Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غیبت  ایک مرض ۔ حصہ چہارم تحریر: محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض ۔ حصہ چہارم تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے یعنی اس کے سامنے اگر کوئی شخص مسلمان بھائی کی برائی اور غیبت کر رہا ہو تو اس کو اس حرکت سے روکے تو اس کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرے گا۔ (بہیقی)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 912
    تشریح
    غیبت کرنے کو بطور گوشت کنایہ کھانے سے تعبیر کیا ہے یعنی جو شخص کسی کی غیبت کرتا ہے تو گویا وہ اس کا گوشت کھاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں غیبت کی برائی ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ” ایحب احد کم ان یاکل۔ الخ۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے۔غیبت کرنے کو گوشت کھانے سے تشبیہ دینے کا سبب یہ ہے کہ غیبت کرنا دراصل اس کی آبرو ریزی کرنا ہے اور آبرو چونکہ جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے لہذا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کے ذریعہ آبرو ریزی کی اس نے گویا اس کو ہلاک کر دیا اور اس کا گوشت کھا لیا ۔ بظاہر یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ لفظ بالمغیبۃ کا تعلق لفظ ذب سے ہے اور غیبت یعنی عدم موجودگی کے مفہوم میں ہے تاہم احتمال بھی ہے کہ بالمغیبۃ کا تعلق بلحم اخیہ سے ہو اور مفہوم کے اعتبار سے غیبت یعنی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنے کے معنی میں ہو اس صورت میں عبارت گویا یوں ہوں گی من ذب عن اکل لحم اخیہ بالمغیبۃ یعنی جو شخص کسی اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کے ذریعہ اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے۔ لیکن حدیث کا حاصل دونوں صورتوں میں ایک ہی رہے گا وہ یہ کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کی غیبت کرنے سے باز رکھنے والے کی فضیلت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔
    ” دوزخ کی آگ سے آزاد کرے ” کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اس شخص کو شروع ہی میں دوزخ کی آگ سے نجات یافتہ قرار دیا جائے گا یا یہ کہ اگر وہ شخص اپنے گناہوں کے سبب دوزخ میں داخل کیا جائے گا تو اس کو وہاں عذاب پورا کیے بغیر نکال لیا جائے گا۔
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع پر مدد کرے اور غیبت کرنے والے کو غیبت سے نہ روکے جہاں اس کی بے حرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد نہیں کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے اور جو مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع پر مدد کرے جہاں اس کی بے حرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے۔ (ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 914

    حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی عزت کو منافق کے شر سے بچائے گا اللہ اس کے لیے ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کو قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر ایسی چیز یعنی کسی عیب و برائی کی تہمت لگائے گا جس کے ذریعہ اس کے مقصد اس مسلمان کی ذات کو عیب دار کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کے پل پر قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ اس تہمت لگانے کے وبال سے نکل جائے۔ (ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 917تشریح
    یہاں منافق سے مراد غیبت کرنے والا ہے اور عیب جو شخص ہے اس کو منافق اس لیے فرمایا گیا ہے کہ غیبت کرنے والا کبھی بھی کسی شخص کے منہ پر اس کی برائی نہیں کرتا بلکہ اگر وہ سامنے ہوتا ہے تو دل میں اس کی طرف سے برائی رکھنے کے باوجود اس کی خیر خواہی کا دم بھرتا ہے اور پیٹھ پیچھے اس پر عیب لگاتا ہے غیبت کرنا اور عیب جوئی منافق کا کام ہے جس کا ظاہر کچھ ہوتا ہے اور باطن کچھ۔ حدیث کے آخری الفاظ حتی یخرج مما قال کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ شخص اپنی اتہام تراشی کے گناہ سے صاف نہ ہو جائے اس وقت تک اس کی گلو خاصی ممکن نہیں ہو گی۔

    حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے معراج کی رات اوپر لے گیا تو عالم بالا میں میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں کو کھرچ رہے تھے ان کی اس حالت کو دیکھ کر میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے یعنی لوگوں کی غیبت کرتے ہیں ان کی عزت و آبرو کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ (ابوداؤد) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 974
    حضرت مستورد رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی غیبت، برائی کرنے یا اس پر زنا وغیرہ کی تہمت لگانے کے ذریعہ اس کی آبروریزی کر کے ایک لقمہ کھائے تو اللہ اس کو اس لقمہ کی مانند دوزخ کی آگ کھلائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی تحقیر و امانت کے بدلہ میں کسی کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کپڑے کی مانند دوزخ کی آگ کا کپڑا پہنائے گا اور جو شخص کسی کو سنانے اور دکھانے کے لیے کھڑا کرے تو قیامت کے دن اللہ اس کے سنانے اور دکھانے کے لے خود کھڑا ہوگا۔ (ابوداؤد)
    مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 975
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مجھے پروردگار عالم نے معراج پر بلایا تو میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا جبریل! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھانے والے (غیبت کرنے والے اور لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہیں ۔مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 2302
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی نیکیوں کو برباد کردینے والی بیماری سے بچائیں ، اللہ کے دین کی سمجھ عطا فرمائیں دین اسلام پر چلنے والا بنا ئیں۔ آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ  کس ملک کو برآمد کی؟

    پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو برآمد کی؟

    اسلام آباد:پاکستان نے فور جی ٹیکنالوجی کے پاکستان میڈ موبائل فونز برآمد کرنا شروع کردئیے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے امور تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات میں پاکستان کے لیے آج بڑا دن ہے پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ہوگیا، میڈ اِن پاکستان فورجی موبائل کی پہلی کھیپ یو اے ای برآمد کردی گئی پہلی کھیپ میں 5500 موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں ہمیں امید ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ ویلیو ایڈڈ برآمدات کے دور کا آغاز ہوگا۔


    عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ یہ ہماری روایتی اشیا سے ہٹ کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کی شروعات ہے پاکستان میں موبائل مینوفیکچررز کو کہوں گا کہ وہ اس مثال کی تقلید کریں اوراپنی مصنوعات برآمد کریں۔

    واضح رہے کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی تجاویز پر آئی ٹی انڈسٹری سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں جس میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کو نقد انعامات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ آئی ٹی برآمدات کا ایک فیصد سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے لیے مختص کیا جائے گا اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فنڈز کو اسکل و بزنس ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی پارکس کے قیام پر خرچ کرے گا۔

    آئی ٹی کمپنیوں کے ٹیکس مسائل سے متعلق وزارت خزانہ نےاختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اور ایف بی آر نظر ثانی شدہ ٹیکس تشریحات تشکیل دے گا۔

    شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کو معاملات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرا ئی جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا تھا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر خزانہ کے مشکور ہیں۔

    جبکہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ ملکی معاشی اور سائنسی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے میں ترقی کیلئے فعال اقدامات اٹھائے جائیں عالمی سطح پر ترقیاتی پالیسیوں کا فوکس ترقیاتی منصوبوں سے انسانی وسائل کی فکری ترقی کی سمت جارہا ہے۔ پاکستان کو انسانی وسائل کی سائنسی اور فکری ترقی کے لئے جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

  • ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹک ٹاک چین کی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے اور یہ دنیا میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک ہے دنیا کے 150 ممالک میں ٹک ٹاک کے ایک ارب سے زیادہ صارفین موجود ہیں امریکہ میں اب تک 200 ملین سے زائد باراس ایپلیکیشن کو ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے بچہ بڑے نوجوان سب ہی اس ایپ کے فین ہیں جہاں اس ایپ کو مقبولیت ملی وہیں آئے دن یہ مختلف تنازعوں کا شکار رہتی ہے پاکستان میں اس ایپ پر کئی دفعہ پابندیاں لگ چکی ہیں-

    تاہم یہ ایپ صارفین کی شکایات دور کرنے اور نت نئی سہولتیں دینے کے لئے اپنے نئے نئے فیچر متعارف کراتی رہتی ہے تاہم اب بھی ٹاک ٹاک نے اپنے نو عمر صارفین کی فلاح و بہبود کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے نئے فیچر میں 13 سے 15 سال کے صارفین کو رات 9 بجے اور 16 سے 17 سال کے صارفین کو رات 10 بجے کے بعد کوئی نوٹیفیکیشن نہیں ملے گا۔

    ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کا نیا فیچر نو عمر صارفین کے کام ، مطالعہ اور آرام کو زیر نظر رکھ کر بنایا گیا ہے ٹک ٹاک کے نئے فیچر کا مقصد نوجواں نسل کو مثبت ڈیجیٹل عادات کے آغاز میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    نیشنل سوسائٹی برائے آن لائن چائلڈ سیفٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک انڈسٹری لیڈر شپ دکھا رہا ہے جو نوجواں نسل کے لیے فائدے مند ثابت ہو گی۔

    اس سے قبل ٹک ٹاک نے اسنیپ چیٹ اسٹوریز کی طرز پر 24 گھنٹے میں اسٹوری غائب ہونے والے فیچر محدود پیمانے پر متعارف کروایا تھا۔ اس فیچر سے ٹک ٹاک کی اسٹوری میں لگایا گیا مواد 24 گھنٹے بعد خود غائب ہوجاتا ہے۔

  • پاکستان کیسے  بنا تحریر:فریال نیازی

    پاکستان کیسے بنا تحریر:فریال نیازی

    اُس ٹرین کی 9 بوگیاں تھیں
    تقریبا ہزار مسافر سوار تھے
    جب گاڑی لاہور ریلوے اسٹیشن پر آکر رکی توصرف 8 مسافر زندہ تھے
    وہ بھی بری طرح زخمی تھے ، پوری ٹرین جیسے خون میں نہا کر آئی تھی
    لندن ڈیلی میل کے نمائندے کا آنکھوں دیکھا حال
    آگ اور خون کا یہ کھیل سارے ہندوستان میں جاری تھا ، لاکھوں لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ، صرف دہلی اور لاہور کے راستے ٹرینوں پر 54 سے زائد حملے ہوے سب سے زیادہ مہاجرین مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان داخل ہوے لدھیانہ اور امرتسر کے درمیان سکھوں کے مسلح جتھے ٹرینوں کو روک کر ظلم کی تاریخ رقم کرتے رہے ایک ایسی ہی اسپیشل مہاجر ٹرین محمکہ دفاع کا عملہ اور انکے اہل و عیال کو لے کر پاکستان آرہی تھی کہ اُسے بھی روک لیا گیا
    نہ جانے کتنی عورتوں کو اغوا کیا گیا ، جب خون کا دریا عبور کرکے یہ ٹرین پاکستان پہنچی تو اسمیں 459 لاشیں ملیں
    کبھی پٹیالہ میں ٹرین روک کر جب مسلمان بچے کرپانوں پر اچھالے جا رہے تھے تب حفاظتی عملہ ایک طرف کھڑا ہو کر قتل عام کا تماشا دیکھ رہا تھا ، بے شمار لاشیں قریبی نہر میں پھینکی گئیں تقریبا خالی ٹرین پاکستان پہنچی.
    ہندوؤں کی وحشت و بربریت کا اندازہ لگایے جب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا اور قیام پاکستان کے بعد پہلی عید آئی تو ایک مال گاڑی لاہور اسٹیشن پر آکر رکی جس کی ایک بوگی میں بچوں کے سر اور عورتوں کی کٹی ہوئی چھاتیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا
    اور بوگی کے باہر لکھا ہوا تھا
    پاکستان کے لیے عید کا تحفہ
    لا الہ الااللہ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں ہر گلی نکڑ میں
    زناہ کے اڈے قائم ہیں
    رشوت جھوٹ بددیانتی ظلم و جبر بربریت ناانصافی کرپشن
    ہر بندہ اپنے استطاعت کے مطابق کر رہا ہے
    پھر کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران غلط ہیں
    دین محمدی ص نے واضح کردیا!
    جیسے قوم ہونگے ویسا ہی حکمران ہوگا
    بجائے اوروں کو غلط کہنے کے اپنے آپ کو بدلو پھر دیکھو
    انقلاب کیسے نہیں آتا
    جس عظیم مقصد کیلئے لاکھوں قربانیاں دی گئی جس مقصد کیلئے گردنیں کٹی جس مقصد کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ کاٹے گئے جس مقصد کیلئے عورتوں کے اعضاء کو تن سے جدا کیا گیا
    جس مقصد کیلئے کے حصول کیلئے گھر بار عزت شان و شوکت چھوڑ کر ہمارے اسلاف یہاں پر آئے تو کوئی تو وجہ تو ہوگی نا
    کہ ایسے ہی لاکھوں افراد نے دریاؤں کو اپنی عظیم لاشوں سے بھردیا . چند سال پہلے ایک مولانا کا بیان سنا کہ
    جس دریا سے مسلمان گزر رہے تھے اسی دریا سے متعلق ایک بوڑھے نے بتایا کہ سکھوں کے فوج میرے پیچھے تھی اور میں خوف مخلوق خدا اور اور آگے دریا دیکھ کر
    جہاں گھبرایا لیکن ایمانی غیرت اور اللہ پر
    توکل کی وجہ سے میں نے دریا کو عبور کرنے کا فیصلہ ہ
    کیا اللہ کا نام لیا اور دریا پر پاؤں رکھ دیا
    کہا کہ شروع سے آخر تک لاشیں ہیں لاشیں تھی واللہ
    میں نے لاشوں پر سر رکھتے ہوئے دریا عبور کیا
    مسلمانوں تمہیں دین محمد ورثے میں ملا ہے قربانیاں تمہارے اسلاف نے دی اور تم اس
    عظیم دن بجائے اللہ کا شکر ادا کئے
    سڑکوں چوراہوں پر بھنگڑے ڈال کر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو
    اپنے مشن کو پہچانو
    اپنا مقصد نہ بھولو
    یہاں اسلامی نظام اور خلافتی نظام کیلئے اٹھ کھڑے ہوں
    تاکہ تمہیں بھی تاریخ میں اچھے الفاظوں کے ساتھ اور بروز
    قیامت تمہیں اسکا صلہ ملے
    تمہاری دھڑکن سے بھی زیادہ قریب تمہارا اللہ ہی تمہارا گواہ بنے گا اور بے شک اس سے بہتر جزاء دینے والا کون ہے..!!

