Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
    بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

    کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
    کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

    یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

    پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سکول  میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    سکول میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ماں کی گود کے بعد بچے کی درسگاہ کی زمہ داری اس کے اساتذہ پر عائد ہو جاتی ہے. جو اسے زندگی کے جھمیلوں سے نمٹنے کے لیے ہیرے کی طرح تراشتا ہے. اس زمرہ میں معاشرتی اصول و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے. جہاں اساتذہ اپنے علم و ہنر کے جوہر آزماتے ہوئے طالب علم کو تراشتے اور انمول ہیرا بناتے ہیں.
    تعلیمی سرگرمیوں میں بچوں کی صحت اور جسمانی تروتازگی کے لیے مختلف کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے.
    گزشتہ چند سالوں میں جب تعلیمی اداروں میں Co-Education نظام کے ترجیحات کو ایک نیا رنگ دیا. پہلے پہل تو اوقات کار بچوں اور بچیوں کے الگ تھے. پھر رفتہ رفتہ اوقات کا تو درکنار کمرہ جماعت بھی اکٹھے ہو گئے. اس پر پھر جو آزادی دی گئی اس نے تعلیمی اداروں کے معیار کو برباد کر کے رکھ دیا. آج میٹرک جماعت کے طلبہ ٹک شاپس پر گلچھرے اڑاتے دکھائی دیتے ہیں. رہی سہی کسر سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مد میں ڈانس پارٹیوں نے نکال دی. آج کل تو معروف ادارے ماڈرنائزیشن کے نام سےکپل ڈانس جیسی لعنتوں کا سہرہ اپنے سر سجاتے نظر آتے ہیں. جس عمر میں بچوں کو اچھائی اور برائی کا شعور آنا چاہیے تھا اس عمر میں ان کی آپسی انڈرسٹینڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے.
    یہ کیسی تعلیم ہے جس میں بچوں کو انڈرسٹینڈنگ کے نام پر عشق و معشوقی کے جزبات سکھاے جا رہے ہیں. ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. میرا اتفاق ہوا انگلش لینگوج کا کورس کرنے کا. اتفاقاً اس ادارے میں صبح میں سکول اور شام میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا. میں اور میرے برادر محترم سمیت ان کے چند دوست بھی جو کہ اس کورس میں دلچسپی رکھتے تھے نے شمولیت اختیار کی. شام میں ہم سب بھائی اور دوست اس ادارے میں اپنے انگریزی زبان کہ تقویت کا عزم لیے داخل ہوئے. وہاں ایک تعداد آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ اور طالبات کی بھی تھی. پہلا دن تو تعارف میں گزرا. لیکن انکی اٹکیلیوں اور شرارتوں سے فضا نامعقول محسوس ہوئی. اگلے دن جب ہم دوبارہ کلاس لینے پہنچے تو ہم سے پہلے ایک بڑی تعداد اس ادارے میں بچوں کی صف اول میں موجود تھی. مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ یہ اسی سکول کے بچے ہیں جو صبح یہاں سکول پڑھتے ہیں. کلاس کو شروع ہوئے 15 منٹ گزرے تو چٹ چیٹ کا آغاز ہو گیا. جو کہ بڑھتے بڑھتے کاغذ کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مارنے تک جا پہنچا. استاد محترم وہاں تہزیب کا درس دیتے بے بس دکھائی دے رہے تھے. بالآخر استاد محترم کی جوانی پر بات چھڑ گی اور نو عمر 28 سالہ استاد محترم بھی خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے. کلاس کا وقت انہی خوش گپیوں میں مکمل ہوا. ہمارے بار بار اصرار پر کلاس پر توجہ دلانے کی ناکام کوشش بھی جاری رہی. وہ دن ہمارا اس ادارے میں آخری دن تھا. کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں؟
    میرا سوال ان طالبات سے بھی ہے جنہیں چٹ چیٹ سے فرصت نہیں تھی.
    جن طلبا کے جزبات چکنی چپٹی باتوں سے ابھارے گئے کیا وہ کل روشن مستقبل بنا پائیں گے. پھر گناہ سب لڑکوں کا ہوتا کہ اچھے رشتے نہیں ملتے. پڑھی لکھی بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں. کیا ہم یہ اپنا مستقبل بنا رہے ہیں. میرا سوال ان طلبا سے بھی ہی جنہیں بکنی چپٹی باتیں سننے کا شوق ہے. کیا اپنی گھر کی بہن بیٹی کو یہ آزادی دو گے. کہ وہ تمہاری من چاہی گڑیا کی طرح اپنے کسی شہزادے کی باہوں میں جھومتی پھرے؟
    کیا ماں باپ اس لیے بھیجتے کہ ان کے بڑھاپے کو اپنے نکھٹو مستقبل سے برباد کرو؟
    میرا سوال تعلیمی اداروں سے ہے. یہ انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بچوں کے جزبات ابھار کر اور ڈانس پارٹیوں سے ان میں قربتیں بڑھا کر ڈانس پارٹیوں میں تنگ لباس سے بچیوں کے جسموں کی نمائش کروا کر اور شہوت کو فروغ دے کر کونسا بھلائی کا کام انجام دیا جا رہا ہے؟ اللہ رب العزت کے متعین کردہ حج و عمرہ کے فرائض جہاں عورت کو صفا مروہ دوڑنے تک کی اجازت نہیں تم بنت ہوا کو نا محرموں میں نچا کر کونسی روزی حلال کر رہے ہو؟
    حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو شخص چاہے کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عزاب ہے.
    خدارا ہوش کے ناخن لیں. ماں باپ اپنے بچوں کے لباس اور تہزیب کا خیال کریں. اساتذہ بچوں کے مستقبل کو خراب ہونے سے روکیں. تعلیمی ادارے اس طرح کے ماحول کو ترک کر کہ ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کریں. جہاں سے نکلنے والے طلبہ اور طالبات تمہارے سکھاے ہوے علم و اداب کی بدولت اپنا مستقبل روشن کر سکیں. تاکہ مستقبل کی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • گھر کی خاطر ہر دکھ سہنا گھر تو آخر اپنا ہے تحریر: سحر عارف

