Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بڑا لیڈر۔بڑی سوچ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    بڑا لیڈر۔بڑی سوچ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن کے مطابق
    عمران خان درست اقدامات کر رہا ہے۔
    اسکے ان اقدامات سے معیشت میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔
    مگر ان اقدامات کے ثمرات آئندہ آنے والی حکومت کو ملیں گے۔
    اعتزاز احسن کا یہ آخری فقرہ عمران خان کے بطور سیاستدان ویژن کا نچوڑ ہے۔
    عمران خان خود بھی یہی کہتا ہے کہ آئندہ نسل کے لئے بہتر پاکستان چھوڑ کے جائیں گے۔
    بڑا لیڈر وہی ہوتا ہے،جو الیکشنوں کا نہیں،آنے والی نسلوں کا سوچتا ہے۔
    خوش قسمتی سے یہ سوچ عمران خان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔
    جس کا اعتراف مخالف سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا ایک بڑا نام
    بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن بھی کر رہا ہے۔
    جس نے بلاول اور اپنی پارٹی کا خوف بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ وہ بات کر دی،
    جو اسے سچ محسوس ہوئ-
    یہی خوبی عمران خان کو عصر حاضر کے دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے۔اسکا شفاف کردار لوگوں کے لئے ایک امید بن چکا ہے۔
    وہ جو کام پاکستان کے لئے ضروری ہیں۔وہ انہیں کر رہا ہے۔
    جو کام انتخابات میں کامیابی کی دلیل اور ضمانت ہوتے ہیں اور ان میں کمیشن بھی کارفرما ہوتا ہے۔
    وہ کام وہ نہیں کر رہا۔کیونکہ کمیشن سے تو اسکا دور دور کا واسطہ نہیں۔اس نے زندگی میں کبھی پیسے سے پیار نہیں کیا،
    اگر اسے پیسے کی ہوس ہوتی تو وہ اپنی پہلی بیوی اور ایک معزز خاتون جمائمہ کو طلاق نہ دیتا۔یہ طلاق دینے کا مطلب ہی اربوں روپے سے دستبرداری تھا۔
    طلاق کے وقت لندن کی عدالت کے جج نے اس سے پوچھا کہ طلاق کے عوض آپ کتنا معاوضہ لیں گے؟
    عمران خان نے کہا کہ میں بڑے بھاری دل اور کچھ مجبوریوں کی وجہ سےایک عمدہ خاتون اور اپنے بچوں کی ماں کو طلاق دے رہا ہوں،مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔
    یہ سن کر جج ،جمائمہ سمیت سبھی حاضرین اشک بار نظر آۓ۔اُسے الیکشن کی بھی پرواہ نہیں۔اسے پتہ ہے کہ اسکی نیت صاف ہے۔وہ اس ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔
    اس ملک کی سمت درست کرنا چاہتا ہے،جسے سابق حکمران تباہ کر کے گئے ہیں۔اسے اگر صرف الیکشن سے غرض ہوتی تو وہ بھی اسحق ڈار اور مفتاح اسماعیل جیسے وزراۓ خزانہ سے کچھ مصنوعی اور ڈنگ ٹپاو اقدامات کر واکے مہنگائ کو بھی نیچے رکھتا۔ڈالر بھی قابو رہتا اور وہ اگلا الیکشن بھی آرام سے جیت جاتا۔
    مگر اسکی قیمت ہماری آئندہ نسلوں کو چکانا پڑتی۔
    جیسا کہ موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں کے گناہوں کا کفارہ ابھی تک ادا کر رہی ہے۔
    بقول اعتزاز احسن کے
    عمران خان کے اچھے اقدامات کے نتائج آئندہ دو سال میں نہیں آئیں گے۔
    ان اقدامات سے اگلی حکومت کو فائدہ ہو گا۔
    ویسے قرائن بتاتے ہیں کہ اگلی حکومت بھی ان شاءاللہ PTIکی نظر آرہی ہے۔
    آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں فتوحات سے PTI بڑا تگڑا کم بیک کر چکی ہے۔
    سیالکوٹ سے ن لیگ کا کئی عشروں کا تسلط ٹوٹا ہے۔
    یہ حلقہ ن لیگ کا گڑھ تھا۔
    اس حلقے سے کامیابی نے ن لیگ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
    پی ڈی ایم کی شکست وریخت اور ن لیگ کے اندرونی اختلافات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئ کا مقابلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ مہنگائ سے ہو گا۔
    اگلے انتخابات سے پہلے حکومت اگر مہنگائ کی کمر توڑنے میں کامیاب ہو گئی تو اپوزیشن کی کمر خود بخود ٹوٹ جاۓ گی۔
    اگر مہنگائ پر قابو نہ پایا جا سکا تو پھر حکومت اپنی کمر ٹوٹنے کے لئے تیار رہے۔
    عوام اب مہنگائ کے معاملے میں کوئ دلیل سننے کو تیار نہیں۔
    کرونا کی وجہ سے مہنگائ کی بین الاقوامی لہر،
    معیشت میں بہتری،
    عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کوئ بڑی سے بڑی دلیل کافی ثابت نہیں ہو رہی۔
    مجھ جیسے صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جب بھی حکومت کے حق میں یا بہتر معاشی اعشاریوں کے بارے میں لکھتے ہیں تو لوگوں کا ایک ہی کمنٹ ہوتا ہے کہ جو آپ نے لکھا !
    وہ ٹھیک ہے،
    مگر اُسے سے پیٹ نہیں بھرتا۔
    اُس سے بلوں کی ادائیگی نہیں ہوتی-
    لہذا حکومت کو جلد عوام کےان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہو گا !
    موجودہ مہنگائ نے لوگوں کی قوت خرید اور قوت برداشت دونوں کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے۔
    اس مہنگائ کا توڑ کرنے کے لئے حکومت کو ایک مکمل منصوبہ بندی سے آگے بڑھنا ہو گا۔
    لوگوں کی مشکلات کا مداوا کرنے کے لئے دن رات ایک کرنا ہو گا۔
    لوگوں کی اکثریت عمران خان کے دیانتدار اور پُر عزم ہونے پر پوری طرح متفق ہے،
    مگر پیٹ تو اس سے بھی نہیں بھرتا#

    تحریر سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔  تحریر: احمد علی عباسی

    جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔ تحریر: احمد علی عباسی

    ایک زمانہ تھا جب چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانا ہندتوا کے غنڈوں کا معمول بن چکا تھا مگر پھر زمانہ بدلا تو انہی غنڈوں نے جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد کا راستہ اختیار کرلیا،مسلمانوں کے خلاف نت نئے نعرے تشکیل دیے گئے اور معاشی طور پر غیر مستحکم بنانے کے منصوبے بھی تیار کیے جانے لگے ۔ انہی نعروں میں سے ایک انتہائی خطرناک نعرہ آر ایس ایس نے ہی تشکیل دیا جس کو گلی گلی پھیلایا جانے لگا اور وہ نعرہ یہ تھا”جب ملے (مسلمان) کا ٹے جائیں گے ۔ ۔ ۔ تو رام رام چلائیں گے” ۔ پہلے پہل تو یہ نعرہ بھارت کے کوچوں اور بازاروں میں استعمال کیا جاتا رہا مگر اتوار کے روز تو یہ اور اس جیسے کئی اور نفرت انگیز نعرے بھارت کے دارلحکومت دہلی میں موجود پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر کی مسافت پر بلند کیے گئے ۔ اس مارچ کا اہتمام ویسے تو بی جے پی دہلی کی جانب سے انگریز دور کے فرسودہ قوانین کے خاتمے کے لیے تھا مگر نجانے کیوں اس میں بھی نشانہ مسلمانوں کو ہی بنایا گیا ۔ نیشنل دستک نامی چینل کے رپورٹر "انمول پریتم” جب جنتر منتر نامی مقام پر ہونے والے اس احتجاج کی کوریج کرنے کے لیے پہنچے تو انتہا پسندوں نے ان کا بھی گھیراو کرلیا اور ان کو "جے شری رام”کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے لگے ۔ انمول نے بی جے پی کے غنڈوں میں گھرِ جانے کے باوجود نعرہ لگانے سے صاف انکار کردیا ، جس پر مشتعل ہجوم نے ان کوزردوکوب کرنا شروع کردیا ۔ پریتم کا کہنا تھا کہ بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی کے باوجود ملک کے دارلحکومت میں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگنا انتہائی فکر انگیز بات ہے، ملک میں پچھلے کئی سال سے ایک ہندو اکثریت والی جماعت کی حکومت ہے اس کے باوجود ہندووں کے اس احتجاج پر میرے کئی سوالات ہیں ۔ پریتم نے پھر کچھ مظاہرین سے ہندوستان میں غربت کے خاتمے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کے بارے میں پوچھا ۔ پریتم نے مزید بتایا کہ، جب انہوں نے ہجوم سے پوچھا کے وزیر اعظم نے خود غریبوں کو کھانا کب دینا ہے؟ تو ہجوم مشتعل ہو گیا اور لوگ اس پر چیخنے لگے اور پوچھنے لگے کہ کیا وہ "جہادی چینل” سے ہے ۔ اس دوران گروپ کا ایک آدمی آیا اور مظاہرین سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ہم اپنے چینل پر ان کی بات نہیں دکھائیں گے ۔ پورے گروپ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہم ایک "جہادی چینل” ہیں ۔
    پریتم نے کہا کہ اس نے اعتراض کیا ، میں نے کہا کہ میں آپ کی بات ٹیلی ویژن پر دکھاوں گا، براہ کرم ہم سے بات کریں ۔ اس کے بعد گروپ نے مجھے گھیر لیا اور مجھ سے "جئے شری رام”اور "وندے ماترم”کے نعرے لگانے کو کہا ۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے ’’وندے ماترم‘‘ اور ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ لگایا لیکن ’’جے شری رام‘‘ کہنے سے انکار کر دیا کیونکہ، ان کی ذاتی رائے میں یہ ایک سیاسی نعرہ ہے ۔ یہاں پر ایک بات قابل ِ زکر ہے کہ اس احتجاج میں ابھی پڑھے لکھے لوگ شامل تھے جو بھارت کے دارلحکومت میں رہتے ہیں ، انہوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف اس قدر نفرت کا اظہار کیا ہے تو اتر پردیش یا بھارت کے کسی اور دور دراز کے علاقے میں مسلمانوں کا کیا حال ہوتا ہوگا،جہاں نا ہی تو میڈیا کوریج دیتا ہے اور نا ہی لوگ ذیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔ یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کے اگر بھارت کے ہندووں نے اس جنونی جماعت کو نا روکا تو جو سلسلہ مسلمانوں کے استحصال سے شروع ہوا تھا وہ ہندووں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ اب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ و ہ مسلمان نا ہونے کی وجہ سے ان دہشتگردوں سے خود کو بچا پائے گا تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ ظلم کا ساتھ دینے والے یا خاموش رہنے والے کی سزا شاید ظالم کے ہاتھوں ہی لکھی ہوتی ہے ۔

  • جنون سے اور عشق سے، ملتی ہے آزادی تحریر: رانا بشارت

    جنون سے اور عشق سے، ملتی ہے آزادی تحریر: رانا بشارت

    آزادی! اللہ سبحان و تعالی کی عطا کردہ ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کی قدر و قیمت کا اندازہ کوئی پنجرے میں قید جاندار ہی لگا سکتا ہے (چاہے وہ انسان ہو یا پھر کوئی رند یا پرند ہو)۔ آج سے کچھ دِن بعد 14 اگست کو ہمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو الحمد للہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پہ وجود میں آئے ہوئے 75 سال ہو جائیں گے۔

    پاکستان جو کہ اتنی آسانی سے حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ اِسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دیں ہیں۔ تو آج میں اپنی اِس تحریر کے زریعے اپنے بزرگوں کی پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے کی گئی جہد مسلسل کی اُن عظیم داستانوں اور کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ سب کچھ بتلانے کی کوشش کروں گا جِن سے گزرتے ہوئے انہوں نے ہمارے لیے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔

    پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد صرف ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا ہی نہیں تھا کہ اُس دور کے عظیم لیڈر جناب قائد اعظم محمد علی جناح رح نے جِسے حاصل کرنا اپنی پوری زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کا مقصد کوئی ایسی جگہ تھی کہ جس کو حاصل کرنے کے لیے مفکّرِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح نے خواب دیکھے اور اپنی شاعری کے زریعے پورے برصغیر کے غلامی و بد حالی میں کی زندگی بسر رہے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا۔

    اور نہ ہی پاکستان کا حاصل کرنا اِس لیے تھا کہ اِسے حاصل کر کے کچھ امیروں اور جاگیرداروں کو اپنی عیش و عشرت اور اپنی من مرضی کی حکمرانی کرنے کے لیے اِسے انہیں بطور سلطنت دے دیا جائے۔ جِس کو حاصل کرنے کے لیے لیاقت علی خان رح اور اُن کی زوجہ بیگم رعنا لیاقت علی خان رح نے انتھک سیاسی جدوجہد کی، چوہدری رحمت علی رح کہ جنہوں نے اس ملک خداداد پاکستان کا نام تخلیق کر کے زمین کے اس ٹکڑے کو بہترین نام دیا، حفیظ جالندری رح کہ جنہوں نے پاکستان کیلئے ہر دل عزیز الفاظ کے موتیوں سے پرویا ہوا قومی ترانہ لکھا جو آج پاکستان میں ہر جگہ سکولوں، کالجوں اور تقاریب میں پڑھا اور گایا جاتا ہے، سید امیر الدین کیدوانی رح کہ جنہوں نے پاکستان کو ایک شاندار اور نظروں و دلوں کو مسخر کر دینے والے ڈیزائن کا قومی پرچم بنایا جو آج پاکستان کے کونےکونے میں اور پوری دنیا میں پاکستان کی شان سمجھتے ہوئے لہرایا جاتا ہے اور اِن کے علاوہ ہر وہ فرد جِس نے پاکستان کے بنانے میں اپنا تھوڑا یا ذیادہ جتنا بھی کردار ادا کیا، ان سب کا صرف ایک ہی مقصد تھا، اور وہ تھا آزادی!

    شروعات میں قائد اعظم محمد علی جناح رح کی قیادت میں جب آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا، تب انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں ڈوبے برصغیر کے مسلمانوں کی اس میں دلچسپی اور ان تحاریک میں شامل ہونے کا رجحان زیادہ نہیں تھا، اور وہ اس لیے بھی تھا کہ کوئی بھی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ انہیں کبھی ایک الگ اور آزاد ریاست مل سکے گی۔

    پھر قائد اعظم محمد علی جناح رح، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح اور ان کے بہت سے ساتھیوں کی لگاتار اور شبانہ روز کی محنت کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں بھی پاکستان کو حاصل کرنے کی لگن اور جذبہ پروان چڑھنا شروع ہوا۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک جنون اور عشق کی صورت حال اختیار کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ پھر پاکستان کے نعرے ہر زبان زد عام ہونے لگے اور ہر کوئی پاکستان کے بارے باتیں کرنے لگ گیا تھا کہ یہ پاکستان کیسا ہوگا؟

    کوئی کہتا کہ پاکستان ایسا ہو گا کہ جہاں ہم سب اپنی مرضی اور آزادی سے رہ سکیں گے، کوئی کہتا تھا کہ پاکستان میں نہ کوئی کسی کا حاکم ہو گا اور نہ کوئی کسی کا محکوم، پاکستان میں بسنے والے سب برابر کے شہری ہوں گے اور بہت سی ایسی باتیں کہ جن کو سن کے برصغیر کے مسلمانان میں سے ہر کوئی چاہے وہ بوڑھا تھا یا جوان، مرد تھا یا عورت اور یہاں تک کہ بچے بھی پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے اتنے پُر جوش ہوتے جا رہے تھے کہ اُن کی اُس وقت کی کیفیات کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کی آزادی کی شمع اتنی روشن ہوتی جا رہی تھی کہ اس کی کرنیں پورے برصغیر میں مسلمانوں کے دلوں کو منور کرتے ہوئے ان کے پاکستان سے عشق اور جنون کو ہر آنے والے دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ گرماتی ہی چلی جا رہی تھیں اور مسلمانوں کے علاوہ بہت سے غیر مسلم بھی اس تحریک کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔ اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح رح سے لوگوں کی محبت اور ان پہ اعتماد کا یہ عالم تھا کہ اگر وہ انگریزی میں بھی تقریر کر رہے ہوتے تھے تو عام سادہ لوح اور انپڑھ مسلمان اُن کی باتیں سمجھ آئے بغیر بھی یہ کہہ رہے ہوتے تھے کہ یہ بندہ جو بھی کہہ رہا ہے ایک ایک حرف سچ ہے۔

    پھر اِسی جنون، عشق اور لازوال محنت نے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح رح کی قیادت میں 14 اگست 1947ء کو وہ منزل حاصل کر لی جس کو پوری دنیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔

    پاکستان حاصل کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور بہت سی محنت و کوششوں کے بعد پھر وہ مشکل ترین اور بے رحم لمحہ بھی آن پہنچا، جسے ہم ہجرت کے نام سے جانتے ہیں۔ چونکہ! تب ہر کسی کو پاکستان پہنچنے کی اتنی جلدی اور خوشی تھی اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ جلد از جلد کسی طرح پاکستان پہنچ جائے، لیکن اپنا سب کچھ وہیں پیچھے چھوڑ کر جانے کا انہیں غم بھی بہت تھا اور تب کسی کو بھی یہ اندازہ تک نہ تھا کہ ہجرت کے دوران اِن پہ کیا کیا ظلم و ستم ہونے والے ہیں۔

    پھر اُسی جنون اور عشق کے ساتھ اپنی اُس خوشی و غمی کے عالم میں پاکستان بنتے ہی اپنے قائد محمد علی جناح رح کی ایک آواز پر پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سب نے اپنے گھر بار، محل و بنگلے، زمینیں، جائیدادیں، مال و دولت و مویشی اور اپنا سب کچھ وہاں چھوڑ کر گروہوں کی شکل میں پاکستان کی طرف چلنا شروع کر دیا۔

    کچھ تو امیر امراء تھے جو جہازوں کے زریعے پاکستان پہنچے، پھر اُس کے بعد کچھ ٹرینوں اور گاڑیوں کے زریعے پاکستان پہنچے۔ لیکن سب سے مشکل اور تکلیف دہ ہجرت اُن کی تھی جنہوں نے پیدل اور بیل گاڑیوں پہ سفر کیا۔ اور سب سے بڑی تعداد اِنہی کی تھی، جو کہ کروڑوں کی تعداد میں بوڑھے اور جوان مرد و عورت اور بچے جنہیں کئی کئی دن، ہفتے اور مہینے پاکستان پہنچنے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑا۔ اِسی تھکا دینے والے پُرمشقت سفر میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے اُن ظالم ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے بے رحمانہ ظلم کا نشانہ بن بن کے شہید ہوئے۔

    چنانچہ! ہجرت شروع کرتے وقت مہاجرین کی جو تعداد تھی اُس میں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق اُس کی آدھی تعداد پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اور پھر جو پہنچے اُن میں سے بھی بہت سے زخمی حالت میں تھے کسی کا بازو، کسی کی ٹانگ، کسی کا ہاتھ اور کسی کا پا‌ؤں کٹا ہوا تھا اور کچھ بھوک و پیاس سے بدحال و بیمار تھے۔ لیکن! اس سب کے باوجود بھی وہ سب اس بات پہ اللہ تعالی کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اب ہم اپنے آزاد وطن پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ میرے پاکستانیوں ہمارے لیے یہ سب ایک کہانی سے بڑھ کے کچھ نہیں ہے کیونکہ جب تک بندہ خود کسی مشکل سے نہیں گزرتا تب تک وہ اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتا اور کیونکہ میرا تعلق ایک ہجرت کر کے آئے ہوئے گھرانے سے ہے تو اپنے بڑوں سے سنی ہوئی بہت سی باتوں کو میں نے بہت قریب سے محسوس کیا ہوا ہے اور میں اُن تکالیف کا اندازہ بھی لگا سکتا ہوں۔ تو پھر آئیں ہم سب اس آنے والی جشن آزادی پہ یہ وعدہ کریں کہ ہم اپنے بزرگوں کے اس پاکستان سے اُسی جنون اور عشق کو آگے لے کر چلتے ہوئے اِس کی ترقی اور قدر و منزلت میں اضافے کے لیے اپنا تن، من دھن سب لگا دیں گے۔ اور کبھی بھی ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کے نام پہ آنچ نہیں آنے دیں گے۔
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name: Rana Basharat Mahmood Twitter Handle: ‎@MainBhiHoonPAK

  • آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل – تحریر : یاسر اقبال خان

    آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل – تحریر : یاسر اقبال خان


    جب 14 اور 15 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت نے برطانیہ سے آزادی حاصل کردی اور دو نئے خود مختار ریاستیں وجود میں آئیں تو برصغیر میں موجود ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں کسی بھی ملک کے ساتھ اپنی خواہش سے شامل ہو جائے۔ تو کشمیر ایک مسلمانوں کا اکثریتی آبادی والا ریاست تھا مگر اس کے مہا راجہ ہندو تھے اس راجہ نے وقت پر فیصلہ نہیں کیا اور 26 اکتوبر 1947ء کو مہا راجہ نے کشمیر کے لوگوں سے رائے لئے بغیر بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دئے جس پر کشمیر کے مسلمانوں نے مہا راجہ کے خلاف بغاوت کردی۔ اس بغاوت کو کچلنے کیلئے بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی وادی میں فوج اتار دی۔ کشمیر میں موجود بھارت سے آزادی کے حامیوں کے ساتھ پاکستان نے بھی اظہار یکجہتی کی اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے نوجوانوں نے کشمیر میں بھارت کی فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ تھی۔

