Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر:  سید محمد مدنی

    تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر: سید محمد مدنی

    تعلیم انسان کا حق ہے اور ہر انسان اچھی تعلیم کا حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں زیادہ تر اچھی تعلیم ان اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے جہاں کی فیس عام آدمی ایفورڈ کر ہی نہیں سکتا پھر دوسری بات کے ایسے اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم ہونے کے باوجود بعض انسانوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی ان میں پیسے اور معیاری تعلیم ہونے کی وجہ سے غرور آج جاتا ہے.

    آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کے ایک ٹاٹ (فرش پر دری) پر بیٹھ کر پڑھنے والا انسان ایک کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے والے سے بہت بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ ہے اچھی تربیت تعلیم تو انسان حاصل کر ہی لیتا ہے مگر تربیت گھر سے اور گھر کا مطلب ہے کے والدین سے آتی ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے وہاں کہیں کہیں یہ انسان میں غرور بھی لاتی ہے اور پھر تکبر غرور ﷲ کو ہرگز پسند نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اچھی تعلیم حاصل نا کی جائے مگر ساتھ بہترین تربیت بھی ہونی چاہیے.

    ہمارے مذہب اسلام میں تو جب آپ رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو ﷲ کی طرف سے فرمایا گیا کے پڑھ اپنے رب کے نام سے پڑھ مطلب ابتداء ہی پڑھنے سے ہوئی تو اس لحاظ سے ہمارے مذہب میں تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے پھر جس کا بہت زکر کیا جاتا ہے کے

    علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمھیں چین ہی کیوں نا جانا پڑے

    ( اہم نوٹ یہ علم کے لیے چین جانے والی بات بہت سے لوگ اسے حدیث کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے ضعیف سمجھتے تو اس کے لئے ﷲ مجھے معاف کرے)

    مشہور ہے کے گود سے گور تک علم حاصل کرو

    تعلیم ایک ایسا زیور ہے جس سے انسان نکھرتا ہے بغیر تعلیم کے انسان جاہل ہی کہلاتا ہے.

    آج کل کا دور کمپیوٹر کا ہے مگر بنیادی تعلیم بہت ضروری ہے ہم جہاں انگریزی اور ماڈرن تعلیم پر زور دیتے ہیں وہاں دینی تعلیم اور اخلاقی تعلیم بھی ضروہے تعلیم حاصل کرلی مگر دینی اخلاقی تعلیم اور تربیت حاصل نا کی تو ایس تعلیم کا کیا فائدہ جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں مگر وہ اخلاقی اور دینی تربیت سے محروم ہو. آپ صرف وسطی ایشیائی ممالک کو لے لیں جہاں پر شرح خواندگی ٩٩٪ ہے وہاں ہر دوسرا شخص پڑھا لکھا ہے

    حدیث نبوی صلی الله علیه وسلم ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اب آپ یہ بھی اندازہ لگا لیں کے قرآن اور حمیں کتنا زور دیا گیا ہے تعلیم پر

    ہم اگر اپنے آپ سے وعدہ کریں کے تعلیم اور تربیت کے معاملے پر کوتاہی نہیں برتیں گے تو یقین کریں ہم بھی اپنی شرح خواندگی کو بہترین کر سکتے ہیں تعلیم نہایت ضروری ہے آخر کیوں وسطی ایشیا یا پھر کئی ممالک تہذیب یافتہ ہیں وجہ تعلیم پر زور اور سب کے لئے یکساں مواقع.

    ہم نے تعلیم اور تربیت ضرور حاصل کرنی ہے کیونکہ یہ ﷲ کا حکم اور حدیث بھی ہے.

    Twitter Id @ M1Pak

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک  تحریر : وسیم اکرم

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : وسیم اکرم

    اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے

    اسی طرح اولاد کے ذمہ ہے کہ والدین کی اطاعت کرے ان کے راحت رسانی کی فکر کرے والدین کو مالی یا جسمانی خدمت کی ضرورت ہو تو اسے انجام دے، کبھی کبھی ان کی زیارت کے لئے جائے اگر والدین ضرورت مند ہوں تو مالی یا جسمانی خدمت انجام دینا واجب ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا

    اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنھیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔(القرآن)

    اسلام جیسے متوازن نظام اور دین نے اگر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں تواولاد کے بھی کیے ہیں
    اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں کہ والدین نے ان کو پورا کرنا ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم نے والدین کی بنیادی ذمہ داری اورتوجہ جس بات کی طرف دلائی وہ اپنے آپ کو اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اوراس کی سزا سے بچانا ہے۔ اس انداز میں ان کی تربیت کریں کہ وہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکیں

    والدین کا نعم البدل کوئی نہیں ہے وہ اولاد کی خاطر دن رات ایک کر دیتے ہیں نا سایہ دیکھتے ہیں نا دھوپ ، نا غم دیکھتے ہیں نا خوشی ہر وقت اپنی دھن میں لگن کے ساتھ اولاد کی اچھی تربیت کے لیے تیار رہتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے شادی کے بعد والدین سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہے اس وقت والدین کے سینے میں جو پہاڑ گراۓ جاتے ہیں وہی جانتے ہیں یا رب جانتا ہے پھر بھی والدین اولاد کے لیے ہر وقت دعا گو رہتے ہیں والدین کی قدر کریں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ ‎@MalikGii06

  • خلافت راشدہ تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    خلافت راشدہ تحریر: ذیشان وحید بھٹی


