Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اِنتقام تحریر:افشین

    اِنتقام تحریر:افشین

    انتقام (بدلہ لینا )
    جب کوئی کسی کے ساتھ بُرا کرتا ہے دوسرا انسان یا تو معاف کردیتا ہے یا پھر انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے کیا اِنتقام لینا ضروری ہے ؟ کیا اِنتقام لینے کے بعد آپ تسکین پا لیتے ہیں؟؟
    یہ حقیقت ہے کہ معاف کرنا آسان کام نہیں ہوتا لیکن جن کو اپنے رب پاک کی ذات پہ، اُنکے فیصلوں پہ بھروسہ ہو وہ ایسے کبھی نہیں کرتے وہ سب اللّه پہ چھوڑ دیتے ہیں پھر اللّلہ پاک خود ہی انصاف کر دیتے ہیں اور اللّلہ پاک کے فیصلے برحق ہوتے ہیں بہترین ہوتے ہیں ۔ اگر آپ کے ساتھ کسی نے بُرا کیا،زیادہ زیادتی کی یا کم، یہ تو اللّلہ بہتر جانتا ہے دوسرے انسان نے جان بوجھ کے کیا یا لا علمی میں کیا، کچھ بُراکیا بھی یا نہیں آپکی نظر میں شاہد وہ قصور وار ہو
    اور حقیقت اسکے برعکس ہو !!تو آپ انتقام اس سے لینے لگ جائیں اسکو ایذا پہنچانے لگیں تو پھر؟؟؟؟کیا ہوگا پھر وہ نہیں آپ اسکے قصوروار ہوجائیں گے رب پاک سب دیکھتا ہے جس کے ساتھ آپ انتقام لیا ایذا دی اگر وہ بے گناہ ہوا تو سزا کے مرتکب آپ خود ٹھہرے پھر اللّلہ پاک کے آگے کیا جواب دیں گے؟؟
    اللّلہ پہ فیصلے چھوڑ دینے چاہئیں جب آپ کو پوری حقیقت کا علم نہ ہو اور اگر علم ہو بھی تو ہو سکتا ہے پوری طرح علم نہ ہو کیوں کہ نیتوں کو صرف رب پاک جانتا ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے ربّ نیت دیکھتا ہے کیونکہ اللّلہ ہر ایک کی نیت سے واقف ہےغصے میں دل چاہتا ہے انتقام لیا جائے پر یاد رہے غصہ ایسا بھی نہیں پالیں کہ آپ میں انسانیت ہی ختم ہوجائے۔
    ہر انسان میں اچھائیاں بُرائیاں ہوتی ہیں ۔ دوسروں کی غلطیاں معاف کر دینی چاہئیں اگر اُس انسان سے دل میں نفرت پیدا ہونے لگے تو اس انسان سے کنارہ کشی کر لیں مگر کسی کو نقصان نہ دیں اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ راضی ہوجائیں زندگی خود بخود آساں ہوجائے گی۔
    کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو جیسا کرے اسکے ساتھ ویسا کرنا چاہیے دیکھیے بُرا کرنے والے کے ساتھ بُرا ہوتا ہے اللّلہ پاک بُرا کرنے والوں کی رسی دراز کرتا ہے انکو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں معافی مانگ لیں سرکشی چھوڑ دیں۔ پر جب وہ اپنی حرکتوں سے نہیں رُکتے دوسروں کو مسلسل ایذائیں دیتے رہتے ہیں اور شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے پھر انکا انجام (مکافات عمل ) اٹل ہےزمین سے لے کے آسمان تک بھی ہمارے گناہ ہو اللّلہ پاک وہ بھی معاف کر دیتا ہے ۔ ہم سب سے زیادہ گناہ گار اللّلہ کے ہوتے ہیں ہم دن میں بہت سی غلطیاں کر کے معافی مانگنا تک بھول جاتے ہیں۔ جب ٹھوکر لگتی ہے پھر ہم کو اللّلہ سے رجوع کرنا اور معافی مانگنا یاد آتا ہے پھر بھی وہ معاف کر دیتا ہے تو انسان دوسرے انسان کے ساتھ کیوں انتقام لینے لگ جاتا ہے ؟ کہیں لوگ قتل عام کرنے لگ جاتے ہیں قتل کا بدلہ قتل ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تو نہیں سیکھایا وہ تو سب کو معاف فرما دیتے تھے صرف اپنی تسکین کے لیے دوسروں کو ایذا نہ دیں ورنہ آپ کسی کے آنسو اور تکلیفوں کے قرض دار بن جائیں گے اگر کسی بہت دل دُکھایا کسی بہت تکلیف دی پھر بھی انتقام لینا چھوڑ دیں، اللّلہ پہ سب چھوڑ دیں، کیونکہ اللّلہ کے فیصلے بہترین ہوتے ہیں۔ انسان غلطیوں کا پُتلا ہے وہ غلطی پہ غلطی کرتا ہے وہ نہیں دیکھ سکتا جو ربّ پاک دیکھ سکتا ہے انسان کی سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے. بے دھیانی میں کہیں آپ کسی کے قصور وار نہ بن جائیں احتیاط کیجئیے اور بدلے کی آگ سے بچیں کیونکہ جب یہ آگ بھڑکتی ہے سب کچھ جلا دیتی ہے

    @Hu__rt7

  • کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    کشمیر پریمئیر لیگ کا فائنل آج کھیلا جائے گا

    مظفر آباد:کشمیر پریمئیر لیگ (کے پی ایل )کا فائنل آج شام 7 بجے راولاکوٹ ہاکس اور مظفر آباد ٹائیگرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : مظفر آباد ميں کھیلے جارہے کشمیر پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں شاہد آفريدی اور شعيب ملک کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ تھا، راولا کوٹ ہاکس نے میر پور رائلز کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے اپنی جگہ بنائی۔

    پہلی بیٹنگ میں میرپور رائلز کی جانب سے شرجيل خان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 12 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 63 گیندوں پر 141 رنز کی اننگز کھیلی، ٹیم نے مد مقابل ٹیم کومقررہ اوورز میں 4 وکٹوں پر 236 رنز کا ہدف دیا-

    راولا کوٹ کو جیت کے لیے 239 رنز کا ہدف ملا، ناک آؤٹ ميچ ميں کاشف علی نے صرف 51 گيندوں پر 114 رنز بنا ئے آخری اوور کی چوتھی گیند پر انہوں نے چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی کاشف علی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

  • ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق     ازقلم :غنی محمود قصوری

    ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق ازقلم :غنی محمود قصوری

    ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق

    ازقلم غنی محمود قصوری

    2001 کو امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے خواب میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کی محدود وسائل کی بدولت افغان طالبان کو کابل چھوڑنا پڑا اور پھر گوریلہ وار کا آغاز کیا گیا –

    محض دو عشروں میں افغان طالبان نے امریکہ و نیٹو فورسز کی وہ درگت بنائی کہ دنیا حیران ہو گئی اور آخرکار انڈیا کے یوم آزادی کے دن انڈیا کے سب سے بڑی اتحادی کو اسی دن یعنی 15 اگست 2021 کو کابل چھوڑ کر چوروں کی طرح فرار ہونا پڑا طالبان سربسجود ہوتے صدراتی محل میں داخل ہوئے اور ملا عبدالغنی کو افغانستان کا صدر منتخب کیا گیا-

