Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سکردو تحریر: خالد عمران

    سکردو تحریر: خالد عمران

    ‏سکردو کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین تفریحی مقامات میں ہوتا ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ دلفریب وادی اپنی نظیر آپ ہے۔ گلگت بلتستان میں واقع سکردو سطح سمندر سے تقریباً آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر دریائے سندھ اور دریائے شگر کے حسین سنگم پر واقع ہےجو قراقرم سے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کو جدا کرتا ہے۔ سکردو کی خوبصورت وادیاں ،شفاف قدرتی پانی کے چشمے،برف کی چادر اوڑھے ہوئے بلند و بالا پہاڑ اور سرسبز نظارے پاکستان کے حسن کو مزید چار چاند لگا دیتے ہیں ۔علاوہ ازیں تاریخی ورثہ اور ثقافت کے دل آویز رنگ اس کی اہمیت میں اضافے کاباعث ہیں۔خوبصورت وادی سیاحوں اور خاص طور پر کوہ پیماؤں کے لئے توجہ کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کے اسے دنیا بھر میں کوہ پیمانوں کی جنت سمجھا جاتا ہے۔سکردو اسلام آباد سے تقریباً پچیس سے تیس گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

    سکردو کی اہمیت : پاکستان ٹورزم کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیاں جن کی اونچائی آٹھ ہزار فٹ سے زائد ہے ان میں سے پانچ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ان بلند ترین چوٹیوں میں کے ۔ٹو ،گاشربرم ، بروڈ پیک اور گاشر برم دوم سکردو میں واقع ہیں ۔
    گرمیوں میں اپریل سے اکتوبر کے مہینوں کے دوران سیاح اور کوہ پیما سکردو کا رخ کرتے ہیں ۔علاہ ازیں اس وادی میں سیاچن،بالتورو، گیاری اور گیانگ جیسے منفرد گلیشیرز واقع ہیں ۔یہ گلیشیئرز قدرتی نظاروں کے ساتھ ساتھ شفاف پانی مہیا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔سکردو نہ صرف مرکزی شہر کا ہیڈ کوارٹر ہے بلکہ چین، بھارت، افغانستان کی سرحد سے متصل ہونے کی بنا پر پاکستان کا انتہائی اہم حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ سکردو کے دلکش مقامات میں قلعہ سکردو ،ستپارہ جھیل،قلعہ شگر ،کچورا جھیل،شنگریلا اور دیوسائی نیشنل پارک قابل دید ہیں ۔
    : سکردو میں واقع چند اہم مقامات
    قلعہ سکردو : اس قلعے کا دوسرا نام کھرفچو فورٹ ہے جس کی تاریخ آٹھویں صدی سے ملتی ہے۔اس قلعے کو قلعوں کا بادشاہ بھی کہاجاتا ہے۔یہ سات منزلوں پر محیط بلند عمارت تاریخ اور ثقافت کا حسین امتزاج ہے جس نے علاقے کو بے حد رونق بخشی ہے۔ یہ قلعہ سیاحوں کے لئےقابل دید ہے۔
    قلعہ شگر :اس قلعے کی تعمیر چار سو سال قبل راجہ شگر نے کروائی ۔ یہ قلعہ سکردو سے ستائیس کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے جو گلگت بلتستان کی ثقافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس کی خوبصورتی سے عیاں ہے کہ یہ عمارت اس دور کے کاریگروں کا ایک عظیم شاہکار ہے۔قلعے کی عمارت کے اطراف میں سر سبزد باغات دیکھنے والوں کی نظروں کو تقویت بخشتے ہیں ۔
    ستپارہ جھیل : یہ جھیل باقی مقامات کی طرح سیاحوں کے لئے خاصی اہمیت کی حامل ہے ۔قدرتی پانی پر مشتمل یہ جھیل 2600 میٹر کی بلندی پر واقع ہے جبکہ 1.5 میل کے وسیع رقبے پر محیط ہے ۔ حکومت نے مقامی لوگوں کی بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے اور فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے اس جھیل پر حال ہی میں ڈیم کی تعمیر مکمل کی ہے۔
    کچورا جھیل:قدررتی حسن سے مالا مال سکردو میں واقع یہ جھیل آئینے کی مانند شفاف پانی پر مشتمل ہےجو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کا خوبصورت عکس پیش کرتی ہے ۔مزید براں زیریں کچورا جھیل جو شنگریلا جھیل کے نام سے بے حد مقبول ہے۔1983 میں اس جھیل پر قائم کردہ ریزورٹ سے اس جھیل کو خاصی مقبولیت ملی۔

    دیوسائی نیشنل پارک: سکردو کے باقی مقامات مانند دیوسائی اپنی مثال آپ ہے۔سفید پوش پہاڑوں کے حصارمیں گھرا ہوا یہ ویرانہ سیاحوں کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔بادلوں کی آنکھ مچولی، نیلگوں بہتا ہوا پانی اور کانوں میں رس گھول دینے والی خاموشی سیاحوں پر سحر طاری کردیتی ہے۔دیوسائی سطح سمندر سے تقریباً 13497 فٹ اونچائی اور843 مربع میٹر پر پھیلا ہوا رقبہ ہے۔دیوسائی نیشنل پارک کو بین الااقوامی سطح پر بھورے ریچھوں کے لئے محفوظ سرزمین کے طور پر جانا جاتاہے۔
    بیک وقت نیلگوں جھیلوں ،دریاؤں کے سنگم ، خوبصورت وادیوں ، سبز اور سفید رنگ کی چادڑ اوڑھے ہوئے بلند و بالا پہاڑوں ،وسیع میدانوں کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لئے سکردو دنیا کے بہترین تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔

    Written By: Khalid Imran Khan
    Twitter ID: ‎@KhalidImranK

  • اچھے دن کیسے آئیں گے تحریر : علی حیدر

    اچھے دن کیسے آئیں گے تحریر : علی حیدر

    9مشہور مقولہ ہے کہ اچھے دنوں کے لئیے برے دنوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ معاشرے کے قسمت , تقدیر , اور نصیب کے راگ الاپنے والے کاہل اور نکمے لوگوں کو ہمیشہ ناکام ہی دیکھا گیا ہے۔ اپنی ناکامی و نامرادی کے لئیے خود کو خطاوار ٹھہرانے اور بجائے ندامت محسوس کرنے کے یہ لوگ قسمت اور تقدیر کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔
    اپنے برے دور سے گزرتا ہوا ایک انسان اگر اپنی تقدیر کو بدلنے اور نئے سرے سے اسے مرتب کرنے کی ٹھان لے تو قلیل عرصے میں وہ اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر حالات کا دھارا بدل سکتا ہے۔
    معاشرے کے امراء افراد قابل داد و تحسین نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی آمد سے ہی سونے کا چمچہ منہ میں لے کر آئے بلکہ باعث فخر اور قابل تقلید معاشرے کے وہ افراد ہیں جنہوں نے غربت کی چکی میں ذندگی کے ابتدائی ایام کو جھیلا لیکن اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنی تقدیر بدل ڈالی۔
    یہ افراد دراصل معاشرے کے وہ گوہر ہیں جو اپنے جیسے ہزاروں دیگر انسانوں کے لئیے حوصلہ افزائی اور ہمت بندھائی کا باعث ہیں ۔ انہی کے نقش قدم پہ انہوں نے چلنا ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کے نظام کو بدل کر نئے دور کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔
    برے دنوں کو اچھے دنوں میں بدلنے کی جدوجہد بہت محنت طلب اور پر مشقت تو ضرور ہوتی ہے لیکن جب کامیابی و کامرانی کی صورت میں اپنا رنگ دکھاتی ہے تو سالوں کی تھکان چند لمحوں میں اتر جاتی ہے۔

    اپنی ناکامیوں پر تقدیر کی ستم ظریفی اور بدقسمتی کو کوسنے والوں کے خون میں حرارت میں نہیں ہوتی جو ان کو منزلوں کی طرف رہنمائی کرے بلکہ یہ افراد ستاروں کی چال اور طوطے کی فال کے دلدادہ ہوتے ہیں۔
    حالات کی سنگینی اور وقت کی ضرورت کو بھانپ کر اور اپنی راستے میں آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لے کر صحیح فیصلہ لینا اور منزل مقصود طے کرنا اچھے دنوں کی طرف بڑھتا ہوا پہلا قدم ہوتا ہے۔
    ہر دن خود احتسابی اور اپنی خطاؤں پر ندامت محسوس کر کے اگلے دن نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنی منزل کو پانے کے لئیے جدوجہد کرنا ہی منزل پر پہنچا سکتا ہے۔
    جب یہ عزم کر لیا جائے کے برے دنوں کو اچھے دنوں سے بدلنا ہے تو رات کو سونے سے پہلے خود احتسابی یعنی اپنے ضمیر سے اس چیز کا سوال کرنا کہ اپنے مقصد کے حصول کے لئیے آج میں نے کیا کیا ؟ اس طرح سونے سے پہلے اگلے دن کے لئیے لائحہ عمل طے کر کے نئے حوصلے کے ساتھ محنت اور لگن سے جدودجہد کرنا حصول مقصد میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
    اپنے اردگرد موجود تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اور اپنی تمام تر ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو شامل حال کر کے دلجمی سے کام لینا چاہئیے۔
    نیلسن منڈیلا کی ستائیس سالہ جدوجہد ہو یا قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک جدو جہد کی داستان ہو وہ انہی اصولوں پہ استوار ہے۔
    حصول منزل کے لئیے خلوص دل سے کی گئی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں گئیں۔ بلکہ جب یہ کوششیں اپنے ثمرات دکھاتی ہیں تو چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔
    ایسے انسانوں کی لازوال جدوجہد قوموں کے وقار اور سر بلندی کا باعث بنتی ہیں اور ان کا نام تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔
    بجائے اپنی قسمت کو کوسنے اور حالات کو ناکامی کا ذمہ داری ٹھہرانے کے کوشش اور محنت کرنی چاہئیے ۔ یہ کوششیں ایک دن ضرور کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں لیکن اگر حالات نہ بھی بدلے , کوششیں رائیگاں بھی گئیں تو پھر بھی ضمیر پہ بوجھ نہیں ہو گا کہ حالات کو بدلنے کی سعی نہیں کی گئی۔

    آرام طلبی کی عادت نے ہمارے معاشرے کو ناکامی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے ۔ اگر ایک پورا خاندان سالہا سال سے غربت کے تھپیڑے سہہ رہا ہے تو خاندان کے صرف ایک فرد کی مسلسل جد و جہد پورے خاندان کی قسمت پلٹ سکتی ہے اور حتی کہ آنے والے تمام نسلوں کو برے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ایک خاندان کی آرام طلبی , کاہلی اور تغافل کا خمیازہ آنے والی تمام نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لئیے انفرادی طور پہ معاشرے کے ہر فرد پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمر کس کر اپنے دائرے میں برے حالات سے لڑے تاکہ معاشرے میں اجتماعی کامیابی کا حصول ممکن ہو اور برے دنوں کو اچھوں دنوں میں بدلا جا سکے ۔ ورنہ معاشرے میں پیدا ہونے والے تمام افراد اور آنے والی تمام نسلیں ہماری طرح ہمارے جیسے حالات کا سامنا کرتی رہیں گی اور یہ کاہلی اور سستی جب سرطان کی طرح ہمارے معاشرے میں سرایت کر جائے گی تو کوئی بھی فرد اپنے اندر اتنی ہمت پیدا نہیں کر سکے گا کہ وہ برے حالات کا استقامت و استقلال سے مقابلہ کر سکے کیونکہ جتنی دیر ہوتی جائے گی حالات کو بدلنے کے لئیے اس قدر محنت اور مشقت درکار ہو گی۔
    اس طرح نہ صرف معاشرہ معاشی تندگستیوں کا شکار ہو گا بلکہ اخلاقی ذبوں حالی کا شکار ہو کر عالمی وقار بھی کھو بیٹھے گا اور ہم عالمی صف میں ایک باعزت اور پروقار قوم کے طور پہ کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔

    ‎@alihaiderrr5

  • جس کی غیرت نے حضور کے قدموں کو بھی روک دیا, تحریر :خنیس الرحمٰن

    جس کی غیرت نے حضور کے قدموں کو بھی روک دیا, تحریر :خنیس الرحمٰن

    اسلام تیزی کے ساتھ پھیل چکا تھا. میرے نبی ﷺ کو ایک بہادر قوی شخص کی ضرورت تھی. آپ اپنے رب سے دعائیں کیا کرتے کہ یا عمرو بن ہشام دے دے یا عمر ابن خطاب دے دے. اسلام سے خار کھانے والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کایا ایسی پلٹی کہ دار ارقم میں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری سنادی کہ آج آپ کی دعا قبول ہوچکی ہے. عمر آچکا ہے اب ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا. توحید کی آوازیں گونجیں گی.وہی ہوا حالات بدلے عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد حرم جا پہنچے, بیت اللہ میں نماز ادا کی کسی کی جرأت نہ تھی مکہ کے اس جری جوان کا راستہ روک سکے .حضرت صہیب بن سنانؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو اسلام ظاہر ہوگیا ،انہوں نے علانیہ طور پر اسلام کی دعوت دینا شروع کی ۔ہم نے بیت اللہ کا طواف کیااور بیت اللہ میں نماز پڑھی ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں جب سے عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو ہم طاقتور اور مضبوط ہوتے گئے.
    تقویٰ کا معیار ایسا تھا صحابی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ تقویٰ کیا ہے ؟.
    فرماتے ہیں میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔ہر محاز پر غزوے میں رسول اللہﷺ کے دائیں بازو بن کررہے. غزوہ بدر میں قیدیوں سے متعلق مسئلہ بنا تو اللہ رب العزت نے بھی سیدنا عمر بھی خطاب کی رائے کو ترجیح دی. اللہ نے سلطنت عطاء کی, بائیس لاکھ مربع میل کے حاکم بنے.سخت گو عمر نرم گوشہ اختیار کرگئے .جب خلیفہ کا تعین کیا جارہا تھا مخالفتیں بڑھنے لگیں ,کئی اصحاب کہنے لگے کہ ابو بکر آپ ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر کرکے جارہے ہیں ,آپ نے ساتھیوں کو تسلی دی, وقت نے دیکھا وہ عمر جو سخت گو تو ان کی طبیعت میں نرمی آگئی. خلافت کے بوجھ نے انہیں اپنے اللہ سے مزید قریب کردیا. قحط آجاتا تو جو رعایا کھاتی وہی کھاتے ,ایک دن خادم پنیر لے آیا اس سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ جب سب مدینے والے کھائیں گے اس وقت میں کھاؤں گا.
    انصاف میں بھی آپ سے اعلیٰ مثال آج تک کوئی نہ قائم کرسکا.مصر کے حاکم عمرو بن عاص کے بیٹے نے غریب آدمی کو نقصان پہنچایا آپ نے عدالت قائم کی بیٹے کو بھی سزا دی اور حاکم مصر کو بھی سزا سنادی .ماتحت کوئی والی اگر اصراف کرتا تو جاکر پوچھ تاچھ کرتے اور اصلاح کرتے. مال غنیمت سے حاصل ہونے والے مال میں ایک دن ہار لایا گیا اٹھا کر قاصد کو واپس کردیا.
    خدا خوفی اتنی تھی کہ کہتے اگر دریا فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو میں جوابدہ ہوں. ایک دفعہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ ،عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، اُحد کاپہاڑ لرزنے لگا توحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اُحد پر مارتے ہوئے فرمایا: ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اللّٰھم ارزقني شھادۃ في سبیلک وموتا في بلد حبیبک‘‘ ۔۔۔ ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں آئے ۔‘‘
    آخری ایامِ حیات میں آپؓ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں، آپؓ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے، اس وقت ایک درّہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور سونے والے کو اپنے درّہ سے جگاتے تھے، مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔ اس روز بھی آپؓ نے ایساہی کیا، نماز ویسے ہی آپؓ نے شروع کی تھی، صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ (فیروز) جو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا، اس نے آپؓ پر تین زخم کاری اس خنجر سے لگائے . وہ شخصیت جس کی غیرت نے حضور نبی اکرم ﷺ کے قدموں کو اس کے محل میں داخل ہونے سے روک دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے محل میں چلا گیا.

  • ہمارا قومی پرچم  تحریر: فرقان اسلم

    ہمارا قومی پرچم تحریر: فرقان اسلم

    پرچم، عَلَم، جھنڈا صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی قوم کی عزت، عظمت، آزادی اور خودمختاری کی علامت ہوتا ہے۔ پرچم کسی بھی ملک و قوم کا امتیازی نشان ہوتا ہے۔ یہ ہر ملک و قوم کی شناخت ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ہر زندہ قوم اپنے پرچم کا احترام کرتی ہے اور اسے ہمیشہ سر بلند رکھتی ہے ہمارا پرچم انتہائی خوبصورت ہے۔ اور ہم دل و جان سے اپنے پرچم سے محبت کرتے ہیں۔
    پاکستان کا قومی پرچم پاکستانی قوم کا فخر ہے۔ پاکستانی شہری ہر سال یوم آزادی یعنی 14اگست اور اہم قومی دنوں پر قومی پرچم خرید کر بڑے ذوق و شوق سے اپنے گھروں پر لہراتے ہیں۔ اور وطن سے اپنی محبت اور عقیدت کا والہانہ اظہار کرتے ہیں۔ اور محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ مگر کچھ تجارت پیشہ لوگ جن پر ہر چیز کو پُرکشش بنانے کی دھن سوار ہوتی ہے قومی پرچم کو بھی نہیں بخشتے اور اس فعل بد پر انہیں کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہوتی۔ وہ قومی پرچم کو بھی پر کشش بنانے کے لیے سبز رنگ سے ملتے جلتے رنگوں اور اُس پر مختلف قومی یادگاروں کی تصویریں چھاپ کر قومی پرچم کا حلیہ ہی بگاڑ دیتے ہیں۔ جو کہ قانوناً ایک جرم بھی ہے اور انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف ایکشن لینا چاہیئے اور ہمیشہ درست ڈیزائن کا پرچم خریدنا اور لہرانا چاہیئے۔

    پاکستان کے قومی پرچم کا دستوری اور آئینی حلیہ اور سائز مندرجہ ذیل ہے:-
    نام: پرچمِ ستارہ و ہلال
    اختیاریت: 11 اگست، 1947
    تناسب 3:2(چوڑائی سے ڈیڑھ گنا زیادہ لمبائی)
    نمونہ: تیز سبز رنگ زمین پر سفید چاند (ہلالی شکل کا) اور ستارہ (پانچ کونوں والا) اور بائیں جانب ایک عمودی سفید پٹی۔
    کپڑا: باریک اونی دوہرے کپڑے کے دونوں طرف سفید تِلّے سے کڑھائی کیا ہوا چاند ستارہ۔
    نمونہ ساز: امیر الدین قدوائی

    پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیر الدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور پانچ کونوں والے ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے اور پانچ ارکان اسلام کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرف بھی اشارہ ہے۔ پاکستان کے قومی پرچم پر نہ کوئی عبارت لکھی جاسکتی ہے اور نہ کوئی تصویر بنائی جاسکتی ہے۔
    پہلا پرچم ٹیلرماسٹر افضال حسین نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا۔
    قومی پرچم لہرانے کی افتتاحی تقریب میں قائد اعظم ؒ کے ایما پر کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی ؒنے قومی پرچم لہرایا۔
    بحیثیت شہری ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم درست ڈیزائن کا پرچم لہرائیں۔ جشنِ آزادی کے موقع پر لگائے گئے پرچموں کی حفاظت کریں اور جشنِ آزادی گزر جانے کے بعد ان پرچموں کواحتیاط کے ساتھ مناسب جگہ پر رکھنے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ یہ ہمارا قومی پرچم سے محبت کا تقاضا ہے۔
    یاد رکھیں! زندہ قومیں کبھی بھی اپنے قومی پرچم کی بے حرمتی نہیں ہونے دیتیں، چاہے وہ ایک جھنڈی ہو یا چھوٹا سا بیج ہی کیوں نہ ہو۔ قومی پرچم کی قدر ان سے پوچھیں جن کے پیارے اس پرچم کے ساتھ زمین میں سپردخاک ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ہماری بہادر افواج کے جوان قومی پرچم کے ساتھ سپردخاک ہوتے ہیں۔ قومی پرچم شہید کے جسم کی زینت ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیئے کہ اپنے پرچم کی دل و جان سے قدر کریں اور اس کی ہمیشہ سربلندی کے لیے دعا کریں۔ اللّٰہ پاک ہمارے پیارے پرچم کو سدا بلند اور شاد و آباد رکھے۔۔۔آمین یا رب العالمین

    یہ پرچموں میں عظیم پرچم
    عطائے رب کریم پرچم
    عظیم ملّت عظیم پرچم
    عطائے رب کریم پرچم

    ٹویٹر : ‎@Rumi_PK

  • زندگی میں امید اور ناامیدی تحریر:فاروق زمان

    زندگی میں امید اور ناامیدی تحریر:فاروق زمان


    امید بہت قیمتی چیز ہے۔ امید ایک لفظ نہیں، یہ زندگی ہے۔
    ہمیں بحیثیت مسلمان کبھی بھی ناامید اور مایوس نہیں ہونا چاہیے، مایوسی اور ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ ہمارا اللّٰہ ہمیں کبھی بھی چھوڑنے والا نہیں ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے: لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ۔ ترجمہ” اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا”
    لیکن بعض اوقات ہم خود سے، اپنی زندگی سے، ہر چیز سے بہت زیادہ نا امید ہو جاتے ہیں۔ انسانی زندگی خوشیوں اور غموں کا امتزاج ہے، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہماری زندگی میں ہمارے لیے کوئی خوشی نہیں ہے، ہم مایوسی کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہم زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، نہیں کر پاتے، اپنی خواہشوں اور خوابوں کی چاہ کر بھی تکمیل نہیں کر پاتے۔ کچھ بھی ہماری امیدوں، توقعات اور خواہشات، کے مطابق نہیں ہوتا۔ ہماری زندگی سے ہر امید ختم ہو جاتی ہے۔ لگتا ہے سب کچھ ختم ہو گیا ہے، ایسے حالات میں ہم بہت تھک جاتے ہیں۔ ناامیدی کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے، ایسی زندگی جس میں روشنی نہ ہو، بلکہ دن بدن نا امیدی اپنی جڑیں آپ کے اندر گاڑ کر کھوکھلا کرتی رہے۔ ایسا وقت اور زندگی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اور جب زندگی میں کوئی امید نہ ہو تو لوگ زندگی کو ختم کر لیتے ہیں۔

    ناامیدی شکست ہے، شکست قبول کرنے کے مترادف ہے۔ نا امیدی آپ کو اکساتی ہے کہ آپ ناکام ہیں، ہار مان لیں، پسپائی اختیار کر لیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ ناامیدی آپ کی صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے، آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ شخصیت کے تمام روشن پہلو تاریک کر دیتی ہے۔ ناامیدی ہمیں کبھی بھی آگے نہیں بڑھنے دیتی، یہ جیتے جی موت کی علامت ہے، جو زندگی کی ساری توانائیاں ختم کر دیتی ہے اور آپ کو رفتہ رفتہ موت کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ یہ کیفیات بہت برے نتائج لاتی ہیں۔

    اصل میں یہی آپ کی شخصیت اور قابلیت کا امتحان ہے۔ ایسے وقت میں ہی آپ خود کو پہچانتے ہیں، اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اپنے اندر امید کو زندہ رکھنا اور خود کو تھکنے نہ دینا، ہی جوان مردی ہے۔ کبھی بھی مستقل نا امیدی کو اپنی زندگی میں جگہ نہ دیں۔ خود کو مثبت توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے بیدار کریں۔کبھی ناامیدی کے اندھیروں کو خود کو نہ نگلنے دیں۔ اگر آپ ناامیدی کا شکار ہوں گے تو آپ کبھی بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ آپ اپنے خواب اور خواہشوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گے۔ کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے، کسی لغزش کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ناامیدی آپ کی ناکامیوں کو وجہ بنا کر آپ کو پست کرے گی، لیکن امید ہی وہ راہبر ہے، جو آپ کو کامیابیوں کی طرف لے کر جائے گی۔

