Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں اوورسیز واریئرز نے باغ اسٹالینز کو 5 وکٹ سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: مظفر آباد میں کھیلے گئے اس میچ میں باغ اسٹالینز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اوورسیز واریئرز کو جیت کے لیے 187 رنز کا ہدف دیا تھا۔

    اوور سیز واریئرز نے 187 رنز کا ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر 19.2 اوورز میں حاصل کرلیا اوور سیز واریئرزکے حیدر علی نے 57 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔کامران غلام 41 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور ناصر نواز نے 31 رنز بنائے۔

    باغ اسٹالینز کی جانب سے عامر یامین نے اوورسیز واریئرز کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    باغ اسٹالینز کھلاڑی: شان مسعود ، ذیشان ملک ، روحیل نذیر ، اسد شفیع ، افتخار احمد ، عامر یامین ، عمید آصف ، محمد الیاس ، فرقان شفیق ، عامر سہیل ، ایم عمران جے آر ہیں:

    اوورسیز وارئیرز:ناصر نواز ، عثمان علی خان ، حیدر علی ، اعظم خان ، عماد وسیم ، کامران غلام ، آغا سلمان ، سہیل خان ، محمد موسیٰ ، ایم عباس آفریدی ، فیضان سلیم-

    واضح رہے کہ مظفرآباد ٹائیگرز کے اوپنر ذیشان اشرف نے کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ایونٹ کی پہلی سنچری بنا ئی تھی ذیشان اشرف نے اپنی ٹیم مظفرآباد ٹائیگرز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا

    انھوں نے 196 رنز کے ہدف کے تعاقب میں عمدہ و تاریخی باری کھیلتے ہوئے 58 گیندوں پر ایک چھکے اور 17 شاندار چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی یہ کشمیر پریمیئر لیگ میں کسی بھی بیٹسمین کی پہلی سنچری ہے۔

  • لیونل میسی نے پی ایس جی میں شمولیت اختیار کر لی

    لیونل میسی نے پی ایس جی میں شمولیت اختیار کر لی

    ارجنٹائن کے فٹ بال سٹار لیونل میسی نے فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی: سکائے اسپورٹس کےمطابق پی ایس جی کی جانب سے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں میسی کی موجودگی میں ممکنہ طورپر معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا میسی منگل کی سہ پہر بارسلونا سے پیرس روانہ ہوئے اور انہوں نے پی ایس جی کی شرٹ بھی پہن رکھی تھی

    فٹبالر کاپی ایس جی کے ساتھ معاہدہ دو سال کا ہے اور تیسرے سال کیلئے دوبارہ مشاورت کی جائے گی میسی کو ایک سیزن کے لیےلگ بھگ5ارب روپے ملیں گے۔

    خیال رہے کہ میسی نے گزشتہ مشہور ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا کو 21 سال بعد چھوڑ دیا تھا میسی بارسلونا کلب کو چھوڑنے کی الوداعی پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہوگئے تھے نہوں نے بارسلونا کلب 16 اکتوبر 2004 میں جوائن کیا تھا۔ میسی نے بارسلونا کی طرف سے 778 میچوں میں حصہ لیا اور کل 672 گول کیے۔

    بارسلونا فٹبال کلب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میسی اور کلب دونوں ہی اس بات پر تیار تھے کہ میسی کلب کے لیے کھیل جاری رکھیں مگر ہسپانوی فٹبال لیگ کے قواعد میسی سے ہونے والے نئے معاہدے کے خدوخال کے آڑے آگئے۔

  • پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    ہر انسان چار قسم کے حدود میں زندگی گزارتا ہے جن میں سب سے پہلے ان کی انتہائی ذاتی زندگی کا حد ہوتا ہے جو صرف دو لوگوں یعنی میاں بیوی کے حد تک محدود ہوتا ہے دوسری زندگی ایک شخص کی ذاتی زندگی ہوتی ہے جس کو انگریزی میں پرسنل اسپیس (personal space) کہتے ہیں۔ تیسری زندگی معاشرتی زندگی اور چوتھی زندگی عوامی زندگی ہوتی ہے۔
    آج ہم پرسنل اسپیس کے بارے میں کچھ بات کریں گے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا ہے دوسروں کے پرسنل اسپیس پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سوں کو اپنے حد کا علم بھی نہیں ہوتا اگر کوئی شخص اپنے حد کی حفاظت کر بھی لے تو اس کو خود غرضی کانام دیاجاتا ہے۔
    پرسنل اسپس کو اگر مثالوں سے واضع کیا جائے تو اِس میں ایسے سوالات کا پوچھنا ہے جو سننے والے کو بلکل بھی پسند نہیں ہوں مثلاً آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ شادی کہاں سے کی ہے ؟ اگر کنوارا ہے تو شادی کیوں نہیں کی ؟ آج کل کمزور نظر آرہے ہوں کیوں؟ اِس طرح کے بہت سارے سوالات جن کے جوابات بہت حوصلے والا شخص ہی دے سکتا ہے۔
    اسی دائرے میں سوالات کے علاوہ کئی لوگ عمل کروانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔
    پرسنل اسپیس کے تعین اور اس کے بارے میں بحث کرنے والے علم کو proximics کہتے ہیں اور مغرب میں بچوں کو نو عمری سے یہ علم پڑھایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
    ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں بہت سارے بنیادی حقوق تلف کیے جاتے ہیں ہم ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں کسی ورک شاپ پر یا چائے کے ڈھابے پر کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں جن کی ڈگری اور صلاحیت کو منوانے کے لیے اچھی خاصی رقم اور جان پہچان درکار ہوتی ہے اور ایسے ضعیف العمر افراد نظر آتے ہیں جن کا حق ہے کہ معاشرہ ان کو روزی، صحت اور عزت دیں دے لیکن وہ اس سے محروم ہے۔
    ایسے عالم میں کسی دوسرے کی ذاتی معاملات میں خلل ڈالے بنا ایک باشعور شخص ہی زندگی بسر کرسکتا ہے۔
    اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی بنا پر کسی کے کام آنے سے قاصر ہے تو اس کو خود غرض گردانا جاتا ہیں اور اس کو لالچ، کنجوس اور برا بھلا کہا جاتا ہے اور اگر وہ لوگوں کی باتوں میں آکر سب کو خوش کرنے لگے تو کہیں کا نہیں رہتا۔
    اپنے پرسنل اسپیس کی حفاظت کر کے اور دوسروں کے پرسنل اسپیس کا احترام کر کے آپ خود کو اور دوسروں کو بھی خوش رکھ سکتے ہیں ایک بچے کا مثال ہی لیں لے جو آپ سے تھوڑے فاصلے پر ہنستے مسکراتے کھیل رہا ہو آپ اس کو قریب آنے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں مان رہا اور جب اس کو زبردستی اُٹھا کے لاتے ہیں تو یا تو وہ رونے لگے گا يا اس کے چہرے پر بیزاری آپ دیکھیں گے کچھ بھی نہ کرے تو وہ واپس جانے کی کوشش ضرور کرے گا یہ سب آپ کسی بالغ انسان کے ساتھ نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ آپ کو پہلے ہی منع کردیگا اور آپ اس کو اُٹھا کے نہیں لا سکتے۔
    انسانی زندگی میں بہت سی چیزیں سمجھنے کی ہوتی ہیں اور ہمیں سمجھنا چاہئے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لئے بھی دیا گیا ہے کہ انسان میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    @I_MJawed

  • کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ:مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی ذیشان اشرف کو بہترین بیٹنگ پرفارمنس پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق مظفر آباد ٹائیگرز نے 196رنز کا ہدف 19 ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ مظفر آباد ٹائیگرز نے 196 رنز کے تعاقب میں اننگز کا جارحانہ آغاز کیا مگر اوپننگ بلے باز تیمور سلطان چار رنز بناکر آؤٹ ہوگئے-

    تاہم ان کے ساتھ اوپننگ کے لیے آئے ذیشان اشرف نے ٹورنارمنٹ کی پہلی سینچری سکور کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا ذیشان اشرف نے 62 گیندوں پر 107 رنز بنائے جس میں 18 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا کوٹلی لائنز کی جانب سے عاکف جاوید 2 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ خرم شہزاد اور عرفان اللہ شاہ نے ایک ایک وکٹ لی۔

    دوسری جانب کوٹلی لائنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 195 رنز بنائے تھے کوٹلی لائنز کے آصف علی 67، سید عبداللہ رافع 35، سیف بدر 28 اور کپتان کامران اکمل 27 رنز بنا کر نمایاں رہے مظفرآباد کی جانب سے سہیل تنویر، ارشد اقبال، محمد حفیظ اور عثمان یوسف نے ایک، ایک وکٹ لی۔

  • اسلام اور پاکستان  تحریر: حادیہ سرور

    اسلام اور پاکستان تحریر: حادیہ سرور

    23مارچ1940قرار داد پاکستان کا ایک سنہرا دن ایسے امیدوں کے چمکتے ہوٸے سورج کو لے کے ڈوبا کہ اسکے بعد ہر آنے والا دن اور ان دنوں میں روزانہ ابھرنے والا سورج مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا رہا
    وہ دن دور نہیں کہ اسی مشرق میں ایک ایسا سورج طلوع ہونے والا ہے جسکے مقدر میں ڈوبنا لکھا ہی نہیں۔ یہ پہلا مقدس خطہ ہے جسے صرف اور صرف اسلام کے لیے حاصل کیا جارہا ہے۔
    وہ لوگ جس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے , وہ اسلام کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔
    ان کا مقصد اس ارض پاک کے کونے کونے کو سینماٶں اور تھیٹروں کی زینت بنانا نہیں تھا۔۔۔۔!
    باب ہند سے لٹتے ہوٸے آنے والے قافلے اس جذبے سے اپنا تن من دھن قربان نہیں کر رہے تھے کہ اس بننے والے وطن میں بیٹھ کر ہم اپنے ہی بھاٸیوں کی پُشت میں چُھرا گھونپیں گے اور جو دشمن اس وقت ہمارے سروں پہ وار کر رہے ہیں اپنے بھاٸیوں کے خلاف انہیں کو اپنے جنگی اڈے فراہم کریں گے۔۔۔
    صرف اور صرف اسلام کی خاطر ٹرین میں سفر کرنے والے وہ ہزاروں مہاجرین جن میں بچے,بوڑھے,جوان مرد اور عورتوں سمیت سب کو بڑی سفاکی اور بےدردی کے ساتھ شھید کردیاگیا, انکا مطمع نظر اپنے ہی وطن کی ماٶں, بہنوں اور بیٹیوں کی دشمنوں کے حوالے کرنا نہ تھا۔۔۔!
    وہ چند ٹکے حاصل کرکے اپنے بھاٸیوں کو بیچنے والوں میں سے نہ تھے۔۔۔۔!
    وہ عافیہ کی عزت کے رکھوالے غیرت مند مسلمان تھے۔۔۔۔!
    انہیں کا خون اس شمسِ پاکستان کو دنیا کے کونے کونے میں جلوہ گر کیے ہوٸے ہے۔

    اقتدار کی حرص و ہوس نے تمہیں اپنی روشن تاریخ ماضی سے اندھا کردیا ہے۔
    قاٸد اعظم نے فرمایا اکبر کی طرف دیکھنے کی بجاٸے ہمارے سامنے نبی اکرم محمد صلى الله عليه واله وسلم کااسوہ ہے ۔۔۔۔قیام پاکستان سے قبل 101مرتبہ اور بعد میں 14 مرتبہ کہا کہ پاکستان کے آٸینی ڈھانچے کی بنیاد اسلام اصولوں پر رکھی جاٸیگی۔۔۔۔نواب بہادر یار جنگ نے کہا، اگر پاکستان میں قرآن و سنت کا نفاذ مرآد نہیں تو اسکے لیے ہر کوشش ہرام ہوگی۔ یہ سن کر قاٸد اعظم بولے نواب تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔

    عزم یہ تھا کہ جس طرح الله تعالٰی نے اپنے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کو مدینہ دیا تھا اسی طرح ہمیں پاکستان نعمت کے طور پر دیا ہے جو کام ہمارے نبی نے مدینہ میں کیے وہی کام ہم نے پاکستان میں بیٹھ کر کرنے ہیں۔۔۔

    ذرا سا پیچھے ہٹ کے دیکھو تو تم پھانسی کے پھندے پہ تو چڑھ سکتے ہو, زمین و آسمان کے درمیان ہلاک تو کیے جا سکتے ہو, ضیاء اقتدار سے یکدم پابند سلاسل جیسی ظلمات کی اتھاہ گہراٸیوں میں گر سکتے ہو, اس ارض مقدس سے ذلیل و خوار ہو کے ملک بدر تو ہو سکتے ہو۔۔۔۔لیکن ان شہداء کے خون کو داغدار نہیں کرسکتے جنہوں نے اسلام کے لیے پاکستان کو حاصل کیا تھا۔
    اسلام اور پاکستان کے رشتےکی مضبوطی کا عالم یہ ہےکہ ہزاروں لفظوں کو تراشنے اور لاکھوں جملوں کو سمیٹنے کے باوجود اس مضبوط بندھن کے ملاپ کو ناپا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی گہراٸی تک پہنچا جا سکتا ہے۔۔۔
    الله اس ملک عظیم میں اسلام کا بول بالا فرماٸے (آمین)

