Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قوم اور عوام ‏تحریر:ملک شوکت محمود

    ۔
    حضرت قائد اعظمؒ نے ہمیں ایک قوم کی طرح ایک مقصد پر جمع کیا تھا۔نباض امت اقبال ؒ نے اس قوم کی فکری آبیاری کی تھی۔ مولانا محمود الحسنؒ اسیر مالٹا، مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا محمد علی ؒجوہر اور مولانا شوکت علی ؒجیسے رہنما ئے امت نے اس قوم کو عملی جدوجہد کا سبق سکھایا تھا۔لیکن ہم یہ سب کچھ بھول گئے۔علماءاور دینی جماعتوں نے اسلام کی تبلیغ کی بجائے ہمیں اسلام آباد کے راہوں کی ترغیب دی۔سیاستدانوں نے روٹی کپڑا اور مکان کا سراب دکھایا اور یہ قوم ان قسم کے مشرکانہ نعروں کو اپنا ہدف سمجھ کر ان کے پیچھے لگ گئی۔ رازق تو اللہ کی ذات ہے اور یہ وصف صرف اسے ہی سزا وار ہے ہاں اس کے لئے جدوجہد انسانوں کے لئے شرط ہے۔لیکن اگر ہم اپنے جیسے انسانوں کو ہی ان مسائل کا حل سمجھ لیں تو عذاب خداوندی کا سروں پر مسلط ہونا عبث نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم قوم سے عوام بن گئے، ایک دوسرے سے غافل، ہمارا سب سے بڑا مقصد کرکٹ ورلڈ کپ جیتنا رہ گیا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو بھی رومی حکمرانوں کی طرح عوام کو بے وقوف بنانا آتا ہے،کیونکہ زمانے بدلنے سے تقاضے بدلتے ہیں روش یا تاریخ نہیں۔
    قوم کو متحد اور منظم رکھنا ایک باکردار با عمل لیڈر رہنما کی اولیں ترجیح ہوتا ہے،جبکہ بد قسمتی سے ہمیں قائداعظم کے بعد نہ ہی تو کوئی سیاسی لیڈر رہنما ملا اور نہ ہی ہم عوام نے کبھی خود قوم بننے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ہر کسی نے ان سیاسی مداریوں کو ہی بار بار منتخب کروایا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی انفرادی مفادات کے حصول کیلئیے انکو ہی اپنا خیرخواہ سمجھا،جس کی بدولت ہم عوام کبھی لسانیت کے نام پر اور کبھی مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر آپس میں الجھے رہتے ہیں،جس سے ہماری اخلاقیات تہذیب اور فلاحی سوچ رکھنے والوں کی نیک خواہشات کا جنازہ نکلنا شروع ہوتا گیا،اور پھر نتیجے میں میرا جسم میری مرضی،جیسی تنظیمیں ملک میں نمودار ہونے لگیں۔اور ہم قوم سے عوام رہنے کو ترجیح دیتے رہے،کبھی ملکی ترقی اجتماعی اور عوامی فلاح و بہبود جیسے منصوبوں تک ہماری سوچ نہیں پہنچ پائی،کیونکہ سیاستدانوں نے ہمیں انفرادی سوچ کی شخصیت کا حامل بنا کررکھ دیا ہے۔قومیں کبھی اپنے ملک کی املاک کی توڑپھوڑ، قومی خزانے کی چوری، کرپٹ عدلیہ،کرپٹ سیاسی مافیاز،راشی بیوروکریٹس اور صحافی پیدا نہیں ہونے دیتیں۔
    جس معاشرے میں استاد کو حقارت اور ایک کرپٹ بیوروکریٹس کو عزت سے نوازہ جاتا ہو وہاں قومیں نہیں عوامی انتشار پسند ٹولے،فرقہ وارانہ اجتماعات،اور ظالم حکمران ہی پیدا ہوتے ہیں۔اسلامی اور خاندانی اقدار ہی ختم ہو چکی ہیں،جس معاشرے میں بھائی کے ہاتھوں بہن اور باپ کے ہاتھوں بیٹی تک کی عزت نیلام ہونے لگے پھر ایسا معاشرہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواہاں کیسے ہو سکتا ہے۔موجودہ پاکستان میں تقریبا %59 فیصد لوگ پڑھے لکھے اور باشعور ہونے کے باوجود سنگین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں کیوں۔؟وجہ تعلیم کی کمی نہیں تربیت کا بحران ہے۔

    آج 73 سال گذرنے کے باوجود بھی ہم عوام کا ہجوم ہیں قوم نہیں۔

  • ‏ہم بطور نام کے مسلمان تحریر: فروا نذیر

    ‏ہم بطور نام کے مسلمان تحریر: فروا نذیر

    میری یہ تحریر ہمارے معاشرے کے برائے نام مسلمانوں کے لئے ہے۔ کیونکہ ہم صرف نام کے مسلمان ہو کر کردار کا کفر کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں 95% سے زیادہ لوگ مسلمان ہیں۔ صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں پر ہر مذہب ہر انسان کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے اور یہ آزادی انسان کو اسلام سے ملی ہے۔

    میں آج آپ سب کے ساتھ کچھ تلخ حقائق پر بات چیت کرنا چاہوں گی جو کہ ہمارے معاشرے کا سیاہ چہرہ ہے اور ہم اپنی اگلی نسل کو ورثے میں ایسا معاشرہ دے رہے ہیں۔