    ملا عبدالغنی کے صدر بنتے ہی کچھ فتہ پروروں کو پیٹ میں مروڑ اٹھا اور پروپیگنڈہ کے طور پر ایک تصوير شیئر کرنا شروع کر دی جس میں ملا عبدالغنی برادر کو ہتھکڑی لگی دیکھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ بہت عجیب عجیب باتیں لکھ کر پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک حقیقت عیاں کرو دو کہ ا ن تصاویر کو شئیر کرنے والوں میں سرفہرست ٹی ٹی پی اور دیگر خارجی فکر رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ پاک فوج آئی ایس آئی اور پاکستانی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی سیاسی و سیاسی مذہبی جماعتیں شامل ہیں –

    جن میں جمعیت علماء السلام و جماعت اسلامی کے انفرادی افراد، پی ڈی ایم اور ن لیگ کے لوگ شامل ہیں یہ سب افراد پاک فوج اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی عزت و فتخ سے ہمیشہ ہی سے تعصب رکھتے رہے ہیں-

    اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی زندگی اور ان کام و پاکستانی ایجنسیوں سے رابطے اور پھر گرفتاری والی حقیقت کی طرف

    ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبہ اروزگان میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق پشتو قبلے پوپلزی سے ہے تاہم کچھ ذرائع نے ان کی سکونت پاکستانی علاقے پارا چنار سے ظاہر کی ہے جو کہ یکسر غلط ہے-

    ملا عبدالغنی افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران صوبہ قندھار میں جہاد کرتے رہے اور بعد میں وہیں میوند کے علاقے میں ملا محمد عمر کے ساتھ مل کر ایک دینی تعلیمی درسگاه بھی قائم کی تاہم کچھ ذرائع کے مطابق ملا عبدالغنی ملا محمد عمر کے ہمزلف بھی ہیں

    1997 میں ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کی افغانستان میں دوران جنگ بھرپور مدد کی اور جنگ لڑی بھی اور اپنی جرات و بہادری جذبہ ایمانی سے علاقے فتخ کرواۓ جس پر انہیں ملا عمر کی طرف سے صوبہ نیمروز کا گورنر مقرر کر دیا گیااور ساتھ ہی مغربی افغانستان کی عسکری کماند کا کمانڈر بنا دیا گیا امریکہ کے دستاویزات میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کی فوج کے نائب آرمی چیف بھی تھے

    ستمبر11 کے امریکی حملوں کے بعد جب امریکہ نے UNO کے سلامتی کونسل کے اندر افغانستان سے جنگ کا اعلان کر دیا تو اس جنگ میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کے شانہ باشانہ لڑے اور امریکی تحقيقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر ہی وہ تھے جنہوں نے ملا عمر کو سنہ 2001 میں محفوظ مقام پر پہنچایا تھا-

    یاد رہے شروع شروع میں تو امریکہ اس جنگ میں اندھا دندھ کُود پڑا تھا اور کوئی انٹیلیجنس رپورٹس انکے پاس نہیں تھیں بس طاقت کا نشہ اور نیو ورلڈ آرڈر کا جنون ہی تھا امریکی شدید فضائی بمباری کرتے رہے مگر بے سوداخیر انہوں نے زمینی انٹیلیجنس بیس آپریشن شروع کیے تو انہیں بہت سی secret باتوں کا پتہ بھی چلا اور اس پر بہت Shocked بھی ہوئے-

    (ان ساری تفصیلات کے لیے آپ کو بی بی سی کی ایک طویل ڈاکومنٹری دیکھنی پڑۓ گی Secret Pakistan -dubble cross تو ہی آپ کو سمجھ لگے گی) انکشاف ہوا کہ ملا عبدالغنی برادر ہی وہ اصل بندہ تھا جو پاکستان میں موجود کوئٹہ شوری کا صدر رہا اور یہاں سے بیٹھ کر جنگ لڑواتا رہا-

    طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد سنہ 2007 تک تحریک طالبان افغانستان کے جنگجو مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے مگر آپس کے اختلافات کے باعث ان کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی-

    پھر صوبہ ہلمند میں سنہ 2007 میں ایک جھڑپ میں ملا داد اللہ کے ہلاک ہونے کے بعد طالبان میں ملا داد اللہ کے نام سے ایک گروہ وجود میں آیا جس نے مکمل طور پر ملا عمر کی مخالفت کا اعلان کر دیا –

    اس واقعے کے بعد 2007 ہی میں کوئٹہ شوریٰ قائم کی گئی جب کہ ملا عبد الغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے اور مبینہ طور پر انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی قیادت کی اور یہ سارا کام پاکستانی ایجنسی کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا بلکہ نظروں ہی میں تھا آپ یہیں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر پاکستانی ایجنسیوں کے کتنے قریب ہیں-

    اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی پاکستانی میں گرفتاری کیوں ہوئی وجہ کیا تھی اصل معاملہ کیا تھا

    ستمبر ١١ کے حملوں کے بعد امریکہ نے UNO کے ادارے سلامتی کونسل کے ذريعے افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجوؤں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کا ذمہ دار ( ثبوتوں کے ساتھ القائدہ کی غلطی کہ حملوں کی مکمل ویڈیوز بطور ثبوت اپلوڈ کر دیں تھیں ) ٹھہرایا اور افغانستان میں موجود طالبان کی حکومت پر حملے شروع کر دیئے-

    اس جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ کامیابی نا مل سکی سواۓ کچھ افغانی اور عربی جہادیوں کی گرفتاری کے مگر اصل ٹارگٹ یعنی ملا عمر، خقانی نیٹ ورک کے لوگ اور اسامہ بن لادن وغیرہ انکے ہاتھ نا لگ سکے-

    امریکہ نے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری جنرل مشرف اور اس وقت کے آئی ایس آئی چیف پر ڈال دی اور بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے یعنی چھوٹے موٹے لوگ پکڑوا دیتے ہیں مگر اصل لوگوں کو تحفظ دیتے ہیں جو کہ پاکستانی اداروں کی مدد کے ذریعہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں-

    امریکہ کے اس شور پر پاکستان پر بہت پریشان تھا اسی دوران جنرل مشرف پر بہت زیادہ اندرونی سیاسی اور بیرونی پریشر ڈالا جا رہا تھا اور انہیں Do more کا کہا جا رہا تھا اور اسی ڈو مور کیلئے امریکہ کی طرف سے اندرونی طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی بحران پیدا کیا جا رہا تھا-

    بے نظیر بھٹو کا قتل کرویا گیا اور ان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ حکومت چھوڑیں اور ملک کی حکمرانی جمہوری حکومت کے حوالے کریں
    جنرل مشرف کی ڈبل گیم امریکہ پر کھل چکی تھی (یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کے لیے آپ بی بی سی کی فل ڈاکومنٹری Secret Pakistan دیکھیں)-

    اسی اثناء میں 18 اگست سنہ 2008 کو جنرل مشرف نے حکومت چھوڑ دی اور ملک میں جمہوری حکومت آ گئی اور
    پاکستان میں امریکہ کی مرضی سے ڈرون حملے ہونا شروع ہوگئے اور امریکہ نے ڈبل ایجنٹس بھرتی کرنا شروع کر دیے اور پاکستان میں آن گراونڈ امریکی ایجنسیوں کے لوگ آپریشن کرنے لگ پڑے جبکہ یہ سارے کام جنرل مشرف کے دور میں نا ہونے کے برابر تھے جس کی وجہ جنرل مشرف کی یہ پالیسی تھی کہ آپ ہمیں ٹارگٹ بتائیں گے اور آپریشن ہم کریں گے نیز اگر ڈرون اٹی بھی کرنا ہوگا تو ہمیں اطلاع دی جائے گی-