    @Missfaryalniazi

  • -:قول و فعل میں تضاد:-        تحریر:- محمد دانش

    -:قول و فعل میں تضاد:- تحریر:- محمد دانش

    ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں اور ہمارا مزہب ہمیں ایک دوسرے کو کارخیر کی دعوت دینے کی تلقین کرتا ہے اور برائی سے روکنے کا حکم دیتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو تو  نیکی کی باتوں کی طرف بلاتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں متنبہ کرنے کے لئے قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
    اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۴﴾
    کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو ،  کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟ ۔

    (سورہ البقرہ: آیت نمبر :44 )
    ایک اور مقام پر اللہ تعالی ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:
    یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا  لِمَ  تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا  تَفۡعَلُوۡنَ
    اے ایمان والو!  تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔
     
    ( سورہ الصف: آیت نمبر: 2)
    کَبُرَ  مَقۡتًا عِنۡدَ  اللّٰہِ  اَنۡ  تَقُوۡلُوۡا مَا  لَا تَفۡعَلُوۡنَ
    تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالٰی کو سخت ناپسند ہے ۔
    ( سورہ الصف:آیت نمبر:3 )
     
    اللہ تعالی اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے کہ انسان جن باتوں سے دوسروں کو تو روکتا ہے لیکن اسپر خود عمل پیرا نہی ہوتا ۔
    ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم قول و فعل میں تضاد کا شکار ہیں اور اسی منافقت اور تضاد کی وجہ سے ہم ناقابل اعتبار ہوتے جا رہے ہیں۔ہماری باتیں ہمارے عمل سے بہت مختلف دیکھائی دیتی ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری کہی  ہوئی باتوں کا اثر بھی کم ہوتاجا رہا ہے۔
    آج کے اس جدید دور میں جب دنیا سمٹ کر انسان کے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں سما چکی ہے ہم بہت سی اچھی باتیں لوگوں کو سوشل میڈیا کے توسط سے پہنچا سکتے ہیں لیکن یہاں بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر انتہائی نصیحت آموز باتیں شئیر کرتے ہیں لیکن جب کبھی عملی زندگی میں ان سے واسطہ پڑتا ہے تو ان نصیحت آموز باتوں کا اثر ان کی اپنی زات پر کہیں دور دور تک بھی دیکھائی نہیں دیتا۔ اسکی ایک مثال جو میری زندگی میں گزری آپکے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
    ایک جاننے والےشخص تھے وہ  بہت زیادہ ایمانداری ، سفارش کے خلاف  اور لوگوں کے حق نہ مارنے کی باتیں کرتے تھے اور جب کبھی ہم اکٹھے بیٹھتے تھے وہ ہمیں اسی طرح ہی نیکی کی باتوں کا درس دیتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے بیٹے نے کسی جاب کے لئے  اپلائی کیا وہاں ان کے بیٹے کامیرٹ نہیں بنتا تھا لیکن انھوں نے سفارش اور تعلقات کو استعمال کر کے اپنے بیٹے کو جاب دلوا دی۔اور اپنی نصیحت آموز باتوں پر خود عمل کرنا گوارا نہ سمجھا۔

    ایسے لوگوں کے بارے میں حدیث میں بھی بہت سخت الفاظ آئے ہیں
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ایک شخص کو  ( قیامت کے دن )  لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
    ہمارے معاشرے میں ایسی متعد مثالیں موجود ہیں جہاں قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹی تو اللّہ کی رحمت ہوتی ہے اور وہ خوش نصیب انسان ہوگا جس کو اللّہ تعالیٰ رحمت سے نوازے گا لیکن ایسی باتیں کرنے والے لوگ دو ،تین بیٹیوں کی پیدائش پر ہی پریشان ہو جاتے ہیں اور گھٹن محسوس کرتے ہیں
    اور اس کا زمہ دار صرف بیوی کو سمجھتے ہیں۔
    ہم بیٹھ کر باتیں تو بے تحاشا کر سکتے ہیں لیکن ہمارے اندر عمل ناپید ہوتا ہے۔
    اس مسئلے کے حل سے پہلے ہمیں ان اسباب کو جاننا چاہئے جو اس سب کی وجہ بن رہے ہیں
    ایمان کی کمزوری اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ ہے جب دل میں ایمان کمزور ہوگا یوم آخرت پر یقین نہیں ہوگا تو ہم اچھے اعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اگر ہمارا ایمان مضبوط ہوگا تو یہ ہمیں عمل صالح کرنے کی ہمت دے گا اور اللّہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کوشش کرنے کی توفیق دے گا
    دوسری بڑی وجہ نفس کی غلامی ہے اگر ہم ایمان میں مضبوط ہوں گے تو نفسانی خوا ہشات پر غلبہ حاصل کر سکیں گے لیکن اگر نفس غالب ہوگا تو ہمارے قول فعل میں تضاد لازمی پایا جائے گا۔
    کسی بھی عمل کی صحیح ہونے کے لئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے دل،عقل اور نفس کی اصلاح ہو۔اگر یہ تینوں ٹھیک ہو جائیں تو ہمارا ہر عمل ہماری باتوں کے مطابق ہو گا اور ہمیں اللّہ سے قریب رکھے گا
    اللّہ پاک ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‏@iEngrDani

