Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خواتین پر تشدد کے واقعات  میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟  تحریر  صائمہ رحمان

    خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ تحریر صائمہ رحمان

    عورت پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہی عورت کو عزت کے نام پر تشدد کیا جاتا ہے یا ان کو زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات تط ہی روح نما ہوتے ہیں جب عورت اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھتی ہے مظلوم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس ظلوم کو برداشت کرتی رہتی ہے اور ایک دن یہ برداشت جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے جسے دوسروں خاندان والوں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ یہ تشدد کے واقعات زیادہ تر پسماندہ علاقوں میں زیادہ رپورٹ کئے گئے ہیں۔ کیونکہ ایسی خواتین کو نا صرف تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے بلکے عورتوں کے بنیادی حقوق سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔
    پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرویڈیوز یا ایسی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جس میں ایک شوہر نے اپنی اہلیہ کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ اپنی جان کی بازی ہار گئی یا ہسپتال پہنچ گئی
    لیکن سوال یہ ہے کہ عورت یہ ظلم برداشت کیوں کرتی ہے؟ کون سے ایسے عوامل ہے جو اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجور کر دیتی ہے مجبور عورتیں اپنے گھر کو بچانے کےلئے اپنے بچوں کی خاطر یہ تشدد برداشت کرتی ہے نا ان کو اپنے میکے سے سپورٹ ملتی اور معاشرے میں طاق یافتہ کہلانے کا ڈر ایک مجبور عورت کو یہ گھریلو ظلم سہنے پر مجبور کرتا ہے۔گھریلو تشدد کا موضوع ایسا ہے جس پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ جب بھی گھر کی چاردیواری کے اندر جب بھی خواتین پر تشدد کی جاتی ہے تو معاشرے میں ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ عورت سے طرح طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے جب تھمارا شوہر مارتا تھا تب کیوں نہیں آئی؟ تب آواز کیوں نہیں اٹھائی کہ تم نے یہ پہلے رپورٹ کیوں نہیں کیا؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ ثبوت دکھاؤ کہ کیا تم پر واقعی تشدد ہوا ہے یا نہیں؟
    ایسے سوالات ایک کمزور عورت کو یہ سب تشدد برداشت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ایک بے سہارا عورت آخر اپنے شوہر کا ہاتھ چھوڑ کر جائے گی کہاں؟ اس کو اپنے بچوں کو بھی چھوڑنا پر سکتا ہے۔
    اگر ایک عورت اپنے ماں باپ کے گھر جانا چاہے تو اُس کو بھی ایک یہ بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ایک عورت ملازمت کرنا چاہے اور اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا چاہئے تو تب بھی کہرام مچا دیا جاتا ہے اگر وہ اپنے میکےاپنے ماں باپ کو بتانا چاہتی ہے تو اس پر بھی اس کو روکا جاتا ہے یا وہ خود روک جاتی ہے گھر بتایا تو وہ پریشان ہونگے۔
    عورت کو یہ سمجھا کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ شوہر ہے چار دیواری کے اندر مسئلے کو حل کرو اپنے بچوں کی خاطر برداشت کرو اچھے دن بھی آئیں گے اگر گھر چھوڑ دیا یا طاق ہو گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا کہاں جاو گی؟
    اورعمومی طورپر یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ یہ ایک روزہ مرہ کی بات ہے اور آپ اس چیز کو دبا دیں اور آپ اپنے گھر کو بچا نے کی کوشش کروں ان بچوں کا کیا ہوگا اگر آپ پولیس میں جانے کی کوشش کریں تو وہاں پر بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک گھریلو معاملہ ہے ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں آواز اُٹھائیں تو آپ کو طرح طرح کی ’بتاتے سننے کو ملی گئی جس سے خاندان کا نام خراب ہوگااور آپ پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ اپنے گھر کی عزت خراب کرنے کے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ایک مجبور عورت اس امید پر سب برداشت کرتی ہے کہ اچھے دن بھی آئیں گے ابھی سہتی ہوں بعد میں سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ایسا اکژ ایسا ہوتا نہیں
    ’مجبور عورتیں اسی لیے اس چیز کو رپورٹ نہیں کرتی کیونکہ کہ ہم نے کبھی اُن کو اس طرح کے ساز گار مواقع ہی فراہم نہیں کیے کہ وہ آرام سے آسانی سے اپنے اس مسئلے کو بیان کر سکیں اور پھر ان کو تحفظ بھی دیا جائے یہ ہمارے معاشرے کی ذمہداری ہے ایسی عورتیں میں خوداعتمادی پیدا کرے کہ وہ اپنے حق کے لئے کھڑی ہو سکتی۔
    خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ملک میں کئی قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات کا مسلسل بڑھنا تشویش کا سبب بن رہا ہے اصل مقصد ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے یہ قوانین صرف کتابوں میں یا صرف آرڈر میں ہی نظر نہیں آنے چاہیئے، اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی قابل فخر ہے یہ واحد پلیٹ فارم ہے ایسے واقعات کو نا صرف اجاگر کرتا ہے بلکے قصور وار کو بے نقاب بھی کرتا
    پاکستان میں پنجاب اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، معاشی استحصال اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون متفقہ طور پر منظور کیا ہے خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں۔
    ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی بھی خاتون جان کا خطرہ ہویا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جائے یا اسے خاندان کے افراد اس خاتون کو گھر سے نکال دیں تو ایسی صورت میں عدالت خاندان کو پابند کرسکے گی کہ خاتون کی رہائش کا متبادل بندوبست کرے یااسے دوبارہ گھر میں جگہ دی جائے۔
    گھریلو تشدد کو صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے اندر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں آگاہی دی جائے کہ ہماری بیٹیوں ،بہنوں کو بتایا جائے کہ آپ کے کیا حقوق ہیں؟ آپ اگر کسی جگہ شادی کر کے جا رہی ہیں تو آپ نے کن چیزوں کو مدّنظر رکھنا ہے اگر ہم ان چیزوں کے اُوپر عملدآمد کریں گے تو ہم اس گھریلو تشدد جیسے عفریت پر قابو پا سکیں گے۔ ورنہ یہ چیزیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گی اور اگر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو ہمیں ابھی ان چیزوں کے اوپر قابو پانا ہوگا۔
    خواتین کو ان قوانین استعمال کےلئے جو ان کو تحفظ دے گا شعور اجاگر کیا جائے اور ایک مضبوط عورت اس تشدد کے واقعات پر خود ہی قابو پا سکتی ہیں اگر وہ یہ عزم کر لے کہ ظلم کو سہنا نہیں اپنے حق کے لئے لڑنا ہے تو ان واقعات پر قابو پایاجا سکتا ہے۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • وہ کرو جس سے تمہیں خوشی ملے نہ کہ پیسہ  تحریر: کاوش لطیف

