Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    بچے سب کو اچھے لگتے ہیں، والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے انہیں اچھی تعلیم دلاتے ہیں،اور ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ اچھے شہری اور اچھے انسان بن سکیں، لیکن بدقسمتی سے دنیا میں بعض بچوں کو غریبی اور مجبوری کی وجہ سے تعلیم کے بجائے محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے ۔۔ ۔۔
    یہ بچے سارا دن سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں، بہت سے معصوم اور پھول جیسے بچے گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے، بسکٹ اور ٹافیاں بیچتے ہوئے، اخبار اور پھولوں کے ہار فروخت کرتے نظر آتے ہیں، ان کی عمریں بھی عموماً کم ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔
    بعض والدین بھی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کو کام پہ لگا دیتے ہیں، غربت اور تنگدستی کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ان سے محنت مشقت کروانے پہ مجبور ہوتے ہیں، تاکہ وہ بھی کچھ کما کر گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر سکیں، ان میں ایسے بچے بھی ہیں جو ماں باپ کے سائے سے محروم ہوتے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    یہ محنت کش معصوم بچے تعلیم سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور اور زندگی کے آرام و آسائش سے بے نیاز صبح سے رات تک اپنے کام میں مگن رہتے ہیں، انہیں تو زندگی کی سہولتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا، یہ ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں، لیکن وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    بچوں کو مستقبل کے معمار کہا جاتا ہے، لیکن کیا تعلیم سے محروم یہ محنت کش بچے ہمارے ملک کا روشن مستقبل اور معمار بن سکتے ہیں ؟ محنت مزدوری کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن معصوم بچوں سے مشقت لینا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 11 میں کہا گیا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ فیکٹری، دکان، ہوٹلز، میں ملازمت نہیں کر سکتا، لیکں اس کے باوجود چودہ سال سے کم عمر کے بچے مختلف ہوٹلوں، کارخانوں میں کام کرتے نظر آئیں گے، اکثر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پہ بھی رکھا جاتا ہے جہاں ان کی عمر سے بھی بڑے کام کروائے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔۔۔
    بطور معاشرہ ہم اتنے پستی میں گھر چکے ہیں کہ ان معصوم بچوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک دیکھنے میں آتا ہے،جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ شرم بات ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی یہ زمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کریں اور جہاں کہیں انہیں ظلم کا شکار ہوتا دیکھیں ہر ممکن طور پہ ان کی مدد اور داد رسی کریں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں نظر آنے والے محنت کش بچوں کو روزانہ کی بنیاد پہ کم سے کم دو گھنٹے نکال کر پڑھانے کا اہتمام کریں، یقیناً یہ بچے پڑھ لکھ کر مستقبل کے معماروں میں شامل ہوں گے۔۔۔
    محنت کش بچے قابلِ تعریف اور قابلِ توجہ ہوتے ہیں، زیادہ نہیں تو اپنے گھر کے ملازم بچوں کو ہی تعلیم دینا شروع کریں، ہو سکتا ہے کہ کل کو یہ بچے اس قابل ہو جائیں کہ دوسرے بے سہارا بچوں کا سہارا بن جائیں، اس طرح علم کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں گے۔۔۔
    آئیں بے سہاروں کا سہارا بنیں یہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور اللّٰہ کی خوشنودی کا باعث بھی، آئیے ہم اور آپ بھی اس کا حصہ بنیں
    ” وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں گم ہیں،
    جنہیں تتلی پکڑنا تھی، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

    ‎@Waji_12

  • پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے

    پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے

    حصہ اول
    پاکستان کو الله نے خوبصورت رنگوں سے مزین کیا ہے چاروں موسم پاکستان کے پاس تو پہاڑ ریگستان اور میدان اسکے پاس۔ ہر علاقے کی اپنی خوبصورتی اور اہمیت۔ پاکستان کا جتنا حسن میدانوں اور ریگستانوں میں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سرسبز پہاڑوں میں ہے۔ ملکہ کوہسار مری چلے جائیں گلیات چلے جائیں ناران کاغان چلے جائیں یا سوات ہر جگہ خوبصورتی ہی خوبصورتی بکھری ہوئی ہے۔ کہیں درختوں کے جھنڈ ہیں تو کہیں بہتی آبشاریں ان آبشاروں کا ٹھنڈا پانی جسطرح سکون دیتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ جب بظاہر سخت پہاڑوں کے بیچ سے جو آبشار پھوٹ رہی ہوتی ہے بے ساختہ زبان پر الله کی بڑائی آ جاتی ہے۔ بیشک کس خوبصورتی سے سجایا ہے ان پہاڑوں کو۔ بہت سے علاقے زمین پر جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس جنت نظیر وادیوں تک پہنچانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں قابل زکر ہیں ان علاقوں میں آرام دہ سڑکیں بنانا روڈ بنانا کوئی مذاق یا کھیل نہیں ہے۔ ان علاقوں میں ویسے تو برفباری کے موسم میں بھی سیاح جاتے ہیں اور اس موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن گرمیوں میں گرمی سے بچنے کے لیے بہت بڑی تعداد نا صرف بیرونی ممالک سے بلکہ پاکستان کے اندر سے جاتی ہے۔ ان پہاڑوں آبشاروں اور ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہوتی ہے اچھی یادیں جمع کرتی ہے اور لوٹ آتی ہے۔ گوکہ ان علاقوں کے مقامی لوگوں کی زندگی کافی مشکل ہے لیکن آنے والوں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی خوبی ہے جو وہاں کے لوگوں میں دیکھی ہے۔ مری گلیات جانے کے بعد اس دفعہ ہم لوگوں نے بھی ناران کاغان یا سوات جانے کاپروگرام بنایا۔ ادھی فیملی ناران کاغان کے لیے جانا چاہتی تھی اور آدھی میرے سمیت سوات۔ سوات جانے سے گھبرانے والوں کا خیال تھا کہ حالات بظاہر ٹھیک ہیں لیکن فیملیز کے لیے ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں جبکہ ہم جو پرو پی ٹی آئی تھے یہ کہتے تھے کہ اب حالات ٹھیک ہیں اور ہم سوات ہی جائیں گے۔

