری تاریخ کا مطالعہ کر لیں ہمیشہ اسی اصول پر یہ معاملہ ہوا ہے۔
ہمارے دین میں یا قرآن میں دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہےکہ”میں ایک کے بعد دوسری قوم کو دنیا کی سٹیج پر آنے کا موقع دیتا ہوں،اور یہ موقع تو میں اپنے انتخاب سے دیتا ہوں۔بالکل ایسا ہے جیسے میں کسی کو امراء کے گھر میں پیدا کر دیتا ہوں تو کسی کو غرباء کے گھر میں، لیکن جب میں ایک بار کسی قوم کو یہ موقع دے دیتا ہوں تو پھر وہ اپنے عروج کو قائم رکھنے کے لیےاصول و قوانین کی پابند ہوتی ہے۔”
یہی وہ اصول و قوانین ہیں جو میں نے اوپر بیان کر دیے ہیں۔یعنی جب تک کوئی قوم ان پر قائم رہے گی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "میں اپنا معاملہ اُن سے تبدیل نہیں کرتا وہ دنیا میں اپنی برتری کو قائم رکھتی ہے” اور جب وہ قوم ان تینوں چیزوں سے محروم ہونا شروع ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ "میں بھی اپنا معاملہ ان سے تبدیل کر لیتا ہوں۔”اور اس کا پھر نتیجہ بیان کرتے ہیں” دنیا کی تاریخ میں ہر قوم کو اسی طرح موقع دیا ہے، ایک ترتیب کے ساتھ موقع دیا ہے۔ اور جب میں موقع دیتا ہوں تو نتیجے دو ہی نکلتے ہیں۔ قیامت کے دن تک میں اسی طرح ایک کے بعد دوسری قوم کو دنیا کی سٹیج پر لاتا رہوں گا، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو طبعی موت مر جائیں گے، اور کچھ وہ ہوں گےجن کو میں پیغمبر بھیج کر تنبہ کرکےعذاب دوں گا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔”
میں جب قرآن مجید کی روشنی میں دنیا کی تاریخ کو دیکھتا ہوں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ کی اولاد میں سے پہلے حام کو اقتدار ملا پھر سامی قوموں کو اقتدار ملا اور اب یافث کی اولاد کے پاس اقتدار ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سٹیج پر آخری قومیں ہیں لیکن اقتدار اور عروج کی بنیاد وہی تین چیزیں ہیں۔ جب تک یہ تین چیزیں حاصل ہیں یہ عروج پر رہیں گی۔ اگر آپ بھی عروج چاہتے ہیں تو آپ کو ان تین چیزوں پر عمل کرنا ہو گا۔
twitter.com/iamAsadLal
@iamAsadLal
Category: بلاگ
-

قوموں کے عروج و زوال کا قانون! تحریر: محمد اسعد لعل
-

قومی پرچم کی اہمیت اور احترام تحریر : ثمرہ مصطفی
کہنے کو توپرچم کپڑے کا ایک ٹکڑاہے جب یہ کپڑا کسی خاص تناسب اور مخصوص رنگوں کے باعث پرچم کی شکل اختیار کرلیتا ہے تویہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں رہتا بلکہ یہ اس ملک کی عزت اوروقار کی علامت بن جاتا ہے قومی پرچم کسی بھی ملک کی پہچان اور شناخت ہوتا ہے.ہمارا پرچم ہماری آزادی اور خود مختاری کا نشان ہے . ہمارا پرچم دو رنگوں پر مشتمل ہے۔ سبزاورسفیدرنگ۔ سفید رنگ ایک چوتھاٸی اور سبز رنگ تین چوتھاٸی ہوتا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں کی اور سفید رنگ اقلیتوں کی نماٸندگی کرتا ہے۔ یوم آزادی کے دن کو بہت جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔اس دن ہر عمارت ،دوکان، اور سواری پر لوگ جھنڈا لگاتے ہیں ۔لیکن ضرورت اس چیزکی ہے کہ نوجوان نسل اس پرچم کی اہمیت اور احترام کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔سربلند پرچم قوم کی ترقی ،عظمت اور بہادری کی علامت ہوتا ہے۔ ہم قومی ترانے میں پڑھتےہیں۔
پرچمِ ستارہ ہو ہلال
رہبر ترقی وکمال
اسکا مطلب ہےکہ پرچم پر بنا ہوا ہلال ہماری ترقی کا راہبر ہے۔ہلال پہلی رات کے چاندکو کہتے ہیں۔جس طرح ہلال بڑھتے بڑھتے پوراچاند بن جاتا ہے،اسطرح اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا وطن بھی ترقی کے راستے پرگامزن رہےگا۔اس پر پانچ کونوں والا ستارہ بناہواہے۔پانچ کونوں سے مراد اسلام کے پانچ ستون ہیں۔ہم وطن سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن یہ شاید ہی جانتے ہوں کہ قومی پرچم کا ڈیزاٸن کس شخصیت نے تیار کیا تھا۔جناب امیرالدین قدواٸی نے ہمارے پیارے پرچم کا ڈیزاٸن تیارکیا تھا۔ اسلام میں پرچم کا آغاز ہجرت کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ مکہ سے ہجرت فرماکے جب اپﷺ مدینہ منورہ کی طرف جارہے تھے تو خضرت بریدہ (رضی اللہ تعالی) نے اے اللہ کے نبی ﷺ مدینے میں داخل ہوتے ہوۓ اپکے پاس جھنڈا ہونا چاہۓ تب اپﷺنے اپنا عمامہ اتار کر نیزے پر باندھ کر خضرت بریدہ کو دیا۔امن اور سلامتی کی پہچان یہ جھنڈا اسلام کا پہلا جھنڈا تھا۔قومی پرچم کی منظوری پہلی دستور ساز اسمبلی میں ١١ اگست ١٩٤٧ کو دی گٸ۔لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پہلی بار قومی پرچم لہرایا۔
١٤ اگست قریب اتے ہی جھنڈوں اور جھنڈیوں کی بہاریں آجاتی ہیں ۔خواتین ،بچے ،بڑے ،بوڑھے سب جھنڈے ، بیچز اور جھنڈیوں کی خرایداری میں لگ جاتے ہیں۔١٤اگست سے ایک یا دو دن پہلے گلی محلے ،دفاتر ،تعلیمی ادارے،اور گاڑیاں سجانے کا رواج برسوں سے چلا آرہا ہے ۔١٤اگست سے پہلے تقریبا جھنڈے،جھنڈیوں اور سبزاور سفید لاٸٹوں سے سجا دیا جاتا ہے۔یہ نظارہ ناصرف انتہاٸی خوبصورت لگتا ہے بلکہ قوم کی اپنے وطن سے سچی محبت کوبھی ظاہر کرتا ہے۔لیکن پتہ نہیں ١٤ اگست کے اگلے دن ہی یہ جذبہ کہاں غاٸب ہو جاتا ہے۔یہ سوال توسبکوحیران کردینے والا ہے۔جو جھنڈیاں اور جھنڈے ہم ١٤ اگست کو اپنے گلی محلے کو سجانے کیلے لگاتے ہیں ۔توپھر انکے احترام و تقدس کا خیال کیوں نہیں رکھتے۔آخر کیوں دوسرے ہی دن وہی جھنڈیاں ہمارے پیروں تلے روند دی جاتی ہیں یا زمین پر دھول میں پڑی ہوتیں ہیں ۔آخر کیوں جو جھنڈیاں یاپرچم ہمارے گھروں میں احترام سے سجاۓ جاتے ہیں ۔وہ بعد میں کٸی حصوں میں تقسیم ہوکر پھٹ جاتے ہیں اورپھر کوڑے دان میں پھینک دے جاتے ہیں ۔