Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    صبح 19 جولائی کو ہم آخری پڑاؤ مالم جبہ کی طرف چلے۔ مالم جبہ جانے کی خواہش تو بہت پہلے سے تھی جب لگتا تھا کہ یہاں پہاڑ آسمان سے چند فٹ کے فاصلے پر ہیں۔ موڑ انتہائی خطرناک لیکن روڈ صاف اور خوبصورت تھے۔ وہاں تو ٹھنڈک کا احساس ہی نیا تھا۔ وہاں رہائش عام طور پر گھر جیسے بنے ہوٹلوں کی تھی۔ ہر جگہ نئے ہوٹل بننا اس بات کی غمازی تھی کہ ماحول اچھا اور فضا پرسکون ہے۔ جبکہ سیاحت کے لیے بہترین ہے۔ ہمارا مسلہ یہ تھا کہ جتنی تعداد میں گئے تھے عام طور ہمیں پورا پورشن لینا پڑتا تھا جس میں چار سے پانچ کمرے ہوتے تھے۔ یہاں پہنچ کے دکھ ہوا کہ پہلے کیوں نا آئے یا ایک دن اور مل جاتا جو یہاں مزید رہتے۔ مالم جبہ کالام کی نسبت زیادہ ڈیویلپ تھا۔ چیئر لفٹ سے لے کرپی سی تک موجود تھا۔ چیئر لفٹ اور کیبل کار بہت خوبصورت اور نئی تھی۔ ماحول بھی ٹھیک تھا مقامی پولیس کے علاوہ فوجی جوان بھی دیکھے۔ جو کہ کسی بھی ناگہانی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند تھے۔ چیئر لفٹ سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو دوبارہ تیاری پکڑ لی پی سی جانے کی۔ پی سی یعنی پاک کانٹینینٹل جس میں جا کر حیران ہوئے کہ تمام تر سہولیات سے مزین تھے وہ تمام سہولیات جو میدانی علاقے میں پائے جانے والے پی سی اور بھوربن میں پایا جانے والا پی سی ہے۔ حیرت ہوئی کہ اتنی سہولیات دی گئیں لیکن مقامی ابادی کے پاس ہیلتھ اور سکول کی اتنی بہتر سہولیات نہیں تھیں۔ مقامی لوگوں کے پاس صحت کے مراکز اس طرح ڈیویلپ نہیں تھے جتنے وہاں ہوٹلز اور سیاحتی چیزیں تھیں۔ تھوڑا مقامی ابادی دیکھ کر دکھ ہوا۔ لیکن جگہ اور سیاحوں کے لیے انتظامات مزید بہتر کیے جارہے ہیں۔ ان انتظامات میں اگر مقامی ابادی کی بہتری کے لیے بھی کچھ تجاویز شامل کر لی جائیں تو بہترین ہو جائے گا۔ پی سی سےواپسی پے جب ہوٹل پہنچے تو ٹھنڈک بہت بڑھ چکی تھی۔ لگتا تھا شایدجنوری کا مہینہ ہو۔ وہاں صحیح معنوں ميں میں سکون سے سوئی۔ صبح کا منظر اس قدر خوبصورت اور دلنشین تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب صاف شفاف سبز پہاڑوں کی وسط سے بادل اڑ رہے تھے اس منظر کو صرف کیمرہ میں نہیں بلکہ دل کے کیمرہ مین محفوظ کیا۔ وہ بادل اڑتے اڑتے ہم تک آئے یہاں تک کہ دھند کی شکل میں ہمارے چاروں طرف پھیل گئے ہم سب بلکل بچوں کی طرح خوش ہورہے تھے۔ اور بچے تھے کہ واپس آنے سے ہی انکاری تھی۔ ہر بچے کی زبان پرایک ہی بات تھی کہ "ہم پنجاب نہیں جائیں گے” یہی حال بڑوں کا بھی تھا۔ اگر اگلے ہی دن بکرا عید نا ہوتی تو یقیناً ہم ایک رات اور رہتے وہاں اس ٹھنڈ کو بادلوں کو مزید انجوائے کرتے۔ مالم جبہ سے واپسی بہت برے دل سے ہوئی ایک تو وہ منظر چھوڑنے کو دل نہیں تھا دوسرا پنجاب کی گرمی یاد آرہی تھی۔ پر کیا کرتے واپس تو آنا ہی تھا ہم بھی آئے بہت خوبصورت یادیں سمیٹ کر بہت سارا پیار سمیٹ کر اور دوبارہ جانے کی خواہش کے ساتھ۔ ان شاء الله دوبارہ موقع ملا تو ضرور جائیں گے۔ آپ سب بھی سوات اور اس سے اگے جائیں کافی بہتر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ آپ لوگ جائیں گے تو وہاں کے لوگوں کا اعتماد بڑھےگا پھر اس سے بھی بہتر طریقے سے وہ کام کریں گے۔ کیونکہ انکا روزگار بھی تو سیاحوں کا مرہون منت ہے۔کچھ باتیں ہیں جن پر حکومت اگر نظرثانی کرے۔۔

    جس طرح ما شاء الله وہاں آمن آیا ہے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی آئی ہے جو کہ افواج پاکستان اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ہے۔ انکی قربانیوں کی وجہ سے ہے اگر مزید پرامن جگہ بنانا ہے تو فوجی چیک پوسٹس بنائی جائیں جو مستقل بنیادوں پر ہوں انکے ساتھ وہاں کے مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جائے
    جسطرح سکول، کالج، یونیورسٹی سوات میں دیکھی میڈیکل کالج دیکھے انکا دائرہ کار کالام مالم جبہ تک بڑھایا جائے انکو مکمل سکیورٹی دی جائے
    ہیلتھ کارڈ کی جس طرح سہولت دی ہے اسی طرح ہیلتھ کیئر سینٹر جگہ جگہ بنائے جائیں تاکہ علاج کے لیے مشکل نا ہو۔

