Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مزدور کی زندگی  تحریر:کاشف حسین

    مزدور کی زندگی تحریر:کاشف حسین

    مجھے اپنی زندگی کے دوران نوکری کے سلسلے میں پاکستان دیکھنے اور گھومنے کا کافی موقع ملا بس ایک صوبہ سندھ ہی رہتا تھا اور میری شدید خواہش تھی کہ میں سندھ جاؤں اور سندھ کے مختلف شہر گھوموں تاکہ مجھے پتا چلے کہ سندھ کے لوگوں کی طرز زندگی اور رہن سہن کیا ہے۔۔اور سندھ کے پسماندگی کی وجہ کیا ہے۔۔کوی چار مہینے پہلے میری پوسٹنگ سندھ کے شہر چھور کینٹ میں ہوی یہ شہر حیدرآباد سے 170 کلو میٹر دوری پر واقعہ ہے۔بہت ہی پسماندگی کا شکار ہے۔شہر اور گردونواح میں مسلمان اور ہندو آبادی کی شرح برابر ہے۔۔دور دور تک سکول نظر نہیں آتا اور علاج کے لیے ہسپتال بھی مجھے ابھی تک نظر نہیں آیا بس سنا ہے کہ یہاں سے 25 کلومیٹر دور عمر کوٹ شہر ہے جہاں سرکاری ہسپتال ہے۔وہاں کے لوگوں کی غربت اور بے بسی پر رونا آتا ہے۔شہر کے علاؤہ آس پاس دیہات میں بجلی نہیں اور پانی کی بھی شدید کمی ہے۔۔شدید گرمی میں لوگ درختوں کے سایہ میں دن گزارتے اور سارا دن اپنے علاقے کے جاگیردار اور وڈیرے کے کھیتوں میں محنت مشقت کرتے۔میں اکثر جب یہاں کے لوگوں کو دیکھتا جن کے پاس اپنی ضروریات زندگی کے لیے کوئ سہولت موجود نہیں تو اپنے ساتھ لڑکوں سے کہتا کہ بہت شوق تھا سندھ آنے اور رہنے کا لیکن جب یہاں کے لوگوں کو بے بسی کی زندگی گزارتے دیکھا تو میرا یہاں رہنے کا شوق تو پورا ہوگیا۔کچھ دن پہلے ایک کسان سے ان کے رہن سہن کے بارے میں پوچھنے لگا جو اپنے وڈیرے کے کھیتوں میں محنت مشقت کر رہا تھا۔اس سے پوچھا بھائ آپ کھانے میں کیا کھاتے اور دن میں کتنے ٹائم کھانا کھاتے تو کہنے لگا پسی ہوئ لال مرچوں کو تڑکا لگا کر پھر پانی ڈال کر شوربہ بنا کر اس میں کھانا کھاتے دن دس بجے اور رات کھانا کھاتے سبزی دال کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں کہ خرید کر کھا سکے البتہ کبھی کبھی ٹماٹروں کی چٹنی بنا کر اس سے کھانا کھاتے۔۔میں اکثر یہ سوال کرتا کہ کیا چھور میں رہنے والے لوگ پاکستان کا حصہ نہیں ہیں ۔کیا ان کی نسلیں اسی طرح پروان چڑھتی رہے گے۔بس ساری زندگی آپنے وڈیروں کی خدمت کی ۔کیا اس سسٹم کے خلاوہ آواز اٹھانے والا کوئ نہیں۔کیا ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئ حق حاصل نہیں۔ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم سندھ کے شہر چھور اور ایسے بہت سے شہروں کے لوگ جو غربت اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔۔سندھ حکومت سے میری گزارش ہے کہ اب بہت ہوگیا اب تو اس بے بس عوام کے بارے میں سوچنا شروع کردے ان کے بچوں کے لیے سکول بنوا دے اور علاج کے لیے ہسپتال تاکہ یہ لوگ پڑھ لکھ کر اپنے مسقبل کا تحفظ کرسکے۔ شکریہ
    @kashu_uu

  • بچوں کی تعلیم اور والدین کی زبردستی  تحریر: عتیق الرحمن

    بچوں کی تعلیم اور والدین کی زبردستی تحریر: عتیق الرحمن

    ہمارے معاشرے میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے
    یہاں تک کے جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کررہے ہوتے ہیں۔ یہ بات بلکل درست ہے کہ والدین اپنی اولاد کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ واحد والدین ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ انکی اولاد ان سے بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام حاصل کرے
    لیکن بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں والدین اکثر غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ اولاد پھر مستقبل میں بھگتتی رہتی ہے۔ معاشرے کو دیکھ کر یا کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا دیکھ کر والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے جو کہ ایک غلط راستہ ہے
    اللّہ نے سب کو دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے اور بعض و اقات اس کے ذہن بننے میں اس سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جہاں وہ رہتا ہے۔ اسکا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے سوچنے کے زاویے سے جیسا وہ دوسروں کو دیکھتا ہے
    اب ایک بچے کی دلچسپی اگر اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے سامنے ایک روم میٹ ہے اور وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھوا چکا اور بھرپور تیاری سے پڑھ بھی رہا تھا کہ اچانک اسے گھر سے کال آتی ہے
    وہ فون کے بعد پریشان دکھائی دیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے گھر والے اب اسے میڈیکل کالج میں داخلے کا کہہ رہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہے کہ جو داخلہ بجھوایا ہے اسے وہیں چھوڑ دو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے جو کہ اس لڑکے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں اور وہ کہہ رہا تھا کہ میں نہ اب اس امتحان کی تیاری کرنی ہے جس کا داخلہ بجھوایا اور نہ ہی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس ہونا ہے
    نتیجہ کیا ہوا؟ سال برباد ہجائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی۔ اگر والدین پہلے اس سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا خدشہ ہوتا۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے
    رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے کی ذہنی حالت کا تعین کرلیں کہ جس تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے کا اسے کہا جا رہا ہے وہ اتنا قابل بھی ہے۔ یا پھر کسی فوجی کو بنا ٹریننگ یا بندوق پر محاذ پر لڑنے بھیج دیا جائے تو لڑنے کی بجائے خود بچنے پر زیادہ فوکس کرے گا
    بچے کے تعلیمی مراحل کا انتخاب کرتے وقت اسکے ذوق کو مد نظر رکھیں . اپنی پسند یا کسی پیشے کی مالی منفعت کے باعث اسے زبردستی کے مضامین اختیار کرنے پر مجبور نہ کریں . اپنے ذوق کے مطابق تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ہمیشہ اپنے فن میں یکتا ثابت ہوتے ہیں ۔ اپنے فن میں یہ مہارت اور دلچسپی نہ صرف انہیں مالی مسائل سے دوچار نہیں ہونے دیتی بلکہ وہ کام کر کے بھی ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں اور یہی ذہنی سکون انسان کا کل سرمایہ ہوتا ہے ۔

