ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو ہر وقت ماضی کا رونا روتا رہتے ہیں کہ ماضی میں ہماری پاس یہ یہ راحتیں اور نعمتیں تھیں مگر اب نہیں ہیں یہ سوچ کر وہ بہت کڑھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مستقبل کو سوچ کر خوفزدہ ہوتے ہیں انہیں مستقبل سے خدشات ہوتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ ہر نیا روز کوئی نئی آفت لے کر آئے گا لیکن یہ ایک انتہائی فضول رویہ ہے کیونکہ ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ اچھا ہے یا برا اسے ہم چاہ کر بھی تبدیل نہیں کر سکتے لہذا کوئی بھی عقل مند انسان اپنے حال کو ماضی کا نوحہ کرکے ضائع نہیں کرے گا اور اسی طرح جو انسان اپنے مستقبل کو سوچ سوچ کر فکر مند ہوتا ہے وہ بھی اپنے حال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ ان دونوں حالتوں میں مبتلا رہنا کسی بڑی بے وقوفی سے کم نہیں ان دونوں حالتوں میں انسان اپنے حال سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
حال وہ لمحہ ہے جو کہ زندگی میں سب سے اہم ہے دنیا کبھی بھی کسی انسان کے بارے میں یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتی کہ اسکا ماضی کیا تھا یا مستقبل کیا ہوگا وہ صرف حال کو دیکھتی ہے
جیسا کہ ایک ریٹائرڈ افسر لوگ جب اس سے ملیں گے اگر وہ ریٹائر ہونے کے بعد بہت سخت مزاج اور جھگڑالو ہو جائیں تو لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ کتنے بڑے عہدے سے ریٹائرڈ افسر ہیں اور نہ یہ دیکھیں گے کہ مسقبل میں انہوں نے کتنا بڑا بزنس کرنا ہے لوگ صرف اور صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ ایک جھگڑالو انسان ہے
ہمارے ماضی یا مسقبل کی کیفیت کسی بھی انسان کے لیے اہم نہیں ہوتی کوئی بھی شخص یا ادارہ کبھی بھی ہمارے حال کو نظر انداز کرکےمحظ ہمارے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں مدد یا حفاظت فراہم نہیں کرے گا چنانچہ یہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے حال پہ قابو پائیں اور لمحہ موجود میں جینا سیکھیں اپنے حال پہ قابو پا کر اور درست منصوبہ بندی کرکے نہ صرف ہم اپنے مستقبل کو بہترین بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی ماضی میں کی گئی کوتاہیوں کا مداوا بھی احسن طریقے سے کر سکتے ہیں
اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پہ توجہ دی جائے نہ کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کو بار بار دہرایا جائے اور ان پہ پشیمان ہوا جائے ہماری زندگی میں مختلف عوامل ہوتے ہیں اور لاتعداد پہلو اسلیے یہ ضروری نہیں کہ اپنی توجہ کو بس ایک ہی پہلو پہ موقوف کرلیا جائے ماضی سے صرف سیکھنے کا کام لیا جائے اس سے زیادہ ماضی کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اصل زندگی تو حال ہی ہے جو ہم آبھی وقت گزار رہےہیں یہ دن گزرنے کے بعد ہمارا ماضی بن جائے گا اور یہ لمحہ موجود ہم جسطرح سے گزاریں گے ویسا ہی ہمارا مستقبل ہوگا
لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والا شخص اپنی امیدوں اور کامیابیوں کو ان بے شمار چیزوں سے منسلک کرتا ہے جو اس کے لیے بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں وہ اپنے ہر ایک لمحے کو بھرپور جیتا ہے کیونکہ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ ہر دن اک نئی زندگی ہے ویسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر لمحہ ایک نئی زندگی ہے
اسلیے حال پہ یقین رکھنے والا انسان بہت کم پریشان ہوتا ہے اور لمحہ موجود پہ یقین رکھتے ہوئے کامیابی کی راہیں طے کرتا جاتا ہے
لمحہ موجود صرف خوشی ہے اور آپ لوگوں نے یہ سن رکھا ہوگا خوشی کی سمت کوئی راستہ نہیں جاتا کیونکہ خوشی خود ایک راستہ ہے
لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والے اور جینے والے اسے محسوس کرتے ہیں
حُسنِ قدرت
Twitter: @HusnHere
Category: بلاگ
-

لمحہ موجود میں جینا تحریر:حُسنِ قدرت
-

کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے
کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں،ہرشل گبز کشمیر پریمیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں پر پھٹ پڑے –
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سائوتھ افریقن کرکٹر ہرشل گبز نے اپنے ٹوئٹ میں بھارتی سازشیں مضحکہ خیز قرار دے دیں انہوں نے کہا کہ بھارتی دبائو غیر ضروری ہے-

ہرشل گبز نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے کرکٹر نے انکشاف کیا کہ بھارتی بورڈ نے دبائو ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی –ہرشل گبز نے بتایا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-
واضح رہے کہ کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست کو مظفرآباد میں ہی ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔
-

پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری
دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات پیدا ہو رہے ہیں جسکے روکنے اور سدباب کرنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ شجر کاری کی جائے. کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ٹوٹل آبادی کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے. جبکہ ہمارے پاکستان میں یہ 4 سے 5 فیصد ہے. بڑھتی ہوئی گرمی کو روکنے کیلئے بھی شجر کاری نہایت اہم ہے. اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا پروجیکٹ بلین ٹری سونامی بھی کافی زبردست رہا. جسے عالمی طور پر بھی سراہا گیا. ماحولیاتی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ایک مزہبی تنظیم دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطار قادری صاحب نے بھی پودے لگانا کا ذہن دیا. تو انکے ایک ذیلی ادارے عالمی تنظیم فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRF نے بھی ایک اگست کو پاکستان بھر میں 26 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا ہے. جن کا نعرہ یہ ہے کہ پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے. پودے تو ہر کوئی لگا دیتا ہے لیکن اکثریت بعد میں اس کا دیہان نہیں رکھتی جسکے بنا پر وہ ضائع ہو جاتا ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کا ایک وسیع نیٹ ورک پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں موجود ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن اتنی کوشش کر رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ہر علاقے کے لحاظ سے بتا رہی ہے کہ کس علاقے میں کونسی قسم کا پودا موزوں رہے گا. پودا لگانا ثواب کا کام اور صدقہ جاریہ بھی ہے. جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہو رہا ہے.
ہما پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نے ارشاد فرمایا :
"درخت لگانا ایک ایسی نیکی ہے. جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے” .
تو ہمیں چاہیے کہ آئیں اور ایک اگست کو فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کے تحت ہونے والی شجرکاری میں ان کا ساتھ دیں جس سے ہمیں نیکیوں کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا اور ہمارے پیارے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب، خوبصورت اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں. -
لفظوں کی حکومت تحریر : مدثر حسن
لفظ، الفاظ ہمارے خیالات ،سوچ ضرورت کے اظہار کا ذریعہ ہیں ان کے ذریعے انسان دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظ بھی اپنی تائثر رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر حکومت کرتے ہیں
اب آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟
جب ہم کسی سے اچھے الفاظ میں بات کرتے ہیں یا اس کے لیے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں تو وہ اس انسان کو خوشی دیتے ہیں اسی طرح جب ہم برے یا کھردرے لفظ سے بات کرتے ہیں تو وہ انسان کو دکھی کر دیتے ہیں
لفظ انسان کی پہچان کرواتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں ہم ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کا اپنی تربیت کا بتاتے ہیں
آج کل کے لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کو بھی کچھ کہہ دیتے ہیں یا سوچے بغیر کہ ان کے کہے الفاظ سے کسی کی شخصیت ،کسی کی زندگی ،کسی ک کیریئر ،کسی کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے کہنے والا تو کہہ کر چلا جاتا ہے جو ان الفاظ کو اور ان کی وجہ سے بھگتاتا ہے یہ وہ جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری ۔۔۔۔انسان کے الفاظ اس کی وہ طاقت ہیں جس سے وہ کسی کو بھی زندگی بخش سکتا ہے کوئی کتنا بھی دکھی کیوں نہ ہو آپ اس کو اچھے الفاظ میں تسلی دیں گے تو اس کی آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جائے گی
برے لفظ بہت کھردرے اور نوکدار ہوتے ہیں جو اگلے انسان کے دل و دماغ کی دنیا کو تہہ وبالا کر دیتے ہیںاگر آپ مالی طور پر اتنے مظبوط نہیں ہیں تو ذہنی طور پر اتنے مظبوط اور امیر ضرور ہوں کہ کسی کو اپنے بہترین الفاظ سے اس کی تکلیف کم کرسکیں
آج کے اس دور میں جب سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دکھی کرنے میں مصروف ہیں تو کوشش کریں آپ مسیحا بنیں جواپنے الفاظ سے دوسرے کی تکلیف پر مرہم رکھتاہے
خوش کلامی زبان کا صدقہ ہے
خوش کلامی انسان کو صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے
خوش کلامی انسان کی طاقت ہے
خوش کلامی تقاضائے ایمان ہے
اور بطور مسلمان ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ"قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی”
(حدیث مبارکہ )
@MudasirWrittes
-

کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود
” حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، محترم جناب کمشنر صاحب کا کتا گم گیا ہے جس صاحب کو ملے وہ کمشنر آفس پہنچا دے ۔ اگر ہماری کارروائی کے دوران وہ کتا کسی سے برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاے گی” یہ اعلان کل گوجرانوالہ کی سماعتوں سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا پر پہنچا اور پھر ٹویٹر پر #کمشنرکاکتا گم گیا ہیش ٹیگ کے ساتھ چند ایک ٹویٹس نظر آئیں ۔ جانوروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے اور پالتو جانوروں سے محبت تو کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ ابھی چند دن قبل عید قرباں پر چند ایک مناظر نظروں سے گزرے تھے جن میں قربانی کے جانوروں کو پالنے والے یا پھر انھیں خرید کر قربان کرنے والے رو رہے تھے ، مضطرب تھے لیکن زبان پر شکر کے کلمات تھے ۔ خیر یہ تو ایک الگ معاملہ ہے ۔ اصل بات پر واپس آتا ہوں ۔ کمشنر انگریزی باقیات میں سے وہ چیز ہے جو ابھی بھی اپنے آپ کو ضلع کا مالک کل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ خدا ترس ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ضلع پرسکون رہتے ہیں وہ درویش صفت لوگوں کو تنگ کرنا گوارا نہیں کرتے اور مجرموں اور قانون شکنوں کے خلاف زمین تنگ کیے رکھتے ہیں ۔
اب ہمیں یہ تو بات معلوم نہیں کہ کمشنر صاحب نے اعلانات کروانے کا خرچہ بذمہ سرکار کیا ہے یا پھر اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔ یہاں تو سرکاری مال کو اس طرح سے خرچ کیا جاتا ہے جیسے وہ حرام کا مال ہو۔ سرکاری گاڑیوں میں سبزی لانے ، بچوں کو سکول چھوڑنے ، ماسی و پھوپھی کو لانے، سسرال کے کام کرنے اور گھر کا دیگر سودا سلف لانے کا کام بھی کیا جاتا ہے اور سرکاری ڈرائیور کو نجی ڈرائیور سمجھ کر خاتون خانہ کی چاکری پر لگا دیا جاتا ہے ۔ سرکاری مالیوں کو گھر کے لان کی صفائی ستھرائی کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں آگئی ہیں ۔ جناب کمشنر کے کتے کی بات ہورہی تھی ۔ گوجرانوالہ میں روز کسی نہ کسی تھانے میں کسی کی گم شدگی کی درخواست آتی ہوگی ۔ روز کوئی نہ کوئی لاش سرراہ ملتی ہوگی جسے سردخانے پہنچا دیا جاتا ہوگا کہ ورثا کے ملنے تک محفوظ رہ سکے ۔ کمشنر گوجرانوالہ نے اس طرح کے معاملات میں کتنے اعلانات کروانے کا تردد کیا ہوگا ۔انسان کو تو درخواست نمبر سے زیادہ وقعت ہی نہ ملی کیوں کہ دل میں درد ہو تو صاحب بہادر رات کی نیند سے محروم ہو جائیں ۔ رات کمشنر صاحب امید واثق ہے کہ کتے کے نہ ملنے کی وجہ سے نیند سے محروم ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسی غریب ، اجڈ ، گنوار ، جاہل ، لاچار و معذور کی فریاد پر شاید ہی اس طرح سے مضطرب ہوے ہوں کہ سرکاری سرپرستی میں سرکاری اہلکاروں کو کتا ڈھونڈنے پر لگا دیا ۔ کمشنر صاحب کو ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے کیوں کہ ہم ٹھہرے عام شہری جن کی اوقات کمشنر کے کتے سے بھی کم ہے ۔