کیا اپ اسکی وجہ جانتے ہیں،اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے پرچم کی اہمیت اور احترام سے واقف نہیں۔بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جویہ نہیں جانتے کہ پاکستان کے آٸین کے مطابق کوٸی بھی شہری سواٸےصدروزیراعظم،آرمی چیف سمیت کسی اعلی عہدے پرفاٸز شخص بھی پرچم کو اپنے گھریا دفتر پر نہیں لہرا سکتا، صرف ١٤ اگست کے دو دن تک قومی پرچم اپنے گھر یا دیگرمقامات پرلہرانے کی اجازت ہوتی ہے۔اسکے بعد پرچم کو فوری اتار دینے کی ہدایت آٸین میں موجود ہے۔آٸین میں موجود اس شق کا مقصد قومی پرچم کی اہمیت کا پامال ہونے سے بچانا ہےتاکہ پرچم کی بے حرمتی نہ ہو جو کہ اب عام ہو چکی ہے۔چودہ اگست کے دن جھنڈیاں خریدی اور لگائی جاتی ہیں لیکن ان جھنڈیوں کی حفاظت نہیں کی جاتی وہ گلیوں آور بازاروں میں جگہ جگہ گیری پڑی نظر آتی ہیں میری سب سے گزارش ہے کہ جھنڈیاں لگائیں تو انکی حفاظت بھی کریں چودہ اگست گزرنے کے بعد ان جھنڈیوں کو اتار کر رکھ لیں سنبھال کر جہاں جہاں آپ کو جھنڈی گیری ہوئی نظر آئے فورا اٹھائیں اور اگر آپ ان چیزوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو جھنڈیاں نہ لگائیں کیونکہ جھنڈے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔کیونکہ پرچم کا اخترام ہم سب پر فرض ہےکیونکہ پرچم کسی بھی قوم کی پہچان اور فخر ہوتاہے۔اسے پیروں تلے روند کر اسکی بے حرمتی نہ کریں اور نہ ہی اپنے تفخر کو خود مسخ کریں@Samra_Mustafa_
-

سائنس و ٹیکنالوجی اور ہم ! تحریر: سید اعتزاز گیلانی
اکیسویں صدی چل رہی ہے دُنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے آئے روز نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس دور میں اب مشینوں کی حکومت ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ وہ شاعر نے بھی خوب کہا ہے کہ
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتِ جراحی
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
مشینوں کے اس دور میں جہاں ہمارے لیے بہت سے آسانیاں ہیں وہاں ان مشینوں نے انسانوں کو کسی حد تک ناکارہ بھی بنا دیا ہے۔ مگر اگر دیکھا جائے تو یہی مشینیں انسان کو چاند پر قدم رکھنے کے قابل کر پائی ہیں۔ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک ٹیکنالوجی میں کافی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سائنس میں اتنی جدت آگئی ہے کہ اب ماں کے پیٹ میں ہی بچے کا معائنہ کر لیا جاتا ہے کہ آیا بچے میں کونسی بیماری ہے اور خالی بیماری ہی نہیں بلکہ ماں کے پیٹ میں ہی اس بیماری کا علاج کر لیا جاتا ہے۔ جی ہاں یہ کوئی تصوراتی دُنیا نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت ہے اور دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ سب ہو رہا ہے۔ اب سائنس و ٹیکنالوجی اس قدر عروج پر ہے کہ اس نے ہر ایک میدان میں اپنے پنچے گاڑھ دیے ہیں۔ اب نئے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے خوراک کی پیداوار کو بڑھایا جا رہا ہے بہت سے جانداروں کے دودھ سے ادویات تیار کی جا رہی ہیں بلکہ اب تو جانداروں میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ جو مصنوعات چائیے ہوتی ہیں وہ اُنکے دودھ سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہمارا سفر آسان ہوگیا مہینوں کا سفر دنوں اور گھنٹوں میں ہونے لگا ہے۔ اب پاکستان بیٹھ کر دُنیا کے کسی دوسرے کونے میں بات کی جا سکتی ہے۔ یہ سب سائنس کا ہی تو کمال ہے۔ اب ہم اپنے ملک پاکستان کی طرف آتے ہیں اللہ نے یہ ملک بہت حسین بنایا ہے اور ہر ایک نعمت سے اسکو نوازا ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں دوسری قومیں کائنات کے رازوں کو جاننے کے کوشش کر رہی ہیں وہاں ہم اب بھی کہیں صدیاں پیچھے ہیں۔ اسکی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہمارا کوئی نام ہی نہیں ہم اب بھی دوسروں کے انحصار کرتے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم آئن اسٹائن ، اسٹیفن ہاکنگ، نیوٹن پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے جسکا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس قوم میں کوئی صلاحیت ہی نہیں بلکہ یہ قوم تو اتنی ذہین ہے کہ اس کے مقابل آنے والا بھی پست ہو جاتا ہے۔ ہمارے طالب علم باہر جاتے ہیں تو ایسی ایسی ایجادات کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے مگر کیا وجہ ہے کہ اس ملک میں ہم کام کرنے سے قاصر ہیں ؟ ہمارا نظام عملی تجربات کے بجاے محض رٹہ کو ترویج دیتا ہے جس سے ہم سند یافتہ تو ہو جاتے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں ہو پاتے۔ اور اصل تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔ جب تک ہم اداروں میں اصلاحات نہیں لاتے تب تک ہم بہتری کی طرف نہیں جا سکتے۔TA: @AhtzazGillani
-

"کوئی ہے جو محرم الحرام میں یہ کام کرے” تحریر: محمد عبداللہ
حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت اور شب و روز پر اردو میں کوئی مستند کتاب جس کو پڑھا جا سکے یا پھر ہم نے فقط شہداء کی شہادتوں کے دنوں پر قصے کہانیوں سے سے ہی عوام کو بےوقوف بنا کر لڑوانا ہے؟
شہداء کی شہادتوں پر ماتم نہیں کیے جاتے ان کی سیرت کو اپنایا جاتا ہے، ان کے چنے ہوئے راستے پر چلا جاتا ہے.اسلام کے عظیم شہداء کے نام پر اسپیکرز پھاڑ کر دیہاڑی لگا انہی کے محبوب لوگوں پر طعنہ زنی کرکے لوگوں کو باہم دست و گریبان کروا کر آرام سے اپنے عشرت کدوں کی طرف چل دینا اسلام اور اہل بیت کی کوئی خدمت نہیں ہے.