    یوں قرعہ فال سوات کے لیے یعنی ہماری خواہش کے لیے نکلا ہم تقریباً 25 افراد جن میں 10 بچے بھی شامل تھے 15 جولائی 2021 کو سوات کے لیے نکلے۔ کچھ دیر بھیرہ انٹر چینج پر ریسٹ کے بعد تقریباً 12بجے سوات کے لیے روانہ ہوگئے راستے میں کہیں بھی نا رکتے ہوئے ہم بذریعہ موٹر ویے سوات پہنچے۔ سچ پوچھیں تو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ضد کی تو ہے اگر خدانخواستہ کچھ مسلہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔ لیکن سوات سے گزرتے ہوئے خوشگوار حیرت ہوئی جب تعلیمی ادارے دیکھے۔ لڑکیوں کے سکول دیکھے کالجز یونیورسٹی کا کیمپس دیکھا۔ میڈیکل کالج دیکھا۔ نارمل زندگی دیکھی سکون اترا دل و دماغ میں صبح 6 بجے تک ہم مینگورہ پہنچ گئے تھے۔ اپنے ہوٹل گئے جہاں کی بکنک کروائی ہوئی تھی تھوڑی دیر ارام کیا پھر ناشتے کے لیے نکلے۔ قریب ہی سے ناشتہ کیا اور حیرانکی کے ساتھ بل ادا کیا کیونکہ انتہائی مناسب ریٹ پر ناشتہ کیا تھا۔ مری والی مہنگائی نہیں تھی۔ مینگورہ میں گرمی بہت تھی ویسے جیسے سرگودھا اور باقی شہروں میں ہوتی ہے۔ لیکن وہ دن ہم نے مینگورہ میں ہی گزارہ پارک گٰے ٹکٹس لیے اور داخل ہوگئے ویسے وہ فیملی پارک تھا لیکن ماحول اتنا مناسب نہیں لگا۔ لوگوں کا گھور کے دیکھنا تھوڑا عجیب لگا لیکن شاید اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ مقامی خواتین اور لڑکیاں مکمل پردہ میں تھیں اور ہم لوگ ایسے نہیں تھے۔

    بچوں نے جھولے لیے بہت انجوائے کیا اور ہم لوگوں نے بھی۔ بس ماحول کی وجہ سے تھوڑی کنفیوژن رہی اگر وہ بھی بہتر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔ وہاں سے نکل کر جھیل پر گئے تو گرمی کی شدت کا احساس کم ہوا وہاں بچوں بڑوں سب نے خوب انجوائے کیا۔ کچھ کھانے پینے والی چیزیں پاس تھیں بوتلیں لیں اور وہاں کافی وقت گزارہ۔ کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ سب کچھ بہترین تھا۔ کافی وقت گزرنے پر پھر بھوک محسوس ہوئی اور تھکن بھی تو واپس ہوٹل آئے۔ راستے میں سب سے مزے کا واقعہ ہوا ہم لوگ تھوڑا تھک گئے تھے تو سوچا کوئی شارٹ کٹ مل جائے واپسی کے لیے۔ ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ کسی عام ادمی سے نہیں پوچھتے بلکہ پولیس والے سے پوچجتے ہیں وہاں ایک بہت خوبصورت لمبا چوڑا پولیس والا کھڑا تھا اسکو بلایا اور پوچھا اب خیال یہ تھا کہ شاید پانچ سو ہزار لے کر ہمیں کسی پتلی گلی کا بتا دےگا جو سیدھی ہوٹل تک جاتی ہوگی لیکن اس نے کہا ” زیادہ تیز بننے کی کوشش نا کرو تہذیب کے ساتھ باہرو باہر نکل کر ہوٹل جاؤ بڑی گاڑی شہر کے اندر سے نہیں جا سکتی ” یوں پھر ہم باہر و باہر سے ہی ہوٹل تک پہنچے۔تھوڑا فریش ہوئے اور پھر کھانے کے لیے چلے گئے۔ وہاں کھانا کھایا اور واپس ہوٹل آگئے مینگورہ میں سب سے متاثر کن چیز ریٹس تھے اور مقدار۔ مطلب مقدار اور معیار پر تو سمجھوتہ نہیں تھا لیکن ریٹ بھی بہت مناسب تھا اور لوگ بہت مہمان نواز تھے۔ کھانے کے بعد واپس ہوٹل اگئے تاکہ اگلے دن نئے سفر کالام کے لیے تازہ دم ہوکر سفر کے قابل ہوسکیں۔۔
    جاری
    @irumrae

  • پرانے  اور  نئے  طالبان  میں  کیا  فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    دشمن انتہائی گندی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ اور پاکستان پر گھٹیا اٹیک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کیا سوچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے طالبان کو کنٹرول کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہے جبکہ پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر کیا دنیا جس طرح شور مچا رہی ہے کیا واقعی پاکستان افغانستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر ہے تو کیسے۔۔
    امریکہ نے نعرہ لگایا کہ اس کی افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پیچیدہ مسائل پر دھیان نہیں دے پا رہا جو اسے دینا چاہیے۔ اور بہانہ بناتے ہوئے امریکہ باہر نکل گیا لیکن اس کے جھٹکے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بڑی شدت سے محسوس ہونے لگے ہیں۔
    جہاں یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ طالبان اقتدار پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے تیار ہیں وہیں بائیڈن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کا پروسی اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کا افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طالبان اور القائدہ سے تعلقات ہیں۔ جب اسامہ بن لادن کے خلاف اآپریشن کیا گیا تو بائیڈن اس وقت اوبامہ کے نائب صدر تھے اور اس اآپریشن کو سکرین پر مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن اس اآپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اطلاع پہلے ہی لیک ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ طالبان اور ایسے عناصر کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ ان کے زریعے پاکستان افغان حکومت کو کمزور کرے جو پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی نمبر ون اتحادی ہے۔ جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اور وقت تھا جب پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب یہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پاکستان ا س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لاکھوں لوگ یہاں پر پناہ لے چکے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سرحدیں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تشدد پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی طرف بھی دہشت گرد عناصر سر اٹھاتے ہیں۔

