Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بے لگام سوشل میڈیا  تحریر: محمد آصف شفیق

    بے لگام سوشل میڈیا تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہے نہ کوئی اخلاقیات کا تصور الا ماشااللہ کوئی چند افراد آپ کو مل جائیں ، جہاں تک سوشل میڈیا ٹیموں کا تعلق ہے اس میں بھی باجماعت ٹرولنگ کرنا بے ہودہ قسم کے ہیش ٹیگز چلا کر با جماعت لوگوں کو برے برے القابات سے نوازنا اور پھر اس پر اترانا ،
    اگر آپ صرف ٹویٹر کو ہی لے لیں میں نے اگست 2009 میں ٹویٹر پر اکاونٹ بنایا ، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسی تحریر یا ٹویٹ نہ کیا جائے جس سے کسی کا دل دکھے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے گالی کا جواب بھی بھلائی سے دیا ، الحمد اللہ سوشل میڈیا ٹیمیوں کے کئی پرو ایکٹیو افراد ایڈ ہیں ایک دوسرے کو فالو بھی کیا ہوا ہے اور اکثر اوقات کوشش ہوتی ہے اگر کوئی اچھا ہیش ٹیگ ہو تو اس میں اپنا حصہ ڈال دوں
    دوسری سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کی بھی اپنی سوشل میڈیا ٹیم ہے اور میں الحمد للہ کافی عرصہ سے اس سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہوں محترم شمس الدین امجد بھائی اس ٹیم کو لیڈ کرتے ہیں ، ہر فرد کیلئے رہنمائی اور تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے گاہے بگاہے اون لائن بھی اور منصورہ لاہور میں بھی تربیتی نشستیں رکھی جاتی ہیں آجکل بھی تین روزہ مرکزی میڈیا ورکشاپ جاری تھی جو کہ آج ہی اختتام پزیر ہوئی جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے شرکاء سے خطاب کیا
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ہوں یا قاضی حسین احمد ؒ یا سید منور حسن ؒ سب نے اپنے سوشل میڈیا ورکرز کو ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے اور اس بات کی گواہی آپ کے کٹر دشمن بھی دیں گے کہ جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم ایک منظم اور باوقار ٹویپرز پر مشتمل ٹیم ہے جو ہمیشہ اخلاقیات کی پابندی کرتی ہے اپنے مخالفین کو بھی جواب اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دیتی ہے
    آج کچھ بہترین افراد کے ٹویٹر سے گالیوں کے ٹویٹ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہمیں ، فالورز زیادہ ہو یا کم اکاونٹ ویری فائی ہو یا نہ ہو مگر ہم اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں بحثیت مسلمان ہمیں علم ہونا چاہئے کہ گالیا ں نکالنا کیسا ہے ، تہمت لگانا کیسا ہے ، الزامات لگانا کیسا ہے ، چھوٹ بولنا کیسا ہے ، کچھ خدا کا خوف ہی نہیں ہے موت یاد ہی نہیں مرنا نہیں ہے کیا ؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 47
    رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں مندرجہ ذیل چار عادتیں ہوگی وہ پکا منافق ہوگا جب گفتگو کرے تو جھوٹ کہے جب وعدہ کرے تو پیمان شکنی کرے جب کوئی معاہدہ کرے تو معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غداری کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکنے لگے اور جب کسی میں مندرجہ بالا خصلتوں میں سے کوئی بھی خصلت ہوگی تو اس میں ایک نشانی منافقت کی ہے تاوقتیکہ وہ اس عادت کو ترک نہ کر دے۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 439
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 933
    عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 264
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2078
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے وہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائیں اورہمیں اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنے دین پر چلنے والا بنائیں ۔ آمین یا رب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب  تحریر: ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب

    ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب تحریر: ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب

    کھیلوں کا سب سے بڑا عالمی میلہ جاپان کے دارلحکومت ٹوکیو میں کورونا وبا کے سائے میں سج گیا ہے۔ کھیلوں کے مقابلے جاپان کے مختلف شہروں میں ہوں گے۔ افتتاحی تقریب میں بھی کورونا کا خوف غالب تھا جس کی وجہ سے رنگا رنگ تقریب میں مہمان انتہائی قلیل تعداد میں موجود تھے اور مارچ پاسٹ میں بھی کھلاڑیوں کی تعداد کم کردی گئی تھی۔
    اس عالمی ایونٹ کی افتتاحی تقریب میں کورونا رولز پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔ کھلاڑیوں کے مارچ پاسٹ میں زیادہ تر دستوں نے چہروں پر ماسک لگا رکھے تھے اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا تھا۔ پاکستانی پرچم ماحور شہزاد اور خلیل اختر نے اٹھایا ہوا تھا۔ پاکستانی کھلاڑی سفید شلوار قمیض اور سبز واسکٹ میں ملبوس تھے۔
    ٹوکیو اولمپکس میں 33 کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں ریکارڈ 339 گولڈ میڈلز کے لیے دنیا بھر کے 207 ممالک کے 11 ہزار سے زیادہ ایتھلیٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ اس مرتبہ ٹوکیو اولمپکس میں خواتین کی ایک ریکارڈ تعداد شرکت کر رہی ہے جن کا تناسب 48 فیصد ہے۔
    ٹوکیو اولمپکس میں 22 رکنی پاکستانی دستے میں 10 ایتھلیٹس اور 12 آفیشلز شامل ہیں۔ پاکستانی ایتھلیٹس 6 کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے میڈل جیتنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اولمپکس تاریخ میں پہلی مرتبہ 3 خواتین کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں جن میں نیشنل بیڈمنٹن اسٹار ماحور شہزاد، ایتھلیٹ نجمہ پروین اور تیراک بسمہ خان شامل ہیں۔ پاکستان 28 سال سے اولمپک گیمز میں میڈل جیتنے کا منتظر ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان ہاکی کا عالمی چیمپیئن تھا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم اولمپکس کے عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کرسکی۔
    ان سب باتوں میں سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی دستے میں شامل ہونہار اور محنتی ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے 45 سال بعد ویٹ لفٹنگ کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرکے ملک کا نام روشن کردیا۔ طلحہ طالب نے 67 کلوگرام ویٹ لفٹنگ کیٹگری کے عالمی مقابلے میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے وطنِ عزیز پاکستان اور پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ طلحہ طالب نے مجموعی طور پر 320 کلوگرام وزن اٹھایا اور اس میں ایک دفعہ 170 کلوگرام وزن اٹھانا بھی شامل ہے۔ وہ صرف 2 کلوگرام کے فرق سے میڈل جیتنے سے محروم رہے۔ مگر انہوں نے پوری پاکستانی قوم کے دل جیت لیے۔ طلحہ طالب کا کہنا تھا کہ اگر ان کو بنیادی سہولیات اور عالمی معیار کا سامان اور تربیت دی جاتی تو وہ ضرور میڈل جیت کر آتے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ طلحہ طالب نے اپنی مدد آپ کے تحت محنت کی بلکہ جس جگہ وہ ہاسٹل میں رہتے تھے اس کا کرایہ بھی وہ خود دیتے تھے۔ ان کو کسی قسم کوئی سپورٹ اور مالی معاونت نہیں کی گئی۔ جب کہ دوسرے ممالک کے ایتھلیٹس کو ہر طرح کی معیاری سہولیات میسر ہوتی ہیں۔
    لٰہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایتھلیٹس کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا جائے۔ ان کو انٹرنیشنل لیول کی جدید سہولیات اور سامان مہیا کیا جائے۔ ان کی مالی معاونت کی جائے۔ اور سب سے ضروری بات یہ کہ کوچنگ سٹاف بھی انٹرنیشنل لیول کا ہونا چاہیئے۔ ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو۔اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مقابلے منعقد کیے جائیں تاکہ ہونہار کھلاڑیوں کو موقع مل سکے۔کم از کم ہر یونیورسٹی میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے جہاں جدید سامان اور سہولیات موجود ہوں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے فنڈ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہمارے ایتھلیٹس کو مناسب سہولیات میسر ہوں اور وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرسکیں۔

    ‎@Rumi_PK

  • 32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان . تحریر :‌ غنی محمود قصوری

    32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان . تحریر :‌ غنی محمود قصوری

    ہندوستانی زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وادی کشمیر جنت نظیر میں مسلمان 95 فیصد،جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بدھ مت 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں.

    1931 سے کشمیری قوم تقریبآ 32850 دنوں سے غلامی کی زندگی گزار رہی ہے مگر گزشتہ 730 دنوں یعنی 5 اگست 2019سے ان کی مظلومیت میں انتہاہ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ غاصب ہندو نے کیا ہے.

    ہندوستان میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل کرکے پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کیا تاکہ کشمیر کو تقسیم کرنے کے فارمولا پر عمل درآمد کیا جائے.

    کرفیو لگاتے ہی ہندوستانی گورنمنٹ نے 500 سے زائد حریت لیڈروں بشمول بزرگ ترین لیڈر سید علی شاہ گیلانی کو قید کر دیا
    جس پر کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی اور اور گزشتہ دو سالوں سے 5 اگست کو بطور یوم سیاہ منا رہی ہے.

    اس سال بھی 5 اگست کو کشمیری بطور یوم سیاہ کے طور پر منائینگے کشمیریوں نے پوری وادی کو ہندوستانی فوج کے انخلا پر مبنی پوسٹرز سے بھر دیا ہے اور ہڑتال کے ساتھ احتجاج کی کال بھی دی ہے جس کیلئے مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار فوج کا ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے.

    بھارت نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے کشمیریوں پر ظلم کی ہر حدیں پار کیں ہیں مگر کشمیری قوم کا جذبہ آزادی کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا گیا ہے.

    ہندوستان نے 1989 سے لے کر ابتک مقبوضہ وادی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1 لاکھ سے زائد معصوم کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا.

    ہندوستان کی اس قتل غارت گری سے 25 ہزار سے زائد خواتین بیوہ اور 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب کشمیری بچے یتیم ہوئے ہیں جبکہ ہندوستانی فوج نے 13 ہزار سے زائد کشمیری خواتین کی عصمت دری کی اور 2 لاکھ سے زائد املاک کو تباہ کیا.

    حتی کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی خاطر جانوروں پر استعمال کی جانے والی پیلٹ گن کشمیریوں پر استعال کی جاتی ہے. اس پیلٹ گن میں 300 سے 600 چھرے ہوتے ہیں جو کہ انسانی جسم میں داخل ہو کر سخت اذیت کا باعت بنتے ہیں.
    ایک تحقیق کے مطابق پیلٹ گن سے متاثرہ 33 فیصد سے زائد افراد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پاتے مگر اس سب مظالم کے باوجود وہ ایک ہی نعرہ لگاتے ، کشمیر بنے گا پاکستان، ہندوستان جتنا مرضی ظلم کرلے وہ اپنا مستقل جبری قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے جس نے ایک اذان کی تکمیل کی خاطر 22 شہادتیں پیش کی تھیں.

    رواں سال ہندوستان نے مظالم کی نئی داستان رقم کی ہے مگر اس کے ساتھ کشمیریوں نے بھی جرآت و استقامت کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے. کشمیر کا بچہ بچہ ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا ہے.

    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں

    ان شاءاللہ بہت جلد کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا.

  • ماحولیاتی آلودگی اور ہمارا کردار!  تحریر : ناصرہ فیصل

    ماحولیاتی آلودگی اور ہمارا کردار! تحریر : ناصرہ فیصل

    ماحولیاتی آلودگی دنیا کے چند برّے مسائل میں سے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ جسکے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی وہ اسکے بارے میں کچھ سوچتے ہیں اسکے بارے میں کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کے اسکے بارے میں لوگوں تک سب معلومات پہنچائی جائیں اور انکو اس معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا جائے تاکہ سب مل کر اسکا مقابلہ کر سکیں۔
    ماحولیاتی آلودگی ہماری زندگی کو اقتصادی اور جسمانی دونوں لحاظ سے بہت متاثر کر رہی ہے۔۔ اس پر اگر ابھی بھی توجہ نہ دی گئی تو یہ پوری دنیا کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے. ایک آلودہ ماحول سے بہت سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں جسکا تدارک وقت پر کر لینا ہی بہتر ہے۔
    بہت سے ایسے اقدامات ہیں جو کے ہم انفرادی طور پر اور بہت سے حکومتی سطح پر کیے جا سکتے ہیں ک جس سے ماحولیاتی آلودگی کو بہتر کیا جا سکے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کچھ ضروری اقدامات کرنا ہی ہوں گے.

    سب سے پہلے تو انفرادی طور پر ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہوگا، ہمیں اچھے شہری کا فرض نبھاتے ہوئے ہر قسم کی آلودگی پھیلانے والی چیزوں سے بچنا ہوگا.

    پولی تھین سے بنے شاپرز کا استعمال بند کرنا ہوگا انکی جگہ پر کپڑے کے تھیلے استمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان شاپرز کا استعمال ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسی طرح کوڑا کرکٹ کو بجائے پھینکنے کے اسکا دوبارہ استعمال یعنی ریسائیکل کرنا بھی ایک اچھا قدم ہے اس سلسلے میں۔ سوکھا ہوا کچرا سڑکیں بنانے میں اور گیلا کچرا ہمارے گھروں کے باغات میں یوریا کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔۔
    اسی طرح شور کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں کہ ایک حد سے اوپر نہ جائے۔
    گند نکاسی کے نظام کے لیے مناسب قوانین کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی بہت سے بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ گاڑیوں کو بہت اچھی حالت میں رکھا جائے تاکہ اس سے ہوا کی آلودگی میں کمی لائ جا سکے۔اسی طرح اینٹوں والے بھٹے اور ایسی فیکٹریاں جو ہوا میں دھواں اور گیس خارج کرتی ہیں حکومت کو انکو بھی ایسے نظام لگانے کی ہدایت کرنی چاہیے جس سے یہ دھواں اور گیس ہوا میں نا چھوڑیں۔ بہت سی فیکٹریاں دریا کے ساتھ لگائی جاتی ہیں تاکہ انکا چھوڑا ہوا گند پانی میں ضایع کیا جا سکے۔۔ اس کام کو بھی روکنا ہوگا کیونکہ اس سے آبی آلودگی میں دن با دن اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔فیکٹریاں اپنے کیمیکلز اور دوسرے ضایع شدہ چیزوں کو دریا میں بہانا چھوڑ دیں۔
    درخت ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ لیتے ہیں اور ہوا میں آکسیجن چھوڑتے ہیں آب و ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں اس لیے انفرادی طور پر سب اپنے گھروں میں یا اپنے شہروں میں جتنے ہو سکیں درخت لگائیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ماحول اور آب و ہوا چھوڑ کر جائیں۔

    حکومتی سطح پر بھی بہت سے سنجیدہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ ایک تو لوگوں میں آگاہی مہم چلائ جائے جس میں ہر قسم کے میڈیا کا بخوبی استعمال کیا جائے۔جتنا لوگ اس کے بارے میں جانیں گے اتنا ہی وہ اس میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔۔ ٹریفک کے قوانین اور اُن پر پابندی کی بہت اہمیت ہے۔ موجودہ حکومت کا بلین ٹری سونامی ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور بہت اہمیت کا حامل ہے جسکے لیے موجودہ حکومت بہت داد کی مستحق ہے۔
    میری تمام پاکستانی بہنوں بھائیوں سے درخواست ہے کہ ان سب چیزیں پر عمل کریں اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد کریں۔ اگر ہم لوگ ایک اچھے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور اچھی زندگی گزارنا اناaچاہتے ہیں تو خود کو بدلنا ہوگا اور ایک اچھا شہری اور اچھا مسلمان بن کر رہنا ہوگا تاکہ ہم اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے اپنے حصے کا کام کر کے جائیں۔
    پاکستان زندہ اباد

    @NiniYmz

  • شجر_کاری  تحریر: اعجازاحمدپاکستانی

    شجر_کاری تحریر: اعجازاحمدپاکستانی

    درخت اگانا ایک ماحول دوست عمل ہے۔ درختوں کیوجہ سے ہوا صاف رہتی ہے۔ بارشوں کاسبب بنتاہے۔ درخت لگانے سے بنجر زمین بھی خوبصورت اورکارآمد ہوجاتی ہے۔ درخت لگانامسلمانوں کیلئے باعث ثواب بھی ہے۔ اگرپھلدار درخت اگائی جائے تولوگوں اس کے پھل اورسائے سے فائدہ ہوگا۔ پرندوں کیلئے بھی ایک آشیانے کاسامان ہوگا۔ درختوں کیوجہ سے موسم بھی خوشگوار رہتاہے۔ ہمارے نبیﷺنے بھی درخت اگانے کی ترغیب دی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں درخت لوگوں کیلئے ایندھن کاکام بھی کرتے ہیں جہاں ابھی تک سوئی گیس کی رسائی ممکن نہیں ہوئی۔
    ہمارے موجودہ *وزیراعظم عمران خان* بھی شجرکاری میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ خودبھی اس میں حصہ لے رہے ہیں اورجگہ جگہ شجرکاری کے مہمات شروع کئے ہوئے ہیں۔ اپنے پچھلی پختونخواہ حکومت کے دورانئے میں 1ارب سے زائددرخت اگاچکے ہیں جسکو عالمی سطح پربھی کافی پذیرائی ملی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ شجرکاری کادنیا کی موسم سے براہ راست تعلق ہے اورایک ماحول دوست عمل ہے۔
    شمالی علاقہ جات کے جنگلات میں اور بھی شجر کاری کر کے اس کو محفوظ بنانا چاہئے اور جنگلات کو اور بھی وسعت دینی چاہیے تا کہ ہمارے وطن میں موجود ہریالی کی کمی وہاں سے پودے لے کر پوری کی جاسکے.
    مِن حیثُ القوم ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں اور اپنے ارد گرد کم از کم ایک، ایک درخت لگائے تاکہ ہمارا بھی اس کارِ خیر میں حصہ ہو اور ہمارا خطہ اور ہمارا پیارا *پاکستان* ہرا بھرا، سر سبز و شاداب اور آلودگی سے پاک ہو۔
    اس یومِ آزادی کو ہمیں چاہئے کہ ہری بھری جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ 10، 10 پودے لگائے اور اپنے گھر، محلے، علاقے یا ضلع کی سطح پر اپنے لئے ایک ہدف رکھیں اور بھر پور کوشش کرکے اس کو حاصل کرنا چاہئے-
    ہمیں چاہئے کہ درختوں کی حفاظت کریں اور اس کی کٹائی کو روکے- اور ماحول دوست درخت لگائے جو کارآمد ہو-
    پوری دنیا کے موسم پر درختوں کا براہ راست اثر ہے اور آج پوری دنیا شجر کاری جیسے مہمات جگہ جگہ شروع کر رہے ہیں. تاکہ دنیا کی موسم کو موسم کی شدت سے بچایا جاسکے.
    جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ سالوں سے موسم بدل گیا ہے اور گرمی ہو یا سردی اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ کچھ عرصے بعد جیسا کہ آج کل ہم شہری علاقوں میں پانی خریدتے ہیں اسی طرح اگر جنگلات کی کٹائی نہ روکی گئی اور ہم نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا تو ہمیں آکسیجن بھی خریدنی پڑیگی سانس لینے کے لئے کیونکہ دنیا کا موسم انتہائی تیزی سے بدل رہا ہے.
    پوری دنیا کی طرح ہمیں بھی اپنے ملک میں شجر کاری پر زور دینا ہوگی اور اپنی نسلوں کو اس موسمی شدت، آکسیجن کی کمی اور آلودگی سے بچانا ہوگا.
    اور اپنی نسلوں کو بھی یہ پیغام دینگے کہ شجر کاری سے ہی ہمارا ملک ہرا بھرا، صاف ستھرا، موسمی شدت سے محفوظ اور آلودگی سے بچا رہیگا. آج سے ہمیں اپنا یہ شعار بنانا چاہئے کہ ایک فرد ایک درخت لازمی لگائے اور اسکی تبلیغ بھی کریں.

    Twitter ID:
    ‎@IjazPakistani

  • ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام دین کامل ہے، دین اسلام کا پیغام امن و آشتی اور محبت کا پیغام ہے، اور رحمتِ کریمی صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ رب لعالمین کے فیوض و برکات نے جہاں عالمِ انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمتِ بے کراں سے مالامال کیا۔ دورِجاہلیت میں اہلِ عرب جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ رحمت العالمین ﷺ کے آنے کے بعد گویا ان بے زبان جانوروں کو بھی جائے اماں ملی۔

    دین اسلام نے جانوروں کے حقوق متعیّن کرکے رہتی دنیا تک انہیں عزت و تحفظ دیا ہے کیونکہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اوریہ سلامتی کا مژدہ صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ہے، آپ ﷺ نے بارہا تلقین فرمائی کہ جانوروں کی ساتھ بدسلوکی کا برتاﺅ مت کرو اور ان سے وحشیانہ سلوک کرنے والوں کو جہنم کے عذاب کی وعید سنائی اور انسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے چنانچہ حضرت امام بخاریؒ نے روایت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ، ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائےمسلم

    قرآن پاک کی دو سو آیات ایسی ہیں جن میں جانوروں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ﷻ نے قرآن مجید میں 35 جانوروں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے نام بھی موجود ہیں۔ اسی طرح قرآن پاک کی چند سورتیں بھی جانوروں کے نام پر ہیں۔ مثلا سورت بقرہ ،سورت فیل اور سورت عنکبوت وغیرہ

    ہمارا دین اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم دیتاہے۔ قران پاک میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور آپﷺ نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ احسن سلوک کاحکم دیا ہے ، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں، بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی ہمدردی کی تاکید کی ہے ، جنگلی جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کم لادنے کا حکم دیا اور دوران سفر ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے، جانوروں پہ زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ،جانوروں کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا کی تاکید کی، جانوروں کے منہ پر مارنے ،جانوروں کے باہم لڑاٸی کروانے کی ممانعت فرمائی اور ایسا کرنے والے کو ملعون قرار دیا ۔

    مکرمی!! ہم میں سے بعض احباب جانوروں کے ساتھ بہت وحشیانہ سلوک کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ جانوروں کے کوٸی حقوق نہیں ہے انکے کوٸی جذبات احساسات نہیں ہے، جبکہ نزول اسلام
    کے بعد جہاں انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کیے گٸے ہیں وہی جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، محبت ہمدردی اور انکے حقوق بیان فرماٸیے گٸے اور بتایا گیا انہیں ہماری طرح درد ہوتا ہے، انکے بھی احساسات اور جذبات ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے

    آخر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں سنجیدگی سے اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیا مسلم کمیونٹی اللہ اور پیغمبر ﷺ کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کر رہی ہے ؟

    اللہ ہمیں جانوروں کے صلہ رحمی کے ساتھ پیش آنے کی اور انکے حقوق پورے کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ،آمین!

  • وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ  تحریر: وسیم

    وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ تحریر: وسیم

    پیغمبر خدا نے امت کو ایسے علاقے میں جہاں یہ بیماری پہلے سے موجود ہو، داخل ہونے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بیماری پھیل گئی ہو،وہاں سے دوسرے ایسے علاقے میں جہاں بیماری نہ ہو بھاگ کر جانے سے بھی روکا تاکہ غیر متاثر علاقے متاثر نہ ہو۔ خدا پاک نے جو رہنمائی کی ہے اس بارے میں انسان کو اس کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔ایسی جگہوں سے دور رہنا،ایسی فضا اور آب وہوا سے بچنا چاہیے جہاں اس قسم کی موذی بلاؤں کا زور ہو
    اور یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاقوں سے جہاں یہ وبا پھوٹ گئی ہو اس سے بھی نکل بھاگنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی غالباََ دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ ہے انسان کا ان مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر اللہ سے تعلق کی مظبوطی کو ظاہر کرنا، خدا پر بھروسہ کرنا، خدا کے فیصلے پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا، اور تقدیر کے نوشتے پر راضی رہنا۔
    دوسری وجہ وہ ہے جسے تمام ماہرین طب نے یکساں بیان کیا اور سراہا ہے۔ وہ یہ کہ ہر وہ شخص جو وبا سے بچنا چاہتا،اس کو لازم ہے کہ اپنے بدن سے رطوبت فضلیہ کو نکال ڈالنے کی کوشش کرے اور غذا کی مقدار کم کر دے، اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وبا کا زور ہے جو رطوبات بھی پیدا ہونگی وہ رطوبت فضلیہ میں تبدیل ہو جائیگی، اس لیے کم سے کم غذا استعمال کرے کہ ضرورت سے زیادہ رطوبت پیدا نہ ہونے پائے لیکن ریاضت و حمام کی اجازت نہیں، اس سے اس زمانے میں سختی سے پرہیز کریں، اس لیے کہ انسانی جسم میں ہر وقت فضولیات ردیہ کسی نہ کسی مقدار میں موجود رہتی ہے جن کا آدمی کو اندازہ نہیں ہوتا، اگر وہ ریاضت یا حمام کر لیتا ہے، تو اس سے یہ فضولیات ابھر جاتے ہیں اور پھر ابھار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیموس جید کے ساتھ مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔
    اور وبا کے پھوٹنے کے وقت وبا کے مقام سے نکلنا اور دور دراز علاقوں کا سفر کرنا سنگین قسم کی حرکت کا متقاضی ہے جو اصول مذکورہ کی روشنی میں سخت ضرر رساں ہوگا ۔ اس سے وبا کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے سفر نہ کرنا ہی بہتر ہے اور مقام وبا سے غیر متاثر مقامات کو جانا مضر خلائق ہوگا۔ اس روشنی میں اطباء کے کلام کی بھی تائید ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبی حکمت اور بالغ تدبیر پر بھی روشنی پڑگئ۔

    جن مقامات پر وبا پھوٹ چکی ہو وہاں داخلے پر پابندی میں چند حکمتیں اور مصالح:
    1: پریشان کن اسباب سے دوری اور اذیت ناک صورت حال سے پرہیز۔
    2:جس عافیت سے معاش اور معاد دونوں کا گہرا رابطہ ہے، اسے اختیار کرنا۔
    3:ایسی فضا میں سانس لینے سے بچاؤ جس میں عفونت گھر کر گئی ہو اور جس کا ماحول فاسد ہو چکا ہے۔
    4: جو لوگ اس مرض کا شکار ہیں ان کی قربت سے روک، ان کے آس پاس پھرنے سے پرہیز تاکہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان تندرست لوگوں کو بھی اس مرض کے پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔

  • میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    کراچی کے مسائل سیاسی بھی ہیں اور شہری بھی۔ سیاسی مسائل تو انتہائی تشویش ناک حالت کے حامل ہیں لیکن شہری مسائل اگر ارباب اقتدار چاہیں اور نیک نیتی سے اقدامات اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی پہلے جیسا صاف سُتھرا شہر بن جائے روشنیوں کا شہر بن جائے، جب ٹریفک قوانین پرسختی سے عمل درآمد کرایا جاتا تھا۔ ایسا نہیں کہ کراچی جنت تھا ہاں، جنت نشان ضرور تھا۔ لوگوں میں خرابیاں تو تھیں، مگر اُنہیں دور کرنے کا شعُور و اِرادہ بھی تھا۔ آج کی طرح ٹریفک کا اژدھام نہیں تھا۔ نصف گھنٹے کا سفر ڈیڑھ سے تین گھنٹے میں مکمل نہیں ہوتا تھا۔ شہر میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ لوکل ٹرین اور ٹرام بھی چلتی تھی۔ ٹرانسپورٹ مافیا غائب تھی۔ طوفان بدتمیزی کی طرح سڑکوں پر دندناتی منی بسیں، کوچز، چنگچیاں، پریشر ہارن نہ تھے، مسافروں سے بدسلوکی تو حالیہ برسوں کی وجہ ہے جو کراچی کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔ اگر شہری مسائل حل کر دیئے جائیں تو کراچی پھر عالمی سطح پر اپنا مقام واپس حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں بات آجاتی ہے ریاست کی کہ جو شہر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہو اُسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، عمران خان صاحب کی حکومت کو اب خیبرپختون خواہ، پنجاب، کشمیر، بلوچستان، گلگت میں اکثریت حاصل ہے تو اب سندھ کی طرف توجہ دیں کراچی سمیت سندھ کی مظلوم عوام کو بھی جینے کا اُتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے باقی صوبوں کے لوگ حق رکھتے ہیں تو پھر یہ نظر اندازی کس لئے کیا کراچی کو چند سیاست دانوں نے اپنی جاگیر نہیں بنا رکھا۔؟ اگر ریاستی اِدارے اُنہیں اپنا قبلہ درُست کرنے کا کہیں تو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

    ریاست اگر چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ریاست کیا اِن چند سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام اِنسان نہیں بھیڑ بکریاں ہیں۔؟ کیا وہ جینے کا حق نہیں رکھتے۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام کو صحت کی سہُولیات کی ضرورت نہیں ہے۔۔؟ آج پورے پاکستان میں ہسپتالوں میں سب سے بُری حالت سندھ اور کراچی کے ہسپتالوں کی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

    کیا اب بھی پیپلزپارٹی کے وہی 70 سال اور 80 سال کی عمر والے اِس ملک کے 65 فیصد نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔۔؟ جو خُود لاکھوں روپے کی تنخواہوں کا بل تو سندھ اسمبلی سے پاس کروالیتے ہیں مگر عوام کا کوئی خیال نہیں جو ہر الیکشن میں اپنی الیکشن کمپیئن تو کروڑوں روپے خرچ کر کے جیت جاتے ہیں مگر عوام کو صرف سانس لینے تک رکھ چھوڑا ہے کیا کراچی سمیت سندھ کی سڑکیں اِن کا مُنہ نہیں چڑاتیں ۔۔۔۔ کیسے چڑاسکتی ہیں یہ بے ضمیر لوگ اب اپنی انتہا کو پہنچ چُکے ہیں اب اِن کو قابو کرنے کا وقت ہے اِنہیں لگام ڈالنے کا وقت ہے۔
    وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے احتساب کا جو نعرہ بلند کیا تھا اب اُسے حقیقی طور اُس پرعملدرآمد کرنے کا وقت ہے، اب کراچی سمیت پورے سندھ کے کئی سالوں سے لہو رستے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے خُدارا ہوش کے ناخُن لیں اِن کرپٹ ٹولیوں سے آزاد کروائیں سندھ کی عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اب کراچی کو گود لے لیں یا کم سے کم کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں جہاں اگر بارش ہی ہو جائے تو زندگی کسی عزاب سے کم نہیں ہوتی۔

    آج کراچی میں کوئی محلہ ایسا نہیں ہے، جہاں سڑکیں سلامت ہوں، نئی کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد سے کلفٹن تک کے راستوں اور سڑکوں کی حالت بیان کرنا مشکل نہیں یہ پورا ملک جانتا ہے تو کیا حکومت کو علم نہیں ہوگا۔۔؟ کوئی علاقہ کوئی محلہ ایسا نہیں ہے جہاں گٹر نہ ابل رہے ہوں اور ملبہ، کیچڑ اور تعفُن نے شہر کو بدصُورت نہ بنا رکھا ہو۔ بس ہلکی سی بارش ہونے کی دیر ہےیہ خُوب صُورت شہر لاوارث محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور اگر پاک فوج مدد کو آجائے تو یہی سیاستدان پاک فوج پر بہتان لگانے اور اُنگلی اُٹھانے لگتے ہیں کہ یہ کام اِن کا نہیں یہ بارڈر پر جائیں اور بے شرموں کی طرح دُشمنوں کی طرح اُن کی زبان بووزراء اور ذمہ داروں کواس سے کچھ غرض نہیں، کراچی کی عوام روتی رہے، سسکتی رہے۔ ہماری بیوروکریسی آنکھیں بند کئے صرف اپنی غرض جو صرف اُن کی لاکھوں روپے میں تنخواہ ہے بس وہیں تک محدود ہے۔ جہاں ضروریاتِ زندگی کی سہولیات تو ہیں ہی نہیں پھر روزگار کا مسلہ ہے جسے سرکاری ملازمتوں میں بھی تعصب اتنا ہے کے ڈومیسائل کا ایشو بنا دیا جاتا ہے یہ سب کیوں ہے کیا یہ جان بوجھ کر نہیں کیا جا رہا۔۔۔! کیا یہ اقدامات ریاست مخالف نہیں ہیں۔؟ کیا لوگوں کو سندھ حکومت خُود تقسیم کر رہی ہے۔۔؟

    اِس بیرونی ایجنڈے کو سندھ حکومت اپنے ہی سندھ میں بسنے والے بشمول کراچی کے لوگوں میں منافرت پھیلانے کا کام کرتے ہُوئے دشمن ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی ناکام کوشش جاری رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ اِن موجودہ حالات کو سنجیدگی سے لیا جائے یہاں کبھی سندھو دیش تو کبھی جناح پور کا نعرہ بلند کرنا کیا یہ لوگوں کی ذہن سازی نہیں کی جا رہی جب پاکستان ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے وہیں ایسے چُھپے دشمنوں کا صفایا کرنا بھی لازم ہے۔میں نے اللہ کو جان دینی ہے یہ جو کراچی میں ہر روز نیا سیلاب آجاتا ہے اور کراچی کے لوگوں کو اتنا ذلیل و رُسوا کیا جا رہا ہے بلکہ یوں کہیں کے تنگ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کی عوام کے خلاف شدید نفرت بھری جا رہی ہے اور کئی ہزار گُنا شدید نفرت پیدا ہو جائے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے اِس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ملک کا سب سے زیادہ کمائی کرنے والا شہر 70 فیصد سے زیادہ ملک کو ٹیکس دینے والا شہرپاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شہر کراچی اِس طرح بے آبرو ہو؟

    اِس طرح رُسوا ہو؟ اُس کے شہریوں کو اِتنا ذلیل کیا جائے تنگ کیا جائے کے وہ ملک سے بغاوت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔!
    آپ کو یاد ہو گا فاروق ستارہر کچھ دن بعد ایک ہی بات کہا کرتا تھا کے کراچی میں یو این او کی فوجیں بلوا کر انتخابات کروائے جائیں اور بھی کچھ وزراء تھے وہ بھی کہا کرتے تھے اور اب بھی حکومت میں کچھ وزراء شامل ہیں جو یہی بات کہا کرتے تھے۔ یہ باقائدہ ایک پلان بنایا گیا تھا کے 2020 تک کراچی کو پاکستان سے علحدہ کیا جائے گا اور اِس میں کئی غیر ملکی ایجنسیز شامل تھیں اور پیپلز پارٹی ساتھ ملی ہُوئی تھی اور اب بھی یہ ایک ہی ہیں۔ جبکہ پاکستان کی گورنمنٹ کا پلان تھا کے کراچی کو ہانگ کانگ بنانا ہے حکومت نے جو کے اِن ظالموں نے وہ نہیں بننے دیا اور کراچی کے حالات مل کر خراب کرتے رہے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے یہ بات آپ ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں۔ اب یہ جو سیلاب اب ہر بارشوں کے سیزن میں کراچی میں آتا ہے یہ پانی جو کراچی کی دکانوں میں کارخانوں میں فیکٹریوں میں ہر چیز کو تباہ و برباد کر رہا ہے اور اربوں روپے کی جو تیار اشیاء ہیں جو بکنے والی پراڈکٹس ہیں سب برباد ہو رہی ہیں سب پانی میں ڈوب جاتاہے، لوگوں کی گاڑیاں ڈب جاتی ہیں ، یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے کے لوگوں میں بغاوت پیدا ہو لوگ خُود کو لاوارث سمجھیں۔ اب پھر بارشوں کا سیزن آنے والا ہے مون سُون کی بارشیں سر پر کھڑی ہیں اب تو ہوش کرلیں کراچی اور سندھی کی عوام ہمارے ہی بھائی ہیں ہمارے ہی جسم کا حصہ ہیں اُن کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں یہ ریاست کے تھنک ٹیک پر لازم ہے کے اِس طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

    آپ ایک ہزار سال کا کراچی کا ریکارڈ چیک کر لیں کبھی ایسی بارشیں نہیں ہُوئی ں جیسی پچھلے دو تین سال سے ہو رہی ہیں۔ پہلے کراچی میں اگر بارش ہوتی تھی پانی کھڑا ہوتا تھا نکل جاتا تھا مگر اب یہ جنگی حالت ہے یہ باریاں لینے والی پارٹیوں نے بطورِ خاص پچھلے بیس سالوں میں اپنی پلاننگ کہ تحت بڑے بڑے نالے بند کروائے انکروچمنٹ کروا کر مٹی ڈالی نالوں کو تنگ کیا اُوپر مکان بنا لئے غریبوں کو دے دیئے پانی نکلنے کے تمام بڑے راستے بند کر دیئے۔ ریلوے کی ساری ذمینیں بھی ایسے ہی غائب کی گئیں کراچی کی زمین بانٹی گئی، یہ سب ایک پلاننگ کا حصہ تھا اُن دشمن قوتوں کا پلان چل رہا تھا جو کراچی کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتی تھیں یہ سب اُن کا کنٹرول تھا اور یہاں کی حکومتیں اپنا مال بنانے کے لئے ضمیر بیچتے رہے ہیں وطن فروش بنے رہے اِن ملک دُشمنوں نے 20 سال لگائے ہیں بہت ہی معصومیت کے ساتھ یہ کام ہوتا رہا اور کراچی کی عوام بیوقوفوں کی طرح منہ اُٹھا کر اپنے حقوق کی جو ٹرک کی بتی اِن سیاہ ستدانوں نے اِنہیں دکھائی اُس کے پیچھے بھاگتے رہے آج انجام ہمارے سامنے ہے پاکستانیو میرے ہم وطنوں میرے سندھی اور کراچی کے بھائی بہنوں ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اِس ففتھ جنریشن وار کو مزاق مت سمجھو کہنے کو یہ مزاق کی بات لگتی ہے "دیوانے کا خواب لگتا ہے "یہ نا ہو کے پانی ہمارے سر سے اُوپر ہو جائے اور پاؤں کے نیچے سے زمین بھی سرک جائے۔ بات بہت لمبی ہو گئی میں صرف اب حکومت سے کہتا ہوں کے ملک کی خاطر کراچی کو بچانے کی خاطر پاکستان کی سلامتی کی خاطر ایک ہی حل ہے کے کراچی کو جلد سے جلد اپنے اختیار کنٹرول میں لے سندھ حکومت نے پچھلے 74 سالوں میں کچھ نہیں کیا تو اب اُن سے کیسی اُمید بس اب اور نہیں اب کراچی کو جینے دو سندھ کو جینے دو اور یہ صرف یا تو ریاست خُود کر سکتی ہے یا فوج کو کراچی کا مکمل اختیار سونپ دیا جائے ۔
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • کائنات کی دو عظیم ہستیاں  تحریر: مریم وحید

    کائنات کی دو عظیم ہستیاں تحریر: مریم وحید

    میں نے محسوس کیا کہ اس کائنات میں صرف دو ہی ہستیاں ہیں جو مایوس نہیں ہوتے۔ خدا اور ماں۔ اس زمین پر بہت سارے ظلم ہیں۔ کتنی ناانصافیاں ہیں۔ کہاں ، اللہ کے احکامات کی کتنی خلاف ورزیاں ہیں اور انسان اپنے اوپر کس حد تک ظلم کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود خدا کی رحمت انسان سے مایوس نہیں ہوتی۔ اس طرح سائے اور پھل بڑھتے رہتے ہیں ، اسی طرح ہوا چلتی رہتی ہے ، سورج اسی طرح طلوع ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح بارشیں ہوتی رہیں اور اس طرح پانی زمین سے ابلتا رہے۔ جاؤ یا پانی میں گر جاؤ اور پوری دنیا اسے یقین دلا رہی ہے کہ اس کا بچہ مر گیا ہے لیکن وہ اس بچے کا آخری سانس تک انتظار کرتی ہے۔ اس کا دل ہر ایک دستک کے ساتھ تیزی سے دھڑکتا ہے ، وہ ہر خط کی طرف بے صبری سے دوڑتی ہے اور اس کا چہرہ ہر کال ، ٹیلی فون کی ہر گھنٹی پر کھلتا ہے۔ قدرت کا یہ معجزہ کیا ہے؟ ہم نے ایک بار سوچا ، یہ ماں کی امید ہے ، یہ ماں کی امید ہے ، امید کی یہ طاقت ، امید کی یہ طاقت ، اللہ تعالی نے صرف ماں کو دی ہے۔ ماہی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بچوں کو حوصلہ دیتی ہے، انہیں ہمت دیتی ہے، انہیں طاقت دیتی ہے اور ان کا حوصلہ بلند کرتی ہے، جو انہیں اچھی دوا دیتی ہیں۔ اللہ اور ماں کا بھی عجیب رشتہ ہے۔

    جب اللہ اپنی رحمت کی ضمانت دیتا ہے تو وہ فورن کہتا ہے کہ میں ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہوں۔ اس پر ایک حدیث کا ترجمہ:

    ترجمہ : حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ اور قیدیوں میں ایک عورت تھی جو اپنے بچے کی تلاش میں تھی۔اتنے میں ان کا دیو میں ایک بچہ اس کو ملا اس نے جلدی سے اسے اپنے گلے سے لگایا اور دودھ پلانے لگی۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے کہا نہیں۔ بخدا! جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنا بچہ آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا ہی عورت اپنے بچے پر مہربان ہے اللہ تعالی اپنے بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہے۔

    دوسری طرف ایک ماں کبھی کبھی اپنے بچے کو مایوس اور اداس پاتی ہے۔ تو وہ اسے یہ بھی ہدایت دیتی ہے کہ وہ صرف اللہ سے رابطہ کرے اور صرف اللہ سے مانگے۔ اس دنیا میں شاید ہی کوئی ماں ہو جس نے کہا ہو کہ جس زمین پر اس کے بچے رہتے ہیں وہ تباہ ہو جائے گی۔ وہ ملک فنا ہو جائے گا یا وہ گھر گر جائے گا۔ آپ اس کا ذکر ماں کے سامنے کر سکتے ہیں۔ وہ فورا جھولی پھیلائے گی اور اس جگہ ، یہ جگہ ، یہ شہر ، یہ ملک جہاں اس کے بچے رہتے ہیں ، کے لیے خیر کی دعا کریں گی۔ ایک ماں جس کے چڈور میں سو پیچ ہیں ، جس کے سر پر چھت نہیں اور پاؤں میں جوتے نہیں ، وہ اپنے بچے کے لیے محل کا خواب بھی دیکھتی ہے۔ ایک ماں جس کا بچہ پیدائشی طور پر معذور ہے ، جس کے بچے کے پاس پہننے کے لیے پاجامہ نہیں اور ستر کا احاطہ کرنے والا بھی اپنے بچے کے لیے بادشاہ بننے کی دعا کرتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ڈاکٹر ماؤں نے اپنے کینسر سے متاثرہ بچوں کو تعویذ دیتے ہوئے ، مزاروں کی دھول چاٹتے ہوئے اور ناخواندہ پیروں سے دم گھٹاتے دیکھا ہے۔ یہ کیا ہے ؟ یہ ماں کا عقیدہ ہے۔ ماں کی امید ، ایک امید ، ایک یقین جو اسے مایوس نہیں کرتا ، جو اسے سمجھاتا رہتا ہے ، فطرت کے دامن میں اربوں اربوں معجزے ہیں ، اگر فطرت چاہتی ہے کہ مردے اٹھ بیٹھیں۔

    ٹویٹر ہینڈل: @MeryamWaheed

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