Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟  تحریر: زاہد کبدانی

    ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟ تحریر: زاہد کبدانی

    بہت سے تجربات کیے گئے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ ہم ایسی معلومات کو ڈھونڈتے اور مانتے ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہے جو ہم پہلے سے درست سمجھتے ہیں ، یہاں تک کہ جب اس کے برعکس ٹھوس حقائق پیش کیے جائیں۔ سائنس میں اسے تصدیقی تعصب کہا جاتا ہے ، اور تحقیق کے طریقے اس طرح کے ہونے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ، کچھ اس رجحان کو "مائی سائیڈ” تعصب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ، جب متضاد معلومات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ، تو اکثر دلیل یا بحث جیتنا اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے جتنا کہ ہم جو کچھ مانتے ہیں اس سے مختلف حقائق کو سننا ، یہ دیکھنا کہ کیا ہم کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ ماہر معاشیات ، جے کے گالبریتھ نے اس کا اظہار اس طرح کیا: "کسی کا ذہن بدلنے اور یہ ثابت کرنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، تقریبا ہر کوئی ثبوت کے ساتھ مصروف ہو جاتا ہے۔

    الزبتھ کولبرٹ نے ٹھیک کہا ہے ، "وجہ کی وجہ سے انسانی صلاحیت کا سیدھا سوچنے کے بجائے جیتنے والے دلائل سے زیادہ تعلق ہوسکتا ہے۔ "لوگ حقیقی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں ، ڈوپامائن کا رش ہوتا ہے جب معلومات پر کارروائی ہوتی ہے جو ان کے عقائد کی حمایت کرتی ہے۔ "اپنی بندوقوں پر قائم رہنا اچھا لگتا ہے چاہے ہم غلط ہوں۔” لیو ٹالسٹائی کے مطابق ، "سب سے مشکل مضامین سب سے سست ذہن والے آدمی کو سمجھایا جا سکتا ہے اگر اس نے پہلے سے ان کے بارے میں کوئی خیال نہیں بنایا ہے۔ لیکن سب سے ذہین آدمی کے لیے سب سے آسان بات واضح نہیں کی جا سکتی اگر اسے مضبوطی سے قائل کیا جائے کہ وہ پہلے سے جانتا ہے ، بغیر کسی شک کے ، اس کے سامنے کیا رکھا ہے۔ انسان سماجی مخلوق ہیں ، اور حقائق اور درستگی صرف وہی چیزیں نہیں ہیں جو انسانی ذہن کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم تعلق رکھنے کی گہری خواہش رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ "حقیقت میں غلط ، لیکن معاشرتی طور پر درست” کو قبول کرنے کی قیمت پر ہے۔
    جیمز کلیئر ، کتاب ، جوہری عادات ‘کے مصنف نے ایک بار لکھا ، "بہت سے حالات میں ، معاشرتی رابطہ دراصل آپ کی روز مرہ کی زندگی کے لیے کسی خاص حقیقت یا خیال کی حقیقت کو سمجھنے سے زیادہ مددگار ہوتا ہے۔” ہارورڈ کے ماہر نفسیات اسٹیون پنکر نے اس طرح کہا ، "لوگوں کو ان کے عقائد کے مطابق قبول کیا جاتا ہے یا ان کی مذمت کی جاتی ہے ، لہذا دماغ کا ایک کام اعتقاد کو برقرار رکھنا ہوسکتا ہے جو عقیدہ رکھنے والے کو اتحادیوں ، محافظوں یا شاگردوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں لاتا ہے۔ ایسے عقائد سے زیادہ جو سچ ہونے کے امکانات ہیں سماجی ماحول میں ، جب ہمیں دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ، لوگ اکثر حقائق اور درستگی پر دوستوں اور خاندان کا انتخاب کرتے ہیں۔ کسی کو اپنا ذہن بدلنے کے لیے قائل کرنا واقعی اسے اپنے قبیلے کو تبدیل کرنے کے لیے قائل کرنے کا عمل ہے۔ اگر وہ اپنے عقائد کو ترک کردیتے ہیں تو وہ سماجی روابط ختم ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کی کمیونٹی کو بھی چھین لیتے ہیں تو آپ کسی سے ان کی سوچ بدلنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ آپ نے انہیں کہیں جانا ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ان کا عالمی نظریہ ٹوٹ جائے اگر تنہائی نتیجہ ہے۔ ہمارا مذہبی پس منظر اس پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، اور یہ ہمارے عالمی نقطہ نظر کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ جو لوگ گہری مذہبی پرورش رکھتے ہیں انہیں محض دنیا کو اپنی روحانی عینک سے دیکھنے سے محتاط رہنا چاہیے۔ روحانیت استدلال کے خلاف نہیں ہے۔ ہمیں اپنی سوچ اور عقائد میں روحانی طور پر ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عقلی اور منطقی استدلال کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    مجموعی طور پر ، میٹاکجنیٹیو سوچ پر عمل کریں۔ اپنی سوچ کے معیار سے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ کیا کوئی عقیدہ ہے جو آپ کو روکتا ہے؟ کیا آپ کے ماضی کی تکلیف دہ یادیں ہیں جو اب بھی آپ کے آگے بڑھنے کے لیے خوف پیدا کرتی ہیں؟ ان چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت نکالیں تبدیلی خود آگاہی سے شروع ہوتی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔  تحریر : صفدر حسین

    ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تحریر : صفدر حسین

    ہماری ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر ایک تیز رفتار کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ میں مشکل ہی سے روزمرہ کی کسی بھی سرگرمی کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جس کے لئے ہم ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرتے ہوں۔ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک ہمیشہ کا پہلو بن گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی سے پاک فضا میں سانس لینا ناممکن ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اس کام میں ہماری مدد کرتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت سارے کاموں میں ہماری دلچسپیوں کو فروغ دیتا ہے جو اس کے بغیر بورنگ ثابت ہوسکتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچتے ہیں تو پہلی چیز جو ہمارے ذہنوں میں آتی ہے وہ ہے "انٹرٹینمںٹ”۔ ہمیں اسمارٹ فونز ، گیمنگ سسٹمز ، آن لائن ویڈیوز ، ٹی وی اور ان گنت مزید ٹیکنالوجیوں سے اپنی نام نہاد ککس (kicks) مل جاتی ہیں۔ "تعلیم” وہ پہلو ہے جو ہمیں بڑی تعداد میں ٹیکنالوجیز سے ملتا ہے۔ اگرچہ یہ اس فہرست میں سرفہرست ہونا چاہئے لیکن افسوس یہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ رسائی ہے انٹرنیٹ کنیکشن والا کمپیوٹر ہی آپ کو برمودا کے مثلث کی جانب لے جاسکتا ہے جہاں آپ معلومات کے بہتے ہوئے پانی میں گم ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کی ایک نہ ختم ہونے والی اہمیت ہے۔
    ہم اپنا وقت بچانے ہجوم سے بچنے اور بلا جھجک قیمتوں کا موازنہ کرنے کے لیے (ONLINE) آن لائن خریداری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کبھی کبھی خود کو دکانوں پر جانے کی زحمت دینا پسند نہیں کرتے اور میں ذاتی طور پر اس کو درست مانتا ہوں۔ بعض اوقات یہ خریدار کو بہت بڑے نقصان پہنچاتا ہے۔ ذہن میں رکھیے گا کہ یہ ہی وہ ایک فائدہ نہیں جو ٹیکنالوجی ہمیں دے رہی یے ۔
    "ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے قابل ہے” ، ایک ایسا جملہ جو ہمیں ہر دو دن بعد سننے کو ملتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہے… ہمارے پیاروں کے ساتھ اپنے لمحات کو گرفت میں لینے کے لئے ہمارے پاس کیمرے ، موبائل فون اور لاتعداد چیزیں ہیں یہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ پر تصویروں پر کلک کرنا ضروری بناتے ہیں تو وہی بات پاگل پن تک پہنچ جاتی ہے۔ آج کل ہم "جینے ” کو فراموش کر چکے ہیں اور اسے "کیپچرنگ (CAPTURING)” کے ساتھ تبدیل کر چکے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو کچھ دن پہلے اس میں محسوس کیا اپنے بستر پر بیٹھ کر مطالعہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا بدقسمتی سے میں نے مطالعہ نہیں کیا لیکن میری فہرست میں موجود ہر فرد کو بتایا کہ میں پڑھ رہا ہوں۔ اس نے مجھے اپنے طور پر سوچنے پر مجبور کیا اور مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ ایک اچھی تصویر کیلئے ہم ہزاروں تصاویر کھینچتے ہیں اور ڈیلیٹ کرتے ہیں اور تصاویر دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
    ہمارے طلباء کے بہت ہی جدید کلاس روم ٹیکنالوجی کے نئے آپشن متعارف کرانے کی وجہ سے آگے بڑھے ہیں۔ ٹیکنالوجی ہماری سیکھنے کے عمل کے دوران متحرک رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ اس سے اساتذہ اور والدین کے مابین بہتر رابطے کو فروغ ملتا ہے جو طلبا کے لئے ایک بری خبر ہے جو اپنے والدین کو اپنے رپورٹ کارڈ نہیں دکھاتے ہیں جو کہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ٹیکنالوجی صارف دوست بھی ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چلنا بہترین آپشن ہے۔ یہ ہمیں ہماری مستقبل کی دنیا کیلئے تیار کرتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں کمانڈ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بہت فائدہ مند ہے لیکن دوسری طرف اس کے کچھ نقصانات ہیں۔ طلباء جب بھی وہ پڑھتے ہیں تو ان کا موبائل فون ان کے کنارے پڑے رہنا بھی پریشان کن ہوسکتا ہے۔ مطالعہ سے 20 منٹ کا وقفہ اور ٹیکنالوجی سے منسلک رہنا بالکل ٹھیک لگتا ہے لیکن جب یہ وقفہ لافانی حد تک بڑھ جاتا ہے تو یہ کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے ۔ جہاں ٹیکنالوجی نے اچھے نمبر لینے میں آسانی پیدا کردی ہے وہیں دھوکہ دہی کرنا بھی آسان بنا دیا ہے ، کیسے؟ آپ اسے خوب جانتے ہیں! ٹیکنالوجی کا ایک نقصان جس سے ہر والدین متفق ہیں وہ ہے ہماری بینائی۔ سب سے عام دقیانوسی تصورات میں سے ایک ہے کہ جو بھی چشمہ پہنتا ہے اس نے ٹی وی کو اتنا قریب دیکھا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کو زیادہ وقت دینے سے تھکاوٹ ، موٹاپا ، بے خوابی وغیرہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    @itx_safder

  • رب سے گفتگو  تحریر :محمد شفیق

    رب سے گفتگو تحریر :محمد شفیق

    انسان ،زمیں پہ خدا کا پیامبر ،اشرف المخلوقات ،جو ارد گرد موجود ہر چیز پہ دسترس پانے کا ہنر رکھتا ہے جب حالات کی چکی میں پستا ہے تو کندن بن کر نکلتا ہے لیکن کبھی حالات اس نہج پر چلے جاتے ہیں کہ انسان کندن بننے کی بجائے مایوسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے ۔
    رکیے،زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اسے مایوسی اور نا امیدی کی نظر مت کیجیے ،مایوسی سے بچنے کا بہت آسان طریقہ ہے رب سے اپنے تعلقات استوار کیجیے
    یہ زندگی ،زندگی کی رعنائیاں ،جس پروردگار کی عطا کردہ ہیں اس سے ملاقات کیلیے بھی وقت نکالا کریں ۔۔
    بالکل ایسے ہی جیسے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔۔۔۔
    دعوتوں پر جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔۔۔۔
    کام پر جانے کیلئے وقت کا خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔
    اب آپ لوگ کہیں گے، رب سے ملاقات کیلئے نماز پڑھتے تو ہیں ہم۔۔۔ پتا ہے کے نماز سبھی پڑھتے ہیں مگر نماز میں جو خشوع وخضوع ضروری ہوتا ہے وہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا یہ بھی نصیب والوں کو ملتا ہے۔۔۔ ہم جیسے تو بس سجدے کر کے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک سے ملاقات کا وقت رکھیں۔ ٹائم مقرر کر لیں ایک، اس میں اچھے سے صاف ستھرے ہو کے صرف اللّٰہ پاک کیلئے خود کو پیارا بنائیں۔۔۔ بہت اہتمام سے اسکے سامنے حاضری دیں۔ کچھ نہیں کرنا آپ نے کوئی نفل نہیں پڑھنے کوئی لمبی لمبی تسبیحات نہیں کرنی۔۔۔۔ بس خود کو اپنے رب کیلئے پیارا سا بنائیں، جائے نماز بچھائیں اور بیٹھ جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک کو اپنا حال چال سنائیں، اپنی مشکلات بتائیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے اپنے کسی جگری دوست کو بتاتے ہیں۔۔۔ رونا ہے تو رو لیں اسکے سامنے۔۔۔ خوش ہونا ہے تو خوش ہو لیں۔۔۔ اس کو وہ توقعات بتائیں جو آپ نے اپنے رب سے امید کی ہوئیں ہیں۔۔۔ دوسروں سے جو شکوے شکایات اپنے رب کو بتائیں۔۔۔ اپنی کمزوریوں ،کوتاہیوں ،لغزشوں کا عتراف اس ہستی کے سامنے کریں جو طعنہ نہی دیتی جو کسی دوسرے پہ آپ کے راز آپ کے عیب عیاں نہی کرتی ۔۔۔ وہ جو غفور الرحیم ہے نا اس سے اپنی نادانیوں پہ معافی مانگو ۔ جو دل کرتا ہے جیسے کرتا ہے ویسے اس خالق سے گفتگو کریں ۔۔۔اور جب ملاقات ختم کر کے جائے نماز اٹھانے لگے تو بالکل ویسے ہی اٹھیں جیسے ایک دوست سے گلے لگ کر پیار محبت سے رخصت کرتے ہیں۔۔۔ آپ اللّٰہ پاک سے ایسے ہی رخصت ہوں۔۔۔
    پھر۔۔۔۔ پھر آپ سکون سے بھر جائیں گے۔۔۔ پتا جو شکایات آپ اللّٰہ پاک سے کر کے آئیں ہوں گے نا ،وہ خودبخود ختم ہونے لگیں گی۔۔۔ شکر بڑھ جائے گا۔۔۔ دل صاف ہونے لگے گا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ پاک کی ذات کے ساتھ ہونے کا احساس رہنے لگے گا ۔۔۔ آپ تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں ہوں گے۔۔۔۔ آپ کے پاس بیٹھنے والے لوگ بھی سکون محسوس کریں گے۔۔۔ اور پتہ کیا آپکو اپنے رب سے بہترین دوست کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ تو اپنے رب سے دوستی کریں۔۔
    @Ik_fan01