    جنرل مشرف کی یہی پالیسی امریکہ کو قبول نہیں تھی پہلے چھ سال تک امریکہ کو پاکستان کی ڈبل گیم کا پتہ تو چل چکا تھا مگر باقاعدہ پروف نا تھے ان کے پاس جنرل مشرف کے جاتے ہی پاکستان میں ڈرون اٹکیز میں اضافہ ہو گیا اور امریکہ کے من مرضی کے ڈرون اور زمینی آپریشن شروع ہو گئےجن کا اصل ٹارگٹ کوئٹہ شوریٰ کی قیادت اور حقانی نیٹ ورک تھا –

    اسی دوارن امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی نرسری کو کھولا تاکہ افغان مجاہدین اور ٹی ٹی پی میں فرق باقی نا رہے اور عوام کی نظر میں افغان طالبان کے خلاف نفرت ڈالی جائے اور اسی آڑ میں مجاہدین کے خلاف دہشت گردی کی آڑ میں کاروائیاں کی گئیں جس میں بہت سے اہم افغان کمانڈروں کی شہادت و گرفتاری ہوئی

    اس ساری گیم میں ٹی ٹی پی اور بیرونی دہشت گرد ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیے گئے تھے مگر اس کےساتھ ساتھ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی اور پاکستان کے اندر کاروائیاں کرنے والوں کو خوب جانتی تھی اور فرق رکھتی تھی آئی ایس آئی خوارج فکر رکھنے والے دہشت گردوں اور کشمیری و افغان مجاہدین میں فرق جانتی تھی –

    اسی لیے کوئٹہ شوریٰ حقانی نیٹ ورک اور کشمیری جہادی تنظیمیں لشکر طیبہ اور جیش محمد والوں کے ساتھ رابطوں میں تھی اور نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ اگر ان تمام تنظیموں میں سے بھی کوئی خوارج ذہنیت والے افراد ہیں تو انہیں پکڑا جائے آئی ایس آئی مکمل مطمئن تھی اسی لیے اس نے بیرونی پریشر کے باوجود ان جماعتوں و قائدین کو شیلٹرز میں رکھا ہوا تھا ملکوں دفاع کے لیے عسکری قیادت اور سول سیاسی قیادت کی سوچوں میں بہت فرق ہوتا ہے-

    جو کام امریکی و اتحادی جنرل مشرف کے دور میں اگست 2008تک نا کر سکے وہ کام انہوں نے جمہوری حکومت میں اگست 2008کے فوراً بعد ہی تیزی سے شروع کر دیا جن میں ان کا اولین کام کوئٹہ حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ پر حملے تھے-

    انہیں دنوں میں ملا عبدالغنی برادر کوئٹہ سے کراچی جاتے ہیں اور کراچی پہنچتے ہی فروری 2010 میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ جنرل مشرف اس وقت جا چکے تھے-

    پاکستانی ایجنسی کو رپورٹ مل چکی تھی کہ ملاں عبدالغنی کی موجودگی کی مخبری ہوچکی اور امریکہ انہیں مروا دے گا یا پکڑ کر لے جائے گا تو اسی وقت ایجنسی نے یہ گیم کھیلی کہ انہیں پکڑا جائے اور ان پر کیس چلایا جائے وہ بھی پاکستانی عدالت میں
    سو انہیں پاکستان میں پکڑا گیا اور پاکستان ہی میں رکھا گیا تھا بلکل ایسے جیسے بھارت کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ امن پاکستانی مجاھدین کو انڈر کسٹڈی رکھا گیا ہے-

    قارئین کرام آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر کو امریکہ کے کہنے پر بھی امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا اور یہ کام ایجنسی نے پاکستانی عدالتی فیصلے کے ذریعہ سے کروایا گیا-

    نیز آپ کو یہ جان کر مذید حیرانگی ہوگی کہ اس سارے کام کو ایجنسی نے ایک زبردست طریقے سے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ خالد خواجہ صاحب کے ذریعے سے کروایا جو کہ آئی ایس آئی کے لیے ہی کام کرتے تھے اور جہنیں امریکہ نے اس کام کے جرم میں اس کام کے فوراً بعد ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ذریعے کرنل امام سمیت شہید کروا دیا تھا کیونکہ امریکہ کو اصل معاملہ کا علم ہو گیا تھا

    فوران اسیری ملا عبدالغنی برادر جو کام اوپن بیٹھ کر کوئٹہ میں کوئٹہ شوریٰ کی صورت میں کرتے وہی کام پاکستان کی ایجنسی کے مہان خانے میں سیف ہاوس میں بیٹھ کرتے رہے ہیں پھر جب پاکستان کو مکمل اطمينان ہوگیا کہ امریکہ بدمست ہاتھی مکمل طور پر گِر چکا ہے اور صلح کی طرف مائل ہو رہا ہے تو ملا عبدالغنی کو دنیاوی نظر میں رہا کر دیا جاتا اور اس سارے معاملے میں وہ ایک اہم کام سر انجام دیتے ہیں جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے

    قارین کرام یقين و اطمينان رکھیں کہ ملا عبد الغنی برادر پاکستانی ایجنسی کے قریب ترین ہیں
    آپ نے وہ جھپھی والی تصویر تو دیکھی ہی ہو گی جس میں ملا عبدالغنی برادر موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جناب فیض حمید صاحب سے گلے مل رہے ہیں اب بات یہ ہے کہ وہ جپھی والی فوٹو چھپا کر گرفتاری کی فوٹو دکھانا افغان طالبان اور پاکستان کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش اور حقائق کو مسخ کرنا نہیں تو کیا ہے ؟؟؟-