    پرائمری اسکول کا دائرہ بڑھایا جائے چونکہ پہاڑی علاقے ہیں بچوں کے لیے زیادہ سفر نقصان دہ بھی ہوسکتاہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہاں گاڑیوں کی رجسٹریشن کروائی جائے۔ کیونکہ جو گاڑی پنجاب میں پچیس تیس لاکھ کی وہاں بامشکل دو سے چار لاکھ کی ہے۔ نمبر پلیٹس کے بغیر۔ وہاں سے گاڑی لی نہیں جاسکتی کیونکہ پنجاب میں داخل ہوتے ہی ضبط کر لی جانی ہے۔ تو وہاں بھی اسکوقانون کے دائرے میں لایا جائے۔ جسطرح مری سے لے کر ایبٹ آباد تک اور ناران کاغان تک ہوٹل اور معیاری جگہیں بنائی گئی ہیں یہاں نا صرف بنائی جائیں بلکہ انکی تشہیر بھی کی جائے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزراء یہاں آئیں اور اسے پروموٹ کریں تاکہ پاکستان کی خوبصورتی دنیا دیکھے۔ اور یہ جان سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے سیاحت کے حوالے سے اور دشمن کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ جزاک الله
    دعا گو ارم رائے

  • صدارتی نظام آ رہا ہے . تحریر : نعمان سرور

    صدارتی نظام آ رہا ہے . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان کو آزاد ہوئے 73 سال ہو گئے ہیں، پاکستان برطانوی تسلط سے آزاد ہوا تو دیگر ریاستوں کی طرح ہم نے بھی برطانیہ کا جمہوری نظام ملک میں لاگو کر دیا گیا۔
    پاکستان میں عملی طور پر صدارتی نظام ایوب خان کے دور میں سن 1958 میں آیا پھر اس کے بعد 1977 میں جنرل ضیا کے دور اور 1999 کے مشرف دور کو بھی صدارتی نظام کہہ سکتے ہیں یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کے اگر ملک پاکستان کی ترقی دیکھیں اور ملک کی خوشحالی کے منصوبے دیکھیں تو وہ ادوار آپ کو سب سے آگے نظر آتے ہیں جن میں صدارتی نظام حکومت تھا اگر قانونی طور پر نہیں بھی تھا تو عملی طور پر تو تھا ہی۔

    کیا وجہ ہے کے صدارتی نظام حکومت اتنا کامیاب ہے ؟ کیا وجہ ہے کے دنیا کے وہ ممالک جو ترقی کر رہے ہیں ان میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے مثال چین کی لیں یا روس کی یا پھر امریکہ،ترکی وغیرہ کی ان سب ممالک میں صدارتی نظام حکومت ہے، لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت کا چورن بیچا جاتا یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کے ملک کی عوام کا فائدہ کس نظام میں جمہوریت کے نام پر ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرتا ہے اور یہ الو سیدھا کرنے میں ہمارے ٹی وی چینل سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسوقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جسے اپنے پاؤں جمانے میں ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا گیا اس کی وجہ کیا تھی ؟

    یہ سمجھنا بہت آسان ہے کے اس نظام میں جب بھی کوئی حکومت آتی ہے تو وہ اپنے لوگ ملک کے ہر ادارے میں بیٹھا دیتے ہیں چاہے وہ عدلیہ ہو بیوروکریسی ہو یا دیگر ادارے پھر بوقت ضرورت ان لوگوں سے کام لیتے ہیں اور یہی کچھ عمران خان حکومت کے خلاف کیا گیا۔
    جمہوری نظام میں وزیراعظم کے پاس سب اختیارات ہوتے ہیں وہ پارلیمنٹ سے ایم این ایز کے ووٹ لے کر آتا ہے جن ایم این ایز کو عوام منتخب کرتی ہے۔

    وزیراعظم بننے کے لئے اگر اپنی جماعت کی اکثریت نہ ہو تو منتخب ہونے کے لئے دوسری جماعتوں کی شرائط ماننا پڑتی ہیں جیسے عمران خان کو بھی ماننا پڑی۔
    جبکہ صدارتی نظام میں صدر کا انتخاب پورے ملک کی عوام کرتی ہے۔ اصل میں جمہوری نظام یہی ہے، اس میں صدر کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہوتے ہیں، صدر اپنی مرضی کی ٹیم لے کر آ سکتا ہے وہ کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوتا وہ ملک بھر سے قابل لوگ لا کر انہیں اپنی ٹیم میں شامل کر سکتا ہے جب کے جمہوری پارلیمانی نظام میں اسے ہر طرح کی مفاہمت کرنی پڑتی ہے۔
    صدارتی نظام میں سربراہ مملکت کو اس بات کی آذادی ہوتی ہے کے وہ پورے ملک سے قابل لوگ اپنی کابینہ کا حصہ بنا سکتا ہے اور صحیح جگہ پر صحیح بندے کو زمہ داری دے سکتا ہے۔

    صدارتی نظام حکومت میں کام جلدی ہو پاتے ہیں کیونکہ اس میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر ختم ہو جاتے ہیں اس لئی یہ نظام ڈلیور کر پاتا ہے اور حکمران جو عوام سے وعدے کر کے آتا ہے اسے عملی شکل دے پاتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے کئی ادارے بیٹھے ہوتے اور فائل کو قانونی طور پر کئی کئی ماہ روک کر رکھتے ہیں۔
    صدارتی نظام میں قانون ساز اسمبلی اور صدر کے اپنے اپنے اختیارات ہیں اور دونوں ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔
    جمہوری نظام میں چونکہ سارے کاموں کا دارومدار پارلیمنٹ اور ان کے ممبران پر ہوتا ہے اس لئے اگر وہاں کوئی ایسی حکومت آ جائے جس کی دو تہائی اکثریت نہ ہو تو اس حکومت کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس طرح عوام کی فلاح کی پرجیکٹس بس فائلوں تک رہ جاتے ہیں حکومت ایک بعد دوسری آ جاتی ہے لیکن پراجیکٹ مکمل نہیں ہوتا۔

    اس کے علاوہ صدارتی نظام حکومت ایک مضبوط نظام حکومت ہے جبکہ پارلیمانی نظام میں اگر آپ کے ساتھ اتحادی جماعتیں کسی بھی وجہ سے کسی اختلاف کی وجہ سے اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو ووٹ آف نو کانفیڈنس سے آپ کی حکومت چند گھنٹوں میں ختم ہوسکتی ہے، اوریہ تلوار ہر وقت آپ کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔
    دنیا بہت آگے بڑھ گئی ہے اگر دنیا کی رفتار سے ترقی کرنی ہے یا ان کا مقابلہ کرنا ہے تو روایتی طریقوں سے یہ نہیں ہوگا
    ضرورت اس بات کی ہے سول سوسائٹی،نوجوان نسل اور ہمارے آنے والے مستقبل طلبا میں اس بات پر ہم آہنگی پیدا کی جائے کے پاکستان کی بہتری کے لئے صدارتی نظام کے حق میں ایک منظم مہم شروع کی جائے اور اسے ایک تحریک بنایا جائے تاکہ آنے والے سالوں میں ہم یہ نظام حکومت تبدیل کر سکیں یہ مطالبہ جب عوام کا مطالبہ بنے گا تو کوئی بھی سیاسی جماعت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی، لیکن اس کے لئے ہماری نوجوان نسل کو مستقل مزاجی سے کام کرنا ہوگا۔
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    پاکستان زندہ باد

    @nomysahir

  • دیا جلائے رکھنا ہے . تحریر : عظمیٰ صابر

    دیا جلائے رکھنا ہے . تحریر : عظمیٰ صابر

    پاکستان، کلمے سے عقیدت کا ثبوت اس عقیدت میں 1947 میں گھر بار، جان ومال، سب کچھ وار دیا گیا کلمے کےنفاذ کےلئے ایک عشق، ایک جنون دنیا نے دیکھا رب کی دھرتی پر، رب کا نظام قائم کرنے کی خواہش اسکی بنیادوں میں ہمارےپرکھوں کا لہو یہ ہمارے لئے اللہ کاخوبصرت ترین انعام
    عزم عالیشان
    ہمارا پاکستان

    لیکن …….
    کبھی سوچا ہے آج کی نسل نے کیا آج ہم ان ارواح کا سامناسر اٹھا کر کرسکتے ہیں جنہوں نے اسکے حصول اور اسکی بقا کےلئے جام شہادت نوش کیا ؟
    وہ قربانیاں جو پاکستان کے حصول کے لئے عوام کی طرف سے دی گئیں اور وہ قربانیاں جو ہماری افواج اسکی بقا اور تحفظ کے لئے مسلسل آج تک دیتی ارہی ہے کیا یونہی رائیگاں چلی جائیں گی؟
    چشم تصور میں کرپانوں پر جھولتے معصوم بچوں کے لاشوں کولا کر دیکھیں کیا وہ معصوم جسم سوال بن کر آنکھوں کے سامنے جھول نہیں جاتے؟
    کہ ہم کس جرم کی پاداش میں جان سے گئے؟
    صرف مسلمان ہونا ,مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولنا اتنا بڑا جرم کہ ہماری سانسیں چھین لی گئیں؟
    سانسیں چھیننے والے تو اپنے نا تھے لیکن ہمارے اپنوں نے جن سے ہمارا کلمے کا تعلق تھا ,جس قوم کی یہ معصوم کلیاں تھیں
    انہوں نے بھی ہماری قربانیوں اور شہادتوں کو بھلادیا اس مقصد کو بھلادیا جس کی خاطر ملک حاصل کیا گیا کیا یہ بچے بروز حشر ہمارا دامن نہیں تھامیں گے؟
    جواب طلب نہیں کریں گے؟
    لیکن ہم تو خود میں اسقدر مگن ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں بچے ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں
    عدم تحفظ کا شکارہیں
    کبھی ماضی میں جھانکو تو وہ بےردا بہنیں اور بیٹیاں نظر آتیں جو بھیڑیوں کا شکار بنیں ,وہ جو اپنی عزت بچانے کے لئے وقت سے پہلے دنیا سے گزر گئیں ,وہ جوانیاں جو زندگی جی نا پائیں
    وہ بچیاں جنہوں نے زندہ رہنے سے مرجانا بہتر جانا ان جانوں کا احسان کبھی چکا پائیں گے ہم؟
    نہیں یہ ممکن نہیں,بلکل بھی ممکن نہیں وہ گھبرو شیردل جوان جو ہمارے بھائ تھے, بیٹے تھے سہارا تھے ,محرم تھے سر کی چھائوں تھے
    ہمارا سائبان تھے اس راہ میں شہید ہوئے کیا وہ شہادتیں بھی رائیگاں جائیں گی
    ان والدین کے نوحے اور فریادیں کیا ہماری سماعتوں تک نہیں پہنچتیں جو اپنےجگر گوشوں , آنکھوں کی ٹھنڈک , اور اپنے آنگن کی کلیوں سے محروم ہوگئے
    اس ملک کے حصول کی خاطر؟
    ہم حس سماعت کھو چکے
    یاقوت گویائ؟
    ہم اپنے مقصد سے بھٹک چکے وہ تمام قربانیاں اور اذیتیں فراموش کرچکے جو مشعل راہ تھیں جو زاد سفر تھیں جو منزل پر پہنچنے کا سبب بن سکتی تھیں جو مقصد کے حصول کا سب سے مضبوط محرک تھیں ہم قوم بنے قربانیاں دیں تب جاکر اس حسین ملک کے وارث بنے

    یادرکھو کہ کوئ وجہ ہے
    پاس اپنے جو اپنی جگہ ہے
    جان سے زیادہ خرچہ ایا
    گھر اپنے تب نام لگا ہے

    لیکن جن کی بدولت وارث بنے انہیں فراموش ناکرو خدارا
    ملک حاصل کرنے کے مقصد کو دوبارہ تھام لو "بھیڑ اور ہجوم "نہیں دوبارہ قوم بن کر ابھرو یادرکھو
    "ہر فرد ہے ملت کے کےمقدر کاستارہ ”
    خود کو اس تقدیر کا حصہ بنائو
    جو اس ملک کونکھاردے
    اس ملک کی نسلوں کو سنواردے
    آپکا سر فخر سے بلند کردے
    بروز حشر سیدالانبیاءﷺ کے سامنے ندامت سےبچالے
    کیا جی نہیں چاہتا کہ قائد بھی تمہیں WELL DONE کہہ دیں؟

    کیا جی نہیں چاہتا کہ
    شاعر مشرق تمہیں دیکھ کر مسکرادیں؟
    کیا جی نہیں چاہتا کہ :
    فاطمہ جناح تمہارا شانہ تھپتھپا دیں
    میرا تو جی چاہتا ہے کہ
    اللہ ایسا کوئ لمحہ میرے یامیری نسلوں کے نصیب میں بھی لکھ دے
    سمجھوں گی زندگی بامقصد رہی
    کچھ تو حق ادا ہوا

    موج بڑھے یا آندھی آ ئے
    دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے
    گھر تو آخر اپنا ہے

    @Nucleus_Pak

  • تزکیہ نفس تحریر : انجینئیر مدثر حسین

    تزکیہ نفس تحریر : انجینئیر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کی یہ صفت اس کے احساس کے وصف کی وجہ سے ہے. انسان کو جب سے تخلیق کیا گیا آج تک انسان اپنی زندگی کے داؤ پیچ میں مگن ہے. کبھی خوشی کبھی غمی کبھی دکھ کبھی سکھ زندگی کا حصہ رہے ہیں. کچھ انسان پر آزمائش دی جاتی تو کچھ انسان کی اپنی شامت اعمال ہوتی ہیں. یہ رب العالمین کا نظام ہے وہ اپنے بندوں کو ا ی سے صبر کی توفیق اور حالات سے لڑنے کی ہمت دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس کے گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے.
    نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی آزمائش اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے. الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مومن کو جب کوئی بھی تکلیف پہنچتی ہے اس کو گناہوں کو ساتھ لے جاتی ہے.

    یہ رب کریم کی شان کریمی ہے کہ ساتھ ساتھ اپنے بندوں پر نظر عنایت فرماتا ہے.ان سب چیزوں کے ساتھ انسان کو اللہ رب العزت نے اپنی عدالت بھی دے رکھی ہے. جو جب تک انصاف کے سہی ترازو کے ساتھ قائم ہوتی ہے انسان کا محاسبہ کرتی ہے کہ وہ صحیح راہ پر ہے یا غلطجب یہ بھٹک جائے اور شیطانی ترجمانی کی طرف گامزن ہو تو انسان خود کے لیے صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا. انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے.
    رات کو جب انسان بستر پر موجود ہوتا تو دو لمحے کے لیے اپنے روز مرہ کے اعمال کا جائزہ لے تو ساری حقیقت عیاں ہو جاتی ہے. یہ اسکی پہلی منزل ہے.
    اس کے بعد باری آتی ہے اس کا اعادہ کرنا کہ جو کام اچھا کیا وہ کیسے ٹھیک کیا اور جو برا کیا وہ کیوں برا ہوا. یہ عمل کی دوسری سیڑھی ہے جو انسان کو اپنی غلطی کا احساس دلانے کے لیے ہوتی ہے. اسسے اس کا من برائ سے بچنے کی ترغیب سوچنے کے قابل ہوتا ہے. یہی خاصیت اس کی بخشش کا سامان بن جانے کے لیے اس کا ساتھ دیتی ہے اور انسان کو اپنے آپ کو سدھارنے کا موقع ملتا ہے.

    تیسری منزل ہے اس سے آگے توبہ
    یہ وہ منزل ہے جو پچھلی دونوں منازل کا مغز ہے. کہ بندا اپنی غلطی تلاش کر چکا اسے تسلیم بھی کر چکا اب رب سے معافی مانگنا چاہتا ہے اور آئندہ اس غلطی سے بچنے کا عہد کرنا چاہتا ہے
    پھر رب کریم بندے کو بخشش مانگنے کا موقع عطا کرتا ہے. بندا جب اس موقعے کو استعمال کرتا ہے تو بخش دیا جاتا ہے. کتا خوبصورت دین ہے.

    اللہ کریم اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اس نے اپنے بندوں کو بخشنے کے بہانے عطا کے ہوے ہیں. کوئی پریشانی میں بخشا جاتا تو کوئی تزکیہ نفس میں. کوئی رو کہ رب کو منا لیتاتو کسی کی نیکی اتنے کامل درجے پر پسند کر لی جاتی کہ بخش دیا جاتا ہے.
    انسان کی اسی میں بقا ہے اسی میں کامیابی ہے کہ وہ اپنے رب سے جڑا رہے جیسے ہی غلطی محسوس کرے فورا اللہ کریم کے حضور طائب ہو جاے. تا کہ رب سے تعلق کا ربط نا ٹوٹنے پاے
    گفتگو سے یہ سب ملا کہ اپنا محاسبہ اور تزکیہ نفس کرتے رہنا چاہیے
    خود پرستی پر دھیان دینے سے بہتر خود محاسبہ پر دھیان دینا چاہیے. روز رات کو سونے سے پہلے اپنے اعمال کو پرکھنا چاہیے اور. اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اچھے اور برے کی ساتھ ساتھ پہچان رکھنی چاہیے. اپنے رب سے تعلق قائم رکھنا چاہیے تاکہ انسان سیدھے راستے رہ سکے. اور رب کی رحمتوں کے حصار میں رہے

    @EngrMuddsairH

  • طلبہ کو درپیش مسائل  تحریر: سحر عارف

    طلبہ کو درپیش مسائل تحریر: سحر عارف

    کسی بھی ملک کے طلبہ اپنے ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں ٹھیک ایسے ہی پاکستان کے طلبہ بھی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ طلبہ جب پڑھ لکھ جاتے ہیں تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔

    پر اس کے لیے ضروری یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے انھیں تمام سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر اچھی تعلیم حاصل کرسکیں۔

    آج پاکستان جہاں بہت سے مسائل میں جکڑا ہوا ہے انہیں میں سے ایک مسئلہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا بھی ہے۔ اگر پاکستان میں گورنمنٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں اساتذہ تو موجود ہوتے ہیں پر ان کی کارکردگی صفر ہوتی ہے۔ گورنمنٹ سکولوں میں بہت سے اساتذہ بچوں کے ساتھ اکثر زیادتی کر جاتے ہیں۔

    انھیں اچھی تعلیم نہیں دیتے۔ اس کے علاؤہ وہاں طلبہ کے لیے مکمل فرنیچر کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ اکثر بچے زمین پہ بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر پرائیویٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں سہولیات تو ساری ہوتی ہیں پر ان سکولوں کی فیس بہت ہوتی ہے۔

    جس کی وجہ سے کم ازکم ایک غریب کا بچہ تو اچھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا پھر اگر فرض کریں وہ داخلہ لے بھی لے تو وہاں کی مہنگی کتابیں اور دیگر ضروریات کے خرچے تو نہیں اٹھا سکتا۔ اس سب کے سبب بہت سے بچے تعلیم کی دنیا کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور جو باقی پیچھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے رہ جاتے ہیں ان میں سے بھی آدھی تعداد کہیں نا کہیں ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔

    ہمارے ہاں تعلیم کو اب بہت مشکل بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے سکول کا نام سنتے ہی بھاگ جاتے ہیں اور باقی اگر جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکولوں کا رخ کرتے ہیں تو بچارے ڈر ڈر کر پڑھتے ہیں۔ پڑھائی کو اپنے اعصاب پر اس قدر سوار کرلیتے ہیں کے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو بچوں کے لیے آسان بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ایک غریب کا بچہ بھی آرام اور سکون سے تعلیم حاصل کرسکے۔

    @SeharSulehri

  • دلیر  اور ایماندار۔ لیڈر  تحریر چوہدری عطا محمد

    دلیر اور ایماندار۔ لیڈر تحریر چوہدری عطا محمد

    انسان کے کسی کے بھی دباؤ میں آنے کی دو ہی بنیادی وجوہات ہوسکتی ہیں یا تو وہ شخص بزدل ہو اور زہنی طور پر ہارا ہوا کمزور ہو یا اس نے اپنی زندگی میں کوئی ایسے ناجائز کام کیے ہو ں جس پر اسے آرام سے بلیک میل کیا جاسکتا ہو۔
    اس سے اپنی جائز ناجائز بات منوائی جا سکتی ہو لیکن اس کے برعکس جس انسان میں یہ خامیاں موجود نا ہوں وہ بہادر بھی ہو حق اور سچ کے راستے پر چلنے سے کبھی گبھراتا نہ ہو تو ایسے شخص کو ہرانا مشکل نہیں پھر ناممکن ہو جاتا ہے
    اگر ہم بات کریں ارض پاک یعنی اسلامی جہموریہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جناب عمران احمد خان نیازی کی تو وہ ان دونوں برائیوں سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر محاذ پر اپنے ملک و قوم کے مفاد کے لیے بھرپور محنت کے ساتھ ہر برائی سے لڑ نے اور ڈٹ جانے کی جرات رکھتے ہیں
    اگر حالیہ دنوں کی ہی بات کو لے لیں تو وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی نے تقریباً چھ سات بہت بڑے بڑے میڈیا چینلز کے انتہائی سنئیر لوگوں کو انٹرویو دئیے اور الحمد للّٰہ اللہ کے فضل کرم سے سپر پاور امریکہ سے لے کر ہمارے بزدل ہمساۓ انڈیا یا پھر افغنستان کی نام نہاد غنی حکومت سب کے بارے میں ایک واضح اور مضبوط موقف دیا جسے نہ صرف پاکستان کے اندر وزیر اعظم عمران خان کے چائینے والوں نے بہت پسند کیا بلکہ پوری دنیا نے پاکستان کی پالیسی کو سمجھ لیا

    ہماری ایک خو قسمتی یہ بھی ہے کہہ ہمارے وزیر اعظم کی بات کو دنیا خصوصا مغرب کے لوگ بہت اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں ابر بات کریں افغنستان کے معمالہ کی جہاں بھارت اور غنی حکومت پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں وہی پوری دنیا کے کچھ سمجھدار تجزیہ نگار اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہہ عمران کا موقف بلکل واضح ہے وہ جب سے امریکہ نے افغنستان پر جنگ مسلط کی ہے عمران خان کا آج سے بیس سال پہلے جو موقف تھا آج بھی وہی ہے

    عمران خان نے بیس سال پہلے ہی کہا تھا کہہ اس جنگ کا کچھ حاصل نہیں افغنستان میں واحد حل مزاکرات ہیں جس پر عمران خان کو طالبان خان ہونے کے طعنے دئیے گے لیکن الحمدللّٰہ کپتان کی بات پتھر پر لکیر ثابت ہوئی اور آج امریکہ انہیں طالبان سے مزاکرات کر کے جا رہا ہے

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے لئے ابھی ملک کے اندر بہت سے چیلنج ہیں جن میں خاص کر سب سے بڑا چیلنج ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہے لیکن ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں اللہ پاک وزیر اعظم پاکستان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ان کو اپنے خواب کے مطابق ارض پاک کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلنے والی ریاست بنانے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • نظام عدل  تحریر  : راجہ حشام صادق

    نظام عدل تحریر : راجہ حشام صادق

    ہر وہ شخص جسے کبھی انصاف نہیں ملا ان انصاف کے پہرے داروں سے۔ جدوجہد آزادی اور قیام پاکستان کے بعد ہی اس ملک کا نظام جاگیرداروں سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں آ گیا اور گزشتہ سات دہائیوں میں اس نظام کو کرپٹ ترین بنا دیا گیا

