Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ سوم تحریر۔   چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ سوم تحریر۔ چوہدری عطا محمد

    میرا دل خون کے آنسورو رہا ہے حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل اور صحراؤں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں اور امیروں کے کتے جرمن کے بنائے امپورٹڈ بسکٹ کھاتے ہیں منرل واٹر پیتے ہیں گرمیوں میں ائیر کنڈیشنز کمروں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں مہنگے کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔ ان کتوں کیلئے دنیا کے مہنگے ترین شیمپو، وٹامنز خوراک اور ادویات لائی جاتی ہیں ۔ ان کی رہائش غریب کی جھونپڑی کی بے بسی پر مسکراہٹ کے تازیانے برسارہی ہوتی ہے ۔

    دوسری طرف معصوم بچوں کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہوتی ہے اس عمر میں یا تو میرے وطن کے غریب بچے محنت مزدوری کرتے ہیں یا سماج دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں
    اور وہ انہیں تخریبی سرگرمیوں میں طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں جیب کترا بناتے ہیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے فن سے آگاہ کرتے ہیں۔ کچھ جرائم پیشہ افراد ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں

    حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہے لیکن وہ سڑکوں شاہراہوں پر ان بچوں کو بھیک مانگتے, ہاتھ پھیلاتے، گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے نہیں دیکھتی ۔ بے شمار بچے ہر روز کچرے کے ڈھیر پر جھکے اپنا رزق تلاش کررہے ہوتے ہیں گلے سڑے پھل اور ڈبل روٹی کی ٹکڑوں سے اپنے شکم کی آگ بجھا رہے ہوتے ہیں ۔

    سخت سردی ہویا گرمی برسات ہویا موسموں کی سنگینی یہ بے پرواہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں انہیں اپنی ماں کیلئے روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے وہ پرانی چیزیں جن میں شیشہ ، خالی بوتلیں، ردی ، لوہا، پلاسٹک، شامل ہوتے ہیں انہیں بیچ کر چند روپے کما کر اپنے گھر والوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ مائیں توسب کی ہوتی ہیں ان محنت کش بچوں کی بھی مائیں ہیں جو خود انہیں رزق کی تلاش میں گھروں سے رخصت کرتی ہیں اور خود بھی محنت مزدوری کرتی ہیں جب کہ بہت ساری عورتیں مشقت کرتی ہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں چند روپے کے عوض پورا دن کام کرتی گزار دیتی ہیں ۔

    ایک طرف بھیک مانگنے والا طبقہ ہے تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں،
    وہ بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سال سے دس سال تک ہوتی ہیں ورکشاپوں پر ڈینٹ پینٹ کا کام کر ریے ہوتے ہیں
    ٹرین کا سفر ہویا بسوں کا معصوم بچے ہر شہر میں چائے اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء بیچتے ہوئے نظر آئیں گے بجے گاڑیوں کے پاس آکر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں اور مدد کے منتظرہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو انہیں دھتکاتے نہیں ہیں ورنہ زیادہ تر وہ ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہتے ہیں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بھی درد ناک واقعات سامنے آتے ہیں

    گھروں میں کام کرنے والے ننھے معصوم پھول جیسے بچوں پر معمولی سی غلطی کی بنا پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ہمارے ملک میں قانون نام کا ایک خوبصورت پرندہ ہوا کرتا تھا

    جو زمانہ ہوا اڑ چکا ہے کسی نے بھی پکڑنے کی کوشش نہیں کیں اگر حکومت لوگوں کے جینے کیلئے اسباب پیدا کردے تعلیم اور انصاف مفت فراہم کرے، تو کوئی بچہ نہ تو کچرے کی ڈھیر سے گلی سڑی غذا سے اپنا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی تخریب کاروں کے ہتھے چڑھے گا۔ آج کے بچے پاکستان کا مستقبل ہیں ۔

    خدارا ! اپنے مستقبل کو بچا لیجئے

    @ChAttaMuhNatt

  • طالبان افغانستان کے فاتح تحریر  : راجہ ارشد

    طالبان افغانستان کے فاتح تحریر : راجہ ارشد

    افغان طالبان کا افغانستان کا کنٹرول سنبھال لینے سے ہمارے ملک کو کیا فائدہ ہو گا یا کیا نقصان ہوگا۔طویل عرصہ جنگ کرنے کے بعد دنیا کی طاقتور فوج کو شکست دینے کے بعد ایک بار پھر طالبان مکمل عروج کے ساتھ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے میں خاطر خواہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

    ہمارے ملک کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ طالبان کا افغانستان پر مکمل کنٹرول افغانستان میں امن لائے گا بلکہ میں تو کہوں گا کہ پاکستان میں بھی امن لائے گا۔ہمارے روائیتی حریف بھارت کے لئے ایک برا خواب ہے۔جو افغانستان سے ہو کر پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کرواتا تھا۔طالبان کے ہوتے ہوئے تو اب بلکل بھی نہیں کروا پائے گا۔

    طالبان نے بھی علان کیا ہے کہ ایک تو عام معافی اور دوسرا کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس مل کر جو وطن عزیز میں کاروائیاں کرواتے تھے سرحد پار سے خفیہ اڈوں سے حملے کروا کر ہماری پاک فوج کے جوانوں کو شہید کیا جاتا تھا۔اب پاکستان کو ان سب کاروائیوں سے کافی حد تک نجات ملے گی ان شاء اللہ

    افغانستان میں بیٹھ کر عالمی طاقتیں جو دہشتگردوں کی ڈوریں ہلاتی تھی اور ہمارے ملک میں پی ٹی ایم یا اس جیسی دشمن قوتوں کو متحرک کرتی تھی جو پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلاتی تھی۔افغانستان کا مکمل کنٹرول طالبان کے پاس چلا جائے تو یقینی طور پر پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو بھی لگام ڈالی جا سکے گی۔سب سے بڑھ کر تو افغان بارڈر سے جو غیر قانونی تجارت ہوتی تھی اس پر کنٹرول ہو گا۔

    ہمارے ہمسایہ اور روائیتی حریف ملک بھارت کی کھربوں کی انویسمنٹ جو کے ہمیں نیچا دکھانے کے لیے کی گئی تھی وہ ضائع ہو جائے گی۔ ہماری طالبان کے ساتھ بھائی چارے والی بات قائم رہی تو ان شاء اللہ سی پیک کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ہم افغانستان کے ذریعے اور افغانستان ہمارے زریعے اپنی معیشت کو نمایاں مقام پر کھڑا کر سکتا ہے۔

    طالبان کے کنٹرول کے بعد ہم افغان بارڈر سے بے فکر ہو جائیں اور اپنی باقی سرحدوں کی حفاظت صحیح طریقے سے کر سکیں گے۔بارڈر پار سے اگر دراندازی بند ہو جائے تو پاکستان کو اندرونی معاملات سنبھالنے میں آسان ہو گی۔پورا دن بھارتی چینل اور افغانستان کی بوکھلائی ہوئی اشرف غنی حکومت جو مکمل بھارتی ایجنسی را اور امریکہ کی اشیرواد سے چلتی تھی گزشتہ چند ہفتوں سے سخت بوکھلائی ہوئی تھی۔اور انتہائی اوچھے قسم کے ہتھکنڈے بھی کر رہی تھی۔

    اشرف غنی حکومت بار ہا بار افغانستان امن کو سبوتاژ کرتی رہی ہے پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگانا اور پھر افغانستان سفیر کی بیٹی کا چھوٹے اغوا کا ڈرامہ رچانہ بھی سازش کا حصہ تھا۔

    بہرحال طالبان افغانستان کے فاتح ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پہلے ہی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ہر اس افغان حکومت کو خوش آمدید کرے گا جس کو وہاں کی عوام منتخب کرے گی۔

    ان شاء اللہ پاکستان عمران خان کی قیادت میں تمام سازشوں کے عناصر پر قابو پا لیں گے ۔اللہ پاک ہمارے پیارے ملک کو دشمنوں کی سازشوں سے بچائیں اور مستقبل قریب میں ترقی اور خوشحالی پاکستان اور افغانستان کا مقدر بنیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    تحریر : راجہ ارشد

    @RajaArshad56

  • جلد کی حفاظت تحریر : زارا سید

    چمکتی ہوئی جلد کو برقرار رکھنے کے قدرتی طریقے ۔

    جلد کے تازگی اور چمک برقرار رکھنے کے لیے اس کی حفاظت اور اچھی خوراک بہت ضروری ھے ۔ روزانہ نہانے کی عادت بنائیں ۔ غسل کا وقت محدود کریں۔ گرم پانی اور زیادہ ٹائم شاور آپ کی جلد سے چکنائی کو ختم کر دیتے ہیں۔ … صابن سے پرہیز کریں۔ صابن آپ کی جلد سے چکنائی ختم کر کے اسے خشک اور سخت کر سکتا ہے۔ ….اچھی کمپنی کے باڈی واش اور فیس واش استعمال کریں۔ جلد کی اچھی طرح صفائی کے بعد کام کاج کے دوران اپنے چہرے کو بار بار نہ چھوئیں ۔ ایک عام اصول کے طور پر ، ایک بار جب آپ چہرے کی صفائی کر لیں اور حفاظتی کریمز لگا لیں تو ، اپنے ( زیادہ تر گندے ) ہاتھ اپنے چہرے سے دور رکھیں۔ جلد پر بار بار چھونے سے دانے ، کیل مہاسے ، یا کوئی زخم والی جگہیں – مسئلے کی خرابی کا سبب بنتی ہیں اور بالآخر انفیکشن اور نشانات کا باعث بن سکتی ہیں۔”

    کلینزنگ:

    روزانہ کسی اچھے کلینزر سے جلد کی کلینزنگ ضرور کریں اس سے جلد میں موجود دھول مٹی اور فالتو چکنائی صاف ھو جاتی ھے ۔ چکنائی والی جلد سے چہرے پر کیل مہاسے ھو جاتے ھیں جلد کی صحیح دیکھ بھال کے معمولات اور اچھی مصنوعات کے ساتھ ، یہ مسائل کم پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

    موئسچرائزر

    نہانے کے بعد گیلی جلد کو اچھی طرح موئسچرائز کریں
    کسی بھی اچھی کمپنی کا موئسچرائز لگائیں جو آپ کی جلد کو نمی دے۔

    سن اسکرین:

    سردی ھو یا گرمی سورج کی شعاعیں آپ کی جلد کے لیے بہت نقصان دہ ھیں ان سے چہرے پر جھریاں ، دھبے خشکی اور کئی بیماریاں ھو سکتی ھیں جن میں مختلف قسم کی الرجی اور کینسر بھی شامل ھے۔
    گھر سے باھر جاتے وقت کسی بھی اچھی کمپنی کا سن اسکرین استعمال کریں۔ تاکہ آپ کے ھاتھ چہرہ اور گردن سورج کی تیز شعاعوں سے محفوظ رہ سکیں۔ گھر میں رھنے والی خواتین کو کچن میں کام کے دوران بھی سن اسکرین استعمال کرنا چاھیے۔

    باقاعدگی سے ورزش:
    چہل قدمی ، ایروبک اور یوگا آپ کے خون کو متحرک کرے گا اور آپ کے پورے جسم کی صفائی کے عمل کو بھی تیز کرے گا۔ ورزش کے بعد آپ اپنے چہرے پر چمک دیکھیں گے ۔ اگر جم نہ بھی جا سکیں گھر کے اندر بھی تیز چہل قدمی کر سکتے ھیں ۔

    بھرپور نیند:

    جلد کی خوبصورتی کے لیے بھرپور نیند بہت ضروری ھے رات دیر تک جاگنے سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن سکتے ھیں۔

    خوراک:

    پھل، سبزیاں، دودھ اور دودھ سے بنی ھوئی اشیاء آپ کی جلد کو خوبصورت اور چمکدار بناتے ھیں ۔ خون کو صاف رکھنے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

    رنگ گورا کرنے والی کریمیں:

    رنگ گورا کرنے والی فارمولا کریمیں کبھی استعمال نہ کریں یہ وقتی رنگ گورا تو کر دیتی ھیں لیکن جلد کے لیے بہت نقصان دہ ھیں یہ کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا باعث بن سکتی ھیں۔

    وٹامن سی کا استعمال کریں:

    چمکتی ہوئی جلد کے لیے سب سے سادہ اور آسان چیزوں میں سے ایک ، وٹامن سی ہے جو کہ جلد کی تمام اقسام پر کام کرتا ہے یہاں تک کہ جلد میں چمک اور تازگی لاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق: وٹامن سی ہائیپر پگمنٹیشن کو ختم کر سکتا ہے ، ماحولیاتی جارحیت سے بچا سکتا ہے ، جلد کی رنگت کو روشن کر سکتا ہے ، اور کولیجن اور ایلسٹن کی پیداوار کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ چمکتی ھوئی جلد کے لیے بہت ضروری ھے۔

    چینی کا استعمال:

    وہ کھانے کی چیزیں جن میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ھوتا ھے ان سے پرھیز کریں مثلاً وہ کھانے کی چیزیں جو پیک ، پروسیسڈ ، اور زیادہ چینی والی ھیں۔ زیادہ چینی والے پروسیسڈ فوڈز جلد کی سوزش کا سبب بن سکتے ہیں ، جس کی وجہ سے خارش اور کئی دوسری جلد کی بیماریاں ہوتی ہیں ، اگر اپ اپنی زندگی میں سے کوئی ایک کھانے کی چیز ختم کر سکتے ھیں تو چینی کو ختم کر دیں جیسا کہ ایک حالیہ تحقیق نے ہائی شوگر فوڈز اور مہاسوں کے ساتھ ساتھ سر سے پیر تک کی عام سوزش کے درمیان تعلق کی تصدیق کی ہے ۔

    تمباکو نوشی:

    تمباکو نوشی آپ کے جسم پر سر سے پاؤں تک نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ جہاں تک جلد کی چمک کا تعلق ہے ، تمباکو نوشی جلد کو آکسیجن کی فراہمی کو محدود کرتی ہے ، ڈاکٹرز کے مطابق فری ریڈیکلز کو نقصان پہنچاتی ھے اور جلد کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھاتی ہے۔

    میک اپ ٹولز:

    میک اپ برش ، بیگ اور سپنج بنیادی طور پر چکنائی اور گندگی کے پھیلاؤ کی بنیاد ہیں – یہ سب آپ کی چمکتی ہوئی جلد کو خراب کر سکتے ھیں ان چیزوں کو صاف رکھیں! اپنے تمام میک اپ ٹولز کو باقاعدگی سے صاف کریں ، کم از کم ہر دوسرے ہفتے ۔

    گھریلو ٹوٹکے:

    اکثر جلد کی حفاظت کے لیے گھریلو ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ھیں جو ھماری جلد کے لیے تبھی فائدہ مند ھو سکتے ھیں اگر ان کا صحیح استعمال کیا جائے۔
    سکن کیئر کی بے تحاشا ترکیبیں آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں گے ایسے بے شمار چینلز ھیں جو رنگ گورا کرنے اور جلد کی حفاظت کے طریقے بتا رھے ھیں ان پر عمل کرنے سے پہلے یقین کر لیں کہ بتانے والا ایکسپرٹ ھے
    کسی اناڑی کے مشورے سے اپنی سکن کو ضائع ھونے سے بچائیں۔

    مساج:

    جلد پر مساج کرنے سے دورانِ خون میں روانی آجاتی ہے، اور دورانِ خون کی روانی جِلد کو خشکی اور انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔
    ھفتے میں کم از کم دو مرتبہ روغنِ زیتون یا روغنِ بادام سے پورے جسم کی مالش یا کم از کم چہرے، ہاتھوں اور پیروں پر مساج کریں، سردیوں میں جلد کی صفائی کا خیال خاص رکھیں۔

    سردیوں میں جلد کا خشک ہونا عام سی بات ہے لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو اس بھی ایک مسئلے کی صورت اختیار کر سکتی ہے ۔

    سرد موسم سے حفاظت؛

    سرد موسم کے آغاز سے ہی ہرے پتوں والی سبزیوں، رسیلے پھلوں اور خشک میووں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جسم پر اچھے موئسچرائزر اور لوشن کا استعمال بھی نہایت ضروری ہے ۔تاکہ جلد پھٹنے اور بے رونق ہونے سے محفوظ رہے۔ سردی کے موسم میں جلد اور ہونٹوں کے پھٹنے ، خارش بالوں میں خشکی اور بال گرنے کی شکایات عام ہو جاتی ہیں ۔ اس لیے احتیاط بہت ضروری ھے۔

    پانی:

    جلد اور صحت کے لیے پانی سے بہترین کوئی دوا نہیں ، پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے ۔ خشک جلد والے افراد کو سرد موسم میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے ساتھ ہی وہ موسمی پھل اور سبزیاں بھی زیادہ کھانی چاہئیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو ۔

    ٹویٹر : @Oye_Sunoo

  • اختلاف مگر احترام کے ساتھ تحریر: سیدہ بنت زینب

    اختلاف مگر احترام کے ساتھ تحریر: سیدہ بنت زینب

    ‏**
    ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر ایک مختلف ہے، چاہے وہ کسی ملک میں بھی پروان چڑھے، ان کے عقائد، ان کی جسمانی شکل، ان کے دوست اور کنبہ، اور یہاں تک کہ بہت سارے مضحکہ خیز مضامین کے بارے میں ان کی رائے جو آج کی دنیا کو متاثر کررہی ہے وہ بھی الگ ہے. ہم سب کی ایک رائے ہوتی ہے اور بہت سے لوگ اس رائے سے متفق ہو سکتے ہیں یا نہیں بھی. یہ معمول کی بات ہے کیونکہ ہمارے عقائد اور آراء اس بات کی نمائندگی کرتی ہیں کہ آپ دنیا کو اپنی دو آنکھوں اور کانوں سے کیسے دیکھتے اور سنتے ہیں. اگر آپ کے اردگرد کے لوگ ایک دلچسپ موضوع کے بارے میں ایک ہی رائے رکھتے ہیں تو رائے کا اظہار کرنا اچھا ہو سکتا ہے. تاہم، اگر کسی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایک یا بہت سے لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں، تو آپ کے پاس ایک انتخاب ہے، آپ یا تو گفتگو کو چھوڑ سکتے ہیں اور اس شخص کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ایک مختلف موضوع کی طرف بڑھ سکتے ہیں، حالانکہ آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے. دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ ان کی رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اپنا معاملہ بیان کر سکتے ہیں.
    کسی ایسے شخص کے مابین شروع ہونے والے تنازع کو روکنے کے لیے جو آپ کی رائے سے ذاتی طور پر متفق نہیں ہے، سمجھ لیں کہ دنیا میں ہر ایک کے مختلف نظریات ہیں اور بہتر ہے کہ ایسے مضحکہ خیز موضوع سے گریز کیا جائے جو رائے کی تقسیم پیدا کرے اور لوگوں کی رائے کے احترام سے باہر لوگوں کے درمیان بحث شروع کردے.
    اختلاف ہر کسی کا حق ہے اور جواب دینا یا نہ دینا آپ کی مرضی. کسی کو اختلاف سے نہیں روکا جاسکتا، اگر اختلاف نہ ہو تو وہ اندھی تقلید بن جاتی ہے. بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں کیا جائے. اختلاف سے کسی کی دل آزاری نہ ہو لیکن یہ آجکل سوچتا ہی کون ہے…..؟
    سوال صرف یہ ہے کہ آپ رائے کے اُس اختلاف پر کسی کو بھی گالی کیسے دے سکتے ہیں جس رائے پر دونوں میں سے کسی ایک کے غلط ہونے کا امکان موجود ہے کیونکہ نعوذ باللہ نہ آپ ولی ہیں نہ ہی کوئی اور انسان.
    میری شدید خواہش ہے کہ لوگوں کو اختلاف کرنے کا سلیقہ آ جائے….!
    محبت، پیار، احترام سے بات کرنے لگیں، نفرت، گالی، بد تہذیبی سے جان چھڑوا کر، عقل و فہم اور دلیل سے بات ہونے لگیں….!
    دوسرے لوگوں کی رائے کا احترام کرنا بہت ضروری ہے یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کوئی بھی کامل نہیں ہے اور ہر انسان مختلف سوچتا ہے. دوسروں کی رائے کا احترام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی رائے کو غلط سمجھیں. دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں زندگی اور لوگوں کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملتی ہے.
    دوسرے لوگوں کو سمجھنے سے ہمیں عاجز رہنے اور کھلے ذہن رکھنے میں مدد ملے گی. میرے خیال میں دوسرے لوگوں کی رائے کو سمجھنا بہت ضروری ہے. الحمدللہ جب سے میں نے سید اقرار الحسن کی باتوں پر سوچنا اور عمل کرنا شروع کیا ہے تب سے میں نے ہر لحاظ سے مثبت سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ہر کوئی مختلف ہے اور مجھے احترام کرنا ہے کہ دوسرے لوگ کیسے سوچتے ہیں، اور میری وجہ سے کسی کی دل آزاری نا ہو. اختلاف کرنا چاہیے مگر پورے احترام کے ساتھ.

    ‎@BinteZainab33

  • پاکستان عزم عالی شان تحریر فرزانہ شریف

    پاکستان عزم عالی شان تحریر فرزانہ شریف

    ‏پاکستان سے باہر آکر اپ دنیا کی ہر سہولت انجوائے کرتے ہو ہر قسم کی آسائش میسر ہوتی ہیں لیکن جب جب پاکستان کے خاص دن ہوتے ہیں دل اداس سا ہوجاتا ہے سچ میں دل بھر بھر آتا ہے چاہے وہ عید کا تہوار ہویا قومی تہوار ۔۔۔شب قدر ہو یا شب برات ۔رمضان مبارک ہو یا پھر 14 اگست ایک ایک واقعہ نظروں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگ جاتا ہے پھر اپنے وطن کی بہت یاد آتی ہے اس معاملے میں شائد میری طرح ہر اوورسیز پاکستانی جذباتی ہوجاتا ہوگا لیکن پاکستان میں رہنے والوں کو کیا پتہ یہ دن کتنے نایاب ہوتے ہیں اوورسیزپاکستانیوں کے لیے ۔۔ بچپن میں شب برات پر ایسے ہی خوشیاں منائی جاتی تھیں جیسے عید پر ۔اور عید پر نئے کپڑوں اور جوتوں کی خوشی ۔اور بےچینی سے صبح کا انتظار کرنا کہ کب صبح ہو اور ہم نئے کپڑے جوتے اور چوڑیاں پہن کر سچ دھج سے سے تیار ہوکر مزیدار سے کھانے انجوائے کریں اب ہر دن بچپن کی عید کے جیسا ہے لیکن وہ سچی خوشیاں ناپید ہوگی ہیں ۔۔!!
    14 اگست والا دن بھی میرے لیے کبھی بھی عید کے دن کی خوشی سے کم نہیں ہوا کرتا۔سکول لائف میں 14 اگست کے حوالے سے کافی پروگرامز میں حصہ لیا کرتی تھی دو ہفتے پہلے سے ہی فنکشن کی تیاری شروع کردی جاتی تھی ایک گہماگہمی کا سا ماحول ہواکرتا تھا سکول لائف میں میرے بھائی جان مجھے تقریر کرنے کی پریکٹس گھر میں کروایا کرتے تھے جو میں نے سٹیج پر کرنی ہوتی تھی چودہ اگست کے حوالے سے ۔جو سکول میں فنکشن مرتب کیا ہوتا تھا اور جب سکول کالج سے فری ہوئی تو سلسلہ رکا نہیں بہت محبت سے گھر جھنڈیوں سے سجانا سارا دن بس اپنے وطن کے ترانے سنتے۔ اور گانے میں گزر جاتا تھا ایک کیفت سی دل ودماغ میں چھائی ہوتی تھی اپنے وطن کی محبت میں ۔۔اسے گوروں کا ملک یا پردیس تو نہیں کہوں گی کیونکہ یہاں ہم settled ہیں کافی عرصے سے ۔۔۔ تو یہ بھی میرا وطن ہے جیسے پاکستان ہے ۔۔۔!!تو بات کررہی تھی اپنے مذہبی اور وطن کے تہواروں کی تو ہر سال سوچتی بس اب ایک تہوار تو اپنے وطن جاکر کروں لیکن اتنا انسان اس میٹھی جیل میں آکر قید ہوجاتا ہے کہ چاہ کر بھی وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے جو لوگ پاکستان رہتے ہیں انھیں شائد احساس ہی نہیں ہوگا کہ اپنا وطن کتنی بڑی نعمت ہے اور اگر تاریخ پڑھیں تو پھر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے اباواجداد نے کتنی مشکل سے یہ وطن ہمیں پلیٹ میں سجا کر دیا ہے اللہ کا کروڑ دفعہ شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیارا پاکستان دیا ہے اللہ میرے وطن کو شاد رکھے دشمن کی میلی آنکھ سے محفوظ رکھے۔۔آمین
    وطن سے دور ہونے کی وجہ سے ہم 14 اگست کے حوالے سے منقد تقریبات میں تو شامل نہیں ہوسکتے لیکن سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا پر ہی ہم اپنی تشنگی کم کرسکتے ہیں سب اوورسیز پاکستانی ۔ملی نغمے سن کر دیکھ کر۔۔۔!!
    لوگوں کا جوش وخروش اپنے وطن سے محبت کا انداز ایک نئی امید پیدا کرتا ہے کہ ملک رہے سلامت ۔ ذندہ یار صحبت باقی۔عیدیں تہوار ہزاروں ۔۔!!بہت قومی اور اسلامی تہوار آئیں گے کبھی تو ہم بھی ان میں شامل ہوں گے ان شاءاللہ بس جذبہ سلامت ہونا چاہئیے ۔۔!

  • جیکب آباد میں قانون کی کمزور رٹ تحریر عبدالرحمن آفریدی

    ‏جیکب آباد میں قانون کی کمزور رٹ اور بے خوف مجرم
    عدل و انصاف اور سزا جزا کے عمل سے معاشرے میں بہتری آتی ہے۔جب تک معاشرہ عدل و انصاف پر قائم رہے گا انسانی اقدار عروج پر اور انسانیت اپنے اعلی معیار پر قائم رہے گی اور جب کبھی معاشرے میں اجتماعی روابط و معاملات میں موازین حیات کو بالائے طاق رکھ کر ظلم و زیادتی اور ناانصافی کو اپنایا جائے ہوگا تو انسانی معاشرہ تباہی و تاراجی کا شکار ہوجائے گا چونکہ عدل و انصاف کسی بھی انسانی معاشرے کا حسن اور اس کی بنیاد ہے،جب ظلم اور جرم کرنے والے کو سزا نہیں ملتی تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے
    جیکب آباد میں دن بہ دن امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا اہم سب قانون کی رٹ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ جرائم کرنے والوں کی قانون کی گرفت سے آزادی ہے جیکب آباد میں قتل اور منشیات کے کیسوں میں گرفتار ملزمان چند ہی دنوں میں جیل سے آزاد ہو جاتے ہیں اور جرم کرنے والے جب جلد جیل سے آزاد ہو کر باہر آتے ہیں تو شریف شہری،کاروباری طبقہ مزید خوف کو شکار ہو جاتے ہیں قانون پر انکا اعتماد مزید کمزور پڑ جاتا ہے جیکب آباد میں ایسے متعدد واقعات ہیں جن میں ملزمان کومنشیات سمیت پولیس گرفتار کرتی ہے اور پھر وہی ملزمان چند دنوں میں جیل سے آزاد ہو جاتے ہیں،اور پھر سے انہی کاموں میں لگ جاتے ہیں کیونکہ اب انکا پکڑے جانے کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور جیل سے آزاد ہونے کے بعد بلا خوف غیر قانونی کام اور جرم کرتے ہیں،پولیس ملزمان کے جلد آزاد ہونے کا ذمہ دار جڈیشری کو قرار دیتی ہے جبکہ جڈیشری کا موقف ہوتا ہے کہ کیس کمزور بنایا جاتا ہے جس سے مجرم کو فائدہ ہوتا ہے اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پولیس مجرم گرفتار کرکے اپنی کارکردگی بھی دکھاتی ہے کیس داخل کرتی ہے لیکن کیس کی تفتیشی رپورٹ اور عدالت میں بیان مختلف ہوتا ہے اس میں استغاثہ کا کردار بھی اہم ہوتا ہے لیکن استغاثہ بھی مصلحت کا شکار ہوجاتا ہے جب دلائل مظبوط نہیں ہونگے تو مجرم کو اس کا فائدہ ہوگا جس پرمجرم کو کیس میں جلد ہی ضمانت یعنی آزادی مل جاتی ہے،اس سلسلے میں جیکب آباد بار کے نوجوان وکیل فرحان پٹھان سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ پولیس کی تفتیش کمزور اور استغاثہ کے درست کام نہ کرنے کی وجہ سے بھی مجرم کا فائدہ ہوتا ہے پولیس کی تفتیش پر عدالت میں کیس چلتا ہے پولیس کے منشیات کے 90فیصد مقدمات حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے ایک سوال پر انکا کہنا تھا کہ اگر پولیس لکھ کر آئے کہ ایسا کوئی واقع نہیں ہوا تو پھر عدالت کے پاس کیس چلانے اور کاروائی کا جواز نہیں رہتاانہوں نے تسلیم کیا کہ جھوٹے کیس بنانے اور جھوٹی گواہی پر سزا کے حوالے سے جیکب آباد میں ایسی کوئی مشق یا مثال نہیں ملتی اس حوالے سے قانون موجود ہے انہوں نے بتایا کہ تھانے پر 23رجسٹر ہوتے ہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ نہیں مشیر نامہ بھی سادہ کاغذ پر ہوتا ہے جبکہ اسکا رجسٹر ہونا چاہئے،تھانے پر ملزمان سے برآمد کی گئی پراپرٹی مال خانے میں رکھی جاتی ہے اور اسکی تفصیل کے لئے ایک الگ رجسٹر ہوتا ہے۔
    جیکب آباد میں تھانے پر حملے کے مقدمات بھی سی کلاس میں خارج کر دئے جاتے ہیں جس کی کئی مثالیں موجود ہیں،تھانے پر ایک سو سے زائد ملزمان کے خلاف پولیس مقدمہ درج کرے اور پھر چند ہی روز میں اس کیس کا سی کلاس میں کر دیا جائے پولیس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اگر ایسا کوئی واقع نہیں ہوا تو کیس کیوں داخل کیا عدالت کا وقت قیمتی ہے ایسا مقدمات کیوں درج کئے جارہے ہیں جنکو جلد ہی ختم کرنا پڑے ایسے اقدامات سے جرم کرنے والوں کے حوصلے بڑھتے ہیں اور قانون اور قانون نافذکرنے والوں کا مذاق بنتا ہے اسی وجہ سے جیکب آباد میں قانو ن کی رٹ کمزور ہو گئی ہے اور مجرم بے خوف ہو کر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں وارداتیں کررہے ہیں،مختلف کیسوں میں مطلوب ملزمان شہر میں سر عام گھومتے ہیں پولیس گرفتار نہیں کرتی،افسران کو کارکردگی دکھانے کے لئے پولیس اہلکار تصویر بنا کر گرفتاری ظاہر کرتے ہیں،کارکردگی بھی ہوجاتی ہے افسران بھی خوش ہوجاتے ہیں اور مفرور ملزمان کی طرف کھاتا بھی بن جاتا ہے اس طرح پولیس چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری کرکے اپنی جیبیں گرم کرتی ہے۔
    جب تک قانون سب کے لئے برابر نہیں ہوگا،پولیس میں مداخلت ختم کرکے جعلی مقدمات کا سلسلہ بند نہیں کیا جائے گا عدل وانصاف کے لئے سزا و جزا کے عمل کو اختیا رنہیں کیا جاتا پر امن اور ترقی یافتہ خوشحا ل معاشرے کا قیام ایک خواب ہی رہے گا،پولیس کی تفتیش کو بہتر بنایا جائے تاکہ گرفتار مجرم کو فائدہ نہ ہو استغاثہ کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں جب پولیس استغاثہ اپنا کرداد بہتر طریقے سے ادا کریں گے تو پھر جرم کرنے والا دوبارہ جرم کرنے کے لئے آزاد نہیں ہو سکے گا اور جب جرم کرنے والے کوقانون کی گرفت سے آزادی آسانی سے ملنے کا یقین ختم ہو جائے گا تو پھر جرائم میں یقین کمی آئے گی اور جرم کرنے والا جرم سے پہلے کئی بار سوچے گا۔

    03337346416
    ‎@journalistjcd

  • 14اگست 1947 تحریر صبا خان

    14اگست 1947 تحریر صبا خان

    موسم میں بڑی گھٹن سی تھی
    گرم لو کا راج تھا ہر سُو ،بادل بھی آسمان کو يوں گھیرے تھے جیسے ابھی برسنے کو ہوں مگر مجال ہے جو اتنی ہمت کر
    سکے اس گرمی کے آگے تو بےبس ہی ہو جیسے
    پھر دل کے موسم کے ساتھ ساتھ جب باہر کا بھی موسم اس قدر پیچیدہ اور گھٹن زدہ ہو تو کیا
    كہنے
    کئی دنوں سے سرگوشیاں سی چل رہی تھی لوگ کچھ کبھی پُرامید اور کبھی مایوسی کے بھنور میں ڈولتے دکھائی دیتے تھے
    کبھی بیٹھے بٹھائے انجانی سی خوشی میں مدھوش ہونے لگتے تو کبھی انجانا سا دُکھ منہ چرانے لگتا
    اپنے حقوق کی خودمختاری کا سوچ کر دل شاد ہونے لگتا وہی اپنے گھر اپنی زمین سے الگ ہونے کا غم ستانے لگتا
    بڑی ہی عجیب سی کیفیت سے دو چار تھی فضا
    ایسے میں خوف کا ہر سُو طاری رہنا
    حسد و نفرت میں ڈوبے خیر خواہ بھی دشمن بنے بیٹھے تھے
    کئی لوگ بڑے عزیز دل کے قریب سے جن سے بڑا پیارا دل کا تعلق تھا بغیر مذہبی عقیدت کے دلوں میں احترام لیے ساتھ ساتھ رہتے اور اسی طرح سے کئی ایک دوسرے کے خون کے بھی پیاسے
    صرف تعصب کی بنیاد پر جان کے دشمن ٹھہرتے
    دنیا ہے رنگ رنگ کے لوگ یہاں
    زلالت میں گھرے پڑے حق رائے تک کی آزادی سے محروم کچھ اور کچھ نا انصافی کے ڈسے ہوئے
    کسی کو اقلیت کی مار تو کوئی اکثریت کے غرور میں اکڑے
    بیروزگاری زچ کرنے کی حدوں کو بھی پار کیے ہوئے
    اور کہیں عزت غیر محفوظ
    تعلیم سے محروم
    مذہبی تہواروں کا خون کی ہولی کھیل کے آنا اور کتنے ہی گھروں کا اُجڑ جانا ثابت ہوتا
    ایسے میں ایک فرشتہ پرور کا بیڑا پار کرنے کا عزم اور محنت کتنے ہی دُکھی دلوں کی مسکراہٹ کی وجہ بنا
    اُمید بنا
    ایک انتظار تھا شدید انتظار کہ آج کی صبح کوئی نیا پیغام خوشی کا پیغام لانے کو ہے جیسے
    گلی کے ہر ،نکڑ پہ حقا پیتے ہوئے بزرگوں کا ہجوم سا آیندہ دنوں کے تبصرے میں مصروف دکھائی دیتا
    بچے آپس میں چپکے چُپکے نئے گھروندے بنانے کے منصوبے بناتے ہوئے سر گرم رہتے
    بس کچھ یوں ہی گرم سے دنوں میں گرم گرم سی سر گرمیاں چلنے لگی
    با ظاہر آسان دکھائی دینے والا کام انتہا کا مشکل کٹھن لگنے لگا جب الوداع کہنے کا وقت قریب آگیا
    بادلوں میں بھی حبس عروج پہ آنے لگا گرم لو میں بھی اضافہ ہونے لگا سورج بھی شدت بھڑائے غروب ہونے کے قریب آگیا
    ایسے میں اضطرابی میں مزید اضافہ ہونے لگا
    سارا جسم گو کے کان بن کر سننے کی کوشش میں لگ گیا ہو
    ہر کوئی بےچین دل اور خالی سی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگا کہ کہیں سے آزادی کے پروانے کی نوید سنائی دے
    کچھ لپیٹے کچھ اٹھائے کچھ چھپائے کچھ چھوڑے ہوئے کسی پکار کے منتظر کھڑے
    جیسے کسی اشارے کے ملتے ہی دوڑ پڑے گے اور مڑ کر کبھی نہیں دیکھے گے
    اپنی ساری اذیتیں درد دُکھ نکال کے پھینکنے کو ہے قرار
    سورج بھی ڈھل گیا
    بادل بھی رنگ بدلے سُرخ سا آسمان کیے اور بھی خوف کا منظر پیش کرنے لگا
    کچھ لمحوں کا انتظار دل منہ میں کھینچ کر لانے لگا کہ اچانک ہی فضاء میں
    صدائے گونجنے لگی
    پاکستان کا مطلب کیا
    لا اللہ اِلا لا
    خوشی کا ایسا منظر
    دل دہلانے کو کافی تھا
    مارے خوشی کے ہلچل مچ گئی گھروں کے بجائے اسٹیشن کا رخ کیا گیا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے لڑتے مرتے چلتے گئے کتنے ہی محبت کرنے والے بچھڑ گئے کتنے ہی اپنے قربان ہوتے چلے گئے مگر قافلہ چلتا رہا کارواں بنتا گیا
    آزادی جیسی نایاب نعمت کو پا کر مسرور ہوئے خون کے رنگوں میں بھی مستقبل کا رنگ ذہن نشین کیے ہاتھ تھامے نئے آشیانے بسانے کو نہ روکنے والے سفر پہ قدم جمائے رہے
    کتنی ہی قربانیوں کا سہرا سجائے آخر کار لاہور پاکستان کی سر زمین پہ لوٹے ٹوٹے خالی دامن کرچیوں سے بھرے دل لیے پر امید کل کے خواب لیے اُترے
    اور نئی زِندگی نئی آزادی کو خیر مقدم کہا

    ایسی صبح پھر نہ آئی
    ہم آزاد تو ہیں مگر آزادی کے مطلب سے انجان رہے
    ہم کیا جانے کہ کیسی تھی وہ ۱۴ اگست کیسی تھی وہ وطن کی چاہ
    محبت
    کیا تھی قربانی
    کیا تھا انتظار
    گلیوں میں شور مچاتے آتش بازی کی نظر ساری رات کرنے کا نام کب تھا آزادی
    وقت کے ساتھ مطلب بدل گئے
    قوم سے ہم قومی تعصب میں بٹ گئے
    ہم آزاد ملک میں رہ کر اپنے نفس کے غلام بن گئے
    ہمیں کیا معلوم آزادی کی قیمت قدر و منزلت
    جذبے سے تہوار بن گیا
    سجاوٹ میں دکھاوے میں نفس کے قیدی ہم
    کہتے ہیں ایک دوسرے کو
    آزادی مبارک
    اگست 14 ۔مبارک

  • جمہوری نظام ترقی کی ضمانت ہے تحریر:شمسہ بتول

    جمہوری نظام ترقی کی ضمانت ہے تحریر:شمسہ بتول


    جمہوریت عام طور پر قدیم یونانیوں سے وابستہ ہے۔ 18 صدی کے دانشوروں کے مطابق یونانیوں کو مغربی تہذیب کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کا لفظ دو یونانی الفاظ ڈیموس جسکا مطلب لوگ اور کراتوس
    جسکا مطلب اصول کے ہیں کا مجموعہ ہے۔ پھر جیسے جیسے لوگوں میں شعور اور آگاہی پھیلتی گٸی ویسے ویسے جمہوریت کا نظام بھی دنیا میں پھیلتا گیا ۔ لفظ جمہوریت کی مختلف تعاریف بیان کی گٸی ہیں لیکن سادہ الفاظ میں جمہوریت کا مطلب ہے کہ عوام کی حکمرانی یعنی کے عوام اپنی مرضی سے آزادٸ راۓ کے ساتھ اپنے نماٸندے چن سکتی جو کہ عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتے اور ریاست کا نظم و نسق چلاتے آسان لفظوں میں کہا جاۓ تو یہ کہ جمہوریت ایک سیاسی نظم و نسق کا نام ہے۔
    ” میریئم ویبسٹر “ نے جمہوریت کی تعریف کی ہے کہ "ایک ایسی حکومت جس میں اعلیٰ طاقت لوگوں کے سپرد ہوتی ہے اور وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر نمائندگی کے نظام کے ذریعے عام طور پر منعقد ہونے والے انتخابات میں شامل ہوتے ہیں۔” کیمبرج ڈکشنری“ کے مطابق ، جمہوریت "لوگوں کے درمیان آزادی اور مساوات پر یقین ہے یا اس عقیدے پر مبنی حکومت کا نظام ہے ، جس میں اقتدار یا تو منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے یا براہ راست عوام کے پاس۔
    خواندگی اور ناخواندگی یہ جمہوریت پر اثرات مرتب کرتی ہے۔
    کم ووٹر ٹرن آؤٹ ایک مسئلہ ہے جو ان ریاستوں میں زیادہ ہے جن میں شرح خواندگی کا تناسب کم ہے یا وہ معاشی اور معاشرتی لحاظ سے پسماندہ ہیں اور اس ناخواندگی اور لا شعوری کے جمہوریت پر نقصان دہ اثرات بھی ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Centre) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ، اس دہائی میں او ای سی ڈی ممالک کے درمیان سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کی شرح بیلجیم (87.2) ، سویڈن (82.6) اور ڈنمارک (80.8) میں ہے۔ اور یہ وہ ممالک ہیں جہاں شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ اس کے برعکس ، پاکستان میں حال ہی میں ووٹروں کی تعداد 58 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں شرح خواندگی بھی 60 فیصد سے کم ہے۔ شرح خواندگی اور ووٹر ٹرن آؤٹ کے درمیان براہ راست تعلق ہے اگر معاشرے میں ناخواندگی کی شرح زیادہ ہو تو ایک قابل قیادت کا انتخاب بہت حد تک ناممکن ہوتا ہے کیونکہ لوگ زات پات، رنگ و نسل اور برادری یا دیگر تعصبات کی بنیاد پر ووٹ دیتے انہیں یہ علم اور شعور ہی نہیں ہوتا کہ ان کا ووٹ ان کے اور اس قوم کے مستقبل کا زمہ دار ہے۔وہ ان تعصبات سے نکلنا ہی نہیں چاہتے انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ووٹ کی کیا اہمیت ہے۔
    اسی طرح شرح خواندگی کا قیادت کے معیار کے ساتھ براہ راست تعلق ہے سیاسی رہنما کچھ نہیں بلکہ ہماری طرح ہی اس معاشرے کے ارکان ہیں جو تمام اچھی اور بری خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہمیں معاشرے کے افراد میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہو گی تعصبات اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہو گا اور ہر فرق اور تعصب سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا تبھی ایک صحیح اور قابل قیادت کا انتخاب ممکن ہو گا۔ سمجھداری ، ذہانت ، وژن ، دور اندیشی ، وسیع النظری ، پختگی یہ خصلتیں صرف ایک تعلیم یافتہ اور اچھی طرح سے تیار معاشرے میں تیار ہوتی ہیں ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کی پارلیمانوں کے ارکان کے درمیان موازنہ واضح طور پر اسی حقیقت کو ظاہر کرے گا۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے اراکین پارلیمنٹ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ کچھ خاص تعلیمی شعبوں میں بھی ترقی یافتہ ہوتے
    ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں میٹرک پاس بھی جعلی ڈگری لےکر اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے اور انہیں وہاں تک پہنچانے میں کہیں نہ کہیں ہماری ووٹ سے خیانت بھی ہوتی اور کچھ لوگ تو اثرو رسوخ کا استعمال کر کے یا ووٹ خرید لیتے یا چوری کر لیتے تو پھر اس معاشرے میں جمہوریت کیسے پروان چڑھے گی
    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے ہمارے ہاں لا شعوری کا یہ عالم ہے کہ ہم سیاستدانوں کو خدا سمجھ لیتے کہ بس یہ ہمارے علاقے کا ہے یا یہ ہماری زات کا ہےیا یہ اتنا بڑا جاگیر دار ہے یا فلاح وزیر کا یا فلاں چوہدری کا بیٹا ہے تو اسی لیے اسے ہی ووٹ دینا ہے یہ امانت میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے ۔ اور چند پیسوں کی خاطر ووٹ بیچ دینا تو پھر اس معاشرے میں جمہوری نظام کیسے قاٸم ہو گا۔ وہاں پر تو پھر کرپشن اور لاقانونیت ہی قاٸم ہو گی تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی بجاۓ مزید پسماندگی کی طرف جاۓ گا۔ اور الیکشن کے دنوں میں نام نہاد عوام کے نماٸندے اپنے گارڈز کے ساتھ کھلے عام فاٸر کر ووٹ کاسٹ کرنے والوں کو ہراساں کرتے کتنے ہی لوگ گولیوں کی نظر ہو جاتے کیا یہ جمہوریت ہے نہیں یہ غنڈہ گردی ہے آمریت ہے لاقانونیت ہے ۔ ہمیں اس ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی معنوں میں جمہوری نظام تشکیل دینا ہو گا ووٹ کا درست استعمال کرنا ہو گا اور اس کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہو گا خواندگی کی شرح کو کم سے کم کرنا ہو گا تا کہ معاشرے ہر فرد اس قابل ہو سکے کہ وہ اس قوم کے
    مستقبل کے لیے ایک درست قیادت کا انتخاب کرسکے۔

    ‎@b786_s

  • پانی کی بچت زمین اور زندگی کے لیے کیوں ضروری ہے؟  تحریر: زاہد کبدانی

    پانی کی بچت زمین اور زندگی کے لیے کیوں ضروری ہے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    پانی شاید سب کے لیے سب سے قیمتی ذریعہ ہے۔ پانی کے بغیر ، یقینی طور پر زمین پر کوئی زندگی نہ ہوتی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پانی زندگی کے لیے اتنا ضروری کیوں ہے۔ تاہم ، پانی کی اہمیت اس تک محدود نہیں ہے۔ کرہ ارض کے لیے بھی پانی بہت اہم ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانی کا ضیاع ماحول اور فطرت کے لیے کافی نقصان دہ ہے۔
    پانی کی بچت زمین کے لیے کیوں ضروری ہے؟
    سب سے پہلے ، پانی کی بچت کے نتیجے میں دنیا بھر میں خشک سالی کم ہوگی۔ مزید یہ کہ زیر زمین پانی کی سطح کم و بیش کافی رہے گی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانی کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اس سے جانوروں کی پرجاتیوں کے زندہ رہنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مزید یہ کہ جانداروں کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس پینے کے لیے مناسب مقدار میں پانی ہوگا۔ بہت سی پرجاتیوں کی معدومیت کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پرجاتیوں کو پانی تلاش کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑے گی۔

    پانی کے استعمال کو کم کرنے سے توانائی کے تحفظ میں یقینا مدد ملے گی۔ مزید برآں ، ہمارے گھروں ، دفاتر ، کھیتوں وغیرہ میں پانی کو پروسیس کرنے اور پہنچانے کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب یہ توانائی پانی پر عمل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے تو بہت زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، پانی کے کم استعمال کی وجہ سے ، کم توانائی استعمال ہوگی جس کے نتیجے میں کم آلودگی ہوگی۔

    پانی بچانے کا ایک اور اہم فائدہ صحرا کو روکنا ہے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر ، پانی کی کثرت کا مطلب زیادہ درخت اور پودوں کا احاطہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پودوں کو زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، بہت سے پودے اور درخت مر جائیں گے۔ یہ سب صحرا میں حصہ ڈالتے ہیں۔ لہذا ، پانی کی بچت صحرا کو ختم کرنے اور زمین کے سبز غلاف کو واپس لانے میں مدد دے گی۔
    پانی بچانے کے طریقے۔
    سب سے پہلے ، غسل یا شاور کا وقت کم کرنا پانی کو بچانے کا ایک بہت اہم طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ غسل/شاور کے دوران پانی کی کافی مقدار ضائع ہوتی ہے۔ لہذا ، لوگوں کو اپنے غسل/شاور کو کم کرنا ہوگا۔
    دوم ، لوگوں کو اپنے بیت الخلاء کو لیک کے لیے چیک کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے بیت الخلاء کا لیکس آسانی سے کسی کا دھیان نہیں جا سکتا۔ یہ یقینی طور پر پانی کے ضیاع کا نتیجہ ہے۔
    دانتوں کو برش کرتے وقت افراد کو نل بند کرنا چاہیے۔ مزید برآں ، بہت سے افراد کو برش کرنے کے دوران اپنے نلکے رکھنے کی بری عادت ہوتی ہے۔ یہ یقینی طور پر پانی کے ایک اہم نقصان کا سبب بنتا ہے۔
    لانوں کو پانی دینا صرف اس وقت ہونا چاہئے جب بالکل ضروری ہو۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سے افراد کو اپنے لان میں دن میں دو بار پانی پلانے کی بری عادت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ برسات کے موسم میں پانی نہیں دینا چاہیے۔ سردیوں میں ، ایک پندرہ دن میں ایک بار پانی دینا کافی سے زیادہ ہے۔
    زیادہ خشک سالی سے بچنے والے درختوں اور پودوں کو اگانے پر زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سارے خوبصورت پودے اور درخت بغیر آبپاشی کے پروان چڑھتے ہیں۔ اس سے یقینی طور پر پانی کی بچت ہوگی۔
    آخر کارپوریشنز اور فیکٹریوں کے لیے سخت قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر ، یہ قوانین پانی کے استعمال کے حوالے سے ہونے چاہئیں۔ مزید برآں ، بہت ساری فیکٹریاں مضحکہ خیز طور پر زیادہ مقدار میں پانی استعمال کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ پانی کی یہ بڑی مقدار مختلف قسم کے عمل کے لیے درکار ہے۔ لہذا ، حکومت کو قانون بنانا ہوگا۔ نیز ، ان قوانین میں پانی کے استعمال کی زیادہ سے زیادہ حد واضح طور پر بیان کرنی چاہیے۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں۔
    اس کا خلاصہ یہ کہ ہمارے سیارے زمین کے لیے پانی انتہائی ضروری ہے۔ پہلے ہی ماحول کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ مزید برآں ، جب پانی کی قیمت کی بات آتی ہے تو انسان کافی لاپرواہ رہے ہیں۔ لہذا ، اب وقت آگیا ہے کہ لوگ پانی کو ضائع کرنے کے فوری خطرے کا ادراک کریں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • یوم عاشورہ (یعنی محرم کی دس تاریخ) کا روزہ ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یوم عاشورہ (یعنی محرم کی دس تاریخ) کا روزہ ! تحریر:محمد آصف شفیق

    نبی مہربان ﷺ نے یوم عاشورہ یعنی محرم کی 10 تاریخ کا روزہ رکھنے پر ایک سال کے گناہوں کی بخشش کی بشارت دی ہے

    حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یوم عاشورہ (یعنی محرم کی دس تاریخ) کا روزہ رکھے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گز شتہ سال کے تمام گناہ معاف فرمادے گا ۔ جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 736
    ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے پوچھا یہ روزہ کیسا ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ بہتر دن ہے اسی دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دی تھی، اس لئے حضرت موسیٰ نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ ہم تمہارے اعتبار سے زیادہ موسیٰ کے حقدار ہیں۔چنانچہ آپ ﷺنے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1926

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی روزہ رکھتے تھے جب مدینہ آئے تو وہاں خود اس کا روزہ رکھا۔ اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو عاشورہ کے دن روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ جس کی خواہش ہوتی اس دن روزہ رکھتا اور جس کی خواہش نہ ہوتی اس دن روزہ نہ رکھتا۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1924

    حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ یہودی عاشورہ کے دن کو عید سمجھتے تھے، تو نبی کریم ﷺنے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم بھی اسی دن روزہ رکھو۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1927

    سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی اسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردے جس شخص نے کچھ کھا لیا ہے وہ باقی دن تک کچھ نہ کھائے، اور جس نے نہیں کھایا ہے وہ روزے رکھے، اس لئے کہ آج عاشورہ کا دن ہے۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1929

    مسدد یحیی ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ عاشورہ کے دن قریش بھی روزہ رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے عاشورہ کا خود بھی روزہ رکھا اور اس کے روزہ کا دوسرے مسلمانوں کو بھی حکم دیا۔ رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہونے کے بعد جس کا دل چاہتا عاشورہ کا روزہ رکھا اور جس کا دل چاہتا نہ رکھتا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1065حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کی عزت وتکریم کرتے اور اس دن روزہ رکھتے دیکھاتورسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے (یہود سے) زیادہ حقدار ہیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا حکم دیا۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1172

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو یہودیوں سے اس کی وجہ پوچھی گئی انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غالب کیا تھا اس لئے ہم اس کی تعظیم میں اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہ نسبت تمہارے ہم حضرت موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1173

    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت جب مدینہ میں آئے تو تمام یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور وجہ یہ بیان کرتے کہ یہ وہ دن ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر غلبہ حاصل ہوا تھا اور فرعون بمع لشکر دریا میں ڈوب گیا چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ حضرت موسیٰ کے معاملہ میں تم ان سے زیادہ مستحق ہو لہذا تم بھی عاشورہ کا روزہ رکھو۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1865

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور ہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو وہ دن ہے جس کی تعظیم یہود و نصاری کرتے ہیں تو فرمایا اگلے سال ہم نویں تاریخ کا (بھی) روزہ رکھیں گے۔ لیکن جب اگلا سال آیا تو آپ کی وفات ہو چکی تھی۔ سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 680

    ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ عاشورہ کے روزے کے بارے میں کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ کو اس کا علم نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کے علاوہ کسی اور دن کا روزہ اور دنوں کے مقابلہ میں بہتر سمجھ کر رکھا ہو یعنی رمضان المبارک اور عاشورہ کے دن کا ۔
    سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 281حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا رمضان کے روزے کے بعد بہترین روزے اللہ کے مہینے کے کہ وہ ماہ محرم ہے کہ روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے۔ (مسلم) مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 550
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ یہودیوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبویا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا اس لیے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے مقابلے میں ہم موسیٰ سے زیادہ قریب اور (ان کی طرف سے بطور شکر روزہ رکھنے کے) زیادہ حقدار ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کو خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری ومسلم) مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 577
    اللہ رب العالمین ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کی توفیق دیں ، سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرنے والا بنائیں برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین

    @mmasief