Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی

    "کارگل جھیل” خوبصورت نام خوبصورت جگہ اور ٹھنڈا پانی جو روح تک کو تازگی بخشے۔ اگر ہم مری ایبٹ آباد میں جائیں کسی آبشار پر یا جھیل پر تو کولڈ ڈرنک تو دور کی بات سادا پانی اتنا مہنگا ہوتا کہ حیرانگی ہوتی ہے۔ یہاں مجھے پیاس لگی تو چھوٹے سے بنے کھوکھے پر گئی پانی کہا تو گلاس میں دینے لگے کولر سے، میں نے کہا منرل چاہیئے تو بوتل پکڑائی جو کہ میرے خیال میں 150 تک کی ہونی تھی لیکن اس نے 80 روپے لیے ساتھ ڈسپوزیبل گلاس لیے اور سو میں یہ ہوگیا جو کہ ایسی جگہ پر ناقابل یقین تھا۔ خیر واپسی ہوئی اسی بچے صابر نے ایک ویگن ٹائپ روک دی تاکہ بچوں کو اور چھوٹے بچوں والی ماؤں کو بیٹھا کے بھیجا جا سکے۔ اور ہم باقی لوگ پیدل ہی واپس آئے۔ جیسے ہی ہم لوگ مسجد کےپاس پہنچے تو مسجد بند تھی اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ صابر نے کہا وہ سامنے ہمارا گھر ہے آپ ادھر اجائیں ہماری تقریباً دس بچیاں گئی انکے گھر جب کافی دیر ہوئی تو مجھے پریشانی لاحق ہوئی کہ ابھی تک واپس نہیں آئیں کہیں یہاں سے گئیں افغانستان کی کسی سرنگ سے ہی نا برامد ہوں میں گئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی صابر کی ماں اور بہنیں باتیں کررہی تھیں اور ساتھ کھانا اور چائے کے لیے ضد کررہی تھیں یہ لوگ پھر معذرت کرتے واپس آئے کہ ان شاء الله دوبارہ آٰے تو ضرور ائیں گے۔ صابر کا چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت گھر تھا۔ وہاں چائلڈ لیبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی وہاں سب محنت کرتے ہیں بچے بڑے بوڑھے اور گھر کی خواتین گھر کو بہت خوبصورت انداز سے سمبھالے ہوئے ہیں۔

    واپسی پر ایک چھوٹی سیدوکان کے بایر ہم بیٹھ گئے دوکاندار نے ہمیں کرسیاں لگا دیں اور ہم وہاں بیٹھ کر ٹھنڈے پانی اور جوس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ صابر وہاں بھی ہمارے ساتھ تھا اور اسکا وہ آخری جملہ مجھے شرمندہ کرنے کے لیے بہت تھا۔ جب ہم نے اسے پیسے دینے چاہے تو اس نے لینے سے انکار کردیا حالانکہ اپنے نشانہ بازی کے پورے لیے تھے۔ لیکن یہ ہم نے ویسے ہی دیے تھے کہ اتنا وقت ہمارے ساتھ رہے اور کام کرتے رہے یہاں تک کہ گھر بھی لے گئے۔ کہتا ہے یہ گناہ ہوتا ہے ہم پیسہ نہیں لےگا یہ تو ہم ہر حرام ہے آپ ہمارا مہمان ہے اور مہمان نوازی کا پیسہ نہیں ہوتا ہے۔ ہم نے بہت کوشش کی مگر وہ باضد رہا پھر ہم نے اس سے وعدہ کیا کہ دوبارہ جب بھی آئے تمہارے گھر ائیں گے اور کھانا بھی کھائیں گے۔ اسکے ساتھ تصاویر پھر جا کر اس نے کہیں ہم سے پیسے لیے اور پھر جتنی دیر ہم وہاں رکے رہے وہ شرمندہ شرمندہ سا سر جھکائے کھڑا رہا۔ اتنا پیار ارہا تھا اس بچے پر۔ اسکی تربیت کرنے والی ماں پر۔ کتنا بڑا دل اورظرف ہے ان لوگوں کا۔ کیسے انکے بازو کھلے ہیں مہمانوں کے لیے۔ میں اپنے رویہ پر بہت شرمندی تھی کہ ہم کیا سمجھے اور وہ کیا نکلے۔ لیکن اسکے بعد میں نے یہ تہیہ کر لیا کہ اب شک نہیں کرنا ہے۔ بے لوث محبت کرنے والوں کی قدر کرنی ہے۔ واپس "اوشو” جنگل میں رکے رہے کافی دیر بچوں نے گھڑ سواری کی تصاویر بنائیں سلومو بنائے میوزک لگا کر ارتغرل کو یاد کیاگیا۔

    اونٹ والا اپنی بےوقوفی اور ضد کی وجہ سے کچھ نا کما سکا جبکہ گھوڑے والے نے اچھا خاصہ کمالیا۔ ڈولی جھولے لیے ۔گنے کی روہ پی اور واپسی ہوئی۔ کچھ دیر سستانے کے بعد کھانے کے لیے گئے "لاروش” کچھ اسی ٹائپ کا نام تھا کھانے کا ارڈر کیا تو بارش شروع ہوگئی کافی تیز بارش وہیں بیٹھے بیٹھے انجوائے کی جیسے بارش رکی ہر منظر بہت خوبصورت تھا اتنا شفاف دھلا ہوااور آسمان کی نیلاہٹ نے اسکی خوبصورتی میں مزیدچار چاند لگا دیے۔ گھاس نہا کر فریش ہوگئی تھی۔ کھانا حسب معمول بہت مزیدار تھا۔ ہر چیز کا زائقہ مختلف تھا۔ دال سے لے کر کڑاہی تک کابلی پلاؤ سےلے کر ہانڈی تک۔ یہاں بھی بل مناسب تھا۔ ادا کیا اور راستے سے ائس کریم کھاتے ہوئے لوٹ آئے۔ تھکن اور نیند سے برا حال تھا جبکہ ابھی ایک پڑاؤ مالم جبہ کاباقی تھا جس کے لیے صبح سویرے جانا تھا اس لیے ضروری سامان الگ کر کے اور باقی سامان بیگ کی صورت بنا کر ایک طرف رکھ کے سوگئے۔
    جاری

  • میاں بیوی جنت تک کا ساتھ تحریر ۔فرزانہ شریف

    دنیا کے خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک رشتہ میاں بیوی کا بھی ہے جب دو انسان نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو ایک قسم کا عہد ہوتا ہے ہردکھ درد ۔خوشی غم میں ایک دوسرے کا مضبوط سہارا بنیں گے نہ کہ کسی ایک پر آزمائش آنے پر بدنسلوں کی طرح دوسرے منڈھیروں کی تلاش میں نکل جائیں گے تو میں کہہ رہی تھی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے سکھ چین کے ساتھ ہوتے ہیں میاں بیوی کو چاہئیے اگر ہوسکے تو آپس میں پیار محبت بڑھانے کے لیے اور ساتھ اپنی دلی خوشی کے لیے بھی ہر موقع پر ایک دوسرے کو مہنگے تحائف دینے کی بجائے ایک دوسرے کی خاطر چند سطریں لکھ دیا کریں یا پھرچوری کے کچھ اشعار کا سٹیٹس لگا کر اپنی اپنی زندگی میں ایک دوسرے کے کردار پر خوشی اور اعتماد کااظہار کردیا کریں چوری کے اشعار اس لیے کہہ رہی ہوں اب ہر کوئی شاعر یا شاعرہ تو ہو نہیں سکتے چوری چکاری سے ہی کام چلانا پڑے گا ناںْ۔رشتے بنانے آسان ہیں نہ نبھانے۔ عام طور پر زیادہ تر لوگ اپنے شریک حیات کی خامیاں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ خوبصورت پاکیزہ رشتہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔
    ہمیشہ ایک دوسرے کی خامیوں کو نظرانداز کیا کریں اور خوبیوں کو سراہا کریں ہے بلکہ سرِ عام سراہا جایا جانا چاہئیےیہی ہمارے رشتے کی خوبصورتی ہے۔۔
    میرے نزدیک اس بات میں کوئی قباحت نہیں کہ آپ اپنے ساتھی کی تعریف کریں اسکے ساتھ کو اپنی خوش نصیبی سمجھیں اور برملا اس کا اظہار بھی کریں

    اکثر دیکھا جاتا ہے کچھ خواتیں جب گھر سے باہر جاتی ہیں خوب بن سنور کرواپس گھر آتے ساتھ سب سے پہلے وہ اپنا سارا بناو سنگار ختم کرتی ہیں حالانکہ یہ بہت غلط بات ہے اپنے شوہر کے لیے بننا سنورنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔۔شوہر کے لئے بن سج کر رہیں۔ پرفیوم، ماؤتھ واش وغیرہ کا استعمال روٹین میں کریں۔ نیل پالش ریموور بھی پاس رکھیں تا کہ نماز سے پہلے نیل پالش اتار کر وضو کیا جا سکےاپنے شوہر اور سسرال کے سامنے اپنے میکے کا بھرم رکھیں۔ اگر میکے میں اپنی بھابیوں سے کچھ ان بن ہو، یا کسی اور کے ساتھ مسئلے مسائل ہوں، تو بھی شوہر کو ان سلسلوں میں مت ڈالیں۔ بالکل اسی طرح، میکے کے سامنے سسرال کا بھرم رکھیں۔ سسرال کو ٹاپک بنا کر غیبت میٹنگ کو عادت نہ بنائیں سسرال جو اپ کو اپنے گھر کی عزت بناکر لاتے ہیں ان کو کبھی اپنا دشمن نہ سمجھیں بلکہ ان میں گھل مل جائیں کہ یہ ہی اچھے خاندان کی بیٹی کی نشانی ہوتی ہے
    ہر رشتے کو مضبوط ہونے میں وقت کے ساتھ ساتھ کوشش بھی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے اس رشتے میں بھی بہت سے اُتار چڑھاؤ آتے ہیں ۔ بہت دفعہ ان بن ہوجاتی ہے لیکن اس رشتے میں کبھی آنا کو آنے بلکہ اپنے پاس بھٹکنے بھی نہ دیا جائے
    کہتے ہیں میاں بیوی کی لڑائی ناراضگی کے بعد صلح اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط ترکردیتی ہے لیکن کوشش یہ ہی کرنی چاہئیے اگر شوہر غصے میں ہو کسی وقت تو بجائے ٹر ٹر جواب دینے کے صبر سے خاموش ہو جائیں اگر خاموش رہنا مشکل تو وقتی طور پر آگے پیچھے ہوجائیں جب دونوں کا غصہ ختم ہوجائے تو پھر آرام سے اپنی بات کا نقطہ نظر سمجھائیں۔۔ کبھی کوئی ایسی ویسی بات اپنے بیڈروم سے باہر نہ نکلنے دیں ۔اسے چھوٹی سی ٹپ سمجھ لیں لیکن یہ چھوٹا سا عمل کبھی آپ کے رشتے کو کمزور نہیں ہونے دے گا۔مانیں یا نہ مانیں لیکن رشتوں کو کمزور ہمیشہ دوسروں کی مداخلت ہی کرتی ہے۔
    ہاں اگر آپ خود معاملات سلجھانے کی سکت نہیں رکھتے تو کسی اپنے سے مشورہ کر لیا کریں لیکن بلا ضرورت کسی کو ذاتی معاملات تک رسائی نہ دی جائے تو بہتر ہے۔
    اپنے شوہر کی تعریف کرنے میں کبھی کنجوسی نہ کریں جی بھر کر ان کی تعریف کریں لاڈ کریں انھیں اپنا اتنا عادی بنالیں کہ انھیں آپکے بنا ایک پل چین نہ ملے
    اگر اسے آپ میری بولڈنیس سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ معشوق کی خاطر عشقیہ شاعری پوسٹ کر کر کے ہلکان ہونے والی قوم اگر اپنے اپنے حقیقی ساتھی کی شان میں بھی کچھ پوسٹ کر دیا کریں تو یہ بالکل شرمندہ ہونے والی بات نہیں۔بلکہ یہ چیز ایک مثبت کردار ہی ادا کرے گی۔
    ایک دوسرے کے والدین کی بہت عزت کریں ایک دوسرے کےرشتہ داروں کو مان دیں عزت دیں ۔یہاں ایک اور ٹپ دینا چاہوں گی کہ اگر کوئی اپنی بیوی کے دل میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو وہ بیوی کے والدین کی بھی اتنی ہی عزت کرے جتنی وہ بیوی سے اپنے والدین کیلئے چاہتا ہے۔
    کہتے ہیں عورت کی وفاداری دیکھنی ہو تو شوہر کی تنگدستی میں دیکھو اور میں کہتی ہوں کہ اگر شوہر کے ساتھ نبھانے کے وعدے پرکھنے ہوں تو بچوں کی پیدائش اور پرورش کے دوران اس کا کردار دیکھ لو
    آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں کہ
    زندگی میں کچھ ایسے حالات و واقعات بھی ہو جاتے ہیں جن کا اثر آپ سے زائل نہیں ہوپاتا اور وہ آپکا ماضی نہیں بن پاتے۔ اور آپ کے دل پر بوجھ ہونے کے ساتھ آپ اپنی نئی زندگی شروع نہیں کر پاتے۔ اور پھر کوئی ایسی بات جو کسی اور کے منہ سے سن کے آپکے تعلق پر اثر پڑے آپ خود اعتماد میں لے کے بتا دیں تو بہتر ہے۔ اور پھر کسی بھی تعلق میں سچائی، اعتماد اور بھروسہ ہی اس کی بنیاد ہوتی ہے۔
    اللہ تعالی آپ کے حلال رشتوں میں برکت فرمائے ایک دوسرے کا سکون بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نصیب ہو آمین ثمہ آمین

  • نواب آف کالا باغ  تحریر: محمد اسعد لعل

    نواب آف کالا باغ تحریر: محمد اسعد لعل

    23 مارچ 1940 میں جب منٹو پارک میں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قراردادِپاکستان منظور ہوئی تو اس کے بعد قائداعظم نے اپنے تنظیمی ساتھیوں سے تقریر کرتے ہوا کہا کہ ہمیں لوگوں کو بیدارکرنا ہے،لوگوں میں ایک تحریک پیدا کرنی ہے اور اس کے لیے ہمیں فنڈز چاہیے ہوں گے۔کیوں کے لوگوں تک بات چیت کو پہنچانے کے لیےبہت سارے لوگوں کو مختلف جگہوں پر سفر کرنا پڑے گا،بہت ساری چیزیں لکھنی اور پھر چھپوانی پڑیں گی۔ اس دور میں یہ ایک مشکل کام بھی تھا۔وہ ایک نیا ملک بنانے جا رہے تھےاور اس کے لیے بہت زیادہ فنڈزکی ضرورت تھی۔
    تحریک کے جتنے ساتھی وہاں موجود تھے انہوں نے قائداعظم کے سیکرٹری کو چندا جمع کروانا شروع کر دیا۔لوگ چندا جمع کرواتے اور واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتے۔ شورقہ کی دوسری صف میں سے ایک لمبے قد کا نوجوان کھڑا ہو ا۔جس نے سر پر لنگی سجائی ہوئی تھی۔اس نوجوان نے رعب دار آواز میں کہا سیکرٹری صاحب جتنا چندا ان سب نے مل کر جمع کروایا ہےاُتنا ہی چندا آپ میری طرف سے جمع کر دیں۔
    قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ وہاں بیٹھے تمام شورقہ دنگ رہ گئے۔ قائداعظم نے نواب ممتاز دولتانہ سے پوچھایہ نوجوان کون ہے۔ دولتانہ صاحب نے بتایا کہ یہ ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے دولتانہ صاحب سے کہا کہ آپ میری ساتھ والی کرسی چھوڑ دیں تاکہ میں اِنہیں عزت کے طور پر اپنے ساتھ بیٹھاؤں۔
    یہ عزت نواب آف کالا باغ کو اس لیے نہیں دی کہ ان کے پاس بہت زیادہ جاگیریں تھیں بلکہ اس لیے دی کہ وہ زیادہ ڈونیٹ کر رہے تھے،زیادہ حصہ لے رہے تھے آزادی کی تحریک میں۔اور اُس وقت برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ ڈونیشن آکسیجن کا درجہ رکھتی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح یہ اچھی طرح جانتے تھےکہ کس کو کب اور کہا بٹھانا ہے۔
    عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نواب لوگوں کی بڑی بڑی جاگیریں ،ان کی دولت،ان کا دبدبا اوران کے سامنے سلطنت کے لوگوں کےجھکے سر اُن کی پہچان ہوتی ہے۔لیکن نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی زندگی میں ان کی پہچان ان کی جاگیر نہیں تھی،ان کی نوابی نہیں تھی،ان کا کنٹرول نہیں تھا بلکہ ان کی پہچان اپنی مٹی سے محبت اور ان کے اصول تھے۔
    ملک امیر محمد خان سالٹ رینج کے سرخ پہاڑوں کے درمیان بہتے ہوئے شیر دریائے سندھ کی دھاروں کا نواب تھا۔کیوں کہ وہاں سے دریائےسندھ بل کھاتا ہوا گزرتا ہے اور یہیں پہ تو کالا باغ ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔نواب ملک امیر محمد خان 20 جون 1910 میں کالاباغ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔نواب صاحب نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ان کا شمار ملک کے سب سے بڑے جاگیر داروں میں ہوتا تھا۔
    کالاباغ کو "کالا باغ "اس لیے کہتے ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے بہت پہلے ماضی میں شہر کے اندر برگد کا بہت بڑا باغ بنایا تھا۔درخت جب بڑے اور گھنے ہو گئے تو دور سے دیکھنے پرکالے رنگ کے معلوم ہوتے تھے۔اس لیے یہ جگہ آہستہ آہستہ کالا باغ کے نام سے مشہور ہو گئی۔
    1956 میں انہوں نےمغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ گئے۔مغربی پاکستان کے اس وقت کے وزیراعلیٰ کا نام نواب افتخار حسین تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب نواب امیر محمدخان کے علاوہ کسی سے نہیں ملتے تھے۔بلکہ ملنا گوارا ہی نہیں کرتے تھے۔اور وہ چاہتے تھے کہ نواب صاحب کو وزیر بنایا جائے لیکن نواب صاحب نے انکار کر دیا۔پھر صدر سکندر مرزا کی جانب سے انہیں وزارت کی پیشکش ہوئی جس کو انہوں نے ان تاریخی جملوں کے ساتھ رد کیا۔انہوں نے کہا "میرے لیے یہ ممکن نہیں ٹکے ٹکے کے ممبران کے سامنےجواب دوں اور بات بات پر جنابِ سپیکر، جنابِ سپیکرکی گردان کروں۔” یہ ان کی شخصیت کا ایک رنگ تھا۔
    پھر ایوب خان صاحب نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی ۔جنرل ایوب خان نے نواب صاحب کی تمام شرائط مان لیں ، جیسا کہ آپ کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہوں گے،آپ سے کوئی سوال نہیں کر سکے گا،آپ کو کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑے گا اور آپ خود مختیار ہوں گے۔ انہیں مغربی پاکستان کے گورنر کا عہدہ دیا گیا اور انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
    نواب امیر محمد خان کا طرزِحکمرانی ان کے قردار کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نواب صاحب کی حکمرانی آنے والے حکمرانوں کے لیے مثال بن گئی۔آج بھی عام آدمی ان کی طرزِحکمرانی کی مثال دیتا ہے۔جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آج جو مہنگائی ہے اگر نواب امیر محمد صاحب ہوتے تو یہ نہ ہوتا۔ان جیسی اقتدار کی طاقت نہ پہلے کسی نے استعمال کی نہ ان کے بعد کوئی ایسی ہمت کر سکا۔منصب پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے خاندان سے کوئی شخص بھی گورنر ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکتا۔
    جب وہ اہم تعیناتی کے لیے انٹرویوکرتے تو خاندانی پسِ منظر تک پتہ کرتے۔ان سے سوال کیا گیا کہ نواب صاحب اتنی احتیاط کیوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ تو گھوڑا اور کتا خریدتے وقت اس کی نسل دیکھتے ہیں ، یہ تو میرے ملک کا معاملہ ہے۔
    حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ ان کے دور میں ایک پانچ سال کا بچہ اغوا ہو گیا۔نواب صاحب نے ایس ایس پی کو بلوایا اور 24 گھنٹے کا ٹائم دیا کہ بچہ ڈھونڈ کے لاؤ، مگر پولیس ناکام ہو گئی۔نواب نے اگلے دن "اے ایس پی،ایس پی اورایس ایس پی” تینوں کے بیٹے اُٹھوائے اور کالا باغ بھجوا دیے۔اور علان کروا دیا کہ جب تک اغوا ہونے والا بچہ نہیں مل جاتا ان آفسران کے بچے بھی ان کے گھر نہیں آئیں گے۔یہ فارمولا کا م کر گیا اور اسی دن ہی بچے کو بازیاب کروا لیا گیا۔اس طرح کا انصاف انہوں نے کیااور یہی وجہ تھی کہ وہ کہتے تھے میں کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گا۔
    جب 1965 میں پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو نواب صاحب نے تمام تاجروں کو طلب کیا اور کہا کہ جنگ کا دور ہے میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کسی نے ذخیرہ اندوزی کی یا کسی نے سامان کو مہنگا بیچنے کی کوشش کی تو پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔جنگ کے دوران انہیں خبر ملی کے ایک تاجر زیادہ پیسوں پر گندم فروخت کر رہا ہےتو نواب صاحب بنا سکیورٹی کے اس تاجر کے پاس پہنچ گے اور کہا کہ "تم یہ سمجھتے ہو کہ امیر محمدجنگ میں مصروف ہے اور تم من مانی کر لو گے۔میری مونچھ کو تاؤ آنے سے پہلے نرخ اپنی جگہ پر لے آؤ ورنہ ایسی سزا دوں گاکہ رہتی دنیا یاد کرے گی۔” اور اس کے بعد پورے مغربی پاکستان میں ان کے دور میں کوئی ایک شکایت بھی نہیں آئی کہ کوئی شخص کسی چیز کو زیادہ قیمت پر بیچ رہا ہے یا ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے۔
    نواب صاحب طبعی موت نہیں مرے تھے۔یہ ایک الگ حقیقت ہے جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ نواب صاحب ایک قیمتی آدمی تھے۔ نواب صاحب کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔کالا باغ نواب آف کالاباغ کی وجہ سے مشہور ہے اور نواب آف کالا باغ کا درجہ ملک امیر محمد خان کی وجہ سے مشہور ہے۔اور ملک امیر محمد خان اپنی جاگیر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی گورننس کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی  پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستانی عوام کی بار بار اپیل وزیز اعظم پاکستان کا اعتراف کہہ ہم مہنگائی مافیا کو قابو کریں گے لیکن اس سب اعلانات کے باوجود غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے آپ کو یاد ہوگا پچھلے دنوں وزیر اعظم صاحب نے خود گلہ کیا تھا کہہ جو تنخواہ ان کو ملتی ہے اس میں گھر چلانا مشکل ہوتا ہے