    ہر انسان وہ کام کر رہا ہے جس کو اسلام میں منع فرمایا گیا ہے جیسا کہ:
    • اب ہر دوسرے دن قتل ہو رہا ہے کبھی بچوں کا، کبھی بڑوں کا اور کبھی عورتوں کا۔
    • لڑائی جھگڑے عام ہیں۔
    • • گانے بجانے اور رقص و سرور کی محفلیں غیر معیوب ہو چکی ہیں۔
    میڈیا کے ذریعے نازیبا اور فحش مواد گھر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    • عورت کا مطلب ہے پردہ میں مخفی چیز۔۔۔ مانا کہ اگر مجبوری ہو تو عورت کو ملازمت کرنی چاہیے جس کی اسلام میں اجازت ہے۔
    • لیکن جہاں اسلام نے عورت کو عزت دی ہے وہ سب اسلام کے نام نازیبا لباس پہن کر میڈیا پر آتی ہیں ناچ گانا کر رہی ہیں۔ مردوں کے ساتھ تعلقات عام ہیں۔ پردے کا نام و نشان نہیں ہے یہاں تک کہ کپڑے ہی مکمل نہیں ہوتے۔
    اور یہی حال مردوں کا بھی ہے وہ سب بھی اسی طرح عورت کے ساتھ مل کر میڈیا پر ناچ گانا کر رہے ہیں ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے منع فرمایا گیا ہے۔

    • ہم سب کو اسلام میں بیہودہ چیزیں دیکھنے سننے اور کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن ہم وہ سب دیکھتے سنتے اور کرتے ہیں۔
    • اسلام میں زنا شراب نوشی یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ لیکن یہ سب ہورہا ہے۔ اسلام میں سختی سے کہا گیا ہے کہ تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ لیکن انسان اتنے جاہل اور ان پڑھ ہو چکے ہیں کہ اسلام کو بھلا چکے ہیں۔
    • اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو تم زنا کی بجائے اس سے نکاح کرو۔ پاکیزہ رشتہ اختیار کرو۔
    • لیکن انسان ہمیشہ برائی کا راستہ اپناتا ہے۔
    • اسلام میں یہ گالم گلوچ، جھوٹ بولنا، نا انصافی کرنا، گانے سننا، ایک دوسرے کے ساتھ برا سلوک کرنا، حسد کرنا، غریب لوگوں کا احساس نہ کرنا، بڑوں سے بدتمیزی کرنا، چھوٹوں کا خیال نہ رکھنا، بچوں کے ساتھ ریپ کرنا، دوسروں کی عزت کو داغدار کرنا، دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کا خیال نہ کرنا، اور کچھ عورتوں کا کسی کے بھائی بیٹے کا خیال نہ کرنا۔
    یہ سب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہورہا ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کام ہم مسلمان ہوتے ہوئے کر رہے ہیں۔ ہم بس نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں۔

    اگر کوئی ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر کچھ بول دیں تو اس وقت لوگوں کا ایمان جاگتا ہے۔
    نبی کیلیے سب لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، مرتے ہیں۔ لیکن عمل نہیں کرتے تو کس حیثیت سے مسلمان کہلاتے ہیں سب جب کوئی عمل نہیں کچھ نہیں
    مجالس میں ہزاروں عاشقانِ رسول اور عزادارانِ حسین ہوتے ہیں لیکن نماز کے لئے ایک صف بھی مشکل سے مکمل ہوتی ہے۔ بچے 10 سال کے ہو جائیں پھر بھی نہ انہیں نماز آتی ہے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ ان سب کو خیال ہی نہیں کہ نماز اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ قبر میں نماز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا۔

    کیا یہ سب ہوتے ہوئے اسلامی نظام اور اسلامی معاشرہ کہنے کے قابل ہیں ؟ کیا ان سب کو انسان کہنے کے قابل ہیں۔

    میں یہ سب لوگوں کو نہیں کہہ رہی ہوں۔ یہ سب میں انکو کہہ رہی ہوں، ان کے بارے میں لکھ رہی جو یہ سب کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو بہت اچھے ہیں، نماز کے پابند ہیں اور اسلامی تعلیمات پر چلتے ہیں۔

    یہ میری تحریر صرف ان لوگوں کیلیے ہے جو اس معاشرے کو بگاڑ رہے ہیں۔ اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ہر چیز کے بارے میں قانون رائج ہونا چاہیے اور بروقت سزا دینی چاہیے تاکہ برائیوں کا خاتمہ ہوسکے۔

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ ہے ہم سب مسلمان اپنے آپ کو پرکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ اور کس طرح سے کر رہے ہیں؟ کیونکہ ایک انسان اپنے آپ کو جانتا پہچانتا ہے اور اپنے آپ کو ٹھیک کر سکتا ہے۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو نیک سیرت والا بنائے، سیدھے راستے پر اور نبی کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    آمین ثمہ امین

