Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ارشد ندیم کی بدولت پاکستان 29 سال بعد اولمپکس میڈل جیتنے کیلئے پُرامید ہے     شہباز گل

    ارشد ندیم کی بدولت پاکستان 29 سال بعد اولمپکس میڈل جیتنے کیلئے پُرامید ہے شہباز گل

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کی بدولت پاکستان 29 سال بعد اولمپکس میڈل جیتنے کیلئے پُرامید ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم جیولین تھرو ایونٹ کے فائنلز میں پہنچنے، اولمپکس میں ملک کا نام روشن کرنے اور قوم کیلئے خوشی کا سبب بننے پر مبارکباد کے مستحق ہیں پوری قوم کی دعائیں ارشد ندیم کے ساتھ ہیں۔


    دوسری جانب چیئرمین واپڈا اور واپڈا سپورٹس بورڈ کی جانب سے ارشد ندیم کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی گئی چیئرمین واپڈا اور واپڈا سپورٹس بورڈ کی جانب سے فائنل میں ارشد ندیم کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکیا گیا-

    خیال رہے کہ ارشد ندیم نے پاکستان کی جانب سے جیولن تھرو کے فائنل کےلئے کوالیفائی کر لیا اور اس طرح وی توکیو اولمپکس میں فائنل میں پہنچنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں ارشد ندیم نے 85.16 میٹر تھرو کے ساتھ اپنے پول میں پہلی پوزیشن حاصل کی-

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

  • بےحیائی کے محرکات تحریر: آصف گوہر

    سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے ، انہوں ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : "ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔”
    صحیح المسلم
    حیا کے لغوی معنی سنجیدگی وقار اور متانت کے ہیں۔ یہ بے شرمی، فحاشی اوربے حیائی کی ضد ہے
    اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اعلی معیار کے ڈرامہ سریل پیش کئے گئے جو سارا خاندان بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا ان میں جاندار کہانی کے ساتھ اعلی معیار کی ادکاری دیکھنے کو ملتی تھی اور ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی بڑے مقبول ہوتے تھے ۔
    پھر پاکستان میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو کام کرنے کی اجازت ملنے کے ساتھ ہی ہماری تہذیب و ثقافت پر وار شروع ہوگئے اسٹیج اور ٹی وی چینلز کے لئے فحش موضوعات اور بازاری جملہ بازی پر مبنی ڈرامے لکھے جانے لگے جس کی وجہ سے
    ہمارے معاشرے میں ہر طرف بےحیائی کا دور دورہ ہے پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانے والے ڈرامہ چربہ سازی بےحیائی اور مقدس رشتوں سے بغاوت شادی شدہ افراد کے معاشقوں سے بھرپور اخلاق باختہ کہانیوں پر مبنی ہوتے ہیں بات ڈراموں تک ہی نہیں رکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہار سازی کی صنعت نے بھی بےحیائی کا سہار لیا اور مصنوعات کے لئے خواتین ماڈلز کے مختصر لباس اور ذومعنی جملہ بازی سے فحاشی کا پرچار کیا گیا ۔
    فحاشی کی اس قدر بھرمار کا نتائج ہمارے سامنے ہیں اولادیں نافرمان ہو رہی ہیں اخلاق و حیا سے بیزار نوجوان نسل تیار ہوچکی ہے تعلیمی اداروں میں مخلوط ڈانس اور بوس و کنار کی ویڈیوز آئے روز وائرل ہوتی ہیں خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے دست درازی کی سی سی ٹی وی فوٹیج تواتر سے سامنے آ رہی ہیں ۔ معصوم بچے مساجد اور مدارس میں بھی غیر محفوظ ہیں ۔
    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے سلسلے رکنے کا نام نہیں لے رہے اور ان واقعات میں ملوث افراد کو جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا ملنے کے عمل میں سالوں لگ جاتے ہیں ۔
    اس صورتحال سے ملک کے سنجیدہ شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔
    گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی پہاڑی پر قائد اعظم رحمہ اللہ کے پوٹریٹ کے سامنے نیم برہنہ لباس میں نوجوان لڑکی اور لڑکے کے فوٹ شوٹ نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ اس ملک میں اس بےحیائی کو روکنے والا کوئی نہیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمیشنر جو بزرگ شہری کے دوران ڈرائیو شیشے میں سے پیچھے دیکھنے پر ایکشن لے لیتے ہیں لیکن بابائے قوم کے پوٹریٹ اور فرمان کی سرعام بے حرمتی پر خاموش ہیں ۔
    ملک کے وزیراعظم خواتین کے لباس بارے گفتگو کرنے پر مادر پدر آزاد طبقہ نے وہ طوفان برپا کیا کہ اللہ کی پناہ۔
    عورت مارچ کے نام پر خونی لبرلز وہ بےحیائی اور بیہودگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ مارچ میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں پکڑے کتبوں پر لکھی بیہودہ عبارتیں یہاں بیان اور لکھنے کے قابل نہیں
    اس بےحیائی کو روکنے کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا مکمل ناکام ہے یا اس سے جان بوجھ کر نظریں چرائے بیٹھی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ سوسائٹی اور حکومت دونوں کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا سخت قانون سازی اور عملداری کو ممکن بنانا ہوگا بےحیائی کا پرچار کرنے والے میڈیا ہاوسز اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا ۔تعلیمی اداروں میں کردار سازی اور تربیت پر زور دینا ہوگا۔
    حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات اور لائحہ عمل طے کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔ ‎@Educarepak

  • تصویر کے دو رخ تحریر:  از قلم محمد وقاص شریف

    تصویر کے دو رخ تحریر: از قلم محمد وقاص شریف

    ہر تصویر کے دورخ ہوتے ہیں کبھی کبھی دوسرا رخ بھی زیر بحث لایا جانا چاہیے ۔ دنیا میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو نایاب ہیں اور بہت کم ملکوں کے پاس ہیں لیکن ایک ایسی چیز ہے جو نہ صرف یہ کہ دنیا کے ہر ملک کے ہر ادارے کے پاس ہیں بلکہ بہت زیادہ تعداد میں دستیاب بھی ہیں یہ ہیں ’’کالی بھیڑیں‘‘دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوجس کے پاس یہ دولت نہ ہو۔اداروں کی تفصیل میں چلے جائیں تو بات بہت آگے نکل جائے گی،ایک ہم بھی ہیں اور کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں، ابھی صرف کا لی وردی والی کالی بھیڑوں کو دیکھ لیتے ہیں کیونکہ کالی بھیڑیں ویسے تو دنیا بھر میں بدنام ہیں لیکن پاکستان میں ان کو بدنامی کا شرف کچھ زیادہ ہی حاصل ہے۔اور اگر نظر عام سے دیکھا جائے تو یہ بدنامی غلط بھی نہیں ہے کیونکہ پولیس کے ستائے لوگوں کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہے۔پولیس کی کالی بھیڑیں نسبتاً کم لوگوں کو نشانہ بناتی ہیں لیکن ان کی بدنامی وسیع پیمانے پر اس لیے ہو جاتی ہے کیونکہ اس کم، کے پیچھے ذلیل وخوار ہونے والے زیادہ ہوتے ہیں۔کسی بھی جگہ کسی بھی مقام پر پولیس کی بات ہو رہی ہو تو گلے شکوے اور گالی گلوچ کا سماں بندھا ہوتا ہے۔کوئی بھی شخص پولیس کو با عزت مقام دینے کیلئے تیار نہیں۔کچھ لوگ اپنے اوپر بیتی پر اور کچھ دوسروں پر بیتی پر پولیس کو کوس رہے ہوتے ہیں۔پولیس پر شکوے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھ جائیں لیکن قصور وار چند کالی بھیڑیں ہی ٹھہرائیں گی۔پولیس میں دیانتدار وں اور مخلص اوردینداروں کی کبھی کمی نہیں رہتی تبھی تو یہ ادارہ جیسے تیسے چل رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے پولیس کا دوسرا رخ کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی اور شاید ایک عام آدمی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔پولیس مین کا دوسرا رخ عام آدمی جان لے تو ممکن ہے پولیس کے خلاف اس کی نفرت میں کچھ کمی آجائے۔کم تنخواہیں۔24گھنٹے ڈیوٹی سیاسی پریشر،محکمانہ سہولیات کا فقدان،پولیس مقابلے،خودکش حملوں کا سامنہ،مجرمان کی دھمکیاں،انگلی کے اشارے پر تبادلے،دن کی تھکاوٹ، رات کے جگراتے،عید کا تصور نہیں،شب برات سے واقفیت نہیں،اپنوں کے جنازے پڑھ نہیں سکتے،ولیموں کا انہیں علم نہیں،اپنوں سے دور ہیں،بچے شفقت پدری سے محروم ہیں تو بیوی بیوہ بیوہ سی لگتی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھیں تو وہ حرکت میں آجاتا ہے۔نا جائز مدد نہ کریں تو مجرم حرکت میں آجاتا ہے۔حق دار کو حق دے دیں تو ظالم دشمن بن جاتا ہے۔ظالم کو پناہ دیں تو مظلوم کی آہیں آڑے آجاتی ہیں۔رات تھانے میں گذرتی ہے تود ن عدالت میں بسر ہوجاتا ہے اپنے دفاع میں گولی چلائیں تومجرم کسی کی گولی کا شکار ہوجائیں تو کوئی آہ و بقا نہیں۔چند سلامیاں ایک عدد چیک اور بات ختم۔سلامیاں اور چیک پیٹ کا دوزخ تو بھر سکتے ہیں لیکن جس یتیم سے باپ اور بیوی سے شوہر جیسی جنت چھن جائے اس خاندان کے بارے میں کسی نے کبھی سوچا۔پولیس کے بارے میں سب کو سب کچھ کہنے کا حق ہے۔لیکن ہر تصویر کے دو۔رخ ہوتے ہیں۔کبھی کبھی دوسرا رخ بھی زیر بحث لایا جانا چاہیے
    ‎@joinwsharif7

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حصے میں ایک ماہ کے لیے آچکی ہے ۔ بھارت جو تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی غاصبانہ و جارحانہ رویہ اپناے ہوے ہے اسے اس قدر حساس ادارے کی سربراہی ملنا پاکستان و دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے ۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اور بھارت امن کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق افغان فضائیہ کے زیراستعمال طیارے بھارتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پائلٹ بھی بھارتی ہی ہوں۔ اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی وہ کھیل رہا ہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔ سلامتی کونسل کی ہی منظور کردہ قراددیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی سربراہی ملنے کا معاملہ یہ ہے کہ انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے ہر رکن ملک ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتا ہے ۔ بھارت کی سربراہی کے موقع پر خارجہ پاکستان کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ ’’امید ہے بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کی اقدار کی پاسداری اور قواعد کا احترام کرے گا۔ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی ذمہ داری یاد کرائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بھارتی مستقل مندوب تیرومورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے ے لیے بات کرنے کو تیار ہے ۔ ہم دنیا کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ، لہذا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم آئین کی دیگر شقوں کی طرح بھارتی پارلیمنٹ کا واحد اختیار ہے ۔ بھارتی مندوب شاید بھول رہے ہیں کہ جس فورم کی صدارت ان کے حصے میں آئی ہے اسی کی قراردادیں کشمیر کے متعلق بڑی واضح الفاظ میں موجود ہیں ۔ پاکستان نے مذکورہ بالا بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفیر کے بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ، بھارت حقائق کو مسخ کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو جھٹلا نہیں سکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ 5 اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا۔ جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے نافذ العمل ہیں اور اسے صرف سلامتی کونسل ہی منسوخ کر سکتی ہے ۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91 اور نمبر 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اوربھارت کا یہ اقدام کالعدم ہے ۔

    اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جس طرح سے بھارت نے مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بدترین کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی سے زائد بھارت نے فوج تعینات کررکھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ گاؤماتا کی حرمت کے نام پر کہیں مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے تو کہیں مسلمان عورتوں کو سرعام جنسی تشدد کے ساتھ سسکتے ہوے مرنے کو پھینکا جارہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے تو کہیں کسانوں پر نام نہاد قوانین کا نفاذ کرکے انھیں بغاوت پر ابھارا جارہا ہے ۔ اس سارے ظلم و تشدد کے بعد اگر کوئی بھارتی مسلمان ، عیسائی ، سکھ یا پھر کوئی اور جدوجہد کا آغاز کرتا ہے یا پھر مسلح جتھا بنالیتا ہے تو اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں جب بھارت کے اپنے ملک کی حالت خانہ جنگی کی سی ہے تو سلامتی کونسل کی سربراہی دینا "بندر کے ہاتھ ماچس” دینے کے مترادف ہے ۔ لکھ رکھیے کہ بھارت کوشش کرے گا کہ وہ ایک ماہ میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پیروں تلے روند کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والا صدر کی کرسی پر براجمان ہوچکا ہے

  • ‏خوبصورت تحفے  تحریر : محمد نوید

    ‏خوبصورت تحفے تحریر : محمد نوید

    باعث غربت اور معذوری میرے لئے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل تھا تھا میرے پڑھنے کے شوق کو جہاں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا وہاں دوستوں نے اور اساتذہ صاحبان نے بھی میری اچھی حوصلہ افزائی کی جب کبھی حالات انگڑائی لینے لگتے میرے حوصلے کبھی پست ہوتے تو کبھی بلند اللہ پاک مجھے اچھے نیک دل لوگوں سے ملواتا گیا یوں میرا پڑھنے کا شوق زندہ رہا میرا پڑھنے کا شوق اس وقت مزید بڑھ جاتا جب کوئی مجھے کتاب یا پین تحفے میں دیتا یوں تو بہت ساری کتابیں مجھے میرے محسنوں نے مجھے تحفے میں دی جس کی وجہ سے کتاب پڑھنے کا شوق ھوا میٹرک مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھ سا گیا
    سکول جانے کے لیے کبھی گدھا گاڑی کا استعمال بھی غلط نہ لگا بس بیٹھ جاتا کہ کسی طرح سکول ٹائم سے پہلے پہنچ جاؤں
    اللہ کے فضل سے میٹرک کر لی لیکن نمبر بہت کم تھے کیوں کے ایک دو دن سکول پیدل جانا پڑجاتا تو اگلے دن تھکاوٹ کی وجہ سے بخار ہو جاتا اسی طرح تعلیم کو جاری رکھے رکھا استاد صاحبان کو بھی میرے جسمانی حالت بارے علم تھا تو انہوں نے بھی شرکت فرما کر مجھے اسمبلی حال میں آنے سے منع کردیا اسمبلی میں کبھی ادھر لڑھکجاتا تو اسمبلی کا نظم و ضبط بگڑ جاتا یوں جو ٹائم اسمبلی میں دینا ہوتا میں استاد صاحب کی کرسی اور جھاڑو پہنچا کرتے گزرتا استاد صاحبان نے مجھے باپ کی طرح شفقت سے نوازا ایک استاد صاحب نے تو میری فیس کا ذمہ اپنے سر لے لیا تو دوسرے استاد نے میری ورزی وغیرہ کے ذمہ لیا اور جوتے تو میں پہن نہیں سکتا تھا
    آج بھی استاد صاحبان اور دوستوں کے احسانات یاد کرکے دل بھر آتا ہے کہ اگر وہ مشکل وقت میں میرا سہارا نہ بنتے تو میں آج کہاں ہوتا؟میری تمام نوجوانوں سے اپیل ہے جن کے پاس وسائل ہیں اور اللہ پاک کی دی ہوئی آسائشیں موجود ہیں اگر آپ کسی وجہ سے خود تعلیمی میدان میں آگے نہ بڑھ سکے تو آپسے اپیل ہے کے اپنے دوستوں اور ان مستحق بھائیوں اور بہنوں کے لئے ہروقت باہیں کھولیں رکھے ان کو کامیاب ہوتا دیکھ یقیناً آپ کو دلی خوشی نصیب ہوگی اور میں اپنے محسنوں کی آنکھوں میں وہ خوشی دیکھ چکا ہوں اگر آج میں کچھ بول لیتا ھوں کچھ لکھ لیتا ھوں تو یہ سب ان تمام کرم فرماؤں کی محبت کی وجہ سے ھے جہنوں نے میری حوصلہ افزائی کی میرے شوق کو زندہ رکھا

    ‎@naveedofficial_

  • افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس تحریرمیں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معاملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔ افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔

    انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہےماضی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ افغانستان میں سرگرم تھا لیکن ایران اور روس کے ساتھ ایسا کوئی اتحاد نہیں تھا۔ لیکن اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تہران پہنچنے سے پہلے ایک طالبان کا وفد وہاں موجود تھا۔ جب وہ روس پہنچے تو وہاں بھی طالبان موجود تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اس وقت ایران اور روس دونوں کے ساتھ افغانستان پر کام کر رہا ہے۔شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہتی ہیں کہ
    افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہ چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

    کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور
    and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • پاکستان کا شہری  تحریر: جنید خان ہا نبھی

    پاکستان کا شہری تحریر: جنید خان ہا نبھی

    ہمارے ملک میں طرح طرح کی اچھی چیزیں ہو رہی ہیں لیکن اس کی پیدائش کے فورا بعد ، بہت سے غیر حل شدہ مسائل بھی ہیں جو بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ گڈ گورننس اور ٹرانسپرٹی عام ہیں اس کے علاوہ سرکاری محکموں کے درمیان موثر مواصلات کا فقدان ہے جو ہمارے نظام میں مزید مسائل کا اضافہ کر رہے ہیں۔ میری تشویش ، آج ، محکمہ تعلیم ہے جہاں سالوں سے وضاحت کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ، اسکولوں کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ اسکول کے ہر داخل طالب علم کے پیدائشی سرٹیفکیٹ مکمل کریں۔ اس پر عمل کرنا ایک اچھا قدم ہے لیکن کیا یہ سمجھنا مناسب نہیں ہے کہ یہ دنوں میں کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ایک تفویض جس کے لیے نادرا کا تعاون درکار ہے۔ ہر روز ہزاروں بچے ملک میں جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح ، ہر روز ہزاروں بچے 18 سال کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں (شناختی کارڈ رکھنے کے اہل)۔ چونکہ اس کی تخلیق ہے ، نادرا شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسکولوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کا کام ان کے ساتھ ساتھ بچوں اور ان کے والدین کے لیے اضافی چیز ہے۔ اس مرحلے پر نادرا حکام اور محکمہ تعلیم کے درمیان وزارت سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ دوسری صورت میں مؤثر ریلیف کا متبادل طریقہ جیسے کہ موبائل رجسٹریشن وین مختلف ہائی سکولوں کو مناسب شیڈول میں نئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کارکردگی اور پیداوری کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اس مسئلے کے حوالے سے کئی شکایات وزیر اعظم پاکستان کے شہری پورٹل پر جمع کرائی گئی ہیں (موبائل رجسٹریشن وین دینا)۔ ہر شکایت پر ، نادرا آفس ملتان کو ایک فون کال موصول ہوتی ہے جس میں صرف لب سروس کا جواب ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر موبائل رجسٹریشن وین تشویشناک علاقے میں پہنچ جائے گی۔ اور فوری طور پر انہوں نے شہری پورٹل پر رائے دی کہ انہوں نے اس مسئلے کو حل کر لیا ہے۔ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ، بہت سے دلوں سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے اگر کوئی شخص جو کہ اتھارٹی کے عہدے پر ہے اس آرٹیکل کو پڑھ رہا ہے تاکہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی تکلیف کسی طرح کی راحت سے مل سکے۔ ان کے والدین یا دادا والدین ان علاقوں میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں شامل ہیں ، شہریت ایکٹ 1951 کے آغاز سے پہلے پاکستان کے شہری ہیں۔ پاکستان شہریت ایکٹ ، 1951 کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا کوئی بھی شخص پاکستان کا شہری ہے۔ پاکستانی شہریت کا قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہریت کو کنٹرول کرتا ہے۔ قومیت کا تعین کرنے والی بنیادی قانون ، پاکستان شہریت ایکٹ ، پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 13 اپریل 1951 کو پاس کیا۔ برٹش انڈین ایمپائر (جس میں جدید ہندوستان ، بنگلہ دیش اور برما شامل تھے) اور اس کے لوگ برطانوی رعایا تھے۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے لیے ایک ریاست کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور برطانوی دولت مشترکہ میں ایک ڈومینین کا درجہ رکھتا تھا۔ اس میں جدید بنگلہ دیش شامل تھا ، جو مشرقی بنگال اور مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا اور 1971 میں پاکستان سے آزاد ہوا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کے بعد ، لاکھوں مسلمان ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر گئے ، اور کئی لاکھ ہندو اور سکھ جو پاکستان بن گیا اس میں رہ کر ہندوستان میں ہجرت کی ، شہریت کے کئی مسائل اٹھائے۔ 1951 کا پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 13 اپریل 1951 کو نافذ کیا گیا۔ اس کا مقصد بتاتے ہوئے "پاکستان کی شہریت کی فراہمی” ہے۔ اس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اس ایکٹ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص پیدائشی طور پر پاکستان کا شہری ہوگا۔ اس کے پاس مقدمہ اور قانونی عمل سے ایسی استثنیٰ ہے جیسا کہ پاکستان میں تسلیم شدہ بیرونی خودمختار طاقت کے ایلچی کو دیا گیا ہے اور وہ پاکستا کا شہری نہیں ہے اس کا باپ دشمن اجنبی ہے اور پیدائش اس جگہ پر ہوتی ہے جب دشمن کے قبضے میں ہو۔
    جنید خان ہانبھی
    Twitter :junaidhanbhi

  • فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار

    فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار


    جب سے یہ دنیا بنی جرائم ہمیشہ سے ہیں.یہ دنیا خطا کہ پُتلے "انسانوں "کی ہے. حق و باطل, اچھائ و برائ کی یہ جنگ رہتی دنیا تک جاری رہنے والی ہے.یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ سب فرشتہ صفت ہو جائیں کوئ گنہگار نہ بچے اور یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے.جہاں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنکی وجہ سے انسانیت زندہ ہے وہیں کچھ لوگ انسانیت کے نام پر شرمناک دھبہ ہیں. اس دنیا میں اچھائ کی برتری اور بدی و جرائم کی سرکوبی کے لیے خالقِ کائنات نے دین ِاسلام میں واضح شرعی سزائیں مقرر فرمائ ہیں تا کہ نظام ِعدل سر بلند رہے اور دنیامیں اچھائ کو برائ پر فوقیت رہے. .نبیِ آخر الزماںﷺ کے مبارک دور سے خلفائے راشدین اور جب تک اسلام سپر پاور رہا,مسلمانوں کا دورِ عروج رہا یہ صرف تب تک تھا جب تک امتِ مسلمہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا.اور دنیاوی و دینی تعلیم ہو,میدانِ سیاست ہو یا نظامِ عدل ہر جگہ احکامِ الہی کو مدِ نظر رکھا جاتا رہا.سخت شرعی سزاؤوں کا نفاظ رہا.حکمران اپنے آپ کو رعایا کے جان و مال کا امیں سمجھتے رہے.وقت کا سفر جاری رہا مسلمانوں نے عروج سے زوال کی سیڑھی پر قدم رکھا حاکم سے محکوم ہوئے.. بظاہر اسلامی ممالک رہے مگر جدید دنیا کے تقاضوں اور مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی نظام اور قوانین کو کہیں پسِ پشت ڈال دیا گیا.اسلامی سزائیں مغرب کے کہنے پر "انسانیت "کے نام پر ختم کر دی گئیں. یہاں سے انسانیت کے شرمناک دور کا آغاز ہوا ہر آنے والے وقت میں جرائم, نا انصافی کی شرح پہلے سے بڑھتی گئی.غرباء اور بے بس لوگوں کی عزت دو کوڑی سے بھی کم خون پانی سے سستا ہوتا گیا. نظامِ عدل, انصاف,قوانین صرف نام کے رہ گئے.عدالتیں اور فوری انصاف صرف اشرفیہ جاگیرداورں,سیاست دانوں , بیوروکریسی اور طاقتور لوگوں کا حق بن گیا.کیس اپنی مرضی کی عدالت میں لگوا کر,مرضی کا مصنف خرید لینا اور فیصلہ بھی مرضی کا یہ عام سی باتیں بن کہ رہ گئی ہیں. شاہ زیب قتل کیس سے زین قتل کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ یتیم خانہ چوک لاہور تک ہزاروں مثالیں ہیں. غریبوں کے لیے فوری انصاف حاضر ہے جب کہ غرباء میں اگر مقتول قتل ہوتا ہے تو لواحقین کی وکلاء کی مہنگی فیسوں اور عدالتوں کے چکروں میں زندگی تمام ہوتی ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ملزم پابندِ سلاسل وفات پا جائے بعد میں عدالت میں بے گناہی ثابت ہو. ایسی مثالیں بھی ہیں نوجوانی میں بے گناہ لوگ اس اندھے نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بالوں میں سفیدی آنے پر انہیں باعزت رہائ کا پروانہ ملتا ہے ان رسمی لفظوں کے ساتھ کہ نظامِ عدل آپکی ساری زندگی ضائع کر دنیے پر معزرت خواہ ہے.یہ معزرت ہے یا بدترین مذاق؟ہزاورں بے گناہ زینب /ماہم / نور مقدم ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں 100 میں سے ایک کو سزا ملتی ہےاور باقی چند سال سرکاری مہمان پر جیل میں رہتے اور رہائ پاتے ہیں.مجرم طاقت ور ہو تو ایف آی آر تک درج نہیں ہوتی. آج اپنے نظامِ عدل سے ذرا سی واقفیت رکھنے والا شخص آسانی سے نور مقدم کیس کا مستقبل بتا سکتا. ملزم کو ذہنی مریض ثابت کیا جائے گا ,ڈی این اے رپورٹ تبدیل ہوگی یا تھراپی ورکرز میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے یا انکے بیانات بدلوا لیے جائیں گے.یہ ہے ملک کا جوڈیشنل سسٹم.مقتول لاشوں کو کندھوں پر رکھ کے پھرتے ہیں, بے گناہ کے آنسو انکے گریبانوں پر گرتے ہیں پتھر دل نظامِ عدل کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.

    کچھ سرعام ،کچھ پسِ دیوار بکتے ہیں !
    اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
    یہاں تہزیب بکتی ہے !
    یہاں فرمان بکتے ہیں!
    ذرا تم "دام ” تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟کیا ہم مسلمان ہیں اس اسلام کے پیروکار ہیں جسکے رہنما سیدنا محمدﷺ کا عدل یہ تھا کہ فرمایا میری جان سے عزیز بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کریں تو انکے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں. ہمارے اسلاف /ہمارے رہنما وہی عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نہیں کہ گلیوں میں گشت فرما رہے تھے بوڑھی عورت ملی نا جانتے ہوئے کہ یہی تو امیرَالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں شکوہ شکائیت کرنے لگی کہ عمر میرے حال کی خبر نہیں رکھتا.آپ نے کہا اماں جی عمر کو اتنی بڑی سلطنت میں آپکے مسائل کا علم کیسے ہوگا؟اگر آپ خود نہیں بتائیں گی.. بوڑھی عورت نے تاریخی جواب دی کہا کہ عمر کو چاہیے اتنی ہی زمیں پر حکمرانی کرے اور اتنے ہی لوگوں کا خلیفیہ بنے جنکی خبر رکھ سکے.آپ کا دل ہِل کے رہ گیا اور فوراً خبر گیری کی مہم تیز تر کردی.عدل کیسے قائم ہوتا منصف/ حکمران کیسے ہوتے ہیں تو کوئ عمرِ فاروق کو دیکھے فرماتے "قوم کا سچا حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے”.راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پہرا دیتے.خوفِ خدا اور اقتدار کی جواب دہی کا ڈر اسقدر کہ فرماتے اگر دریائے فرات کے کنارے عمر کی خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر بارگاہِ الہی میں جواب دہ ہو گا. اس ایک بات سے وطنِ عزیز کے بوسیدہ نظامِ عدل کی تمام تر وجہ سمجھ آجاتی ہے کہ عمرِ فاروق کتے کی جان کو بھی سراسرا صرف اور صرف اپنی ذمہ داری قرار دیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہر روز سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر محظ رسمی, مذمتی تقاریر اور کبھی نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کہ فارغ ہو جائیں. نظام حکمران نے درست کرنا ہے بروزِ قیامت ہرنگہبان/حکمران سے سے ہی رعایا کے حقوق کی جواب دہی ہو گی.”فاروقی عدل ” وقت کی ضرورت ہے. حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا مطلب عوام کی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے.اقتدار کو مسندِ عیاشی سمھجنے اور دن رات صرف سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اصل ذمہ داری کی کی طرف آنا ہو گا جو کہ جو کہ رعایا کے جان و مال کا تحفظ اور منصفانہ معشرے کا قیام ہے.یہی پاکستان کی معاشی ترقی اور ہر میدان میں عروج کا راز ہو گا کیونکہ معاشرے عدل پر پھلتے پھولتے اور سپر پاور بنتے ہیں.جس وطن میں مظلوموں, بے بسوں کی آہیں ہوں.طاقتور کے لیے معافی اور بے بس اور چھوٹے لوگوں کے لیے سزا ہو. وہاں لاکھ کوئ ایک کے بعد ایک نام نہاد بہترین حکمران بدلے.. معاشی ترقی کے لیے بہترین سے بہترین پالسیز /منصوبے بنیں عدل سے روگردانی کرنے والے معاشروں کا مقدرصرف تباہی ہے.آج بھی نظامِ مصطفیﷺ کی روشنی میں مکمل اسلامی سزاوؤں کا نفاذ ہو,حکمران حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلیں تو یہ معاشرہ جنگل بننے سے بچ جائے.اور عجب نہیں کہ دنیا فاروقی عدل اور امتِ مسلمہ کی کھوئ ہوئ شان و شوکت ایک بار پھر دیکھے.
    ‎@SMA___23‎

  • ازدواجی خاندانی نظام  تحریر: فروا نذیر

    ازدواجی خاندانی نظام تحریر: فروا نذیر

    آج کل ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں وہاں سسرال کا نام لیتے ہیc لڑکیاں عجیب سا رد عمل دیتی ہیں
    سب لڑکیاں تو نہیں لیکن کچھ لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔۔۔

    سوچنے کی بات ہے ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟

    اللہ پاک نے ہر انسان کو نکاح کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے؛
    کہ نکاح ہر بالغ مرد و عورت پر فرض ہے
    نکاح کرنا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کی سنت ہے نکاح اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی نسل کو پروان چڑھا سکیں
    اور بد امنی سے بھی بچنے کے یہ بہترین طریقہ ہے کہ جس کو تم پسند کرتے ہو جائز اور پاکیزہ رشتے میں اپنا لو اللہ تم پر اپنا کرم کریں گا…
    لیکن لوگوں نے نکاح کو بھی ایک فیشن سا بنا لیا ہے نکاح تو ہوگیا

    لیکن کچھ لڑکیوں نے سسرال کے بارے میں اتنے غلط نظریات رکھے ہوئے ہیں کہ شادی کے بعد وہ پرسکون نہیں رہتی اور کہتی پھرتی ہیں کہ سسرال ایسا ہے یا ویسا یے..
    تو یہ بات غلط ہوتی ہے سسرال بھی ایل گھر ہی ہوتا ہے لیکن اس معاشرے میں رہتے ہوئے لوگ غلط سوچ کو رکھنا شروع ہوگئے ہیں مانا کی کچھ ساس یا سسر سخت ہوتے ہیں۔۔

    لیکن کیا آپ اس بات کو مانتے کہ کچھ ماں باپ بھی تو سخت ہوتے ہیں لیکن وہ تو برے نہیں ہوتے بس سسرال ہی برا ہوتا ہے جب بہو اچھا سلوک نہیں کرے گی تو ساس کسطرح اچھا سلوک کریں گی…
    آج کل لڑکیوں کو بس اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سسرال میں رہتے ہوئے سبکو خوش کرنے کیلیے تھوڑا سا کمپرومائز (Compromise)کرنا پڑتا ہے تاکہ مسائل سے بچا جا سکیں..
    لیکن لڑکیاں اس بات پر آتی نہیں وہ اپنی انا کو سامنے لے آتی ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے جھگڑے تعلق خراب اور یا پھر علیحدگی….
    لڑکیوں کو ایک اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ سسرال بھی تو گھر ہی ہوتا ہے وہاں کوئی دوسری دنیا کے لوگ تو نہیں ہوتے
    جیسے اپنے گھر میں ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے اسی طرح سسرال میں بھی شوہر کے ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے
    جہاں بس آپکو یہ کرنا ہوتا آپکو ان کے ساتھ اچھا سلوک اور عزت..
    کیونکہ آپکی عزت بھی اس وقت ہو گی جب خود دوسروں کو عزت دوں گے…
    جیسے کہا جاتا ہے: *جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے* اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا سسرال پاؤ گے اور برا کرو گے تو برا پاؤ گے…
    لیکن آجکل اخلاقیات کی بہت کمی ہوتی جارہی ہے جیسے جیسے انسان تعلیم حاصل کررہا ہے اس میں انسانیت عقل و شعور ختم ہورہا ہے کچھ لوگوں میں …
    تو یہ سب بہت غلط ہورہا ہے کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو اسکا مقام اور عزت دیا ہے اب اسکو استعمال کیسے کرنا ہے وہ بھی بتایا گیا ہے..
    لیکن استعمال نہیں کرتے لوگ یہی تو معاشرے کاسب سے بڑا فعال ہے.. اور پھرقصور وار سسرال کو ٹھہرادیا جاتا ہے ..
    میں یہ بات سب پر نہیں بس کچھ پر کر رہی ہو تاکہ کوئی اپنے اوپر نہ لے اور ایک بار اپنی زندگی کا جائز لیں…
    یقین مانیں سسرال کو اگر اپنا گھر ساس سسر کو والدین اور باقیوں کو بہن بھائیوں کی طرح سمجھے گے۔۔۔تو آپکو کوئی مشکل نہیں ہوگی اور جہاں مشکل ہو گی وہاں آپکا اللہ ہمیشہ ساتھ ہے…
    میرا اس تحریر کو لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ آجکل لوگ گمراہی کی طرف جا رہے ہیں
    سسرال کو کچھ سمجھتے نہیں اور فورا ہی الگ گھر کرلیتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا سوچے کیا ان ماں باپ کو مان نہیں ہوتا جنہوں نے اتنی محنت اور محبت سے بیٹے کو قابل انسان بنایاہوتا ہے….
    تو سب اس بات پر غوروفکر کریں کہ آپ کیا کررہے ہیں کہاں کھڑے ہیں اور آپکو کیا کرنا چاہیے..
    میری تو یہی رائے ہے سسرال کو اپنا گھر سمجھ کر رہےاور ویسا ہی رویہ اختیار کریں
    جیسا اپنے ماں باپ کے گھر ہوتا تو آپ پرسکون زندگی گزارو گے…
    میری اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھ سمیت ہر انسان کو بھلائی عطا فرمائے
    اور سیدھے راستے پر چلائے اور ہمیشہ اللہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو
    آمین ثمہ آمین

    تحریر: فروا نذیر
    Twitter : @InvisibleFari_

  • ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    ٹوکیواولمپکس میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے مقابلے میں فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا نیزہ بازی میں ایتھلیٹ ارشد ندیم فائنل میں پہنچنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

    باغی ٹی وی : ارشد ندیم دوسرے راونڈ میں 85.16 میٹر کے فاصلے تک جیولین پھینکنے میں کامیاب ہوگئے ارشد ندیم جیولین تھرو کے گروپ بی میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔

    پاکستان واپڈا سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم جیولن تھرو کے فائنل راونڈ تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے نو ایتھلیٹس ناکام ہوچکے ہیں ارشداب میڈل کیلئے آخری امید ہیں جیولین تھرو کا فائنل راونڈ 7 اگست کو کھیلا جائے گا۔

    اولمپکس 2021 میں بھارت کو ہوئی عبرتناک شکست

    میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کسی ’انویٹیشن کوٹے‘ یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ارشد ندیم نے سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور نیزہ پھینک کر نہ صرف ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا بلکہ اس کارکردگی کے بل پر وہ براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے۔

    خاتون نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی

    ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہےان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ہے ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔

    ٹوکیو اولمپکس :25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلہ، پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے چھٹی…