    گھریلو ں استعمال یعنی ضروریات زندگی میں اضافہ مصنوعی ہے یا اصلی قلعے اس سب کی زمہ دار تو حکومت ہی ہے حکومت وقت کو ایسی پالیسی بنانی چائیے کہہ ضروریات زندگی کی اشیاء میں کمی نہ ہو اور مصنوعی قلت پیدا کر کے کوئی بھی مافیا اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے
    حکومت وقت کو ایسی معاشی پالیسی دینی ہوگی جس سے طلب و رسد کی قوتیں فیر متوازن نہ ہوں یعنی کھانے پینے ضروریات زندگی کی اشیاء نہ کہہ زیادہ ہوجائیں اور ان کو بنانے والوں کا نقصان ہو اور نہ کم ہوں کہہ غریب آدمی مہنگائی کی چکی میں پس جاۓ

    اس سال سٹیٹ بینک نے جو مہنگائی کا تخمینہ لگایا تھا جو اعداد شمار جاری کیے تھے زمینی حقائق ان سے بلکل مختلف ہیں حیران کن طور پر شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کا بحرانوں کے مصنوعی ہے اور غیر معمولی گراں فروشی ناقابل فہم ہے ہمارے ہاں منافع خور مافیا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا کر بے تحاشا ناجائز منافع کما رہی ہے۔جن کو حکومت قابو نہیں کر رہی اور عوام انہی ناجائز فروشوں اور زخیرہ کرنے والوں کیوجہ سے مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے

    ارض پاک میں دولت کی واضح غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرے میں معاشرتی بے چینی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ نوجوان نسل چوری ڈکیتی راہزنی بھتہ خوری میں مبتلا ہو رہی ہے۔ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے
    ملک میں چینی مافیا آٹا مافیا گھی مافیا گوشت خصوصا چکن مافیا کی اپنی من نانیاں عروج پر پیں
    باقی اشیاء ضروریہ دالیں انڈے گندم پیاز ٹماٹر آلو یعنی کھانے پینے کی تمام اشیاء میں بوش ربا اضافہ نے غریب کا جینا مشکل کر دیا ہے حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اگر مہنگائی والے ایشو کو سیریس نہ لیا اور صرف ترجمانوں کے زریعے پریس کانفرنس میں اپوزیشن کو ہی ابھی تک مہنگائی کا زمہ دار ٹھہراتے رہے تو آئندہ آنے والے الیکشن میں بھی ناقابل تلافی نقصان ہوگا
    مہنگائی کے جن کو قابو کر لیا تو تحریک انصاف کی حکومت اگلے آنے والے الیکشن میں کامیابھی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے

    @ChAttaMuhNatt

  • پرندوں کو آزاد کرو  تحریر: سحر عارف

    پرندوں کو آزاد کرو تحریر: سحر عارف

    پرندہ وہ جاندار ہے جسے اللّٰہ پاک نے اڑنے کی صلاحیت عطاء کی ہے۔ پرندے اللّٰہ پاک کی بےحد خوبصورت تخلیق ہیں۔ جب وہ آسمان میں اڑتے ہیں تو دیکھنے والے کو اپنا دیوانہ بنا لیتے ہیں۔ انھیں آزادی سے آسمان پہ رقص کرتے دیکھ کر جاندار رشک کر اٹھتا ہے۔ ان سے معصومیت اور خوبصورتی میں کو جیت نہیں سکتا۔

    مجھے یاد ہے میں بچپن میں جب بھی پرندوں کو آڑتا دیکھتی تھی تو ہمیشہ خواہش ہوتی تھی کہ کاش میں بھی اڑ سکتی، کاش میرے بھی پر ہوتے۔ اور جب میں اڑنا سیکھ جاتی تو پورا آسمان گھومتی اور خوب سارا اڑتی۔

    خیر ایسی خواہشات تو ہر بچے کے ذہن میں آتی ہونگی۔ پرندوں کی خوبصورتی اور پھر ان کے اڑنے کی صلاحیت تو ہر جاندار کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی انسان بہت کچھ سوچنے لگتا ہے۔ ناجانے کیوں پرندوں کو کھلے آسمان میں آزادی سے اڑتا دیکھنا دل کو بہت خوشی کا احساس دیتا ہے شاید اس لیے کیونکہ وہ پیدا ہی اڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔

    لیکن افسوس کہ ہم آج کے انسان پرندوں کو بھی نہیں بخشتے۔ ہم تو ان سے بھی اڑنے کا حق چھیننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ناجانے کیوں ہم انسانیت سے گرتے چلے جارہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللّٰہ پاک نے انہیں کائنات کی خوبصورتی کے لیے پیدا کیا ہے۔ مجھے تو ان کی اڑان دیکھ کے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اڑتے ہیں تو اللّٰہ پاک کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔

    لیکن پھر بھی جیسے جیسے انسان تعلیم کی دنیا میں آگے سے آگے نکلتا چلا جارہا ہے وہ پرندوں سے ان کے حقوق چھیننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ صرف اپنی خوشی اور تفریح کی خاطر پرندوں کو خرید کے گھروں میں پنجروں کے اندر قید کرتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک جاندار کے لیے آزادی کیا چیز ہے۔ آزادی کے بغیر تو ہم انسان بھی زندہ نہیں رہ سکتے وہ تو پھر معصوم سے پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسے آزادی ہم انسانوں کے لیے نعمت ہے ویسے ہی پرندوں کے لیے بھی ہے آخر کار وہ بھی تو جاندار ہیں۔ انسانوں کا پرندوں پر ظلم صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ اب تو جانوروں کی طرح پرندوں کا شکار بھی عام سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں آسمان پر پرندے پہلے کہ نسبت کم نظر آتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ مل کر پرندوں کے شکار اور ان کی قید کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پرندوں کی آزادی کے معاملے میں تھوڑی انسانیت دیکھائیں۔

    اور جہاں بھی پرندوں کی خریدوفروخت دیکھیں فوری طور پر اس کے خلاف کام کریں۔ کیونکہ پرندے آسمانوں پر ہی اڑتے ہوئے خوبصورت لگتے ہیں پنجروں میں قید نہیں۔ اس لیے خود سے عہد کریں کہ کبھی بھی زندگی میں پرندوں کو قید نہیں کریں گے۔

    @SeharSulehri

  • قصوروار کون تحریر : راجہ حشام صادق

    ہر روز سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔خواتین کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے واقعات دن با دن بڑھتے ہی جلے جا رہے ہیں پچھلی تحریر میں خواتین کی عزت ان کے مقام کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔جس طرح آج ریاست پر ایک تنقید ہوتی ہے کہ یہ کیسی ریاست مدینہ کی داودار حکومت کی حکومت میں ہو رہے ہیں ۔

    سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جہاں اتنا ظلم ہوتا ہے اس ظلم میں ہر فرد شامل ہے۔ جو کام مدینہ جیسی پرامن ریاست میں بلکل بھی نہیں ہوتے تھے۔ جو برائیاں وہاں کے افراد میں نہیں تھیں۔ ہمارے معاشرے کے اندر تمام برائیاں پائی جاتی ہیں۔ رشوت، کرپشن، زنا اور قتل جیسے گھنائونے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری صرف حکومت وقت پر نہیں ہمارا کیا فرض بنتا ہے۔ ہم نے خود کا کیسے محاسبہ کرنا ہے ۔اپنے آپ کو کیسے بدلنا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔نہ کہ حکومت کی کسی ریاست کا حاکم انفرادی طور پر کسی کی سوچ عادات یا اس کے اعمال نہیں بدل سکتا۔

    ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنا مردوں کی غلطی ہو سکتی ہے مگر دوسری طرف خواتین کے لباس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے فیشن مختلف جگہوں پر خواتین اور مرد ایک ساتھ پارٹی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے نام پر غلط سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ جہاں اساتذہ بےپرواہ ہوتے ہیں۔ وہیں والدین بھی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔

    یہاں یہ کہوں گا کہ جس ملک کی بنیاد اس نظریہ پر رکھی جائے جہاں مرد اور خواتین ایک گاڑی کے دو پہیئے ہوں ۔جہاں مرد اور خواتین ایک ساتھ کام کرتے نظر آئیں۔ جس ملک پر عورت کو حکمرانی کا حق مل چکا ہو ۔ جس ملک کی بنیاد خواتین کی مکمل آزادی پر رکھی جائے جہاں چادر اور چاردیواری کا تصور ختم ہو جائے وہاں ایسے واقعات صرف مردوں کی غلطی نہیں ہوتی۔اس جرم میں خواتین کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں پر اس وجہ سے بھی تنقید ہو رہی ہوتی ہے کیونکہ وہ خواتین کے تحفظ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں۔کیسے ممکن ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست کے ساتھ وہ قوانین اور آزادی بھی چلتی رہے۔جو اس ملک کے اندر خواتین کو حاصل ہے۔
    یاد رکھیں جس معاشرے کے اندر خواتین کو بیٹے شوہر اور باپ پر برتری حاصل ہو وہاں پر حکمرانی عورت کی ہو وہاں پھر قصور صرف مرد کا نہیں ہوتا۔ وہاں تنقید صرف حاکم وقت پر نہیں ہونی چاہیئے۔

    ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے اس ملک کے لئے جدوجہد کی دو قومی نظریہ پیش کیا لیکن الگ ریاست کے قیام کے بعد اس کے اندر ان نظریات کی نفی کر دی گئی اور بہت سارے ایسے نئے نظریات نے جنم لیا جس کی وجہ سے یہ قوم منتشر ہو گئی انتظامی طور پر بھی دیکھا جائے تو تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا شاید وہ قربانیاں بھی اس جدوجہد سے کہیں زیادہ دی گئی تھیں۔ انگریزوں سے پہلے مسلمان حکمران تھے وہاں سے آزادی کے وقت اتنی قربانیوں کے باوجود آج تک غلامی کرتے آ رہے ہیں حقائق سے پردہ جس دن اٹھ گیا یا جس دن سچ کا سامنا اس قوم نے کر لیا اور سچ بولنا لکھنا شروع کر دیا تو شاید آزاد قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں لیکن شاید ابھی اس قوم کے اندر برداشت نہیں ہے۔ جو حق اور سچ کا سامنا کر سکے جو اس ملک کی بنیاد رکھے جاتے وقت کی تاریخ کو واضح الفاظ میں بیان کر سکے۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
    پاکستان زندہ باد۔

    @No1Hasham

  • صحت سہولت کارڈ تحریر  : راجہ ارشد

    صحت سہولت کارڈ تحریر : راجہ ارشد

    ہر انسان کی طرح میری بھی ایک دلی خواہش تھی کہ اپنے وطن کے لوگوں بالخصوص غریب غرباء کو مُفت علاج کی سہولت فراہم ہو یہ وہ خواب ہے جسکی تکمیل کیلئے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے نہ صرف کوشش کی بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا دہا۔

    لیکن جس کٹھن اور مشکل ترین معاشی حالات میں یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا ہم سب کے لئے وہ جاننا بھی بہت ضروری ہے ۔دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اس وطن کی معیشت نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ستی کے باعث آخری ہچکولے کھا رہی تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی تاریخ کی بدترین سطح کو پہنچ چکا تھا، بین الاقوامی قرضوں کا بوجھ ملکی وسائل سے کئی گنا بڑا تھا ۔ وطن عزیز کا ہر ادارہ اقرباپروری کام چوری، رشوت خوری اور من پسند مراعات کے انبار تلے پس چکا تھا اور ہمارے تجزیہ کار جو ہر روز شام کو تیار ہو کر ٹی وی پر بیٹھ جاتے ہیں وہ تو ملک کےدیوالیہ ہونے کی خبریں سنا رہے تھے ۔

    ایسے میں ایک مرد قلندر کلمہ حق بلند کر کے اٹھا جسے دنیا عمران خان کے نام سے جانتی ہے ۔عمران خان اقتدار سنبھالتے ہوئے ڈوبتی نیا کو کنارے لگانے میں ہمہ تن گوش مصروف ہو جاتا ہے۔
    وطن عزیز کی معیشت میں لگے زخموں کے اعداوشمار کی جامع تفصیل کے پیش نظر درست سمت کا تعین کرتے ہوئے بنیادی امور ہی ابھی انجام پائے تھے۔ کہ اچانک پوری دنیا کرونا کے باعث جیسے روک سی گئی ۔ گویا معاشی نشونما کو الٹا پہیہ لگ گیا۔اس بحران میں عمران خان نے اللہ کے فضل و کرم سے، نہ صرف کرونا پر قابو پایا بلکہ ملکی معیشت کو بھی اپنے پاوں پر کھڑا کیا ۔ آج الحمدللہ پاکستانی برآمدات گزشتہ دو دھائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

    تاریخی خسارے اور کرونا وبا جیسے مشکل حالات میں کپتان اور کچھ بھی نہ کرتے تو معیشت کو بہتری کی جانب لانا بذات خود ایک عظیم کارنامہ ہے لیکن آپ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ احساس پروگرام کے نام سے غریب اور مستحق افراد میں بڑا شفاف طریقہ اپناتے ہوئے نقد رقوم تقسیم کیں۔بیواؤں نادار اور مستحق ضعیف پاکستانیوں کیلئے وظائف مقرر کئے۔ 
    یہ وہ پس منظر ہے کہ جس میں خستہ حال معیشت کو سنبھالا دیتے ہوئے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسا تاریخ ساز کام سرانجام دیتے ہوئے پختوانخواہ اور پنجاب کے شہریوں کو بلا تخصیص صحت سہولت کارڈ کے تحت ہر خاندان کو ایک ملین روپے کی انشورنس مہیا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کا یہ کارنامہ پاکستانیوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہاں روٹی کپڑا مکان اور غریب عوام کو سہولت دینے کے نعرے تو خوب گائے گئے لیکن عملی طور پر ایسے عظیم کارنامے انجام دینے کیلئے جس احساس، محبت اور ہمدردی اور کی ضرورت ہوتی ہے وہ قیام پاکستان سے اب تک کی تاریخ میں صرف کپتان کی صورت ہی ملی ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • میرے قائد محمد علی جناح  تحریر: مدثر حسین

    میرے قائد محمد علی جناح تحریر: مدثر حسین

    قائد اعظم محمد علی جناح جس نے ہندوستان کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک الگ آزاد اور خودمختار ریاست کا تحفہ دیا ویسے تو جدوجہد آزادی تو 1857 میں ہی شروع ہو چکی تھی۔ مگر ہر بار کی طرح اس قوم کو تقسیم کیا جاتا رہا جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔لیکن اس وقت ان کو کوئی ایسی قیادت نہ مل سکی جو متحد کر کے جدوجہد آزادی کا آغاز کرے بالآخر ایک عظیم انسان کی صورت میں ایک لیڈر قائداعظم محمد علی جناح مل گیا۔

    جو ہندوستان کے مسلمانوں کا اور علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل کرنے کے لیے کافی تھا۔ گویا اس خواب کی تعبیر کا وقت آن پہنچا قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے مسلسل جدوجہد کی وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اب کبھی بھی انگریزوں کی غلامی نہیں کر سکتے۔

    اور نہ ہی ہندوستان کے دوسرے مذاہب کے ساتھ مسلمان اکٹھے رہ سکتے ہیں پس یہی وجہ تھی کہ دو قومی نظریہ پیش کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہندو اور مسلمان اب اکٹھے نہیں رہ سکتے اس بات کی نفی کبھی بھی نہیں کی جا سکتی آج ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے۔ کہ اس وقت ایک الگ ریاست کا قیام کتنا ضروری تھا۔

    اس وقت دوراندیش لیڈر یہ جان چکے تھے مسلمانوں کی آزادی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ان کی آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ اس جدوجہد میں شامل پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی داستانیں ہم پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ اور جدوجہد آزادی کی داستانیں اتنی درد ناک ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھیں آشک بار ہو جاتی ہیں۔

    ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی ایک تاریخ رقم کی اپنی قربانیوں کی ہماری علماء کرام نے جو اپنی جانوں کے نزرانے پیش کیے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کلمہ حق بلند کرتے کرتے سولی پر چڑ گئے۔

    ان قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد اور خودمختار قوم ہیں اے قائد اعظم محمد علی جناح تیرا اس قوم پر احسان ہے احسان جسے ایک پہچان دی جسے ایک نام دیا پاکستان کا قیام ایک انقلاب تھا۔آو آج ہم ایک عہد کریں دشمن جتنا بھی طاقتور اور چالاک کیوں نہ ہو ہمیں کبھی ہار نہیں ماننی اور کبھی بھی طاقتور کے سامنے اپنا سر نہیں جھکانا نہ گھٹنے ٹیکنے ہیں مقاصد کے حصول کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

    اس وقت کے مسلمانوں کی قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی جانی و مالی قربانیوں کے نتیجے میں آج ہماری نسلیں آزاد، خودمختار اور محفوظ ہیں اے بابائے قوم محمد علی جناح تیرا نام تاقیامت چمکتا رہے گا آپ کی قبر پر رحمتوں کا نزول ہوں اللہ تعالٰی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @EngrMuddsairH

  • نماز، دین کا ستون  تحریر : اقصٰی صدیق

    نماز، دین کا ستون تحریر : اقصٰی صدیق


    عربی زبان میں لفظ "صلوٰۃ” (نماز) کے لیے استعمال ہوا ہے، جس کے لغوی معنی "دعا” کے ہیں۔
    نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے دوسرا ایک اہم رکن ہے۔اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے، توحید (اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا، حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔

    قرآن کریم میں سات سو(٧٠٠) مقامات پر نماز (صلوٰۃ) کا ذکر ہوا ہے، جبکہ
    اسی (٨٠) مقامات پر اس کا صریح حکم دیا گیا ہے۔ اس امر سے دین اسلام میں عبادات کے لحاظ سے نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    نماز ہی توحید و رسالت کی گواہی اور اس کی عملی تصدیق کا پہلا قدم ہے۔ارکان اسلام میں سے یہ امتیاز صرف نماز کو ہی حاصل ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کرام کے ادوار میں ہر امت پر نماز فرض رہی ہے۔
    نماز شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی۔
    معراج کا سفر گویا کہ ظلم و تشدد اور جہالت کے دور کے خاتمے کی نوید تھا۔
    حضرت انس بن مالکؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ،
    ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کردیں میں اس کے ساتھ واپس لوٹا تو جب میں راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ،
    اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟میں نے کہا پچاس نمازیں کہنے لگے اپنے رب کے پاس واپس جائیں اس لئے کہ آپ کی امت ان کی ادائیگی نہیں کر پائے گی ۔ سو آپ ﷺ نے اللہ رب العزت سے التجا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کردیا۔ میں حضرت موسیٰ کے پاس آیا اور کہا کہ پروردگار نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ وہ کہنے لگے آپ اپنے رب کے ہاں پھر واپس جائیں کیوں کہ آپ کی امت اس کی طاقت بھی نہیں رکھتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اللّٰه تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دی تو اللہ نے ان کا ایک حصہ بھی معاف فرما دیا۔ لیکن جب پھر میں واپس حضرت موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جانے کا کہا۔ اب کی بار اللّٰہ رب العالمین نے فرمایا یہ پانچ نمازیں اصل میں پچاس نمازوں کا اجر اور ثواب رکھیں گی،
    میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ایک بار اور اپنے رب کی طرف رجوع فرمائیں لیکن اس بار میں نے کہا اب مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہے۔ (صحیح بخاری)

    قرآن و سنت اور حدیث کی رو سے نماز کی ادائیگی کے پانچ اوقات ہیں۔
    فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء
    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جا بجا نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالی ہےکہ ، نماز قائم کرو اور زکوہ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (البقرہ ۴۳،)

    کائناتِ ارض و سماں کی ہر مخلوق اپنے اپنے تئیں بارگاہِ الٰہی میں صلوٰۃ اور تسبیح و تحمید کرتی نظر آتی ہے۔
    نماز کی تاریخ کی بات کریں تو نماز کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی ہمارے مذہب اسلام کی۔
    اور یہ ہر دور میں فرض رہی ہے۔
    قرآن کریم میں ارشاد ہے ہوا ہے کہ نماز پڑھنا ہرگز مشکل نہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالی اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
    ارشادہوا،
    ” بیشک نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے مگر ان لوگوں کے لیے نہیں جو خشوع و خضوع کے ساتھ میری طرف جھکتے ہیں، جنہیں اپنے رب کے ملنے پر یقین ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (البقرہ ۴۵،۴۶)

    بعض اصطلاحات میں نماز (صلاۃ) کے معنی دعاء، رحمت اور استغفار کے ہیں، اسلام نے نماز کو ایک اہم فریضہ کے طور پر مختص کیا ہے۔

    نماز انسان کی اپنے خالق کے ساتھ تعلق کا ایک مظہر ہے، اور اس کے مذہبی واجبات میں سے ایک واجب رکن ہے۔
    نماز میں دو عناصر پائے جاتے ہیں: اللہ رب العزت کی عظمت وتخلیق پر اس کا شکرگزار ہونا، اور دوسرا اللہ رب العزت سے طلب کا عنصر ہے، کہ جس سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اپنے بندے کو جواب دیتا ہے،۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ،

    ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد مانگو، بیشک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘
    (البقرة، 2 : 153)

    سورۃ البقرۃ کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ،
    ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، نماز کو قائم رکھا اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، اور ان پر آخرت میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے‘‘

    نماز جو کہ ایمان اور کفر کے درمیان امتیاز کرتی ہے۔ ابتدائے اسلام ہی سے مسلمانوں کا معمول رہی۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ہی سے نماز ادا فرماتے تھے۔
    جب کبھی آپﷺ صحن حرم میں نماز ادا فرماتے تو وہاں پر قریش آپ ﷺ کو ایزاء دینے کی کو شش کرتے ۔ کبھی آپ کا تمسخر اڑاتے،کبھی آپ ﷺ کی گردن مبارک میں رسی ڈال دیتے ۔تو کبھی تو سجدہ کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نجاست ڈال دیا کرتے تھے۔
    قریش کی ان حرکات کی وجہ سے عام مسلمان رات کی تاریکی میں نماز پڑھتے یا دن میں ادھر اُدھر چھپ کر نماز ادا کرتے۔

    اِس کے علاوہ بھی کثیر احادیث مبارکہ میں نماز کی فضیلتِ بیان کی گئی ہے، اور نماز ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔اور نماز نہ ادا کرنے والوں کو منافقین سے تشبیع دی گئی ہے،
    نماز میں سستی کرنا منافقین کی نشانی ہے۔ (القرآن)

    حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،

    ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو گویا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے اور جس شخص نے اﷲ تعالیٰ کی ذمہ داری میں مداخلت کی، اﷲ تعالیٰ اس کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔‘‘

    قرآن و حدیث کی رو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر مسلمان (مرد و عورت) پر پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرنا فرض ہے۔

    نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حدیث پاک میں بچپن ہی سے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو۔

    دن اور رات یعنی چوبیس گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ان میں سے ہرنماز کی فرضیت کا تعلق اپنے وقت کے ساتھ منسلک ہے،چنانچہ مقررہ وقت پر ہی نماز کو ادا کرنا چاہیے، بے وقت نماز کی ادائیگی قضا کے زمرے میں آتی ہے۔
    قرآن مجید میں ک ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’بیشک ہم نے اسے (نماز) کو اس کے مقرر وقت میں مومنین پر فرض کیا ہے‘‘۔(سورہ نساء آیت ۱۰۳)
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں وقت کی پابندی کرتے ہوئے اسے اپنے وقت پر پڑھنا ضروری ہے اور اس کو قضا کر دینا گناہ ہے۔
    ایک اور حدیث کے مطابق
    نماز کو وقت پر پڑھنا افضل ترین اعمال میں سے ہے۔(مسلم)
    نماز کو چھوڑ دینا بہت ہی سخت گناہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے. اس لئے ابھی بھی وقت ہے، توبہ کر لیں، اپنے رَبّ کو راضی کر لیں یہی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

    نماز نہ پڑھنا کافروں کا طریقہ ہے، ایک حدیث کے مطابق
    "بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے”۔ (مسلم)
    اسلئیے بطور مسلمان ہمیں چاہیے کہ نماز مقرر وقت پر پابندی سے ادا کریں ،اور اپنے بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں تاکہ دین و دنیا دونوں میں رب کائنات کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ‏کیا روسی فوج "امپیریل سیمیٹری” کی طرف ایک بار پھر  لوٹ سکتی ہے؟  تحریر:زبیر حسین

    ‏کیا روسی فوج "امپیریل سیمیٹری” کی طرف ایک بار پھر  لوٹ سکتی ہے؟ تحریر:زبیر حسین

    افغانستان سے تازہ ترین خبروں کے مطابق صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے ، اور روسی فوجی دوبارہ ” امپیریل سیمیٹری ” میں جا سکتے ہیں۔ روس کے مطابق جب امریکہ نے 5 اگست کو فوجیوں کے انخلا کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو افغانستان میں طالبان کی سرگرمیاں بڑھ گئیں اور افغانستان کے حالات مزید خراب ہوئے۔ طالبان نے ملک بھر میں فوجی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور    80 سے 100 اضلاع اور متعدد سرحدی  شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ افغان سکیورٹی فورسز کمزور ہیں اور ان میں طالبان سے لڑنے کی ہمت اور صلاحیت نہیں ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ افغان نیشنل آرمی (ANA) کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ازبکستان اور تاجکستان کی طرف بھاگ گئی  ہے ، جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہے۔  جب طالبان  افغانستان میں مکمل طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ باقی افغان  افواج جو پڑوسی ممالک کو  بھاگ گئے ہیں، سے نمٹنے کے کوشش کرے گے اور یہ روس کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔

    آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ روس ، ازبکستان اور تاجکستان کا تعلق سنٹرل سیکورٹی آرگنائزیشن کیمپ (CSTO) سے ہے۔ سنٹرل سکیورٹی آرگنائزیشن سیکورٹی ٹریٹی کے مطابق جب رکن ملک  پر حملہ ہو جاتا ہے ، تو روس کی ذمہ داری بنتی ہے  کہ وہ رکن ممالک کی مدد کے لیے فوج بھیجے اور ان کے  سلامتی کو برقرار رکھے اور جارحیت کا مقابلہ کرے۔

    اس کے علاوہ روس نہیں چاہتا کہ امریکہ واپس آئے۔ منصوبے کے مطابق امریکہ کو 31 اگست تک افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کرنا چاہیے۔ طالبان بھی پر تشدد حملے کم کریں گے اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے۔ لیکن افغان حکومت کو طالبان جنگی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد رہا کرنا ہے۔ اب امریکہ نے افغانستان سے اپنی واپسی ملتوی کر دی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ امریکہ واپسی کر سکتا ہے اور افغانستان کی صورت حال میں مزید خلل ڈالتا رہے گا۔

    ابتدا میں امریکہ نے افغانستان میں خلل ڈالنے ، پڑوسی اور خصوصی طور پر  پاکستان ، چین اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور روس کو روکنے کے لیے افغانستان میں داخل ہوا۔ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں امریکی حکمت عملی دیوالیہ قرار دی گئی ہے۔ یقینا امریکہ افغانستان سے آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ تازہ ترین امریکی منصوبے کے مطابق ، امریکہ افغان دارالحکومت ہوائی اڈے کو ترکی کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور افغان مسئلے پر پاکستان ، افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ نے چین اور روس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور افغانستان کو دور سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    افغانستان ایشیا کے وسط میں واقع ہے ، اور اس کا اسٹریٹجک مقام بہت اہم ہے۔ افغانستان میں جنگیں اور افراتفری جنوبی اور وسطی ایشیا  اور خاص طور پر پاکستان کو متاثر کرے گی۔ امریکہ کے اقدامات غیر دانشمندانہ ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی تمام حکمت عملی ضائع ہورہی ہے۔ روس امریکہ کو لاپرواہی سے کام کرنے نہیں دے گا اور نہ ہی چین امریکہ کو ایسا کرنے دے گا۔ افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانا وسطی ایشیا اور پورے ایشیا اور خاص طور پر پاکستان کی سلامتی کے لیے ضروری  ہے۔ روس کو تشویش ہے کہ افغانستان میں جنگ سی ایس ٹی او (CSTO) کے رکن ممالک کی سرحدوں تک پھیل جائے گی۔ جو  نہ صرف روس بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ روس کے فعال کردار سے امریکہ کی وسطی ایشیا میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے  کی ناکام کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
     
    Written by: Zubair Hussain 
    PhD scholar, School of Medicine,
    Seoul National University.
    Email: 2021-25986@snu.ac.kr
    Twitter: ‎@zamushwani