Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حصے میں ایک ماہ کے لیے آچکی ہے ۔ بھارت جو تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی غاصبانہ و جارحانہ رویہ اپناے ہوے ہے اسے اس قدر حساس ادارے کی سربراہی ملنا پاکستان و دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے ۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اور بھارت امن کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق افغان فضائیہ کے زیراستعمال طیارے بھارتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پائلٹ بھی بھارتی ہی ہوں۔ اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی وہ کھیل رہا ہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔ سلامتی کونسل کی ہی منظور کردہ قراددیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی سربراہی ملنے کا معاملہ یہ ہے کہ انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے ہر رکن ملک ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتا ہے ۔ بھارت کی سربراہی کے موقع پر خارجہ پاکستان کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ ’’امید ہے بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کی اقدار کی پاسداری اور قواعد کا احترام کرے گا۔ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی ذمہ داری یاد کرائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بھارتی مستقل مندوب تیرومورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے ے لیے بات کرنے کو تیار ہے ۔ ہم دنیا کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ، لہذا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم آئین کی دیگر شقوں کی طرح بھارتی پارلیمنٹ کا واحد اختیار ہے ۔ بھارتی مندوب شاید بھول رہے ہیں کہ جس فورم کی صدارت ان کے حصے میں آئی ہے اسی کی قراردادیں کشمیر کے متعلق بڑی واضح الفاظ میں موجود ہیں ۔ پاکستان نے مذکورہ بالا بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفیر کے بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ، بھارت حقائق کو مسخ کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو جھٹلا نہیں سکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ 5 اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا۔ جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے نافذ العمل ہیں اور اسے صرف سلامتی کونسل ہی منسوخ کر سکتی ہے ۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91 اور نمبر 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اوربھارت کا یہ اقدام کالعدم ہے ۔

    اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جس طرح سے بھارت نے مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بدترین کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی سے زائد بھارت نے فوج تعینات کررکھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ گاؤماتا کی حرمت کے نام پر کہیں مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے تو کہیں مسلمان عورتوں کو سرعام جنسی تشدد کے ساتھ سسکتے ہوے مرنے کو پھینکا جارہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے تو کہیں کسانوں پر نام نہاد قوانین کا نفاذ کرکے انھیں بغاوت پر ابھارا جارہا ہے ۔ اس سارے ظلم و تشدد کے بعد اگر کوئی بھارتی مسلمان ، عیسائی ، سکھ یا پھر کوئی اور جدوجہد کا آغاز کرتا ہے یا پھر مسلح جتھا بنالیتا ہے تو اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں جب بھارت کے اپنے ملک کی حالت خانہ جنگی کی سی ہے تو سلامتی کونسل کی سربراہی دینا "بندر کے ہاتھ ماچس” دینے کے مترادف ہے ۔ لکھ رکھیے کہ بھارت کوشش کرے گا کہ وہ ایک ماہ میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پیروں تلے روند کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والا صدر کی کرسی پر براجمان ہوچکا ہے

  • ‏خوبصورت تحفے  تحریر : محمد نوید

    ‏خوبصورت تحفے تحریر : محمد نوید

    باعث غربت اور معذوری میرے لئے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل تھا تھا میرے پڑھنے کے شوق کو جہاں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا وہاں دوستوں نے اور اساتذہ صاحبان نے بھی میری اچھی حوصلہ افزائی کی جب کبھی حالات انگڑائی لینے لگتے میرے حوصلے کبھی پست ہوتے تو کبھی بلند اللہ پاک مجھے اچھے نیک دل لوگوں سے ملواتا گیا یوں میرا پڑھنے کا شوق زندہ رہا میرا پڑھنے کا شوق اس وقت مزید بڑھ جاتا جب کوئی مجھے کتاب یا پین تحفے میں دیتا یوں تو بہت ساری کتابیں مجھے میرے محسنوں نے مجھے تحفے میں دی جس کی وجہ سے کتاب پڑھنے کا شوق ھوا میٹرک مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھ سا گیا
    سکول جانے کے لیے کبھی گدھا گاڑی کا استعمال بھی غلط نہ لگا بس بیٹھ جاتا کہ کسی طرح سکول ٹائم سے پہلے پہنچ جاؤں
    اللہ کے فضل سے میٹرک کر لی لیکن نمبر بہت کم تھے کیوں کے ایک دو دن سکول پیدل جانا پڑجاتا تو اگلے دن تھکاوٹ کی وجہ سے بخار ہو جاتا اسی طرح تعلیم کو جاری رکھے رکھا استاد صاحبان کو بھی میرے جسمانی حالت بارے علم تھا تو انہوں نے بھی شرکت فرما کر مجھے اسمبلی حال میں آنے سے منع کردیا اسمبلی میں کبھی ادھر لڑھکجاتا تو اسمبلی کا نظم و ضبط بگڑ جاتا یوں جو ٹائم اسمبلی میں دینا ہوتا میں استاد صاحب کی کرسی اور جھاڑو پہنچا کرتے گزرتا استاد صاحبان نے مجھے باپ کی طرح شفقت سے نوازا ایک استاد صاحب نے تو میری فیس کا ذمہ اپنے سر لے لیا تو دوسرے استاد نے میری ورزی وغیرہ کے ذمہ لیا اور جوتے تو میں پہن نہیں سکتا تھا
    آج بھی استاد صاحبان اور دوستوں کے احسانات یاد کرکے دل بھر آتا ہے کہ اگر وہ مشکل وقت میں میرا سہارا نہ بنتے تو میں آج کہاں ہوتا؟میری تمام نوجوانوں سے اپیل ہے جن کے پاس وسائل ہیں اور اللہ پاک کی دی ہوئی آسائشیں موجود ہیں اگر آپ کسی وجہ سے خود تعلیمی میدان میں آگے نہ بڑھ سکے تو آپسے اپیل ہے کے اپنے دوستوں اور ان مستحق بھائیوں اور بہنوں کے لئے ہروقت باہیں کھولیں رکھے ان کو کامیاب ہوتا دیکھ یقیناً آپ کو دلی خوشی نصیب ہوگی اور میں اپنے محسنوں کی آنکھوں میں وہ خوشی دیکھ چکا ہوں اگر آج میں کچھ بول لیتا ھوں کچھ لکھ لیتا ھوں تو یہ سب ان تمام کرم فرماؤں کی محبت کی وجہ سے ھے جہنوں نے میری حوصلہ افزائی کی میرے شوق کو زندہ رکھا

    ‎@naveedofficial_

  • افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس تحریرمیں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معاملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔ افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔

    انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہےماضی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ افغانستان میں سرگرم تھا لیکن ایران اور روس کے ساتھ ایسا کوئی اتحاد نہیں تھا۔ لیکن اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تہران پہنچنے سے پہلے ایک طالبان کا وفد وہاں موجود تھا۔ جب وہ روس پہنچے تو وہاں بھی طالبان موجود تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اس وقت ایران اور روس دونوں کے ساتھ افغانستان پر کام کر رہا ہے۔شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہتی ہیں کہ
    افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہ چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

    کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور
    and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • پاکستان کا شہری  تحریر: جنید خان ہا نبھی

    پاکستان کا شہری تحریر: جنید خان ہا نبھی

    ہمارے ملک میں طرح طرح کی اچھی چیزیں ہو رہی ہیں لیکن اس کی پیدائش کے فورا بعد ، بہت سے غیر حل شدہ مسائل بھی ہیں جو بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ گڈ گورننس اور ٹرانسپرٹی عام ہیں اس کے علاوہ سرکاری محکموں کے درمیان موثر مواصلات کا فقدان ہے جو ہمارے نظام میں مزید مسائل کا اضافہ کر رہے ہیں۔ میری تشویش ، آج ، محکمہ تعلیم ہے جہاں سالوں سے وضاحت کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ، اسکولوں کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ اسکول کے ہر داخل طالب علم کے پیدائشی سرٹیفکیٹ مکمل کریں۔ اس پر عمل کرنا ایک اچھا قدم ہے لیکن کیا یہ سمجھنا مناسب نہیں ہے کہ یہ دنوں میں کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ایک تفویض جس کے لیے نادرا کا تعاون درکار ہے۔ ہر روز ہزاروں بچے ملک میں جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح ، ہر روز ہزاروں بچے 18 سال کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں (شناختی کارڈ رکھنے کے اہل)۔ چونکہ اس کی تخلیق ہے ، نادرا شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسکولوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کا کام ان کے ساتھ ساتھ بچوں اور ان کے والدین کے لیے اضافی چیز ہے۔ اس مرحلے پر نادرا حکام اور محکمہ تعلیم کے درمیان وزارت سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ دوسری صورت میں مؤثر ریلیف کا متبادل طریقہ جیسے کہ موبائل رجسٹریشن وین مختلف ہائی سکولوں کو مناسب شیڈول میں نئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کارکردگی اور پیداوری کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اس مسئلے کے حوالے سے کئی شکایات وزیر اعظم پاکستان کے شہری پورٹل پر جمع کرائی گئی ہیں (موبائل رجسٹریشن وین دینا)۔ ہر شکایت پر ، نادرا آفس ملتان کو ایک فون کال موصول ہوتی ہے جس میں صرف لب سروس کا جواب ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر موبائل رجسٹریشن وین تشویشناک علاقے میں پہنچ جائے گی۔ اور فوری طور پر انہوں نے شہری پورٹل پر رائے دی کہ انہوں نے اس مسئلے کو حل کر لیا ہے۔ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ، بہت سے دلوں سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے اگر کوئی شخص جو کہ اتھارٹی کے عہدے پر ہے اس آرٹیکل کو پڑھ رہا ہے تاکہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی تکلیف کسی طرح کی راحت سے مل سکے۔ ان کے والدین یا دادا والدین ان علاقوں میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں شامل ہیں ، شہریت ایکٹ 1951 کے آغاز سے پہلے پاکستان کے شہری ہیں۔ پاکستان شہریت ایکٹ ، 1951 کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا کوئی بھی شخص پاکستان کا شہری ہے۔ پاکستانی شہریت کا قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہریت کو کنٹرول کرتا ہے۔ قومیت کا تعین کرنے والی بنیادی قانون ، پاکستان شہریت ایکٹ ، پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 13 اپریل 1951 کو پاس کیا۔ برٹش انڈین ایمپائر (جس میں جدید ہندوستان ، بنگلہ دیش اور برما شامل تھے) اور اس کے لوگ برطانوی رعایا تھے۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے لیے ایک ریاست کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور برطانوی دولت مشترکہ میں ایک ڈومینین کا درجہ رکھتا تھا۔ اس میں جدید بنگلہ دیش شامل تھا ، جو مشرقی بنگال اور مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا اور 1971 میں پاکستان سے آزاد ہوا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کے بعد ، لاکھوں مسلمان ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر گئے ، اور کئی لاکھ ہندو اور سکھ جو پاکستان بن گیا اس میں رہ کر ہندوستان میں ہجرت کی ، شہریت کے کئی مسائل اٹھائے۔ 1951 کا پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 13 اپریل 1951 کو نافذ کیا گیا۔ اس کا مقصد بتاتے ہوئے "پاکستان کی شہریت کی فراہمی” ہے۔ اس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اس ایکٹ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص پیدائشی طور پر پاکستان کا شہری ہوگا۔ اس کے پاس مقدمہ اور قانونی عمل سے ایسی استثنیٰ ہے جیسا کہ پاکستان میں تسلیم شدہ بیرونی خودمختار طاقت کے ایلچی کو دیا گیا ہے اور وہ پاکستا کا شہری نہیں ہے اس کا باپ دشمن اجنبی ہے اور پیدائش اس جگہ پر ہوتی ہے جب دشمن کے قبضے میں ہو۔
    جنید خان ہانبھی
    Twitter :junaidhanbhi

  • فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار

    فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار


    جب سے یہ دنیا بنی جرائم ہمیشہ سے ہیں.یہ دنیا خطا کہ پُتلے "انسانوں "کی ہے. حق و باطل, اچھائ و برائ کی یہ جنگ رہتی دنیا تک جاری رہنے والی ہے.یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ سب فرشتہ صفت ہو جائیں کوئ گنہگار نہ بچے اور یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے.جہاں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنکی وجہ سے انسانیت زندہ ہے وہیں کچھ لوگ انسانیت کے نام پر شرمناک دھبہ ہیں. اس دنیا میں اچھائ کی برتری اور بدی و جرائم کی سرکوبی کے لیے خالقِ کائنات نے دین ِاسلام میں واضح شرعی سزائیں مقرر فرمائ ہیں تا کہ نظام ِعدل سر بلند رہے اور دنیامیں اچھائ کو برائ پر فوقیت رہے. .نبیِ آخر الزماںﷺ کے مبارک دور سے خلفائے راشدین اور جب تک اسلام سپر پاور رہا,مسلمانوں کا دورِ عروج رہا یہ صرف تب تک تھا جب تک امتِ مسلمہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا.اور دنیاوی و دینی تعلیم ہو,میدانِ سیاست ہو یا نظامِ عدل ہر جگہ احکامِ الہی کو مدِ نظر رکھا جاتا رہا.سخت شرعی سزاؤوں کا نفاظ رہا.حکمران اپنے آپ کو رعایا کے جان و مال کا امیں سمجھتے رہے.وقت کا سفر جاری رہا مسلمانوں نے عروج سے زوال کی سیڑھی پر قدم رکھا حاکم سے محکوم ہوئے.. بظاہر اسلامی ممالک رہے مگر جدید دنیا کے تقاضوں اور مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی نظام اور قوانین کو کہیں پسِ پشت ڈال دیا گیا.اسلامی سزائیں مغرب کے کہنے پر "انسانیت "کے نام پر ختم کر دی گئیں. یہاں سے انسانیت کے شرمناک دور کا آغاز ہوا ہر آنے والے وقت میں جرائم, نا انصافی کی شرح پہلے سے بڑھتی گئی.غرباء اور بے بس لوگوں کی عزت دو کوڑی سے بھی کم خون پانی سے سستا ہوتا گیا. نظامِ عدل, انصاف,قوانین صرف نام کے رہ گئے.عدالتیں اور فوری انصاف صرف اشرفیہ جاگیرداورں,سیاست دانوں , بیوروکریسی اور طاقتور لوگوں کا حق بن گیا.کیس اپنی مرضی کی عدالت میں لگوا کر,مرضی کا مصنف خرید لینا اور فیصلہ بھی مرضی کا یہ عام سی باتیں بن کہ رہ گئی ہیں. شاہ زیب قتل کیس سے زین قتل کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ یتیم خانہ چوک لاہور تک ہزاروں مثالیں ہیں. غریبوں کے لیے فوری انصاف حاضر ہے جب کہ غرباء میں اگر مقتول قتل ہوتا ہے تو لواحقین کی وکلاء کی مہنگی فیسوں اور عدالتوں کے چکروں میں زندگی تمام ہوتی ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ملزم پابندِ سلاسل وفات پا جائے بعد میں عدالت میں بے گناہی ثابت ہو. ایسی مثالیں بھی ہیں نوجوانی میں بے گناہ لوگ اس اندھے نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بالوں میں سفیدی آنے پر انہیں باعزت رہائ کا پروانہ ملتا ہے ان رسمی لفظوں کے ساتھ کہ نظامِ عدل آپکی ساری زندگی ضائع کر دنیے پر معزرت خواہ ہے.یہ معزرت ہے یا بدترین مذاق؟ہزاورں بے گناہ زینب /ماہم / نور مقدم ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں 100 میں سے ایک کو سزا ملتی ہےاور باقی چند سال سرکاری مہمان پر جیل میں رہتے اور رہائ پاتے ہیں.مجرم طاقت ور ہو تو ایف آی آر تک درج نہیں ہوتی. آج اپنے نظامِ عدل سے ذرا سی واقفیت رکھنے والا شخص آسانی سے نور مقدم کیس کا مستقبل بتا سکتا. ملزم کو ذہنی مریض ثابت کیا جائے گا ,ڈی این اے رپورٹ تبدیل ہوگی یا تھراپی ورکرز میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے یا انکے بیانات بدلوا لیے جائیں گے.یہ ہے ملک کا جوڈیشنل سسٹم.مقتول لاشوں کو کندھوں پر رکھ کے پھرتے ہیں, بے گناہ کے آنسو انکے گریبانوں پر گرتے ہیں پتھر دل نظامِ عدل کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.

    کچھ سرعام ،کچھ پسِ دیوار بکتے ہیں !
    اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
    یہاں تہزیب بکتی ہے !
    یہاں فرمان بکتے ہیں!
    ذرا تم "دام ” تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟کیا ہم مسلمان ہیں اس اسلام کے پیروکار ہیں جسکے رہنما سیدنا محمدﷺ کا عدل یہ تھا کہ فرمایا میری جان سے عزیز بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کریں تو انکے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں. ہمارے اسلاف /ہمارے رہنما وہی عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نہیں کہ گلیوں میں گشت فرما رہے تھے بوڑھی عورت ملی نا جانتے ہوئے کہ یہی تو امیرَالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں شکوہ شکائیت کرنے لگی کہ عمر میرے حال کی خبر نہیں رکھتا.آپ نے کہا اماں جی عمر کو اتنی بڑی سلطنت میں آپکے مسائل کا علم کیسے ہوگا؟اگر آپ خود نہیں بتائیں گی.. بوڑھی عورت نے تاریخی جواب دی کہا کہ عمر کو چاہیے اتنی ہی زمیں پر حکمرانی کرے اور اتنے ہی لوگوں کا خلیفیہ بنے جنکی خبر رکھ سکے.آپ کا دل ہِل کے رہ گیا اور فوراً خبر گیری کی مہم تیز تر کردی.عدل کیسے قائم ہوتا منصف/ حکمران کیسے ہوتے ہیں تو کوئ عمرِ فاروق کو دیکھے فرماتے "قوم کا سچا حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے”.راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پہرا دیتے.خوفِ خدا اور اقتدار کی جواب دہی کا ڈر اسقدر کہ فرماتے اگر دریائے فرات کے کنارے عمر کی خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر بارگاہِ الہی میں جواب دہ ہو گا. اس ایک بات سے وطنِ عزیز کے بوسیدہ نظامِ عدل کی تمام تر وجہ سمجھ آجاتی ہے کہ عمرِ فاروق کتے کی جان کو بھی سراسرا صرف اور صرف اپنی ذمہ داری قرار دیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہر روز سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر محظ رسمی, مذمتی تقاریر اور کبھی نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کہ فارغ ہو جائیں. نظام حکمران نے درست کرنا ہے بروزِ قیامت ہرنگہبان/حکمران سے سے ہی رعایا کے حقوق کی جواب دہی ہو گی.”فاروقی عدل ” وقت کی ضرورت ہے. حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا مطلب عوام کی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے.اقتدار کو مسندِ عیاشی سمھجنے اور دن رات صرف سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اصل ذمہ داری کی کی طرف آنا ہو گا جو کہ جو کہ رعایا کے جان و مال کا تحفظ اور منصفانہ معشرے کا قیام ہے.یہی پاکستان کی معاشی ترقی اور ہر میدان میں عروج کا راز ہو گا کیونکہ معاشرے عدل پر پھلتے پھولتے اور سپر پاور بنتے ہیں.جس وطن میں مظلوموں, بے بسوں کی آہیں ہوں.طاقتور کے لیے معافی اور بے بس اور چھوٹے لوگوں کے لیے سزا ہو. وہاں لاکھ کوئ ایک کے بعد ایک نام نہاد بہترین حکمران بدلے.. معاشی ترقی کے لیے بہترین سے بہترین پالسیز /منصوبے بنیں عدل سے روگردانی کرنے والے معاشروں کا مقدرصرف تباہی ہے.آج بھی نظامِ مصطفیﷺ کی روشنی میں مکمل اسلامی سزاوؤں کا نفاذ ہو,حکمران حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلیں تو یہ معاشرہ جنگل بننے سے بچ جائے.اور عجب نہیں کہ دنیا فاروقی عدل اور امتِ مسلمہ کی کھوئ ہوئ شان و شوکت ایک بار پھر دیکھے.
    ‎@SMA___23‎

  • ازدواجی خاندانی نظام  تحریر: فروا نذیر

    ازدواجی خاندانی نظام تحریر: فروا نذیر

    آج کل ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں وہاں سسرال کا نام لیتے ہیc لڑکیاں عجیب سا رد عمل دیتی ہیں
    سب لڑکیاں تو نہیں لیکن کچھ لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔۔۔

    سوچنے کی بات ہے ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟

    اللہ پاک نے ہر انسان کو نکاح کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے؛
    کہ نکاح ہر بالغ مرد و عورت پر فرض ہے
    نکاح کرنا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کی سنت ہے نکاح اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی نسل کو پروان چڑھا سکیں
    اور بد امنی سے بھی بچنے کے یہ بہترین طریقہ ہے کہ جس کو تم پسند کرتے ہو جائز اور پاکیزہ رشتے میں اپنا لو اللہ تم پر اپنا کرم کریں گا…
    لیکن لوگوں نے نکاح کو بھی ایک فیشن سا بنا لیا ہے نکاح تو ہوگیا

    لیکن کچھ لڑکیوں نے سسرال کے بارے میں اتنے غلط نظریات رکھے ہوئے ہیں کہ شادی کے بعد وہ پرسکون نہیں رہتی اور کہتی پھرتی ہیں کہ سسرال ایسا ہے یا ویسا یے..
    تو یہ بات غلط ہوتی ہے سسرال بھی ایل گھر ہی ہوتا ہے لیکن اس معاشرے میں رہتے ہوئے لوگ غلط سوچ کو رکھنا شروع ہوگئے ہیں مانا کی کچھ ساس یا سسر سخت ہوتے ہیں۔۔

    لیکن کیا آپ اس بات کو مانتے کہ کچھ ماں باپ بھی تو سخت ہوتے ہیں لیکن وہ تو برے نہیں ہوتے بس سسرال ہی برا ہوتا ہے جب بہو اچھا سلوک نہیں کرے گی تو ساس کسطرح اچھا سلوک کریں گی…
    آج کل لڑکیوں کو بس اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سسرال میں رہتے ہوئے سبکو خوش کرنے کیلیے تھوڑا سا کمپرومائز (Compromise)کرنا پڑتا ہے تاکہ مسائل سے بچا جا سکیں..
    لیکن لڑکیاں اس بات پر آتی نہیں وہ اپنی انا کو سامنے لے آتی ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے جھگڑے تعلق خراب اور یا پھر علیحدگی….
    لڑکیوں کو ایک اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ سسرال بھی تو گھر ہی ہوتا ہے وہاں کوئی دوسری دنیا کے لوگ تو نہیں ہوتے
    جیسے اپنے گھر میں ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے اسی طرح سسرال میں بھی شوہر کے ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے
    جہاں بس آپکو یہ کرنا ہوتا آپکو ان کے ساتھ اچھا سلوک اور عزت..
    کیونکہ آپکی عزت بھی اس وقت ہو گی جب خود دوسروں کو عزت دوں گے…
    جیسے کہا جاتا ہے: *جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے* اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا سسرال پاؤ گے اور برا کرو گے تو برا پاؤ گے…
    لیکن آجکل اخلاقیات کی بہت کمی ہوتی جارہی ہے جیسے جیسے انسان تعلیم حاصل کررہا ہے اس میں انسانیت عقل و شعور ختم ہورہا ہے کچھ لوگوں میں …
    تو یہ سب بہت غلط ہورہا ہے کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو اسکا مقام اور عزت دیا ہے اب اسکو استعمال کیسے کرنا ہے وہ بھی بتایا گیا ہے..
    لیکن استعمال نہیں کرتے لوگ یہی تو معاشرے کاسب سے بڑا فعال ہے.. اور پھرقصور وار سسرال کو ٹھہرادیا جاتا ہے ..
    میں یہ بات سب پر نہیں بس کچھ پر کر رہی ہو تاکہ کوئی اپنے اوپر نہ لے اور ایک بار اپنی زندگی کا جائز لیں…
    یقین مانیں سسرال کو اگر اپنا گھر ساس سسر کو والدین اور باقیوں کو بہن بھائیوں کی طرح سمجھے گے۔۔۔تو آپکو کوئی مشکل نہیں ہوگی اور جہاں مشکل ہو گی وہاں آپکا اللہ ہمیشہ ساتھ ہے…
    میرا اس تحریر کو لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ آجکل لوگ گمراہی کی طرف جا رہے ہیں
    سسرال کو کچھ سمجھتے نہیں اور فورا ہی الگ گھر کرلیتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا سوچے کیا ان ماں باپ کو مان نہیں ہوتا جنہوں نے اتنی محنت اور محبت سے بیٹے کو قابل انسان بنایاہوتا ہے….
    تو سب اس بات پر غوروفکر کریں کہ آپ کیا کررہے ہیں کہاں کھڑے ہیں اور آپکو کیا کرنا چاہیے..
    میری تو یہی رائے ہے سسرال کو اپنا گھر سمجھ کر رہےاور ویسا ہی رویہ اختیار کریں
    جیسا اپنے ماں باپ کے گھر ہوتا تو آپ پرسکون زندگی گزارو گے…
    میری اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھ سمیت ہر انسان کو بھلائی عطا فرمائے
    اور سیدھے راستے پر چلائے اور ہمیشہ اللہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو
    آمین ثمہ آمین

    تحریر: فروا نذیر
    Twitter : @InvisibleFari_

  • ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    ٹوکیواولمپکس میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے مقابلے میں فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا نیزہ بازی میں ایتھلیٹ ارشد ندیم فائنل میں پہنچنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

    باغی ٹی وی : ارشد ندیم دوسرے راونڈ میں 85.16 میٹر کے فاصلے تک جیولین پھینکنے میں کامیاب ہوگئے ارشد ندیم جیولین تھرو کے گروپ بی میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔

    پاکستان واپڈا سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم جیولن تھرو کے فائنل راونڈ تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے نو ایتھلیٹس ناکام ہوچکے ہیں ارشداب میڈل کیلئے آخری امید ہیں جیولین تھرو کا فائنل راونڈ 7 اگست کو کھیلا جائے گا۔

    اولمپکس 2021 میں بھارت کو ہوئی عبرتناک شکست

    میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کسی ’انویٹیشن کوٹے‘ یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ارشد ندیم نے سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور نیزہ پھینک کر نہ صرف ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا بلکہ اس کارکردگی کے بل پر وہ براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے۔

    خاتون نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی

    ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہےان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ہے ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔

    ٹوکیو اولمپکس :25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلہ، پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے چھٹی…

  • اسلام اور سیاست  تحریر: رانا محمد جنید

    اسلام اور سیاست تحریر: رانا محمد جنید

    یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور پچھلی بہت سی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے،
    کیا اسلام سیاست کی اجازت دیتا ہے،کیا اسلام میں سیاست کا کوئی کردار ہے۔؟
    یقیناً یہ سوال آپ بھی بہت دفعہ سن چکے ہوں گے،
    اور یہ کے جوابات بھی بہت الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں
    کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسلام صرف اور صرف عبادات کا ہی نام ہے۔
    پر کیا یہ حقیقت ہے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں۔۔۔۔؟
    اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوال پیدا کب ہوا۔
    کیوں لوگوں کو ایسا بولنا پڑا کے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں
    اگر ہزاروں سال پیچھے جا کے دیکھا جائے اور اسلام کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ہمیں یہ پڑھنے کو ملے گا اللہ پاک جب بنی اسرائیل کی طرف کوئی نبی بنا کے بھیجتا تھا تو اسے نبی کے ساتھ ساتھ حاکم بھی بنا کے بھیجا جاتا تھا
    جب ایک نبی وفات پا جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ پر آ جایا کرتا تھا
    نبی کریم خاتم النبیین محمدﷺ نے ارشاد مبارک فرمائے:

    ‏بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں
    (صحیح بخاری باب الانبیاء ذکر بنی اسرائیل حدیث 3455)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئیے گا اس لیے صحابہ کرام امت کے رہنمائی کے لیے خلیفہ بن کے آئیے
    اور خلیفہ وہ ہی بنا کرتا تھا جو جتنا زیادہ متقی اور پرہیز گار ہوتا تھا
    خلافت کے بعد ملوکیت شروع ہوئی جو کے اسلام کے ساتھ ساتھ چلتی آئی
    اور پھر اس کے بعد بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان بہت سارے حصوں میں تقسیم ہو گئے
    اس کی وجہ دین دشمنوں کو دین اسلام کا ڈر تھا کے اگر مسلمان متحد رہے اور اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو روکنا ممکن نہیں۔
    اس لیے یہود و نصارٰی نے مسلمانوں کو آپس کے اختلاف میں ڈال کے سرحدوں میں تقسیم کر دیا
    اور مسلمان حکمرانوں اور نوجوان نسل میں یہ بات زہر کی طرح شامل کر دی کی اسلام اور سیاست جدا ہیں۔
    جب تک کوئی پرہیز گار شخص حاکم نہیں بنے کا تب تک دین دشمنوں کو اسلام کے کوئی خطرہ ہی نہیں
    اور یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اکرام کو حکومتی معاملات سے الگ کر دیا گیا
    چاہے وہ بادشاہت نا نظام ہو یا جمہوری نظام

    علامہ محمد اقبال نے کیا خود کہا تھا

    جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
    جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    اگر ہم اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کریں گے تو ہمارے پاس انگریزوں کا ظالمانہ نظام جمہوریت کی شکل میں ملے گا جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے
    آج کا ہر مسلمان حکمران اسلام کی خدمت کو چھوڑ کر اپنے ملک اور اپنی سرحد کی فکر میں ہے، اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں
    اگر مسلمان حاکم مل بیٹھ کر اپنے معمولات کو اسلام کی رو سے حل کریں کی کوشش کریں تو ممکن ہے مسلمان ایک بار پھر سے متحد ہو سکتے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس پا سکتے ہیں
    پر اس کے لیے سب کو اسلام کے بارے سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرنا لازم ہے
    ایران کے سپریم لیڈر امام خمینی صاحب نے کیا خوب کہا ہے

    ”ہمارا دین عین سیاست اور ہماری سیاست عین دین ہے“

    ہمارا اسلام ہمیں سیاست کے بہترین اصول فراہم کرتا ہے
    اور اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے

  • ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ  تحریر:- مدثر حسین

    ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ تحریر:- مدثر حسین

    کرونا کے باعث جہاں دنیا بھر میں تمام نجی و سرکاری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، وہیں تعلیمی میدان میں بھی طلبہ کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے. کرونا کی صورتحال ملک کے سبھی علاقوں میں ایک جیسی نہیں ہے. گنجان آبادی والے علاقوں میں کرونا کے وار انتہائی تیز اور متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے.
    2020 کے امتحانات میں میٹرک کے طلباء کو پروموٹ کیا گیا. جماعت دہم کے طلباء کو جماعت نہم میں حاصل کردہ نمبروں کی مناسبت سے نمبرز دے کر پاس کر دیا گیا جبکہ جماعت نہم کو دہم میں پروموٹ کر دیا گیا. امسال بھی شروع میں ایسی ہی پیشن گوئیاں گردش کرتی رہیں.
    حکومت پاکستان نے طلباء کی پریشانیوں کا ادراک کرتے ہوئے نصاب کو مختصر کیا، بعد ازاں مزید مختصر کیا گیا. سکول و کالج کے دوبارہ کھلنے پہ بچوں سے جو ٹیسٹ لئے گئے اس میں یہ بات سامنے آئی کہ طلباء کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور امتحانات کے حوالے سے خاصی پیچیدہ صورتحال نظر آ رہی ہے. اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے، وزیر تعلیم کی سربراہی میں کئی اجلاس ہوئے. جن میں ہفتے میں تین دن کلاس لگانے کے آرڈرز دئے گئے.
    کرونا کی بدلتی صورتحال کے باعث کئی دفعہ سکول و کالج بند کرنا پڑے جس سے طلباء کی کارکردگی پہ حد درجہ اثر پڑا.
    اپریل مئی میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف سائنسی مضامین کے امتحانات لئے جائیں گے اور ایک مضمون میں سے حاصل کردہ نمبر دوسرے مضامین کے بھی لگائے جائیں گے مثلا جماعت دہم کے طالب علم کے فزکس میں سے حاصل کردہ نمبر ہی اسکی جماعت نہم کی فزکس کے حاصل کردہ نمبرز کے برابر ہوں گے. اور اس کے ساتھ اردو یا انگلش کے بھی اتنے ہی نمبرز لگائے جائیں گے.
    اس وقت راولپنڈی بورڈ میٹرک کے امتحانات جاری ہیں، بہت سارے تعلیمی اداروں کے سربراہان (پرنسپلز) امتحانات کے نتائج کے حوالے سے کافی پریشان نظر آ رہے ہیں تاہم بعد اداروں میں طلباء کو نقل فراہم کرنے کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں. پرچہ شروع ہونے سے 15 منٹ قبل طلباء کو معروضی پرچہ کے جوابات بزریعہ واٹس ایپ اپلیکیشن بھیج دئیے جاتے ہیں. امتحانی مراکز کا عملہ اس عمل میں پیش پیش ہے. ظاہری طور پہ طلباء کی مدد کے لئے کی جانے والی یہ کوشش حقیقت میں ایک جرم ہے. پرچہ آؤٹ ہونے پہ گورنمنٹ کی طرف سے پرچہ کینسل بھی کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے طلباء کو دوبارہ امتحانات دینے پڑیں گے.

    ‎@MudassirAdlaka

  • سلطان عبدالحمید ثانی تحریر: ذیشان علی

    سلطان عبدالحمید ثانی تحریر: ذیشان علی

    سلطنت عثمانیہ کا 34 سلطان عبدالحمید ثانی 21 ستمبر 1842 کو استنبول (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے، دس سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا ان کی سوتیلی ماں نے ان کی دیکھ بھال کی تھی ان کی سوتیلی ماں کی کوئی اولاد نہیں تھی انہوں نے سلطان عبد الحمید کی بہترین تربیت کی اور سگی ماں کی طرح ان کی پرورش کی اور وفات کے وقت اپنی ساری جائیداد عبدالحمید کے نام کر دی تھی،
    عبدالحمید ثانی ایک ہنر مند بڑھائی بھی تھے۔ انہوں نے ذاتی طور پر کچھ اعلی معیار کا فرنیچر تیار کیا تھا جسے استنبول کے یلدز ، سیل کوسکو اور بییلربی محل میں آج بھی دیکھا جا سکتا ہے،
    13 اگست 1876ء جب سلطان عبدالحمید ثانی کی بیعت کی گئی، اس وقت وزراء اعیان سلطنت اور بڑے بڑے سول اور فوجی افسر سرائے طوبقیو میں موجود تھے، مختلف جماعتوں کے نمائندوں نے انہیں خلافت کی مبارکباد دی سلطنت کے طول و عرض میں گولے داغے گئے اور جشن کا اہتمام کیا گیا تین دن تک استانبول میں خوب چہل پہل رہی اور صدر اعظم نے اطلاع کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں کو ٹیلی گرام بھیجے،
    سلطان عبدالحمید ثانی نے مدحت پاشا کو صدر اعظم مقرر کیا پھر 23 دسمبر 1876 کو اس دستور کا اعلان کر دیا جس میں شہری آزادیوں کی ضمانت دی گئی اور پارلیمانی حکومت کی طرز پر دستور پیش کیا گیا،
    سلطان عبد الحمید کو اپنے دور حکومت کے ابتدائی سالوں میں وزراء کی طرف سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جدید عثمانیوں کی جمعیت کی قیادت میں ان کی مغربی طرز کی پالیسیوں کی وجہ سے انہیں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا،
    یہ لوگ اگرچہ تعلیم یافتہ تھے لیکن مغربی رہن سہن اور تہذیب و ثقافت نے انہیں متاثر کردیا،
    اور سلطنت کی تباہی میں متحرک جماعتوں نے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا،وزراء کا حکومت پر دباؤ حد سے بڑھ گیا اور مدحت پاشا جو جدید عثمانیوں کی جماعت کی نمائندگی کر رہے تھے سلطان عبدالحمید کو ابتدائی دور حکومت 1877 میں لکھا!؛
    "”دستور کے اعلان سے ہمارا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ظلم کا خاتمہ ہو سب کے حقوق و فرائض کا تعین ہو وزراء کے وظائف کا تعین اور تمام لوگوں کی آزادی اور حقوق کی ضمانت ہو تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے، میں آپ کے احکام کی اسی صورت میں بجا آوری کروں گا کہ یہ احکام قوم کے مفادات کے منافی نہیں ہونگے،
    سلطان عبدالحمید ثانی اس خط کے جواب میں کہتے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ مدحت پاشا اپنے آپ کو مجھ پر حاکم اور آمر خیال کرتا ہے اور اپنے معاملے میں جمہوریت سے بہت دور اور آمریت کے بہت قریب ہے،
    مدحت پاشا اور اس کے ساتھی شراب نوشی کیا کرتے تھے، مدحت پاشا شراب نوشی کی خصوصی محفل میں مملکت کے اہم ترین راز افشا کر دیتا تھا اور دوسرے دن یہ راز استانبول کے رہنے والوں کے درمیان پھیل جاتے تھے ایک رات میں اس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بہت جلد دولت عثمانیہ میں جمہوریت کا اعلان کرنے والے ہیں،
    مدحت پاشا پر سلطان عبدالعزیز کے قتل کا الزام بھی تھا سلطان عبدالحمید نے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ وہ اس بارے تحقیق کرے پھر الزام لگانے والوں کو عدالت میں پیش کیا گیا پاشا پر جرم ثابت ہو گیا عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی لیکن سلطان عبدالحمید کی مداخلت پر موت کی سزا کو قید میں تبدیل کر دیا گیا مدحت پاشا کو حجاز مقدس کی طرف جلاوطن کر دیا گیا جہاں فوجی قیدیوں کے لیے قید خانہ موجود تھا،
    سلطان عبد الحمید اپنے اسلاف کی طرح 1876 تا 1909 تک کلی اختیارات استعمال کرتے رہے،
    جو دستور متعارف کرایا گیا اس میں پارلیمنٹ کے ممبران کو آزادی رائے کا حق حاصل ہوگا، ان کا محاسبہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ وہ مجلس کے اصولوں سے تجاوز کر جائیں یہ دستور عثمانی ترکوں کی زبان میں لکھا گیا تھا کیونکہ یہی ملک کی سرکاری زبان تھی،
    دستور میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ملک میں رہنے والے تمام افراد عثمانی قوم کے افراد شمار ہوں گے اور ان میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جائے گی تمام افراد کا تعلق کسی بھی دین سے ہو قانون کی نظر میں یکساں ہوں گے تمام افراد پر ایک جیسے فرائض واجبات عائد ہونگے،اور تمام کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے،
    سلطان عبدالحمید نے حکم دیا کہ دستور کو نافذ کیا جائے اور عام انتخاب کرائے جائیں تاریخ عثمانی میں اس طرح کا کام پہلی بار ہو رہا تھا اس انتخاب میں 71 سیٹیں مسلمانوں کو اور 44 سیٹیں نصرانیوں کو اور 4 سیٹیں یہودی نمائندوں کو حاصل ہوئیں،
    پہلی عثمانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس 29 مارچ 1877 کو ہوا ایوان بالا 26 ممبران پر مشتمل تھا جس میں 21 مسلمان نمائندے اور باقی غیر مسلم تھے لیکن مجلس نمائندگان 120 ارکان پر مشتمل تھی اجلاس میں جب مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی تو بعض عرب نمائندوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا لیکن مجلس نمائندگان کی عمر بہت کم ثابت ہوئی اس سے پہلے کہ اس کا دوسرا سیشن مکمل ہوتا 13 فروری 1878 میں بعض نمائندگان نے تین وزراء کو مجلس کے سامنے جوابدے ہونے کے لیے طلب کر لیا کیونکہ ان پر کچھ الزامات تھے معاملہ سلطان تک پہنچا سلطان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا سلطان عبدالحمید نے مجلس کو برخاست کر دیا اور بہت سے ممبران کو جلاوطن کردیا،
    عبدالحمید دوم نے دور دراز کے ممالک کا دورہ کیا تخت سنبھالنے سے 9 سال قبل وہ اپنے چاچا سلطان عبدالعزیز کے ساتھ کئی یورپی دارالحکومت اور شہروں کے دورے پر گئے جن میں پیرس، لندن اور ویانا وغیرہ سرفہرست ہیں،
    سلطان عبدالحمید نے بیوروکریسی میں اصلاحات کی رمیلیا ریلوے اور اناطولیہ ریلوے کی توسیع کے ساتھ ساتھ بغداد اور حجاز ریلوے کی تعمیر ان کے دور میں ہوئی،
    ان کے دور میں بہت سے پیشہ وار اسکول قانون سمیت تمام شعبوں کے لیے قائم کیے گئے آرٹس سول انجینئر ویٹرنری میڈیسن کاشتکاری اور لسانیت البتہ 1881 نے استانبول یونیورسٹی بند کر دی گئی تھی لیکن 1900 میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا تھا،
    اور پوری سلطنت میں ثانوی پرائمری اور فوجی اسکولوں کا نیٹ ورک بڑھا دیا گیا۔عثمانی سلطنت کی جدید کاری ان کے دور حکومت میں جاری رہی،
    تاریخ میں ان کا نام سلطنت عثمانیہ کے آخری بااثر اور با اختیار خلیفہ کے طور پر جانا جاتا ہے جو اپنا وژن خارجہ پالیسی اور نظریات رکھتے تھے،
    1877 اور 1878 روس کے ساتھ جنگ میں سلطنت عثمانیہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود سلطان عبدالحمید نے اپنی فوج کو منظم کیا اور سلطنت کو سہارا دیا روس کے ساتھ جنگ کے بعد وہ اس بات پر قائل ہو گئے کہ یورپی اتحاد ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا، یورپی اتحادی سلطنت پر مشکل وقت میں کام نہیں آئیں گے،
    لیکن یونان کے ساتھ جنگ میں عثمانیوں کو فتح حاصل ہوئی،
    سلطان عبدالحمید نے اسلامی قانون اور ضابطہ اخلاق پر زور دیا کیونکہ تنظیمات کے تحت سلطنت کے زوال کو روکنا ممکن نہیں تھا، اسلامی شناخت پر توجہ کم کرنے کے باعث قومیت پسندی کو زیادہ تقویت ملی تھی سلطان نے اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ مغرب کو ترکی سے کم ہی خار ہے مغربی طاقتوں کو اصل ہدف اسلامی شناخت کا طرز حکومت ہے، سلطان اس بات پر قائل ہوگئے تھے کہ مسلمانوں کو نظریاتی طور پر مسلم شناخت کی جانب قائل کرنا ہوگا،
    انیسویں صدی دنیا بھر میں یورپی قومیت کے نظریات کی لپیٹ میں آ چکی تھی اور سلطنت عثمانیہ کی کئی ریاستیں ان نظریات سے متاثر ہو چکی تھی عرب ممالک میں اسلامی شناخت کی بجائے عرب قومیت کے نظریات فروغ پانے لگے،
    1881 میں فرانس نے تیونس اور 1882 میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر لیا تھا انیسویں صدی کے آخری دہائی میں برطانوی اخبارات میں مختلف تجاویز شائع ہوتی رہی کہ برطانیہ کو جزیرہ نما عرب میں اپنا کنٹرول بڑھانا چاہیے اور یہ بھی کہ خلیفہ عبدالحمید چونکہ سادات میں سے نہیں اس لئے میں نے سلطنت کا حق نہیں چناچہ عرب کے لیے خلیفہ عرب میں سے ہی ہو اور سادات میں سے ہونا چاہیے ان حالات میں قومیت کو فروغ ملا بیرونی محاذوں پر مسائل کا سامنا کرنے والی سلطنت کو اندرونی سطح پر زیادہ چیلنجز کا سامنا ہونے لگا،
    اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سلطان عبدالحمید نے حجاز مقدس کی جانب بھی دستے روانہ کئے تاکہ حالات کو کنٹرول میں رکھا جائے اور سلطنت کی وحدت قائم رہے السعود خاندان کی جانب سے بھی مختلف علاقوں میں کنٹرول کے لئے سلطنت کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہیں 1902 ملک عبدالعزیز ابن سعود نے ریاض کا کنٹرول سنبھال لیا اور یہی تاریخ بعد میں سعودی عرب کے قیام کا باعث بنی،
    اسی طرح سلطنت کے بہت سے علاقے ہاتھ سے نکلتے گئے،
    لیکن سلطان عبدالحمید ثانی نے بہت مشکل حالات میں سلطنت کو سنبھالے رکھا سلطان عبدالحمید ثانی کا شمار سلطنت عالیہ کے نامور اور ذہین سلاطین میں ہوتا ہے۔
    مگر مغرب کی طرف سے قومیت پرست سازش کی شورش اتنی زیادہ تھی کہ آخر کار وہ سلطنت کے خاتمے کا باعث بنی،
    اگرچہ سلطان عبدالحمید ثانی کے بعد دو اور بھی سلطان منتخب ہوئے لیکن وہ سلطنت کے نام نہاد سلطان تھے،
    سلطان 27 اپریل 1909 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین،

    سلطان عبدالحمید ثانی کے دور حکومت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن اس سے یہ تحریر بہت لمبی ہو سکتی ہے بہت ایسے واقعات ہیں جو اس تحریر میں شامل نہیں کر پایا،

    ذیشان علی
    @zsh_ali