Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہلے بھی ساون کی بارشوں میں بھگتا تھا، یہاں چھوٹے موٹے سیلاب تقریبا ہر سال ہی آتے ہیں۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف ہے۔ اس سال اسلام آباد کے نشیبی اور ریہہ علاقوں میں نہیں بلکہ سیلابی پانی، شہر کے نئے بننے والے سیکٹرز میں آرہا ہے۔ اوپر سے غصب یہ کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اسلام آباد کا ایک نجی تعمیراتی سیکٹر ای گیارہ اور فیڈرل گورنمنٹ ھاوسئنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام بننے والا سیکٹر ڈی بارہ، میں سیلابی ریلہ آیا ہے۔ جس سے قیمتی جانوں اور لوگوں کے اثاثوں کو شدید پہنچا ہے۔

    مون سون کی بارشوں سے بہتا شہر اقتدار، یقینا بنانے والوں نے ایسا نہیں بنایا ہو گا نہ سوچا ہوگا۔ یہ شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثر بارش کی لپیٹ میں آتا ہے لیکن اس بار شاید انتظامیہ کی غفلت زیادہ ہے ۔

    ای 11 اور ڈی 12 کے علاقوں سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو بتا رہی تھی کہ یہ اسلام آباد بہیں بلکہ کوئی بہتا ہوا دریا ہے۔
    سیلاب کا پانی بہہ رہا ہے اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے اگر اس شہر کا ایسے ہی رکھا جاتا رہا تو کہیں کوئی نیا دریا یہاں ہی نہ بن جائیں۔ ویسے انگریزی زبان میں شہری علاقوں میں آنے والے ایسے سیلابوں کے لیے” اربن فلڈنگ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

    راولپنڈی کے رہنے والے اس سیلابی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ ایک نئی نئی زحمت ہے۔ اور یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
    ان کتابی باتوں میں ایک نظر ڈالتے ہیں جو شہر اقتدار میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کی جارہی ہیں۔

    گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ، سیلاب خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان دہ خطرہ ہے ، جو کہ بارشوں کے ساتھ قدرتی توانائیوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1950 سے 2010 19 بڑے سیلابوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے ۔
    ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ، اس عرصے میں قریب 8،887 اموات کی اطلاع ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں شہری سیلاب ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ صرف یہ ہیں نہیں کہا جاتا ہے کہ 2010 کے میگا سیلاب نے تقریبا 20 ملین افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، زراعت اور ماحولیاتی نظام اورزمین کی پیداواری صلاحیت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب کا ایک بڑا واقعہ م پیش آیا ، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
    اب شہری سیلابوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہری مراکز خصوصا کراچی اور لاہور بار بار شہری سیلاب کا شکار ہو رہےہیں۔ اور اب یہ دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ان شہری سیلابوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کو موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بہت ذیادہ وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن شاید ہماری حکومتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا انھیں لوگوں کی جان و مال اور املاک کی فکر نہیں ہے۔

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

    اربن فلڈنگ کے وجوہات میں سب سے موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ اور دیگر اداروں کی اس معاملے پر نظر پوشی بھی اسے بڑھا رہی ہے۔

    پاکستان میں شہری سیلاب کا سبب بننے والی کچھ کلیدی وجوہات یہ ہیں:
    شہری سیلاب کی صورت میں کم وقت میں پانی کا زیادہ بہاؤ اور بارش شامل ہے۔ اسے سائنس زبان میں ہائیڈرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
    بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند مقامات زیادہ تر آبی گزرگاہوں اور قدرتی نکاسی آب کے ارد گرد تعمیر کیے جاتے ہیں جو کہ شہر ی سیلاب کی اہم ترین وجہ ہے۔ یعنی شہری انتظامیہ کو کچی آبادیوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے جو بیشتر نالوں کے کنارے پر بنائی جاتی ہیں۔
    کچی آبادیوں کی وجہ سے ، نالوں کو تجاوزات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو روکتا ہے۔
    اب تو انتہا وہ کوڑا کرکٹ ہے جو نکاسی آب والے نالوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔
    بلدیہ کا ایک اہم کردار ہے جو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔
    شہر کے اصل نقشے کو نظر انداز کرنا بھی شہری سیلاب میں اضافے کا سبب ہے۔
    آبادی میں اضافہ اور شہروں کا پھیلاؤ بھی دیکھنا ہوگا۔
    ان تمام وجوہات کے بعد اسلام آباد کو دریا بنانے والی انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔
    سی ڈی اے سمیت ہر بڑے ادارے کو جو اسلام آباد کی خوبصورتی کا کریڈٹ لیتے ہیں، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شہر میں بننے والی غیر سرکاری اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کو کب تک لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے دیا جائے گا۔
    اربن فلڈنگ مینجمنٹ والے لوگوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا؟
    غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو کون دیکھے گا؟ سب سے آخر میں شہریوں کو اربن فلڈنگ کی صورت میں رسک مینجمنٹ کی تربیت کون دے گا؟.
    صرف یہ ہی نہیں عید الاضحی کے دن ہونے والی بارش ایک اشارہ تھی جس کے بعد نالوں کی صفائی انتظامیہ اور میونسپل کی ذمہ داری تھی۔جیسے نہیں دیکھا گیا۔
    اسلام آباد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں ایسی تمام تعمیرات کا خاتمہ ہو جو کہ پانی کی گزر گاہوں پر تعمیر ہوئیں ہیں اور ان تمام افسران کی سرزنش ہو جو اس اہم معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور شہر اقتدار کو دریا بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔کہیں یہ دریا ہم سب کو اپنے ساتھ بہا کے نا لے جائے۔
    ورنہ شہر دریا بن رہا ہے اور ہماری انتظامیہ آئندہ آنے والے سیلابوں سے بچنے کے لیے لوگوں کو لائف جیکٹ دے ہی رہی ہیں۔ یعنی دریا کے کنارے رہنے والوں کو اب تیراکی سیکھ لینی چاہیے

  • عبادت _ الہی کے تقاضے  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    عبادت _ الہی کے تقاضے تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان اللہ کریم کی بنائی ہوئی ایک اعلی تخلیق ہے.
    پھر اچھے برے کا شعور دیا. اللہ کریم نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا. کہ ہم نے انسان کو بڑی خوبصورت شکل میں پیدا کیا.
    پھر اسی انسان کو اللہ نے فرشتوں پر فضیلت عطا کی. انسان کو علم سکھایا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا.
    یہ سب کیوں کیا گیا؟
    قرآن کریم میں اللہ کریم نے
    ارشاد فرمایا.
    اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں۔سورۃ الذاریات، آیت56.
    اگر رب کریم کی عطائیں اور نعمتیں شمار کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا وجود انگنت عجوبوں کو سمیٹ کر بنایا گیا ہے. منہ کہ اندر رکھی زبان کی ہی بات کی جائے تو گرم اور ٹھنڈک کا احساس لیے یہ زبان مختلف زائقوں کی الگ الگ پہچان رکھتی ہے. اگر حرکت کرے تو الفاظ کا تسلسل اسے دوسرے انسانوں سے گفتگو کا شرف بھی بخشتی ہے. جب پیٹ کی بھوک مٹانی ہو یہی زبان دانتوں کی مشینری میں گاہے بگاہے خوراک فیڈ کرتی اور اسے پیسنے میں مدد کرتی دکھائی دیتی ہے. حیرت کی بات ہے صرف ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اتنی صلاحیتوں سے بھرپور میرے رب کے عطا کیے ہوے کسی عجوبے سے کم نہیں. انسان کا ہر عضو اس طرح کے بے مثال عجوبوں کا مجموعہ ہے.
    اس سب کی شکر گزاری کے لیے اللہ رب العزت مختلف ادوار میں انبیاء کرام علیہم السلام کے زریعے مختلف تحائف _عبادت عطا کیے تو اس امت کو نماز جیسا تحفہ عطا فرمایا.
    ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحفہ کی اہمیت میں اور اضافہ فرمایا.
    جیسا کہ
    1. نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.
    2. جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا
    3. مومن اور کافر میں فرق نماز کا چھوڑ دینا ہے
    4. نماز مومن کی معراج ہے.
    معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب سے ملاقات کا شرف کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا لا جواب ہے. جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھتا ہے رب کریم کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ حسن عبادت یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں.
    معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا انسان کا کام ہے. کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے صاحب کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اس رب کریم جو کہ اس صاحب کا بھی رب ہے جو اس بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا کریں. بارگاہ رب العالمین ہے مزاق تو نہیں. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے رب کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ ہے اس چیز کا احساس کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول وہ میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
    اس سے اعلیٰ مقام ہے انسان جو بول رہا ہو جس چیز کی گواہی زبان دے دل بھی اس کی شہادت دے رہا ہو. زبان بولے
    الحمد للہ رب العالمین تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا گالہ. روح رب کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں طائب نظر آے.
    سوچئے ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ گئے. بتائیں دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں کھڑا ہونا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں چلا رکھا ہے.
    اس سے آگے معراج کی کامل منزل شروع ہوتی ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی. احساس کی انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا چھوڑ آیا کہیں دور اس کے خیالات ختم بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا ہے. دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر رب کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی ضرب ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کرتی بندے کو اپنا من ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت آنکھوں سے بہتا آئندہ فرمانبرداری کا عزم. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا کریم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا ہو نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ ہو بہتر کر کے دیتا ہے. بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضہ سمجھیے اپنی عبادت کو کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرایا گیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکے. آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.

    @EngrMuddsairH

  • نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    اللّٰہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق انسان ہے اور اللّٰہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اللّٰہ کی عبادت تو چرند پرند، درخت، پھول، جانور نیز کائنات کی ہر شے کرتی ہے پر اللّٰہ کو سب سے محبوب انسانوں کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہمارے بار بار غلطی کرنے پر وہ ہمیں فوراً سے سزا نہیں دے دیتا بلکہ ہمارے ایک بار توبہ کرنے پر ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔

    اللّٰہ کی ہم سے محبت کی انتہا ہے کہ اس ذات نے جہاں دیکھا کہ میرا بندہ گناہ کرسکتا ہے وہیں اس کے لیے کچھ ایسے طور طریقے اور رشتے بنا دیے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے اور نکاح اسی کی ایک مثال ہے۔

    جیسے انسان کی بہت سی دیگر فطری ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک ضرورت ہے۔ نکاح وہ خوبصورت رشتہ ہے جو مرد اور عورت کو جائز طریقے سے ایک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے لیے حلال کردیتا ہے۔ نکاح کو اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "نکاح کرنا میری سنت ہے”۔
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
    ” جو کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے اور باقی آدھے دین میں اللّٰہ سے ڈرتا رہے”۔

    یعنی ہمارا دین خود نکاح جیسے پاک رشتے پر زور دیتا ہے کہ وہ شخص جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے۔ لیکن آج کے دور میں نکاح کو کچھ اور ہی طریقے سے لیا جاتا ہے۔ نکاح کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے جہیز لینا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ یعنی اب ماں باپ اپنی بیٹی بھی دیں اور ساتھ جہیز جیسی لعنت بھی۔ جہیز کے نام پر لڑکے کو گاڑی بھی چاہیے اور اپنے گھر کے لیے فرنیچر بھی، فریج سے لے کر برتنوں تک ہر چیز لی جاتی ہے۔

    بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی، جہیز کے علاؤہ کچھ اور فضول قسم کی رسمیں بھی ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کو سونے کی بنی بالیاں یا انگوٹھیاں دینا۔ ایسے ہی سب کے دیکھا دیکھی ان رسموں کو مزید سے مزید فروغ ملتا چلا جارہا ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔ دوسرا ان سب باتوں کی وجہ سے آج کل نکاح بھی مشکل ہورہے ہیں۔ نکاح کرنا اب ایک غریب کے لیے کوئی آسان کام نہیں رہا۔

    اسی لیے ایک ایسا قانون بننا چاہیے جس میں جہیز لینے اور دینے پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے اور جہیز لینے والے کو سزا بھی ملنی چاہیے تاکہ نکاح کو آسان بنایا جاسکے۔ اس سب کے علاؤہ بحیثیت انسان ہمیں بھی اپنا کچھ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد اپنے معاشرے کو جہیز جیسی لعنت سے پاک کرسکیں۔

    @SeharSulehri

  • ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما تحریر : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی نے کائنات میں جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں سب سے بہترین تخلیق ہمارے نبیﷺ ہیں۔ اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے آپﷺ کا نور پیدا کیا اسی لیے آپﷺ کو نور اول بھی کہا جاتا ہے۔جس طرح اللہ تعالٰی رب العالمین ہے اسی طرح ہمارے نبی رحمت للعالمین ہیں۔یعنی تمام مخلوقات کے لیے رحمت اور محبت لے کر آنے والے۔

    قائد اور رہنما کے معنی ہیں سیدھا راستہ دکھانے اور ہدایت کی طرف بلانے والا چونکہ آپ ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہیں اس لیے آپﷺ کائنات کے قائد ورہنما بھی ہیں۔اور کوئی مخلوق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے محروم نہیں۔

    قارئین جانتے ہیں کہ پچھلے مذاہب کی تعلیمات خاص زمانے کے لیے تھیں مگر آپ ﷺ کی تعلیمات ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہیں اور قیامت تک ہر آنے والے دور میں ان پر عمل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی قیادت ورہنمائی کی پوری انسانیت محتاج ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی اور ہدایت نہ ملتی ہو۔اس رہنمائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور شفقت اس حد تک شامل تھی کہ توحید کا پیغام پھیلانے میں جس قدر زیادہ زہنی اور جسمانی ازیتیں اٹھانی پڑیں وہ آپ ﷺ نے بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیں اور کبھی کسی کو بد دعا نہ دی۔پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے بد دعا دینے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

    @RajaArshad56

  • عورت مارچ اور چند حقائق تحریر  : راجہ حشام صادق

    عورت مارچ اور چند حقائق تحریر : راجہ حشام صادق

    دین اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کو اس کے حقوق دے دیئے ہیں آج کل کے یہ عورت مارچ جن حقوق کے لیے گھروں سے نکل رہی ہیں وہ دین اسلام کے نہ تو بنیادی حقوق ہیں نہ ہی اسلام نے عورت کو اتنی آزادی کی اجازت دی ہے۔ باپ بھائی بیٹے اور شوہر کی صورت میں قابل عزت رشتے عورت کے محافظ اور طاقت ہوتے ہیں

    سب سے پہلے تو ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اور ملک پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس بنیاد پے بنا تھا یہ ملک

    ہم سب جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں کی خواتین باحیا ہیں الحمدللہ دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں پر زندگی گزارتی ہیں ۔ عورت مارچ کو سڑکوں پر نکلنے اور حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کہیں نہ کہیں ہمارے قانون کا بھی ہاتھ ہے۔

    بہت سارے ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ غیر محفوظ ہے۔وہ شاید سمجھتی ہے کہ یہاں دوندا صفت انسان بستے ہیں اور جنگل کا قانون ہے یہاں۔
    بہت سے ایسے واقعات جس میں معصوم بچیوں کا ریپ کیا گیا ہے یا پھر دفاتر اور مختلف ایسی جگہیں جہاں مرد و خواتین ایک ساتھ کام کرتے ہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت پھر بغاوت کرنے پے اتر آتی ہے کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار تو بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کرتے پائے گئے سکولز اور یونورسٹیز میں بھی کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی

    قارئین اس عورت مارچ کے حوالے سے ہمارا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔
    جنگل کا قانون تو ٹھیک ہے مگر کہیں نہ کہیں مرد حضرات بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں
    معاشرے میں بسنے والے مردوں کا منفی رویہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے جہاں ایک طوائف کو بدکردار کہا جاتا ہے۔ اور اسے پورے معاشرے میں کوئی عزت نہیں دی جاتی لیکن اس کے پاس جاتا کون ہے اس معاشرے کے باعزت کہلانے والے افراد اور پھر ان کی اونچی شان اور عزت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

    کیا اس معاشرے میں بغاوت کی ذمہ دار صرف عورت ہے؟
    ایک جنگل کا قانون اور دوسرے وہ مرد بھی برابر کے مجرم ہیں جو عورت کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں
    اور ان کو غلط راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہیں کوئی بھی عورت باغی پیدا نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے رویے اور بنائے گئے حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں اس مارچ پے تنقید کرنا اور اسے روکنا ہمارا فرض ہے۔

    ہمیں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ معاشرہ صرف مردوں کا نہیں اس میں جو حقوق دین اسلام نے عورت کو دیئے ہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور قانون کے رکھوالوں سے بھی گزارش ہے کہ یہ لا قانونیت کا دبہ اپنے اوپر سے اتار پھینکیئے اور مدینہ جیسی ریاست کو بنیاد بنا کر اس ماڈل کی ریاست بنانے کے بارئے قانون بنائے

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • ٹوئٹر کا ایسوسی ایٹڈ پریس  اور رائٹرز کے ساتھ اشتراک