    @AtiqPTI_1

  • تتہ پانی یا موت کا کنواں؟  تحریر:روشن دین دیامری

    تتہ پانی یا موت کا کنواں؟ تحریر:روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ایک ایسا علاقہ جہاں سے کے کے ایچ ہمیشہ بلاک ہوتا ہے۔ اس روڈ پہ اب تک سیکٹروں لوگوں کے جان اور گاڑیاں چلی گی ہے ۔ اج ہم اس پہ بات کرتے کہ یہ روڈ اخر کیوں بلاک ہوتا ہے کیا قدرتی افت کی وجہ سے بلاک ہوتا ہے کچھ ادارے جان بوجھ کے اس روڈ کو اسے کنڈیشن میں رکھے ہوے ہیں ؟ یہ بہت سارے سوالات ہیں جن کے جواب باہر حال ہر گلگت بلتستانی شہری کو چاے۔جب اپ اسلام اباد سے جیسے ہی دیامر میں داخل ہوتے ہو تو سب سے پہلے چلاس شہر اتا ہے چلاس سے دو گھنٹے کے سفر گلگت کے طرف کرنے کے بعد تہ تہ پانی کا مقام اتا ہے۔اس علاقہ کا نام بھی اس لے تہ تہ پانی (تتو وی) کہا گیا کیونکہ یہاں گرم چشمے پوٹھتے ہیں۔یہاں کا پانی گرم ہونے کی وجہ یہاں پہ گندھک (سلفر) کثیر مقدار میں ہونا ہے ۔اسی پہاڑ میں سے ایک فالٹ گزرتا ہے جسے رائیکوٹ فالٹ کہتے ہیں ۔یہ ایک ایکٹیو فالٹ ہے مطلب یہ کہ یہاں کی زمین ہمیشہ ہلتی رہتی ہے۔جس کے وجہ سے ہمیشہ سلائڈنگ ہوتی ہے یہ تتہ پانی کا ایریا تقریبا پانچ کلومیڑ کے ایریا پر مشتمل ہیں جو کہ ہمیشہ سے اس پہاڑوں کٹاو کی وجہ سے بند رہتا ہے۔اس روڈ کو کلیر کرنے کے لےاین ایچ اے کے سب کنٹریکٹر ایف ڈبلو او نامی ادارے کے زمداری ہےکہ وہ کسی بھی قسم کے صورت حال میں روڈ کو صاف کرنے کے زمدار ہے اور روڈ بند ہونے کے صورت میں اوپن کرنا وغیرہ سب ان کے زمے ہے.اس روڈ کے متبادل ایک اور روڈ جو بلکل اس روڈ کے مخالف سمیت یعنی دریا سند ھ کے دوسرے طرف ہے وہ گوہراباد سے رائیکوٹ بریج کے لیفٹ بنک سے جوڑتا ہے جو کہ بلکل سیف روڈ ہے۔ اگر رائیکوٹ بٹسولئ سے پل کو دریا کے دوسرے طرف جوڑ دیا جاے اور وہاں ایک لینک روڈ جو پہلے سے موجود ہے کو میٹل کیا جاے اور اسے رائیکوٹ پل کے لیفٹ طرف جوڑ دیا جاے تو اس پریشانی کا مکمل حل ہوجاے گا۔مگر اس سے جو ادارے روزانہ روڈ کھولنے کے نام پہ کروڑوں پیسے کھا رہے ہیں ان کا روزی روٹی بن ہوجاے گی اور کرپشن کرنے کے مواقع ختم ہوجاے گے۔عوام گلگت بلتستان گزشتہ تیس سالوں سے ہزاروں دفع اس اشو پہ احتجاج کیا ہے لیکن این ایچ اے کو کوئی پرواع ہی نہیں ہے۔دوسرا اپشن اب چونکہ سی پیک کا روڈ بھی اسے طرف سے بننا ہے جو ڈرنگ پل تک ہے ڈرنگ پل سے رائیکوٹ پل اٹھ کلومیڑ ہے اگر اسی کے ساتھ مذید اٹھ کلومیٹر ایکسیٹنشن کیا جاے تو یہ اشو مکمل طور پہ حل ہوگا۔ہزاروں انسانوں کی قیمتی جانی ضیا ہونے سے بچیں گے

  • دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
    یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

    حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

    حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

    نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
    جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
    اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

    @mmasief

  • پاکستان کو اولمپکس ميڈل جيتے 29 برس بيت گئے  تحریر: نام: سلطان محمود خان

    پاکستان کو اولمپکس ميڈل جيتے 29 برس بيت گئے تحریر: نام: سلطان محمود خان

    يہ بات ہے 1992 کي جب پاکستان نے آخري بار اولمپکس ميں ميڈل جيتا تھا۔ بانوے ميں ہونے والے بارسلونا اولمپکس ميں پاکستان ہاکي ٹيم نے کانسي کا تمغہ جيتا تھا مگر اب 29 سال ہوگئے پاکستان کي اولمپکس ميں ميڈل کي تلاش ختم ہي نہيں ہورہي۔ ميڈل تو دور کي بات ہے پاکستان ہاکي ٹيم لگاتار دوسري بار اولمپکس کيلئے کواليفائي کرنے ميں ناکام رہي۔ 2016 کے ريو اولمپکس اور پھر2020 کے ٹوکيو اولمپکس ميں پاکستان ہاکي ٹيم جگہ نہ بناسکي۔ يہ وہي کھيل ہے جس ميں پاکستان نے 8 ميڈلز جيتے۔ پاکستان نے اولمپکس کي تاريخ ميں 10 ميڈل حاصل کيے جن ميں سے 8 ہاکي نے ديے۔ ان آٹھ ميڈلز ميں تين گولڈ، تين چاندي اور دو کانسي کے تمغے شامل ہيں۔ مگر اب قومي کھيل مسلسل تنزلي کا شکار ہے۔ ہاکي کے علاوہ پاکستان نے ريسلنگ اور باکسنگ ميں بھي ايک ايک ميڈل جيت رکھا ہے