    گھر کی خاطر ہر دکھ سہنا گھر تو آخر اپنا ہے تحریر: سحر عارف

    اگر آپ کے گھر میں کوئی مشکل وقت آجائے تو کیا آپ اپنا گھربار اور رشتے چھوڑ دیتے ہیں؟ یا ان کے ساتھ مل کر ان تمام چیزوں کا سامنا کرتے ہیں جو آپ کے گھر کے لیے پریشانی کا باعث بنے؟ کیا انسان ہونے کے ناطے ہمارا ضمیر ہمیں اس چیز کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنوں کو مشکل میں اکیلا چھوڑ کر خود مزے سے زندگی گزاریں؟

    انسان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اپنی خاطر نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے جیتا ہے جو اپنے سے جوڑے رشتوں کے لیے ہر تکلیف سے لڑ جاتا ہے۔

    ٹھیک ویسے ہی جیسے ہم اپنے گھر اور گھروالوں کے لیے ان کے محافظ بن کر ان کی مشکلات سے لڑتے ہیں اسی طرح ہمیں اپنے ملک پاکستان کے لیے بھی ہمیشہ کھڑا رہنا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان بھی تو ہمارا گھر ہی ہے جہاں ہم سب مل کر پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ جہاں ہماری نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔

    مانا کہ آج ہمارا ملک مشکلات میں گرا پڑا ہے۔ آج یہاں کرپشن عام ہے، چوڑی ڈکیتی عام ہے، قتل و غارت کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ آج یہاں مہنگائی بھی ہے، بےروزگاری بھی ہے، رشوتیں دے کر لوگ اپنا ہر جائز اور ناجائز کام کرواتے ہیں۔ بے شک آج ہمارا ملک بےشمار برائیوں میں لپٹ چکا ہے۔ پر کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ یہ ملک جب وجود میں آیا تو ان تمام برائیوں سے پاک تھا۔

    اس ملک کو آج اس نہج پر لانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ کوئی بھی برائی خود سے ہی نہیں شروع ہوجاتی اسے شروع کرنے اور پھر بڑھانے میں پہل ہم جیسے انسان ہی تو کرتے ہیں۔ تو پھر ملک سے شکوہ کیسا؟ ہم لوگ اس قدر دماغی طور پر مفلوج ہوچکے ہیں کہ آج کتنی آرام سے ہر چیز کا الزام اپنے ہی ملک کو دے کر خود بری الزمہ ہوجاتے ہیں۔

    بڑے بڑے امیر لوگ جنہوں نے ساری زندگی اس ملک کا کھایا اس ملک پر حکومت کی اس ملک میں عزت کے ساتھ زندگی گزاری آج جب ملک پر مشکل وقت آیا تو یہ کہہ کر ملک کو چھوڑ گئے کہہ پاکستان میں ہے ہی کیا؟ یہ تو ہر قسم کی برائی میں جکڑا جا چکا ہے، یہاں تو نوکریاں ہی نہیں ہیں، غربت ہی غربت ہے، یہاں تو ہمارے پچوں کا کوئی مستقبل ہی نہیں یے۔

    لیکن ان میں سے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس ملک نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا۔ آج ہم جس مقام پر بھی ہیں تو صرف اسی سر زمین کی بدولت۔ اتنا سب کچھ ملا اس ملک سے لیکن ہم نے کیا کیا؟ جب مشکل وقت آیا تو منہ اٹھا کے چلے گئے۔ نہیں سوچا کہ ہم اس زمین کے کتنے مقروض ہیں۔ خدارا اپنے ملک کی قدر کیجیئے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے بےانتہا قربانیاں دیں۔ اس ملک کو آج اپنوں کی ضرورت ہے جو اسے مشکلات سے نکال سکے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے یہ بات باور کروا سکے کہ ہم ہر گھڑی ہر وقت اپنے ملک کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں تم اس کا کچھ نہیں بیگاڑ سکتے۔

    @SeharSulehri

  • ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا  تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا تحریر : راجہ ارشد

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی خاص صفت حیا ہے۔
    کوئی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہو۔ اسے حیا کہتے ہیں۔اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے حساس اور غیرت مند تھے کہ انہوں نے اپنا بوجھ چچا ابو طالب پر ڈالنا پسند نہ کیا ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ : آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے ۔

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اعلی ترین اخلاق میں ادب نظر آتا ہے۔حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزارا مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔اپنی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں بلکہ سب ہی کا احترام فرماتے ہمیں بھی اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے نصیب با ادب با نصیب۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی ادب کرے اس کے نصیب اچھے ہوں گے۔ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت جیسی اعلی عادت بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ کسی کی کیا خدمت کرئے گا؟؟
    خدمت خلق ہر ایک کی اور ہر قسم کی خدمت شامل ہے۔اللہ تعالٰی کی یہ پسندیدہ عادت ہے۔اور یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ عطا کی گئی ۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بغیر کسی مقصد اور لالچ کے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفائی کا ذکر بھی بہت بار فرماتے ہیں ہم یہاں چند ایک مثالیں دیکھتے ہیں۔ صفائی بھی ایک ایسی خوبی ہے جو اعلی اخلاق کو مکمل کرتی ہے ۔ آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا ۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص نماز نہ پڑھائے۔پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • آنکھوں کی حفاظت کے چند بنیادی اصول۔ تحریر: ناصرہ فیصل

    آنکھوں کی حفاظت کے چند بنیادی اصول۔ تحریر: ناصرہ فیصل


    آنکھیں ایک عظیم تحفہ خداوندی ہیں۔ انکی حفاظت کرنا ہم سب پر فرض ہے۔انکھوں کی اہمیت وہی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ انکھوں کی حفاظت ایک روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔۔ ہم اپنی غذا کے ذریعے بینائی کو زیادہ لمبے عرصے تک ٹھیک رکھ سکتے ہیں اور آنکھوں کا باقاعدہ چیک اپ بھی ہماری روٹین کا حصہ ہونا چاہیے ۔اس سے ہم انکھوں میں پیدا ہونے والی کسی بھی تبدیلی یا بیماری کے بارے میں بروقت جان سکتے ہیں اور اسکا علاج بروقت کرا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہم مندرجہ ذیل دی گئی چیزوں پر عمل کریں تو کافی بہتری آ سکتی ہے..

    1: مناسب مقدار میں وٹامنز اور منرلز اپنی روٹین کا حصہ بنائیں۔
    وٹامن اے،سی، ای اور منرل زنک میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو کہ میکلیولر انحطاط ((ایک ایسی کیفیت جس میں میکولا، آنکھ کا و حصہ جو درمیانہ نظر کو کنٹرول کرتا ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے)) کو روک سکتے ہیں۔
    اسکے لیے جو غذائیں استعمال کرنی چاہیے وہ یہ ہیں:
    گاجر، سرخ مرچ، بروکلی، پالک، سٹرا بیریز، شکر قندی، تُرش پھل۔
    وہ غذائیں جن میں اومیگا-3 فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں مثلاً سالمن اور فلیکس سیڈز ، بھی انکھوں کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔
    2: کیروٹینائڈز کو مت بھولیں_
    کچھ اور غذائی اجزاء بھی انکھوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔
    لوٹین اور زیکسانتھین جو کے ریٹنا میں پائے جانے والے کورٹنوئیڈز ہیں، بھی بہت مفید ہیں آنکھ کے لیے۔ سبز پتوں والی سبزیاں ، بروکلی، گھیا توری اور انڈے اسکا بہترین ذریعہ ہیں۔ لوٹین اور زیکسانتھین کو سپلیمنٹ کے شکل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

    3: صحت مند رہیں!
    ورزش کرنا اور ایک صحت مند وزن قائم رکھنا بھی ناصرف آپ کی موٹاپے کے لیے بلکہ آنکھوں کے لیے بھی بہترین ہے۔ ذیابیطس کی ٹائپ2 ، جو کہ ایسے لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو بہت موٹے ہوتے ہیں ، کی وجہ سے آنکھ کی انتہائی نازک شریانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسکو ذیابیطس رٹنو تھیراپی کہتے ہیں۔ خون میں بہت زیادہ شوگر کی مقدار سے آنکھ کی ان نازک شریانوں کو زخمی کر سکتی ہیں۔ ذیابیطس ریٹنو تھیراپی ،آپ کے ریٹنا میں موجود بہت چھوٹی خون کی شریانوں کو نقصان پہونچا کر آپ کے ریٹنا میں خون کے اخراج کا باعث بن سکتی ہے جس سے آپکی نظر میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

    اپنے آپ کو فٹ رکھیے اور باقاعدگی سے خون میں شوگر لیول چیک کرواتے رہنے سے آپ خود کو اس مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    3: دائمی قائم رہنے والی بیماریوں کا دھیان رکھیں!

    صرف ذیابیطس ہی ایک ایسی بیماری نہی ہے جس سے آنکھ کو نقصان ہو بلکہ کچھ اور بیماریاں بھی ہیں،جیسے بلند فشار خون اور ملٹیپل سکلوروسز جیسی بیماریوں میں بھی انکھوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔۔ان حالات میں دائمی سوزش کا بہت امکان ہوتا جو کے آپکی صحت کو سر سے پاؤں تک نقصان پہنچا سکتی ہے۔آپٹک ورید کی سوزش آپکی بینائی کو نہ صرف نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ بینائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے۔
    اس طرح کی بیماریوں کو آپ اچھی خوراک اور ورزش سے روک سکتے ہیں۔۔

    4: انکھوں پر حفاظتی چمشمہ ضرور پہنیں۔

    جب بھی آپ کوئی باہر کی فضا میں کھیل کھیلیں، کوئی سائنس کا پروجیکٹ کریں لیبارٹری میں، یا اپنے گھر میں ہی کوئی مرمت کا کام کر رہے ہوں ،اپنی آنکھوں کی حفاظت کے لیے ضرور حفاظتی چشمہ پہنیں۔

    اس میں دھوپ سے حفاظت کے دھوپ والے چشمے بھی شامل ہیں کیونکہ وہ صرف ہمیں خوبصورت دکھنے کے لیے نہیں ہوتے، وہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاؤں سے بھی ہماری حفاظت کرتے ہیں جو کہ ہماری آنکھوں کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔
    ایک بڑا سا ہیٹ جسکے کنارے خوب چوڑے ہوں وہ بھی دھوپ سے بچت کر سکتا ہے۔

    6: 20-20-20 رول کو فالو کریں.