    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی براہراست تعلیم و تربیت اور عملی رہنمائی سے جو معاشرہ وجود میں آیا تھا اس کا ہر فرد جانتا تھا کہ اسلام کے احکام اور اس کی روح کے مطابق کسی قسم کا نظام حکومت بنانا چاہیے۔اگرچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنی جانشینی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا،لیکن مسلم معاشرے کے لوگوں نے خود یہ جان لیا کہ اسلام ایک شوُروی خلافت کا تقاضہ کرتا ہے۔اس لیے وہاں نہ کسی خاندانی بادشاہی کی بنا ڈالی گئی ،نا کوئی شخص طاقت استعمال کر کے برسراقتدار آیا نا آپ کسی نے خلافت حاصل کرنے کے لئے خود کوئی کوشش کی بلکے یکے بعد دیگرے چار اصحاب کو لوگ اپنی آزاد مرضی سے خلیفہ بنا کے چلے گئے۔اس خلافت کو امت نے خلافت راشدہ قرار دیا ہے۔اس سے خود بہ خود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں خلافت کا صحیح طرز یہی ہے۔
    انتخابی خلافت
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو حضرت عمرؓ نے تجویز کیا۔اور مدینے کے تمام لوگوں نے کسی دباؤ یا لالچ کے بغیر خود اپنی رضاورغبت سے انہیں پسند کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت لی۔حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمرؓ کے حق میں وصیت لکھوائی اور پھر مسجد نبوی میں لوگوں کو جمع کرکے کہا:
    "کیا تم اس شخص پر راضی ہوں جس سے میں اپنا جانشین بنا رہا ہوں ؟خدا کی قسم میں نے رائے قائم کرنے کے لیے اپنے ذہن پر زور ڈالنے میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور اپنے کسی رشتہ دار کو نہیں بلکہ عمر بن الخطاب کو جانشین مقرر کیا ہے،لہذا تم ان کی سنو اور اطاعت کرو”
    اس پر لوگوں نے کہا "ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے”
    حضرت عمرؓ کی زندگی کے آخری سال حج کے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ "اگر عمرؓ کا انتقال ہوا تو فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا”کیونکہ ابوبکرؓ کی بیت بھی تو اچانک ہی ہوئی تھی اور آخر وہ کامیاب ہوگئی حضرت عمر ؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہا میں اس معاملے پر ایک تقریر کروں گا اور "عوام کو ان لوگوں سے خبردار کر دونگا جو ان کے معاملات پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کے ارادہ کر رہے ہے” چناچہ مدینے پہنچ کر انہوں نے اپنی پہلی تقریری میں اس قصے کا ذکر کیا اور بڑی تفصیل کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ کی سرگز بیان کرکے یہ بتایا کہ اس وقت محصوص خالات تھے جن میں اچانک حضرت ابوبکر ؓ کا نام تجویز کر کے میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ۔اس سلسلے میں انہوں نے فرمایا "اگر میں ایسا نہ کرتا اور خلافت کا کیے بغیر ہم لوگ مجلس سے اٹھ جاتے تو اندیشہ تھا کے راتوں رات لوگ کہیں کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں اور ہمارے لئے اس پر راضی ہونا بھی مشکل ہو اور بدلنا بھی مشکل ۔یہ فعل اگر کامیاب ہوا تو اسے آئندہ کے لئے نظیر نہیں بنایا جا سکتا تم میں ابوبکر ؓ جیسی بلند و بالا اور مقبول شخصیت کا آدمی اور کون ہے۔اب اگر کوئی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی کے ہاتھ پر بیعت کرے گا گا تو وہ اور جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی دونوں اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کریں گے
    اپنے تشریح کردہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عمرؓ نے اپنی وفات کے خلافت کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک انتخابی مجلس مقرر کی اور فرمایا:
    "جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بننے کی کوشش کرے اسے قتل کر دو ”
    اس کے ساتھ انھوں نے اپنے بیٹے کو خلافت کے استحقاق سے صاف الفاظ میں مستثنی کر دیا تاکہ کے خلافت ایک موروثی منصب نا بن جائے ۔یہ انتخابی مجلس ان چھ اشخاص پر مشتمل تھی جو حضرت عمرؓ کے نزدیک قوم میں سب سے زیادہ بااثر اور مقبول عام تھے ۔
    اس مجلس نے آخر کار اپنے ایک رکن عبدالرحمنؓ بن عوف خلیفہ تجویز کرنے کا اختیار دے دیا۔انہوں نے عام لوگوں میں چل پھر کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ عوام کا رحجان زیادہ تر کس شخص کی طرف ہے ۔حج سے واپس گزرتے ہوئے قافلوں سے بھی دریافت کیا۔اور اس استصواب عام سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اکثر لوگ حضرت عثمانؓ کے حق میں ہیں ۔اسی بنیاد پر حضرت عثمانؓ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے اور مجمع عام میں ان کی بیعت ہوئی ۔حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے کہا "تمہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے یہ تو اہل شوریٰ اور اہل بدر کے کرنے کا کام ہے جس کو اہل شوریٰ اور اہل بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ ہوگا پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے ۔طبری کی روایات میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں
    "میری بیت خفیہ طریقہ سے نہیں ہو سکتی۔ یہ مسلمانوں کی مرضی سے ہی ہونی چاہیے۔حضرت علی ؓ کی وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسن کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ؟تو آپ نے جواب میں کہا”میں نا تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو ایک شخص میں عین اس وقت جب کہ آپ اپنے صاحبزادوں کو آخری وصیت کر رہے تھے عرض کیا کہ امیر المومنین آپ اپنا وسیہد کیوں نہیں مقرر کر دیتے۔
    جواب میں فرمایا "میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑ دوں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چھوڑا تھا”
    ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے متعلق خلفائے راشدین اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا متفق علیہ تصوریہ تھا کے یہ ایک انتخابی منصب ہے جسے مسلمانوں کے باہمی مشورے اور ان کی آزادانہ رضامندی سے قائم ہونا چاہیے۔موروثی یا طاقت سے برسراقتدار آنے والی عمارت ان کی رائے میں خلافت نہیں بلکہ بادشاہی تھی ۔صحابہ کرام ؓ خلافت اور بادشاہ کے فرق کا جو صاف اور واضح تصور رکھتے تھے اسے حضرت ابو موسی اشعریٰؓ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
    امارت (یعنی خلافت) وہ ہے جسے قائم کرنے میں مشورہ کیا گیا ہو۔اور بادشاہی وہ ہے جسں پر تلوار کے زور سے غلبہ حاصل کیا گیا ہو۔
    @zeeshanwaheed43

  • پاکستان میں عدالتی اصلاحات وقت  کی اشد  ضرورت ہے: تحریر  محمد جاوید

    پاکستان میں عدالتی اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے: تحریر محمد جاوید

    اچھی حکمرانی کے لیے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور سستہ انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے ، خاص طور پر ان غریبوں کو جو بااثر لوگوں کے ہاتھوں آئے دن ہراساں ہوتے ہیں.
    اور بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے۔ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں غریب کو بنیادی حقوق نہیں ملتے اور غریب لوگ اپنے آپکو کمزور محسوس کرتے ہیں ، اور ان کا حکومتی اداروں سے بھروسہ ختم ہوجاتا پھر اپنے جایز کام کرانے کے لئے مجبوران غریب لوگوں کو رشوت جیسی لعنت کا سہارا لینا پڑتا۔
    ہمارے عدالتوں میں ججز کی تقرريوں کا نظام ناقص ہے اگر ہم بات کریں اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کا تو ہمیں ميرٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آتا اس بات کا جائزہ لینے سے پتا چل جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں ميرٹ کی دهجیاں اڑاتی ہے۔ ان پارٹیوں کے مداخلت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے وکلا ونگزکے لوگ یا سیاسی رہنمائوں کے ذاتی وکیل ججز بنا دئیے جاتے ہے۔ پھر انکے بڑے بڑے چیمبرز لا فرمز اور چند خاندانوں کے لوگ ججز بنائے جاتے ہے۔ یہ پارٹیاں ميرٹ کے آگے دیوار کی طرح حائل ہو جاتی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ سیاسی پارٹیاں ميرٹ کا مذاق اڑا رہی ہوتی اور انکا کوئی پرسان حال نہیں۔
    ملک کے اندر حقیقی میرٹ صرف competitive امتحان کے ذریعے قایم رہتا ہے۔ ریاست کے باقی اداروں میں بھی بھرتیاں مقابلے کے امتحان کے ذریعے ہوتی ہیں۔ انتظامی افسران تو سخت امتحانی مقابلہ CSS, PMS اور PCS کے امتحان سے گزر کر آتے ہیں۔آنے کے بعد وہ کیا کرتے ہیں وہ ایک علیحدہ بحث ہے پھر کسی دن ان کے کارکردگی اور نااہلی پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کر لونگا آج فوکس عدلیہ پہ ہے اب اگر ديگر اداروں میں یہ نظام ہے تو پھر عدلیہ میں بھرتیوں کے لئے مقابلے کا امتحان کو رائیج کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔
    ریاست کے سب سے اہم ادارہ جیس کا کام ہے قانون کی بلادستی کو قائم کرنا اور انصاف کی فراہمی ہے اتنے اہم ادارے میں ميرٹ کا نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے ۔
    میری دانست میں عدلیہ میں میرٹ کا تنازع اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک جج صاحبان competitive امتحان کے ذریعے بھرتی نہیں کئے جائیں گے۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہائی کورٹس کے ججوں کی بھرتیاں مقابلے کے امتحان کے ذریعے کی جائیں تاکہ ميرٹ کا بول بالا ہو ۔
    یہ ضروری ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے یہ کا م باآسانی کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے بھی بہتر حل یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں وہ ججزلگایں جائے جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میں اور سیشن کورٹس میں مقابلے کے امتحان کے ذریعے براہ راست بھرتی ہوتے ہیں پھر انکو سینیارٹی کی بنیاد پر لگائے جائیں۔ اس طریقہ کار کو فولو کرنے سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ماتحت عدلیہ میں کام کا تجربہ بھی ہوگا جو موجودہ طریقہ کار میں بہت کم ججوں کے پاس ہوتا ہے۔
    ماتحت عدلیہ میں کام کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں بہت سے کمی رہ جاتی ہے۔
    ميرٹ پہ برتیاں نہ ہونے سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلوں میں سیاسی عنصر نظر اتا ہے لاہور ہائی کورٹ کے بہت سارے کسیز کا رزلٹ ہمارے سامنے ہیں اب ضروریاس امر کی ہے کہ ميرٹ کو فولو کیا جائے اس سے یہ ہوگا کہ عدالتی نظام میں اسے جج صاحبان سامنے آئیں گے جو اپنے دم پر اور اپنی محنت پر مقابلہ کر کے جج بنیں گے۔چونکہ انکی نوکریا ں کسی کی مرہون منت نہیں ہونگی، اسلئے انکا انصاف فراہم کرنے کا معیار بھی بہت بلند ہوگا۔
    ہماری عدلیہ کی کار کردگی یقینی طور پر اطمینان بخش نہیں ہے انصاف کی فراہمی میں ہمیشہ تاخیر ہو جاتا ہے ۔ غریب عوام عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے مگر انصاف ہے کہ ملتا ہی نہیں عام طور پر یہ کہاں جاتا ہے کہ ایک عام سی کیس کو حل کرنے میں ہماری عدالتوں کو تین سال لگ جاتے ہیں۔
    عدلیہ کی ایک یہ بھی ناکامی ہے کہ اس نے استغاثہ اور پولیس کو کھلی چھٹی دے رکھی ہوتی جو سیاسی ایما پر کسیز پہ اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اگر کسی طاقتور کا کیس ہو تو انویسٹگیشن پر بھی انکا کنٹرول ہوتا پھر غریب کو انصاف ملتا ہی نہیں یہ عدلیہ کی نااہلی کی علامت ہے۔ اگر عدلیہ کے اوپر کام کا بوجھ زیادہ ہے تو اسے عدالتی نظام میں اصلاحات لانے چائے۔ اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چائے۔
    اگر ججز کے پاس کیسز زیادہ ہے تو اضافی ججز کو تقرر کرنا چائے۔ تاکہ کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جاسکے۔
    ان تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا چائے جو فضول میں کیسز کو بار بار التوا کا شکار بنادیتے ان افراد پر بھاری جرمانے کر کے قانونی چارہ جوئی کرنی چائے تاکہ جلد از جلد انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔
    ججز کو لکھنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
    دلائل اور زبانی دلائل کے لیے وقت محدود کرنا چائے ۔ تمام عدالتی کارروائیوں کی نقلیں اور انہیں تمام فریقین کے لیے دستیاب کرانے سے وقت کا ضیاع کم ہو جائے گا۔
    جھوٹے وجوہات کے بنیاد پر بنے معمولی تنازعات کو سمری کے طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
    سول ، فوجداری اور تجارتی مقدمات الگ الگ
    عدالتوں میں حل کرنا چائے نیز ان عدالتوں میں ججز کی تقروریاں ان کی متعلقہ مہارت اور جج کے تجربے کی بنیاد پر ہونی چائے۔
    توہین عدالت کے قوانین کو ختم کرنا چائے کیوں کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر ججز اسکو ذاتی مفاد کے لے استعمال کرتے ہیں۔
    عدلیہ کو چائے کہ باقاعدہ مانٹرنگ کریں اور ماتحت عدالتوں کے کارکردگی کی نگرانی کریں اور ان کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں شکایات کو سنے اور تحقیقات کریں اور پھر سالانہ رپورٹوں کی شائع کریں تاکہ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر آجائے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ غریب عوام کو سستہ انصاف مل جائے اور ملک میں عدل وہ انصاف کا بول بالا ہو ۔ اور ضروری ہے کہ ملک کے اندر امیر اور غریب کے لئے ایک ہی قانون ہو جیس ملک میں غریب کے لئے الگ قانون ہو اور امیر کے لئے الگ قانون ہو وہاں انصاف کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
    پاکستان کے عدالتی نظام کے اندر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے موجودہ نظام انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے مگر اصلاحات کے ذریعے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔

    ‎@I_MJawed

  • میری ذاتی رائے تحریر: عامر میکن

    میں ایک مسلم پاکستانی باشندہ ہوں ،،
    کچھ دن پہلے میرے ایک دوست نے بنک سے قرضہ لینا تھا تو اس نے مجھے گرنٹر بننے کو کہا میں نے ناچاہتے ہوئے بھی ٹھیک ہے کہہ دیا
    اگلے دن بنک سے دو آدمی آئے ہم نے ان کے لیے چائے وغیرہ کا انتظام کیا ان کے ہاتھ میں ایک فارم تھا جو میرے دوست کے نام پر بنا ہوا تھا انہوں نے اس فارم پر ہمارے سائن وغیرہ لیے اور کہا کل آکر پیسے لے جانا اور وہ چلے گے ،،
    تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ تم کتنے پیسے لے رہے ہو اور اس میں سود کتنا دینا پڑے گا
    تو اس نے بتایا کہ
    میں نے ایک لاکھ 100000 روپے کا لئون اپلائی کیا ہے اور یہ مجھے پچانوے ہزار روپے دیں گے اور میں نے ان کو واپسی ایک لاکھ چوبیس ہزار دینے ہیں
    یعنی چوبیس ہزار سود اور پانچ ہزار بنک والوں کو رشوت
    رشوت ،،میں نے بہت حیرانگی سے پوچھا کہ یار وہ اس بنک کا اپنا ادارہ ہے اور وہ بھی رشوت لیتا ہے
    وہ بولا ہاں بھائی دینے پڑتے ہیں نہیں تو کبھی ان کا جنریٹر خراب ہوتا ہے کبھی سسٹم نہیں چلتا تو کبھی مینجر چھٹی پر ہوتا ہے اس لیے کرنا پڑتا ہے
    اب چلتے ہیں ہم پہلے فقرے کی جانب،،
    میں ایک مسلم پاکستانی باشندہ ہوں،،
    میرا مذہب اسلام ہونے کے ناتے میرے دین میں سود حرام ہے

    سود الللہ اور اس کےرسول ﷺ سے اعلان جنگ ہے
    اس میں تو کسی بھی مسلمان کی دوسری رائے نہیں ہے ایک اور بات میرے مذہب میں رشوت لینے والا بھی اور رشوت دینے والا بھی دونوں جہنمی ہیں
    کیا میرا اس بات پر یقین ہے یار سوچنے والی بات ہے
    یقیناً اگر میرا ایمان پختہ ہوتا تو میں ہر گز ایسا نا کرتا

    چلیے تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں
    ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ سب کچھ کیوں کررہے ہیں وہ اس لیے جناب کہ ہمیں اس سود کو کھانا ،حلال بتایا گیا ہے
    باقاعدہ پاکستان کے آئین میں اسے بزنس کا درجہ دیا گیا ہے اور ہم ہیں کہ اس کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے ہماری دینی غیرت کا آخری نعرہ یہ ہی ہوتا ہے
    ،،او بس بھائی کیا کرسکتے ہیں ،،

    بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے ہزاروں گناہ جو ہم جان بوجھ کر کرتے پیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہم ان گناہوں سے بچنا بھی نہیں چاہتے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری دین سے دوری ہے کہ ہم نے دین کو صرف مسجد تک محدود کر دیا ہے ہم دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ ہم کو اس دور میں دین پر چلنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی لگتا ہے ہم نے کبھی اس بات کا تصور ہی نہیں کیا کہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی کبھی نظام مصطفیٰ ﷺ نافظ ہوگا
    ہم ان بہتر سالوں میں اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ ہم نے (معزرت کے ساتھ) سیاست کو دین سے بالاتر سمجھ لیا ہے یہاں تک کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کی عزت آبرو (معاذاللہ)سے زیادہ عزیز اپنی معیشت ہو چکی ہے ہم دنیاوی لیڈر کی محبت میں اس قدر مدہوش ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے لیڈر سے گستاخ رسول ﷺ سے لا تعلقی کا مطالبہ بھی نا کرسکے جیسا کہ حالیہ دنوں میں فرانس کا معاملہ تھا
    یار ٹھیک ہے تمہارا لیڈر اچھا ہے وہ ایماندار ہے لیکن اس کی محبت میں انسان کو اس قدر مدہوش نہیں ہونا چاہیے کہ آپ حق اور باطل کی پہچان نا کر سکیں
    دعا ہے الللہ رب العزت ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ،،

    ،،
    ‎@Amirmaken123

  • ذہنی رحجان تحریر:افشین

    ذہنی رحجان تحریر:افشین

    ہمارا ماحول ہماری ذہنیت پہ اثر انداز ہوتا ہے اچھے ماحول سے اچھی عادت اور برے ماحول سے برے تاثرات خود بخود ذہنیت پہ اثر انداز ہوتے ہیں بچے جس ماحول میں تربیت پاتے ہیں وہی کچھ زندگی میں کرتے ہیں ۔اگر ہر طرف منفی ہورہاہوگا تو اچھا کیسے سوچا جا سکتا ہے ؟کہتے ہیں مثبت سوچ سے سب اچھا رونما ہوتا ہے ہماری سوچ پہ سب منحصر ہے۔ پر میرا ماننا ہے اگر ہر طرف منفی ہورہا ہوگا تو ہمارا ذہن اچھا سوچ ہی نہیں سکتا صرف دل کو تسلی دینے والی بات ہے "نہیں ایسا نہیں ہم ہی ایسے سوچ رہے ہیں سب اچھا ہورہا ہے” جب کہ سب غلط ہورہا ہو۔
    جب ہم کسی انسان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسکی ذہنیت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسکی ذہنیت اگر گندی ہوگی ہم اسکو غلط ہی بولیں گے اچھی ہوگی تو اچھا بولیں گے تو جب منفی نظر آئے اچھا کیسے بولیں ؟؟سوچ کے ساتھ کردار کو بھی مثبت کرنے کی ضرورت ہے ہر انسان کی ذہنیت الگ ہوتی ہے جب دو لوگ ایک جیسا سوچیں تو سب صیحح اور اگر مترادف ذہنیت ہو تو نا اتفاقی، بحث، تضاد خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔
    سوشل میڈیا پہ جیسے واٹس اپ استعمال کرنے والے سٹیٹس میں دوسروں کو جس طرح کا خود کو ظاہر کررہے ہوتے ہیں بعض اوقات ویسے لوگ حقیقت میں ہوتے نہیں۔ بعض لوگ سٹیٹس لگا کے خود کو نیک اچھا شریف سلجا ہوا انسان ظاہر کرتے ہیں پر حقیقت میں لوگ الگ ہوتے ہیں ۔اب ظاہر ہے ہم دیکھیں گے ہمارا ذہن یہی سوچے گا نیک اور متقی انسان ہے پر اکثر ایسا ہوتا نہیں ۔
    جو میٹھی باتیں کریگا ہمارا ذہنی رحجان زیادہ اس کی طرف مائل ہوگا اور لازمی نہیں مٹھاس کے پیچھے شہد ہی ہو، پردے کے پیچھے نیک شخصیت ہی ہو! حقیقت اسکے برعکس بھی ہو سکتی ہے ۔ کسی سے اختلاف کی بات نہیں بلکہ بات حقیقت کی ہے۔ ایک اچھی لڑکی میں منفی دیکھ کے تہمت لگا دی جاتی ہےتو لازمی نہیں جو دیکھ رہا ہے وہی کچھ ہو۔ اپنے ذہن کو مثبت کرنے کے ساتھ حقیقت پسند بنائیں ۔آج کل کے ڈرامہ سیریل سبق آموز کم فیشن شو زیادہ لگ رہے ہوتے ہیں ہر طرح کا فیشن اور بے حیائی دکھائی جارہی ہوتی ہے ایسی ایسی سازشیں چالاکیاں دکھائی جارہی ہوتی ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں بھی نہیں ہوتیں۔ ڈرامہ اسلئے دیکھا جاتا ہے ذہنی سکون میسر ہو پر سازش بھرے ڈرامے دیکھ کے یہ گمان ہونے لگتا ہے ہمارے اردگرد ہر طرف یہی کچھ ہورہاہے۔ جن کو چالاکیاں سازشیں کرنی نہیں آتی وہ بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کیسے کس کو نقصان دینا ہے۔ اب دیکھنے والے کا ذہن لازمی نہیں کچھ اچھا تاثر ہی لے وہ منفی عادت بھی ذہنیت میں ڈال سکتا ہے ۔جو دیکھایا جائے گا وہی لوگ دیکھے گے اور اسی کی طرف ذہنی رحجان ہوگا۔
    بے حیائی دیکھ کے بعض لوگ بھی وہی کچھ کرنے لگتے ہیں ۔ پاکستانی ڈراموں میں ہمارا کلچر دیکھایا جائے اچھے سبق آموز ڈرامہ ہو تاکہ ہماری نسل کچھ اچھا سیکھے ہماری نسل محبت کہانی سے نکل نہیں پا رہی چھوٹے بچوں کا ذہنی رحجان پڑھائی کی طرف کم اور فضول کاموں میں بڑھ رہا ہےمیں خود جب ڈرامہ دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے ہر کوئی میرے خلاف سازش کر رہا ہے ذہنی دباو بڑھنے لگتا ہے لوگوں کو آپ ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔ برائے مہربانی کچھ اچھا دیکھائیں۔بچوں کو موبائل کم دیں ایسے پروگرام دیکھائیں کہ کچھ اچھا سیکھیں پر وہ وہی کچھ دیکھتے اور کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔ جب ماں باپ چوبیس گھنٹے موبائل ہاتھ سے نہیں رکھتے، بچے بھی پر مانگتے ہیں ضدی بچے پر کہا سنتے ہیں ؟مار پیٹ کے بچوں کو منع کیا جاتا ہے مگر ماں باپ خود کو نہیں بدلتے اولاد کا کیا قصور کس لیے مارا پیٹا جاتا ہے؟ انکا ذہن آپ خود ایسا بنا دیتے ہیں معصوم بچوں کو کیا پتا کیا صیحح ہے کیا غلط ہے۔ بے حیائی کی روک تھام کریں بعض اوقات ہمارا ذہن وہ کچھ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے جو سوچنا نہیں چاہتاذہن کو ہر وقت مثبت رکھنا ہر انسان کے بس میں نہیں ہوتا آزاد خیالی کی بھی حدود مقررہوتی ہیں۔ اتنا بھی آزاد خیال نہیں ہونا چاہیے کہ بے حیائی سرعام کر کے کہہ دیا جائے لوگوں کی سوچ ہی ایسی ہے لوگ تو بہت کچھ کہتے ہیں پر ہر وقت غلط بھی نہیں کہتے، ہمارا ذہن کسی کی غلامی نہیں کر سکتا لازمی نہیں جیسی آپ کی سوچ ہو ویسی سب کی ہو۔ جیسے فیشن میں عجیب و غریب لباس پہنے ہوتے ہیں تن خالی ہوتا ہے جسم آپ لوگوں کا ہے زندگی بھی آپ لوگوں کی ہے جوکہ اللہ پاک دی ہے اسکو سنوارے پر بے حیائی سرعام نہ کریں بے حیائی دیکھاکہ دوسروں کو گمراہ نہ کریں۔ اللہ پاک ایسے اقدام نا پسند فرمائے ہیں۔ اگر آپ گمراہی پہ چل ہی پڑے ہیں تو دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ گمراہ نہ کریں اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور گھروں میں بھی ایسے زیادتیوں کے مسلے ان وجوہات کی وجہ سے درپیش آرہے ہیں۔ اللہ پاک اس عمل کو نہ پسند فرمایا ہے جو کریں اپنی حدود میں رہ کے کریں نہ خود جہنم کے عذاب کے مرتکب بنے نہ دوسروں کو بنائیں۔ اپنے کردار کو صیحح کریں تاکہ کوئی آپ کے بارے میں منفی نہ سوچے۔
    اپنے ذہنوں کو دوسروں کے تابع نہ کریں ایسی چیزوں سے دور رہے جس سے نا صرف اپکی ذہنیت بلکہ زندگی بھی خراب ہورہی ہو۔

    ‎#

    ‎@Hu__rt7

  • وقت ایک عام نعمت ہے تحریر: زبیر احمد

    وقت ایک عام نعمت ہے تحریر: زبیر احمد

    صوفیائے کرام فرماتے ہیں وقت کاٹنے والی تلوار ہے، وقت پانی کی طرح ہے اس سے کسی لمحے سکون نہیں، خدا ڈراتا ہے کہ تم کہیں رہو موت تمہیں نہیں چھوڑے گی، وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہر کام کا ایک وقت ہے لیکن انسان موت کا وقت نہیں جانتا۔ انبیاء کرام بھی نصیحت کرتے ہیں کہ وقت کے بارے میں ہوشیار رہو، وقت برباد نہ کرو، وقت غیرضروری باتوں میں صرف نہ کرو، گھڑی گھڑی سیکنڈ سکینڈ کا حساب دینا پڑے گا۔ تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے، صدیوں کا تجربہ بھی ہمیں یہی سبق سکھاتا ہے کہ دنیا میں جو کامیاب لوگ گزر چکے ہیں، ان کی کامیابی کا راز صرف وقت کی قدر اور اس کا صحیح استعمال تھا۔وقت ایک ایسی زمین یے کہ اگر اس پہ محنت کی جائے تو یہ پھل دیتی ہے بے کار چھوڑ دی جائے تو کچھ بھی نہیں ملتا یا خاردار جھاڑیاں ہی اگاتی ہے۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا ایک دریا ہے۔ اس کا بہاو انتہائی تیز ہے۔ جونہی کوئی چیز وقت کے دریا کی زد میں آتی ہے وہ اس کو بہا کے لے جاتا ہے۔ ایک مثال ہے کہ وقت بھی ایک سونا ہے، لیکن یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو وقت کی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں جو لوگ پاکیزہ خیالات اور اچھی فکروسوچ کے حامل ہوتے ہیں ان کے لئے وقت بہت قیمتی ہے۔ پیسہ دولت اگر چلا بھی جائے تو واپس حاصل کیا جاسکتا ہے اور پہلے سے کئی گنا زیادہ ہوسکتا ہے لیکن جو وقت اور زمانہ گزر گیا وہ کسی قیمت پر بھی واپس نہیں آسکتا۔ آج مسلم معاشرے میں پیدا ہونے والے بچے کی زندگی تباہ کرنے کے لئے ہزار جال بچھائے گئے ہیں، موبائل،ٹی وی، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، رومانوی ڈرامے اور فلمیں غرض کہ ہر قدم پہ جال بچھا رکھے ہیں لیکن ہماری نئی نسل کو ان چیزوں کے بے جا استعمال سے وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں ہورہا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد یہیں تک محدود نہیں ہے۔
    وقت گزر جانے پہ افسوس کرنا بے نتیجہ ہے، موت پہ اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا وقت کے ختم ہونے پر، دوزخی یہی کہیں گے”اے خدا تو ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیج دے” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یے” کوئی دن ایسا نہیں ہے جب طلوع ہوتا ہے تو پکار پکار کر کہتا اے انسان میں تیرے عمل پہ شاہد ہوں، مجھ سے کچھ حاصل کرنا ہے تو کرلے، میں تو اب قیامت تک لوٹ کر نہیں آونگا۔
    وقت سے کام لینے والے اس تھوڑی سی زندگی میں موجد بن گئے، فلاسفر بن گئے، بزرگان دین اور اولیاء بن گئے، دین و دنیا کے مالک بن گئے۔ فضول کاموں سے ایک گھنٹہ روزانہ بچا کر معمولی آدمی بھی کسی سائنس کو پوری طرح اپنے قابو میں رکھ سکتا ہے، دن میں ایک گھنٹہ روازنہ خرچ کرکے جاہل انسان بھی دس سال میں ایک عالم بن سکتا ہے، غرض روازنہ ایک گھنٹہ کی بدولت ایک حیوانی زندگی، کارآمد اور مسرت بھری انسانی زندگی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
    ایک اور دھوکہ جو انسان کو وقت ضائع کرنے پہ افسوس سے بچاتا رہتا ہے اور وہ لفظ ہے "کل”، انسان کی زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو "کل” کے لفظ کی طرح گناہوں، غلطیوں اور لاپرواہیوں اور اتنی بردباد ہونے والی زندگیوں کے لیے جواب دہ ہو۔کامیاب لوگوں کی ڈکشنری میں "کل” کا لفظ نہیں ہے، یہ ایسے لوگوں کے استعمال میں آنے والا لفظ ہے جو صبح سے شام تک خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں اور صرف خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ کامیابی کے راستے پہ بے شمار اپاہج کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی عمر "کل” کے تعاقب میں گنوا دی ہے۔ غرض کے وقت وہ سرمایہ یے جو ہر شخص کو قدرت کی طرف سے یکساں عطا ہوا ہے۔ وقت کے درست استعمال سے ہی وحشی مہذب بن جاتا ہے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو عوام حکمران، امیر غریب، طاقتور اور کمزور کی یکساں ملتی ہے۔ وقت کی قدر اور زندگی کی اہمیت کا احساس اللہ کا انعام ہے اور یہ انعام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ اللہ ہمیں وقت کی قدر اور اس کی اہمیت کا احساس عطا فرمائے، آمین

    tweets @KharnalZ

  • پیغام یوم آزادی  14 اگست 1947 تحریر بشارت حسین

    پیغام یوم آزادی 14 اگست 1947 تحریر بشارت حسین

    ہر سال چودہ اگست پہ ہم بچوں سمیت بڑے دھوم دھام سے جوش و خروش سے جشن آزادی مناتے ہیں۔ جھنڈے سینے پہ سجائے جاتے ہیں۔ ہر طرف قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔
    وقت کے ساتھ ساتھ یوم آزادی صرف ایک فیشن اور تہوار بن گیا اور ہمیں ایک اور موقع مل گیا جس میں ہم یوم آزادی کے نام پہ ہلا گلا کریں اپنی معاشی برتری ثابت کریں اور دولت سے اپنی محب الوطنی کا ثبوت دیں۔
    ہر سال چودہ اگست ہمیں اپنے اباو اجداد اور بزرگوں اور اسلاف کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن عزیز کے حصول کیلئے بے بہا قربانیاں دیں۔
    پاکستان ہمیں یوں ہی نہیں ملا بلکہ اس کی آزادی کے بدلے ہمارے بزرگوں نے اپنی جان مال عزت آبرو تک کو قربان کیا۔
    جب چودہ اگست انیس سو سینتالیس 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو غیر مسلموں (ہندو سکھ اور انگریز) نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ مسلمان پاکستان کے قیام کے بعد ہندوستان سے نکلنے لگے لیکن راستوں میں پاکستان کے دشمنوں نے جگہ جگہ مسلمانوں کو گھیرا۔ مسلمان مہاجرین کے قافلوں کو جلایا گیا بوڑھے بچوں اور عورتوں کو قتل کیا گیا۔ مسلمان عورتوں کی عزتوں سے کھیلا گیا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے ہر طرح کے ظلم و ستم سہے لیکن کوئی بھی ظلم مسلمانوں کے بلند و بالا حوصلوں کو شکست نہ دے سکا۔
    ہندوستان میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مسلمان اب دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے چنانچہ مسلمانوں کے اندر ایک علیحدہ ملک بنانے کی جستجو پیدا ہوئی۔ ہم یوم آزادی کے سبق کو بھول کر ایک جشن کے پیچھے پڑے ہیں آج ہمیں یاد ہی نہیں کہ اس ملک کو حاصل کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
    آزادی سے پہلے مسلمان یہ جانتے تھے کہ مسلمان دوسری قوموں سے الگ ہیں انکا رہن سہن طور طریقے راہیں سب جدا ہیں لیکن آج ہم اس سبق کو بھول گئے۔
    پاکستان کی آزادی کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے دین کے مطابق اپنی مرضی سے الگ تھلگ رہیں۔
    پاکستان کی آزادی دراصل ہمیں دین کی آزادی کا پیغام تھا کہ اب ہم اپنے وطن میں بغیر کسی دوسری طاقت کے خوف سے اپنی زندگی اپنے دین کے طریقوں سے گزاریں گے۔
    بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ ان سب سے آزاد ہو گیا ہمارے آباؤ اجداد تو اس سبق کو نہیں بھولے لیکن ہمارے دلوں سے آزادی کی قدر وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گئی۔
    یوم آزادی پاکستان ہر سال ہمیں ایثار ، قربانی ، بلند حوصلے، احساس، غریب پروری اور حب الوطنی کا پیغام یاد دلاتا ہے۔ یوم آزادی پاکستان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون ہیں؟
    یوم آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے جب مسلمان دوسری جگہوں سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو یہاں کے مکینوں نے کیسے اپنے گھروں میں انکو جگہ دی۔
    مہاجرین کو اپنے ساتھ زمینوں میں شریک کیا اپنے ساتھ کاروبار میں بھائیوں کی طرح شراکت داری دی۔
    جب مہاجرین ہندوستان سے آئے تو راستوں میں اپنے خونی رشتوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھا لیکن جب وہ پاکستان پہنچے تو ان کو یہاں اپنے کھوئے رشتوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی انکو نئے بیٹے اور بیٹیاں ملیں یتیموں کو نئے گھر نئے رشتے ملے۔ خونی رشتوں کی کمی کو پورا ہی نہیں کیا بلکہ انکے زخموں پہ مرہم بھی لگایا۔
    اخوت و بھائی کی ایک مثال قائم کی۔ درس انسانیت اور احساس کا سبق دیا اسلامی بھائی چارہ قائم کیا اور آنے والی نسلوں کے لیئے ایک نظام اور ایک سبق چھوڑا۔
    ہر سال چودہ اگست یوم آزادی ہمیں اس پیغام کو یاد کراتی ہے ہم اپنے کمزور طبقے کی مدد کریں انکی ضروریات کا خیال رکھیں۔ آج ہمارا ملک جن حالات سے دوچار ہے اس سے تقریبا سبھی بخوبی آشنا ہیں۔ ہم انتہائی کٹھن مراحل سے گزر رہے ہیں آج ہمارے ملک اور ہماری قوم کو انہی قربانیوں اور ایثار کی ضرورت ہے جس کا اظہار چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کیا گیا۔
    آئیں اس یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر یہ عہد کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہم اپنے اسلاف کے پڑھائے ہوئے سبق کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی ترقی کے خواہاں ہوں گے
    ان شاء اللہ

    /Live_with_honor?s=09@

  • کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی

    نوبال کرکٹ کے کھیل میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

    کرکٹ میں نوبال کا بڑا حصہ ہوتا ہے کئی دفعہ نوبال کی وجہ سے میچ کا پاسا پلٹ جاتا ہے اور صرف نوبال کی وجہ سے ہار رہی ٹیم جیت جاتی ہے اور جیت رہی ٹیم ہار جاتی ہے اور یہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

    پہلے نو بال کروانے پر بیٹنک کرنے والی ٹیم کو ایک اضافی ڈلیوری دی جاتی تھی اور ایک اضافی رن دیا جاتا تھا لیکن آج کے دور میں اس کے ساتھ (فری ہٹ) بھی دی جاتی ہے جس میں بلے باز کے آوٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا جوکہ گیند باز کے لیے سخت سزا ہے۔

    کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے بہت سی نوبال کرائیں لیکن کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے اپنے پورے کیریر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں بالنگ کے لیے آتے تو بڑے بڑے بلے بازوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے اور ان گیند بازوں کی فہرست درج زیل ہے

    1- عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا شمار بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کرکٹ کے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبل نہیں کروائی وہ ایسے آل راؤنڈر تھے جن کے میدان میں اترتے ہیں مدمقابل کھلاڑی محتاط ہو جاتا تھا انہوں نے ہمیشہ اپنے کھیل سے قوم کا سر بلند کیا اور بطور آل راؤنڈر اپنی ٹیم کو جتوا کر پاکستان کی عزت بڑھائی آل راؤنڈر کے طور پر حیران کن پرفارمنس دی۔ 1971 میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنی قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دے کر آپ نے کرکٹ کیریئر کا اختتام کیا۔

    عمران خان نے اپنے 21 سالہ کیریئر میں 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلنے اور ٹیسٹ کیریئر میں 362 اور ون ڈے میں 182 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے اور ٹیسٹ میں 3807 اور ون ڈے میں 3709 رنز بنائے جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 270000 گیندیں کروائیں جن میں سے ایک بھی نوبال نہیں ہوئی جو کہ ایک شاندار کار نامہ ہے۔ عمران خان پاکستان کے عظیم کپتانوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جنہوں نے ٹیم کو ساتھ لے کر محنت کی اور کامیابی حاصل کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی حکمت عملی نے انہیں سیاست کے میدان میں بھی کامیاب کیا

    2- لانس گبز

    لانس گبز ویسٹ انڈیز کے وہ مایا ناز کھلاڑی تھے جنہوں نے عالمی کرکٹ میں بہت سے ریکارڈ اپنے نام کیے وہ 300 وکٹیں لینے والے دنیا کے دوسرے بالر تھے جبکہ جبکہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے اسپنر بھی تھے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1958 میں کیا اور 1976 تک کھیلتے رہے۔
    گبز نے 79 ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلے اور انہوں نے ٹیسٹ میں 309 اور ون ڈے میں 2 وکٹیں حاصل کیں۔ لانس گز نے بھارت کے خلاف 38 رنز کے بدلے 8 وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو فتح سے ہمکنار کیا
    انہوں نے اپنے کیرئیر میں 27000 بالز کروائیں لیکن کوئی بھی نوبال نہیں دی اور کرکٹ کی تاریخ میں لانگ گبز پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پورے کیریئر میں نو بال نہ کروانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اس سے پہلے کوئی بھی یہ ریکارڈ نہ بنا سکا جس نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہ کروائی ہو۔

    3- آئن بوتھم

    آئن بوتھم کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بہت سے غیر معمولی ریکارڈ قائم کیے 1976 میں انہوں نے اپبین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنے کیریئر کا اختتام کیا ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔

    آئن بوتھم نے 102 ٹیسٹ اور 116 ون ڈے کھیلے ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 5200 اور ون ڈے میں 2113 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے

    آئن بوتھم نے ٹیسٹ میں 338 اور ون ڈے میں 145 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریبا 28000 گیندے کروائی جن میں ایک بھی نو بال نہیں کروائی جوکہ کرکٹ کی تاریخ میں انکا ایک ریکارڈ ہے۔

    4- ڈینس للی

    ڈینس للی آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بالر تھے جنہوں نے 70 کی دہائی میں تہلکہ مچایا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن کر 1984 میں ریٹائرڈ ہوئے
    ڈینس للی کا جیف تھامسن کے ساتھ بہترین کیریئر تھا جو آسٹریلوی کرکٹ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں 70 ٹیسٹ اور 63 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں 355 اور ون ڈے میں 103 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈینس للی کی جارحانہ پرفارمنس ہمیشہ تماشائیوں کو حیران کر دیتی تھی اور آسٹریلوی شائقین یہ جان کر بہت خوش ہوں گے کہ انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائ۔

    5- باب ولس

    باب ولس انگلینڈ کے عظیم گیند بازوں میں سے ایک تھے 1971 میں انہوں نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا 1978 میں انہوں نے ون ڈے (کرکٹر آف دی ائیر) ایوارڈ حاصل کیا۔1984 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹار اسپورٹس کے ساتھ بھی کام کیا۔
    باب ولس نے 90 ٹیسٹ اور 64 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں انہوں نے 325 اور ون ڈے میں 80 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریباً 21000 بالز کروائیں لیکن ایک بھی نو بال نہیں کروائی۔

    2019 میں "باب ولس” 70 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے

  • از خدا جوییم توفیق ادب  محمد عتیق گورائیہ

    از خدا جوییم توفیق ادب محمد عتیق گورائیہ

    مرو به غُربت و عیشِ وطن غنیمت دان
    اسیرِ کِشورِ غُربت همیشه بیمار است
    یعنی اپنے وطن سے نہ جائیے اور اپنے وطن کی عیش و عشرت کو غنیمت جانیے اور اس سے فائدہ اٹھائیے۔ غریب الوطنی کا شکار بندہ ہمیشہ بیمار رہتا ہے۔ ماہ آزادی شروع ہےا ور آپ کو آزادی کے حوالے سے مختلف احباب کے خیالات و تاثرات الفاظ کی شکل میں پڑھنے کو مل رہے ہوں گے ۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے مذکورہ بالا شعر کا آزادی سے کیا تعلق ہے ۔ تو عرض یہ ہے کہ اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے دیارِغیر کہاں اپنا کہلایا جاسکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان میں پرچم کے ساتھ پودا لگانے کا احسن کام بھی شروع ہے ۔ جہاں حکومتی سطح پر شجرکاری کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہی پر اہل وطن بھی اس معاملے میں پیش پیش نظر آرہے ہیں ۔ شجرکاری کے حوالے سے حکومتی اقدامات نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہیں ۔ پاکستانی جھنڈے کا ایک حصہ سبز ہے اور اس وقت موجودہ حکمران بھی پاکستان کو سرسبز کرنا چاہ رہے ہیں ۔ ماہ اگست کی آمد کے ساتھ جہاں وہ تصاویر و الفاظ نظروں سامنے گھوم جاتے ہیں جو تکالیف و مصائب واضح کرتے ہیں جو کہ قیام پاکستان کے وقت بزرگوں نے برداشت کی تھیں وہی پر ہمارے لیے سبق آموز بھی ہیں کہ آزادی یوں ہی نہیں مل جاتی۔ محمد ایوب صابر کا شعر ملاحظہ کیجیے
    یہ دھرتی ہے مرا اعزاز میں ٹھہرا زمیں زادہ
    زمیں دو گز کی خاطر وسعت ِ افلاک چھوڑ آیا

    ملک بھر میں اس وقت جہاں جشن آزادی کو جوش و خروش سے منانے کی تیاری عروج پر ہے وہی پر ہمیں ادب و آداب کا بھی خیال ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا کہ
    از خدا جوییم توفیق ادب
    بی ادب محروم گشت از لطف رب
    ” ہم خدا سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں۔ بے ادب خدا کے فضل سے محروم رہا ہے۔” پاکستانی پرچموں کی بہار کے ساتھ درختوں کی بہتات کا ہونا اس بات کو ثبوت ہے کہ ہم قومی سطح پر بھی قوم بننے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں۔ یہ راہ طویل بھی ہے اور پر خطر بھی، ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم اس پر چلتے رہیں۔ پودے کو لگا کر اس کی دیکھ بھال کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اسے لگانا۔ 14 اگست سے اگلے دن اگر آپ دیکھیں تو وہی پرچم و جھنڈیاں جنھیں ہم سینے پر سجاے پھرتے تھے جنھیں ہم نے گھروں کی زینت بنایا ہوا تھا اور جنھیں ہم نے گلیوں بازاروں میں لگاکر حب الوطنی کا ثبوت دیا تھا اور اپنے جذبہ حب الوطنی کو تروتازہ کیا تھا ۔ خاک نشین ہوے پڑے ہیں، ہوا انھیں کبھی کوڑا کرکٹ پر لے جاتی ہے تو کبھی آندھی انھیں اڑاتے اڑاتے نالیوں میں بہا دیتی ہیں اور کبھی وہ لوگوں کے قدموں تلے روندے نظر آتے ہیں۔ یہ وطن کے پرچم کی توہین ہے اور یہ ان شہداکی بھی توہین ہے جنھوں نے وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے ۔ اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوے انتہائی مناسب اور موزوں وقت پر عدالت عالیہ نے قومی پرچم کی حرمت کے حوالے سے قواعدوضوابط پر مبنی فیصلہ دیا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے قرار دیا ہے کہ ہمارا قومی پرچم محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں، سبز رنگ خوش حالی، سفید رنگ اقلیتوں کے لئے امن، ہلال ترقی، پانچ کونوں کا ستارہ روشنی اور علم کی عکاسی کرتا ہے۔ پرچم چھاپنے کے دوران اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ قومی پرچم گہرا سبز حصہ تین چوتھائی، سفید حصہ ایک چوتھائی ہو، قومی پرچم کو دیگر رنگوں، بدنما پورٹریٹ یا کارٹون کی شکل میں ہرگز نہ چھاپا جائے۔ زمین پر نہ گرنے دیا جائے، پاؤں کے نیچے ہرگز نہ آئے، پرچم ایسی جگہ نہ لہرایا جائے جہاں گندا ہونے کا خدشہ ہو، قومی پرچم کو نذرآتش کیا جائے نہ قبر میں دفن کیا جائے۔ قومی پرچم کی بے حرمتی پر تین سال قید ہے۔ ملکی قوانین پر عمل درآمد کا ہونا خوش آئند بھی ہوگا اور ہمارے لیے باعث سکون بھی ۔ قوانین سارے ہی تقریبا موجود ہیں بس کمی ان پر عمل کرنے اور کروانے کی ہے ۔ اس بار ہمیں بحیثیت پاکستانی شہری اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اپنے لگاے گیے پرچم کی دیکھ بھال کریں ، اگلی صبح اپنے اردگرد نظر دوڑائیں جہاں پرچم و جھنڈیاں گری ہوئی نظر آئیں انھیں اٹھا کر صاف ستھرا کرکے محفوظ کریں ۔ حکومت کو بھی اس حوالے سے کوشش کرنی ہوگی کہ وہ اب سے بھرپور آواز اٹھاے لوگوں کو بتانے کے ساتھ انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ علاقوں میں مخصوص جگہوں پر ان پرچموں اور جھنڈوں کو اکٹھا کرنے کا اہتمام کرے اور بعد ازاں انھیں بہ ترین طریقے سے محفوظ بنانے کا اہتمام کرے ۔