    ‎@iitx_Hadii

  • ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم   تحریر: صالح ساحل

    ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم تحریر: صالح ساحل

    آج میں جس موضوع کو اپنا ہدف بنا رہا ہوں اس میں کسی کی کوئ تفریق نہیں ہر شخص کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے کے وہ کہاں کھڑا ہے میں نے اپنے موضوع کے ساتھ بیماری کا لفظ استعمال کیا جو آپ کے لیے تجسس کی بات ہو گی مگر میں نے اخلاقی برائیاں کے ساتھ بیماری کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے اور ہمارے جینز میں شامل ہو چکی ہے اور یہ سرطان کی طرح ہمارے معاشرے کو اندار سے کھوکھلا کرتی جا رہی جن اخلاقی برائیاں کو خدا کے منکر برائ تسلیم کرتے ہیں ان برائیوں پر خدا کے ماننے والے کیسے رو باعمل ہیں ہر شخص مسلمان اپنی گھر سے سیکھ کر آتا ہے کے جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے مگر وہ معاشرے میں کھل کر جھوٹ بولتا ناپ تول میں کمی کرنے والا ہم میں سے نہیں مگر ہر تاجر اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے ذخیرہ اندوزی کر کے مال بنایا جاتا ہے زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کی جاتی ہے غرض یہ کے دنیا کی کوئ ایسی برائی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو پھر ہم اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھنے کے لیے اس اخلاقیات سے دیوالیہ حرکات کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ذلت و رسوائی کا زمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کے اگر ہم آج دنیا میں روندا درگاہ ہیں تو یہ دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ جو کے سراسر خود فریبی اور دجل ہے دنیا میں انہیں قوموں کے مقدر میں ترقی ہوتی ہے جو اخلاقی طور پر ایک قوم ہوتیں ہیں انسان نام رکھ کر حیوانات والے کام کرنے والی قومیں کبھی دنیا میں ترقی نہیں کرتی اس دنیا کی سب سے اعلی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے معترف ان کے دشمن بھی تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی اخلاقی تربیت کا نتیجہ تھا کے قیصر و کسریٰ کی سلطنت آپ کے غلاموں کے قدموں تھی اور وہ عرب بدو جن کو کل تک کوئ گھاس نہیں ڈالتا تھا دنیا کے سپرپاور بن گے قوموں کے فیصلے ان کے اخلاقی وجود پر ہوتے ہیں جس قوم کا اخلاقی وجود مر چکا ہو وہ صحفہ ہستی سے مٹ جاتی ہے اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک چنگیز خان جو ایک چھوٹے سے قبیلے سے اٹھا اور اپنی ساتھ قبائل مل کر آدھی دنیا پر حکمرانی کرنے لگا تو تاریخ اٹھ کر پڑھو وہ ایک با اصول شخص تھا جس کے جھنڈے کے نیچے اس کے باقی قبائل جمع ہوئے مگر جب اس کی نسلوں نے ان اصولوں کو فروش کیا تو صحفہ ہستی سے مٹ گے عرب کی ایک کہاوت ہے کے ظلم پر تو معاشرہ قائم رہ سکتا ہے نا انصافی پر نہیں یہ تمام برائیاں نا انصافی کے زمرے میں آتی ہیں کسی سے جھوٹ بولنا حق تلافی کرنے ذخیرہ اندوزی کرنا کرپشن کرنا ان سب میں نا انصافی نظر آتی ہے اس لیے ہم سب کو معاشرے میں پھیلی بیماری کے ساتھ ساتھ اپنے اندار بھی دیکھنا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کے ہر شخص اس کے خلاف علم جہاد بلند کرے گا معاشرے کو اس ناسوار سے پاک کرنا ہماری زمہ داری ہے آئیں سب مل کر ان برائیوں کا سدباب کریں خدا کے قانون کے مطابق دنیا وہ سرفراز رہیں گے جو دنیا میں اخلاقی اصولوں پر چلیں گے
    ‎@painandsmile334

  • آؤ فرق نکالتے ہیں تحریر:  محمد وقاص شریف

    آؤ فرق نکالتے ہیں تحریر: محمد وقاص شریف

    پچھلی حکومتوں کو کوسنا پاکستانی سیاست کا وطیرہ بھی ہے اور فرض عین بھی
    ذمہ داری کو قبول کرنا ہمارے سیاستدانوں کے خون میں بھی شامل نہیں۔ یہاں ڈنگ ٹپاؤ مہم بڑی کامیابی سے جاری ہے ذہن میں ایک تصور تھا کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کچھ نیا کرے گی
    لیکن اس نے پرانوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو کمینہ کہے تو حق یہ بنتا ہے کہ دوسرا شخص یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے
    کہ وہ کمینہ نہیں بلکہ ایک شریف النفس انسان ہے ایسا کرنے کی بجائے وہ فوراً جواب دیتا ہے۔ کہ تو بھی تو کمینہ ہے
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے فریق اول کی بات کو جھٹلایا نہیں اور وہ واقعی اپنے آپ کو کمینہ ہی سمجھتا ہے۔ ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ ہم اپنی شخصیت کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ ہم لوگ جواب میں دوسرے کو نیچا دکھا کے جان چھڑا لیتے ہیں
    بالکل اسی طرح اس حکومت سے جب اپوزیشن کے لوگ کارکردگی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی بجائے یہ کہہ دیتی ہے کہ تمہاری کارگردگی بھی تو خراب تھی۔ پچھلی حکومتوں پر کرپشن کے الزامات ایک طرف مگر ان دو حکومتوں نے ملک بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے
    پاکستان کو ایک نیا چہرہ دیا
    سہولیات کی لائنیں لگا دی۔ مشکلات کے باوجود وسیع پیمانے پر کام ہوئے۔ سرکاری ملازمین پر نوٹوں کی بارش کی گئی۔ لوگوں کو لاکھوں نوکریاں دی گئیں۔ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر مندی کے لیے قرضے اور ادارے دیے گئے سڑکوں کا ایک وسیع و عریض جال بچھایا گیا خصوصا ملک بھر کو موٹروے کے ذریعے جوڑ دیا گیا سی پیک لایا گیا کمال کی ترقی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں اور موجودہ حکومت میں وہ کیا نیا ہے کہ موجودہ حکومت کارکردگی سے کوسوں دور ہے آئیے موازنہ کرتے ہیں۔
    1 پچھلی حکومتیں اتحادیوں کے ذریعے بنیں۔
    2 پچھلی حکومتیں بھی اتحادیوں کی بلیک میلنگ کا شکار تھیں یہ بھی شکار ہیں
    3پچھلی حکومتوں نے بھی ملکی بینکوں سے بے بہا قرضے لیے۔ یہ حکومت ان کا بھی ریکارڈ توڑ چکی ہے
    4 پچھلی حکومتیں آئی ایم ایف کے سامنے گڑگڑائیں۔ یہ بھی سر بسجود ہو چکے ہیں۔
    5 پچھلی حکومتوں کو بھی وراثت میں قرضے ملے۔ موجودہ حکومت کو بھی ان کا سامنا ہے
    6 پچھلی حکومتوں نے بھی سرکولر قرضوں کا سامنا کیا۔ ان کو بھی زیارت نصیب ہوئی
    7 پچھلی حکومتوں میں کرپشن ہوئی لیکن یہ کہتے ہیں کہ کرپشن نہیں ہورہی۔ یہ بھی مان لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مشکلات کا موازنہ کریں تو وہ بالکل برابر ہیں۔ کرپشن کا موازنہ کریں تو موجودہ حکومت پاکباز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان جس چیز کو تباہی کی جڑ قرار دیتے تھے وہ کرپشن اب نہیں ہو رہی تو پھر کارکردگی کہاں ہے۔ 3 سال کا عرصہ بیت گیا۔ نہ نوکری ملی۔ نہ مناسب تنخواہیں بڑھیں
    نہ ترقیاتی کام ہوئے۔ مہنگائی عروج پر چلی گئی۔ ادارے برباد ہوگئے ہیں۔ انتقامی کارروائیاں عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفین کو چن چن کر جیلیں بھری جا رہی ہیں۔ جو کام بڑی خوبی کے ساتھ ہورہا ہے وہ یہی ہے کہ اتحادیوں کی روزانہ کی بنیاد پر پاؤں دبائے جا رہے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے حکومت نا گرے۔ میں کیا بتاؤں سارے خواب چکناچور ہوگئے ہیں۔ غیرت مند خان حکومت بچاؤ مہم میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں۔ کہ کسی کا مرنا۔ گرنا۔ جلنا۔ ٹوٹنا۔ بکھرنا۔ دماغی مریض بن جانا آ س کے لئے کوئی اہم نہیں۔ اگر کچھ اہم ہے تو صرف اور صرف اپنے وجود کو برقرار رکھنا خان صاحب کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے.
    ‎@joinwsharif7