    پاک بھارت جنگ کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ نے 5 فروری 1948 کو ایک قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ اس رائے شماری پر کیا جائے۔ یکم جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور کشمیر میں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا جو 1947ء سے لے کر آج تک وہ رائے شماری نہیں ہوئی۔ بھارت نے 26 جنوری 1950ء کو بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ کیا اور کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت کا درجہ دیا جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو دفاع، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ خود مختار حیثیت دی گئی۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہوا یہ آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے جس کے تحت ریاست کا اپنا آئین تھا اور اسے خصوصی نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی۔

    1954ء کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 ‘اے’ بھارتی آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا تھا۔ آرٹیکل 35 ‘اے’ کے تحت بھارت کی کسی اور ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔

    بھارت نے 5 اگست 2019ء کو ایوان بالا میں کشمیر کے خصوصی اختیارات والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی۔ مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے یہ ترمیمی بل پیش کیا گیا جس پر صدر نے دستخط کرکے منظور کردیا۔ اس ترمیمی بل کے مطابق بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کیا اور ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کا درجہ دے دیا۔ مودی حکومت نے اس یکطرفہ اقدام سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا قانون آرٹیکل 370 اور ریاستی درجہ ختم کر دیا۔

    کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مذمت کی ہے۔ بھارت کے اس فیصلے کی مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی مخالفت کی ہے اور اکثر کشمیر کے سیاسی رہنما بھارتی حکومت سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اپنے اصلی حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر 5 اگست 2021ء کو حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی برپور مذمت کی۔ حریت کانفرنس کے اعلان پر آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر مقبوضہ وادی میں 5 اگست 2021ء سے 15 اگست 2021ء تک عشرہ مزاحمت منایا جا رہا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس مکمل ہونے پر 5 اگست 2021ء کو پاکستان بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیا، اس سلسلے میں آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں بھارت کے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و جبر اور آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئی۔

    Twitter: ‎@RealYasir__khan

  • 14 اگست 1947      تحریر:سید عمیر شیرازی

    14 اگست 1947 تحریر:سید عمیر شیرازی

    آج جس ملک میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں وہ اس قائد اعظم محمد علی جناح،علامہ اقبال،لیاقت علی خان،سر سید احمد خان،چوہدری رحمت علی اور بہت سی ایسی دوسری شخصیات کی بدولت ممکن ہوا،
    اگر قائد اعظم نے اس ملک کو نہ بنایا ہوتا،اگر علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب نہ دیکھا ہوتا تو آج ہم بھی انگریزوں کے غلام ہوتے اور ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے ہیں۔
    قائداعظم نے اگر اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد نہ کی ہوتی،شاعر مشرق علامہ اقبال جو کہ ہمارے قومی شاعر ہیں انہوں نے اپنی شاعری سے ہمیں نہ جگایا ہوتا تو ہم یوں ہی خواب غفلت میں سوئے ہوئے تھے۔۔
    ہمارا وطن پاکستان وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بسنے والوں کو ملا بلکہ پاکستان کی بنیادیں استور کرنے کے لئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے
    اس بات کو ہرگز نہ بھولیں پاکستان ہمیں بہت قربانیوں اور جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل ہوا ہے اس ملک خداداد کی قدر کیجئے ۔
    جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح رح آسمان سیاست ہند کا وہ روشن ستارہ ہے جو برصغیر پر 73سال طلوع رہا جس کی روشن کرنیں آج بھی پاکستان کی صورت میں اس عالم کو منور کر رہی ہیں،
    محمد علی جو بعد میں جناح کہلائے اور پھر اسلامیان ہند کے کروڑوں مسلمانوں کے قائد اعظم بنے ان میں سیاسی رجحان تو لندن میں زمانہ طالب علمی کے دوران ہی پیدا ہو گیا تھا مگر ہندوستان آکر ایسی اقتصادی اور مالی دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا کہ سیاست کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن جب حالات ذرا سازگار ہوئے، اور مالی دشواریوں کا بوجھ کم ہوا اور نسبتا سکون و آرام میسر آیا تو آپ کا جذبہ پھر ابھرا اور رفتہ رفتہ محمد علی جناح نے سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا یہاں مجھے قائد اعظم محمد علی جناح ایک شعر یاد آتا ہے۔

    "اب اندھیروں کا تسلط ہے یہاں
    روشنی بن کر گزرنا چاہئے”

    قیام پاکستان کی تاریخ کا ایک مختصر سا تعارف ہے یہ اگر ہم اس کی گہرائی میں جائیں تو ہمیں علم ہوگا کیسی کیسی قربانیاں اور جتن کے بعد یہ مادر وطن اپنے وجود میں آیا آج ہمیں ہر طرح کی آزادی میسر ہے اپنی مرضی سے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں کہی بھی جا سکتے ہیں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ان سب کے پیچھے ہمارے بزرگوں کی لازوال قربانیاں ہیں جس کی یاد میں ہم 14 اگست کا دن یوم آزادی کے طور پر مناتے ہیں..
    آج کل کی نئی نسل کو تو اپنی تاریخ تک نہیں پتہ ہم نے اپنے بچوں کو اتنا تعلیم یافتہ بنا دیا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک کی تاریخ نہیں معلوم،
    کیمرج و آکسفورڈ اور دیگر بڑے تعلیمی اداروں میں ہمارے بچے پڑھ تو لیتے ہیں پر انہیں اپنے وطن کے بارے میں اتنا تک نہیں بتایا جاتا کے کس کٹن اور قربانیوں کے بعد یہ وطن ہمارے آباء و اجداد نے حاصل کیا وہاں گورے ہمارے بچوں کے برین واش کرتے ہیں جب کے ہمارے بزرگوں نے انہی گوروں کی غلامی سے نکال کر آزادی دلوائی۔۔
    آج ہم رب پاک کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے کہ اللّه پاک نے ہمیں آزاد ملک میں پیدا کیا دنیا میں دوسرے بہت سے ایسے ممالک بھی وجود رکھتے ہیں جن کو اپنی سانسیں لینے کیلئے بھی اجازت لینی پڑتی ہے اللّه پاک نے ہمیں موجودہ دور کی نسل کو پکایا پاکستان دیا ہے اسکی قدر کریں اور سب سے بڑھ کر اپنے وطن کی آزادی کی تحریک کو پڑھیں
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے الگ وطن کے حصول کیلئے اپنے بچوں کو یتیم کیا کتنی عورتیں بیوہ ہو گئی کتنوں کے شوہر اس وطن عزیز کے لئے قربان ہوئے تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
    آج ہم 14 اگست تو مناتے ہی ہیں ہر سال لیکن ہر 14 اگست کے دن یہ عہد بھی کرتے ہیں ہم اپنے پاک وطن کے لئے ہر لمحہ ہر وقت اس کی ناموس کی حفاظت کے لئے کھڑے ہیں اللّه پاک اس ملک خداداد کی تا قیامت حفاظت فرمائے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    سید عمیر شیرازی
    ‎@SyedUmair95

  • والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    اولاد ایک امانت
    والدین کی غفلت
    سنگین خیانت
    غلط صحبت
    سخت جہالت
    بچوں کی تربیت
    نسلوں کی عافیت