    اگر آپ اپنی خواہشات اور توقعات کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو امید اور محنت کو اپنا دوست بنانا ہو گا۔ اور ایک عزم کے ساتھ خوابوں کی تکمیل کے لیے تگ و دو کرنی ہو گی۔ امید کی بدولت ہی آپ زندگی میں بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ امید کی کرن کو ہمیشہ اپنے اندر زندہ رکھیں گے، تو یہ ہمیشہ آپ کی زندگی میں اجالے کرتی رہے گی۔ اگر حالات ناسازگار ہیں تو وہ بدل سکتے ہیں۔ امید اور یقین کا چراغ جلاتے رہیں کہ ایک دن نیا سورج طلوع ہو گا، کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید دیتا آفتاب، جو مایوسیوں کے بادل کو اپنی روشن کرنوں سے دور کر دے گا۔ اگر آپ پرامید ریہں گے تو امید آپ کو راستے دکھائے گی۔ راستوں پر بے خطر چلنا سکھائے گی، منزل تک لے جائے گی۔ امید ایمان ہے، آپ کے پاس امید کی طاقت ہو گی تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

    ‎@FarooqZPTI

  • کراچی سندہ کا دارلحکومت !! تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    کراچی سندہ کا دارلحکومت !! تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر


    شہر کراچی سندہ کا دارلخلافہ اور پاکستان کا دل ہے آبادی اور معیشت کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑی آبادی کے ساتھ معاشی حب ہے
    بدقسمتی سے کئ دہائیوں سے اس روشنیوں کے شہر کراچی کو تعصب کی بناء پر تباہ کیا گیا ،خون کی ندیاں بہائ گئیں اس شہر میں کئ قتل ہوئے لیکن قاتل سب نامعلوم رہے اور وہ نامعلوم سب کو معلوم بھی ہوتے تھے اس شہر میں قتل وغارت کا آغاز mqmنامی تنظیم بننے کے بعد سے شروع ہوا ،الطاف حسین نے اس شہر میں نفرتوں کا بیج بویا ،نوجوانوں کو تعلیم کی بجائے کلاشنکوف تھمائ گئ ،شروع دن سے ایم کیو ایم پاکستان مخالف ہی رہی ،الطاف حسین کی سازش تھی پہلے کراچی کو سندہ سے الگ کیا جائے اس کے بعد کراچی کو پاکستان سے بھی جدا کیا جائے گا یہ سازش بھی کئ بار بے نقاب ہوئ ،لیکن اس سازش کے تحت الطاف حسین نے ہمیشہ مہاجرین کے اندر سندھیوں کے خلاف نفرت کا بیج بونا شروع کیا یہ نفرت مزید عروج پر تب پہنچنا شروع ہوئ جب سندھ کی قومپرست جماعتوں نے الطاف حسین کے سندہ توڑنے والی بات پر ردعمل دیا اور پھر کئ عرصے تک سندھی مہاجر فسادات چلتے رہے ،سندھی قومپرستوں کے نزدیک کراچی سندہ کا حصہ ہے اور ہم اپنے سندہ کا ایک انچ بھی کسی کو توڑنے نہیں دیں گے اور یقینن سندہ کے لوگوں کا یہ موقف ٹھیک بھی تھا کیونکہ سندہ کی تاریخ ۵٠٠٠ سالہ پرانی ہے اسی وجہ سے سندہ کے لوگ اپنی زمین،ثقافت اور زبان سے بے انتہا محبت رکھتے ہیں
    لیکن اس لڑائ میں کراچی روشنیوں کی بجائے لاشوں اور خونی شہر بن گیا
    کسی بھی حکومت نے وہ توجہ نہیں دی شہر کراچی جو دینی چاہیے تھی اور تقریبا ٣٠ سال ایم کیو ایم بھی مختلف حکومتوں کا حصہ رہی ،گورنری کے کئ سال مزے لوٹتے رہے لیکن کام انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا اس تعصب اور نفرت کی بنیاد پر mqmکبھی سندھی آبادی کے حلقوں میں اپنی جگی نہیں بناسکی اور باقی سندہ کی جماعتیں مہاجر آبادی کے حلقوں میں
    اور پھر پپلزپارٹی /mqmنے نئے نعروں کا سہارا لیا ،ایم کیو ایم نے کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کا نعرہ لگاکر مہاجر آبادی سے ووٹ لیئے اور پپلزپارٹی نے مرسوں مرسوں سندھ نا ڈیسوں کا نعرہ لگاکر سندھی آبادی سے ووٹ لینا شروع کیا دونوں جماعتیں اس میں کافی حد کامیاب رہی پھر اسیمبلی میں پہنچ کر دونوں جماعتیں ہمیشہ اکٹھی ہوجاتی ان کے نعرے صرف الیکشن کی حد تک رہتے ہیں اور آج بھی یہی سلسلہ جاری ہے ،خیر الطاف حسین کا تو پاکستانی سیاست سے خاتمہ ہوچکا لیکن ساری زندگی اس کے سائے میں پلنے والے آج بھی الطاف حسین کے اسی تعصبی سوچ پر گامزن ہیں
    سندہ کے لوگ پر اس شخص یا جماعت سے شدید نفرت کرتے ہے جو سندہ کو تقسیم کرنے کی بات کرے
    اس وقت سندہ کے شہری علائقوں اور دیہی علائقوں میں لوگ ان دونوں جماعتوں سے تنگ آکر پی ٹی آئ کی طرف جوق در جوق آرہے ہیں کیونکہ پی ٹی آئ ہر قسم کے تعصب سے پاک وفاقی کی علامت ہے ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ptiکراچی کے اندر بھی چند ایسے لوگ موجود ہیں جو پپلزپارٹی کی سندہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پوری سندہ کی تباہی کا ذکر کرنے کی بجائے ایک شہر کراچی تک محدود رہتے ہیں ،ان کے مختلف بیانات جن سے تعصب کی بو آتی ہے مثال کے طور پر کراچی پر حکمرانی کرنے والے دادو اور لاڑکانہ سے آتے ہیں اس لئے کراچی تباہ ہے ،کراچی کو بہتر کوئ کراچی والا ہی کرسکتا ہے ،اب یہ تو ظاہر سی بات ہے کراچی ایک سندہ کا ہی ایک شہر ہے اور سندہ کا حکمران تو کسی بھی سندہ کے علائقے سے ہوسکتا ہے کیا پنجاب پر حکمرانی کرنے والے سب لاہور سے ہیں ؟یا Kpkپر حکمرانی کرنے والے سب پشاور سے ہیں؟تو سندہ پر حکمرانی کرنے والوں کو یہ طعنہ دینا
    کہ شہر کراچی کے حکمرانوں کا تعلق سندہ کے دوسرے اضلاع سے ہے ،یقین کریں پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کا وزیراعلی اگر دادو سے ہے تو آج دادو بھی کوئ پئرس نہیں بن گیا آج سندہ کے تمام علائقوں ،شہروں،دیہاتوں سب کی حالت بہت خراب ہے ،پپلزپارٹی نے بلاتفریق شہر کراچی سے کشمور اور تھرپارکر تک سب جگہ تباہی وبربادی کے سواکچھ نہیں دیا
    اگر کراچی شہر کو ٹھیک کراچی شہر والا ہی کرسکتا ہے تو کیا کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب جس کا تعلق بھی شہر کراچی سے ہے کیا وہ اب کراچی بہتر کردے گا ؟یا سندہ پر ١٣ سال گورنر رہنے والا عشرت العباد اور mqmکے کئ وزیروں کا تعلق شہر کراچی سے رہا کیا انہوں کراچی کو بہتر کردیا؟
    ایسا بلکل نہیں جو جماعت ایماندار ہو کرپشن سے پاک ہو اور جس کی نیت کام کرنے کی ہو تو ان کے وزراء کا تعلق چاہے کسی بھی جگہ سے ہو وہ پورے صوبے میں کام کریں گے اور جس نے نہیں کرنا ہوتا اس وزیراعلی تو کیا لاڑکانہ جس نے تین بار وزیراعظم دیئے وہ لاڑکانہ بھی آج تباہ ہوا پڑا ہے
    اس لئے اگر پی ٹی آئ کو سندہ میں مضبوط کرنا ہے تو سب سے پہلے الطاف حسین والے نظریے کو دماغ سے نکالنا پڑے گا ،تعصب اور نفرت کی بنیاد پر شہر کراچی تک محدود رہنے سے بہتر ہے عمران خان صاحب کے نظریے محبت اور بھائ چارگی کو فروغ دے کر پورے سندہ کے لوگوں کے دل جیتو ،ان کے اندر سے یہ بات نکالو کہ کوئ بھی کراچی کو سندہ سے الگ نہیں کرسکتا ،جب پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کے خلاف بات کریں تو شہر کراچی کے ساتھ لاڑکانہ،دادو،تھرپارکر سمیت پورے سندہ کے ان لوگوں جو کپتان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں کے حقوق کی آواز بھی بلند کریں یقین کریں جس دن آپ سندہ کی عوام کے حقوق کی صحیح معنوں میں سیاسی جنگ لڑی ان کے دل سے پپلزپارٹی کا پھیلایا یہ تاثر کہ PTI سندہ کو تقسیم کرنے کی سازش کرے گی ختم کردیا کراچی تا کشمور اور تھرپارکر سندہ ایک تھا ایک رہے گا کا نعرہ لگایا اس دن سندہ حکومت آپ کی ہوگی سندہ کی عوام آپ کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوگی

  • وطن عزیز اور ہم تحریر راجہ حشام صادق

    وطن عزیز اور ہم تحریر راجہ حشام صادق

    اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے اچھے اور برے حق اور باطل کے درمیان فرق کی پہچان سکھلائی آزادی کے بعد جس طرح بڑے بڑے جاگیرداروں نے اس ملک خداداد پر اپنا تسلط قائم کیا اس ملک کو اپنی جاگیروں میں تقسیم کر دیا۔

    صوبائی اور لسانیت میں قوم کو منتشر کر کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بوئے گئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے دن سے ہی اس کا وجود ختم کرنے کے لئے سازشوں نے جنم لینا شروع کر دیا تھا اقتدار کے لئے عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا۔ کوئی مذہبی تو کوئی سیاسی میدان میں آ گیا قسمت کے مارے غریب ، مظلوم اور لاچار لوگوں نے جسم کو ڈھانپنے کے لئے اور پیٹ بھرنے کے لئے انگریزوں کے بعد ایک اور غلامی قبول کر لی ۔اس وقت کسی کو یہ شعور نہیں تھا کہ وہ ایک بار پھر اپنی نسلوں کو غلام بنانے چلا ہے۔ فکر تھی تو معاش کی اپنا اور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کی۔

    کسی بھی عام آدمی کے نزدیک ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت جہالت اس قدر تھی کہ ملک کو چند افراد کی جاگیر سمجھتے تھے۔ اس ملک کے مسائل کا حل بھی چند افراد کا حق سمجھتے تھے۔ہماری قوم کے پاس وقت ہی کہاں تھا کہ وہ خود اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر اس ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ لوگوں میں اتنا شعور بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھا سکیں۔میرے خیال میں شاید کچھ اس طرح ذہن سازی ہو چکی تھی کہ ہم پیدا ہی غلامی کرنے کے لئے ہوئے ہیں۔

    بس یہی سوچ ہے کہ آج تک چلتی آ رہی ہے اس وقت بھی ہماری قوم نے خود کو اپنے حکمرانوں کا غلام بنائے رکھا اور حکمرانوں نے خود کو دوسرے ممالک کا غلام بنا رکھا ہے۔

    میرے عزیز ہم وطنوں یہی سوچ ایک عام آدمی سے چلتی ہوئی اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچی جو اس قوم کے محافظ تھے۔ اس مٹی اس دھرتی کے آمین تھے وہی بزدل اور غدار ثابت ہوئے۔اور اب بات تیہتر سال بعد اس ملک کو بلیک لسٹ کرنے تک جا پہنچی اس کا عملی مظاہرہ میری قوم نے حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے اندر دیکھا جہاں ایک سو نوے افراد نے اس ملک اپنی جان سے پیاری دھرتی ماں کے خلاف نہ صرف ووٹ دیا بلکہ اس وطن عزیز کے وجود اس کی سلامتی کے دشمنوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ آج بھی اپنی مٹی اپنی دھرتی ماں کے غدار ہیں یہ سب دیکھ کر میرا اپنی قوم کی سوچ ان کی ترجیحات پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

    یاد رکھیں یہ وطن عزیز ہے تو ہم ہیں اس کی سلامتی کے ساتھ ہی ہم سب کا جینا مشروط ہے۔ جس غدار یا بیرونی دشمن نے اس کی طرف میلی آنکھ دیکھا یا اس کی سلامتی پر حملہ کیا ۔تو اس دن اس قوم کا بچہ بچہ اپنی وفاداری ثابت کرے گا۔ جب تک ایک محب وطن زندہ رہے گا وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑتا رہے گا ۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے حصول کے لئے اس دھرتی پر موجود ہر شخص اپنا دفاع سچے دل اور جذبے کے ساتھ کرتا رہے گا ۔

    لیکن ڈر لگتا ہے اگر اس قوم نے اب بھی اپنا احتساب نہ کیا تو اس وقت بھی خواب غفلت میں رہے تو۔ پھر ہم پر وہ جنگ مسلط کی جائے گی جس کے خلاف اپنی جانوں کی قربانی دینی ہو گی ہمارا زندہ رہنا اس وطن عزیز کی سلامتی کے ساتھ ہے وطن عزیز کی سلامتی اور حفاظت کے لئے ہمیں اب ایک قوم بننا ہو گا۔ اپنی سوچوں کو بدلنا ہو گا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا ہو گا۔

    اللہ تعالٰی سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    پاکستان اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت ہے۔ جہاں پاکستان کو معدنیات سے خود کفیل کیا گیا وہاں قدرتی حسن نے پاکستان کی زمین کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں پہاڑوں اور چٹیل چٹانوں میں سبزہ تو کبھی برف سے لدے دکھائی دیتے ہیں وہیں میدانی اور شہری علاقوں کی رونقیں اس کو ہر طرح کے ماحول سے آراستہ کررہی ہیں۔
    کہیں صحراوں کی بیابانی ہے تو کہیں دریاؤں کی سرسراہٹ۔ الغرض پاکستان اپنے حسن کے لحاظ سے خود کفیل ملک ہے۔ پاکستان دفاع کے لحاظ سے بھی بھی صف اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے خواہ وہ ماضی کے ایم ایم عالم ہوں یا حالیہ 27 فروری کے شیر جوان یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کرپشن میں بھی خود کفیل ہے۔ جس نے اس کے ہر سول ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ماضی کے اوراق دیکھیں تو پتا چلتا یے کہ کہیں سفارشوں اور رشوت کے انبار لگے نوکریاں بیچی گئیں۔ تو کہیں اپنے زاتی کاروبار کو سامنے رکھتے ہوے اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل آج بھی اس ظلم کی دل خراش داستان ہے۔
    ماضی کی بادشاہت نے قوم کو غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان بیرونی طور پر مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سول اداروں کی وجہ سے اپاہج بھی ہے۔ میرٹ اور ٹیلنٹ کے قتل عام کے بعد جو قوم اداروں میں بٹھائی گئی اس کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عیاں ہو رہے ہیں۔
    ایک بات تو صاف ہے جو لوگ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ان کی مثال لاجواب ہےلیکن یہاں بات ان کی ہو رہی جنہوں نے رشوت اور اقربا پروری کا بازار گرم کر رکھا ہے.

    جس کے پاس نوکری نہیں وہ نسل در نسل میرٹ کے قتل کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کی رسم مہربانی پر لگے ہوئے ہیں. لیکن جن کے پاس نوکریاں ہیں ان کی نسل در نسل چلتی آ رہی ہے.

    رہی سہی کسر رشوت کے انصاف اور اقربا پروری کی نوکریوں نے نکال رکھی ہے. جس کا آخر کار نقصان ادارے کو ہی ہوتا ہے. نا میرٹ پر بھرت ہوتی ہے نا کام کرنے والے اہل لوگ منتخب ہو پاتے ہیں نا ادارہ ترقی کرتا ہے. آج اگر سٹیل مل جیسے ادارے خسارے میں ہیں تو ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے. مزید یہ کہ سرکاری اداروں میں بیٹھ کر اپنا کاروبار چمکانا اور اپنے کمپنی کو کاروبار دینا معمول بن چکا ہے.
    پی آئی اے اور ریلویز کی ماضی کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے. آج بھی یہ ادارے اہنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں.
    موجودہ حکومت اپنے تئیں ان اداروں کے خسارے کو کم کرنے کی تگو دو میں مصروف ہے کیونکہ جب ادارہ خسارے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سارا بوجھ قومی بجٹ پر پڑتا ہے جس سے عوام کا پیسہ انہیں خساروں کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور سارے باقی ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں.
    اس روش کو ختم کرنا وقت کی اولین ترجیح ہے تاکہ قومی خزانے کو درست سمت دی جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کو ملحوظ خاطر رکھا جا سکے.
    پاکستان کی قیادت کو ان مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. جس سے میرٹ کا قتل نہ ہو. ادارے کا نقصان نہ ہو اور رشوت کی روش کو ختم کیا جاے تاکہ عام عوام کو ان اداروں سے اچھی سروس اور سہولیات مل سکیں اور مستقبل ادارے اپنی ترقی کی جانب ہی گامزن رہیں. جہاں میرٹ کا قتل نا ہوتا ہو رشوت کا بازار گرم نا ہو اور اقربا پروری فروغ نا پاتی ہو اس ادارے کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا. ہمیں بھی بطور انسان اپنے ادارے سے مخلص رہنا چاہیئے کیونکہ ادارے کی بقا ہی ہماری بقا ہے اور ادارے کی تباہی ہماری تباہی ہے.

    @EngrMuddsairH

  • کائنات کا مالک رب العالمین   تحریر  : راجہ ارشد

    کائنات کا مالک رب العالمین تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے ہاں لوگوں کو اس موضوع پر بلکل بھی آگاہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جلے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالٰی ایک ہی ہے اور وہ اپنی صفات میں یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔وہی دینے والا ہے وہی ہے لینے والا ۔اس پوری کائنات کا مالک رب العالمین۔

    لیکن ہمارے معاشرے میں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جسے وہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی ہمارے ہاں کے کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں۔کبھی یہ دیکھتے کو ملتا ہے کہ کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹا، نوکری، کاروبار میں ترقی مانگی جا رہی ہوتی ہے۔

    جو رب ہمارے دعا کرنے سے خوش ہوتا ہے جو ہماری شہرگ سے بھی قریب ہے جو ہماری دعاوں کو سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں۔وہ تو کہتا ہے ایک بار سچے دل سے مانگ کے تو دیکھ تیری چھولی نہ بھر دوں تو کہنا۔

    افسوس ہوتا ہے آج ہم اپنے حقیقی اللہ جو رب العالمین ہےکو چھوڑ کر شرک کی طرف جا رہے ہیں۔

    قارئین ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں اللہ تعالٰی سب گناہ معاف کردیں گے بھلے وہ پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہوں مگر یہ گناہ کبھی معاف نہیں ہو گا۔
    زرہ سوچیئے اور سمجھیں کہ کون سی ایسی دعا ہے جو ہمارا رب نہیں سنتا ؟ وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالٰی عطا نہیں سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں؟

    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہم انسانوں کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔

    آج کل قرآن مجید و احادیث مبارکہ پڑھانے کے بجائے فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ ہی نہ دے۔فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ بچہ قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی بات کو ماننے سے کتراتے ہیں ۔

    اللہ پاک ہم سب کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    اللہ پاک ہم سب کو سیدھا راستہ دکھائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    @RajaArshad56

  • آزادی اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تحریر: سحر عارف

    آزادی اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تحریر: سحر عارف

    آزادی اللّٰہ تعالٰی کی عطاء کردہ تمام نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت ہے۔ ایک انسان کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں موجود ہوں پر اس کے پاس آزادی سے جینے اور کھلی ہوا میں سانس لینے کا حق نا ہو تو اس کا کیا حال ہوتا ہے اس بات سے آج ہم سب باخوبی واقف ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو ہی دیکھ لیں۔ اس کے علاؤہ برما کے مسلمانوں کی بھی مثال لے لیں۔ آج وہ کہاں اور کس حال میں کھڑے ہیں۔

    معصوم کشمیری ہندوستان کے چنگل میں پھنسیے ہوئے ہیں۔ آئے روز ظلم وبربریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ وہاں کی سڑکیں ہر وقت مظلوم کشمیریوں کے خون سے بھیگی ہوتی ہیں۔ پھر دوسری طرف فلسطین کے مسلمان جو اسرائیل کی حیوانیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

    آزادی کا صحیح مطلب بھی انھیں لوگوں کو پتا ہوگا کہ آزاری کسے کہتے ہیں؟ اور اپنا ملک کیسا ہوتا ہے؟ ہم جیسے لوگ تو آج بھی اپنے ملک کی ناقدری کرتے ہیں۔ ہمیں تو سب کچھ پہلے سے ہی پلیٹ میں سجا سجایا ملا ہے۔ قربانیاں تو ہمارے بزرگوں نے دی تھیں اور مشکلات سے دوچار بھی وہی ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم لوگ کس قدر آرام سے اپنے ہی ملک پر تنقید کرجاتے ہیں۔

    کہ اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہاں تو بےشمار برائیاں ہیں۔ پر ہم یہ نہیں سوچتے کہ پاکستان کا اصل دیوالیہ نکالنے والے بھی ہم ہی خود غرض لوگ ہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنے بچوں جذبہ حب الوطنی پیدا کریں۔

    انھیں ہم اپنے بزرگوں کی دی ہوئی اس ملک کے لیے قربانیوں سے روشناس کروائیں۔ انھیں یہ بتائیں کہ آج ہم جو یوں آزادی سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اس سے قبل ہمارے آباؤ اجداد نے ہندوستان میں کیسی دردناک اور ذلت بھری زندگی گزاری تھی۔ پل پل ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی میں کاٹے تھے۔ پھر ہمارے اصلی ہیروز علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے لوگوں نے کس طرح سے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے حق کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کیا تھا۔

    کس قدر محنت کر کے ہمارے لیے الگ وطن پاکستان حاصل کیا۔ ہم آج اپنے بچوں کے سامنے بیٹھ کر اسی ملک میں سے سو سو کیڑے نکالتے ہیں۔ انھیں کہتے ہیں کہ یہاں کی تعلیم اچھی نہیں ہے، یہاں تم لوگوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور پھر انھیں بیرون ممالک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد دل میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقع ہی آزادی کے حقدار تھے؟ کیونکہ ہم اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے اپنے رب کی دی ہوئی آزادی جیسی نعمت پہ ہمیشہ ناشکری ہی کرتے ہیں۔

    اللّٰہ نے ہمیں اتنا خوبصورت ملک دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں۔ ہر وقت اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ اپنے بچوں کو اس پاک دھرتی سے محبت کرنا سیکھائیں اور ہر اس آنکھ کو نوچ ڈالنے کا جذبہ خود میں اور اپنی نسلوں کے اندر پیدا کریں جو ملک پاکستان کی طرف کبھی بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچے۔

    ہم زیادہ نہیں تو کم از کم اپنے ملک کا اتنا سا تو حق ادا کر ہی سکتے ہیں جو ہر وقت ایک ماں کی طرح ہمیں خود میں محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    @SeharSulehri