  • آزادی رائے کا اظہار  تحریر: فاروق زمان

    آزادی رائے کا اظہار تحریر: فاروق زمان

    آزادی رائے کسی بھی شخص کا آزادانہ طور پر، اپنے نظریات، خیالات اور رائے کا اظہار ہے۔ اور یہ کسی بھی شخص کا بنیادی اخلاقی حق ہے، ہر انسان اپنی سمجھ بوجھ، عقلی استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے کسی بھی شخص، چیز، یا واقعے کے بارے میں اپنی رائے رکھتا ہے، اور اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کا اظہار کرے۔

    بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے، جب آذادی رائے کے نام پر لوگ کسی خاص، شخص، مذہب، قوم یا نظریات کو نشانہ بنا لیتے ہیں، ان پر بے جا تنقید کرتے ہیں۔ آزادی رائے کا حق بجا ہے، لیکن اس کی آڑ میں اپنے زاتی مفادات کو پورا کرنے کے لیے کسی کی تذلیل کرنا ایک گھناؤنا عمل ہے، آج کل سوشل میڈیا پر آزادی رائے کے نام پر مختلف لوگوں اور شخصیات کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں، مختلف پس منظر کے لوگ کسی بھی سیاسی یا مذہبی شخصیت کے پیچھے لگ جاتے ہیں، ان کی کردار کشی اور تذلیل کرتے ہیں، نازیبا زبان و کلمات استعمال کرتے ہیں۔ اپنے مفادات پورے کرتے ہیں، آزادی رائے کے نام پر اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لوگ عموماً آزادی رائے کے نام پر تمام حدود پار کر جاتے ہیں۔ جو کہ نا قابل برداشت ہے۔ کسی کی بھی تذلیل و تضحیک کرنا، اس کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔تنقید کرتے ہویے، آزادی رائے کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے اختلافات بیان کرتے ہوئے دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔

    دنیا میں”فریڈم آف سپیچ” کے نام پر مسلمانوں، پیغبر اسلام اور اسلام کی تعلیمات کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مغرب ممالک میں مقیم خواتین کے لباس، پردے اور حجاب وغیرہ کی تذلیل کی جاتی ہیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے اور نمونے بنا کر تضحیک کی جاتی ہے۔ اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں۔ یہ خود کو مہذب سمجتے ہیں اور مسلمانوں کو تنگ نظر کہا جاتا ہے، حالانکہ مسلمان فریڈم آف سپیچ کے نام پر کسی قوم کو مذاق کا نشانہ نہیں بناتے، کسی مذہب کی تعلیمات کی تضحیک نہیں کرتے، کیونکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے، اسلام نے سب سے پہلے انسانوں کو بنیادی حقوق اور آزادی رائے کا حق دیا،

    آزادی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شائستگی اور عزت و احترام کے ساتھ اپنا نکتہ نظر بیان کریں، چونکہ آپ بدتہذیبی کا مظاہرہ کریں گے تو اگلا شخص بھی اسی آزادی رائے کا استعمال کرتے ہوئے آپ کے ساتھ ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کے نظریات، خیالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اختلاف رائے کو قبول کیا جانا چاہیے، لوگ صرف خود کو، اپنی بات کو درست سمجھتے ہیں اور دوسرں کو غلط گردانتے ہیں۔ اپنے موقف کو درست سمجھ کر ےاس پر ڈٹ جاتے ہیں، اس سے انفرادی اور اجتماعی طور پر اختلاف جنم لیتے ہیں، جو بعض اوقات سنگین صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

    بعض اوقات آزادی رائے کسی مخصوص طبقے یا شخص کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے، اور آزادی رائے کا اظہار کرنے والوں کو برے انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے، آزادی رائے کے اظہار کے لیے کوئی تحفظ بظاہر فراہم نہیں کیا جاتا، لیکن آزادی رائے کے نام پر بہت سے فسادات بہر حال ہو سکتے ہیں۔

    آزادی رائے کی حدود ہوتی ہیں، یہ مختلف قوموں، مذہبوں، نظریات اور مزاجوں کی دنیا ہے۔ آزادی رائے کے نام پر کہے جانے والے الفاظ کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ آزادی رائے کے نام پر شر نہ پھیلائیں، شدت پسندی اور فسادات کو ہوا نہ دیں۔ معاشرے کے بگاڑ کا سبب نہ بنیں بلکہ متوازن سوچ اور مثبت رویے سے اپنی رائے کو دوسروں تک تعمیری انداز میں پہنچائیں۔ اپنی حدود و قیود پہچانیں، کسی کے دل آزاری کا سبب نہ بنیں، بلکہ اصل حقائق کے ساتھ زمہ درانہ طریقے سے اپنے آزادی رائے کے حق کو استعمال کریں۔۔

    فاروق زمان

    ‎@FarooqZPTI

  • عورتوں کے حقوق تحریر  نوید خان

    عورتوں کے حقوق تحریر نوید خان

    عرصے بعد قلم اُٹھایا تو ذہن میں کافی موضوعات گردش کر رہے تھے دلِ ناداں روٹین سے ہٹ کر کچھ مختلف لکھنے کے موڈُ میں تھا تو سوچا آج صنف نازک پر کالم نگاری کی جائے۔۔
    انسان شعور کی دنیا میں جب قدم رکھتا ہے تو اُسکا سب سے پہلے واسطہ ایک عورت سے ماں کی صورت میں پڑھتا ہے
    ماں اللّٰہ کی طرف سے پیش کئے گئےعظیم تحفوں میں سے ایک تحفہ ہے
    انسان کا پہلہ پروٹوکول دراصل اُسکی ماں ہے
    عورت کے کئی روپ ہیں
    عورت اگر ماں ہے تو جنت ہے
    اگر بہن ہے تو حوصلہ
    اگر شریکِ حیات ہے تو جینے کی وجہ اور ہر خوشی غمی کا ساتھی
    اگر بیٹی ہے تو رحمت
    اگر حالاتِ حاضرہ کا انصاف کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو زہن و گمان میں ایسے کئ ظالمانہ واقعات آتے ہیں جوکہ ثابت کرتے
    انسان ہر دور میں عورتوں پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج تک عورتوں کو اُسکا جائز حق دینے سے انکاری ہے
    دینِ اسلام میں عورتوں کو پورے حقوق دینے کے واضح احکامات ہیں
    خوش بخت ہیں وہ عورتیں جو ماں جیسی عظیم و شان مقام پر فائز ہیں خوش بخت ہیں وہ اولادیں جنکی جنّتیں دنیا میں بھی اُن کے ساتھ ہیں
    ہمارے معاشرے میں کہی تو عورتوں کی قابلیت کے قِصࣿے ہیں چرچے ہیں
    تو کہی
    خواتین کو مارا جا رہا ہیں
    اُنکے چہروں پر تیزاب پھینکا جارہا ہیں اور
    عورتوں کو بے توقیر کیا جا رہا ہیں
    یہ ہماری بد بختی ہیں
    اگر ماں جیسی عظیم ہستی اولڈ ہوم میں ہے
    بہن کو جائیداد میں حصہ نہیں ملا
    اور بیوی اپنے جائز حق سے محروم ہے
    خواتین ڈے پر تقریبات اپنی جگہ
    خوبصورت الفاظ اپنی جگہ
    پر اس ظلم کو بند ہونا جاہئے
    ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عورتوں کو اُن کے بنیادی حقوق دے
    اُن کو مضبوط کرے
    میری تحریر میرے الفاظ بے اثر ہے اگر لکھے کو پڑھنا نصیب نا ہو
    میں سماج کی اُن فرسودہ روایات کو ختم کرنا چاہتا ہوں جو کہ کسی عورت کو عزت سے اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنےکیلئے کئے گئے کاموں میں رُکاوٹ بنتی ہیں
    میں اُن خواتین کا ذکر بھی کرنا چاہونگا
    جو گلی کے بے کار لونڈوں کی آسمانوں سے باتیں کرتی بے کار اور جھوٹی محبت کا شکار ہو کر خود کو اذئیت دیتی ہے
    یا پھر ساحل پر اُن کشتیوں کا انتظار کرتی ہیں جوکہ اُس سمندر میں موجود ہی نہیں ہوتی۔۔
    شاید مردوں کو میری یہ بات پسند نا آئے
    اور وہ یہ شِکوہ کرے کہ ایک مرد ہو کر آپ نے اپنا قلم اور لفظوں کو مردوں کے خلاف استعمال کیوں کیا پر قابل اور زمانہ شناس لوگ شاید اس بات کو سمجھے کہ میں اپنا فائدہ اپنی ذات اور مفادات کو کسی تحریر پر اثر انداز نہیں کر سکتا میں سچ بولنے کا پابند ہوں
    ہم مرد حضرات بہت خوبصورتی سے کسی خاتون کے دل میں محبت کا احساس اُس وقت جگاتے ہیں جب تک اُسے یقین نہیں آجاتا
    پھر ہمارا دل بھرنے لگ جاتا ہیں
    اور ہم مجبوریوں کا بہانا کرکے کنارہ کر لیتے ہیں یہی ہماری حقیقت ہیں
    یہ ہماری اقدار کبھی نہیں تھی
    بنتِ حوا کے نرم لہجے نے
    ابنِ آدم بگاڑ رکھے ہیں
    جو سچ کہوں تو بُرا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
    یہ سماج جہل کی زَد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے

  • آنلائن شاپنگ فراڈ  تحریر : عقیل احمد راجپوت

    آنلائن شاپنگ فراڈ تحریر : عقیل احمد راجپوت


    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں روپے روز کی آنلائن شاپنگ کی جاتی ہیں لیکن دنیا بھر میں کسٹمرز کے ساتھ ہونے والے دھوکوں نے عوام کا آنلائن شاپنگ کمپنیوں سے اعتبار ختم کردیا ہے کیونکہ بہت سی آنلائن کمپنیوں نے عوام کے ساتھ کئے جانے والے دھوکوں میں شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا موبائل کے ڈبے سے موبائل کی جگہ پتھر نکالتا ہوا کسٹمر زندگی بھر آنلائن شاپنگ نہیں کرے گا پاکستان میں سب سے بڑی آنلائن کمپنی دراز پر بھی فراڈ ہوئے جس کے بعد اس نے اپنی ساکھ کو نقصان سے بچانے کے لئے ان سلیبریٹیز اور کچھ عام لوگوں تک ان کی مطلوبہ اشیاء پہنچا کر اپنا معیار بچانے کی کوشش کی مگر ہزاروں لوگوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر یہ فراڈ ہورہےہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں
    پاکستان میں کنزیومر کورٹ کے بارے میں لوگوں کو بہت کم آگاہی ہے جس کا فائدہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اٹھاتی ہے اس پر باقاعدہ ایک آرٹیکل لکھ رہا ہو جو بہت جلد دستیاب ہوگا آنلائن خریداروں سے گزارش ہے کہ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے ڈیلر کی ریٹنگ اور پروڈکٹ کے بارےمیں عوام کی رائے کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد ہی اس چیز کی حقیقت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے بہت سی اچھی کمپنی بھی ان دھوکے باز لوگوں کی وجہ سے اپنے کاروبار کو فروغ نہیں دے پاتی جس سے پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچتا ہے مگر کون ہے جس کو اس جانب توجہ ہو ہر ایک بس اپنی مستی میں مگن ہیں آنلائن کمپنیوں کے بارے میں ایک باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے جو آسان اور ہر انسان کی دسترس میں ہو آنلائن کام کرنے کے خواہشمند لوگوں کو حکومتی سطح پر رجسٹرڈ کیا جائے تاکہ دھوکہ دینے والوں کے خلاف کاروائی ہوسکے مگر فلحال تو کوئی بھی کسی بھی برانڈ کی انٹرنیشنل تصویر لگا کر فیس پک پر بکنگ شروع کر دیتا ہے اور سادہ لوح عوام اس کے دھوکوں میں پھنس کر اپنے سینکڑوں ہزاروں روپے گوا بیٹھتے ہیں حکومت سے اس جانب توجہ دینے کے لئے میں اور بہت سے لوگوں کی جانب سے لکھا اور کہا جاچکاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس چور بازاری کی گرفت کے لئے کب تک قانون سازی کی جائے گی اور عوام کی جیبوں سے نکلنے والے ان کے حلال کے پیسوں کو لوٹنے سے بچایا جاسکے گا آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے اپنے پیسوں کو لوٹنے سے بچانے کے لئے کچھ ہدایات جو لکھی گئی ہیں ان پر عمل کرے اور دوسروں تک بھی پہنچائیں
    شکریہ