    پاکستانی معاشرے میں تعلیم و تربیت، تہذیب و شائستگی، تمیز وآداب جیسے الفاظ و اصطلاحات متروک ہوتے جا رہے ہیں۔رات دن زمانہ خراب ہے کی گردان کرنے والے بھول گئے کہ زمانہ نہیں انسان میں خرابی آ چکی ہے۔ جب آپ اپنی اولاد کو وراثت میں جھوٹ، کینہ، بغض، حسد اور لالچ جیسی دولت دیں گے تو وہ درندے بنیں گے انسان نہیں۔ وہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات قرار پایا تھا اسے مال حرام اور سیاہ کاریوں نے اسفل السافلین کے درجے پر لا پٹخا۔ لیکن صد افسوس کوئی ملال نہیں کوئی رنج نہیں۔ ہم نفس کے غلام بنے، بنا سوچے سمجھےشیطانیت کی راہ پر بگٹٹ بھاگے جارہے۔ زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لیں تاکہ اولاد کو کوئی تنگی نہ اٹھانی پڑے۔
    کونسی اولاد؟ وہ جو والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ہاؤس میں جمع کرادیتی کہ والدین کی کھانسی کی آواز ان کے آرام میں مخلل ہوتی۔ یا وہ اولاد جس کی حرام کاریوں کی وجہ سے ماں باپ بڑھاپے میں جیل کی چکی پیستے اور بھری عدالتوں میں رسوا ہوتے۔ یا وہ اولاد جو خود تو حرام موت مر جاتی لیکن ماں باپ کو کلنک کا داغ لگا جاتی اور تا عمر بوڑھے والدین اولاد کی بے راہروی پر دنیا کے طعنے سنتے۔ ایسے میں برسوں میں کمائی گئی عزت و مرتبہ خاک میں مل جاتا اور رہی بات مال و دولت کی تو جب اولاد ہی نہ رہی تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟
    حرام کا لقمہ اولاد کو کہلاتا انسان بھول جاتا کہ یہ وہ آگ ہے جو نہ صرف دنیا میں جلا کر خاکستر کر دیتی بلکہ آخرت کا وبال بھی ہے۔ سونے چاندی کا نوالہ نہیں تھوہر کے کانٹے ہیں جو اولاد کے حلق میں پیوست ہورہے۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں۔ جیسے پیشاب کا ایک قطرہ سارا پانی نجس کر دیتا ویسے ہی جان بوجھ کر کھایا گیا ایک نوالہ حرام انسان کا جسم وروح پلید کردیتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے؛
    "بیشک انسان خسارے میں ہے”

    دنیا میں قابلیت کے جھنڈے گاڑتا، جاہ و حشمت کی بناء پر ناقابل تسخیر بنا انسان بھول جاتا کہ اس کا خمیر کھنکھناتی مٹی سے اٹھا ہے۔ اس کی اوقات ایک گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں۔ جس جسم کی خوبصورتی پر اکڑتا، سانس بند ہو جائے تو وہی جسم ناقابل فراموش بدبو دینے لگتا ہے۔ جس اولاد کیلئے تمام عمر مال اکٹھا کیا اسی اولاد کو قبر میں اتارنے کی جلدی ہوتی تاکہ بٹوارہ جلد از جلد ہوسکے۔ برسوں گزر جاتے نہ کوئی قبر پر پھول ڈالتا نہ فاتحہ پڑھتا۔ اب تو اللّٰہ کے فضل سے قلوں کی جگہ موم بتی رتجگے نے لے لی ہے پہلے مولوی کو پیسے دے کر دنیا دکھاوے کو ہی سہی قرآن خوانی تو ہو جاتی تھی اب بھلا ہو جدیدیت و لبرل ازم کا اس سے بھی گئے۔ اور ہمارے معاشرے میں اگر نقالی کی رسم نہ پوری کی جائے تو معاشرہ طعنے دے دے کر مار دیتا سو یہ رسم بد خیر سے اب امراء و زعماء کی بدولت حکومتی سطح پر منتقل ہوچکی ہے۔ فنکارسے لیکر ادیب تک، سیاستدان سے لیکر طبیب تک کوئی فوت ہوجائے تو کینڈل لائٹ ویجل از حد ضروری ہے۔

    جنریشن گیپ ختم کرنے کے چکرمیں تعلیم یافتہ والدین نے اولاد کے دل سے ادب واحترام، ڈر و خوف ہی ختم کر دیااور پھر یہ گلہ کہ آج کل کی اولاد زبان دراز و بدتمیز ہے۔ ارے بھائی اولاد کو سر پر تو آپ نے خود چڑھایاہے۔ ہر جائز ناجائز فرمائش پوری کر کے، منہ سے بات نکلنے سے پہلے مطلوبہ چیز مہیا کر کے، دین و مذہب سے دور کر کے، تو اب گلہ کیسا اور کس سے بھلا؟ دنیاداری سکھانے کے چکر میں دین کو پس پشت ڈال دیا۔ سکول کیلئے اٹھنا لازمی لیکن فجر کیلئے ابھی بچہ ہے کہہ کر غفلت برتنا۔ قبر میں پہلا سوال نماز کا ہونا اکنامکس کا نہیں۔ نرسری میں لہک لہک کر پوئم پڑھنا تو آ جاتی لیکن سورہ اخلاص وزیر بن کر بھی صحیح نہیں آتی۔
    بچے کا دماغ تو کورا کاغذ ہوتا اس کو جو سکھاؤ نقش ہو جاتا۔ لیکن اگر سکھانے والے خود میں مگن ہوں تو بچے کا بہک جانا لازم ہے۔ اپنے سماجی روابط استوار کرتے والدین جب اولاد سے بے اعتنائی برتیں تو کبھی کوئی خانساماں تو کبھی ڈرائیور یا کوئی دور و نزدیک کا رشتہ دار بچوں کو ورغلا کر بچپن تباہ کر دیتا اور بچے کبھی خوف سے تو کبھی لاعلمی کےسبب کسی کو بتا نہیں پاتے بس تاعمر خود ساختہ احساس ندامت کا شکار رہتے۔

    اپنی خرابیوں کو پسِ پشت ڈال کر۔
    ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

    ہم اپنے معاشرے کی کیا بات کرتے فرانس جیسے ماڈرن ملک میں جب "می ٹو” کی مہم چلی تو بیشمار لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آپ بیتی شیئر کی کہ کیسے ان کو بچپن میں انکے قریبی لوگوں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جس کا سب سے زیادہ قصوروار انہوں نے اپنے والدین کی غفلت کو ٹھہرایا۔

    آج جب ہم نوجوان نسل کی بے راہروی پر سیخ پا ہوتے ہیں تو اس کے محرکات کو نظر انداز کرنا جہالت ہے۔ جدیدیت کے چکر میں والدین آپنی اولادوں کو ہائی فائی سکولوں میں داخل کرا دیتے جہاں کی فیس تو لاکھوں میں لیکن تربیت ٹکوں میں بھی نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تمام بڑے اسکولوں میں منشیات فروشی اپنے عروج پر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کبھی ویلنٹائن ڈے تو کبھی میوزیکل نائٹ کے نام پر نوعمر لڑکے لڑکیوں کو نچایا جارہا۔ کبھی تعلیمی دوروں پر لے جاکر مکمل جنسی آزادی دے دی جاتی تو کبھی عشق میں ناکامی پر خودکشی تک کی نوبت آ جاتی۔ اور والدین کو اس وقت ہوش آتا جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا۔
    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور باپ کی شخصیت بچے کا پہلا آئیڈیل ہوتی۔ لیکن جب والدین ہی بے توجہی برتیں تو بچے کی شخصیت کا مسخ ہونا خارج از امکان نہیں۔ بلاشبہ قوموں کی ترقی کا دارومدار نوجوان نسل پر ہوتالیکن اگر بزرگوں کی تربیت میں ہی نقص ہو تو کیسی تربیت اور کیسی ترقی۔ خالی دینی یا انگریزی تعلیم کے رٹوں کا کیا فائدہ جب تربیت صفر ہو۔

    تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
    تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

    ہر طبقے کے نوجوانوں میں جرائم کی بڑھتی شرح تشویشناک ہے۔ نشہ، چوری، ریپ، گھر سے بھاگنا اور خودکشی جیسے خطرناک جرائم ہمارے بچوں کو تباہ کررہےاور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کر کے ہی ہم اپنے بچوں کو مضبوط بنیاد، بہترین تربیت، اچھا اخلاق اور اعلیٰ پائے کی دینی و دنیاوی تعلیم فراہم کرسکتے اور یہ ایک واحد راہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی نسلوں کو سنوار سکتے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ میں ڈھال سکتے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے
    "کوئی باپ اپنی اولاد کو حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں دے سکتا”

    @once_says

  • ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر:  زہراء مرزا

    ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر: زہراء مرزا

    ماہ آزادی کے آتے ہیں وطن عزیز کے طول و عرض میں فضا عجب رنگ اوڑھ لیتی ہے. گھروں کی چھتوں اور بازاروں میں جھنڈے. ہر ہر نکڑ پر ملی نغموں کی گونج اور ہر ہر زباں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے. بلاشبہ آزادی ایک نعمت ہے. اور نعمت کا چشن منانا حکم خدا ہے. ماہ اگست کے آتے ہی ٹی وی، ریڈیو، اخبارات میں وطن عزیر کا نام روشن کرنے والوں کی خدمات کو سراہا جاتا ہے. کہیں ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر پہرہ دینے والے جری جوانوں کے حوالے سے بات چیت ہوتی ہے تو کہیں علم و ادب میں اپنا لوہا منوانے والے پاکستان کے درخشندہ ستاروں کا تذکرہ ہوتا ہے. کہیں کھیل کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کے نام سے شامیں سجائی جاتی ہیں. کہیں سیمینار اور کہیں مشاعرے.

    ان سب کے پیچ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مسلسل نظرانداز ہوتا آیا ہے. وہ طبقہ مصوروں کا ہے. پاکستان کے مصور اپنے فن پاروں کی بنیاد پر پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں، پاکستان میں ایسا ایسا سکیچر موجود ہے جو اپنے فن میں یکتا ہے، اردو عربی کیلی گرافی میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں. ایسا بھی نہیں کہ ان آرٹسٹوں نے پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا. یہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں کہ یوم آزادی کی تقریبات کے سیٹ کا تھیم بنا دیتے ہیں. ان کی بنائی گئی پینٹنگز پاکستان میں جگہ جگہ استعمال ہوتی ہیں.
    ان کے ہاتھ سے لکھا گیا دل دل پاکستان سب کی دیواروں پر سجتا ہے. ان کے ہاتھوں سے پاکستان کے قدرتی مناظر کی پینٹنگز دنیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے. یہ لوگ وطن عزیر کے زرخیز ترین دماغ ہیں. مگر افسوس کہ ان کی تخلیق کردہ سیٹ پر دیگر شعبہ جات سے آنے والے لوگ کسی آرٹسٹ کے لیے دن تعریفی بول نہیں بولتے.

    پاکستان میں جب شہروں کو خوبصورت بنانے کی بات چلی تو ان مصوروں نے اپنے فن کے رنگ شہروں کی دیواروں پر ایسے بکھیرے کے دیکھنے والے عش عش کر اٹھے. میٹرو سٹیز کی وہ دیواریں جہاں عجیب و غریب قسم کے اشتہار چسپاں ہوتے تھے انہیں دیدہ زیب بنایا. اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت کو نمایا کرنے والوں میں سب سے بڑا حصہ مصوروں کا ہے. لوگ ان کے خیال سے پاکستان کو جانتے ہیں. ہم آزادی کی خوشیاں منائیں، جی بھر کر منائیں، جہاں پاکستان کے باقی تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی خدمات کو سراہتے ہیں ان آرٹسٹوں کو بھی سراہا جائے. خوبصورت سیٹ، عمدہ تصویر، بہترین تحریر اور لاجواب تخیل کو جہاں داد دیں وہیں. ایسے سیٹ، تصویر،. تحریر اور تخیل کے موجد کو یاد رکھیں. کیونکہ پاکستان کے لیے ان کی بہت سی خدمات ہیں. ان کا بہت سا حصہ ہے.

    @zaramiirza

  • سبز موتیا . تحریر : سید منعم فاروق

    سبز موتیا . تحریر : سید منعم فاروق

    عام طور پہ آنکھ کے دو طرح کے امراض ایسے ہوتے ہیں جو ہرخاص و عام میں کافی مقبول ہیں، ان میں ایک سفید موتیا جبکہ دوسرا کالاموتیا کہلاتا ہے، ان بیماریوں میں آنکھ کے آگے ایک جالا سا بن جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو دھندلا دکھائی دیتا ہے، ان امراض میں سائنسی ترقی کی وجہ سے کافی حد علاج ممکن ہے اور لوگ معمولی سےآپریشن سے بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں ، راقم نے تحقیق کی بنیاد پر ایک نئے موتیئے کی تشخیص کی ہے جس کو "سبز موتیا” کا نام دیا ہے، اس بیماری میں سبز رنگ مملکت پاکستان جبکہ موتیا ایسے جالے کو ظاہر کرتا ہے جو پاکستان میں ہونے والی ہر مثبت چیز کو دیکھ کر کچھ لوگوں کی آنکھ میں آ جاتا ہے اور انکو تکلیف ہونے کے ساتھ ساتھ انکی بینائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بیماری ان لوگوں پہ ذیادہ جلدی حملہ آور ہوتی ہے جن کی نظریہ پاکستان سےلے کر پاکستان کے معماروں کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کے بارے معلومات بھی ناکافی ہوتی ہیں۔ لیکن ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تمام معلومات رکھتے، سمجھتے، بوجھتے ہوئے بھی سبز موتیا کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انکی آنکھوں پر کچھ نوٹوں کی پٹی باندھ دی جاتی ہے، اس کالم میں ہم سبز موتیا کے شکار مریضوں کی اقسام اور انکے علاج کے بارے میں بتائیں گے۔

    سب سے پہلے بات کی جائےکہ سبز موتیا کے شکار کون کون سے لوگ ہیں تو ان میںسب سے پہلا نام لنڈے کے دانشوڑ، دیسی لبرل، کچھ صحافی،اورکچھ سیاستدان بھی آتے ہیں، بیوروکریسی اور حکومتوں کے ساتھ جڑے ہوئے کچھ لوگ بھی اس مرض کا شکار نظر آتے ہیں، سبز موتیا کے مریضوں کوپہچاننے کا سب سے اہم طریقہ یہی ہوتا ہے کہ ان کے سامنے پاکستان کے بارے میں مثبت بات کی جائے، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی بات کی جائے یا پاکستان کے اداروں کی تعریف کی جائے تو ان کے پیٹ میں اسی وقت مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں ، ان کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں ۔ آج کل کے دور کی مثال لے لیں، اگر آپ کو ان مریضوں میں سے کسی کی پہچان نہیں ہو رہی تو اس کے سامنے پاکستانی افواج یا قومی سلامتی کے اداروں، چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری، بھارت اور دیگر ممالک کی پاکستان کے خلاف سازشیں یا پاکستان کو لوٹنے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر کے دیکھیں، فورا جس شخص کے تاثرات، جذبات، حرکات و سکنات اور علمیات بدلتا دیکھیں تو فورا سمجھ جائیں کہ یہ شخص بھی حالیہ وباءسبز موتیا کا شکار ہے۔