دوسری طرف محرم الحرام کے مقدس اور شہادتوں کے مہینے میں کہ جس کی ابتداء ہی عمر ابن الخطاب کی شہادت سے ہوتی ہے اس مقدس مہینے میں اسپیکرز پر للکارے مارنے اور کتے و کافر کے نعرے مارنے سے بھی کوئی اسلام و صحابہ کرام کی خدمت نہیں ہوتی ہے.
اگر اسلام اور اسکو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کی واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان سب کی سیرت پر کام کیجیئے. عوام کو بتائیے کہ ابوبکر و عمر کا اخلاق و کردار کیسا تھا. عثمان و علی کا سخاوت و انصاف کیسا تھا. نبی کے گھرانے سے صحابہ کرام کا تعلق کیسا تھا. حسن و حسین سرداران نوجوانان جنت کے شب و روز کیسے اور کہاں گزرتے تھے. ان کا بچپن و جوانی کیسی تھی، کردار کیسا تھا، لوگوں کے ساتھ معاملات کیسے تھے.
کوئی ہے جو ان سادہ لوح مسلمانوں کو بےوقوف بنانے سے باز آئے اور من گھڑت قصے کہانیوں سے نکل کر اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سیرت کی سچے اور سچے واقعات لوگوں کو پڑھائے اور پھر ان پر عمل پیرا ہوا جائے…..
"اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ ”
Muhammad Abdullah -

ٹوئٹر اور انتہا پسند مودی سرکار کے درمیان تناؤ: ٹوئٹر نے ہتھیار ڈال دیئے
ٹوئٹر نے اپوزیشن جماعت کانگریس سے منسلک 23 ٹوئٹر ہینڈل اور 7 اکاؤنٹس معطل کردئیے گئے ہیں۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راہول گاندھی کی جانب سے دہلی میں مبینہ زیادتی اور قتل کیس کی 9سالہ متاثرہ بچی کے والدین سے ملاقات کی تصویر شیئر کی گئی تھی، ٹویٹر کی جانب سے یہ تصویر ہٹا کر راہول گاندھی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا۔

جس پر کانگریس جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے ٹوئٹر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈروں کے اکاؤنٹس معطل کرکے ٹویٹر بی جے پی حکومت کے ساتھ مل کر جمہوریت کو دبانا چاہا رہی ہے۔پریانکا گاندھی نے مزید کہا کہ کیا ٹوئٹر کانگریس رہنماؤں کے اکاؤنٹس معطلی کے لیے اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے یا مودی حکومت کی؟
گزشتہ کئی ماہ سے ٹوئٹر اور بھارتی حکومت کے تعلقات تناؤ کا شکار تھے اور مودی انتظامیہ کی جانب سےبھارتی وزیراعظم کے خلاف تنقید سمیت کورونا وائرس کے بحران سے متعلق کچھ مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
مودی سرکار کی جانب سے ٹوئٹر کو نوٹس بھیجا گیا تھا نوٹس میں بھارتی حکومت نے کہا کہ ٹوئٹر انتظامیہ جلدازجلد ملکی سوشل میڈیا قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ حکومت مخالف کو روکا جاسکے، اگر ٹوئٹر نے نوٹس کو نظرانداز کردیا تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے، یہ نوٹس آخری تنبیہ ہے۔
نوٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ٹوئٹر کو کس طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا بھارتی حکومت سوشل میڈیا قوانین پر جبری عملدرآمد کرواکر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف تنقید کو روکنا چاہتی ہے۔
علاوہ ازیں رواں سال بھارتی پولیس کی بھاری نفری نے نئی دلی میں قائم ٹوئٹر کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا تاہم کورونا کی وجہ سے گھروں سے کام کرنے کے باعث کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔
ٹوئٹر انتظامیہ نے بھارتی پولیس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے آزادی اظہار رائے کے خلاف حملہ قرار دیا۔ بعدازاں پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹوئٹرانتظامیہ کو نوٹس دینے کے لیے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔
جس پر ٹوئٹرنے مودی سرکار کی پولیس کی جانب سے دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کے خلاف حملہ قرار دیا تھا تاہم اب ٹوئٹر نے انتہا پسند مودی سرکار کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں-
مودی سرکار کے بنائے گئے نئے قواعد میں تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں کلیدی تعمیل کے لیے بھارتی شہریوں کو تعینات کریں، قانونی حکم نامے کے 36 گھنٹوں کے اندر اندر مواد کو ہٹایا جائے اور شکایات کا جواب دینے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جائے۔
-

سلطنت عثمانیہ(1299-1922) تحریر : قاسم ظہیر
سلطنت عثمانیہ (1299-1922 جسے عثمانی سلطنت بھی کہا جاتا ہے ، جس کا تصور عثمان کے نام پر رکھا گیا 1258-1326 عیسوی) ،اس سلطنت کے پس منظر میں دیکھا جائے تو عثمان جو اس سلطنت کا بانی تھا اس کے والد اور دادا کی بیش بہا قربانیاں ہیں جس کے نتیجے میں اس نے یہ سلطنت قائم کی تھی لیکن انہوں نے آغاز کیا ان کے پاس اتنا بڑا زمین کا ٹکڑا نہیں تھا جہاں پر وہ اپنی آزادی کا اعلان کر سے سو عثمان کے حصے میں آیا اور اس نے یہ کار خیر انجام دیا اور یہ اگلے تقریبا آٹھ سو برس قائم رہیں اور اس نے نہ صرف اس ترکی کو بلکہ دوسرے دو براعظم یورپ اور افریقہ میں بھی اپنے پنجے گاڑے. سلطنت نے اناٹولیا ، جنوب مغربی یورپ ، سرزمین یونان ، بلقان ، شمالی عراق کے کچھ حصوں ، آذربائیجان ، شام ، فلسطین ، جزیرہ نما عرب کے کچھ حصوں ، مصر اور کچھ حصوں کو کنٹرول کیا۔ شمالی افریقی پٹی ، روڈس ، قبرص اور کریٹ کے بڑے بحیرہ روم کے جزیروں کے علاوہ۔ اپنے وقت کی سب سے مضبوط فوجی سپر پاور کے طور پر مشہور ، سلطنت جمود کا شکار رہی اور 16 ویں صدی عیسوی کے آخر سے طویل زوال کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ پہلی جنگ عظیم (1914-1918 عیسوی) کے بعد اس کی جگہ جدید جمہوریہ ترکی نے لے لی۔
گیارہویں صدی عیسوی میں ، سلجوک ترک ، ایشیائی میدان سے تعلق رکھنے والے لوگ جنہوں نے اسلام کا سنی نسخہ قبول کیا تھا ، فارس اور ہمسایہ مشرقی علاقوں پر چڑھ گئے اور پھر مغرب کی طرف اناطولیہ کی طرف بڑھے۔ وہاں ، انہوں نے بازنطینی سلطنت (330-1453 عیسوی) کی شاہی قوتوں کو 1071 عیسوی میں منزیکرٹ کے قریب ایک تباہ کن شکست سے نمٹا ، اور اس کے بعد کئی ترک قبائل نے اس علاقے کو آباد کیا۔ ۔
سلطنت عثمانیہ کے قیام سے پہلے صلیبی جنگ شروع ہو چکی تھی یہ وہی سلطنت عثمانیہ ہے جس کے آگے جاکر ایسے ایسے بادشاہ آئے جنہوں نے تاریخ رقم کردی.یوں ہی سلطنت عثمانیہ جس کے طفیل اللہ نے مسلمانوں کو قسطنطنیہ کے اوپر حکمرانی میں بسر کی اور اس خطہ ارض پر مکمل حکمرانی اللہ نے ان کو عطا کیآٹھ سال تک قائم رہنے والی سلطنت عثمانیہ بالآخر بیسویں صدی میں یورپین کا شکار بنی اور انہوں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا کوئی اور نہیں ان کا اپنا ہی ایک حکمران مصطفی کمال اتاترک تھا جس نے خلافت کو ختم کر ایک ترکی ملک بنایا
یہ وہی سلطنت عثمانیہ تھی جس نے بڑے بڑے شاہ سوار اور بادشاہ پیدا کیے جس نے محمد فاتح جیسا سلطان بھی پیدا کیا . کئی سو سال بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت جس پر صادق آئے اور اس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور مسلمانوں کی حکمرانی وہاں پر قائم کی اور مسلمانوں کے اندر ایک نیا جذبہ ایمانی اور روپوں کی جس کو آنے والے مسلمان دنیا نے بہت مفید انداز میں استعمال کیا اور اسلام کی اشاعت کی یہی وہ دور تھا جس میں یورپ اور ان ممالک میں جہاں پے یہودیت اور نصرانیت کی اکثریت تھی وہاں پر اسلام اپنے عابد سے چمکا پر پھیلا اور جتنی عزت حاصل کرسکتا تھا اتنی عزت اسلام نے حاصل کیں اور یہ سب اسی سلطنت عثمانیہ کی محروم منت تھا جس کو اللہ نے یہ عروج بخشا اور انہوں نے اللہ کے پیغام کا پرچار خوب اپنی سلطنت کے اندر کیا اور ان کے خاتمے کے بعد ہی اسرائیل جیسا فتن اس دنیا پر نمودار ہوا
اگر مورخ تاریخ کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے تاریخ کو لکھے گا تو وہ ضرور لکھے گا کہ جو اسلام کو معیار عزت اور مرتبہ اللہ نے سلطنت عثمانیہ کے طفیل بخشا ہے وہ شادر نادر ہی ہمیں اسلامی ہسٹری میں نظر آتا ہے آج کے تناظر میں دیکھیں تو وہ جذبہ اور وہ مقام بالکل ناپید ہے جو سلطنت عثمانیہ کے طفیل اللہ نے اسلام کو نوازا اور اگر خلفائے راشدین کے بعد دیکھا جائے تو سلطنت عثمانیہ نے اسلام کی بھرپور خدمت کی اور اسلام کے سورج کو اپنی آب و تاب سے چمک آیا اور دنیا پر ہر اس سے پھیلایا جس سے ان کو پھیلا سکتے تھے@QasimZaheer3
-

افغانستان کے تیزی سے بدلتے جرنیل اور صورتحال تحریر: سمیع الله خان
گزشتہ دو ماہ کے دوران تیسری بار افغانستان کا آرمی چیف تبدیل ہوا، نئے آرمی چیف جنرل ھیبت اللہ علیزئی کی عمر صرف 35 سال ہے۔ نئے افغان آرمی چیف کی عمر کا عدد جان کر مجھے محمد بن قاسم اور الیکزینڈر کی یاد آئی۔ جنرل ھیبت اللہ اس وقت خطے کے سب سے کم عمرترین آرمی چیف ہیں اور آپ کا جنگی تجربہ بھی آپ کی عمر کی طرح تھوڑا ہی ہے۔ یہ نوجوان آرمی چیف جہاں ایک طرف میدان جنگ میں فعالیت دیکھا رہا ہے وہیں مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر بھی اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ جبکہ اس کے برعکس دیکھا جائے تو افغان طالبان مسلسل مختلف علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، اور اس وجہ سے قابل انتظامیہ میں پیدا ہونے والی افراتفری ان کے آرمی چیف کے تبادلے کے فیصلے سے صاف عیاں دیکھائی دے رہی ہے۔
رواں ہفتے طالبان نے افغانستان کے شمالی حصوں پر ایک کے بعد ایک پر قبضہ کیا، اس دوران یا تو افغان فورسز کو پسپائی کا سامنا رہا یا پھر انہوں نے ہتھیاروں، گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت طالبان کے آگے تسلیم ہوتے گئے۔ البتہ سماجی رابطوں کے ویب سائیٹوں (فیسبک اور ٹوئٹر) پر طالبان اور افغان حکومت مختلف دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں طالبان ٹوئٹر پر افغان سیکیورٹی فورسز کی تسلیم ہونے والے تصاویر اور ویڈیوز کو ڈال رہے ہیں وہیں لشکر گاہ میں جنرل سمیع سادات ٹوئٹر کو ’پی آر‘ کے ایک ٹول کے طور پر بروئے کار لا رہے ہیں۔ وہ لشکرگاہ میں مقامی افراد اور دوکانداروں کے ساتھ فوٹوز کھینچ کرٹوئٹر پر اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔ سمیع سادات 36 سالہ نوجوان جنرل ہیں اور اس وقت جنوبی افغانستان کے اعلیٰ ترین فوجی افسر ہیں۔ سمیع سادات کو کچھ روز قبل کابل کی طرف سے ’سپیشل فورسز‘ کی سربراہی کی ذمہ داریان بھی دی گئیں ہیں۔ افغانستان کے فوجی قیادت میں ان مسلسل تبدیلیوں کو دیکھ مجھے جنرل اشفاق پرویز کیانی کیام وہ بات یاد آ گئی کہ جب ایک افغان حکومتی عہدیدار نے ان سے کہا کہ جنرل صاحب! ہم ایک بڑی فوج بنا رہے ہیں، جب امریکہ یہاں سے نکلے گا تو وہ ہمارے محافظ ہونگے۔ اس پر جنرل کیانی نے کہا کہ جب وسائل ہونگے تو فوج تو آپ بنا لوگے مگر اس کا سپہ سالار کون ہوگا؟ کیونکہ فوج کی کمان جو سنبھالتا ہے اس کیلئے کم از کم تیس سالہ تجربہ درکار ہے ورنہ تو فوج کی تعداد تو ایک ریت کی دیوار ہوگی۔
افغانستان میں حالات توقع سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ملک کے صرف 20 سے 25فیصد حصہ کابل انتظامیہ کے گرفت میں ہے، اب یہ گرفت کتنی مضبوط ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں جلنے والی یہ آگ کابل کے قریب آن پہنچی ہے اور جلد یا بدیر کابل بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ جائیگا۔ امریکہ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئے ہیں اور پینٹاگون نے پاکستان پر الزامات لگانے شروع کر چکا ہے جسکے بارے میں ریاست پاکستان پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ امریکی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ایسے الزامات لگا سکتا ہے، امریکی صدر بائیڈن نے بھی دو روز قبل وائٹ ہاوس میں کہا ہے کہ افغانستان میں فوج موجود ہے جو کہ طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ یہاں میدان میں تو افغان فوج پے در پے پسپائیوں کا شکار ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز وائٹ ہاوس نے طالبان کے کابل پر قبضے کے حوالے سے سوال پر کوئی تبصرہ دینے سے ہی انکار کر دیا۔ افغان حکومت بھی اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان کے کاندھے پر ڈالنے کیلئے کوشاں ہے اور جن کے مشوروں پر کابل چل رہا ہے انہیں خود بھی خوف محسوس ہو رہا ہے، کیونکہ جہاں وہ پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے غنی انتظامیہ کو سپورٹ کر رہے تھے اب طالبان کے ڈر کی وجہ سپورٹ کر رہے ہیں۔ کابل کو امریکہ طالبان کے دوحہ مذاکرات میں نظراندازی اور پھر اشرف غنی انتظامیہ کی مذاکرات کے حوالے سے ہٹ دھرمی اب انہیں مہنگی پڑ رہی ہے، جہاں ایک طرف امریکہ پاکستان پر دباو کیلئے کوشاں ہے کہ آپ طالبان کو افغان حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے بیٹھاو تو دوسری طرف افغان حکومت کا پاکستان سے متعلق رویہ شرمناک ہے، پاکستان نے تو عید کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی بیٹھک رکھی تھی اور طالبان، افغان حکومت کو دعوت بھی دی تھی مگر افغان حکومت نے وہ دعوت اپنی رویئے کی وساطت سے رد کر دی اور مجبوراً پاکستان کو وہ صلحہ کی بیٹھک غیراعلانیہ طور پر موخر کرنی پڑی۔ اب تو پاکستان نے یہ تک کہ دیا ہے اشرف غنی کے ہوتے ہوئے طالبان مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار نہیں ہے، شاید اشرف غنی اپنی حکومت بچانے اور امن کا وہ واحد موقع ضائع کر دیا ہے جو اسے پاکستان دے رہا تھا۔ امریکہ پاکستان پر تو دباو ڈال رہا ہے مگر کابل پر اپنے رویئے کی درستگی کے حوالے سے خاموش ہے۔
افغانستان میں طالبان کے پے در پے فتوحات پر بھی کافی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ اس قلیل مدت میں اتنی زیادہ علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا ناممکن ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طالبان نے ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے قبل علاقہ مشیران اور عمائدین سے مختلف قسم کی ملاقاتیں کی ہو اور ان عمائدین نے طالبان سے کئی قسم کے ضمانت لی ہونگی۔ اس محدود وقت میں ضلع پر ضلع، شہرہ پر شہر کے کنٹرول سے قبل اگر سالوں کی نہیں تو کم از کم مہینوں کا کام ضرور ہوا ہو گا اور خدا جانے کہ عمائدین اور طالبان کے درمیان کیا معاہدے طے پائے ہونگے۔ -

کرونازدہ معاشرے کے مسائل ، تحریر حیاء انبساط
کرونا نے جہاں لاکھوں لوگوں کو لقمۂ اجل کا نشانہ بنایا وہیں ان سے کئی
گنا زیادہ لوگوں کو زندہ درگور کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے ۔ اگر کسی ایک خاندان کا سربراہ اس وباء کی زد میں آکر اپنی جان کھو بیٹھے تو یہ معاشرہ اس کے خاندان کو جیتے جی سوشل بائیکاٹ کر کے مار دیتا ہے اس پورے خاندان کو اچھوت تصور کر لیا جاتا ہے کنارہ کشی اختیار کر لی جاتی ہے ، اس گھر کے کفیل کے چلے جانے کے بعد گزارا کیسے ہو رہا ہے یہ جاننے اور مدد کرنے کی ذرا بھی زحمت نہیں کی جاتی ۔کل سپر اسٹور میں ایک خاندان کو دگرگوں حالت میں دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی؛ دیکھنے میں اچھے گھر کی لگتی ایک خاتون بازار سے سوداسلف کی خریداری کر رہی تھی اور پیسے کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے بچوں کے دودھ کے ڈبے اور دوسری ضروری اشیاء واپس کردیں اور چار ہزار میں جو کچھ آیا وہی خرید لیا ۔ ہمارا معاشرہ سڑک پہ بھیک مانگتے پیشہ ور فقیروں کو تو خیرات زکوۃ کے علاوہ امداد دینے کیلئے تیار رہتا ہے لیکن سفید پوش ضرورت مندوں کی جانب سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں جن کی روزی روٹی اس موذی مرض کی وجہ سے چھن گئی یا ذریعہء معاش ختم ہوگیا ؛ اور جو این جی اوز مدد کر بھی دیتی ہیں تو ساتھ کیمرہ اور میڈیا کا جُھنجُھنا ہوتا ہے جسکی وجہ سے سفید پوش افراد بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اپنی عزّت نفس نہیں گنواتے۔
دوسری طرف پاکستانیوں کا حال ملاحظہ کیجیئے۔ ہم خود کتنا قانون پر عمل کرتے ہیں اور ہم میں کتنا سماجی شعور موجود ہے، اس کو سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ایک عام پیمانہ قومی شعوری حالت سمجھنے کے لئے کافی ہے۔کچھ عرصہ قبل کورونا وائرس کے سبب حفاظتی اقدام کے طور پر حجام کی دکان کو بند کیا گیا تھا لیکن آپ سروئے کرلیں وزیراعظم، وزراء، اینکر حضرات سے لیکر ایک عام ریڑھی والے تک 95 فیصد سے زائد افراد کے بال کٹے ہوئے ہیں یہ عمل چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ کون سی ایس او پیز اور کون عمل کر رہا ہے؟
کیا ہم باشعور معاشرے کے ذمہ دار شہری کہلانے کے حقدار ہیں؟
خود بھلے سے رش میں کھڑے ہو کر خرید و فروخت کر رہے ہوں ، بیکری یا ہوٹل کے باہر لوگوں سے بھرے مجمعے میں موجود ہوں ، بنا ماسک یا کسی بھی قسم کی احتیاطی تدبیر کے بغیر ؛ یہ سب ٹھیک ، جائز ؛ تب خیال نہیں آتا کہ اس مجمعے سے تو مجھے یہ وائرس لگ سکتا ہے اور میں اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی جان بھی خطرے میں ڈالنے کا موجب بن سکتا ہوں لیکن جہاں کوئی دوست احباب یا رشتہ دار اس بیماری کا شکار ہو جائے اس سے بہت احتیاط برتی جاتی ہے اسکو اور اسکے گھر والوں سماجی طور پہ تنہا کر کے موت سے پہلے مار دیا جاتا ہے۔ہم جھوٹے ، منافق اور مکار لوگ ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ایک مرتبہ اپنے گریبان میں جھانک لیں۔ملک میں لاک ڈاؤن لگا ہے جبکہ دوکان داروں نے بھاری رشوت دے دے کر چور راستوں سے اپنی دکانیں چمکا رکھی ہیں چلو اگر انہیں قانون پر عمل نہیں کرنا تو ہم کون سا کر رہے ہیں؟ کیا کسی ایک انسان نے بھی ایسی دکان سے یہ سوچ کر خریداری نہ کی ہو کہ اس نے ماسک نہیں پہنا یا لاک ڈاؤن کے اوقات ختم ہونے کے بعد بھی دوکان کھول کر بیٹھا ہوا ہے۔ پانچ بجے مارکیٹ بند کرنے کا کہا گیا ہے لیکن جب تک پولیس نہیں آتی، ہم دکانیں بند نہیں کرتے۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے جو دکان پانچ بجے کے بعد بھی کھلی ہے، ہم اس شخص سے خریداری نہیں کریں گے؟ یہ تو بہت ہی چھوٹی سی بات ہے، ہم میں سے کتنے لوگ بند گھروں میں دعوتیں اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف ہیں؟ ہم نے قانون پر کتنا عمل کیا ہے؟ صرف ایک کیس سامنے آنے پر ہمیں تنبیہہ ہوجانی چاہئیے تھی، مگرہماری لاپرواہی سے سینکڑوں مریض ہوگئے اور ہزاروں گھروں کے کفیل اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔
جہاں دیکھیں، لوگ قانون توڑتے دیکھائی دے رہے ہیں کہیں سگریٹ پی رہے ہیں، پان کھا رہے ہیں، اور تھوکنے کی عادت تو ویسے ہی عام ہے، ماسک پہننے کو شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف جو ماسک استعمال کر رہے ہیں ان کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے بجائے سڑکوں پر جگہ جگہ پھینک دیتے ہیں۔ اگلے دن کچرا چننے والے انہیں ماسک کو دھو کر سگنل پر فروخت کر دیتے ہیں۔
بجائے اسکے کہ عوام خود ذمہ دار بنے، الٹا حکومت کو کوستے، انٹرنیٹ پر برا بھلا کہتے اور مذاق بناتے ہیں۔ یقین جانئیے کہ اس میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔حکومت تو اپنی طرف سے کوشش کر رہی ہے مگر ہماری عوام کو نہ تو ماسک پہننے کی عادت اور نہ ہی ویکسینیشن سے کوئی دلچسپی ہے ۔ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں تب ہی حکومتی اداروں کو گھی نکالنے کیلئے انگلی ٹیڑھی کرنا پڑی اور جب عوام کو اپنے عزیز از جان موبائل فون سم کے بند ہونے کی اطلاع ملی تو لمبی لمبی قطاروں میں جوک در جوک عوام کرونا ویکسین لگوانے حاضر ہوگئی ۔
کوئی دشمن ہمیں کیوں مارے گا۔ ہم لوگوں کی کم عقلی ہی ہمیں اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنی اور دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو بادلِ نخواستہ، بائیس کروڑ ہی مریض نہ بن جائے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ایک قوم بنیں اور اپنے فرائض سمجھیں۔ اگر کوئی ماسک نہیں پہنتا تو اسے دس روپے کا خرید کر دیں۔ گھر سے نکلتے وقت، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر ساتھ رکھیں۔ اپنے حصے کا کام کریں۔ کوشش کریں کہ رش والی جگہوں سے پرہیز کریں اور جو اصل مستحقین ہیں انہیں تلاش کر کے بے حد خاموشی سے انکی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے انکی مدد کریں۔ کچھ عرصہ یہ کام کرکے دیکھئیے یقین جانئیے کہ یہ بیماری اگر ختم نہ ہوئی تو اسکی شدت میں کمی ضرور آجائے گی اور جو لوگ اس وبأ کے بجائے بھوک سے مر سکتے ہیں انکی زندگیاں بچ جائیں ۔ یاد رکھئیے اگر احتیاط نہ برتی گئی تو کوئی بھی کاروبار کرنے والا ہو یا کسی بھی پیشے سے منسلک ہو وہ اس وبأ کے شر سے محفوظ نہ رہ سکے گا ابھی وقت ہے ، اس وبا کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈالئیے۔ خدارا، اپنی اور اپنوں کی فکر کیجئیے۔ محفوظ رہئیے اور کوشش کیجئیے کہ تیس مار خان نہ بنا جائے۔
Twitter handle : @HaayaSays
-
تربیت تحریر: امبر سیف
انسان چاہے جتنا بھی علم حاصل کر لے۔ لیکن وہ زندگی میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔جب تک اس کی تربیت اچھی نا ہو۔ تربیت کے بغیر علم فضول ہے ۔تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے ۔اور پختگی کی بلندی پر درسگاہ کی چاردیواری میں پہنچ جاتی ہے۔ انسان کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔اس کی پہلی تربیت کرنے والی اس کی ماں ہوتی ہے ۔پھر اس کا باپ اور باقی گھر کے بڑے لیکن تربیت کا سلسلہ گھر تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کی پختگی کے لیے درسگاہ کی چاردیواری یا کسی استاد کی مخفل ضروری ہوتی ہے. بچے کی پہلی تربیت ماں باپ کی عملی زندگی ہوتی ہے .اگر ماں باپ کی عملی زندگی میں کوتاہی ہو گی تو بچے کی تربیت میں بھی کوتاہی ہو گی .جیسے اگر ماں باپ جھوٹ بولتے ہوں گے تو بچے بھی جھوٹ بولے گے. اگر ماں باپ اپنے بڑوں کی رشتہ داروں کی غیبت کرتے ہوں. تو بچہ بھی غیبت جیسے بد فعال جو زنا سے بھی بڑا گناہ ھے اس میں مبتلا ہو گا .
گھر کا ماحول بچے کی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے .بچہ وہ ہی کرتا ہے جو وہ دیکھتا اور سنتا ہے. بچے کو بری صحبت سے بچاے بری صحبت بچے کو بے حیا ڈھیٹ گستاخ بنا دیتی ہے .بچوں کے ساتھ بہت محتاط رویہ رکھیں. بچوں کو غلطی کرنے پر پیار سے سمجھاے .بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے گریز کریں ۔ بچوں پر ہاتھ وہی اٹھاتے ہیں جو زبان سے سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ لیکن اگر بچہ پیار سے نہیں سمجھتا تو ڈانٹ لیں ۔اور اگر ڈانٹ بھی اسر نہیں کر رہی
تو تھوڑا مار لیں ۔لیکن یہ اس صورت میں جب آپ کو لگے کہ یہ غلط کام بچے کے لیے ۔نقصان دہ ہے ۔والدین بچوں کو بتایں کہ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دستک دیں۔ اور اجازت ملنے کا انتظار کرے۔ ماں باپ کے کمرے میں بھی داخل ہونے سے پہلے دستک دے ۔ماں باپ یا گھر کا کوئی بھی فرد بچے کی کسی بات کا مذاق نا اڑائے اس طرح بچہ بزدل ہو جاتا ہے ۔بچے پر بےجاتنقید نا کرےبچے کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کی تعریف کریں۔ اس طرح بچہ کوشیش کرتا ہے ۔اور اچھا کام کرے۔اسکول میں بھی اساتذہ کو چاہئے۔ کہ سب بچوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے۔ماں باپ کے بعد استاد ہی بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ استاد کو چاہئے کہ بچے کی غلطی پر اسے پیار سے سمجھاے ۔استاد کا رویہ بہت معنی رکھتا ہے ۔
۔بچہ استاد سے ہی سیکھتا ہے۔ اب استاد کا کام ہے ۔کہ وہ کسطرح بچے کو پروان چڑھاتا ہے۔ اسے چاہئے کہ بچے میں خداعتمادی پیدا کرے ۔اسے آگے بڑھنے کا طریقہ بتایں۔ اس کی چھوٹی سی کوشش پر ساری کلاس کے سامنے تعریف کریں۔ بچے کو مار سے نہیں پیار سمجھاے۔ تاکہ اس کی صلاحیتیں ابھریں اور ماں باپ کو بھی چاہئے۔ کہ بچوں کے رویوں کو دیکھے کہ اگر بچہ زیادہ تنگ کرتاہے ۔تو وہ آپ سے توجہ چاہتا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ سب کام چھوڑ کر اس کی بات توجہ سے سنیں ۔ اسے اپنے قریب کریں والدین اور اساتذہ بچے کی تربیت میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ روک ٹوک بچے کو ضدی بنا دیتی ہے۔اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کام کرے۔وہ غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کرتا۔ فرض کریں آپ کے بچے نے تعلیم کے میدان میں بہت فتح کی ہو لیکن اگر اس کی تربیت اچھی نا ہوئ ہو تو وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک آپ ہر پہلو سے نظر نہیں رکھے گے۔کہ آپ کا بچہ کیا کرتا ہے اس کی دوستیاں کیسی ہیں ۔بچے کی پہلی تربیت اس کے ماں باپ کی عملی زندگی میں وہ ٹھیک نہ ہو تو بچے پر باتوں کا اثر نہیں ہوتا ۔ماں باپ بچے کا پہلا رول ماڈل ہوتا ہے ۔باتوں سے سمجھانا عملی زندگی میں تربیت کے بعد آتا ہے ۔اسلام جو سلامتی والا دین ہے۔اس نےاپنےپیروکاروں کو ہمیشہ ایسی تعلیمات دی ہیں ۔جن پر عمل کر نے سے ان کی دنیا بھی سنورتی ہیں اور اخرت بھی ۔اسلام میں اولاد کی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیا ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتے ہیں اور انہیں اچھے برے کی تمیز دیتے ہیں ان کے بچے دنیا میں بھی والدین کے فرمابردار اور ان کے سکون کا باعث بنتے ہیں ۔اور اخرت میں بھی اجر کا ذریعہ بنتے ہیں ۔نیک اولاد ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔
………….………………twitter.com/@ambersaif3
-

گلگت بلتستان کے آٸینی مساٸل۔ تحریر سیف الرحمن افق ایڈووکیٹ
گلگت بلتستان جسے 2009 سے قبل شمالی علاقہ جات یا ناردرن ایریاز کہااور لکھا جاتا تھا کو گورننس آرڈر 2009 کے نفاذ کے بعد گلگت بلتستان کے نام سے موسوم کیا گیا بنیادی طور پر یہ خطہ تنازعہ کشمیر کا اہم حصہ اور مسلہٕ کشمیر کا اہم فریق ہے 1947سے قبل گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھا یہ خطہ مسلہٕ کشمیر سے منسلک ہونے کی وجہ سے براہ راست آٸین پاکستانيوں کا حصہ نہیں بن پایا ہے 1949 میں وفاقی حکومت نےمعاہدہ کراچی کی روشنی میں اس علاقے کا انتظام وانصرام براہ راست وفاقی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لیا اور وفاقی حکومت نے 1971 تک اس خطے کو ایف سی آر کے قوانين کے تحت ریگولیٹ کرکے چلایا 1971 میں زولفقار علی بٹھو شہید کی سربراہی میں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان علاقوں سےپہلی بار ایف سی آر کے کالے قوانین کا خاتمہ کرکے ابتدائی سیاسی اصلاحات نافذ کیٸں اور جمہوری اداروں کا قیام عمل میں لایا جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرکے اس پسماندہ خطے کے باسیوں کو پہلی بار سیاسی بنیادوں پر ایمپاور کرنے کی طرف سفر کا آغاز کیاگیا اور اس خطے کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوٸے گندم سمیت دیگر بنیادی اشیإ پر سبسڈی کا آغاز کیا 1971 سے لے تادم تحریر اس حطے کو مختلف انتظامی اصلاحاتی پیکجز کے زریعے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے تحت چلایا جارہا ہے اگرچہ 2009 میں سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت نےایک صدارتی حکم نامہ گورننس آرڈر 2009 کے زریعے پہلی بار اس خطے کو انتظامی طور پر صوبے کا درجہ دیا اور علاقے کو اس کے پرانے نام گلگت بلتستان سے موسوم کیااور گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن اس کے واضح آٸینی تشخص کا سوال معمہ ہی بنا رہا بعد ازاں مسلم لیگ ن کی حکومت میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں قاٸم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گورننس آرڈر 2018 گلگت بلتستان نافذ کیاگیا جس پر عوامی حلقوں نےشدید ردعمل دیا اورشدید عوامی احتجاج اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تناظر میں گلگت بلتستان کے آٸینی تشخص پروفاقی سطح پر کام کو مزید بہتری کے لیےجاری رکھا گیا اب اس حوالے سے خوش آٸند خبریں آرہی ہیں کہ گلگت بلتستان کو عبوری طور پر صوبہ بنانے کے لیے وفاقی وزیرقانون کی سربراہی میں جو کام ہورہاتھا اس پر مبنی ایک ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے جس پر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور افہام و تفہيم کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کاجاٸے گا اور اس خطے کو آٸین پاکستانيوں میں ترمیم کرکے زراٸع کے مطابق عبوری طور پر صوبے کا درجہ دینے پر مقتدر حلقوں میں غور ہورہا ہے جو کہ خوش آٸند ہے عبوری طور پر صوبے کا درجہ ملنے کے بعد اس خطے کو قومی اسمبلی وسینٹ میں نماٸندگی حاصل ہوگی اوراس طرح تاریخ میں پہلی بارشاید گلگت بلتستان کے عوام کی بھی ان ایوانوں میں آواز سنائی دے گی گلگت بلتستان بار کونسل نے بھی اپنے ایک قرارداد کے زریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کی پسماندگی اور دورآفتادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں کم از کم نو نشستيں اور سینٹ آف پاکستانيوں میں دیگر صوبوں کے برابر نماٸندگی دی جاٸے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا داٸرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھاکر یہاں پر سپریم کورٹ کا رجسٹری بینچ قاٸم کیا جاۓ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے خواہشات اور مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے آیٸنی تشخص کے مسائل کو حل نکالا جاۓ اور گلگت بلتستان کے عوام کا بھی یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو صوبائی طرز پر دیگر صوبوں کی طرح کا نظام دیکر باقاعدہ آٸین پاکستان میں عبوری طور پر ترمیم کرکے تا تصفیہ مسلہ کشمیر آٸینی تحفظ فراہم کیا جاٸے اور قومی اسمبلی و سینٹ سمیت تمام قومی اداروں میں دیگر صوبوں کے طرز پرنماٸندگی دی جاٸے اگر مسلہٕ کشمیر کی وجہ سے کوٸی رکاوٹ و پیچیدگی درپیش ہے تو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ قاٸم کرکے اس خطے کی عوام میں پاٸی جانے والی بے چینی و احساس محرومی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے
Twitter Handle @Srufaq.