Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تربیت تحریر: امبر سیف

    انسان چاہے جتنا بھی علم حاصل کر لے۔ لیکن وہ زندگی میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔جب تک اس کی تربیت اچھی نا ہو۔ تربیت کے بغیر علم فضول ہے ۔تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے ۔اور پختگی کی بلندی پر درسگاہ کی چاردیواری میں پہنچ جاتی ہے۔ انسان کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔اس کی پہلی تربیت کرنے والی اس کی ماں ہوتی ہے ۔پھر اس کا باپ اور باقی گھر کے بڑے لیکن تربیت کا سلسلہ گھر تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کی پختگی کے لیے درسگاہ کی چاردیواری یا کسی استاد کی مخفل ضروری ہوتی ہے. بچے کی پہلی تربیت ماں باپ کی عملی زندگی ہوتی ہے .اگر ماں باپ کی عملی زندگی میں کوتاہی ہو گی تو بچے کی تربیت میں بھی کوتاہی ہو گی .جیسے اگر ماں باپ جھوٹ بولتے ہوں گے تو بچے بھی جھوٹ بولے گے. اگر ماں باپ اپنے بڑوں کی رشتہ داروں کی غیبت کرتے ہوں. تو بچہ بھی غیبت جیسے بد فعال جو زنا سے بھی بڑا گناہ ھے اس میں مبتلا ہو گا .
    گھر کا ماحول بچے کی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے .بچہ وہ ہی کرتا ہے جو وہ دیکھتا اور سنتا ہے. بچے کو بری صحبت سے بچاے بری صحبت بچے کو بے حیا ڈھیٹ گستاخ بنا دیتی ہے .بچوں کے ساتھ بہت محتاط رویہ رکھیں. بچوں کو غلطی کرنے پر پیار سے سمجھاے .بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے گریز کریں ۔ بچوں پر ہاتھ وہی اٹھاتے ہیں جو زبان سے سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ لیکن اگر بچہ پیار سے نہیں سمجھتا تو ڈانٹ لیں ۔اور اگر ڈانٹ بھی اسر نہیں کر رہی
    تو تھوڑا مار لیں ۔لیکن یہ اس صورت میں جب آپ کو لگے کہ یہ غلط کام بچے کے لیے ۔نقصان دہ ہے ۔والدین بچوں کو بتایں کہ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دستک دیں۔ اور اجازت ملنے کا انتظار کرے۔ ماں باپ کے کمرے میں بھی داخل ہونے سے پہلے دستک دے ۔ماں باپ یا گھر کا کوئی بھی فرد بچے کی کسی بات کا مذاق نا اڑائے اس طرح بچہ بزدل ہو جاتا ہے ۔بچے پر بےجاتنقید نا کرےبچے کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کی تعریف کریں۔ اس طرح بچہ کوشیش کرتا ہے ۔اور اچھا کام کرے۔اسکول میں بھی اساتذہ کو چاہئے۔ کہ سب بچوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے۔ماں باپ کے بعد استاد ہی بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ استاد کو چاہئے کہ بچے کی غلطی پر اسے پیار سے سمجھاے ۔استاد کا رویہ بہت معنی رکھتا ہے ۔
    ۔بچہ استاد سے ہی سیکھتا ہے۔ اب استاد کا کام ہے ۔کہ وہ کسطرح بچے کو پروان چڑھاتا ہے۔ اسے چاہئے کہ بچے میں خداعتمادی پیدا کرے ۔اسے آگے بڑھنے کا طریقہ بتایں۔ اس کی چھوٹی سی کوشش پر ساری کلاس کے سامنے تعریف کریں۔ بچے کو مار سے نہیں پیار سمجھاے۔ تاکہ اس کی صلاحیتیں ابھریں اور ماں باپ کو بھی چاہئے۔ کہ بچوں کے رویوں کو دیکھے کہ اگر بچہ زیادہ تنگ کرتاہے ۔تو وہ آپ سے توجہ چاہتا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ سب کام چھوڑ کر اس کی بات توجہ سے سنیں ۔ اسے اپنے قریب کریں والدین اور اساتذہ بچے کی تربیت میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ روک ٹوک بچے کو ضدی بنا دیتی ہے۔اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کام کرے۔وہ غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کرتا۔ فرض کریں آپ کے بچے نے تعلیم کے میدان میں بہت فتح کی ہو لیکن اگر اس کی تربیت اچھی نا ہوئ ہو تو وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک آپ ہر پہلو سے نظر نہیں رکھے گے۔کہ آپ کا بچہ کیا کرتا ہے اس کی دوستیاں کیسی ہیں ۔بچے کی پہلی تربیت اس کے ماں باپ کی عملی زندگی میں وہ ٹھیک نہ ہو تو بچے پر باتوں کا اثر نہیں ہوتا ۔ماں باپ بچے کا پہلا رول ماڈل ہوتا ہے ۔باتوں سے سمجھانا عملی زندگی میں تربیت کے بعد آتا ہے ۔اسلام جو سلامتی والا دین ہے۔اس نےاپنےپیروکاروں کو ہمیشہ ایسی تعلیمات دی ہیں ۔جن پر عمل کر نے سے ان کی دنیا بھی سنورتی ہیں اور اخرت بھی ۔اسلام میں اولاد کی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیا ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتے ہیں اور انہیں اچھے برے کی تمیز دیتے ہیں ان کے بچے دنیا میں بھی والدین کے فرمابردار اور ان کے سکون کا باعث بنتے ہیں ۔اور اخرت میں بھی اجر کا ذریعہ بنتے ہیں ۔نیک اولاد ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔
    ………….………………

