Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی


    سانحہ کربلا صبرو تحمل، دلیری و شجاعت، پرہیزگاری، عقیدہ، اخلاق اور طرز زندگی کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے ۔واقعہ کربلا کو زندہ و جاوید بنانے میں زینبؓ، کلثومؓ، سکینہ ؓ اور دیگر شہداء کی خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ واقعہ کربلا کے پیغام کو رعایا تک خواتین نے پہنچایا ہے۔

    اس واقعہ کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی حسین ؓ اور دیگر شہدا ادھورا ہی رہ جاتا۔

    زینبؓ ، کلثومؓ،سکینہؓ اوردیگر شہدا ٕ کی خواتين کی بے مثال کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ سانحہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت حسینؓ بن علیؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا اہم کردارادا کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت حسینؓ کا خواتین و بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔

    واقعہ کربلا کی ان عظیم خواتین نے یریذی قوتوں کے مقابل اپنے جگر گوشوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا اور اپنے سہاگوں کو بھی راہ اللہ میں قربان ہوتے دیکھا، لیکن خاتم النبیینﷺ کے دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی ۔

    اس بات میں کوئی شک و شہبہ نہیں کہ اگر خواتین حضرت حسین ؓ کا ساتھ نہ دیتیں، تو اُمت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا کے میدان میں ہی ختم ہو جاتی۔ ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ جاوید بنا دیا۔

    آج کی مسلمان خواتین کے لئے واضح درس ہے کہ زمانہ کتنا بھی خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائیں اور موجودہ حالات کتنے بھی سخت کیوں نہ ہو جائیں ، معاشرہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو جائے، مگر یہ سختیاں اور دشواریاں و مصائب واقعہ کربلا کی سختیوں اور آزمائشوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں، سچ کا ساتھ دیں، اور یریذیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوں تو راستے خود بخود سہل ہو جائیں گے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • اسلام اور پیغامِ کربلا   تحریر: حمزہ احمدصدیقی

    اسلام اور پیغامِ کربلا تحریر: حمزہ احمدصدیقی

    دین اسلام امن و سلامتی کا علم بردار، پرامن، بقائے باہمی، سلامتی و آشتی، تحمل و رواداری ، پیار و خیرسگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، جس میں ظلم و ستم اور تشدد کی مطلق گنجائش نہیں، حق تلافی، ہر قسم کی دھوکے بازی، غبن اور سود حرام ہے، خوف و دہشت کا کوئی تصور نہیں،ذات پات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جوازنہیں ہے۔

    دین اسلام امن کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی ہمارے دین کو دنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تعلیم دینے والے مذہب سے تشبہہ دی جاتی ہے۔ مغربی لوگوں نے ہمارے دین اسلام کے خلاف بھرپور پروپگینڈا مہم شروع کر رکھی ہوٸی ہے طرح طرح کی تاویلات اور غلط تشریحات سے ہمارے دین اسلام کا مبارک چہرہ مسخ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جو اہل ایمان والوں کیلٸے لمحہ فکریہ ہے۔

    دین اسلام کو آج سنگین چیلنجوں اور کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مذہب اسلام رسوائیوں کا سامنا ہے۔ یہ سب ہمارے قوم اور ریاست کے حکمران اور دین فروش صاحبان جو دین ملت کی مصلحت کوشی، دین سے دوری، مفاد پرستی، اقربا پروری، انا پرستی ،کند ذہنی ، جہاہلانہ سوچ، تفرقہ بازی، اور منتقمانہ مزاجی کا ثمر ہے اور اس زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، خاتم النبیینﷺ کے اسوہ حسنہ اور تعليمات سے بے اعتنائی اور نواسہ رسول حضرت حسینؓ بن علیؓ کے لہو سے رقم ہونے والے پیغام واقعہ کربلا کو بھلا دینا ہے۔

      حسینؓ بن علیؓ اور شہدائے کربلا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نانا کے دی اسلام کی بقا اور اسکی سر بلندی کیلٸے اپنا سب کچھ راہ خدا پہ قربان کرنے کا جو درس دیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جاٸے گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے؟ کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال حسینؓ بن علیؓ اور ان کے جانثاروں کی شہادت کو جس دل سوزی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور ان کے غم میں اشک بار ہوتے ہیں؟ کیا واقعی اپنی عملی زندگی میں بھی اسی چاہت و محبت، عقیدت اور اخلاص نیت کے ساتھ اسوہ حسینیؓ پر عمل بھی کرتے ہیں؟

    کیا موجودہ دور کے یزیدیوں کے خلاف آج بھی مسلمانوں کے حکمراں حضرت حسینؓ بن علیؓ کی طرح صف آرا نظر آتے ہیں؟ کیامسلمانوں نے واقعہ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھا اور کوئی سبق حاصل کیا؟ افسوس کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

    قارئين اکرام!! کشمیر، فلسطین، شام،اور برما کو دیکھ لیجیے کہ کیسے ان ظلم و ستم ڈھاٸے جارہے اور وقت کے یزیدوں کے سامنے ہمارے مسلم حکمراں سر جھکائے کھڑے رہتے ہیں اس وقت کی نزاکت اور حالات کی سنگینی کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کو کربلا میں شہادت حسینؓ بن علیؓ اور واقعہ کربلا کے پیغام کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔

    اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین ثم آمین!!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • نماز معراجِ مومن ہے. تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    نماز معراجِ مومن ہے. تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب تعالیٰ سے ملاقات کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی ہے رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیے جس نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا اس کی نثال نہیں ملتی.کیسی کمال بات ہے کہ جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتا ہے اس سر کو رب تعالیٰ کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ عبادت کا حسن یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں ہے.
    معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا اب انسان کا کام ہے. جسے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے. انسان جب اپنے رب کے رو برو وضو اور نیت کرنے کے بعد جب کھڑا ہوتا ہے تو کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے کسی باس کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اے انسان اس رب کریم جو کہ اس تیرے باس کا بھی رب ہے جو اس اسے بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا تو کیا کرو. بارگاہ خالق دوجہاں ہے بارگاہ رب العالمین ہے کوئی مزاق تو نہیںجو اہتمام نا کیا جاے. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے خالق و مالک کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ اس بات کا تصور اور احساس کا ہونا ہے کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول رہتی ہیں وہ رب کریم میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے اللہ رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
    بندگی کا اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جو بول رہا ہو اس چیز کی گواہی زبان سے اور دل سے بھی اس کی شہادت دے. جب زبان الحمد للہ رب العالمین بولے تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دےاور اس کی تاثیر روح میں اتارے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا کوئی گالہ ہو. روح رب العالمین کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں اللہ جل شانہ کا طائب نظر آے.
    سوچئے تو سہی ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ چکے. بتائیں تو زرا دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل کو بخوبی سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں پیش کیا جانا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں بسا اور چلا رکھا ہے.
    اس سے آگے معراج کی کامل منزل کا آغاز ہوتا ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم ہو چکے گویا رب العالمین کو اپنے سامنے اور خود کو دیکھتا ہو امحسوس کر رہا ہوں. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی صاحب. احساس کی کامل انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو اور سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا کہیں دور چھوڑ آیا اس کے خیالات ختم ہو چکے بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمتوں والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا کھڑا ہوتا ہے. تو دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. کیا ہی خوبصورت احساس کہ رب العالمین سے باتیں کر رہا. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر پروردگار کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی. دنیا کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے. اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھائی دیتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی مہر ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کر لیتی ہے بندے کو اپنا من ہلکا ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو اور بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت لیے برستی آنکھوں سے با آسرا دنیا سے بےگانہ آئندہ فرمانبرداری کا عزم لیے. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا ہی کریم ہے غفور الرحيم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے اپنے روبرو آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا وہ کبھی نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ بھی ہو تو بہتر کر کے عطا دیتا ہے. میرے عزیز بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضے کو سمجھیے بندے کی معراج کی اس حقیقت کو سمجھیے اپنی عبادت کو خود کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ ان پر عطا رب العالمین ہے لیکن بندے پر احسان ہے کہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کر دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرائی گئی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں نماز میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو اور اللہ کریم کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکنے لگے. کہ واہ آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.

    @EngrMuddsairH

  • جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت کے متعلق بات کرنے سے پہلے جمہوریت کے علمبردار چند ممالک کا مختصر احوال دیکھتے ہیں، اور ساتھ پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں۔
    امریکہ۔ جمہوریت کا چمپٸین امریکہ دنیا کا مقروض ترین ملک ہے۔ ریپ اور سٹریٹ کراٸمز کے علاوہ منشیات کے استعمال میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے۔ دنیا بھر میں امریکن فوجی اڈے موجود ہیں پچاس سال ویتنام کے ساتھ جنگ۔ عراق کویت جنگ کے علاوہ عراق شام اور افغانستان جیسے ممالک میں بلاجواز حملہ آور ہونا اور طویل عرصے تک رہ کر اربوں ڈالرز ضاٸع کرنا اور حاصل صرف شکست اور ذلت۔ جبکہ لاس ویگاس، میکسیکو سٹی، الاسکا سمیت کٸ امریکن سٹیٹس ڈرگ اور منشیات مافیاز کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ تاہم امریکن کانگریس اور صدر بھی پینٹا گون سے فوجی مہمات کے نتاٸج نہیں پوچھ سکتے ناں قرض کے باوجود بجٹ کم کرسکتے ہیں۔ ناں امریکن میڈیا سی اٸ اے اور پینٹاگون سے کوٸی سوال کرسکتا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری تقریر اسٹیبلشمنٹ نے دوران انتخابات رکوائی حالانکہ وہ عملاً تب امریکی صدر تھے۔

    بھارت دنیا میں سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کا دعویدار ملک بھارت ہے، بھارت عالمی سطح پر خواتينٕ کے لیے غیر محفوظ ترین ملک ہے۔ دنیا میں اٹھارویں نمبر پر سب سے زیادہ قرض لینے والا ملک ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹی ممبی بھارت میں۔ اِس کے علاوہ کم سن بچیوں کو فروخت کرنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ دفاعی اخراجات کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے۔ جبکہ صرف دہلی میں ساڑھے تین لاکھ لوگ فیملی سمیت سڑکوں پر رہاٸش پذیر ہیں۔ بھارت اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تاہم عوام کی زبوں حالی اور بھاری قرضوں کے باوجود بھارتی حکومت ناں فوج کی تعداد کم کرسکتی ہے ناں دفاعی اخراجات گزشتہ دنوں جب کرونا لاک ڈاٶن کےباعث بھارتی عوام اوآرہ کتوں کا گوشت کھانے پر مجبور تھی بھارتی حکومت رافیل خرید رہی تھی آرمی چیف کے مطالبے پر۔ تاہم بھارتی میڈیا را یا بھارتی آرمی کے اخراجات پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔

    چین (چاٸنہ) مقروض ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر۔ چین میں سوشلزم ہے مطلب میڈیا ہو یا عام آدمی کوٸی کسی پالیسی پر گُفتگو نہیں کرسکتا۔

    اسراٸیل آبادی۔ 87 لاکھ رقبہ باٸیس ہزار مربع کلومیٹر۔ اہم صنعتیں میڈیسنز ویکسینز اور اسلحہ بنانا۔ قرض لینے والے ممالک میں پچاسویں نمبر پر۔ دفاعی اخراجات پاکستان سے پانچ گُنا زاٸد ۔ روز قیام سے فلسطین شام لبنان اور اُردن پر آۓ روز بمباری کرنے کے باوجود اسراٸیلی میڈیا اپنی فوج کی اِس قتل عام میں حوصلہ افزاٸی کرتا ہے۔ اسراٸیلی صدر کے لیے جنگی تربیت لازم ہے۔

    پاکستان جسے ڈیپ سٹیٹ کا طعنہ دیا جاتا۔ موسٹ کرپٹ پالیٹیشنز رکھنے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ قرض کے حوالے سے 54 نمبر پر دفاعی اخراجات کے حوالے سے اٹھارویں نمبر پر۔ پاکستانی فوج 56 ممالک میں UNO کے امدادی مشنز میں مدد فراہم کرنے اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے گزشتہ کٸ سال سے پہلے نمبر پر۔ اسلامی ممالک میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے پانچویں اور اہلیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، جبکہ عدالتی نظام 120 ویں درجے تک گِرا ہوا ہے۔ پاکستان دنیا میں خیرات دینے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ملکی اخراجات سے قطع نظر عام عوام کا معیار ذندگی ہمسایہ ممالک سے کہیں بہتر ہے۔ میڈیا کے علاوہ ہر خاص و عام کو دفاعی اِداروں اور دفاعی پالیسی پر تنقید کرنے کی کُھلی اجازت ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہر ملک میں ایک ہے مگر معیار الگ جن ممالک کی افواج دیگر ممالک میں قتل عام کرتی ہے وہاں کا میڈیا فوج کے ساتھ ہے مگر جس ملک کی فوج 56ممالک میں عوام کی مدد کرتی ہے وہاں صرف اِس وجہ سے تنقید کہ بولنے والوں کے لیے سخت قوانین نہیں جیسے سعودیہ، کوریا، چین، اور دیگر ممالک میں ہیں دفاعی پالیسیز ہمیشہ اِنٹیلی جنس رپورٹس کی بُنیاد پر بنتی ہیں لہٰذا دفاعی ادارے ہر ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور سیاست پر اثرانداز بھی۔ بس کہیں اِس پر بولنےکی کُھلی چھٹی ہے اور کہیں سخت سزا۔۔۔ اور پاکستان میں۔۔؟
    @A2Khizar

  • کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    کیا عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلاء ممکن ہو پائے گا؟ تحریر: محمد مستنصر

    ایک طرف جہاں امریکا نے اتحادی افواج سمیت 31 اگست تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ جانے کا اعلان کیا ہے تو وہیں امریکا نے عراق سے بھی سال 2021 کے آخر تک اپنی افواج نکال کر عراق میں جنگی مشن ختم کرکے آئندہ صرف عراقی افواج کی تربیت،مشورہ سازی اور داعش کے خلاف درکار ضروری مدد فراہم کرنے تک محدود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکومت کا بھی دعوی ہے کہ عراقی افواج میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں اس لئے عراق میں قیام امن کے لئے اب امریکی افواج کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم امریکا چاہے تو عراقی افواج کو انسداد دہشتگردی کی تربیت اور مشاورت میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ امریکا اور عراق اپریل 2021 میں امریکی فوج کے مشن کو تبدیل کرنے پر متفق ہوئے تھے اور تب یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا اپنی افواج عراق سے نکال لے گا تاہم بعض وجوہات کی بناء پر اس وقت امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درحقیقت عراق میں تعینات امریکی افواج کے مشن کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے اور کوئی امریکی فوجی واپس نہیں بلایا جا رہا کیونکہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی ناگزیر سمجھتا ہے اور اس مقصد کے لئے امریکا نے تمام خلیجی ممالک میں اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ امریکا میں بعض لوگ امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کے حامی تو ضرور ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ امریکا کے ہاتھ سے عراق نکل جائے شاید اسی لئے امریکہ اپنے کچھ فوجی عراق میں موجود رکھنا چاہ رہا ہے تاہم یہ تعداد ابھی واضح نہیں۔

    بظاہر عراق میں امریکی فوجیوں اور ماہرین کے موجود رہنے کا مطلب یہی ہے کہ عراق میں امریکی مداخلت برقرار رہے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اب مشرق وسطی سے اپنی افواج نکال کر چین اور روس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے پر ذیادہ توجہ دینی چاہئے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان کی طرح عراق سے بھی امریکا اپنی افواج نکالنے پر مجبور ہوا ہے نہ کہ امریکا کو اپنے فوجی مشن میں کامیابی ملی ہے۔ سال 2003 میں عراق میں 1 لاکھ 60 ہزار امریکی اور ان کے اتحادی فوجی موجود تھے مگر اب یہ تعداد صرف 25 سو رہ گئی ہے جبکہ کچھ سپیشل فورسز بھی عراق میں موجود ہیں جو داعش کا مقابلہ کرنے میں مقامی افواج کی مدد کرتے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی خاصی متنازعہ بن چکی ہے بالخصوص جنوری 2020 میں جب ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی ملیشیاء کے لیڈر ابو مہندی سمیت بغداد میں مارا گیا تو عراقی عوام نے امریکا کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ عراقی پارلیمںنٹ میں بھی قرارداد پاس کی گئی جس میں امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ سال 2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کرنے اور عراق میں بین الاقوامی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے الزامات لگاتے ہوئے امریکی فوج کے اتحادیوں سمیت عراق پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یوں تو امریکی صدر جارج بش نے عراق کو امن کا گہوارہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے کئے تھے مگر عراق پر امریکی یلغار کے بعد کشیدگی اور بدامنی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا اور خانہ جنگی برپا ہو گئی

    عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے حق میں امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سول سوسائٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بھی عراق سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا یوں سال 2011 میں امریکی فوج عراق سے چلی گئی تاہم داعش کی طرف سے عراق کے کچھ شہروں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے دوبارہ امریکا سے مدد طلب کی تو سال 2014 میں دوبارہ عراق میں امریکی فوج پہنچ گئی اسی تناظر میں اب بھی بعض حلقوں کا ماننا ہے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد عراق میں مختلف گروہوں کے مابین اقتدار کے لئے پانے جانے والے اختلافات خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ صورتحال امریکی افواج کے عراق میں مزید قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکا اپنی افواج کے عراق سے انخلاء اور سالوں پر محیط عراق میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے یا پھر داعش سمیت دیگر شرپسند قوتوں کو جواز بنا کر خلیجی ممالک میں اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کے لئے امریکی اور اتحادی افواج کی عراق سمیت دیگر خلیجی ممالک میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے نیا گیم پلان سامنے لایا جائے گا۔
    @MustansarPK

  • چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    زندگی صفحہ قرطاس پہ بکھرے سات رنگوں کا مجموعہ, جو کسی کیلیے دھنگ رنگ پیرہن تو کسی کیلیے اماؤس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے ۔ انسانی زندگی مسلسل بدلتی کیفیات کا نام ہے جس میں مستقل کیفیت دکھ اور غم کی ہے۔ اگرچہ خوشیاں بہت عارضی وقت کے لئیے ہوتیں ہیں لیکن خوشیوں سے جڑی یادیں ساری زندگی آپکو خشگوار احساس سے جوڑتی ہیں ۔ غم خود بخود مل جاتے ہیں لیکن خوشیاں ڈھونڈنے پڑتی ہیں ۔
    بہت خوبصورت ہوتا ہے وہ وقت جب ہم خوش ہوتے ہیں. ہم خوش ہونے کی بڑی وجوہات کو اگر اپنی ذات سے کچھ وقت کے لئیے الگ کر کے دیکھیں تو سارا وقت ہنسی خوشی گزرتا ہے۔ کیوں کہ جن بڑی باتوں کے پورا ہونے میں وقت درکار ہو اسکا انتظار کرنے کے لئیے اپنے حال میں موجود چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انکے انتظار کا مزہ اپنی جگہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوئ خوشیوں کا مقام اپنی جگہ، اب سوال یہ ہے کہ وہ کیسے؟ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میںں چھپی ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھئیے کن چیزوں سے آپکو خوشی ملتی ہے۔ کسی کی مدد کر کے دل کو سکون اور خوشی دونوں میّسر آتے ہیں۔ جیسے کسی کو خوش دیکھ کر آ پکو خوشی ملتی ہے۔

    جیسے، اپنی، والدہ، والد، کوئ بچہ، بچی، بہن بھانجی، بھانجے یا بھتیجی، بھتیجے، یا محلے کا کوئ بچہ، خاندان کے تمام بچے یا پھر اپنی بیوی کی مسکراہٹ یا اسکا غصہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزمرہ ہمارے ارد گرد ہمارے ساتھ رہتی ہیں ان میں چھپی ہزاروں خشیاں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسکے بجائے ہم بڑی خواہشات کے پورا ہونے میں خود کو اسطرح مصروف کر لیتے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں رہتا کہ ہم خوش بھی ہوسکتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے بیوی بچوں میں روزانہ آکر بیٹھنا انکی کھٹی میٹھی باتوں کا حصہ بننا اور ان سے خود کو محضوظ کرنا بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا ہی ایک حصہ ہے اور بڑی نعمت بھی ہے۔ ہم اپنی اپنی ذندگیوں میں اپنے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی دوڑ میں خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور سوال پھر وہی کے ہمیں کبھی خوشی نہیں ملتی ہم آخر خوشیاں کہاں سے لائیں۔ بعض اوقات ہم اپنے کسی چاہنے والے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئیے اس سے دور رہتے ہیں۔ لیکن اس میں بہت سی خوشیاں کھو جاتی ہیں۔ جیسے کوئ باپ اپنے بچے کو خوش کرنے کے لئیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بچوں کو لا کر دیتا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے معصوم بچے ہمیشہ صرف والد کی لائ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس عمل کو وہ تا حیات یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے والد یوں ہمارا خیال رکھتے تھے ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے خشیاں دیتے تھے۔ کوئ کھلونا کوئ چوڑی کوئ پائیل، کوئ شرٹ، یا پھر ٹائ اگر کسی کی خوشی کا حصہ ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ خوشیاں بانٹیں یہ سب بہت مہنگے شوق نہیں جو آسانی سے پورے نہ کئیے جاسکیں۔ یہ تو ضروریات تحفے اور خریداری سے جڑی کچھ خواہشات تھیں خیر۔۔