    غنی محمود قصوری

  • افغانستان پر طالبان حکومت اور پاکستان ! تحریر : ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    افغانستان پر طالبان حکومت اور پاکستان ! تحریر : ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ٢٠ سال سے امریکہ،نیٹو سمیت دنیا کی عالمی طاقتیں افغانستان میں طالبان کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کرنے کے بعد آخرکار گھٹنے ٹیک گئ اور یہ تسلیم کرلیا کہ امریکہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا اربوں ،کھربوں ڈالر لگاکر امریکہ طالبان کا مقابلہ تو نا کرسکا البتہ امریکا نے جنگ کے نام پر جو تباہی مچائ افغانستان میں اور جس طرح کے حالات پیدا کردیئے گئے اس کے بعد افغانستان کی عام عوام بھی ان عالمی طاقتوں سے تنگ آچکی تھی ،امریکہ نے نام نہاد افغان حکومت قائم کی لیکن اس حکومت کے مفاد شاید افغانستان سے ذیادہ اپنی جائیدادیں بنانے کا تھا اس لئے وہ حکومت بھی افغان عوام کے دل نا جیت سکی ،انڈیا نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاکر افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور افغان سرزمین کو افغان حکومت کی مدد سے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی دھشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جس کا شکوہ کئ بار پاکستان افغانستان سے کرچکا اور عالمی فورم پر انڈین دھشتگردی کے ثبوت پیش کئے ،دوسری طرف پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان کی عوام کے فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتا رہا ،جس کی واضع مثال پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ہیں ،دنیا کی تاریخ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ۴٠ لاکھ افغان مہاجرین کو نا صرف پاکستان میں پناہ دی بلکہ ان کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے گئے جو کسی عام پاکستانی کو دستیاب ہیں
    پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان میں امن کا خواہاں رہا کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان سمیت اس خطے کے لئے بھی نہایت ضروری ہے
    لیکن عالمی دنیا نے افغانستان کو ہمیشہ ایک جنگ کا میدان بنائے رکھا جس کا نقصان پورے خطے کو ہوتا رہا اس ساری صورتحال میں جہاں امریکہ جنگ ہارچکا تھا وہیں افغان عوام کا بھی امریکہ اور اپنی افغان حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ،جس کا اندازہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے فوری بعد ہوا جب طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں کی طرف پیش قدمی شروع کی تو جس طرح افغان عوام نے طالبان کو خوش آمدید کہا اس سے واضع ہورہا ہے کہ افغان عوام طالبان سے خوش ہیں اور طالبان کو جب عوامی حمایت حاصل ہوئ تو افغان آرمی نے سرنڈر کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے افغانستان بغیر کسی خانہ جنگی کے پرامن طریقے سے افغان طالبان کے کنٹرول میں آگیا اور افغان صدر سمیت کئ رہنماوں نے راہ فرار اختیار کی
    آج افغانستان پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے یوں سمجھیں طالبان نے مکمل طور پر افغانستان کا اقتدار سنبھال لیا
    لیکن اس وقت کچھ نام نہاد ممالک اور ہمارے ملک میں موجود لوگ پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگارہے ہیں ،ان الزامات کو پاکستان نے کئ بار مسترد کیا ہے
    ایسے نام نہاد لوگوں سے کوئ پوچھے
    امریکا ٢٠ سال سے طالبان کے خلاف جنگ کیوں جیت نا سکا؟ افغان فوسز نے ایک دن بھی طالبان سے مزاحمت کیوں نہیں کی؟ ،اقتدارا پر بیٹھے لوگوں نے راہ فرار اختیار کیوں کی؟ اور افغان عوام نے طالبان کا بھرپور استقبال کیوں کیا؟کیا یہ سب کچھ بھی پاکستان کی وجہ سے ہوا؟ کیا پاکستان امریکا سے بھی بڑا سپر پاور ملک ہے؟
    پاکستان پر اس طرح کے الزامات لگانے سے بہتر ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکا جائے
    افغانستان میں طالبان حکومت کے پیچھے کوئ اور طاقت نہیں بلکہ افغان عوام کھڑی ہے اور پاکستان ہمیشہ افغان عوام کی رائے کا احترام کرتا تھا کرتا رہے گا

  • علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی

    علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی

    انسان کو الله تعالیٰ نے اپنی عبادت کیلیے پیدا فرمایا ۔اللہ اگر چاہتے تو عالم ارواح ہی میں انسان کو ولایت عطا فرما دیتے ۔ لیکن اللہ نے اس کے حصول کیلئے انسان کو دنیا میں بھیجا۔

    ولایت کے حصول کا راستہ تین قدم ہے۔ جب تک تینوں قدم نہیں اٹھیں گے اس وقت تک منزل پر نہیں پہنچیں گے۔ اس میں پہلا قدم علم کا حاصل کرنا ہے۔ بے علم انسان اپنے پروردگار کو نہیں پہچان سکتا۔

    آدمی ہر وقت تو مفتی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتا کہ ان سے راہنمائی لیتا رہے۔ جب کبھی تنہا ہو تو کیسے پتا چلے گا یہ کام ٹھیک ہے؟ یہ غلط ہے؟ اس لیے ضروریاتِ دین کا جانا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے۔

    الله پاک نے انسان کے اندر تین قسم کے اعضاء بنائے ہیں۔
    1: اعضائے علم 2: اعضائے عمل. 3: اعضائے مال

    اعضائے علم:یعنی علم حاصل کرنے کے اعضاء ،کان،آنکھ اور دماغ۔
    جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے۔
    ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو
    جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔

    اللہ نے ان اعضاء کو بدن کے سب سے اوپر رکھا۔ اسلیے کہ علم وقعت والا ہے۔ اور ان اعضاء کے ذریعہ انسان کو علم حاصل ہوتا ہے۔ اور قیامت کے دن بھی ان ہی اعضاء کے بارے ميں سوال ہوگا۔ "ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا” پوچھا جائے گا ان اعضاء سے کون سا علم حاصل کیا ؟ دین کا علم حاصل کیا یا نہیں؟

    دنیا کی تمام تر ترقی علم پر منحصر ہے۔ علم ہی دراصل ایک انسان کو انسانی صلاحیتوں سے نوازتا ہے۔ جس کی بدولت انسان نیکی اور بدی میں تمیز کرسکتا ہے۔ علم ہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان دوسرے انسانوں پر سبقت لے جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب انسان بجلی کی گرج سے ڈرتا تھا اور آج وہی انسان اس پر قابو پاچکا ہے۔ اسے اپنے قبضے میں کر چکا ہے۔ بجلی کو کئی اہم کاموں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ علم کی بدولت انسان نے اطپنے لئے تفریح طبع کی سہولتیں بھی پیدا کرلیں ہیں۔ علم ایسا نور ہے جس سے جہالت اور گمراہی کی تاریکیاں دورہوجاتی ہیں۔ علم کی بدولت انسان کی چشمِ بصیرت روشن ہوجاتی ہے جس کی بدولت اس میں نیکی و بدی اور حق باطل کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ علم ایسا بیش بہا جوہر۔ علم سے انسان کے اطوار شائستہ اور اخلاق پاکیزہ بن جاتے ہیں۔ وہ دل و دماغ کو جہالت کے گہرے اندھیروں اور گہرائیوں سے نکال کر اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ جہاں حسد و بغض، دشمنی اور لالچ کا گزر نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان کو نیکی، خلوص، فیاضی اور دوستی جیسی عظیم صفات عطا کرتا ہے۔

    دنیا کی یہ تمام تر ترقی علم ہی کی بدولت ہے علم کی بدولت ہی آج کا انسان خلاءکو مسخر کررہا ہے۔ علم انسان کو جرات،بہادری، ہمت، استقلال، تدبر و بردباری اور ہر قسم کی عقدہ کشائی کی صلاحیت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے دنیا کا چپہ چپہ چھان مارا، قطبِ شمالی سے لیکر قطب جنوبی تک زمین کو رندتا چلا گیا۔
    انسان کے اندر کچھ فطری چیزیں ہوتی ہیں جیسے بھوک اور پیاس کا ہونا۔ اسی طرح انسان میں علم کا جزبہ بھی فطری ہوتا ہے۔ اس کی آسان سی دلیل جہاں کوئی چند آدمی اکھٹے کھڑے ہوں ۔دوسرا کوئی آدمی آجائے تو فوراً پوچھے گا کیا ہوا ؟ کیوں کھڑے ہو؟ اور اگر کوئی واقعہ درپیش ہو تو پھر سوال ہو گا ۔کیسے ہوا؟ یہ سب اصل میں علم ہے ۔ چونکہ وہ آدمی لاعلم ہوتا ہے۔ اور اس علم کیلیے وہ سوال کرتا ہے۔ اسی لیے ضرورتِ دین کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔ "الطلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ”۔

    حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ علم ایک روشنی ہے۔ اس کے برعکس دیکھا جائے تو جہالت اندھیرا ہے، یہ اندھیرا روشنی سے دور ہو گا۔ نہ کہ اندھیرے کو گالیاں دینے سے وہ دور ہو گا ۔ جس طرح ایک حقیقی اندھیرا بغیر روشنی کے دور نہیں ہوتا ۔اسی طرح جہالت کا اندھیرا بھی علم کی روشنی بغیر دور نہیں ہوگا۔ لہذا علم حاصل کریں ۔ جہالت خود بخود دور ہو جائے گی، اور ولایت کا حصول بھی آسان ہو جائے گا۔ بندگی کا طریقہ بھی علم میں آجائے گا۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • وَبا کی صورتحال میں ہمارا رویہ  تحریر: محمد اسعد لعل