    امریکہ کی افغانستان میں جنگ میں اگر ایک لاکھ دس ہزار افغانی شہید ہوئے ہیں تو پاکستان نے چھیاسی ہزار لوگوں کی قربانی دی ہے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے دشمنوں کو افغانستان میں کھلے عام ہم پر حملہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،ابھی تک بائیڈن کی عمران خان سے کوششوں کے باوجود فون پر بات نہ کرنا یہ ظاہر کرتی ہے کہ بائیڈن پاکستان پر ابھی بھی اڈے حاصل کرنے کے لیے پریشر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور برطانیہ، سعودی عرب، عرب امارات کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی صلح کی بات کی گئی جس میں ماضی کی تلخیوں کو دفنانے کی بھی بات ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کو پتا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اس کے ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے اثرو رسوخ کو چیلنج کیا جا سکے۔ جہاں چین پاکستان کے قریب آرہا ہے وہیں چین بھارت سے دور جا رہا ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے تو یقینا بائیڈن بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغانستان سے ٹرن لے لیا ہے کہ اسے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ٹرن اسی وقت درست ثابت ہوتے ہیں جب کسی کو پتا ہو کہ کہاں ٹرن لینا ہے۔ امریکہ ایک غلط ٹرن لے چکا ہے۔ جسے امریکی ، افغانی، روسی سب ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اور اب اس غلطی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں دشمن نے گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افغانی سفیر کی بیٹی پر تشدد کا ڈرامہ کروایا جا رہا ہے۔
    کبھی ائر فورس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو کبھی اشرف غنی پاکستان سے دس ہزار جنگجو جانے کی باتیں کر رہا ہے۔ شکست کو حقائق سے تسلیم کرنے کی بجائے ایک جھوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔افغانستان ایک سرد ماحول والا ملک ہے۔ جہاں اکثر صوبوں میں سردیوں میں برف باری اور ٹمپریچر مائنس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اور ملک کے بیشتر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں جو نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہےبحثیت انسان جس کی وجہ سے زندگی کے دوسرے معمولات کی طرح ، مجاہدین کی سرگرمیاں بھی ہر سال اس سیزن کے دوران سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ چند سال میں جو غیر معمولی واقعات ہوئے اس میں طالبان نے پورے سال کابل کی کٹ پتلی حکومت کو ناچ نچوایا۔ اشرف غنی کو ہر جگہ کہتے پھر رہے ہیں کہ تین ماہ میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے وہ سردیوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی نکلنے کے باوجود ستمبر کی تاریخ اس لیے دے کر بیٹھا ہے کہ اس کے آفیشلی نکلنے اور سردیاں آنے میں وقفہ بہت کم رہ جائے۔اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اور کبھی بھی پاکستان کے خلاف دراندازی سے باز نہیں آتا اب نئے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اور اب تمام مختلف محکموں اور ترجمانوں نے مبالغہ آرائی شروع کردی ہے اور ان ساری غیر متوقع ترقی اور پیشرفت کے بارے میں جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔

    نائب افغان صدرامراللہ صالح جیسے لوگ جو پاکستان میں روس کے خلاف جہاد کی ٹریننگ لے چکے ہیں اور اس کے بعد نہ صرف طالبان کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں بلکے افغان خوفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی نے وہی پرانے ناکام لوگوں کو اب کام کرنے کی بجائے پروپیگنڈے کی تدبیر کے طور پر مقرر کیا ہے یہ ناکام عہدے دار بے مثال جھوٹ ، جعلسازی اور پروپیگنڈے کا چکر شروع کر چکے ہیں تاکہ دنیا اور اپنے معصوم شہریوں کو گمراہ کر سکیں اور اب ان طالبان کو ختم کرنے کے دعوی کر رہے ہیں جنہیں بیس سال تک 48 ممالک کی افواج کے ہاتھوں شکست نہیں دی جاسکی۔ لیکن یہ بات اشرف غنی کو جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کے پیچھے چھپا جا سکتا۔اسلامک امارات وسائل پر پابند باغی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جہادی انتظامیہ کی صورتحال ایسی ہے کہ آپریشنوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکےاور اس کا جنگی مشن روک دیا جائے طالبان افغان سوسائٹی کا حصہ ہیں، امریکہ سمیت پوری دنیا ان سے معاہدے اور مذاکرات کر رہی ہے، وہ اپنے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں۔یہ افغان قوم کی وسیع بغاوت ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں گہری ہیں۔
    اگر طالبان کو فتح کرنا اتنا آسان ہوتا تو پورے نیٹو ممالک جو اپنی کتابوں میں موجود تمام بہترین حکمت عملیاں جن میں ملٹری آپریشنز سمیت کارپٹ بمبنگ بھی شامل تھی افغانستان مین ازما چکے ہیں ۔لیکن ختم ہونے کے بجائے ، اس جہادی تحریک نے صرف مضبوط اور مزید علاقوں میں توسیع کی۔بے شک ملا عمر کے صف اول کے ساتھی دارالعلوم اکوڑہ خٹک یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوتم بدھ کے مجسموں کو اڑا دیا، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو پر ماننٹ لائن ماننے کے سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا سے گیس پائپ لائن سے انکار کیا اور پھر پاکستان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موجودہ طالبان وہ طالبان نہیں ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی طرح تصویر گھنچنے کے خلاف نہیں ہیں، نہ ہی وہ پاکستان کے مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، انہوں نے بیس سال جنگ میں رگڑا کھایا ہے اور ان کی تربیت میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی ہے۔ یہ سفارت کے آ داب بھی جانتے ہیں اور جنگ کی سٹریٹیجی بھی۔پہلی نسل کی قیادت سو فیصد پشتون اور وہ بھی جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری نسل میں آپ کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، ہزارہ حتی کہ بلوچ نژاد طالبان کمانڈر بھی مل جائیں گے۔طالبان کی موجودہ نسل ان تمام علاقوں پر تقریبا قبضہ کر چکی ہے جہاں ان کے بزرگ کابل پر قبضہ کرنے کے باوجود کنٹرول نہیں کر پائے تھے۔ یہ نسل سینٹرل ایشیا اور ایران سے متصل صوبوں پر قبضہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ پہلی نسل اگر پاکستان کے مشوروں کی محتاج تھی تو آج کی طالبان نسل قطر، ایران، ترک، روس، چین اور سینٹرل ایشیا میں مزاکرات کر رہی ہے۔

    طالبان کی پرانی نسل کے مقابلے میں موجودہ نسل نہ صرف اپنے آپ کو پوری دنیا سے منوانا چاہتی ہے بلکہ اسے یہ بھی پتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور افغانستان کا ستر فیصد بجٹ بیرونی طاقتوں کا محتاج ہے۔ طالبان امریکہ کو تعمیر کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔ طالبان کی اس نسل کو پتا ہے کہ قبضہ کرنا اآسان اور پھر اسے جاری رکھنا مشکل ہے۔تو پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی بہت سی باتیں پرانے طالبان نے ماننے سے انکار کر دی تھی تو نئے طالبان تو بڑے کاریگر ہیں انہیں اپنی بات پر لانا اور وہ بھی امریکہ اور اشرف غنی کے لیے کتنا مشکل ہے جن سے وہ بیس سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے منہ پر کہتے ہیں کہ ہم نے عصر تک روزہ رکھ لیا ہے اب ہمیں مغرب سے پہلے روزہ توڑنے کا مت کہو۔۔ وہ افغانستان کے معاملات اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔اس لیے اشرف غنی میرے تمھیں ایک نصحیت ہے کہ اپنے اقتدار کی بجائے اپنے ملک اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچو۔ سچ بولو اور زمینی حقائق کو تسلیم کرو۔ ورنہ تمھارا انجام بہت بھیانک ہو گا۔