    آنکھیں دن کے دوران بہت کام کرتی ہیں اس لیے وقتاً فوقتاً انکو آرام دینا ضروری ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو آپکی انکھوں پر بہت ذیادہ دباؤ پڑتا ہے اسکے لیے 20-20-20 رول استعمال کریں۔
    اسکا مطلب ہے ہر 20 منٹس بعد ، 20 فیٹ دور ، 20 سیکنڈز تک دیکھیں۔

    7: تمباکو نوشی سے پرہیز کریں!

    ہم سب کو پتہ ہے تمباکو نوشی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے۔ یہ ہمارے دل، پھیپھڑوں، جلد، بال, دانتوں اور تقریباً پورے جسم کے لیے ہی نقصان دہ ہے۔ انکھوں کے لیے بھی یہ بہت نقصان دہ ہے۔
    خوش قسمتی سے جونہی آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں آپ کا جسم آہستہ آہستہ اسکے اثرات سے خود کو پاک کرنا شروع کر دیتا ہے۔

    8: اپنی موروثی آنکھ کی بیماریوں کے بارے میں جان لیجئے!
    کچھ آنکھ کی بیماریاں موروثی بھی ہوتی ہیں۔جو آپ کے والدین کے ذریعے آپ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اُن سے بچنے کی احتیاط آپ پہلے ہی کر سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں، گلوکما، ریٹینل ڈیجنریشن، عمر سے متعلق میکیولر ڈیجنریشن، آپٹک اٹروفی۔

    9: اپنے ہاتھوں اور لینسز کو صاف رکھیں۔۔
    آنکھوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے انکو اچھے سے دھو لیں۔ اسی طرح لینسز کو بھی اچھے سے صاف کر لیں۔ ہاتھوں اور لینسز کو اچھے سے جراثیم سے پاک ضرور کر لیں۔۔

    اگرچہ آپ کو ہاتھوں کا دھونا، سبزیوں کا استعمال اور اپنے وزن کا خیال رکھنا ، انکھوں کے ساتھ عجیب لگ رہا ہو، لیکن یہ آنکھوں کے لیے بہت ہی اہم ہیں اسلئے ان تمام چیزوں کا دھیان رکھیں اور اپنی آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال کریں۔

    قدر کرو خدارا ان کی لوگو _
    کیونکہ آنکھیں بڑی نعمت ہیں

    ‎@NiniYmz

  • ‏اپنے وائی فائی Wi-Fi کو ہیک ہونے سے کیسے بچائیں   تحریر :- مدثر حسین

    ‏اپنے وائی فائی Wi-Fi کو ہیک ہونے سے کیسے بچائیں تحریر :- مدثر حسین

    باغی ٹی وی پہ لکھے گئے میرے گزشتہ کالم میں اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے طریقوں اور ہیکرز کے طریقہ وادرات سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی تھیں. آج آپ جانیں گے کہ آپ اپنے وائی فائی Wi-Fi کے پاسورڈ کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں
    جب اپ اپنے موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ کو کسی وایی فایی Wi-Fi کنکشن سے جوڑتے ہیں تو وہ آپ سے پاسورڈ کا تقاضا کرتا ہے اور درست پاسورڈ لکھنے پہ آپ کا کنکشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے. جب آپ پاسورڈ لکھ کر اپنے موبائل فون کو راؤٹر یا موڈیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو راؤٹر آپ کے لکھے گئے پاسورڈ کو authentication packets میں تبدیل کر کے چیک کرتا ہے اور اس راؤٹر میں ترتیب دیے گئے پاسورڈ کو پرکھتا ہے اور پاسورڈ درستگی کی تصدیق ہونے پہ راؤٹر دوبارہ Authentication packets اپ کے موبائل فون کو بھجتا یے جس میں وائی فائی تک رسائی کا اجازت نامہ ہوتا ہے.
    ہیکرز ان packets تک رسائی حاصل کر کے، راؤٹر میں ترتیب دیا گیا پاسورڈ معلوم کر لیتے ہیں، نہ صرف معلوم کر لیتے ہیں بلکہ تبدیل بھی کر لیتے ہیں.
    پیکٹس کے وصول ہونے پہ ان کو اعداد اور الفابیٹس میں تبدیل کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل ترین کام ہے. ہیکرز اس سلسلے میں خاص قسم کا اوپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں جو ان پیکٹس کو نمبروں اور الفابیٹس میں ظاہر کر دیتا یے. Decoding /in coding…
    اگر اپ کا پاسورڈ صرف نمبروں میں ہے تو بہت ہی کم وقت میں آپ کا پاسورڈ پیکٹس سے تبدیل ہو کر نمبروں میں ظاہر ہو جائے گا. اور اگر اپ کا پاسورڈ صرف الفابیٹس میں ہے تو پھر بھی بہت ہی کم وقت میں آپ کا پاسورڈ ہیکرز کی سکرین پہ نمودار ہو جائے گا. اگر اپ اپنے پاسورڈ میں الفابیٹس کے ساتھ ساتھ نمبرز بھی لکھتے ہیں تو اپ کا پاسورڈ معلوم کرنے کے لیے ہیکر کچھ وقت درکار ہو گا، آدھا گھنٹہ سے ڈیڈھ گھنٹہ تقریبا.
    وایی فائی Wi-Fi ہیکنگ کے دوسرے طریقے میں packets تک رسائی حاصل کر کے انہیں ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم میں عارضی طور پہ محفوظ کیا جاتا یے اور پھر ایک طویل فہرست پہ مشتمل ڈکشنری کو اس اوپریٹنگ سسٹم میں چلایا جاتا ہے جو یکے بعد دیگرے اس ڈکشنری میں موجود تمام الفاظ کو ان پیکٹس کے ساتھ جوڑ کر چیک کرتی جاتی ہے. جتنا اچھا سسٹم ہوگا اتنی ہی اس عمل کی رفتار بھی تیز ہو گی. عام طور پہ ان ڈکشنریز میں دنیا بھر کے لوگوں کے نام، شہروں اور ملکوں کے ناموں سے لیکر ہماری روز مرہ استعمال کی تمام چھوٹی سے چھوٹی اشیاء تک کے نام درج ہوتے ہیں اور ہر ایک نام بہت سارے مختلف طریقوں سے الفابیٹس کی ترتیب کو بدل کر لکھا گیا ہوتا ہے. مثلا islamabad123 کی جگہ اس کے الفابیٹس درست لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ الٹے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ شارٹ بھی لکھا ہوا ہو سکتا ہے. یہ طریقہ سسٹم کی رفتار پہ منحصر ہے اس اوپریٹنگ سسٹم میں آپ کے پاسورڈ کے الفابیٹس کو ترتیب سے جوڑ کر چیک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جلد یا بدیر اپ کا پاسورڈ ہیکر کو معلوم ہو ہی جاتا ہے اگرچہ وہ نمبروں اور انگریزی الفابیٹس پہ ہی مشتمل کیوں نہ ہو.
    ایسی صورت میں اپنے پاسورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے اپنے پاسورڈ میں الفابیٹس، نمبرز اور علامات بھی درج کریں کیوں کہ ڈکشنری علامات کو پرکھنے اور ترتیب دینے کے عمل سے عاری ہوتی یے (کسی حد تک). مثلا اگر آپ کا پاورڈ islamabad$%124 یے تو عین ممکن یے کہ ڈکشنری میں یہ علامات اسی ترتیب کے ساتھ موجود نہ ہوں اور آپ کا پاسورڈ میچ ہونے سے بچ جائے اور ہیکرز کو اپ کا سکرین پہ نظر نہ آئے.
    تا ہم اچھے راؤٹرز پیکٹس محفوظ رکھنے کے حوالے سے بہت مفید کام کرتے ہیں وہ ہیکرز تک ہیکٹس ہی نہیں پہنچنے دیتے. اور ایک نمبروں، الفابیٹس اور علامات پہ مشتمل پاسورڈ ڈکشنریز میں مماثلت رکھنے یعنی میچ ہونے سے بچ جاتا ہے.

    ‎#mudassiradlaka

  • کے الیکٹرک کی سیلف پرچیز اسکیم بھتہ خوری ہے!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    کے الیکٹرک کی سیلف پرچیز اسکیم بھتہ خوری ہے! تحریر عقیل احمد راجپوت

    شہر کے بیچوں بیچ کے الیکٹرک کی بھتہ گیری جاری ہے عوام کو اوور بلنگ کے ذریعے لوٹنے والا کراچی الیکٹرک سپلائی کا واحد ادارہ کے الیکٹرک عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا
    کے الیکٹرک کی سیلف پرچیز اسکیم کے نام پر عوام کو لوٹنے کی گھناؤنی سازشوں کا انکشاف ہوا ہے جہاں شہر کے نئے تعمیر ہونے والے فلیٹ آبادکاریوں کو پی ایم ٹی وائر اور پول میٹر کی مد میں کروڑوں روپے الاٹیز سے وصول کرنے کا مکروہ دھندا عروج پر پہنچ چکا ہے ایک غریب انسان پوری زندگی کی جمع جوڑ کے بعد جب اپنے پلاٹ کی تعمیر کا پیسہ جمع کر کے اسے بنانا شروع کرتا ہے اور کے الیکٹرک کو نئے میٹر کی درخواست دیتا ہے تو اسے سسٹم نا ہونے کا بہانا بنا کر واپس کردیا جاتا ہے اور پھر سیلف فنانس کے نام پر عوام سے لاکھوں روپے لیکر وہاں سسٹم کی انسٹالیشن کی جاتی ہے زرائع کے مطابق کراچی شہر میں ایک 80 گز کے رہائشی مکان کا میٹر عام عوام کو 44 ہزار روپے دینے کے بعد لگائے جانے کا انکشاف عوامی حکومت کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے شہر کے درمیان میں جہاں کے الیکٹرک عوام کو سہولیات اور سروس دینے کا پابند ہے اور بجلی کا رہائشی کنکشن 8سے 10 ہزار میں لگایا جاتا ہے وہی کنکشن 44 ہزار روپے بھتے کے عوض لگانا عام عوام کی حق حلال کی کمائی پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے حکومت اور وفاقی وزیر حماد اظہر اس معاملے کی فوری انکوائری کا حکم دیکر عوام سے 200 گناہ زیادہ پیسہ لینے والی نااہل الیکٹرک سپلائی کمپنی کو لگام دیں اور لوگوں کی جیبوں سے لوٹنے والا اربوں روپیہ عوام کو واپس لوٹائیں ورنہ عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ یہ سب وفاقی حکومت کے ایماء پر کیا جارہا ہے اور اس کام میں حکومتی سطح پر بھی کمیشن وصولی جاری ہے ریاست مدینہ کے دعویدار حکمران یہ ظلم اور زیادتیاں دیکھ اور جان کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تو ان کو ریاست مدینہ کا نام استعمال کرنے سے پہلے ایک ہزار مرتبہ سوچنا چاہئے کیونکہ ریاست مدینہ ایک فلاحی ریاست کا نام ہے ناکہ عوام کی ضروریات زندگی کی استعمال ہونے والی چیزوں پر بھتہ خوری کرنے والی ریاست کا وزیر اعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر کو اس بارےمیں بتانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو سیلف پرچیز پی ایم ٹی اسکیم سے بخوبی واقف ہونگے عوام پر کیا جانے والا یہ ظلم کون روکے گا نہیں معلوم مگر ہم اپنے قلم کے ذریعے آواز حق بلند کرتے رہیں گے تاکہ حکمرانوں کے کان پر جوں رینگے اور وہ عوام کی فلاح کے کاموں پر بھی توجہ دیں