    وَبا کی صورتحال میں ہمارا رویہ تحریر: محمد اسعد لعل

    جب سے کرونا وائرس کی صورتحال پیش آئی ہے دو رویے ہیں جو سامنے آئے ہیں۔ مذہبی لوگ اس کو خدا کی آزمائش قرار دے کر لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے مائل کر رہے ہیں۔ اور جو غیر مذہبی لوگ ہیں وہ اس کا سائنسی طور پر علاج تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں لوگوں کو کیا کرنا چاہیے، اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے مائل کرنا چاہیے یا پھر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی علاج ڈھونڈنا چاہیے؟
    میرے حساب سے بندہ مومن کو ان دونوں طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ مجھ پر انفرادی طور پر جب کوئی تکلیف آتی ہے تو میرے مذہب نے مجھے یہ تعلیم دی ہے کہ مجھے اس کی تدبیر تلاش کرنی چاہیے۔ آپ یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کو کوئی تکلیف یا بیماری ہو تو دور دراز دیہات کے لوگ بھی مریض کو چارپائی پر اُٹھا کر ہسپتال تلاش کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔
    مسلمانوں کو بھی اس طرح کی صورتحال میں اس بیماری کا علاج تلاش کرنا چاہیے۔ جو چیزیں دریافت ہو جائیں ان کو تدبیر کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ یہ چیز خود ہمارے مذہب کی سیکھائی ہوئی ہے۔ ہم کسی ایسے مذہب کے ماننے والے نہیں ہیں جو کوئی جادو منتر کی چیزیں سکھاتا ہو۔ مجھے نہیں معلوم کے جو لوگ اپنا نقطہ نظر مذہب پر تنقید میں بیان کرتے ہیں انہوں نے یہ چیز کہاں سے سنی اور پڑھی ہے۔قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات اس سب سے خالی ہیں۔ یعنی ہم تو بالکل سائنسی ذہن رکھنے والے لوگ ہیں۔
    جب بھی کوئی تکلیف آئے گی، مصیبت آئے گی یا دنیا میں کوئی معاملہ ہو گا تو سب سے پہلے جو ہمیں تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل استعمال کریں گے اور تدبیر کریں گے۔ یعنی یہ ہمارا مذہب ہے جس نے ہمیں تعلیم دی۔ آپ سورۃ یوسف دیکھیں، وہاں یہ ہدایت کی گئی کہ ایک قحط آنے والا ہے۔ اس کے لیے ایک خواب دکھایا گیا کہ یہ اہتمام کرنا ہے۔ خدا کے پیغمبر نے یہ تدبیر دی اور غلہ محفوظ کیا گیا۔
    اس میں کوئی دعا نہیں کی گئی یا کوئی جنتر منتر نہیں کیا گیا بلکہ تدابیر بتائی گئی ہیں۔ یہ تدابیر ہماری مذہبی تعلیم اور مذہبی شعور کا حصہ ہیں۔ ہمیں کہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ ایک طرف اگر لوگ علاج کر رہے ہیں تو دوسری طرف اطمینان کے ساتھ بیٹھ کے کوئی منتر پڑھ لیا جائے۔
    دوسری بات، یہ جو بیماری یا تکلیف آتی ہےاس کے بھی دو پہلو ہیں۔ یعنی ایک اس کا سائنسی پہلو ہے کہ یہ کن اسباب سے آئی ہے،ان اسباب کو پیدا کرنے میں میرا اورآپ کا کیا دخل ہے، غلطی کہاں ہوئی ہے۔ تو اس میں ہمارا رویہ یہی ہونا چاہیے کہ ہم اس غلطی کو تلاش کریں اور اس کو ٹھیک کریں۔
    لیکن دوسری جانب ہمیں یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے یہ اس مالک کی طرف سے ہوتا ہے، اُس کے علم سے ہوتا ہے۔ اور ہم نے اس کی بارگاہ میں حاضر بھی ہونا ہے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ وہ کیوں ہونے دیتا ہے۔ یعنی وہ ہماری غلطیوں کے باوجود اس پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کو روک دے، وہ اس کائنات کا خالق ہے۔ عذاب کا دروازہ تو آپﷺ کے بعد بند ہو گیا تھا، لیکن اس نے اپنی کتاب میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ یہ سب تنبہ کے لیے کرتا ہے۔ یہ ہمیں ہمارے گناہوں کی طرف متوجہ کرتی ہے،خدا کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ اس وقت بھی اگر آپ دیکھیں تو اس وباء (کرونا وائرس) نے ہم مسلمانوں کو خدا یاد کروایا ہے۔بلکہ پوری دنیا کو یاد کروا دیا ہے۔لوگ اب دعائیں کرنے لگے ہیں، تو یہ وہ تنبہ کا پہلو ہے۔ اللہ نے یہ دنیا بنائی ہی اس طریقے سے ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک تنبہ ہے اور ہمیں اطمینان سے بیٹھ جانا چاہیے۔ ہمیں وہ سب کام کرنے ہیں جو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ہم نہیں کریں گے تو پھر اللہ کے قانون کے مطابق یہ تنبہ بہت بڑی سزا بن جائے گی۔ دنیا میں جو ہمیں علم دیا گیا ہے، عقل دی گئی ہے اس کا استعمال نہ کرنا بھی بُرے نتائج کاذریعہ بن جاتا ہے۔
    ہمارے دین کی یہی تعلیم ہے، اس لیے اس صورتحال میں ہمیں تدبیر کرنی چاہیے اس کے بعد اپنی تمام تدبیروں کی کامیابی کے لیے اپنے رب سے دعا کرنی چاہیے۔ اور یہی ایک مومن انسان کا رویہ ہونا چاہیے۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal

  • ‏اٖفغان باقی ، کہسار باقی  محمد عتیق گورائیہ

    ‏اٖفغان باقی ، کہسار باقی محمد عتیق گورائیہ

    افغانستان میں ایک بار پھر سے عالمی طاقت کے تکبر کو ، رعونت کو اور اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیا ہے ۔ امریکا جو ناٹو کو لے کر جدید ترین اسلحہ و ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوکر میدان میں اترا تھا اور افغانستان کے باسیوں کو پتھر کے دور میں بھیجنے کے درپے تھا ۔ لمبے عرصے تک طالبان سے نبرد آزما رہا اور علاقوں پر علاقے قبضے میں کرتا رہا ۔ بدنام زمانہ تشدد کیا گیا ، جدید ترین اسلحہ بنا کر اہل افغانستان پر آزمایا گیا ۔ طالبان نے ایک ایسی جنگ کی داغ بیل ڈالی جس نے امریکا کو شروع میں باور کروایا کہ وہ جیت رہا ہے اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ طالبان حاوی ہوتے رہے ۔ امریکا اپنے سپاہی ، اپنا مال و زر ، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے تعلقات کو استعمال کرتا رہا ۔ ہم ساے میں پاکستان ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ دباو پاکستان کو برادشت کرنا پڑا۔ دہشت گردی کا سب سے دکھ اہل پاکستان نے جھیلا۔ افغانستان کی آڑ میں دہشت گردانہ گروپ بھارت و دیگر ملکوں نے متحرک کیے اور انھیں پاکستان بھر میں پھیلا دیا جس سے ہزاروں کی تعداد میں شہداء کے خون نے پاکستان کی زمین سیراب کردیا۔ میرے تجزیے کے مطابق پاکستان شروع میں تو رسمی طور پر اس سارے مسئلے میں شامل ہوا اور پھر جب بھارت نے دل چسپی لینی شروع کی تو پاکستان نے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اپنے کھلاڑی پھیلا دئیے ۔ اس وقت اگر کابل میں طالبان قابض ہیں تو جہاں طالبان کی فتح ہے وہی پر پاکستان نے بھارت کو بھی شکست دی ہے وہ جو افغانستان میں قونصل خانے بنا کر پاکستان میں من پسند افراد کو سپورٹ فراہم کرتا تھا ، ناکام و نامرادہوا ہے ۔

    امریکا کی طرف سے افغان فوج کو جدید اسلحہ اور تربیت کی خاطر ایک سو ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کی گئی تھی ۔ افغان نیشنل گارڈز کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کیا گیا جو کہ طالبان کے سامنے بھیگی بلی بن چکے ہیں ۔ طالبان کے سامنے شاید ہی افغان فورسز کا کوئی کمانڈر ٹھہر پایا ہو ۔ جب امریکا نکلا اور پیچھے صرف افغان فورس رہ گئی تو اصل کھیل شروع ہوا جس کا طالبان کو عرصہ دراز سے انتظار تھا ۔ افغان حکومت امریکا و ناٹو کی بیساکھیوں کے سہارے تھی جب وہ ہاتھ سے نکلیں تو حکومت مہینہ بھی نہ نکال پائی ۔ وار لارڈ دوستم سمیت بڑے بڑے نام افغانستان سے راہ فرار اختیار کرکے دیار غیر میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت کے پاس سواے فضائی حملوں کے کوئی بھی قابل ذکر ہتھیار نہ تھا ۔ جیسے جیسے طالبان قابض ہوکر صوبوں کا انتظام سنبھالتے گئے ویسے ویسے غنی انتظامیہ کے ہاتھ سے بہت کچھ نکلتا گیا ۔ طالبان اس وقت کابل میں صدارتی محل میں بیٹھ چکے ہیں اور اپنی حکومت قائم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ اس وقت کے طالبان تجربہ کار و منجھے ہوے کھلاڑی ہیں ۔ گو سفارت کاروں کی اکثریت اپنے اپنے ملک واپس جارہی ہے لیکن اندرون خانہ طالبان سے سبھی کے روابط ہیں ۔ بھارت تو گدھے کے سر سینگ کی طرح غائب ہوا ہے اس کا کچھ اتا پتا نہیں مل رہا ۔ چین اور روس سمیت کچھ ممالک نے اپنے سفارت کار افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چین نے طالبان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے اور انھیں مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر چین ایسا کرتا تو دیگر ممالک بھی اس کی تقلید کریں گے ۔ یہ پہلی کڑی ہوگی جو ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔
    طالبان نے جہاں کابل کو گفت و شنید حاصل کرکے اپنے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے وہی بڑی خون ریزی سے بھی اہل وطن کو بچا لیا ہے ۔ طالبان کی طرف سے عام معافی کا اعلان ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کے مطابق کابل میں امن و سکون ہے بلکہ ایک ویڈیو کے مطابق تو اہل کابل نے طالبان کا استقبال کیا ہے اور طالبان نے بھی داخلے کے فوری بعد نظم و نسق کو بہتر بنانے اور چوری چکاری کو روکنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ۔ ملا عبدالغنی برادر دوحا سے کابل پہنچ گئے ہیں اور طالبان کی طرف سے امریکی مفادات پر حملے بھی نہیں ہوے جس کا مطلب ہے کہ دونوں طرف سے معاہدوں کی پاسداری کی جارہی ہے ۔ بہرحال بات یہ ہے کہ امریکا لاکھ کوششوں کے باوجود طالبان کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور طالبان نے لمبے عرصے تک جدوجہد کرتے ہوے پھر سے کابل میں واپسی کو یقینی بناکر ثابت کردیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو ، عمل پیہم ہو اور جہد مسلسل ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ۔ سب سے بڑی غلطی جو امریکا سے ہوئی ہے وہ انخلا کے وقت سیاسی سیٹ اپ کا تشکیل نہ دیا جانا تھا ۔ اقتدار میں اس وقت طالبان مضبوط قدم جما چکے ہیں اور ایسے میں افغانستان میں ایک بار پھر سے امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اگر یہ ممکن ہوتا ہے تو پاکستان میں 30 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کی واپسی بھی ممکن ہوسکے گی ۔ اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان سمیت افغانستان کے خیر خواہ ممالک جن میں چین بھی شامل ہے کو بدخواہوں پر نظر رکھیں ۔ سازشی ٹولہ مختلف حیلوں بہانوں سے امن کی چادر اوڑھتے افغانستان کو دہشت زدہ کرسکتا ہے ۔ طالبان کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے کچھ بھی ممکن ہے ۔ بھارت اپنی لازمی کوشش کرے گا کہ وہ کچھ الٹا سیدھا کرکے پاکستان کو بدنام کرے لیکن ہمیں اس سارے معاملے میں چوکنے رہنا ہوگا۔ افغانستان افغانیوں کا ہے اور اس پر انھیں کی حکومت ہونی چاہیے جو بغیر کسی بیرونی دباو کے اپنے فیصلے کرنے پر قادر ہو ۔

  • دوستی کے اصول تحریر : شاہ زیب

    دوستی کے اصول تحریر : شاہ زیب

    دوستی اس کائنات کا خوبصورت ترین رشتہ ہے۔یہ وہ رشتہ یا تعلق ہے جو انسان اپنی مرضی،پسند یا اپنی خواہش سے رہنے کے لیے کسی من پسند شخص سے بناتا ہے
    سچا اور اچھا دوست زندگی کے ہر معاملے پر آپ کا ساتھ دیتا ہے خوشی کے موقعے پر آپ کے ساتھ خوش ہوتا ہے اور غمی کے موقع پر ایک اچھا دوست ہونے کی حثیت سے بنا کہے آپ کا دکھ بانٹتا ہے الغرض دوستی ایک نایاب اور پرخلوص رشتہ ہے جو سب کے پاس ضرور ہوتا ہے
    دوستی میں دو لوگ صرف دکھ اور خوشی ہی نہیں شیئر کرتے بلکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کے بہت سے راز بھی شیئر کرتے ہیں جو کہ دوستی میں بہت عام بات ہے
    اس بے غرض رشتے کے بھی اصول ہیں۔
    جیسے کہ اپنے دوست اور دوستی کا خیال رکھنا اپنی دوستی کا بھرم رکھنا اور ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے دوستی پر آنچ آجائے اگر کسی وجہ سے آپ کی دوستی ختم بھی ہوجائے تو اس اچھے وقت کی لاج رکھیں جو آپ نے اپنے دوستوں کے ساتھ گزارے
    اور اس وقت میں ایک دوسرے کو بتائی گئی باتیں دوسروں کو بظاہر عیاں مت کریں کیونکہ اگر اپ کسی کے راز عیاں کریں گے تو یہ حرکت اپ کی عزت میں کمی کا باعث بنیں گیں کیونکہ انسان جب اپ کے پاس راز رکھتا تو اپ کو بطور امانت اپنی بات اپ کے سپرد کرتا وہ اپ کا ہنر ہے کہ اپ اس کے وعدے یا اس کی تنہائی میں کہی گئی بات کا پاس رکھتے یا اس کے لیے لوگوں کے سامنے افشا کر کے شرمندگی کا باعث بنتے اصل میں وہ تو شرمندہ ہوتا ہی ہے لیکن اپ ہر کسی کی نظروں سے اپنی ایمانداری والی علامت ضائع کر دیتے یہ غلط ہے کیونکہ کے دوستی کے اصول کے خلاف ہے اور بطور انسان آپ کی شخصیت اور اچھے کردار کے بھی،
    دوستی وہ انمول رشتہ ہے جو انسان کو معتبر کر دیتا ہے اور اس وجہ سے اس کے بہترین دوست ہوتے ہیں آپ بھی اچھے دوست بنیں اور دوستی کے اصولوں کا پاس رکھیں۔۔شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • مشرق سے مغرب کا سفر  تحریر محمد علی شیخ ۔

    مشرق سے مغرب کا سفر تحریر محمد علی شیخ ۔


    کیسی جگہ پر رہنے والے
    افراد کی ایسی آبادی ہو جو اس اصول پر آپس میں رہائش پزیر ہوں کہ ان کے مفادات مشترک ہوں.
    اس آبادی کے ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮨﻮ۔ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻧﺎﻡ اس جگہ پر رہنے والوں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭستان کانام سنتے ہی دماغ میں آجاتا ہے یہ جگہ ہندوؤں کے رہنے کی جگہ ہے۔ یورپی ممالک کے ناموں کو سن کر فوری معلوم ہو جاتا ہے یہ ممالک عیسائی یا یہودی ہیں ۔ﺍﺳﻼﻣﯽ ممالک کے نام سے ﺍﺳﻼمی ممالک معلوم ہو جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کے کہ ان مسلم ممالک میں کتنا اسلام نظام قائم ہے۔ دین اسلام نے ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ اور آپسی محبت ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺡ ﻭ ﺑﮩﺒﻮﺩ کی تمام تر ذمے داری سب پر لاگو کر دی۔ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﺭۃ ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺖ 110 ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ زندگی گزانے کے اصول کے سے ﮨﻮنے ﭼﺎﮨﯿﮱ، ﺗﺮﺟﻤﮧ : ۔۔۔۔۔ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ بنیادی اصول سامنے رکھ دیا جیسے ہم کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے۔ اس حکم خداوندی سے ہر ﺟﺎﻧﺐ ﺭﺍﮦ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ بھی آپ رہیں اس ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎن ﮐﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ بن سکتا۔ مسلم سریف کی صحیح روایت میں ہے کہ اللہ تعالی ”شہید“ کا ہر گناہ معاف کردے گا سوائے دَین اور قرض کے۔ یغفر للشہید کل ذنب إلا الدین (رقم: ۱۸۸۹) اسی طرح مشکات شریف میں ہے کہ اللہ تعالی غیبت کرنے والے کی تب تک بخشش نہیں کرے گا جب تک وہ شخص اسے معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ وإن صاحب الغیبة لایغفر لہ حتی یغفرہا لہ صاحبہ (مشکات، رقم: ۴۸۷۴)
    ہم لوگ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﺮ اک ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﮰ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮞ، ﺧﻮﺍﮦ ﯾﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﺎﻟﯿﺎﺗﯽ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ۔
    مغرب ممالک میں اور مشرقی مممالک میں بھی وومن ڈے کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے جیسے کو جنگ ہو رہی ہے خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے گروہ میری نظر میں وہ اسلامی فوبیا کے شکار ہیں وہ احساس کمتری میں اس طرح سے ڈوب چکے ہیں کے اسلام نے جو حقوق عورت کو دیئے ہیں وہ حقوق ان لوگوں نے نہیں دیئے۔ مغربی ممالک میں عورت کا جاب کرنا بے حد ضروری ہے۔
    2012 کے ایک غیر جانبدارانہ جائزہ کے مطابق یورپ میں 14 فیصد خواتین کو دوران ملازمت محض عورت ہونے کی بنا پر تعصبات کا نشانہ بننا پڑا۔
    جرمنی میں خواتین پر جنسی تشدد اور ہراسانی کی شرح 58 فیصد ہے ، جب کہ پولینڈ میں ایک تحقیقی جائزہ میں حصہ لینے والی 451 خواتین میں سے 88 فیصد پندرہ سال کی عمر کے بعد کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراسانی اور تشدد کا شکار رہیں ۔ ہالینڈ میں ہراسانی کے حوالہ سےگیارہ سو خواتین سے جمع کردہ معلومات کی روشنی میں دن کی روشنی میں گلیوں اور بازاروں میں 94 فیصد خواتین ہراسانی کا شکار ہوئیں۔
    انڈیا میں گزشتہ دنوں درجنوں مسلمان خواتین یہ جان کر حیران رہے گئیں کہ ان کے نام آن لائن پر قابل فروخت خواتین کی فہرست میں ڈال دیئے گئے ہیں۔
    سولی ڈیلز’ کے ایپ اور ویب سائٹ کو دیکھکر جس میں خواتین کی تصاویر اور ان کے ‘پروفائز’ یا نجی معلومات کو عام کیا اور انھیں ‘ڈیلز آف دی ڈے’ بنا کر پیش کیا گیا ہے انڈیا میں مسلم خواتین کا یہ کہنا ہے کے کچھ گروہ یہ کام مسلم خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں ۔۔ ہمارے پاکستان میں لبرل کلچر والی خواتین کھانا نہیں بناوں گی جوتے نہیں بتاوں گی کپڑے نہیں دھوں گی وغیرہ وغیرہ پر بے وجہ کی دھونس جماتی نظر آتی ہیں ۔۔اللہ ربالعزت ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین ۔۔
    ۔ ‎@MSA47

  • ‏پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے   تحریر: زاہد چوہدری

    ‏پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے تحریر: زاہد چوہدری

    پاکستان نے پہلے دن سے دنیا پر زور دیا ہے کہ افغان امن طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مضمر ہے اور کسی بھی فریق کی طرف سے طاقت کا استعمال ، چاہے وہ طالبان ہو یا کابل حکومت،افغان امن عمل کو نقصان پہنچائے گا۔

    افغان جنگ جو کہ امریکی افواج نے طالبان کے خلاف قریباۤ 20 سال تک نیٹو کی چھتری تلے لڑی جو کہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحادہے، ابھی تک نتیجہ بالکل مختلف ہے جس کی امریکی اور دنیا نے پہلے کبھی توقع نہیں کی تھی۔

    یہ لڑائی امریکہ میں 9/11 کے المناک واقعہ کے بعد اس وقت کی امریکی حکومت نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن پر الزام لگایا کہ اس نے اس حملے کی منصوبہ بندی طیارے ہائی جیک کرنے کے بعد کی ہے۔ اس وقت اسامہ بن لادن افغانستان میں رہ رہے تھے ، جہاں افغان طالبان حکومت میں تھے اور ملا عمر اقتدار سنبھالے ہوے تھے۔ امریکہ نے اس وقت کی افغان طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کو کہا۔ اور دھمکی دی کہ بصورت دیگر افغانستان کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

    طالبان حکومت نے ایک اجلاس کے بعد متفقہ طور پر پریس ریلیز جاری کیا کہ وہ تحقیقات اور تفتیش کے حوالے سے امریکی حکومت کی مدد کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں۔ تاہم ، وہ اسامہ بن لادن (ان کے مہمان) کو امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے ، اور یہ کہ وہ کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

    بش حکومت نے طالبان کی اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور امریکی عوام کے پرزور مطالبے پر نیٹو افواج نے افغانستان میں داخل ہو کر طالبان حکومت کے خلاف لڑائی شروع کر دی، شدید لڑائی کے بعد طالبان کی حکومت منہدم ہو گئی۔ امریکہ نے اپنی مرضی کی حکومت کو مقرر کر دیا جسکے بعدافغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کے اقتدار میں آنے کا یہ عمل 2021 تک جاری رہا۔

    نیٹو افواج جدید بندوقوں ، ہیلی کاپٹروں ، طیاروں ، بموں اور جدید ٹیکنالوجی سے لڑتی رہی لیکن کوئی بھی چیز نیٹو افواج اور امریکہ کو براہ راست اپنے مقاصد کے حصول میں مدد نہیں دے سکی جس کے بارے میں وہ سوچ رہے تھے۔

    طالبان اور نیٹو افواج دونوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ، لاکھوں افغانی ہلاک ہوئے ، لاکھوں لوگ پاکستان ، ترکی ، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک میں ہجرت کر گئے۔ افغانیوں کی میزبانی کرنے والے سرفہرست ممالک بالترتیب پاکستان اور ترکی تھے۔ اس افغان جنگ کے دوران پاکستان نے تقریباِۤ 80 ہزار افراد اور اربوں ڈالر کی معیشت کھو دی۔ افغانستان میں انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا اور غربت غالب آئی۔

    تاہم ، پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری اور اہم سٹیک ہولڈرز امریکہ اور نیٹو ممالک کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرنے پر زور دیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ جنگ افغان عوام کی بالکل مدد کیوں نہیں کر رہی۔ اس کے بجائے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ سراسر نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان میں امن لانے کا واحد حل ان طالبان سے مذاکرات کرنا ہے جو افغانی بھی ہیں اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر زمین پر ان کا کنٹرول بھی ہے۔

    مزاکرات کے ذریعے افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان کی بلند آواز کے باوجود ، دنیا نے پاکستان کے بیانیے کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور نیٹو افواج انہیں آسانی سے ختم کردیں گی۔ لیکن ٹرمپ حکومت کے دوران امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور افغانستان اور اس طرح کے دیگر متنازع ممالک سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا ارادہ کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ تنازعات میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے اپنی معیشت پر توجہ دے گا۔ ٹرمپ نے اس پالیسی کو اس وجہ سے تبدیل کیا کہ چین ایک نئی معاشی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے جو آنے والے برسوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان قیادت سے بات چیت شروع کی اور افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا پر رضا مندی ظاہر کی۔ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا تاکہ وہ افغان امن عمل کے حوالے سے بات چیت کے لیے میز پر لائیں۔ یہ مذاکرات دوحہ میں 2013 میں شروع ہوئے ، جہاں حامد کرزئی (افغانستان کے سابق صدر) ، امریکی نمائندے اور طالبان قیادت نے شرکت کی۔ تاہم ، یہ ملاقات حامد کرزئی نے صرف اس لیےمنسوخ کر دی کیونکہ طالبان نے اپنے "اسلامی امارت افغانستان” کے جھنڈے کو اس دفتر پر لگایا تھا جہاں یہ ملاقات ہونی تھی۔

    طالبان نے کئی مہینوں تک اپنا دفتر بند رکھا اور مذاکرات ملتوی رہے۔ پاکستان پرامن مذاکرات کی اہمیت کے لیے آواز بلند کرتا رہا۔ 2016 میں پاکستان ، چین اور امریکہ نے افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا اور پاکستان نے اس اجلاس کی صدارت کی۔

    پھر دسمبر 2019 میں ، دوحہ میں ، طالبان قیادت اور امریکہ نے افغان امن عمل کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں تقریبا 6 ماہ لگے۔ امریکہ نے ستمبر 2021 کے اختتام تک اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ، ان شرائط کو شامل کرتے ہوئے کہ طالبان اس انخلا کے دوران نیٹو افواج پر حملہ نہیں کریں گے۔ دونوں طرف سے مکمل جنگ بندی ہوگی۔ 2019 سے 2021 کے دوران اس وقت کے دوران اتار چڑھاؤ آئے۔ تاہم ، امریکہ نے اپنے ہزاروں فوجی واپس بلا لیے ، بگرام ایئر بیس کو خالی چھوڑ دیا۔ امریکیوں نے رات کے وقت بگرام ایئربیس چھوڑ دیا اور یہاں تک کہ ا پنی حمایت یافتہ افغان حکومت کو اطلاع کرنے کی زحمت بھی گوارانہ کی جس پر اشرف غنی انتظامیہ نے تحفظات کا اظہار کیا۔

    طالبان نے امریکی افواج کی واپسی کا خیر مقدم کیا ۔ تاہم ، اس کے ساتھ ہی طالبان نے افغانستان کے اضلاع ، صوبوں اور اہم عمارتوں پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی شروع کر دی جس نے عالمی برادری کو حیران کر دیا تاہم ، بائیڈن انتظامیہ نے اس ساری صورتحال سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ افغانستان کے پاس 0.3 ملین فوج ہے جو دیرپا جنگی سازوسامان رکھتی ہے اور وہ طالبان کو ملک پر کنٹرول نہیں ہونے دے گی۔ لیکن حالیہ تازہ کاروایاں دنیا کو بتاتی ہیں کہ افغان فوج ایک کے بعد ایک تمام صوبوں اور شہروں میں ہتھیار ڈال رہی ہے اور قیادت نے محفوظ راستے کے لیے پڑوسی ممالک کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ہے۔

    دوسری طرف ، جب طالبان قیادت اور طالبان کے فوکل پرسن ذبیح اللہ مجاہد سے ان کی پیش قدمی اور افغان سرزمین پر قبضے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ امریکہ کے ساتھ تھا نہ کہ کابل حکومت کے ساتھ ۔ مزید یہ کہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اشرف غنی پہلے مستعفی ہو۔

    اب دنیا افغانستان میں طاقت کا کھیل دیکھ رہی ہے جب طالبان نے تمام بڑے شہروں ، اہم صوبوں ، بشمول ہرات ، قندھار ، کنڑ ، اور مزار شریف کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سے ملحقہ سرحدوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    طالبان اب کابل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اشرف غنی نے استعفیٰ دے کر حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوحہ میں معاہدے کے بعد طالبان کو بیشتر عہدیدار افغانستان چھوڑ چکے ہیں جن میں امر اللہ صالح – نائب صدر ، سلامتی کے مشیر محب ، اور خود اشرف غنی شامل ہیں۔

    مزید برآں ، افغانستان کے تاجک رہنما صلاح الدین ربانی ، یونس قانونی ، احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود ، احمد ولی مسعود ، ہزارہ رہنما استاد محقق ، کریم خلیلی ، استاد عطانور کے بیٹے خالد نور اور افغان قومی اسمبلی کے اسپیکر رحمانی پی آئی اے کے خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچے۔

    یہ صورتحال بہت دلچسپی سے آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ طالبان کابل حکومت کی طرف سے کسی مزاحمت کے بغیر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ کابل حکومت ختم ہو چکی ہے ، اور جلد ہی افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہو جائے گا۔

    تاہم ، یہ سب ان مذاکرات کے ساتھ ہو رہا ہے جن کی پاکستان نے ہمیشہ تاکید کی تھی ، کیونکہ یہ کسی بھی قسم کے تنازع سے بچنے کا بہترین حل ہے جو بصورت دیگر ملک ، اس کے عوام اور افغانستان میں ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز پورے خطہ کو نقصان پہنچائے گا۔ پاکستان امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مستقبل میں پرامن اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے۔

    پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے چاہے کوئی بھی اس وقت کنٹرول کر رہا ہو پاکستان ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنہیں افغان عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو گی۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اب واضح ہے۔ ایک پرامن افغانستان اور حکومت جس کو اکثریتی عوام کی حمایت حاصل ہو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے قابل قبول ہو گا۔

    مزید یہ کہ ایک پرامن افغانستان علاقائی ترقی کے سا تھ ساتھ چین- پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