    Twitter id: ‎@InvisibleFari_

  • حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی رسولﷺ ہیں جو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں آپ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں 583ہجری میں ہوئی۔
    نام۔ عمر
    والد کا نام۔ خطاب
    والدہ کا نام۔ خنتمہ
    جو ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں
    ابو بکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد 22 جمادی الثانی سنہ 13ہجری کو مسند خلافت پر فائز ہوئے، آج بھی عمر بن خطاب ؓ ایک انصاف پسند عادل حکمران تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ رض تاریخ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو بہادری کی وجہ سے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے ہی مشہور تھے۔ امام ترمذی رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی اسی وجہ سے حضرت محمدﷺ نے بحضور الٰہی التجا کی کہ اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے حضرت محمدﷺ کی دعا قبول کی اور سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے اسلام کو عزت دی۔ آپ ؓ کے قبول اسلام سے قبل مسلمان مشرکین قریش سے چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے لیکن جب آپ ؓ نے اسلام قبول کیا تو آپ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان اپنی عبادات علی الاعلان کریں گے۔
    عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ:”بے شک سیدنا عمر ؓ کا قبول اسلام ہمارے لئے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے مگر حضرت عمر ؓ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔”
    اسی دن سے سیدنا عمر ؓ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا یعنی حق وباطل میں فرق کرنے والا۔ آپ کو لقب فاروق اور کنیت ابو حفص دونوں حضورﷺ نے عطا کیے ہیں۔
    ہجرت کے وقت کا واقعہ:
    کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہ کی۔
    آپ نے تلوار ہاتھ میں لی اور کعبہ کا طواف کیا پھر کفار سے مخاطب ہو کر فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بیوہ اور اس کے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ مکہ سے باہر آ کر میرا راستہ روکے، مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ راستہ روک سکے۔
    قبول اسلام کے بعد آپ کا حضور ﷺ سے ایسی محبت تھی کہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی ہے ایک مرتبہ ایک مسلمان اور یہودی کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا اس تنازع کے حل کے لیے وہ دونوں حضور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوئے حضور ﷺ نے دلیلوں کی بنیاد پر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا مگر وہ مسلمان اس فیصلے پر مطمئن نہیں ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ مقدمہ حضرت عمر فاروق کے پاس لے جاتا ہوں وہ اسلام کی وجہ سے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں گے مگر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس مقدمے کا فیصلہ پہلے سے حضور ﷺ کر چکے ہیں، تو فوراً تلوار اٹھائی اور اس مسلمان کا سر قلم کر دیا جس مسلمان نے حضور ﷺ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تھا
    رسول اللہﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے
    آپؓ کے دسترخوان پر کھبی دو سالن نظر نہیں آئے آپؓ سر کے نیچے اینٹ رکھ کر خالی زمین پر بھی سو جاتے تھے۔ آپ کے کپڑے میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے
    ایک مرتبہ عمر فاروقؓ مسجد میں منبر رسولﷺ پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک بندہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ” اے عمرؓ ہم تیرا خطبہ نہیں سنیں گے جب تک آپ ہمیں یہ نہ بتاؤ کہ یہ جو تم نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یہ کپڑا آپ کے پاس زیادہ کہاں سے آیا حالانکہ جو بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہوا وہ تو کم تھا تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ مسجد میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے تو فوراً عبداللہ بن عمرؓ کھڑے ہو گئے تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ بولے بیٹا بتاؤ تیرے باپ نے یہ کپڑا کہاں سے لایا ہوں ورنہ میں کھبی بھی اس منبر رسولﷺ پر کھڑا نہیں ہوں گا پھر ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر فاروقؓ نے بتایا کہ بابا جان کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت کم تھا اس سے ان کے پورے کپڑے تیار نہیں ہو سکتے تھے اور ان کے پاس پہننے والا لباس بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد محترم کو دیا
    جن کے بارے میں کفار اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام میں اگر ایک عمر اور آتا تو آج پوری دنیا میں صرف اسلام پھیلا ہوتا۔
    آپﷺ نے حضرت عمر فاروق کے بارے میں فرمایا تھا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر فاروقؓ ہوتا
    27 ذی الحجہ کو
    خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کو نماز فجر میں خنجر سے زخمی کیا گیا،
    جو 4 دن بعد یکم محرم کوجام شہادت نوش فرماگئے۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے حالات وواقعات تحریر:سمیع نیازی

    پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے حالات وواقعات تحریر:سمیع نیازی