  • عبادات مساوات  تحریر: آمنہ خان

    عبادات مساوات تحریر: آمنہ خان

    اسلام دینِ کامل ہے جو مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسی دین کے بدولت امت مسلمہ ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ عبادت انسان میں نظم وضبط پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ عبادات کی ادائیگی سے انسان کو بہترین معمول زندگی میسر آتا ہے۔

    اللہ پاک سورة الزایات میں فرماتے ہیں کہ؛

    وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ
    ترجمہ؛ میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔

    عبادات قرب الہی کا ذریعہ بنتیں ہیں۔ یہ انسان میں احساس پیدا کرتیں ہیں۔ اللہ پاک کی رحمتیں، دین کی تعلیمات تمام انسانوں کے لئے برابر ہیں۔ بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور فضیلت کی بنیاد محض ” تقویٰ” ہے۔

    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ؛

    یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لَاَعْجَمِیٍِّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی
    ترجمہ؛ لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔

    تقویٰ ایک باطنی کیفیت کا نام ہے، جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔
    تمام انسان ظاہری لحاظ سے یعنی رنگ، نسل، علم، حکمت کے اعتبار سے برابر ہیں۔ فضیلت کا معیار تقویُ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
    اسلام نام ہی مساوات کا ہے جہاں سب برابر ہیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    مختلف عبادات بھی ہمیں مساوات کا درس دیتیں ہیں۔
    مثال کے طور پر نماز جو کہ ہم مسلمانوں پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نماز اسلامی مساوات کی واضح مثال ہے۔ جس میں تمام مسلمان بیک وقت ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر خالقِ حقیقی کو سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
    مالدار ہو یا فقیر اللہ کے گھر میں سب برابر ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب انداز میں اس مساوی کیفیت کو بیان کیا ہے۔

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    اس کے ساتھ زکوٰۃ بھی اتحاد و مساوات کا درس دیتی ہے۔ سارا سال امیر ترین طبقہ پیسے کماتا ہے، مال زخیرہ کرتا ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
    زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔
    زکوٰۃ کے نظام سے مال و دولت چند لوگوں کی میراث بننے کی بجائے، معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے اور غریب طبقے تک پہنچ جاتی ہے۔
    غریبوں کا عید کی خوشیوں پہ اتنا ہی حق ہے جتنا امیروں کا۔ عیدالفطر پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور عید الاضحی پر قربانی کے گوشت کی تقسیم ہمیں اسلامی مساوات کا سبق دیتیں ہیں ۔اور یہی عبادات دوسروں کے لیے ہمارے احساسات جگا دیتیں ہیں۔

    حج دینِ اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔
    حج اسلامی مساوات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان مخصوص ایام میں مخصوص جگہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ایک اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔
    اسلام، صرف اسلام ہی ہے جس نے ان انجانے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا رفیق بنا دیا۔
    حج کے موقع پر لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کی پکار مسلمانوں کے مساوات اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہے جو دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔

    اگرچہ روزہ ایک باطنی عبادت کا نام ہے جس کا گواہ صرف اللہ ہے۔ لیکن پھر بھی روزہ دوسروں کے ساتھ احسن سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔
    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہی اس کا اجر دے گا لیکن یہ دل میں دوسروں کے لیے احساس ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان سارا دن بھوک پیاس ترک کرتا ہے تو اسے اپنے غریب بھائیوں کی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح انسان روزہ بھی لوگوں میں مساوات کی روح پھونکتا ہے۔
    ہمیں اللہ پاک نے ان قبائل، اور قوموں میں اسی لیے تقسیم کیا تاکہ ہم پہچانے جائیں۔

    سورة الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
    ترجمہ؛ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں۔

    اللہ ہمیں دین کے حقیقی معنی سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

    ‎@AmnaKhanPK

  • دیہاتی اور شہری زندگی  تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی میں بہت فرق ہے دیہاتی زندگی گاؤں کی زندگی کو کہتے ہیں جہاں پرفزا ماحول کھلی ہوا ، خالص اشیاء آسانی سے میسر ہوتی ہیں ہر انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی مٹی وہاں کی فزا میں بہت کشش ہوتی ہے انسان خود ہی کھینچا چلا جاتا ہے دیہات کی زندگی میں مویشی پالنا ان کی دیکھ بھال کرنا ان کا کاروبار کرنا معمول سمجھا جاتا ہے گاؤں کی زندگی میں بڑا سکون ملتا ہے

    شہر میں ہر طرف بھیڑ آب و ہوا کا مسئلہ خالص اشیاء کا مسئلہ ہوتا ہے شہر میں رہنے والا جب دیہات میں آتا ہے تو وہاں کا ہی ہو جاتا ہے وہاں کا سکون اسے اطمینان مہیا کرتا ہے شہروں میں لوگ دفاتر میں چلے جاتے ہیں جبکہ گاوں میں تھوڑا مختلف ہے گاؤں میں لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں نماز پڑھ کر اپنے مویشیوں کیلئے چارے کا بندوست کرتے ہیں بہت کٹھن کام ہوتا ہے لیکن دیہات کے لوگ بڑی خوشی کے ساتھ کرتے ہیں دن رات محنت کرتے ہیں جسے ہم اپنے کسان بھی کہتے ہیں اگر دیکھا جاۓ تو انہی کسان کی بدولت ملک چل رہا ہوتا ہے جو گندم کسان کاشت کرتا ہے وہاں کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے بیچ دیتے ہیں اور وہ گندم پورے ملک میں لوگ خرید کر اپنے گھر میں روٹی پکاتے ہیں

    اسی طرح دھان (چاول) اور تمام سبزیاں ہیں جو کسان کی انتھک محنت کے بعد شہروں تک پہنچتی ہیں دیہات میں ایک کسان کا سرمایہ اس کے مویشی اس کی زمین ہوتی یے جس پہ وہ کاشت کاری کرتا ہے اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے گاؤں میں دل موہ لینے والے نظارے آپ کو ملتے ہیں وہاں عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ گھر کے کام کے ساتھ برابر کام کرتی ہے شہروں میں ایک دن اتوار کی چھٹی ہوتی ہے بہت سے لوگ گاؤں کا رخ کرتے ہیں تاکہ موسم کو انجوائے کیا جاۓ کھلے آسمان کا نظارہ کیا جاۓ کاروباری لوگ اتوار کے دن کا شدت سے انتظار کرتے ہیں