    ٹوئٹر کا ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے ساتھ اشتراک

    سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے پلیٹ فارم پر قابل اعتبار خبروں اور تفصیلات تک صارفین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اور رائٹرز کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس نئے معاہدے کے تحت نہ صرف ٹوئٹرکو خبروں کے تناظر اور ٹرینڈز کو درست رکھنے میں مدد مل سکے گی بلکہ مخصوص سرچ رزلٹس کی درجہ بندی کرنے میں بھی مدد حاصل ہو گی۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1422288755197726731?s=20
    ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹائم لائن کی ایکسپلور ٹیب اہم ایونٹس جیسے ہیلتھ ایمرجنسیز، انتخابات اور عالمی وبا کو نمایاں کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔ اور گمراہ کن مواد کے لیبل میں مستند ذرائع سے تفصیلات کا بھی اضافہ کیا جائے گا۔

    ساتھ ہی ٹوئٹر نے وضاحت کی کہ ٹوئٹرکی ٹرسٹ اور سیفٹی ٹیم ایک علیحدہ اور خودمختار ادارہ ہے، جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ صارفین کی ٹوئٹس کب ٹوئٹر کی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور سزا دینے والی کارروائی، جیسے ٹوئٹ ہٹانے یا مکمل پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔

    ٹوئٹر نے صارفین کو یقین دہانی کراتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نہ تو اے پی اور نہ ہی رائٹرز ایسے فیصلوں کے نفاذ کے فیصلوں میں کوئی کردار ادا کریں گے۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے اسپیڈ اور پیمانے کو بڑھانے میں بھی مدد حاصل ہوگی، جس سے وہ اضافی معلومات کو ٹوئٹس اور اپنے پلیٹ فارم پر کہیں اور شامل کر سکیں گے۔

    اس کا مطلب ہے کہ ایسے وقت میں جب کوئی اہم خبر بریک ہو رہی ہو گی تو حقائق جاننے کے لیے ٹویٹر کی اپنی ٹیم تیزی سے رائٹرز اور اے پی جیسے قابل اعتماد ذرائع سے رجوع کر سکے گی ایسے گمراہ کن ٹویٹس کے بعد اصل خبر کا انتطار کرنے سے پہلے ٹوئٹر خود ہی غلط معلومات کو وائرل ہونے سے روکنے میں بھی مفید ثابت ہوسکے گا-

    واضح رہے کہ اے پی اور رائٹرز اس سے پہلے فیکٹ چیک پراجیکٹ کے تحت فیس بک کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں-

    علاوہ ازیں ٹوئٹر نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے ایپلیکیشن تک رسائی مزید آسان کردی ہے ٹوئٹر سپورٹ کی جانب سے صارفین کو مطلع کیا گیا ہے کہ اب ٹوئٹر اکاؤنٹ لاگ اِن کرنے کے لیے ایپل اور گوگل اکاؤنٹ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ ای میل ایڈریس ایک جیسا ہی ہوگا۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1422229834089082882?s=20
    یہ فیچر ٹوئٹر بیٹا ورژن صارفین کے لیے گزشتہ ماہ متعارف کروایا گیا تھا تاہم اب کمپنی کی جانب سے اسے تمام صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے حالیہ اپ ڈیٹ کے تحت صارف کو پہلے سے موجودہ تفصیلات کے ذریعے نیا اکاؤنٹ یا لاگ اِن کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    صارف کو پہلے کی طرح اپنی بنیادی معلومات (نام اور ای میل ایڈریس وغیرہ) درج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

  • ٹویٹر کا سفر  تحریر:  شاہ زیب

    ٹویٹر کا سفر تحریر: شاہ زیب

    آج آپ کے ساتھ اپنی ٹویٹر لائف شئیر کرتے شاید آپ محظوظ ہوں لیکن یہ لکھا گیا مواد حقیقت پر مبنی ہے ۔
    اگست 2018 میں مینے ٹویٹر جوائن کیا ٹویٹر چلانے کا اتنا خاص علم نہیں تھا ایک دوسرے کو ٹویٹر پر دیکھ کر چلانے کی کوشش کرتا تھا پھر دوسروں کو دیکھتے ہوئے چیزوں کو سمجھنے کی کوشش جاری رکھی لیکن میرے اندر ایک چیز مشکل ہے پر نا ممکن نہیں انجان تھا کوئی نہیں جانتا تھا پر دیکھا سب ٹویٹر چلا رہے میں کیوں نہیں چلا سکتا دو چار ماہ گزر گئے کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا حتیٰ کہ کوئی لائک بھی نہیں کرتا تھا سوچا یہاں سب بڑے اکاؤنٹ والوں کو مانتے ہیں میرا تو اکاونٹ چھوٹا جو مینے دیکھا کہ چھوٹا اکاؤنٹ بھلے بڑی بات لکھے اس کی بات کا کوئی فائدہ نہیں اس کو جانے بغیر رسپانس نہیں ملتا تھا پر جو بڑے اکاؤنٹ سے اکاؤنٹ سے نارمل اور تھکی چیز بھی لکھی جائے اس کا بھی کافی اچھا رسپانس دیتے تھے۔
    پھر اسی دوران الیکشن زور شور تھا تو ہر کوئی وزیراعظم عمران کے حق میں ٹرینڈ کر رہے تھے تو مینے بھی ایک ٹویٹ ٹرینڈ میں کر دی دیکھو سہی سبھی ٹویت کر رہے میں بھی کر کے دیکھتا ہوں تو مینے ایک فنی انداز میں ٹرینڈ ٹویٹ کیا مینے جو دیکھا کم ازکم میرے لیے حیرت انگیز لمحہ تھا کہ میری ٹویت پہلی بار ہزاروں میں گئی۔ میں خوش بھی تھا اور پریشان بھی کہ اتنے دن سے دیکھ رہا ایک بھی لائک نہیں لیکن آج ہزاروں میں ٹویٹ چلی گئی لیکن اکاؤنٹ چھوٹا تھا لیکن مایوس نہی ہوا کیونکہ مینے سنا تھا "ہر اندھیری رات کے بعد روشن سویرا ہوتا” سوچا کبھی تو ہم بھی ان کے ساتھ برابر صف میں آئیں گے. لیکن غرور و تکبر کے ساتھ نہیں جیسا کہ موسٹلی بڑے اکاؤنٹ آج بھی کرتے ہیں
    اسی دوران ایک طرف سلیبرٹی طبقہ تھا تو دوسری جانب میری طرح کے معصوم اکاؤنٹ تھے پھر مینے بہت سے لوگوں کو ٹویٹر پر لکھتے دیکھا ہماری پروموشن کر دیں بہت سے بڑے اکاؤنٹ چھوٹے اکاؤنٹ کو نظر انداز کر دیتے تھے لیکن پھر کسی شخص نے کہا کہ اپ محبت کے بدلے محبت جوائن کر لیں اللہ بھلا کرے سمجھ نہیں آئی محبت کے بدلے محبت کیا بلا ہے ۔۔
    جب پوچھا تو پتہ چلا ان کا رول ہے سلیبرٹی سوچ کا خاتمہ ہر چھوٹے بڑے اکاؤنٹ کو فالو بیک دینا پھر سمجھا اچھا یہ تھی اصل محبت جو محبت کے بدلے محبت کا درس دیتی ،لوگوں نے بتایا سوشل میڈیا پر ‎#محبت_مافیا ٹیم ہے اور بھی بہت ٹیمیں تھیں جن کا آج بھی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ چھوٹے اکاؤنٹس کو صحیح معنوں میں پروموٹ کرتی ہے لیکن میرے فالور کم تھے تو پوچھا کون لوگ چلاتے تو لوگوں نے بتایا شفقت چوہدری ٹیم ہیڈ ہیں اور ان کے پروموشن ہیڈ اویس مغل ہیں مینے ابھی کسی سے کہا نہیں تھا اسی دوران شفقت صاحب نے مجھے شاٹ آوٹ دے دیا میرے بنا کہے میری پروموشن ٹویٹ لگ گئی مجھے نہیں پتہ تھا لیکن اس دوران میرے فالور کافی بڑھے جن پر مینے ان کا شکریہ ادا کیا۔
    پھر میں شفقت صاحب کے ڈی ایم گیا اور ان سے بولا کہ سر مجھے اپنی ٹیم میں شامل کر لیں تو انہوں نے مجھے اویس مغل کے پاس بھیج دیا اس وقت ان کی نظروں میں انجان تھا اور جو کہ ہر ٹیم ایسے ہی تھوڑی اپنے گروپس میں ہر کسی کو شامل کرتی اس وقت کافی سپیڈ تھی لوگ اپس میں زیادہ انٹریکٹ تھے جیسے آج ہیں وقت ایک سا تو نہیں رہتا کوئی آتا کوئی جاتا ۔
    پھر اویس بھائی نے مجھے چند دن لسٹوں پر کام کرنا کا کہا اور مینے روزانہ چار پانچ لسٹیں لگائی اور پھر کچھ دن بعد انہوں نے مجھے اپنے گروپ محبت مافیا پروموشن میں جگہ دے دی جس پر مینے سب بھائیوں بہنوں کا شکریہ ادا کیا کہ مجھے یہاں کام کرنے کا موقع ملا ۔
    اور میں بہت خوش تھا کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور مینے الحمدللہ ساتھ نبھایا کیونکہ مینے سوچ لیا ان کے اعتماد پر پورا اترنا کیونکہ ٹویٹر پر آپ کی سوچ آپ کا اخلاق بہت معنے رکھتا ہے کیونکہ ٹویٹر پر سپورٹ حاصل کرنی تو سب سے اچھا برتاؤ اور مل جل کر کام کرنے میں ہی لطف تھا اور پھر دن گزرتے گئے دیکھتے دیکھتے میرا اکاؤنٹ سپیڈ پکڑتا گیا اور بہت سے بڑے اکاؤنٹ بھی نظر آئے مجھے ریٹویٹ گروپس میں بھی جگہ ملی ادھر مینے فیصل بھائی عرف (پی ٹی ائی گلیڈی ایٹر) کا اکاؤنٹ اور بھی بے شمار اکاونٹ دیکھے مینے ایکبار گلیڈی ایٹر صاحب کہا یار مجھے ریٹویٹ کر دیا کرو لیکن انہوں نے میری بات نہ سنی اور میں خاموش ہو گیا شاید کم جانتے تھے یا مصروفیت کے باعث پھر مینے سوچا چلو کوئی بات نہیں۔
    کیونکہ مجھے علم تھا خود داری بہت اہم چیز ہے ترلے منتوں سے کچھ نہیں ہوتا اسی دوران ٹویٹر پر مزید دوست بنتے گئے، پھر میری ایک فالونگ لسٹ میں بکھرے ہوئے پھولوں والی ڈی پی پر بات چیت ہوئی کسی خاتون کا اکاؤنٹ تھا لیکن اچانک میرے ڈی ایم آنا اور حال چال پوچھنا اور آہستہ آہستہ بات چلتی گئی وہ آئی ڈی کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر ہما کی تھی یہ اچانک سے گھل مل جانا میرے لیے اعزاز کی بات تھی لیکن اپنا کب بنا گئیں پتہ ہی نہیں چلا ان سے رشتہ ہی کچھ ایسا بن گیا کوئی چاہ کر بھی نہیں توڑ سکتا تھا نوک جوک ہوتی رہتی لائف میں لیکن مینے انہیں اپنی "ماں” سے کم نہیں سمجھا اور جذباتی ہو کر ان سے لڑ پڑتا تھا لیکن ہمیشہ کسی مقام پر جا کر مل گئے
    یہی رشتے کی خوبصورتی تھی،
    اور ان کے علاوہ ٹیم کے ایڈمن اور کچھ قریبی دوست جن سب پیار ہو گیا آہستہ آہستہ قریب سے قریب تر ہوتے گئے جیسے (عثمان بھائی ، حق پرست بھائی، حبیب بھائی، پاشا بھائی، اوور آل محبت مافیا ) بشمول اوور آل خواتین ) بھی پیش پیش ہمیشہ احترام کا رشتہ بنایا بہت سی غلطیاں بھی ہوئی لیکن بعض جگہوں پر معافی سے درگزر سے معاملات کو خود ٹھیک کیا۔

    لیکن سب سے اہم بات جو آپ سے کرنے جا رہا ہوں مجھے بدلنے کا کلیدی کردار کن کا تھا ؟
    وہ تھے میرے استاد شفقت صاحب انہوں نے مجھے صحیح معنوں میں اصلاح کی مجھے صحیح غلط کی پہچان کروائی اور اگر ٹویٹر پر رہنا تھا تو ٹوئٹر رولز سیکھنا ضروری تھے تو کیونکہ چیزیں ہمیشہ سیکھنے سے آتی تھیں تو میں ببانگ دہل کہو گا میری سپورٹ میں اہم کردار شفقت صاحب کا تھا جنہوں نے مجھے ٹریننگ سیشن دیے دو ہفتے لگ بھگ مجھے تربیت گاہ میں عام احباب کی طرح سیکھایا گیا اس کے بعد جاکر مجھے گروپس میں جگہ ملی ، جن پر میں ان کا بے حد مشکور ہوں

    کہتے جہاں رہیں وہاں دل لگانا پڑتا ہے یوں سمجھیں محبت مافیا کو اپنا گھر سمجھ لیا اور دوسروں کو دیکھتے دیکھتے کام کرنا شروع کر دیا کیونکہ مینے سنا تھا جدھر کام ہو وہاں مخالفتیں تو ہوتی ہیں میرے ساتھ ہوئئ لوگوں نے گالیاں دی پھر اسی دوران کچھ نامعلوم اشخاص کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی میں بہت پریشان ہوا یار مینے تو اسے کچھ کہا نہیں خوامخواہ پریشان کر دیا اسی دوران میں مینے شفقت صاحب کو کال کی سر کچھ احباب اپ کا نام لے کر مجھے دھمکانے کی کوشش کر رہے تو اصل میں اس کا دھمکانے سے تو آج تک فرق نہیں پڑا لیکن اس دوران ایک شخص ڈی ایم آیا کہ اپنا نمبر دو اور مینے نمبر دے دیا تو فورا کال آئی کہ اپ بتاو اپ کو کیا کہا گیا مینے کہا یہ سب ہوا تو مجھے کہا گیا میں اپ کے ساتھ کھڑا ہو دیکھیں ہمارے ممبران کو کوئی جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور ہم چپ کر کے سن لیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا مینے بھائی کو ڈیٹیل دی تو بھائی نے میرے حق میں ٹویت لگایا اور ببانگِ دہل میرے ساتھ کھڑے ہو گئے اور نصیحت کی ڈرنا نہیں یہ سوشل میڈیا ہے کھل کر کھیلیں میں اپ کے ساتھ ہوں وہ دن اور آج کا دن اگر مجھے ہمت دی تو میرے دوست نے دی
    سنیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ فیصل بھائی عرف (پی ٹی ائی گلیڈی ایٹر) صاحب تھے اور شفقت صاحب بشمول شامل رہے۔۔
    حقیقت میں مجھے اشارہ ملا تھا میرے لائف میں عظیم شخص کی شمولیت ہونا تھیں جو مجھے تحفے میں ملا اور وہ تھے( فیصل بھائی ) اور شفقت صاحب
    کیونکہ اس دھمکیاں دینے والے کا تو پتہ نہیں آج کل کہا خوار ہو رہا لیکن اللہ نے عمدہ شخص کا اضافہ ضرور کر دیا ہم مزید گہرے دوست بن گئے کچھ دوستوں کو ہماری دوستی پر اعتراض تھا کہ اپ کیو اتنی اہمیت دے رہے جس پر مجھے بھی محسوس ہوا کہ یہ ٹھیک نہیں تو مینے کہا بھائی اگر اپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہیں تو پلیز کوئی بات نہیں مجھ سے بات کر لیا کریں جب کبھی دل کرے لیکن اپ اپنے دوستوں میں رہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں
    تو فیصل بھائی نے کہا وہ اپنی جگہ ہیں اپ اپنی جگہ ہے میں پھر خاموش ہوگیا۔
    تو اسی دوران مخالفتیں ہوئیں اور وقت نے سارے چہرے ایک ایک کر کے بے نقاب کر دیے جو میں سوچ رہا تھا وہ سچ ثابت ہو رہا تھا کیونکہ سارے منافقین سامنے زارو قطار بلاک مار کر بھاگ رہے تھے اور ایسا ہوا

    اس کی ایک وجہ تھی جب مینے فیصل بھائی سے بولا بھائی اپ اپنے دوستوں میں جا سکتے تو بھائی کہ الفاظ کیا تھے سنیں
    ” دیکھو شاہزیب مینے تم پر آنکھ بند کرکے ٹرسٹ کیا مینے جس پر ٹرسٹ کیا اس نے توڑا ہی ہے مخالفت کر کے یا ویسے تو اپ نہ ایسا کرنا میں تمہیں اپنے بچوں کی طرح سمجھتا ہوں ”
    یقین کریں وہ دن آئے آور آج کا دن کسی کی جرات نہ ہوئی ہماری دوستی توڑ سکے کیونکہ مجھے پتہ تھا میرے مشکل وقت میں میرے ساتھ تھے تو میں کیسے ان کو اکیلا چھوڑ دیتا سوال ہی پیدا نہی ہوتا اللہ کے فضل سے آج بھی ہم ایک ہیں اور ان شاءاللہ رہیں گے اس کی بڑی وجہ خلوص پیار محبت کو ہر گزرتے دن گہرا ہوتا گیا ۔
    ہم ناراض بھی ہوتے لیکن ہمارا غصہ ایک دوسرے پر ہی اترتا اور پھر ہم نارمل ہو جاتے۔۔
    آخر پر بات کر کے ختم کروں گا
    ‎#محبت_مافیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پر شخصیت پرستی کو سائیڈ رکھ کر صرف اور صرف پاکستان کے حق میں ہمیشہ آواز بلند ہوئ ہمیشہ سب کی مشاورت سے کام ہوا کسی کو اپنے سے برتر نہیں ہونے دیا ہمیشہ برابری کی بنیاد پر فیصلے ہوئے بہت جگہوں پر اختلافات بھی ہوئی لوگ چھوڑ کر بھی گئے
    لیکن ہم نے کسی کے بارے برا نہیں کہا نہ ہمیں ٹیم ہیڈ نے اجازت دی چھوڑ جانے والے کے لیے بولنے کی ، اگر کسی نے ٹیم سے نکل کر مخالفت کی بدلے میں نا دانستہ لوگوں نے من گھڑت باتوں کو ہمارے ساتھ دھوکے سے منسوب کیا پھر ہم نے اس پھر بھرپور جواب بھی دیا اس لیے کہ جب ہم نہیں کرتے تو ہم کسی کو کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔۔
    لیکن جو میں سارے عرصے میں سمجھا ہوں اس ٹیم کا اصل مقصد وہ تھا پاکستان اور پاکستان کے مفاد میں جو بہتر تھا سب نے کیا ساتھ مل کر جدھر سے آواز آئی مختلف ٹیموں کی ایک پکار پر ہم نے ان کی آواز پر لبیک کہا کیونکہ ہم سب پاکستان کی خاطر اکھٹے ہوئے تھے اس لیے ہمیشہ مثبت لائحہ عمل کا حصہ رہے۔

    دل سے لکھنے کی کوشش کی آپ سب پڑھیں کیونکہ جو دل سے الفاظ نکلیں وہ بہت خالص باتیں ہوتی۔۔شکریہ

    @shahzeb___

  • ٹوکیواولمپکس :ارشد ندیم نےعمدہ کارکردگی  سے پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند کر دیا    عبدالعلیم

    ٹوکیواولمپکس :ارشد ندیم نےعمدہ کارکردگی سے پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند کر دیا عبدالعلیم

    صوبائی وزیر پنجاب عبدالعلیم کا کہنا ہے کہ قومی ہیرو ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس میں عمدہ کارکردگی دیکھا کر پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عبدالعلیم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ارشد ندیم کو پوری قوم مبارکباد پیش کرتی ہے، قومی ہیرو نے ٹوکیو اولمپکس میں عمدہ کارکردگی دیکھا کر پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے،29 سال بعد گولڈ میڈل کی امید جاگی ہے۔


    عبدالعلیم نے مزید لکھا ہے کہ اللہ سے دعا ہے کہ وہ فائنل میں بھی سرخرو ہوں اور پاکستان کا جھنڈا سربلند کریں۔

    اولمپکس 2021 میں بھارت کو ہوئی عبرتناک شکست

    واضح رہے کہ ٹوکیواولمپکس میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے مقابلے میں فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا نیزہ بازی میں ایتھلیٹ ارشد ندیم فائنل میں پہنچنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

    ارشد ندیم دوسرے راونڈ میں 85.16 میٹر کے فاصلے تک جیولین پھینکنے میں کامیاب ہوگئے ارشد ندیم جیولین تھرو کے گروپ بی میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    پاکستان واپڈا سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم جیولن تھرو کے فائنل راونڈ تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کے نو ایتھلیٹس ناکام ہوچکے ہیں ارشداب میڈل کیلئے آخری امید ہیں جیولین تھرو کا فائنل راونڈ 7 اگست کو کھیلا جائے گا۔

  • بدعنوانی سے لت پت ریاست۔  تحریر: غلام نبی بلوچ

    بدعنوانی سے لت پت ریاست۔ تحریر: غلام نبی بلوچ

    پاکستان میں الیکشن اور دھاندلی کا چولی دامن کا ساتھ ھے یہ رشتہ برسوں پرانا ھے کچھ روز قبل ریاست أزاد جموں کشمیر میں انتخابات ہوئے جس میں پاکستان تحریک انصاف نے واضع برتری حاصل کی اور سادہ اکثریت سے حکومت بنا لے گی۔ اس انتخاب میں تحریک انصاف کی پہلی پوزیشن آئی دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی اور تیسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ۔
    ان انتخابات میں واضع تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی تحریک انصاف کی حکومت تو وفاق میں ہے ہی سب کو معلوم تھا کہ تحریکِ انصاف واضع برتری حاصل کر لے گی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ن لیک سے زیادہ سیٹیں کیسے حاصل کر لیں حالانکہ ن لیگ کےجلسے زبردست ہوۓ اور ن لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز نے اسے بھی 2018 کی طرح دھاندلی والے انتخابات کی طرف جوڑ دیا اس کے علاؤہ حال ہی میں سیالکوٹ میں ضمنی انتخابات ہوئے جس میں تحریک کے ممبران نے دس ہزار کے ووٹ سے پنجاب اسمبلی کی سیٹ جیتی جو ن لیگ گزشتہ تیس برس سے جیتتی آرہی تھی ن لیگ کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اس میں حکومتی مشینری کا بھی بے دریغ استعمال ہوا اسی وجہ سے تحریک انصاف جیتی البتہ ن لیگ شہباز گروپ کے لوگوں نے اس انتخابات میں دھاندلی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کو مبارکباد دی۔
    مبارک باد دینے والوں میں ملک احمد خان اور نوشین افتخارتھے اگر ہم پیچھے ماضی کی طرف چلےجائیں تو ہر الیکشن متنازعہ رہا ہر الیکشن میں دھاندلی کا شور برپا ہوتا رہا 2018 کے عام انتخابات کی بات کی جائےتو تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر اس الیکشن کو دھاندلی زدہ کہا یہاں تک کہ عمران کو سلیکٹڈ بھی کہا گیا دھاندلی کی وجہ سے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں واضع دھاندلی ہوئی اور انہوں نے حکومت گرانے کے لیے ایک اتحاد بھی قائم کی جو اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ناکام رہا اس طرح 2013 کے انتخابات کی بات کی جائے تو اس انتخاب میں دھاندلی پر بڑی بڑی تحریکیں چلیں عمران خان نے اسلام آباد ڈی چوک پر 126 دن دھرنا دیا اور عمران خان کا مؤقف تھا کہ یہ دھاندلی زدہ انتخابات ہوئےجو ہمیں قبول نہیں۔ اگر ن لیگ یہ کہتی ہے کہ صاف شفاف الیکشن ہوئےتو ہم انہیں چار حلقے دیتے ہیں یہ اوپن کرائیں پتہ چل جائےگا کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں لیکن حکومت وقت نے ان کی بات کو مسترد کردیا ۔
    پاکستانی الیکشن کی بھی ایک مکمل داستان ہے اور قریباً ہر الیکشن متنازعہ رہا اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے یقیناَُ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے صاف شفاف الیکشن کروائیں تاکہ جو ہار جائیں وہ اسے صاف شفاف تسلیم کرے اور دھاندلی کا شور نہ مچائے۔ دھاندلی کے شور شرابے کی وجہ سے اپوزیشن کے لوگ اپنے کارکنان کو احتجاج کرنے کے لیے بلاتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے اپنے لیڈران کے ہمراہ آجاتے ہیں اور روڈ بندکرتے دکھائی دیتے ہیں اور ملکی املاک کا نقصان کرتے ہیں جو مملکت خداداد کے حق میں بالکل نہیں ھے اور نہ ہی یہ نظریہ اقبال اور قائد کا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے تمام سیاست دان اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے متفق ہوجائیں اور آنے والے انتخابات ٹیکنالوجی کے ذریعے کروائیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ الیکشن کون جیتا کون ہارا جب صاف شفاف الیکشن ہو جائیں تو آدھے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے اور مملکت پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گی۔انشااللہ
    Twitter id:@GN_bloch

  • قائد اعظم محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت کے طور پر  تحریر! صاحبزادہ ملک حسنین

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت کے طور پر تحریر! صاحبزادہ ملک حسنین

    شیکسپیئر کہتا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں کچھ اپنی انتھک محنت اور جدوجہد کی بدولت بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں گو کہ محمد علی جناح میں عظمت ہمت اور طاقت طاقت جیسی خوبیاں تھیں
    محمد علی جناح جب پیدا ہوئے تو لوگوں نے یہ کہا کہ یہ بڑا ہو کر عظیم حکمران بنے گا اور پھر تاریخ گواہ ہے کے لوگوں کے وہ الفاظ سچ ثابت ہوئے 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہونے والا بچہ جس کا نام محمد علی جناح تھا اس نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کیسے برصغیر کے لوگوں کی زندگی بدل دی اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی برصغیر کے مسلمان پچھلی دو دہائیوں سے الگ ریاست کی آس لگائے بیٹھے تھے جس کو حقیقی معنوں میں قائداعظم محمد علی جناح نے پورا کیا
    22 ستمبر 1939 میں روزنامہ انقلاب میں قائد کے شائع ہونے والے الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں

    "مسلمانوں! میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا، دولت شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے
    اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو اطمینان اور یقین لے کر مرو اور میرا ضمیر گواہی دے کہ محمد علی نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی میں اپنا فرض ادا کیا اور میرا رب یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں سے عالم اسلام کے لیے جدوجہد کی”

    یہ آپ ہی کی انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کو ایک الگ ریاست وجود میں آئی جس کو ہم آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں
    جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائد کے یہ تاریخی الفاظ تھے
    ” اس ملک کے پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابری کے حقوق میسر ہوں گے بلا مذہب رنگ و نسل کے ”

    قیام پاکستان کے بعد جب پہلی دفعہ کابینہ کا اجلاس ہوا تو آپ سے پوچھا گیا کہ ممبران کے لئے کھانے میں کیا پیش کیا جائے تو آپ کے یہ الفاظ تھے کہ یہ اس قوم کا پیسہ ہے اور اس قوم پر ہی خرچ ہوگا جس کسی نے کھانا پینا ہو وہ اپنے گھر سے کھا پی کر آئے

    قیام پاکستان سے قبل قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا
    ” مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں بلکہ اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیونکہ ان برائیوں نے مسلمانوں کو دو سو سال سے کمزور کر رکھا ہے”

    دور اندیش با کردار اور ہمہ صفحات شخصیت کا انتقال پر ملال 11 ستمبر 1948 کو ہوا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے آپ کی وفات پر صرف پاکستان کے مسلمان ہی نہیں عالم اسلام کے مسلمان بھی غم سے نڈھال تھے ان کی شخصیت میں قوم کو یکجا کر رکھا تھا اور قوم میں ایک جذبہ تھا کہ ہم نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا ہے مگر آپ کی وفات کے بعد حقیقی معنوں میں کوئی لیڈر نہ مل سکا جس کی وجہ سے اس ملک کے اندرونی اور بیرونی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا اگر ہم قائد کے اصولوں پر عمل کرتے تو آج دنیا کے نقشے پر وہ پاکستان موجود ہوتا جس کا خواب محمد علی جناح نے دیکھا تھا