  • ان کہی فریادیں تحریر ہما عظیم

    ان کہی فریادیں تحریر ہما عظیم

    وہ ڈری سہمی کھڑی تھی ایک طرف۔۔
    اسکے پاپا جی ۔سر جھکاۓ سامنے تھے جو اسکی کوٸی بات کبھی نہیں ٹالتے تھے۔
    اس کے بھیا جی جو ا کی انگلی کے اشارے پر اس کی پسند اس کے قدموں میں ڈھیر کرتے جاتے تھے
    وہیں ساتھ ہی موجود تھا اس کا مجازی خدا جسکی دل میں وہ دھڑکن بن کے دھڑکتی تھی۔۔۔اف
    پھر ایک تکلیف دہ نظر اٹھا کے دیکھے تو اسکا لخت جگر آنکھوں میں دکھ اور افسوس کے ساتھ اسے تک رہا تھا۔۔
    ایسا نہیں تھا کہ وہ اچھی لڑکی نہیں تھی
    نہیں وہ بہت اچھی لڑکی تھی
    اچھی بیٹی
    اچھی بہن
    خدمت گزار بیوی
    اور محبت کرنے والے ماں تھی
    محبت جس نے جتنی کی اس سے بڑھ کر محبت کرتی تھی وہ ان سب سے
    مگر کیا تھا کہ آج سب کے سامنے مجرم بنی کھڑی تھی
    سب کی نظروں میں اس کے لٸیے شکایت تھی
    نہیں تم اچھی بیٹی نہیں تھی پاپا کے لب ہلے
    اوہ پاپا ۔۔نہیں نہیں ایسا مت کہیں۔
    کیوں نہ کہوں ۔۔تمہاری وجہ سے مجھے جہنم میں بھیجا جا رہا ہے
    تم نے دنیا میں سر نہیں ڈھکا۔۔بے پردہ پھریں۔۔
    مگر پاپا آپ نے منع نہیں کیا کبھی۔۔آپ کہتے تو سہی ایک بار
    وہ روتی ہوٸی گویا ہوٸی
    اگر میں نے منع نہیں کیا بیٹی تو کیا تم خود نہیں جانتی تھی۔۔کیا میں نے تم پر رقم خرچ کر کے تعلیم و شعور کے لٸیے اچھے اچھے اداروں میں نہ بھیجا
    میں نے تمہاری بھلاٸ کے لٸیے بنا کہے وہ سب کیا جو میں کر سکتا تھا۔۔دنیا میں تم سر اٹھا کے جیو میں ہر وہ تمہارا زعم پورا کیا۔۔تم میری آخرت کے لٸیے خود سے میرے کہے بغیر ایک بھلاٸی نہیں کر سکیں میرے لٸیے۔۔اففف کیا شکایت تھی گڑ گٸی وہ کچھ زمین میں۔۔
    بھیا آپ۔۔کچھ مت کہو بہن کوٸی فاٸدہ نہیں۔۔میرے لفظ بھی پاپا جی ملتے جلتے ہی ہیں۔۔میں نے تمہیں دنیا میں ہر مان دیا۔۔سایہ بن کہ حفاظت کی تمہاری مگر آج تمہارا میرے لٸیے کوٸی صلہ نہیں۔۔
    مجازی خدا آپ تو مجھے جانتے ہیں نا۔۔۔
    ہاں میں تمہیں جانتا ہوں۔۔
    تمہارا والد اور تمہارے بھاٸی کی طرح آج میں بھی بیگانہ ہوں تم سے
    میں نے تمہارے لیٸے دن رات ایک کی تاکہ تمہیں میری زندگی میں آنے کے بعد باپ بھاٸی کی کمی محسوس نہ ہو۔۔تمہارے لیٸے چاند تارے دسترس میں کرنے کی چاہت تھی میری۔۔
    اور بدلے میں کیا ملا یہ جہنم کی آگ
    وہ گھومی اپنے بیٹے کی طرف بیٹا تم
    نہیں ماما۔۔۔میں نے آپ کو کیا کہنا تھا۔یہ سب تو آپ نے مجھے بتانا تھا۔۔بچپن سے میرے دماغ میں پردہ حیا شرم کی باتیں بٹھانی تھیں۔۔
    میں بھی آپ کے دنیا دکھاوے کی بھینٹ چڑھ گیا
    وہ سسک رہا تھا۔۔وہ سسسک رہی تھی۔۔
    سب سسسک رہے تھے ایک شور تھا جو تھم نہیں رہا تھا۔
    آپ نے نہیں روکا مجھے
    میں نے تمہیں تعلیم دی شعور دیا تم خود کرتی
    میں نے مان دیا۔۔میں نے چاہت دی۔۔۔۔تم ہمارے لٸیے کر جاتیں۔۔میں مجبور تھا
    آپ کرتیں آپ بتاتیں
    اف اف اف
    وہ کیا کرے کہاں جاۓ
    خود کو بچاۓ
    ان سب کو بچاۓ
    کوٸی تو بتاۓ
    بس آپ لوگ تیار ہو جاٸیں اپنی منزل کی طرف جانے کے لٸیے
    جہاں آپ نے ہمیشہ رہنا ہے
    فرشتہ غصے میں تھا کوٸی رحم نہیں تھا اس کے چہرے میں۔
    اور وہ سب کو ہانکتا ہوا ایک طرف کو لے گیا
    سسکتی زندگیاں ایک دوسرے سے ناراض ناراض پیچھے پہچھے چل دیں
    بظاہر یہ ایک مکالمہ ہے
    مگر بہت خوفناک ہے
    ایک مرتبہ دل سےپڑھیں
    یقین کریں آپکے رونگٹے کھڑے ہو جاٸیں گے
    کاش کسی دل میں اتر جاۓ میری بات