  • قلم تلوار سے ذیادہ طاقتور ہے   تحریر : علی حیدر

    قلم تلوار سے ذیادہ طاقتور ہے تحریر : علی حیدر

    تاریخ عالم کے ادوار کا پرغور مطالعہ کرتے ہوئے اگر انسانی ذندگی پر تلوار اور قلم کے اثرات کا موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تلوار نے سوائے انسانی تاریخ کے صفحات کو خون سے رنگنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جبکہ علم و قلم نے انسانوں کے لئیے آگاہی کے دروازے کھولتے ہوئے ان کو کائنات کے رازوں سے آگاہ کیا جس کی بدولت انسان دوسری مخلوقات سے نہ صرف ممتاز ہوا بلکہ علم کے ذرئعے انسان طرح طرح کی ایجادات کر کے اپنی ذندگیوں میں انقلاب لا چکا ہے۔
    علم اور شعور کے فروغ اور نظریات و خیالات کے اشاعت کے لئیے قلم بنیادی اہمیت کی حامل ضروریات میں سے ایک ہے اس لئیے دور قدیم ہو یا ذمانہ جدید , قلم کی اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہوئی ۔
    جو چیز تلوار کے ذور پر نافذ کی جائے ایک دن اس کے خلاف بغاوت عمل میں ضرور آتی ہے اور وہ ذیادہ عرصے تک نافذ العمل نہیں رہ سکتی ۔
    انقلاب لانے کے لئیے قلم کا استعمال ایک ہتھیار کے مقابلے میں کئی گنا ذیادہ ہے اور قلم کے ذرئبعے لایا گیا انقلاب دیر پاء اور مؤثر رہتا ہے ۔
    تلوار کے ذریعئیے نافذ کئیے گئے قوانین کے تحت چلنے والے معاشرے بغاوت کی ذد میں آکر تباہیوں کا شکار ہو گئے ۔
    انسانی تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قلم کے ذور پہ لڑی گئی لڑائیاں فتح سے ہمکنار ہوئیں۔ اگرچہ یہ کام محنت طلب ہے لیکن جانی نقصان سے پاک انقلاب کا پر امن راستہ ہے ۔
    نظریات و عقائد غلط ہوں یا صحیح ان کو خون بہا کر ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ تحریر و تقریر سے مدمقابل کے ذہنوں کو بدل کر ان کو غلط اور صحیح کا ادراک کراتے ہوئے بہت بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ آگاہی اور شعور انسانی اذہان میں انڈیل کر باطل نظریات کا رد دلیل سے کرنا ہی عقلمندی ہے ۔
    دہشت اور خوف کی تھپیڑے سہنے والے اور انسانی خون سے استوار کردہ معاشرے کے باسی ذہنی طور پہ مفلوج ہوتے ہیں ۔
    اگر تاریخ عالم پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ارسطو و سقراط اور افلاطون کے نظریات کا رد آج تک نہیں ہو سکا کیونکہ انہوں نے قلم جیسے مؤثر ہتھیار کو اٹھا کر قوموں کی تاریخ اپنے ہاتھوں مرتب کی ۔ سقراط کو ذہر پلانے والے اس بات سے ناواقف تھے کہ سقراط نے اپنے قلم کے ذرئعیے جو نظریات لوگوں کے ذہنوں پہ نقش کر چھوڑے ہیں وہ کسی صورت نہیں اتر سکتے ۔ ارسطو اور سقراط نے قلم اور دلیل کو استعمال کرتے ہوئے جس معاشرے کی بنیاد رکھی وہ اتنی طاقتور بنیاد تھی کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ معاشرہ انہی بنیادوں پہ استوار نظر آتا ہے ۔

    قلم اور دلیل سے نافذ کئیے گئے نظریات کے مدمقابل جب ایک شریر و ظالم حکمران آتا ہے تو وہ دلیل سے دلیل کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی حزیمت کو مٹانے کے لئیے تلوار کا استعمال کرتا ہے ۔
    ایسے افراد سے بھی تاریخ بھری پڑی ہے لیکن ایسے افراد کے جبری قوانین کبھی قائم نہ رہ سکے ۔
    ہلاکو خان ہو , چنگیز خان ہو یا ایڈولف ہٹلر ہو , جس نے بھی تلوار کے ذور سے لوگوں کو دبا کر رکھنے کی کوشش کی وہ ذیادہ دیر تک اپنا تسلط قائم نہ رکھ سکے کیونکہ کچھ ہی عرصے میں ان کے خلاف مقبوضہ علاقوں میں وہ بغاوت دیکھنے کو ملی جس نے نہ صرف ان کی سلطنت کو تاراج کیا بلکہ خود ان کو بھی اپنے منطقی انجام تک پہنچا دیا ۔
    فروغ علم نہ صرف انقلابی تبدیلیاں لاتا ہے بلکہ ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے جو برابری و مساوات اور انصاف کے رہنماء ستونوں پر استوار ہوتا ہے۔
    جبکہ دوسری طرف جبری قوانین جو طاقت کے ذور پہ نافذ کئیے گئے ہوں ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں جو جرائم , بدامنی اور بد عنوانی کی آماجگاہ ہوتا ہے۔
    جہالت ایسے معاشرے کے افراد کی رگوں میں سرایت پزیر ہو جاتی ہے اور ایسے لوگوں کا رویہ انتقامی ہوتا ہے