    کاروبار کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے شہر کے لوگ اپنے وقت کو اس طرح مینٹین کرتے ہیں کہ وقت نکال کے گاؤں کا رخ کرتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں اگر شہروں کے لوگوں کو گاؤں میں ایک ماہ گزارنا پڑھے تو بہت مشکل ہوگا شہر والوں کیلئے کیونکہ شہروں کی طرح دیہات میں سہولیات کم ہوتی ہیں فون ، انٹرنیٹ وغیرہ کی وہ سپیڈ نہیں ہوتی جو شہروں میں ہوتی ہے اس لئے شہر والوں کو رہنا مشکل ہے گاؤں کے لوگ اس چیز کے عادی ہوتے ہیں وہ پر سکون ماحول میں رہتے ہیں شہروں میں اگر فوتگی ہوجاۓ تو چند عزیز و اقارب سوگ میں ہوتے ہیں بہت سے ہمسایوں کو بھی نہیں پتا ہوتا کیا پہاڑ ٹوٹا ہے ہمسائیوں میں لیکن دیہات میں سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تمام گاؤں سوگ کی حالت میں ہوتا ہے

    بہت سے لوگ گاؤں کو چھوڑ کر شہر کی طرف سفر کر دیتے ہیں وقت کے ساتھ انہیں سکون شہروں میں میسر ہوتا ہے لیکن وہ گاؤں کی رنگینیوں کو بھول جاتے ہیں اپنا بچپن جہاں گزارہ ، اپنے والدین کے ساتھ گزرے دن اپنے دوستوں کے ساتھ گزاری یادیں سب بھول جاتے ہیں پھر وہی لوگ شہر میں ہی خوشی ڈھونڈتے ہیں اپنا آرام اور آسائش شہر میں ڈھونڈتے ہیں اور آخر کار گاؤں میں ہی اُن کی آخری منزل ہوتی ہے

    @JingoAlpha

  • آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی  تحریر: محمد خواص خان

    آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی تحریر: محمد خواص خان

    خوبصورت علاقے قدرت کی تخلیق کا ایک بہترین شہکار ہیں ۔ جن کو دیکھنے سے بنی نوع آدم سکون اور راحت محسوس کرتی ہے وطن عزیز بھی خوبصورت مقامات کی دولت سے مالا مال ہے بلند وبالا چوٹیاں، گہرے اور ٹھنڈے بہتے چشمے سفید اور سبز چادر اوڑھے دلکش پہاڑ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ پاکستان بھر سے لاکھوں اور دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ جتنی ہمارے ہاں خوبصورت ترین علاقے ہیں بدقسمتی سے اتنے ہی یہ علاقے پسماندہ اور سہولیات سے محروم ہیں ماضی قریب تک تو کسی گورنمنٹ بے بالکل بھی اس طرف توجہ نہیں دی جبکہ موجودہ حکومت آٹے میں نمک کے برابر کچھ کررہی ہے ۔ حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سیاحتی مقامات سے اچھی خاصی آمدن لے رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ان چیزوں کو پس پشت ڈال جارہا ہے ۔

    کشمیر جنت نہیں ہے لیکن جنت نما ضرور ہے ۔ کشمیر کا تقریبا ہر علاقہ گرین اور انتہائی خوبصورت ہے کشمیر میں بہت زیادچشمے اورخوبصورت چوٹیاں ہیں لیکن ان تک پہنچنے کے لیے راستے انتہائی دشوار ہیں ۔ اسی لیے زیادہ تر سیاح وہاں کا رخ نہیں کرسکتے ۔ انہی بلند و بالا چوٹیوں میں سے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ہے ۔ جو انتہائی خوبصورت چوٹی ہے

    اسلام آباد سے 200 کلو میٹر شمال مشرق میں آزاد کشمیر کے دو اضلاع باغ اور مظفر آباد کے سنگھم پر واقع ایک خوبصورت سیاحتی مقام جسے گنگا چوٹی کہاجاتا ہے ۔اسے گنگاکیوں کہا جاتا ہے یہ ایک حل طلب سوال ہے ظاہراً یہ نام ہندو مذہب سے منسوب ہے تاریخ دان اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی صورتحال ہو گئی۔ انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیااس نے شیوا کو براہمان کے پاس بھیجا پھر وہاں سے آکاش گنگاکا وجود ہوا ہے جو ہندوں کی کتب میں درج ہے ۔بعض کتب میں یہ چوٹی دیوی گنگا کے نام سے منسلک ہے ۔ گنگا چوٹی کی بلندی تقریبا دس ہزار فیٹ ہے ۔یہاں پہنچنے کے لیے باغ سے براستہ سُدھن گلی سے پہنچا جاسکتا ہے ۔سُدھن گلی میں طعام وقیام کا اعلی بندوبست ہے ۔خصوصاً دیسی ہوٹل اپنی نفاست اور لذیذ دار کھانوں سے مشہور ہے اگر آپ کا یہاں جانا ہو تو ایک دفع ضرور ٹیسٹ کریں سپیشلی کڑی پکوڑہ اعلیٰ ومعیاری ہے۔ سُدھن گلی سے آگے آدھا راستہ پکا اور زیادہ کچا ہے تاہم اس پر کام جاری تھا یہاں گرمیوں میں موسم کافی معتدل اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کے بے تاب رہتا ہے ۔یوں تو سارا کشمیر ہی خوبصورت ہے لیکن گنگا چوٹی اس خوبصورتی کا ایک خاص درجہ رکھتی ہے۔سرسبز میدان ،ٹھنڈی ہوائیں اور دھند کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی گنگا چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا گوکہ راستہ طویل تھا لیکن ہر حسین منظر نے آنکھوں کو تازگی اور دل کو سکون میسر کیا راستے میں ایک دو کیمپ(جن میں چاٸےاوربسکٹ کاساماں موجودتھا) اور کافی سارے مویشی نظر آئے ہم جوں ہی آدھے راستے پہنچے بادلوں کو بھی پتہ چل گیا کہ مہمان پہنچ چکے ہیں ۔گنگا چوٹی کے چاروں اطراف جنگلات ہیں ۔گنگا چوٹی جنگلی حیات اور نباتات کا مسکن ہے جہاں موسم بہار میں ہر طرف خوبصورت پھول کھلتے ہیں. چوٹی جولائی میں اکثر سفید چادر اوڑھے رکھتی ہے جس سے آپ مکمل نظارہ نہیں کر سکتے۔سیروسیاحت پر پہلی تحریر ہے آئندہ لکھنے کا مصم ارادہ ہے ۔آپ لوگوں سے بھی گزارش ہے سیاحتی مقامات کا پروموٹ کریں ۔