    twitter.com/@ambersaif3

  • گلگت بلتستان کے آٸینی مساٸل۔ تحریر سیف الرحمن افق ایڈووکیٹ

    گلگت بلتستان کے آٸینی مساٸل۔ تحریر سیف الرحمن افق ایڈووکیٹ

    گلگت بلتستان جسے 2009 سے قبل شمالی علاقہ جات یا ناردرن ایریاز کہااور لکھا جاتا تھا کو گورننس آرڈر 2009 کے نفاذ کے بعد گلگت بلتستان کے نام سے موسوم کیا گیا بنیادی طور پر یہ خطہ تنازعہ کشمیر کا اہم حصہ اور مسلہٕ کشمیر کا اہم فریق ہے 1947سے قبل گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھا یہ خطہ مسلہٕ کشمیر سے منسلک ہونے کی وجہ سے براہ راست آٸین پاکستانيوں کا حصہ نہیں بن پایا ہے 1949 میں وفاقی حکومت نےمعاہدہ کراچی کی روشنی میں اس علاقے کا انتظام وانصرام براہ راست وفاقی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لیا اور وفاقی حکومت نے 1971 تک اس خطے کو ایف سی آر کے قوانين کے تحت ریگولیٹ کرکے چلایا 1971 میں زولفقار علی بٹھو شہید کی سربراہی میں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان علاقوں سےپہلی بار ایف سی آر کے کالے قوانین کا خاتمہ کرکے ابتدائی سیاسی اصلاحات نافذ کیٸں اور جمہوری اداروں کا قیام عمل میں لایا جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرکے اس پسماندہ خطے کے باسیوں کو پہلی بار سیاسی بنیادوں پر ایمپاور کرنے کی طرف سفر کا آغاز کیاگیا اور اس خطے کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوٸے گندم سمیت دیگر بنیادی اشیإ پر سبسڈی کا آغاز کیا 1971 سے لے تادم تحریر اس حطے کو مختلف انتظامی اصلاحاتی پیکجز کے زریعے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے تحت چلایا جارہا ہے اگرچہ 2009 میں سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت نےایک صدارتی حکم نامہ گورننس آرڈر 2009 کے زریعے پہلی بار اس خطے کو انتظامی طور پر صوبے کا درجہ دیا اور علاقے کو اس کے پرانے نام گلگت بلتستان سے موسوم کیااور گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن اس کے واضح آٸینی تشخص کا سوال معمہ ہی بنا رہا بعد ازاں مسلم لیگ ن کی حکومت میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں قاٸم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گورننس آرڈر 2018 گلگت بلتستان نافذ کیاگیا جس پر عوامی حلقوں نےشدید ردعمل دیا اورشدید عوامی احتجاج اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تناظر میں گلگت بلتستان کے آٸینی تشخص پروفاقی سطح پر کام کو مزید بہتری کے لیےجاری رکھا گیا اب اس حوالے سے خوش آٸند خبریں آرہی ہیں کہ گلگت بلتستان کو عبوری طور پر صوبہ بنانے کے لیے وفاقی وزیرقانون کی سربراہی میں جو کام ہورہاتھا اس پر مبنی ایک ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے جس پر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور افہام و تفہيم کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کاجاٸے گا اور اس خطے کو آٸین پاکستانيوں میں ترمیم کرکے زراٸع کے مطابق عبوری طور پر صوبے کا درجہ دینے پر مقتدر حلقوں میں غور ہورہا ہے جو کہ خوش آٸند ہے عبوری طور پر صوبے کا درجہ ملنے کے بعد اس خطے کو قومی اسمبلی وسینٹ میں نماٸندگی حاصل ہوگی اوراس طرح تاریخ میں پہلی بارشاید گلگت بلتستان کے عوام کی بھی ان ایوانوں میں آواز سنائی دے گی گلگت بلتستان بار کونسل نے بھی اپنے ایک قرارداد کے زریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کی پسماندگی اور دورآفتادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں کم از کم نو نشستيں اور سینٹ آف پاکستانيوں میں دیگر صوبوں کے برابر نماٸندگی دی جاٸے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا داٸرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھاکر یہاں پر سپریم کورٹ کا رجسٹری بینچ قاٸم کیا جاۓ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے خواہشات اور مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے آیٸنی تشخص کے مسائل کو حل نکالا جاۓ اور گلگت بلتستان کے عوام کا بھی یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو صوبائی طرز پر دیگر صوبوں کی طرح کا نظام دیکر باقاعدہ آٸین پاکستان میں عبوری طور پر ترمیم کرکے تا تصفیہ مسلہ کشمیر آٸینی تحفظ فراہم کیا جاٸے اور قومی اسمبلی و سینٹ سمیت تمام قومی اداروں میں دیگر صوبوں کے طرز پرنماٸندگی دی جاٸے اگر مسلہٕ کشمیر کی وجہ سے کوٸی رکاوٹ و پیچیدگی درپیش ہے تو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ قاٸم کرکے اس خطے کی عوام میں پاٸی جانے والی بے چینی و احساس محرومی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے
    Twitter Handle @Srufaq.

  • یہ جشنِ آزادی تونہیں ! تحریر:شعبان اکبر

    یہ جشنِ آزادی تونہیں ! تحریر:شعبان اکبر

    آزادی کالفظ سنتےہی ذہنی وجسمانی گرہیں کھل جاتی ہیں اوراپنےدل کی مرضی کاچلن محسوس ہوتاہے۔دنیامیں وقتًافوقتًاقومیں آزادی کی نعمت سےمشرف ہوتی رہیں۔اِن گروہوں کےآزادی کےمطالبات کی اساس میں اختلاف پایاجاتاہے۔کئی اقوام نےنسل پرستی کےتحت آزادحیثیت کامطالبہ کیاتو کئی اقوام نےمشترکہ زبان کوبنیادبناکرعلیحدگی اختیارکی۔قصہ کوتاہ،جس گروہ نےکچھ مماثلت دیکھی،اُسی مماثلت کی بنیادپرآزادی حاصل کرلی۔ان آزادہونےوالی ریاستوں نےاپنی خودمختاری کی خاطرطویل جدوجہدکی جس میں جانی ومالی نقصان بھی ہوا۔مملکتِ خداداد پاکستان نے14اگست1947 کوفرنگیوں اورہندوؤں کےگٹھ جوڑکےنتیجےمیں جاری استحصال سےخلاصی پائی۔پاکستان کی آزادی اوردیگرممالک کی آزادی کی بنیادمیں کلی طورپرفرق ہے۔پاکستان خالصتًادین اسلام کی بنیادپرحاصل کیاگیا۔جس کےقیام کامقصدبیان کرتےہوئےقائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نےفرمایا
    ٭ہم پاکستان کوایسی تجربہ گاہ بناناچاہتےہیں جہاں اسلام کےاصولوں کوآزماسکیں٭
    پاکستان مذہب کی بنیادپرآزادی کی نعمت سےسرفرازہونےوالی اولین ریاست ہے۔جس کادستور "لاالہ الااللہ”کےمقدس نظریےسےماخوذہے۔یہ فطرتی امرہےکہ جس دن قوموں کوآزادی نصیب ہو،قومیں اس دن کومخصوص کرلیتی ہیں۔تاکہ آزادی جیسی نعمت کااحساس اجاگررہے۔ہرقوم اپنےمخصوص اندازمیں اپنایومِ آزادی مناتی ہے۔قومیں جس اندازمیں آزادی کاجشن مناتی ہیں،وہ خاص اندازاس قوم کی تہذیب وثقافت کی عکاسی کرتاہے۔عوامِ پاکستان بھی ہرسال چودہ اگست کوجذبہٓ حب الوطنی کےتحت نہایت جوش وخروش سےاپنےوالہانہ جذبات کااظہارکرتی ہے۔اس جشنِ آزادی کےدوران کئی ایسےکام ہوتےدکھائی دیتےہیں جوآزادقوم کاشیوہ نہیں۔چوک چوراہوں پرکھڑےہوکرباجےبجانااوربےہنگم آوازوں سےآسمان سرپہ اٹھالیناقطعًاجشنِ آزادی میں سےنہیں۔روڈ پرموٹرسائیکلوں کی ون ویلنگ اورراہگیروں سےاستہزا آزادقوم کاآئینہ دارنہیں۔یہ غیرمرتب ہنگامےآزادقوم کاشعارتونہیں البتہ ذہنی غلامی کاپتہ ضروردیتےہیں۔اگرکسی کےنزدیک جشنِ آزادی کایہ گٹھیااندازمعیارِآزادی ہےتووہ آزادی جسمانی توہوسکتی ہےمگرفکری غلامی وپستی کےسواکچھ بھی نہیں۔جشنِ آزادی تویہ ہےکہ قومی مفادکوذاتی مفادپرترجیح دی جائے۔عزمِ مصمم کیاجائےکہ پاکستان کی تعمیروترقی کےلیےاپنی تمام ترقوتیں صرف کردیں گے۔پاکستان کودرپیش مسائل کےتدارک کےلیےشانہ بشانہ کھڑےرہیں گے۔پاکستان سےماحولیاتی آلودگی کےخاتمےکےلیےصفائی مہم کاآغازکیاجائےتاکہ جشنِ آزادی منانامجموعی طورپرملک وملت کے لیےسودمندثابت ہو۔یومِ جشن آزادی وطن سےعہدِوفاکی تجدیدکادن ہے۔جشنِ آزادی قوم کی خوشحالی میں حائل رکاوٹوں کوختم کرنےکاذریعہ ہے۔مگرہمارےہاں عجیب رجحان زورپکڑگیا ہےکہ لوگ شورشرابے،بےہنگم آوازیں بلندکرنا،تیزرفتارموٹرسائیکلوں پرون ویلنگ کرناجشنِ آزادی خیال کرتے ہیں۔افسوس تواس امرپہ ہےکہ ان سارے خلافِ اقدارکاموں میں نوجوان نسل سرِفہرست ہے۔اگرکسی قوم کاقیمتی اثاثہ ہی لوازماتِ جشنِ آزادی سےبےخبرہوتواس قوم کےپائیدارمستقبل کی امیدعبث ہے۔
    بقول قلندرِلاہوری اقبال رحمتہ اللہ علیہ
    – [ ] ؔ فطرت افرادسےاغماض بھی کرلیتی ہے
    – [ ] کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کومعاف
    لہذا حب الوطنی کےحقیقی جذبےکےتحت عہدکریں کہ جشنِ آزادی کوصحیح معنوں میں منائیں گے۔سبزہلالی پرچم کی بےحرمتی اوروطن کےتقدس کی پامالی کوروکیں گے۔وطنِ عزیزپاکستان کی تعمیروترقی کےلیےاپناتن،من،دھن واردیں گے۔
    ؔ کئی موجیں امڈتی ہیں توپھرطوفان بنتا ہے
    مرےلوگوبڑی مشکل سےپاکستان بنتا ہے

    twitter handle @iamshabanakbar

  • یادگار دن۔۔۔!!! تحریر: طلحہ

    یادگار دن۔۔۔!!! تحریر: طلحہ

    آٹے کی لیٹ بلا وجہ بنا کر آپ رزق کو ضائع کیے جارہے ہو امی جی نے ڈانٹتے ہوئے کہا،
    14 اگست قریب تھی جوش و خروش جذبہ جنون وطن کی محبت انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر اجنبی طریقے سے ظاہری طور پر خون میں دوڑ رہی تھی
    قسم اٹھائی ہوئی تھی کہ تب تک آسمان کی طرف نہیں دیکھنا جب تک ہم ہر جگہ سبز جھنڈیوں سے گھر کو سبز نہ کردیں
    امی جی کی آواز ٹپکتی ہوئی میرے کانوں میں پڑی
    ہم سبز جھنڈیوں کو دھاگے کی دھار کے اوپر تیزی سے سیدھا کررہے تھے تاکہ
    آٹے کی لیٹ کو جھنڈی کے پیچھے والے حصے پر لگاتے ہوئے میرے منہ سے بے ساختہ اور تیزی سے یہ جملے نکلے کہ
    امی جی ہم ہر حال میں جھنڈیاں لگا کر رہیں گے

    امی جی نے میرے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی گہری سانس لی اور میرے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے
    مٔجھے کان سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنے ساتھ بیٹھا کر پوچھا کہ آپ کو پتہ ہے اس دن کیا ہوا تھا؟

    میں سوچ میں ڈوبا ہوا گم سٔم تِرچھی نگاہوں سے امی جی کی طرف دیکھ رہا تھا
    میرے بولنے سے پہلے ہی امی جی بول پڑی کہتی بیٹا میں بتاتی ہوں آپ اس روز جھنڈیاں کیوں لگاتے ہیں آپ اس دن کو جوش وجذبے کے ساتھ کیوں مناتے ہیں

    بیٹا!!!
    اس دن ہمارا پیارا وطن آزاد ہوا تھا اس دن کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بچوں ہماری بہنوں ہماری بیٹیوں ہمارے بزرگوں تک نے قربانیاں دی تمہیں جھنڈیاں لگانے سے پہلے اس دن کی اہیمت اور قیمت کا پتہ ہونا چاہیے تاکہ تم پہلے سے بڑھ چڑھ کر جوش و خروش سے کو جھنڈیاں لگا سکو

    ہمارے آباؤاجداد نے ایک الگ وطن ایک الگ تشخص کے لیے قربانیاں دی ہمارے وطن کو حاصل کرنے کے لیے دن رات کوششیں کی گئی ہزاروں جانیں گنوا کر اس وطن کی عظمت و شان کے لیے بے دریخ قربانیاں دے کر اس وطن کو حاصل کیا گیا
    الگ ملت الگ قوم الگ پہچان کے لیے جو ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھے تھے وہ 14 اگست کو پورے ہوئے
    ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح رح نے اس روز اپنے خوابوں اپنے خیالوں اپنے احساسات اپنے جذبوں کی تعبیر حاصل کی

    ہمارے بہتر مستقبل کے لیے ہمارے متبادل ملک کے اسی روز ہماری کوششیں رنگ لائیں ہم غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے
    اسی روز ہمیں ہمارے قائدین نے غلامی کی زندگی سے ہمیں آزاد کیا اسی روز ہمیں سٔکھ چین سکون کا سانس ملا
    اسی روز ہمیں اتحاد و اتفاق کا سبق دیا گیا اسی روز ہمیں مذہبی آزادی ملی جی ہاں 14 اگست وہ دن تھا اسی روز کے لیے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ نے جو خواب دیکھا تھا اسکو عملی جامہ قائد اعظم محمد علی جناح نے پہنایا 14 اگست 1947 وہ یادگار دن تھا جب ہمیں ایک الگ آزاد ملک پاکستان ملا یہی وہ وجہ ہے اس دن ہم اپنی آزادی اور اپنی کامیابی کا دن مناتے ہیں اس روز ہم اپنے خوشی کو یاد کرتے ہوئے جھنڈیاں لگاتے ہیں اپنے محسنوں کو یاد کرتے ہیں

    میں بڑے انہماک اور توجہ کے ساتھ امی جی کی باتیں سن رہا تھا اتنے میں آواز آئی کہ آٹے کی لیٹ ضائع ہو چکی ہے نئ لیٹ بنانے کے لیے مزید آٹا درکار ہے تب امی جی نے خد لیٹ بنا کردی اور ہم نے دوبارہ جھنڈیاں لگانی شروع کردی

    پاکستان زندہ باد
    @Talha0fficial1

  • غیبت ایک مرض ۔حصہ دوم  تحریر: محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض ۔حصہ دوم تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ کرام سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر اس طرح کرو کہ جس کو وہ اگر سن لے تو ناپسند کرے۔ بعض صحابہ کرام نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میرے اس بھائی میں جس کا میں نے برائی کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ عیب ہوں جو میں نے بیان کیا ہے تو کیا جب بھی غیبت ہوگی یعنی میں نے ایک شخص کے بارے میں اس کے پیٹھ پیچھے یہ ذکر کیا کہ اس میں فلاں برائی ہے جب کہ اس میں وہ واقعتًا برائی ہو اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہو اور ظاہر ہے کہا اگر وہ شخص اپنے بارے میں میرے اس طرح ذکر کرنے کو سنے تویقینًا خوش ہوگا تو کیا میرا اس کی طرف کسی برائی کو منسوب کرنا جو درحقیقت اس میں ہے غیبت کہلائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی جس برائی کا ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ برائی موجود نہیں ہے جس کو تم نے ذکر کیا ہے تم نے اس پر بہتان لگایا یعنی یہی توغیبت ہے کہ تم کسی کا کوئی عیب اس کے پیٹھ پیچھے بالکل سچ بیان کرو اور اگر تم اس کے عیب کو بیان کرنے میں سچے نہیں ہو کہ تم نے اس کی طرف جس عیب کی نسبت کی ہے وہ اس میں موجود نہیں ہے تو یہ افتراء اور بہتان ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی وہ برائی بیان کی جو واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تم نے اس کی طرف ایسی برائی کی نسبت کی جو اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
    تشریح۔
    غیبت یعنی پیٹھ پیچھے کسی کا کوئی عیب بیان کرنا نہ صرف ایک گناہ لوگوں میں زیادہ پھیلا ہوا ہے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو اس برائی سے بچے ہوئے ہیں ورنہ عام طور پر ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں غیبت کرتا نظر آتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اس بات میں کچھ تفصیل بیان کردی جائے۔
    جیساکہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے غیبت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسے شخص کے بارے میں جو موجود نہ ہو اس طرح کا ذکر کرے جس سے اس کا کوئی عیب ظاہر ہو اور وہ اس عیب کے ذکر کیے جانے کو ناپسند کرے اور اسعیب کا تعلق خواہ اس کے بدن سے ہو یا عقل سے خواہ اس کے دین سے ہو یا دنیا سے ، خواہ اس کے اخلاق وافعال سے ہو یا نفس سے خواہ اس کے مال و اسباب سے ، ہو یا اولاد سے خواہ اس کے ماں باپ سے ہو یا بیوی و خادم وغیرہ سے خواہ اس کے لباس وغیرہ سے ہو یا رفتاروگفتار سے ، خواہ اس کی ہیبت کذائی سے یانشست وبرخاست سے ، خواہ اس کے حرکات وسکنات سے ہو یا عادات واطوار سے، خواہ اس کی کشادہ روئی سے ہو یا ترش روئی سے اور خواہ اس کی تندخوئی وسخت گوئی سے ہو یانرم خوئی اور خاموشی سے اور یا ان چیزوں کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز سے ہو جو اس سے متعلق ہوسکتی ہے نیز اس عیب کے ساتھ اس کا ذکر کرناخواہ الفاظ کے ذریعہ ہو یا اشارہ و کنایہ اور رمز کے ذریعہ اور اشارہ کنایہ بھی خواہ لفظ وبیان کے ذریعہ ہو یا ہاتھ آنکھ ، ابرو اور سر وغیرہ کے ذریعہ۔ اس سلسلہ میں یہ قاعدہ کلیہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اگر کسی شخص کا کوئی عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کیا جائے جو دوسروں کی نظروں میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی حثییت و شخصیت کو گھٹاتا ہے تو یہ سخت غیبت ہے اور حرام ہے اور اگر کسی کے منہ پر اس کے کسی عیب کو اس طرح بیان کیا جائے جس سے اس کو ناگواری اور دل شکنی ہو تو یہ ایک طرح کی بے حیائی ، سنگدل اور ایذاء رسانی ہے کہ یہ اور بھی سخت گناہ ہے۔غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت کرنے والا اس سے معافی طلب کرے بشرطیکہ اس غیبت کی خبر اس تک پہنچی ہو اور اس سے معافی کی طلب کے وقت تفصیل بیان کرناضروری نہیں ہے بلکہ اجمالی طور پر اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو اور اگر وہ غیبت اس تک نہ پہنچی بایں طور کہ وہ مرگیا ہویا کسی دور دراز جگہ پر ہو تو اس صورت میں استغفار کافی ہے یعنی اپنے اس گناہ پر اللہ سے مغفرت وبخشش طلب کرے نیز احادیث میں یہ بھی منقول ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کے حق میں استغفار کرناغیبت کے کفارہ میں داخل ہے۔
    غیبت کس صورت میں جائز ہے : علماء نے لکھا ہے کہ کسی کا عیب اس کے پیٹھ پیچھے بیان کرنا بعض صورتوں میں جائز ہے مثلا کوئی شرعی صورت لاحق ہو، جیسے ظالم کا ظلم بیان کرنا، حدیث کے راویوں کا حال ظاہر کرنا، نکاح کے مشورہ کے وقت کسی کا نسب یا حال رویہ بیان کرنا، یا کوئی مسلمان کسی سے امانت وشرکت وغیرہ کا کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اس مسلمان کونقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اس شخص کارویہ بیان کردینا وغیرہ وغیرہ اسی طرح کوئی شخص ظاہری طور پردین دار زندگی کا حامل ہے یعنی نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے اور دیگر فرائض بھی پورے کرتا ہے مگر اس میں یہ عیب ہے کہ لوگوں کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے تکلیف ونقصان پہنچاتا ہے تو لوگوں کے سامنے اس کے اس عیب کا ذکر کرنا غیبت نہیں کہلائے اور اگر اس شخص کے بارے میں ذمہ داران حکومت کواطلاع دے دی جائے تاکہ وہ اس کو متنبہ کر دیں اور اس کی ایذاء رسانی سے لوگ محفوظ رہیں تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ۔علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ بطریق اصلاح و اہتمام کسی شخص کے عیب کو ذکر کرنا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب کہ اس کے عیب کو ذکر کرنے کا مقصد اس شخص کی برائی بیان کرنا اور اس کو نقصان و تکلیف پہنچانا ہو اسی طرح کسی شخص کی کسی شہر والوں یا کسی بستی کے لوگوں کی غیبت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ متعین طور پر کسی جماعت کا نام لے کر اس کی غیبت نہ کرے۔ مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 766
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی بیماری سے محفوظ رکھیں آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال   تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ شجاعت کی مثال تحریر : ماریہ بلوچ

    حسین رضی اللہ عنہ کون تھے؟؟ حسین ابن علی ابن ابی طالب نواسہء رسول ﷺاور اس باپ کے بیٹے تھے جنکا لقب ہی "حیدر” ہے۔ بہادری و جرات حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی گھٹی میں تھی۔
    ‏حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اسلام کے ہیرو ہیں انکی بہادری و شجاعت نے جس طرح اسلام میں اک نئ روح پھونک کر اسلام کو تاقیامت قائم رہنے والا دیں بنانے کا حق ادا کیا تاقیامت اسکی مثال مل ہی نہیں سکتی حسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے حق کے لیے آواز اس وقت بلند کی جب لوگ باطل کے ڈر سے اٹھنے کی ہمت نہ کر پا رہے تھے۔۔ میدان کربلا میں حق پر ثابت قدمی اس قدر کہ باطل کسی طرح بھی اپنے مذموم مقاصد‏حاصل نہ کر سکا۔
    دنیا میں کوئ بھی حق پر بہادر انسان اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتا ہے مگر اپنا پورا کنبہ قربان نہیں کر سکتا ایسا حوصلہ ہمت اور بہادری حسین ابن علی رضی اللہ عنہ ہی کی تھی جن کے آگے اللہ کے دین کی حفاظت
    ‏سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔ اپنی جان مال اولاد سب اللہ کے لیے اسکے آخری نبی ﷺ کے دین کی حفاظت و سربلندی پر قربان کر دیا۔۔ لیکن صد افسوس ہم جیسی قوم پر ہم نے یہ بھلا دیا کہ حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کا عظیم مقصد کیا تھا؟ ہم مجرم بن گئے۔ ہم ‏نے انکی قربانی کو ضائع کیا۔ ہم نے اسی دین میں فرقے بنا لیے۔۔ اور ظلم عظیم یہ کہ حسین کے نام پر ہی فرقے بنا کر اسلام کی طاقت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
    ہم نے اپنے ہیرو کی شجاعت کو اپنا کر دنیا میں اسلام کا بنانا تھا اور ہم نے اس اسلام کو ہی پارہ پارہ کر دیا….
    حسین رضی اللہ عنہ ہمارے محسن ہمارے ہیرو اور ہم نے دنیا کے آگے اپنے اس بہادر جری نڈر
    ‏حق پرست ہیرو کو مظلوم
    شخصیت بنا کر پیش کر دیا۔۔ہم نے کربلا کی شجاعت کی داستانوں کو بدل کر مظلومیت کی داستان بنا کر حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تاریخ میں بہت بڑا جرم کیا۔ وہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ جن کہ جنکی شہادت کی خبر اللہ نے ﷴﷺ کو اس وقت دے دی جب نواسہء رسولﷺ گود میں کھیل رہے تھے۔ ہم نے اپنی نسلوں کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ تو بتائ شجاعت حسین رضی اللہ عنہ بتانا بھول گئے ہماری نسلوں نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک تہوار بنا کر منا تو لیا مگر ہماری نسلیں حسین رضی اللہ عنہ کو اپنا ہیرو‏ نہ بنا سکیں۔ جب ماوں نے نسلوں کو حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت ہی سنائ اور انکی شخصیت کا صرف ایک پہلو اپنی نسلوں کے سامنے رکھا ، جب انکو حسیںن رضی اللہ عنہ کی شجاعت بتائ ہی نہ گئ تو ہماری نسلوں میں حسینی پیدا ہونے سے رہ گئے ۔ہماری نسلوں نے ادھر ادھر کی دنیا سے ادھار ہیرو مانگ کر بنا لیے۔ ہائے افسوس ہم کیسی قوم ہیں ؟؟؟ہم احسان فراموش بزدل قوم ہیں، بزدل قومیں ہی اپنے ہیروز کی مظلومیت دنیا کے سامنے بیان کرتی ہیں۔ بہادر قومیں تو اپنے ہیروز کی بہادری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھر دیا کرتی ہیں۔ اپنی نسلوں کو اسی بہادری کے قصے سنا کر جوان کرتی ہیں اور پھر ہی تو ان قوموں کے جوان سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ہم قصوروار ہیں مگر امید ابھی موجود ہے ہم نہ سہی ہماری آنے والی نسلوں میں ایسے جوان بنانے کی جن کی منزل وہی ہو جو حسین رضی اللہ عنہ کی تھی جن کی

    ‏زندگیوں کا مقصد حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چل کر باطل سے ٹکرا جانا ہو۔ جن کے خوف و ہیبت سے باطل لرزا جایئں۔ جنکی شجاعت اسلام کو تقویت بخشے۔
    مایئں بچوں کو گود میں حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت سنایئں گی جب ایسا ممکن بھی صرف ہو گا تب۔
    باپ اولاد کے دل و دماغ میں حسین رضی اللہ عنہ کا خاکہ بنایئں گے تب ہونگے اس ‏اس قوم میں حسینی پیدا۔ تب ہو گا اسلام کا ہر سو اجالا۔۔۔۔۔۔

    Twitter handle: @ShezM__

  • عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عہد نبوی میں نظامِ حکومت تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

    عام خیال یہ ہے کہ اسلام کو عرب میں ایک عادلانہ نظامِ حکومت میں قائم کرنے میں جو دشواریاں پیش آئیں وہ تمام تر اہل عرب کی وحشت، بداوت اور جہالت کا نتیجہ تھیں۔ لیکن در حقیقت اس سے زیادہ یا اسی کے برابر خود وقت کا تمدن بھی اسلام کے عادلانہ نظامِ حکومت کا دشمن تھا اور اسکی مخالفت وحشت سے زیادہ اور دیرپا تھی چنانچہ 8ھ میں فتح مکہ کے بعد اگرچہ وحشی عربوں نے اسلام کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں، لیکن وقت کے تمدن کا سر پر غرور اب تک بلند تھا چنانچہ نامہ اقدس کے جواب میں شہنشاہ ایران کا جواب اور قیصر روم کے حامیوں کے مقابلے میں غزوہ موتہ وغیرہ واقعات جو 9ھ میں پیش آئے اور اسکے بعد خلافت راشدہ میں ایرانیوں اور رومیوں سے لڑائیاں اسی سرکشی کا نتیجہ تھیں۔
    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چھٹی عیسوی میں جو آپ ص کی بعثت اور اسلام کے ظہور کا زمانہ ہے، دنیا کی تمام سیاسی قوتیں مشرق و مغرب کی دو عظیم الشان طاقتوں کے زیر سایہ تھیں مشرق کی نمائندگی فارس کے کسری اور مغرب کی قسطنطنیہ کے قیصر کر رہے تھے اور ان دونوں کے ڈنڈے عرب کے عراقی و شامی حدود پر ا کر ملتے تھے عرب کے وہ قبائل جن میں زرا بھی تہذیب و تمدن کا نام تھا وہ انہی دونوں میں سے کسی کے زیر اثر اور تابع تھے یمن ، بحرین ، عمان ، اور عراق ایرانیوں کے اور وسط عرب اور حدود شام رومیوں کے ماتحت یا زیر اثر تھے۔
    چنانچہ نجمی خاندان نے مقام حیرہ میں ایرانیوں کی ماتحتی میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی جس کے درماں روا نعمان بن منذر وغیرہ تھے غسانی خاندان جو آپ ص کے زمانے تک قائم رہا رومیوں کی سرپرستی میں حدود شام پر حکومت کرتا تھا یمن میں مدت تک خود عرب کی مستقل خاندانی ریاستیں قائم تھیں۔ لیکن آخر زمانہ میں یمن خود ایرانیوں کے علم کے نیچے آگیا تھا چنانچہ آپ ص کے زمانے میں یمن میں باذان نامی ایرانی حاکم موجود تھا، عرب پر ان سلطنتوں کا اس قدر اقتدار قائم ہو چکا تھا کہ خود عربوں کے ذہن میں جب کسی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا تو اسی ایرانی یا رومی نظامِ حکومت کا خیال آتا تھا، ان سے الگ ہو ان سے بالاتر کسی نظام زندگی کا تخیل ان کے ذہن کی گرفت سے بالاتر تھا۔
    اس بنا پر اسلام عرب میں جو نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتا تھا اسکے لئے صرف یہی کافی نہ تھا کہ عرب کی قدیم وحشت کو مٹا کر اسلامی تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی جائے بلکہ سب سے مقدم کام یہ تھا کہ عرب کو غیر قوموں کے دماغی تسلط سیاسی مرعوبیت اور ان کے اخلاقی و تمدنی اثر سے آزاد کرایا جائے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر نہ صرف عربوں کو بلکہ سارے عالم کو انسانوں کے خود ساختہ قانون کی غلامی سے نکال کر قانون الٰہی کی اطاعت و فرمانبرداری میں دے دیا جائے اور بتایا جائے کہ قانون الٰہی کو چھوڑ کر دوسرے انسانی قوانین کی پابندی کرنا شرک کا دوسرا راستہ ہے لیکن جیسا کہ اسلام کے تمام فرائض و اعمال میں ترتیب و تدریج ملحوظ رہی ہے اس طرح اسلام کے نظام میں حکومت میں بھی بتدریج ترقی ہوتی گئی چنانچہ اگرچہ آپ ص ساری دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے مگر آپ ص نے اپنا کام عرب سے شروع کیا تاکہ ایک ایسی صالح جماعت کا ظہور ہو جو آپ ص کے سامنے بھی اور آپ ص کے بعد بھی اس فرض کی تکمیل میں مصروف رہے۔
    لیکن یہی تدریجی ترتیب خود اہل عرب کی اصلاح میں بھی ملحوظ تھی چنانچہ سب سے پہلے آپ ص نے عرب کے اندرونی حصے یعنی تہامہ ، حجاز اور بخد کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور آپ ص کی 23 سالہ زندگی کے تقریبا سولہ سترہ سال انہی قبائل کی اصلاح و ہدایت میں نذر ہو گئے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے نخلستان کی طرح اگرچہ ہجر ویمامہ کے سبزہ زار بھی اسلام کو اپنے دامن میں پناہ دینے کے لئے آمادہ تھے اور قبائل یمن کے ایک بڑے رئیس طفیل دوسی نے آپ ص کو قبیلہ دوسی کے ایک عظیم الشان قلعے کی حفاظت میں لینا چاہا تھا لیکن آپ ص نے ان متمدان مقامات کو چھوڑ کر مدینہ کی سنگلاخ زمین کو دارالہرہ بنایا وہ اگرچہ منافقین اور یہود کی وجہ سے مکہ سے زیادہ پر خطر تھا اور ابتدا میں مہاجرین رضی کے لئے اسکی آب و ہوا سازگار نہ تھی تاہم آپ نے اسی کی طرف ہجرت فرمائی لیکن جب رفتہ رفتہ عرب کے اس حصہ میں کافی طور پر نظام اسلام قائم ہو گیا اور صلح حدیبیہ نے عرب کے مرکز یعنی مکہ کا راستہ صاف کر دیا اور وہ فتح ہو گیا تو اب عرب کے دوسرے حصوں کی طرف توجہ کا وقت آ گیا اس بناپر اسلام کے دائرہ عمل کو وسعت دی گئی اور عرب کے ان حصوں کی طرف توجہ فرمائی گئی۔

  • ففتھ جنریشن وار فیئر تحریر: آصف گوہر

    ففتھ جنریشن وار فیئر تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔
    "اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ.”
    موجود دور کو اگر معلومات کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ہمیں ہروقت اور ہر ذرائع سے مختلف اقسام کی معلومات حاصل ہوتی رہتی ہے بہت ساری معلومات غیر متعلقہ اور بے معنی ہوتیں ہیں ہمارا ذہن مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر فوری ردعمل اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتا ہے اور پھر اس پر ڈت جاتا ہے ۔
    معلومات کے اس سیلاب میں پروپیگنڈے کا بہت عمل دخل ہے حتی کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مصنوعات کے بارے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مدد سے اتنا واویلا کرتا ہے کہ ہم ان کے دعوی پر یقین پختہ کرلیتے ہیں اور حسب ضرورت اسی کمپنی کی مصنوعات کا انتخاب کرتے ہیں ۔
    معلومات کے ذریعے لوگوں کے اذہان کو تبدیل کرنا نئے تصورات بارے پبلک کی رائے بنانا یہ پروپیگنڈا ہے اور اس کو ماہرین نے ففتھ جنریشن وار فیئر کا نام دیا ہے ۔
    اور میڈیا اس جنگ کا سب سے بڑا اور اہم ہتھیار ہے۔
    ماضی قریب میں امریکہ نے ففتھ جنریشن وار فیئر کا استعمال عراق اور افغانستان کے خلاف بڑے منظم انداز میں کیا۔ایک دعوی کیا گیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں ذخیرہ ہے جس سے دنیا کو خطرہ لاحق ہے ۔اس دعوے کو تقویت بخشنے کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بھرپور استعمال کیا گیا دنیا کی ہر زبان میں لکھنے والوں کو خریدا گیا امریکی پروپیگنڈے پر کالم لکھوائے گئے ٹی وی اینکرز کی خدمات لی گئ پروگرام اور مباحثوں کا اہتمام کیا گیا اور ساری دنیا کی رائے بنا دی گئ کہ واقعی صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیار ہیں جو دنیا کے لئے خطرہ ہیں جس کے لئے عراق پر حملہ ناگزیر ہوچکا ہے اور یوں اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق پر حملہ کرنے کا امریکہ کو اجازت نامہ دے دیا۔
    یہی ففتھ جنریشن وار فیئر کا ہتھیار سی آئی اے نے افغانستان میں ملاعمر کی حکومت کے خلاف استعمال کیا ایران اور لبیا کے ایٹمی پروگرامز کے بارے میں بھی کیا گیا ۔
    یہ ففتھ جنریشن وار ہی تھی جس کی مدد سے مصر تیونس شام سوڈان اور یمن میں عرب سپرنگ لہر کے نام پر حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا گیا۔ پاکستان کے خلاف گزشتہ چند دہائیوں اس پروپیگینڈے کے ہتھیار کو کثیر الجہتی محاذوں پر استعمال کیا گیا اور کیا جا رہا ہے جس میں بھارت امریکہ اور دیگر ممالک کھلے طور پر ملوث رہے ہیں ۔
    بھارت نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں شدت پسندوں کو کرائے پر لیا انکی فنڈنگ کی ان سے تخریبی کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کروایا گیا ان کی پروجیکشن کی گئ سوات میں خاتون کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو بنوا کر وائرل کروائی گئ اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ سوات کے شدت پسند اسلام آباد پر قبضہ کرنے والے ہیں پھر جب پاکستانی فوج نے سوات میں آپریشن کیا تو بھارت نے اپنے انہیں وظیفہ خوروں کو افغانستان میں پناہ دی
    جب عوام اور افواج پاکستان نے بےپناہ قربانیوں کے بعد دھشت گردوں اور شدت پسندوں کا خاتمہ کیا تو ساتھ ہی پشتون تحفظ تحریک کے نام سے ایک نیا پیڈ گروہ میدان میں اتارا گیا سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں اپنے راتب خوروں کے ذریعے ان کے حق میں رائے ہموار کی گئ۔
    پاکستانی افواج اور عوام میں دوری پیدا کرنے کے لیے پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے لوگوں کا استعمال کیا گیا فوج کے خلاف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کالم پروگرام اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کرکے پبلک کی رائے سازی کی گئ جس سے خونی لبرلز کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جو نہ صرف دفاعی اداروں پر کھلے عام تنقید کرتا ہے بلکہ اسلام نظریہ پاکستان اور پاکستانی خاندانی اور سماجی نظام کے خلاف بھی علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں ۔
    خواتین کی آزادی اور حقوق کے نام پر میرا جسم میری مرضی والوں کو تھپکی دے کر پاکستانی مضبوط خاندانی اور سماجی نظام پر وار کیا گیا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی جیسے گھناونے اور سنگین جرم کی ایک خبر کے ذریعے پورے پاکستان میں چند گھنٹوں کے اندر اندر خانہ جنگی جیسی صورتحال میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شدید پروپیگنڈے کے بارے ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟ ہمیں کسی بھی خبر اور تجزیہ کو سن اور پڑھ کر فوری رائے قائم کرنے کی بجائے قرآنی حکم کے مطابق طرز عمل اختیار کرنا چاہیے خبر اور معلومات کی تحقیق کریں بیان کرنے والے کی شخصیت اور معلوماتی مواد کے سیاق و سباق کا جائزہ لیں ففتھ جنریشن وار فیئر
    اور بیانیہ کی اس جنگ میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ @Educarepak

  • یوم آزادی اور ہم  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    یوم آزادی اور ہم تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان ایک تحفہ ،ایک نعمت ہے،جو ہمیں اللہ پاک نے عطا کی ہے۔اگر ہمیں اندازہ ہو جاۓ کہ یہ ملک ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے،تو ہم اسکی قدر کرنا بھی سیکھ جائیں۔
    پاکستان کا حصول آسان نہ تھا۔اسکے لئے برطانوی سامراج اور ہندو بنیے سے جنگ لڑنا پڑی۔
    تحریک آزادی میں بے شمار لوگوں نے اپنی جانوں کے نزرانے پیش کر کے اس ملک کی بُنیاد رکھی۔
    عظیم تھے وہ لوگ،پاکستانی قوم ہمیشہ اُن کی احسان مند رہے گی۔
    ہم سب کی خوش قسمتی تھی کہ حصول پاکستان کی جنگ کے وقت ہمیں قائد اعظم محمد علی رح جیسے عظیم قائد کی مدبرانہ اور جرات مندانہ قیادت دستیاب تھی۔
    قائد اعظم حقیقی معنوں میں نہ بکنے والے اور نہ جُھکنے والےلیڈر تھے۔اُن کی ولولہ انگیز قیادت میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔
    آج ہم سب سوچتے ہیں کہ ہمیں پاکستان نے کیا دیا؟
    کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟
    یہ ملک جو کبھی دوسروں کے لئے مثال تھا۔
    اسے دنیا کے لئے نمونہ عبرت بنانے والے ناہنجار کون ہیں؟
    اس سوال کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ سیاستدان اور بیور کریسی ہی اس ملک کی تباہی کی زمہ دار ہے۔
    مگر یہ جواب اتنا بھی سادہ نہیں۔اس ملک کا بیڑہ غرق کرنے والوں میں بدقسمتی سے ہم سب شامل ہیں۔
    لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کو اقتدار میں کون لے کر آتا ہے،؟
    کیا یہ مافیاز آسمان سے ٹپک پڑتے ہیں؟
    نہیں انہیں ہم سب مل کر لے کر آتے ہیں۔ہم ان کے اقتدار پہنچنے کی سیڑھی ہیں۔جسے یہ مفاد پرست اپنے مطلب کے لئے استعمال کر کے ایک سائیڈ پہ لگا دیتے ہیں۔
    لُوٹ مار کا پتہ ہونے کے باوجود ہم اگلی دفعہ پھر بیوقوف بننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
    جس کرپٹ الیٹ کو ہم اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں،اُنہیں ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے بیورو کریسی کا تعاون درکار ہوتا ہے۔اسی تعاون اور ناجائز کاموں میں فرمانبرداری کے لئے وہ ایسے بیورو کریٹس کو اہم پوسٹوں پر تعینات کرتے ہیں،جو انہیں تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ رنگتے ہیں۔
    اس ساز باز اور ہمارے غلط فیصلوں کی بدولت اقتدار حاصل کرنے والے پاپی سیاستدانوں کی بدولت پاکستان کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ کبھی ہمارا مقابلہ بھارت سے ہوتا تھا،کیونکہ بنگلہ دیش جیسے ملک ہم سے بہت پیچھے تھے۔
    مگر اب یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ملک بھی ہم سے بہت آگے نکل چُکے ہیں۔
    دیگر ملکوں کا آگے بڑھنے کا سفر جاری ہے،جبکہ ہم دن بدن پیچھے جا رہے تھے اور پھربالاخر وقت بدلا،
    سیاسی حالات بدلے اور کم ازکم مرکز میں نواز شریف اور زرداری رجیم سے جان چھوٹی۔
    ملک کو بنگلہ دیش،نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک سے بھی پیچھے دھکیلنے کے زمہ دار یہی لوگ تھے،
    جنہوں نے کئی عشرے لگا کر اپنی تجوریاں تو بھر لیں مگر ملکی خزانہ خالی کر گئے۔
    آج بھی اگر دنیا کے امیر ترین ملکوں اور افراد لی لسٹ دیکھیں تو،
    پاکستان سب سے نیچے اور نواز شریف اور زرداری کا نام امیر ترین افراد کی لسٹ میں نمایاں نظر آۓ گا۔آج حالت یہ ہے کہ ہماری کرنسی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں تقریبا” نصف پر پہچ چکی ہے۔
    موجودہ حکومت کو جس حالت میں ملک ملا،
    غنیمت ہے کہ اسکی ٹوٹی پھوٹی معیشت کا سہارا ملنا شروع ہو گیا ہے۔
    مگر اس حکومت کو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے،تب جا کر کچھ مداوا کیا جا سکے گا۔
    وطن عزیز کے قیام کے بعد ہمارے پاس PIA،سٹیل مل،ریلوے اور سرکاری ٹرانسپورٹ (GTS)جیسے اچھے ادارے تھے۔آج وہ ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔
    ہم نے متحدہ عرب امارات اور قطرجیسے ملکوں کوانکی ائیر لائنز کھڑی کرنے میں معاونت کی۔
    آج ان ممالک کی ائیر لائنز کا شمار دنیا کی ٹاپ ائیرلائنز میں ہوتا ہے،جبکہ PIAدنیا کی بد ترین ائیر لائن بن چُکی ہے۔ان اداروں میں غیر ضروری سیاسی بنیادوں پربھرتیاں کی گئیں۔جہاں دس آدمیوں کی ضرورت تھی وہاں سو آدمی بھرتی کر لیے گئے۔سامان کی خریداری میں کمیشن کھاۓ گئے۔ہر شعبے میں گھپلوں کی بہتات نے ان اداروں کو زمین بوس کر دیا۔
    آج ہمارے پاس ریلوے کی شکل میں ایک لولی لنگڑی ریلوے موجود ہے۔جو بظاہر کچھ روٹس پر نہ چلنے کے انداز میں چلتی نظر آتی ہے۔
    موجودہ حکومت اس تباہ حال گلشن میں کیا کیا ٹھیک کر پاۓ گی؟
    یہ تو وقت ہی بتاۓ گا۔مگر عمران خان کی نیت ،حب الوطنی اور دیانتداری یرکوئ شک نہیں کر سکتا۔
    میں عمران خان کا سپورٹر ضرور ہوں مگر غلام نہیں۔میں سب سے یہی کہوں گا کہ
    اس پانچ سال کی کارکردگی پر فیصلہ کریں کہ کیا عمران خان ،شریفوں اور زرداری سے بہتر ہے ؟
    کیا اس نے کسی حد تک ملک کی سمت درست کر دی ہے۔
    اگر جواب ہاں میں ہے تو اگلی باری پھر عمران خان
    اور اگر جواب ناں میں ہے تو عمران خان کو بے شک اپنے چاچے دا پُتر مت بنائیں۔اور نہ اسکی ضرورت ہے۔
    ہم نے پاکستان کے لئے سوچنا ہے۔اس وطن کی بہتری کے لئے سوچنا ہے۔ہمارے لئے مقدم صرف اور صرف پاکستان ہے۔
    ہم نے کسی ایک سیاستدان کے لئے نہیں سوچنا،ہماری سوچوں کا محور صرف اور صرف پاکستان ہونا چاہیے۔
    پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔
    قیام پاکستان کا زکر مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال رح کے زکر کے بغیر ہمیشہ نا مکمل رہتا ہے۔
    وہ مفکر پاکستان تھے،جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔اس تصور،اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے قائد اعظم رح نے دن رات محنت کی۔اپنی زندگی کا مقصد پاکستان کے حصول کو بنالیا اور بالاخر اللہ پاک نے ان کی شبانہ روز محنت کی بدولت ہمیں پاکستان جیسی نعمت خداوندی اور تحفہ پروردگار عطا کیا۔جس نے نہ صرف ہمارا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ بنا دیا۔
    چودہ اگست یوم آزادی کے اس موقع پر میں اپنے برادر اسلامی ممالک ایران،تُرکی اور سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں،
    جو پاکستان کو بطور ملک تسلیم کرنے والے پہلے ملک بنے۔
    اللہ پاک ہمارے ملک کو امن و استحکام اور خوشحالی سے نوازے۔اور ہمیں وہ فیصلے کرنے کی توفیق دے،جو اس ملک کے لئے بہتر ہوں-آمین #

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • 14 اگست یوم آزادی پاکستان تحریر ۔۔محمد نوید

    14 اگست یوم آزادی پاکستان تحریر ۔۔محمد نوید

    آج کی میری اس تحریر کا مقصد یوم آزادی
    آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جن نے کچھ کھویا ہوتا ہے اس کے لیے یا جن کے پاس یہ نعمت نہی ہوتی
    14 اگست 1947 کا دن ہمارے لئیے اس لئیے اہم ہے کیونکہ اس دن برصغیر پاک و ہند میں مسلمونوں کی طرف سے آزاد وطن کی خاطر چلائی جانے والی تحریک آزادی پروان چڑھی اور انہی کی کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت ہمیں پیارا ملک پاکستان ملا آزادی ایک نعمت ہے اور آزادی کی اہمیت پوچھئیے کشمیر والوں سے جنہیں اپنے نوجوان زبحہ کرواتے اور اپنی عزتیں اپنی آنکھوں کےسامنے پامال ہوتے ہوئے دیکھتے انہیں نصف صدی سے اوپر گزر گئے ہیں آزادی کی نعمت پوچھئیے فلسطین والوں سے جہاں پر ظلم و بر بریت کی زندہ مثال قائم کی جارہی فلسطین کی آبادی کی بستیاں مسمار کر کے یہودیوں کو بسایا جا رہا ہے جہاں پر کلاشنکوفوں کے سایہ کے نیچے وہ اپنی مزہبی فرائض ادا کرتے ہیں آزادی کی نعمت پوچھئیے
    14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔
    14 اگست آزادی اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؟
    ہمیشہ اپنے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کے قول "ایمان، اتحاد اور تنظیم” کی پاسداری کریں گے
    تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان اور پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
    یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے
    14 اگست کے اس موقع پر سب دوست احباب سے درخواست یہ ہے کہ اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہم سب لوکل و قومی سطح پر اپنے گلی محلے، شہر اور پاکستان کی بہتری ہی چاہتے ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو اپنا مسیحا اور نجات دہندہ میں نظر آتا ہے تو کسی کو اے بی سی میں۔ لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے بہتری امن سکون بنیادی ضروریات زندگی میرٹ مظبوط معیشت اور آسان روزگار وغیرہ وغیرہ۔ تو ہمیں اس 14 اگست کے موقع پر بجائے نفرتیں بحثیں اور دوریاں پالنے کے ہر اس مثبت سوچ کی قدر کرنی چاہیے جسکا مقصد خیر خواہی ہے۔

    @naveedofficial_