  • انگلینڈ کرکٹر بین سٹوکس غیرمعینہ مدت کیلئے ہرقسم کی کرکٹ سے دستبردارہو گئے

    انگلینڈ کرکٹر بین سٹوکس غیرمعینہ مدت کیلئے ہرقسم کی کرکٹ سے دستبردارہو گئے

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے آل راؤ نڈر بین سٹوکس نے غیر معینہ مدت کیلئے ہر قسم کی کرکٹ سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے بین سٹوکس نے کہا کہ میری توجہ ذہنی تندرستی اور انگلی کی انجری سے صحت یابی پر ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ نے بین سٹوکس کی بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے عدم دستیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین سٹوکس کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں ان کو مکمل مدد فراہم کرتے رہیں گے ۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ 14 جولائی 2019 کو لارڈز کے میدان میں ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں بین سٹوکس کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا ،انہوں نے انگلینڈ کو عالمی چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

    قومی ٹیم جس وقت انگلینڈ کے دورے پر تھی تو انگلش کھلاڑیوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی جس پر ٹیم کو تبدیل کر دیا گیا اور کھلاڑیوں کو قرنطینہ کروایا گیا ، بعد ازاں انگلینڈ نے اپنی نئی ٹیم کا اعلان کیا جس کی قیادت بین سٹوکس نے کی اور پاکستان کو وائٹ واش کر دیا ۔

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    میری بہنو اور بھائیو بچے ایک پھول کی مانند کی طرح ہوتے ہیں والدین پر فرض ہے ان کی اچھی تربیت کریں آج ہم اپنے بچوں کی جیسی تربیت کریں گے وہ اس پر عمل کریں گے جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو وہ اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کریں گے یعنی ہماری اچھی تربیت سے ہماری نسلیں سنور جائیں گی تو آج اپنے بچوں کی تربیت صرف زبانی نصیحت نہ کریں آج جو عمل ہم کریں گے ہمارے بچے بھی ہمیں فالو کرتے ہیں اگر آج ہم اچھے عمل کریں قرآن مجید نماز پڑھیں تو ہمارے بچے ہمارے ساتھ آ کے نماز پڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے گھروں میں گالم گلوچ کرتے ہیں تو بچوں میں یہی عادتیں پروان چڑھتی ہیں اور جن گھروں میں دینداری کا ماحول ہوتا ہے اچھایاں ہوتی ہیں ایک ایک کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی ہوتی ہے بچوں میں بھی یہی عادتیں صفات ہوتی ہیں آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم ان کے سامنے اچھے عمل کرنے کی کوشش کریں اور برائیوں سے دور ہوجائیں اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دیں تعلیم سے انسان شعور سیکھتا ہے چھوٹے بڑے سے بات کرنے تہذیب ہوتی ہے اپنے بچوں کے ذہن میں اچھے خیال ڈالیں نماز اور قرآن مجید بڑھائیں۔ اپنے بچوں کو سمجھائیں ہمارے دین اسلام میں غلط کام کرنا کتنا بڑا گناہ ہے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بچوں کو دور رکھیں جس طرح یہ لوگ ہمارے بچوں کی تعلیم کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں ایک مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے اور یہ بھی ضروری ہے نو عمر بلوغت کے قریب پہنچنے والی بچیوں اور بچوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہو گا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا کچھ لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں میں بہت سے والدین پریشان ہیں والدین اگر اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو گھر میں زیادہ دیر تک اکیلا نہ چھوڑا کریں کیونکہ آج کل ہر گھر میں ٹی وی اور موبائل عام ہیں تنہائی میں انسان کو شیطان گمراہ کرتا ہے جس سے بچوں کے ذہن میں منفی خیالات آتے ہیں اور پھر وہ غلط کاموں کا شکار ہو جاتے ہیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اپنے دوستوں میں کیا وہ اچھے انسان ہیں یا برے کیونکہ آپ کے بچوں کا کسی برے انسان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے تو وہ بھی غلط کاموں میں لگ جائے گا اس سے بہتر ہے اپنے بچوں پر نظر رکھیں میں متحدہ عرب امارات میں رہتا ہوں پچھلے چھ سال سے عرب لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہت اچھی تربیت بھی کرتے ہیں ہم جب بھی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں بچے اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں یہاں ہر بچہ نماز پڑھتا ہے ان کو کسی بڑے سے بات کرنے کی تہذیب ہے عرب لوگ اپنی چھوٹے بچوں کو غلط کام کرنے سے منع کرتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • میاں بیوی کا رشتہ  تحریر: امتیاز احمد سومرو

    میاں بیوی کا رشتہ تحریر: امتیاز احمد سومرو

    دنیا کا سب سے بڑا رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتی کہ اس کی بیوی سجدہ کرے۔”

    میاں بیوی کی محبت اسلام ہمیں سیکھاتا ہے اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس محبت کا عملی ثبوت دیا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ صدیقہ راضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جیسی محبت کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک بار پانی پی رہی تھیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ اپنے اس پانی سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی بچا کے دینا ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنے حصے کا بچا ہوا پانی دیا تو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ مجھے وہ جگہ بتائیں جہاں سے آپ نے اپنے ہونٹ لگائے ہیں۔سبحان اللّٰہ دیکھیں کیسی محبت ہے۔
    اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ کہا ہے۔ دنیا میں کامیاب انسان اگر دیکھے جائیں تو ان کی کامیابی میں ان کی بیوی کا ہاتھ ہو گا جو اس ہر مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور تاریخ بھری پڑی ہے جس میں کسی شخص کی ناکامی میں اس کی بیوی کا ہاتھ ہوگا۔شیطان روز کچہری لگاتا ہے اور اپنے چیلوں سے پوچھتا ہے کہ آج کیا کام ہے سب باری باری بتاتے ہیں کہ حضور آج جھوٹ بلوایا ہے کوئی کہتا ہے زنا کرایا کوئی کہتا ہے چوری کرائی ہے اس طرح سارے بتاتے ہیں آخر میں ایک چیلا رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے حضور میں نے میاں بیوی کی لڑائی کرائی ہے۔تو شیطان فورا خوش سے تالیاں بجاتے ہوئے کہتا ہے اصل کام تو تو نے کیا ہے اور اس چیلے کو اپنے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کتنا بڑا یہ رشتہ ہے۔ میاں بیوی کی لڑائی مطلب شیطان کی خوشی تو کیا ایک مومن کبھی چاہے گا کہ اس کے عمل سے شیطان خوش ہو؟؟
    آج کل مرد عورت کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور عورتیں مرد کو۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے درمیان رشتہ کتنا بڑا ہے ان کی لڑائی نسلیں تباہ کر دیتی ہے۔کوئی یہ کوشش نہیں کر رہا کہ کیسے ہم اس رشتے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کمپرومائز کریں تو زندگی حسین بن سکتی ہے ۔ مرد عورت کو سمجھے اس کی تکلیف سمجھے عورت مرد کو سمجھے تو وہ ایک خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں۔ اپنی لڑائی ایک بند کمرے میں لڑی جائے کسی تیسرے فریق کو خبر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک گھر کو خوش حال کرنے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔مرد عورت کو خوش رکھیں اس کے لیے مرد کوشش کرے۔ عورت کو خوش کیسےرکھا جا سکتا ہے یہ طریقہ ہمیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے انہوں نے ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے
    ” عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لیے وہ پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر آپ طاقت سے اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو عورت ٹوٹ جائے گی اور اگر پیار سے آہستہ آہستہ سیدھا کرو گے تو سیدھی ہو جائے گی”

    بس میاں بیوی ایک دوسرے سے پیار کریں اپنے بچوں کو وقت دیں ان کی تربیت اچھی طرح کریں اور زندگی حسین بنائیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ ہمارے معاشرے کے سب سے اہم ممبر ہیں۔ وہ بچوں کو مقصد دیتے ہیں ، انہیں ہماری دنیا کے شہری کی حیثیت سے کامیابی کے لئے مرتب کرتے ہیں ، اور ان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے قائد ہیں ، اور اساتذہ وہ نازک نکتہ ہیں جو کسی بچے کو اپنے مستقبل کے لئے تیار کرتا ہے۔ اساتذہ کیوں اہم ہیں؟
    بچے پوری زندگی میں جو کچھ انھیں سکھایا جاتا ہے وہ پوری زندگی میں وہی کرتے ہیں جو وہ سیکھتے ہیں ۔ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ معاشرے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ آج کا نوجوان کل کے قائد بن جائے گا ، اور اساتذہ کو ان کے سب سے زیادہ متاثر کن سالوں میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کی سہولت ہے – چاہے وہ پری اسکول کی تعلیم ، غیر نصابی تعلیم ، کھیلوں یا روایتی کلاسوں کی تعلیم ہو ۔ اساتذہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کے لئے مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل کے لئے بہترین اور موثر مستقبل کی نسلوں کی تشکیل کریں اور اسی وجہ سے معاشرے کو مقامی اور عالمی سطح پر ڈیزائن کریں۔ حقیقت میں ، اساتذہ کا دنیا میں سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے کے بچوں پر اثر ڈالتے ہیں وہ زندگی کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ نہ صرف خود ان بچوں کے لئے ، بلکہ سب کی زندگیوں کے لئے ۔ عظیم اساتذہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے کہ وہ زندگی کو بہتر سے بہتر بناسکیں۔ اساتذہ امدادی نظام کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں جس میں طلبہ کی زندگیوں میں کہیں اور کمی نہیں ہے۔ وہ ایک رول ماڈل اور آگے بڑھنے اور بڑے خواب دیکھنے کے لئے ایک تحریک بن سکتے ہیں۔ وہ طلبا کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے لئے جوابدہ ٹھہراتے ہیں اور اچھے اساتذہ اپنے ہونہار طلبا کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق نہ رہنے دیتے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی اور مضامین کے اساتذہ قابلیت کی تشکیل کرنے اور معاشرے ، زندگی اور ذاتی اہداف کے بارے میں نظریات کی تشکیل میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ طلباء کی حدود کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ تعلیم دینا کا ایک مشکل کام ہے ، لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کسی اور شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ اساتذہ طلبا کے لئے حتمی رول ماڈل ہیں۔ اس حقیقت کی حقیقت یہ ہے کہ طلباء اپنے تعلیمی کیریئر میں متعدد مختلف قسم کے اساتذہ کے ساتھ رابطے میں آجاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امکان نہیں ، ایک ایسا استاد ہوگا جو ان سے بات کرے۔ اساتذہ طلباء کا ربط کچھ طلباء کے لئے انمول ہے ، جن میں دوسری صورت میں استحکام نہیں ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اپنے طلبا کے لئے مثبت رہیں گے یہاں تک کہ چیزیں بھیانک محسوس ہوسکتی ہیں۔ ایک عظیم استاد ہمیشہ اپنے طلباء کے لئے ہمدردی ، اپنے طلباء کی ذاتی زندگی کو سمجھنے اور ان کے تعلیمی اہداف اور کامیابیوں کے لئے تعریف کرتا ہے۔ اساتذہ بچوں کے مثبت ہونے ، ہمیشہ زیادہ محنت کرنے اور ستاروں تک پہنچنے کے لئے رول ماڈل ہیں۔ علم اور تعلیم ہی ان تمام چیزوں کی اساس ہیں جو زندگی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اساتذہ آج کے نوجوانوں کو تعلیم کی طاقت فراہم کرتے ہیں ، جس سے انہیں بہتر مستقبل کا امکان مل جاتا ہے۔ اساتذہ کمپلیکس کو آسان بناتے ہیں ، اور خلاصہ تصورات کو طلباء تک قابل رسائی بناتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو ایسے آئیڈیاز اور عنوانات سے بھی روشناس کرتے ہیں جن سے وہ بصورت دیگر سیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہ مفادات کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے طالب علموں کو بہتر کام کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اساتذہ ناکامی کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے طلباء کے کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ طلبا کو کب دھکیلنا ہے ، کب صحیح سمت میں ہلکا ہلکا انداز دینا ہے اور کب طالب علموں کو خود ان کا پتہ لگانا ہے۔ لیکن وہ کسی طالب علم کو ہار نہیں ماننے دیں گے۔ اساتذہ ہر طرح کے طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اساتذہ ہر بچے کی طاقت اور کمزوریوں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں اور مدد اور رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ یا تو انھیں تیز رفتار سے بڑھایا جائے . یا اس سے زیادہ بلند کیا جاسکے۔ وہ طلبا کی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور زندگی کی قیمتی صلاحیتوں جیسے مواصلات ، ہمدردی ، پیش کش ، تنظیم ، مندرجہ ذیل سمتوں اور مزید بہت کچھ سکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ تحریک الہامی اور محرک کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ اساتذہ طلبا کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں ، اور انہیں محنت سے کام کرنے اور اپنے تعلیمی اہداف کو راستے پر رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تعلیم کسی ملک کی ترقی کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ اگر معاشرے کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں تو مستقبل پیدا ہوتا ہے۔ اساتذہ ایسی تعلیم مہیا کرتے ہیں جس سے معیار زندگی بہتر ہوتا ہے ، لہذا مجموعی طور پر افراد اور معاشرے دونوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ اساتذہ طلباء کی پیداوری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وجہ سے آئندہ کارکنوں کی جب طلبا کو تخلیقی اور نتیجہ خیز بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ، ان کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کاروباری ہوں اور تکنیکی ترقی کریں ، اور آخر کار یہ کسی ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنیں۔

    Twitter handle :
    ‎@Maqbool_hussayn

  • بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ اپنی ساری زندگی ایک ہی معمول کے مطابق گزار دیں اور آپ ” آفس پلانکٹن” بن جائیں پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ اپنی زندگی کو اس قدر بورنگ کر کے گزارنا چاہتے ہیں کہ تمام تر زندگی خواب اور محض خواب دیکھنے میں ہی گزر جائے؟ اگر نہیں! تو ابھی رک جائیں اور سوچیں کہ جو خواب آپ دیکھ رہے ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے کیا بدلا جا سکتا ہے اور زندگی کو جینے کا اصل مزہ کیسے لے سکتے ہیں؟
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی میں ہم میں سے ہر شخص کم از کم ایک بار ضرور خوابوں کی دنیا میں کھو جاتا اور حقیقت سے کہیں بہت دور نکل جاتا ہے، ہم رات و رات سپر سٹارز بننے کا خواب کا دیکھنے لگتے ہیں اور سب کی توجہ کا مرکز بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔مگر ایسا صرف ہم اپنی سوچوں میں کررہے ہوتے ہیں کبھی سوچا کہ حقیقت میں اس کے لیے کیا کیا اب تک؟ بہت سے لوگ اب کہیں گے کہ خواب سچے ہوتے ہیں تو انہیں بتاتی چلوں خواب سچے ہوتے نہیں ہیں انہیں سچا بنانا پڑتا ہے، خواب پورے کرنے پڑتے ہیں، محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور خواب تب سچے ہوتے ہیں جب آپ رکتے نہیں ہیں ، جب آپ ہار نہیں مانتے اور پوری لگن کے ساتھ ان کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ جب آپ خوابوں کو جینا شروع کرتے ہیں۔
    اب وقت ہے جینا شروع کریں!!
    اپنی زندگی میں تاخیر سے کام لینا بند کریں۔فلموں اور پریوں کی کہانیوں پہ یقین کرنا چھوڑ دیں ، ان میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے، ان میں یہ بھی جھوٹ ہے ہوتا ہے کہ آپ کو بس صبر سے کام لینا ہےاور انتظار کرنا ہے سب کچھ ایک دن خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے کیسے ٹھیک ہو جائے گا جب آپ نے اس کے لیے کبھی کوشش کی ہی نہیں! اس وہم کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ جب آپ پریکٹکل زندگی میں قدم رکھیں گے تو خود بہ خود ایک مشروط مقام تک پہنچ جائیں گےجس کے خواب بچپن سے اب تک دیکھتے آئے۔اسے افسانہ سمجھیں – ایک ہوریزون لائن کی طرح جسے منزل کے قریب پہنچنے پہ ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ بس ایک پوائنٹ ہے۔ اور اس کے پیچھے سوائے خاموشی اور اندھیرے کے کچھ نہیں ہے اور جہاں رکنے سے بہت دیر ہو سکتی ہے۔ آگے بڑھیں اور منزل کو پا لیں!
    جیو! ابھی جیو! خود کو محسوس کرو ، اپنی گزری ہوئی زندگی پہ نظر ڈالو۔ لمبی لمبی سانس لہں اور وقت کی گردش کو محسوس کریں یا پھر اسے رکنے دیں، آپ پہ منحصر ہے۔ہر اس چیز کو رستے سے ہٹا دو جو آپ کو منزل کی طرف بڑھنے سے روک رہی ہے، اپنے لیے آسانیاں اور سکون کے رستے ہموار کریں۔ اپنے سمارٹ فونز میں سے دوسروں کی زندگیوں، ان کے حقائق اور خوابوں کو دیکھنا چھوڑیں، لوگ جیسے سوشل میڈیا پہ خود کو دیکھاتے وہ اصل زندگی میں ویسے نہیں ہوتے۔ اپنی زندگی بنایں ، کچھ ایسا کر جایں کہ دنیا آپ کا نام سرچ کرے آنے والے دنوں میں۔
    پرانی باتیں، نفرتیں، ناکامیابیاں سب بھول کر محسوس کریں کہ آپ ہیں ! آپ کے پاس کودآپ ہیں ۔ جی آپ! مکمل، بلکل مکمل اور جب آپ ہیں تو کسی اور کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ یقینا آپ کو آپ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو گی۔
    جان لیں کہ آپ اپنے خوابوں کے تخلیق کار ہیں۔یہ زندگی آپ کی ہے، اس میں ہر خوشی ، ہر دکھ ، ہر جیت اور ہر ہار کے آپ ذمہ دار ہیں۔ صرف آپ! اب یہ آپ کا کام ہے کہ سوچیں اب تک آپ کیا تھے اور آگے آپ کو کیا بننا ہے۔ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اپنے دل کی آواز سنیں اور چل پڑیں اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے۔سکون کا سانس لیں! پیار کریں! خوشیاں بانٹیں اور عمل کرنا شروع کریں۔جو بھی کرنا ہے یا زندگی میں جو بھی کچھ آپ کو چاہیے ابھی وقت ہے حاصل کر لیں، اسےمزید ملتوی نہ کریں۔
    آپ کے پاس ہر وہ چیز پہلے سے موجود ہے جس کی اپنے خوابوں کی تکمیل میں آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔خوش رہیں اور شکر گزار بنیں۔ آپ اندر سے کون ہیں اس سے خوفزدہ نہ ہوں۔ خودکو خودسے پوشیدہ نہ رکھیں۔اپنے ٹیلنٹ کو کھل کے سامنے آنے کا موقع دیں۔ اور اب جینا شروع کریں!

    @MS_14_1

  • بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ  کھیلنے کا اعلان کر دیا

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    کولمبو:کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، بھارتی دھمکیوں کے باوجود سری لنکن آل راؤنڈر تلکا رتنے دلشان نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر پریمیر لیگ 6سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی اور لیگ کا فائنل 16 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہو گا بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔

    بھارت کی دھمکی پر انگلینڈ کے سپن باؤلر مونٹی پنیسر، میٹ پرایئر ودیگر نے لیگ سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا تاہم سابق سری لنکن اوپنر تلکارتنے دلشان نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کردیا ہے-

    گویا جنوبی افریقہ کے اوپنرہرشل گبز نے بھی کے پی ایل سے دستبراداری سے اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں کشمیر پریمئیر لیگ کے خلاف بھارتی سازشوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی دباؤ غیر ضروری ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر مجھے کشمیر پریمیر لیگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی-

    ہرشل گبز نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ مجھے آئندہ بھارت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا مجھے کرکٹ سے متعلق کام سے روکنے کی دھمکیاں دی گئیں-

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

  • آزاد کشمیر کی صحافت  تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیر کی صحافت تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    میری اپنی سمجھ کے مطابق صحافت قوموں کی آزادی و خودمختاری میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور آزادی کے خیالات کو پھیلانے اور ان کی نشونما کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے مجھے اس کی تازہ ترین مثال بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے کردار سے دی جاسکتی ہے کے وہاں سے صحافیوں نے اندرونی اور عالمی سطح پر اس تحریک کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پھر وہاں سے جو ایک اخبار کا غالبًا سیری نگر فلیش نکلتا ہے بقول ایک انگریز "ٹورسٹ” اس کو نکالنے والے کشمیری صحافی جن خطرناک حالات میں اسے نکالتے ہیں اس سے ان کی اپنی پیشہ اور قوم کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی کا پتا چلتا ہے یوں دیکھا جائے تو باقی مقبوضہ کشمیر میں الحاق ہندوستان کی قوتیں اپنا کردار صحیح طرح سے ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں کیوں کہ وہاں سے موجود مسلح تحریک کے شروع ہونے سے پہلے 22 روزنامہ اور بیسیوں ہفت روزے اور ماہنامے نکلتے تھے لیکن آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان کی قوتوں نے اپنا کردار اس بھرپور طریقے سے ادا کیا ہے کہ یہاں صحافت بیچاری کا جنم ہی نہیں ہوسکا بالکل معیست کی طرح خدا خدا کرکے ایک روزنامہ آزادی نکلا تھا سنا ہے کے وہ بھی نہ نکلنے کا پابند ہوگیا ہے۔جس طرح باقی میدانوں میں آزاد کشمیر پاکستان کے سرمایا کاروں کی منڈی ہے اس طرح صحافت کی منڈی پر بھی پاکستان کے سرمایہ کاروں کی آجارہ داری ہیں اور آزاد کشمیر کا کوئی اخبار "جنگ” اور "نوائے وقت” کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ دونوں اخبار الحاق کی تحریک کو پاکستان کے حکمرانوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی آج تک اس میں کامیاب رہی ہیں کے یہاں سے کوئی اخبار نہ نکلے جس کی وجہ سے اس خطے میں افراد میں صحافتی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں وہ پاکستان کے ان اخباروں کے علاقائ رپورٹروں اور تقسیم کاروں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یوں کشمیر کے اس خطے کے اخبار بینوں کا سیاسی اور سماجی شعور براہ راست پاکستانی اخبارات اور ان کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کی مٹھی میں رہتا ہے اور ان کے مفادات کے مطابق "پروان "چڑھتا ہے۔
    نام : ذیشان وحید بھٹی
    ٹویٹر آئ دی :
    @zeeshanwaheed43