Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شان صحابہ رضی اللہ عنہم – عمران محمدی

    شان صحابہ رضی اللہ عنہم – عمران محمدی

    شان صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    *صحابہ کا ایمان ایسا معیاری ایمان ہے کہ سب لوگوں کو اسی طرح کا ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے*
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
    کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔
    يوسف : 108
    أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
    یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔
    البقرة : 5
    اور فرمایا
    آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
    ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں
    البقرة : 13
    یہاں الناس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں
    ایمان صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا
    فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
    پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
    البقرة : 137
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

    (ترمذی ،أَبْوَابُ الْإِيمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
    مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ،2641)
    ‘میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آچکی ہے، ( یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے )یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگراپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیاہوگا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہوگا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اورمیری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کرباقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون سی جماعت ہوگی؟ آپ نے فرمایا:’ یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے’
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنے کے متعلق ارشاد فرمایا

    فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ, تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ, فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
    (ابو داؤد كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي لُزُومِ السُّنَّةِ4607)

    میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت اپنائے رکھنا ، خلفاء جو اصحاب رشد و ہدایت ہیں ، سنت کو خوب مضبوطی سے تھامنا ، بلکہ ڈاڑھوں سے پکڑے رہنا ، نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا ، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے

    *صحابہ کرام، ایک ایسی کھیتی کی مانند ہیں کہ جسے دیکھ کر کفار غصے سے بھر جاتے ہیں*

    مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
    محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
    الفتح : 29

    ہمارے استاذ گرامی جناب حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ
    سورہ فتح کی اس آیت
    يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ
    کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے،
    کے تحت لکھتے ہیں
    *(ایمان والوں کے دل صحابہ کرام اور ان کے متبعین کے حالات دیکھ کر اور سن کر خوش ہوتے ہیں اور کفار کے دل انھیں دیکھ کر اور ان کے حالات سن کر غصے سے بھر جاتے ہیں اور جل اٹھتے ہیں۔)*

    تفسیر التحریر والتنویر (۲۶؍۱۷۷) میں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا :
    [ مَنْ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ فِيْ قَلْبِهِ غَيْظٌ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَصَابَتْهُ هٰذِهِ الْآيَةُ ]
    ’’لوگوں میں سے جس شخص کے دل میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک پر بھی غصہ اور جلن ہو، یہ آیت اس پر یقینا لاگو ہوتی ہے۔‘‘

    ابنِ عاشور نے فرمایا :
    ’’اللہ تعالیٰ امام مالک پر رحم کرے، ان کا استنباط کس قدر باریک ہے۔‘‘)

    ‏‏‏‏
    *صحابہ کا وجود امت کے بچاؤ کا سبب ہے*

    ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ»
    كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم

    (صحيح مسلم بَاب بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانٌ لِأَصْحَابِهِ وَبَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلْأُمَّةِ 6466 )

    ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)

    *صحابہ کی کسی جنگ میں موجودگی اور اس کی برکت*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ایسی اکسیر تھی کہ جس مومن کو حاصل ہو گئی اس کی طبیعت کا رنگ ہی بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شہادت اور جنت کا ایسا شوق عطا فرمایا، انھیں ایسی شجاعت بخشی اور ان میں ایسی برکت رکھی کہ جب وہ حملہ آور ہوتے تو دشمن چند لمحوں میں بھاگ کھڑا ہوتا، کسی لشکر میں ایک صحابی کی موجودگی اس کی فتح کی ضمانت سمجھی جاتی۔ ان سے ملنے والوں میں بھی یہی برکت تھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَأْتِيْ زَمَانٌ يَغْزُوْ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ ]
    [بخاري، الجھاد والسیر، باب من استعان بالضعفاء والصالحین في الحرب : ۲۸۹۷ ]

    ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا : ’’کیا تم میں کوئی شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : ’’ہاں!‘‘ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا : ’’کیا تم میں کوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ رہا ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : ’’ہاں!‘‘ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا : ’’کیا تم میں کوئی ہے جو اس کے ساتھ رہا ہو جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟‘‘ وہ کہیں گے : ’’ہاں!‘‘ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔‘‘

    *صحابہ تو پھر صحابہ، صحابہ کو دیکھنے والوں کے لیے خوشخبری*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” طوبى لمن رآني وطوبى لمن راى من رآني ولمن راى من راى من رآني وآمن بي”.

    سلسله أحاديث الصحیحۃ 2205
    ”‏‏‏‏جس نے مجھے دیکھا اس کے لیے خوشخبری ہے، جس نے میرے صحابی کو دیکھا اس کے لیے خوشخبری ہے اور جس نے میرے صحابی کو دیکھنے والے (‏‏‏‏یعنی تابعی) کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اس کے لیے بھی خوشخبری ہے۔“

    *صحابہ اور صحابہ کو دیکھنے والے مسلمان لوگوں میں سب سے بہتر ہیں*

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا
    «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
    "لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ(صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین )ہیں،پھر وہ جو ان کے ساتھ(کے دورکے) ہوں گے(تابعین رحمۃ اللہ علیہ )،پھر وہ جوان کے ساتھ(کے دور کے) ہوں گے(تبع تابعین۔)”

    *ایک صحابی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے بیعت کرنے والے صحابہ پر اللہ کا ہاتھ*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ سے اہلِ مکہ کی طرف بات چیت کے لیے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ کا عمرہ ادا کرنے سے نہ روکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے میں دیر ہوئی تو افواہ پھیل گئی کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑنے کا پختہ ارادہ فرما لیا اور صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    [ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَ أَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ ]
    [ مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش… : ۱۸۵۶ ]
    ’’ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور عمر رضی اللہ عنہ درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور وہ کیکر کا درخت تھا۔‘‘

    بایعناہ علی الموت

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا :
    [ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰی هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلٰی يَدِهِ، فَقَالَ هٰذِهِ لِعُثْمَانَ ]
    [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي رضی اللہ عنہ : ۳۶۹۹ ]
    ’’ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔‘‘ پھر اسے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا: ’’یہ عثمان کی بیعت ہے۔‘‘

    اس بیعت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
    بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جس نے عہد توڑا تو در حقیقت وہ اپنی ہی جان پر عہد توڑتا ہے اور جس نے وہ بات پوری کی جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔
    (الفتح، آیت 10)

    اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہ کرام سے راضی ہو گئے جنہوں نے اس بیعت میں حصہ لیا
    فرمایا
    لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
    بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
    (الفتح آیت 18)

    جب ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی کہ وہ ان پر راضی ہو گیا تو کس قدر بد نصیب ہے وہ گروہ جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان سے بغض و عداوت رکھے اور کہے کہ وہ بعد میں نعوذ باللہ مرتد ہو گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو آئندہ کا علم نہیں تھا اور وہ رضا کیسی ہے جس کے باوجود وہ بندے مرتد ہو جائیں جن پر وہ راضی ہے ؟

    عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں :
    ’’حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا :
    [ أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ]
    ’’تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔‘‘
    اور (اس وقت) ہم چودہ سو تھے اور اگر آج مجھے دکھائی دیتا ہوتا تو میں تمھیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔‘‘
    [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ : ۴۱۵۴ ]

    ام مبشر رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے حفصہ رضی اللہ عنھا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
    [ لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا ]
    مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ… : ۲۴۹۶
    ’’ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔‘‘

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا :
    ’’یا رسول اللہ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا۔‘‘
    تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ]
    [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن أبي بلتعۃ… : ۲۴۹۵ ]
    ’’تو نے غلط کہا، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔‘‘

    *عثمان رضی اللہ عنہ کی وفاداری بھی دیکھیئے*

    قریش مکہ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا
    إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَطُفْ بِهِ
    اگر آپ بیت اللہ کا طواف کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں

    تو آپ نے فرمایا
    مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    میں (اکیلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر) کبھی بھی طواف نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کا طواف نہ کرلیں
    مسند احمد 18431 وسندہ صحیح

    *صحابہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں ہم آپ کے دائیں بائیں،آگےاورپیچھےجمع ہوکرلڑیں گے*

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہوجاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضور اس وقت مشرکین پر بددعا کررہے تھے ، انہوں نے عرض کیا

    لَا نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ
    یا رسول اللہ ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو حضرت موسی کی قوم نے کہا تھا کہ جاو ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو ، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے جمع ہوکر لڑیں گے
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ
    میں نے دیکھا کہ (مقداد کی اس بات کی وجہ سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ خوش ہوگئے
    (بخاری كِتَابُ المَغَازِي 3952)

    *اللہ تعالیٰ تمام صحابہ کرام سے راضی ہیں*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
    اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
    التوبة : 100

    آلوسی صاحبِ روح المعانی نے فرمایا :
    ’’بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ « وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ » سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہو سکی

    اور فرمایا
    رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
    اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

    *صحابہ کے عمل کو کوئی نہیں پہنچ سکتا*

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ, خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ
    سنن ابی داؤد كِتَابُ السُّنَّةِ
    بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ 4650
    ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( جہاد میں ) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے ۔

    حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے:
    «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ»
    (سنن ابن ماجة كِتَابُ السُّنَّةِ
    بَابُ فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ ،162 ،حسن)

    محمد ﷺ کے صحابہ کو برا نہ کہو، ایک صحابی کا( نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں) گھڑی بھر ٹھہرنا، تم میں سے کسی کی زندگی بھر کے عملوں سے بہتر ہے۔

    عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی معیت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی ناک میں پڑنے والی گرد و غبار عمر بن عبدالعزیز سے بہتر اور افضل ہے
    ( البدایہ والنہایہ )

    *صحابہ کرام کو گالی دینا منع ہے*

    ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ

    (بخاري ،کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ
    بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا»3673)
    میرے اصحاب کو برا بھلامت کہو ۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر ۔

    *صحابہ کو گالی دینے والوں کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہیں*

    عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    «إن الله تبارك وتعالى اختارني واختار بي أصحابا فجعل لي منهم وزراء وأنصارا وأصهارا، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل»
    هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه
    [التعليق – من تلخيص الذهبي]
    ٦٦٥٦ – صحيح

    اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا اور میرے لیے ساتھیوں کو بھی خود چنا،پھر ان میں سے میرے وزیر،انصار و مددگار اور سسرال و داماد بنائے، لہٰذا جس نے انہیں برا بھلا کہا،اس پر اللہ،فرشتوں،اور ساری کائنات کی لعنت ہو-اللہ کریم اس کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہیں کرے گا-
    المستدرك للحاكم ج3ص632طبع دار المعرفة بيروت
    اس حدیث میں رافضیوں، نیم رافضیوں اور ناصبیوں کے لیے بڑی خوفناک وعید ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےدامادوں عثمان بن عفان اور ابو العاص رضی اللہ عنہا (بنو امیہ)اور علی رضی اللہ عنہ کی گستاخیاں کرتے ہیں،اوران لوگوں کے لیے بھی لعنت وپھٹکار اور تباہی اعمال کی دھمکی ہے جو خاتم الانبیآء علیہ الصلاۃ والسلام کے سسرال والوں (ابوبکر ،عمر،ابو سفیان ،اور معاویہ رضی اللہ عنہم پر طنز و تعریض اور اعتراض بازی کو مذھب و مشغلہ بنائے ہوئے ہیں ،هداهم الله-

    *صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے متعلق ماتھے پر آنے والی شکن بھی اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں*

    عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ مکی، قرشی، مہاجرین اوّلین میں سے ہیں اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے ماموں کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے اکثر غزوات میں مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا کرتے تھے۔

    عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین میں سے ایک بڑا آدمی بیٹھا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ مسائل پوچھنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور توجہ اس دوسرے کی طرف رکھی
    اس پر یہ سورت اتری۔
    عَبَسَ وَتَوَلَّى
    اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
    عبس : 1
    أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى
    اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا۔
    عبس : 2
    وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى
    اور تجھے کیا چیز معلوم کرواتی ہے شاید وہ پاکیزگی حاصل کر لے۔
    عبس : 3
    أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى
    یا نصیحت حاصل کرے تو وہ نصیحت اسے فائدہ دے۔
    عبس : 4
    أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى
    لیکن جو بے پروا ہو گیا۔
    عبس : 5
    فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى
    سو تو اس کے پیچھے پڑتا ہے۔
    عبس : 6
    وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى
    حالانکہ تجھ پر(کوئی ذمہ داری) نہیں کہ وہ پاک نہیں ہوتا۔
    عبس : 7
    وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى
    اور لیکن جو کوشش کرتا ہوا تیرے پاس آیا ۔
    عبس : 8
    وَهُوَ يَخْشَى
    اور وہ ڈر رہا ہے۔
    عبس : 9
    فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى
    تو تو اس سے بے توجہی کرتا ہے۔
    عبس : 10
    كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
    ایسا ہرگز نہیں چاہیے، یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
    عبس : 11
    فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ
    تو جو چاہے اسے قبول کر لے۔
    عبس : 12

    [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ عبس : ۳۳۳۱ ]
    البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ یہ مشرک اُبی بن خلف تھا اور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ سورت اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا اکرام (عزت) کیا کرتے تھے۔
    [ مسند أبي یعلٰی : 431/5، ح : ۳۱۲۳ ]
    اس کی سند صحیح ہے۔

    *اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صحابہ کو اپنے آپ سے دور مت ہٹاؤ*

    سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے کہا، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیں، تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کر سکیں۔ ان لوگوں میں میں تھا، ابن مسعود، ہذیل کا ایک آدمی اور دو اور جن کا میں نام نہیں لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اللہ نے جو چاہا خیال آیا، آپ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی :

    وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
    اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہو جائے۔
    (الأنعام، آیت 52 )
    [ مسلم، الفضائل، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ : ۴۶؍۲۴۱۳ ]

    بلکہ فرمایا جب وہ آپ کے پاس تشریف لائیں تو انہیں سلام کہو
    فرمایا
    وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ
    اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہہ سلام ہے تم پر
    الأنعام : 54

    *صحابہ کا مذاق اڑانے والوں کا اللہ تعالیٰ مذاق اڑاتے ہیں*

    غزوۂ تبوک کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ سکیڑ کر بیٹھ رہے، لیکن مخلص اہل ایمان چندہ لانے لگے تو یہ ان پر باتیں چھانٹنے لگے، جب کوئی شخص زیادہ چندہ لاتا تو یہ اسے ریا کار کہتے اور جب کوئی تھوڑا مال یا غلہ لا کر پیش کرتا تو یہ کہتے کہ بھلا اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے؟ دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔

    ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صدقے کی آیت اتری تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے، یعنی اس طرح اجرت حاصل کرتے تو ایک آدمی آیا اس نے بہت زیادہ چیز کا صدقہ کیا تو (منافق) کہنے لگے، یہ دکھاوا چاہتا ہے اور ایک آدمی آیا اور اس نے ایک صاع (دو کلو غلہ) صدقہ کیا تو انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے بے نیاز ہے (اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟)
    تو یہ آیت اتری۔

    الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
    وہ لوگ جو صدقات میں خوش دلی سے حصہ لینے والے مومنوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے، سو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سے مذاق کیا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
    (توبہ آیت79)

    [ بخاری، الزکوٰۃ، باب : اتقوا النار ولو بشق تمرۃ … : ۱۴۱۵ ]

    ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوعقیل (مزدوری کرکے) آدھا صاع (ایک کلو غلہ) لائے اور ایک اور صاحب زیادہ مال لائے، تو منافق کہنے لگے، اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری :
    «اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ»
    [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : الذین یلمزون المطوعین… : ۴۶۶۹ ]

    *صحابہ کرام پر طعن کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے*

    فرمان باری تعالیٰ ہے
    وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ
    بڑی ہلاکت ہے ہر بہت طعنہ دینے والے، بہت عیب لگانے والے کے لیے۔
    الهمزة : 1

    *صحابہ کو بے وقوف کہنے والے اللہ کے نزدیک خود بے وقوف ہیں*

    فرمایا
    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں، توکہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ سن لو! بے شک وہ خود ہی بے وقوف ہیں اور لیکن وہ نہیں جانتے۔
    البقرة : 13

    اسی طرح تحويل قبلہ کا حکم ملنے کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے قبلہ تبدیل کر لیا تو جن لوگوں نے صحابہ کے اس عمل پر اعتراض کیا تھا اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ ان کے اعتراض کی نفی کی بلکہ انہیں بے وقف قرار دیا
    فرمایا
    سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
    عنقریب لوگوں میں سے بے وقوف کہیں گے کس چیز نے انھیں ان کے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے؟ کہہ دے اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے ۔
    البقرة : 142

    *اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے صحابہ سے محبت کرنا ضروری ہے*

    براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ
    انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔ پس جو شخص ان سے محبت رکھے اس سے اللہ محبت رکھے گا اور جوان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا

    *انصارکویہ مقام اسلام کےلیے قربانیاں دینےکےعوض ملا*

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا علاقہ بطور جاگیر ان کے لیے لکھ دیں۔
    انھوں نے کہا :
    ’’جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم نہیں لیں گے۔‘‘

    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم للأنصار : ’’اصبروا حتٰی تلقوني علی الحوض ‘‘ : ۳۷۹۴ ]

    انصار کے دل میں مہاجرین کی ایسی محبت اور ہمدردی تھی کہ مہاجرین کو کوئی چیز دی جائے تو انصار کے دل میں اپنے لیے اس کی خواہش تک پیدا نہیں ہوتی تھی اس کا مطالبہ تو بہت دور کی بات ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی چھوڑی ہوئی تمام زمینیں اور باغات مہاجرین کو دے دیے اور انصار نے بخوشی اسے قبول کیا

    *دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد اپنے مہاجر بھائی کے نکاح میں دینے کی پیش کش*

    سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنی ساری جائداد اور تمام مکانوں میں سے نصف کی اور دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد ان کے نکاح میں دینے کی پیش کش کی، جس پر انھوں نے انھیں برکت کی دعا دی مگر یہ پیش کش قبول نہ کی۔
    (دیکھیے بخاری : 2029)

    *’’اے اللہ کے رسول! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔‘‘*

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :
    ’’اے اللہ کے رسول! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’نہیں۔‘‘
    تو انصار نے (مہاجرین سے) کہا :
    ’’تم ہماری جگہ محنت کرو گے اور ہم تمھیں پھلوں کی پیداوار میں شریک کر لیں گے۔‘‘
    مہاجرین نے کہا:
    ’’ہم نے تمھاری بات سنی اور مان لی۔‘‘

    [ بخاري، الحرث والمزارعۃ، باب إذا قال اکفني مؤونۃ النخل… : ۲۳۲۵ ]

    *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر میاں، بیوی اور بچوں نے رات خالی پیٹ گزار دی*

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ]
    ’’اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟‘‘
    انصار میں سے ایک آدمی (جن کا نام ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھا :صحیح مسلم) نے کہا:
    ’’میں لے جاؤں گا۔‘‘
    چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔‘‘
    اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ]
    ’’آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
    « وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ »
    [ الحشر: ۹ ]
    ’’اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول اللّٰہ عزوجل: «و یؤثرون علی أنفسہم …» : ۳۷۹۸۔ مسلم : ۲۰۵۴ ]

    *صحابہ کے متعلق دل میں کینہ سے بچنے کی دعا کریں*

    وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
    اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنھوں نے ایمان لانے میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ جو ایمان لائے، اے ہمارے رب ! یقینا تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
    الحشر : 10

    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے مفہوم کے پیشِ نظر اپنے بھانجے عروہ بن زبیر سے فرمایا :
    [ يَا ابْنَ أُخْتِيْ! أُمِرُوْا أَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبُّوْهُمْ ]
    [ مسلم، التفسیر، باب في تفسیر آیات متفرقۃ : ۳۰۲۲ ]
    ’’اے میرے بھانجے! ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے مغفرت کی دعا کریں، لیکن وہ انھیں گالیاں دینے لگے۔‘‘

  • توکل تحریر؛یسرا چنہ

    توکل تحریر؛یسرا چنہ


    اندر ہی اندر میں ہم حیران ہوتے ہیں کہ وہ ہماری دعاؤں کا جواب کیوں نہیں دے رہا ہے جو ہم ایک طویل عرصے سے مانگ رہے ہیں ، اور یہ کام نہیں کر رہا ہے وہ ہماری دعاؤں کا جواب نہیں دے رہا ہے لیکن دراصل ہم اس کے عمل کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے ، وہ ہمیں طوفان سے بچا رہا ہے جو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ، ہم خوبصورت پھول سے متوجہ ہو سکتے ہیں لیکن اس میں چھپے ہوئے زہر کے بارے میں صرف وہی جانتا ہے ، ہم اپنے خالق پر بھروسہ کرنے کے بجائے لوگوں سے توقع کرتے ہیں کیونکہ ہمارے دلوں میں توکل نہیں ہے ، ہم روتے ہیں ہم خود کو نقصان پہنچاتے ہیں ہم خود ہد سے زیادہ سوچتے ہیں ، اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمارا خالق ہے اور وہ ہمیں ہماری سوچوں سے زیادہ پیار کرتا ہے جس طرح ایک ماں آپ کو تھپڑ مارتی ہے کہ اس وقت آپ اپنا ہاتھ آگ میں نہ ڈالیں آپ محسوس کریں گے کہ یہ غلط ہے آپ کو اس لمحے درد محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ صحیح وقت پر صحیح عمل تھا جس نے آپ کو زندگی بھر کے درد سے بچایا۔ اسی طرح اس کے اعمال اور فیصلے آپ کے خیالاتا اور سوچ سے بالاتر ہیں وہ بہترین منصوبہ ساز ہے اس نے حضرت ابراہیم کو آگ سے بچایا ‘حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں بچایا گیا ، وہ آپ کو آپ کی مشکلات میں کیسے تنہا چھوڑ سکتا ہے؟یقین رکھیں کہ آپ اکیلے نہیں جہاں بھی ہیں وہ آپ کے ساتھ ہے صرف ایک پختہ یقین ہو کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ دنیا کے بہترین منصوبہ ساز کا بہترین فیصلہ ہے اور پھر یقیناً ایک وقت آ تا ہے جب ہماری تمام دعاؤں کا جواب دیا جاتا ہے وہی ہے جو اندھیرے کے بعد روشنی لاتا ہے ‘وہی ہے جو آپ کی راہنمائی کرتا ہے جب آپ اپنا راستہ کھو دیتے ہیں وہ ہے وہ تھا اور وہ ہمیشہ رہے گا اس لیے اللہ کہ فیصلوں پر یقین ہو وہ کبھی بھی کسی روح پر برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور معجزات ایسے ہوتے ہیں جہاں سے ہم سوچ بھی نہیں سکتے بے شک وہ سب کچھ جانتا ہے وہ معاملات کا بہترین جاننے والا ہے۔

    yusra_says@

  • اپنا درد کسی کو مت بتانا تحریر کاوش لطیف

    اپنا درد کسی کو مت بتانا تحریر کاوش لطیف

    ارادے اتنے کمزور نہیں ہونے چاہیے کہ لوگوں کی باتوں میں آ کر ٹوٹ جائیں زندگی میں گرنے سے مت ڈرو کیوں کہ گروکے نہیں تو اٹھو گے کیسے اٹھو گے نہیں تو چلو گے کیسے اگر چلو گے نہیں تو منزل تک کیسے پہنچوں گے جو لوگ رک جاتے ہیں وہ ہار جاتے ہیں جو ٹوٹ کر بھی چلتے ہیں جیت ان ہی کی ہوتی ہے

    غلطی سے بڑا کوئی استاد نہیں لیکن یہ ہمیں تھبی سکھاتی ہے جب ہم اس کو مانتے ہیں اور جو غلطی کو نہیں مانتے وہ کچھ نہیں سیکھتے

    کوئی آپ کے ساتھ برا کرے تو آپ اس کے ساتھ برا نہ کریں وہ اگر برا تھا تو اس نے آپ کے ساتھ برا کیا آپ اگر اچھے ہو تو اس کے ساتھ اچھا کرو کسی غلط آدمی کی برائی کی وجہ سے اپنا کردار کبھی نہ بدلو زندگی میں صرف نیک نہ بنیے دوسروں کے ساتھ نیکی بھی کیجئے زندگی میں صرف روشنی نہ بنیے بلکہ لوگوں کو راستہ بھی دکھائے

    جو بدلا جاسکے اسے بدلو جو نہ بدلا جا سکے اسے قبول کرنا سیکھو اور جسے قبول نہ کر سکو اس سے دوری بنا لو سکون سے جینا ہے تو یہ کرنا ہی پڑے گا اور یہ بھی یاد رکھو انسان ہمیشہ تکلیف میں سیکھتا ہے خوشی میں تو وہ پچھلے سبق بھی بھول جاتا ہے

    دکھ مرنے کا نہیں ہوتا وہ ایک دن سب کو مرنا ہے دکھ ہوتا ہے بچھڑنے کا انسان کو موت نہیں رلاتی وہ پیار رولاتا ہے جو مرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے

    کچھ رشتے رشتے نہیں ہوتے خون چوسنے والی جونکیں ہوتی ہیں یہ تب تک آپ سے جڑی رہتی ہے جب تک انہیں چوسنے خون کو ملتا رہتا ہے ایسے لوگ پیار آپ کو نہیں آپ کی دولت کا کرتے ہیں احترام آپ کا نہیں آپ کی حیثیت اور مرتبے کا کرتے ہیں کچھ ایسا ہو گیا ہے رشتوں کا کاروبار جن سے جتنا مطلب ان سے اتنا پیار

    تکلیف دینے والے کو بھلے بھول جاؤں لیکن تکلیف میں ساتھ دینے والے کو کبھی نہ بھولنا جو آپ کو درد دیتا ہے وہ آپ کا اپنا کبھی نہیں ہو سکتا اور جو آپ کا اپنا ہوتا ہے وہ آپ کو درد کبھی نہیں دیتا

    @k__Latif

  • سکولوں کے باہر طالبات کو لینے والوں کے مسائل تحریر طارق جاوید

    ابھی میٹرک کے امتحانات جاری ہیں طالبات کے لیے اپنے سکول کے علاوہ دوسری جگہ سینٹر بناے گے ہیں وہاں جس دن پیپر ہونا ہوتا ہے والدین چھوڑ کر آتے ہیں
    کچھ بچیوں کے بھائی یا والد نہیں ہوتے وہ رکشوں کی مدد ایک بار چھوڑ کر آتے ہیں پھر واپس لے کر آتے ہیں
    پہلی بات تو یہ ہے طالبات کے لئے ان کا سکول ہی سینٹر ہونا چاہیے یا پھر کوئی نزدیک سینٹر ہو

    سکول کے اندر کی صورت حال ایک الگ مسئلہ ہو گا
    لیکن سب سے بڑا مسئلہ بچیوں کو جو لینے کے لیے جاتے ہیں ان کے لیے اتنی شدید گرمی میں وہاں سکول کے باہر کھڑے ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی نہ کوئی جگہ مخصوص کی جاتی ہے
    سکولوں کے گارڈز ٹریفک جام نہ ہو کسی کی موٹر-سائیکل کو کھڑا کرنے نہیں دیتے
    جو شخص وہاں بچیوں کو لینے کے لئے گیا ہوتا ھے وہ دھوپ میں کھڑا کھڑا خود ہی بیمار ہو جاتا ہے نہ وہاں کوئی پانی پینے کا سسٹم ہوتا ہے نہ وہاں سایہ کی کوئی جگہ جہاں کھڑا ہو کر انتظار کیا جائے بعض اوقات آدھا گھنٹہ رکنا پڑتا ہے
    اور رش ہر طرف ہوتا ھے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے
    میں نے یہ تین چار سکولوں میں دیکھا ھے یہ تکلیف برداشت بھی کی ھے
    جب کہ اس پر کوئی خاص خرچہ بھی نہیں ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی باتیں نہ میڈیا دیکھاتا ھے نہ کوئی ایسے مسائل کو بہت بڑا مس سمجھتا ہے
    اسی طرح تھانوں میں چلے جائیں وہاں گورنمنٹ کے ملازمین پرسکون طریقے سے اندر بیٹھے ہوتے ہیں ایس ایچ او صاحب نے تھانے میں گیارہ بجے آنا ہوتا ہے عام عوام زللیل ہوتی ہے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے چار چار گھنٹے انتظار کے بعد بعض اوقات ایسا ہوتا ہے اندر سے پیغام آتا ہے آج ایسی ایچ صاحب کی ڈی ایس پی سے میٹنگ ھے
    کل آنا

    میری زمدار افراد سے التماس ہے کہ ان چھوٹے مسائل پر توجہ دیں
    جن کاموں میں کمشن ملتا ہے وہ کام اربوں روپے والے منٹوں میں شروع ہو جاتے ہیں
    جو ہزاروں والے جلدی کے کام ہیں ان پر کوئی توجہ دیتا نہیں
    سب سے زیادہ زمداری گورمنٹ کی ھے
    جتنے سرکاری محکمے ہیں ان کی تنخواہ پنشن سب کچھ اپنے وقت پر بڑھتا ہے لیکن جو ان کی زمداری ھے عوام کو سہولت دینا وہ احسان سمجھتے ہیں

    🙏🙏🙏مہربانی ہو گی ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے
    شکریہ 🌹

    ٹیوٹر اکاونٹ
    @TariqJaved_

  • غیبت  ایک مرض   :حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض :حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت عام معاشرتی بیماری جس سے بچنے کی تلقین نبی مہربان ﷺ نے فرمائی آج ہم غیبت سے بچنے کے حوالے سے ہمارے پیارے نبی مہربان ﷺ کے فرامین کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے
    ” غیبت ” کے معنی ہیں پیٹھ پیچھے بدگوئی کرنا، یعنی کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق ایسی باتیں کرنا کہ جس کو اگر وہ سنے تو ناپسند کرے۔مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 748
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2092

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ کسی کے عیوب کی جستجو کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بن کر رہو۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1022

    ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالیٰ کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے) ۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1023

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بغض نہ رکھو اور کسی سے حسد نہ کرو، اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کرے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1030حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع میں) ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1662

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ غیبت کیا ہے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ایسا تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ کہا گیا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اس کے بارے میں اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں جو کچھ کہہ رہا ہو اگر وہ اس کے اندر فی الواقع موجود ہو تو۔ فرمایا کہ غیبت جب ہوگی جب تو جو بات کہہ رہا ہے وہ اس کے اندر موجود ہو اور اگر وہ بات اس کے اندر موجود نہ ہو تو پھر تو نے اس پر بہتان لگایا۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1470

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی مسلمان کی غیبت کا نوالہ کھایا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے اس کے مثل جہنم کا نوالہ کھلائیں گے اور جس نے کسی مسلمان کی برائی کا لباس پہنا اللہ اسے اس کے مثل جہنم کا لباس پہنائیں گے اور جس شخص نے کسی کو شہرت و ریاکاری اور دکھلاوے کے مقام پر کھڑا کیا یا کسی شخص کی وجہ سے ریاکاری و شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا تو اللہ قیامت کے روز اس سے ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا کرے گا۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1476

    حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ان کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک کو پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے اور دوسرے کو غیبت کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 349

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کی نیکیاں ہی ذکر کر لیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے بچتے رہو” ۔ ( ابوداؤد ، ترمذی)

    تشریح
    مرے ہوئے لوگوں کے نیک اعمال اور ان کی بھلائیوں کو اس لیے یاد اور بیان کرنا چاہئے کہ نیک اور نیکی کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
    مردوں کی نیکیوں کو ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے لیکن ان کی برائیوں کے ذکر سے بچنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر ہے یعنی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی برائیاں ذکر نہ کرے اور اس فعل سے بچتا رہے چنانچہ حجۃ الاسلام نے لکھا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی غیبت زندہ لوگوں کی غیبت سے کہیں زیادہ قابل نفریں ہے۔ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ ” میت کو نہلانے والا اگر میت میں کوئی اچھی علامت دیکھے مثلاً میت کا چہرہ روشن اور منور ہو یا میت میں سے خوشبو آتی ہو تو اسے لوگوں کے سامنےبیان کرنا مستحب ہے اور اگر کوئی بری علامات دیکھے مثلاً (نعوذباللہ) میت کا چہرہ یا بدن سیاہ ہو گیا ہو یا اس کی صورت مسخ ہو گئی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔

    @mmasief

  • ہمارے مسائل اور ان کا علاج  تحریر : شاہ زیب

    ہمارے مسائل اور ان کا علاج تحریر : شاہ زیب

    آج بات کریں گے کچھ مسائل کی، ایسے مسائل جو بہت بڑے ہیں۔ جو حل نہیں ہو رہے۔ جن کے لیے انتظامیہ کچھ کر بھی رہی ہے تو نا کافی ہے۔ حکومتی توجہ نام کی چیز چند علاقوں میں نظر آتی ہے۔ کئی بار احتجاج کر کر کے دیکھ لیا۔۔۔
    کسی کام کی حکومت نہیں ناکارہ ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن ذرا رکیں۔۔

    کہیں یہ مسائل ہمارے اپنے پیدا کردہ تو نہیں؟

    کیا سب ذمہ داری حکومت اور حکومتی اداروں کی ہے؟
    نہیں۔۔

    کچرا نالوں میں ہم پھینک رہے ہیں حکومت نہیں۔
    سڑکوں پر بے ہنگم انداز میں موٹر سائیکل کار بس ٹرک ہم چلاتے ہیں اور نظام حکومت کا خراب

    کوئی شخص جرم کا ارتکاب کرے تو پچاس افراد اسے چھڑانے فوری تھانے پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی ہمارے ساتھ جرم کر کے یہی کام کرے تو نظام خراب
    بازاروں میں جگہ جگہ پارکنگ کی خلاف ورزی، مارکیٹ بناتے ہوئے پارکنگ نہ چھوڑنا۔
    گاڑی کو جہاں دل کیا لگا کر شاپنگ شروع۔۔۔۔
    ان سب مسائل اور ان سے جڑے ہزاروں مسائل جو درحقیقت ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں ان کو حل بھی ہم کر سکتے ہیں۔
    گلیوں کو اپنے گھر کا حصہ سمجھیں۔ گاڑی موٹر سائیکل اپنی لین میں چلائیں۔
    جن جگہوں پر ممکن ہے اجتماعی طور پر پیسہ اکھٹا کر کے فلاحی کام مثلاً کوڑا کرکٹ اٹھوانا، سڑک کی مرمت، وغیرہ خود کروا دیں۔
    پاکستان کا خیال رکھیں
    پاکستانی بنیں۔

    ‎@shahzeb___

  • اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    دنیائے افق پر جب دین اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو ظلم و استبداد کی زنجیریں ٹوٹ گی ، جبر وسفاکیت اور ایذا رسانی کے گہرے کالے بادل چھٹ گئے ، انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،انسانيت نے ایک نئی کروٹ لی ، ہدایت کی روشنی سے فضاٸیں معطر ہونے لگے ، کفر و شرک ظلم و سفاکیت کے اندھیرے چھٹنے لگے اور معاشرتی بد تہذیبی کافور ہوئی اور انسانيت کو اپنی پہچان ملی ۔مگر جس دین کے آنے سے انسانیت کو عزت احترام ملا ،ظلم و بربریت کے سیاہ بادل چھٹ گے

    اس دین کو یزید معلون نے نقصان پہنچانے کی ٹھانی مگر امام حسین نے یزید معلون کے برے ارادوں کو خاک میں ملا دیا حسینؓ کا مقصد یہی تھا کہ یزید معلون ظالم ،فاسق و فاجر کی بیعت نہیں کرنی اور اپنے نانا رحمت الالعالمین ﷺ کے دین برحق پر کسی ظالم معلون کی بادشاہت قبول نہیں کرنی چاہے اس کے نتيجے میں کیسی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے

    اکسٹھ ہجری میں وقوع پذیر ہونے والا سانحہ کربلا میں امام حسینؓ اور انکے عزیز و احباب ، رفقاء کے ساتھ یزیدی فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا ۔دین کی بقا کی خاطر امام حسین اور انکے عزیز و اقارب کی شہادت کی داستان تا ابد جاری و ساری رہے گی- ان شاء اللہ

    کربلا میں آل رسول ﷺ نے شہادتیں دے کر قید و بند کی صعوبتیں اٹھا کر دین اسلام کو زندہ کیا اور یزیدی لشکر کے سامنے ڈٹ گٸے کیونکہ یزید معلون نے ہمارے نبیﷺ کے شہر مدینہ منورہ پر قتل و غارت ظلم و جبر کا بازار گرم کیا، مسجد نبوی ﷺ میں گھوڑے تک باندھے تا کہ یزید معلون کی دھاک اصحابہ اکرام اور انکی آل پر بیٹھ سکے ،مگر افسوس کے سات یہاں بھی یزیدی لشکر اپنے مقصد میں کامیاب نا ہوا اور معلون و لعین ہی ٹھہرا ، آل رسول ﷺ پر مظالم ڈھانے کے بعد مسلمانوں نے یزید کے خلاف ایک بھرپور نفرت جاگی اور بالآخر ایک نئے جنون کے ساتھ مسلمانوں نے یزیدیت کے ارادوں کو تحس نحس کر کے رکھ دیا

    آج بھی یزید کے پیروکاروں نے دین اسلام کو للکارا ہے اور امام حسین ؓسے پیار کرنے والوں کے لیے پھر ایک موقع فراہم ہوا ہے کہ وہ حق کی خاطر اپنی جانیں لڑا دیں اور یہ ثابت کردیں کہ امام حسین ؓ سے عقیدت رکھنے والے امام حسین ؓ کی یاد میں صرف اشک بہانا ہی نہیں جانتے ، بلکہ حق کی خاطر ان کے طور طریقوں پر چلنے اور گردنیں کٹانے کاحوصلہ بھی رکھتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جو رعایا جان دینے کے لیے تیار ہوتی ہے باعزت زندگی کاحق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا

    امام حسینؓ اور آل رسولﷺ کی لازوال قربانیوں کے بدلے میں یزید معلون نام کو ہمیشہ کے لئے ایک گالی بنا دیا گیا ور یزید ظلم وجبر کر کے بھی مردود ٹھہرا اور حسین ہمیشہ کے لیے محبت کے حقدار ٹھہرے اور حسینیت تا قیامت زندہ و پائیندہ ٹھہری-

    قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوگیا ہر کربلا کہ بعد

    ‎@JahantabSiddiqi

  • دنیا کی حقیقت تحریر : محمد سدیس خان

    دنیا کی حقیقت تحریر : محمد سدیس خان

    آزادی بڑی نعمت ہے اسکی قدر اس وقت ہوتی ہے جب یہ چھن جاتی ہے اور آدمی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے یا قید و بند کی تنہائی میں جاپڑتا ہے۔ قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز میں دوسروں کے حکم کا پابند ہوتا ہے۔
    قید میں جب اور جیسی چیز کھانے پینے کو مل گئی اسی پر گزارہ کرلیا، جہاں بیٹھنے کا حکم دیا گیا وہیں بیٹھ گئے، قید خانہ میں اپنی مرضی بالکل نہیں چلتی بلکہ چاروناچار ہر معاملہ میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنی پڑتی ہے،۔ اسی طرح قید خانہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ قیدی اس جیل خانہ سے جی نہیں لگاتا اور نہ اسکو اپنا گھر سمجھتا ہے، بلکہ ہر وقت اس سے نکلنے کا خواہش مند رہتا ہے۔
    یہی حال دنیا کا ہے کہ مومن بھی دنیا میں اسی طرح زندگی گزارتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں دنیا میں آزاد نہیں بلکہ قدم قدم پر احکام خداوندی کا تابع ہوں نہ یہ میرا گھر ہے نہ اصل وطن، کیونکہ مومن کا اصلی وطن اور اصل رہائش گاہ جنت ہے کہ وہاں جنتیوں کیلئے کوئی قانونی پابندی نہیں رہے گی۔ ہر جنتی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کریگا اسکی ہر خواہش اور ہر آرزو پوری ہوگی، نیز لاکھوں برس گزرنے پر بھی کسی جنتی کا دل جنت اور اسکی نعمتوں سے نہیں اکتائے گا اور نہ کبھی کسی کے دل میں جنت سے نکلنے کی خواہش پیدا ہوگی۔
    مومن دنیا اور اس کی چند روزہ زندگی کس طرح بسر کرکے اپنے مقصود اصلی یعنی جنت کو پاسکتا ہے، مولانا روم رحمہ اللہ نے ایک خوبصورت مثال سے اسکی وضاحت کی ہے فرماتے ہیں کہ مومن کیلئے یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کشتی پر سوار ہوکر جارہا ہوں۔
    کشتی پانی کے بغیر نہیں چلتی اگر کوئی شخص پانی جس پر کشتی نے چلنا ہے اس قدر اہمیت دے کہ اپنی کشتی میں سوراخ کرلے تاکہ میں یہیں بیٹھے بیٹھے پانی حاصل کرلوں تو وہ چند لمحوں بعد اپنی کشتی ہی ڈبو بیٹھے گا لیکن اگر وہ کشتی پر سوار رہے اور بقدر ضرورت پانی بھی استعمال کرتا رہے تو وہ بعافیت ساحل مراد تک پہنچ جائیگا، کشتی کیلئے پانی اس وقت تک مفید ہے جب تک اسکے نیچے رہے لیکن اگر کوئی بے وقوفی کرکے اپنی کشتی میں سوراخ کرلے تو وہ ڈوب جائے گا۔
    تو دنیا کی زندگی بھی ایک مومن کیلئے بڑی اہم ہے، لیکن یہ اس وقت تک مفید ہے جب تک مومن کے ہاتھ میں رہے اگر ہاتھ سے تجاوز کرکے اس دنیا کو دل میں بسا لیا تو پھر یہ دنیا ہلاکت کی چیز ہے، لہذا ایک مومن کی شان یہی ہے کے وہ اس دنیا کو اللّٰہ کی رضا والے کاموں میں خرچ کرے تاکہ دنیا و آخرت دونوں کی سرخروئی حاصل ہوسکے۔
    یہ دنیا جس میں ہم سب زندگی کے سانس پورے کررہے ہیں اسے نعمتوں اور مصیبتوں کا مجموعہ بنایا گیا ہے، اس لیے کہ جس جہاں میں صرف نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی اسے جنت کہتے ہیں اور جس جہاں میں صرف مصیبتیں ہی مصیبتیں ہوں گی اس کا نام جہنم ہے۔ اس دنیا میں نعمتیں بھی ہیں اور مصیبتیں بھی ہیں۔ اگر اس دنیا کا مزید گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس دنیا میں نعمتیں کم ہیں، مصیبتیں زیادہ ہیں۔ اس لئے کے خلاف طبیعت اور خلاف مزاج بات پیش آجانے کوہی مصیبت کہتے ہیں۔ اس حوالے سے دنیا میں پیش آنے والے حالات کا زیادہ تر تعلق خلاف طبیعت اور خلاف مزاج ہی ہوتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں ، بعض کام انسان کی طبیعت اور مزاج کے مطابق بھی ہوجاتے ہیں لہذا ان کا تعلق نعمتوں کی طرف منسوب ہے لیکن ہر ہر کام انسان کے مزاج کے مطابق نہیں ہوتا لہذا بآسانی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مصیبتوں کا تناسب نعمتوں کے مقابلے میں بڑھا ہوا ہے۔
    Twitter : ‎@msudais0

  • شجرکاری، ماحول دوست مہم تحریر :اقصٰی صدیق

    شجرکاری، ماحول دوست مہم تحریر :اقصٰی صدیق

    گزشتہ سال کی طرح امسؔال بھی پاکستانی عوام شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔اس ضمن میں خصوصاً ہماری نوجوان نسل، خصوصاً اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔درخت لگانے کا شوق ان کا جنون بن گیا ہے،
    تو جب شجرکاری ایک جنون بن جائے تو دل کرتا ہے ہر جگہ سبزہ و ہریالی ہو، جو زندگی کے اداس لمحوں میں تسکین کا باعث بنے۔
    شجرکاری کیا ہے؟
    اس کے کیا فوائد ہیں؟
    یہ کیوں ضروری ہے؟
    اس مضمون میں ہم ان سوالات کے جوابات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
    شجر (درخت، پیڑ) عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اور کاری کے معنی” کام کرنا”یوں کہا جاسکتا ہے کہ "شجرکاری” سے مراد “درخت لگانے کا کام ” ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں سے اس دھرتی پر سر انجام دیتا ہے۔
    ہمارے ملک پاکستان میں درختوں کی ضرورت ہے۔موحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے بچنے کا واحد راستہ زیادہ سے زیادہ درختوں کی کاشت ہے۔
    بلاشبہ درخت لگانا ہمارے ماحول کے لئے بہت ضروری ہے، یہ بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں،
    سب سے اہم بات یہ کہ درخت سانس لینے کا ذریعہ ہیں۔
    یہ انسان کو آکسیجن، سایہ، پھل اور ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔یہ آکسیجن کا بہت ضروری ماخذ ہیں۔
    درختوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک طرف تو ہمیں سانس لینے کے لئے تازہ ہوا فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف پرندوں کو مسکن اور جانوروں کو سایہ دیتے ہیں۔
    درخت ہمیں بہت ساری دواؤں کے لیے جڑی بوٹیاں اور اس کے علاوہ لکڑی بھی مہیا کرتے ہیں۔ہماری روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والا کاغذ بھی درختوں سے بنتا ہے۔
    کپڑے کی صنعت میں بھی اس کے استعمال سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ گوند اور ربر بھی ہم درختوں سے ہی حاصل کرتے ہیں۔
    مگر ان قدرتی وسائل کے دشمن ہم خود بن گئےہیں ۔ جنگلات کی کٹائی جس تیزی سے کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے یہ انتہائی قابل افسوس ہے اور اب تو یہ ہماری بقا کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔

    جیسا کہ ہم سائنس کی کتاب میں پڑھتے آئے ہیں کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ یہی آکسیجن سیارے (ذمین) پر موجود ہر جاندار کے لئے اشد ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ درخت مٹی کے لیے ضروری ہیں کیونکہ بہت زیادہ بارش کے دوران ذمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں۔
    درختوں کی مدد سے ہی گلوبل وارمنگ کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں ۔آج بھی ہم درختوں کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں، اب ہمارا کام ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت لگائیں۔
    اور اپنی آنے والی نسل کو بھی شجرکاری کے فوائد اور اہمیت سے روشناس کرائیں اور اسی نسل کی کرہ ارض پر بقا کے لیے نہ صرف سال میں ایک دن بلکہ پورا سال شجر کاری مہم کو جاری رکھا جانا چاہیئے۔
    درخت لگانا ایک طرح سے انسانوں کی خدمت کے مترادف ہے۔ آپ کا لگایا جانے والا درخت کسی ایک انسان کو نہیں بلکہ اس ذمین پر بسنے والے انسانوں کو کسی نہ کسی طرح سے ضرور فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔
    شجرکاری آلودگی سے تحفظ اور بیماریوں سے بچاؤ میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کیوں کہ رب کائنات کی طرف سے درختوں میں مختلف امراض کی شفا رکھی ہے۔
    ان سب فوائد کے پیش نظر شجرکاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے، شجرکاری کا تصور ہمیں دین اسلام سے بھی ملتا ہے۔
    قرآن کریم میں اور کئ احادیث مبارکہ میں شجرکاری کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
    درخت اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ہمارے لیے ایک نعمت ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’ بھلا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی اتارا تمہارے لیے ۔ پھر ہم نے اس پانی سے خوبصورت باغات اگائے،لیکن تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اُگا سکتے۔

    درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے کسی عظیم نعمت سے کم نہیں،
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے تو شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ اس عمل کو تاقیامت جاری رکھنے کا حکم دیا۔
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
    ’’کوئی مسلمان اگر فَصل یا دَرخت لگائے ، تو پھر اس میں سے جو پرندہ، جانور یا اِنسان اس کا مطلب پھل کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدقہ شُمار کیا جائے گا۔(صحیح بخاری )
    اسی لیے شجرکاری کی اہمیت اور فوائد سے عوام کو روشناس کروانا اب ہر پڑھے لکھے شخص کی ذمے داری ہے،
    ماہرین کے مطابق کسی ملک کا پچیس فی صد 25٪ حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیئے، جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف دو سے تین فی صد حصہ پر ہی جنگلات ہیں۔جو کہ بہت کم حصہ بنتا ہے،
    جنگلات کی بے تحاشا کٹائی کی وجہ سے اب پوری قوم موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔
    حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک پودا لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا، اور پاکستان میں دس بلین درخت لگانے کا ہدف بتایا ہے۔
    ویسے بھی چودہ اگست کی آمد، آمد ہے، تو کیوں نہ اس بار ہم جھنڈیوں کی بجائے پودے لگائیں، اور اس مہم میں اپنا حصہ ڈال کر وطن عزیز کو سر سبز و شاداب بنا کر اس کو رونق بخشیں۔
    اس لیے کہ جب تک ہر فرد اس مہم میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گا، تو ہم کبھی بھی بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
    بذات خود مجھے بچپن سے ہی پھولوں کے پودے لگانے کا شوق ہے، اور میرے چھوٹے سے باغیچے میں انتیس قسم کے پھولوں کے پودے ہیں۔
    یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ہماری حکومت نے شجر کاری پر توجہ دی ہے لیکن ابھی ہمیں اس میں مزید محنت درکار ہے۔آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر اس ملک میں رہنے والا ہر فرد صرف ایک ایک پودا بھی لگائے تو اتنے درخت ہوجائیں گے کہ ہمارا ملک ایک بار پھر سے سرسبز و شاداب ہوجائے گا۔
    اللہ پاک ہمیں اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے آمین ۔

    ‎@_aqsasiddique

  • پاکستان کا تعلیم نظام  تحریر محمد عدیل علی خان

    پاکستان کا تعلیم نظام تحریر محمد عدیل علی خان

    ‏پاکستان میں جو تعلیمی نظام ہیں اسکا آپ اور میں بہتر انداز سے جانتے ہے کیوں آج کا طالب علم اکیڈمیوں کا محتاج ہے سب سے پہلے ہم سرکاری اسکول اور کالجز کے تعلیمی نظام پے روشنی ڈالتے ہیں اور کچھ حقیقی حقائق سے میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں سرکاری اسکولوں میں تمام استادزہ آتے تو ہیں لیکن صرف دس یا پندرہ منٹ کی کلاس لیتے ہیں اگر کوئی طالب علم سوال اٹھائے تو اس سے کہتے ہے کہ اگر آپ کو اتنا پڑھنے کا شوق ہے تو جناب اعلیٰ آپ میری اکیڈمی میں آجایا کرے فیس بھی اتنا زیادہ نہیں ہے صرف پانچ سو روپے آپ اندازے لگائیں جس کے والد صاحب روز کے پانچ سو روپے یا اس سے کماتے ہیں اور بیچارے دیہاڑی دار مزدور ہے اور کبھی تو ہفتہ ہفتہ بھی مزدوری نہیں لگتی وہ بیچارہ گھر کے اخراجات پورے کرے یا بیٹے کو اکیڈمی میں داخلہ دلوائے اور اس طرح کے کئی بچے یا تو خودکشی کر گئے یا مزدوری کرنے چلے گئے اور اس طرح سے پاکستان کا مستقبل تباہ ہوا صرف ان نالائق اور لالچی استادزہ کی وجہ سے یہ تو وہ اساتذہ اکرام تھے جو صرف کچھ منٹوں کی کلاس لیتے تھے اب آتے ان استادزہ کی طرف جو صرف سکول کے اسٹاف روم میں صرف گپھے لڑانے آتے ہے اور پڑھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اگر کبھی محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی افسر تعلیم چیکنگ کے لئے آئے تو طلباء کو دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے کوئی شکایت کی تو ہم آپ کو اسکول سے نکال دے گے اور ایسا سرٹیفکیٹ بنا کر دے گے کہ آپ کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملے گا اگر محکمہ تعلیم کا افسر کوئی شکایت لکھ بھی لے تو لے دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے اگر ان اساتدزہ کو ایک مہینے کی تنخواہ نہ ملے تو حکومت کے خلاف پُر زور احتجاج کرتے ہیں جناب اعلیٰ پڑھائے گے نہیں پر تنخواہ پوری چاھئے ….
    اگر ہم ڈگری کالجز کی بات کرے تو وہاں آپ کو صرف ایک سختی بڑی دیکھنے کو ملے گی کہ پیر کے دن تمام طلبا کو یونیفارم میں لازماً آنا ہے ڈگری کالج کے استادزہ بھی کسی سے کم نہیں جناب اعلیٰ دس یا گیارہ بجے تک کالج میں اس کے بعد پرائیویٹ کالجز میں چلے جائیں گے اگر کوئی طالب علم ان استادزہ کی شکایت پرنسپل کو کرے تو وہ کہتے ہیں استادزہ کی شان میں گستاخی اگر آپ نے دوبارہ یہ بدتمیزی کی تو ہم آپکا داخلہ منسوخ کر دے گے اور آپ جیسے بدتمیز طلبا کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے…………..
    پرائیویٹ اسکول/کالجز بھی کسی سے کم نہیں ہے اس معاملے میں..
    ان کو صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا اگر کسی طالب علم کی ایک دو ماہ کی فیس رہتی ہے تو اسے دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے فیس کلیئر نہ کرائی تو ہم آپکو سلپ نہیں دے گے ان کو طالب علم کے پورے سال کی کوئی اہمیت نہیں ہے ٹیچر آیا لیکچر دیا اور چلا گیا کسی کی سمجھ میں آئے یا نہیں اگر کوئی طالب علم سوال کرے مجھے فلاں چیز سمجھ میں نہیں آئی تو جواب روایتی ملتا ہے بیٹا کوچنگ سینٹر جوائن کر لیں آپ بہت وییک ہو اگر میرا کوچنگ سینٹر جوائن کرنا چاہو تو ‎#موسٹ_ویلکم
    اور دوسرا جواب سنے بیٹا مجھے دوسرے کالجز میں بھی جانا ہوتا اس وقت میرے کوئی وقت نہیں ہے میں پہلے ہی لیٹ ہوچکی/ہوچکا ہو………….
    یہ ہمارا تعلیمی نظام ہے جو میں نے لکھا ہے اس سے بھی گھٹیا ہے ہمارا تعلیمی نظام جو میں نے میں سمجھتا ہو کہ جو میں نے بہت کم لکھا ہے اگر اس طرح سے طالب علم کو پڑھیا گیا تو وہ بھی بڑا ہو کر منہ بھائی ایم بی بی ایس بنے گا اس بڑھ کر کچھ نہیں ہم نے اپنے بچوں کو منہ بھائی نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر عبدالسلام اور جابر بن حیان بنانا ہے

    نوٹ……….

    میری اس تحریر میں ان استادزہ کو بلکل بھی نشانہ نہیں بنایا گیا جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور اس ٹیچری کو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں میرا نشانہ وہ استادزہ ہے جنہوں نے اس تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے میرا نشانہ صرف لالچی اور کرپٹ استادزہ ہے
    الحمدللہ عزوجل اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو مجھے بہترین استادزہ ملے وہ استاد ملے جو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کے ادا کرتے ہے… .
    ایک اور ضروری بات اگر ایک استاد بہتر انداز سے اور اپنی پوری محنت سے اپنا سبجیکٹ پڑھاتا ہے وہ صرف پورے سلیبس 20% حصہ کوور کرسکتا ہے باقی کا 80% وہ کہاں سے پڑھے گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے سرکاری اسکول اور کالجز کے لئے

    Twitter ‎@iAdeelalikhan