Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟  تحریر: خالد عمران خان

    حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟ تحریر: خالد عمران خان

    سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ ثقافت کے رنگ ،روایات،تاریخی مقامات ،دلکش وادیاں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے قدرتی مناظر کی بدولت پاکستان سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ برس ایک تفریحی میگزین نے پاکستان کو نہ صرف چھٹیاں گزارنے بلکہ مہم جوئی کے لئے بہترین جگہ قرار دیا۔سیاحت جہاں تفریح کا سامان میسر کرتی ہے وہیں کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے 2019کےاعداد و شمار کے مطابق سیاحت کی صنعت نے ملکی معیشت میں5.9فیصدتک کا حصہ ڈالاہے ۔اس کےعلاہ تقریباً39 لاکھ نوکریاں پیداہوئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاحت کی صنعت 2025 تک ملکی معیشت میں ایک کھرب روپے کا حصہ ڈالے گی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے حکومت سیاحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔سیاحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے چند اقدامات قابل غور ہیں ۔
    سڑکوں کی بہتری: ملک میں سیاحت کے رجحان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی میں بہترین سڑکوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اعلیٰ حکام نے اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے متعددمنصوبوں کا آغاز کیا۔مثلاً خیبر پختون خوا کے سیاحتی مقامات تک باآسان رسائی کے لئےسوات ایکسپریس وے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔اس منصوبے سے نہ صرف مسافت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بلکہ شہریوں میں سیاحت کا رجحان اجاگر ہوا۔

    آن لائن ویزہ کی فراہمی :ماضی میں قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین تک رسائی کے لئےغیر ملکی سیاحوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئےحال ہی میں آن لائن ویزہ سسٹم متعارف کروایا تاکہ ویزہ کے اجرا کو آسان بنایاجاسکے۔اس سے نہ صرف191 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزہ کی سہولت میسر ہوگی بلکہ 50 سے زائد ممالک کے شہریوں کےلئے آن ارائیولول ویزہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

    این ۔او۔سی کی شرط کا خاتمہ : گزشتہ ادوار میں غیر ملکی سیاحوں کی ملک کے مختلف تفریحی مقامات تک رسائی کے لئے این او سی ایک بڑی رکاوٹ تھا۔سیاح ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے آتے تو نہ صرف انہیں مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اعلیٰ حکام کے بارے میں سیاحت کے شعبہ میں دلچسپی نہ لینے سے منفی تاثر جاتا۔موجودہ حکومت نے2019 میں سیاحوں کے لئے این۔او۔سی جیسی رکاوٹ کو ختم کردیاجس سے سیاحت کے رجحان میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے روزگار میں بہتری کے روشن امکانات ہیں ۔
    امن و امان کی یقینی فراہمی :9/11سانحہ کے رونماں ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی طویل جنگ سے سیاحت کی صنعت بے حد متاثر ہوئی ۔وہ وادیاں جو کبھی سیاحوں کی تفریح کامرکز تھیں دہشت گردوں کی آما جگاہ میں تبدیل ہوگئیں۔گزشتہ دہائیوں سے افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے امن و امان بحال ہوسکا۔اس کے علاوہ حکومتِ خیبر پختونخواہ نے شہریوں کے جان و مال کےتحفظ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات پر پولیس فورس متعارف کروائی جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔

    تاریخی و مذہبی مقامات کی ازسرنو بحالی: شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان تاریخی و مذہبی مقامات کی بدولت خاص کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں ایسے کئی مقامات پائے جاتے ہیں جن سے تاریخی و ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیں ۔مذہبی مقامات کی بدولت وطن عزیز سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے مرکز نگاہ ہے۔ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے سکھ یاتری ننکانہ صاحب آتے ہیں ۔حکومت وقت نے حال ہی میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر مذہبی سیاحت کے رجحان کے لئے کرتار پور راہداری اور وسیع کملیکس کو پائہ تکمیل تک پہچایا۔
    والڈ سٹی اتھارٹی کا قیام:لاہورتاریخی عمارتوں کی بدولت بے دنیا کے تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے2012 میں حکومت پنجاب نے والڈ سٹی اتھارٹی قائم کی۔
    ورثہ و سیاحت اتھارٹی :حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ورثہ و سیاحت اتھارٹی کا قیام عمل میں آیاجس کامقصد ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت شامل
    ہے۔
    حکومتی سطح پر آگاہی مہم :پاکستان گزشتہ کئی برس دہشت گردی کی زد میں رہا ہے۔اس وجہ سے ایک عرصہ تک پاکستان کودنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جاتا رہا۔ اگرچہ یہ منفی تاثر ایک حد تک زائل ہوتا نظر آتا ہے حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات جاری ہیں ۔پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نےیہ عندیہ دیا ہے کہ ستمبر 2021میں سیاحت کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہاہے۔
    حکومت کے سیاحت کےلئے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔جس سے ملک میں سیاحت کی صنعت کا مستقبل روشن دیکھائی دیتاہے۔

    Twitter ID: @KhalidImranK

  • تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار  تحریر: احسان اللہ خان

    تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُن چند جانباز علماء اور مخلص ترین لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے چھٹکارا دلاکر آزادی کا پرچم اُن کے ہاتھوں میں تھمایا، اور ان کے لئے آزادامذہبی زندگی گزارنے کا پُرخار راستہ ہم وَار کیا۔ آپؒ 1885ء کو ضلع بجنور غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے، جہاں آپؒ کے والد ماجد علامہ فضل الرحمن عثمانیؒ سرکاری مدارس کے ڈپٹی انسپکٹر تھے۔ آپؒ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید اور اُن کے صحیح علمی و سیاسی جانشین تھے۔ آپؒ نے 1908ء میں دورۂ حدیث کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا اور مدرسہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی۔
    علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں:ایک پہلو آپؒ کی زندگی کا خالص علمی و تحقیقی ہے۔ آپؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی تفسیر کا تکملہ لکھا جواُنہوں نے مالٹا جیل میں سورۃ النساء تک لکھی تھی۔ اِس تفسیر کی تکمیل آپؒ نے اِس خوبی سے کی کہ بڑے بڑے علماء کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔حدیث کے میدان میں آئے تو صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم عربی زبان میں تصنیف کرڈالی ۔ تدریس کے میدان میں آئے تو علمی جوہر دکھلائے۔ آپ کا شماردار العلوم دیوبند کہنہ مشق اور اعلیٰ مدرسین میں ہوتا تھا۔ آپؒ نے 1910ء سے 1928ء تک دارالعلوم دیوبند میں متوسط کتب سے لے کر صحیح مسلم تک کی تدریس کی۔ 1928ء میں آپؒ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت چلے گئے، اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم قرار دیے گئے اور1943ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
    علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا دوسرا پہلوسیاسی ، ملی اور ملکی خدمات کا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جنگ بلقان سے ہوا۔ آپؒ نے تحریک خلافت میں زبردست حصہ لیا۔ آپؒجمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے زبردست رکن تھے۔ 1919ء سے لے کر 1945ء تک آپؒ اسی میں شریک رہے۔بعد ازاں آپؒ نے مسلم لیگ میں شریک ہوکر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی۔ اور تحریک پاکستان کے حامی علماء پر مشتمل ایک جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام ‘‘ کے نام سے تشکیل دی، جس پہلے صدر آپؒ منتخب ہوئے، اور نائب صدر علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بعد پاکستان کا وجود اِن دونوں حضرات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر یہ حضرات مسلم لیگ میں شرکت کرکے شریعت اسلامیہ کی رُوشنی میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی رہبری نہ کرتے تو مسلم لیگ کی طرف ہوا کے رُخ کو موڑنا اور نظریۂ پاکستان کی طرف سیاست کے دھارے کا منہ پھیرنا ناممکن نہیں تو دُشوار ضرورر تھا۔ علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اِس سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صدر کی حیثیت سے ملک بھر کے دورے کیے ، سرحد کے ریفرینڈم میں کامرانی حاصل کی ، آزادیٔ کشمیر کی جد و جہد میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو اپنی علمی، تحقیقی، اور سیاسی تجربات کی بنیاد پر کام یابی سے ہم کنار کرایا۔
    اِس میں شک نہیں کہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کا کردار اِس تحریک میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔اِس لئے کہ مسلمانانِ ہند کی جس بالغ نظری اور حکمت عملی سے رہنمائی علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے کی وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکا۔
    اِس حقیقت کا اندازہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کی اُس تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؒ نے 26 دسمبر 1945ء کو دیوبند کے ایک جلسے میں کی، جس میں آپؒ نے فرمایا:’’عرصہ دراز کی کاوشوں اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حصولِ پاکستان کے لیے میرے خون کی ضرورت ہو تو میں اس راہ میں اپنا خون دینا باعثِ افتخار سمجھوں گا۔ اس ملک میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور مسلمانوں کی باعزت زندگی قیامِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی کامیابی سمجھوں گا اگر اس مقصد کے حصول میں کام آجاؤں۔‘‘
    تحریک پاکستان کی یہ کوشش اور جد و جہد محض اِس مقصد کے لئے کی گئی تھی کہ اِس خطۂ زمین میں مسلمانانِ پاکستان قرآن و سنت کے قوانین نافذ کریں گے اور اپنی تہذیب و ثقافت، علوم و فنون اور اپنی قومی اُردُو زبان کو فروغ دینے کے لئے کسی کے تابع و محتاج نہیں رہیں گے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر علماء و مشائخ نے قربانیاں دیں ، بالخصوص علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی حیاتِ مستعار کے آخری سال مقصد کے حصول کی خاطر قربان کیے ۔ آپؒ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وطن عزیز ملک پاکستان میں اسلامی احکام اور دینی قوانین کا اجراء اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، مگر قدرت نے جس سے جتنا کام لینا مقرر کیا ہوتا ہے اُسی قدر اُس سے کام لیا جاتا ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی زندگی کا مشن مسلمانانِ ہند کے لئے علیحدہ ایک نئے خطے کی صورت میں وطن عزیز ملک پاکستان کا عدم سے وجود میں لانا تھا۔ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا مطمح نظر قدرت کے نزدیک قرار دادِ مقاصد کی تجویز کا پاس کراکر اِس مملکت خداداد کا آئین و دستور قرآن و سنت پر رکھنا تھا۔
    بالآخر تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ پاکستان بننے پر مؤرخہ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان1366ء کی دوپہر کو افتتاحِ پاکستان کی تقریب سعید میں حصہ لینے کے لئے دیوبند سے کراچی تشریف لائے۔ اور 14 اگست کو کراچی میں جشن آزادی میں شرکت فرمائی۔ قائد اعظم محمدعلی جناح رحمہ اللہ نے آپؒ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ملک کے دارالحکومت کراچی میں پہلی پرچم کشائی آپؒ ہی کے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔ اور مجلس دستور ساز میں رُکنیت بھی آپؒ کودلوائی۔ 11 ستمبر 1948ء کو جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تو اُن کی وصیت کے مطابق اُن کا نمازِ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے ہی پڑھایا۔
    پھر اِس کے تقریباً ایک سال اور چند ایام بعد علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو 8 دسمبر 1949ء کی شب کو بخار ہوا، صبح طبیعت ٹھیک ہوگئی، آٹھ بجے صبح پھر سینہ میں تکلیف ہوئی اور سانس میں رُکاوٹ ہونے لگی۔ بالآخر مؤرخہ 13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفر 1369ھ کو 11:40.AMمنٹ پر سہ شنبہ (منگل کے روز) 64 سال کی عمر میں علم و عمل اور دین و اسلامی سیاست کا یہ آفتاب و ماہتات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس عالم رنگ و بو سے غروب ہوگیا۔ انان للہ وانا ا لیہ راجعون۔
    یہ خبر بجلی کی طرح سارے عالم اسلام میں پھیل گئی۔ اور دُنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بند ہوگئے۔ گورنر جزل خواجہ نظام الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے اپنے دورے منسوخ کردیئے۔ عوام و خواص اور ممالک اسلامیہ میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ میت بغداد الجدید بہاول پور سے کراچی پہنچائی گئی۔ آپؒ کے شاگردِ رشید علامہ بدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ نے آپؒ کو غسل دیا اور مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تقریباً دو لاکھ سے زائد مسلمانوں نے آپؒ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اور آپؒ کا جسد خاکی اسلامیہ کالج جمشید روڈ کراچی میں سپردِ خاک کردیا ؎
    مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
    تو نے وہ’’ گنج ہائے گراں مایہ ‘‘ کیا کیے؟
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • کہانی شجرکاری کی۔ (آپ بیتی) تحریر سید معین الدین

    کہانی شجرکاری کی۔ (آپ بیتی) تحریر سید معین الدین

    مجھے ہمیشہ سے سرسبز و شاداب ماحول بہت اچھا لگتا ہے دل کرتا ہے ہر طرف ہریالی ہو، ہر طرف خوبصورت اور مٹی کٹے سے پاک درخت ہوں۔ ہر سڑک کنارے بہت سے خوبصورت درخت ہوں جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور تھکن دور ہوتی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے میدانی علاقوں میں ایسا منظر بہت کم ہی میسر ہوتا ہے۔
    پھر میں نے دنیا سے نظریں اوجھل کرتے ہوئے فیصلہ کیا اپنی ایک چھوٹی سی الگ دنیا بسائی جائے۔ جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے گھر کے ساتھ باہر کی طرف تھوڑی سی جگہ جو سڑک اور گھر کے درمیان میں رہ جاتی ہے اس جگہ پر گھاس اور کنارے پر پودے لگانے کا پروگرام بنایا جس کے لیے جگہ کو سیدھا کر کے ایک طرح سے کیاری کی شکل میں ڈھال دیا۔ اگلا مرحلہ گھاس اور پودے لگانے کا تھا تو سوچا پہلے گھاس لگا کر پھر باہر کی طرف پودے لگا دوں گا۔
    اس طرح سے میں مطمئن تھا کہ گھر کے باہر ہی آنکھیں ٹھنڈی کرنے ذریعہ ہوجائے گا ۔
    بس پھر زمین کی جگہ تیار کی اور پودے لگا دیے۔ اس دن بڑا ہی خوش تھا کہ بھائی ہم نے بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال دیا۔ دل کے ارمانوں کا جنازہ تو اس وقت نکلا جب اگلے دن شام کو کام سے واپس گھر آیا تو دیکھا پودوں پتے تو موجود ہی نہیں ہیں۔ معلومات لینے پر پتہ چلا کہ دوسری گلی کے ہمسایوں کی بکری اپنا حصہ سمجھتے ہوئے کھا گئی ہے۔ اس پر دکھ تو بہت ہوا لیکن پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔
    سوچا محلے کے سکیورٹی گارڈ کی منت سماجت کر کے اس بکرا گردی سے نجات حاصل کر سکتا ہوں جس کے لیے تھوڑی سی منت اور تھوڑی سی خدمت کروانے کے بعد سکیورٹی گارڈ صاحب نے ہماری مدد کرنے کی حامی بھر لی اور ہم بھی ذرا دل میں خوش ہو گئے کہ چلیں اب کچھ فائدہ ہو جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تیسرا ہی دن تھا اور ہمارے خواب، خواب غفلت میں شمار ہوئے۔ سکیورٹی گارڈ سے دریافت کیا تو جناب گوش گزار ہوئے، "سر جی میں ایک راؤنڈ لگانے دوسری طرف گیا اور جب واپس آیا تو دیکھا چڑیا چگ گئیں کھیت۔”
    حقیقت میں مجھے تو پودے اگانا جوئے شیر لانے کے مترادف لگ رہا تھا کیونکہ حالت بالکل اسی طرح ہو گئی کہ جیسے شاعر نے کہا، "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔” لیکن ھم بھی اتنی جلدی کہاں آرام سے بیٹھنے والے تھے؟
    اگلے مرحلے میں اس جگہ کے باہر خاردار تار لگوا کر پودے لگانے کا فیصلہ کیا لیکن یی بھی صرف خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔ کیوں کہ کسی شخص کو یہ فضول خرچی لگی اور وہ ایک خاردار تار کو کاٹ کر اتار لے گیا۔ ایسے ہی دوسری اور پھر تیسری تار بھی پہلی تار کی جدائی برداشت نہ کر سکیں اور اس پہلی والی کی طرف پہنچ گئیں۔
    بس پھر کیا ہونا تھا بکریوں نے ایک بار پھر سے راؤنڈ لگایا اور ایسے صفائی کر گئیں کہ اتنی اچھی تو میونسپل کارپوریشن والے بھی نہیں کرتے۔
    اب پھر سے کوئی ترکیب سوچنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے کیونکہ اوسان خطا اور جیب خفا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی پودے لگانے کا جذبہ باقی ہے اگر آپ کے پاس کوئی بہتر ترکیب ہے تو ضرور بتائیں دیکھیں کہ اس پر عمل درآمد ممکن ہے۔

    ٹویٹر آئی ڈی

    @BukhariM9‎

  • اولمپکس 2021 ،”شوخا”کون؟، مودی حکومت یا شاہ رخ خان؟۔ تحریر : احمد علی عباسی

    اولمپکس 2021 ،”شوخا”کون؟، مودی حکومت یا شاہ رخ خان؟۔ تحریر : احمد علی عباسی

    بھارت کے ٹویٹر صارفین ہمیشہ سے ہی دو گروہوں میں تقسیم رہے ہیں ، ایک طبقہ وہ ہے جس کا کام بس مودی حکومت کی پالیسیز کا دفاع ہے،چاہے وہ بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہی کیوں نا ہوں ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے اپنی ذندگی کا مقصد ہندو شرپسندی کے خلاف جد و جہد بنا رکھا ہے ۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل، سرکار کے خلاف بولنے والے ہر انسان کا جینا حرام کیے رکھتے ہیں اور چاہے وہ انسان مودی کی” گستاخی "کرکے خود بھی بھول چکا ہو مگر یہ آئی ٹی سیل والے ہرگز نہیں بھولتے اور نفرت پھیلانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

    ویسے تو ذندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے نشانے پر ہوتے ہیں مگر اداکاروں سے تو شاید ان کی پیدائشی دشمنی ہے ۔
    ہوا کچھ یوں کہ شاہ رخ خان نے بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کی سپورٹ میں کی گئی ان کے کوچ "سجورڈ مرجنے” کے ٹویٹ کا رپلائی اپنی جانب سے چک دے انڈیا میں نبھائے جانے کردار”کبیر خان” کے انداز میں دیا ۔ چک دے انڈیا ہاکی کے بارے بنائی جانے والی فلم تھی جو 2007 میں ریلیز ہوئی ، بھارت سمیت دنیا بھر میں اس کو خوب پذیرائی ملی ،شاہ رخ نے اس فلم میں بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کے کوچ کا کردار ادا کیا تھا اور ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا تھا ۔

    سارا بھارت اولمپکس میں بھارت کے کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی پر خوش تھا مگر پھر بھی شاید اسی خوشی کا اظہار اگر مودی کا کوئی ناقد یا مسلمان کرے تو بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور ہندتوا کے لوگوں کے مطابق وہ رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے ۔ شاہ رخ نے تو صرف بھارتی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہی کیا تھا جب کوچ نے اپنی فیملی کو ٹویٹ میں پیغام دیا کے "میں معذرت خواہ ہوں ، کچھ اور دیر تک آوں گا” ساتھ اپنی ٹیم کے ساتھ اپنی سیلفی بھی پوسٹ کی ۔ شاہ رخ نے رپلائی میں کہا” ہاں ہاں کوئی مسئلہ نہیں بس آتے ہوئے تھوڑا سونا(میڈل) لیتے آئیے گا،ایک ارب کی فیملی کے لیے ،اس دفعہ تو دھنتیرس(ہندو تہوار) بھی دو نومبر کو ہے ۔ ۔ ۔ ۔ منجانب : سابقہ کوچ کبیر خان”.

    اس رپلائی کے بعد تو جیسے ٹویٹر کے”دانشوروں”کو آگ ہی لگ گئی ۔ بھارتی کھلاڑی جتنے بھی میڈلز جیت کر آتے ہیں ،بی جے پی کے سیاست دان انہیں ائیر پورٹ پر ہی "ہائی جیک” کرکے اپنی نمائشی تقریبوں میں لے جاتے ہیں ،اپنی اور مودی کی شان میں قصیدے پڑھواتے ہیں ۔

    اس کے بعد بڑے بڑے پوسٹرز بنائے جاتے ہیں جن پر بیچارے پلئیرز کی تصویر تو کجا ان کا نام بھی اس قدر حقیر لکھا جاتا ہے کے چشمہ لگا کر بھی مشکل سے نظر آئے مگر مودی کی تصویر اس قدر بڑی لگائی جاتی ہے کہ ایسا محسوس ہونا لگتا ہے جیسے اولمپکس میں میڈل اس پلئیر نے نہیں بلکہ مودی نے جیتا ہو ۔ اس پر نا ہی کسی انتہا پسند کو مسئلہ ہوتا ہے اور نا ہی "دیش بھگت” کا ایمان جاگتا ہے ۔ بی جے پی کے طرفدار ڈیجیٹل میڈیا چینل "او پی انڈیا” نے بھی شاہ رخ خان کو "شوخا "قرار دیا،اس منافقت پر صارفین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور شاہ رخ خان کو بھی خوب سپورٹ کیا ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آخر کب تک ٹویٹر نفرت انگیز مواد کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دے گا کیونکہ یہ صرف بھارتی مسلمانوں کہ لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے مسئلہ ہے ۔

  • اولیاء کی شان قسط  تحریر:  یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان قسط تحریر: یاسمین ارشد

    اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے اس دنیا میں ہدایت کا انتظام فرمایا جو بندہ راہ راست پر نہ ہو گمراہی کا شکار ہو اگر اللہ تعالی کی نازل کردہ ہدایت کو قبول کرے اللہ پاک اس بندے کے ساتھ راضی نامہ کرتا ہے ہدایت کی اتباع کرنے والے لوگوں کو اس دنیا میں نہ ہی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی غم؟ ہدایت انبیاء کرام کی صورت میں کتبہ ثواویہ کی صورت میں صحفاء ابراہیم کی صورت میں اور مقدس کتاب قرآن مجید کی صورت میں اللہ پاک نے اس زمین پر نازل فرمائی جن لوگوں نے ان کی اتباع کر لی اس دنیا میں وہ اللہ پاک کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کر لی۔ اور جس نے ان چیزوں کو ٹھکرایا ان سے انکار کیا پھر ان لوگوں کے لئے اللہ پاک نے سپیشل اپنی قدرت کی طرف سے کچھ نشانیاں نازل کیں تاکہ ان لوگوں کو ہدایت کی سمجھ آ جائے اگر اللہ پاک کسی نبی کے ہاتھ میں اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے اس کو معجزہ کہتے ہیں اور اللہ پاک کہیں ایسے بندے کے ہاتھ میں کوئی اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے جو نبی نہ ہو اس کو اللہ کا ولی کہتے ہیں اس کے ہاتھ کے اوپر ظاہر ہونے والی نشانی کو کرامت کہتے ہیں ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے معجزہ بھی حق اور ولی کی کرامت بھی حق اگر ان لوگوں کو سمجھ آ جاتی تو پھر وہ مان جاتے ہدایت قبول کرتے اگر سمجھ نہ آتی تو اللہ پاک کی ہدایت کو ٹھکرا دیتے اللہ پاک نے ایسے لوگوں کے لئے جہنم بنائی ہے جو نہ انبیائے کرام کو تسلیم کریں نہ کتبہ ثواویہ کو تسلیم کریں نہ قرآن مجید کے احکامات کو تسلیم کریں اور نہ ہی اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہدایت کو تسلیم کریں اور نہ ہی کسی نبی کے معجزے کو اللہ کی طرف سے نشانی تسلیم کریں اور نہ ہی ولی حق کی کرامت کو تسلیم کریں پھر ایسے لوگوں کے لئے اللہ پاک نے جہنم بنائی ہے ولی جو ہیں اللہ کے دوست ہوتے ہیں ان لوگوں کی ولایت حق ہے ان کی ولایت ان کی بزرگی دوستی اللہ کے ساتھ قریب کا تعلق ہے اللہ پاک نے خود قرآن مجید میں اس کی تفصیل بیان کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدیث قدسی میں ( من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب) کہ اللہ تعالی نے فرمایا جو بندہ میرے سچے ولی کے ساتھ دشمنی کی میرے کسی سچے ولی کا بغض اپنے دل میں پالے میرے سچے ولی کی مخالفت کرے اس کی کرامت کی مخالفت کرے اس کی ولایت کی مخالفت کرے اس کی تلاوت کی مخالفت کرے اس کے سخاوت کی اس کے زور کی مخالفت کرے اس کے تقوی کی مخالفت کرے اس کی سزا کیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے اس بندے کے ساتھ میں جنگ کا اعلان کرتا ہوں میری جنگ ہے اس کے ساتھ میرے ولی کی مخالفت کرنے والے کے ساتھ میری جنگ ہے میرے ولی کے دشمن کے ساتھ میری جنگ ہے اولیاء کرام بزرگان دین اللہ دے کربوسیدہ بندے ہیں ان لوگوں سے تو ہم لوگوں تک دین پہنچایا ہے جاری۔۔۔۔ہے دوسری قسط جلد پبلش جائے گی ان شاءاللہ
    تحریر یاسمین ارشد
    @IamYasminArshad
    twitter.com/IamYasminArshad

  • انسان پر اللّہ کی آزمائش تحریر: صادق سعید

    انسان پر اللّہ کی آزمائش تحریر: صادق سعید

    سمندر کی گہرائی تک تو شاید کوئی پہنچ گیا ہو لیکن ماں کے پیار کا کنارہ آج تک کسی کو نہیں ملا اور نہ کبھی مل سکتا ہے کیونکہ ماں جب بولتی ہے تو اس کے لہجے میں جبرائیل بولتے ہیں۔
    کیونکہ ماں جب مسکراتی ہے تو ایسا لگتا ہے کے جنت کی ساری کلیاں پھولوں کی کھل گئی ہوں۔

    اللّہ نے ماں کے سینے میں وہ درد وہ محبت وہ الفتوں کا ایک جاہاں آباد کردیا ہے کیوں کے ماں تو پھر ماں ہی ہوتی ہے۔
    ماں کے سینے میں رکھا ہوا پیار تو ایک اجیب کائنات ہے تڑپتی ہوئی ممتا اور ایک الگ ہی جاہاں ہے کبھی آپ نے دیکھا ہو کے بچہ جب گھر سے نکلتا ہے دنیا کی بڑی بڑی دانش گاہوں میں اسکا انتظار ہو رہا ہوتا ہے لوگوں کو عقلو دینیش سیکھانے جا رہا ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک بات کو لوگ موتیوں کی طرح جھولیوں میں ڈالتے ہیں اور دنیا کی دانش گاہوں میں یونیورسٹییو میں اور درست گاہوں میں لوگ موتیوں جیسے اس کے جملے سننے کے لیئے بیتاب ہوتے ہیں اس کی باتیں زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتی ہیں تو لوگ سیکھنے کے لیئے جمہ ہوتے ہیں لیکن وہ شخص جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو ماں کتنے بھولے اور پیارے انداز میں کہتی ہے بیٹا زرا سڑک زرا دیہان سے پار کرنا سوچیں زرا آپ جو دنیا کو عقلو دینیش کا سبق سکھانے جا رہا ہے کیا أس کو یہ بھی نہیں پتا کے سڑک کیسے پار کرنی ہے؟
    لیکن ماں کے پیار کا روپ ہے یہ ماں کی محبت کا تیور ہے یہ ماں کی الفت کے رنگ ہیں اور جب تک بچہ گھر پلٹ کر واپس نہیں آتا ماں بیچین رہتی ہے ماں کے دل میں کھٹکا رہتا ہے اور بیٹے کے لیئے دعائیں مانگتی رہتی ہے کے میرا بیٹا خیر سے واپس گھر آجائے ماں کے سینے میں اتنا پیار کیوں ہے؟

    دکھ جی لیتی ہے تکلیفیں گوارا کر لیتی ہے غریب مائیں تو بیٹوں اور بیٹیوں کا پیٹ پالنے کے لیئے کسی کے گھر کے برتن بھی مانجھنے پڑھے تو مانجھ لیتی ہے۔

    تکلیفیں سہے لیتی ہے ازییتیں گوارا کر لیتی ہے لوگوں کی غلامیاں قبول کر لیتی ہے مائیں اپنی اولاد کے لیئے کیا کچھ نہیں کر لیتی ماں کو اولاد سے اتنا پیار کیوں ہے؟

    ایک ہی جواب ہے اس لیئے کے ماں نے اولاد کو جنم دیا ہے جس ماں نے جنم دیا ہے وہ اتنا پیار کرتی ہے اور جس نے ہمیں خلق دیا ہے وہ کتنا پیار کرتا ہوگا جنم دینے والی کے پیار کا ٹھکانہ کوئی نہیں جو خلق کرنے والا ہے اس کے پیار کا اندازاہ کون کر سکتا ہے۔

    ماں گوارا نہیں کرتی کے میرا بیٹا بھوکا رہے تکلیف میں رہے بیٹا بھوک میں تڑپے تو ماں بیچین ہو جاتی ہے اور جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے أسنے کیسے گوارہ کرلیا کے میرا بندہ بھوکا رہے۔

    سحری کا کھانا کھایا ہے کڑکھتی دوپہر ہے برستی گرمی ہے زبان پر پپڑی جم گئی ہے حلق خشک ہوگیا کھانے کے لیئے پینے کے لیئے سب کچھ میسر ہے لیکن کہا نہیں ایک گھونٹ بھی نہیں لینا وضو کرتے وقت بھی احتیاط کرنا ہے کہی حلق سے نیچے کوئی قطرا أتر نہ جائے کچھ کھانا بھی نہیں ہے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب نے یہ کیسے گوارہ کرلیا؟

    اس مسلئے کو سمجھنے کے لیئے پھر دوبارا ماں کی آغوش میں آنا پڑے گا بیٹا بیمار ہوگیا ماں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئی أس نے دوا تجویز کی سیرپ کڑوا تھا بیٹا پیتا نہیں ماں نے زبردستی أس کو لیٹا دیا أس کا منہ کھولا أس میں قطرے سیرپ کے ٹپکا رہی ہے بچہ چیختا ہے روتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ قطرے بچے کے حلق سے نیچے اترتے جاتے ہیں ماں کے چہرے پر سکون آنے لگتا ہے۔

    کیا ماں سفاق ہوگئ ہے؟ نہیں
    ماں کی ممتا ختم ہوگئی؟ نہیں
    وہ جو بیٹے کی آنکھ میں آنسوں نہیں دیکھ سکتی تھی وہ تڑپتے ہوئے بچے کو دیکھ کر پر سکون کیوں ہے؟
    کیا ماں کی ممتا رخصت ہوگئی؟
    جواب: نہیں
    تو کیوں ماں اتنی خوش ہے؟
    کہا بیٹا نہیں جانتا ماں جانتی ہے چند لمحوں کی تکلیف ہے تھوڑی سی کڑواہٹ ہے لیکن جب یہ سیرپ اندر اترے گا تو نتیجہ شفا کی صورت میں ہوگا ماں کی نگاہ اس کڑوہے سیرپ پر نہیں ماں کی نگاہ نتیجے پر ہے۔

    کہا ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رب العالمین تمہیں بہت پیار کرتا ہے لیکن بھوک اور پیاس اس لیئے گوارہ کروائی جا رہی ہے کے اس کا نتیجہ تقویٰ کی صورت میں برآمد ہوگا تمہیں اتباع کی دولت ملے گی کے تم تقویٰ کے نور پالوگے اس لیئے یہ مہینہ ایک موقع ہے ایک فہرست ہے ہم اس فہرست کو غنیمت جانے اور اپنے نفس کو قابو میں کریں روزہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے اس لیئے اس سے وہ سب کچھ سیکھیں اور اپنے من کو سنوارنے کی کوشش کریں تو جب ہم تقویٰ کی دولت پالیں گے تو روزے کا مقصود عطاء ہوجائے گا۔
    اللّہ آسانیاں حاصل اور تقسیم کرنے کا شرف عطاء فرمائے آمین یارب العالمین۔

    Name: Sadiq Saeed
    Twitter: @SadiqSaeed_

  • مقبوضہ کشمیر تحریر عتیق الرحمن

    مقبوضہ کشمیر تحریر عتیق الرحمن

    تقسیم کے وقت کی حکمت عملی نومبر 1947 میں ، مہاراجہ کی ریاست کے زیر اہتمام ڈوگرہ نیم فوجیوں اور آر ایس ایس سے متاثر ہجوموں نے جموں میں تقریبا 300،000 کشمیری مسلمانوں کو برباد کردیا۔ اس نسل کشی کے قتل عام کی وجہ سے جموں میں تقریبا ایک ملین جموں کے مسلمانوں کی نقل مکانی اور جبری نقل مکانی ہوئی۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جموں کے ڈیمو گرافک میک اپ کو جان بوجھ کر تبدیل کرنے کے لیے ریاست کے زیر اہتمام قتل عام تھا ، ایک ایسا علاقہ جہاں مسلمانوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کل آبادی کے 60 فیصد سے زیادہ تھی ، اور اسی وجہ سے اکثریت قتل عام اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے اور ڈیمو گرافکس آج تک مصنوعی طور پر بدلے ہوئے ہیں۔ آج ، مقبوضہ کشمیر میں بہت سے لوگ اس سانحے کے دوبارہ ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ ڈیموگرافک تبدیلی کے علاوہ ، ہندوستانی حکومت نے اردو زبان کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا ہے – جو کہ علاقے میں گزشتہ 131 سالوں سے سرکاری زبان ہے۔ عوامی جگہوں کے مسلم نام بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں جبکہ اس سال 5 اگست کو مصنوعی طور پر کم کرنے کی کوشش کو دو سال ہو جائیں گے کیونکہ بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے چھین لیا ہے۔ یہ دو سال ایک تلخ یاد دہانی رہے ہیں کہ ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کا غیر معمولی وحشیانہ فوجی قبضہ باقی ہے۔ یہ ایک تاریخی ورثہ بھی ہے ، بلکہ علاقائی امن اور عالمی نظم و ضبط کے لیے بھی خطرہ ہے جو کہ انتخاب اور آزادی کے بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہے۔ بھارت ، بی جے پی کے ماتحت ، تیزی سے نظر ثانی اور بالادستی اختیار کرتا جا رہا ہے ، طاقت کے استعمال اور فوجی مہم جوئی کے ذریعے کشمیر کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ انسانی ہمدردی سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ یاد دہانی کہ آزادی کا بہادر جذبہ ، جو کشمیری عوام میں ان کے آباؤ اجداد نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف ان کی مہاکاوی جدوجہد کے ذریعے ابھارا تھا ، اب بھی باقی ہے۔ سات دہائیوں کے قبضے اور حق خودارادیت سے انکار کے باوجود کشمیری اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق کے لیے مسلسل مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کے ظالمانہ جبر اور مظالم نے ان کے عزم کو متاثر نہیں کیا۔ پاکستان اور اس کے عوام اپنے دلوں اور ذہنوں میں ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہیں۔ ہم ہمیشہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اصولوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے کھڑے ہیں۔ جبری حد بندی اور عالمی سیاست کے بہاؤ کے ذریعے مسلمانوں کی غیر جانبدارانہ نمائندگی کے باوجود ، پاکستان نے آئی آئی او جے کے میں ہمیشہ اس مقصد کے لیے پرعزم رہا ہے ، اور جاری رکھے گا ، بھارت نے پرامن پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے ، جیسا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے زیر اہتمام دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف غلط معلومات کے ڈوزیئر میں انکشاف کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ EŬ DisinfoLab نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے جعلی NGOS اور جعلی نیوز ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے نظام اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی ہیرا پھیری اور شرارتی کوششوں کا انکشاف کیا ہے۔ حال ہی میں ، ایک اعلی ہندوستانی عہدیدار نے ایف اے ٹی ایف پر سیاست کھیلنے اور پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ سب پاکستان اور خطے کے لیے اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ ہم اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا موجودہ ہندوستانی حکومت ایک عقلی اداکار ہے یا نظریاتی طور پر حوصلہ افزائی والی حکومت جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا؟ کشمیر میں جدوجہد مقامی ہے اور اسے ہمیشہ بھارتی کے خلاف عوامی حمایت حاصل رہی ہے یہاں تک کہ کشمیریوں کو یہ حق خود ارادیت دیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی آزادی ہے۔ حکومت کشمیر کاز کو اجاگر کرنے اور بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہے ، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث ہے۔ دنیا بھر میں کئی رہنما اور کشمیریوں کی منفرد شناخت کو کم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ اگرچہ پاکستان نے کبھی بھی ہندوستانی آئین کے کسی بھی آرٹیکل کو آئی آئی او جے کے پر لاگو کرنے کو تسلیم نہیں کیا ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے نتیجے میں حالات میں مادی تبدیلی آئی ہے۔ کشمیریوں نے ہمیشہ ناانصافی اور ریاستی بربریت کے مقابلہ میں بہادری ، لچک اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ بھارتی قبضے کی مزاحمت کریں گے جب تک کہ وہ اپنے سیاسی حقوق حاصل نہ کر لیں ، جس کی انہیں بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ضمانت دے۔ پاکستان عالمی سطح پر دنیا کو بیدار کرتا رہے گا۔ بین الاقوامی صحافیوں نے پہلی بار بھارت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پکارا ہے۔ وزیر اعظم ، ان کی کابینہ اور ہماری پارلیمنٹ نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر کے میں سفاکانہ بھارتی اقدامات کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ زمینی صورتحال اور قابض بھارتی افواج کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری تشخص کو مٹانے کا منصوبہ جاری ہے۔ اس میں ایک صدی پرانے ڈومیسائل قانون میں ارباب تبدیلی کے ذریعے جبری آبادیاتی تبدیلی شامل ہے۔ کشمیری لیڈر کمزور صحت میں ہیں اور ان کے اہل خانہ مقامی آبادی میں قابض کی سرگرمیوں اور ارادوں کے خلاف خوف محسوس کرتے ہیں۔ کشمیری اپنے قابضین کے آبادیاتی ڈیزائن کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ بھارت نے سب سے پہلے اس مقصد اور بین الاقوامی قراردادوں کو استعمال کیا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کشمیریوں کی طرف سے ان سخت کارروائیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر مزاحمت کو کنٹرول کیا جائے ، بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی کسی جیل کی طرح تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہر آٹھ کشمیریوں کے لیے ایک بھارتی فوجی ہے۔ ہزاروں سیاسی رہنما ، اساتذہ ، کارکنان ، صحافی اور طلباء ڈراکوین قوانین کے تحت بھارت بھر کی جیلوں میں قید ہیں اور الزامات کو ختم کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی حالت زار کے لیے دنیا کی اقوام سے گزارش کرتا ہوں اور انہیں یاد دلاتا ہوں کہ وہ کشمیریوں اور انسانیت کے اصولوں کے مقروض ہیں تاکہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں جیسا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں درج ہے۔ کشمیر عالمی ضمیر پر ایک ادھورا وعدہ ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر کے لوگ بھارتی قبضے کی زردی سے آزاد ہوں گے انشاء اللہ۔

    @AtiqPTI_1

  • کرونا وائرس،حکومت اور ماہرین تحریر:محمد وقاص شریف

    کرونا وائرس،حکومت اور ماہرین تحریر:محمد وقاص شریف

    زبان زد عام میں کرونا صرف چند ماہ کی بیماری ہے اس کا ثبوت چائنا کی شکل میں موجود ہے جو اس کا پہلا شکار تھا چائنا میں کرونا دسمبر 2019 میں آیا اور مارچ2020 میں دم توڑ گیا جبکہ باقیات کا خاتمہ تیزی سے جاری ہے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس کی عمر تقریبا اتنی ہی ہے جو یہ ٹائم گزارتا جا رہا ہے پابندیاں پہلے نرم پھر ختم کرتا جا رہا ہے پاکستان میں بھی اس کے خاتمے کا وقت آیا چاہتا ہے ماہرین کے مطابق 25 جون سے اس کے خاتمے کی ابتداء ہو چکی ہے اور اللہ نے چاہا تو اگست کے آخری یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ منظر سے غائب ہو جائے گا پاکستان میں اس کے زیادہ قیام کی وجہ ناقص منصوبہ بندی کمزور فیصلے انڈرسٹینڈنگ کا فقدان آپس کی کھینچا تانی سیاست بازی اور عوامی غیر سنجیدگی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو جون میں اس کا خاتمہ یقینی تھا مگر اب بات نہ صرف یہ کرونا کی اگست میں آ گئی ہے بلکہ اس حکومت کے لیے بھی اگست نہایت ہی مشکل نظر آرہا ہے اور ستاروں کی چال یہ بتا رہی ہے کہ اگست کے آ خر میں کرونا کے ساتھ ساتھ حکومت کے دن بھی گنے جا چکے ہیں ماہرین نجوم کے مطابق اگست کے اخر میں حکومت کے لئے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہو جائے گا جس کے بوجھ تلے یہ دب جائے گی غیب کا علم اللہ پاک ہی جانتا ہے لیکن ستاروں کی چال حکومت کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے اس کا اندازہ ابھی سے ہونا شروع ہوگیا ہے بیساکھیوں کے سہارے کھڑی اس حکومت کی لڑکھڑاہٹ صاف نظر آ رہی ہے اتحادی کھسکتے نظر آ رہے ہیں۔ وزرا گتھم گتھا ہیں تھپکی والے ہاتھ بھی کمزور ہو رہے ہیں تحریک انصاف میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو چکا ہے پنچھی اپنے پر پھڑپھڑا رہے ہیں عملی طور پر حکومت کی گرفت فالج زدہ ہوچکی ہے کارکردگی کا تصور تک نہیں۔ اتحادی سخت رنجیدہ اور اپنے فیصلے پر شرمسار ہیں لگتا ہے کرونا اور حکومت اب چند دن کے مہمان ہیں۔ پوری دنیا کے تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں۔ کہ تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب کے عمل کو غیر ضروری طور پر طوالت دی اپنی پوری انرجی اس عمل پر صرف کی۔ مگر دو سالوں میں احتساب انتقام کے طور پر تو کامیاب رہا مگر حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ غیر ضروری طور پر احتساب کے عمل کو اوڑھنا بچھونا بنایا گیا سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا وفاقی وزراء سندھ حکومت گرانے کے لیے سلطان راہی سے بھی زیادہ بڑھکیں مارتے رہے۔ اپوزیشن کا جو بندہ بولتا اگلے دن کٹھ پُتلی نیب کی پکڑ میں آ جاتا۔ احتساب کے نام پر پوری حکومتی توانائی صرف کر دی گئی مگر تھوڑے ہی عرصے میں اپوزیشن کے سارے لوگ تو جیلوں سے باہر آ گئے مگر پاکستان کے 22 کروڑ عوام غربت۔ بے روزگاری۔ بھوک ننگ۔ عدم تحفظ اور مہنگائی کی کال کوٹھری میں چلے گئے۔ یہ احساس بڑی تیزی سے ذہنوں کا حصہ بن رہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے۔ کسی بھی کام کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے اپوزیشن کو ختم کرنے کی حکومتی کوشش نے خود حکومت کو خاتمے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ تحریک انصاف اپنی ہی ناانصافیوں کا شکار ہو چکی ہے نئے بندے کی تلاش جاری ہے بات چند ہفتوں کی ہے
    @joinwsharif

  • نکاح کو عام کرو    تحریر:سویرااشرف

    نکاح کو عام کرو تحریر:سویرااشرف

    مرد اور انسان اللہ تعالی کی خوبصورت ترین تخلیق ہیں۔۔دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن ہمارا معاشرہ، ہماری زندگی، ہمارا گھر ان دونوں کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔۔ اسلیے اللہ تعالی نے انسان کی فطری خواہشات اور زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلیے ایک خوبصورت رشتہ نکاح تخلیق کیا۔۔نکاح اوراسلام :-
    اسلام نے نکاح کوانسانی تحفظ کے لیے ضروری قراردیا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”النکاح من سنّتی“ نکاح کرنا میری سنت ہے۔۔۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے۔۔۔
    نکاح کا مقصد صرف جسمانی تعلق نہیں ہے بلکہ نکاح ذہنی اور روحانی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔نکاح کرنے سے ہی آپکو اپنا ہمسفر ملتا ہے جو آپکے دکھ سکھ کا ساتھی ہوتا ہے جو پریشانی میں آپکے ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔۔
    جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا“ وہی اللہ ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے
    نکاح اور ہمارا معاشرہ:-
    اسلام نے تو نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے اور اس میں بہت سی آسانیاں رکھی ہیں تا کہ ہر کوٸی نکاح کر سکے لیکن آج کے دور اور اس معاشرے نے نکاح جیسی نیکی کو بہت مشکل بنادیا ہے۔ افسوس!! ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں زنا کرنے کیلیے ایک کمرے جبکہ نکاح کرنے کیلیے لاکھوو کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکاح مشکل ہوجانے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ریپ کیسز بڑھ گٸے ہیں۔۔
    جہیز جیسی ایک لعنت ناسور بن کر ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔آج کے دور میں جہیز کے بغیر شادی ناممکن ہے۔۔اگر لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر لاکھوں لگانے پڑتے ہیں تو مختلف فضول رسم و رواج کے نام پر لڑکے والے بھی لاکھوں لٹاتے ہیں جس میں دکھاوا شامل ہوتا ہے۔۔
    بری، کھانا، ڈھول باجے، سینکڑوں کے لحاظ سے بارات، ولیمے میں نمودو نماٸش کے نام پر لاکھوں لگ جاتے ہیں۔۔یہ سب دنیاوی کام اور فضول خرچی ہے اور فضل خرچی اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے۔۔۔
    دوسری طرف اسلام نے نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے حتی کہ ہمارے مصطفی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کا نکاح انتہاٸی سادگی سے سرانجام دیا اور ضرورت کی چند چیزیں جن میں جس میں دوچادریں، کچھ اوڑھنے بچھانے کامختصر سامان، دوبازو بند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ، ایک چکی، ایک مشکیزہ ،ایک گھڑا اوربعض روایتوں میں ایک پلنگ کا تذکرہ بھی ملتاہے۔۔۔

    اسلام میں نکاح کا مطلب دوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا ، نکاح میں عورت کے لئے ولی (سرپرست) کا موجود ہونا، نکاح کا اعلان، دعوتِ ولیمہ، مہر کی ادائیگی اور خطبہٴ نکاح۔ اگر ان امور پر غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ امور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر دعوتِ فکر وعمل اور باعثِ ثواب ہیں۔

    اب ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم سے جتنا ہو سکے ہم نکاح کو آسان کریں۔۔ سادگی سے نکاح کو ترویج دیں۔ لڑکی والوں پر بوجھ نہیں ڈالیں۔ فضول رسم و رواج سے کنارہ کشی کریں۔ مسجد میں سادگی سے نکاح کی تقریب سرانجام دی جاۓ اور اپنی حثیت کے مطابق ولیمہ کیا جاۓ۔ نا کہ دنیا داری اور لوگوں کی باتوں سے بچنے کیلیے لاکھوں قرض لیکر نمودو نماٸش کی جاۓ۔۔ اسلام میں حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا بھی گناہ ہے اور نٸی زندگی کا آغاز تو اللہ کی رضا سے کرنا چاہیے اسلام اور دین کے مطابق نا کہ دنیا والوں کی خاطر۔۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین
    @IamSawairaKhan1

  • لِبَاسُ التَّقوٰی  تحریر: محمد اسعد لعل

    لِبَاسُ التَّقوٰی تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ جو آپ کے اندر خدا تعالیٰ کا ڈر ہے یا خدا کے مقابلے میں اندیشہ ناکی ہے یا یہ احساس ہے کہ آپ کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، اس سے انسان کو جو لباس حاصل ہوتا ہے، اُسے لِبَاسُ التَّقوٰی کہتے ہیں۔یعنی یہ کسی شلوار قمیض یا پتلون کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ تقویٰ کا لباس ہے جو آپ کے باطن کو ڈھانپتا ہے۔یہ کوئی لباس کی قسم نہیں ہے۔جو لباس ہم اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے پہنتے ہیں اس میں تقویٰ کا ظہور تو ہو سکتا ہے کسی نہ کسی پہلو سے لیکن تقویٰ کا لباس اس طرح کا نہیں ہے کہ جسے آپ کسی درزی سے سلوا لائیں۔
    اللہ تعالیٰ کے خوف سے آخرت کی ملاقات کے احساس سےاللہ تعالیٰ سے سچی محبت سے ہر مسلمان کو تقویٰ کا لباس اوڑھنا چاہیے۔اور اسی کا نام اسلام ہے۔اللہ کی سچی معرفت آپ نے حاصل کی اور آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اس دنیا کے رشتے ہیں ،بہن ،بھائی، ماں ،باپ ایسی طرح میرا سب سے بڑا رشتہ میرے خالق کے ساتھ ہے ،میرے پروردگارکے ساتھ ہے ،زمین و آسمان کے بادشاہ کے ساتھ ہے وہی میرا معبود ہے اور میں اس کی مخلوق کی حیثیت سے اس کے بندے کی حیثیت سے زندگی بسر کروں گا۔ یہ تقویٰ ہے اور جب اس کا لباس اپنے باطن پہ پہن لیتے ہیں تو اس کا ظہور آپ کی چال ڈھال میں ہوتا ہے ،آپ کی گفتگو میں ہوتا ہے،آپ کے علمی معاملات میں ہوتا ہے۔یعنی یہ لباس ہماری روح نے اوڑھ رکھا ہوتا ہے ۔ یہ تو ہے تقویٰ کا لباس اب ہم ظاہری لباس کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام میں کوئی ظاہری لباس جو ہم اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، مقرر کیا گیا ہے؟
    اسلام نے کوئی لباس مقرر نہیں کیا۔لباس کا تعلق اس سے ہے کہ آپ کس معاشرت میں جیتے ہیں ،آپ کا ماحول کیا ہے،آپ کس زمانے میں ہیں۔ اہل عرب ایک لباس پہنتے ہیں،اہل عجم ایک لباس پہنتے ہیں۔ شروع شروع میں اہل عرب کے لوگ ہی ہندوستان میں آئے تھے لیکن عجم کے راستے سے آئے تھے تو بہت سی عجمی روایات ساتھ لے آئے۔یہ جو پاجامہ جسے سلوار/شلوار کہا جاتا ہے یہ ان ہی لوگوں کے لباس میں شامل تھا۔
    یہ حضرت محمدﷺ کو بھی دکھایا گیا اور آپ نے پسند فرمایا۔لیکن خود آپﷺ تہمد استعمال کرتے تھے کیوں کہ آپ کے زمانے کا لباس یہی تھا۔
    ہر قوم اپنا ایک لباس رکھتی ہے۔اسلام میں کوئی لباس مقرر نہیں کیا گیا لیکن لباس کے بارے میں اصولی ہدایت ضرور دی گئی ہیں کہ جو بھی آپ لباس پہنیں وہ حیا،شرم اور حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کر کہ کہا گیا ہےکہ شرمگاہوں کو ڈھانپنے والا لباس ہونا چاہیے۔وہ لباس کسی انگریز کا بھی ہو سکتا ہے،امریکی لباس بھی ہو سکتا ہے ہمارا پاکستانی لباس بھی ہو سکتا ہےعجمی کا بھی سکتا ہے اور عربی کا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں سلیقے سے شرمگاہوں کو ڈھانپا ہوا ہوناچاہیے۔
    دوسری بات یہ کہ لباس کی کوئی ایسی قسم جو کسی دوسری قوم کا مذہبی شعار ہے ، مذہبی شعار بھی دو قسم کے ہیں ۔ایک تو یہ ہے کہ وہ مذہبی شعار کسی بدعت یا شرک پر مبنی ہے تو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔
    دوسری یہ کہ وہ کوئی اس نوعیت کی چیز تو نہیں لیکن مذہبی روایت سے پیدا ہو گیا ہے اس کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں ہے۔لیکن اگر اس میں شرک ہے تو اجتناب کریں ،کیوں کہ یہ جتنے بھی لباس ہیں کسی قوم نے ایسے ہی ایجاد کیے ہوتے ہیں۔ان میں بہت سے عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً موسم،علاقے کی روایات،لوگوں کے معاشی معاملات اور لوگ کاروبار کس طرح کے کرتے ہیں ۔ اب دیکھیں کہ وہی تہمد سائیکل کے لیے کتنے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔اس لیے کسی قوم کا لباس ان سب عوامل پر انحصار کرتا ہے۔
    آج کل ٹائی کے بارے میں یہ بات مشہور ہےکہ یہ صلیب کا نشان ہے ۔ بہت سے لوگ ٹائی باندھنے کے خلاف ہیں۔ان کے نزدیک یہ اسلام میں جائز نہیں ہے ۔لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹائی صلیب کی علامت ہے۔
    ظاہری لباس سے بڑھ کر تقویٰ کا لباس ضروری ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ الاعراف میں آتا ہے کہ
    (ترجمہ )اے آدم کی اولاد! ہم نے تم پر لباس اُتارا ہے، جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہےاور زینت بھی اور تقویٰ کا لباس! وہ سب سے بہتر ہے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal