Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ضلع مظفرگڑھ!  قاتل روڈ ڈبل کرو ۔   تحریر علیہ ملک

    ضلع مظفرگڑھ! قاتل روڈ ڈبل کرو ۔ تحریر علیہ ملک

    ضلع مظفرگڑھ کی عوام زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہو تم جانوروں سے بھی بدتر ہو۔ کچل دیئے جاؤ گے کسی افسر کی گاڑی سے ،کسی ٹرالر یا بس کی ٹکر سے۔کیونکہ تم پیدل چلنےوالے،سائیکل،موٹرسائیکل اور رکشوں پر سفر کرنیوالے غریب لوگ ہو۔تمہیں کیا معلوم امیر ، امراء افسر کی گاڑیوں مرسڈیز ، پجارو کا انجن کتنے ہارس پاور کا ہوتا ہے اور اسکی کتنی سپیڈ ہوتی ہے۔اور کتنا مزہ آتا ہے اس کو فل سپیڈ میں نشے میں دھت ہو کر چلانے کا، مگر تم غریب لوگ جب ہمارے سامنے آتے ہو تو سارا نشہ اور مزہ کراکرا کر دیتے ہو خوامخواہ میں کچلے جاتے ہو۔ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ سال 2014 کی رپورٹ کی مطابق دنیا کا امیرترین انسان میکسیکوکارلوس سلم اپنی دولت میں سے روزانہ دس لاکھ ڈالر بھی خرچ کرے تو اس کی ساری دولت کے ختم ہونے میں 220 سال لگ جائیں گے اور اگر وہ اپنی ساری دولت کو ایک عام سیونگ اکاؤنٹ میں رکھے تو اس کی دولت پر اسے جو منافع ملے گا اس کی رقم روزانہ 43 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہوگی۔ یہ ہے تفریق تم میں اور ہم میں۔یہی عدم مساوات ہمارے عہد کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ ایک طرف تو دنیا کے امیرترین افراد کی تعداد دوگنی ہورہی ہے تو دوسری طرف اسی دوران کم از کم دس لاکھ مائیں بچوں کی پیدائش کے دوران موت کا شکار ہوگئیں کیونکہ انہیں طبی نگہداشت کی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ اور نہ ہی میسر ہوں گی کیونکہ جہاں صحافی کا قلم بکتا ہو طوائف کی جسم کیطرح، جہاں منتخب یا سابق سیاسی نمائندوں پر بے حسی طاری ہو، جہاں انتظامیہ کرپشن میں دھنس چکی ہو، جہاں حکمران 74 سال سے ملک کو دمیک کیطرح چاٹ رہے ہوں۔جہاں قانون امرا کے گھر کی لونڈی ہو، جہاں انصاف کی بولی لگتی ہو، وہاں روڈز کیوں بنیں گے وہاں ہسپتالوں کی حالت زار کیوں بدلے گی ، وہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کیوں میسر ہوں گے۔ اگر ایسا ہو جائے پھر تو امیر اور غریب کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو۔جائے گا۔۔پھر غریب کے بچےاعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے اور تب ہماری افسر شاہی اور وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔لہٰذا ان کو روند ڈالو ، کچل ڈالو، ان کی نوجوان نسل کا قیمہ بنا ڈالو۔ ان کو ایسا سبق سکھاؤ کہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں یہ پڑھنا لکھنا چھوڑ دیں۔ان کے جسم میں ملک کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا دھڑکتا دل روڈ پر پڑا تڑپ رہا ہو،انکے سپنوں کو بھاری بھرکم گاڑیوں کے آہنی راڈوں اور ٹائروں کے بیچے مسل ڈالو۔ تاکہ یہ سر نہ اٹھا سکیں۔ یہ سسکتے اور ٹڑپتے رہیں۔ اور لوگ ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں جیسے کوئی لاوارث کتے کو کچلا جاتاہے ان کا انجام بھی ویسے ہو گا۔ یہ المیہ ہے جہاں حقائق کو مسخ کر کے غریب کی عزت و عصمت کی قیمت ، جبکہ قتل کیے جانے کے بعد ڈرا دھمکا کر ، ہراساں کر کے ، ریاستی پریشر ڈال کر اسلام کا سہارا لیتے ہوئے دیت دی جاتی ہے۔ اس خون کی قیمت دے کر اپنی گاڑیوں سے غریب کا گندا خون دھو ڈالتے ہیں۔کیونکہ غریب ان کے لیے حقارت کی علامت ہے اور امراء کی سوسائٹی میں ایک بد نما داغ اور دھبہ ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے ۔

    @KHT_786

  • بیٹیاں رحمت ہی رحمت  تحریر: چوہدری عطا محمد

    بیٹیاں رحمت ہی رحمت تحریر: چوہدری عطا محمد

    اللہ سبحانہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جہاں کروڑوں رحمتوں اور نعمتوں سے نوازہ ہے ان رحمتوں میں سے ایک رحمت اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے انسان کو بیٹی سے نواز نے کی ہے بیٹی ہر گھر کا مقدر نہیں ہوتی جس گھر پر اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے خاص رحمت ہوتی ہے اسی گھر میں اللہ سبحانہ تعالی بیٹی جیسی رحمت عطا کرتے ہیں ہمارے مذہب اسلام کی بات کی جاۓ تو ہمارے دین میں بیٹی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے بیٹیاں اللہ کی رحمت تو ہیں ہی وہی پر بیٹیاں اپنے والدین کے لئے دوزخ سے نجات کا باعث بنتی ہیں اور جنت کے حصول کا زریعہ بھی بنتی ہیں اللہ سبحانہ تعالی نے اقوام عالم میں ایسا نظام بنایا ہے کہہ یہ نہ تو عورتوں کے بغیر مکمل ہوتا ہے اور نہ یہ دنیا کا نظام مردوں کے بغیر ہی مکمل ہوتا ہے آدی لئے قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ)
    یعنی اس ارشاد باری تعالی سے صاف بات پتہ چلتی اللہ سبانہ تعالی جس کو جب چاۓ اور جو چاۓ عطا فرماۓ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زرا مختلف سوچ کے حامی لو گ پاۓ جاتے ہیں می عام روایت کی بات کر رہا ہوں جیساکہہ ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو بہت خوشیاں منائی جاتی مبارک باد دی جاتی۔ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی جشن مناۓ جاتے لیکن اس کے برعکس جب بیٹی پیدا ہوتی تو سارے خاندان میں خاموشی چھا جاتی سب مایوس نظر آتے ایسا محسوس ہوتا ادھر اللہ کی رحمت نہی جیسا کہ خدانخواستہ کوئی عزاب آگیا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو کچھ ایسے قبیلے اور رشتہ دار بھی ہوتے جو بیٹی کی پیدائش پر رشتہ تک ختم کر دیتے خاوند اپنی زوجہ محترمہ کو چھوڑ دیتا اور بیٹی کی پیدائش کا زمہ دار گہنگار اپنی ہی بیگم کو ٹھہراتا اور اللہ سبحانہ تعالی کے قرآن کریم میں ارشاد تک کو ہی بھول جاتا ان سب کی بڑی وجہ ہماری ہمارےپیارے دین سے دوری کی ہے دین سے دوری کی وجہ سے ہی ہمارے اخلاقی معاشرتی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے اگر آج کے ترقی یافتہ دور کی بات کی جاۓ تو بیٹیاں کسی بھی میدان میں بیٹوں سے پیچھے نہی بلکہ ان کے شانہ بشانہ اور ان سے آگے بڑھ رہی ہیں بیٹیاں بیٹوں کی بنسبت کئ گناہ بڑھ کر اپنے والدین کی خدمت کرتی ہیں اپنے والدین کا بڑھاپے میں سہارا بنتی ہیں اسی وجہ سے آج ہمیں ہر شعبہ ہاۓ زندگی چاۓ میڈیکل ہو یا فوج پولیس ہو یا ٹیلی کمیونیکشن آپ کو ہر جگہ لڑکیاں نظر آئیں گی ایک اور بات لڑکیوں میں مقابلہ کرنے کی قوت بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے لڑکیاں زیادہ مشکل حالات کا مقابلہ صبر واستقامت سے کر سکتی ہیں
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، یا اللہ جب آپ اپنے بندے پر مہربان ہوتے ہیں تو کیا عطا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی عطا کرتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر کہا جب زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا تو میں دوسری بیٹی عطا کرتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر سب سے زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیسری بیٹی عطا کرتا ہوں اور فرمایا کہ جب میں اپنے پیارے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں تو اس بیٹے کو بولتا ہوں جاؤ اور اپنے باپ کا بازو بنو اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں تو مجھے اپنی خدائی کی قسم کہ میں اس کے باپ کا بازو خود بنوں گا۔
    اس سے ثابت ہوا کہہ بیٹیاں اللہ پاک کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہیں اور ہمیشہ ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جانا چائیے ویسے بھی ہمارے ہاں بیٹیاں اپنے بابا کی پریاں بھی ہوتے بابا کی آنکھوں کی چمک اور بابا کے دل کی دھڑکن ہوتی اور والدین بیٹی کی پیدائش سے ہی اپنی بیٹی کے لئے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں مانگتے رہیتے اللہ سبحانہ تعالی ہر بیٹی کے مقدر خوبصورت بناۓ یہی ہر والدین کی خواہش ہوتی
    بیٹیاں ہر گھر کی گڑیا ہوتی رونق ہوتی اور اپنے بابا کے لئے کسی بھی قیمتی زیور سے کم نہی ہوتی ہیں ۔اگر بیٹی باپ کے گھر میں ہوتی ہے تو رحمت ہوتی ہے شادی شدہ ہوتی ہے تو آگے جا کر کسی کے بچوں ماں یعنی جنت بنتی ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالی کے حکم ہے جنت ماں کے قدموں میں ہے اور یاد رکھیں ماں ایک بیٹی بنتی ہے۔ہمیں سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو رحمت سمجھیں گے، اور ہمیشہ بیٹیوں کی ولادت پر بھی ایسے ہی خوشیاں منائیں گے جس طرح بیٹوں کی ولادت پر مناتے ہیں ہماری بیٹیاں ہماری بخشش کا ساماں ہیں ، اللہ پاک تمام بیٹیوں کے مقدر خوبصورت بناۓ آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • نچلے طبقے کا احساس۔ تحریر  : انجینیئر مدثر حسین

    نچلے طبقے کا احساس۔ تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اپنے نچلے طبقے کے لوگوں کا احساس کرنا صرف حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ ہر
    صاحبِ استطاعت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے سے کمتر اور غریب غربا لوگوں کا احساس کرے۔

    ایسے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھے روز محشر صرف نمازوں اور حج و عمرے کا سوال نہیں ہو گا آپ کے اور بھی کچھ فرائض ہیں
    اللہ تعالٰی دولت دے کے بھی انسان کو آزماتا ہے کہ تم اس کی مخلوق کے غریب لوگوں کے ساتھ کیسا برتاو رکھتے ہو۔
    جب دولت کا حساب ہو گا جس کو آپ کمزور اور غریب طبقے پر خرچ کر سکتے تھے لیکن نہیں کیا
    کسی غریب کے لیے احساس کا ہونا ہی انسانیت ہے۔ اپنی سیاسی جماعت سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کا خیال رکھنا ہی انسانیت کی معراج ہے لیکن بحیثیت قوم ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں ہمارے اندر احساس ختم ہو چکا ہے ۔
    ہم اپنی شادیوں میں لاکھوں روپے اڑانے والے کبھی بھوکے کو ایک وقت کا کھانا نہیں کھلا پاتے یہاں تک کہ اسی معاشرے کے عزت دار اور سفید پوش افراد بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک حصہ طاقتور افراد ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اللہ پاک کی عدالت میں جب انصاف ہو گا تو ہم سب وہاں مجرم ہونگے انسانیت کے مجرم روز قیامت شرمندہ ہونگے ہمارے ملک کے اندر ایک بڑی تعداد میں ایسے افراد ہیں جو دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں پھر یہی لوگ کچھ بھیک مانگتے ہیں تو کچھ سارا دن محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں
    اس غربت ، بھوک اور افلاس کی ذمہ دار صرف حکومت وقت ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص ہے جو اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہے جس اللہ نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن شاید ان امیروں کو اس پر یقین کم ہے اسی لیے تجوریاں بھر رہے ہیں۔
    بحیثیت ایک سچا مسلمان ہمیں اپنے حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے اللہ تعالٰی کی مخلوق کی مدد کرنی چاہیے ہمیں اپنے اندر احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری وجہ سے اس معاشرے کے وہ افراد جن کے سر پر چھت نہیں جن کی کوئی شناخت نہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ان کا سہارا بن سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائیں ۔آمین

    @EngrMuddsairH

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل تحریر  : راجہ حشام صادق

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل تحریر : راجہ حشام صادق

    موجودہ دور میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان نہ ہو۔ ویسے بتاتا چلوں مہنگائی ایک بین الاقوامی مسلہ ہے۔ اس وقت پوری دنیا کے سبھی ممالک میں ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک بڑی حد تک یہ ایک فطری امر بھی ہے کیونکہ دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس رفتار سے چیزوں کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔ یہ بات تو ہم باخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کے خواہشمند زیادہ ہو جائیں تو اس کی قیمت زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    دنیا میں پٹرول، کوئلے، لوہے وغیرہ کے ذخیرے صنعتی ترقی کے پیش نظر جس تیزی سے استعمال ہوئے اس تیزی سے نئے ذخیرے اور وسائل کی دریافت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ چند عام سے حقائق ہیں جو پوری دنیا کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی۔

    مہنگائی کا طوفانے بدتمیزی برپا کرنے والو سنو زرہ

    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا اس وقت صحت انصاف کارڈ تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا احساس پروگرام تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا آمن تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا دنیا میں آپ کی کوئی عزت تھی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا کسی نے قومی قرضے واپس کرنے کا سوچا بھی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا کسی نے یہ جمہوری لباس میں ملبوس لٹیروں سے ریکوری کی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    ملک کی یہ حالت کرنے والوں پر اس طرح کبھی زمین تنگ تھی ؟

    مہنگائی پہلے تو بھی تھی
    مگر اس وقت صرف غریب روتے تھے آج غریبوں کو لوٹنے والے رو رہے ہیں اس مہنگائی پر مگرمچھ کے آنسووں بہانے والوں اللہ تعالٰی کا خوف کرو غریب اور مہنگائی کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا بند کرو۔
    اس سے پہلے ملک کے بدترین حالات تھے الحمدللہ اب بہترین کی طرف گامزن ہیں قارئین کسی کے پروپیگنڈے کرنے سے یہ حالات کو نہیں جھٹلا سکتے کہ
    الحمدللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت دنیا کے نقشے پر ابھر رہا ہے۔

    بس عوام نے کھبرانہ نہیں ہے الحمدللہ بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔
    پہلے ہمارا ٹیکس لادین حکمرانوں کے بچوں اور بچیوں کی عیاشی پر خرچ ہوتا تھا
    اب مہنگائی تو ہے پھر بھی سہولیات کسی نا کسی طریقے سے غریب تک پہنچ رہی ہے ۔

    اللہ پاک آپ کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • لازوال قربانیوں کی داستان  تحریر  : راجہ ارشد

    لازوال قربانیوں کی داستان تحریر : راجہ ارشد

    ۔

    حصہ اول
    آزادی کی جستجوں میں ناجانے کیسے کیسے کڑیل جوانوں نے اپنی جان کے نزرانے پیش کیے ، جانے کتنی ماؤں کی گود ویراں ہوئ،ان گنت سہاگنوں کے سہاگ اجڑے ،لاکھوں معصوموں جانوں کو نیزوں میں پرویا گیا لاتعداد بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں ۔لاکھوں بچوں نے یتیمی کا تاج پہنا تو پھر کہیں جا کے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

    دنیا کے کیلنڈر پے نقش 14 اگست 1947 کا دن ایک دن نہیں بلکہ لازوال قربانیوں،ازیتوں اور عظم و حوصلے کی داستان ہے جو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے

    لاالہ کے نام پر حاصل کی گئ یہ سر زمیں پاک ہمارے اجداد کی قربانیوں اور وفاؤں کی ایک لا زوال داستاں ہے جس کا لفظ لفظ لہو سے تحریر ہے جسکی اک اک سطر ہمت و استقلال اور درد کی لامحدود گہرائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

    1862 سے 1867 تک تایخ برِصغیر کے الم ناک سال تھے اس عرصے کے دوران 14 ہزارا علمائے دین کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا گیا دہلی سے لیکر پشاور تک کوئی درخت ایسا نا تھا جس پہ ظالموں نے کسی مسلمان کا سر نا لٹکایا ہو ۔

    بادشاہی مسجد جو آج عزیز ہم وطنوں کے لیے صرف تفریح گاہ ہے اس کے صحن میں ایک دن میں ان گنت علماء کرام کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا سلام ہے ان مرد مجاہدوں پہ جن کے سر انگریزوں کے سامنت جھکنے کو تیار نہ تھے وہ صرف لاالہ کا ورد کرتے قربان ہوتے چلے گئے ۔
    برِصغیر کے مسلمانوں پہ جب مایوسی کے بادل چھانے لگے تو چند عظیم ہستیوں نے انقلاب آزادی کا بیڑا اٹھایا ۔

    قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اب ایک طرف اقبال کا خواب آزادی اور مسلمانوں کی بیداری کا جزبہ تھا تو دوسری طرف قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت جس نے مسلمانوں میں نئ روح اور آزادی کی امنگ پیدا کی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمانانِ برصغیر کو ان کی اعلیٰ روایات یاد دلاتے ہوئے مسلم لیگ کے اجلاس میں فرمایا مسلمانوں میں اخلاقی سیاسی اور ثقافتی شعور کا وہ پہلا سااحساس نہیں رہا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامیان ہند نے اپنی عظمت رفتہ کو آوازدی۔ جرأت، محنت اور استقلال کو مشعل راہ بنایا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ تحریک پاکستان کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئی۔

    23 مارچ کو قرار داد پاکستان کے منظور ہونے کے بعد مسلمانوں کی جدو جہد آزادی نے زور پکڑا لیا مگر وہی دشمنان اسلام کی سازشیں بھی کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئیں ۔آفرین ہے ان بزرگوں ہستیوں پر جنہوں نے اپنے خون سے اس تحریک آزادی کو سینچا اور بلا آخر14اگست 1947 کو سرزمین مقدس پاکستان دنیا کے نقشے پر مانند آفتاب طلوع ہوا۔

    آج 14 اگست کا دن ہمیں پکار پکار کر یہ کہہ رہو ہے کہ اے اہل وطن! تم اس دن کی اہمیت اور قدروقیمت بھول گئے؟
    آزادی کے اس دن کو دیکھنے کیلئے تم نے جانیں قربان کرنے کی قسمیں کھائی تھیں اور تعمیر وطن کیلئے عظیم جدوجہد کی تھی۔تم نے تو اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہوکر یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم پاک وطن کو مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ مملکت بنائیں گے۔ ہم اس وطن کو محبت و اخوت، بھائی چارے، امن و سکون، اسلامی تہذیب پر اسلامی نظام کا گہوارہ بنائیں گے۔ 14 اگست کا دن ہم سے سوال کرتا ہے کہ آج پاکستان کس مقام پر کھڑا ہے؟ آج پاکستان میں لاقانونیت کیوں ہے؟ ناانصافی کیوں ہے؟ درحقیقت آج کا دن ہم سے قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق اتحاد، ایمان اور تنظیم کا تقاضا کرتا ہے۔

    @RajaArshad56

  • مہنگائی کا شور  تحریر : سحر عارف

    مہنگائی کا شور تحریر : سحر عارف

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کا شور ہر دور کی حکومت میں رہا ہے ہماری عوام کی یادداشت شاید بہت کمزور ہے اس لیے ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے بہت جلدی بھول جاتے ہیں اس لیے آجکل عمران خان حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ ہماری عوام کو اتنا شعور تو ہونا چاہیےکہ مہنگائی کی بنیادی وجوہات اور موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں میں فرق کر سکیں۔

    اس وقت سب سو رہے تھے جب اسی قوم کے نام پر بیرون ممالک سے قرضے لیے گئے جن میں سے 20٪ سے بھی کم عوامی فلاح کے لیے خرچ ہوتا تھا باقی تو حکمرانوں نے اپنے اکائونٹس بھرے قرض وآپس کرنے کے لیے اور سود پے قرضے لیے جاتے تھے
    قرض اتارنے کے لئے مزید قرضے لے کر عوام کو کچھ سہولیات بھی دی جاتی تھیں تاکہ کوئی بولے نہ 2018 کے انتخابات تک پاکستان اس جگہ پر پونچ چکا تھا کہ مزید ملک کا نظام چلانے کے لئے ایٹمی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے تھے آپ کا یہ ملک ڈیفالٹر ہونے والا تھا مزید پابندیاں لگنے جا رہی تھیں
    مشکل کے اس دور میں محب وطن وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے بیرونی ممالک کے پے در پے دورے کیے ملکی حالات سے آگاہ کیا اور دوست ممالک سے مدد لی۔

    الحمدللہ اب پاکستان کو پاوں پر کھڑا کیا ہے لیکن ہماری عوام کی یادداشت کمزور ہے اسے مفادات کی ضرورت ہے آرام طلبی ان کی رگ رگ میں خون کی ماند شامل ہو چکی ہے۔ یاد رکھیں غلام ذہن کبھی بھی مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتے ان کو صرف سکون اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے قومی غیرت اور خودداری سے ان کا کوسوں دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا

    ابھی حال ہی میں موجود حکومت نے تقریبا 19 ارب ڈالر بیرونی قرض واپس کیے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو ہے 2008 سے 2018 تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریبا برابر ہے یا اس سے کسی حد تک کم ہے
    کرونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے پوری دنیا کے طاقتور ممالک اور ان کی عوام دو وقت کے لالے پڑھے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے ممالک کی معیشتیں تباہ ہو گئیں لیکن ان مشکل حالات میں بھی الحمدللہ پاکستان نے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوا ۔عوام تک احساس پروگرام کے ذریعے گھر گھر راشن پہنچایا جو کہ ہر ایک خاندان بارہ ہزار روپے کی صورت میں عوام کو میرٹ پر ملا عوامی وزیراعظم نے غربت اور دور دراز سے آنے والے مسافروں کے لئے لنگر خانے اور مسافر خانے بنوائے جو ریاست مدینہ کے ماڈل جیسی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہیں۔ مافیاز سے مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے بڑے بڑے کاروبار پر ملک اور عوام دشمن بزنس مین کا قبضہ ہے اس کے باوجود بہادر اور نڈر حاکم کھڑا ہے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہرممکن کوشش کر رہا ہے پوری دنیا میں مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے مملکت خداداد میں آج بھی مہنگائی کی شرئع انتہائی کم ہے ہمارے ہاں کسی چیز کا فقدان ہے تو پڑھے لکھے لوگوں کے اندر بھی شعور کی کمی ہے۔
    باشعور قوم بننے کے لئے وقت تو لگے گا لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو جائے گی عوامناس کے مفادات کے لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے مگر اس ملک کی سمت درست کرنے کے لئے وقت تو درکار ہے مہنگائی کرنے والے دو نمبر اشیاء بنانے اور فروخت کرنے والے بھی ہم عوام ہی ہیں مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اور ریاست مدینہ جیسے ماڈل کی ریاست بنانے کے لئے ہم عوام کو آگے بڑھ کر سب سے پہلے اپنی سمت درست کرنا ہو گی
    تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے کریں یہ ملک ان شاءاللہ اٹھے گا اور ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے۔

    @SeharSulehri

  • پاکستان کیا ہے؟ تحریر: شہاب خان

    پاکستان کیا ہے؟ تحریر: شہاب خان

    *صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو*

    دُنیا میں دُوعالمی جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ تیسری اور فیصلہ کُن جنگ ابھی ہونا باقی ہے جس کے لیے میدان سج رہا ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ھو گی۔ اگر ہم دیکھیں تو دُنیا میں دو ممالک ھی خالص مذھب کی بنیاد پر بنے ھیں ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل جبکہ پاکستان اسلام کے نظریہ پر بنا اور اسرائیل یہودیت کے نظرئیے پر قائم ھوا۔

    اسرائیل اپنے وجود کے قیام سے ھی پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتا ھے جسکی بنیادی وجہ پاکستان کا خالصتاً مذھب اسلام کے نام پر وجود میں آنا ھے اور اسرائیل اچھی طرح جانتا ھے کہ وہ پورے عرب کو زیر کر سکتا ھے لیکن اگر اسے کبھی سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ صرف پاکستان ھے۔ گو کہ پاکستان اور اسرائیل کی کبھی دانستہ و دست بہ دست لڑائی نھیں ھوئی لیکن اسکے باوجود اسرائیل پاکستان سے ایک بار عرب اسرائیل جنگ میں شکست کھا چکا ھے جسکے بعد اسکا یہ یقین ایمان میں بدل چکا ھے کہ پاکستان کے فناء میں ھی اسکی بقاء ھے اسی لئے اسرائیل پاکستان کو باالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نھیں جانے دیتا۔

    اسرائیل پر یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اللہ نے وجود کیوں دیا جبکہ یہ ہماری بدقسمتی اور نااہلی ہے کہ ہم قیام پاکستان کا مقصد ھی نھیں جانتے اور جانے انجانے میں الٹا اپنے ھی وطن کو نقصان پہنچانے میں لگے رھتے ھیں۔

    پاکستان اور اسرائیل کا مذاہب کے نظریہ پر وجود میں آنا کوئی اتفاقاََ حادثہ نھیں بلکہ اس بات کا پیش خیمہ ھے کہ دنیا کی آخری جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہو گی اس پئے اس بات سے قطعی انکار نھیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کوئی عام ملک نھیں بلکہ پاکستان دنیائے ارض کا سب سے اھم اور خاص ملک ھے۔

    پاکستان ھے کیا جسکے بنانے والے بھی چُنے ہوئے، جس کے بننے کا دن بھی چُنا ہوا، جس کا جھنڈا چُنا ہوا، جس کے بننے کا مقام بھی چُنا ہوا۔ جس کے بننے کا مقصد چُودہ سُو سال پہلے بتائے گئے سنہری اصولوں سے چن لیا گیا ھے۔

    جس کی بنیاد مضبوط کرنےمیں لاکھوں کلمہ گو کا خون، بہا جس کی جنگ میں خدا کی نصرت ساتھ رھی، جس کو مٹانے والے خود مٹ گئے، جس کو بچانے والے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارتیں پا گئے، جس کے خطے پر پیارے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئیاں کہ مجھ کو مشرق سے ٹھنڈی ہواؤں کے چلنے کا یقین لگتا ھے۔
    جس ملک سے اللہ اپنے عظیم گھر خانہ کعبہ کی حفاظت کا کام لیں، دُنیا کی پہلی اسلامی مملکت جسے اللہ نے ایک بہترین ایٹمی طاقت بنایا ۔دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دی ،دُنیا کے بہترین کمانڈوز، دُنیا کی بہترین فوج، دُنیا کا بہترین جنگی و دفاعی نظام، دُنیا میں محلِ وقوع ایسا دیا کہ دُنیا رشک کرتی ہے، دریا، سمندر، پہاڑ، میدان دئیے، تمام موسم دئیے دنیا کا ھر میوہ دیا، ھر فصل سے نوازا، سر سبز کھیت کھلیان دئیے

    دنیا کی دو سپر پاورز روس اور امریکہ کو پاکستان کے ذریعے نہ صرف شکست دلوائی بلکہ انکے غرور کو سمندر برد کروایا، ھمارے ازلی دشمن بھارت کو ھر بار ناکام و نا مراد لوٹا کر اسکی چیخیں پوری دُنیا کو سنوائیں۔ جس کے مجاہدوں کو دشمنِ دین و کفار سے ٹکرانے کا شرف ملے، ایسے میں یاد رکھنا وھی خدا ھے جو اس ملک کو چلا رہا ہے ،جس کے ہتھیاروں کا کوئی ثانی نہیں، جدید ٹیکنالوجی، ذہین لوگ، چُنے ہوئے انجینیرز اور سائنسدان جنہوں نے محدود وسائل میں ملک کیلئے وسائل بنائے، جو اپنی طرف اٹھنے والی ہر انگلی و ہاتھ کو وہ چوٹ دے جو ھمیشہ کیلئے عبرت بن جائے گویا خدا نے فضائے بدر کے ماحول میں فرشتے اتار دئیے ھوں۔

    جسے غزوہ ہند کی فتح کی خوشخبری چُودہ سُو سال پہلے مل جائے، جو لڑنے سے پہلے تیسری جنگ عظیم کیلئے صف آراء ٹھہرے، جس کا وجود مسلمانوں کے وجود کی ضمانت، کشمیر بنے گا پاکستان سے لیکر یا اھل الا فلسطین پکارنے والا۔

    گو کہ ایسی طاقت ایسی نعمت ایسے ملک سے دھوکہ وہ نا شکری ھے جس کا اذالہ جان دے کر بھی نھیں کیا جا سکتا۔

  • اخلاقیات کا مآخذ   تحریر:سید غازی علی زیدی

    اخلاقیات کا مآخذ تحریر:سید غازی علی زیدی

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    اخلاقیات کا مآخذ کیا ہے؟ اصول و اقدار کی پاسداری، حق وباطل کے تصور سے مکمل آگاہی ، شر سے مستقل لڑائی، فلسفیانہ تحقیق اور مسلسل جستجو۔ مختصراً جو علم انسان پر بھلائی اور برائی کی پہچان واضح کر دے، اچھائی برائی کا شعور دے، باہمی تعلق داری کو فروغ دے یہی علم اخلاق کی اصل روح ہے۔ خود احتسابی ایک مستقل جنگ ہے اصول و اقدار کی، تصورات و نظریات کی۔ ناقدانہ انداز میں خود کو سچ و جھوٹ کی کسوٹی پر وقتاً فوقتاً پرکھنے کی تاکہ اپنے اعمال و افعال کی واضح نیت آشکار ہو۔ یاد رکھیے بلاشبہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ جتنی نیت نیک ہو گی اتنا ہی انسان خود اعتماد اور ذہنی طور پر پرسکون ہو گا۔
    اخلاقیات کسی ایک امر تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر و جامع موضوع ہے جس کی حدود ذات سے شروع ہو کر کائنات پر ختم ہوتی ہیں۔ انفرادی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا مذہبی، عائلی ہوں یا قانونی غرض ہر شعبہ زندگی کے اعمال سے لیکر امور تک اخلاقیات کی پاسداری لازمی ہے۔ سیدھی راہ پر چلنے والے ہر حال میں اخلاقیات کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ فکری و عملی طور پر بہترین اخلاقیات کا تعین کرنا ہی اشرف المخلوقات ہونے کی اصل پہچان ہے۔
    محبت، شفقت، مدد، ایفائے عہد، حق گوئی و صداقت اعلی ترین اخلاقی اقدار کے زمرے میں آتے ہیں لیکن یہ نہ تو نفسیات ہے نا انسانی فطرت بلکہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے بالکل برعکس نفرت، جھوٹ، ایذارسانی، وعدہ خلافی ایسی علتیں ہیں جو انسانی شخصیت کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔
    اخلاقیات کو اپنانے والا انسان نہ صرف خود کیلئے بلکہ پورے معاشرے کیلئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔ شعور و آگاہی سے بہرہ مند افراد ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے معاشرے میں سوچنا اور سمجھنا ایک غیر ضروری و قبیح فعل سمجھا جانے لگا ہے۔ عقل و شعور سے عاری لوگ نفسانفسی کی بھینٹ چڑھ کر اخلاقی طور پر مردہ لاش بن چکے ہیں۔ اصل اخلاقیات کا ادراک ختم ہو چکا۔ صرف پیسہ و اختیارات ہی کسی انسان کی عزت کا معیار بن چکے ہیں۔ بنیادی اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا شکار معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہے لیکن باشعور و سنجیدہ افراد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے۔جب تک ہم رجعت پسندی کو خیرباد کہہ کر درایت کو فروغ نہیں دیں گے تب تک ہم پسماندگی و تنزلی کا شکار رہیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے دانشور و اساتذہ بجائے متوازن تنقید اور اخلاقی اقدار کو رائج کرنے کے صرف پند و نصائح تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں انسانیت کی جگہ حیوانیت جڑ پکڑ چکی ہے جو کہ بگڑتے بگڑتے اس نہج پر پہنچ چکی کہ اب اخلاقیات بالکل مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔
    مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
    گر بخود محکم نہ بودن چہ سود
    Twitter: ‎@once_says

  • بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز،آسڑیلیا نے نئے کپتان کا اعلان کر دیا

    بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز،آسڑیلیا نے نئے کپتان کا اعلان کر دیا

    آسڑیلین کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر بلے باز میتھو ویڈ کو بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز کے لیے کپتان مقرر کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسڑیلیا کی ٹیم ان دنوں بنگلہ دیش میں موجود ہے آسڑیلیا کی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف پانچ ٹی 20 میچز کی سیریز کھیلے گی۔اس سیریز کا پہلا میچ آج کھیلا جائے گا۔

    آسڑیلین ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے دورہ بنگلہ دیش سے انکار کردیا تھا جس کے باعث نئے کپتان کا اعلان کیا گیا ہے۔آسٹریلوی ٹیم میں ایرون فنچ، ڈیوڈ وارنر اور گلین میکسویل سمیت دیگر اہم کھلاڑی شامل نہیں ہیں۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    دوسری جانب پاکستان اور ویسٹ انڈیزکےدرمیان چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گامیچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا پاکستان کو چار میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

    بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد کے لئے…

    پہلا اورتیسرا ٹی20 میچ بارش کی وجہ سےبغیر کسی نتیجےکےختم ہوگئےتھے جبکہ دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سات رنز سے شکست دی تھی۔

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا ،غیر ملکی کھلاڑیوں کا کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت کا…

    خاتون نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی

  • بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد کے لئے آواز ضرور اٹھانی چاہیئے     اراکین یورپی پارلیمنٹ

    بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد کے لئے آواز ضرور اٹھانی چاہیئے اراکین یورپی پارلیمنٹ

    بارسلونا : سپین کی جانب سے یورپین پارلیمنٹ میں بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد انسانی حقوق کی شدید پامالی پر خط لکھنے والے یورپین پارلمینٹیرین میں6 ہسپانوی ممبران شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یورپین پارلمینٹیرین میں کاتالان آزادی پسند رہنما پوجدیمونت اور ان کی پارٹی کے دیگر دو اراکین شامل ہیں اس میں ایک رکن سوشلسٹ پارٹی اور ایک رکن سیوتادانس جماعت کا اور پودیموس کی جانب سے واحد یورپین پارلمینٹیرین ایدویا ولا نوا رویز شامل ہیں۔یوں مجموعی طور دونوں حکومتی جماعتوں ، حزب اختلاف اور آزادی پسند جماعتوں نے کشمیر کے موقف کی تائید کی ہے۔

    اراکین یورپی پارلیمنٹ نے اپنے کمیشن سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کو ہیومن رائٹس واچ ورلڈرپورٹ 2021 اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے ہیومن رائٹس نے 2018-2019 کی رپورٹ میں میں شائع کیا ہے۔

    ملک میں کورونا سے مزید 67 افراد جاں بحق

    انہوں نے کہا کہ 2019سے مقبوضہ کشمیر بدترین لاک ڈاؤن میں ہے، نقل وحرکت، معلومات تک رسائی، صحت، تعلیم اور آزادی اظہار کے حوالے سے حالات خراب ہیں۔

    یورپین کمیشن کے صدر ارسولا وون ڈیرلیئن اور نائب صدر جوزف بوریل کو مخاطب کرکے خط میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق، بنیادی آزادی اور بین الاقوامی قواعد کے مطابق قانون کے چمپیئن کے طور پر یورپی یونین کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے اپنی آواز ضرور اٹھانی چاہیے۔

    وزیراعظم ہاؤس میں اب پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ فیشن اور ثقافت کی تقریبات ہوں گی

    انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ یورپی یونین کو عالمی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل کروانے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنی تمام قوت اور ذرائع استعمال کرنے چاہیئں۔

    یورپی اراکین نے واضح کیا کہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کی حیثیت سے ہم بھارت اور پاکستان کی پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ ساتھ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ اپنی کاؤشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر تے ہیں تاکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے کشمیریوں کے مستقبل کے لیے ان کی آواز سننا اور فیصلے کا موقع دینا انتہائی ضروری ہے۔

    ٹریفک پولیس نے عامر لیاقت کےخلاف اندراج مقدمہ کے لئے سندھ پولیس سے رجوع کر لیا

    خط میں لکھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے، لوگوں کو عقوبت خانوں میں ڈالا جاتا ہے اور لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہے، کئی لوگ زیر حراست ہیں۔

    اراکین یورپی پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ بھارت یہاں پر قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، یہ دو جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان خطرے کی علامت ہے جو کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔

    قائد ملت لیاقت علی خان کاخاندان کس حالت میں اورکس نے اُٹھائے گھرکے اخراجات؟اہم…

    اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کہا کہ سیکیورٹی کے حالات مزید بگڑ گئے ہیں کیونکہ مقامی آبادی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور بھارت کا متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے ان حالات کی وجہ سے وادی میں بدامنی پیدا ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین تناؤ بھی بڑھتا ہے۔

    ہر ہفتے کم از کم 30 ہزار افغان بے گھر ہو رہے ہیں:امریکی اخبار