    السلام عليكم قارئين میں آپ کی خدمت میں اپنا پہلا ارٹیکل لے کر حاضر ہوا ہوں جہاں ہم بات پاکستان کرکٹ کی کریں گے جس ُملک میں میری طرح کروڑوں شائقین کرکٹ ہے دل و جان سے کرکٹ کو فالو کرتے ہے جس میں ہماری ٹیم ہیمں بہت مایوس کر دیتی ہے ایسی ٹیموں سے ہارنا جس سے بندہ توقع ہی نہیں کر سکتا جس کی ہال ہی میں بڑی مثال زمبابوے سے ہارنا ہے اور انگلینڈ کے مین کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں ان کی بی ٹیم سے ہارنا اور یہی ٹیم بعض و اوقات ایسے کارنامے سر انجام دیتی ہے بندہ حیران و پرشیان ہو جاتا ہے یہ ٹیم ایسا بھی کر سکتی ہے جس کی بڑی مثال چئمینز ٹرافی 2017 ہیں جو ٹیم ِاس ٹورنامنٹ کے شروع ہونے سے پہلے دگ و دو میں تھی کہ کس طرح اس ٹورنامنٹ کےلیے کولیفائی کرے جیسے تیسے ہم نے کولیفائی تو کرلیا لیکن میرے سمیت سب کا یہی خیال تھا یہ ٹیم جائيں گی انگلینڈ گھوم کے واپس آ جائیں گی اس ٹیم کا ٹورنامنٹ کیا ایک میچ بھی جیتنا مشکل ہے اور پھر ِاس بات پہ مُہر اس وقت ثابت ہوئی جب ہم اپنا پہلا میچ انڈیا سے ہار گئے اس ہارنے کے بعد پھر تو جیسے پاکستانی ٹیم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہ رہی اور ناقدین نے ہر طرف سے تنقیِد نشتر چلا دیے کہ اِس کو ہٹاؤ اس کو لاؤ اِس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی ُاس کی نہیں بنتی یہ پرچی وہ سفارشی یہ سب سننے اور سہنے کے بعد تو جیسے پاکستان ٹیم زخمی شیر بن گئ پھر اس نے نہ تاؤ دیکھا نہ بھاؤ جو ٹیم سامنے آتی گئ اُسی کو رگڑتی گئ جنوبی افریقہ جیسی نمبر ون ٹیم ہو یا آپنی جیسی سرلنکا (یہ بات یاد کراتا چلوں اگر اس میچ می عامر اور کپتان سرفراز نہ ہوتے تو ہم نے میچ ہار جانا تھا ہم نے آسانی والا میچ بھی ٹف بنا دیا تھا) پھر اِن کو ہرانے کے بعد ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ خطرناک اور ہوم ٹیم انگلینڈ کو انھی کے گراؤنڈ میں سیمی فائنل میں شکست دی اور آخر میں ہمارا ٹاکرا ایک بار پھر فائنل میں بھارت سے ہو گیا جہاں ہم ان سے پہلے میچ میں بُری طرح ہار چکے تھے اور ہمارے پڑوسی اس بات پر جشن منا رہے تھے کہ ہمارا مقابلہ پھر اُس کمزور ٹیم سے ہو رہا ہے جس کو وہ پہلے ہی ہرا چکے ہے آسانی سے وہ بھول چکے تھے یہ ٹیم بلکل بدل چکی ہے اور پھر دنیا نے دیکھا اِس ٹیم نے دنیا کی خطرناک ٹیم کو بُری طرح شکست سے دو چار کیا اور پہلی دفعہ چمیئنز ٹرافی کا چمپینز بنا جس ٹیم کو کولیفائی کے لیے لالے پڑے ہوئے اس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ "we are unprdctable” انگلینڈ کے سابقہ کرکٹر اور موجودہ مشہور کمنٹیٹر ناصر حیسن نے کیا خوب کہا تھا کہ
    Pakistan Cricket Is The Best One Minute Down
    Next Minute Up
    اس کے بعد تو پاکستان کرکٹ ٹیم ون ڈے اور ٹیسٹ تو مرجھا گئ لیکن ٹی ٹونٹی میں تو وہ دو سال چھائی رہی اور لگاتار گیارہ سیریز جیتنے والی ٹیم بن گئ اور دو سال ائی سی سی کی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں نمبر ون رہی اسی اثنا میں وقت گزرتا گیا اور 2019 کا میگا ایونٹ آن پنچہا اور حسب توقع ہماری کارگردگی اونچ نیچ ہی رہی جس میں ہم پہلا اور دوسرا میچ ویسٹ انڈیز اور انڈیا سے بُری طرح ہار گئے اور تیسرے میچ میں اسٹریلیاں نے ہمیں شکست دے دی ان شکستوں کے بعد پاکستان نے انگلیڈ نیوزیلینڈ جنوبی افریقہ بنگادیش اور افغانستان کو شکست دی اور ہما را سری لنکا والا میچ بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا ہم پہلے دو میچ ُبری طرح ہارنے کی وجہ سے پاکستان ٹیم کا رن ریٹ اچھا نہ ہو سکا اور ہم ٹورنامنٹ کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئے اور اس کے بعد پھر رونا دھونا شروع ہو گیا کہ کپتان کو ہٹا دو کوچ کو ہٹا دو اسی رونے دھونے میں پاکستان ٹیم کے کپتان مکی ارتھر کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ناتجربے کار کوچ مصباح الحق کو لگا دیا گا اور ان کا ساتھ بولنگ کوچ وقار یونس نے دیا جن کو پہلے بھی دو تین دفعہ خراب کارکردگی پر فارغ کیا جا چکا تھا کوچنگ سٹاف کو تبدیل کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ جس گروانڈ کے ہم لوگ شیر تھے جہاں ہم نے بڑی بڑی ٹیموں کو شکست دی ہوئی UAE میں آکر سری لنکا نے دو ٹیسٹ میچوں میں شکست دے دی اور یہی نہیں اُسی سریلنکا ٹیم نے آکر پاکستان میں پاکستان کو ٹی ٹونٹی میں وائٹ واش کیا اور ان شکستوں کے پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا جس کی قیادت میں پاکستان ٹیم ملسل دو سال نمبر ون ٹیم رہی کوئی ٹیم اسے شکست نہ دے سکی اسے ایک بُر سیریز کے بعد کپتانی سے ہٹا دیا گیا ُاس کے بعد سے سرفراز ٹیم کے ساتھ تو ہوتے ہے لیکن پلنگ الیون جگہ نہیں بنا پاتے سرفراز کے بعد کپتانی کا سہرا بابراعظم کے سر سجایا گیا جس کے بعد ان کی زاتی کارکردگی تو اچھی ہے لیکن ٹیم اچھی گارکردگی مظاہرہ نہیں کر پا رہی اگر 2019-20 کے بعد جائزہ لیا جائے تو تو پاکستانی باہر جا کر اچھا پرفارم نہیں کر پائی اگر کہیں جیتی بھی ہے تو وہ محالف ُملک کی بی ٹیم سے جس کا سہرا مصباح الحق اور وقار یونس کے سر جاتا ہے مصباح الحق کو کرکٹ سے ِرٹائرمنٹ کے بعد پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ لگا دیا گیا ان کا کوچنگ میں کوئی تجربہ نہیں تھا وہ صرف ایک دفعہ پاکستان سُپر لیگ میں ِاسلام آباد یونائٹڈ کی کوچنگ کی تھی جس میں ِان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخر میں تھی جو کہ یہی ٹیم PSL کے دو سیزن جیت چکی تھی اس لیے میں کہتا ہوں پاکستان کا بیرا غرق مصباح نے کیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں وہ ایک بہت ہی زبردست کرکٹر اور کپتان تھے لیکن یہ بات اپنی جگہ صیح ہے کہ ایک اچھا کرکٹر ایک اچھا کوچ نہیں بن سکتا اور مصباح نے آپنے کیس میں یہ ثابت کر کے دیکھایا ہے اب بات کرتے ہے بولنگ کوچ وقار یونس کی جو آپنے دور میں بہترین فاسٹ بولر تھے جن سے دنیا کے بڑے بڑے بٹسمین ڈرتے تھے وقار یونس اور وسیم اکرم کی جوڑی مشہور تھی یہ دونوں W تن تنہا میچ جتوا دیتے تھے یہ بات لازمی نہیں کہ ایک اچھا کھلاڑی ایک اچھا کوچ ثابت ہو وقار یونس کے مامعلے میں تو بالکل ہی ایسا ہے جن کوچنگ کرئیر داغ دار رہا جیسا کہ 2011 کے ورلڈ کپ میں پاکستان بہت اچھا کھیل رہا تھا اپنے راؤنڈ میچوں میں صرف ایک میچ ہارا تھا جس کے بعد پاکستان سمی فائنل گیا جہاں ُان کا مقبالہ بھارت سے تھا جب ٹاس ہوا تو حیرانگی طور پر ٹیم شعب اختر موجود نہیں تھے جو کہ راؤنڈ میچوں میں بہت سے میچ اپنی بولنگ سے جتوا چکے تھے لیکن وہ سیمی فائنل میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے یہ میچ پاکستان بھارت سے ہار گیا تھا جب بعد میں شیعب اختر سے پوچھا گیا تو انھوں جواب دیا وہ مکمل فٹ تھے لیکن وقار یونس نے ان کو جان بوجھ کر نہیں کھلایا 2015 کے ورلڈ کپ میں کوچ وقار یونس تھے جن کو بُری پرمارمنس کی وجہ سے ٹیم سے جدا کر دیا گیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد ان کو پھر کوچ لگا دیا گیا اور 2016 کے ٹی ٹوںنٹی ورلڈ کپ میں کوچ تھے اور ُاس ٹورنامنٹ میں پاکستان بہت ُبرا کھیلا جس کے بعد ان کو میڈیا عوام نے بہت کوسا جس سے انھوں نے تنگ آکر استعفا دے دیا اور جناب آج کل پھر پاکستان ٹیم کے کوچ ہے اور دو ماہ بعد ایک بار پھر ٹی ٹو ئنٹی ورلڈ کپ آ رہا ہے اور ُامید ہے جناب اس بار آپنی روایتی کارکردگی نہیں دیکھائے بلکہ کچھ اچھا ہی کریں ورنہ شاید مصباح اور وقار ٹیم کے ساتھ رہے
    امید کرتا ہوں آپ کو یہ میرا پہلا ار
    ٹیکل بہت پسند آیا ہو گا آج سالگرہ بھی ہے تو وش کر دیجے گا انشاالللہ اگلے ارٹیکل میں پھر ملاقات ہوتی ہے تب تک کے لیے الللہ حافظ