    خوشی صرف مادی چیزوں یا کسی زی روح کی موجودگی سے ہی کشید نہیں ہوتی بلکہ خوشیاں کسی کے موجود ہونے کے احساس سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ آپکی موجودگی کی خوشی اور غیر موجدگی کے اثرات اگر کسی کی ذندگی پہ اچھائ میں رونما ہوتے دکھائ دیتے ہیں تو اس سے بڑی نعمت اور خوشی کیا ہوگی کہ کوئ آپکے لئیے منتظر رہتا ہے۔ اپنی موجودگی کو یقینی بنائیے آپکو اپنی خوشی سمجھنے والے کہیں خود خاموش نہ ہوجائیں کسی کی خوشی کی وجہ اگر آپکی ذات سے جڑی ہے تو اپ کو کوئ حق نہیں کسی کی خوشی چھینیں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات ہی سب کچھ نہیں ہوتیں کچھ خوشیاں اور چیزیں صرف تعلق پہ منحصر ہوتی ہیں۔کسی کیلیے آپ کی ایک مسکراہٹ خوشی کا باعث ہوتی ہے تو کبھی آپکا صرف احساس ہی کافی ہوتا ہے ۔ ایسے رشتے ایسی خوشیاں بہت انمول ہوتی ہیں انھیں کسی قسم کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ کھوئیں اپنے پیاروں کی اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قدر کیجئیے۔ یہ آپکا ماضی، حال اور مستقبل یادگار اور خوبصورت بناتی ہیں۔ سب کے لئیے خوشی کی وجہ بنئیے لوگوں کے چہرے کی رونق اور انکی انکھوں کے جگمگاتے تارے بنیں اور اس خوشی کو محسوس کیجیے تاکہ آپ خوش رہ سکیں ۔

    @_Ujala_R

  • کال پے بات اور آداب گفتگو تحریر : ولید عاشق

    انسان اور حیوان میں بنیادی فرق لسان اور شعور کا ہے،اسلیے گفتگو انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کے ہمہارے اچھے یا برے ہونے،مزاج اور اخلاق کا دارومدار بھی ہمہاری گفتگو پر ہی ہوتا ہے،ہمہارے ساتھ ملنے جھلنے والوں پر بھی پہلا تاثر ہمہاری گفتگو کا ہی ہوتا ہے،لہٰذا ہر شخص کو گفتگو میں محتاط ہونا چاہیے،گفتگو کے وقت بہت سی اہم باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے،
    گفتگو کے وقت لہجے میں نرمی متانت اور وقار کا خیال رکھیے،بات شروع کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے،بغیر سوچے سمجھے بولنا بیوقوفی کی علامت ہے،
    گفتگو کے دوران غصے کا اظہار ،سخت الفاظ کا استعمال ،مسخرہ پن اور اپنی تعریف یہ تمام چیزیں اداب گفتگو کے خلاف ہے،
    کسی کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس کی سچائی پر ہمیں خود شک هو،اگر اتفاق سے ایسی کوئی بات کہنی بھی پڑھ جاۓ تو اس کے ساتھ اپنا شک بھی ظاہر کر دینا چاہیے،
    کسی کے عقیدے مذہب یا بزرگوں کی شان میں نا زیبا الفاظ کا استعمال کرنا مناسب نہیں،جاہلوں اور ان پڑھوں سے زیادہ مشکل باتیں نا کریں،بات کرتے وقت آواز اتنی دھیمی نا هو کے آواز آپ کی سنائی نا دے،اور نا اتنی تیز کے سننے والے کو نا گوار گزرے،
    موبائل فون اور سوشل میڈیا آج کل ہر انسان کی مجبوری بن چکا ہے،ہر غریب امیر کے ہاتھوں میں یہ موبائل فون نظر اتا ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کے یہ اللہ‎ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور نعمت کا جائز استعمال کیا جاۓ ،نعمت کا غلط استعمال زحمت بنا دیتا ہے،اور دنیا اور آخرت میں بربادی کا ذریعہ بنتا ہے،سیل فون ایک بہت بڑی نعمت ہے،آپ ذرا تصور کیجئیے پہلے زمانے میں ایک دوسرے تک خبر پہنچانے کے لیے کتنے مسائل ہوتے تھے،اگر کسی کا انتقال ہوتا تھا تو دوسری جگہ پیغام پہنچانا انتہائی مشکل ہوتا تھا،آج دنیا میں کسی جگہ پے بھی انتقال هو تو ایک منت میں پوری دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے،اور آج ہم صرف موبائل فون پے کال پے بات چیت کے اداب کے بارے میں آپ کو اگاہ کرے گے،

    1. پہلی بات کسی کو صبح 9 بجے سے پہلے اور رات 9 کے بعد کال مت کیجیے.

    2. چھٹی والے دن دس گیارہ بجے تک بندے کی جان بخش دیں اس کے بعد کال کریں۔

    3. دوپہر کے اوقات میں بھی اور خاص طور پہ نماز کے اوقات میں کال نا کریں۔

    4. بہتر ھے وائس نوٹ چھوڑیں اور کال کرنے کا ٹائم لے لیں ھم آج بھی اپنے پرانے دوستوں کو واٹس ایپ پہ میسج کر دیتے ھیں کہ فری ھو کے کال کرنا یا فری ھو کے بتانا مجھے بات کرنی ھے یا ارجنٹ بات ھے۔ ھر بندے کی پرائیویسی ھے اسکا مکمل خیال رکھیں۔

    5. کسی کو پہلی بار کال کر رھے ھیں تو لازمی میسیج کر کے اجازت لیں اور ٹائم لیں۔

    6. سب سے اچھا طریقہ ھے وائس نوٹ بھیج دیں جب دوسرا فری ھو گا سن لے گا اور جواب بھی دے دے گا۔

    7. جب پہلی بار کسی سے بات کریں تو پہلے اپنا تعارف کروائیں اور ساتھ ھی مدعا بیان کر دیں مکمل بات ایک ساتھ کر دیں سوال جواب کھیلنا شروع مت کریں۔

    8. اگر کوئی فون کاٹ دے تو اس اسکا مطلب وہ مصروف ھے ابھی بات نہیں کر سکتا اتاولے ھو ھو کے کال پہ کال مت کیے جائیں۔

    9. اگر کوئی ایک مکمل رنگ پہ فون نہیں اٹھاتا اسکا بھی یہی مطلب ھے کہ وہ دستیاب نہیں ھے دس منٹ صبر کر جائیں یا میسج بھیج دیں کہ فری ھو کے کال بیک کریں۔

    10. اگر کسی کا فون مصروف ھے تب بھی بار بار فون ملا کے اسکی کال انٹرپٹ نا کریں۔
    اللہ‎ پاک ہم سب کو توفیق عمل سے نوازے
    امین

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • ہماری ذاتی ناکامیوں کی وجوہات تحریر: زبیر احمد

    ہماری ذاتی ناکامیوں کی وجوہات تحریر: زبیر احمد

    ہماری زندگی میں ایک لفظ "ناکام/ناکامی” ہے جس سے ہم بہت گھبراتے اور پریشان ہوجاتے ہیں۔ یہ لفظ بچپن سے بڑھاپے تک ہماری جان نہیں چھوڑتا۔بچپن میں کلاس میں فیل ہونے کا ڈر، لڑکپن میں کالج یونیورسٹی میں فیل ہونے کا ڈر، جوانی میں اچھی جاب حاصل کرنے میں ناکامی کا خوف اور آخرکار جب جاب مل جائے ہے کیرئیر میں فیل ہونے کا ڈر۔ گویا ہماری اس لفظ "ناکامی” سے ایک مسلسل جنگ ہے لیکن یہ بڑے اچنبھے اور حیرانگی کی بات ہے کہ اتنی گھبراہٹ، ڈر اور تلملانے کے باوجود زیادہ تر لوگ زندگی میں ناکام ہونے کی پلاننگ کررہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہوئے یا نا چاہتے ہوئے ارادی یا غیر ارادی طور پہ زندگی میں اپنی عادات، اعمال اور کاموں کے ذریعے دراصل ناکام ہونے کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کامیاب لوگوں کی تعداد کم جبکہ ناکام لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ناکام ہوتے ہیں وہ قسمت مقدر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت میں کچھ عادات کی وجہ سے ہوتے ہیں، یہ عادات اتنی خوفناک اور خطرناک ہوتی ہیں کہ جو بندہ ان کو اپنا لیتا ہے وہ بھرپور طریقے سے اس کو ناکام کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر آپ میں کچھ ایسی عادات ہیں جن کو اپنانے کی وجہ سے آپ آگے بڑھ نہیں پا رہے اور یہ عادت آپ کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں تو ان کو ترک کردیں اور ان کو اپنی شخصیت سے نکال کے باہر پھینک دیں تاکہ آپ کامیابی کی طرف گامزن ہوسکیں۔زندگی ایک بڑی وجہ جس کی وجہ سے لوگ ناکام ہوتے ہیں ہوتے ہیں وہ ہے بغیر کسی وجہ کے غیرضروری طور پہ کاموں کو سرانجام دینے میں تاخیر کرنا، زیادہ تر لوگ اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے چیزوں یا کاموں میں تاخیر کرتے ہیں یہ لوگ آخر وقت تک اپنے کاموں کو سرانجام نہیں دیتے جس کی وجہ ان کے ہاتھ سے قیمتی وقت نکل جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے شعر ہے کہ
    "کہ وقت جوں جوں رائیگاں ہوتاگیا
    زندگی کو کام یاد آنے لگے”
    دوسری وجہ کام میں تاخیر کی وجہ کہ لوگ پوری زندگی صحیح وقت اور موقع کے لئے گزار دیتے ہیں۔ زندگی میں نہ تو کوئی صحیح وقت اور لمحہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی صحیح موقع ہوتا ہے جو بھی کرنا ہے وہ آج ہی کرنا ہے کل کسی نے نہیں دیکھا آپ کو آج سے شروع کرنا ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت صحیح نہیں ہے، آپ کے پاس کسی کام کرنے کے اوزار مکمل نہیں ہیں تو گھبرائیں نہیں پریشان نہ ہوں بلکہ جو کچھ میسر ہے اسی سے کام کی شروعات کریں جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے چیزوں کو ترتیب دیتے رہیں اسی طرح تاخیر کرنے کی بری عادت سے چھٹکارا پائینگے اگر آپ یہ نہ کرپائے تو زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ 
    1986 کے اولمپکس کی میراتھن ریس اولمپکس کی تاریخ کی میراتھن دوڑوں میں سب یادگار اور تاریخی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس ریس کے یادگار ہونے کی وجہ اس کے جیتنے والےنہیں بلکہ اس ریس کو ہارنے والا اتھلیٹ ہے۔ ریس شروع ہوئی اور اس کے اختتام پہ کوئی پہلے، کوئی دوسرے اور تیسرے نمبر پہ آیا لیکن ریس ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد ایک اتھلیٹ جس کا نام جان اسٹیفن اخواری، اس کا تعلق تنزانیہ سے تھا وہ بھاگتا آرہا ہے اور اس کے پیروں اور ٹانگوں پہ پٹیاں بندھی ہوئی ہیں لیکن وہ لنگڑاتا ہوا بھاگتا آرہا تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ تکلیف کے ساتھ پیروں ٹانگوں پہ پٹیاں بندھے ہونے کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور بھاگتا آرہا ہے تو پورے سٹیڈیم میں موجود لوگوں نے کھڑے ہوکر اس کے لئے تالیاں بجائیں اور آخرکار اس نے لائن کراس کرلی۔ جب جان اسٹیفن اخواری سے پوچھا گیا کہ زخمی ہونے اور  تکلیف کی وجہ سے آپ ریس سے دستبردار ہوسکتے تھے اس نے جواب میں کہا کہ میرا تعلق ایک غریب ملک سے ہے، انہوں نے ہزاروں میل دور مجھے میکسیکو بھیجا اس لئے نہیں کہ میں ریس شروع کروں بلکہ اس لیے کہ میں ریس کا اختتام کروں آج میں ہار گیا لیکن میں نے اپنے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ ہمارے ناکام ہونے کی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا نہ ہونا ہے ہم چیزوں کو شروع تو کردیتے ہیں لیکن ان کو بیچ میں ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے زندگی میں کامیابی کے لئے ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کو اپنی عادت بنائیں۔ تیسری وجہ زندگی میں ناکامی کی کسی مقصد کا نہ ہونا ہے بغیر مقصد کے زندگی ایک بےمعنی زندگی ہے۔ انسان کی زندگی میں دو دن بہت اہم ہوتے ہیں ایک جس دن وہ پیدا ہوا تھا اور دوسرا وہ دن اہم ہوتا ہے جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کیوں پیدا ہوا ہے۔ دوسرے دن کی اہمیت کا احساس تب ہوگا جب آپ حرکت کریں گے اور کام شروع کرینگے تو زندگی کا ایک مقصد مل جائے گا۔ زندگی کا مقصد اپنے کام میں، عادات، شوق، پیشے، علم میں تلاش کریں کہیں نہ کہیں آپکو زندگی کا مقصد مل جائے گا اور اگر ایک بار سرا مل گیا تو پھر آگے بڑھنے کا راستہ مل جاتا ہے اور زندگی میں کامیابی ضرور ملتی ہے۔ زندگی میں اپنی ذات میں ڈسپلن نہ ہونا بھی ناکامی کی بڑی وجہ ہے اسکا مطلب ہے کہ اپنے اوپر کنٹرول ہونا زندگی میں طور طریقہ، ترتیب لانا۔ ایسا کرنے کے لئے آپ کو سب سے پہلے خود کو فتح کرنا ہوگا۔ لوگ کسی چیز کو کرنے کا ارادہ کرتے ہیں لیکن کچھ دن بعد ہی نظم و ضبط، مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے پھر پرانی روٹین پہ آجاتے ہیں کیونکہ پرانی عادتیں برے طریقے سے انسان کو جکڑے رکھتی ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ملک میں تعلیم کا فقدان ناکام ہونے کی بڑی وجہ ہے، ہمارے سیاسی لیڈرز کا عوام کو جکڑنے اور اپنے پیچھے لگائے رکھنے کی جو وجہ اور کنجی ہے وہ عوام کو تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ ان کے خیال میں عوام کو جاہل گنوار، ان پڑھ رکھا جائے کیونکہ اگر یہ پڑھ گئے عقل شعور آگیا تو یہ سوال کریں گے انہوں نے جواب مانگنے شروع کردینے ہیں جو ان سیاستدانوں کے پاس نہیں ہیں لہذا ان کو جاہل رکھو ان سے تعلیم اور بنیادی شعور چھین لو تاکہ یہ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہماری پیروی کرتے رہیں لہذا اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جہاں تک ہوسکے تعلیم حاصل کریں تعلیم صرف سکول کالج یا ڈاکٹر انجنیئر بننے تک نہیں بلکہ کتنا آپ نے سیکھا، سفرکیا شعور اور نالج حاصل کیا اور کس طرح اس علم کو اپنی زندگی پہ لاگو کیا اور تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے ملک کو بدل سکتی ہے۔حکومتوں کو اپنے تمام وسائل تعلیم پہ لگا دینے چاہئیں اس سے ہی ہماری کرپشن ختم ہوگی، سڑکیں، ڈیمز، معیشت اور تمام مسائل حل ہونگے۔ ناکامی کی ایک اور وجہ شخصیت میں منفیت کا ہونا ہے اگر ہر وقت آپ مایوسی کا شکار رہیں اور اپنی اس عادت کی وجہ سے دوسروں کو بھی مایوس کرتے ہیں لہذا اپنے آپ کو مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکالیں اپنی شخصیت کو حقیقت پسندانہ، مثبت اور پسندیدہ بنائیں تاکہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں۔ لوگوں کا حد درجہ محتاط ہونا بھی ان کو آگے نہیں بڑھنے دیتا اگر زندگی میں رسک نہیں لیں گے تو بدلے میں کبھی بڑا منافع حاصل نہیں کرپائینگے, سکون آرام سے باہر نکلیں اور خود کے اچھے سے بہتر اور بہترین کے لئے چیلنج کریں۔ ایک اور ناکامی کی وجہ کہ لوگ اپنی انا کے پجاری ہوتے ہیں گردن میں سریا ہوتا ہے ان کے خیال میں انہوں نے جو کہہ دیا وہی درست ہے باقی سب غلط ہیں ایسی سوچ رکھنے والے کبھی بھی زندگی میں کامیاب نہیں ہوتے، جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے ورنہ اکڑ تو مردے کی پہچان ہوتی ہے۔ جو وقت کے حساب سے اپنے آپ کو تبدیل کرلیتے ہیں وہ ہمیشہ زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔
    یہ وہ عادات ہیں جو آپ کو ناکام ہونے پہ مجبور کردیں گی اگر یہ عادات آپ میں ہیں تو ان کو ترک کریں تاکہ زندگی میں کامیابی کی طرف اپنا سفر شروع کرسکیں

    tweets @KharnalZ

  • استعفے اور ملکی مفاد حصہ اول تحریر : راجہ حشام صادق

    لازوال محبتوں بھرا رشتہ ماں باپ جو اپنے بچے کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ماں باپ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نہیں ۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے فیصلے کرے۔

    کسی بھی ملک کا سربراہ باپ کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک باپ کے فیصلے اپنے گھر اپنی دھرتی ماں کے لیے ہی ہونے چائیں۔بھلے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے گزشتہ تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں۔
    جس کی مثال گزشتہ حکومتوں کے دور میں نہیں ملتی۔

    کپتان بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی بتائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    ان تین سالوں میں ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے کپتان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا۔یا یہ کہ لیں کہ اپنا فیصلہ تبدیل کیا کیونکہ وہ ملکی مفاد میں نہیں تھا۔اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے رہے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    قارئین میرا تو ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے بہادر اور نڈر وزیراعظم عمران خان نیازی کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کپتان نے تین سالوں میں حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے دورے حکومت میں ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ اپوزیشن استعفے کا کہتی تو ن لیگ والے مذاق اڑاتے تھے کہ لو گے استعفے وہ طلال چھودی اور باقی سارے اور یہی کیوں خود نواز شریف کو جب تک عدالت نے گھر نہیں پھیجا اس نے استعفہ نہیں دیا تھا۔
    پھر گلی گلی کہتا رہا مجھے کیوں نکالا۔

    کپتان نے جو استعفے مانگے اس کی وجہ ہی یہ تھی کہ وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا تھا۔ ان میں وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک کپتان کو عزیز تھے پر کپتان نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے لیے۔آپ سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے کپتان اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور کپتان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا تھا۔

    وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق کپتان کا جو فرض تھا وہ ادا کیا۔ کپتان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے ہیں وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔

    جمہوری حکمرانوں میں اسی طرح ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھا۔اور نہ ہی سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے دیکھا۔کوئی بتائے ہمارے سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ کیا ہو؟ وجہ ان کا اصل مقصد وطن عزیز کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں تھا۔

    اللہ پاک کپتان کو سلامت رکھیں اور وہ اس ملک کے لیے مزید اچھے اچھے فیصلے کریں۔آمین

    @No1Hasham

  • بہادر اور نڈر لیڈر عمران خان تحریر: سحر عارف

    بہادر اور نڈر لیڈر عمران خان تحریر: سحر عارف

    عمران خان ایک ایسا نڈر شخص جو جس کام کو کرنے کی ٹھان لے پھر کبھی پیچھے نہیں ہٹتا چاہے وہ کڑکٹ کا میدان ہو یا سیاست۔ ایک ایسا نام جس نے صحیح معنوں میں اپنے لوگوں کے اندر شعور پیدا کیا۔ انھیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا سیکھایا۔ جی ہاں یہی ہے وہ مرد مجاہد جو پاکستان کی عوام کو اس وقت ہوش میں لے کے آیا جب ہمارا ملک چوروں اور لٹیروں کے ہاتھوں کافی حد تک لٹ چکا تھا۔

    جب پاکستان کے اندرونی دشمنوں نے ملک کی ساکھ کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

    وہ وقت تو سب کو یاد ہی ہوگا جب پاکستان قرضوں میں مکمل طور پر ڈوب چکا تھا۔ عوام تو بے خبر سو رہی تھی۔ ایسے میں عمران خان ایک چمکتے ستارے کی طرح ابھرا اور عوام کو آگاہ کیا کہ آپ کے ملک کا پیسہ دونوں دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر باہر کے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے اور اس کام میں کوئی ایک دو نہیں بلکہ چوروں کا پورا ٹبر ملوث ہے۔

    پھر ان لٹیروں کو عدالت میں گھسیٹا اور ان پہ مقدمے چلائے گئے۔ نواز شریف سمیت اس کے دیگر ساتھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پھر پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے بھی تمام اثاثے عدالت میں ثابت کر کے خود کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں پاکستان کے لیے اہل ثابت کروایا۔

    جب کے اس کے برعکس وہ چور اور لٹیرے جنہوں نے کئی کئی سال ملک پر حکومت کی اقتدار میں ائے وہ اپنے تمام اثاثے عدالت میں ثابت ہی نا کر پائے اور کرتے بھی کیسے سارا مال جو پاکستان کا لوٹا ہوا تھا۔ بھلا چوری کی ہوئی چیزیں بھی کبھی ثابت کی جاسکتی ہیں؟ خیر عمران خان ہی کی بدولت نواز شریف اور اس جیسے دیگر امیر اور طاقتور چور قانون کے شکنجے میں ۔ عدالت نے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔

    درحقیقت اس کا سہرا بھی عمران خان کو ہی جاتا یے جس نے اپنے پاکستانی ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے ملک کے دشمنوں کو بےنکاب کیا۔ وہ دشمن جو پاکستان کا کھانے کے ساتھ ساتھ غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ بھی نگل رہے تھے۔ عمران خان اپنے ہم وطنوں کے لیے واحد اور آخری امید بنا۔ اپنے پیارے وطن کی خاطر دن رات ایک کر کے ان چوروں کی اصلیت عوام کے سامنے لایا۔

    اپنی قابلیت اور کئی سالوں کی انتھک محنت کے بعد پاکستان کا وزیراعظم بنا۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی ملک کی ترقی کے لیے کوشاں رہے اور یقیناً آگے بھی رہیں گے۔ بے شمار دشمنوں نے راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی پر ہمیشہ ناکام رہے کیونکہ عمران خان اللّٰہ کے سواء کبھی کسی سے نہیں ڈرا بلکہ اپنی بہادری سے ہمیشہ ان چوروں کا مقابلہ کیا اور آگے بھی کرتا رہے گا۔

    @SeharSulehri