    جدید دور کے دانشور اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ایک فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئیے علم بنادی عنصر ہے۔ علم کے بغیر قومیں ذوال پزیر ہو کر تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ جاتی ہیں۔
    حالیہ ذمانے میں باطل نظریات و عقائد کا رد طاقت کے ذور پر ممکن نہیں ہے بلکہ ٹھوس دلائل کی مؤثر اشاعت سے ہی باطل نظریات کو مٹا کر نئے معاشرے کی تشکیل کا بیج بوبا جا سکتا ہے ۔ اس کو تناور درخت بننے میں سالہا سال ضرور لگ سکتے ہیں لیکن یہ واحد راستہ ہے جو پائیدار اور دیرپا تبدیلیاں لا سکتا ہے ۔
    دور حاضر میں اسی بات پر ذور دیا جا رہا ہے کہ اپنی بات کو تشدد اور جبر کا راستہ اپنا کر منوانے کی بجائے قلم کا ہتھیار استعمال میں لایا جائے جس کے مدد سے پہلے خوابیدہ لوگوں کو جگا کر ان کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے اور پھر ان کو ایک تحریک کی صورت میں دلیل کے ذرئیعے اپنی بات منوانے پہ اکسایا جائے ۔

    ‎@alihaiderrr5

  • پاکستان اور سیاستدان  تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان اور سیاستدان تحریر:شمسہ بتول

    14 اگست 1947 سے لے کر اب تک اگر ملک پاکستان کے حق میں کوٸی صحیح معنوں میں مخلص رہا ہے تو وہ صرف قاٸداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے اس کے لیے دن رات جدوجہد کی تھی ۔ ان کے جانے کے بعد پاکستان کے مساٸل میں مزید اضافہ ہو گیا اور معاشی حالت ابتری کی طرف چلی گٸی اس کی بڑی وجہ تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم بھی تھی اور پھر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد قاٸداعظم کا اس دنیا سے چلے جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ اس کے بعد بہت سے سیاستدان آۓ جنہوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور مارشل لاء بھی لگے لیکن ملک کی حالت میں کوٸی خاص بہتری نہیں آٸی۔
    اور پھر کچھ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اور زاتی مفادات کی وجہ سے پاکستان ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور یوں پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں معاشی بدحالی اور معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ سیاسی عدم و استحکام ہے۔
    سیاستدانوں نے تقریباً ایک فیصد کام کیا اور ننانوے فیصد ملک کے وساٸل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔ سیاستدانوں کی طاقت کے غلط استعمال اور کرپشن اور سفارشات کی وجہ سے ہمارے قومی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے
    مگر ہم لوگوں نے کبھی سوال نہیں پوچھا کہ ہمارے وطن عزیز کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے والوں سے یا ہم نے کبھی ان کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاٸی بلکے خاموشی سے فقط اپنے کام سے غرض رکھی اور اس طرح ان کرپٹ سیاستدانوں کو شے ملتی رہی اور 74 سالوں سے یہ ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں.
    تعجب کی بات ہے کہ یہ سیاستدان حکمران بنتے ہی اپنے سارے فراٸض بھول جاتے جو کل تک یہ کہتے تھے کہ وہ پاکستانیوں ہمیں ووٹ دینا ہم آپ کے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے آپکے مسائل حل کریں گے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھول جاتے کہ عوام بھی کوٸی شے ہے یا ان کے اس ملک کے زمے کچھ فراٸض ہیں بلکہ وہ تو جس سڑک سے گزرنا ہو وہاں پہ رکاوٹیں کھڑی کروا دیتے کہ یہاں سے عوام نہ گزریں کیونکہ ہم نے گزرنا ہے اس ملک کے اثاثوں اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی عیش و عشرت پہ اڑا دیتے
    اپنے بچوں کو باہر کے ملک میں تعلیم کے لیے بھیجتے باہر کے ملک میں کاروبار اور گھر بناتے وہاں پہ چٹھیاں گزارتے تو پھر الیکشن بھی وہیں لڑ لیا کریں وہیں حکمرانی بھی کریں مگر نہیں رہنا وہاں پر بچے وہاں کی یونیورسیٹیز میں پڑھانے علاج وہاں سے کروانا مگر حکومت پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب نہیں کیا جاتا انہیں فوراً سزاٸیں نہیں سناٸی جاتیں اس لیے یہ بے خوف خطر اپنی طاقت کا ناجاٸز استعمال کر کے ٹیکس چوری کرتے عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر بناۓگٸے پروگرامز کے فنڈز اپنے اکاونٹس میں جمع کرواتے اور تو اور جو ترقی یافتہ منصوبے ہیں ان میں بھی سستا اور ناقص میٹیریل لے کے باقی اپنے اکاونٹس میں۔
    یہ سیاستدان عوام کے مسائل سننا بھی مناسب نہیں سمجھتے مگر الیکشن کے وقت پھر سے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے نام پہ بے وقوف بنانا شروع کر دیتے اور غربت اور مہنگاٸی کی ستاٸی عوام مجبوراً یقین کر لیتی کہ شاید واقع ہی یہ ان کے حالات بدل دیں گے
    ہمارے ملک کے تقریبا ہر سیاستدان پر کرپشن کے اور دیگر کیسیسز چل رہے ہیں یہ کیسیسز خود بہ خود تو نہیں بنے بلکے انہوں نے کرپشن کی ملکی اثاثہ جات کا بے دریغ استعمال اور طاقت کا غلط استعمال کیا تبھی ان کے خلاف یہ کیسیز چل رہے اس لیے مہربانی کر کے اپنے آنکھوں سے زات پات اوربراری اور صوبوں کی بنیاد پہ ووٹ دینا اس پٹی کو اتار دیجیے صرف اورصرف پاکستان کی بہتری کے لیے ووٹ کاسٹ کریں۔ کسی بھی پارٹی کے ورکرز بن کر نہیں بلکے پاکستانی بن کے سوچیں کہ کون پاکستان کے ساتھ ہے حقیقی معنوں میں۔ جو لوگ ساری زندگی باہر گزاریں اور وہاں جاٸیدادیں بناٸیں وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتے کیسے انہیں حل کر سکتے کیونکہ انہوں نے تو یہاں رہنا ہی نہیں یہاں تو ہم نے رہنا ہے اور اسکی بہتری کے بارےمیں بھی ہمیں مل کر کوشش کرنا ہو گی😇

    ‎@b786_s

  • افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی رو سے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں حکمرانی کے لئے افغان طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانوں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے تاہم اس بار جنگی جھڑپوں سے جان بچا کر دیگر ممالک میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کا رخ ماضی کے برعکس پاکستان کی طرف کم ہے اور وہ براستہ ایران، ترکی جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک میں خاصی تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد براستہ ایران ترکی پہنچ کر یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیل جائیگی اور یوں یورپ کو افغان مہاجرین کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں ہر روز 2 ہزار سے زائد افغان مہاجرین ترکی پہنچ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے براستہ ایران افغان مہاجرین کا ترکی پہنچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 2016 میں شروع ہوا واضح رہے کہ افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے افغان مہاجرین کو قریب 3 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

    افغانستان سے ترکی پہنچنے والے افغان مہاجرین کی مشکلات کے حوالے سے جرمنی کی ایک تحقیقاتی تنظیم "فریڈرچ البرٹ فائونڈیشن” نے بتایا کہ ہزاروں افغان مہاجرین افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے بال بچوں اور خواتین سمیت انتہائی دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہیں، اس سفر کے دوران نہ تو ان کے پاس کھانے پینے کے کچھ ذیادہ اسباب موجود ہوتے ہیں نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کے لئے ضروری سامان ہمراہ ہوتا ہے۔اففانستان سے ترکی تک کا یہ دشوار گزار راستہ دراصل سمگلنگ کرنے والوں کی دریافت ہے۔ ان راستوں سے تجارت کی غرض سے مختلف اشیاء کی غیرقانونی نقل وحمل کی جاتی ہے اور سمگلرز نے اس راستے پر کئی مقامات پر ٹھکانے بھی بنا رکھے ہیں تاہم اس راستے پر حفاظتی انتظامات اب خاصے سخت کر دیئے گئے ہیں اور صرف انہی خاندانوں کو ایران سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے پاس افغانی پاسپورٹ اور ایران کا ویزہ موجود ہو۔ ترکی پہنچ کر یورپ میں پناہ لینے کے خواہشمند کچھ افغانی خاندان براستہ پاکستان بھی ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر اس راستے پر سفری اخراجات کافی ذیادہ اٹھانے پڑتے ہیں اس لئے امیر افغانی خاندان ہی یہ راستہ اختیار کر پاتے ہیں۔ ترکی جانے والے افغان مہاجرین کی آخری منزل ترکی پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ وہ سمندری راستوں کے ذریعے یونان سے گزر کر یورپ کے دیگر ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاہم افغان مہاجرین کا یہ سفر خطرات سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ ترکی اور یونان کے درمیان سمندر عبور کرنے کے دوران کئی مہاجرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دسمبر 2020 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے مہاجرین کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین آباد ہیں۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ 1979 میں شروع ہوا اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران دس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ 1980 میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور انہیں امداد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کئے تھے۔ 1981 سے 1990 کے دوران پاکستان میں رجسٹرڈ ہونے والے افغان مہاجرین کی تعداد 20 لاکھ تھی جس میں صرف ایک سال یعنی سال 1990 کے دوران 12 لاکھ کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 32 لاکھ تک جا پہنچی اور ایک محتاط اندازہ لگایا گیا کہ 5 لاکھ افغان مہاجرین بغیر رجسٹریشن کرائے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے پاکستان کے صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 334 مقامات پر مہاجرین کیمپ بنائے گئے۔ 1996 میں جب طالبان نے افغانستان کے علاقوں جلال آباد اور کابل کا کنٹرول حاصل کیا تو 50 ہزار افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے اسی طرح 1999 میں جب طالبان نے مزار شریف کا کنٹرول حاصل کیا تو تب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ سال 2001 میں جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان دنوں میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔

    افغان حکومت کی طرف سے معیشت کی بحالی، نقدی، ضروریات زندگی کی اشیاء اور سفری اخراجات کی ادائیگی پر سال 2002 سے سال 2007 کے درمیان 11 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے تاہم رضاکارانہ طور پر واپسی کا یہ عمل ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ جنگی صورتحال کے پیش نظر اب دوبارہ افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخلے کی خواہشمند ہے تاہم اب ماضی کی طرح بغیر سفری دستاویزات کوئی افغان مہاجر یا افغان مہاجرین کی آڑ میں کوئی شرپسند پاکستان داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاک افغان سرحد 2 ہزار 6 سو 40 کلومیٹر کے 90 فیصد حصے پر 13 فٹ بلند خاردار دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ پاک افغان سرحد کی جدید ترین آلات سے نگرانی کرنے کے ساتھ 100 مختلف مقامات پر چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے ساتھ شرپسندوں کی دراندازی کے واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کریں تاکہ دہائیوں پر محیط افغان مہاجرین کی صورت میں انسانی المیہ اور پڑوسی ممالک کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