Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دیسی لبرلز کی وارداتیں تحریر : نعمان سرور ملک

    دیسی لبرلز کی وارداتیں تحریر : نعمان سرور ملک

    پاکستان میں دیسی لبرلز کی تعداد گو آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن ان کا اتحاد ان کا گٹھ جوڑ آپ کو باقی طبقے سے زیادہ نظر آتا ہے، دیسی لبرلز پاکستان میں کئی سالوں سے کسی نہ کسی طرح موجود تو تھے ہیں لیکن سن 2000 کے بعد یہ ایک پیشہ بن گیا،
    آپ سوچ رہے ہونگے پیشہ کیسے ؟؟؟
    تو چلئے۔۔آپ کو بتاتے ہیں۔۔۔
    ہمارے جتنے بھی دیسی لبرلز ہیں یہ تمام کسی نہ کسی طرح بیرون ملک ایجنسیوں سے پیسے لے کر ملک کے خلاف کام کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔
    پہلے ان کا طریقہ واردات یہ تھا کے یہ لوگ این جی اوز بناتے تھے ان کے نام پر فنڈ لیتے تھے اور ان فنڈز کا دس فیصد لگا کر باقی سارا جیب میں۔۔۔
    اس طرح یہ لوگ تحقیقاتی ایجنسیوں سے بھی بچ جاتے تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے تھے لیکن یہ طریقہ وقت کے ساتھ پرانا ہوگیا اب ان لوگوں نے اپنا طریقہ واردات تبدیل کر لیا ہے۔
    اب یہ لوگ پرانے طریقے کے ساتھ نئے طریقے بھی متعارف کرا چکے ہیں جن میں ایک بڑا طریقہ یہ ہے کے یہ لوگ بیرون ملک سیاسی پناہ لے کر وہاں سے ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں کئی دیسی لبرلز یہ کام کر چکے ہیں کئی اس پر کام کر رہے ہیں اور کئی مستقبل میں یہ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں گلا لئی اسماعیل وقاص گورایہ اور اس طرح کے کئی اور لوگ بھی ہیں۔
    اب سوال یہ ہے کے سیاسی پناہ سے انہیں ملتا کیا ہے؟؟؟
    سیاسی پناہ بنیادی طور پر ان کی بیرون ملک رہائش اور ماہانہ آمدن ہوتی ہے جس کا انتظام بیرون ملک کی ایجنسیاں ان کو کر کے دیتی ہیں تاکہ یہ لوگ ان کا کام جاری رکھ سکیں۔
    صرف کینیڈا کی بات کریں تو وہاں پر سیاسی پناہ کے فوائد میں گھر،تعلیم،صحت کے علاوہ ان لوگوں کو مختلف چیزوں کی مد میں حکومت کے طرف سے پیسے دییے جاتے ہیں۔ یہ لوگ وہاں رہ کر کوئی کام نہیں کرتے سوائے ملک دشمنی کے اور ملک کو بدنام کرنے کے اور اس مد میں لاکھوں روپے یہ لوگ کماتے ہیں وہ الگ بات ہے کے یہ لوگ حرام حلال آمدنی کا فرق نہیں کر سکتے۔
    دیسی لبرل ملک میں رہ کر اپنے آپ کو یہاں پر بیرون ملک کے نام نہاد خبر رساں اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور اس مد میں لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں اور اس طرح یہ لوگ تحقیقات سے بچ جاتے ہیں اور اگر ان سے کوئی سوال کرلے تو یہ لوگ آذادی اظہار رائے کا منجن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔
    دنیا بھر میں ہزاروں ایسے نیوز چینلز اور ویب سائٹس ہیں جو ایک ملک کی ایجنسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرتی ہے جس کی حالیہ نشاندہی دی انڈین کرونکل رپورٹ میں کی گئی۔ ایسی نیوز ایجنسیاں ان دیسی لبرلز کو پالتی ہیں۔
    دیسی لبرل کا ایک اور طریقہ واردات یہ ہے کے یہ لوگ ملک دشمن سیاسی پارٹیوں کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں کرتے وہاں کچھ نہیں بس یہ ان کا فنڈنگ سورس ہوتا ہے تازہ مثال اس کی پی ٹی ایم جیسی جماعتیں ہیں۔
    دیسی لبرلز کی پہچان بہت آسان ہے یہ لوگ آپ کو پاکستان میں موجود بیرونی ممالک کے سفارت خانوں کی محفلوں میں اکثر پائے جاتے ہیں اورمحفل کے آخر می شراب کی بوتلیں چھپا کر ساتھ لے جاتے نظر آتے ہیں یا اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں آدھی پتلون کے ساتھ سستا سا سگریٹ لگا کر اپنے آپ کو "جان شلبے” سمجھتے نظر آئیں گے، یا آپ ٹویٹر پر دیکھیں تو آپ کو منافقت کا بورڈ ہاتھ میں لئے یہ لوگ نظر آ جاتے ہیں، یہ لوگ سارا سال کے ایف سی اور مکڈونلڈ کی مرغیاں پھاڑتے ہیں،ان میں موجود سرخے مردان کے چپلی کبابوں کی تصویریں خود ٹویٹس کرتے ہیں لیکن جب عیدالضحی کا موقع آتا ہے تو اسلام دشمنی میں یہ لوگ جانوروں کو اپنا "خالو” بنا لیتے ہیں ان کی منافقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس پر جتنا لکھو اتنا کم ہے آنے والی تحریروں میں اس پر مزید روشنی ڈالونگا آخر میں دیسی لبرلز کے لئے اتنا ہی کہونگا۔
    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

    @Nomysahir

  • احساس  زندگی ہے  تحریر: محمد وقاص عمر

    احساس زندگی ہے تحریر: محمد وقاص عمر

    احساس کے معنی ہےکہ دکھ،تکلیف،خوشی یا شدت غم کو دل سے محسوس کرنا۔ اگر کسی شخص کے اندر محسوس کرنے کی حس موجود ہوگئی تب ہی وہ کسی دوسرے کی خوشی اور غم کا احساس کر سکتا ہے۔ زندگی میں اگر کسی شخص میں احساس موجود نہ ہو تو اسے اپنے بھی بیگانے لگتے ہیں۔اور اگر یہی احساس موجود ہو تو پرائے بھی اپنے لگنے لگتے ہیں۔ احساس دراصل ایک خوبصورت معصوم سا جذبہ ہے۔لیکن موجودہ ترقی کی دوڈ میں یہ معصوم سا جذبہ کہی کھو سا گیا ہے۔ نا جانے ہر کوئی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے چکر میں احساس کے لفظ کو بھولابیٹھے ہوں۔یوں لگتا ہے زندگی ایک گیم ہے اور اسائشیں حاصل کرنا اس گیم کا حصہ ہو اور باقی ایمانداری احساس کا اس سے کوئی تعلق نا ہو۔ میرے خیال میں احساس سے عاری لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    احساس ہی اچھی زندگی کی پہچان ہے۔ہم اپنے بہن بھائی اور ماں باپ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ان کا احساس کرتے ہیں۔ دراصل یہ احساس کی وجہ سے ہی ہمارے دل میں ان کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے۔ مگر صد افسوس کہ اب کےاس صدی میں وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس بھی ہمارے اندر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اگر ایک بیٹا اپنی ماں سے محبت کرتا تھا۔مگر وقت کے ساتھ اور لوگ زندگی میں شامل ہوئے تو یہ احساس بھی مہدم پڑ گیا۔اور آخر کار یہ احساس اس کے دل میں دھوپ میں بارش کے قطرے کی طرح اپنا وجود ہی کھو دیتا ہے۔

    احساس کے بغیر انسان دوسروں اور انسانیت کے کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔احساس ایک خوبصورت حقیقت ہے جسے انسان استعمال کر کے کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے۔احساس ایک جادو کی چھڑی کی طرح یا اللہ دین کا چراغ سمجھ لیں کیونکہ کہ یہ آپ کے بارے میں لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔مثال کے طور پر ایک شخص آپ کا دشمن ہے ہر وقت آپکو نشانہ بناتا ہے مگر آپ اس کے ساتھ اچھے اخلاص سے پیش آتے ہیں تو یہ احساس ایک دم سے اپنا کام شروع کر دے گا۔اس شخص کو یہ احساس ہونا شروع ہو جائے گا کہ جس انسان کے بارے میں ہر وقت برائی پھیلاتا ہوں اس کو میرا اس قدر احساس ہے اور یہ احساس اس کی دشمنی کو دوستی میں بدل دے گا اور یہی احساس کی خوبی ہے۔

    اپنے زندگی کو سہل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی کو مشکل میں نہ ڈالیں۔محبت کا یا کم از کم برداشت کا رشتہ ترک نہ کیا جائے۔ اپنا اور صرف اپنا احساس تو خود غرضی کہلاتا ہے۔کسی انسان کو احساس کمتری دلانے کی بجائے اسے سہرانا چاہئے تا کہ وہ اپنی منزل کی طرف گامزن رہے۔ہم سب کو چاہئیے کہ ایک دوسرے کا احساس رکھیں اور اسی کا نام زندگی ہے۔

    Twitter id @waqasumerpk

  • بھارتي سازشيں ناکام، کشميرپريميئرليگ کےشيڈول کااعلان تحریر: انيلا سلطان

    بھارتي سازشيں ناکام، کشميرپريميئرليگ کےشيڈول کااعلان تحریر: انيلا سلطان

    بھارتي کرکٹ بورڈ ( بي سي سي آئي) نے کشمير پريميئر ليگ کے انعقاد کو روکنے کيلئے سر دھڑ کي بازي لگائي، کبھي غير ملکي کھلاڑيوں کو دھمکياں ديں کبھي انٹرنيشنل کرکٹ کونسل ( آئي سي سي ) کو ليگ روکنے کيلئے خط لکھا مگر بھارت کي تمام سازشيں ناکام ہوئيں۔ بھارتي کرکٹ بورڈ کي رکاوٹوں کے باوجود کشمير پريميئر ليگ کے شيڈول کا اعلان کرديا گيا ہے۔ ليگ 6 سے 17 اگست تک مظفرآباد کے خوبصورت اسٹيڈيم ميں منعقد ہوگي۔ ايونٹ ميں مجموعي طورپر 29 ميچزکھيلے جائيں گے۔ جس ميں 12 ميچز ڈے نائٹ شيڈول ہيں۔ کشمير پريميئر ليگ کے پہلے سيزن کا افتتاحي ميچ شاہد اؔٓفريدي کي راولاکوٹ اورشعيب ملک کي ميرپور رائلز کے درميان ہوگا۔ کشمیر پریمیئر لیگ کے افتتاحی سیزن میں کھیلنے والی چھ ٹیموں میں سے پانچ ٹیمیں آزاد کشمیر کی ہیں جبکہ چھٹی ٹیم باہر کے علاقے سے ہے۔

    پاکستان دشمني ميں اندھي مودي سرکار نے ايونٹ کو ناکام بنانے کيلئے بہت کوششيں کي۔ جنوبي افريقي کرکٹر ہرشل گبز کو دھمکياں دي مگر گبز نے بھارتي سازش پوري دنيا ميں بے نقاب کردي۔ ٹویٹ میں کہا بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر ” کے پی ایل” میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جومضحکہ خیز ہے۔ گبز نے کہا کہ دھمکی دی گئی کہ اگر پاکستان کي ليگ ميں حصہ ليا تو آئندہ بھارت ميں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے۔ بھارت کي دھمکياں صرف گبز تک ہي محدود نہيں رہي بھارتي بورڈ کا اگلا نشانہ انگلينڈ کے سابق اسپنر مونٹي پنيسر تھے۔ سابق انگلش اسپنر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بی سی سی آئی نے تمام کرکٹ بورڈز کو کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں کھلاڑیوں کو نا بھیجنے کا کہا ہے۔ انگلش بورڈ نے مجھے بتایا ہے کہ کے پی ایل کھیلنے کی صورت میں بھارتی ویزہ نہیں ملے گا، بھارتي دھمکيوں کے بعد مونٹي پنيسر کشمير پريميئر ليگ سے دستبردار ہوگئے۔ دوسری جانب بھارت کی دھمکیوں کے باوجود سابق سری لنکن کپتان تلکارتنے دلشان نے کے پی ایل کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے کشمیرپریمئیرلیگ کو ”نامنظور” کروانے کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو درخواست بھي دي۔ جس ميں بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کے رکن ممالک کو بھی کشمیر لیگ کے بائیکاٹ کا کہا ہے مگر آئي سي سي نے بھارت کي ايک نہ سني اور بھارتي بورڈ کي درخواست مسترد کردي۔ آئی سی سی کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کو پاکستان کرکٹ بورڈ( پي سي بي ) نے منظور کیا ہے، غیرانٹرنیشنل کرکٹ کی منظوری یا غیر منظوری آئی سی سی کا دائرہ اختیار نہیں۔

    بھارتی بورڈ کی دھمکیوں پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اس معاملے کو آئی سی سی کے فورم پر اٹھائيں گے ايسے طرز عمل کو برداشت نہيں کيا جاسکتا۔ پی سی بی نے کہا کہ اس طرح کا قدم اٹھا کر بھارت نے کھیل کے بین الاقوامی معیار اور جنٹل مین گیم کی روح کو پامال کیا ہے۔ بي سي سي آئي نے غيرملکي کھلاڑيوں کو روک کر کھيل کو بدنام کيا۔ يہ طرز عمل کسي بھي طور پر قابل قبول نہيں

    بھارتي بورڈ کي سازشيں کشمير پريميئر ليگ کا پہلا ايڈٰيشن منسوخ تو نہ کراسکي مگر بھارت کي دھمکيوں سے ڈر کر کئي غير ملکي کھلاڑيوں نے ليگ ميں شرکت سے انکار کرديا۔ کشمير پريميئر ليگ کا پہلا ايڈيشن 6 اگست سے مظفر آباد ميں شروع ہوگا۔

  • ریاستِ مدینہ تحریر: سلمان الیاس

    ریاستِ مدینہ تحریر: سلمان الیاس

    ‏ریاستِ مدینہ وہ اسلامی فلاحی ریاست تھی جو ٭حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭کی قائدانہ صلاحیتوں کا ایک نمونہ تھا ۔جنہیں بنانے اور قائم رکھنے میں بہت سے "اصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین "نے اپنی جانیں قربان کی تھی۔

    اور ایک ایسا ریاست قائم کیا تھا ۔جو اسلام کا ایک قلعہ تھا جہاں کے حکمران اور رعایہ اللہ سے ڈرنے والے تھے
    جہاں انصاف ہر امیر غریب مسلم غیر مسلم کے لئے یکسا تھا۔ہر کسی کو مذہبی آذادی تھی مظلوم کے لئے ایک مضبوط پنا گاہ تھی ۔ظالم کے لئے ایک دھشت کی علامت تھی ۔جہاں انسان تو کیا جانور پر بھی کوئی ظلم نہیں کرسکتا تھا

    ریاست مدینہ کے لوگ والدین کے نافرمان نہیں تھے
    وہاں والدین کی فرمانبرداری کروانے کے لئے اسمبلی میں قانون نہیں بنتی تھی
    وہاں کوئی شیلٹر ہومز نہیں تھے بلکہ ہر کوئی والدین کی خدمت کرنا سعادت سمجھتے تھے
    وہاں بہنوں کو اپنے حقوق لینے کے لئے عدالتوں اور تھانوں کے چکر نہیں لگانے پڑھتے بلکہ خود مل جاتے تھے
    وہاں بیوی کو معلوم تھا کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتا
    اور خاوند اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اور نرمی کا برتاؤ کرتا اور اپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرتا جو اس کے لئے محبت اور الفت کا باعث ہوتا

    وہاں بیوہ اور یتیم کا حق نہیں مارا جاتا
    کاروبار میں دھوکا اور فراڈ روکنے کے لئے وہاں کسی محکمہ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ لوگ خود اللہ سے ڈرنے والے تھے
    کسی کا پڑوسی بھوکا نہیں سوتا تھا کیونکہ پڑوسیوں کے حقوق وہ لوگ جانتے تھے

    بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت مظلوم کا ساتھ اور ظالم کا ہاتھ روکنا ان کا دستور تھا

    وہاں انسانی حقوق کے لئے کوئی تنظیم نہیں تھی پھر بھی ہر انسان کو اپنا حق پورا ملتا تھا

    وہاں پر سیاسی اختلاف پر کسی بے گناہ کو قتل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ انکو معلوم تھا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے
    معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں سوچنا بھی وہ لوگ گناہ سمجھتے تھے کرنا تو دور

    انکے اخلاق ایسے تھے جو زیادہ تر غیر مسلم انکے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوجاتے تھے ۔کیونکہ انکو معلوم تھا حقوق اللہ تو اللہ چاھے معاف بھی کردے پر حقوق العباد کی کوئی معافی نہیں جب تک وہ انسان معاف نہ کرے
    وہاں پر مولوی صاحبان ممبر رسول سے فرقہ واریت کو ہوا نہیں دیتے تھے بلکہ لوگوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد بیان کرتے تھے
    وہاں کوئی فرقہ نہیں تھا بس صرف مسلمان تھے

    وہاں علماء کرام کی عزت کی جاتی تھی کیونکہ علماء عملی تھے۔لوگ انکی عمل سے سیکھتے تھے

    ان لوگوں کے پاس ہماری طرح سہولیات نہیں تھے موبائیل ٹیلی فون انٹرنیٹ وغیرہ
    لیکن پھر بھی اپنوں سے با خبر رہتے تھے
    اور
    سب سے بڑی بات وہ لوگ پڑھنا لکھنا کم جانتے تھے مگر جاہل نہیں تھے

    ایسے اور بھی بہت سی باتییں ہے پر لکھنا مشکل ہے

    اب ہم لوگوں میں سے کتنے ہے جو ان سب باتوں پر پورے اترتے ہے کیونکہ جب سے پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے کی بات کی ہے ۔جہاں بھی پاکستان میں کچھ غلط ہوتا ہے
    لوگ اسکی ویڈیو یا تصویر سوشل میڈیا پر ڈال کر ساتھ لکھتے ہے یہ ہے ریاستِ مدینہ اور اچھے کام کرنے پر ایسا نہیں کرتے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ لوگ انجانے میں یا جان بھوجھ کر ریاستِ مدینہ کا مذاق کیوں اڑا رہے ہے یہ ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے

    اب حکومت کا نعرہ سیاسی تھا یا حقیقی اس بحث میں نہیں جاتا
    لیکن پاکستانی قوم کا کیا کردار ہے ریاستِ مدینہ میں جو کہ صرف حکومت کا کام تو نہیں ہے سب سے بڑی ذمہ داری اور بڑا کردار اس میں ہمارا ہی ہے
    اپنے گریبان میں جھانک کر سوچئے گا ضرور۔۔!

    پہلے خود کو بدلے ارگرد سب کچھ خود بخود بدل جائیگی
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا

    🌷خوش رھے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے🌷

    ٹویٹر
    ‎@Salmanjani12

  • سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جب سے کووڈ آیا ہے اس وقت سے مسلسل سندھ گورنمنٹ اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    ایک طرف سندھ گورنمنٹ پیپلزپارٹی کا نعرہ ہے روٹی کپڑا اور مکان تو دوسری طرف وہ خود ہی اپنے نعرے کی نفی کرتی نظر آرھی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کووڈ کے شروع دنوں میں ہی اسمارٹ لاک ڈاون متعارف کروایا تھا، جس کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ اور نہ صرف سراہا گیا بلکہ ساتھ ہی اس کو کئی اور ملکوں نے اپنے اپنے ملک میں نافذ بھی کیا۔
    کووڈ کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت خراب ھوئی اور کئی ملک تو بہت ہی زیادہ قرضدار ھو گئے۔ پر الحمدللہ پاکستان کی معیشت بڑھی وجہ صرف اور صرف اسمارٹ لاک ڈاون تھی۔
    وزیراعظم عمران خان نے شروع سے پالیسی رکھی کے مکمل لاک ڈاون نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان میں غریب دھاڑی دار طبقہ زیادہ ہے اور وزیراعظم کا کہنا تھا کے مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے غریب بھوک سے ہی مر جائے گا۔ اس لیے پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاون کیا گیا۔

    https://twitter.com/alwaystalat/status/1422357964241899520?s=19

    لیکن سندھ گورنمنٹ شروع سے ہی پی ٹی آئی گورنمنٹ کے خلاف بضد سندھ میں مکمل لاک ڈاون کرتی رھی۔ جس کی وجہ سے آج کراچی کی عوام تڑپ اٹھی۔ آآل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس کے موقع پر فیضان راوت اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور تقریر کے دوران ہی آبدیدہ ھو گئے۔انکا کہنا تھا کے ھم گاڑی بیچ چکے ھم گھر بیچ چکے اب اور کیا بیچیں بتاو۔کیا اب ھم خود کو بیچ دیں۔روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں سے سوال کرتے ھوئے فیضان صاحب نے پوچھا۔

    اگر ابھی بھٹو زندہ ہوتا یا بینظیر زندہ ہوتی تو کیا وہ یہ سب کرنے دیتی۔۔۔ نہیں نہ کیونکہ پیپلز پارٹی جس کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا وہ اب زندہ نہیں اس لیے سندھ حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    جو غریب رکشہ چلا کے یا ریڑھی لگا کے ہر روز اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے اس پر کیا گزرتی ہو گی۔
    لیکن ان سب باتوں کے باوجود سندھ حکومت اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔

    @alwaystalat

  • ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات   تحریر: محمد بلال

    ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات تحریر: محمد بلال

    قرآن انسانوں کی عظمت پر بہت زور دیتا ہے چاہے ان کی جنس یا نسل ہو یا حیثیت۔قرآن پاک میں فرمانِ مبارکہ ہے کہ: ”ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے، انہیں خشکی اور سمندر میں نقل و حمل کی سہولت دی ہے، انہیں اچھی اور پاک چیزوں کی فراہمی کے لیے دی ہے، اور ان کو ہماری تخلیق کے ایک بڑے حصے کے اوپر خاص احسانات سے نوازا ہے۔” (قرآن 17:70) وقار حقوق اور فرائض پر مشتمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک خالق کے ذریعہ برابر بنائے گئے ہیں، اور کوئی بھی اپنی پیدائش یا خاندان یا قبیلے کی بنیاد پر دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ یہ صرف الہی ہے جو صرف یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ دوسرے کے وقار کو قبول کرتے ہوئے اس کی باوقار حیثیت پر کس نے عمل کیا۔وقار کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کو زندگی کا حق ہے، مذہب کی آزادی کا حق، طرز زندگی کی آزادی کا حق، مزدوری کا حق، تحفظ کا حق اور خاندان کا حق محفوظ ہے.قرآن پاک میں اس چیز کی ممانعت کی گئی ہے کہ لوگ دوسروں کو ان کے رنگ، جنس یا مذہب کی وجہ سے ان حقوق سے محروم رکھیں۔ قرآن پاک ایک پر دوسرے کو ترجیح نہیں دیتا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ صرف مسلمان یا جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ عزت یا حقوق کے مستحق ہیں جو وقار سے وابستہ ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح میں بات کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو ان کے وقار سے انکار کرے جو خدا کا دیا ہوا حق ہے۔کچھ عرصہ پہلے، دنیا کو اس قرآنی پیغام کی صداقت کو سمجھنے میں دشواری تھی۔ لوگوں کو ان کی نسل یا جنس یا حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا اور مذہبی اسکالر اور سیاسی ماہرین ان امتیازی سلوک کا جواز فراہم کر رہے تھے۔وقار کے اس انکار کا ایک کلاسک معاملہ ہندوستان میں پایا جا سکتا ہے جہاں مذہبی صحیفے کے مطابق لوگوں کے ایک گروہ کو ایک خاص سماجی گروہ میں ان کی پیدائش کی وجہ سے کم ذات یا اچھوت کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔اگرچہ، بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے کہ اس کے آئین میں اور قانونی طور پر اس طرح کا امتیازی سلوک قابل سزا ہے، پھر بھی یہ ملک میں بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیازی سلوک کی دلیل نہیں دے سکتا۔دنیا نے انسانیت کے وقار کے قرآنی پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ پیغام آج کے دور جدید میں پہلے سے کہیں زیادہ ذیرِبحث ہے، قطع نظر اس کے کہ مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ یقینی طور پر تمام عقیدے کے لوگوں کو سب کے انسانی وقار کے دفاع میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ تیسرا قرآنی پیغام جو بڑے پیمانے پر انسانیت سے متعلق ہے، اس کا قدرتی وسائل کی آفاقی پر زور ہے۔ زمین، سمندر، آسمان کا پانی اور ہوا سب کے فائدے کے لیے ہیں۔ کوئی بھی ان کے خصوصی استعمال کے لیے ان کی اجارہ داری نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ان وسائل تک ان کی رسائی کو دوسروں کو دیے گئے حقوق سے انکار کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔اس طرح قرآن کہتا ہے، ”وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے” (قرآن 2:29) مندجہ بالا مختصر مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں بطور مسلمان ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے
    ‎@Bilal_1947

  • ارشد ندیم پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے

    ارشد ندیم پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے

    ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو مقابلوں کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے کوالیفائنگ مقابلے میں اپنی شاندار پرفارمنس سے قوم کے دل جیت لیے پاکستانی جیولین تھرور کی اولمپکس میں شاندار کارکردگی کا ہر کوئی معترف دکھائی دے رہا ہے۔

    یہاں تک کہ ہیش ٹیگ ارشد ندیم ٹوئٹر پر ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ٹاپ ٹرینڈ پر ہے جبکہ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر دوسرے نمبر پر ارشد ندیم کا کھیل ’جویلین تھرو‘ ٹرینڈ کررہا ہے جس میں لوگ ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی پر انہیں مبارکباد دے رہے ہی اور فائنل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں-

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    سوشل میڈیا پر ارشد ندیم کی بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کے ہمراہ سر جوڑے ایشن گیمز 2018 کی ایک تصویر بھی زیر گردش ہے گروپ اے میں شامل بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا 86 اعشاریہ چھ پانچ کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہیں جبکہ ارشد ندیم 85 اعشاریہ ایک چھ کی تھرو کے ساتھ گروپ بی میں پہلی پوزیشن پر ہیں۔


    https://twitter.com/LukakuBackToCFC/status/1422741092655583236?s=20

    ٹوکیواولمپکس :ارشد ندیم نےعمدہ کارکردگی سے پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند کر دیا…

  • طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    ‏پرانے زمانے میں طلاق کی شرح کم اور آج کل روز بروز بڑھتی جارہی ھے تو کوٸی بیوی کو بد زبان، بد اخلاق، نافرمان، کہتا ھے، لیکن یہ ایسا ہر گز نہیں ھے اس کی ایک وجہ بیوی کےحقوق اور دوسری وجہ بچوں کے مرضی کے بغیر شادی کرنا، آج کل تعلیم بہت عام ہو چکی ہے ہر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہے ہر عورت اپنےحقوق جانتی ہے، لیکن بہت سے مرد ایسے ھے جو بیوی کے حقوق سے نا واقف ہیں، وہ بیوی کو اسکا حق تو دے نہیں سکتے لیکن بیوی کی توجہ چاہتا ہیں اوربیوی سے نوکرانیوں کی طرح خدمت کرواتے ہیں ، لیکن عورت اپنے حق پر ڈٹی رہتی ھے، مرد کو توجہ نہیں دیتی، تو یہ مرد کی انا کا مسلہ بن جاتا ھے اور مرد جزبات میں آکے ایسا فیصلہ کرتا ھے. جزبات کے فیصلوں کے نتاٸج بہت سنگین ہوتے ھیں، بات دشمنی تک بھی جا سکتی ھے، اور دشمنی میں دو خاندانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ھے۔ اگر مرد ایسے فیصلے کرنے سے پہلے جزبات سے نہیں صبر سے کام لے اور بیوی کو اپنا حق وقت پر دیا جاۓ تو بہت نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔طلاق کا نقصان صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو اور بچوں کو بھی ہوتا ہے۔عورت کو طلاق کے بعد یا تو بدکردار کہہ دیا جاتا ہے یا معاشرے میں اس کی رسواٸی ہوتی ہےلیکن مرد کے لٸے یہ خاندانی دشمنی کا جواز بھی ہو سکتی ہے اور بچوں کی تربیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔کیونکہ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے بچوں کی تربیت ماں کے گود میں ہوتی ہےاور صرف والدین ہی ھیں جو بچوں کو اچھی تربیت دے سکتے ھیں ایسے فیصلوں سے بچوں کا مستقبل بھی برباد ہوتا ھے۔ بہت سے لوگ کہتے ھیں یہ کاغذی رشتہ ہے ایسا رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ھے۔ نکاح سنت ھے (حدیث مفہوم ھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت سے منہ موڑے اس کا مجھ سے کوٸی تعلق نہیں اس کے حوالے سے فیصلے جذبات میں نہیں بلکہ حوصلے اور تحمل سے کرو ۔بیوی کو سمجھو کہ وہ کیا چاہتی ہے، بیوی کو پیار اور عزت دو۔ عورت صرف عزت اور پیار کی بھوکی ہوتی ہے اور کسی چیز کی بھی نہیں ۔بیوی کبھی بھی شوہر کا نقصان نہیں چاہتی۔
    ایسے لوگ بھی ہیں جن کی طلاق کی وجہ دوسری شادی ہوتی ہے تو کہتے ہیں اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ھے۔ بےشک اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ پہلی والی کو طلاق دو ۔یہ شرط بھی نہیں ہے کہ دوسری شادی یا تیسری شادی کسی کنواری لڑکی سے کرو۔ چار کی اجازت ھے لیکن اس میں طلاق یافتہ عورتیں، بیوہ عورتیں ،عمر میں بڑی یا چھوٹی عورتیں سے شادی کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کو انکی زندگی گزارنے میں جو بنیادی ضرورتیں درکار ہیں فراہم ہو سکیں۔شرط یہ بھی ہےکہ سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہٸیے۔ میرا اس تحریر کا صرف یہ مقصد ہے کہ یہ فلمی اور ڈراماٸی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف آٶ ۔ایک چھوٹی سی بات کو اپنی انا کا مسلہ مت بناٶ۔اپنے جزبات پر قابو رکھ کر فیصلے کرو۔
    اپنا اور اپنے بچوں کےمستقبل کے بارے میں سوچوں۔ والدین کو چاہٸیے کہ رشتہ طے ہونے سے پہلے اپنے اولاد کی رضامندی پوچھیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اس کو ایسے فیصلوں سے برباد مت کرو۔اپنے رشتے مضبوط کرو۔ اپنے رشتوں کو کمزورہونے سےبچاٶ ۔اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارو کسی تیسرے کے باتوں پرکان مت دھروں،کیونکہ اگر بیوی کو اسکاحق ملے تو وہ شوہر کو ،اپنے بچوں کو اور گھر کو توجہ دے گی ۔اگر بیوی گھر کے کسی فرد جیسے ساس، دیور، نند سے بد زبانی کرے یا نافرمانی کرے تو فیصلے کرنے سے پہلے دونوں کی طرف سے دلاٸل سن لو اور خود کو اور اپنی نسل کو نقصان سے بچاٶ۔ اللہ ہم سب کو ایسے نقصانات سے بچاۓ ۔آمین
    @Munn_wajji (rtwitter)

  • کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    معاشرتی ومعاشی ترقی میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. میڈیا ہمارے معاشرے کی آواز ہے. اور یہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے. میڈیا ابلاغ کا ایک موڈ ہے, اس نے خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے. اسکے علاوہ کوویڈ 19 کے بارے میں اور کیسوں کی تعداد سے لے کر ویکسین تک ہر تفصیل کے بارے میں ہمیں آگاہ کررہا ہے.

    حالات سے باخبر رہنا کسی بھی انسان کی بنیادی خواہش ہوسکتی ہے. آج میڈیا کی ترقی دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں افسوس بھی ہوتا ہے کیونکہ کچھ میڈیا چینلز نے سب سے پہلے کی دوڑ میں اصل صحافتی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. میرے خیال میں میڈیا حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے اچھے کاموں کے اقدامات سے بھی عوام کو آگاہ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. کیونکہ صحافی برادری معاشرے کا اہم طبقہ ہے. صحافی حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں.

    سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحافی ہر عام و خاص کی آ واز ہیں اور اپنے قلم سے عوامی مسائل کو اجاگر کرکے ان کے مسائل کے حل کے لئے راہ ہموار کرکے ایک بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں اور اسی کردار کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے. میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن جو معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اسکے لئے مختلف پروگرام نشر کرتا ہے پر مجھے لگتا ہے کسی حد تک معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ میڈیا کا کردار کسی ملک کو سنوارنے یا بگاڑ میں اہم ہوتا ہے.

    مثال کے طور پر گھر میں داخل ہونے کے بعد اکثر لوگ پہلا کام یہ کرتے ہیں ٹی وی آن کرتے ہیں. اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں میڈیا نے ہر انسان کو باخبر بنا دیا ہے کیونکہ عام انسان بے شک وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو ٹی وی پر خبریں سن لیتا ہے.

    ایک چیز کی داد تو بنتی ہے کہ پاکستانی میڈیا نے حساس سیاسی اور باقی معاملات پر نہایت ذمے داری سے رپوٹنگ کی ہے. چاہے وہ طاقت ور طبقے کی کرپشن ہو یا انسانی حقوق کی بحث یا کہیں بے ضابطگیاں ہو یا 27 فروری بھارت کا ڈرامہ. انکو بے نقاب کیا ہے. ان میں سرفہرست نام مبشر لقمان کا آ تا ہے جو بنا کسی خوف کے, بنا کسی لالچ کے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں. ان کا مشہور ٹی وی پروگرام کھرا سچ ہر خاص وعام کا پسندیدہ پروگرام ہے. کئی چہرے اس پروگرام کے ذریعے انھوں نے بے نقاب بھی کئے. اور سچائی پر مبنی حقائق عوام کے سامنے لائے. کئی بار جب وہ سٹوری کرتے ہیں تو ان پر دباؤ بھی آتا ہے کہ ہمارے خلاف رپورٹنگ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ ،مبشر لقمان کا پروگرام کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ ہے جس میں ہر بات کھری ملتی ہے

    مگر مبشر لقمان کھل کر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ جہاں اچھا ہورہا ہو اسکو اجاگر بھی کرتے ہیں. انھوں نے معاشرے کے بہت سارے جرائم کو بےنقاب بھی کیا ہے. مبشر لقمان ہی ہیں جس نے دلیری سے اس بات کا پہلی دفعہ میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے مرکزی لیڈر بھارتی شہری ہیں. مبشر لقمان ہی تھے جس نے بھارت کی طرف سے تین پاکستانی شہریوں پر لگنے والے جھوٹے دہشتگردی کے الزام کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے لاہور کی مارکیٹوں میں ایک پروگرام کیا جس کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی تھی. اسی طرح نجم سیٹھی کے ماضی کی جھلک پہلی دفعہ میڈیا پر مبشر لقمان کے پروگرام میں ہی نشر ہوئی تھی.

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیا مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے اقدامات سے بھی عوام کو باخبر رکھے . ذاتی مفادات کو سائیڈ رکھ کے ملک اور ملک کی سلامتی کے لئے کام کرے تو یقیناً معاشرے میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گئیں.

  • پاکستانی  سرکاری ملازم  کی میم 84 لاکھ میں نیلام

    پاکستانی سرکاری ملازم کی میم 84 لاکھ میں نیلام

    "فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر” انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے ان کئی مزاحیہ میمز میں سے ایک ہے جو پاکستانیوں نے بنائے، لیکن یہ پہلی میم ہے جو آن لائن 84 لاکھ روپوں میں نیلام ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : 2015 میں گوجرانوالہ کے ایک سرکاری ملازم محمد آصف رضا نے فیس بک پر ایک تصویر شئیر کر کے اپنے دوست کے ساتھ چھوٹا سا مذاق کیا، جس میں انہوں نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کا دوست مدثر اب خود غرض ہوگیا ہے اور وہ اس سے اپنی دوستی توڑ رہے ہیں اور کسی اورکو اپنا بیسٹ فرینڈ بنا رہے ہیں۔

    غیر ملکی صحافیوں کی پاکستان آنے کی پابندی ،”سب سے بڑی جمہوریت“ بھارت کا نام نہاد دعوٰی ایک بار پھر…

    اس میم کو سوشل میڈیا پر فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثرکا نام دیا گیااس میم کے مشہور ہونے کے بعد جہاں مدثر سے ان کی دوستی بحال ہوئی وہیں انٹرنیٹ پر انھیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

    یہ معمولی سا مذاق اتنا وائرل ہوا کہ اس پر 47 ہزار لوگوں نے ری ایکٹ کیا، 56 ہزار لوگوں نے اسے شیئر کیا اور فیس بک پر 27 ہزار لوگوں نے اس پوسٹ پر تبصرے کئے-

    تاہم اب 6 سال بعد آصف نے اسے فاؤنڈیشن نامی این ایف ٹی پلیٹ فارم پر نیلامی کے لیے پیش کیا، جسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی کمپنی میکینزم کیپیٹل کے شریک بانی اینڈریو کینگ نے 20 ایتھر میں خریدا ہےایتھر کی موجودہ ویلیو کے تحت پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 84 لاکھ روپے اور52 ہزار امریکی ڈالربنتی ہے۔

    یا د رہے کہ این ایف ٹی نامی نان فنجیبل ٹوکن ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی مزاحیہ میم، تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے-

    غیر ملکی سیاح بھی پاکستان اور پاک فوج کے مداح نکلے