Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مزاحیہ فنکار؟  یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    مزاحیہ فنکار؟ یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    80ء کی دہائی میں جب سوویت یونین افغانستان میں میں اپنے پیر جمانے کے لئے داخل ہوئی تو اس وقت افغانستان میں موجود ایک مخصوص طبقے نے ان روسیوں کا بھرپورساتھ دیا۔ روس نے بھی ان ضمیر فروشوں کو اپنے عزائم کے لیے خوب استعمال کیا۔ یہ طبقہ بنیادی طور پر کیمونیسٹ تھا جنہیں آجکل سرخے کا نام سے جانا جاتا ہے۔

    بنیادی طور پر سرخہ جس کا مقصد ہی غلامی ہے انکی ذہنیت مادرپدر آزادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ لبرلزم کے نام پر مذہبی اور ثقافتی ورثے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ پہلے یہ روسیوں کے ساتھ تھے اور اب بھارت کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔ انکی حیثیت کسی استعمال شدہ ٹشویپرز کے جیسی ہے۔ یہ پہلے استعمال ہوتے ہیں جیتے جی اور پھر انکی لاشیں بھی اسی دشمن کے ایجنڈے کو سرو کرتیں ہیں جسکے انہیں معاوضے تک نہیں ملتے۔۔۔ حالیہ دنوں میں اسکی ایک مثال بھی ملی۔ شوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جسکے ساتھ یہ تحریر درج کی جا رہی تھی

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/ManzoorPashteen/status/1420063152620941323

    ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ ہونے والی یہ تصویر غالباً چھے سال پرانی ہے اور یہ ٹویٹ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان میں پشتون قوم کو تحفظ کے نام پر چونا لگانے والا منظور پشتیں ہے جس نے نقیب اللہ محسود مومنٹ کو ہائی جیک کر کے اپنے ناپاک ملک دشمن عزائم کو پورا کیا اور خوب پیسے کمائے۔

    یاد رہے کہ جسے بار بار پاک افغان سرخہ گروپ "مزاح نگار” کہہ رہا ہے وہ درحقیقت ہتھیاروں کا شوقین ایک بچہ باز شخص تھا۔ اپنی پچاس سالہ زندگی میں کمال محنت سے جرائم کی دنیا میں بھی اس نے خوب نام کمایا تھا۔ بچوں سے جنسی تعلق استوار کرنے کا شوقین یہ شخص دکھنے میں ہی پرانی بالی ووڈ فلموں کا شکتی کپور لگتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر اس شخص کی جدید اسلحے کے ساتھ لی گئی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو اسکے کردار کا بخوبی اندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں۔۔ یہ اور بات ہے کہ بھارتی چینلز اور این۔ڈی۔ایس کے کابلی بھیڑ اسے مزاح نگار ثابت کرنے پر تُلّے ہوئے ہیں۔۔۔

    یہ شخص جسے آج سے پہلے شاہد ہی آپ نے کبھی دیکھا ہو کو راء اور این۔ڈی۔ایس سوشل میڈیا پر "مشہورِ زمانہ” بتاتے پھر رہے ہیں۔ یہ اتنا ہی مشہورِ زمانہ ہے کہ اسے مشہور کہنے والوں کے قریبی رشتےدار تک اسکے نام سے ناواقف ہیں۔ ویسے قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ موصوف نذر محمد الیاس خاشا زوان کے نام سے پکارے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی پارلیمان میں براجمان انہی سرخوں کے ساتھی احباب بھی اسی لائن کو ٹریس کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔۔ محسن داوڑ نامی رکن قومی اسمبلی کے الفاظ میں:

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/mjdawar/status/1420080452984000514

    گویا کہ یہ بھی وہی سکرپٹ کاپی پیسٹ کر رہے ہیں جو کابل سے انہیں وٹس ایپ کیا گیا تھا۔۔۔ آج سے پہلے ہم نے کبھی محسن داوڑ کے منہ سے اس شخص کے بارے میں کچھ نہ سنا تھا لیکن اچانک محسن داوڑ کی جانب سے اس نام نہاد مزاح نگار کی شان میں قصیدے اور افغان طالبان کے امن مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔۔

    اگر آپ اس کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ وہ برائی ہے جو قندھار میں طالبان کے ہاتھوں مار دی گئی ہے اور ہمارے کچھ جاہل لوگ ، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں ، اس پر آنسو بہا رہے ہیں۔

    پہلے ، یہ ایک ازبکی تھا ، پھر وہ اس پوسٹ کی کمانڈ کررہا تھا ، عملی طور پر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا تھا۔ یہ ہمارے عظیم آقا کی توہین کرتا صاف نظر آ رہا تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان قوم اس مسخرے کو ناپسند کرتی تھی۔ ایک وڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ یہ ٹی۔ٹی۔پی کے دہشتگرد کمانڈروں جیسی شخصیت کا مالک شخص تھا۔

    میرا موقف نہایت صاف اور واضح ہے۔ سوال اس شخص کی معصومیت یا بے گناہی کا نہیں بلکہ اس پروپیگنڈے کا ہے جو اسکو اچھا بنانے کے لیے مسلسل کیا جا رہا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کرنے کے پیچھے ہمارے رکن قومی اسمبلی جناب محسن داوڑ اور دیگر سرخوں کے پاس کیا وجوہات ہیں؟

    @MrWaheedgul

  • زمین کو سانس دو. تحریر : زہراء مرزا

    زمین کو سانس دو. تحریر : زہراء مرزا

    تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایک درخت 30 بچوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے. ایک بچے کو اگر مصنوعی طریقے سے آکسیجن فراہم کرنے پڑے تو یہ 5000 روپے کی آکسیجن یومیہ درکار ہے. پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے.
    مختصر کہیے تو گیارہ کڑوڑ روپے ایک شخص کے زندہ رہنے کے لیے درکار ہوں.

    زاویہ نظر بدلیے….
    سب سے پہلے تو اس بات پر اپنے خالق کا شکر ادا کریں کہ کتنی مہنگی چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں مفت عطا کر رکھی ہے. اور ہم سے اس چیز کا نہ تو کوئی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہماری تمام تر سرکشوں کے باوجود اس نعمت (آکسیجن) کے استعمال سے روکا جاتا ہے.

    خالق دو جہاں کے شکر کے بعد سوچیے…!!
    آپ ارب پتی بھی ہوتے تو کیا پوری زندگی میں تین ارب 30 کڑوڑ روپے صدقہ کر سکتے تھے؟؟
    ہرگز نہیں… لیکن اگر آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تو بھی آپ اس سے کئی گناہ زیادہ صدقہ کر سکتے ہیں. آپ سب ارادہ کر لیں کہ ہم اس معاشرے کو ہر سال ایک پودا دیں گے جو بڑا ہوکر ایک درخت بن جائے گا تو آپکی عمر اگر ساٹھ سال ہوئی تو ہر سال 3 ارب 30 لاکھ روپے صدقہ کا ثواب آپکو ملے گا. اپنی زندگی میں 2 کھرب روپے کا صدقہ کرنے والا شخص آپ نے تو شاید تمام عمر سوچا تک نہ ہو.؟؟

    جی اتنا بڑا صدقہ..!
    ایک درخت لگائیے…. اور دنیا کو سانس فراہم کیجیے….
    ابھی تک تو میں نے فقط ایک آکسیجن فراہم کرنے والے درخت کے متعلق بتایا ہے؟
    اگر آپ نے ایسا درخت لگایا جس نے لوگوں کو دھوپ میں سایہ دیا، بھوک میں پھل دیا، پرندو‌ں کو گھر دیا، زمین کو بارش دی تو آپ محسوس کریں کہ آپ معاشرے کے ساتھ کتنی بڑی نیکی کر رہے ہیں؟ آپ اگر ایسا کرتے ہیں تو یقیناً آپکو اپنے انسان ہونے پر ناز ہوگا. کیونکہ پوری کائنات میں آپ واحد مخلوق ہیں جسے اللہ نے یہ شعور دیا ہے کہ وہ درخت لگائیں. دنیا کو اس وقت گلوبل وارمنگ کا جس طرح سامنا ہے یہ میں اور آپ فقط سوچ ہی سکتے ہیں؟ ایمازون کے جنگلات کی آتشزدگی ہو یا افریکہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ. کہیں آبادیوں کے بڑھاؤ کی خاطر کٹنے والے جنگلات ہوں. یا جلانے اور آلات بنانے میں ضرورت سے زائد استعمال ہونے والی لکڑی..
    یہ سب ہی گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں سے ہیں. فیکٹریوں اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن نے جہاں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور متھین گیس کی مقدار کو بڑھاوا دیا ہے. وہیں جنگلات اور درختوں کی کٹائی نے آکسیجن کو مزید کم کر دیا.

    کیا آپ دیکھتے نہیں کہ میٹرو سٹیز میں رہنے والے افراد میں بیماریوں کا رجحان دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے.
    دمہ، سکن الرجی،ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی بیماریوں میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے.
    گرمیوں میں ہیٹ سٹوک اور سردیوں میں سموگ کا راج یہ تمام کے تمام مضمرات یا تو انڈسٹری کے بے جا پھیلاؤ سے منسلک ہیں یا پھر درختوں کی بے وجہ کٹائی سے. درختوں میں اضافہ نہ صرف گلوبل وارمنگ کو کم کرتا ہے ساتھ ہی ساتھ سموگ اور ہیٹ اسٹوک سے بھی محفوظ رکھتا ہے.

    یاد رکھیے جتنے درخت کم ہونگے اتنی ہی سانسیں کم ہونگی. لہٰذا اگر سانس کو بچانا ہے تو ایک پودا لگانا ہے. درخت لگائیے اور دور جدید میں سب سے مہنگا صدقہ کیجیے…! کیونکہ فرمان پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ انسان کی جان بچانا انسانیت بچانے کے مترادف ہے.

    @zaramiirza

  • کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے     وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے وزیر اعظم آزاد کشمیر

    آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے-

    باغی ٹی وی : مظفرآباد میں میڈیا سے یوم استحصال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم وستم کی نئی داستانیں رقم کر رہا ہے وزیراعظم عمران خان پوری امت مسلمہ کی نمائندگی کررہا ہے۔ کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کا رہنے والا ہوں اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے-

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران…

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ وادی چنار کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہونے پر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں وفاقی ادارے کی جانب سے پاکستانی جھنڈوں کی بےحرمتی

    یوم استحصال کشمیر پر ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور سڑکوں پر ٹریفک رک گئی۔ ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن چینلز پر ایک منٹ کی خاموشی کے فوراً بعد پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔

    مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں آرمی چیف

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے اسلام آباد میں واک کی قیادت کی ریلی میں وزیر داخلہ شیخ رشید بے بھی شرکت کی واک کے شرکا نے سیاہ پٹیاں باندھی تھیں اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائے تھے۔

    تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم…

    علاوہ ازیں وزیر خارجہ دفتر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر قیادت ریلی نکالی گئی جس میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی شرکت کی –

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی دونوں ٹیموں کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شامل تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پہلا ایک روزہ میچ 17 ستمبر کو ہو گا-

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم میں 3 ایک روزہ میچز اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گےدونوں ٹیموں کے درمیان 3 ایک روزہ میچز راولپنڈی اور 5 ٹی ٹوینٹی میچز لاہور میں ہوں گے جو 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہیں گے-

    نیوزی لینڈ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے لیےترتیب دیئے گئے بمپر کرکٹ سیزن 22-2021 میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی نیوز ی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کراچی پہنچے گی۔آسٹریلیا بھی آئندہ سال فروری مارچ میں پاکستان کا دورہ کرے گی-

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے اس سے قبل نومبر 2003 میں آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گئے تھے۔ 2003 کے بعد پاکستان اب تک تین مرتبہ نیوزی لینڈ کی میزبانی کرچکا ہے تاہم یہ تمام میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے۔

    غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    چیف ایگزیکٹو نیوزی لینڈ کرکٹ ڈیوڈ وائیٹ کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں،  ہم پاکستان کے ہوم انٹرنیشنل سیزن کے آغاز میں پاکستان کا دوبارہ دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔

    ڈیوڈ وائیٹ نے کہاکہ بھارت سے باہر نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کا دورہ کیا اور ہمارے پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔خوشی ہے کہ ایک مشکل وقت ختم ہونے کے بعد اب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوچکی ہیں۔

    سیریز کا مکمل شیڈول:
    11ستمبر: اسلام آباد آمد، 12تا14 ستمبر:روم آئسولیشن، 15تا16ستمبر: ٹریننگ/ پریکٹس/ انٹرا اسکواڈ میچ

    17، 19اور 21 ستمبر: ایک روزہ بین الاقوامی میچ، راولپنڈی جبکہ 25 ، 26 اور 29 ستمبر ، یکم اکتوبر اور 3 اکتوبر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور

    گزشتہ روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوینٹی کھلاڑیوں کی رینکنگ جاری کر دی آئی سی سی کی جاری کردہ رینکنگ کے مطابق انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان پہلے نمبر ہیں جبکہ پاکستانی کپتان بابر اعظم دوسرے نمبر پر برقرار ہیں۔

    ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے اختتام پر بابر اعظم کے 14 رینکنگ پوائنٹس میں کمی ہونے کے بعد بابر اعظم کے رینکنگ پوائنٹس 819 ہو گئے جبکہ انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان کے رینکنگ پوائنٹس 841 پر آ گئے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان ٹی ٹوینٹی ریکنگ میں چھٹے سے ساتویں نمبر پر چلے گئے جبکہ بھارتی بلے باز کے ایل راہول چھٹے نمبر پر چلے گئے۔

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر: سحر عارف

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر: سحر عارف

    پودے کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے ہمیں آکسیجن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہوا کو آلودگی سے بھی پاک کرتے ہیں۔ آج جو ہمارے اردگرد ہوا موجود ہے وہ ذہر اور گندگی سے بھرپور ہے جسے جب ہم سانس لیتے ہوئے اپنے جسم میں اتارتے ہیں تو ان گنت بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    ماحول کو گندگی اور بیماریوں سے پاک صاف رکھنے کے لیے شجرکاری کی اشد ضرورت ہے۔ ایک تو یہ ماحول کو صاف ستھرا رکھتے ہیں اور دوسرا پودے انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔

    ہمارے ہاں جیسے ملک کے موجودہ حالات چل رہے ہیں عوام کی کثیر تعداد ذہنی دباؤ کا شکار ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں پودے بہت خوبصورتی سے کام آتے ہیں۔ یہ ہمارے درد اور تکلیف کو اپنے اندر اتارتے ہوئے ہمیں ذہنی دباؤ سے باہر نکالتے ہیں۔

    پھر پودوں کے اور بھی بہت سے فوائد موجود ہیں ایک تو اس کی جڑیں بوٹیوں سے ہم بےشمار ادوایات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاؤہ یہ ماحول کو شور جیسی آلودگی سے بھی پاک کرتے ہیں۔ کبھی توجہ فرماتے ہوئے محسوس کیجیئے گا کہ جن مقامات پر پودے موجود ہوں وہاں کس قدر سکون ہوتا ہے۔

    پچھلے کئی سالوں کی نسبت آج ہمارے ملک میں کافی حد تک شجرکاری ہوچکی ہے اور مزید بھی ہورہی ہے۔ اس ملک میں بہت سی حکومتیں آئیں اور بہت سے وزرائے اعظم بھی آئے پر موجودہ حکومت سے پہلے کبھی بھی سابقہ حکمرانوں میں سے کسی نے بھی شجرکاری پر توجہ نا دی۔

    پر ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی الودگی پر توجہ دیتے ہوئے شجرکاری کی مہم کے آغاز کا سہرا بھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کو جاتا ہے۔ جنہوں نے حکومت سنبھالتے ساتھ ہی شجرکاری کے حوالے سے پاکستانی عوام کو شعور دیا اور کثرت سے پودے لگانے کی درخواست کی۔ آج ملک میں کافی حد تک پودے لگائے جاچکے ہیں۔

    پر ملک کو مزید سرسبز و شاداب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ شجرکاری کا یہ سلسلہ کسی قیمت رکنا نہیں چاہیے اور دوسرا یہ کہ جب بھی کوئی پودا لگایا جائے تو اس کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے چند ماہ تک پودے کی بھرپور حفاظت کی جائے یہاں تک کہ وہ اپنے جڑیں مضبوطی سے زمین میں گاڑھ لے۔

    @SeharSulehri

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی  تحریر : تماضر خنساء

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی تحریر : تماضر خنساء

    اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ وہ ایسی قوم کی حالت
    نہیں بدلتے جو اپنی حالت کو خود ہی نہ بدلنا چاہے
    ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے

    :اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ
    (الرعد :11)
    بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے”
    آج اگر ہم خود کو دیکھیں تو یہی وجہ ہے کہ ہمارے حالات نہیں بدلتے کیونکہ ہم خود ہی نہیں بدلنا چاہتے ۔۔۔آج اس معاشرے میں اگر کوئ ایک دھوکہ دے تو اسکی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی وہی شروع کردیتے، چوری کرنا دوسروں کا حق مارنا، مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پیسے اینٹھنا —-غرض یہ چیز ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے کہ جو جیسے چاہتا ہے بس اپنا فائدہ ہو جس میں وہی کرتا ہے اور لوگ اسکو روکنے کے بجائے وہی کام شروع کردیتے۔۔۔۔ہم یہ تو چاہتے کہ ہمارے حالات بدل جائیں مگر ہم خود بدلنا نہیں چاہتے ۔۔۔۔اس قوم کے بگاڑ میں اس قوم کا ہی اپنا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔ہم۔اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی بے ایمانی اور دھوکہ دہی کرنا نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔ہر برائ کی جڑ خود ہم سے ہی جڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اگر کسی بھی برائ کو ختم کرنا ہے تو خود سے شروع کرنا ہوگا نہ کہ دوسروں سے ۔۔۔۔۔ہمارے معاشرے میں منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جو غلط کام ہم خود کررہے ہوتے اسی پر دوسروں کو کھلم کھلا لعنت ملامت کرتے ہیں آخر ہم دوسروں پہ انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان کیوں نہیں جھانکتے ۔۔۔۔لوگوں کو جج کرنا ہمیں خوب آتا ہے مگر ہر انسان خود کو کیوں اسی مقام پر نہیں رکھتا؟ پھر ہمیں اپنے معاشرے سے ڈھیروں شکایتیں ہیں مگر ان شکایتوں کو ہم خود میں سے دور کرنا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔دوسروں کو انکے غلط کام پر ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرنا خوب آتا ہے مگر ہماری اپنی باری کبھی آتی ہی نہیں!
    آج اگر ہمیں اپنے معاشرے سے چھوٹی برائیوں سے لیکر بڑی برائیوں تک کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں خود سے ہی شروع کرنا ہوگا جو کام اگر کوئ دوسرا کرے اور ہمیں برا لگے دیکھیے کہ وہی کام کہیں آپ خود بھی تو نہیں کرتے؟ اگر کرتے ہیں تو پہلے خود کے اندر سے اس برائ کو دور کریں تبھی وہ برائ باقی معاشرے سے بھی. دور ہوگی وگرنہ کبھی نہیں ۔۔۔۔
    ہر برائ کو دور کرنے کی ابتدا خود سے کریں پہلے خود کو بدلیں اسکے بعد ہی حالات بدلیں ورنہ حالات بدل جانا ایک خواب ہی رہے گا ۔۔۔۔۔
    آج ہمارے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے چکی ہیں ۔۔۔۔ہم اخلاقی پستی کا شکار ہوچکے ہیں ۔۔۔۔وہ تعلیمات جو اللہ اور اسکے رسول نے ہمیں دیں انہیں تو ہم بس کتابوں میں پڑھنا پسند کرتے ہیں اسکے آگے اپنی زندگی میں اسے لاگو کرنے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔وہ تعلیمات وہ زندگیوں کے نمونے ہمارے لیے مشعل راہ تھے. مگر ہم نے ان سب کو بس کتابوں اور تاریخ کا حصہ بناکر رکھدیا جبکہ ان ساری تعلیمات کو آج ہماری زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔جو ہمارے لیے مشعل راہ تھا، اسے تو ہم نے پس پشت ڈال دیا پھر جب ہم ناکام ہیں تو اسکا، سارا قصور وار ہم دوسروں کو سمجھتے ہیں جبکہ قصور وار تو ہم ہی ہیں ______
    ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتے ۔۔۔دھوکہ دینا نہیں چھوڑتے توبڑے معاملات میں ہم کیسے سچ بول پائیں گے؟
    آج اگر کوئ اور بھی سچائ پہ گامزن ہوتا ہے تو ہم اسکا ساتھ تک نہیں دے پاتے یہی وجہ یے کہ حق کیا ہے ہم یہ جان ہی نہیں پاتے ۔۔۔۔ہر چمکتی چیز کی طرف ہم دوڑتے ہیں ہر گناہ کی طرف ہم بھاگے بھاگے جاتے ہیں ۔۔۔ہم اپنا مقصد زندگی تو بھول ہی گئے!
    ہماری زندگی کا مقصد پیسے کمانا، نام کمانا چاہے وہ کسی بھی طرح سے ہو بس یہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔اچھائ اور برائ کی تمیز کو الماری میں لاک کرچکے ہیں جسکی چابی بھی ہم نے جان بوجھ کر کھودی ہے ۔۔۔
    ہماری زندگی کا مقصد تو اصل میں اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا تھا جس کیلیے ہمیں اس دنیا میں آزمائش کیلیے بھیجا گیا ۔۔۔مگر ہم نے اپنا مقصد زندگی بھلادیا اور اس زندگی کو دائمی سمجھ لیا ہے _____
    اس معاشرے کو بدلنے کیلیے خود سے آغاز کیجیے کہ جب تک آپ خود کو بدلنا نہیں چاہیں گے تو ہمارا حال یہی رہے گا
    بقول شاعر :
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جسکو خیال آپ اپنی حالت کو بدلنے کا

    @timazer_K

  • اللہ تعالٰی کی نعمت اولاد   تحریر  : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی کی نعمت اولاد تحریر : راجہ ارشد

    اولاد ہمیشہ انسان کی کمزوری رہی ہے۔
    اولاد نہ ہو تو انسان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اولاد میں صرف بیٹیاں ہوں تو اپنی قسمت کو کوسنے لگتا ہے۔ صرف بیٹے ہو تو بیٹی کے لیے آنکھیں ترسنے لگتی ہیں۔اگر اولاد نافرمان ہو تو انسان جیتے جی خود کو زندہ درگور محسوس کرتا ہے۔

    اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اولاد کو انسان کے لیے آزمائش سے تبعیر کیا ہے۔اولاد نالائق ونافرمان ہو تو انسان کے لیے اس سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی ہے۔اور اگر سرے سے اولاد ہی نہ ہو تو پھر بھی انسان پل بھر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔

    اللہ رب العالمین کی آخری کتاب قرآن مجید میں جابجا اس بات کا تذکرہ موجود ہے ۔کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے۔ سورہ انعام میں فرمان الٰہی ہے کہ اس دنیا میں کسی درخت کا ایک پتا بھی اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہیں گرتا۔

    اللہ تعالٰی زمین و آسمان کی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ ہر زی روح کے پیدا ہونے سے مرنے تک اس کے ہر معاملے کا اسے علم ہوتا ہے۔ حتی کہ پتھر کے اندر کیڑے کے حالات سے بھی باخبر ہوتا ہے اور اس کے رزق کا انتظام کرتا ہے۔جب اللہ تعالٰی کی ہمہ گیر حاکمیت کا یہ معاملہ ہو تو پھر انسان جسے قرآن مجید میں ناشکرا اور اس طرح کے دیگر لقابات سے نوازا گیا ہے۔ وہ کتنی ڈھڈئی کے ساتھ اپنے اور اس دنیا کی ہر چیز کے خالق ومالک کو چھوڑ کر اولاد جیسی نعمت کے حصول کے لیے اس کے در پر حاضر ہونے کے بجائے شیطان کے ورغلانے پر جگہ جگہ قبروں اور مزاروں پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ وہ جو خود بے بس و لاچار ہیں۔ جو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت کے امیدوار ہے وہ اسے کیا دیں گے۔

    اللہ تعالٰی جسے اولاد نہ دینا چاہے تو ہزار جتن کر لے اسے اولاد نصیب نہیں ہوتی اور جسے اولاد دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر بانجھ اور عمر رسیدہ عورتوں کی گود بھی ہری کر دیتا ہے۔ یہ شان بے نیازی اللہ رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے۔ہمیں ہر حال میں ہر معاملے میں اپنے خالق ومالک ہی سے مانگنا چاہیے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوزِدروں

    دین اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت و رسواٸی اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی و نجات کا پیغام تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا ،جو عورت کے انسانی وقار کو بری طرح سے متاثر کرتا اور عورت کو وہ حقوق و فرائض عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و احترام کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق صرف مرد حضرات ہوا کرتے تھے ۔

    اسلام سے قبل عورتوں کو زندہ زمین میں گڑھ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے آنے اس عورت ذات اس رسم و رواج سے نجات ملی ،اللہ نے تخلیق کے درجے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ اور اسی طرح ﷲ کے اجر کے استحقاق میں مرد و عورت دونوں برابر حقدار ہیں ۔

    قرآن کریم اور احادیث میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے. اسکے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کی جائے، احسن سلوک کیا جائے اسکے ساتھ ساتھ اس کے ظریف اور نازک وجود کی تعریف کی گئی ہے

    قرآن مجید میں اللہﷻ کا ارشاد ہے:

    اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ،سورت النساء

    دین اسلام کی وجہ سے عورت کو وہ حقوق و فراٸض بھی ملے جو زمانہ جہالیت میں نہیں ملا کرتے تھے اسلام نے تو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن مرد کو بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت سے سرفراز فرمایا۔اسلام نے عورت کو چاروں روپوں میں اسکے حقوق و فرائض دٸیے ہیں جو جہالیت کے زمانے میں دینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔

    آپﷺ نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا، عورت کو بحيثيت بہن وراثت کا حقدار ٹھہرایا ، اسی طرح عورت بطور بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اس کی تربیت و تعلیم اور احسن طریقے پرورش کرنے پر جنت کا ضامن بنایا۔ عورت کو بطور بیوی اپنے شوہر کا لباس بنایا ہمارا نبی اکرمﷺ نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اسکے نان و نفقہ کا حقدار مرد کو بنایا

    آج کی عورت ہی دین اسلام کے بقاء اور تحفظ کو بقائے دوام عطاء کر سکتی ہے۔ آج کی عورت کو قرون اول کی عورت کی طرح اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کا ایسا نمونہ پیش کرنا ہوگا جسے نئی نسل کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سرخروئی حاصل ہو۔ اور اگر آج کی عورت کو یہ کوشش بارآور ہو جائے تو وہ نہ صرف ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت انجام سرانجام دےگی بلکہ دین اسلام کی بھی خدمت انجام دے گی کیونکہ
    دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق و فرائض بھی متعین کردیئے جن کی بدولت عورت معاشرے میں پرسکون زندگی بسر کر سکتی ہے!!

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ، آمین

    ‎@aapkashobi

  • ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟         تحریر: آصف گوہر

    ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟ تحریر: آصف گوہر

    نصاب سے مراد کسی درجہ کے لئے مختلف مضامین کا مجموعہ جو کہ طلباء کو پڑھا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا
    نصاب سازی کے عمل میں ماہرین تعلیم ریاست کے وضع کردہ رہنما اصولوں کی مدد سے ایسا علمی مواد مرتب کرتے ہیں جو کہ کسی درجہ تک کی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کا تعین کرتا ہے ۔
    ملک خدا دا میں طبقاتی تقسیم کی جھلک تعلیمی اداروں میں پڑھانے جانے والے نصاب میں بھی سرایت کر چکی تھی موجود حکومت پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ملک میں جاری طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے گا اور وزیراعظم عمران نے اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ ملک میں جاری مختلف طبقاتی نظاموں پر تنقید کی اور اس پر زور دیا کہ ملک میں غریب اور امیر طبقے کے بچوں کے لئے یکساں نصاب ہونا چاہیے ۔ وزارت اعظمی سنبھالنے ہی وفاقی وزارت تعلیم کو یکساں نصاب کی تیاری کی ہدایت دی۔ جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بڑی محنت کے ساتھ تمام صوبائی وزراء تعلیم اور صوبائی حکومتوں کو یکساں نصاب پر قائل کیا اور ملک کے ماہرین تعلیم پرائمری سطح کے ماہر اساتذہ والدین پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ایجوکیشنل ریسرچر چائیلڈ سیکالوجسٹ
    اور ہر مضمون کےماہر افراد پر مشتمل کمیٹی نے کئ ماہ کی عرق ریزی کے بعد مجوزہ مسودات صوبائی وزراء تعلیم کی کمیٹی میں پیش کئے ۔ جس پر صوبوں نے اپنی کمیٹیوں سے سفارشات لیں ۔پنجاب میں بھی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب کی ماہرین تعلیم کی کمیٹی بنائی جس نے ان مسودات پر نظر ثانی کی پنجاب کے پرائیویٹ سکولز انتظامیہ کو آن بورڈ لیا گیا اور بڑی طویل مشاورت اور محنت کے بعد وفاق کی تمام اکائیاں پرائمری سطح کے یکساں قومی نصاب پر متفق ہوگئیں جو کہ بہت بڑی کامیابی اور خوش آئندہ بات تھی ۔ اب جبکہ یہ یکساں قومی نصاب نئےتعلیمی سال کےلئےطلباء میں تقسیم کیا جا رہا ہے تو کچھ مخصوص نام نہاد تجزیہ کاروں نے اس پر طرح طرح کےاعتراضات شروع کر دیاان میں ایک موصوفہ کو اعتراض ہےکہ انگلش کی کتاب میں وطن پرستی کی نظم اور اسلامی تہوارعید الاضحی بارےاسباق شامل کیوں کئےگئے
    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترمہ نے آج سے قبل کبھی پبلک سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو دیکھا تک نہیں کیوں کہ جن اسباق پر اعتراض کیا گیا ہے وہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ایک مدت سے پڑھائے جا رہے ہیں ۔ ایک موصوفہ کو یہ اعتراض ہے کہ واقفیت عامہ کی کتاب اردو زبان میں کیوں مرتب کی گئ ۔ کیا امریکہ برطانیہ جرمنی فرانس اور چین میں کیا کسی غیر ملکی زبان میں پرائمری تعلیم دے جاتی ہے یا اس ملک کی قومی زبان میں ؟
    اس وقت قومی یکساں نصاب پر اعتراض وطن پرستی اور اسلامی مواد پر ہے لیکن اصل تکلیف اس بات پر ہے کہ یکساں قومی نصاب کے نفاذ کے سہرا عمران خان اور تحریک انصاف کے سر کیوں باندھا جا رہا ہےاور وفاق کی تمام اکائیاں کو متفق ہورہی ہیں ۔ان قوتوں کا مقصد تو پاکستانی قوم کو تقسیم در تقسیم کرنا تھا ۔
    پاکستان کےقیام میں مذہب اسلام سب بڑا محرک ہے ۔پاکستانیوں کا قومی نظریہ اسلام کے سنہری اصولوں سے مزین ہے اور یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ پاکستان کا قومی نظریہ اصل میں اسلامی نظریہ ہی ہے ۔ اس لئے لازمی سی بات ہے کہ پاکستان میں پرھائے جانے والے نصاب میں اسلامی طرز معاشرت اکابرین کی زندگیوں پر روشنی اور اسلامی تہواروں کا ذکر خیر ہی آئے گا۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں پرائمری سطح پر میں 2 اگست سے باقاعدہ یکساں قومی نصاب کا نفاز کر دیا گیا ہے جس پر والدین اور تعلیمی ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ‎@Educarepak

  • ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہمارے معاشرے میں جہاں نفسا نفسی کا دور ہے وہیں ہر بندہ جلد بازی کے چکر میں رہتا ہے ،کوئ امیر ہونا چاہتا ہے تو وہ بجائے محنت کرنے کے سوچتا ہے کہ میں بس کسی طریقے سے جلدی امیر ہوجاوں پھر وہ یقینن جلدی امیر ہونے کے چکر میں غلط کاموں میں پڑجاتا ہے جس سے اسے شائد کچھ وقتی فائدہ ہو لیکن آخرکار ایسی جگہ پھنستا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئ راستہ نہیں بچتا ،اسی طرح ہمارے ملک میں لوگ انصاف کے حصول کے لئے بھی بہت جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بس میں عدالت پہنچوں تو جج صاحب میرے حق میں فیصلہ دیئے بیٹھے ہوں
    اسی جلد بازی کے چکر میں اور جن سے دشمنی ہوتی ہے ان کو ذیادہ سے ذیادہ نقصان پہنچانے کے ارادے سے وہ سب سے پہلی غلطی FIRدرج کرواتے وقت کر بیٹھتا ہے
    ایف آئ آر کا یہ اصول ہے جتنی سوچ سمجھ کر اور اصل حقائق ،اور فوری طور پر درج کروائ جائے ،جن ١/٢ لوگوں نے آپ کو نقصان پہنچایا صرف ان کے نام اور بلکل سچے حقائق درج کروانے چاہئیں ،ہمارا جھگڑا کسی ایک بندے سے ہوتا ہے ایف آئ آر میں اس کے مامے،چاچے،تایا،دوستوں ،رشتیداروں سب کے نام دیتے ہیں تاکہ ان کو ذیادہ سے ذیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے حالانکہ معاملہ عدالت جانے کے بعد کافی حد تک اس کے الٹ ہوجاتا ہے
    ایک بات رکھیں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے
    آپ ایف آئ آر میں جتنی من گھڑت کہانیاں لکھیں گے اتنا ہی آپ کا نقصان ہے
    پہلے تو کسی بھی معاملے پر تمام اصل حقائق اور آپ سے جو ذیادتی ہوئ وہ لفظ بہ لفظ درج کروائیں
    کئ بار ایسا ہوتا ہے آپ کے سامنے والی پارٹی بڑی اثر رسوخ والی ہے تو پولیس آپ کی ایف آئ آر درج نہیں کرتی یا ٹال مٹول سے کام لیتی ہے تو آپ فوری طور عدالت جاسکتے ہیں اور عدالت حکم جاری کرے گی کہ ان کی ایف آئ آر درج کی جائے
    ایف آئ آر کے بعد اگر جرم قابل ضمانت ہیں تو کئ لوگ فوری اپنی ضمانت کروالیتے ہیں ،ضمانت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان عدالت سے بری ہوگئے
    اس موقع پر آپ نے ہمت نہیں ہارنی ہوتی اور نا ہی مایوس ہونا ہے بلکہ صبر سے کام لیں اپنے موقف پر جو کہ سچائ پر مبنی ہو پر ڈٹے رہیں تو یقینن آپ کو انصاف ضرور مل کر رہے گا
    کوشش کریں ایف آئ آر درج کرواتے وقت کسی وکیل کو اپنے ساتھ لے جائیں یا درخواست اس سے لکھوالیں تاکہ وہ تمام قانونی پہلووں سے آپ کی بہتر طریقے سے مدد کرسکے ،کیونکہ
    کئ بار کیس کمزور کرنے کے لئے پولیس ایف آئ آر کو کافی کمزور بنادیتی ہے جس کا بھی نقصان یقینن آپ کو ہی بھگتنا پڑتا ہے
    پھر کورٹ میں سارا معاملہ پولیس انویسٹیگیشن /پراسیکیوشن ،گواہاں اور ثبوتوں کی بنیاد پر چلتا ہے
    اور ظاہر سی بات ہے عدالتوں میں ہزاروں کیسز ہوتے ہیں اس لئے ہر کیس چند دنوں میں حل ہونا بہت مشکل ہوتا ہے اس کے لئے حکومت کو عدالتوں /ججز کی تعداد میں یقینن اضافہ کرنے کی ضرورت ہے
    جلد بازی سے ہرگز کام لینے کی کوشش نا کریں
    اگر آپ کا کیس جائز ہے سچ پر مبنی ہے تو تھوڑی دیر ہی سہی انصاف آپ کو ضرور ملے گا