    Twitter I’d link
    @iamkhawaskhan

  • بغداد کی بربادی اور ہم  تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    بغداد کی بربادی اور ہم تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    تاریخ بتاتی ہے کہ ابوجعفر بن المنصور نے سن 762 میں بغداد کی بنیاد رکھی اور پھر چند ہی دھاہیوں میں اس شہر نے اتنی ترقی پائی کہ برصغیر سے لے کر افریقہ تک کے صاحب ہنر و علم بغداد دیکھنے کے لیے بے چین ہو گۓ
    اور بغداد بھی ایسے صاحب علم کے لیے بے چین رہتا اور باکمال شخصیات کی کتابوں کو ہیرے جواہرات سے تولا جاتا
    بغداد میں عظیم الشان مساجد اور مدارس تعمیر کیے گۓ۔
    اس شہر نے باکمال شخصیات سے محبت کا شرف حاصل کیا جن میں فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ
    عظیم کیمیا دان جابر بن حیان
    الجبرا کے عظیم بانی الخوارزمی
    فلسفے اور حکمت کے دو عظیم نام الکندی اور الرازی
    مشہور مفکر الغزالی، عربی کے مشہور شاعر ابو نواس، تاریخ دان طبری اور کئی عالمِ دین اسی شہر کے باسی تھے
    لیکن اس شہر کی بربادی کا سبب بھی مسلمانوں کے آپس کے باہمی اختلاف ، تفرقہ بازی اور زاتی مفادات تھے
    کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان نے بغداد کا پچاس دن مسلسل محاصرہ کیے رکھا اس وقت بغداد کے پاس دنیا کے مضبوط ترین قلعے تھے لیکن دل اور ایمان کی ناپختگی نے ان قلعوں کی مضبوطی کو پاش پاش کر دیا۔
    تاریخ خلافت عباسیہ کے خاتمے کی تاریخ کچھ اس طرح رقم کرتی ہے ہلاکوخان نے محاصرے کی ابتداء 29 جنوری 1258   کو کی اور محاصرہ کا اختتام 10 فروری 1258 کو ہوا
    اس وقت خلافت عباسیہ کے سربراہ مستعصم باللہ انتہائی کمزور انسان تھا جب وزراء کے مشورے کے ساتھ وہ ہلاکو خان سے مزاکرات کے لیے گیا تو اپنے ساتھ اپنی اولاد، وزیر بھی ساتھ لے کر گیا
    خلیفہ کے سوا سب کو قتل کر دیا گیا اور منگولوں کی فوج نے شہر میں داخل ہو کر سامنے آنے والے ہر شخص کو تہہ تیغ کر دیا ایک ہی دن میں ہزاروں افراد شہید ہو گۓ ۔ خلیفہ کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ منگولوں کے عقیدے کے مطابق بادشاہ کا خون بہانا بد شگونی سمجھا جاتا تھا سو ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو باندھ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑاۓ تاکہ خون نہ بہے۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کی بربادی کی اہم وجہ مراکش اور ایران کا خلافتِ عباسیہ کا ساتھ نہ دینا تھا
    الغرض بغداد کو ایسے تباہی کیا گیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی
    لیکن اس بربادی میں مسلمانوں کا اپنا حصہ زیادہ تھا علم و فن سے منہ موڑ لیا گیا بادشاہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گۓ جس سے معاشرے کی ترقی پر جمود طاری ہو گیا اور عوام نے لاپرواہی اختیار کر لی
    کیا آج ہم بھی اسی ڈگر پر نہیں چل رہۓ؟
    کیا ہمارے وزراء مشیران عیاشیوں کے بے پناہ دلدادہ نہیں ہو گۓ اور
    کیا ہم (عوام) بھی لاپروا نہیں ہو گۓ
    اور کیا ہماری بربادی کا وقت بھی قریب نہیں آ گیا (خدانخواستہ)
    کیا ہمیں اپنے حکمرانوں کو راست پر لانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرنے چاہیں اور کرپٹ عناصر کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرنے سے چشم پوشی اختیار کر لینی چاہیے
    سوچئیے گا
    اور مناسب سمجھیں تو آنکھیں کھلی رکھ کر شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کریں
    #حبیب_خان

  • کیا چین نے امریکہ سے سپر پاور کا نمبر چھین لیا ہے؟ تحریر حمیداللہ شاہین

    کیا چین نے امریکہ سے سپر پاور کا نمبر چھین لیا ہے؟ تحریر حمیداللہ شاہین

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ کمزور پالیسیوں اور جوبائیڈن کی موجودہ امریکی حکومت کی صورتحال اور چین کی طرف سے دوسرے ممالک کے ساتھ روابط کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ اگلے چند سالوں میں چین دنیا کا سپر پاور ملک ہوگا
    یا تو ہم کہتے ہیں کہ سفارتی شکست یا امریکہ کی کمزور پالیسیاں چین کو مستقبل میں ایک طویل کھیل کھیلنے کے لیے ایک واضح راستہ دے سکتی ہیں۔ چین کوئی غلطی نہیں کر رہا ہے اور اپنے حریف امریکہ کے خلاف اپنے سفارتی رویے کے ذریعے ان ممالک کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہچکچاہٹ کے بغیر زبردست ہٹ دھرمی کھیل رہا ہے جن کا امریکہ کے ساتھ تھوڑا سا اختلاف ہے۔
    یہ ایک طویل عرصے سے ایک عام سوچ تھی کہ ایک سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ ہمیشہ اگلے بیس سے چالیس سالوں کے لیے نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری دنیا کے لیے اپنی پالیسیاں بناتا ہے۔ جب بھی پسماندہ ممالک میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں وہ ہمیشہ بہتر حل کے لیے امریکہ سے مدد لیتے ہیں اور امریکہ دنیا کی سپر پاور کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن امریکہ کے "ڈونلڈ ٹرمپ” کی آخری حکومت اور "جو بائیڈن” کے موجودہ دور نے حیرت انگیز طور پر اپنی میراث کھو دی جبکہ چین نے امریکہ کے خلاف سفارتی پالیسیوں میں ترمیم کے ذریعے اپنی بہترین کوشش کی۔
    روس اور چین کے درمیان ایک حالیہ ویڈیو کانفرنس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ دو طاقتوں میں ایک بڑا معاہدہ ہو رہا ہے اور امریکہ کو اپنی سفارتی پالیسیوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنا چاہیے۔ یہ خبر مختلف عالمی میڈیا فورمز پر نشر ہوئی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے 20 سال پرانے معاہدے میں توسیع کی جس کا مقصد ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدوں کو ختم کرنا ہے۔ دنیا میں امن اور دیگر متضاد حالات
    چین نے پاکستان اور افغانستان کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ جب کہ چند دن پہلے میڈیا گفتگو کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین افغانستان میں امن کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
    چین ان ممالک کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور تعلقات کو بڑھا رہا ہے جنہیں امریکہ نے کھودا ہے یہ قابل ذکر ہے کہ چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر کے بڑے معاہدے سے چین کو گرم پانیوں تک آسان رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چابہار بھارت کے لیے ایک خواب تھا جو چین کی شمولیت کے بعد ڈوب گیا ہے۔ ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے کہا "ہم نے اپنے ہندوستانی اور چینی دوستوں پر بہت واضح کر دیا ہے کہ چابہار ہر ایک کے لیے تعاون کے لیے کھلا ہے۔ چابہار چین کے خلاف نہیں ہے… گوادر کے خلاف نہیں ہے۔ چابہار ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم سب مل کر افغانستان کی مدد کر سکتے ہیں خطے میں ترقی اور خوشحالی میں مدد کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ معاہدے کی شکل میں چین کے داخلے کے بعد گوادر کی قدر کم کرنے کے مقصد سے ایران کی چابہار بندرگاہ سے منسلک ہندوستانی امیدیں ختم ہوگئیں۔ اب کھیل چین کے ہاتھ میں ہے چاہے وہ کھیلے یا نہ کھیلے۔
    چین اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان تمام معاہدوں کے علاوہ حالیہ جی 7 سمٹ میں جو بائیڈن نے اپنے اتحادیوں کو چین کی معاشی طاقت کے خلاف متحد محاذ بنانے پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مشرقی اور مغربی حصوں میں چین کا گڑھ امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک سیشن کے دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن نے شرکاء کی توجہ چین میں جبری مشقت کے طریقوں کی طرف مبذول کرائی جس کے ذریعے وہ اس کے خلاف دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن صرف کینیڈا ، برطانیہ اور فرانس نے چین کے خلاف بائیڈن کے نقطہ نظر کی تائید کی جبکہ جرمنی ، اٹلی اور یورپی یونین تھوڑا ہچکچاتے نظر آئے اور کوئی مثبت علامت ظاہر نہیں کی۔
    امریکہ کی نئی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چین کی جبری مشقت اس کا اندرونی مسئلہ ہے اور وہ کبھی بھی کسی دوسری طاقت کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ جو بائیڈن کی حکومت میں بہت سے داخلی مسائل ہیں جنہیں اولین ترجیح پر حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اب تک نظر انداز کیا گیا ہے۔
    روس ، پاکستان ، ایران کے ساتھ چین کے تعلقات اور اب ایک مستحکم افغانستان میں اس کی گہری تشویش دراصل مضبوط سفارتکاری ہے جو کہ امریکہ کے اقتصادی طور پر بڑھتے ہوئے چین اور ایران ، پاکستان اور افغانستان جیسے پسماندہ ممالک کے لیے اس کی پالیسیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں جیسے بھارت۔ امریکہ ان ممالک پر اپنی کمان کھو رہا ہے جبکہ چین ان کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔
    چین کی ایران، پاکستان اور افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلقات میں بہتری کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ اگلے کچھ ہی سالوں میں چین دنیا کے سارے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گا اور ایک نئی تاریخ رقم کر کے امریکہ کو سپر پاور کے تخت سے اتار دے گا اور خود تخت نشین ہو کر ایک نئی عالمی طاقتور ترین ملک کے طور پر سامنے آئے گا۔
    @iHUSB

  • 18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    جب سے کورونا وبا آیا ہے دنیا کے ہر حصے میں موجود طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہے۔ کورونا وبا کے شروع میں تو سب ممالک نے سٹوڈنٹ ویزا بند کیا تھا لیکن جب سے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا ہے، برطانیہ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے طلباء کیلئے ویزا پالیسی آسان کردی ہے- طلباء کو نہ صرف ویزا مل رہا بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ بیرونی ممالک میں سیاحت سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی پاکستانی زیرتعلیم طلباء تھے ان کو ویزے مل گئے ہیں وہ سب اپنے یونیورسٹیز جاچکے ہیں یا جا رہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں چین میں زیر تعلیم طلباء آج بھی پاکستان میں پھنسے ہیں۔ جن کو 18 مہینوں سے چین کا ویزا نہیں مل رہا اور ویزا کے منتظر ہیں یہ طلباء مطالبہ کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کی طرح ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے چین کا ویزا جاری کیا جائے اور پاکستانی حکومت ہماری ذمہ داری لے اور چین کے ساتھ بات کرے تاکہ ہم پر کورونا وبا کی وجہ سے لگی یہ سفری پابندیاں نرم کی جائے۔

    جب دسمبر 2019 میں ووہان میں کوویڈ 19 وبائی بیماری پھیل گئی، چین میں حکام کا پہلا ردعمل شہر کو سیل کرنا تھا۔ جیسے جیسے وائرس پھیلتا گیا تو ہر طرف سفری پابندیاں لگا دی گئی تاکہ وائرس کو چین میں پھیلنے سے روکا جائے۔ چین سے غیر ملکی شہریوں میں گھر جانے والوں میں 196 ممالک کے نصف ملین سے زائد بین الاقوامی طلباء شامل تھے جن میں پاکستانی طلباء بھی کثیر تعداد میں تھے جو پاکستان آئے اور پھر پاکستان میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ اب چین نے کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور چین نے تقریبا 40 فیصد سے زیادہ آبادی کی ویکسینیشن مکمل کی ہے تو مغربی ممالک کی طرح چین بھی پاکستانی طلباء کے لئے ویزا پالیسی میں نرمی کرے۔ 18 مہینے ہمارے تعلیم کے ضائع ہو چکے ہیں ہم شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔

    چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء اکثر وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے کمپین و ہیشٹیگ ‎#TakeUsBackToChina میں ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں ٹیگ کرتے نظر اتے ہیں کہ ان کیلئے پاکستانی حکومت چینی حکومت سے بات کرے۔ طلباء نے اس سوشل میڈیا مہم کے ساتھ یو این، چینی پریذیڈنٹ ژی جنگ پنگ کو مدد کیلئے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ان کے اوپن لیٹرز بھی لکھے گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئے۔ پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں بعض ایسے ہیں جو چین میں کورونا وبا پھوٹ پڑنے پر پاکستان آئے تھے اور بعض ایسے ہیں جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ ملا ہے۔
    پاکستانی طلباء چین میں انڈر گریجویٹ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی ڈگریوں میں رجسٹرڈ ہیں ان طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو آن لائن کلاسز میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، کچھ تو پسماندہ علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس ہی نہیں کہ آن لائن کلاسز لے سکے جو میڈیکل ڈاکٹری کی ڈگری پڑھ رہے ہیں آن لائن کلاسز میں ان کیلئے کلینکل کام کرنا ممکن نہیں اور ماسٹر و پی ایچ ڈی طلباء آن لائن کلاسز میں لیب کے بغیر ریسرچ نہیں کر سکتے۔ جن طلباء کو 2020 اور 2021 میں داخلے ملے ہیں ان میں سے کچھ کو تو یونیورسٹیوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اپ آن لائن کلاسز کے بجائے لمبا انتظار کرے اور جب تک سفری پابندیاں نرم نہیں ہوتے تو اس وقت تک اپ پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ کے ساتھ وزیر داخلہ شیخ رشید نے 3 جون 2021 کو ملاقات میں پاکستانی طلباء کا معاملہ اٹھایا تھا اور چینی سفیر نے یہ معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں زیادہ تفصیل نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہوسٹ عدل شاہزیب نے وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چینی سفیر کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھاؤں گا اور میں سمجھتا ہوں چین میں حالات کافی اچھے ہوگئے ہیں، پاکستانی طلباء کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق  تحریر : اسامہ خان

    سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق تحریر : اسامہ خان

    پاکستان 1947 میں بنا اور پاکستان کا پہلا وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب تھے ان کے بعد بہت سے وزیراعظم آئے اور 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ہوا اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو صاحب تھے انہوں نے پاکستان کی خدمت کے لیے کافی اچھے کام کیے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا تھا اور اس پارٹی میں سے نظیر بھٹو صاحبہ بھی وزیراعظم بنیں 1988-1990 اور دوسری بار 1993-1996 تک وزیراعظم رہیں اور یہاں سے وقت شروع ہوتا ہے پاکستان مسلم لیگ نون کا، پاکستان مسلم لیگ نون 1993 میں نواز شریف کی صدارت میں بنی نواز شریف صاحب سب سے پہلے وزیراعلی پنجاب بننے، اور آہستہ آہستہ نواز شریف صاحب وزیراعظم اور ان کا بھائی شہباز شریف وزیراعلی پنجاب بننے، ان کی پارٹی کا صرف ایک ہی مقصد تھا خود بھی کھاؤ اور اپنے دوست احباب کو بھی کھلاؤ بے شک ملک ڈوبتا ہے ڈوبتا رہے ان دونوں بھائیوں نے مل کر جتنی کرپشن ہو سکتی تھی کی تاکہ آنے والے وقتوں میں یہ خاندان بیٹھ کر کھا سکے انہوں نے کوئی ایک ادارہ نہیں چھوڑا جس میں انہوں نے کرپشن نہ کی ہو اور اس کے ساتھ ہی ساتھ عمران خان صاحب جو کہ موجودہ وزیراعظم ہیں پاکستان کے شریف فیملی کے دور میں جدوجہد کرتے رہے اور پوری عوام کو آگاہ کرتے رہے کہ یہ پورا خاندان چور ہے جیسے جیسے عوام میں شعور آتا گیا تو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کو ووٹ دینا چھوڑ دیا سب سے پہلے عمران خان صاحب کی حکومت خیبر پختونخوا میں بنی عمران خان صاحب نے وہاں پولیس اور دیگر اداروں کا نظام ٹھیک کیا اور کرپشن فری خیبر پختونخوا بنانے کی جدوجہد شروع کردی یہ جدوجہد خیبرپختونخوا میں جاری تھی کہ پانامہ کا کیس سامنے آگیا جس میں مسلم لیگ نون کی آج تک کی 30 سال کی کرپشن سامنے آگئی جس کی وجہ سے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا اور وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ابھی الیکشن میں کچھ دیر باقی تھی تو نون لیگ نے حقان عباسی کو کچھ دنوں کے لیے وزیر اعظم مقرر کیا حقان عباسی صاحب کی شان دیکھئے جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تو ایئرپورٹ پر شرٹ کے ساتھ ساتھ پینٹ بھی اتار کر چیک کروا آئے اپنی، کتنے افسوس کی بات ہے اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اگر ان کو کوئی صرف ہاتھ لگا دے تو ان کی توہین ہو جاتی ہے، 2018 میں جنرل الیکشن آئے اور پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنی حکومت بنائیں اور ملک پاکستان کے عمران خان صاحب بائیسویں وزیراعظم بنے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب جہاں انکی کرپشن کو عوام کے سامنے لا رہے ہیں وہی بہت سے ترقیاتی کام کروا رہے ہیں جیسے کہ ماحولیات میں اور درخت لگانے میں پاکستان سب سے پہلے نمبر پر جارہا ہے نہ کہ صرف پہلے نمبر پر جارہا ہے ان ایونٹس کی میزبانی بھی کر رہا ہے وزیراعظم کی ہدایت پر احساس پروگرام شروع کیا گیا جس میں غریب طبقے کو اور طالب علموں کو سپورٹ دی جا رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ صحت کارڈ کا ہے ہر ایک خاندان کو ایک صحت کارڈ دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ خاندان سلانہ 7 سے 8 لاکھ تک فری علاج کروا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب واحد لیڈر ہیں جو صرف ملک پاکستان کے لیے اپنی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب اب تک دنیا میں سب سے مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں خان صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ جب امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوں اور فوجی انڈوں کے لیے اجازت مانگی گئی عمران خان صاحب نے تاریخ رقم کر دینے والے الفاظ بولے اور امریکہ کو منھ توڑ جواب دے کر نہ کیا۔ خان صاحب نے کہا میں اپنی قوم پر ظلم کیسے کر سکتا ہوں جیسے پچھلی حکومتوں نے کیا وہ خود اجازت دے کر بعد میں حملوں کی تعزیت کرتے تھے۔ خان صاحب کا بہت بڑا کارنامہ جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا، اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر براہ راست اپنی عوام کی کال سننا اور ان کے مسلے حل کرنے کے لئے فل فور ہدایات جاری کرنا۔ خان صاحب جیسا لیڈر نہ آج تک پاکستان کو ملا ہے اور نہ ہی کبھی ملے گا خان صاحب کے اور بھی بہت بڑی بڑی خدمات ہیں جو کہ ہر باشعور انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ان بڑے کارناموں میں سے ایک شوکت خانم میموریل ہاسپٹل ہے۔ سب عمران خان صاحب کا ساتھ دیں
    @usamajahnzaib