    جاپان کے شہر ٹوکيو ميں کھيلوں کي دنيا کا سب سے بڑا ميلہ جاري ہے۔ دنيا بھر کے 11 ہزار سے زائد ايتھليٹس ميڈلز کي دوڑ ميں جان مارہے ہيں۔ پاکستان کے بھي دس ايتھليٹس قسمت آزمانے ٹوکيو گئے مگر آدھے سے زائد ايتھليٹس کسي ميڈل کے بغير ہي ايونٹ سے باہر ہوگئے۔ ٹوکیو اولمپکس میں سب سے پہلے باہر ہونے والے پاکستانی شوٹر گلفام جوزف تھے جنہوں نے 10 میٹر ائیر پسٹل میں شرکت کی۔ چھتيس شوٹرز میں سے آٹھ شوٹرز نے فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنا تھا، پاکستانی شوٹر گلفام نے 600 میں سے 578 شوٹ نشانے پر مارے مگر وہ فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکے اورنویں پوزیشن حاصل کی۔

    اولمپکس مقابلوں میں پہلی بار بیڈمنٹن میں انٹری حاصل کرنے والي ماحور شہزاد ایک میچ بھی نا جیت سکیں، انہیں پہلے ميچ ميں جاپانی کھلاڑی نے شکست دي جبکہ دوسرے ميچ ميں انگلینڈ کی کرسٹی نے ہرا کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

    ٹوکيو اولمپکس سے باہر ہونے والے پاکستان کے تيسرے ايتھليٹ طلحہ طالب تھے۔ طلحہ نے ويٹ لفٹنگ کي 67 کلو گرام کيٹگري ميں پاکستان کي نمائندگي کي۔ طلحہ طالب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچويں پوزيشن حاصل کي اور معمولی فرق سے ہار گئے۔ مجموعی طور پر 320 کلو گرام وزن اٹھا کر طلحہ نے ایک وقت پر میڈل کی امید روشن کر دی تھی لیکن پھر اطالوی ویٹ لیفٹرز نے صرف دو کلو اضافی وزن اٹھا کر طلحہ طالب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

    سوئمر حسیب طارق نے 100 میٹر فری اسٹائل کے ہیٹ ٹو میں انٹری دی اور 72 سوئمرز میں ان کا نمبر 62 واں رہا۔

    جوڈو میں میڈل کی امید شاہ حسین شاہ تھے۔ 100 کلو گرام کيٹگري ميں شاہ حسين کا مقابلہ عالمی نمبر پر 13 مصر کے رمضان درویش سے تھا، مصری جوڈو کاز نے شاہ حسین شاہ کو باآسانی شکست دے دیکر پاکستان کی یہ امید بھی ختم کر دی۔ شاہ حسین شاہ پاکستانی باکسر حسین شاہ کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے 1988 سیئول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

    سوئمر بسمہ خان نے 50 ميٹر فري اسٹائل ميں پاکستان کي نمائندگي کي مگر وہ بھي کواليفانگ راونڈ ميں ناکام رہي۔ ہيٹ فائيو ميں آٹھ سوئمرز پول ميں اتريں جس ميں بسمہ خان کا ساتواں نمبر رہا اور يوں پاکستان کے چھ ايتھليٹس ٹوکيو اولمپکس سے باہر ہوگئے۔ آنے والے دنوں ميں پاکستان کے مزيد چار ايتھليٹس ايکشن ميں ہوں گے۔ یکم اگست کو شوٹر خلیل اختر اور غلام بشیر 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل ايونٹ ميں اپني قسمت آزمائيں گے۔ نجمہ پروین 2 اگست کو 200 میٹر ریس میں حصہ لیں گی جبکہ 4 اگست کو ارشد ندیم جیولن تھرو میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ ارشد ندیم پاکستانی دستے کے واحد ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے ٹوکیو اولمپکس کے لیے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کوالیفائی کیا۔

    پاکستان کي آبادي 22 کروڑ سے زائد ہے مگر کھيلوں ميں پاکستان "برمودا” اور "سان مارينو” سے بھي پيچھے رہ گيا۔ چھوٹے سے جزيرے پر قائم برمودا کي آبادي صرف 63 ہزار لوگوں پر مشتمل ہے۔ ٹوکيو اولمپکس ميں برمودا کے صرف دو ايتھليٹس آئے ان ميں سے بھي ايک نے گولڈ ميڈل جيت ليا۔ خواتين کے ٹرائي تھلون مقابلوں ميں فلورا ڈفي نے سونے کا تمغہ جيت کر تاريخ رقم کي۔ برمودا اولمپکس کی تاریخ میں گولڈ میڈل جیتنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ ايک اور ملک ہے جو رقبے اور آبادي کے لحاظ سے برمودا سے بھي چھوٹا ہے۔ یورپی ملک "سان مارینو” اولمپکس کی تاریخ میں میڈل حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک بن گیا۔ سان مارينو کي خاتون کھلاڑي نے شوٹنگ مقابلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ خاتون شوٹر کی جانب سے کانسی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد سان مارینو اولمپک کی تاریخ میں کوئی بھی میڈل حاصل کرنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔ سين مارينو کي آبادي صرف 34 ہزار ہے۔ جس کے پانچ ايتھليٹس ٹوکيو اولمپکس ميں شرکت کررہے ہيں۔ دوسري طرف 22 کروڑ آبادي والا ملک پاکستان اس بار بھي اولمپکس ميڈل سے محروم ہے۔

  • خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ

    خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ

     

    دنیا میں آپ جتنی خرابیاں دیکھتے ہیں ان سب کی جڑ دراصل حکومت کی خرابی ہے ۔ طاقت اور دولت حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ قانون حکومت بناتی ہے ۔ انتظام کے سارے اختیارات حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں ۔ پولیس اور فوج کا زور حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہے وہ یاتو و حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہے ، یا اس کی مدد سے پھیلتی ہے ، کیونکہ کسی چیز کو کھیلنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہے ۔

    مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ زنا دھڑلے سے ہو رہا ہے۔اور علانیہ کوٹھوں پر بیکاروبار جاری ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت کے اختیارات جن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ، ان کی نگاہ میں زنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ وہ خود اس کام کو کرتے ہیں اور دوسروں کو کرنے دیتے ہیں ، ورنہ وہ اسے بند کرنا چاہیں تو یہ کام اس دھرلّے سے نہیں چل سکتا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سود خواری کا بازار خوب گرم ہو رہا ہے اور مال دار لوگ غریبوں کا خون چوستے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ حکومت خودسود کھاتی ہے اور کھانے والوں کو مدد دیتی ہے ۔ اس کی عدالتیں سودخواروں کو ڈگریاں دیتی ہیں اور اس کی حمایت ہی کے بل پر یہ بڑے بڑے ساہوکارے اور بینک چل رہے ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں بے حیائی اور بداخلاقی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ یہ کس لیے ؟ محض اس لیے کہ حکومت نے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا ایسا ہی انتظام کیا ہے اور اس کو اخلاق اور انسانیت کے وہی نمونے پسند ہیں جو آپ کو نظر آرہے ہیں کسی دوسرے طرز کی تعلیم وتربیت سے آپ کسی اورنمونے کے انسان تیار کرنا چاہیں تو ذرائع کہاں سے لائیں گے ؟ اور تھوڑے بہت تیار کر بھی دیں تو وہ کھپیں گے کہاں ؟ رزق کے دروازے اور کھپت کے میدان تو سارے کے سارے بگڑی ہوئی حکومت کے قبضے میں ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بے حدوحساب خون ریزی ہورہی ہے ۔ انسان کا علم اس کی تباہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انسان کی محنت کے پھل آگ کی نذر کیے جارہے ہیں اور بیش قیمت جانیں مٹی کے ٹھیکروں سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ ضائع کی جارہی ہیں ۔ یہ کس وجہ سے ؟ صرف اس وجہ سے کہ آدم کی اولاد میں جولوگ سب سے زیادہ شریر اور بد نفس تھے وہ دنیا کی قوموں کے رہنما اور اقتدار کی باگوں کے مالک ہیں۔ قوت ان کے ہاتھ میں ہے ، اس لیے وہ دنیا و جدھر چلارہے ہیں اسی طرف دنیا چل رہی ہے ۔ علم دولت محنت ، جان ، ہر چیز کا جو مَصرف انھوں نے تجویز کیا ہے اس میں ہر چیز صَرف ہورہی ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف ظلم ہورہا ہے ، کمزور کے لیے کہیں انصاف نہیں غریب کی زندگی دشوار ہے ۔ عدالتیں بنئے کی دوکان بنی ہوئی ہیں جہاں سے صرف روپے کے عوض ہی انصاف خریدا جاسکتا ہے ۔ لوگوں سے بے حساب ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور افسروں کی مہانہ تنخواہوں پر، بڑی بڑی عمارتوں پر، لڑائی کے گولہ بارود پر اور ایسی ہی دوسری فضول خرچیوں پراڑا دیے جاتے ہیں ۔ ساہوکار زمین دار ، راجہ اور رئیس خطاب یافتہ اور خطاب کے امیدوار عمائدین ، گدی نشین پیر اور مہنت ، سینما کمپنیوں کے مالک شراب کے تاجر، فحش کتابیں اور رسالے شائع کرنے والے ، جوئے کا کاروبار چلانے والے اور ایسے ہی بہت سے لوگ خلق خدا کی جان ، مال ، عزت ، اخلاق ، ہر چیز کو تباہ کر رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟ صرف اس لیے کہ حکومت کی کل بگڑی ہوئی ہے ۔ طاقت جن ہاتھوں میں ہے ، وہ خراب ہیں ۔ وہ خود بھی ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیتے ہیں ، اور جو ظلم بھی ہوتا ہے اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس کے ہونے کے خواہش مند یا کم از کم روادار ہیں ۔

    ان مثالوں سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ لوگوں کے خیالات کا گمراہ ہونا ، اخلاق کا بگڑنا ، انسانی قوتوں اور قابلیتوں کا غلط راستوں میں صَرف ہونا ، کاروبار اور معاملات کی غلط صورتوں اور زندگی کے بُرے طور طریقوں کا رواج پانا ظلم و ستم اور بد افعالیوں کا پھیلنا اور خلقِ خدا کا تباہ ہونا ، یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس ایک بات کا کہ اختیارات اور اقتدار کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب طاقت بگڑے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور جب خلقِ خدا کا رزق انھی کے تصّرف میں ہوگا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھیلائیں گے ، بلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے کھیلے گی اور جب تک اختیارات ان کے قبضے میں رہیں گے کسی چیز کی اصلاح نہ ہو سکے گی ۔

     

    @muhammadmoawaz_

  • میوزک کی حقیقت    تحریر:نصرت پروین

    میوزک کی حقیقت تحریر:نصرت پروین

    آج ہم ایک ایسے فتنہ خیز دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں لوگ برملا عبادت کا انکار کرنے لگے، کچھ تو رب ہی کا انکار کرتےہیں، کوئی حجاب کو قید کہتا ہے تو کہیں حجاب سے آزادی ہے اور کہیں تو مکمل لباس سے ہی آزادی ہے۔ یقیناً یہ تکلیف دہ حالات ہیں کئی باتیں ایسی ہیں جو تحریر کرنا بھی بہت مشکل ہے کیوں آج لوگ میوزک کو ہی دین بنا بیٹھے ہیں؟ کیوں وہ اپنی ہر تکیف کا علاج میوزک کو سمجھتے ہیں؟ کیوں وہ میوزک کو اپنے لئے ضروری غذا کہتے ہیں؟ کچھ کہتے ہیں۔ ".God is a dj” نعوذ باللہ۔ کچھ نے کہا میوزک تو آپکی سانسیں ہیں یعنی جیسے انسان سانس کے بغیر نہیں جی سکتا ایسے ہی میوزک کے بغیر جینا بھی مشکل ہے۔

    "سیدنا قتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ شیطان جب ملعون ہو کر آسمان سے نیچے اتر آیا تو کہنے لگا اے الله تو نے مجھے ملعون تو بنا دیا اب یہ بتا دیجئے کہ دنیا میں میرا علم کونسا ہوگا؟ الله نے فرمایا تیرا علم جادو ہوگا۔ پھر کہنے لگا میری پسندیدہ آواز کونسی ہوگی؟ الله نے فرمایا گانا بجانا۔ پھر کہنے لگا میرا پسندیدہ مشروب کونسا ہوگا؟ الله نے فرمایا ہر نشہ آور چیز تیرا مشروب ہوگا۔”
    تین چیزین ہیں جادو، میوزک، اور تمام قسم کی منشیات۔ تینوں کا تعلق شیطان سے ہے۔
    ان تینوں کاموں سے الله اور اسکے رسول صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
    یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ خوبصورت آواز اور خوبصورت پیغام سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آدم سے لے کر نبی صلی الله علیہ وسلم تک کسی نے آواز کے حسن سے منع نہیں کیا لیکن شرط یہ ہے کہ جذبات پاکیزہ ہوں، بےضرر ہوں اور بےحیائی نہ ہو۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے نکاح کے وقت، عیدین پر، عورتوں کی خاص نجی محفل میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے آواز کے حسن کی اجازت دی ہے لیکن کچھ پڑھنے یا گانے کے شرط رکھی کہ آوازیں مردوں تک نہ پہنچیں اور فحش نہ ہوں۔
    آواز کے ساتھ جب ساز مل جانے سے وہ میوزک بن جاتا ہے۔ اور ساز معاشرے کے لئے بہت نقصاندہ ہے یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ میوزک سننے سے آپکی سوچنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے انسان جب میوزک سنتا ہے تو وہ ایک خیالی دنیا میں چلا جاتا ہے جسکا اثر دماغ کے اس حصے پر پڑتا ہے جہاں لانگ ٹرم میموری واقع ہے پس لانگ ٹرم میموری کمزور ہوجاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ سوچنے اور یاد کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسکے علاوہ میوزک انسان کو جنسی اشتعال انگیزی پہ ابھارتا ہے۔ گوگل پہ انکی لسٹ پائی جاتی ہے کہ کس گانے میں کتنا جنسی آلہ استعمال ہوا ہے۔
    میوزک ایک خطرناک جادو کی طرح ہے جو انسان پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے انسان اس آواز کے سحر میں چلا جاتا ہے۔ انسان خود کو ہلکا پھلکا، اور ہر غم سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ دراصل، انسان کا جسم، ذہن اور روح ایک پوزیشن پہ نہیں رہتے۔ جیسے ایک طیارہ جب تباہ ہوتا ہے اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسے نیچے آنےمیں کوئی طاقت اور وقت نہیں لگتا اور وہ لمحے میں تباہ ہوجاتا ہے یہ ہی کیفیت میوزک سننے والے کی ہوتی ہے۔ اور پھر میوزک انسان کی روح کو ایسے بکھیر دیتا ہے۔ جسے شیشے کا گلاس نیچے گرتا ہے اور بکھر کر چوُر چوُر ہوجاتا ہے۔
    میوزک تزبزب پیدا کرتا ہے۔ آپکو بے چین کرتا ہے۔ میوزک سکون نہیں دیتا۔ میوزک انسان کی عقل پہ غالب آجاتا ہے۔ انسان کے حواس کو قابو میں کرلیتا ہے۔ انسان کا کنٹرول شیطان کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ آواز، ساز اور لہجہ تینوں چیزیں انسانی کیفیات کو متاثر کرتی ہیں۔ میوزک کی ایک شناخت رقص بھی ہے میوزک کے ساتھ انسان کے ہاتھ پاؤں حرکت کرنے لگتے ہیں۔ میوزک کوئی معمولی یا بے ضرر چیز نہیں ہے یہ ایک ایسا نشہ ہے جو آپکودوسری نشہ آور اشیا کے مقابلے میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے کیونکہ اگر کوئی نشہ کرنا چاہے تو وہ پہلے خریدتا ہے پھر کرتا ہے اس پہ وقت لگتا ہے لیکن میوزک ایسا نشہ ہے جو آپ نہ بھی سننا چاہیں تو بعض اوقات آپکو سنوا دیا جاتا ہے۔ اور ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ جب انسان برائی کا عادی ہوجاتا ہے تو اس میں احساسِ گناہ ختم ہو جاتا ہے
    قرآن و حدیث میں میوزک سے منع کرنے کے مختلف انداز ہیں مثلاً یہ کہا گیا کہ میوزک حرام ہے، کبھی منع کر کے، کبھی ناپسندیدہ قرار دے کر، کبھی شیاطین کا آلہ قرار دے کر، کبھی باعثِ عذاب کہہ کر، کبھی گناہ کہہ کر، کبھی بے ہودہ کام کہہ کر۔ قرآن و حدیث میں میوزک کے حرام ہونے کی درج زیل دلائل ملتی ہیں۔

    "الله رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں:
    وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾
    ترجمہ: اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔ (سورہ لقمان: 6)”

    اس کے علاوہ قرآن پاک میں متعدد بار الله رب العزت نے فحاشی اور شیطان کی پیروی سے منع کیا ہے۔ اور میوزک فحاشی کا مرکز اور شیطان کی پسندیدہ آواز ہے۔

    "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
    گانا(میوزک) دل میں نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔
    (السنن الکبری للبھیقی:21537)”

    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔
    (صحیح بخاری:5590)”

    صحابہ کرام کے طرزِعمل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ میوزک کو سخت ناپسند کرتے تھے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دی اور راستہ بدل لیا حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں ان کے ساتھ تھا جب میں نے کہا اب آواز نہیں آرہی تب انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکال کر فرمایا کہ ایک دفعہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی طرح میوزک کی آواز سنی اور اسی طرح کانوں میں انگلیاں دے دی تھی۔
    بعض حقیقتیں بہت تلخ ہوتی ہیں لیکن جب انسان حقیقت جان لیتا ہے تو اس کے لئے برائی چھوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ پس حقیقت جان لیجئے اور برائی چھوڑ دیجئے!!
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    پاکستان کی تاریخ میں آمریت اور جمہوریت دونوں دور اس قوم نے دیکھے ہیں 

    بے شک بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے لیکن اس آمریت اور جمہوریت کے درمیان میں ہمارے ملک میں بادشاہت کا دور بھی دیکھا گیا جسے جمہوریت کا لبادہ پہنایا گیا 

    جمہوری دور وہی کہلائے گا جو عوامی طاقت سے اقتدار میں آئے اور عوامی رائے کا احترام کیا جائے ،ایک جمہوریت پسند انسان کبھی عوامی رائے کے خلاف نہیں جاسکتا 

    ہمارے ملک میں وہ سیاسی جماعتیں جو خود کو جمہوریت کی علمبردار سمجھتی ہیں خود ان کے اندر بھی جمہوریت کہیں نظر نہیں آتی کہیں پارٹی نانا سے نواسے کو منتقل ہوتی ہے تو کہیں باپ سے بیٹی کو ان کی پارٹی کا سربراہ  ایک عام ورکر کبھی نہیں بن سکتا چاہے اس نے اپنی پوری زندگی اس پارٹی کے نام ہی کیوں نا کردی ہو 

    پھر بھی اسے وہ مقام نہیں ملتا جو پارٹی سربراہ کے اپنے بچوں کو ملتا ہے پھر چاہے ان بچوں نے سیاست میں وقت گزارا کوئ سیاسی جدوجہد کی ہو یا نہیں 

    جب اس ملک میں دو جماعتیں باری باری اس ملک پر حکمرانی کرتی آئ تب تک ان دونوں جماعتوں کے نزدیک سب اچھا ہے ہمارے ادارے ،اسٹیبلشمینٹ بھی اچھی ،عدالتی نظام بھی بہتر اور ملک میں خالص جمہوریت تھی 

    لیکن پھر جیسے ہی تیسری پارٹی میدان میں اتری ان دو پارٹی سسٹم کو چیلنج کیا ،عوامی حمایت حاصل کی تو ان دونوں باریاں لینے والی جماعتوں کے نزدیک اب ادارے بھی خراب ہوگئے ،اسٹیبلشمینٹ بھی خراب اور جمہوریت کے خلاف سازش بھی نظر آنے لگ گئ 

    تین تین بار سے بھی ذیادہ باریاں لینے والوں سے عدالت نے حساب مانگا تو وہاں بھی بجائے حساب دینے کے ان کو سازش کی بو آنے لگ گئ ،عوام نے تیسری پارٹی کو ووٹ دیئے تو وہاں بھی سازش نظر آنے لگی ان کو 

    حالانکہ جمہوری روایات کے مطابق تو ان دو جماعتوں کو تیسری جماعت کے ووٹوں اور عوامی انتخاب کو کھلے دل سے تسلیم کرکے اپنے اندر کی وہ غلطیاں اور خامیاں درست کرنی چاہیے تھی جن کی وجہ سے عوام نے ان کو مسترد کیا 

    لیکن اس ملک میں باری باری حکومت کرنے والی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جب تک ہم جیت نا جائیں ،ہماری حکومت نا آجائے تب تک ہر الیکشن دھاندلی زدہ سمجھا جائے گا آنے والے حکومت یا ملکی اداروں سب میں جمہوریت کے خلاف کوئ سازش نظر آنی ہے 

    باریاں لینے والی جماعتوں کا اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات دیکھیں تو ان کی مالی حالت کس طرح بہتر ہوئ یہ اندازہ ایک عام پاکستانی بھی اچھی طرح لگاسکتا ہے ،جس جمہوریت میں ان لوگوں کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے تھی ،ملک کی معاشی حالات بہتر کرنے تھے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا نا عوام کے حالات بدلے اور نا ہی اس ملک نے کوئ خاص ترقی کی البتہ ملک قرضوں کی دلدل میں ضرور دھنستا چلا گیا ،صحت کا نظام اتنا برباد ہوا کہ تین تین بار حکمرانی کرنے والوں کو اپنا علاج باہر سے کروانا پڑ رہا ہے ،اپنا علاج باہر سے کروانے والوں نے کبھی سوچا کہ میرا غریب ووٹر خدانخواستہ اسی بیماری میں مبتلا ہوا جس میں وہ خود ہے تو کیسے وہ پاکستان میں علاج کروا پائے گا کون سا ایسا اسپتال ہم نے بنوایا ہے جس میں عام ووٹر اور ہمارا اپنا علاج ہوسکے 

    حکمرانی پاکستان میں اور اپنی جائیدادیں ،کاروبار سب ملک سے باہر ،ملک کا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک میں اقامے پر کوئ عام سی  نوکری کررہے ہوں ،جائیدادیں اتنی بنالی لیکن رسیدیں نہیں ،بچے ان کے پاکستانی نہیں ،حکومت ختم ہوتے ہی ملک سے فرار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ جمہوریت کا نعرہ لگائیں ،ووٹ کی عزت کا نعرہ لگاتے لگاتے اپنی لوگوں کو مک مکا کرنے کے لئے اسٹیبلشمینٹ کے پاس بھی بھیجتے رہیں ،عمران خان کی حکومت گرادو تو اسٹیبلشمینٹ سے بات بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ایسا سب کچھ کس جمہوریت میں ہوتا ہے ،کیا عوام آپ کی غلام تھی جو تاحیات صرف آپ کو ووٹ دیں بے شک آپ کرپشن کریں ،ملک کو معاشی لحاظ سے تباہ کردیں ،قرضے لے کر اپنی جائیدادیں بنائیں اور ملک مقروض ہوکر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے ،عوام کے لئے صحت ،تعلیم ،خوارک جیسی بنیادی ضروریات بھی نا ہوں اور خود دن بدن اربوں ،کھربوں کی جائیدادوں کے مالک بن جائیں لیکن پھر بھی آپ یہ امید رکھیں کہ عوام ہمیں ووٹ دیں ،پی ٹی آئ کو ووٹ دیا تو اسے ہم جمہوریت کے خلاف سازش سمجھیں گے ،عدالتیں ہم سے حساب نا مانگیں ،بس تاقیامت ہمیں ہماری اولادوں کو عوام ووٹ دیں اور ہم جمہوریت کے نام پر اس ملک پر بادشاہت کریں 

    اصل بات تو یہ ہے کہ ان دونوں باریاں لینی والی جماعتوں پپلزپارٹی اور ن لیگ کو اب اپنا رویہ جمہوریت پسندانہ بنانا پڑے گا ،عوامی رائے کا احترام کرنا پڑے گا ،اپنی ماضی کی حکومتوں میں کی گئ کرپشن ،لوٹ مار اور بادشاہت کا حساب دینا چاہیے 

    پاکستان کے وہ تمام ادارے جن پر اس وقت آپ کو اعتماد نہیں یہی ادارے آپ کے دور میں بھی تھے تب آپ نے ان کو ٹھیک کرنے کے لئے کیوں کچھ نہیں کیا ،الیکشن میں دھاندلی کا رونا رونے سے بہتر تھا اپنے دور میں الیکشن کا نظام بہتر بناتے یا اس وقت پی ٹی آئ حکومت آپ کو الیکشن ریفارمز کے لئے مل بیٹھنے کی بات کررہی ہے تو یہ اچھا موقعہ ہے بیٹھیں اپنی تجاویز دیں الیکشن کا نظام بہتر بنائیں اور پھر ہمت پیدا کرکے ہار ہو یا جیت کھلے دل سے تسلیم کریں 

    پاکستان میں دھاندلی کا رونا تو ہمیشہ سے رویا گیا لیکن کیونکہ اس وقت کی دھاندلی سے آپ جیت کر حکومت بنالیتے تھے تو سب کچھ اچھا تھا اب آپ ہارنے لگے تو الیکشن میں دھاندلی اور جمہوریت کے خلاف سازش نظر آنے لگ گئ 

    اب ایسا نہیں چلے گا بڑے ہوجائیں  اور کھلے دل سے جمہوری حکومت کو تسلیم کرنا سیکھیں 

  • خلش  تحریر: محمد حماد

    خلش تحریر: محمد حماد

    خلشوہ ایک عام دن تھا
    مگر نہیں وہ عام دن نہ تھا کیوں کہ بعض اوقات عام دن بالکل بھی عام نہیں رہتے وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل سے خاص ہو جاتے ہیں۔ انعم کے لیے بھی وہ بہت خاص دن تھا کیوں کہ اس کے ابّو نے اس کے لیے دوبئی سے تحائف بھیجے تھے اگرچہ ان تحائف میں کچھ خاص نہ تھا مگر لفظ تحفہ ہی بذات خود ایک خاص لفظ اور احساس کا نام ہے اور پھر وہ خاص کیوں نہ ہوتے ؟ جو ابّو نے ان کے لیے بہت پیار سے بھیجے تھے جو اس کے لیے پیار اور خلوص کے مجسم شکل تھے۔ انعم نے ڈبّے کھول کر دیکھے تو اس میں ایک گھڑی ، چوکلیٹ کا ڈبّہ اور خوب صورت عبایا تھا۔نعم نے عبایا کھول کر دیکھا تو اسے پسندیدگی کی سند اس کی خوشی اور آنکھوں کی چمک نے عطاکی۔ سیاہ رنگ کا خوبصورت عبایا جس پر جھل مل کرتی خوبصورت موتیاں ٹکی تھیں اور اس کے ساتھ عربی طرز پر ڈئزائن کردہ خوب صورت اسکارف۔ انعم نے عبایا کی خوشی میں اپنی پسندیدہ فلیور کے چوکلیٹ بھی نظر انداز کردئیے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    امّی یہ عبایا کتنا خوب صورت ہے ناں؟ کتنے کا ہوگا؟ مجھ پر اچھا لگے گا ناں ؟ اس قسم کے سوالات سے جب امی کے کان پک گئے تو اس نے ڈانٹ کر کہا ؛
    نادیدی ! کوئی نئی چیز کھبی نہیں دیکھی کیا جو یوں شور مچا رہی ہوں ۔ جاؤ دفع ہوجاؤ۔۔۔۔پتہ نہیں کس پر گئی ہے آخر اس کا بچپنا کب ختم ہوگا یہ بڑبڑاتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئی اور انعم پیر پٹخ کر کمرے میں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    وہ کالج جانے کے لیے تیار تھی۔ نیا عبایا اور عریبک اسکارف میں وہ ایسی خوش ہو رہی تھی جیسے بچپن میں من پسند کھلونا ملنے پر خوش ہوتی۔ کلائی پر نازک گھڑی پہن کر وہ سوچ رہی تھی کہ کالج میں دوستوں کے ساتھ ڈسکس کرنے کے لیے اچھا موضوع ہاتھ لگا ہے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے آپ مسکرا دی۔ آخر اس نے قدِ آدم آئینے میں اپنا ناقدانہ جائزہ لیا اور کمرے سے باہر نکلی۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    وہ کندھے پر بستہ لٹکائے رجسٹر ہاتھ میں پکڑے بے چینی سے صحن میں ادھرسے اُدھرٹہل رہی تھی۔ انتظار کرتے کرتے تھک گئی کہ کب اسد بھائی اٹھ جائے اور اسے یہ نیا upGet دکھایا جائے اور ساتھ میں وہ کالج بھی ڈراپ کرےمگر نہیں وہ گدھے گھوڑے بیچ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ انعم بیچاری امّی سے بھی پوچھ پوچھ کر تھک گئی۔
    ” بھائی اٹھا کے نہیں ؟”
    "آخر یہ کب اٹھے گا؟”
    مگر ہنوز سو رہا ہے کہ رپلائی سے تنگ آکر اس نے اکیلے کالج جانے کا فیصلہ کیا ۔ وہ پہلے ہی لیٹ ہوئی تھی اور اب مزید دیر ہورہی تھی ۔سو اسد کا مزید انتظار کرنا بیکار تھا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    پورے بیس منٹ بعدوہ ہانپتے کانپتےِارم کے گھر پہنچ گئی۔ مگر یہ کیا ؟ "یار میں آج نہیں جاسکتی بخار ہے مجھے ہو سکتا ہے کل بھی نہ جا سکوں پلیز میرا اپلی کیشن دے دینا”
    ارم نے سُتے ہوئے چہرے اور نقاہت سے کہا ۔
    "تواس کا مطلب ہے آج مجھے پھر اکیلے جانا پڑے گا ” انعم نے قدرے مایوسی سے کہا،
    اس کے بعد ارم نے روئے سخن انعم کی گھڑی اور عبایا کی طرف پھیر دیا۔جس پر گھنٹہ بھر بحث متوقع تھی مگر انعم کوکالج کے لیے دیر ہو رہی تھی لہٰذا دونوں کا بحث طول نہ پکڑ سکا۔ جونہی انعم کی نظر گھڑی پر پڑی: "اوہ خدایا ! آج پھر میڈم سے ڈانٹ پڑے گی "کہہ کر دروازے کی طرف بھاگی۔ ٭٭٭٭٭٭٭
    انعم کے گھر سے نکلنے کے بعد اسد اٹھا ۔ فریش ہو کر ناشتہ کرنے لگا۔ ادھر اُدھر نظر دوڑا کر انعم کو تلاش کیا مگر نا پا کر امی سےکہا:
    "امّی انعم سے کہیں میں اسے کالج چھوڑ آتا ہوں جلدی کرے۔
    "وہ تو چلی گئی مگر تم جاؤ تمھیں دیر ہو رہی ہے”
    امی نے ناشتے کے برتن اٹھاتے ہوئے کہا ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    اسد جیسے ہی گھر سےنکلا راستے میں دانیال ملا۔ دانیال اسد کے بچپن کا ساتھی اور پڑوسی ہونے کے ساتھ یو نیورسٹی فیلو بھی تھا۔ دونوں رنگین مزاجی میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے یہی وجہ تھی کہ دونوں کی خوب بنتی تھی۔ کالج روڈ پرپر چلتے چلتے انھیں ایک لڑکی نظر آئی۔ دانیال نے باچھیں کھول کر لڑکی کوایکسرے نظروں سے دیکھنا شروع کیا ۔وہ اس قسم کے حرکات کے لیے مشہور بلکہ بدنام تھا۔ اور یہ سچ ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ دانیال کی صحبت کا یہ رنگ تیزی سے اسد پر بھی چڑنے لگا تھا۔ دونوں لڑکی کے پیچھے گز بھر کا فاصلہ رکھ کر چل رہے تھے کہ دانیال نے فقرے کسنا شروع کیے:
    "اااااےےےے سن تو! بھاگ کیوں رہی ہوں؟آرام سے ! ہم کھا تو نہیں جائیں گے”
    اور پھر بیہودگی سے قہقہہ لگایا ۔
    انعم نے خوف کے مارے اور بھی تیز تیز چلنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ دوڑنے کے انداز میں قدم اٹھاتی دونوں بھی تھوڑا فاصلہ رکھ کر چلنے لگے۔ بدقسمتی سے سڑک پر سکول کے بچّوں کے علاہ کوئی نہیں تھا جس سے انعم مدد مانگتی۔ اس کے کانوں میں دونوں کے شوخ اور بے باک فقرے اور سیٹیوں کی آوازیں آ رہی تھیں اس وقت اسے اپنا آپ بہت بے بس محسوس ہوا مگر وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔
    "کیوں ہم بیچاروں پر بجلی گرا رہی ہوں۔ زرا سن تو سہی۔۔۔۔”
    دونوں کچھ اور قریب ہوئے تھے کہ اسد نے ایک چُبھتا ہوا فقرہ کَسا۔
    انعم کو آواز کچھ مانوس معلوم ہوئی تو پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔ اس کے پیچھے دانیال تھا اور ساتھ میں اسد ، اس کا بھائی!
    اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔ وہ محاورۃً نہیں حقیقتاً پتھر کی ہوگئی اور صرف اتنا کہہ پائی؛
    بھائی آآآآآپ۔۔۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا نہ گالی ، نہ بحث ، نہ ڈانٹ کچھ بھی نہیں۔ وہ صرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسد کو دیکھنے لگی۔
    آ آ نعم م م تم ۔۔۔۔۔۔ وہ میں سمجھا۔
    اسد کی زبان لڑکھڑانے لگی ، اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ جبکہ دانیال تو بیچ سے اس وقت کسک گیا جب انعم نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ، جب اسد کے چلتے قدم رک گئے ، اور جب انعم نے ” بھائی آپ” کے الفاظ کہے۔
    ” وہ تمھارا گاؤن تو گرے کلر کا تھا یہ وہ میں سمجھا کہ۔۔۔”اسد کچھ بے ربط وضاحتیں دینے لگا مگر انعم کے کانوں میں سائیں سائیں ہو رہا تھا اسے کچھ سنائی دے رہا تھا نہ کچھ دکھائی ۔اسد کے جملے اس کے کانوں میں صدائے بازگشت کی طرح سنائی دے رہے تھے ۔ بے آواز آنسوں اس کے آنکھوں سے بہہ کر نقاب میں جذب ہو رہے تھے۔ اسے خود سے گن آنے لگی ۔ اسے ماحول سے کراہت محسوس ہونے لگی۔ وہ اس ماحول اور ان نا زیبا جملوں سے فرار چاہتی تھی جو اس کی دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ وہ بے جان قدموں سے کالج جانے کی بجائے گھر کی طرف واپس موڑ گئی۔چلتے ہوئے اسے دل میں بہت چھبن محسوس ہو رہی تھی مگر یہ چبھن وقتی نہیں بلکہ عمر بھر کے لیے تھی کیوں کہ اس کا مان ، یقین ، اعتبار ، فخر اور نہ جانے کیا کیا سراب بن گیا تھا۔ اور اب شاید زندگی بھر اسے اس کسک اور چبھن کے ساتھ جینا تھا کیوں کہ گھر کے محافظ ہی لٹیرے نکلے تھے۔
    ؎ وہ ڈاکا ڈالنے آئے تھے مرے گھر اک رات
    میں معاف کرتی اگر چہرے اجنبی ہوتے
    ٭٭٭٭٭٭٭

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ آج کھیلا جائے گا-

    باغی ٹی وی : دونوں ٹیموں کے مابین میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مطابق فیس ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے لوگ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے آسکتے ہیں۔

    دوسری جانب پہلے میچ کی طرح آج کے میچ میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 4 میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا تھا جبکہ تیسرا اور چوتھا میچ یکم اور 3 اگست کو شیڈول ہے-

    واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹر اعظم ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہو گئے ہیں انہیں آج کے میچ اور تیسرے میچ میں نہیں کیھلایا جائے گا جبکہ ڈاکٹر ز کا کہنا ہے کہ چوتھے میچ میں کھیلہں گے یا نہیں پیر کے روز زخم کا معائنہ دوبارہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا –

    کرکٹراعظم خان ٹریننگ سیشن کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے زخمی