    @DimpleGirl_PTi

  • اسلام اور سیاست  تحریر:ذیشان علی

    اسلام اور سیاست تحریر:ذیشان علی

    اسلام دین فطرت ہے اور اس میں سیاست کا تصور بھی موجود ہے، البتہ قرآن کریم فرقان حمید میں لفظ سیاست تو کہیں بھی نہیں آیا لیکن اس حوالے سے چند آیات ہیں جو سیاست کا مفہوم واضح کرتی ہیں، مثلآ ! اصلاح معاشرہ ، عدل و انصاف، ظلم کرنے سے روکنا اور ظالموں کو سزا دینا اور برائی سے نفرت اور اچھائی کی طرف ہے راغب کرنے اور اس کے علاوہ انبیائے کرام کی سیاست کا بھی قرآن مجید میں تذکرہ ملتا ہے،
    ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے ان سے زیادہ تو ہم حکومت کے حقدار ہیں، نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم اور جسم میں وسعت عطا فرمائے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحب علم بھی،
    (سورہ بقرہ آیات نمبر 247)
    مندرجہ بالا آیات سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفوں کی نفی بھی ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سیاست کثیر مال و اسباب کے ساتھ کی جاتی ہے،
    دین اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام میں دینے لوگ اصلاح کے بہت قریب اور فساد سے دور ہو جائیں،
    لغت میں سیاست کے معنی کو حکومت چلانا لوگوں کی امر و نہی کے ذریعے اصلاح کرنا شمار کیے جاتے ہیں،
    اور اصطلاح میں لوگوں کو اصلاح کے قریب کرنا اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں، علماء کی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ اجمعین کی سیرت اور روش نظام درست کرنا اچھی نصیحت کرنا حق و انصاف کی خاطر جنگ کرنا اور افہام تفہیم سے مسائل کو حل کرنا سیاست ہے،
    اسلام اس معاملے میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے اس کی ابتدائی منزل ہی سیاست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم مسلمانوں کی دینی اور سیاسی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے قرآن مجید میں جنگ و صلح کے قوانین و احکام موجود ہیں،
    لیکن ہم اپنی طرف دیکھیں تو ہماری سیاست کیا ہے،
    گندی سیاست ادب و احترام لحاظ سب کچھ بالا طاق رکھ دیا جھوٹ، رشوت خوری، عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور غازی جیسے تصورات لازم ہو گئے ہو جیسے سیاست میں،
    اس لیے اکثر شریف لوگ اس صورت میں پڑھنے کو مناسب ہی نہیں سمجھتے اور یہ غلط فہمی تو بہت زیادہ عام ہوچکی ہے کہ الیکشن اور ووٹوں کی سیاست کا دین و مذہب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا یہ غلط فہمی سیدھے سادے لوگوں میں پائی جاتی ہے، خیر یہ اتنا بھی نہیں ہے لیکن نتائج بہت برے ہیں یہ بات بے جا نہیں کہ موجودہ دور کی سیاست بلاشبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے،
    سیاست میں اچھے لوگوں کو آگے آنا چاہیے قابل ترین پڑھے لکھے عوام کی خدمت کرنے والے ملک کا نظام چلانے والے،
    بلاشبہ نظام کو مستحکم کرنے والوں کو عزت ملتی ہے اور سیاست کرنا جائز ہے اصولوں کے ساتھ سیاست کی جائے بلکل اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک اسلامی مملکت کو چاہیئے کہ وہ اپنے قانون اور نظام کو بہتر سے بہترین کرے تاکہ ہر شخصں مستفید ہو،

    @zsh_ali

  • "بنانے والے کی کاریگری پر شک” تحریر : شاہ زیب

    ہم قدرت کے بہترین نظام قدرت یا نظام زندگی میں رہتے ہیں ،اس کائنات بنانے والے نے انسان کو بہترین طریقے سے بے مثال انداز میں تخلیق کیا۔
    بعض انسان اپنی زندگی اپنی حالات اور اپنے آپ سے کبھی خوش نہیں ہوتے
    ان کے خیال میں یہ سب کچھ اگر ان کی مرضی سے ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا
    اللہ تعالی نے ہر انسان کو اس کے حساب سے بہترین تخلیق کیا ہے لیکن ہم انسانوں کو بھی نین نقش نہیں پسند آتے تو کبھی جسمانی بناوٹ میں مسئلہ
    وہ رب جس نے اربوں انسان پیدا فرمائے اور سب کو ایک دوسرے سے مختلف کیا ہم اس کی قدرت پر سوال کر سکتے ہیں؟
    کیا ہم لوگ اس قابل ہیں کہ اس عظیم مزاج کی اتنی اعلی پائے کی کاریگری پر شاک یا ناپسندیدگی کا اظہار کریں ؟
    ہمیں تخلیق کرنے والی ذات کو سب سے بہتر پتہ ہے کہ کس کے لیے کیا بہتر ہے اور اس کو کس طرح تخلیق کرنا ہے ایک ادنیٰ انسان ہونے کے ناطے ہم مل کر سکتے ہیں نہ ہی اعتراض۔
    کیونکہ اگر ہمیں اس سے مسئلہ ہے تو وہ اس قاری میں نہیں بلکہ ہمارے دماغ اور آنکھ میں ہے جس سے دیکھنے پر ہمیں اللہ کی بنائی اشرف المخلوقات میں کوئی کمی بیشی نظر آتی ہے اس لئے اس عظیم ذات کی کاریگری پر سوال کرنے کی بجائے خود اور اپنے خیالات و سوچ کو بدلیں۔
    جس کے بعد اپ اسکی کاریگری پر فخر کریں گیں اور لوگ میں پیار محبت کو فروغ ملے گا ۔۔شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • عثمان کاکڑ خود تو سو گئے،مگر قوم کو جگا گئے۔ تحریر:اعجازالحق عثمانی

    عثمان کاکڑ خود تو سو گئے،مگر قوم کو جگا گئے۔ تحریر:اعجازالحق عثمانی


    عثمان کاکڑ ایک عظیم رہنما اور فاضل سیاست دان تھے ۔انکے جھکے ہوئے کندھے بھی اس بات کے گواہ تھے کہ وہ ایک مفلس اور عاجز سیاست دان تھے ۔مٹی کی محبت ان کے لہجے میں جھلکتی تھی۔ محبت کے اس قدر امیں تھے کہ اختلاف کو جنگ سمجھنے کی بجائے وہ ہمیشہ امن کے راستے کو ترجیح دیتے۔ درد سے جس قوم کے کلیجے پھٹ چکے تھے ۔وہ ان کے ہمدرد تھے۔ بلوچستان، تاریخ کے اس اندھیری رات میں ہے جہاں ہر طرف سیاہی چھائی ہوئی ہے۔ جہاں غموں کی گھٹائیں ہر وقت برسنے کو تیار ہوتی ہیں۔ جہاں درد سے بلبلاتے والدین اپنے بچوں کے تابوتوں سے لپٹے بے جان ہو جاتے ہیں۔ جہاں بھائیوں کے خون سے لت پت سفید سروں والی بہنیں چیختی دیکھائی دیتی ہیں۔ جہاں کے مشعل جلانے والے نوجوانوں کی زندگی کی مشعل ہی بجھا دی جاتی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ سارے درد اس علاقے میں بسنے والے پشتونوں کےلیے بنے ہیں۔ یہاں کے "ہزارہ کے "کلیجوں میں بھی چھید ہیں۔ یہاں کے باشندوں کا کتب خانوں میں جانا جرم عظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں جو ایک بار ظلم کے خلاف بولا، پھر وہ کبھی نہ بول پایا۔
    بلوچستان ، جہاں اداسی بال کھولے سو رہی ہے ، عثمان کاکڑ مردہ ضمیروں کو جگاتے جگاتے خود سو گئے۔ عثمان کاکڑ کے سفر آخرت کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے پورے بلوچستان کا بیٹا جارہا ہو۔ اور پورا پاکستان عثمان کاکڑ کے جانے کے درد کو محسوس کررہا تھا۔ عثمان کاکڑ بلوچوں کے لیے کیا تھا؟ سائیکل پر روتا ہوا ناعمر بچہ، روتے ہوئے ایمبولینس کے بونٹ کو چومنے والا بلوچ اور ثقافتی پہناؤوں میں ملبوس ماؤں کا رونا اور چیخنا اس بات کی علامت تھا کہ عثمان کاکڑ بلوچستان کا وہ ہیرا تھا جو اب ناپید ہوگیا ہے۔ ان مناظر سے سب کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ مگر دل تو تب دہل اٹھا جب بیٹی نے اپنے باپ کے تابوت پر سر رکھ کر کہا۔” تمہارے ساتھ جو ہوا میں جانتی ہوں، میں تمہارا انتقام لوں گی”