-

درخت اور جاندار تحریر : سید اویس بن ضیاء
حضور اکرم (ص) فرماتے ہیں کہ "کوئ بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے پھر اس میں سے پرند، انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے”
درخت اللہ تعالی کی عطاء کردہ بیشمار نعمتوں میں سے خاص نعمت ہے۔ انسانوں سے لیکر چیونٹیوں،پرندے اور جانور سب کی زندگیاں درختوں سے جڑی ہیں۔ سیلاب اور قحط سے بچاؤ، پانی کی مسلسل دستیابی، لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ، زراعت کی بہتری اور انسانی صحت کی بہتری، آکسیجن کی فراہمی، گرمی کی شدت میں کمی، مٹی میں زرخیزی، ماحولیاتی توازن اور سیاحت کا فروغ جنگلات کے اہم فوائد ہیں
گزشتہ کئ سالوں سے جنگلات میں نمایاں کمی آئی ہے جسکی وجوہات میں سے ایک وجہ جہاں جنگلات ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کا بہتر روزگار نا ہونا ہے، لوگ درخت کاٹ گھروں میں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں اور بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ حکومت وقت کو وہاں ملازمت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہیے تاکہ لوگ جنگلات کا خاتمہ نا کریں دوسری اور سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے جب بھی سرکاری سطح پر کوئ منصوبے تیار کئے جاتے ہیں نا تو جگہ کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ یہاں جنگلات کا کتنا نقصان ہوگا نا یہ سوچا جاتا ہے کہ اسکے متبادل درخت لگا کر انکی کمی پوری جائے گی لہذا اگر کہیں بھی کوئ بھی سڑک بنے یا کوئی بھی سرکاری عمارت سب سے پہلے درختوں کو مد نظر رکھنا لازمی جزو ہونا چاہیے
پچھلی کئ حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے درختوں جیسے بڑے مسئلے پر کبھی کسی کا دھیان نہیں گیا،
پاکستان میں جنگلات پر تحقیق کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان میں 90 کی دہائ میں تقریباً 36 لاکھ ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو کہ دو ہزار کی دہائ میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک رہ گیا ہے۔ پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے اور اگر جنگلات کے اس کٹاؤ کو نا روکا گیا تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کےلئے یہ بہت بڑا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
جنگلات کی بڑھوتری کےلئے موجودہ حکومت کی حکمت عملی قابل ستائش ہے، عمران خان کے کامیاب بلین ٹری سونامی کی وجہ سے ملک میں درختوں کی شرح میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے جوکہ خوش آئند ہے، پی ٹی آئ حکومت کے اس احسن اقدام کو نا صرف پاکستان میں سراہا گیا ہے بلکہ عالمی دنیا بھی اسکی کافی حوصلی افزائ کی گئ ہے،
بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبے کی وجہ سے نوجوان نسل میں پھر سے درخت لگانے کی لگن پیدا ہوگئ ہے جوکہ اس کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان میں ترقی کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے جنگلات کے تحفظ پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اللہ تعالٰی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی عطاء فرمائے آمین۔
@SyedAwais_
-

غریب عوام اور امیرسیاستدان تحریر : وقاص رضوی جٹ
پاکستان کی تاریخ کاالمیہ رہاہے کہ قیام پاکستان کےبعد جیسےہی بانیان پاکستان اس دنیاسےرخصت ہوۓتو ملک کی باگ ڈور چندامیرزادوں کےہاتھوں میں چلی گٸ۔ پنجاب کےبڑےبڑےجاگیردار ٗ سندھ کے وڈیرے ٗ بلوچستان کے سردار اور خیبرپختونخواہ کے قباٸلی سردار سیاست پر مکمل قابض ہوگۓ۔ ملک میں سیاست کو اس انداز میں مروج کیاگیاکہ کوٸی غریب اور مڈل کلاس سیاست میں آنےکاسوچ بھی نا سکے۔1970 کی دہاٸی میں جو سیاسی جماعتیں وجود میں آٸیں ان کےسربراہ انہیں جاگیرداروں میں سےتھے۔ بعدازاں موروثی سیاست نےایسی جڑیں مضبوط کیں کہ باپ کےبعد بیٹا پھر پوتااور یہ سلسلہ چل نکلا۔اس کی واضح مثال پیپلزپارٹی کی ہے جس کی بنیاد سندھ کے زمیندار ذولفقار بھٹو نے رکھی۔اسکےبعد پارٹی کی باگ ڈور اسکی بیکم نصرت بھٹو کےہاتھ میں چلی گٸ ۔ بعدازاں انکی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی پہ قبضہ کیا۔ بینظیر کی وفات کےبعد اس کےشوہرآصف زرداری چٸیرمین بنے۔اب انکے بیٹے بلاول بھٹو چٸیرمین ہیں۔ اور جب کبھی بلاول کسی جلسےمیں شرکت نہ کرسکیں تو اس موقع پہ آصفہ بھٹو کو بھیج دیاجاتاہے۔ اور یہی حال ملک کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا ہے جس کا صدر پہلےنوازشریف تھاجب وہ جلاوطن ہواتواسکی بیگم مرحومہ کلثوم نوازٗ پھر اب جب نوازشریف جلاوطن ہےتواسکی بیٹی مریم نواز پارٹی چلارہی ہیں۔ایسا کرنا دراصل پاکستان اور اسکے انتہاٸی قابل اور پڑھےلکھےنوجوانوں کی توہین ہے۔ کیا پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سےکوٸی اس قابل نہیں جو شریف اور زرداری خاندان کی جگہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی چلاسکے؟یہ امیر زادے باقی عوام کو کیڑےمکوڑےسمجھتےہیں۔عوام کےٹیکس کےپیسےسےعیاشیاں کرتےہیں۔ پھر پارٹی ٹکٹ بھی ایسےلوگوں کودیتےہیں جو انکو کروڑوں روپےٹکٹ کےعوض دیتےہیں۔ پارٹی ٹکٹ ایسےلوگوں کی دی جاتیں جو بڑےبڑےتاجر ٗ ٗ جاگیردار ٗ وڈیرے ٗ سردار اور ریٹاٸرڈ اور بیوروکریٹس ہوتےہیں۔ جن کےہاتھ کرپشن سےرنگےہوتےہیں۔انہیں غریب کےمساٸل کا زرہ برابر بھی ادراک نہیں ہوتا۔
ساری زندگی ایٸرکنڈیشنڈ گھر اور مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے بلاول بھٹو کو کیاپتہ کہ تھر کے بچے بھوک پیاس سے مررہےہیں ۔ راٸونڈ کے محلات میں رہنے والی اور کروڑوں کی سرجری مریم نواز کو کیا پتہ کہ ایک غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونےسے شادی کےانتظار میں بوڑھی ہورہی ہے۔
تین سو کنال کے گھر میں رہنے والے عمران خان کو ان بےگھر افراد کے دکھ کاکیاپتہ جن کےگھر تجاوزات کے نام پر مسمار کردیےگۓاور وہ سر چھپانےکیلیےدر بدر کی ٹھوکریں کھارہےہیں۔ اربوں روپے کے بینک بیلنس رکھنے والے اسد عمر کو ا باپ کےدکھ کاکیا پتہ کہ لاک ڈون کی وجہ جس کی دہاڑی نہ لگنےسےاسکےبچےبھوکے سوتےرہےہوں۔سرکاری خرچ پر حج کرنےوالے پیرنورالحق قادری کو اس 70 سالہ بوڑھی کےدکھ کاکیااحساس نے حج کرنےکیلیے پاٸی پاٸی جمع کرکے 3لاکھ جوڑےتھےکہ حج مہنگا ہوکر 8لاکھ تک پہنچ گیا۔
ان امیر سیاستدانوں کوغریبوں کا نہ احساس پہلےکبھی تھانہ اب ہے۔اس لیےغریبوں کو اب خود اپنےلیےاوراپنی آٸندہ آنیوالی نسلوں کیلیے آگےبڑھناچاہیےاور سٹیٹس کاخاتمہ کرناچاہیے۔ -

پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ تحریر: ثاقب محمود
وطن عزیز میں ٹریفک آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ جن کا حل بہت ضروری ہے اگر ان مسائل کا فوری حل کے لئے پلان ترتیب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں بہت سنگین
مسائل اور حوادث جنم لے سکتے ہیں ۔ اب جبکہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا چاہئے جس میں سب سے پہلے ٹریفک کے نظام کو بھی اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو سب سے پہلے آتے ہیں ہم گاڑیوں کے رجسٹریشن کے نظام کی طرف جس کا اپڈیٹ ہونا بہت ضروری ہے ۔مثلا” گاڑی کی رجسٹریشن بک روٹ پرمٹ وغیرہ کو ایک جدید سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے جیسے سعودی عرب میں مرور کا سسٹم ہے۔ اگر آپ گاڑی ڈرائیور کو دینا چاہتے ہیں تو بھی آنلائن اس کے آئی ڈی کارڈ کے اوپر یعنی اقامے کے اوپر ہوگی اس کا یے فائدہ ہوگا کے کوئی بھی ٹریفک چالان ہوگا تو وہ ڈائریکٹ اسی بندے کے نام جائے گا جو گاڑی کو استعمال کر رہا ہوگا۔چاہے رینٹ کی گاڑی بھی کوئی رینٹ پے لے گا تو وہ آنلائن مستخدم یعنی استعمال کرنے والے کے نام ہوگی اس کے دو فائدے ایک تو جرائم پیشہ افراد رینٹ کی گاڑی استعمال نہیں کر سکیں گے اور دوسرا حکومت کو پتا ہوگا سسٹم میں ڈیٹیل ہونگی کس نے کتنا کاروبار کیا اور ساتھ میں ٹیکس کے سسٹم سے بھی منسلک ہو جہاں ڈائریکٹ انکم ٹیکس کٹ جائے۔گاڑی کا رجسٹریشن سسٹم صرف ایک کارڈ پر ہو جو کے مالک تبدیل ہونے کے ساتھ تبدیل ہو جائے ۔اس کے علاوہ جو لوگ اوپن لیٹر پر بغیر نام کے گاڑیاں چلا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گاڑی نام پر کروانا اولین شرط ہونی چاہیے ۔ایک ہی کارڈ پر لکھا ہو کے گاڑی پبلک سروس ہے یا پرائیویٹ بجائے اس کے کے دو بڑی بڑی بکس اٹھائے پھرے ٹوکن پاسنگ پرمٹ الگ الگ کی بجائے ایک ہی کارڈ پر ہونی چاہیے پاسنگ کا سٹکر شیشے پر آویزاں ہو تاکہ آفیسر دور سے ہی دیکھ پائے کے گاڑی فٹنس کلئیر ہے یا نہیں سب گا ڑیوں کو ڈیجیٹل کرنے سے فائدہ یے ہوگا کے ٹریفک پولیس اگر کسی کا ای چالان کرے گا تو ڈائریکٹ اس کے موبائل پر میسج جائے گا بجائے اس کے کہ ٹریفک پولیس والے روکیں گھنٹوں بحث ہو یا رشوت لے کر چھوڑ دی جائے یا کسی رشتے دار افسر سے سفارش کروا کر چھوٹ جانے والا کلچر ختم ہو جائے گا ٹریفک سارجنٹ بغیر بحث کیے ای چالان کرے گا جو استعمال کنندہ کے کھاتے میں ڈائریکٹ جائے گا ۔گاڑی
کےنمبر پر چالان ہوگا۔اس کے بعد انشورنس بہت ضروری ہے جو کہ تصادم ہونے کے بعد گاڑی والے دونوں فریقین میں صلح کروائے اور روڈ پر جھگڑا ختم ہو گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد تیری غلطی اور میری غلطی والا کام بھی ختم ہو اور طاقتور کا کمزور پر دھونس جمانا بھی ختم ہو ۔روڈ پر آٹومیٹک کیمراز ہوں کھلی جگہوں پر جو کے اوور سپیڈ گاڑیوں کے فوری آٹو چالان کیپچر کریں۔ اس کے علاوہ تمام مین سگنلز پر آٹو میٹک کیمراز ہونے ضروری ہیں جس سے ٹریفک وارڈن کی کھپت میں کمی ہوگی اور اچھا ریونیو اکھٹا ہوگا اور تقریبا” ایک سال کے اندر ٹریفک جرائم میں کمی واقع ہوگی ۔ اور حادثات ٹریفک جام اور دیگر مسائل میں نمایاں کمی نظر آئے گی ۔انشورنس کمپنیز میں اچھے خاصے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے ۔عوام میں شعور پیدا ہوگا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی ۔
لیکن اس سب کے لئے ضروری ہے ایک مکمل میکنزم جو ٹریفک پولیس انشورنس کمپنیز اور دیگر
اداروں کے مدد سے تیار ہو ۔
خصوصا” ڈیجیٹل کیمراز اور فاسٹ نیٹ ورک موبائل ڈیوائسز کی ایک جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ہم عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹریفک نظام کو دیکھتے ہوئے اپنے ٹریفک کے نظام میں بہتری لا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ چھوٹی دستی ٹرانسپورٹ جیسا کے موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی وغیرہ جو کے اکثر انتہائی خطرناک اور مہلک حادثات کا باعث بنتے ہیں ۔ان کا چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے جن کی حد سے بڑھی تعداد بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ڈبل کو چھوڑیں ٹرپل سواری اور بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائکل چلاتے نظر آتے ہیں جو کے کم عمری اور ناتجربہ کاری اور تیز رفتاری کے باعث کثیر تعداد میں حوادث کا باعث بنتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کے کم عمر بچوں کے بائک چلانے پر مکمل پابندی عائد کرے اور بغیر لائسنس کے ڈرائیو پر بھی مکمل پابندی ہو ۔جو ماں باپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل دیں ان کے خلاف بھی سخت کاروائی اور موٹر سائیکل ضبط ہونا چاہیے ۔
حکومت کو پتا ہو کے شہر میں
کتنی ٹرانسپورٹ کی گنجائش ہے اور کتنی تعداد میں موجود ہے ۔
حد سے زیادہ کوئی بھی چیز ہوگی تو وہ گزرتے وقت کے ساتھ مشکلات پیدا کرے گی۔ آپ راولپنڈی یا لاہور کے کسی چوک میں چلے جائیں آپ کو رکشوں اور موٹر سائیکل کی بھرمار نظر آئے گی اگر آپ غور کریں گے تو ٹریفک کے جنگل میں پھنسے آپ کا سر دکھ جائے گا ۔پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ میٹر پر بننا چاہئے یا کوئی معقول نظام ہو تاکہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ سے سہی معنوں میں مستفید ہو سکے ۔
اللہ ہماری معاشرے میں سدھار
کے لئے اس چھوٹی سی تحریر کو پر اثر بنائے اور اس کے فوائد کے ثمر سے وطن عزیز کو نوازے آمین ۔@Ssatti_
-
زمانہ نازک ہے تحریر: آفاق حسین خان
زمانہ نازک ہے” یہ فقرہ غالبا ہر صدی اور دہائی میں اپنے عروج پر رہا ہے- ہم نے اپنے بزرگوں سے اور بڑوں سے ہمیشہ یہی کہتے سنا- ہرعمرمیں ہرانسان یہ فقرہ دہراتا رہا- ہو سکتا ہے ہردورمیں زمانہ نازک رہا ہوں- یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہردورکا ہر انسان فرشتہ ہو اور زمانہ ان کے لئے خراب ہو- اس دنیا میں تقریبا سات ارب لوگ ہیں- سات ارب کی اس دنیاوی آبادی میں تقریبا ہزاروں کی تعداد میں ثقافتی روآیآت پائی جاتی ہیں- چھ ہزارسے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تویہاں تقریبا اکیس کروڑ لوگ رہتے ہیں- سترسے زائد مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں- مختلف علاقے میں مختلف زبانیں اور مختلف روایات پائی جاتی ہی- جیسے ایک گھر میں رہنے والے اورایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کی سوچ عادت ذہنیت اور پیشہ مختلف ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر جگہ کی ثقافت اور روایات مختلف ہیں- ہرانسان دوسرے انسان سے مختلف ہے- ہر انسان کی سوچ , طرز زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے- یہاں تک کہ اگرایک گھرمیں رہنے والے سب بہن بھائیوں کے کمرے دیکھنے کا اتفاق ہو توسب کمروں میں آپ کو مختلف ماحول دیکھنے کو ملے گا- ہرانسان خود میں ایک ثقافت ہے لیکن ظاہر ہے بہت سی چیزیں انسان پیدا ہونے کے بعد اپنے بڑوں سے, استاد سے اورارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے- لیکن ان سب سے بڑھ کر بہت سی صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں جو کہ پیدائشی کہلاتی ہیں مثلا بہت سے لوگ قابل دماغ ہوتے ہیں بہت سے لوگ دلیر ہوتے ہیں, بہت سے لوگ محنتی ہوتے ہیں اور یہ سب صلاحیتیں انسان میں پیدائشی پائی جاتی ہے- ہرانسان کا زمانے کودیکھنے, سوچنے اورسمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے- زمانہ نازک کیوں ہے ایسی کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہرعمرکے شخص کی زبان پر اکثریہ جملے سننے کو ملتے ہیں کیا واقعی زمانہ نازک ہے یا یہ محض ایک سنی سنائی بات ہے –
آج کے جدید دورمیں سوشل میڈیا ہرانسان کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اورہر شخص اس پر مصروف دکھائی دیتا ہے- زمانہ روزبروزبدل رہا ہے ہرچھوٹی سے چھوٹی بات بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے- ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اورایک برا, بلکل اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں وہاں چند نقصانات بھی پائے جاتے ہیں- سوشل میڈیا بالاخرکیا چیزہے جواس ہرانسان اپنا قیمتی وقت دینے کو تیارہے- اس میں ایسا کیا ہے جوہرشخص اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کراس پروقت گزارتا ہے- میرے نزدیک سوشل میڈیا کے تین طرزہیں- کچھ لوگ اس کوصرف انٹرٹینمنٹ کے لیےاستعمال کرتے ہیں ایک پرانا محاورہ ہے “نیکی کر دریا میں ڈال” جس کو اگرہم آج کے دورمیں موڈیفائیڈ کریں تو بن جائے گا جو بھی کر سوشل میڈیا پر ڈال- سوشل میڈیا کے دوسرے پہلوکی بات کی جائے جو سب سے بہترین پہلو ہے تو وہ ہے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال جبکہ سوشل میڈیا کا تیسرا روخ دیکھا جائے تواس میں کچھ عناصرایسے ہیں جوسوشل کا منفی استعمال کرتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے –
چندہ دہائیاں پہلے کسی کے گھرمیں ٹیلی ویژن کا ہونا ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی یہ زیادہ پرانی بات نہیں محض تیس چالیس سال پرانی بات ہے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زمانے میں انٹرٹینمنٹ نہیں تھی- بالکل تھی لوگ اپنے فارغ وقت میں پارک وغیرہ یا سینما گھروں کا رخ کرتے تھے- لیکن آج کل کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سنیما موجود ہے جس کو آپ اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں اورانٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں- پرانے وقت میں لوگ خود مطالعہ کرنا پسند کرتے تھے جس میں اخبارات, کتابیں اور میگزین شامل ہیں لیکن آج کل بڑی تعداد میں لوگ سنی سنائی بات پرعمل کرلیتے ہیں اورخود سے اس کہانی یا آرٹیکل کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے- سوشل میڈیا آج بہت بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے جہاں ہر کوئی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہارکرسکتا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند عناصرایسے ہیں جو غلط انفارمیشن کو پرموٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے چونکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں اسی وجہ سے ایسے غلط مواد کی روک تھام کرنا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے- دوسری طرف اگردیکھا جائے توسوشل میڈیا کے ان گنت فوائد بھی ہیں- ہرعام شہری اپنے مسائل یا اپنی رائے کا اظہار باآسانی کرسکتا ہے اورلوگوں تک پہنچا سکتا ہے- بہت سے لوگوں کو سوشل میڈیا پرنیوکسٹمرملتے ہیں جس کی بدولت ان کا کاروباردن دگنی رات چگنی ترقی کرتا- سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک بہترین سہولت ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے –Twitter: @AfaqHussainKhan
-

حکمران اورعدل و انصاف تحریر: مطاہر مشتاق
محترم قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ
پاکستان کا نظام انصاف روزِ اول سے ہی بازارِ حُسن میں کھڑکی کھولے بیٹھی کسی بِکاؤ حسینہ کا سا ہے اور اسکے بعض سربراہان عین نائقہ کی سی عکاسی کرتے ہوئے اپنی آخری آرام گاہوں کو جہنم بنا کر اسمیں غریق ہو چکے ہیں،
اس نظام نے محمد علی جناح کے بعد آج تک کوئی ایسا انسان حکمران نہیں بننے دیا جو کہ صرف غریبوں کو اوپر اٹھانے،قوم کو یکجاء کرکے ملک کو مستحکم کرنے میں سنجیدہ ہو،
اس ملک کا المیہ یہ ہے ایسے قاضی جنہوں نے آئین و قانون پر سختی سے عمل کیا اور کروایا وہ تعداد میں اتنے کم ہیں کہ انکو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی گِنا جا سکتا ہے،
کیونکہ جہاں اشرافیہ اقتدار کی مالک ہو وہاں انصاف ہونا ناممکن ہے جہاں امیر کو غریب پر فوقیت ہو،طاقتور کے لیے انصاف کا ترازو جھول کھائے، غریب اور بے سہارا کو کوئی سہارا دینے والا انصاف دینے والا نا ہو،اس ملک میں جینا محال ہو جاتا ہے،
جیسا کہ ماضی میں اس ملک کو ایسے ایسے نگینے بھی میسر آئے ہیں کہ جنکا نام لیتے وقت باضابطہ چہروں پر کوفت لانی پڑتی ہے،
کہنے کو تو سربراہ ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے زیارت میں موجود اپنی آخری سانسیں پوری کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کو چالاک بڈھے جیسے القابات سے نوازا،
مادرِ ملت فاطمہ جناح تک کو تادمِ مرگ ازیت پہنچائی،
اس ُملک کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ سے دو لخت کردیا،
سرعام منشیات اور اسلحہ کلچر کی بھرمار کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول دیا،
پھر ایسے کرپٹ وطن فروش بھی اس مُلک نے جھیلے جنہوں نے روئے زمین پر شائد ہی کوئی جگہ ہو جہاں اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر اپنی دولتوں کے انبار نا لگائے ہوں،
شاید وہ وقت اب دوبارہ نا آئے جیسا کہ ایک آمر کو اللہ نے موقع دیا تھا اس مُلک کی تقدیر سنوار کر ایسے عناصر سے ملک و قوم کی مستقل جان چھڑا دے مگر اس نے بھی اپنے اقتدار کی حوس کو پورا کرنے کی خاطر این آر او جیسے مکروہ حربے کے زریعے انکو مزید اس ملک کو لوٹنے کے سنہری موقع دئیے،
جسکا خمیازہ اس ُملک و قوم نے اربوں ڈالر کے قرضے،دہشت گردی،انسانی حقوق کی خلاف ورزی،معصوم بچوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے کیسز،مہنگائی،بے روزگاری،کرپشن،و دیگر معاشرتی جرائم کی صورت بُھگتا،اور آج بھی بھگت رہے ہیں،
موجودوہ حکومت اپنے تبدیلی کے نعرے کو لیکر تین سال سے تگ و دو میں ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی گندگی اور غلاظت قرضے کو سمیٹ کر ختم کر سکے،مگر اس دوران بھی مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے کہ جس نے غریب کا سانس لینا محال کر رکھاہے،
اس میں بعید نہیں کہ اس میں ساٹھ فیصد پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بھی ہے،مگر اس حکومت سے بیورو کریسی آجتک مکمل کنٹرول میں نہیں آئی،جو کہ آج بھی ماضی کی حکومتوں سے ہمدردی اور اپنی کرپشن کا مان رکھتے ہوئے عہدو و پیماں نبھانے میں مصروف ہے،
اگر حکومت کرپٹ لوگوں کو این آر او دینے سے گریزاں ہے تو وہ عدالتوں سے ریلف لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،
یہاں آکر پھر نظام انصاف میں ایسے سقم مجرم کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے ثابت ہوتے ہیں جنکی بنا پر وہ دندناتے ہوئے پھر باھر نکل آتے ہیں،
ناجانے کب اس ملک کو ایسے قاضی اور ایسے حکمران میسر ہونگے جنکا مقصد اس ُملک سے وفاداری ہوگا،
ہماری یہ دُعا ہے کہ اللہ اس ملک کو اس کے اداروں کو ہمیشہ امان میں رکھے،@iamMutahir4