    قارئین ہم نے مرض کی بھی بات کر لیاور مریض کی تشخیص کی بھی بات کر لی، اب اگر بات کی جائے ایسے مریضوں کے علاج کی تو اس کے لیئے کیا کیا جائے؟ تو سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ اس مرض کا ایک ہی حل ہے وہ ہے سچ، اور اس مرض سے بچنے کا ایک ہی پرہیز ہے اور وہ ہے جھوٹ اور جھوٹے پراپیگنڈے سے بچنا۔ اگر آپ کو اپنی قوم ، اداروں، اور بین الاقوامی سازشوں کے بارے میں سچائی کا علم ہے اورآپ دشمن کے اور اسکے آلہ کاروں کے جھوٹے پراپیگنڈے کا شکار نہیں ہو رہے تو مبارک ہو، آپ کو یہ مرض نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان قدرتی عوامل کے علاوہ ایک اور بہت بڑی عادت ہے جو آپ کو اس مرض کا شکار کر سکتی ہے اور وہ ہے پیسہ کی بھوک، لالچ اور ہوس اگر کسی انسان کو ان معاشرتی بیماریوں میں سے کسی ایک کی بھی لت لگ چکی ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ بھی سبز موتیے کا شکار ہو جائے ۔ اور راقم جب یہ الفاظ تحریر کر رہا ہے تو اسکے ذہن میں اور وہ یہ امید کرتا ہے کہ پڑھنے والوں کے اذہان میں بھی وہ تمام چہرے گردش کر رہے ہونگے جو سبز موتیئے کا شکار ہیں، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سچے پاکستانی کو اس مرض کے قریب بھی نہ جانے کی توفیق عطا فرمائیں اور اس مرض کے شکار مریضوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائیں تاکہ پاکستان دشمن کی سازشوں سے پاک ہو کر ایک پھلتا پھولتا، ترقی کرتا اسلامی مملکت بن جائے ۔

    لکھاری: سید منعم فاروق
    شہر : اسلام آباد
    تعارف: سید منعم فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف اداروں کے ساتھ فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا، کرنٹ افیئرز اور کھیلوں کے موضوعات پر ذیادہ لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ کے لیئے انکا ٹویٹر اکاونٹ: https://twitter.com/Syedmunimpk

    Introduction: Syed Munim Farooq is Islamabad based freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums since 2012. His major areas of interest are Current Affairs, Digital Marketing, Web media and Journalistic affairs. He can be reached at Twitter: https://twitter.com/Syedmunimpk

  • کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    جب سے کرونا کی وبا آئی ہے تب سے تعلیم پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑا ہے دنیا بھر میں سکول،یونیورسٹیاں اور دیگر تمام ادارے بند کر دئیے گئے، امتحانات منسوخ کر دئیے گئے اور کئی ممالک میں وبا کے پہلے سال طلباء کو اگلی کلاس میں بھیج دیا گیا پھر جب یہ دیکھا گیا کے یہ وبا اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہے تو دنیا نے اس کے ساتھ جینے کا فیصلہ کیا اور ایسے طریقے اختیار کئیے گئے کے روز مرہ کے معملات کاروبار،نوکریاں، تعلیم اور دیگر معملات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔

    دنیا ٹیکنالوجی پر منتقل ہوگئی مختلف قسم کے نئے سوفٹ وئرز بنائے گئے جن سے آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا گیا، کاروبار اور دیگر چیزوں کے لئے بھی کئی ایپس مارکیٹ میں آ گئیں اور لوگ ان کا استعمال کرنے لگے جس کی وجہ سے جو خلا بنا تھا کافی حد تک ُپر ہوگیا، دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔

    پاکستان میں بھی یہی کیا گیا اور بچوں کو آن لائن پڑھانے کے ساتھ ان کے پیپر بھی آن لائن لئے گئے جس میں چار چار سٹوڈنٹس نے مل کر خوب نقل کی اور ہر کسی نے اچھے نمبر لئے اور آجکل کے زیادہ تر بچے ویسے ہی محنت کرنے کے عادی نہیں تو انہوں نے کرونا کو غنیمت جانا اور نمبروں پر خوب ہاتھ صاف کئے۔

    لیکن مسئلہ اسوقت ہوتا ہے جب شفقت محمود نے یہ اعلان کیا کے اب کوئی امتحان آن لائن نہیں بلکے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے سب امتحان کمرہ امتحان میں لئے جائیں گے تو ان بچوں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا وہ بچے جو سارا دن بازاروں میں پھرتے تھے،کرکٹ کھیلتے تھے انہیں اب کرونا سے ڈر لگنے لگا۔

    وہ بچے جو سارا دن پب جی کھیل کھیل کر موبائل کے انٹرنیٹ اور بیٹری کا بیڑا غرق کرتے تھے انہوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان میں نیٹ ہی نہیں چلتا ہماری تیاری نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر یہ مسئلہ واقعی تھا لیکن پورے پاکستان کے بچے حکومت اور تعلیمی اداروں کو بلیک میل کرنے لگے،ٹویٹر پر روزانہ کی بنیاد پر ٹرینڈز کئیے جانے لگے اور وہ شفقت محمود جو کبھی ان کی آنکھوں کا تارا تھا وہ اب ولن بنا گیا تھا سب بچے اس کی جان کے پیچھے پڑ گئے تھے یہ وہ بچے تھے جو اپنے آپ کے ساتھ اپنے ماں باپ کو بھی دھوکا دینے میں مصروف تھے جن کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد انہیں خود بھی نہیں معلوم، ان بچوں نے ٹویٹر پر ایک ایک دن میں 4،4 لاکھ ٹویٹس کئیے اور اس میں ہر قسم کی تصاویر،میمز،وڈیوز کا استعمال کیا سوال یہ بنتا ہے کے وہ بچے جو چند میگا بائٹس کے پی ڈی ایف ڈاکومنٹس ڈاؤنلوڈ کرنے میں مشکلات کا شکار تھے جن کی تعلیم انٹرنیٹ نہ ہونے سے بقول ان کے رک گئی تھی اب ان کے پاس اتنا تیز نیٹ کیسے آ گیا تھا ؟

    جواب یہ ہے کے نیت خراب تھی اور سستی دماغ پر سوار تھی پھر ان بچوں نے اپنے آپ کو یہاں نہ روکا بلکے عملی احتجاج بھی شروع کیا کئی جگہ مار پیٹ کی یہ اپوزیشن کو دیکھ کر شاید یہ سمجھ رہے تھے کے ایسا کرنے سے امتحان ملتوی ہو جائیں گے لیکن ان کی کوئی بات ان کے کام نہ آئی افسوس کا مقام یہ ہے کے اپوزیشن اور ملک بھر کے موقع پرست کئی لوگوں نے ان کو استعمال کیا اور بل آخر بات یہی طے ہوئی کے امتحان تو دینے ہونگے۔