    ‎@EjazulhaqUsmani

  • سوکھے پَتے  تحریر:افشین

    سوکھے پَتے تحریر:افشین

    ایک ننھا پودا جب پروان چڑھتا ہے تو ایک سایہ درخت بن کے اپنی ٹھنڈی چھاؤں سے دوسروں کو راحت بخشتا ہے آکسیجن فراہم کرنے کا ایک اہم قدرتی ذریعہ ہے جتنے درخت ہونگے اتنی ماحول کو آکسیجن مہیا ہوگی گویا درخت پوری انسانیت کو فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں ایک سایہ دار درخت ہو یا پھل دار درخت دونوں فائدہ پہنچاتے ہیں خزاں کا موسم آتے ہی درخت سوکھے پتے جاڑ دیتا ہےجیسا کہ ایک درخت بھی سوکھے پتے جاڑ دیتا ہےکیونکہ سوکھے پتے اسکے کسی کام کے نہیں رہتے تو انسان بھی جب سوکھے پتوں کی طرح ہوجائے کسی کے کام کا نہ رہے اسکو بھی لوگ اپنی زندگی میں شامل نہیں کرتے۔ کہنا میں یہ چاہتی ہوں سوکھے پتے نا بنیں کے جاڑ دیے جاوٌ سایہ دار درخت کی طرح بنو جو دوسروں کو فائدہ دے اور بیکار نہ سمجھا جائے
    ادھر ایک بات زیر غور ہے درخت سایہ دار یا پھل دار بن جاتا ہے مگر اسکی نگہداشت ہوتی ہے مطلب ایک پودے کو جب زمیں میں لگایا جاتا ہے اسکو پانی دیا جاتا ہے اسکا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ کوئی جانور اسکو نقصان نہ دے پائے جتنا اس پودے کو توجہ احتیاط سے رکھا جائے گا اتنا جلدی پروان چڑھے گا اور تازہ دم ہوگا جب ایک پودے کو خیال کی ضرورت ہوتی ہے انسان تو پھر انسان ہے اسکو بھی توجہ اور خیال کی ضرورت ہوتی ہے ایک بچے کو ماں باپ کی توجہ نا ملے تو اسکی تربیت میں بھی بہت فرق پڑتاہے اور ایک دوسرے کا خیال نہ کیا جائے رشتے بھی کمزور پڑجاتے ہیں اور اگر کسی کو آپکی ضرورت ہو آپ اسکو توجہ دیں گے اسکا خیال رکھیں گے تو وہ آگے بڑھ پاتا ہے جب ایک پودا خیال توجہ پانی سب مانگتا ہے تب بڑھتا ہے تو انسان کو بھی آگے بڑھنے کے لیے اچھے الفاظ اور خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے خودغرض دنیا میں ہر کوئی اندھا دھند بھاگ رہا ہے رشتوں کو پیچھے چھوڑ کے وہ اپنا مفاد دیکھ رہا ہے اسکو یہ کیوں بھول جاتا ہے سب ادھر رہ جانا ہے صرف اچھے اعمال ساتھ جانے ہیں کیا آپ کے پاس وقت ہے کسی کو دینے کے لیے ؟ اگر کوئی آپکی توجہ سے شفا پاتا ہے کیا آپ اسکو توجہ دیں گے؟؟؟
    ہر کوئی اگر دوسروں کا سوچے دنیا ہی جنت بن جائے سوکھے
    پتے نا بنے کہ ایک دن کسی کے پاؤں کے نیچے کچل دیےجا رہے ہو.
    اگر آپ دوسروں کو فائدہ پہنچائیں گے نا صرف رب پاک خوش ہوگا بلکہ آپکو دونوں جہاں صِلہ بھی مل جائے گا. والدین سے میں کہنا چاہتی ہوں بچوں کو بس کھانا پینا نہیں چاہیے ہوتا انکو آپکی توجہ وقت چاہیے ہوتا ہے اگر آپ بچوں کی ضروریات پوری بھی کر دیتے ہیں مگر انکا خیال نہیں رکھ پاتے وقت نہیں دے پاتے بچے یا احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا باغی ہوجاتے ہیں
    ایسے ایک استاد اگر توجہ نہیں دیتا بچوں کی پڑھائی پہ تو بچے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں
    محبت کی بات کی جائے تو اس میں بھی ایک محبت والا اگر پیار بہت بھی کرتا ہے مگر ٹائم نہیں دے پاتا یا خیال نہیں رکھتا تو رشتے دم توڑنے لگتے ہیں
    ہر انسان توجہ اور خیال کا مستحق ہے کسی بیمار کے ساتھ پیار سے بات کر دی جائے تو اس کو بھی حوصلہ مل جاتا ہے کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی توجہ چاہتا ہے وہ مل جائے تو بھی وہ جینے لگتا ہےاپنے آپ کو تازہ دم رکھیں، دوسروں کو فائدہ پہنچائے اگر آپ انسانیت کوفائدہ پہنچائینگے تو یہی حقیقی زندگی ہے اپنا بھی خیال رکھیں اور خود سے جڑے لوگوں کا بھی اگر آپ اپنا قیمتی وقت کسی کو دیں گے کسی کے چہرے کی مسکان بنیں گے تو آپکی مثال اعلیٰ ظَرف انسانوں میں ہوگی.
    اگر آپ اپنی زندگی سے دوسروں کو فائدہ دیں گے تو آپ بھی ہمیشہ خوش رہینگے سوکھے پتے بن کے جینے سے اچھا ہے سایہ دار درخت کی طرح بنیں اب آپ پہ منحصر ہے آپ اپنی ذات سے کسی کو فائدہ پہنچاتے ہیں یا صرف خودغرضی کی زندگی جیتے ہیں مثالیں ان سے قائم نہیں ہوتی جو پاوُں کے نیچے روند دیے جائیں بیکار سمجھ کے پھینک دیے جائیں. مثالیں ان سے قائم ہوتی ہے جو دھوپ کی تپش خود سہہ جائیں اور دوسروں کو تسکین فراہم کریں !!
    فقط زندگی یونہی تمام نہیں ہوتی اپنی اعلیٰ ظرفی سے دوسروں کی زندگی کو رونقیں بخشیں ۔

    ‎#
    ‎@Hu__rt7