    وہ کرو جس سے تمہیں خوشی ملے نہ کہ پیسہ تحریر: کاوش لطیف

    دوستوں میں جو باتیں کہنے جا رہا ہوں وہ تم پر بہت زیادہ اثر چھوڑے گی سان 1923 میں دنیا کے سب سے امیر لوگ آپس میں ملے جب انہوں نے اپنی کل دولت کا حساب لگایا تو ان کو پتہ چلا کہ ان کے پاس جتنے پیسے ہیں اس سے پورا امریکہ کو خریدا جا سکتا ہے ان لوگوں نے اپنی زندگی میں اتنا پیسہ کمایا جو کہ دنیا میں کسی اور شخص کے پاس نہیں تھا

    اگر یہ آٹھ لوگ چاہتے تو مل کر دنیا کو ہلا سکتے تھے اتنی پاور تھی ان کے پاس پھر 25 سال کے اندر اندر ان کا کیا حال ہوا اس کو سن کر تم ہل جاؤ گے دنیا کے سب سے بڑی اسٹیل کمپنی کا مالک چارلس چوپ ادھار کے پیسوں سے پانچ سال جیا پھر کنگال ہوکر مرگیا

    دنیا کے سب سے بڑی گیس کمپنی کا مالک ہووارڈ ہوپسون اپنی عمر کے آخری حصے میں پاگل ہوگیا اور پھر مر گیا دنیا کا بہت بڑا بزنس مین آرتھر بینک کا کرپٹ ہو کر مر گیا دنیا کے سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج کمپنی نیویارک اسٹاک ایکسچینج کا مالک ریچرڈ وائٹنے جرم کرنے کی وجہ سے جیل چلا گیا وال اسٹریٹ کا سب سے بڑا انویسٹر خود کشی کر کے مر گیا

    اب یہ سب لوگ تو پیسے کمانے میں ماہر تھے مگر بدقسمتی سے زندگی جینے میں ماہر نہیں تھے اس لئے ہاتھ دنیا میں ہڑ کوئی پیسہ کمانے کے پیچھے بھاگ رہا ہے مگر اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو ضائع کیے جا رہا ہے وہ لمحے جو وہ اپنے اپنوں کے ساتھ گزارا سکتا تھا جو اپنے گھر والوں کے ساتھ گزار سکتا تھا بچوں کے ساتھ کھیل کریں انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں دے کر گزار سکتا تھا

    کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر جو خوشی اور سکون ملتا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں مل سکتا اس لئے کمائیں ضرور کام کریں لیکن اپنے دن کے کچھ منٹ اپنوں میں ساتھ گزارے ان کو آپ کی ضرورت ہے کام کرے پیسے کمائیں اپنے شوق پورے کرے مگر اس بیچ میں اپنی زندگی کو جینا چھوڑ دینا یہ اچھی بات نہیں

    اگر دل خوش ہے تو ایک بوند بھی برسات ہے لیکن دکھی دل کے آگے سمندر کی کیا اوقات ہے اس لیے ہمیشہ خوش رہیں اور خوش رکھیں

    @k__Latif

  • درخت لگائیں ماحول کو خوشگوار بنائیں   تحریر: ملک ضماد

    درخت لگائیں ماحول کو خوشگوار بنائیں تحریر: ملک ضماد

    درخت انسانی زندگی کا جزو لازم ہیں، اور بنی نوع انسان ازل سے ان پر انحصار کرتا رہا ہے۔ درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرنے کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے ہوا کو صحت مند بناتے ہیں۔ دنیا کے بڑھتے درجۂ حرارت میں کمی اور موسمی تغیرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے جنگلات کو کٹنے سے روکنے اور شجر کاری کو فروغ دینے کے اشد ضرورت ہے

    درخت لگانا نا صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ زمین کو کٹائی سے بچاتے ہیں
    ہمیں صاف شفاف ہوا دیتے ہیں
    ایندھن کے ساتھ ساتھ جانوروں کو چارہ بھی دیتے ہیں
    پرندوں کو گھر تو چرندوں کو خوراک دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں
    درخت گھروں کی تعمیر میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں

    جہاں درخت ہوتے وہ جگہ باقی جگہوں سے زیادہ خوبصورت نظر آتی ہے

    درخت بنی نوع انسان اور دیگر مخلوقات کے لیے قدرت کی جانب سے دیا گیا ایک عظیم تحفہ ہیں۔ یہ ہمیں تازہ ہوا فراہم کرتے ہیں، گرمیوں میں چھاؤں دیتے ہیں، زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ درختوں کی عدم موجودگی سیلاب اور سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتی ہے

    صحیح بخاری میں ہے:
    6012: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ».
    ترجمہ:حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جب کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس (کے پھل، پتوں یا کسی بھی حصے)سے کوئی انسان یا جانور کھالیتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔‘‘

    سبحان اللہ! درخت میں سے کوئی انسان یا جانور کچھ کھا لے تو اس درخت لگانے والے کو اس کا اجر وثواب ملتا ہے۔ظاہر ہے کہ درخت سے نجانے کتنے چھوٹے بڑے جاندار اپنے مزاج کے موافق کچھ نہ کچھ کھا ہی لیتے ہیں تو یہ سب اس شخص کے لیے اجر کا باعث ہے، اسی طرح اگر کوئی انسان کچھ کھا لے تب بھی اس درخت لگانے والے کو اجر ملتا ہے۔

    درخت لگانے سے ماحول خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ ملک میں موسمی حالات میں بھی کافی حد تک تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے

    موسم خوشگوار ہوتا ہے
    تازہ ہوا ملتی ہے
    ایندھن میں اضافہ ہوتا ہے
    جنگلوں میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جنگلی جانور اور پرندے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی زندگی کو آسانی سے بسر کرتے ہیں

    حکومت پاکستان نے موجودہ موسمی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے دور میں 10 بلین درخت 5 سالوں میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے
    اگر حکومت پاکستان کا یہ منصوبہ کامیاب ہو تو پاکستان سمیت پڑوسی ممالک میں بھی موسمی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی

    اس وقت شجرکاری کا موسم چل رہا ہے آئیں مل کر اپنے حصے کا ایک درخت لگائیں
    تاکہ موسم تبدیلیوں اور ملک کی خوبصورتی میں ہم اپنا کردار ادا کر سکیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو آلودگی اور موسمیات کی خرابی سے بچا سکیں

    @MalikZamad_

  • تحریک پاکستان  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    تحریک پاکستان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    برصغیر پاک و ہند پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے مطالبے کو ایک شاعر ، فلسفی سر محمد اقبال کی 1930 کی تقریر اور اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر (پاکستان کی آزادی کے بعد مسلم لیگ کو مختصر کر کے دیکھا جا سکتا ہے ). یہ اس کی دلیل تھی کہ برٹش انڈیا کے چار شمال مغربی صوبے اور علاقے یعنی سندھ (سندھ) ، بلوچستان ، پنجاب اور شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب خیبر پختونخوا)-ایک دن آزاد اور خودمختار مسلمان بننے کے لیے شامل ہونا چاہیے۔ حالت. اس تجویز کے محدود کردار کو ڈیموگرافک طول و عرض کے بجائے اس کے جغرافیائی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت لاپتہ ایک جنوبی ایشیائی ملک کو بیان کرنے کا نام تھا جہاں مسلمان اپنے مقدر کے مالک ہوں گے۔ یہ کام چودھری رحمت علی کے سپرد ہوا ، جو ایک نوجوان مسلمان طالب علم تھا جو انگلینڈ میں کیمبرج میں پڑھتا تھا ، جس نے ایک لفظ پاکستان میں شاعر اور سیاستدان کی خواہشات کو بہترین انداز میں پکڑا۔ 1933 کے ایک پمفلٹ میں ، اب یا کبھی نہیں ، رحمت علی اور تین کیمبرج کے ساتھیوں نے اس نام کو پنجاب ، افغانیہ (شمال مغربی سرحدی صوبہ) ، کشمیر ، اور سندھ-سندھ کے مخفف کے طور پر ملایا ، جس کا استن لاحقہ بلوچستان (بلوچستان ). بعد میں اس کی نشاندہی کی گئی کہ جب اردو سے ترجمہ کیا جائے تو پاکستان کا مطلب "پاک زمین” بھی ہو سکتا ہے۔
    انگریزوں کے برصغیر پر حملہ کرنے اور ان پر قبضہ کرنے سے بہت پہلے ، مسلم افواج نے آباد آبادیوں کو گھومنے والی ہموار زمین میں فتح کیا تھا جو ہندوکش کے دامن سے دہلی اور انڈو گنگاٹک کے میدان اور مشرق کی طرف بنگال تک پھیلا ہوا تھا۔ مسلمان فاتحین میں سے آخری اور سب سے کامیاب مغل خاندان (1526–1857) تھا ، جس نے بالآخر پورے برصغیر پر اپنا اختیار پھیلا دیا۔ برطانوی برتری مغل زوال کے ساتھ ہوئی ، اور ، میدان جنگ میں یورپی کامیابیوں اور مغلیہ ناکامیوں کے ایک عرصے کے بعد ، برطانوی مغل طاقت کا خاتمہ کر دیا۔ آخری مغل بادشاہ 1857–58 کی ناکام بھارتی بغاوت کے بعد جلاوطن ہوا۔ اس بغاوت کے تین دہائیوں سے بھی کم عرصے بعد ، انڈین نیشنل کانگریس کا قیام برٹش انڈیا کے مقامی لوگوں کو سیاسی نمائندگی دینے کے لیے کیا گیا۔ اگرچہ کانگریس میں رکنیت سب کے لیے کھلی تھی ، ہندو شرکاء نے مسلم ارکان کو زیر کیا۔ 1906 میں منعقد ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ کا مقصد مسلمانوں کو ایک آواز دینا تھا تاکہ اس کا مقابلہ کیا جا سکے جو اس وقت برطانوی راج کے تحت ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ کانگریس کے ممتاز مسلم رکن محمد علی جناح نے کانگریس لیڈر موہنداس کے گاندھی سے علیحدگی کے بعد لیگ کی قیادت سنبھالی۔ قانون کے اینگلو سیکسن قانون پر پختہ یقین رکھنے والے اور اقبال کے قریبی ساتھی ، جناح نے بنیادی طور پر ہندو اتھارٹی کے زیر اثر ہندوستان میں مسلم اقلیت کی سلامتی پر سوال اٹھایا۔ اعلان ہندوؤں کے دوبارہ زندہ رہنے سے اسلام کو خطرے میں ڈال دیا گیا ، جناح اور لیگ نے ایک "دو قومی نظریہ” پیش کیا جس میں دلیل دی گئی کہ ہندوستانی مسلمان ایک دوبارہ تشکیل پانے والے برصغیر میں ایک علیحدہ اور خود مختار ریاست کے حقدار ہیں۔ برطانوی پارلیمانی جمہوریت کی طرز پر ہندوستان کو خود حکومت دینے کا برطانوی ارادہ 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں ظاہر ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے اپنے آپ کو برطانوی رسم و رواج اور انتظامیہ کے نوآبادیاتی انداز کے مطابق ڈھال لیا۔ مزید برآں ، ناکام بھارتی بغاوت کے بعد ، ہندو برطانوی طرز عمل اور نظریات کو اپنانے کے لیے زیادہ بے تاب تھے ، جبکہ ہندوستانی مسلمان برطانوی غضب کا شکار ہوئے۔ مغلیہ سلطنت کو باضابطہ طور پر 1858 میں تحلیل کر دیا گیا اور اس کے آخری حکمران کو برصغیر سے نکال دیا گیا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ انہیں سزا کے لیے الگ کر دیا گیا ہے ، ہندوستان کی مسلم آبادی برطانوی طریقے اپنانے یا انگریزی تعلیمی مواقع سے فائدہ اٹھانے سے گریزاں تھی۔ ان مختلف عہدوں کے نتیجے میں ، ہندو اپنے مسلم ہم منصبوں کی قیمت پر برطانوی راج کے تحت آگے بڑھے ، اور جب برطانیہ نے مقامی آبادی کے لیے سول سروس کھولی تو ہندوؤں نے عملا پوسٹنگ پر اجارہ داری بنا لی۔ اگرچہ سید احمد خان جیسے بااثر مسلمانوں نے طاقت کے بڑھتے ہوئے عدم توازن کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو یورپی تعلیم اور نوآبادیاتی سول سروس میں داخلے کی ترغیب دی ، لیکن انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ زیادہ ترقی پسند اور فائدہ مند ہندوؤں کو پکڑنا ایک ناممکن کام تھا۔ ہندوستان کی طرح پاکستان نے بھی اگست 1947 میں دولت مشترکہ کے اندر ایک تسلط کے طور پر آزادی حاصل کی۔ تاہم ، مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بھارت کے آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل یا ریاست کا سربراہ ٹھہرا دیا۔ کانگریس کو ، جس نے اسے ہندوستان کا چیف ایگزیکٹو بنایا۔ برطانیہ کی چالوں سے ہوشیار اور جناح کو انعام دینے کے خواہشمند-ان کے "عظیم قائد” (قائد اعظم) ، ایک لقب جو انہیں آزادی سے پہلے دیا گیا تھا-پاکستانیوں نے انہیں اپنا گورنر جنرل بنایا۔ پارٹی میں ان کے لیفٹیننٹ لیاقت علی خان کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ تاہم ، پاکستان کی پہلی حکومت کے لیے اس سے پہلے ایک مشکل کام تھا۔ محمد اقبال کے پاکستان کے لیے پہلے کے وژن کے برعکس ، ملک ان دو علاقوں سے تشکیل پایا تھا جہاں مسلمان اکثریتی تھے — شمال مغربی حصہ جس کی انہوں نے حمایت کی تھی اور صوبے بنگال کے علاقے اور مشرقی علاقہ (جو خود بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہوچکا تھا) ). چنانچہ پاکستان کے دو پروں کو تقریبا ایک ہزار میل (1،600 کلومیٹر) خودمختار ہندوستانی علاقے سے الگ کر دیا گیا جس کے درمیان ان کے درمیان رابطے کے کوئی آسان راستے نہیں تھے۔ نئی پاکستانی حکومت کے کام کو مزید پیچیدہ بنانا یہ احساس تھا کہ برٹش انڈیا کی دولت اور وسائل بھارت کو دے دیے گئے ہیں۔ پاکستان میں اسے برقرار رکھنے کے لیے بہت کم مگر خام جوش تھا ، خاص طور پر تقسیم کے فورا بعد کے مہینوں میں۔ در حقیقت پاکستان کی بقا توازن میں لٹکی ہوئی نظر آتی ہے۔ برٹش انڈیا کے تمام منظم صوبوں میں سے صرف سندھ ، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے نسبتا کم ترقی یافتہ علاقے پاکستان میں آئے۔ دوسری صورت میں زیادہ ترقی یافتہ صوبے پنجاب اور بنگال تقسیم ہوئے اور بنگال کے معاملے میں پاکستان کو گنجان آبادی والے دیہی علاقوں سے تھوڑا زیادہ ملا۔
    پاکستان کی آزادی کے صرف 13 ماہ بعد ستمبر 1948 میں محمد علی جناح کا انتقال ہوا۔ بہر حال ، یہ جناح کی متحرک شخصیت تھی جس نے ان مشکل مہینوں میں ملک کو برقرار رکھا۔ قوم کے سربراہ اور عملی طور پر صرف فیصلہ ساز کے طور پر ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ، جناح ہندوستان میں اپنے برطانوی ہم منصب کے رسمی عہدے سے زیادہ تھے۔ لیکن وہاں بھی ایک خاص مسئلہ تھا۔ جناح کی زبردست موجودگی ، حالانکہ بیماری سے کمزور ہو گئے تھے ، سیاست پر بہت زیادہ اثر انداز ہوئی ، اور حکومت کے دیگر ارکان اس کی خواہشات کے بالکل ماتحت تھے۔ اس طرح ، اگرچہ پاکستان نے پارلیمانی نظام کے ساتھ جمہوری وجود کے طور پر اپنے آزاد وجود کا آغاز کیا ، سیاسی نظام کے نمائندہ پہلو قائد اعظم کے کردار سے خاموش تھے۔ درحقیقت ، جناح – انڈیا کے ماؤنٹ بیٹن نہیں – نائب روایتی روایت کو برقرار رکھا جو برطانیہ کی نوآبادیاتی حکمرانی کا مرکزی حصہ تھا۔ بھارت کے برعکس ، جہاں گاندھی نے حکومت سے باہر رہنے کا انتخاب کیا اور جہاں ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو ، اور پارلیمنٹ ملک کے زیر انتظام ہے ، پاکستان میں پارلیمنٹ اور گورننگ کابینہ کے ارکان کو ماتحت کردار میں ڈال دیا گیا۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    بھکاری جو کراچی میں اس وقت ایک بڑے اور آسان پیشے کا رخ اختیار کر کیا ہے بہت ہی آسان لگتا ہے حلیہ بدلنا اور سڑک پے آجانا اور بھیک مانگنا کہیں عورتیں کہیں مرد کہیں بچے کہیں بوڑھے کہیں زبردستی معذور کیئے گئے لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں.
    بھکاریوں کی دن با دن بڑھتی ہوئی رفتار سے جرائم کو روکنے والے ادارے اس شک میں ہیں کہ کراچی میں بھکاری بھی بچوں کے اغوا ملوث ہیں.
    اور ساتھ ساتھ پولیس نے بھکاری مافیا کے منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں شمولیت کا انکشاف کیا ہے.
    پولیس کی طرف سے کراچی کی سڑکوں سے متعدد بھکاریوں کوگرفتار کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جہ سکے کے ان کے ساتھ بھیک مانگنے والے بچے شاید ان کے اپنے نہ ہوں اور ان کو اغوا کیا گیا ہو
    اس شبہے کی تصدیق کے لئے پولیس پولیس بچوں اور گرفتار شدہ بالغ بھکاریوں کا کچھ طبی جانچ کرنے کا کام شروع کر رہی ہے۔
    پولیس نے کچھ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شہر میں بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لئے مشترکہ تفتیش کا آغاز کیا ہے۔تاکہ اگر یہ کسی قسم کی جرائم میں ملوث ہیں تو اسکا پتہ لگایا جہ سکے.
    کراچی پولیس چیف سے بات کرنے پے پتہ چلا کہ اس سلسلے میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کے "حکومت سندھ کے کچھ محکمہ جیسے کے سوشل ویلفیئر اور بچوں کی پروٹیکشن اتھارٹی کچھ ٹرسٹ ، ٹریفک پولیس اور کچھ ہیلپ لائن جیسے کے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، جرائم کو روکنے کے محکمے ، اور دیگر تنظیمیں اس کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔”
    ان کے مطابق اس بات کے کافی شواہد مل رہے ہیں کہ کراچی کے بھکاری بھتہ منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
    پولیس سربراہ نے کہا ان بھکاریوں میں سے بیشتر کا تعلق شہر کی مقامی آبادی سے نہیں ہے دوسرے شھروں سے آتے ہیں. اس میں سے کچھ تو جنوبی پنجاب کی طرف کے ہیں اور کئی نسلوں سے بھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے مختلف زبانوں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کئی غیر ملکی شہری بھی ہیں ، جن میں سے ایک بڑی تعداد افغانی بھی ہے۔
    انہوں نے کہا ،مختلف تنظیموں سے ہماری ملاقات کے دوران ، ہم نے ان بھکاریوں کے ہمراہ بچوں کے بارے میں اپنے شک کا ظاہر کیا اور ان کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ بچوں کو کہیں سے اٹھایا تو نہں گیا ہے۔
    بہت سے معاملات میں ، بھکاریوں نے جان بوجھ کر اغوا کیے گئے بچوں کے اعضاء اور ہاتھ / پاؤں کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھیک مانگنے کے کاروبار میں بطور اوزار استعمال کرسکیں۔
    کراچی پولیس چیف کے مطابق ، شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی نگرانی میں کورنگی اور ملیر میں بھکاری بچوں کے رہائش کے مراکز موجود ہیں جہاں بھکاریوں اور ان کے بچوں کو رہائش اور کھانے کی مکمل سہولت فراہم کی جائیں گی۔
    پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی صحیح طرح تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ بکھاری مافیا کو پتہ چلے اور ساتھ ہی عوام کے بھی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بچوں کے اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے اور ایک معاشرہ بنانے میں ہوں پولیس کی مدد کر سکیں.
    تحریر

    @salmabhatti111

  • ‏آخر کب تک ؟  تحریر : رفاقت علی کھوکھر

    ‏آخر کب تک ؟ تحریر : رفاقت علی کھوکھر

    اولمپکس 2021 میں بھی حسب روایت پاکستان ابھی تک کوی میڈل نہی جیت سکا۔ جناب عزت مآب جنرل ریٹائرڈ سید عارف حسن جو کہ سنہ 2004 سے مسلسل صدر اولمپکس ایسوسی ایشن منتخب ہو رہے ہیں ،ان سے کوی پوچھنے والا نہی کہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے
    آخر آپ کو مزید کتنے سال درکار ہیں!

    بحثیت قوم ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے کہ ایک کھلاڑی کی حکومت کے ہوتے ہوے 21 کروڑ کی آبادی میں سے ہم صرف 9 کھلاڑی اولمپکس میں بھیج سکے۔ سوال یہ ہے کہ صدر اولمپکس پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدے کے لیے کیا ہمارے پاس ایک 71 سالہ بزرگ سے بہتر کوی نہی؟ کیا میرٹ نام کا لفظ صرف ہمیں تقاریر میں سننے کو ملے گا؟ کیا اس پر کبھی عمل بھی ہو گا؟ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے پچھلے 20 سال سے مسلسل میرٹ پر نوکریاں دینے کے وعدے کیے مگر وعدے تکمیل ہوتے نظر نہی آرہے،

    سویلین کی نوکریاں ریٹائرڈ جنرلز یا کرنلز کو کیوں دی جا رہی ہیں؟ جہاں تک عام فہم کی بات کہ اگر آپ ایک ڈاکٹر سے بال بنوائیں گے تو نتیجہ کچھ اچھا نہی آے گا، بال بنوانے کے لئے آپ کو حجام کے پاس ہی جانا پڑے گا، ٹھیک اسی طرح ملک کے بارڈرز کے رکھوالوں سے اگر آپ ڈپلومیسی ، پبلک افیرز ، پبلک پالیسی ، حتیٰ کہ منسڑرز کا کام لیں گے تو نتائج بھی آپ کو ایسے ہی ملیں گے! مندرجہ زیل چند مثالیں ملحظہ فرمائیں ۔
    چیف آف سٹاف ہیڈ کواٹر نادرا ریٹائرڈ کرنل طاہر مقصود خان ہیں ۔
    ڈائریکٹر جنرل آر ایچ او اسلام آباد برگیڈئیر ر طلال قیوم ہیں ۔
    ایکٹنگ ڈائیریکٹر جنرل آر ایچ او ملتان میجر (ر) عمران علی خان ۔
    ڈی جی ایلین رجسڑیشن ہیڈکواٹر نادرا اسلام آباد لیفٹیننٹ کرنل محمد طلہ سعید ہیں۔
    پاکستان کے بہت سے اداروں کی اعلی ترین کرسیوں پر زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی افسران تعینات ہیں جو کہ میرٹ کے نام پر بہت بڑا داغ ہے، پاکستان سے باہر بھی (ر) فوجی افسران کو پاکستان کا ایمبیسڈرز بنا کر بھیجا جاتا ہے جیسا چند ہفتہ قبل جنرل (ر) بلال اکبر کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر بنا دیا گیا ، یہ پہلے جنرل نہی جن کو سفیر بنا کر بھیجا گیا ، صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران کم از کم 9 ریٹائرڈ جنرلز کو بیرون ملک ایمبیسڈرز بنا کر بھیجا گیا!
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فارن آفس میں موجود جوسولین افسران عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں، فارن افیرز میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں ، جنہوں نے ڈپلومیسی کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے ، کیا ان سب میں سے کوی اس قابل نہی تھا جسے سعودی عرب یا دوسرے ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے بھیجا جاتا؟ جناب ضرور قابل لوگ ہوں گے جن کی حق تلفی کی گئی! جن کا مسقبل داو پر لایا گیا، میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئی ! سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر اداروں کے ڈائریکٹرز ، چیرمینز اگر آپ نے فوجی افسران ہی لگانے ہیں تو پھر براے کرم میرٹ میرٹ کی رٹ لگانا چھوڑ دیں ۔

    کیا پبلک سروس کمیشن کا ادارو ناکام ہے؟اگر ناکام ہے تو نیا نظام کون لے کر آے گا؟ تبدیلی کے نعروں سے تبدیلی نہی آتی بلکہ عملی اقدام اٹھانے پڑتے ہیں ! کیا سولین برے مینجرز ہیں؟ تو اچھے مینجرز ہم کہاں سے درآمد کریں ؟ عوام پر رحم فرمائیں جو بھی ریٹائیرڈ ہوں انہیں گھر بھیجیں ۔نوجوانوں کو مواقع فراہم کریں۔

    پاکستان میں قابلیت کی ہر گز کمی نہی مگر سفارش والے کلچر کو ختم کرنا ہو گا ، پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو اپنے نوجوانوں پہ بھروسہ کرنا ہو گا، آخر کب تک ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوجوان زلیل و خوار ہوں گے اور بڑی کرسیاں صرف ریٹائرڈ جنرلز کو ملیں گی، آخر کب تک !

    ‎@IamRafaqatAli

  • اللہ کی طرف سے آزمائش تحریر:حسیب احمد

    اللہ کی طرف سے آزمائش تحریر:حسیب احمد

    "اللہ کی طرف سے آزمائش”

    اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتے ہیں کیوں کہ اللہ پاک دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کے بندے کتنا صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ کرونا بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اور اللہ چاہتا ہے انسان جیسے میں نے اشرف المخلوقات کا لقب دیا وہ کیسے میری اس آزمائش سے خود کو کامیاب کرتا ہے۔ اللہ نے ہمیں آزمائش میں بھی ڈالا تو ہمیں اس سے بچنے کا حال بھی دیا وہ ویکسین کی صورت میں۔

    اللہ کی طرف سے آزمائش کسی پر آسکتی ہے اس بار پوری دنیا پر آئی ہے تاکہ اللہ پاک کو بھی اندازہ ہوسکے کہ اس کی اشرف المخلوقات کس طرح اس آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور یہ وقت سیاست کا نہیں ہے۔

    اللہ پاک ہمیں اس قابل سمجھتے ہیں اس لیے تو ہمیں ازما رہے ہیں کیوں کہ اللہ آزمائش کے لیے بھی اس بندے کا انتخاب کرتا ہے جس کو وہ اس کے قابل سمجھتا ہے۔ آزمائش تو ختم ہوجائے گی بس ہمیں اپنا اعتماد اللہ پر ہمیشہ برقرار رکھنا ہے۔

    آزمائش صرف کرونا کی صورت میں نہیں بلکہ پیسوں کی ضرورت کی صورت میں، نوکری کی صورت میں ہوتی ہیں اور اس سے اللہ دیکھتا ہے بندہ کوئی غلط راستے کا انتخاب تو نہیں کرتا۔ اگر بندے کا اللہ پر یقین ہوتا ہے تو چاہے دنیا کی کوئی بھی طاقت ہو اس بندے کا ایمان اور یقین نہیں بدل سکتا۔

    اللہ کے سامنے امیر غریب سب برابر ہیں اور وہ یہ نہیں دیکھتا ازماتے وقت کہ بندہ امیر ہے یا غریب۔ وہ ازماتا ہے اور اس وقت بندے کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسا نا کردے جس سے اللہ ناراض ہو اور بندے کو گناہ گار قرار دے دے۔

    اللہ کی آزمائش سے ڈریں نا اور اس کی آزمائش کا سامنا کرنا سیکھیں وہ اپنے بندے سے بہت پیار کرتا ہے۔ جتنا ایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے اس سے 70 گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے اللہ کے لیے اس کے بندے کیا مقام رکھتے ہیں۔

    اللہ سب کو اپنی آزمائش کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے اور سب انسانوں کو کرونا جیسی آزمائش سے مقابلہ کرنے کی ہمت دے اور اس کو اتنا مضبوط بنائے کہ وہ کسی آزمائش سے ڈر کر پیچھے نا ہٹ جائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور دنیا بھر کے سب انسانوں پر اپنا خاص کرم برقرار رکھے آمین

  • ترکی میں لگی خوفناک  آگ، حادثاتی یا تخریب کاری  تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی میں لگی خوفناک آگ، حادثاتی یا تخریب کاری تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہزاروں سال پرانی تاریخ قدرتی حوادث سے بھری پڑی ہے، جہاں ایک طرف تو زلزلوں نے شہر کے شہر تباہ کردیے وہاں آگ نے بھی ایسے بہت سے شہر صفحہ ہستی سے جلا کر راکھ کردیے

    ترکی کا وسیع رقبہ جنگلوں اور پہاڑوں پر مبنی ہے، محکمہ جنگلات محکمہ پانی و زراعت سے بھی بڑا ہے ہر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے باقاعدہ راستہ بنایا جاتا ہے تقریباً ہر سال گرمیوں میں ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا ایک معمول کا عمل ہے، سخت گرمی میں سورج کی دھکتی شعاوُں سے ایسا ممکن ہے کیونکہ زیادہ تر درخت چیڑ کے ہیں جو بڑی جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلوں نے بھی میگنیفائر کا کام کیا، مگر سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات پکنک منانے والوں کی باربی کیو کی آگ یا پھر چلتی گاڑی سے سگریٹ پھینکنے سے ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی لاپروائی سے منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ جنگل جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں کیونکہ مسلسل سمندر سے زمینی علاقوں اور زمینی علاقوں سے سمندر کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔

    ترکی ہر سال اس آگ سے نپٹنے کے لئے پانی لانے والے نئے جہاز، ہیلی کاپٹر یا جنگل اور پہاڑی راستوں پر اسانی سے چلنے والی گاڑیاں خریدتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے آگ بجھانے والے آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی کرتا رہتا ہے

    آگ لگانے کے تخریبی واقعات بھی عام ہیں اور یہ زیادہ تر مشہور سیاحتی مقامات کے قریبی ان جنگلات میں ہوتے ہیں، جہاں محکمہ ماحولیات نے ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد رہائشی منصوبے یا ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر کی اجازت مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر موئلہ صوبے کے سب سے مشہور سیاحتی مرکز بودروم شہر کے اس ہوٹل تک بھی آگ پہنچ گئی ہے جو اس جگہ تعمیر کیا گیا تھا جہاں جنگل میں کچھ سال پہلے آگ لگی یا جان بوجھ کر لگائی گئی تھی مگر بعد میں نئے درخت لگانے کی بجائے ہوٹل کی تعمیر کی اجازت مل گئی تھی۔

    موجودہ آگ کو ترک ماہرین اور تجزیہ نگار ماحولیاتی دہشتگردی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ شرپسندوں کی طرف سے جنگلوں میں آگ لگانے کے اتنے وسیع اور منظم طریقے سے تخریب کاری پہلی دفعہ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صرف چار دن میں (اٹھائیس سے اکتیس جولائی تک) 26 صوبوں کے 98 سے زائد مقامات پر اچانک آگ کا بھڑک اٹھنا بھی اس بات کا ثبوت ہے اور پولیس کے ہوائی ڈرونز نے بھی مختلف جگہوں پر شرپسندوں کو آگ لگاتے کیمرے کی آنکھ سے پکڑا ہے اور اس بار یہ آگ صرف سیاحتی مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز کے شہری علاقوں کے قریبی جنگلات میں بھی لگائی گئی ہے جس کے نتیجے میں بوقت تحریر 4 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور جنگلی جانور تلف ہوچکے ہیں، املاک کے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی تقریبا ناممکن ہے۔ آگ بجھانے کے لیے 45 ہیلی کاپٹر، 6 عدد پانی لے جانے والے ہوائی جہاز، 1080عدد فائیربرگیڈ کی گاڑیاں، 2270 عدد ابتدائی مداخلت والی جییپیں، 10,550 آگ بجھانے کے ماہرین 280 عدد پانی کے ٹینکروں کی مدد سے کوشاں ہیں، ترک صدر جناب رجب طیب ایردوآن کی طرف سے پانچ صوبوں (انطالیہ، میرسن، عثمانیہ، موئلہ اور عادانا) کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر ایمرجنسی لگا دی گئی ہے

    دو تین سال پہلے جب یونان کے مختلف علاقوں میں آگ لگی تھی تو ترکی نے ہمسایہ ملک کی بھر پور مدد کی تھی آگ بجھانے میں مگر آج حالات یہ ہیں کہ ترکی کے اپنے آگ بجھانے کے وسائل ناکافی ہوچکے ہیں، آزربایجان اور یوکرین نے اپنے ہوور جہاز مدد کے لیے بھیجے ہیں . پاکستان نے بھی ترک بھائیوں کی ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے

    امید اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ترکی کو اس مشکل وقت اور سخت امتحان سے جلد نکالے۔ مالی اور جانی نقصان پر صبر عطا کرے۔ آمین

    @Tarvelogue

  • پتھروں کی حقیقت اور قرآن  تحریر: زبیر احمد

    پتھروں کی حقیقت اور قرآن تحریر: زبیر احمد

    کہتے ہیں تجسس کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، آج سے ہزاروں لاکھوں سال پہلے جب انسان زمین میں موجود اشیاء سے اپنا تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہونے لگا تو اس کی نظر خوبصورت پتھروں پر پڑی۔کچھ لوگ ان پتھروں پر عقیدہ کی حد تک یقین کرنے لگے تو کچھ نے انہیں زیورات کے طور پہ استعمال کیا۔ یہ خوبصورت پتھروں زمانہ قدیم سے ہی بادشاہوں اور عام لوگوں میں کافی مقبول رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انگلیوں میں پہنے جانے والے ان پتھروں اور نگینوں کی افادیت کے بارے میں اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔ کیا یہ پتھر تقدیر بدلنے اور نفع دینے کی طاقت رکھتے ہیں. کچھ لوگ ان پتھروں اور زیورات کے لئے استعمال ہونے والی مختلف دھاتوں کے بارے میں کچھ ایسی غیر حقیقی باتیں بھی مانتے ہیں کہ یہ پتھر انسانی جسم پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں اور مختلف قسم کی بیماریاں ختم کرتے ہیں انسانی جسم میں فائدہ مند مواد بناتے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ممکن ہوتا تو آج کے دور کی ترقی یافتہ میڈیکل اور میڈیسن سائنس طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور جسم کے اندر داخل کئے جانے والے مواد کی دوائیاں بنانے میں جان کھپانے کی بجائے ان پتھروں اور دھاتوں کے ذریعے علاج کرتے نظر آتے۔ قرآن مجید میں بھی کئی جگہ ان موتیوں کا ذکر محض زیبائش کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اس کے کوئی فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ سورہ رحمان کی آیت نمبر 22 اور 58 کا ترجمہ ہے "وہ حوریں خوبصورت ایسی جیسے یاقوت اور مرجان ہوں” اور ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں” ایسے ہی سورہ واقعہ میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ وہ حوریں چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ نبیﷺ ہاتھ کی سیدھی انگلی میں عقیق پہنتے تھے لیکن وہ محض زیبائش کے لئے تھا۔ عقیق کو سنت نبویﷺ کی پیروی کے لئے تو پہنا جاسکتا ہے لیکن کسی نفع کے حصول کے لئے نہیں۔ ارشاد خداوندی یا حدیث کے مفہوم میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اس قسم کے پتھروں سے کوئی مالی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ صرف زینت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی انسانوں کو کچھ یوں پیغام دیتے ہیں کہ سب کارساز اور کاتب تقدیر وہی ایک ذات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور انسان کو اتنا ہی ملتا یے جتنی اس نے کوشش کی ہوتی ہے۔
    اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پتھروں کے پہننے سے نہ رزق میں فائدہ ہوگا نہ ہی نقصان نہ ہی یہ کسی بیماری کا علاج ہیں۔
    اللہ ہمیں وہ عقائد اپنانے اور عمل کرنے کی ہمت اور توفیق دے جن پر اللہ راضی ہوتا ہے اور ہر شر اور گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    (twitter @KharnalZ)

  • مسئلہ کیا ہے؟        تحریر : جواد خان یوسفزئی

    مسئلہ کیا ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    مغرب اور اس کے نقش قدم پر چلنے والی چند دوسری اقوام دنیاوی ترقی میں ہم سے آگے ہیں تو اس کی کچھ مادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہ ایک معمہ ہے کہ اخلاقی طور پر بھی ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، کینہ پروری، معاشرتی بے حسی، ظلم و جبر، بد عنوانی۔۔۔ العرض کونسی برائی ہے جس میں ہم دنیا میں نمایاں مقام نہیں رکھتے۔
    اس کی بہت سی وجوہات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی ایک وجہ واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔ انسانی معاشرہ بہت پیچیدہ نظام ہوتا ہے اور اس کے محرکات کثیر جہتی ہوتے ہیں۔
    ہماری اخلاقی پسماندگی کی ایک وجہ کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے:
    ہر معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ کسی نہ کسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ مثلاً جدید مغربی اخلاق کی بنیاد انسان دوستی ہیومنزم پر ہے۔ اس فلسفے کی رو سے دنیا میں سب سے اہم چیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی (دنیاوی) فلاح اور خوشی ہے۔ اسی سے لبرلزم، سیکولرزم، جمہوریت، افادیت پسندی الٹرا ہیومنزم اور سائینسی طرز فکر نے جم لے لی۔ مغربی معاشرے کے افراد بالعموم انسان دوستی سے اخذ کردہ اخلاقی اصولوں کی کڑی پاسداری کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ معاشرے کے علاوہ خود ان کی ذات کے لیے بھی مفید ہے۔
    اس کے مقابلے میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اصول مذہبی تعلیمات سے اخذ کرتا ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے اور کس قسم کے رویوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہمارے مذہبی اصول قران اور سنت سے اخذ ہوتے ہیں اور ان دونوں کے موضوعات کی بھاری اکثریت اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ان اخلاقی تعلیمات پر بہت کم عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم دنیا کی کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مذہب سے ہمارا شعف بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم میں مذہب کا وہ پہلو زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے جس کا تعلق عقیدے اور مذہبی عبادات و رسومات سے ہے اور مذہب کی اخلاقی تعلیمات کی اہمیت کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔ اس رجحان کو ہم حال اور ماضی قریب میں لکھنے جانے والے مذہبی لٹریچر، نیز مذہبی علماء کے خطبات میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی فقہ کو ایک ٹیکنیکل فن سمجھا جانے لگا ہے جس پر بات کرتے ہوئے اخلاقی پہلؤں کو مدنظر رکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ حالانکہ قران مجید میں جہاں بھی کوئی قانون بیان کیا گیا ہے اس کے انفرادی یا اجتماعی اثرات کا ذکر ضرور ہے۔
    یہ رجحان اس قدرزور پکڑ چکا ہے کہ اگر کوئی اسلام کے اخلاقی تعلیمات پر زیادہ زور دے تو اس پر شک کیا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے ایک مشہور مصنف پر دین میں تحریف کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کی ایک کتاب میں اخلاقی برائیوں سے اجتناب کو بھی عبادت قرار دیا گیا تھا۔
    حاصل کلام یہ کہ ہمارے اخلاقی نظام کی بنیاد مذہب پر ہے لیکن موجودہ دور میں مذہب کے اخلاقی پہلو پر توجہ کم ہے۔ اس سے ہمارے اخلاقی نظام کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔ یہ احساس وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ عقیدہ درست ہو اور عبادات کا اہتمام کیا جائے تو فلاح یقینی ہے۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ معاشرتی ذمے داریوں کو انجام دیے بغیر ہماری فلاح ممکن نہیں، چاہے ہم کتنی ہی زیادہ عبادت کیوں نہ کریں۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com