    ہماری نوجوان نسل کو بے شک وقتی طور پر بہت تکلیف ہوگی اور ان کا دل بھی نہیں چاہے گا پڑھنے کا لیکن اگر آپ نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو آپ کو ہر معاملے میں اپنے آپ کو وقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ایسے اگر پاس ہو بھی جاتے ہیں تو یاد رکھیں صرف ڈگری کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے یہ وقتی طور پر آپ کو اچھا لگے گا سہل لگے گا لیکن یہ اصل میں آپ کے لئے نقصان ہے۔

    دوسرا شفقت محمود اور حکومت کو اس پر داد ہے کے وہ ان کے پریشر میں نہیں آئے حالانکہ ان سب کو دوبارہ پاس کرکے کے ایک مقبول فیصلہ کر سکتے تھے لیکن حکومتوں کا کام مقبول ہونا نہیں ہوتا بلکے اپنی قوم کی بہتری دیکھنی ہوتی ہے اگر سب کو بغیر امتحان یا نقل والے آن لائن امتحان میں پاس کر دیتے تو ان طالب علموں کے ساتھ زیادتی ہوتی جو محنت پر یقین رکھتے ہیں جنہوں نے تین مہینے ٹویٹر پر ٹرینڈ نہیں کئے بلکے پڑھائی کی۔

    حکومت سے یہ اپیل ہے کے ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کے مسائل واقعی میں موجود ہیں ان کو حل کیا جائے بچوں کو فیسوں میں رعایت دی جائے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو انٹرنیٹ کی مد میں پیسے دئیے جائیں اور ان کی مدد کی جائے لیکن امتحانات پر کوئی سودے بازی نہیں ہونی چاہیے بے شک آدھی کتابوں کے امتحان لیں لیکن یہ تعلیمی نظام کی بقا کے لئے ضروری ہے۔

    انسانی تاریخ کا یہ ایک مشکل وقت ہے دنیا میں پہلے بھی کئی وبائیں گزر چکی ہے لیکن اس نسل نے یہ پہلی وبا دیکھی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنےکے احتیاطی تدابیر کے ہماری نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے نے اس کی موقع غنیمت بنایا، اللہ تعالی جلد اس وبا سے ہماری جان چھڑائے اور ہماری نوجوان نسل کو ہدایت دے آمین

    @Nomysahir

  • بیرون ملک پاکستانی کو ووٹ کا حق   تحریر چوہدری عطا محمد

    بیرون ملک پاکستانی کو ووٹ کا حق تحریر چوہدری عطا محمد

    ‏ ‏اگر آپ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں اور اگر آپ کا تعلق ابھی ن لیگ یا پیپلزپارٹی سے ہے، تو اب سوشیں ضرور ن لیگ اور پیپلز پارٹی جس نے صرف ہمارے پاکستان بھیجے ہوۓ پیسے سے پیار کیا ہے وہ دونوں جماعتیں آج ہمارے بنیادی حق ہمارے ووٹ والے بل کی مخالفت کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں ہمیں ملکی حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں
    محب وطن اوررسیز پاکستانیوں انشاءاللہ وزیر اعظم عمران خان یہ حق دلایں گے اور ہم 2023کے الیکشن میں ان دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے ووٹ کے زریعے بتائیں گے کہہ ہمیں ملکی حالات معشیت اور ملکی سیاست کے بارے میں معلوم ہے یا نہیں

    اوورسیز پاکستانی سیاست کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے اوپر لوکل سیاسی پارٹیوں کے پالے ہوۓ بدمعاشوں اور پولیس اور پٹواریوں کا دباؤ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم قیمہ والے نان اور بریانی کی پلیٹ کا لالچ ہوتا ہے جناب سیاست اگر خدمت اور حبُ الوطنی کا نام ہے تو اورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۰اور اگر منی لانڈرنگ جھوٹ، کرپشن کمیشن مکروفریبی اور مُلک لوٹ کر لندن اور جدہ میں چُھپنے کا نام ہے تو وہ آپکے اوورسیز نواز شریف کو ہی مبارک ہو۰

    اوورسیز پاکستانیوں کے کیا صرف پیسے ہی چائیے جناب آپ کو صرف یہی چائیے کہ ہم پیسہ بھیجتے رہیں اور آپ اس پیسے سے عیاشی کرتے رئیں منی لانڈرنگ کرتے رئیں لطف اندوز ہوتے رئیں
    آپ لو ہم سے اور کچھ نہیں چائیے

    جناب احسن اقبال سمیت ن لیگ اور پیپلز پارٹی سن لیں ہم اوورسیز پاکستانی پاکستان کے تمام مسائل سے مکمل آگاہ ہیں ہمیں پاکستان سے اس لئے بھی محبت زیادہ ہے کیونکہ ہم یہاں پر پردیسی ہیں جہاں ہم ہیں ہمیں وہاں وطنی نہیں خارجی کہتے ہیں اس لئے ہمیں پاکستان سے پاکستان میں رہینے والے کی بنسبت زیادہ پیار ہے جناب ہمارا دل تو پاکستان کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ہم پاکستان کے تمام تہوار زیادہ جوش و جزبہ سے ادھر ہر سال مناتے ہیں
    ہمارا کون سااتنا بڑا قصور ہے کہہ ہمیں ہمارا بنیادی حق ووٹ ڈالنے کا حق بھی نہ ملے کیوں احسن اقبال صاحب کیوں کیا اوورسیز صرف اس لئے ہیں کہہ جب تک جسم میں جان ہے ہم پیسہ کمائیں پاکستان بھیجیں جب جسم سے جان نکل جاۓ تو ہمیں بس پاکستان میں دفن ہونے کی ہی اجازت ہو

    کیا کہوں کیسے یہ سب آپ کر لیتے ہیں دوہرا معیار آپ کو یاد کراؤ آپ کا لیڈر نواز شریف اور اسکے بچے بھی سب اوورسیز ہیں آپ سب کے بچے چھٹیاں منانے پڑھائی کرنے سب بیرون ملک ہی جاتے ہیں

    اسحاق ڈار اوورسیز میں رئیتے ہوۓ ملک کے ایوان بالا میں سینٹر منتخب ہو سکتا ہے
    محترمہ کلثوم نواز صاحبہ لندن میں بیماری کی حالت میں دوران علاج ہسپتال کے بیڈ سے لاہور سے الیکشن جیت کر ایم این اے منتخب ہو سکتی ہیں

    لیکن جو ہم مخنت و مزدوری کر کے حق حلال کی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں ہمیں ووٹ ڈالنے کا بھی حق نہیں یہ ہمارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے یہ ہماری توہین ہے جو ن لیگ اور احسن اقبال نے کی ہے کہہ ہمیں ملکی حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں

    انشاءاللہ ہم اورسیزز پاکستانی یہ بات یاد رکھیں گے بھولیں گے نہیں کہہ کون ہمیں ووٹ کا حق دلانا چائیتا ہے اور کون کون ہمیں ہمارے بنیادی حق سے محروم رکھنا چائیتا ہے
    احسن اقبال صاحب کیا پاکستان پر ہمارا بھی اتنا ہی حق نہیں ہے جتنا پاکستان میں رئینے والے ہمارے بہن بھائیوں کا ہے
    ہمیں مُلکی حالات کا سب پتہ ہے تبھی تو خان کے ساتھ کھڑے ہیں۰

    اللہ تمام بیرون ملک پاکستانیوں سمیت امت مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt