Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہنر سیکھے اور  فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    ہنر سیکھے اور فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    آج کل کے دور میں ہر کوئ چاہتا ہے کہ ان کے پاس بہت سارا پیسہ ہو اور وہ اسی پیسے سے اپنے دل کی ہر خواہش پوری کرے۔ لیکن کچھ لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہ پیسے کس طریقے سے کماۓ اور اس کیلۓ کونسا پلیٹ فارم استعمال کرے جس سے وہ آسانی سے پیسا کماۓ۔
    آج کل جب کرونا کا وبا چل رہا ہے تو اس سے بہت ہی کم وقت میں بہت زیادہ ملکوں کی معیشت خراب ہوگئ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے کاروبار خراب ہوگۓ کیونکہ وبا کے شروع ہوتے ہی بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن لگ گۓ ۔ امیر سے امیرتر کی بھی بری حالت بن گئ ہے تو پھر غریب لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
    جب دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا تھا اور ہر قسم کے کاروبار بند تھے اور لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے پر پابندی تھی تو اس وقت سب کچھ آنلائن ہورہا تھا اور لوگ اپنے دفاتر کے کام آنلائن کرتے تھے تو اس وقت جن لوگوں کو آنلائن کام آتا تھا اور جو لوگ فری لانسینگ کر رہے تھے وہی لوگ فائدے میں تھے ۔
    فری لانسینگ کے بہت فائدے ہے اگر کوئ بندہ فری لانسینگ کرتا ہو تو انہیں اپنی فیملی سے دور نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ گھر بیٹھ کے بھی کام کرسکتے ہے جب کہ دوسرا بڑا فائدہ ایک ہنر ہوتا ہے اپنے ہاتھ میں اور جب بندہ چاہے وہ استعمال کرسکتے ہے ۔ تیسرا فائدہ اگر کوئ بندہ نوکری کررہا ہو تو وہ فری لانسینگ کو پھر ڈیوٹی سے آ کر بھی کرسکتا ہے
    فری لانسینگ کیلۓ دو چیزیں اہم ہے پہلا چیز ہنر سیکھنا اور دوسرا انگلش کا سمجھنا۔ جب انسان کو ایک چیز سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے تو اس کو اس چیز میں لگن ہوجاتی ہے اور وہ پھر اسی چیز کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس طرح جتنے بھی ٹاپ فری لانسرز ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے ہے کہ فری لانسنگ کا مزہ ایک بار ضرور لیں۔
    جب انسان کے پاس ہنر ہو اور انہیں پیسے کی ضرورت ہو لیکن بیچارے کو یہ نہ ہو معلوم کہ میں نے اس ہنر کو لے کے کس طرح اپنی ضروریات کو پوری کرنا ہے تو پھر اس ہنر کا فائدہ ہی کوئ نہیں۔
    میرا ایک یونیورسٹی کا دوست تھا جن کی گھریلوں حالت بہت خراب تھی ایک دن ہاسٹل میں کسی بندے کے ساتھ بیٹھ کے اپنے گھر کے حالات کا انہیں بتایا تو انہوں نے پوچھا بھائ کمپیوٹر سے متعلق کچھ آتا ہے جس پر میرے دوست نے کہا کہ ہاں مجھے گرافکس ڈیزائننگ آتی ہے اس بندے اسی ٹائم ان کو فائیور پر پروفائل بنا کر اسے فری لانسنگ کے بارے میں سمجھایا جب میرے دوست نے فری لانسینگ پر کام شروع کیا تو یقین جانے اس کے حالات بدل گۓ اور وہ اسی فری لانسینگ سے آج ایک لاکھ تک مہینہ کما رہا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہے جو کہ فری لانسینگ سے مہینے کے لاکھوں روپے کما رہے ہے ۔
    ایک طرف اگر ہم لوگ دیکھ لے تو اس سے ہمارے ملک کی معیشت کیلۓ بڑے فائدے ہے اور جتنا اگر لوگ فری لانسینگ کرینگے اتنا پیسہ آئیگا باہر کی ممالک سے اور ہمارے روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور ملک معیشت کے لحاظ سے مضبوط ہوگا۔
    آخر میں میں اپنے ملک کے پڑھے لکھے جوانوں س یہی کہونگہ کہ ایک دفعہ ضرور کوشش کرے اور اپنے ہنر کو چھپانے کے بجاۓ ا سے باہر لے آے اگر آپ چاہتے ہے کہ گھر بیٹھے پیسے کماۓ تو فری لانسینگ سیکھ کر اسے ایک دفعہ ضرور آزماۓ آپ کی زندگی بدل جاۓ گی۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • ماں باپ اور بچے  تحریر: سحر عارف

    ماں باپ اور بچے تحریر: سحر عارف

    بچہ پیدا ہوتے سب کچھ سیکھ کر تھوڑی آتا ہے بلکہ وہ تو جو کچھ سیکھتا ہے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے جس میں سب سے پہلے اس کے ماں باپ، بڑے بہن بھائی، دادا دادی اور گھر کے باقی سب افراد آتے ہیں۔ لیکن ان میں بھی سب سے پہلے وہ ماں باپ سے سیکھنا شروع کرتا ہے۔

    ظاہر ہے جب بچوں کے اردگرد کا ماحول اچھا ہوگا تو وہ سب کچھ اچھا ہی سیکھے گا۔ اسی طرح سے ماں باپ اگر کچھ غلط کرتے ہیں، اگر وہ بچوں کے سامنے لوگوں کی غیبت یا ان سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں تو اس وقت ان ننھا سا دماغ یہ سب کچھ کمپیوٹر کی میمری کی طرح اپنے اندر محفوظ کرلیتا ہے۔

    پھر جیسے جیسے وہ بڑا ہونے لگتا ہے تو ان باتوں کا جن کو اس نے چھوٹی سی عمر میں اپنے دماغ میں محفوظ کیا تھا استعمال میں لانا شروع کردیتا ہے اور یہ چیز اس کے رویے سے صاف ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔
    بہت پڑھے لکھیں ماں باپ بھی اگر ہوں تو ان کی بھی اولاد غلط راہ پر نکل پڑتی ہے اور اس کی وجہ باز اوقات صرف اور صرف والدین کی لاپرواہی ہوتی ہے۔

    بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو انھیں صرف ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ پاس ہوں، ہماری ننھی ننھی شرارتیں دیکھیں اور خوش ہوں لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو بچے بہت کچھ اپنے ذہنوں پر سوار کرلیتے ہیں۔

    یہاں امیر ماں باپ دیکھے ہیں جو بچوں کو ان کی چھوٹی عمر میں ہی ملازموں کے حوالے کر دیتے ہیں صرف اپنی مصروفیات کی وجہ سے، پر کیا مصروفیات اولاد سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ پھر بچے بھی ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں۔

    اسی لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھیں انہیں اس وقت اکیلا نا چھوڑیں جس وقت بچوں کو سب سے زیادہ ماں باپ کے پیار اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقین جانے وہی بچے پراعتماد اور باحوصلہ ہوتے ہیں جنہیں ماں باپ کی توجہ زیادہ ملتی ہے۔

    @SeharSulehri

  • والدین اور بچوں کا بچپن   تحریر  : راجہ حشام صادق

    والدین اور بچوں کا بچپن تحریر : راجہ حشام صادق

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم بچوں کے بچپن سے ہی یہ الفاظ بولنا شروع کر دیتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے تم سےنہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔

    اس کائنات میں کوٸی بھی ایسی چیز یا کام نہیں جو ایک انسان کے لیے ناممکن ہو۔پھر ہم بچوں کے دماغ میں ایسی چیزیں کیوں ڈالتے ہیں؟؟؟
    انسان کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ایسا ممکن نہیں
    بچہ بھی جب اٹھ کر چلنا شروع کرتا ہے تو آپ سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتے ہو کیونکہ اس کے گرنے پر آپ اسے تھام لیتے ہو شروع شروع میں بچہ لڑکھڑا بھی جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ ماں اس بچے کو سہارا دے کر چلنا سکھا دیتی ہے آخر کار وہ صرف چلنا نہیں بلکہ بھاگنا شروع کردیتا ہے۔

    ایک رینگتے بچے کو آپ چلنا سکھا سکتے ہو تو زندگی کے طویل سفر کے لیے اسے مایوس کیوں کر رہے ہو
    میرے نزدیک والدین کا بہت آہم رول ہے اپنے بچے کی کامیابی میں۔

    انسانی دماغ میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ آپ اپنے بچے کے دماغ میں امید کی کرن کو کیسے روشن کرتے ہیں۔اگر آپ اپنے بچے کے دماغ میں ایک بات بٹھا دیں کہ تم یہ کر سکتے ہو تو یقین کریں وہ بچہ کر بھی جائے گا

    اللہ تعالٰی نے انسان کو قابلیت ،صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس ہمیں تھوڑا سا پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت انسان کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک انسان خود شکست تسلیم نہ کر لے۔

    @No1Hasham

  • بے لوث محبت کی انمول داستان  ماں  تحریر : چوہدری عطا محمد

    بے لوث محبت کی انمول داستان ماں تحریر : چوہدری عطا محمد

    ایک ایسی آواز جو آپ کے کانوں میں رس گھول دے ایک ایسا لفظ جس کو بول کر آپ کا منہ مٹھاس سے بھر جاۓ ایک ایسا رشتہ جو ہر خوشی اور تکلیف میں آپ کے منہ سے بنا سوچے ہی نکل جاۓ جی بلکل آپ میں سے زیادہ تر سمجھ گے ہوں گے وہ ہے ماں کا اپنی اولاد سے رشتہ ماں کی عظمت اور ماں کی شان میں لکھنا میرے سمیت کسی کے بھی بس کی بات نہیں ماں کی شان اور عظمت پر کچھ لکھنا بلکل ایسے ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنا ماں شفقت اور پیار اور خلوص و محبت کا ایسا بے لوث رشتہ ہے جس کی مثال کہی نہیں ملتی ماں ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے محبت و قربانی کا دوسرا نام ہے سخت دھوپ ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی اس کا دست شفقت ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح سائبان کی شکل میں اپنی اولاد کو سایہ اور سکون عطا کرتا ماں سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت کرنے والی ہستی پیدا ہی نہیں ہوئی ماں کا رشتہ ایسا رشتہ جو نہ تو کبھی کوئی احسان جتاتی اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی بلکہ بے غرض ہر وقت ہر گھڑی اپنی اولاد کی لئے اپنے مالک سے اپنی اولاد کی خوشیاں راحتیں اور سکون کے لئے دعائیں مانگتی رہتی دامن پھیلا پھیلا کے
    اللہ تعالی نے اس کے عظیم اور بے مثال ہونے اور ماں کی عظمت بتائی کہہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی اور انسان کو یہ بات بتا دی کہہ اب جو چاۓ اس جنت کو حاصل کرے اپنی ماں سے پیار کر کے اس کی خدمت اور احترام کر کے اس جنت کو حاصل کر سکتا ہے اگر آپ بظاہر دنیاوی رشتوں کی بات کریں تو تمام رشتوں جیسے بھائی بہن چاچا ماما پھوپھی یا خالائیں ہر رشتہ میں کوئی نہ کوئی خود غرضی ہوسکتی لیکن یہ انمول رشتہ ہر غرض سے پاک بے لوث بے مثال ہے ایک بیٹا جب کہیں سےبھی آتا گھر میں باقی تمام رشتے جو کہ اس کے اپنے ہوتے ہیں ہر رشتہ آپ کی باہر اے لائی ہوئی چیزوں پر غور کرتا صرف ایک ماں ہی ہوتی جو صرف اپنے جگر کے ٹکڑے کی طرف متوجہ رہتی بغیر پلکیں جپھکے ماں کی دعائیں اپنی اولاد کا ساۓ کی طرح پیچھا کرتی ماں جہاں اور جس حال میں بھی ہو وہ اپنی اولاد کو ہمیشہ خوش وخرم دیکھنا چائیتی اولاد کس طرح بھی لاپرواہ اور دنیا کی نظر میں جتنی بھی بری کیوں نہ ہوں ماں اس کے ہر عیب پر پردہ ڈالتی

    ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟۔فرمایا ”تیری ماں “ پوچھا ”پھرکون“ فرمایا۔۔” تیری ماں “ اُس نے عرض کیا ۔۔”پھر کون “ ۔فرمایا ۔۔”تیری ماں“ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ “۔ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے      ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ اور نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل اولاد کے لئے اقوام عالم میں نہیں ہے ماں جو ہے اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کے اندر چھپی ہوئی خوشی اور غمی دونوں کو پہچان لیتی ہے اپنی اولاد کے دل میں کیا چل رہا ہے یہ ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ماں کا چہرہ تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتا
        ایک بار ایک صحابی حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اپنی ماں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے ، کیا میں نے ماں کا حق اداکر دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: نہیں ، تُونے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں ہوا آج کے اس فیشن زدہ دور حاضر میں ہمارے لوگ ایک دن ماں کے نام پر مناتے ہیں جس دن مدَر ڈے کہا جاتا ہے اولاد سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کچھ اچھے اچھے پیغامات اپنی ماں کے لئے لکھتے اور ہمارے ناسمجھ یہ سمجھ بیٹھتے کہہ ہم نے ماں سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے کیا یہی پورے سال میں ایک دن کے لئے چند پیغامات شئیر کرنا ہی کافی ہے کیا اوپر اسی لئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکر کیا ہے
    آج کی اولاد بس اتنے می ہی خوش ہوجاتی اور سمجھ بیٹھتی میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا ہوں
    ماں کی قدر انسان کو تب ہوتی جب یہ انمول رشتہ اللہ پاک اپنے پاس بلا لیتا خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کما رہے ہیں ماں کا چہرہ پیار سے دیکھنا بھی عبادت ہے اللہ پاک جن کی مائیں سلامت ہیں ان کو ہمیشہ سلامت محفوظ رکھے اور جن کی مائیں فوت ہوگئ ہیں اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
    اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں

    @ChAttaMuhNatt

  • تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    بھٹی نے کامیابیوں کے سفر کا آغاز صحافت سے کیا اتفاق سے ایک بہت ہی آچھے ٹی وی چینل کے ساتھ سیٹ ہو گیا۔

    ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے استاد محترم کا انٹرویو کیا جائے۔ چنانچہ بھٹی اپنے استاد محترم کے گھر پونچ گیا۔ابتدائی سلام دعا کے بعد بھٹی نے انٹرویو لینا شروع کیا۔
    بھئی اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ انٹرویو کے دوران بھٹی نے اپنے استاد محترم سے پوچھا سر ایک بار آپ نے اپنے لیکچر کے دوران contact اور connection کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اب جب کہہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

    استاد محترم مسکرائے اور سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا کیا آپ اسی شہر سے تعلق رکھتے ہو ؟
    بھٹی نے کہا جی ہاں سر میں اسی شہر کا ہوں استاد محترم نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے؟
    بھٹی نے سوچا کہ شاید استاد محترم میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بہر حال بھٹی نے بتایا میری والدہ محترمہ وفات پا چکی ہیں والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔
    تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

    استاد محترم نے مسکراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا تم اپنے والد محترم سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟
    اب بھٹی کو غصہ بھی آرہا تھا اور اور بولا جی میں والد محترم سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں استاد محترم نے پوچھا یاد کرو پچھلی بار تم اپنے والد سے کب ملے تھے؟
    بھٹی نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو جان سے ملا تھا۔
    استاد محترم نے کہا پھر تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے ؟ بتاو لاسٹ ٹائم کب اکٹھے ہوئے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟

    اب تو بھٹی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد محترم کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگے ہیں۔

    بھٹی نے ایک لمبی آہ بھری اور بولا شاید دو سال ہونے والے ہیں جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوئے تھے استاد محترم نے ایک اور سوال ڈالتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟ بھٹی نے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔

    استاد محترم نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟
    اب تو بھٹی بہت پریشان ہو گیا اور میز پر رکھے ایک کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد محترم نے پوچھا کبھی تم نے والد صاحب کے ساتھ ناشتہ لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟
    کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں؟
    کبھی تم نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ تمھاری والد محترمہ کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟
    اب تو بھٹی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے استاد محترم نے بھٹی کا ہاتھ تھپ تھپایہ اور کہا کہ بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection کا جواب دینا تھا۔

    سنو ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے والد صاحب سے ہے مگر connection یا تعلق والد صاحب سے۔نہیں رہا یا کمزور ہے کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہیں گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔

    بلکل ٹھیک ایسے جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے، بوسہ کرتی ہے بغیر مانگے دودھ پلا دیتی ہے بچے کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتی ہے کہہ کہیں گر نہ جائے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔

    تو بیٹا آپ کے والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact ہے مگر آپ کے درمیان connection نہیں ہے۔

    بھٹی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

    بد قسمتی سے آج ہمارے وطن عزیز میں یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج ٹویٹر ، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہمارے پانچ ہزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔ ہم صبح سویرے بزاروں دوستوں کو گڈ مارننگ کہہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں۔

    حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی ہم تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
    کسی اپنے کے بچھڑنے کے بعد چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے کر کے ہم سرخرو ہو رہے ہوتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اسلام اپنے پیروکاروں کو احساس کا درس دیتا ہے. اس زمرہ میں مختلف عوامل سے کمزوروں کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. کبھی صدقہ، کہیں خیرات کہیں فطرانہ تو کہیں زکواۃ غرض مختلف پہلو َاس احساس کے ہیں. حالیہ قربانی جیسا عظیم شعار_ اسلام اسی کی ایک کڑی ہے. جس میں 1 حصہ غریبوں کے لیے مختص کر کے احساس دلایا گیا کہ امیروں کی کمائی میں غریبوں کا رزق موجود ہے. اللہ کریم نے ایک نظام بنایا ہے. انہی عوامل میں امت کے لیے فوائد بھی رکھ دئیے تاکہ غریبوں کی امداد کا سلسلہ نہ رکے. جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.
    صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے. تو کسی کی بلائیں ٹلتی کسی کا پیٹ پلتا ہے.
    معاشرے کا سب سے کمتر دیکھا جانے والا یہ طبقہ حقیقت میں اس کا زمہ دار خود تو نہیں. یہ میرے رب کی رزق کی تقسیم ہے کسی کو دے کر آزما رہا ہے تو کسی کو محروم رکھ کر. یہ اسی کی حکمتیں ہیں.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دے.
    تو یہ تو اللہ کی تقسیم ہے.
    اسی طرح زکواۃ دیجیے اور اللہ سے تجارت کا عہدہ پائیے.
    مال کی پاکیزگی بھی حاصل کیجیے. زکواۃ کو مال کی میل کچیل قرار دے کر اپنے مال کو پاک کرنے کا حکم دیا گیا.تو کسی کا مال پاک ہوا اور کسی کا پیٹ پال دیا گیا.
    الغرض کمزور طبقے کے فروغ کے لیے جو قوانین و ضوابط اللہ رب العزت نے اس دین اسلام میں مقرر فرماے ان کی مثال کہیں نہیں ملتی.
    غریب زمانے میں تو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کے بڑے درجے ہیں.
    جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو اللہ کے دیے تھوڑے رزق پر راضی ہو گیا. اللہ کریم کل بروز قیامت اس کے تھوڑے اعمال (صالح) پر راضی ہو جاے گا.
    غریبی میں صبر بہت مشکل لیکن بہت کامل عمل ہے جو بندے کو رب سے بلاواسطہ ملاتا ہے.
    دوسری جانب جو رب العالمین کے دئیے ہوے سے خرچ نہیں کرتے ان کے لیے سخت وعید بھی ہے.
    غریب کو حقارت کی نظر سے دیکھنا کفار کا طریقہ ہے اور اللہ کریم غریبوں کے زریعے امیروں کو آزماتا ہے اللہ رب العزت نے اس بارے کچھ ہوں سورۃ الانعام میں ارشاد فرمایا
    وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)
    یہاں آیت کی پہلے حصے میں فرمایا گیا کہ *اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی* یعنی مالدار کی غریب کو لیکر آزمائش کی جاتی ہے پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے زریعے امیروں کی آزمائش کی جاتی ہے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کفار غریب مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے اور اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا ہے تو مسلمان فقیر کیوں ہیں؟ تو یاد رکھیں غریب کو حقارت سے دیکھنا کفار کا عمل ہے. اپنے معاشرے میں توازن لانا ہماری زمہ داری ہے اسلام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی اسی لیے قرار دیتا کہ اپنے ساتھ موجود غریبوں اور کمزوروں کی مدد کی جاے یہ مسلمان کی شان ہے. غریبوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ مشاہدے کی بات ہے غریب ہوتے دیر نہیں لگتی. دروازے کے باہر غریب اور اندر دینے والا امیر ہوتا ہے میرا رب بڑا بے نیاز ہے ہو چاہے تو پل میں دروازے کا رخ بدل ڈالے (ضرورت مند کو خوشحال اور دینے والے کو ضرورت مند کر دے) سوچنے کی بات ہے دروازہ تو ایک ہی ہے. رخ بدلتے دیر نہیں لگتی. کب وہ جھکے ہوے ہاتھ کو پھیلا کر مانگنے والا بنا دے. یہ اس اللہ کریم کے فیصلے ہیں اور وہ اپنے فیصلوں میں بے نیاز ہے. اس لیے غریبوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے.
    احساس کیجیے غریب بھی میرے رب کی مخلوق ہے. اور اسلام ہمیں اس مخلوق سے پیار سے پیش آنے اور ان سے نرمی کرنے ان کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @EngrMuddsairH

  • اردو، زوال کا شکار.  تحریر: احسان الحق

    اردو، زوال کا شکار. تحریر: احسان الحق

    کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بڑی لعنت ہے. جسمانی غلام قوم ایک نہ ایک دن آزاد ہو جاتی ہے مگر ذہنی طور پر غلام قوم نسل در نسل غلام ہی رہتی ہے. ان کے ذہنوں سے غلامی کبھی ختم نہیں ہوتی. پاکستان نے جسمانی طور پر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی مگر بدقسمتی سے آج تک انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں انگریزی زبان ہی پڑھے لکھے ہونے کا معیار چانچنے کا پیمانہ بن چکی ہے. آپ اردو یا اپنی مادری زبان میں جتنی زیادہ انگریزی کی ملاوٹ کریں گے آپ اتنے ہی زیادہ پڑھے لکھے تصور کئیے جائیں گے. لوگوں پر رعب ڈالنے یا متاثر کرنے کے لئے بھی اردو میں انگریزی الفاظ کی زبردستی ملاوٹ کی جاتی ہے. دنیا میں جتنے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے انگریزی پر اپنی مقامی اور قومی زبانوں کو ترجیح دی. چین، جاپان، روس، عرب ممالک اور کوریا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک اپنی قومی زبان کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اور سرکاری اور قومی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے. اردو پاکستانیوں کی صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی شان، شناخت اور غیرت بھی ہے. بزرگوں کی اس لئے کیوں کہ نوجوان نسل اب اردو بولنے لکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں. اب پاکستانیوں کا خیال ہے کہ علم و فراست اور پڑھے لکھے کی نشانی یہی ہے کہ بندہ اردو کی جگہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کا استعمال کرے. یقین جانیں ہم بھی اسی کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جو انگریزی بولنا جانتا ہو، حالانکہ انگریزی علم نہیں بلکہ زبان ہے. خاکسار کے نزدیک موجودہ میڈیا اور انٹرنیٹ کی ترقی کے دور میں خالص اردو بولنا مشکل کام ہے بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

    سقوط ڈھاکہ میں سب سے اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. خاکسار کے مطابق پاکستان کے دو لخت ہونے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. پہلی بار ڈھاکہ میں11 مارچ 1948 کو اردو کے مقابلے میں، بنگالی زبان کے حق میں اور اردو کے خلاف ایک جلوس نکالا گیا جس کی منزل وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کا دفتر تھی. جلوس شرکاء کا مطالبہ تھا کہ اردو کی جگہ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے.

    اردو کی مخالفت میں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے. اسی لئے 21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان جناب حضرت قائداعظمؒ ڈھاکہ میں تشریف لے گئے اور ریس کورس میں ایک عظیم مجمعے میں کھلے الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی البتہ بنگال صوبائی سطح پر سرکاری زبان کے طور پر "بنگالی” زبان اختیار کر سکتا ہے. حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا کہ
    "میں آپ سب پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ پاکستان کی قومی اور ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی، کوئی دوسری زبان نہیں. کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اہم ہے کہ اس کی زبان ایک ہو”
    قائداعظمؒ کے رعب دار خطاب سے بنگالی خاموش اور کسی حد تک مطمئن ہو گئے. 26 جنوری 1952 میں خواجہ ناظم الدین نے بھی ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہی ہوگی. حالانکہ خواجہ ناظم الدین کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ خود بنگالی تھے.

    بدقسمتی سے اب ہماری عزت، غیرت اور شناخت اردو پاکستان میں زوال پذیر ہے. ہم آہستہ آہستہ اپنی غیرت کا گلہ گھونٹ رہے ہیں. خدانخواستہ اردو جس طرح پستی کی طرف جا رہی ہے اگلی نسلیں اردو کا تذکرہ کتابوں میں پڑھیں گی کہ اردو زبان بھی ہوا کرتی تھی. ہماری آئینی، سرکاری، سیاسی، عدالتی حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے ادارے اور محکمے کی زبان انگریزی ہے. سونے پہ سہاگہ ہمارے انتہائی غیر معیاری اور کسی حد تک غیر اخلاقی ڈرامے بھی اردو کا ستیا ناس کر رہے ہیں. ایک زمانہ تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بھرپور ہوتے تھے جس میں اردو کے الفاظ کا بہترین انداز میں استعمال کیا جاتا اور خیال کیا جاتا تھا. مگر اب ایسا نہیں ہے. ہم نے صرف انگریزوں سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے انگریزی سے نہیں. ہم انگریزی سے کب آزادی حاصل کریں گے؟ اردو زبان کو ہم پاکستانی عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟

    @mian_ihsaan

  • ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا    مشعال ملک

    ہرشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا مشعال ملک

    جموں و کشمیر کی رہنما مشعال ملک کا کہنا ہے کہ ہرشل گبز کے کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں نے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر پریمیئر لیگ کو ناکام منانا بنا جاتا ہے کیونکہ کشمیر پریمیئر لیگ کے ساتھ لفظ کشمیر جڑا ہے بھارت لفظ کشمیر کو دنیا کو مٹانا چاہتا ہے-

    مشعال ملک کاکہنا ہے کہ بھارتی انتہا پسند حکومت کھیل سے بھی خوفزدہ ہے عالمی پلئیرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں بھرپور رول ادا کرنا چاہیےآئی سی سی کو بھارتی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے-

    واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے-

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • صفائی نصف ایمان اور پاکستان   تحریر : محمد ماجد

    صفائی نصف ایمان اور پاکستان تحریر : محمد ماجد

    ہمارے دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بھی قرآن پاک میں کئی جگہ پاکیزگی اور صفائی کا حکم فرمایا ہے مگر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کیا ہم ان احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟
    پانچ وقت نماز کی پابندی تو ہم کرتے ہیں مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم صفائی کا خیال نہ رکھیں اُس کو بھول جائیں ۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے دین اسلام نے ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، حج کرنے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہیں دین ہمیں صفائی کا حکم بھی دیتا ہے اس لئے تو صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔
    ‎بطور افراد معاشرہ ہم لوگ اپنے گھروں کا کچرہ سڑکوں اور گلیوں پر پھینکے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔کیا اس کے لئے کسی لمبی چوڑی قانون سازی کی ضرورت ہے یا ہمیں خود احساس کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صفائی جتنی گھر کے لئے ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ہماری گلیاں اور سڑکیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔جیسے اپنے گھر کو ہم صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمارا فرض ہے کہ اپنے گلی محلے اور شہر کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ ہمیں صفائی نصف ایمان ہے اس پیغام کو عام کرنا ہوگا اپنے معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہوگا تب ہی ہماری عوام اس پہ سوچنے کے قابل بنے گی۔
    آج کل بارشوں کا موسم ہے پورے ملک میں ہی بارشیں ہو رہی ہیں۔نالے کوڑاکرکٹ کی وجہ سے بھرے پڑے ہیں تھوڑی سی بارش مومول سے زیادہ ہوجائے تو شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال بن جاتی ہے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوجاتا ہے۔ پانی زیادہ دن کھڑا رہے تو بیماریاں اور مچھر پیدا ہوجاتے ہیں۔ان سب مسائل کا حل بروقت صفائی ہے جس کا خیال رکھنا پوری قوم کا فرض ہے۔ افسوس دوسری قومیں صفائی میں ہم سے آگے نکل اور ہمارے مذہب نے ہمیں حکم دیا اور ہم اُس پہ عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں سے ایک نعمت ہے پاکستان میں موجود خوبصورت مقامات جن کی سیر کے لئے پاکستان اور پوری دنیا سے سیاہ آتے ہیں ۔ مگر افسوس ہماری عوام ان خوبصورت جگہوں پر جاکر وہاں کی خوبصورتی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں کوڑا کرکٹ پھینک آتے ہیں۔جب ایک انسان صاف ستھرا ہوگا تو سب لوگ اُس کو پسند کریں گے اور اگر کوئی صاف ستھرا نہیں رکھے گا تو سب لوگ اُس سے دور رہیں ۔ ایسے ہی جب ہم اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں گے تو باہر سے لوگ آکر یہاں خوش ہوں گے واپس جا کر پاکستان کی تعریف کریں گے اور پاکستان کا ایک مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے جائے گااور ماحول بھی صاف ستھرا رہے گا۔حکومت کا کام ہے عوام میں شعور پیدا کرےاور تفریحی مقامات پہ کوڑادان نصب کریں اور عوام صفائی کا خیال رکھتے ہوئے کوڑا کرکٹ اُن کوڑا دانوں میں ڈال کر ایک زمیدار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
    اج کل پوری دنیا میں ایک وبا جو کورونا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے جس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں اس سے محفوظ رہنے کے لئے بھی صفائی پہ زور دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز بھی بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کا مشورہ دےرہے ہیں جیسے کے ہمارا دین بھی صفائی کا حکم دیتا ہے۔
    کچھ دن ہی گزرے ہیں عیدالاضحٰی کو لوگوں نے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد اُن کی آلائیشوں کو گلی محلوں اور سڑکوں پہ پھینک دیا جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا ہر سال ایسا دیکھنے کو ملتا ہے ہمارا فرض ہے جیسے گھر کو صاف رکھتے ویسے اپنے شہر اور پیارے ملک پاکستان کو بھی صاف رکھیں تاکہ ہم بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
    آئیں ہم سب ملکر اپنے گھر پاکستان کو صاف رکھیں اور خوبصورت بنائیں۔
    Twitter Id: @mpakiiprince

  • بہتری کی گنجائش تحریر: سہیل احمد چوہدری

    شروع کرتے ہیں 80 سے 90 کے دور سے.
    میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
    علاقے میں پرائیویٹ سکول وہ بھی بابا جی کے نام سے مشہور تھا.مزاج بہت کڑک , شاید بزرگ ہوتے ہی کڑک تھے. اس وقت ایک بہترین نظام چل رہا تھا .سرکار ہو یاں پرائیویٹ بندہ .ہر ایک گود سے لے کر گور تک اپنے اپنے دائرے میں لگے ہوئے تھے. ہاں بات لوڈ شیڈنگ کی تو اس وقت بھی ہوا کرتی تھی. آبادی کم ہونے پر علاقے اور مکان اس طرح ترتیب دیئے جاتے تھے کہ ٹھنڈے رہیں. ماحول اور صحبت کا واقعی اثر ہوتا ہے
    گھر میں ماں باپ بوڑھے بزرگوں سے فاصلے پر بیٹھتے تھے.اور بہو کی تو جرآت نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی. اللہ کی رحمت صبح صادق کو نماز سے دن کا آغاز ہوا کرتا تھا بچوں کو مساجد میں نماز کے ساتھ ساتھ قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا. اسکے فورا بعد ناشتہ اور سکول کی تیاری ہوا کرتی تھی. سکول سے واپس آکر گلی میں کرکٹ یاں کوئی کھیل کود کے بعد پڑھائی پھر کھانا اور پورا گھر ایک بلیک اینڈ ٹی وی پر 8 بجے ڈرامہ اور پھر 9 کے بعد پردہ دار خاتوں گھر کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی دکھائی دیتی تھی وہ بھی دن بھر کی خبروں کا مجموعہ.پھر گھر اور ٹی وی ٹرالی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے. اس وقت 10 دس بچے ماں پالتی تھی اور گھر والوں کی تابعداری میں اعلئ مقام بھی پاتی تھی.جب کہ اب سینکڑوں چینل .مختصر اولاد .ہر ایک کا اپنا کمرہ. یو پی ایس . جنریٹر.موٹر سائیکل .کار .جیپ اے سی. سب سہولتیں پھر بھی ناشکری عام طور پر گھر سے باہر کا کھانا عام روٹین.ساس سسر کی کوئی روک تھام نہیں . اتنی سہولتیں پھر بھی ہم خسارے میں کیوں.
    وغیرہ وغیرہ
    اتفاق ہی اتفاق بڑے بوڑھے کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت پر تربیت پر گھر سے لے کر تعلیمی میدان سے رہنما کو مقام دیا جاتا تھا.
    آج ہم بہت آگے چلے گئے ہیں پر تعلیم کیلیے آج بھی 4 سال بعد بچہ کچھ بولنا سیکھتا.
    خیر اس وقت نام لے کر ریفرنس دیا جاتا تھا
    یہاں تک کہہ محلے میں اگر کسی کے ہاں کوئی خوشی غمی آتی تو رشتہ داروں کی صرف سیوہ کی جاتی باقی کام محلے دار ہی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے.
    ریاستی ادارے اپنے کاموں میں لگے رہتے اور عوام اپنی زمہ داریاں بخوشی انجام دیتے تھے.
    تہزیب .تربیت .اور تعلیم . شعور کی بھٹی میں پکا کر ماں باپ سے لے کر استاد ایک مہزب انسان معاشرے میں اتارتے تھے.
    اچھی طرح یاد ہے.کہ ایک مرتبہ چینی ایک روپے مہنگی ہوئی تھی تو لوگ میدان میں آئے تو حکومت کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا.
    بالکل یوپین ممالک جیسا احتجاج نوٹ کروایا جاتا تھا.
    علاقے کا ایک بڑا بزرگ منتخب کرکے علاقے کے مسائل حل کروائے جاتے تھے.
    جب کہ آج کل کوئی کسی کو بڑا نہیں سمجھتا.ہر کوئی نواب.
    کوئی مسئلہ آئے تو شاید کچھ ایسے افراد جن کی تربیت پرانے لوگوں نے کی وہ شاید اپنی عادت سے مجبور ہو کر کچھ سوشل ورک کر لیتے پر اب ان کو بھی کوئی شاباشی نہیں ملتی . بے حسی نے پنجے گاڑ لیے ہیں .
    اب حکومت کسی چیز کا ریٹ بڑھاتی تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. شاید حرام کی کمائی والے کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں .
    رات لیٹ سونا. صبح دیر سے جاگنا.
    رہی سہی کسر چھوٹے بڑے میں تمیز بھی ختم
    بالآخر قصور کس کا.
    میں بہت فکر کرتا ہوں دوسروں کی طرف دیکھ کر غصہ بھی بہت آتا ہے.کیونکہ گھر سے لے کر سکول , سکول سے لے کر جاب .ہر جانب سخت اساتذہ سے واسطہ پڑا . شاید یہ اس وقت کی ریت ورواج تھا. آج بھی ماتحت ملازمین سخت رویے کی بدولت سر پھرا بھی کہتے ہیں .کیا کریں .ہم تو اپنی تربیت بولے تو بنیاد پر کھڑا رہنے پر مجبور .ورنہ نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگ کے میٹریل اور ڈھانچے سے تو سب واقف اور پریشان وہ بھی بے تحاشہ خرچ کرکے.
    بنکوں نے قسطوں پر چیزیں دے دے کر عوام میں حرام حلال کی تمیز ختم کر دی ہے.
    آخر میں ہم سب یہی دسکس کرتے ہیں کہ بچوں کا کیا بنے گا.کیونکہ تعلیم .اور روزمرہ اخراجات نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا.
    جو سب سے اہم چیز شاید ہم بھول رہے ہیں اور مسلسل نظر انداز بھی کر رہے ہیں وہ ہے تربیت ,
    جس پر بہتری کی گنجائش تو ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے
    وہ تو ہم کر سکتے ہیں .جب توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا ہے تو پھر غم کاہے کا .ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیا خیال.
    اب آپ کی باری
    @iSohailCh