    Twitter id : SamiNia19670549

  • نیا پاکستان تحریر:آفاق احمد

    وزیر اعظم عمران خان نے تاریخی ٹیکس اکھٹا کی۔جو اس سے پہلے کسی نے نہی کی تھی۔رکارڈ ٹیکس ہے۔جس کا دعوہ عمران نے اپنے الیکشن کمپین میں کیا تھا اور یہ ٹیکس اس وقت اکٹھا کیا تھا جس وقت پوری دنیا کی اکانومی بیٹھ گئ تھی۔اور کورونہ کہ وجہ سے پاکستان بھی بہت متاثر رہا لیکن پھر بھی اللہ کے خاص فضل و کرم سے بہت سے ممالک سے بہتر رہا پاکستان ۔اور اس دوران پاکستان نے 4732 بلین ٹیکس اکٹھا کیا تھا 2020۔2021 میں جو کہ 4691 بلین کے ہدف سے زیادہ ہے اور اس دفعہ اکتالیس ارب زیادہ ہیں۔

    2۔برآمدات میں اضافہ
    ملکی برآمدات میں رکارڈ اضافہ ہوگیا ہے یعنی 25۔3 بلین ڈالر پہ پہنچ گیا ہیں۔جو کہ ایک رکارڈ اضافہ ہوگیا ہے جو کہ پہلے نہی ہوا تاریخ میں۔اس میں پاکستان نے ٹیکسٹائل میں،چمڑے، اور سپورٹس میں بہت کام کیا آئی ٹی کی مصنوعات جارہی ہیں اور جو آنے والے سال میں پاکستان نے جو ہدف رکھا ہے وہ 35 ارب ڈالر ہے جو کہ امید کی جاتی ہے انشاء اللہ پورا ہو جائے گا جو کہ پاکستان کو ایکسپورٹ کرنی ہے اس میں چاول ہے زراعت ہے مکئی ہے اس میں گندم ہے جو کہ پاکستان میں بڑھ رہی ہے اور پاکستان اس کو مہنگے داموں فروخت کرینگے اور امید ہے 10 ارب ڈالر کا زیادہ ٹارگٹ پورا ہو جائے گا

    3۔مہنگائی پر قابو پانا
    سالانہ بنیادوں پر جو مہنگائی کی شرح تھی وہ بڑھتی جا رہی تھی اور اس کے بارے میں سب لوگ تنقید کر رہے تھے کہ مہنگائی پر قابو پا نہ سکا عمران خان کی حکومت نے اور یہ عمران کی حکومت کی بیڈ گورنس ہے تو اس مہنگائی کی وجہ سے نئے اعداد وشمار آگئے تھے جو ادارہ ہے اس نے ایک رپورٹ دی تھی کی مہنگائی کی شرح کم ہو کر 8۔9 تک آگئی۔جو کہ قابل تعریف ہے اور عام آدمی کی زندگی میں اور بہتری آجائیں گی ڈان کی رپورٹ میں بھی مہنگائی کی شرح کم بتایا تھا

    4۔گردشی قرضہ کم ہونا
    جب عمران کی حکومت ائی تو پتہ چلا کہ نواز حکومت نے مہنگی بجلی لی بھی اور بن بھی مہنگی ہو رہی ہے اور مہنگے معاہدے بھی کیں ہے لیکن پاکستان میں یہ طاقت ہے کہ وہ زیادہ بجلی بنائے لیکن تواتر کے ساتھ لوگوں کو دینا مشکل ہے کیونکہ لائن ٹوٹ جائےگی اور پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔اور آنے والے وقت میں اور بھی مہنگی ہو جائے گی کیونکہ ہم نے بجلی کو اس وسائل سے بنا رہے وہ بہت مہنگے ہے اور بجلی مہنگی لینے پڑے گی تب تک جب تک ہم پانی سے رونیویبل سورس سے نہ ونڈ سے سولر سے وغیرہ اور نواز شریف کے دور میں 1200 ارب گردشی قرضہ تھا لیکن پی ٹی آئی نے اس کو کم کیا ہے اوت کم کر رہے ہے اور وہ معاہدے سستی کئیں

    ٹویٹر آئی ڈی ۔۔۔ ‎@afaq6464

  • زانی کی سزا تحریر:حناء سرور

    زانی کی سزا تحریر:حناء سرور

    ۔
    زانی کی سزا: سورۃ النور (آیت ۱ سے ۹ تک) میں زنا کرنے والوں کی سزا اور اس کے متعلق بعض احکام بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ اور جس کے احکام کو ہم نے فرض کیا ہے۔ اور اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔ آگے آنے والی آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص بدکاری کا عادی ہواور توبہ نہ کرتا ہو مگر کسی وجہ سے اُس پر حد جاری نہیں ہورہی ہے تو اس کا نکاح پاکدامن عورت کے ساتھ نہ کیا جائے۔ زنا کی حد جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس جرم عظیم کا خود اعتراف کرے یا پھر چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے دونوں کو اس حالت میں پایا کہ ایک کی شرمگاہ دوسرے کی شرمگاہ میں موجود تھی۔ چونکہ کسی مرد یا عورت کو زنا جیسے بڑے گناہ کا مرتکب قرار دینے پر سخت سزا دی جاتی ہے۔ اس لیے صرف دو گواہ کافی نہیں ہیں بلکہ چار گواہوں کی گواہی کو لازم قرار دیا گیا، اور ان گواہوں کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر چار گواہوں کی گواہی ثابت نہیں ہوسکی تو تہمت لگانے والوں پر ۸۰کوڑے مارے جائیں گے۔ قرآن کریم حضور اکرم ﷺ پر نازل فرماکر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ وہ قرآن کریم کے مسائل واحکام کو کھول کھول کر بیان فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے قول وعمل کے ذریعہ بیان فرمایا کہ سورۃ النور میں وارد حدِّ زنا اُس مردو عورت کے لیے ہے جس نے ابھی شادی نہیں کی ہے اور زنا کا خود اعتراف کیا ہے یا چار گواہوں کی چند شرائط کے ساتھ گواہی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ یعنی اُس کو سو کوڑے ماریں جائیں۔ ’’فاجلدوا‘‘ لفظ جَلْد کوڑا مارنے کے معنی میں ہے، وہ جِلد سے مشتق ہے، کیونکہ کوڑا عموماً چمڑے سے بنایا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ جَلْد سے تعبیر کرنے میں اس طرح اشارہ ہے کہ یہ کوڑوں کی سزا اس حد تک رہنی چاہئے کہ اس کا اثر انسان کی کھال تک رہے، گوشت تک نہ پہونچے۔ نبی اکرم ﷺ نے خود کوڑے کے متعلق عملاً یہ تلقین فرمائی کہ کوڑا نہ بہت سخت ہو جس سے گوشت تک ادھڑ جائے اور نہ بہت نرم ہو کہ اس کی کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے۔ لیکن اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے قول وعمل سے بتایا کہ اُس کی سزا رجم (سنگساری) ہے۔یعنی شرعی ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو زندہ زمین میں اس طرح گاڑا جائے کہ اس کا آدھا نچلا حصہ زمین میں ہو اور جسم کا اوپر والاآدھا حصہ باہر ہو۔ پھر چاروں اطراف سے اُس پر پتھر برسائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ صحابۂ کرام نے بھی شادی شدہ شخص کے زنا کرنے پر رجم (سنگساری) ہی کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے قول وعمل اور صحابۂ کرام کے عمل پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ چار گواہوں کی شہادت کے ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو رجم (سنگساری) ہی کیا جائے گا۔ اگر زنا ہوجائے تو ظاہر ہے کہ عمومی طور پر دنیا میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے حد جاری نہیں کی جاسکتی، لیکن پہلی فرصت میں توبہ کرنی چاہئے اور پوری زندگی اس جرم عظیم پر اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا اور گڑگڑانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادے اور آئندہ زنا کے قریب بھی نہ جاناچاہئے کیونکہ زنا کرنے والے شخص سے اللہ تعالیٰ بات بھی نہیں فرمائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے، اگر زنا سے سچی توبہ نہیں کی.

  • امام حسینؓ ، دلیری و شجاعت کی داستان    تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    امام حسینؓ ، دلیری و شجاعت کی داستان تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    حسینؓ بن علیؓ کا یہ ایثار و قربانی تاریخ دین اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو ہر رہروان منزل شوق و محبت و الفت ، ایمان والوں کیلٸے ایک عظیم ترین نمونہ ہے۔ کربلا کے میدان میں حسینؓ بن علیؓ اور شہدا ٕ کربلا ؓ نے یزید معلون کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا
    دس محرم الحرام کو زمین و آسمان نے کربلا کے میدان میں حق وباطل کا محیّرالعقول سانحہ دیکھا کہ جب حاکمیتِ الہیٰ اور شریعتِ محمدی ﷺکے تحفّظ و بقا کے لیے امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے یزیدیت کے سامنے سَر جھکانے کی بجائے اپنے ساتھیوں کو خاتم النبیین ﷺ کے دین اسلام پر قربان کردیا۔

    قارئين اکرام!8 ذی الحج 6 ہجری کو مکے مکرمہ سے روانگی کے وقت اپنے ساتھیوں کو جمع فرما کر ایک خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص راہ اللہﷻ میں جان قربان کرنا پسند کرتا ہو وہ میرے روانہ ہو ۔ہم ان شاء اللہ صبح ہوتے ہی یہاں سے روانہ ہوجاٸے گے ۔ حسینؓ بن علیؓ اس سے باخبر تھے کہ آپؓ کے فرائض امامت کا اہم جزو کربلا میں شہادت تھا۔ حسینؓ بن علیؓ اپنے شہادت کا تذکرہ اپنے نانا جان حضرت مُحَمَّد ﷺ سے بچپن سے سنتے آرہے تھے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خاتم النبیین حضرت مُحَمَّد ﷺ نے فرمایا مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ میرا بیٹا حسینؓ بن علیؓ میدان کربلا میں شہید کر دیے جائیں گے اور جبرائیل علیہ السلام میرے پاس مٹی اس میدان کربلا کی لائے ہیں کہ یہی ان شہادت ہوگی

    حسینؓ بن علیؓ جب میدان کربلا پہنچے تو یزید معلون کو بڑی دلیری شجاعت سے کہا کہ میں تیری بیعت نہیں کرونگا ۔حسین ؓ بن علیؓ نے ظلم و جبر کے آگے شہادت کو گلے لگانے کو فوقیت دی ۔امام حسینؓ نے دین اسلام کی سر بلندی سے یزید معلون سے لڑنا بہتر سمجھا اور ارشاد فرمایا شہادت کو ترجيح دی

    یزیدی لشکر کے ایک سپاہی عبد ﷲ بن عمار کہتے ہیں حضرت حسین ؓ بن علیؓ کا محاصرہ ہوا تو اللہ کی قسم کہ میں نے حسینؓ بن علیؓ سے پہلے اور بعد کوئی ایسا بشر نہیں دیکھا ،جو کثیر دشمنوں کی تعداد میں اس طرح گھیرا ہوا ہو اور انکے ساتھیوں کو شہید کر دئے گیا مگر پھر بھی امام حسینؓ صبروتحمل کی اعلی مثال بنے رہے ۔شب روز حسینؓ بن علیؓ کی مصیبت بڑھتی جاتی آپ ؓ کے وقار و تمکنت میں اضافہ ہوتا جاتا اور انکے چہرے مبارک کی تا بندگی بڑھتی رہتی ۔

    امام حسینؓ نے ایک ایک کرکے عزیز و اقارب اور اپنے جگر گوشوں کو خاک و خون میں نہاتے دیکھا آپ ؓ کے سامنے معصوم بچّوں و بچیوں کے سینے زہر آلود تیروں سے چھلنی کیا جارہے تھے اور بھوک و پیاس سے نڈھال بچّیوں کی صدائوں سے کربلا کی فضائیں لرزتی رہیں، یہاں تک کہ امام حسینؓ نے خود بھی سیکڑوں دشمنوں کے سَر قلم کرتے ہوٸے شہید کردٸیے گے، امام حسینؓ کے جسم مبارک پر ٣٣ زخم نیزوں کے ٤٣ تلواروں کے اور آپؓ کے پیرہن شریف میں ١٢١ سوراخ تیر کے تھے۔جنگ کے دوران میں تین دن تک بھوک پیاس میں رہے مگر شجاعت و دلیری کے وہ جوہر دکھائے جس سے دشمن حیران و پریشان حال رہا۔ ساری لڑائی میں دشمن پر ہیبت و خوف کے بادل چھائے رہے ۔ اور مظلوم انسانیت کو یہ سبق دیا کہ وقت کے یزیدوں کے سامنے کبھی نہ جُھکنے چاہیے

    سانحہ کربلا دراصل تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم سانحہ ہے کہ جس نے تاریخ کے اوراق میں امام حسینؓ کی شجاعت و صداقت کے ایک نہایت روشن باب کا اضافہ کرکے مسلمانوں کو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ جانے کا شعور دیا۔ امام حسینؓ ؓنے ثابت کیا کہ اگر یقین محکم اور مقصد نیک ہو اور اللہ پر کامل یقین ہو تو رائے حق میں آنے والے مصائب و آلام اور باطل قوتوں کی دولت و طاقت کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں رہتی ۔یہی وجہ ہے کہ امام حسینؓ بن علیؓ کی قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔

    حسینؓ بن علیؓ کی رگوں میں خون خاتم النبیین ﷺ ہے ۔آپ کے بازوں میں قوت علی حیدرؓ ہے ۔آپ جیسا کوئی شہسوار نہیں ۔ کیونکہ آپ نے دوش رسول ﷺ پر سواری کی ہوئی ہے۔آپ جیسا کوئی دلیر و بہادر نہیں ہے، اس لئے کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی شجاعت و صداقت بخشی تھی ، آپ مظہر شجاعت رسول ﷺ تھے ۔ کربلا میں یزید معلون حق پر نہیں تھا اور حسینؓ بن علی ؓ حق پر تھے جس کی وجہ سے اب ساری دنیا کہتی ہے کہ یزید معلون تھا اور حسینؓ بن علی ؓ ہیں

    ‎@HamxaSiddiqi

  • ‏امام حسینؓ کی سخاوت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏امام حسینؓ کی سخاوت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    امام حسینؓ بن علی ؓ کی ذات گرامی فضائل اخلاق کا مجموعہ تھی ۔آپؓ بہت عبادت گزار ، عاجز و بہادر ،روزے دار، سخاوت پسند تھے ۔امام حسینؓ کی سخاوت کا ذکر گرامی صرف فرش والے نہیں بلکہ عرش والے بھی کرتے ہیں

    ہمارے مُعاشرے میں جو شخصيت جس قَدربلند مرتبے کی حامل ہوتی ہے وہ عاجزی و انکساری جیسی عظیم صِفات  سے عاری ہوتی ہے مگر قربان جائیے !امام حسینؓ کے اندر یہ صِفات بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔آج اگر کوئی اس دنیا  کے کسی  منصب پر فائز ہوجائے یا  اُسے کوئی بڑا عُہدہ مل جاتا ہے تواُس کے اُٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے، وہ غریبوں سے ملنا،ان کے دکھ سکھ میں ساتھ دینا تو دُور کی بات اُنہیں دیکھنا تک پسند نہیں کرتے ہیں ۔ایسے متکبر لوگوں کو امام حسینؓ کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنا چاہیے۔

    ایک دفعہ ایک فقیر در دولت آ پہنچا ۔امام حسینؓ اللہ ﷻ کی عبادت میں مصروف تھے ۔ایسے میں اس فقیر کی آواز آپؓ کو سنائی دی امام حسینؓ نے فورا عبادت مختصر کی اور اپنے ساتھی سے پوچھا کیا ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی ہے؟؟ ساتھی نے عرض کی کہ آپؓ نے ٢٠٠ درہم اہل بیت میں تقسیم کیلٸے دیٸے تھے وہ ابھی تک تقسیم نہیں کئے۔ امام حسینؓ نے فرمایا یہ تمام درہم لے آﺅ اب اہل بیت سے زیادہ ایک حق دار آ گیا ہے ۔لہذا امام حسینؓ نے یہ دو سو درہم کی تھیلی اس فقیر کو دے دی سبحان الله، آپؓ اکثر غریب و مسکین کے گھروں میں خود کھانا پہنچاتے تھے۔

    امام حسینؓ  کی شان کے قربان  کہ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ دعوت کرنے والے خود مسکین و مفلوک الحال ہیں ایک دفعہ امام حسین کے راستے میں فقرا بیٹھے کھانا کھا رہے تھے آپؓ کو دیکھ کر فقرا نے آپؓ کو اپنے ساتھ کھانا کھانے کو کہا ۔ امام حسینؓ نے گھوڑے سے اترے اور ان کے ساتھ کھانا تناول کیا۔ اور ارشاد فرمایا میں نے آپ کی دعوت قبول کی ،اب آپ میرے ساتھ میرے گھر میں دعوت قبول کرو۔ پھر آپؓ نے فقرا کو اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلایا۔

    اِس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ جب  بھی کسی کی دل جُوئی  کرنے مثلا ً ضرورت مندوں کی  مَدَد کرنے،انکے کی غمگساری  کرنے، انکی کی عیادت  کرنے ،انکے فوت شدہ احباب کی تعزیت کرنے ،ان کی دعوت قبول کرنے الغرض جب بھی اِس طرح کے مَوَاقع ملیں تو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ محتاجوں اور غریبوں کا  دل خوش کرکے ثوابِ عظیم کا حَقْدار بننا چاہیے.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • نظام عدل   تحریر : شاہ زیب

    نظام عدل تحریر : شاہ زیب

    دنیا کے نظام عدل کی بات کی جائے تو وطن عزیز کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلی عدلیہ کے لیے شرمندگی کا مقام ہے جہاں دنیا کی ایک سو اٹھائیس ممالک کی فہرست سے پاکستان ایک سو بیسویں نمبر آتا ہے۔

    اور جب دنیا کی قانون سازی یا عدلیہ کی بات کی جائے تو اس جدید صدی میں جہاں سائنس و ٹیکنالوجی و علوم کی تیز ترین دور میں بھی دنیا کے حکمران ہمارے خلیفہ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے قوانین ” عمر لا ” کے نام سے رائج اور نافذ ہیں۔

    لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی دنیا امیرالمومنین و خلیفہ کے قانون کے مطابق ہی انصاف کرتی ہے میرا مقصد یہ ہے جب یہودی غیر مسلم ممالک ہمارے خلیفہ کے بنائے گئے قوانین کی پاسداری اور پیروی کرتے ہیں تو وطن عزیز جو بنا ہی اسلام کے نام پر ہیں تو ہمارے ملک میں کیوں انصاف کا قتل عام کیا جاتا ھے

    ہمیں تو دنیا کے اس نظام عدل میں ٹاپ لسٹ ہونا چاہیے تھا کیونکہ دنیا میں کہیں بھی انصاف کے مصنف ہمارے خلیفہ کے پیروری کرتے ہیں اور ہمارے اعلی عدلیہ کے مصنف طاقت وار اور مالدار حضرات کی پیروری کرتے ہیں جس کی بدولت بحیثیت پاکستانی میں ہمیں شرمندہ ہونا پڑ رہا ہے

    شرمندہ ہونا ناکافی نہیں یہ تو ہو گئی ہماری بنیاد جس وجہ سے ہم 128 ممالک کی فہرست میں سے 120 نمبر پر ہیں اب آگے بڑھتے ہیں جس سے معاشرے میں جرائم کی شرح میں تیزی اضافہ ہو رہا ہے وطن کو درپیش چیلنجز میں سے سب سے خطرناک جو فحاشی اور جنسی زیادتی کے جرائم میں اضافہ لا قانونیت کے اسباب ہیں۔

    جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت وقت اور عدلیہ کے مصنفین کو اس پر سوچنا چاہیے یہاں کمی نہیں کسی چیز کی شاعر مشرق علامہ اقبال کا قول ہے

    ” نہیں ھے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ”

    وطن عزیز میں سب کچھ میسر ہے نہیں ہے تو نظام اس کے لئے قانون ساز اسمبلیوں سے سخت قوانین پاس کروائیے جائے اور نیکسٹ سال جب عالمی درجہ بندی اناؤنس کی جائے تو نظام عدل کے ایوانوں میں بیٹھے مصنفین سے رپورٹ طلب کی جائے۔ شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • کشمیری نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہےحکومت ان کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے       عبدالقیوم نیازی

    کشمیری نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہےحکومت ان کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے عبدالقیوم نیازی

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم نیازی سے ملاقات کی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عثمان ڈار نے وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم نیازی سے نوجوانوں کیلئے روزگار اور وسائل کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا-

    وزیراعظم آزاد کشمیر قیوم نیازی کا کہنا تھا کہ کشمیری نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے، انہوں نے وفاقی حکومت سے کشمیری نوجوانوں کی سرپرستی اور ان کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کی درخواست کی۔

    معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو وفاقی حکومت کی بھرپور معاونت فراہم کی جارہی ہے اور کشمیر میں کامیاب نوجوان پروگرام کے ذریعے رقم کی تقسیم کا عمل تیز کیا گیا ہے وفاقی حکومت مکمل مدد اور تعاون فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔

    دوسری جانب ایڈمنسٹریٹر کراچی، سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ علماء کرام ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، اب وسائل کی نہیں بلکہ مسائل کو حل کرنے کی بات کی جائے گی، ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے، صرف محرم الحرام یا ربیع الاول کے لئے ہی نہیں بلکہ ایسے کام کئے جائیں گے جو پورا سال چلیں، آئندہ دس روز کراچی میں محرم الحرام کے جلوسوں کی گزرگاہوں اور مجالس کے مقامات پر خود جا کر مسائل دیکھوں گا اور انہیں حل کرایا جائے گا-

    بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سازشوں کے باوجود ماضی میں کسی انتظامیہ نے انہی علماء کرام کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کئے ہیں میرے ساتھ کراچی کی پوری انتظامیہ موجود ہے، ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اب ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے جو اتحاد محرم الحرام اور ربیع الاول میں نظر آتا ہے وہ پورے بارہ مہینے نظر آنا چاہئے-