Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرونا ویکسین لازم ہے  تحریر:  رانا بشارت محمود

    کرونا ویکسین لازم ہے تحریر: رانا بشارت محمود

    کرونا وائرس (کووڈ-19) پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی مہلک اور جان لیوا وبائی بیماری ثابت ہوئی ہے۔ اِس وبائی بیماری سے متاثرہ چند افراد دسمبر 2019 میں جب چین کے ایک صوبے ووہان میں سامنے آئے، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ یہ وبائی بیماری اتنے لمبے عرصے تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

    اور اب تک آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری کو تقریباً دو سال پورے ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک اس کے مکمل طور پہ ختم ہو جانے کی کوئی مثبت اور حوصلہ افزا امید نظر نہیں آ رہی ہے۔

    تاہم پوری دنیا سے بہت سارے سائنسدانوں کی دن رات کی محنت اور کوششوں سے اب پوری دنیا میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ متعدد ویکسینز عوام الناس کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب پوری دنیا میں 13 مختلف ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں، جن کی کم از کم دو خوراکیں یا پھر زیادہ سے زیادہ تین خوراکیں (تاہم ضرورت پڑنے پہ ڈاکٹرز کے مشورے سے اس سے زیادہ بھی دی جا سکتی ہیں) لوگوں کو کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دی جا رہی ہیں۔ جن میں سے چند کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    اِن میں سب سے پہلی ویکسین جو 2020 کے آخر میں جرمنی کے شہر مینز میں واقع بائیو ٹیک نامی کمپنی کے دو ڈاکٹرز جن میں 55 سالہ اوگور ساہین اور 53 سالہ اوزیلیم توریسی (جوکہ اصل میں خاوند اور بیوی بھی ہیں) اور ان کی ٹیم نے فائزر کے نام سے ایک ویکسین تیار کرلی تھی۔ جسے تب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی کرونا وائرس کے خلاف 90٪ تک مؤثر قرار دے دیا گیا تھا اور اس کا پہلا تجربہ انگلینڈ میں ایک 91 سالہ خاتون جس کا نام مارگریٹ کیینن ہے، کو 8 دسمبر 2020 کو انجیکشن کے ذریعے پہلی خوراک دے کر کیا گیا تھا۔

    پھر اُس کے بعد آسٹرزینیکا/اے زیڈ ڈی 1222 نامی ویکسین جسے آسٹرزینیکا /آکسفورڈ اور اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور ایس کے بایو نے تیار کیا تھا، اور جس کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 16 فروری 2021 کو عوام الناس کو دینے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی.

    پھر ایک اور مشہور سینوفرم نامی ویکسین جس کو چین نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی) کے ماتحت ایک ادارہ ہے، جسے بیجنگ بائیو انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجی پراڈکٹ کمپنی لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔ اور جسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 7 مئی 2021 کو عوام الناس کو دینے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی.

    اب تک اگر پوری دنیا کی بات کریں تو عالمی ادارہ صحت کے مطابق آج بتاریخ 28 جولائی 2021 تک کُل تین ارب بیاسی کروڑ ننانوے لاکھ پینتیس ہزار سات سو بہتر ویکسین کی خوراکیں لوگوں کو دی جا چکی ہیں۔

    جن میں سے امریکہ میں دی جانے والی اب تک کل تعداد چونتیس کروڑ چودہ لاکھ انتیس ہزار چھ سو چھیانوے ہے، روس میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد پانچ کروڑ ستائیس لاکھ بیاسی ہزار آٹھ سو اٹھاسی ہے، انگلینڈ میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد آٹھ کروڑ چوبیس لاکھ تیرا ہزار سات سو چھیاسٹھ ہے، بھارت میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد پینتالیس کروڑ انیس لاکھ بارہ ہزار تین سو پچانوے ہے اور برازیل میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد بارہ کروڑ بتیس لاکھ اکانوے ہزار چھ سو دس ہے۔
    جبکہ پاکستان میں این سی او سی کے مطابق دی جانے والی اب تک کی کل تعداد آج بتاریخ 28 جولائی 2021 تک دو کروڑ اٹھہتر لاکھ پچھتر ہزار نو سو ننانوے ہے۔ جن میں سے وہ جن کی ویکسین کی خوراکیں مکمل ہو چکی ہیں ان کی کل تعداد انسٹھ لاکھ سات ہزار نو سو انتیس ہے، جبکہ وہ جن کو اب تک ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے ان کی کل تعداد دو کروڑ انیس لاکھ اڑسٹھ ہزار ستر ہے۔

    اور اب روزانہ کی بنیاد پہ لوگوں کا ویکسین کی خوراکیں لینے والوں میں بھی بڑی حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جیساکہ این سی او سی کے مطابق آج کے دن بتاریخ 28 جولائی 2021 کو پچھلے چوبیس گھنٹوں میں آٹھ لاکھ انچاس ہزار چھ سو چونتیس لوگوں کو ویکسین کی خوراکیں دی گئی ہیں۔ جو کہ ایک بہت بڑی اور حوصلہ افزا تعداد ہے۔

    کیونکہ پچھلے دِنوں پاکستان اور کئی دوسرے ممالک میں بھی کرونا کی ویکسین کے متعلق بہت سی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ کہ جو ویکسین کی خوراکیں لیں گے وہ خدانخواستہ بانجھ ہونا شروع ہو جائیں گے یا پھر وہ لوگ ایک، دو یا چند سالوں کے بعد مرنا شروع ہو جائیں گے اور اِن میں سے ایک خبر جو کہ کسی سائنسدان سے منسوب کی جارہی تھی جو میں نے بھی ایک اخبار کے تراشے پہ پڑھی وہ یہ تھی کہ ویکسین لگوانے کے بعد لوگ مگرمچھ بن جائیں گے، جوکہ انتہائی غیر فطری اور سراسر جھوٹ پہ مبنی بات ہے۔

    ایسے عناصر اور اخبارات و رسائل جو ایسی بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ اُن کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ عوام میں کرونا ویکسین لینے کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات ختم ہو سکیں اور تاکہ اس سے عوام میں یہ پیغام بھی جائے کہ کرونا ویکسین کی خوراکیں لینا انتہائی اہم اور ضروری ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ میرے پاکستانیوں جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری نے اب تک لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی جان لے لی ہے۔ تو اِس کے پھیلاؤں کو روکنے اور خود کو اس سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب جلد از جلد حکومت کی طرف سے عوام کی حفاظت کی خاطر دی جانے والی ویکسین کی خوراکیں لازمی لیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں، تاکہ ہم خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی اِس مہلک وبائی بیماری سے بچا سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!!  تحریر: سلمان احمد صدیقی

    کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!! تحریر: سلمان احمد صدیقی

    دورِ حاضر میں کراچی ملک کو تقریباً 65 سے 70 فیصد ریونيو اور سندھ کو 90 فیصد کما کر دینے والا ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اگر یہ بات کہی جاۓ کے ملک کی معیشت چلانے میں کراچی شہر کا بہت بڑا ہاتھ ہے تو یہ کسی صورت غلط نہ ہوگا۔ لیکن جب ہماری نظر اس شہر کے مسائل پر پڑتی ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کے اتنا ریونيو دینے والے شہر کے شہری ذندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ملک کے تقریبا تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد کراچی میں رہائش پزیر بھی ہیں اور برسرِ روزگار بھی ہیں۔ اگر ہم آج سے گیارہ سال پیچھے چلے جاٸیں تو کراچی ایسا نہ تھا بلکے کراچی دنیا کے دس تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں کی فہرست میں شامل تھا۔ شہر میں عوام کی تفریح کےلیے خوبصورت پارک موجود تھے۔ فلاٸ اوورس اور بہترین سڑکوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ نکاسی آب کا نظام بھی آج کے دور سے بہت بہتر تھا۔اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی قدرے بہتر تھی۔آج وہ ہی کراچی دنیا کے پانچ اُن شہروں میں شامل ہے جو کے انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے غرض یہ کے آج کراچی تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اس تباہی اور بربادی کے زمیداروں کا تعين کرنا کسی سوال سے کم نہیں۔ عقل سمجھنے سے قاصر ہے کے اس بربادی کا زمیدار کس کو ٹہرإیا جاۓ۔ کیا وہ تمام سرکاری ادارے اس کے زمیدار ہیں یا وہ سیاسی پارٹیاں جو اس شہر کا مینڈیت لے کے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں یا عوام جو کے اتنی پریشانیاں اٹھانے کے باوجود بھی خاموش تماشائی بن کے صبر کیے ہوۓ ہیں۔ یہ فیصلہ تو میں پڑھنے والے تمام معززین پے چھوڑتا ہوں۔ ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کبھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھیگ مانگ رہا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز دینے کے اعلانات اور دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طورپر کارکردگی صفر ہے۔ جتنا ٹیکس کراچی سے جمع کیا جاتا ہے اگر اس میں سے چند فیصد بھی ایمانداری کے ساتھ اس شہر کی تعمير و ترقی کے لیے خرچ کیا جاتا تو آج اس شہر کا یہ حال نہ ہوتا۔ یہ بات اس شہر کی بدقسمتی سے کم نہیں ہے۔ پاکستان الله کی طرف سے ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے اور کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ریاست اور اربابِ اختیار کی یہ ذمیداری ہے کے کراچی کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پے حل کریں تاکہ یہاں معاشی سرگرمياں میں بھی استحکام پیدا ہوسکے۔ پاکستان کی ترقی کراچی کی ترقی سے جوڑی ہوٸ ہے اور کراچی کا تباہ ہونا پاکستان کا تباہ ہونا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ حکمرانوں کو ہدایت دے اور اس تباہ حال شہر کو مسائل سے پاک کردے۔آمین

  • ذکر الہٰی  تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر الہٰی تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر کے معنی یاد کرنا کے ہوتے ہیں اور ذکر الہٰی سے مراد رب کائنات اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ہیں۔
    ذکر الہٰی سب عبادتوں کا مجموعہ ہے اور ذکر الہٰی میں دلوں کا سکون ہے۔

    *قرآن مجید میں ارشاد:*

    *”آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کے ذکر میں دلوں کا اطمینان ہے۔”* (سورت الرعد 28)

    آج کل کے دور میں ہر کوئی بے سکونی کا شکار ہے، ٹینشن کا شکار تو اس کا واحد حل خدا تعالیٰ کا ذکر ہے۔

    *آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *”اللہ تعالیٰ کا ذکر دلوں کی شفاء ہے.”*

    انسان دنیاوی جتنی بھی باتیں کرے وہ خدا کے ذکر سے اچھی نہیں ہوتیں، انسان دنیاوی جتنی بھی محافل میں شرکت کرے وہ ذکر الہٰی کی محفل سے افضل نہیں ہوتیں۔ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد خدا کو یاد کرنا تھا اور وہ ہم بھول گئے ہیں۔
    ذکر الہٰی کی بہت سی قسمیں ہیں،جیسا کہ نماز، قرآن مجید کی تلاوت، تسبیحات وغیرہ۔
    جملہ امراض نفسانی و روحانی سے شفا ذکر الہٰی ہے۔
    انسان کی ہلاکت کے لیے بہت سی بلائیں منہ کھولے کھڑی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی روک ہے۔
    اللہ کا ذکر سب بیماریوں کی شفاء اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور محبت کا ذریعہ ہے۔
    آج ہر گھر میں پریشانی، لڑائی، جھگڑے، فسادات ہیں اس کی وجہ سے خدائے واحد کے پیغام سے دوری۔۔۔
    اس کی وجہ ذکر الہٰی سے دوری۔۔۔
    ہم لوگ دکانوں، سینماؤں، مارکیٹوں میں گھنٹوں صرف کر دیتے ہیں مگر خدا کو یاد نہیں کرتے۔۔۔
    ہم یہ تو راگ الاپتے ہیں کہ کاروبار میں برکت نہیں، گھر میں پریشانی ہے، رات کو نیند نہیں آتی، ارے بھائی یہ سوچ تونے خدا کو بھی یاد کیا ہے، جب ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کریں گے تو وہ خدا ہماری پریشانیوں کو دور کر دے گا اور ہمارے لیے بہتری کے فیصلے فرما دے گا۔۔۔
    انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے دن میں کئی مرتبہ یاد کرتا ہے اور خدا سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔
    ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو ہر وقت خدا کی یاد میں مستغرق رہتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ہر وقت خدا کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ وہ اپنے کام بھی کرتے اور خدا کو یاد بھی کرتے اور ہم لوگ دنیاوی کاموں میں مصروف ہوچکے ہیں اور خدا کو بھول چکے ہیں۔۔
    دنیا کی ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے، چرند، پرند، درند حتی کہ مٹی کے ذرات بھی خدا کا ذکر کرتے ہیں اور ہماری زبانیں غیبت، چغلی کرنے میں مشغول ہوتی ہیں اسی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔
    اے مسلمان!!
    اے میری جان!!
    اپنے دنیاوی کاموں کو کرنے کے ساتھ ساتھ خدا کو بھی یاد رکھ یہ تیرے لیے اصل سرمایہ ہے جو کہ تیری ہمیشہ کی زندگی کے لیے ضروری ہے، تو خدا کو یاد کر کے تو دیکھ اس کے دنیاوی فوائد بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔
    خدا کو کسی مطلب کے لیے یاد نہ کر خدا کو صرف اس کی رضا کے لیے یاد کر۔۔۔۔۔

    *رہوں ہر وقت تیری یاد میں مستغرق*
    *میرے لب پہ ہر پل یہی دعا ہے*
    *(بلال انجم)*

  • کشمیر پریمیئر لیگ بھارتی سیاست کی نظر !  تحریر: حسن ریاض آہیر

    کشمیر پریمیئر لیگ بھارتی سیاست کی نظر ! تحریر: حسن ریاض آہیر

    بھارتی فاشسٹ حکومت ایک بار پھر ہٹ دھرمی پر اتر آئی اور پاکستان کےخلاف اوچھےہتھکنڈے اپنانا شروع کردیے۔
    6 سے 16 اگست تک آزاد کشمیر مظفر آباد میں کشمیر پریمیئر لیگ ہونےجا رہی ہےجس میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں نےشرکت کرنا تھی۔
    بھارتی کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اور ان سےمنسلک کرکٹ بورڈز کو دھمکایا کہ اگر آپکےکھلاڑی کے پی ایل میں شرکت کریں گےتو انہیں بھارت اپنےملک میں کھیلنےسےمعطل کردےگا اور سیکورٹی سےمتعلق بھی دھمکایا۔جس کے بعد اطلاع ہےکہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو کے پی ایل میں حصہ لینےسے روک دیاہے۔
    دوسری جانب کے پی ایل انتظامیہ نے اس معاملےکا نوٹس لیا اور کسی غیر ملکی کھلاڑی کو شامل نہ کرنےکا فیصلہ کیا۔جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز اور سری لنکا کے تلکارتنے دلشان کو بتایاگیا کہ کے پی ایل اب محض مقامی کھلاڑیوں پر مبنی ہوگی۔
    لیکن دلشان نےتمام مشکلات کےباوجود کھیلنےکا فیصلہ کیا۔
    کے پی ایل نے ایک بار پھر مقامی کھلاڑیوں کی فہرست کھول دی ہے اور وہ تمام غیر ملکیوں کی جگہ لیں گے۔
    چیئرمین کشمیر کمیٹی شہر یار خان آفریدی نےکشمیر کے پی ایل کےعہدے داروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے آئی سی سی پر زور دیا کہ وہ بی سی سی آئی کےشیطانی ایجنڈے کا نوٹس لےجس کا مقصد کرکٹ کو اپنےسیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیل بینادی انسانی حق ہے۔بھارت کے زیر اثر عالمی کھیلوں کا ہوناقابل قبول نہیں۔
    پاکستان کا کے پی ایل کروانے کا مقصد آزاد کشمیر کےپرامن حالات،تقافت،پاکستان کو کھیلوں کےلیے محفوظ ملک ثابت کرنا اور دنیا کےسامنے ایک اچھا امیج پیش کرناہے۔
    اسکےبرعکس مودی حکومت نے ظلم و بربریت کی داستان مقبوضہ کشمیر میں رقم کی اور پرتشدد کرفیو کو دو سال ہونےکو ہیں۔
    @HRA_07

  • ‏حقوق نسواں اور اسلام  تحریر؛ سردار ہارون بابر

    ‏حقوق نسواں اور اسلام تحریر؛ سردار ہارون بابر

    اسلام محض دین نہیں بلکہ ایک ضابطہ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے ذریعے تمام بنی نوع انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کردیے گئے ہیں۔
    دوسرے کا حق، ہمارا فرض ہوتا ہے، جسے ادا کرنا لازم ہے۔
    حقوق کے بارے میں عورتوں کو ہمیشہ پس پشت ہی رکھا گیا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں طرح طرح کے ظلم و ستم عورتوں پہ ڈھائے گئے۔
    لیکن اسلام نے عورت کو عزت بخشی، گھر کی زینت بنایا، اگر ماں ہے تو جنت ہے اور اگر بیٹی ہے تو رحمت۔

    اللہ تعالیٰ سورة النساء میں فرماتے ہیں کہ؛

    اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ
    ترجمہ؛ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نےاپنے مال خرچ کئے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے اگر مرد کو فضیلت بخشی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مرد، عورتوں کو زر خرید غلام سمجھنے لگے۔ بلکہ دونوں کی اپنی اپنی زمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی سے صحت مند معاشرے پروان چڑھتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی عورتوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔
    خواہ تعلیم حاصل کرنا ہو یا خود سے روزگار کمانا ہو، عورت بااختیار ہے۔
    بلکہ قوم کی کئ بہادر بیٹیوں نے پاکستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔ جن میں فاطمہ جناح، رعنا لیاقت، بلقیس ایدھی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر سارہ قریشی، منیبہ مزاری اور خواتین کرکٹ ٹیم کی ثناء میر سر فہرست ہیں۔
    دفاعی میدان میں بھی پاک دھرتی کی بیٹیوں نے محنت سے اپنا لوہا منوایا ہے جیسے نگار جوہر، شازیہ پروین اور شہید مریم مختار وغیرہ۔
    پس ثابت ہوا کہ عورت با حیا انداز میں دنیا کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ روزگار بھی کما سکتی ہے۔
    اللہ نے خاص عورتوں سے بات کرنے کے لیے سورة النساء نازل فرمائی ہے۔ جس میں عورتوں سے متعلق تمام تر امور تفصیل سے بیان فرما دیے۔ زمانہ جاہلیت میں، اسلام سے قبل عورتوں کا وراثت میں کوئی حصّہ نہ تھا مگر اسلام نے عورتوں کا حق مقرر کیا۔
    پر افسوس! کچھ عورتیں اللہ کا فرمان نہیں مانتی۔ نہ پردہ کرتی ہیں نہ حیاء۔
    پھر لوگ بھی پریشان کرتے ہیں اور شیطان بھی۔
    اور اپنی اس بے پردگی کو آزادی کا نام دیتی ہیں؟؟؟

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایمان کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘​

    حیاء عورت کا زیور ہے۔ پردہ عورت کو باقی تمام عورتوں سے مختلف شناخت دیتا ہے تاکہ اسلام کی بیٹی پہچانی جائے۔

    اللہ تعالیٰ سورة الاحزاب میں فرماتے ہیں کہ؛

    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
    ترجمہ؛ اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

    مگر کچھ ایسی خواتین بھی ہیں، جو آزادی کے نام پر بے حیائی پھیلا رہی ہیں۔
    کچھ جھوٹی شہرت تو کچھ چند پیسوں کے عوض گھٹیا تحریک ” میرا جسم، میری مرضی” میں ملوث ہیں۔ یہ عورت مارچ، معاشرتی بگاڑ کے علاوہ کچھ نہیں۔
    اگر کم کپڑے پہننا یا بے لگام گھومتے پھرتے رہنا ‘ ماڈرنیزم ‘ ہے تو جانور ان عورتوں سے زیادہ جدید ہیں۔
    قرآن و حدیث میں پہلے ہی عورتوں کے حقوق و فرائض بیان فرما دیے گئے ہیں۔
    تو پھر انھیں کونسا حق چاہیے؟؟
    کونسی آزادی چاہئے؟؟ کیا یہ باپ سے آزادی چاہتی ہیں جو سراپا شفقت ہے۔ یا بھائی سے؟؟ جو محافظ ہے۔ یا پھر اپنے ہی شوہروں سے؟؟

    ایسی عورتیں جعلی کیسز بناتی ہیں کبھی ذاتی تشہیر کے لیے تو کبھی پیسوں کے لیے اور مردوں پہ الزام لگاتی ہیں۔
    ایسے جعلی کیسز، حقیقی مظلوموں کے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسی چال باز عورتوں کو جہاں موقع ملے وہاں ہی بے نقاب کرنا چاہیے کیونکہ یہ عورت کے وقار پہ دھبہ ہیں۔

    کیسے ہوگی اب اس فرض کی پاسداری
    عمل سے دور ہوگئ بنتِ حوا بیچاری
    تقدس ہوا پامال بے حجابی کے دور میں
    روک اسے نہ پائی گھر کی چار دیواری

    یہ عورتیں اس گندی مچھلی کی مانند ہیں جو پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہیں۔
    لیکن اس سب کے باوجود ہماری قوم کی بیٹیاں، مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

    ‎@HaroonForPak

  • ‏چھوٹی چھوٹی خوشیاں  تحریر :فضل عباس

    ‏چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر :فضل عباس

    آج کے ظالم دور میں انسان کو ہر طرف سے اذیت ملتی ہے شاید نصف سے زیادہ انسان ہر وقت کسی نہ کسی دکھ کا شکار ہوتے ہیں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی دکھ ملتا ہی رہتا ہے لیکن کیا وہ ان دکھوں کے سہارے زندگی گزارے؟ ہرگز نہیں
    جہاں انسان کو تکلیف ملتی ہے وہیں اللہ تعالیٰ اسے خوشی سے بھی نوازتا ہے آج اس تحریر میں زندگی میں ملنے والے دکھ اور اس کے مقابلے میں ملنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر بات کریں گے

    انسان بعض اوقات کسی شخص کے قریب چلا جاتا ہے لیکن اس نے بالآخر اس سے دور ہو جانا ہوتا ہے وقتی طور پر یہ دکھ شاید دل چیر کر رکھ دینے والا ہو لیکن اگر اسے مثبت لیا جائے تو یہ آپ کی سب سے بڑی خوشی بن سکتا ہے کیوں کہ ہر کسی کی زندگی میں آپ کی جگہ نہیں ہوتی اگر آپ زبردستی کسی کی زندگی میں رہنا چاہیں تو وہ نہ صرف آپ کے لیے دکھ ہو گا بلکہ اس کے لیے بھی جس کی زندگی میں آپ ہیں لہذا اگر آپ کسی سے دور ہوتے ہیں تو اسے خوشی میں بدل کر دیکھیں ہاں مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے اس لیے دکھ کو خوشی میں بدل دیں

    بعض اوقات انسان دکھ کے طوفانوں میں گھر جاتا ہے لیکن یہ دکھ اور تکالیف عارضی ہوتی ہیں یہ دکھ آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ پر لے آتے آپ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتے ہو اس سے بڑی رحمت کیا ہو گی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گئے

    بعض اوقات انسان کو دھوکہ کھانا پڑتا ہے دھوکہ آپ کو زندگی کے کسی بھی مرحلے اور زندگی کے کسی بھی لمحے مل سکتا ہے اس وقت آپ کو دکھ پہنچتا ہے لیکن آگے چل کر یہ آپ کو مضبوط انسان بناتا ہے کیوں کہ تب آپ ہر کسی پر یقین نہیں کر سکتے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا جیسی نظر آتی ہے اس طرح ہوتی نہیں

    بعض اوقات انسان کو منافقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ وقت انسان کے لیے مشکل ہوتا ہے اپنے پرائے کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے لیکن جب آپ اس وقت سے نکل آتے ہیں تو آپ کھرے کھوٹے کی پہچان کر سکتے یہ زندگی میں آپ کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے

    بعض اوقات انسان دنیا کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے وہ اس قدر معصوم ہوتا ہے کہ اسے لگتا ہے سب اس جیسے ہیں لیکن اس کی یہ غلط فہمی لوگ دور کر دیتے ہیں لوگ اسے توڑ دیتے ہیں لیکن ٹوٹنے کے بعد وہ حوصلہ کرے تو جڑ جاتا ہے اور ایک مضبوط انسان بن کر ابھرتا ہےیہ مضبوطی اس کے لیے سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے

    انسان سب سے زیادہ اپنوں کے ہاتھوں ٹوٹ جاتا انسان جسے اپنا مانتا ہے اس کا احترام ٹوٹ کر کرتا ہے دوسرے الفاظ میں انسان خود کو توڑ کر اپنوں کو جوڑتا ہے اس سے اس کی انا کو ٹھیس ضرور پہنچتی ہے لیکن اس سے اس کی خوشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے

    انسان بعض اوقات ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا ہر ارادہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور یہ اسے شدید دکھ میں مبتلا کر دیتا ہے لیکن بعد میں اس پر ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے بہتر دیا جو وہ چاہتا تھا اللہ تعالیٰ انسان کو ہمیشہ خوشیاں عطاء کرتا ہے انسان کو چاہیے ان خوشیوں کو اکٹھا کرتا جاۓ

    انسان دنیا سے لڑتا رہتا ہے آخر پر اسے پتا چلتا ہے کہ دنیا میں دکھ تو ہیں لیکن اگر چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو وہ جمع کرتا رہے تو اس کے دکھوں کا مداوا ممکن ہے وہ ان غموں کی بجائے نئے سرے سے اپنی زندگی کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرتا جاۓ تو اس کی زندگی بہتر سے بہترین ہو جائے گی

  • جنسی زیادتی کا رجحان  تحریر:ثمرہ مصطفی

    جنسی زیادتی کا رجحان تحریر:ثمرہ مصطفی

    جنسی زیادتی کا رجحان پچھلی تہذیبوں میں بھی پایا جاتا تھا.بڑھتا ہوا جنسی زیادتی کا رجحان معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا جارہا ہے.جنسی زیادتی ایک چھپا ہوا (جرم )عمل ہے جس میں کسی کی مرضی کے بغیر اسکو چھونا یا کوٸی ایسا عمل کرنا جو اگلے کو ناگوار گزرے یا اس میں اسکی رضامندی شامل نہ ہو .جنسی زیادتی جسمانی یا غیرجسمانی دو طرح کی ہوسکتی ہے.جنسی زیادتی ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ کی جاتی ہے چاہے وہ بچہ ، جوان یا بوڑھا ہو.جنسی ذیادتی کسی شخص کہ یقین کو ٹھیس پہنچانا ہے.پھر وہ شخص ساری زندگی کسی پہ یقین نہیں کرسکتا ہر کسی کو ایک ہی نظر سے دیکھتاہے. اجکل جنسی زیادتی کا رجحان بڑھتاجا رہاہے.اور اسکی وجہ سوشل میڈیا کا استعمال،غربت،بیک گراٶنڈ،اسلام سے دوری اور بہت دوسری وجوہات ہیں .یہ مسٸلہ  نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پایا جاتا ہے .جنسی زیادتی کسی کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپکا باپ یا بھاٸی ہی کیوں نہ ہوں اپ کو نہ صرف باہر والوں سے بلکہ اپنے گھر والوں (رشتہ داروں ) سے بھی احتیاط کرنی چاہٸے جیسا کہ ٹی وی ، نیوزپیپر میں آۓ دن دیکھایا جاتا ہے کہ باپ یا بھاٸی نے بیٹی ، بہن کے ساتھ زیادتی کی  .اسکی ایک یہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جو لوگ اپنے بچوں کے ساتھ  ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں اور انکے بچے سمجھدار ہوں اور وہ لوگ انکے سامنے سیکس کریں تو اس سے انکے ذہن میں ایسے خیال آتے ہیں جو انہیں غلط کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور دوسری بات زیادتی کیلے عورت کو قصور وار ٹہرایا جاتاہے کبھی اسکے کپڑوں ، کبھی اسکے گھر سے باہر نکل کرکام کرنے کو . کون عورت ہوگی جو چاہے گی اسکی عزت داغ دار ہو . ظلم بھی عورت کے ساتھ ہوتا ہے اور قصور وار بھی اسے ٹہرایا جاتا ہے کیا کوٸی عورت چاہتی ہے کہ اسکی عزت کو پامال کیا جاۓ تو پھر عورت کو کیوں قصور وار ٹھرایا جاتا ہے .مرد ہمیشہ سے خود کو حاکم سمجھتا ایا ہے اور عورت کو کمتر سجمھ کر اپنے پیروں کی جوتی سمجھتا رہا ہے .شاید مرد عورت کی ترقی سے جل کر بھی انکو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں .جبکہ اسلام نے مرد کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے .سورت النور کی ایات نمبر٣٠ میں اللہ پاک کا فرمان ہے ”مسلمان مردوں سے کہہ دیجٸے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“
    @__fake_world __

  • پانچ صحبتیں تحریر: عقیلہ رضا

    امام ابو جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    پانچ لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
    1۔جھوٹے سے کیونکہ اس کی صحبت فریب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
    2۔بے وقوف سے کیونکہ جس قدر وہ تمھاری منفعت چاہے گا اسی قدر نقصان پہنچے گا۔
    3۔کنجوس سے کیونکہ اس کی صحبت سے بہترین وقت راٸیگاں جاتا ہے۔
    4۔بزدل سے کیونکہ یہ وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
    5۔فاسق سے کیونکہ ایک نوالے کی طمع میں کنارہ کش ہو کر مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
    امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیان کردہ پانچ صحبتیں حقیقتاً بہت نقصان دہ ہے۔
    پہلی صحبت جھوٹ بولنے والے کی!
    جو شخص جھوٹ بولنے کاعادی ہوگا وہ اپنے ساتھ جڑے ہر شخص کو دھوکہ میں مبتلا کرے گاکیونکہ وہ سچ بولنے کا عادی نہیں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ہر ایک کو پھساۓ گا نتیجتاً وہ لوگ اس کے جھوٹ اور فریب کے باعث مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بعض و اقات ایسا ہوتا ہے ہماری زندگی میں کہ ہم دوسروں کے جھوٹ بولنے کی عادت کے باعث بہت نقصان اٹھا جاتے ہیں جس کے باعث لڑائی جھگڑا اور فساد پیدا ہوتا ہے تو بہتر ہےکہ ہم پہلے ہی اس فساد سے بچنے کی کوشش کریں۔
    دوسری صحبت بےوقوف کی!
    بے وقوف کی صحبت اگر وقتی طور پر فاٸدہ دے رہی ہےجس کے باعث بہت سے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں تو یاد رکھیں اسی قدر نقصان کے لیے بھی تیار رہنا چاہیئے۔
    تیسری صحبت کنجوس کی!
    کنجوس کی صحبت آپ کے بہترین وقت و لمحات کی دشمن ہے۔
    چوتھی صحبت بزدل کی!
    بزدل کی صحبت جب آپ اختیار کرتے ہیں تو ایسا شخص کبھی بھی مشکل وقت میں آپ کے ساتھ نہیں ہوسکتا بلکہ مشکل پڑتے دیکھ کر وہ سب سے پہلے بھاگے گا۔کیونکہ بزدل ہمیشہ اپنی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔
    پانچویں صحبت فاسق کی!
    فاسق شخص ہمیشہ لالچی سے بھرا ہوا ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک نوالے کی لالچ میں مبتلا ہوکر وہ آپ کو مصیبت میں چھوڑ دے گا۔
    ہم میں سے اکثر لوگ ایسے لوگوں کی صحبت یا دوستی کے باعث نقصان اٹھا چکے ہوں گے نتیجتاً نفرت،دشمنی،بغض جیسی براٸیاں پیدا ہوٸیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم کسی کی صحبت اختیار کرنے سے پہلے اس کی اخلاقی اقدار کو دیکھ لیں نا کہ اس کے ظاہر سے متاثر ہوکر پھر نقصان اٹھا کر اس کو ہمیشہ کوستے رہیں۔ یاد رکھیں اچھی اور بری صحبت انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
    ہمارے اسلاف کے ارشادات ہمارے لیے بہترین راہنماٸی ہیں اگر ہم اس پر عمل کریں تو نہ صرف یہ کہ ہم خود بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں بھی اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : دونوں ٹیموں کے مابین میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مطابق فیس ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے لوگ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے آسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چار میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔پہلا ٹی 20 میچ بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا تھا ۔دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سات رنز سے شکست دی تھی پاکستان کی جانب سے تیسرے ٹی 20 میچ میں پلینگ الیون میں کوئی تبدیل نہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ چوتھا میچ 3 اگست کو شیڈول ہے

    خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹر اعظم ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہو گئے تھے جس کے باعث انہیں تیسرے میچ میں نہیں کیھلایا گیا تھا گا جبکہ ڈاکٹر ز کا کہنا ہے کہ چوتھے میچ میں کھیلیں گے یا نہیں پیر کے روز زخم کا معائنہ دوبارہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا –

    کرکٹراعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی

    ایک مستند آلراؤنڈر بننے کا خواہشمند ہوں، حسن علی

  • تلخ معاشرتی رویٌے   تحریر : زارا سیٌد

    تلخ معاشرتی رویٌے تحریر : زارا سیٌد

    رویّہ انسان کی عادت کو کہتے ہیں۔ ہر انسان دوسرے سے جس طرح کا سلوک کرتا ھے اس کو ہم انسانوں کے معاشرتی رویّے کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان کے رویّوں ، اُس کی عادتوں اور اس کے طور طریقوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت سے عوامل و اسباب ہوتے ہیں ۔انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے وہ اپنے والدین سے جو بھی سچ جھوٹ کچھ سنتا ہے اور پھر جو کچھ بولتا ہے ۔ اس سننے اور بولنے کے نتیجے میں عمل اوررد عمل کی جو تشکیل ہوتی ہے۔ وہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کے رویّوں کی تشکیل میں دوسرا اہم عمل اسکے علاقہ اور محلے کا ہے۔ اس کے دوست، احباب ہیں۔ جن گلیوں میں وہ پیدا بڑھتا ہے ، کھیلتا کودتا ہے تو وہاں پر جن کیفیات سے اُسے گزرنا پڑتا ہے، جیسے مشہور مقولہ ہے”انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔

    آج کل کے دور کو دیکھا جائے اور عام لوگوں کے رویوں اور سوچ کا مشاہدہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے ہے کہ ہم مالی، معاشرتی اور سماجی سطح پر زوال پذیر ہیں۔ہمارے عام رویے ایک دوسرے سے بغض اور منافرت کا جذبہ لئے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں خلوص کی ہلکی سی جھلک نظر آ جاتی ہے اور دل کو اطمینان ہوتا ہے کہ انسان کا دل ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے کے ہر فرد کے رویے سے یہ بات ظاھر ھوتی ہے کہ اب انسانوں میں وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی ۔

    عوام میں ایک رویہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی بھی حادثہ یا غیر معمولی واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے اور اپنے لوگوں کی سخت تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ رویہ عام ہوتا جارہا ہے اور ہر کوئی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ویڈیوز ، بلاگز، کالمز، اور ٹویٹس کا سہارا لیتا ھے ۔

    یہ تنقید اگر ان عوامل کی نشاندہی کے لئے ہو جن پر توجہ دے کر ہم اجتماعی رویوں میں بہتری لا سکتے ھوں تو ایسی تنقید اصلاح کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے ۔ لیکن یہ تنقید صرف ریٹنگ حاصل کرنے ، پوسٹ کے زیادہ لائکس یا اپنے آپ کو دنیا سے الگ دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔

    ان سخت اور تلخ رویوں کی وجہ سے اس قدر بے یقینی کی فضا ھے کہ ھم کسی پر اعتبار ھی نہیں کرتے ھم ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی کتراتے ھیں۔

     ھماری چھوٹی چھوٹی باتیں اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں معاشرے کو خوبصورت بناتی ہیں اور وہی باتیں دوسروں کے لئے مثال بنتی ہیں۔ اگر ہم اچھی باتوں کو اپنائیں تو یہ معاشرہ خوبصورت نظر آئے گا اور اگر برائی پھیلائیں تو معاشرہ بدنما نظر آئے گا۔ ہمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے بچوں کی بہترین تربیت کرنی ھو گی تاکہ وہ بڑے ھو کر معاشرے کی خوبصورتی کا باعث بنیں۔

    سکولز اور کالجز میں ایسی کلاسز ھونی چاھیے جن میں معاشرے کی رہنمائی کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا جائے جنہوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کر کے خود کو منوایا ہو جو خود اس معاشرے کے لیے ایک مثال ہوں تاکہ بچے ان سے سیکھ سکیں اور ان کے نقش قدم پر چل کر اس معاشرے کو سنوار سکیں ۔

    ٹویٹر : @Oye_Sunoo