    ہمارے ہاں عدالتوں کے باہر لگا وہ انصاف کا ترازو آج عدل کی نہیں بلکہ خریدو فروخت کی علامت بن چکا ہے ۔یہاں پر بیٹھنے والے لوگ قانون کے ساتھ ساتھ خود بھی اندھے ہو چکے ہیں۔ہزاروں ، لاکھوں کیس ایسے ہیں جو ایک ماہ میں ختم ہو سکتے لیکن کئی سال یہاں تک کہ نسلیں ختم ہو جاتیں ان کے فیصلے نہیں ہو پاتے۔اب اس کو نظام کی سستی سمجھیں یا پھر نااہل لوگوں کا اس منصب پر موجود ہونا سمجھا جائے ؟

    یہ قانون اتنا اندھا ہو گیا ہے کہ قاضی کو اپنی ہی عدالت کے باہر جھوٹے گواہ خیریدے جاتے ہیں۔
    قاضی کے پاس بیٹھ کر رشوت لینے والا قانون کو نظر کیوں نہیں آتا۔ جھوٹے گواہوں کو انصاف کی عدالت نہیں دیکھ سکتی ہر جرم عدالتوں کے دروازے کے سامنے ہو رہا ہے ۔ لیکن قانون کے ساتھ اس قانون اور انصاف کے پہرے دار بھی اندھے ہو چکے ہیں ۔کوئی اپنے ضمیر کا سودا کر چکا ہے تو کوئی بغیر میرٹ پر اس منصب پر براجمان ہے ۔یہاں انصاف ملتا نہیں انصاف بکتا ہے۔ امیروں اور جاگیرداروں کی لونڈیاں بنا ہوا ہے یہ انصاف مقدس ادارہ یہاں غریبوں کے لئے قید خانے ہیں اور طاقتور من پسند کے فیصلے لیتے ہیں ۔غریب اور کمزور انصاف کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ہمارے انصاف کے اداروں میں بیٹھا یہ مافیا سانحہ ماڈل ٹائون ہو یا سانحہ ساہیوال کسی حق سچ بولنے والے صحافی کا قتل ہو یا سندھ کی بیٹی ام رباب کے خاندان کا قتل ہمیشہ طاقتوروں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

    اور جب کوئی حق اور انصاف کے لئے آواز اٹھائے تو اسے بغاوت اور غداری کے کیس میں توہین عدالت لگا کر ہمیشہ کے لئے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ہمارے ملک کے جانے مانے صحافی مبشر لقمان کا نور مقدم کا کیس ہے ۔سچ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اعلی عدلیہ کے معزز ججز اپنے کام میں کم دوسرے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

    ہمارے ہاں ماضی کے چیف جسٹس صاحب نے انصاف کے لئے کچھ نہ کیا اپنے ادارے میں بہتری نہ کر سکے لیکن ان کو حکومتی معاملات میں کافی دلچسپی رہی۔ موجودہ معزز جج بھی انہی کے نقش قدم پر ہیں ۔انصاف کے نظام کو بہتر کرنے کی بجائے امیروں اور جاگیرداروں کے دلال بننے والے غریبوں کو کیسے انصاف دیں گے ؟ہو کیا رہا ہے حکومتی معاملات ہوں یا کسی اہم ادارے میں تعیناتی کا معاملہ ہو ہماری عدالتوں میں بیٹھے معزز ججز کو کافی دلچسپی ہوتی ہے۔

    ہمارے ملک کا دوسرا بڑا مسلہ کرپشن ہے۔اب کرپشن کی وجہ سے سرکاری لوگوں کو فارغ کیا جائے تو ہماری عدالتیں وہاں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔اس سرکاری مجرم کو عدالتیں بحال کر دیتی ہیں اربوں کی کرپشن میں ملوث سیاسی مجرم، دہشتگرد اور قاتلوں کو ضمانت پر رہا کرنے والی عدالتیں بوکھے پیٹ کی خاطر دو روٹی چور کو سالوں قید خانے میں ڈال دیتی ہیں۔

    وطن عزیز کو لوٹنے والوں کو ریلیف مل جاتا ہے۔ لیکن ایک بکری چور کو دس سال تک سزا مل جاتی ہے۔ وجہ وہ بیچارہ غریب جو ہے۔اس کے آگے بیچھے جو کوئی نہیں یاد رکھیں جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا خدا ہوتا ہے ۔ اور میرے رب کی عدالت میں انصاف بھی ہوتا ہے کل میدان مہشر اس غریب کا ہاتھ ہوگا اور انصاف کے ٹھیکیدارو آپ کا گریبان ہو گا۔
    کچھ ایسا بھی ہوا ہے ہمارے اس عدالت میں سزائے موت کے فیصلے کے بعد پھانسی لگ جانے والے دو بھائی بے قصور قرار دیئے گئے۔ ایسے نظام سے اس نظام اور قانون کے رکھوالوں سے میں کل بھی باغی تھا میں آج بھی باغی ہوں۔
    ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے جس میں عام شہری کو انصاف نہ ملے اور طاقتور اور جاگیرداروں اس قانون کو پائوں کے نیچے روند کر نکل جائے۔

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم اور فضل فرمائیں اور ہمارے اس عدل منصفوں کو ہدایت دیں آمین ثم آمین۔

    @No1Hasham

  • فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    استاد کا ادب و احترام بھی اس طرح لازم ہے جس طرح بزرگوں اور والدین کا ادب کرنا فرض ہے۔ معلم استاد کو کہتے ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا اور علماء آپ ﷺ کے وارث ہیں یعنی علم کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو بچے کی ایسی تربیت کرتا ہے ۔ جو والدین اپنی مصروفیت اور بچے سے لاڈ پیار کی وجہ سے نہیں کر سکتے۔

    آپ اکثر اپنے سکول یا گھر کے مالی کو پودوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ پودوں کو کتنی مہارت سے تراشتا ہے۔ارد گرد سے گھاس پھونس اور کانٹے دار کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف کرتا ہے۔جس سے ایک تو پودوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔دوسرے وہ اپنی ترتیب کی وجہ سے خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں۔بالکل اسی طرح استاد بھی بچے کو اپنی محبت، شفقت، علم اور اعلی کردار جیسی خوبیاں منتقل کرتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اپنے اساتذہ کا عکس ہوتے ہیں۔استاد ہی نیکی بدی کی پہچان سکھا کر آدمی کو آچھا انسان بناتا ہے۔

    استاد ہمیں دنیاوی علم دیتا ۔علم کے معنی ہیں چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔علم ایک ایسا راستہ ہے ۔ جس کے ذریعے آدمی انسانیت کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی اس میں آچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے جو پہلی وحی آئی وہ بھی علم کے بارے میں تھی ۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر طلب علم فرض ہے۔

    علم کیا ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو تمام مخلوقات فرشتوں ، جنات وغیرہ پر فضیلت اس علم کی وجہ سے دی ہے ۔ ورنہ کھانے پینے سونے جاگنے میں تو جانور اور انسان سب برابر ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے ۔تو فرشتے اس کے راستے میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا اور دنیاداروں کو دولت کہ علم آدمی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور آدمی دولت کی علم کا ذکر کتابوں کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔کیونکہ حکمت و دانائی کی تمام باتیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے بینکوں میں دولت۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں اور خزانوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر کتابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے ۔اب آپ سوچیں گے کہ کتابوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔وہ ہے ان کا مطالعہ اور عمل ۔ عالم کی فضیلت تمام لوگ پر ایسی ہے جیسی تمام راتوں میں چودھویں کے چاند کی اسی طرح تمام کتابوں پر فضیلت رکھنے والی کتاب قران مجید ہے۔

    @RajaArshad56

  • اسلام میں والدین کی مقام | تحریر :عدنان یوسفزئی

    اسلام میں والدین کی مقام | تحریر :عدنان یوسفزئی

    اس جہان رنگ و بو میں انسان کو لانے کا ذریعہ و وسیلہ والدین ٹھہرے۔

    دنیا میں آجانے کے بعد انسان کی پرورش و تربیت کا ذمہ اٹھانے والے بھی والدین ہی ہوتے ہیں۔ وہ والدین ہی ہوتے ہیں جو بچے کی تربیت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ خود تو بھوکے رہ جاتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے کا پیٹ بھرا ہو۔ ماں جو خود تو گیلی جگہ سو جاتی ہے مگر چاہتی ہے کہ میرا بچہ سوکھی اور خشک جگہ سوئے۔

    ھاں خود تو تپتی دھوپ میں مزدوری کرے اور بچے کو چھاؤں میں لا کھلانے والے کو والد کہتے ہیں۔

    والد اور والدہ ہی تو ہیں جو اپنی اولاد سے بغیر کسی غرض کے محبت کرتے ہیں۔ اولاد چاہے جتنا بھی نافرمان کیوں نہ ہو جائے والدین پھر بھی والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوا کرتی ہے۔

    اللہ تعالی نے بھی جب اپنی محبت کا معیار بتایا تو کہا :
    "میں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہوں”

    جب والدین اس قدر اپنی اولاد سے مخلص ہوں تو اخلاقی فرض بنتا ہے کہ منعم کا شکریہ ادا کیا جائے اس کی خدمت و اطاعت کی جائے مگر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ فرمایا:

    واحفض لھما جناح الذل من الرحمۃ
    اپنی بازوں عاجزی سے ان دونوں (والدین) کے آگے جھکا دو۔ مطلب ان کے سامنے جھکے رہو یعنی ان کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر لو۔ جو وہ حکم دیں وہ کرو۔
    فرمایا:
    ولا تقل لھما اف
    انہیں اف تک نہ کہو,
    ولا تنھرھما
    انہیں مت جھڑکو۔

    یہ ہیں اسلامی تعلیمات والدین سے متعلق اور رب تعالی ان کے لیئے دعا کرنے کا خود حکم دیا فرمایا:
    وقل رب الرحمھما کما ربیانی صغیرا
    ترجمہ: "آپ کہیں کہ اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی”

    اسلام کی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ والدین کا احترام کیا جائے , ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو انہیں ناگوار گزرے. والدین کافر ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی ان کی خدمت و فرمانبرداری کا درس دیا ہے بلکہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے:
    "میں عشاء کی فرض نماز پڑھ رہا ہوتا اور میری ماں زندہ ہوتی, مجھے میری ماں آواز دیتی تو میں محمد نماز توڑ دیتا اور لبیک کہتا”.
    اسلامی تعلیمات میں والدین کی اطاعت و فرماں برداری،ان کی خدمت اور ان سے حسنِ سلوک کی سخت تاکید ملتی ہے۔حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے دریافت کیا کہ اولاد پر والدین کا کیا حق ہے؟آپﷺ نے فرمایا،وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔(سنن ابن ماجہ)یعنی تم ان کی خدمت و اطاعت اور ان سے حسن سلوک اوران کی رضا و فرماں برداری کی بدولت جنت حاصل کرسکتے ہو اور ان سے بدسلوکی اور نافرمانی تمہیں جنت سے جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گی۔
    حضرت ابوہریرہؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی ناک خاک آلود ہوئی(وہ ذلیل و رسوا،ناکام و نامراد ہوا) اس کی ناک خاک آلودہ ہوئی۔ اس کی ناک خاک آلودہ ہوئی۔ عرض کیاگیا:اے اللہ کے رسول ﷺ! کس کی؟ آپ ﷺ نےفرمایا، جس نے ماں باپ میں سےکسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپےکی حالت میں پایا اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا۔(صحیح مسلم)

    والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بے پناہ تاکید کے پس منظر میں ضرور یہ سوال پیدا ہوگا کہ والدین اگر کافر و مشرک ہوں، یا وہ کفر و شرک اورخلافِ شریعت امور کا حکم کریں، ایسی صورت میں وہ راضی و خوش رہیں تو ایسی صورت میں اولاد کا کیا رویہ ہونا چاہیئے؟ اس حوالے سے بھی کتا ب و سنت میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق والدین سے بڑھ کر ہے لہذا کفر وشرکت ، خلاف شریعت کام اور اللہ کی ناراضی والے امور میں والدین کی یا کسی کی بھی اطاعت جائز نہیں۔ اسی طرح والدین کے کفر و شرکت کے باوجود دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک، ان کا ادب و احترام اور ان کی خدمت و فرمانبرداری ضروری ہے۔ اسلام اس سے منع نہیں کرتا بلکہ اس کی ترغیب دیتا اور تاکید کرتا ہے۔

    غرض اسلام والدین کے ساتھ حسن سلوک کی جو تعلیمات دیتا ہے کوئی دوسرا مذھب اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔ والدین سرمایہ حیات ہیں۔ جن کے زندہ ہوں خوب قدر کرنی چاہیئے اور اگر بادل نخواستہ جس کے والدین اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ہوں انہیں اپنے والدین کے لئے استغفار اور ایصال ثواب کرنا چاہیئے۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • یہ تو جسمانی آزادی ہے ذہنی نہیں       ازقلم :غنی محمود قصوری

    یہ تو جسمانی آزادی ہے ذہنی نہیں ازقلم :غنی محمود قصوری

    یہ تو جسمانی آزادی ہے ذہنی نہیں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بزرگ بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں کے بعد جب بھی 14 اگست آتا لوگ نوافل پڑھتے سربسجود ہوتے کہ اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمارے پیاروں کی جانوں کے نذرانے قبول کرکے قائد و اقبال و رفقاء کی محنت سے ایک الگ وطن دیا جس میں ہم سب آزادی سے رہ رہے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات عبادات بغیر خوف و خطر ادا کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ہندو کا ظلم جبر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لئے ان کو آزادی کی قدر تھی

    پھر رفتہ رفتہ تبدیلی آئی نعمتوں کا کفران نعمت ہونے لگا آزادی پاکستان کے وقت جو بچے تھے وہ جوان ہوتے گئے اور جو بوڑھے تھے وہ قبرستان کی زینت بنتے گئے اور جشن آزادی کو نعمت خداوندی جان کر بھی ہم اسی کافر ہندو و انگریز کی طرز پر منانا شروع کر بیٹھے کہ جس کی رسم و رواجوں سے ہمارے بڑوں نے تنگ آکر ہجرت کی اور اپنی جانوں کے نذرانے دیئے تھے کہ اگلی آنے والی نسلیں ان رسموں رواجوں سے بچ کر حقیقی مسلمان قوم بنے گی
    دنیا کی اس رنگینوں میں آج جشن آزادی کے موقع پر ہم بھول گئے کہ اس ارض پاک کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں پیش کی ہیں اور یہ آزادی اتنی آسانی سے نہیں ملی بلکہ شیر میسور ٹیپو سلطان نے 1857 کی جنگ آزادی بھی اسی نظریہِ سے لڑی تھی

    1857 سے 1947 کا سفر آگ و خون کی ہولی سے رقم ہے
    جس میں پل پل قربانیاں پیش کی گئی تاکہ آزادی حاصل کی جا سکے اور اس ناپاک قوم ہندو و انگریز کی رسم و رواج سے اپنی آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے مگر افسوس کہ وہی رسم و رواج آج ہمارے کلچر کا باقاعدہ حصہ ہیں

    ہم سمجھتے ہیں کہ اکیلا جسم آزاد ہو تو بندہ آزاد ہوتا ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ جسمانی غلامی سے زیادہ خطرناک ذہنی غلامی ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان کا دماغ جیسی ذہنی غلامی میں مبتلا ہو گا اس کا جسم وہی کام کرنے پر مجبور ہو گا اور آج جشن کے موقع پر ہم ہر دور غلامی والی حرکت دہرا رہے ہیں

    قیام پاکستان کیلئے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی دلیل دیکھنا چاہتے ہیں تو آج بھی دہلی کے گیٹ وے پر 95300 راہیان آزادی کے نام دیکھئے جن میں سے 61945 مسلمان ہیں جنہوں نے انگریز و ہندو سے بیک وقت مقابلہ کیا اور اپنی آنے والی نسلوں کو اسلامی کلچر میں رنگنے کیلئے خود کو خون میں رنگ لیا
    افسوس آج کا نوجوان محض سائلنسر نکال کر ڈھول کی تھاپ پر انڈین کلچرل کی طرح رقص کرنا اور باجا بجا کر لوگوں کو تنگ کرنا ہی آزادی کا اصل جشن سمجھتا ہے

    کل تک ہمارے بڑے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے ہندو سے تنگ تھے تو آج کا مسلمان اپنے ہی مسلمان سے آج کے دن ذہنی و جسمانی طور پر تنگ ہے
    جس کی مثال ہمارے گلی محلوں میں دن رات بجتے باجے اور اونچی آواز میں لگے گانے ہیں

    ںجائے اس کے کہ اس دن شکرانے کے نوافل ادا کئے جائیں صدقہ خیرات کیا جائے کہ ہم جسمانی، روحانی،مذہبی طور پر آزاد ہیں الٹا ہم اسی ہندو پلید کا کلچر اپنا کر اپنی ذہنی غلامی کی عکاسی کر رہے ہیں

    گزارش ہے کہ یہ اظہار آزادی آزادانہ نہیں بلکہ غلامانہ ہے سو اس جشن آزادی پر کچھ فلاحی کام کیجئے لوگوں کو کھانا کھلائیے،پانی پلائیے،عبادات کا اہتمام کیجئے اور خاص کر اس ارض پاک کیلئے نئے پودے لگا کر تازہ آکسیجن کی فراہمی کا اہتمام کیجئے تاکہ ہمارے بزرگوں کی روحیں سکون محسوس کریں کہ واقعی ہندو کیساتھ رہ کر ہماری اولادیں غلط کار ہونی تھیں شکر ہے اللہ کا ارض پاک کی بدولت آج ہماری اولادیں شاہراہِ اسلامیہ پر گامزن عبادات و فلاحی کاموں پر کاربند ہے

    اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین